امام مہدی کی آفاقی حکومت

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت20%

امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت مؤلف:
: عرفان حیدر
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 300

امام مہدی کی آفاقی حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 300 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 180605 / ڈاؤنلوڈ: 4525
سائز سائز سائز
امام  مہدی  کی  آفاقی  حکومت

امام مہدی کی آفاقی حکومت

مؤلف:
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

ظہور کے پر نور زمانے میں نہ صرف یہ دو عامل بلکہ جنایت و خیانت اور جرائم کے تمام عوامل نابود ہوجائیں گے اور نجات و سعادت کے عوامل فساد و تباہی کے عوامل کی جگہ لے لیں گے۔

قدرتمندوں اور دولت مندوں کی ایک اہم ذمہ داری فقیر اور ضعیف افراد کی مدد کرنا ہے تاکہ ان کے اقتصادی فقر کا جبران ہوسکے اور خود ان کی سرکشی اور ظلم کے لئے بھی مانع ہو جس کے نتیجہ میں تباہی اور فساد کے دو اہم عوامل برطرف ہوجائیں گے۔لیکن افسوس کہ ہم یہ اہم ترین ذمہ داری بہت سسی دوسری ذمہ داریوں کی طرح بھول چکے ہیں۔لیکن ظہور کے درخشاں زمانے میں اگر کوئی شخص کسی کی دستگیری اور مدد کرنا چاہے تو اسے ڈھونڈنے سے بھی کوئی فقیر نہیں ملے گا۔

ہم نے جو قابل توجہ نکتہ ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا میں جرائم کے عوامل میں سے فقر سے بڑا عامل ثروتمندوں اور قدرتمندوں کی اپنے مال میں اضافہ کی حرص و طمع ہے۔

کیونکہ مال دار افراد مال کو بڑھانے اور قدرت مند اپنی قوّت و طاقت کو بڑھانے کے لئے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔

حقیقت میں دوسرا سبب ،پہلے سے زیادہ وسیع ہے اور یہ پہلے سبب کے ساتھ شریک بھی ہے۔کیونکہ معاشرے میں فقر کے اہم اسباب میں ایک سبب ایسے صاحبِ ثروت افراد ہیں کہ جو اپنے سرمائے کو زیادہ کرنے کے لئے انتہائی پست قسم کے حربے آزماتے ہیں۔ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں بے تہاشا اضافہ فقر و تنگدستی کا باعث بنتے ہیں۔خاندانِ وحی و عصمت و طہارت علیھم السلام کے کلمات میں بھی اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔

اس امر پر بھی توجہ کریں کہ زمین کا کاروبار کرنے والے خود تو بنگلوں اور محلوں میں زندگی گزارتے ہیں  اور ہزاروں ایکڑاراضی پر قبضہ کرکے زمین کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔جس کے نتیجے میں ضرورتمند زمین کا چھوٹا سا ٹکڑا خریدنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔

۸۱

اس بناپر بہت سے دولت مند اموال کو ذخیرہ کرکے نہ صرف فقر ایجاد کرتے ہیں بلکہ فقر میں اضافہ کا باعث بھی بنتے ہیں،جو بعض ضرورت مند افراد کے لئے جرم و فساد کے ارتکاب کا مقدمہ بنتا ہے۔اسی طرح مال میں اضافے کی خواہش ،اور ہوس ان کے ارتکاب جرم اور شرعی و عقلی اخلاقیات کو ترک کرنے کا بھی باعث ہے۔اب اس واقعہ پر توجہ کریں:

''خان مرد''تہران کے امیر ترین افراد میں سے تھا۔جس نے شہر میں مسجد و مدرسہ بھی تعمیر کروایا۔جو اب تک اسی کے نام سے مشہور ہے۔کہتے ہیں کہ خان مرد کے پرانے دوستوں میں  سے ایک ہر روز اس کے گھر کے سامنے لگے ہوئے چنا رکے درخت کے ساتھ کھڑا خان کے گھر سے نکلنے کا انتظار کرتا کہ شاید گھر سے نکلتے وقت وہ اس کی طرف دیکھے اور اس پر کچھ لطف و مہربانی کرے۔لیکن خان نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔جب خان اپنے منصب سے معزول ہوکر خانہ نشین ہوگیا تو اس کا یہ دوست اس سے ملاقات کرنے گیا۔

خان نے اس سے گلہ و شکوہ کیا کہ تم نے مجھے اتنی مدت تک یاد ہی نہیں کیا اور تم مجھ سے ملنے نہیں آئے۔اس شخص نے ہردن اس کے گھر کے سامنے آنے کا واقعہ بیان کیا تو خان نے کہا!میں اس وقت اپنے گھر کے سامنے لگے ہوئے چنار کے درخت کو نہیں دیکھتا تھا تو پھر تمہیں کیسے دیکھتا کہ جو اس درخت کے نیچے کھڑے ہوتے تھے۔(۱)

جی ہاں ! امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ایسے بہت سے ثروتمند ہیں کہ جو دائرہ انسانیت سے ہی نکل چکے ہیں۔جو شرعی و عقلی اخلاقیات  کے ذریعہ بھی اپنے سرکشی و گمراہی کو کنٹرول نہیں کرسکے۔

--------------

[۱] ۔ دوازدہ ہزار مثل فارسی : ۴۳۲

۸۲

اس نکتے کو مد نظر رکھتے ہوئے اب یہ سوال پید اہوتا ہے کہ ظہور کے زمانے میں بے تحاشا دولت کس طرح سے ان کی سرکشی و گمراہی کا باعث نہیں بنے گی ۔ حالانکہ اس وقت دنیا بھر کے تمام افراد بے نیاز اور صاحبِ ثروت ہوں  گے؟

یعنی اگر یہ تمام منحوس اور برے آثار زیادہ دولت کی وجہ سے ہیں تو پھر ظہور کے زمانے میں لوگ کیوں اتنے سرمائے اور دولت کے مالک ہوں گے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ حلال طریقے سے حاصل ہونے والی ثروت میں کبھی بھی نحوست اور منفی اثرات نہیں ہوتے۔بلکہ ممکن ہے کہ وہ خیرات کا وسیلہ ہو۔لیکن یہ دولتمند اپنی دولت کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ اگردولت خود بری ہوتی تو پھر سب دولتمند وں کو ایسا ہونا چاہیئے تھا ۔حالانکہ ایسا نہیں ہے۔بلکہ بعض ثروتمند افراد نے معاشرے کی قابل قدر خدمت کی ہے۔ جنہوں نے بہت سے مستضعف اور غریب افراد کی مدد کی ہے۔خاندانِ عصمت و طہارت علیھم السلام کے فرامین میں ایسے افراد کی مدح کی گئی ہے(اگرچہ دورِ حاضر میں ایسے افراد بہت کم ہیں)اور یہ ایسے ثروتمندوں کی کم عقلی کی دلیل ہے کہ جو ہمیشہ اپنی دولت میں اضافہ اور اپنے ورثاء کے لئے مال و دولت چھوڑ جانے کی فکر میں رہتے  ہیں۔ورنہ خود مال و دولت ایسا  ذریعہ ہے کہ جس سے انسان دشمن کو بھی اپنے قریب لاسکتا ہے اور بے گناہ افراد کا خون بھی بہا سکتا ہے۔

علاوہ ازاین !ظہور کے پر نور زمانے میں انسان معنوی تکامل اور فکری و عقلی رشد اور سعادت کی وجہ سے ہلاکت و گمراہی سے محفوظ رہیں گے۔

اس مبارک اور پر نور زمانے میں مال و دولت کی کثرت ہوگی۔لیکن اسے ذخیرہ کرنے اور اس میں اضافے کی خواہش نہیں ہوگی ۔اس وقت مال و دولت،سرمایہ اور کثیر نعمتیں ہوں گی۔لیکن ہلاکت اور گمراہی اور دین کی حدود کی پامالی نہیں ہوگی۔

۸۳

اس زمانے میں دنیا میں موجود تمام دولت (چاہے وہ زمین کے اندر چھپی ہوئی ہویا روئے زمین  پر) آنحضرت کے پاس جمع ہوگی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین کے سینے میں قیمتی پتھر،سونے چاندی اور دوسری بہت سی قیمتی اشیاء کے خزانے پوشیدہ ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین نے اپنے اندر سونے کے پہاڑ چھپا رکھے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ قدیم بادشاہ اور دولت مند حضرات اپنا بیش بہا سرمایہ زمین میں چھپاتے تھے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ زلزلوں کی وجہ سے بہت بڑا سرمایہ زمین کیسینہ میں پنہاں ہے؟

ظہور کا زمانہ ، مخفی و پنہاں امور کے آشکار ہونے اور آگاہی کا زمانہ ہے۔ اس وقت زمین میں مخفی ثروت و سرمایہ آشکار ہوجائے گا ،جس سے ظہور  کے زمانے کے افراد استفادہ کریں گے۔

  کنٹرول کی قدرت

ہم نے جو کچھ ذکر کیا ،خاندانِ عصمت و طہارت علیھم السلام   میں اس کی تصریح ہوئی ہے۔ ہماری اس بات کی شاہد حضرت باقرالعلوم  علیہ السلام  کی یہ روایت ہے:

'' یقاتلون واللّه حتی یوحّد اللّه ولا یشرک به شء و حتی یخرج العجوز الضعیفة من المشرق تریدالمغرب ولا ینهاها احد و یخرج اللّه من الارض بذرها،  وینزل من السّماء قطرها،و یخرج الناس خراجهم علی رقابهم الی المهدی ویوسع اللّه  علی شیعتنا و لو لا ما یدرکهم من السعادة لبغوا ''  (۱)

--------------

[۱]۔ بحارالانوار :ج ۲۵ص۳۴۵

۸۴

خد اکی قسم وہ جنگ کریں گے حتی کہ سب خدا کو یک و یکتا سمجھیں، اورکسی چیز کو اس کا شریک نہ جانیں ۔ حتی کہ ایک کمزور بوڑھی عورت مشرق سے مغرب کے قصد سے نکلے اور کوئی اسے اس کام سے نہ روکے۔

خدا وند زمین سے بیج کو خارج کرے گا اور آسمان سے بارش برسائے گا۔لوگ اپنے مال سے خراج نکال کر حضرت مہدی  علیہ السلام طرف لے کر جائیں گے ۔خدا ہمارے شیعوں میں اضافہ کرے گا ۔ اگر انہیں یہ سعادت حاصل نہ ہوتی تو وہ یقیناگمراہی و ہلاکت میں مبتلا ہوجاتے۔

جس طرح ثروت و فقر انسان کی سعادت کا سبب واقع ہوسکتے ہیں اسی طرح یہ ظلم و خیانت کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔یعنی فقر اور مال دونوں جرائم کی زیادتی میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔جیسا کہ یہ دونوں انسان کی سعادت کا وسیلہ بھی بن سکتے ہیں۔

مال میں اضافہ کی طمع و حرص سے بھی جرائم وجود میں آتے ہیںاور اس کی اہم وجہ غیبت  کے زمانے میں طمع و حرص کو کنٹرول کرنے کی قدرت کا نہ ہونا ہے۔

معاشرے کا مقام ِ ولایت سے آشنانہ ہونا اور انسان کا خاندانِ وحی علیہم السلام کے عظیم مرتبہ کی طرف توجہ نہ کرنا،اس سے سعادت کے چھن جانے کا باعث بنتا ہے۔ جو اسے مقامِ ولایت سے دور کردیتا ہے جو کہ قدرت و طاقت کو کنٹرول کرنے والا ہے۔

لیکن ظہور کے پر نور اورمبارک زمانے میں بشریت ولایت کی پناہ میں ہوگی اور پوری دنیا کے لوگوں کے سروں پر رحمت الہٰی کا سایہ ہوگا ۔جو انہیں حضرت مہدی  علیہ السلام کی الوہی ولایت کی قدرت سے محفوظ وکنٹرول کرے گا ۔اسی عظیم سعادت کی وجہ سے ظہور کے پر مسرّت زمانہ میں لوگوں کے مال میں چاہے کتنا بھی اضافہ ہوجائے، مگر وہ ان کی گمراہی و سرکشی کا باعث نہیں بنے گا۔

۸۵

جی ہاں!دنیا کے تمام لوگوں پر قدرت ِ ولایت کا سایہ ہونے کی وجہ سے وہ تمام قوّت وطاقت،قدرت و توان اور تمام امکانات و وسائل کواس کے زیر سایہ قرار دے کر خود کو کنٹرول کریں گے اور ظلم و زیادتی اورگمراہی و ضلالت سے دوررہیں گے۔

یہ وہی سعادت و خوش بختی ہے جس کی امام  باقر علیہ السلام نے روایت کے آخر میں  تصریح فرمائی ہے:

''و لو لا ما یدرکهم من السعادة لبغوا ''

زمانۂ ظہورکی خصوصیات میں سے ایک سب کے لئے کنٹرول کا ہونا ہے ۔ عصرِ ظہور میں مال و ثروت، قدرت  وطاقت جتنی بھی زیادہ ہوجائے پھر بھی سب کو ظہورِ ولایت کی وجہ سے سعادت و نیک بختی حاصل ہوگی ۔ سب میں حرص وطمع کو کنٹرول کرنے کی قدرت ہوگی ۔کیونکہ نعمتوں سے سرشار زندگی کے ساتھساتھ عقلی تکامل بھی ہوگا۔

اب امام صادق علیہ السلام  کی اس بہترین روایت پر توجہ کرتے ہیں۔

''  تواصلوا تبارّوا و تراحموا، فوالذی فلق الحبّة و برأ النسمة لیاتینّ علیکم وقت لا یجد احدکم لدیناره و درهمه موضعاً، یعنی لا یجد عند ظهورالقائم موضعاً یصرفه فیه لاستغناء الناس جمیعاً بفضل اللّه و فضل ولیه ''

فقلت:و انّی یکون ذالک؟

'' فقال:عند فقدکم امامکم فلا تزالون کذالک حتی یطلع علیکم کما تطلع الشمس،آیس ما تکونون،فایّاکم والشک والارتیاب،وانفوا عن انفسکم الشکوک و قد حذّرتکم فاحذروا، اسأل اللّه و ارشادکم ''(۲)

--------------

[۲]۔ الغیبةمرحوم نعمانی : ۱۵۰

۸۶

ایک دوسرے کے ساتھ مرتبط رہو اور آپس میں نیکی اور مہربانی کرو، اس کی قسم کہ جو دانے کو اگاتا ہے اور اس میں روح ڈالتا ہے۔یقینا تم لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ تم میں سے کسی کو دینار یا درہم کے  مصرف کرنے کی جگہ نہیں ملے گی یعنی حضرت قائم علیہ السلام کے ظہور کے زمانے میں کوئی ایسی جگہ نہیں ملے گی کہ جہاں اپنا پیسہ خرچ کیا جائے۔کیونکہ خداوند اور اس کے ولی کے فضل سے سب لوگ بے نیاز ہوجائیں گے۔

میں نے عرض کیا یہ کون سا زمانہ ہے؟

امام  نے فرمایا!جب تمہیں تمہارے امام نہیں ملیں گے تو ایسا ہوگا کہ تم پر ایسا زمانہ ظاہر ہوگا کہ جس طرح سورج طلوع کرتا ہے،یہ اس زمانے میں ہوگا کہ جس میں آنحضرت  کے ظہور کے زمانے سے زیادہ نا امیدی ہوگی۔

پس شک کرنے یا خود کو شک میں مبتلا کرنے سے پرہیز کرو،خود سے شک کو دور کرو ۔یقینا میں  نے تمہیں ڈرایا،پس تم اس سے ڈرو اور آگاہ ہوجائو۔ میں خدا سے تمہارے لئے توفیق وہدایت کی دعا کرتا ہوں۔

اس روایت میں دلوں کو یأس و نا امیدی اور شک سے دور رہنے کے بارے میں بہترین نکتہ بیان ہوا ہے کہ جس کی تشریح کیلئے مفصل بحث کی ضرورت ہے۔

اس روایت کا موردِ استدلال حصہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے  ظہور کا وہ نورانی اور مبارک زمانہ ہے کہ جس کے بارے میں امام صادقعلیہ السلام   نے فرمایا:

اس زمانے میں سب لوگوں کے بے نیاز ہونے کی وجہ سے کوئی ایسا نیاز مند نہیں ملے گا کہ ثروت مند اپنے مال سے جس کی مدد کرسکیں۔

۸۷

  دنیا میں ، ۸۰۰  ملین سے زائد بھوکے

اگر ہم اپنے زمانے کو ظہور کے درخشاں و منوّر زمانے سے مقائسہ کریں (کہ جب چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی کوئی نیازمند اور ضرورتمند نہیں ملے گا)تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہمارے موجودہ دور میں  پوری دنیا میں کروڑوں بھوکے افراد موجود ہیں جن کی فلاح و نجات کے لئے کوئی بھی مؤثر اقدام نہیں کیا گیااس بارے میں آپ اس رپورٹ پر توجہ کریں۔

عالمی بینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دنیا کے ایک ارب افراد دنیا کے اقتصاد کو چلا رہے ہیں ۔ دنیا کی %۸۰ آمدن ی ان سے مختص ہے۔حالانکہ دنیا کی بقیہ آبادی پانچ ارب ہے۔جو دنیا کی %۲۰    آمدن ی پر زندگی گزار رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے خوراک و زراعت کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں بھوکے افراد کی تعداد۱۸   مل ین سے بڑھ کر ،۸۴۲   مل ین تک پہنچ چکی ہے۔

اب پیرس کے ایک اخبار ''ونت مینوت''۱۶ اکتوبر  ۲۰۰۲ ء بروز بدھ ک ی رپورٹ ملاحظہ کریں:

دنیا میں  ہر چار سیکنڈ میں بھوک کی وجہ سے ایک انسان  ہلاک ہوتا ہے۔دنیا میں۸۴۰   مل ین افراد غذا کی وجہ سے پریشان حال ہیںاور ان میں سے۷۹۹ مل ین افراد ترقی پذیرممالک میں زندگی گزار رہے ہیں۔

دنیا کے۳۰ ممالک م یں  اضطراری حالت کا اعلان ہو چکاہے اور صرف افریقا میں۶۷ مل ین افراد کو فوری اور اضطراری مدد کی ضرورت ہے۔ایشیا میں %۲۰ ( ۴۹۶ مل ین)آبادی بھوک کی وجہ سے پریشان ہے۔

اقوام متحدہ کے  ذیلی ادارہ  برائے خوراک و زراعت کے مطابق روزانہ۲۴ ہزار افراد بھوک ک ی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔بھوک کی وجہ سے ہرسال پانچ سال سے کم عمرکے ساٹھ لاکھ بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

یہ تمام پریشانیاں ،بھوک،تنگدستی،بے روزگاری دنیا کے ممالک کی ناقص مدیریّت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

۸۸

اگر دنیا کی سیاسی شخصیات ان نقائص کے اسباب کو جان کر مخلصانہ طریقے سے انہیں ختم کرنے کی کوشش کریں تو دنیا میں اتنی زیادہ تعداد میں بھوکے افراد نہ ہوں۔

بھوک کی ایک بنیادی وجہ کمر توڑ مہنگائی اور قیمتوں میں بے تحاشااضافہ ہے۔بھوک کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لئے نرخوں میں اضافے کی روک تھام کے لئے مناسب اور فوری اقدام کرنا انتہائی ضروری ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک اس بارے میں کوئی قابل ذکر پیشرفت نہیں ہوئی۔

اب ذرا ایران میں مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی یہ رپورٹ ملاحظہ کریں۔

سال

۵۷

۶۲

۶۷

۸۲

ملکی  آبادی

۳۵۰۰۰۰۰۰

۴۰۰۰۰۰۰۰

۴۶ ۰۰۰۰۰۰

۸۶ ۰۰۰۰۰۰

۸۹

نرخوں  میں  اضافہ

سال

یونجہ

جو

جوکھر

کھلی/کھل

دودھ

بچھڑازندہ

گائےزندہ

۵۷

۸۲

شرح  اضافہ

۸۳

۸

۱۲۰۰

۱۵۰گنا

۱۶ ۰۰

۷

۱۲۰۰

۱۷۲گنا

۱۵۰۰

۳

۶ ۲۰

۲۰۶ گنا

۹

۲۰۶

۱۸۰گنا

۲۷

۲۰۰۰

۷۲گنا

۲۱۰

۱۴۰۰۰

۶ ۷گنا

۱۵۰

۱۰۰۰۰

۶ ۷گنا

یہ دنیا کے ایک حصے میں اجناس کی قیمتوں کا چھوٹا سا نمونہ ہے۔ جیسا کہ آپ نے مشاہدہ کیاکہ۲۵ سال م یں ایران کی آبادی میں تقریباً دو گنا اضافہ ہوا ہے اور بعض اجناس کی قیمتوں میں تقریباً دو سو گنا اضافہ ہوا ہے۔اب اس تفاوت سے کم از کم یہ تو معلوم ہوگیا کہ آبادی نرخوں میں اضافے کا باعث نہیں ہے۔

قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ صرف ایران یا کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ مالک جیسے امریکہ،جاپان،کوریا بھی اس مسئلہ سے پریشان ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں مہنگائی نے  غریب عوام کی کمر توڑ رکھی ہے۔

اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اس چیز کی دلیل ہے کہ ان کی اقتصادی سیاست نرخوں کو کنٹرول کرنے اور انہیں معتدل  رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے۔دنیا کے اقتصاد پر قابض ثروت مند افراد کو اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرنے سے نہ تو کسی قسم کا دکھ ہوتا ہے اور نہ ہی غریب عوام پر رحم آتا ہے۔بلکہ وہ جان بوجھ کر اشیاء کے نرخوں میں اضافہ کرکے اپنے سرمائے میں کئی گنا اضافہ کرتے ہیں۔اب اس رپورٹ پر غور کریں۔

۹۰

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق تینارب سے زائد افراد دن بھر میںایک ڈالر سے بھی کم پر زندگی گزار رہے ہیںاور ایک ارب افراد کی روزانہ کی آمدنی ایک ڈالر سے بھی کم ہے۔دنیا کی نصف آبادی غربت سے بھی نچلی سطح پرزندگی گزار رہی ہے۔اور تین ارب انسانوں کی روزانہ کی آمدنی تین ڈالر سے بھی کم ہے۔

اقوام ِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دھائی میں دنیا کے ۴۵ ممالک اور ز یادہ غریب ہوگئے۔۶ / ۴ ارب انسان یعنی تقریباً۸۰۰ مل ین افراد کو زندگی گزارنے کے لئے مکمل خوراک میسر نہیں ہے۔

یہ دنیا کے پریشان حال افراد کی وضع زندگی کا چھوٹا سا نمونہ تھا۔جسے ہم نے زمانِ غیبت کے مسائل سے آشنائی کے لئے ذکر کیااب ہم اس ذکر کو یہیں ترک کرکے اور ان پریشانیو ں اور غموں کو بھلا کر اس درخشاں زمانے کی توصیف کرتے ہیں کہ جس میں نہ تو کوئی ضرورت ہو گی اور نہ ضرورتمند ۔

۹۱

ایسا دن کہ جوبے تحاشا نعمتوں اور بے انتہا دولت سے سرشار ہو۔جس سے دنیا کے تمام نیازمند،بے نیاز ہوجائیں گے۔اس وقت دنیا میں۸۰۰ مل ین بھوکے افراد نہیں ہوں گے۔اس وقت کو اقتصادی بُحران نہیں ہوگا۔

عصرِ ظہور میں غربت اور تنگدستی کا نام و نشاں نہیں ہوگا۔حضرت بقیة اللہ الاعظم علیہ السلام  کی حکومت دنیا کوجنت بنادے گی ۔پوری روئے زمین پر مسرت و شادمانی اور خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی۔

  نعمتوں سے سرشار دنیا

اب جب کہ نعمتوں سے بھرپور اور سرشار اس بے مثال زمانے کا تذکرہ ہوا ہے تو بہتر ہے کہ ہم اس بارے میں رسول اکرم(ص)   ک ی روایت کو نقل کریں:

'' تنعّم امتی فی زمن المهدی نعمة لم ینعموا مثلها قطّ،ترسل السماء علیهم مدراراً، و لا تدع الارض شیئا من النّبات الّا اخرجته،والمال کدوس،یقوم الرجل یقول:یامهدی اعطنی فیقول: خُذ ''  (۱)

میری امت کو مہدی  علیہ السلام  کے زمانے میں اتنی نعمتیں میسر آئیں گی کہ جو اسے پہلے کبھی نہیں ملی ہوں گی۔آسمان سے ان کے لئے مفید بارش برسے گی،زمین اپنے اندر چھپی ہر نباتات کو خارج کرے گی اس زمانے میں مال و دولت فروان ہوگی۔ایک شخص کھڑا ہوگا اور مہدی  علیہ السلام  سے کہے گا : مجھے عطا کرو۔تو کہیں گے :لے لو۔

یہ واضح ہے کہ روزِ نجات ،دنیا کے تمام مکاتب گمراہی سے نجات پا لیں گے۔پوری دنیا میں اسلام کا پرچم لہرائے گا۔جس کی وجہ سے اس زمانے کے تمام افراد رسول اکرم(ص)کی امت شمار ہوںگی۔اسی لئے رسول اکرم (ص)نے اس زمانے کے لوگوں کو ''امتی''یعنی میری امت سے تعبیر کیا ہے۔

--------------

[۱]۔ التشریف باالمنن:۱۴۹

۹۲

رسول اکرم(ص)ک ی امت یعنی ہماری دنیا کے لوگ اس روز خوشحال ہوں گے اور ان میں دوعمومی خصوصیات ہوں گی ۔تقوی و ایمان کہ جو اس زمانے سے پہلے کبھی موجود نہیں تھی۔سب ان دوخصوصیات کے مالک ہوں گے۔جس سے آسمان کے دروازے کھل جائیں گے اور لوگوں پر رحمتِ الہٰی کی بارش برسے گی۔

اس زمانے میں یہ دوعظیم معنوی خصلتیں کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں ہوں گی بلکہ سب ان سے بہرہ مند ہوںگے۔ان دو خصلتوں کے عام ہونے کی وجہ سے دنیا سے غضبِ الہٰی اٹھا لیا جائے گا اور لوگوں پر نعمتوں اور برکات کا نزول ہوگا۔

اس مطلب کے اثبات کے لئے ہم قرآن و سنت کا رخ کرتے ہیں۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

'' و لینزلنّ البرکة من السماء الی الارض حتی ان الشجرة لتقصف بما یرید اللّٰه فیها مناالثمرة،ولتأکلن ثمرة الشتاء فی الصیف و ثمرة الصیف فی الشتاء ، وذلک قوله تعالی ''وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَی آمَنُواْ وَاتَّقَواْ لَفَتَحْنَا عَلَیْهِم بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمَاء ِ وَالأَرْضِ وَلَکِن کَذَّبُواْ فَأَخَذْنَاهُم بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُون ''  (۱)

یقیناًآسمان سے زمین کی طرف برکت نازل ہوگی ۔حتی کہ خدا درخت سے جو پھل چاہے،پیدا کرے گا۔گرمیوں کا پھل سردیوں اور سردیوں کا پھل گرمیوں میں کھائیں گے۔اسی لئے ارشاد پروردگار ہے:

اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرلیتے تو ہم ان کے لئے زمین و آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ،لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کی گرفت میں لے لیا۔

اس آیت ا و رروایت میں بہترین نکات موجود ہیں کہ جن میں سے ہم بعض کو بیان کرتے ہیں:

--------------

[۱]۔ سورہ اعراف،آیت:۹۶۔بحاراانوار :ج ۵۳ص ۶۳

۹۳

۱ ۔آ یت کے اس جملے'' فَأَخَذْنَاه ُم بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُون'' میں فاء تفریعہ دلالت کرتا ہے کہ حقائق الہٰی کی تکذیب ،رسول ِ اکرم(ص)کے احکام پرعمل نہ کرنا اور انہ یں ردّ کرنا ،لوگوں کے لئے مؤاخذہ کا سبب بنا۔ان کے عمل کی وجہ سے لوگوں پر آسمانی برکات کا نزول بند ہوجاتا ہے اور بد بختی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

اس بناء پر ہمیں یہ جان لینا چاہیئے کہ تمام جنایت و جرائم ،قتل وغارت،فساد اور بد امنی رسول ِ خدا کے فرامین سے روگردانی ان پر ایمان نہ لانے اور تقویٰ نہ ہونے کا نتیجہ ہیں۔

اگر لوگ ابتدا ء ہی سے خدا کے پیغمبروں کی تکذیب نہ کرتے،ان پر ایمان لے آتے اور ایمان کی بنیاد پر تقویٰ اختیار کرلیتے تو وہ کبھی بھی مصیبتوں،غموں اور بلائوں کے گرداب میں مبتلا نہ ہوتے۔

  زمانۂ ظہور میں برکت

۲ ۔ ظہور  کے زم انے میں ایمان و تقویٰ کی وجہ سے ان پر زمین و آسمان سے خدا کی برکات برسیں گی۔خدا کسی بھی درخت سے جس پھل کا بھی ارادہ کرے وہ اسی درخت سے پیدا ہوگا۔اسی طرح کوئی بھی پھل کسی خاص موسم سے مختص نہیں ہوگا۔گرمیوں میں درخت سردیوں کے پھلوں اور سردیوں میں گرمیوں کے پھلوں سے لدے ہوں گے۔

برکت کا مسئلہ ایک ایسی بڑی حقیقت ہے کہ جس کی وجہ سے ظہور کے بابرکت زمانے میں دنیا کا چہرہ ہی بدل جائے گا اور زمانِ ظہور میں برکتوں کے نزول کی وجہ سے لوگ غیبت کے زمانے کے سخت مصائب بھول جائیں گے۔

جیساکہ ہم نے کہا کہ اس وقت دنیا کا نیا روپ سامنے آئے گا۔پوری روئے زمین قدرت،طاقت،ثروت اور نعمتوں سے بھری ہوگی۔فقر و تنگدستی کا نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔اس منوّر زمانے میں ضعف،ناتوانی اور شکستگی کو شکست ہوجائے گی ان کی جگہ قدرت،توانائی اور خوشیاں آجائیں گی۔

۹۴

اس پُر مسرّت زمانے میں لبوں پر مسکراہٹیں اور دل شادی اور شادمانی سے  لبریز ہوں گے۔

ملائکہ کے توسط سے برکت وجود میں آئے گی ۔مادّی لحاط سے گندم کی پیداوار کے لئے اسے زمین میں بونے اور پھر اسے ہوا و پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن جو غیر محسوس امور سے آشنائی رکھتے  ہوں،ان کے لئے اشیاء کو ایجاد کرنا فقط عادی و طبیعی وسائل میں منحصر نہیں ہے۔بلکہ وہ غیر طبیعی طریقوں سے بھی طبیعی محصول کو ایجاد کر سکتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ خدا وند متعال نے مختلف کاموں کو وسائل و اسباب کی بنا پر قرار دیا ہے ۔لیکن اس وجہ سے ہمیں وسائل و اسباب میں اتنا مشغول نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم مسبب الاسباب کو ہی فراموش کردیںاور یہ گمان کریں کہ خدا وند کریم نے ایجاد  امورکے لئے جو اسباب قرار دیئے ہیں،وہ صرف مادّی یا ایسے امور میں منحصر ہیں کہ جن سے ہم آگاہ ہیں۔

۳ ۔ ظہور کے زمانہ م یں لوگ گمراہی و ضلالت سے نکل کر ہدایت پالیں گے۔یہ حضرت بقیة اللہ الاعظم (عج)کی عالمی حکومت اور اسلام کے عالمی دین ہونے کی دلیل ہے۔

دورِ حاضر کے برخلاف عصرِ ظہور میں دنیا کے سب لوگ رسولِ اکرم(ص) کے دستورات اور اسلام کے آئ ین پر ایمان لائیں گے اور تقویٰ اختیار کریں گے۔

یہ بدیہی و واضح ہے کہ رسول اکرم(ص) کے دستورات،مکتبِ اہلب یت علیہم السلام اور قرآن کی پیروی کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے اور آنحضرت(ص) کا اجرِ رسالت فقط مودّت ذو ی القربیٰ ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے۔

۹۵

'' قُلْ لَّا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْراً اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبیٰ'' (۱)

آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا ،علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو۔

دنیا کے تمام لوگوں کے عقلی تکامل کی وجہ سے زمانِ نجات میں سب لوگ رسولِ اکرم(ص)کے فرام ین کو قبول کریں گے اور خاندانِ وحی علیھم السلام     کی مودّت کو ادا کریں گے۔ مودّت اہلبیت علیہم السلام  سے ایسی محبت مراد ہے کہ جو ان کے نزدیک انسان کے تقرّب کا باعث بنے۔

''المودة ، قرابة مستفادة '' (۲)

مودّت سے قرب و نزدیکی حاصل ہوتی ہے۔

اس روایت کی بناء پر معاشرے میں ایمان و تقویٰ آسمانی دروازوں کے کھلنے اور برکاتِ الہٰی کے نزول کا سبب ہے۔پس اگر آغاز بعثت سے لوگ پیغمبراکرم(ص)کے احکامات کو قبول کرے اور خاندانِ عصمت و طہارت  عل یھم السلام کی ولایت سے ہاتھ نہ اٹھاتے تو آج دنیا گرانی و ضلالت اور تباہی و بربادی کا منظر پیش نہ کررہی ہوتی اور خداوند کریم آسمانی برکات اور عطائے نعمت سے دریغ نہ کرتا۔

لیکن افسوس کہ جہالت و گمراہی کی آستین سے ستمگروں کے ہاتھ باہر نکلے اور سقیفہ میں خلافت کا ایسا بیج بویا کہ جو بعد میں تن آور درخت کی صورت اختیار کرگیا۔جس کے نتیجہ میں ظلم و ستم اور اختلافات کی آگ بھڑک اٹھی کہ جس کے شعلے آج بھی بلند ہورہے ہیںاور جب تک آستینِ عدالت سے امام عصر کا ظہور نہ ہوجائے،تب تک یہ آگ روشن رہے گی۔اماممہدی علیہ السلام اپنے عدل اور رحمت سے اس آگ کو بجھائیں گے۔

--------------

[۱]۔ سورہ شوریٰ،آیت: ۲۳

[۲] ۔ بحارالانوار :ج۷۴ص۱۶۵

  دنیا کے روشن مستقبل کے بارے میں رسول اکرم (ص)ک ی بشارت

پیغمبر اکرم (ص)اس زمانے م یں آئندہ کے واقعات سے آگاہ تھے اور انہوں نے لوگوں کو فتنہ و فساد اور تباہی و بربادی سے آگاہ کیا تھا اورحضرت مہدی  علیہ السلام  کے ظہور تک اس کے تداوم کی خبر دی تھی۔جیسا کہ انہوں نے اس زمانے میں نعمتوں کی فراوانی اور دنیا کے بہتر اقتصاد کو بھی بیان کیا تھا۔ہم یہاں ظہور قائم آل محمد علیہ السلام  اور اس زمانے کے مستحکم اقتصاد کے بارے میں رسول اکرم(ص) ک ی بشارتوں کے کچھ نمونے پیش کرتے ہیں۔

پیغمبر مقبول اسلا م(ص)نے فرما یا:

'' ابشّرکم بالمهدی یبعث فی امّتی علٰی اختلاف من الناس وزلازل فیملأ الارض قسطاََ و عدلاََ کما ملئت ظلماََ و جوراََ یرضٰٰی به ساکن السماء یقسّم المال صحاحاََ ''

قلنا:وما الصحاح؟

'' قال بالسویّة بین الناس ،فیملأ اللّه قلوب اُمّة محمد غنیٰ و یسعهم عدله حتّیٰ یأمر منادیاً فینادی:من له فی مال حاجة؟ ''

'' قال:فلا یقوم من الناس الا رجل،فیقول :انا ،فیقول له،انت السادنیعنی الخازنفقل له ،ان المهدی یأمرک ان یعطینی مالاً ''

'' فیقول له:احثیعنی خذ.حتّی اذا جعله فی حجره و ابرزه (ندم) فیقول:کنت اجشع امّة محمد نفساً او عجز عنّی ما وسعهم ؟ ''

'' قال فیردّه فلا یقبل منه،فیقال له،انا لا نأخذ شیئاً اعطیناه ''

میں تمہیں مہدی علیہ السلام   کے بارے میں بشارت دیتا ہوں ،جو میری امت میں بھیجا جائے گا کہ جب لوگوں میں اختلاف ہوگا اور زلزلے رونما ہورہے ہوں۔

پس وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے پُر ہوچکی ہوگی اس کام سے آسمان میں رہنے والے راضی ہوں گے۔

۹۶

مال کو صحیح طور پر تقسیم کرے گا۔

ہم نے کہا صحاح سے کیا مراد ہے؟

فرمایا:لوگوں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کرے گا ۔پس خدا وند متعال رسول اکرم (ص) ک ی امت کے دلوں کو بے نیازی سے سرشار فرمائے گا۔اس کی عدالت سب کو احاطہ کرے گی۔یہاں تک کہ وہ منادی کو ندا کا حکم دے گا اور منادی ندا دے گا کہ ہے کوئی جسے مال کی احتیاج و ضرورت ہو؟

پس لوگوں میں  سے کوئی کھڑا نہیں ہوگا مگر ایک شخص اور وہ کہے گا !مجھے ضرورت ہے۔وہ اسے کہے گا کہ خزانہ دار کے پاس جائو اور اسے کہو کہ مہدی علیہ السلام نے حکم دیاہے کہ مجھے مال دو،خزانہ دا ر اسے کہے گا کہ لے لو۔ جب وہ اپنے لباس میں مال ڈالے گا تو وہ پشیمان ہوکر کہے گا۔میرا نفس امت رسول میں حریص ترین ہے اورکیا جس نے ان کو عطا کیا وہ مجھ کو عطا کرنے سے عاجز تھا۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ شخص خزانہ دار کو مال واپس دے دے گا ۔لیکن وہ اس سے مال واپس نہیں لے گا اور کہے گا !ہم جو چیز دے دیں وہ واپس نہیں لیتے۔

اس روایت میں اختلاف ، زلزلے ،پوری دنیا میں ظلم و ستم ،فقر،  تنگدستی اور ضرورت مندی کو امام عصر علیہ السلام  کے ظہور کی نشانیوں کے طور پر شمار کیا گیا ہے۔ حضرت ولی عصر علیہ السلام  کے ظہور کے  بعد ان سب کا خاتمہ ہوجائے گا اور روئے زمین پر عدل کا بول بالا ہوگا۔سب لوگ بے نیاز ہوںگے۔

۹۷

دوسری روایت میں رسول اکرم  (ص)فرماتے ہ یں:

''یحثی المال حثیاً لایعده عداً یملأ الارض عدلا کما ملئت جوراً و ظلماً ''  (۱)

وہ لوگوں کے سامنے مال ڈال دے گا اور اسے شمار نہیںکرے گا۔زمین کو عدالت سے بھر دے گا ۔ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔

  دنیا میں خوشیاں ہی خوشیاں

اسی طرح رسول اکرم (ص)ا س ح یات بخش زمانے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب دنیا میں ہر طرف خوشیاں ہوں گی۔

''یرضی عنه ساکن السماء و ساکن الارض ،ولا ندع السّماء من قطرها شیئاً الّا صبّته،ولا الارض من نباتها شیئاً الّا اخرجته حتیٰ یتمنّی الاحیاء الاموات''  (۲)

زمین وآسمان کے رہنے والے اس راضی ہوں گے۔آسمان بارش کے آخری قطرے تک کو برسا دے گااور زمین آخری دانہ تک کو باہرکر دے گی یہاں تک کہ اس وقت زندہ افراد آرزو کریں گے کہ کاش ان کے مردے بھی زندہ ہوتے۔

--------------

[۱] ۔ التشریف بالمنن:۱۴۷

[۲]۔ التشریف بالمنن: ۱۶۴

۹۸

اس بناء پر مسرت و خوشحالی صرف کرہ زمین پر بسنے ولاوں سے مخصوص نہیں ہے۔بلکہ ساکنینِ آسمان بھی آنحضرتسے راضی و خوشنود ہوں گے یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت ولی عصر  علیہ السلام کی حکومت ایک عالمی حکومت ہوگی کہ جو آسمان و زمین پر بسنے والے تمام افراد کی رضائیت کو جلب کرے گی۔

قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ رسول اکرم(ص)ا یک دوسری روایت میںزمانِ ظہور کے بارے میں شادمانی و خوشحالی فقط انسانوں سے مخصوص نہیں سمجھتے ۔بلکہ فرماتے ہیں :

فرحت و مسرّت میں اس وقت کے حیوانات بھی شامل ہوں گے۔

رسول مقبول اسلام (ص)فرماتے ہ یں:

'' هو رجل من ولد الحسین کانه من رجال شنسوة،علیه عباء تان قطوا نیّتان اسمه اسمی،فعند ذلک تفرح الطیور فی اوکارها،والحیتان فی بحارها،و تمد الانهار،و تفیض العیون و تنبت الارض ضعف اکلها،تم یسیر مقدمته جبرئیل وساقته اسرافیل فیملأ الارض عدلاً و قسطاً کما ملئت جورا و ظلماَ '' (۱)

وہ حسین  علیہ السلام کے فرزندوں میں سے ایک مرد ہے۔گویا وہ شنسوة مردان میں سے ہے۔اس پر روئی سے بنی ہوئی دو عبائیں ہوں گی۔اس کا اسم میرا اسم ہے۔اس وقت پرندے اپنے آشیانوں میں اور مچھلیاںدریائوںمیںخوش ہوجائیں گی۔ نہریںبڑھ جائیںگئی اور چشمے جاری ہوجائیں گے۔زمین سے بہت زیادہ پھل اور نباتات پیدا ہوں گی۔پھرجبرئیل ان کے لشکر کی ابتداء اور اسرافیل درمیان میں سیر کرے گا۔وہ زمین کو عدل و انصاف سے پُر کردے گا کہ جس طرح وہ ظلم و جور سے پُر ہوچکی ہوگی۔

--------------

[۱]۔ بحارالانوار:ج ۵۲ص ۳۰۴

۹۹

جی ہاں!جس لشکر میں جبرئیل و اسرافیل جیسے حاملین عرش شامل ہوں،وہ اہل زمین کی نجات کا ذریعہ ہوگا۔دوسری مخلوقات و موجودات کے لئے بھی خوشیوں کا باعث ہوگا۔وہ غاصبوں سے لوگوں کے حقوق لے گا اور مقروضین کے قرض ادا کرے گا۔چاہے وہ کوہ کی مانند بہت زیادہ ہو یا پھر کاہ یعنی تنکے کی مانند بہت کم ہے۔

مفضل نے اما م صادق  علیہ السلام  سے عرض کی:

'' یا مولای، من مات من شیعتکم و علیه دین لاخوانه ولاضداده کیف یکون؟

قال الصادق:اوّل ما یبتدی المهدی ان ینادی فیجمیع العالم ؛الا من له عند احد من شیعتنا دین فلیذکره،حتی یردّ التومة والخردلة فضلاً عن القناطیر المقنطرة من الذّهب والفضة والاملاک فیوفّیه ایّاه '' (۱)

اے میرے آقاو مولی!اگر آپ کے شیعوں میں سے کوئی مرجائے گا کہ جس پر بردرانِ مؤمن اور مخالفین کا قرض ہو تو کیا ہوگا؟

امام صادق  علیہ السلام نے فرمایا:مہدی علیہ السلام  سب سے پہلے جو کام شروع کریں گے،وہ یہ ہوگا کہ پوری دنیا میں منادی ند ادے گا:

آگاہ ہوجائو کہ جس نے بھی میرے شیعوں میں کسی کو قرض دیا ہو تو بتائے تاکہ سونا چاندی کے قناطیر مقنطرہ سے بھی زیادہ اس کے مالک کو دے دیا جائے۔

--------------

[۱] ۔ بحار الانوار:ج۵۳ص۳۴

۱۰۰

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

فلاں خاص معجزہ نہيں ركھتا اس پر ايمان نہ لائيں خواہ وہ پيغمبرہى كيوں نہ ہو، چونكہ انہوں نے يہ نہيں كہا كہ''الا نؤمن لمدعى الرسالة'' اور يہ كہ اگر نبى ہو تب بھى ايمان نہ لانا جب تك فلاں خاص معجزہ نہ دكھائے_ سوائے خرافات كے اور كچھ نہيں _

٢_ بالفرض اس قسم كا عہد ليا بھى گيا ہو تو انہيں سوچنا چاہيئے كہ اس قسم كى قربانى سچے اور جھوٹے كى پہچان كيلئے ايك معجزہ ہے نہ كہ يہ خود مقصود ہے اور اس پر اصرار كرنا جمود ہٹ دھرمى و كى علامت ہے_

١٨_ دوسروں كے اعمال پر راضى ہونا، ان كى انجام دہى ميں شريك ہونے كے برابر ہے_ *فلم قتلتموهم

عصر پيغمبراكرم(ص) كے يہوديوں كى طرف انبياء (ع) كے قتل كى نسبت يقيناً حقيقى نہيں ہے_ چونكہ انہوں نے گذشتہ انبياء (ع) كو قتل نہيں كيا تھا_ لہذا بعض كا خيال ہے كہ يہ نسبت اس لحاظ سے ہے كہ وہ اپنے آبا و اجداد كے اعمال پر راضى تھے_

١٩_ زمانہ پيغمبر(ص) كے يہود، اپنے آبا و اجداد كے ذريعے انبياء (ع) كے قتل پر راضى ہونے كے سبب، انبياء (ع) كے قاتلوں كے حكم ميں تھے_فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢٠_ يہود كا ہٹ دھرم اور معاند ہونا_قل قد جائكم رسل من قبلى بالبينات و بالذى قلتم فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢١_ پيغمبراسلام(ص) پر ايمان لانے سے فرار كرنے كى خاطر يہوديوں كى بہانہ تراشي_الذين قالوا فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين جملہ''فلم قتلتموهم ...''سے ظاہر ہوتا ہے كہ ايمان لانے كيلئے ان كا مطالبہ و شرط فقط ايك بہانہ تھا_

٢٢_ اپنا مطلوبہ معجزہ (قربانى كا غيبى آگ سے جلنا) ديكھنے كى صورت ميں پيغمبراكرم(ص) پر ايمان لانے كے بارے ميں يہود كے ادعا كا جھوٹ پر مبنى ہونا_قل قد جائكم فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢٣_ يہود كے ساتھ خداوند متعال كے اس عہد كى تكذيب كہ جس كے مطابق وہ پيغمبراكرم(ص) پر اس وقت تك ايمان نہيں لائيں گے جب تك آپ(ص) ايسى قربانى پيش نہ كريں جسے غيبى آگ جلا دے_

ان الله عهد الينا الانؤمن فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين اگر يہود كا ادعا صحيح ہوتا تو پيغمبر اكرم(ص) كو چاہيئے تھا كہ ان كا مطالبہ پورا كرتے، نيز عہد كو ''الذى قلتم'' (جو تم نے كہا) سے تعبير نہ فرماتے بلكہ يہ

۲۸۱

فرماتے''بالعهد الذى عهد الله عليكم'' كيونكہ اگر ان كا ادعا حقيقى ہوتا تو يہ ايك الہى عہد ہوتا نہ كہ يہود كا قول_

٢٤_ فضول ادعا كرنے اور بہانے بنانے كى وجہ سے خداوند متعال كى جانب سے يہوديوں كى سرزنش_

الذين قالوا ان الله فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢٥_ اہل كتاب (يہود) كے مقابلے ميں قرآن كا استدلالى و منطقى رويہ_قل قدجائكم رسل من قبلى فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢٦_ يہود كا اپنے قومي، ثقافتى اور تاريخى آثار و رسوم سے محكم ارتباط و لگاؤ ركھنا_الذين قالوا ان الله عهد الينا الا نؤمن فلم قتلتموهم ان كنتم صادقين

٢٧_ پيغمبراكرم(ص) كے ہم عصر يہوديوں كا بعثت سے پانچ سو سال پہلے اپنے آبا و اجداد كے ہاتھوں انبياء (ع) كے قتل ہونے پر راضى ہونا ان كى طرف خداوند متعال كى جانب سے قتل انبياء (ع) كى نسبت دينے كا باعث بنا ہے_

قل قدجائكم رسل من قبلى بالبينات وبالذى قلتم فلم قتلتموهم امام صادق نے مذكورہ آيت كى تلاوت كے بعد فرمايا:''كان بين القاتلين و القائلين خمس ما ة عام ، فالزمهم الله القتل برضاهم ما فعلوا'' (١) يعنى اس بات كے كہنے والوں اور قاتلين كے درميان پانچ سو سال كا فاصلہ تھا مگر الله تعالى نے ان كى طرف قتل كى نسبت اسلئے دى كہ وہ قاتلوں كے اس فعل پر راضى تھے_

٢٨_ بنى اسرائيل كى قربانى كا جل جانا، اسكے بارگاہ خداوند متعال ميں قبول ہونے كى علامت تھي_

حتى ياتينا بقربان تأكله النار امام صادق(ع) فرماتے ہيں : كانت بنو اسرائيل اذا قربت القربان تخرج نار تاكل قربان من قبل منہ(٢) جب بنى اسرائيل قربانى كرتے تو قبول ہونے والى قربانى كو آگ جلا ديتي_

٢٩_ كسى كے ناحق قتل پر راضى ہونا، خود اسے قتل كرنے كے مترادف ہے_فلم قتلتموهم

امام صادق(ع) مذكورہ آيت سے تنقيح مناط كى بناپرفرماتے ہيں :لعن الله المرجئة ان هؤلاء يقولون : ان قتلتنا مؤمنون

____________________

١)كافى ج٢ ص٤٠٩ ح١، تفسير برھان ج١ ص٣٢٨ ح٢/، ٤، ٦.

٢)كافى ج٤ ص٣٣٥ ح١٦، نورالثقلين ج١ ص٤١٧ ح٤٦٢.

۲۸۲

فدمائنا متلطخه بثيابهم الي يوم القيمة ان الله حكى عن قوم فى كتابه : الا نؤمن لرسول فلم قتلتموهم ...'' قال : كان بين القاتلين و القائلين خمسمأة عام فالزمهم الله القتل برضاهم ما فعلوا _(١) خدا كى لعنت ہو مرجئہ پر ، يہ كہتے ہيں ہمارے ( اہل بيت (ع) ) قاتل بھى مؤمن ہيں _ پس ان (مرجئہ) كے د امن قيامت تك ہمارے خون سے آلودہ ہيں كيونكہ خداوند متعال اپنى كتاب ميں اس قوم كے بارے ميں فرمارہا ہے ''الا نؤمن لرسول فلم قتلتموهم ...'' امام (ع) نے فرمايا قاتلين اور قائلين كے درميان پانچ سو سال كا فاصلہ ہے ليكن پھر بھى اللہ تعالى نے كہنے والوں كى طرف قتل كى نسبت دى كيونكہ وہ اس فعل قتل پر راضى تھے_

آتش: آتش غيبى ١، ٦، ٩، ١٣، ٢٢، ٢٣

آنحضرت(ص) : ٢، ٥، ١٦، ٢١، ٢٢، ٢٣ آنحضرت (ص) كا معجزہ٢٢ ; آنحضرت (ص) كا استدلال ١٠، ١٤

اسلام: ٥ اللہ تعالى: اللہ تعالى كا عہد ٤، ٢٣

انبياء (ع) : ١، ٣ انبياء (ع) كا قتل١٢، ١٣، ١٩، ٢٧; انبياء (ع) كا معجزہ٨، ٩، ١٢، ١٣; انبياء (ع) كى بعثت٨; انبياء (ع) كى حقانيت١٢ اہل كتاب: ٢٥

ايمان: آنحضرت(ص) پر ايمان ٢،٢١، ٢٢، ٢٣ ; انبياء (ع) پر ايمان ١، ٣

بنى اسرائيل: انبيائے بنى اسرائيل ٨، ٩;بنى اسرائيل كى قربانى ٢٨

تاريخ: تاريخ سے عبرت ١٥

تبليغ: تبليغ كا طريقہ ٢٥

حضرت موسى (ع) : حضرت موسي (ع) كى بعثت ٣

حق كا چھپانا: ١٢،١٣

دين: دين سے سوء استفادہ ٥

روايت: ٢٧، ٢٨، ٢٩

سزا:١٩

____________________

١)كافى ج٢ ص٤٠٩ ح١، تفسير عياشى ج١ ص٢٠٨ ح١٦٣.

۲۸۳

شناخت: شناخت كے منابع ١٥

عقيدہ: ١، ٣، ٤، ٦، ١٧ عمل : عمل كى قبوليت ٢٨ عہد: عہد كى وفا ٤

قتل: ١٢، ١٣، ١٩، ٢٢، ٢٣، ٢٧، ٢٩

قرباني: ١، ٢، ٦، ٩، ١٣، ٢٢، ٢٣، ٢٨ اديان الہى ميں قربانى ٧

كفر: ١٣، ٢١

گناہ: گناہ پر راضى ہونا ١٨، ١٩، ٢٧، ٢٩

مبارزت: اسلام كے خلاف مبارزت ٥

معجزہ: ٨، ٩، ١٢، ١٣، ٢٢ معجزہ كى اہميت ١١

نبوت: نبوت كے دلائل ١١

نفاق: ١٦

يہود: ٥، ١٠،١٢، ٢٣، ٢٥ صدر اسلام كے يہود ١٩، ٢٧ ;يہود كا انبياء (ع) كو قتل كرنا ١٢، ١٣، ١٩، ٢٧; يہود كا جمود ١٧; يہود كا جھوٹ بولنا ٢٢;يہود كا عقيدہ ١، ٣، ٤، ٦، ٧;يہود كا كفر ١٣، ٢١; يہود كا نفاق ١٦;يہود كى بہانہ تراشى ٢١، ٢٤; يہود كى تاريخ ١٤; يہود كى خواہشات ٢;يہود كى دشمنى ، ٢٠;يہود كى سرزنش ٢٤; يہود كى سزا ١٩;يہود كى صفات ٢٠; يہود كى ضد و ہٹ دھرمى ٢٠;يہود كى نسل پرستى ٢٦;يہود كے آبا و اجداد ١٩، ٢٧; يہود ميں خرافات ١٧

آیت(۱۸۴)

( فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآؤُوا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ )

اس كے بعد بھى آپ كى تكذيب كريں تو آپ سے پہلے بھى رسولوں كى تكذيب ہوچكى ہے جو معجزات ، مواعظ اور روشن كتاب سب كچھ لے كر آئے تھے _

١_ يہود كا پيغمبراسلام(ص) كو جھٹلانا_فان كذبوك

٢_ يہود كى طرف سے آنحضرت (ص) كو جھٹلائے جانے پر آپ (ص) كا غمگين ہونا_*

۲۸۴

فان كذبوك فقد كذب رسل من قبلك

آيت كا لب ولہجہ بتا رہا ہے كہ پيغمبراكرم(ص) اپنى تكذيب پر غمگين تھے بعض نے جواب شرط كو محذوف قرار ديتے ہوئے يوں كہا ہے:''ان كذبوك فلا تحزن'' اس لحاظ سے جملہ ''فقد كذب'' كو '' لا تحزن''كى علت قرار ديا گيا ہے_

٣_ يہود كى طرف سے پيغمبر اكرم(ص) كو جھٹلائے جانے پر خداوند متعال كا آنحضرت(ص) كو تسلى و تشفى دينا_

فان كذبوك فقد كذب رسل من قبلك

٤_ لوگوں كى مخالفت اور تكذيب كے باوجود خداوند متعال كى طرف سے پيغمبراكرم(ص) كو انجام رسالت ميں استقامت و پائيدارى دكھانے كى ترغيب_فان كذبوك فقد كذب رسل من قبلك

٥_ يہوديوں كا رسالت پيغمبراكرم(ص) كے دائرے ميں ہونا_فان كذبوك يہوديوں كے پيغمبراكرم(ص) كو جھٹلانے سے ظاہر ہوتا ہے كہ آپ(ص) نے انہيں بھى اسلام قبول كرنے كى دعوت دى تھي_

٦_ رسالت انبياء (ع) كو جھٹلانا، ان كى مخالفت كرنے كے رائج طريقوں ميں سے ايك طريقہ ہے_فان كذبوك فقد كذب رسل من قبلك

٧_ بہت سے انبياء (ع) كا روشن دلائل (برہان و معجزہ) كا حامل ہونے كے باوجود،جھٹلايا جانا_فقد كذب رسل من قبلك جاؤ بالبينات والزبر والكتاب المنير

٨_ انبياء (ع) كو جھٹلانے والے، خداوند متعال كى طرف سے سرزنش و ملامت كا نشانہ بنتے ہيں _

فان كذبوك جاؤ بالبينات والزبرو الكتاب المنير جملہ ''جاؤ بالبينات''، ''رسل''كيلئے حال يا صفت ہے_ يعنى انبياء (ع) كو اپنى رسالت كيلئے روشن دلائل ركھنے كے باوجود، بعض لوگوں كى مخالفت كا سامنا كرنا پڑا_ يہ تعبير ان كى شديد مذمت كو ظاہرى كررہى ہے_

٩_ انبيائے الہى (ع) روشن دلائل (برہان و معجزہ) سے بہرہ مند ہونے اور ''زُبُر''(حكمت و موعظہ پر مشتمل كتب) كے حامل ہونے كے علاوہ روشن اور واضح كتاب لانے والے تھے_رسل من قبلك جاؤ بالبينات والزُبر والكتاب المنير

''منير''كا معنى روشنى پھيلانے والا اور روشن دونوں ہيں _

١٠_ آسمانى كتب كا ضرورت كے ہر پہلو كو روشن كرنا_جاؤ والكتاب المنير

يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''منير'' كا معنى روشنى

۲۸۵

پھيلانے والا ہو_ يہاں اس كا متعلق حذف ہوگيا ہے تاكہ عموم و شمول پر دلالت كرے _ يعنى ہر وہ چيز جس كى لوگوں كو ضرورت ہے اور جس كى توقع وہ اس كتاب سے ركھتے ہيں وہ اس ميں بيان ہوئي ہے_

١١_ آسمانى كتابوں كا قابل فہم اور ان كے ظواہر كا حجت ہونا_جاؤ بالبينات والزبر و الكتاب المنير

اگر آسمانى كتب قابل فہم نہ ہوں تو نہ تو روشن ہوں گى اور نہ ہى روشنى پھيلانے والي_ اور جب قابل فہم ہيں تو ان كے ظواہر، مكلفين كيلئے حجت ہيں _

١٢_ بہت سے انبياء (ع) كا روشن دلائل، آسمانى كتب اور حرام وحلال كے احكام كے حامل ہونے كے باوجود جھٹلايا جانا_فان كذ بوك جاؤ بالبينات والزبر والكتاب المنير اما م باقر(ع) نے مذكورہ آيت كے بارے ميں فرمايا:''فان كذبوك فقد جاؤ بالبينات هى الايات ''والزبر''و هى كتب الانبياء بالنبوة '' والكتاب المنير '' الحلال والحرام_ (١) '' البينات'' سے مراد نشانياں '' الزبر''سے مراد انبياء (ع) كى كتب نبوت اور ''الكتاب المنير'' سے مراد حلال و حرام ہيں _

آسمانى كتب: ١٢ آسمانى كتب كا فہم ١١; آسمانى كتب كى تعليمات ٩، ١٠;آسمانى كتب كى حجيت ١١

آنحضرت(ص) : آنحضرت(ص) كا غمگين ہونا ٢; آنحضرت(ص) كو تسلى و تشفى ٣; آنحضرت(ص) كى تشويق ٤;آنحضرت (ص) كى تكذيب ١، ٢، ٣، ٤ ; آنحضرت(ص) كى ذمہ دارى كى حدود ٥

احكام: احكام كے منابع١٢

استقامت: استقامت كى تشويق ٤

اسلام: صدر اسلام كى تاريخ ١، ٢، ٣، ٤

انبياء (ع) : انبياء (ع) كا استدلال ٧، ٩، ١٢; انبياء (ع) كا معجزہ٧، ٩; انبياء (ع) كى تكذيب ٦ ، ٧ ، ٨، ١٢ ;انبياء (ع) كى مخالفت ٦

روايت: ١٢

مكذبين: مكذبين كى مذمت ٨ يہود: ١، ٢، ٣، ٥

____________________

١)تفسير قمى ج١ ص١٢٧، تفسير برھان ج١ ص٣٢٨ ح١.

۲۸۶

آیت(۱۸۵)

( كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَما الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ ) ہر نفس موت كا مزہ چكھنے والا ہے او رتمھارا مكمل بدلہ تو صرف قيامت كے دن ملے گا_ اس وقت جسے جہنم سے بچا لياگيا اورجنت ميں داخل كرديا گيا وہ كامياب ہے او رزندگانى دنياتو صرف دھو كہ كاسرمايہ ہے _

١_ موت، سب لوگوں كا حتمى انجام ہے_كل نفس ذائقة الموت

٢_ قيامت كے دن اعمال كى پورى پورى سزا پانے كے بارے ميں خداوند متعال كا وعدہ_و انما توفون اجوركم يوم القيمة ''توفون''كا مصدر ''توفية'' ہے جس كا معنى پورا اور مكمل دريافت كرنا ہے_

٣_ فقط قيامت كے دن ہى اعمال كى پورى پورى سزا دى جائے گي_و انما توفون اجوركم يوم القيمة

٤_ قيامت كے دن انسان كے ا عمال كى عادلانہ جزا اور ان كا دقيق محاسبہ_و انما توفون اجوركم يوم القيمة ''توفون''(عمل كے مقابلے ميں پورى پورى جزا عطا ہونا) اعمال كے دقيق محاسبے كى حكايت كر رہا ہے، نيز جزا دينے ميں عدل و انصاف كے لحاظ ركھنے كى بھى علامت ہے_

٥_ قيامت كے علاوہ (دنيا و عالم برزخ ميں ) بعض اعمال كى جزا و سزا حاصل ہونا_ *و انما توفون اجوركم يوم القيمة

كلمہ ''انما'' ، '' پورى پورى جزا يا سزا كے

۲۸۷

دريافت كرنے كو، روزقيامت ميں منحصر كررہا ہے_ لہذا اس كا مفہوم يہ ہے كہ بعض سزا و جزا قيامت كے علاوہ كسى اور وقت بھى دى جاتى ہيں اور اس غير قيامت سے مراد ہوسكتا ہے دنيا ہو يا عالم برزخ يا دونوں _

٦_ پيغمبراكرم(ص) كے ساتھ ابلاغ رسالت اور اسكى مشكلات اور مصائب برداشت كرنے كے عوض، آخرت ميں پورى جزا كا وعدہ_فان كذبوك و انما توفون اجوركم يوم القيامة گذشتہ آيت كے قرينے سے جو پيغمبر اكرم(ص) كى تسلى و تشفى كيلئے نازل ہوئي تھى ، ''انما توفون اجوركم ''كے مطلوبہ مصاديق ميں سے ايك، ابلاغ رسالت كے عوض پيغمبر اكرم(ص) كا مكمل اور پورا پورا اجر ہے جو آپ(ص) كو قيامت كے دن عطا ہوگا_

٧_ اُخروى منافع سے بہرہ مندي، انسان كے دنيوى اعمال كا نتيجہ ہے_و انما توفون اجوركم يوم القيمة

٨_ موت،ا نسان كى نابودى نہيں بلكہ قيامت ميں وارد ہونے كا ايك مرحلہ ہے_كل نفس ذائقة الموت و انما توفون اجوركم يوم القيمة

٩_ ''يوم القيمة''، روز جزا كے ناموں ميں سے ايك نام ہے_و انما توفون اجوركم يوم القيمة

١٠_ دوزخ، انسانوں كے ناپسنديدہ اعمال كى پورى پورى جزا ہوگي_و انما توفون فمن زحزح عن النار

١١_ بہشت، انسانوں كے نيك اعمال كى پورى پورى جزا ہوگي_و انما توفون اجوركم يوم القيمة فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز

١٢_ آگ سے نجات پانے والوں اور بہشت ميں داخل كئے جانے والوں كى سعادت مندى و كاميابي_

فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز ''زحزح'' مصدر ''زحزحة'' سےيعنى دور ہونا اور يہاں نجات و رہائي پانے سے كنا يہ ہے_

١٣_ بہشت، سعادت مندوں كا مقام ہے_فمن زحزح و ادخل الجنة فقد فاز

١٤_ دوزخ كے باسيوں كى بدبختى اور شقاوت_فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز

١٥_ خدا كا خبردار كرنا كہ دنيوى زندگى سوائے فريب كے

۲۸۸

اور كچھ نہيں _و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور ''الغرور''يا تو مصدر ہے يعنى فريب اور دھوكہ دينا يا اسم فاعل ہے اور ''غار'' كى جمع ہے جس كا معنى فريب دينے والا ہے_

١٦_ انسانوں كى ہدايت كيلئے قرآن كا طريقہ ہے كہ وہ انہيں موت و قيامت كے دن، اعمال كى جزا و سزا اور دنيا كے فريب دہندہ ہونے كى طرف متوجہ كراتا ہے_كل نفس ذائقة الموت و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور

١٧_ دنيوى منافع سے فريب كھانا، اخروى سعادت و نجات سے محروميت كا باعث بنتا ہے_

فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور

١٨_ دنيوى زندگى كے سلسلے ميں ہوشيار رہنا ضرورى ہے_و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور

خداوند متعال نے دنيوى زندگى كو فريب دہندہكہا ہے تاكہ انسانوں كو سمجھائے كہ مبادا تم لوگ دنيوى زندگى كے ظاہرى فريب و دھوكے ميں آجاؤ اور وہ تمہيں بہشت سے غافل كردے جو كہ كاميابى و سعادت ہے_

١٩_ دنيوى زندگى اور اسكى لذتيں ، انسان كو موت اور ان لذتوں و خوشيوں كے فانى ہونے سے غافل كرديتى ہيں _

كل نفس ذائقة الموت و ماالحيوة الدنيا الا متاع الغرور موت كے آنے سے سب لوگوں كى آگاہى كے باوجود، موت كى ياددہانى اور پھر دنيوى زندگى كو فريب دہندہ كہنے سے پتہ چلتا ہے كہ دنيا كے فريب كا واضح ترين مصداق، اس كا انسانوں كو موت اوراپنى لذتوں كے فانى ہونے سے غافل كرنا ہے_

٢٠_ حقيقى سعادت پر فائز ہونا دنيا ميں ميسر نہيں ہوسكتا_فمن زحزح و ادخل الجنة فقد فاز و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور جملہ ''فمن ادخل الجنة فقد فاز''(پس جسےجنت ميں داخل كرديا گيا وہ كامياب ہوگيا) سے اور دنيوى زندگى كو فريب و فريب دينے سے توصيف كرنا، ظاہر كرتا ہے كہ انسان كى حقيقى سعادت، دنيا ميں ميسر نہيں ہوسكتي_

٢١_ اعمال كى مكمل اخروى جزا كے مقابلے ميں دنيوى منافع، ايك فريب سے زيادہ اور كچھ نہيں _

و انما توفون اجوركم يوم القيمة و ما الحيوة الدنيا الا متاع الغرور

۲۸۹

٢٢_ ہر صاحب روح حتي ملائكہ مقربين اور حاملين عرش تك كا موت سے ہمكنار ہونا_كل نفس ذائقة الموت امام صادق(ع) مذكورہ آيت كى تفسير ميں فرماتے ہيں :انه يموت اهل الارض حتى لايبقي احد ثم يموت اهل السماء حتي لايبقي احد الا ملك الموت و حملة العرش و جبرئيل و ميكائيل فيجي ملك الموت حتي يقوم بين يدى الله عزوجل فيقول (الله ): انى قد قضيت على كل نفس فيها الروح الموت ..(١) اس زمين كے سب باشندے موت كا شكار ہوجائيں گے يہاں تك كہ كوئي نہ ر ہے گا پھر آسمان والے موت كا مزہ چكھيں گے يہاں تك كہ كوئي نہ ر ہے گا سوائے ملك الموت، حاملان عرش اور جبرئيل و ميكائيل ...كے، پھر ملك الموت خداوند متعال كے حضور آئے گا ...خداوند متعال اس سے فرمائے گا: يہ امر ميں طے كرچكاہوں كہ جس نفس ميں روح ہے وہ موت كو ضرور چكھے گا_

آنحضرت (ص) : آنحضرت (ص) كى اخروى جزا ٦

اللہ تعالى: اللہ تعالى كا خبردار كرنا ١٥; اللہ تعالى كا وعدہ ٢، ٦

انسان: انسان كا انجام ١

اہل جہنم: اہل جہنم كى شقاوت ١٤

بہشت: ١١، ١٢، ١٣

تبليغ: تبليغ كا طريقہ ١٦

جزاوسزا : ٣، ٤، ٥، ٧، ٢١ اخروى جزا و سزا ٢، ٩، ١٦ ;جزا و سزا كے اسباب ٦، ١١

جہنم: ١٠

دنيا: ٥ دنيا كا فريب دينا ١٦، ١٧، ٢١;دنيوى زندگى ١٥، ١٨;دنيوى وسائل ١٢

دنيا پرستي: دنيا پرستى كے اثرات ١٧، ١٩

ذكر: ١٦

رسالت: رسالت كى سختى و مشكل ٦

____________________

١)كافى ج٣ ص٢٥٦ ح٢٥ نورالثقلين ج١ ص٤١٩ ح٤٧٠.

۲۹۰

روايت: ٢٢

روز قيامت:٩

سزا: ٥، ١٠ اخروى سزا ٩

سعادت : دنيوى سعادت ٢٠; سعادت سے محرومى ١٧; سعادت كے اثرات ١٢

سعادت مند: سعادت مندوں كابہشت ميں جانا١٢، ١٣; سعادت مندوں كے فضائل ١٢، ١٣

شقاوت: ١٤

عالم برزخ: ٥

عدل: قيامت كے دن عدل ٤

عذاب: عذاب سے نجات كے عوامل ١٢; عذاب كے اسباب ١٠

عرش: حاملان عرش ٢٢

عمل: عمل صالح كى جزا ١١; عمل كا اخروى اجر ٣، ٧، ٢١; عمل كا دنيوى اجر ٥; عمل كى جزا و سزا ٢، ٤;عمل كى دنيوى سزا ٥;عمل كى سزا ١٠; عمل كے اثرات ٧; ناپسنديدہ عمل كى سزا ١٠

غفلت: غفلت كا پيش خيمہ ١٩;موت سے غفلت ١٩

قيامت: قيامت كے دن كا حساب كتاب ٤ ;قيامت كے نام ٩

ملائكہ: ملائكہ كى موت ٢٢

موت: ١٩ موت كو ياد كرنے كے اثرات ١٦;موت كا حتمى ہونا ١، ٢٢;موت كى حقيقت ٨

ہدايت: ہدايت كے اسباب ١٦;ہدايت كے موانع ١٧

ہوشياري: ہوشيارى كى اہميت ١٨

۲۹۱

آیت(۱۸۶)

( لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ أَذًی كَثِيرًا وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الأُمُورِ ) يقينا تم اپنے اموال اور نفوس كے ذريعہ آزمائے جاؤ گے او رجن كو تم سے پہلے كتاب دى گئي ہے اور جو مشرك ہوگئے ہيں سب كى طرف سے بہت اذيت ناك باتيں سنوگے _ اب اگر تم صبر كروگے اور تقوي اختيار كرو گے تو يہى امور ميں استحكام كا سبب ہے _

١_ مؤمنين كى دائمى و مسلسل آزمائش، خداوند متعال كى ايك سنت ہے_

لتبلون فى اموالكم و انفسكم ''لتبلون''ميں ''لام''تاكيد كيلئے اور آزمائش كے وقوع پر خداوند متعال كى قسم كى حكايت كر رہا ہے اور نون تاكيد بھى اسكے حتمى ہونے كى تاكيد كر رہا ہے_ اسى طرح فعل مضارع '' لتبلون'' آزمائش كے استمرار پر دلالت كرتا ہے_

٢_ مؤمنين كے جان و مال اور جسم، ان كى آزمائش كا وسيلہ ہيں _لتبلون فى اموالكم و انفسكم

٣_ جسم و جان كے ذريعے آزمائش كا مرحلہ، مال كے ذريعے آزمائش كے بعد ہے_*

لتبلون فى اموالكم و انفسكم اموال كے ذكر كا انفس پر مقدم ہونا آزمائش كے مرحلوں كى ترتيب كى جانب اشارہ ہوسكتا ہے_

٤_ مؤمنين كى مالى آزمائش كا ميدان، انفاق اور جانى آزمائش كا ميدان ،جہاد ہے_لتبلون فى اموالكم و انفسكم گذشتہ آيات كہ جو جہاد و انفاق كے بارے ميں تھيں كے پيش نظر ہوسكتا ہے كہ مالى امتحان انفاق كى طرف اور جانى امتحان جہاد كى طرف اشارہ ہو

۲۹۲

چونكہ يہ دونوں بالترتيب انفاق و جہاد كى طرف ناظر ہيں _

٥_ مؤمنين كى آزمائش و ابتلاء پاك و ناپاك افراد كى صفوں ميں تشخيص كا وسيلہ ہے_*

حتي يميز الخبيث من الطيب لتبلون فى اموالكم و انفسكم خداوند متعال نے آيت ١٧٩ ( حتي يميز الخبيث ) ميں پاك و ناپاك افراد كے مشخص كرنے كا وعدہ ديا ہے_ اس آيت ميں اس تشخيص كا طريقہ (كہ جو مالى و جانى امتحان ہے) بيان كيا جا رہا ہے_

٦_ مؤمنين كيلئے ضرورى ہے كہ وہ ا لہى آزمائش و امتحان كيلئے تيار رہيں _لتبلون فى اموالكم و انفسكم

خداوند متعال اس بات كى ياددہانى كراتے ہوئے كہ مؤمنين اپنى جان و مال كے سلسلے ميں آزمائے جائيں گے_ درحقيقت انہيں سمجھا رہا ہے كہ انہيں اس امر كيلئے تيار رہنا چاہيئے_

٧_ موت، اخروى اجر و ثواب اور دنيا كے پرفريب ہونے كى طرف توجہ سے انسان كى آزمائش الہى ميں كاميابى كا راستہ ہموار ہوتا ہے_كل نفس ذائقة الموت لتبلون فى اموالكم و انفسكم

بظاہر گذشتہ آيت (كل نفس ...) مؤمنين كے جانى و مالى امتحان ميں كامياب ہونے كى طرف ايك راہنمائي ہے_ چونكہ جہاد و فداكارى كا بہترين راستہ يہ ہے كہ انسان جانتا ہو كہ خواہ وہ جہاد كرے يا نہ كرے موت كا مزہ ضرور چكھے گا_ اور مال و دولت سے چشم پوشى كا عاقلانہ راستہ يہ ہے كہ انسان جان لے كہ دنيا اور اسكى زينتيں ، پرفريب و فضول ہيں _

٨_ مسلمانوں كو اہل كتاب و مشركين كى طرف سے بہت زيادہ ايذا و رنج پہنچنے كى پيشگوئي _

و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذيً كثيراً

٩_ آئندہ كى مشكلات سے آگاہي، ان مشكلات كے تحمل كرنے كو آسان بنا ديتى ہے_

ولتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من ا لذين اشركوا اذى كثيراً

مخالفين كى طرف سے آزار و اذيت ديئے جانے سے پہلے مسلمانوں كو اس سے آگاہ كرنے كا مقصد، انہيں تيار كرنا ہے تاكہ وہ ناگہانى مشكلات كا سامنا كرتے وقت صبر و تحمل كا دامن ہاتھ سے چھوڑ نہ ديں _

١٠_ صدر اسلام كے مسلمانوں كو، اہل كتاب و مشركين كى طرف سے بہت زيادہ اذيت و آزار كا سامنا تھا_

و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و

۲۹۳

من الذين اشركوا اذى كثيراً

١١_ مسلمانوں كے خلاف مشركين اور اہل كتاب كا ايك طريقہ زبانى آزار و اذيت (غلط پروپيگنڈا) كرنا تھا_

و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذيً كثيراً

١٢_ اہل كتاب اور مشركين كا مسلمانوں سے مسلسل دشمنى كرنا_و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذيً كثيراً

١٣_ حق و باطل كے درميان دائمى مقابلہ اور تصادم_و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذيً كثيراً

١٤_ مسلمانوں كے ساتھ دشمنى كرنے ميں اہل كتاب كى مشركين كے ساتھ ہمراہى كا زشت و برا ہونا_

لتسمعن من الذين اوتو ا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذيً كثيراً يہود و نصاري كو اہل كتاب كے عنوان سے ياد كرنا، مشركين كے ساتھ ان كے تعاون كى برائي كى طرف اشارہ ہے، كيونكہ اہل كتاب كے آسمانى ہونے كا تقاضا ہے كہ وہ توحيد كے مخالف اور الہى منصوبوں كے دشمن مشركين كے خلاف جنگ كريں نہ كہ وہ ان مسلمانوں كے خلاف لڑيں جو توحيد اور الہى كا موں كے مروج ہيں _

١٥_ مؤمنين كے اہم ترين امتحانات و آزمائشات ميں سے ايك، مسلمانوں كو مشركين و اہل كتاب كى طرف سے آزار و اذيت كا پہنچنا ہے_لتبلون فى اموالكم و أنفسكم و لتسمعن الذين اوتوا الكتاب من قبلكم و من الذين اشركوا اذى كثيراً ہوسكتا ہے جملہ ''و لتسمعن '' مالى و جانى امتحان ميں سے كسى ايك كى وضاحت ہو چونكہ تہمتيں اور ناروا باتيں دلوں كو زخمى كرتى ہيں جبكہ انفاق كے خلاف غلط پروپيگنڈا،ہوسكتا ہے بخل و كنجوسى كے رائج ہونے كا باعث بنے_

١٦_ انسا ن كے دل و روح كو اذيت و آزار پہنچانے ميں زخم زبان كا گہرا اثر _لتبلون و لتسمعن من الذين اذيً كثيراً يہ اس بنا پر ہےجب''لتسمعن'' ، ''لتبلون فى أنفسكم'' كا مصداق بيان كر رہاہو_

١٧_ دشمنوں كى اذيت و آزار اور آزمائش الہى كے مقابلے ميں صبر و تقوي اختيار كرنا ضرورى ہے_

لتبلون و لتسمعن و ان تصبروا و تتقوا فان ذلك من عزم الامور

۲۹۴

١٨_ صبر و استقامت خواہ دشمن كے مقابلے ميں ہى كيوں نہ ہو، اس ميں حدود الہى اور تقوي كا لحاظ ركھنا ضرورى ہے_

و لتسمعن اذيً كثيراً و ان تصبروا و تتقوا صبر كے بعد تقوي كے ذكر سے ظاہر ہوتا ہے كہ دشمن كے اذيت و آزار كے مقابلے ميں فرامين الہى كونظرانداز نہيں كرنا چاہيئے_

١٩_ لوگوں كو ايمان كے راستے سے روكنے ميں غلط پروپيگنڈے كا مؤثر كردار_

و لتسمعن من الذين اوتوا الكتاب و ان تصبروا و تتقوا دشمن كے پروپيگنڈے كے مقابلے ميں استقامت و پائيدارى كا حكم، مسلمانوں كے حوصلوں پر اس (غلط پروپيگنڈے) كے گہرے اثرات كے خطرے كو ظاہر كرتا ہے_

٢٠_ الہى آزمائش ميں كاميابى ، اس صبر سے مشروط ہے جو تقوي كے ہمراہ ہو_لتبلون و ان تصبروا و تتقوا فان ذلك من عزم الامور

٢١_ تقوي كے ہمراہ صبر كرنے كى قدر و منزلت_و ان تصبروا و تتقوا فان ذلك من عزم الامور

كلمہ ''عزم'' مصدر اور مفعول كے معنى ميں ہے_ اور ''عزم الامور'' ميں صفت موصوف كى طرف مضاف ہے يعنى ''الامور المعزومة''اور معزوم، بلند و نيك ہدف و مقصد كو كہتے ہيں كہ جس كى طرف حركت كرنا لازم ہے_ لہذا آيت كا معنى يہ ہوگا، صبر و تقوي ايك ايسا امر ہے جس كے كمال وشرف كى خاطر اسكى طرف حركت كرنا ضرورى ہے_ اور يہ كہ مفرد اسم اشارہ ''ذلك''صبر و تقوي كى طرف اشارے كيلئے استعمال ہوا ہے، اس سے ان ( صبر و تقوي) كے ايك ساتھ ہونے كا پتہ چلتا ہے_

٢٢_ صبر و تقوي كى ہمراہي، دشمنوں كى اذيت و آزار كے مقابلہ ميں مؤمنين كا مضبوط قلعہ ہے_

و لتسمعن و ان تصبروا و تتقوا فان ذلك من عزم الامور مذكورہمطلب ميں ''عزم'' كا معنى محكم ليا گيا ہے جيساكہ مجمع البيان ميں نقل ہوا ہے كہ ''قيل من محكم الامور'_

٢٣_ زكات ادا كرنا، ''اموال'' ميں آزمائش كا مصداق اور اپنے آپ كو صبر پر آمادہ كرنا، ''انفس'' ميں امتحان كا مصداق ہے_لتبلون فى اموالكم و أنفسكم امام رضا (ص) نے مذكورہ آيت كى تلاوت كے بعد فرمايا:''لتبلون فى اموالكم''باخراج الزكاة و ''فى أنفسكم''بتوطين الانفس

۲۹۵

على الصبر _(١) يقيناً تمہارى آزمائش كى جائے گى اموال كے سلسلہ ميں زكاة نكالنے كے ساتھ اور انفس كے سلسلہ ميں انہيں صبر پر آمادہ كرنے كے ساتھ_

اجر: اخروى اجر ٧

اذيت: ٨، ١٠، ١٥، ١٧،٢٢ اذيت كى اقسام ١٦ ; زبان سے اذيت ١ ١، ١٦

استقامت: جہاد ميں استقامت ١٨

اللہ تعالى: اللہ تعالى كى حدود ١٨; اللہ تعالى كى سنت ا ١

امتحان: ١، ٦، ٧، ١٧، ٢٠ امتحان كا فلسفہ٥ ;امتحان كى اقسام ٢، ٣، ٤، ١٥، ٢٣;انفاق كے ذريعے امتحان ٤;جان كے ذريعے امتحان ٢، ٣، ٢٣;جہاد كے ذريعے امتحان ٤; سختى كے ذريعے امتحان ١٥ ;مال كے ذريعے امتحان ٢، ٣، ٤، ٢٣

انفاق: ٤

اہل كتاب: اہل كتاب كى دشمنى ١٢، ١٤

ايمان: ايمان كے موانع ١٩

پاك افراد:٥

تاريخ: تاريخ سے عبرت ١٩

تبليغ: تبليغ كے اثرات١٩

تقوي: امتحان ميں تقوي ١٧، ٢٠; تقوي كى اہميت ١٧، ١٨ ;تقوي كى قدر ومنزلت ٢١; تقوي كے اثرات ٢٠، ٢٢

جہاد: ٤، ١٨

حق و باطل: حق و باطل كى جنگ ١٣

دشمن: ١٢، ١٤ دشمن كا سلوك٢٢

دشمني: ١٢، ١٤

____________________

١)عيون اخبار الرضا (ع) ج٢ص ٨٩ ح١، نورالثقلين ج١ ص٤٢١ ح٤٧٤.

۲۹۶

دنيا: دنيا كى فريبكارى ٧

دورانديشي: دور انديشى كے اثرات ٩

ذكر: ٧

رشد و تكامل: رشد و تكامل كے موانع ١٩

روايت: ٢٣

زكات: زكات كى ادائيگى ٢٣

سختي: ١٥ سختى كے سہل كرنے كا طريقہ ٩

صبر: امتحان ميں صبر ١٧، ٢٠; ٢٣صبر كى اہميت ١٧، ١٨ ; صبر كى قدر و منزلت ٢١; صبر كے اثرات ٢٠، ٢٢

كاميابى : امتحان ميں كاميابي٧، ٢٠ ; كاميابى كے اسباب ٧

مال: ٢، ٣، ٤، ٢٣

مسلمان: صدر اسلام كے مسلمان ١٠ ; مسلمانوں كو اذيت پہنچانا ٨، ١٠، ١١، ١٥ ;مسلمانوں كے دشمن ١٢، ١٤

مشركين: ٨، ١٠، ١١، ١٥ مشركين كى دشمنى ١٢، ١٤

مقابلہ: اذيت كا مقابلہ ١٧، ٢٢

موت: موت كو يا د ركھنے كے اثرات ٧

مؤمنين: مؤمنين كا امتحان ١، ٤، ٥، ٦، ١٥

۲۹۷

آیت(۱۸۷)

( وَإِذَ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاء ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَناً قَلِيلاً فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ ) اس موقع كو ياد كرو جب خدا نے جن كو كتاب دى ان سے عہد ليا كہ اسے لوگوں كے لئے بيان كريں گے او راسے چھپائيں گے نہيں _ ليكن انھوں نے اس عہد كو پس پشت ڈال ديااور تھوڑى قيمت پر بيچ ديا تو يہ بہت برا سود اكيا ہے _

١_ پيغمبر اكرم(ص) اہل كتاب كے علماء كو خداوند متعال كے ساتھ ان كے عہد و ميثاق كى طرف متوجہ كرانے پر مامور تھے_و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب

٢_ خداوند متعال كا اہل كتاب كے علماء سے، آسمانى كتب كے مطالب كھول كر بيان كرنے اور انہيں كتمان نہ كرنے كے بارے ميں ايك سنگين عہد و ميثاق لينا_و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس و لاتكتمونه

''لتبيننہ''كى ضمير مفعول، كتاب كى طرف پلٹتى ہے_

٣_ آسمانى كتابوں كے علماء كى بھارى ذمہ دارى ہے كہ وہ لوگوں كيلئے ان كے حقائق بيان كريں _و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس

٤_ اہل كتاب كے علماء كى جانب سے گذشتہ آسمانى كتب (تورات و انجيل) كے حقائق كا چھپايا جانا_

و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس و لاتكتمونه

٥_ عصر پيغمبر اكرم (ص) كے بعض لوگوں كے ايمان نہ لانے اور گمراہى اختيار كرنے كا باعث، اہل كتاب كے علماء كا حقائق كو چھپانا تھا_

۲۹۸

و اذ اخذ الله و لاتكتمونه

٦_ سابقہ آسمانى كتب ميں اسلام اور پيغمبراكرم(ص) كے بارے ميں حقائق كا پايا جانا_*

و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس و لاتكتمونه ايك اہم ترين مورد جو اہل كتاب كے علماء كے منافع كى ضمانت ديتا ہے_ (واشتروا بہ ثمناً ...) پيغمبراسلام(ص) اور اسلام كى حقانيت كا كتمان ہے چونكہ وہ اپنى بقاء اسكے كتمان ميں ديكھ ر ہے تھے_

٧_ معاشرے ميں آسمانى كتابوں كى وضاحت كرنے والے مبلغين كى ضرورت_

و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس علماء سے عہد و ميثاق لينا اور لوگوں كيلئے اسكى تبيين كى ضرورت پر خداوند متعال كى تاكيد سے، مندرجہ بالا مفہوم اخذ ہوتا ہے_

٨_ آسمانى كتب كے حقائق كو چھپانے كى حرمت اور دينى معارف كو بيان كرنے كا وجوب_و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس و لاتكتمونه

٩_علمائے اہل كتاب كى جانب سے ميثاق الہى ( كتب آسمانى كا بيان اور انكا نہ چھپانا) كو توڑنا _فنبذوه ورآء ظهورهم

١٠_ اہل كتاب كے علماء كا آسمانى كتابوں كو چھوڑ دينا اور ميثاق الہى كو پس پشت ڈال دينا_

و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب فنبذوه ورآء ظهورهم ''فنبذوہ''كى ضمير مفعول كتاب كى طرف پلٹتى ہے، اور چونكہ كتاب كا بيان ميثاق و عہد الہي، ہے لہذا اس ضمير سے مراد عہد الہى بھى ہے_ يعنى كتاب اور اسكے بيان كو ترك كرديا گيا_

١١_ دين فروشى كرنے اور عہد الہى كو نظرانداز كرنے كى وجہ سے خداوند متعال كا اہل كتاب كے علماء كى سرزنش كرنا_

فنبذوه ورآء ظهورهم و اشتروا به ثمناً قليلاً

١٢_ آسمانى كتب كے حقائق كا كتمان كر كے، علمائے اہل كتاب كا ا سلام كے خلاف مبارزت كرنا اور اپنا عہد و پيمان توڑ ڈالنا_و اذ اخذ الله و لاتكتمونه فنبذوه و رآء ظهورهم مندرجہ بالامطلب اس بنا پر اخذ كيا گيا ہے كہ جب كتمان شدہ حقيقت، تورات و انجيل كى وہ بشارت ہو جو بعثت پيغمبراكرم (ص) اور اسلام و قرآن

۲۹۹

كے بارے ميں تھي_

١٣_ علمائے اہل كتاب كى دين فروشى اور دنيا پرستي_و اشتروا به ثمناً قليلاً

١٤_ علمائے اہل كتاب كا معمولى سے منافع كيلئے، آسمانى كتب اور عہد الہى كے ساتھ تجارت و سوداگرى كرنا_

و اشتروا به ثمناً قليلاً

١٥_ فرائض كى انجام دہى اور ميثاق الہى پر عمل كرنے ميں ايك ركاوٹ دنيا پرستى ہے_

لتبيننه للناس فنبذوه و اشتروا به ثمناً قليلاً بظاہر جملہ (واشتروا بہ ...) آسمانى كتب كے چھوڑ دينے اور عہد الہى كى وفا نہ كرنے كى علت بيان كر رہا ہے_

١٦_ علمائے اہل كتاب، آسمانى كتب كے مطالب كے بيان كو اپنے دنيوى خسارے كا سبب سمجھتے تھے_

و اذ اخذ الله ميثاق لتبيننه للناس و اشتروا به ثمناً قليلاً

١٧_ (دين فروش) علمائے اہل كتاب كا ،دين اور الہى عہد و پيمان كى بلند قدر و منزلت سے آگاہ نہ ہونا_

فنبذوه و اشتروا به ثمناً قليلاً

١٨_ دين كو ہاتھ سے كھودينے، آسمانى كتاب كو چھوڑ دينے اور الہى عہد و پيمان سے وفا نہ كرنے كے عوض ہر شے (دنيوى لذتوں ، زينتوں اور )كا ناچيز اور بے قيمت ہونا_واشتروا به ثمناً قليلاً علمائے اہل كتاب، دين فروشى كے مقابلے ميں جو كچھ حاصل كرتے تھے، خود ان كے خيال ميں ، كم نہيں تھا_ چونكہ وہ حقانيت پيغمبراكرم(ص) كے كتمان كے ذريعے اپنى دنيوى آرزوؤں اور لوگوں پر حكمرانى وغيرہ تك پہنچ جاتے تھے_ ليكن اسكے باوجود خداوند متعال ان سب چيزوں كو بے اہميت اور ناچيز قرار ديتا ہے_

١٩_ دين فروشى كے ذريعے كمائے ہوئے مال و دولت كا بُرا اور قبيح ہونا_و اشتروا به ثمناً قليلاً فبئس ما يشترون

٢٠_ خداوند متعال نے اہل كتاب سے عہد و پيمان ليا تھا كہ وہ بعثت پيغمبر(ص) كے بعد آنحضرت(ص) كى نبوت كا اظہار كريں گے اور اسے دوسروں كے سامنے بيان كريں گے_و اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب لتبيننه للناس و لاتكتمونه امام باقر(ع) مذكورہ آيت كے بارے ميں فرماتے ہيں :و ذلك ان الله اخذ ميثاق الذين اوتو الكتاب فى محمد(ص) ''لتبيننه للناس''اذا

۳۰۰