امام زمانہ (عج)کے متعلق اہم شبہات کے جوابات

امام زمانہ (عج)کے متعلق اہم شبہات کے جوابات33%

امام زمانہ (عج)کے متعلق اہم شبہات کے جوابات مؤلف:
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 109

امام زمانہ (عج)کے متعلق اہم شبہات کے جوابات
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 109 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 89290 / ڈاؤنلوڈ: 5750
سائز سائز سائز
امام زمانہ (عج)کے متعلق اہم شبہات کے جوابات

امام زمانہ (عج)کے متعلق اہم شبہات کے جوابات

مؤلف:
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

۵_كوئي بھى انسان كسى دوسرے كے عمل كا بوجھ اپنے كندھوں پر نہيں اٹھائے گا _ولا تزرو وازرة وزر أخرى

''وزر'' سے مراد بھارى چيز ہے اور يہ يہاں گناہ سے كنايہ ہے_

۶_گناہ ،انسان كے كندھوں پر بھارى بوجھ ہے_ولاتزروازرة وزرأخرى

''وزر'' لغت ميں بھارى چيز كو كہتے ہيں (لسان العرب) اور اس لئے گناہ كو ''وزر'' كہا گيا ہے كہ اس كے نتائج بھى بھارى ہوتے ہيں _

۷_اعمال كى جزا كے نظام پرالہى عدل حاكم ہے_ولاتزر وازرة وزر ا خرى

۸_رسولوں كو بھيجنے اور اتمام حجت سے قبل لوگوں كو سزا نہ دينا ايك سنت الہى ہے_وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولا

۹_انبياء كى بعثت كے اہداف ميں سے ايك ہدف لوگوں پر حجت تمام كرنا ہے_وما كنا معذبين حتّى نبعث رسولا

۱۰_كسى بھى عمل كى بدى اور ناجائز ہونے كے بيان سے پہلے اس عمل كى وجہ سے عقاب وعذاب دينا قبيح ہے_

وما كنّا معذبين حتّى نبعث رسولا

يہ كہ الله تعالى نے فرمايا ہے كہ '' ہم جب تك حقايق بيان كرنے كے لئے لوگوں كى طرف رسول نہيں بھيجتے انہيں عذاب وعقاب نہيں كرتے''_ يہاں احتمال يہ ہے كہ يہ قانون اس عقلى فيصلے كے مطابق ہو كہ ''بغير بيان كے عقاب قبيح اور ناپسند ہے''_

۱۱_گناہ گار امتوں پر اتمام حجت اور رسول كے بھيجنے كے بعد دنياوى عذاب كا نازل ہونا _

وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولا

جملہ''ماكنا معذّبين حتّى نبعث رسولاً'' مطلق ہے كہ جو دنياوى عذاب كو بھى شامل ہے_

الله تعالى :الله تعالى كى جزائيں ۷;اللہ تعالى كى حاكميت وعدالت ۷;اللہ تعالى كى سنتيں ۸; الله تعالى كے عذابوں كى شرائط ۸;۱للہ تعالى كے عذاب ۷ ; الله تعالى كے عذابوں كا قانون كے مطابق ہونا ۱۱; الہى حجت كا اتمام ہونے كا كردار ۸، ۱۱

الله تعالى كى آيات:

۴۱

كائنات ميں الله تعالى كى نشانياں ۴;اللہ تعالى كى آيات واضح كرنے كافلسفہ ۴

الله تعالى كے رسول :الله تعالى كے رسولوں كا كردار ۸

اتمام حجت:اتمام حجت كى اہميت ۹

امتيں :گناہ گار امتوں كا دنياوى عذاب ۱۱

انبياء :انبياء كے ذريعے اتمام حجت ۱۱;انبياء كى بعثت كا فلسفہ ۹;انبياء كا كردار ۱۱

انسان :انسان كا اختيار ۳

جبر واختيار :۳

جزا كا مقام : ۷

خود:خود كو نقصان ۱

عمل :عمل كى ذمہ دارى ۵;ناپسند عمل ۱۰

فقہى قواعد :بلابيان عذاب كاقانون ۱۰

گمراہى :گمراہى اختيار ۳;گمراہى كا نقصان ۱ ، ۲

گناہ:دوسروں كے گناہوں كو تحمل كرنا ۵;گناہ كا بوجھ ۶

نصےحت :اعمال كے آخرت ميں محاسبہ كى نصيحت ۴

ہدايت:ہدايت ميں اختيار ۳;ہدايت كا پيش خيمہ ۴; ہدايت كے فوائد ۱ ، ۲

آیت ۱۶

( وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُواْ فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيراً )

اور ہم نے جب بھى كسى قريہ كو ہلاك كرنا چاہا تو اس كے ثروت مندوں پر احكام نافذ كردئے اور انھوں نے ان كى نافرمانى كى تو ہمارى بات ثابت ہوگئي اور ہم نے اسے مكمل طور پر تباہ كرديا (۱۶)

۱_كسى بھى معاشرہ كے امراء اور ثروت مند طبقہ كافسق وفجور اس معاشرہ كى تباہ بربادى كا سبب بنتا ہے_

وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

''مترف'' مادہ ''ترفہ'' سے ليا گيا ہے اور ''ترفہ'' سے مراد بہت زيادہ رزق ونعمت ہے (مفردات راغب)

۴۲

۲_تاريخ اور انسانى معاشروں كے حوادث ،الہى ارادہ كے تحت ہيں _

وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيها فدمرّنه

۳_آسائش وثروت سے مالا مال ہونا فسق فجور كى طرف ميلان كى پيش خيمہ ہے _أمرنا مترفيها ففسقوا فيه

معاشرہ كے تمام طبقات ميں سے فاسق و فاجر ہونے كے لئے ثروت مند طبقے كا ذكر ہونا حالانكہ فسق وفجور تمام لوگوں سے ہوسكتا ہے اس كا كسى خاص طبقہ سے تعلق نہيں ہے 'شايد اسى مندرجہ بالا نكتہ كى بنا پر ہے_

۴_ثروت مند اور صاحبان مال ومتاع دوسروں كى نسبت زيادہ نافرمانى خدا اور مخالفت حق كا شكارہيں _

ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه مندرجہ بالا نتيجہ اس بناء پر ليا گيا ہے كہ ''ا مرنا'' كا مفعول ''بالطاعة'' كى مانندكوئي لفظ محذوف ہو تو اس صورت ميں آيت كا معنى يوں ہوگا كہ ہم معاشرہ كے ثروت مند طبقہ كو اطاعت وبندگى كا حكم ديتے ہيں _ ليكن وہ توقع كے بر خلاف فسق وفجور كى راہ كو اختيار كرتے ہيں _

۵_ارادہ الہى اسباب و مسببات كے تحت انجام پاتاہے_وإذا ا ردنا ففسقوا فيها فحقّ عليها القول

۶_كسى معاشرہ ميں فاسق وفاجر مالدار لوگوں كى تعداد كا بڑھنا پروردگار كى سنتوں كے مطابق اس معاشرہ كى تباہى كے اسباب ميں سے ہے_وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

بعض كا خيال ہے كہ ''ا مرنا'' كثرنا كے معنى پر ہے _ (ہم نے مزيد بڑھايا ) (مفردات راغب) تو اس صورت ميں ''ا مرنا مترفيھا'' سے مراد ثروت مند طبقہ كا بڑھنا ہے _

۷_مالدار طبقہ كا فسق وفجور دوسرے طبقات كى گناہ و بربادى كى طرف رغبت ميں مؤثر اور اہم كردار ادا كرتا ہے_

ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

تمام طبقات ميں سے بالخصوص ثروت مند طبقے كا ذكر ہونا اس بات كو واضح كرتا ہے كہ دوسرے طبقات كى نسبت اس طبقہ كا گناہ ميں آلودہ ہونا ، معاشرہ كے بگڑنے اور تباہ ہونے ميں زيادہ مؤثر اور اہم كردار اداكرتا ہے_

۸_كوئي بھى معاشرہ اور اس كا تغير وتبدل واضح سنت وقانون كے مطابق ہے _وإذا ا ردنا ا ن نهلك ففسقوا فيها فدمّرنه

''قرية'' لغت ميں انسانوں كے مجموعہ كوكہتے ہيں (مفردات راغب) يہ كہ الله تعالى فرماتا ہے :

۴۳

جب معاشرہ كے مالدار لوگ فاسق ہوجاتے ہيں تو ان كے بارے ميں ہمارى بات يقينى ہوجاتى ہے '' فحقّ عليھا القول '' يہ اس بات كو بيان كررہاہے كہ معاشرہ كے تغيّرات واضح قانون كے حامل ہيں _

۹_انسانوں كے اعمال ان كى تباہى وبربادى ميں واضح كردار ادا كرتے ہيں _

وإذا ا ردنا ان نهلك قرية ففسقوا فيها فحق عليها القول فدمّرنه

۱۰_معاشرتى سطح پر نافرمانى الہى يقينى طور پر عذاب الہى كے نزول كا موجب ہے _فسقوا فيها فحقّ عليها القول

۱۱_نافرمان معاشرہ كا عذاب اس قدر شديد ہے كہ اس كى مكمل تباہى ونابودى كا سبب بنتا ہے_

ففسقوا فيها فحقّ عليها القول فدمّرنها تدميرا

۱۲_''عن أبى جعفر(ع) فى قول الله : ''إذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها '' قال: تفسيرها ا مرنا ا كابرها'' (۱) امام باقر (ع) سے الله تعالى كى اس كلام :''ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها'' كے حوالے سے روايت ہوئي ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا : اس آيت كى تفسير يہ ہے كہ ہم اس علاقہ كہ بڑوں كو حكم كرتے ہيں ''_

آسائش پسند لوگ:آسائش پسند لوگوں سے مراد ۱۲; آسائش پسند لوگوں كا حق قبول نہ كرنا ۴;بدكار آسائش پسند طبقے كا كردار ۶/اسباب كا نظام : ۵

الله تعالى :الله تعالى كے احكام ۱۲;اللہ تعالى كى سنتيں ۶;الہى ارادہ كے جارى ہونے كى مقامات ۵; الہى ارادہ كى اہميت۲

تاريخ :تاريخ تبديليوں كا سرچشمہ ۲

حق:حق قبول نہ كرنے كا خطرہ ۴/عذاب:عذاب كے اسباب ۱۰;عذاب كے درجات ۱۱

عمل :عمل كے نتائج ۹/طبيعى اسباب:طبيعى اسباب كے اثرات۵

فساد:فساد كے معاشرتى نتائج ۷;فساد پھيلنے كے نتائج ۱۰

فسق:فسق كا پيش خيمہ۳;فسق كے معاشرتى نتائج ۷

گناہ:گناہ كا پيش خيمہ ۳

____________________

۱) تفيسر عياشي، ج ۲، ص ۲۸۴، ح ۳۵، نورالثقلين ج۳، ص ۱۴۴، ح ۱۰۹_

۴۴

مال :مال كے نتائج ۳

مالدار لوگ:فاسق مالدار لوگوں كا كردار ۶;مالدار لوگوں كا حق سے اعراض كرنا ۴;مالدار لوگوں كے فسق كے نتائج ۱;مالدار لوگوں كے فساد كے نتائج ۷;مالدار لوگوں كے گناہوں كے نتائج ۱

معاشرہ:معاشرہ كى تباہى كے اسباب ۱،۶; معاشرتى مشكلات كى پہچان ۱،۶، ۷; معاشرتى فساد كا پيش

خيمہ ۷;معاشرتى سنتيں ۸; فاسد معاشرہ كا عذاب ۱۱; معاشرتى تبديليوں كا قانون كے مطابق ہونا ۸;معاشرہ كا قانون كے مطابق ہونا ۸; معاشرتى فاسد كے نتائج ۱۱; فساد معاشروں كى ہلاكت ۱۱

ہلاكت :ہلاكت كے اسباب ۹

آیت ۱۷

( وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ وَكَفَى بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرَاً بَصِيراً )

اور ہم نے نوح كے بعد بھى كتنى امتوں كو ہلاك كرديا ہے اور تمھارا پروردگار بندوں كے گناہوں كا بہترين جاننے والا اور ديكھنے والا ہے (۱۷)

۱_زمانہ حضرت نوح(ع) كے بعد بہت سى امتيں اور اقوام اپنے فسق وفجور كى وجہ سے پروردگار كى مرضى ومنشاء كے ساتھ تباہ وبرباد ہوگئيں _ففسقوا وكم ا هلكنا من القرون

''قرن'' (قرون كا واحد) سے مراد وہ قوم ہے جو تقريباً ايك ہى زمانہ زندگى بسر كرے (مفردات راغب)

۲_حضرت نوح(ع) سے پہلے انسان وسيع اور عمومى تباہى كے عذاب سے دوچار نہيں ہوئے تھے_

وكم أهلكنا من القرون من بعد نوح

پروردگار نے پچھلى آيت ميں كافر اور بد كار اقوام كو ہلاك كرنے كے حوالے سے اپنى سنت كا ذكر فرمايا پھر اس حقيقت كو ثابت كرنے كے لئے قوم نوح(ع) اور اس كے بعد دوسرى اقوام كى ہلاكت كا ذكر كيا تو حضرت نوح (ع) كى داستان اور ان كے بعد كى اقوام كے واقعات سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت نوح(ع) سے پہلے كسى قوم كو مجموعى طور پر عذاب الہى سے دوچار نہيں ہونا پڑا_

۳_حضرت نوح (ع) سے پہلے لوگوں ميں وسيع اور عمومى فسق وفجور نہ تھا _وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولاً_ وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا وكم ا هلكنا من القرون من بعد نوح

۴۵

۴_انسانى تاريخ ميں عمومى فسق وفجور اور بڑے بڑے انحراف زمانہ نوح _ كے بعد واقع ہوئے_وكم أهلكنا من بعد نوح

۵_حضرت نوح(ع) كے بعد بہت سے معاشرے اور اقوام اپنے درميان موجود فاسق و فاسد آسائش پسند طبقہ كى بناء پر تباہى وبربادى سے دوچار ہوئيں _وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيها وكم أهلكنا من القرون من بعد نوح

۶_حضرت نوح(ع) كے بعد انسان كى گروہى اور اجتماعى زندگى كے نئے دور كا آغاز_من القرون من بعد نوح

پروردگار نے پچھلى آيت ميں فرمايا'' بہت سے انسانى معاشروں كو آسائش پسند طبقہ كى بدكاريوں كے باعث ہم نے تباہ كيا'' اور اس آيت ميں حضرت نوح _ كے بعد والى اقوام كى ہلاكت كا تذكرہ ہوا ہے تو ان دونوں آيات سے معلوم ہوا كہ حضرت نوح (ع) سے پہلے معاشرتى زندگى ايسى نہ تھى كہ آسائش پسند مالدار لوگ موجود ہوں يا معاشرہ پر تسلط ركھتے ہوں ورنہ وہ اقوام بھى عذاب الہى سے دوچار ہوتيں _ پس حضرت نوح(ع) كے بعد اقوام كا عذاب سے دوچار ہونا بتلاتا ہے كہ ان كى اجتماعى زندگى ايسى تھى كہ عذاب سے دوچار ہونے كے بعد معاشرتى زندگى كا ايك نيادور شروع ہوچكا تھا_

۷_اللہ تعالى ،اپنے بندوں كے تمام گناہوں سے باخبر اور ان پر نگاہ ركھے ہوئے ہے_

وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصيرا

۸_بندوں كو عذاب سے دوچار كرنے كے ليے الله تعالى كا بندوں كے ظاہرى اور باطنى گناہوں سے باخبر ہونا ہى كافى ہے اس كومزيد كسى گواہ كى ضرورت نہيں ہے_وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصيرا

مندرجہ بالا نكتہ كلمہ ''خبير'' اور''بصير'' كے درميان فرق سے پيدا ہوا ہے چونكہ كلمہ ''خبير'' سے مراد افكار اور چيزوں كے باطن سے آگاہى ہے (مفردات راغب) اور ''بصير'' كردار واعمال سے مطلع ہونا ہے_

۹_گناہ گار لوگوں كو الله تعالى كى دھمكي_وكفى بربّك بذنو ب عباده خبيراً بصيرا

''كفى بربّك بذنوب عبادہ'' كے بعد خبير وبصير كا ذكر گناہ گاروں كے لئے دھمكى ہے _

۱۰_انسانى معاشروں كى بربادى كا حقيقى سبب گناہ ہے _كم أهلكنا من القرون وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصير

۱۱_سركش معاشروں كى نابودي، پروردگار كے ذريعہ از روئے علم و بصيرت ہے _وكم أهلكنا وكفى بربّك خبيراً بصير

۴۶

۱۲_فاسد اور سركش معاشروں كى از روئے علم وبصيرت تباہى الله تعالى كى ربوبيت كا تقاضا ہے_

وكم ا هلكنا وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصير

اسماء وصفات:بصير ۷ ; خبير ۷

الله تعالى :الله تعالى كا ارادہ ۱;اللہ تعالى كے افعال ۱۱;اللہ تعالى كى بصيرت ۱۱;اللہ تعالى كا ڈرانا ۹;اللہ تعالى كا علم ۱۲;اللہ تعالى كا علم غيب ۷، ۸; الله تعالى كے عذابوں كا قانون كے مطابق ہونا۱۱;اللہ تعالى كى ربوبيت كے نتائج ۱۲;اللہ تعالى كا نگاہ ركھنا ۷

امتيں :حضرت نوح(ع) كے بعد كى امتيں ۱; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں ۲; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں اور فساد ۳; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں اور فسق ۳; حضرت نوح (ع) كے بعد كى امتوں كا فساد ۴;حضرت نوح (ع) كے بعد كى امتوں كا فسق ۴

انسان:انسانوں كے گناہ ۷;انسان كى معاشرتى زندگى ۶

پہلى امتيں :پہلى امتوں كے آسائش پسند ۵;پہلى امتوں كى تاريخ ۱، ۲، ۳، ۴، ۵; پہلى امتوں كے عذاب ۲;پہلى امتوں كے فاسق وفاجر ۵;پہلى امتوں كے فسق كے نتائج ۱;پہلى امتوں كے گناہ كے نتائج ۱;پہلى امتوں كى تباہى ۱، ۲، ۵

عذاب:عمومى عذاب ۲

گناہ :پوشيدہ گناہ ۸ ;گناہ كے نتائج ۱;گناہ كے معاشرتى نتائج ۱۰;واضح گناہ ۸

گناہ گار:گناہ گاروں كو ڈرانا ۹

معاشرہ:معاشروں كى ہلاكت كے اسباب ۱،۵; معاشرتى مشكلات كى پہچان ۵، ۱۰;سركش معاشروں كے عذاب كاپيش خيمہ ۱۲; فاسد معاشروں كے عذاب كا پيش خيمہ ۱۲;سركش معاشروں كى تباہى ۱۱

نوح (ع) :نوح (ع) كے بعد كا زمانہ ۶

۴۷

آیت ۱۸

( مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاء لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاهَا مَذْمُوماً مَّدْحُوراً )

جو شخص بھى دنيا كا طلب گار ہے اور اس كے لئے جلدى جو چاہتے ہيں دے ديتے ہيں پھر اس كے بعد اس كے لئے جہنّم ہے جس ميں وہ ذلّت و رسوائي كے سا تھ داخل ہوگا (۱۸)

۱_دنيا كى طلب، انسان كے جہنم كى آگ ميں جانے كا سبب ہے _من كان يريد العاجلة جعلنا له جهنم

۲_نقد مانگنا، جلد بازى كرنا اور دور انديشى سے بے بہرہ ہونا ' دنيا طلبى اور آخرت سے غفلت كى بنياد ہے_

من كان يريد العاجلة

كلمہ ''عاجلہ'' جو كہ مادہ عجلہ (كسى چيز كو جلد بازى سے چاہنا) سے ہے كا ''الدنيا '' كى جگہ استعمال ہونا بتاتا ہے كہ مال دنيا كا نقد ہونا اور اس كا سريع حصول دنيا كے طلبگاروں كے ليے اس كے حصول ميں بہترين كردار ادا كرتا ہے_

۳_طبيعى اسباب الله تعالى كى مشيت وارادہ كے تحت ہيں _من كان يريد العاجلة عجلّنا له فيها ما نشائ

دنيا كے طالب اپنى خواہشات كو طبيعى اسباب كے ذريعے حاصل كرتے ہيں اور الله تعالى نے ان كے لئے دنياوى فائدوں كے حصول كو اپنى طرف نسبت دى ہے يہ نسبت بتاتى ہے كہ طبيعى اسباب الله تعالى كے تحت ہيں _

۴_الله تعالى دنيا كے طالب لوگوں كى بعض خواہشات كودنيا ميں پورا كرتا ہے اور انہيں ان سے فائدہ اٹھانے كى اجازت ديتا ہے _من كان يريد العاجلة عجلّنا له فيه

۵_دنيا كے طالب صرف اپنى بعض دنياوى خواہشات كو پاتے ہيں نہ كہ تمام خواہشات كو_

من كان يريد العاجلة عجلّنا فيها ما نشاء

الله تعالى نے دنيا كے طالب لوگوں كا اپنى آرزؤں كے پانا كو اپنى مشيت سے نسبت دى ہے'' مانشائ'' يہ بتا تا ہے كہ وہ لوگ اپنى تمام تر خواہشات كو نہيں پورا كرسكتے مگر اس قدر پورا كرسكتے ہيں كہ جتنا پروردگار چاہتا ہے_

۶_تمام دنيا كے طالب لوگ دنياوى فائدوں كو حاصل نہيں كرسكتے _من كان يريد العاجلة عجلّنا له لمن نريد

۷_بعض دنيا كے طالب لوگ دنيا وآخرت دونوں سے محروم ہيں _من كان يريد العاجله عجلّنا لمن نريد ثم جعلنا له جهنّم

۴۸

''جعلنا لہ جھنم'' ميں ''لہ'' كى ضمير ''من كان ...'' ميں ''من'' كى طرف لوٹ رہى ہے يعنى جو بھى دنيا كے پيچھے بھاگتاہے_ ان كا ٹھكانہ دوزخ ہے اگر چہ بعض دنياوى آرزؤں كو مشيت خدا سے پاليسى يا ان ميں ناكام رہيں _لہذا جو بھى اگر چہ اپنى دنياوى خواہشات كو پورا نہ كرسكيں آخرت ميں جہنمى وہ ہيں اور دنيا و آخرت دونوں سے محروم ہيں _

۸_دنيا كے طالب لوگ آخرت ميں جسمانى عذاب كے علاوہ روحى عذاب ميں بھى مبتلاء ہونگے_

ثم جعلنا له جهنم يصلها مذموماً مدحورا

''يصلاھا'' (جہنم كى آگ ميں جلے گا) يہ عذاب جسمانى كى طرف اشارہ كر رہا ہے_ ''مذموماً مدحوراً'' (مذمت شدہ اور راندہ ہوئے) يہ عذاب روحى كى طرف اشارہ ہے_

۹_دنيا كے طالب، آخرت ميں قابل مذمت ہونگے اور رحمت خدا سے محروم اور دھتكارے ہوئے ہونگے_

من كان يريد العاجلة ثم جعلنا له جهنم يصلها مذموماً مدحوراً_

۱۰_''عن إبن عباس ا ن النبي(ص) قال: معنى الا ية من كان يريد ثواب الدنيا بعمله الذى افترضه الله عليه لا يريد به وجه الله والدار الا خر عجّل له فيها ما يشاء الله من عرض الدنيا وليس له ثواب فى الا خرة وذالك ان اللّه سبحانه وتعالى يؤتيه ذلك ليستعين به على الطاعة فيستعمله فى معصية اللّه فيعا قبه اللّه عليه (۱) ابن عباس سے راويت ہوئي ہے كہ رسول الله (ص) نے فرمايا كہ آيت''من كان يريد العاجلة عجّلنا له فيها ما يشائ'' كا معنى يہ ہے كہ جو ان اعمال كے انجام دينے سے كہ جنہيں الله تعالى نے اس پرواجب كيا ہے الله كا تقرب اور آخرت نہ چاہے بلكہ دنياوى فائدے مانگے تو دنيا ميں جو الله تعالى چاہے گا اسے دنياوى نعمتيں دے گا اور آخرت ميں اس كا كوئي حصہ نہيں ہے كيونكہ الله تعالى نے جو كچھ اسے ديا تھا اس لئے كہ اطاعت الہى ميں اس كى مدد ہو ليكن اس نے اسے الله كى معصيت ميں استعمال كيا اس لئے الله تعالى اسے عذاب دے گا_

آخرت:

____________________

۱)مجمع ابيان ج ۶ ص ۶۲۷نورالثقلين ج۳ ص ۱۴۵ح ۱۱۴

۴۹

آخرت سے محروم لوگ ۷

الله تعالى :الله تعالى كے ارادہ كى حاكميت ۳ ;اللہ تعالى كى مشيت كى حاكميت ۳

الله تعالى كى درگاہ سے راندے ہوئے : ۹

جزا:اخروى جزا سے محروميت ۱۰

جہنم:جہنم جانے كے اسباب ۱

جلد بازي:جلد بازى كے نتائج ۲

دنيا:دنيا سے محروم لوگ ۷

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى آخرت سے محروميت ۹;دنيا كے طالب لوگوں كى اخروى مذمت ۹;دنيا كے طالب لوگوں كا آخرت ميں عذاب ۸;دنيا كے طالب لوگوں كى آرزؤں كاپورا ہونا ۴_۵; دنيا كے طالب لوگوں كى دنياوى سہولتيں ۶;دنياكے طالب لوگوں كا روحى عذاب ۸; دنيا كے طالب لوگوں كى محروميت ۷; دنيا كے طالب لوگوں كے فائدے ۶

دنيا كى طلب:دنياوى طلب كى بنياد ۲;دنيا كى طلب كے نتائج ۱

رحمت:رحمت سے محروم لوگ ۹

روايت : ۱۰

طبيعى اسباب:طبيعى اسباب كا مسخرہونا ۳

عذاب:عذاب كے اہل لوگ ۸

عمل :عمل كى دنياوى جزا ۱۰

غفلت :آخرت سے غفلت كى بنياد

نافرماني:نافرمانى كا عذاب ۱۰

۵۰

آیت ۱۹

( وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُوراً )

اور جو شخص آخرت كا چاہنے والا ہے اور اس كے لئے ويسى ہى سعى بھى كرتا ہے اور صاحب ايمان بھى ہے تو اس كى سعى يقينا مقبول قرار دى جائے گى (۱۹)

۱_آخرت كاطالب وہ مؤمنين جو اپنے اخروى مقاصد كے لئے سنجيدگى سے كوشش كرے تو وہ اپنى اس كوشش كے قيمتى نتائج پاليں گے_و من ا راد الا خرة كان سعيهم مشكورا

۲_اخروى فائدوں اور نعمتوں كا حصول اس راہ ميں انسان كى وافر جد و جہد وكوشش سے مشروط ہے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن فا ولئك كان سعيهم مشكوراً _

يہ عبارت ''وسعى لھا سعيھا'' جملہ ''من ا راد الا خرة''كے لئے شرط كى مانند ہے يعنى اگر كوئي طالب آخرت ہے بشرطيكہ اس كے لئے كافى زحمت كى ہو تو وہ آخرت سے بہرہ مند ہوگا_

۳_آخرت كے لئے كوشش ايمان كى صورت ميں فائدہ مند ہے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن فا ولئك كان سعيهم مشكورا

و جملہ ''وہو مؤمن'' سعى كى ضميركے لئے حال ہے جو درحقيقت آخرت كى طلب اور اسكے لئے كوشش كى شرط بيان كر رہا ہے_

۴_انسان كى اپنى چاہت اور كوشش اس كى اخروى سعادت اور بدبختى ميں فيصلہ كن كردار ادا كرتى ہے_

من كان يريد العاجلة جعلنا له جهنّم ومن ا راد الأخرة وسعى لها سعيها فا ولئك كان سعيهم مشكور

۵_دنيا كے طالب لوگوں كى ممكنہ شكست اور ناكامى كے برخلاف آخرت كے طالب لوگوں كے اخروى فائدے يقينى اور ضمانت شدہ ہيں _ومن يريد العاجلة مانشاء لمن نريد ومن أراد الأخرة كان سعيهم مشكورا

۶_آخرت كى زندگى دنيا سے برتر زندگى ہے اور اس كا حصول تمام مؤمنين كا مقصد ہونا چاہئے_

من كان يريد العاجلة ومن أراد الأخرة كان سعيهم مشكورا

دنيا كے طالب لوگوں كے مدمقابل آخرت كے طالب لوگوں كى كوشش اور زحمت كا الله تعالى كى طرف سے قدردانى

۵۱

مندرجہ بالا حقيقت كى وضاحت كر رہى ہے_

۷_نيك كام كا شكريہ اور قدردانى پروردگار كا شيوہ ہے_ومن أراد الا خرة فا ولئك كان سعيهم مشكورا

۸_فقط وہ زحمت وكوشش ہى اہميت كى حامل اور قابل تعريف ہے جو آخرت كى طلب اور عظےم زندگى كے حصول كى راہ ميں كى جائے_من كان يريد العاجلة ومن ا راد الأخرة كان سعيهم مشكورا

يہ كہ الله تعالى نے انسانوں ميں دنيا كى طلب اور آخرت كى طلب كا ذكر كرنے كے بعد آخرت كے طالب لوگوں كى زحمت وكوشش كا شكريہ اور تعريف كى ہے اس سے معلوم ہواكہ صرف وہ زحمت وكوشش ہى قدردانى اور تعريف كے قابل ہے كہ جو عظيم اخروى زندگى كے حصول كى راہ ميں ہو نہ كہ ہر قسم كى كوشش اور زحمت _

آخرت:آخرت كے لئے كوشش ۳

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كى جزا ۱; آخرت كے طالب لوگوں كى جزا كا يقينى ہونا ۵

آخرت كى چاہت :آخرت كى چاہت كى اہميت ۶، ۸

ارادہ :ارادہ كے نتائج ۴

اہمتيں :اہميتوں كامعيار ۸

ايمان :ايمان كے نتائج ۲

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى شكست ۵

زندگي:اخروى زندگى كى اہميت ۸;اخروى زندگى كى قدروقيمت۶;دنياوى زندگى كى قدرو قيمت ۶

سعادت :اخروى سعادت كے اسباب ۴

شقاوت :اخروى شقاوت كے اسباب ۴

شكريہ :شكريہ كى اہميت ۷

عمل:پسنديدہ عمل ۷

۵۲

كوشش:كوشش كى اہميت ۸; كوشش كى جزاء ۳; كوشش كے نتائج ۱،۲، ۴

مؤمنين :مؤمنين كى جزاء ۱;مؤمنين كا مقصد ۶

نعمت:نعمت كے حصول كى شرائط ۲;اخروى نعمات كے حصول كى شرائط ۲

آیت ۲۰

( كُلاًّ نُّمِدُّ هَـؤُلاء وَهَـؤُلاء مِنْ عَطَاء رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاء رَبِّكَ مَحْظُوراً )

ہم آپ كے پروردگار كى عطا و بخشش سے ان كى اور ان كى سب كى مدد كرتے ہيں اور آپ كے پروردگار كى عطا كسى پر بند نہيں ہے (۲۰)

۱_تمام انسانوں (خواہ دنيا كے طالب ہوں ياآخرت كے طالب ) كا دنياوى نعمتوں اور فائدوں سے مسلسل بہرہ مند ہونا سنت الہى ہے_كلاً نمدّ و هؤلاء من عطاء ربّك

''امداد'' (نمدّ كا مصدر) كا معنى مددكرنا ہے اور فعل مضارع نمدّ استمرار زمان پر دلالت كرتا ہے_

۲_دنيا ميں الله تعالى كے الطاف اور بخشش كے احاطہ ميں تمام انسانوں ، مؤمن ،كافر ،نيك اور بدكار كا شامل ہونا _

كلاً نمدّ و هؤلاء من عطاء ربّك

۳_دنياوى نعمتوں كا ميّسر ہونا ايمان اور آخرت كي چاہت كے ساتھ منافات نہيں ركھتا_

ومن أراد الأخرة كلاً نمد و هؤلاء و هؤلاء من عطاء ربّك

يہ جو الله تعالى نے فرمايا : ''آخرت كى طلب ركھنے والوں كو اپنى بخشش (دنياوى نعمتوں ) سے بہرہ مند كرتے ہيں '' سے معلوم ہوتا ہے كہ آخرت كى طلب اور اخروى زندگى كى خاطر كوشش كرنا دنياوى نعمتوں كے ميّسر ہونے سے منافات نہيں ركھتا_

۴_نعمتيں اور مادى سہولتيں الله تعالى كے الطاف اور بخشش ہيں اور يہ سب كچھ انسانوں كى مدد كرنے كے لئے ہيں _

كلاً نمدّ من عطاء ربّك

۵_انسانوں پر مسلسل بخشش اور فيض ،اللہ كے مقام

۵۳

ربوبيت كا تقاضا ہے _كلاً نمدّ هو لائ وهو لائ من عطاء ربك

۶_الله تعالى انسانوں كى طرف بخشش كے حوالے سے كوئي محدوديت ركھتاہے اور نہ كوئي ركاوٹ_

وماكان عطاء ربّك محظورا

۷_تمام انسان خواہ وہ نيك ہوں يا بدكار خواہ مؤمن ہوں يا كافر سب كو الله تعالى كى طرف سے بخشش اور دنياوى سہولتيں ميّسر ہونا اس كے ابدى و ازلى فيض كى بنياد پر ہے_كلاً نمدّ هؤلائ وهؤلائ من عطائ ربك وماكان عطاء ربك محظورا

جملہ ''وماكان عطاء ربك محظوراً'' اس آيت ميں گذشتہ جملے كى علت بيان كر رہا ہے _ يعنى چونكہ الله تعالى اپنى بخشش سے كسى كو منع نہيں كرتا _ لہذا نيك و بداور مؤمن و كافر سب اس سے بہرہ مند ہوتے ہيں _

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كى نعمتيں ۱

آخرت كى طلب :آخرت كى طلب اور دنياوى نعمتيں ۳

الله تعالى :الله تعالى كى سنتيں ۱;اللہ تعالى كے لطف كا عام ہونا ۲;الله تعالى كى بخشش كا مسلسل ہونا ۵;اللہ تعالى كا لطف ۴;اللہ تعالى كا مدد كرنا ۴; الله تعالى كى ربوبيت كے نتائج ۵;اللہ تعالى كے فيض كے نتائج ۷;اللہ تعالى كى بخشش كا وسيع ہونا ۶

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كے لطف كے شامل حال لوگ ۴

ايمان:ايمان اور دنياوى نعمتيں ۳

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى نعمتيں ۱

نعمت :نعمت كے شامل حال لوگ ۱، ۲،۳;نعمت كى بنياد ۷

آیت ۲۱

( انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلاً )

آپ ديكھئے كہ ہم نے كس طرح بعض كو بعض پر فضيلت دى ہے اور پھر آخرت كے درجات اور وہاں كى فضيلتيں تو اور زيادہ بزرگ و برتر ہيں (۲۱)

۱_الله تعالى كى طرف سے انسانوں كے دنياوي

درجوں ميں فرق كى طرف غوروفكر كرنے اور درس عبرت لينے كى دعوت _انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض

۵۴

۲_بعض انسانوں كى بعض پر مرتبہ ميں برترى اور ان كے مادى درجوں ميں فرق الله تعالى كے ارادہ كے تحت ہے_

فضّلنا بعضهم على بعض

۳_تمام انسانوں كو الله تعالى كا فيض اور عطا ايك جيسى نہيں ہے _

كلاً نمدّ هؤلائ وهؤلائ من عطاء ربّك انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض

۴_اخروى مراتب و فضائل دنياوى درجات سے كہيں زيادہ برتر اور بلند ہيں _وللا خرة ا كبر درجات وأكبر تفضيلا

۵_انسانوں ميں دنياوى نعمتوں اور سہولتوں كے حوالے سے فرق ان كے اخروى درجات كے تفاوت كى عكاسى كررہاہے_انظر كيف فضّلنا بعضهم وللا خرة أكبر درجات

۶_اخروى درجات اور امتيازات كے فرق كے حوالے سے انسان كى كوشش ايك واضح كردار اداكرتى ہے_

من كان يريد العاجلة ومن ا راد الا خرة و سعى لها فضّلنا بعضهم على بعض وللا خرة أكبر درجات وا كبرتفضيلا

يہ كہ الله تعالى نے پچھلى آيات ميں فرمايا : ''آخرت كے طالب لوگوں كو ان كى آخرت كى چاہت كے حوالے سے كوشش كے مطابق جزا دى جائے گى '' اور اس آيت ميں فرما رہا ہے كہ آخرت كے درجات دنيا كى نسبت وسيع اور عظيم ہيں _ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ آخرت كے بلند وبالا درجات كے حصول كے لئے ا سكے مطابق كوشش ضرورى ہے _

۷_آخرت كے مراتب كى عظمت پر توجہ اس كى بلند و بالا قدروقيمت كى طرف ميلان كى بناء پر ہے _

انظر وللا خرة اكبر درجات واكبر تفضيلا

الله تعالى كى انسانوں كو بلند ترين اخروى درجات ميں غوروفكر كى دعوت اس حوالے سے بھى ہوسكتى ہے كہ انسانوں ميں آخرت كى طلب اور اس كے عالى ترين درجات كے حصول كا انگيزہ پيدا ہو_

۸_قيامت كے دن آخرت كے طالب مؤمنين بہت عظےم مقام پر فائز اور عالى ترين درجات كے حامل ہونگے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن وللا خره ا كبر درجات وأكبرتفضيلا

۹_''عن النبى (ص) قال:''مامن عبد يريد ا ن يرتفع فى الدنيا درجة فارتفع إلّاوضعه اللّه فى الا خرة درجة ا كبر منها وا طول ثم قرء : وللا خرة ا كبر درجات وا كبر تفضيلاً _(۱)

____________________

۱) الدرالمنشور ج ۵ ص ۲۵۷_

۵۵

پيغمبر اسلام (ص) سے روات ہوئي ہے كہ آپ (ص) نے فرمايا :'' كوئي شخص ايسا نہيں ہے كہ جو چاہے كہ دنيا ميں كسى درجہ كے اعتبار سے ترقى كرے اور اسے حاصل بھى كرے مگر يہ كہ الله تعالى نے جو ا س كے لئے آخرت ميں دنياوى درجہ سے بڑھ كر اور وسيع درجہ قرار دياہے اس سے محروم كرے گا_ پھر آپ (ص) نے اس آيت كى تلاوت فرمائي :''وللا خرة أكبر درجات وا كبر تفضيلاً''

۱۰_''عن ا بوعمرو الزبيرى عن أبى عبدالله (ع) قال: قلت له : ''إن للايمان درجات و منازل ...؟ قال نعم، قلت له: صفه لي قال: ثم ذكر ما فضّل اللّه عزّوجلّ به أوليائه بعضهم على بعض فقال عزّوجلّ ''انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض وللأخرة أكبر درجات و أكبر تفضيلاً'' فهذا ذكر درجات الايمان ومنازله عنداللّه عزّوجلّ _(۱)

ابو عمر زبيرى كہتے ہيں كہ ميں نے امام صادق (ع) كى خدمت ميں عرض كيا: كيا ايمان كے بھى مراتب اور منزليں ہيں ؟ حضرت (ع) نے فرمايا : ہاں تو ميں نے عرض كيا مجھے بتائيں تو فرمايا : پس (قرآن نے) وہ چيز كہ جس كے ذريعے الله تعالى نے اپنے بعض اولياء كو بعض پربرترى دى ہے اسے بيان كيا اور فرمايا :'' انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض وللا خرة أكبر درجات وأكبر تفضيلاً '' پس يہ الله تعالى كے نزديك ايمان كے مراتب ومنازل ہيں _

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كے اخروى مقامات ۸

الله تعالى :الله تعالى كا ارادہ ۲;اللہ تعالى كى دعوتيں ۱

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كے لطف كے شامل حال لوگوں ميں فرق ۳

انسان:انسانوں ميں اقتصادى فرق ۲، ۵; انسانوں ميں اخروى مراتب ۷;انسانوں ميں فرق كى بنياد ۲;انسانوں ميں فرق سے عبرت ۱; انسانوں كے فرق ميں مطالعہ ۱; انسانوں كے اخروى اختلافات كى نشانياں ۵

اہميتيں :اخروى مقامات كى اہميت ۴;دنياوى مقامات كى اہميت ۴

ايمان :ايمان كے مراتب ۱۰

تدبّر:تدبّر كى اہميت ۱//ذكر:آخرت كے ذكر كے نتائج ۷

روايت:۹ ،۱۰//عبرت:عبرت كے اسباب ۱;عبرت كى اہميت ۱

____________________

۱) كافى ج ۲، ص ۴۱، ح۱، بحارالانوار ج ۲۲، ص ۳۰۹، ح ۹_

۵۶

كوشش:كوشش كى اہميت ۶; كوشش كے نتائج ۶

مقامات:اخروى مقامات۹;اخروى مقامات ميں مؤثر اسباب ۶;دنياوى مقامات كے نتائج ۹

مؤمنين :مؤمنين كے اخروى مقامات ۸;مؤمنين كے مقامات كے درجات ۱۰

ميلانات :اہميتوں كى طرف ميلان كا سرچشمہ ۷

نعمت:نعمت كے شامل حال لوگوں ميں فرق ۳

آیت ۲۲

( لاَّ تَجْعَل مَعَ اللّهِ إِلَـهاً آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوماً مَّخْذُولاً )

خبردار اپنے پروردگار كے ساتھ كوئي دوسرا خدا قرار نہ دينا كہ اس طرح قابل مذمّت اور لاوارث بيٹھے رہ جاؤ گے اور كوئي خدا كام نہ آئے گا (۲۲)

۱_الله تعالى كا انسانوں كو الله كے سوا كسى اورمعبود پر عقيدہ ركھنے اور اسے الله تعالى كے ساتھ شريك ومؤثر ماننے پر خبردار كرنا_لا تجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

۲_انسانوں كى تخليق ، جزا، سزا اور نعمتوں كے عطا كرنے ميں الله تعالى كى وحدانيت كا تقاضا ہے كہ عقيدہ وعمل ميں ہر قسم كے شرك سے پرہيز كياجائے_وجعلنا الّيل والنهار وكلّ انسان ا لزمناه طائره لاتجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

مندرجہ بالا مطلب دو نكات كى طرف توجہ سے حاصل ہوا :_

۱_ جملہ''لاتجعل مع اللّه إلهاً ...'' پچھلى آيات كے لئے نتيجہ كى مانند ہے اور ان آيات كے اصلى پيغام جو تين مرحلوں ميں آيا ہے مندرجہ بالا نتيجہ سے اخذ كيا جاسكتاہے اور ان كے ساتھ مربوط ہے_

۲_ ''لاتجعل'' كا كلمہ مطلق ہے جو ہر قسم كے شرك سے نہى كررہاہے _

۳_اللہ تعالى كے وجود اور افعال ميں وحدانيت كے عقيدہ كا ضرورى ہونا _لاتجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

۴_قابل مذمت اور بے يارومددگار ہونا شرك كا يقينى انجام ہے_

۵۷

لاتجعل مع اللّه فتقعد مذموماً مخذولا

۵_تمام لوگوں كے لئے شرك كا خطرہ ہے_لاتجعل مع اللّه الهاً ء اخر

مندرجہ بالا مطلب كى بنياد يہ ہے كہ ''لاتجعل'' پيغمبر اسلام (ص) كى طرف بھى خطاب ہے چونكہ پيغمبر اسلام (ص) كوبھى اس خطرے سے خبردار كيا گيا ہے _ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ شرك ميں مبتلا ہونے كا خطرہ سب كے لئے موجود ہے_

الله تعالى :الله تعالى كى جزائيں ۲;اللہ تعالى كے عذاب ۲;اللہ تعالى كے ممنوعات ۱

خالقيت :خالقيت ميں توحيد ۲

شرك:شرك كا پيش خيمہ ۵;شرك سے اجتناب كا پيش خيمہ ۲;شرك كا خطرہ ۵;شرك سے نہى ۱

عقيدہ :توحيد افعالى كا عقيدہ ۳;توحيد ذاتى كا عقيدہ ۳

مشركين :مشركين كا برا انجام ۴;مشركين كابے يارومددگار ہونا ۴;مشركين كو سرزنش ۴

نظريہ كائنات :نظريہ كائنات توحيدى ۳

آیت ۲۳

( وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيماً )

اور آپ كے پروردگار كا فيصلہ ہے كہ تم سب اس كے علاوہ كسى كى عبادت نہ كرنا اور ماں باپ كے ساتھ اچھا برتاؤ كرنا اور اگر تمھارے سامنے ان دونوں ميں سے كوئي ايك يا دونوں بوڑھے ہوجائيں تو خبردار ان سے اف بھى نہ كہنا اور انھيں جھڑكنا بھى نہيں اور ان سے ہميشہ شريفانہ گفتگو كرتے رہنا (۲۳)

۱_الله تعالى كا اپنى وحدہ لا شريك ذات كے سوا كسي موجود كى پرستش سے خبردار كرنا_

وقضى ربك ا لا تعبدوا إلّا إيّاه

۲_عبادت ميں شرك سے اجتناب كا حكم قطعى ہے اور تجديد نظر كى قابليت نہيں ركھتا _وقضى ربك ا لاّ تعبدوا إلّا إيّاه

كلمہ''قضى '' سے مراد ايسا حكم اور فرمان ہے كہ جو قطعى ہو اور تجديد نظر كے بھى قابل بھى نہ ہو

۵۸

۳_عبادت ميں توحید كا حكم الہى درحقيقت انسانوں كى ترقى اور كمال كے حوالے سے حكم ہے_

وقضى ربّك ا لّا تعبدوا إلّا إيّاه

''ربّ'' كا در حقيقت معنى تربيت ہے (مفردات راغب) پروردگار كى دوسرى صفات كى بجائے يہ صفت كا آنا ممكن ہے_ مندرجہ بالا مطلب كى طرف اشارہ كر رہا ہے_

۴_ہر ايك پر واجب ہے كہ اپنے ماں باپ كے ساتھ نيكى كرے_وقضى ربّك بالولدين إحسان

''إحسانا'' ميں تنوين تعظيم كے لئے ہے اور ''والدين ''ميں الف لام افراد ميں استغراق (عموميت) بيان كررہاہے_ لہذا يہ حكم ہر مكلف كے والدين كے لئے ہے_

۵_الله تعالى كى پرستش كے بعد ماں باپ كے ساتھ نيكى بہت اہميت كى حامل ہے_

وقضى ربّك إلّا تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

يہ كہ الله تعالى نے اپنى خالصانہ عبادت كے بعد ماں باپ كے ساتھ نيكى كا حكم قرار ديا ہے_ مندرجہ بالا مطلب اس سے حاصل ہوتا ہے_

۶_انسانوں كے ايك دوسرے پر تمام حقوق ميں سب سے بڑا اور اہم ترين حق والدين كا حق ہے_

وقضى ربّك الاّ تعبدوا إلّا إيّا وبالوالدين إحسانا

۸_انسان كى پرورش اور تربيت كرنے والے اس كى گردن پر حق ركھتے ہيں _

وقضى ربّك إلّا تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

ذات واحد كى ربوبيت كے بعد والدين كے ساتھ نيكى كا ذكر كرنا (وقضى ربّك ...) ہوسكتا ہے اس لئے ہو كہ وہ انسان كى پرورش اور تربيت ميں تا ثير ركھتے ہيں _

۹_ماں باپ سے نيكى كا بہر صورت شائبہ شرك سے خالى ہونا_وقضى ربّك الاّ تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

توحيد اور شرك سے پرہيز كے حكم كے بعد والدين سے نيكى كا حكم ہوسكتا ہے كہ اس بات كو بيان كر رہاہو كہ والدين سے حد سے زيادہ محبت واحسان ممكن ہے انسان كو شرك كى طرف لے جائے اس لئے ضرورى ہے كہ يہ محبت واحسان شائبہ شرك سے خالى ہو_

۱۰_والدين كا بڑھاپا اولاد پر انكے حوالے سے ذمہ

۵۹

داريوں كو بڑھانے كا سبب بنتا ہے_إما يبلغّن عندك الكبر ا حدهما ا و كلاهما فلا تقل لهما ا ف ولا تنهر هما وقل لهما قولاً كريم

۱۱_بوڑھے والدين كا خيال ركھنا اولاد كى ذمہ دارى ہے_وبالوالدين إحساناً إما يبلغنّ عندك الكبر فلا تقل لهمإ فّ مندرجہ بالا نكتہ اس لئے ہے كہ اس آيت كى مخاطب''اولاد''ہے اسى طرح ''عندك'' (تمہارے پاس) ظرف واضح كررہاہے كہ اولاد اس طرح اپنے والدين كا خيال ركھے كہ گويا ان كے ہاں رہ رہے ہيں اور قريب سے ان كا خےال ركھے ہوئے ہيں _

۱۲_والدين كا اولاد كے پاس ہونا اولاد كى ذمہ دارى بڑھاتاہے_إمّا يبلغنّ عندك الكبر

''عندك الكبر'' سے ممكن ہے يہ حقيقت بيان ہو رہى ہو كہ اگر والدين بچوں كے پاس رہ رہے ہوں تو ان كے خيال كى ذمہ دارى بڑھ جاتى ہے اور اس وقت ان كى ہر قسم كى بے احترامى حتّى كہ كلمہ ''اف''كہنے سے بھى پرہيز كيا جائے_

۱۳_ماں باپ بڑھاپے كى حالت ميں بچوں كى طرف سے بے احترامى كے خطرے ميں ہيں _

إمّا يبلغنّ عندك الكبر فلا تقل لهما ا فّ ولا تنهرهما وقل لهما قولاً كريما

والدين كے ساتھ نيكى كا حكم مطلق ہے_ تمام والدين خواہ كسى سن وسال ميں ہوں ان كو شامل ہے_ جملہ ''إمّا يبلغنّ عندك الكبر'' ممكن ہے اسى مندرجہ بالانكتہ كى طرف اشارہ كر رہا ہو _

۱۴_والدين كے ساتھ ہر قسم كا جھگڑا اور اہانت حتّى كہ ''أف'' كہنے كى حد تك ممنوع ہے_فلا تقل لهما ا ُفّ

۱۵_اولاد كى ذمہ دارى ہے كہ اپنے بوڑھے ماں باپ كى ضرورتوں كا مثبت جواب ديں اور ان كى ضرورتوں كو پورا كرنے سے كبھى بھى دريغ نہ كريں _ولا تنهر هم

''نہر'' سے مراد منع كرنا ہے اور روكنا ہے (لسان العرب)

۱۶_اولاد كى ذمہ دارى ہے كہ والدين كے ساتھ ملائمت اور مودبانہ انداز ميں برتائو كريں اور ان سے بات كرتے وقت ان كے احترام كا خيال ركھيں _ولا تقل لهما ا فّ وقل لهما قولاً كريما

۱۷_بوڑھے والدين ميں سے كسى ايك يا دونوں كا اولاد كے پاس ہونا ان كے احترام كى مقدار ميں كوئي تا ثير نہيں ركھتا بلكہ دونوں برابر حقوق كے مالك ہيں _وبالولدين احساناً إمّا يبلغنّ عندك الكبر ا حدهما ا وكلاهم

۱۸_''عن إبن عباس قال: لمّا انصرف أميرالمؤمنين من صفين قام إليه شيخ فقال: يا أميرالمؤمنين ا خبرنا عن مسيرن هذا ا بقضاء من اللّه وقدر؟

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

لیکن ہم قرآنی آیات کے خلاف امر بالمعروف اور نہی از منکر بجا لانے کی بجائے   گناہوں کو پھیلانے کی فکر میں رہیں تاکہ حضرت جلدی ظہور کریں ،کیا آنحضرت جب ظہور کریں گے تو یہی کام انجام دینگے ؟ ابھی دنیا ظلم وجور سے بھرا ہوا ہے ...اگر ظلم وجور کو روک سکتے ہیں تو ہماری ذمہ داری اور تکلیف ہے اسکی روک تھام  کریں ؛  اور ضرورت اسلام اور قران نے ہماری ذمہ داری  ڈال دی ہے کی  ہم قیام کرے اورہر  کام  انجام دے(۱) یقیناً  اس قسم کا انتظار جس میں ایک قسم کی  حدود  و قوانین اور اسلامی مقررات کا تعطیل ہونا لازم آتا ہو اور منتظرین کو گناہوں کی طرف دعوت دے ایسے انتظار خود امام زمانہؑ کے ارشاد کے مطابق ظہور کی راہ میں سب سے بڑا مانع اور سد راہ ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں :و لو أن أشیاعنا وفقهم الله لطاعته علی اجتماع من القلوب فی الوفاء بالعهد علیهم لما تأخر عنهم الیمن بلقائنا و لتعجلت لهم السعادة بمشاهدتنا علی حق المعرفة و صدقها منهم بنا فما یحبسنا عنهم إلا ما یتصل بنا مما نكرهه و لا نؤثره منهم و الله المستعان و هو حسبنا و نعم الوكیل و صلاته علی سیدنا البشیر النذیر محمد و آله الطاهرین و سلم  (۲) “اگر ہمارے شیعہ  اﷲ تعالی انھیں اپنی اطاعت کی توفیق عنایت فرماۓ ،ایک دل اور متحد ہو کر ہمارے ساتھ باندھے گۓ عہد وپیمان کو وفا کرتے تو ہمارا احسان اور ہماری ملاقات کا شرف وفیض ان سے ہرگز مؤخر نہ ہوتا : اور بہت جلد کامل معرفت اور سچی پہچان کے ساتھ ہمارے دیدار کی سعادت انکو نصیب ہوگی ،اور ہمیں شیعون سے صرف اور صرف انکے ایک گروہ کے کردار نے  پوشیدہ کر رکھّا ہے  جو کردار ہمیں پسند نہیں اور ہم ان سے اس کردار کی توقع نہیں رکھتے تھے ،پروردگار عالم ہمارا بہترین مددگار ہے اور وہی ہمارے لیۓ  کافی ہے پس حصرت حجت علیہ السلام کے اس کلام سے یہ بات ےاضح ہو جاتی ہے کہ اہل بیت اطہار ؑکے چاہنے والوں سے جس چیز کے وفا کا عہد وپیمان لیا ہے ،وہ انکی ولایت واطاعت ہے اور جو چیز امام زمانہؑ کی زیارت سے محروم ہونے اور انکے ظہور میں تاخیر کا سبب بنی ہے وہ انکے  مانے والوں کے آنجناب کی اطاعت اور حمایت کے لیے آمادہ نہ ہونا ہے ،اور یہی اطاعت اور حمایت ظہور  کے شرائط میں سے ایک اہم شرط بھی ہے

--------------

(۱):- مجلہم ہد ی موعود : شمارہنمبر ۱،ص۱۵ -

(۲):- الاحتجاج ج : ۲ ص : ۴۹۹    

۸۱

عصر ظہور

سوال نمبر ۱۶: کیا امام زمانہ  حضرت مہدی منجی عالم بشریت کے ظہور پر شیعہ سنی سب متفقہ عقیدہ رکھتے ہیں ؟

جواب :یملأ الارض قسطا و عدلا كما ملئت جورا  (۱) اس انتہائی مشہور ومعروف حدیث کے مطابق ۔جسے بے شمار راویوں نے نقل کیا ہے ۔جب دنیا سخت ترین اضطراب اور بے چینی میں مبتلا ہوگئی ہر طرح ظلم وتشدد کے شغلے بھرک رہے ہوں گے ؛انسانی معاشرے میں امن وامان نا پید ہو چکی ہو گئی ہر طرح  فاسقون فاجروں اور کافروں کا راج اور انکی حکومت ہو گی انسانی اقدار دم توڑ چکی ہوں گئی اور انکی جگہ اخلاقی اور اجتماعی برائیوں کا دور دورہ ہو گا کمزور او چھوٹے ممالک اور اقوام کی حمایت و حفاظت کے نام پروجود میں آنے والے ادارے انکے خلاف انکے ہی نسل کشی و غارت گری کے لیئے استعمال ہونگے خلاصہ یہ کہ جب ہر طرح کی خباثت ؛ فحشا وفساد اور منکرات کا رواج ہو گا تو وہ عظیم الشان مصلح عالم روئے زمین پر حق وعدالت کی حکومت کا پر چم لہرائے گا اور چھوٹے بڑے قصبوں ؛ شہروں ؛سے لے کر دور ودراز دیہاتوں تک دنیا کے ہر کونہ کونہ نور اسلام سے جلوہ فگن ہو گا ؛ ذاتی اعراض اور منافع سے پاک الھی قوانیں کی حکمرانی ہو گی اور انسانی اقدار پھر سے معاشرہ میں زندہ ہو گی اور کائنا ت کا خاتمہ جب تک مھدی موعد موجود  ظہور نہ کرے اور ظلم جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل وانصاف سے بھر نہ دئے نہیں ہوگئی ۔

چنانچہ آخری دور میں مصلح عالم حضرت مھدی موعود  کے ظہور کے بارے میں اصحاب تابیعیں تابعیں کے پیروں سے لے کرآج تک کوئی اختلاف نہیں ہے اسیلیے اس اجماع مسلمیں کا اعتراف  مہدویت کے منکر ابن خلدوں نے اپنی مقدمہ تاریخ میں بھی کیاہے

--------------

(۱):- مازندرانی، محمد صالح بن احمد، شرح ال کاف ی ۶ ؛ ص۲۳۵، الم کتبة ال اسلام یة - ت ہران، چاپ: اول، ۱۳۸۲ ق. نقلا عن سنن ابن اب ی داود ترمذی

۸۲

۔ ابن خلدوں کہتا ہے :واعلم انّ المشهور بین الکافة من آهل الاسلام علی ممرّ الاعصار انه لابّد فی آخری الذمان من ظهور رجلٍ من اهل البیت   یؤید الدین ویظهر العدل ویتبعه المسلمون ویستولی علی الممالک الاسلامیة ویسّمی بالمهدی (۱)    جان لو !ہر دور میں یہ بات تمام مسلمانوں کے درمیاں مشہور رہی ہے کہ آخری زمانہ میں حتمی طور پر اھل بیت اطہار  کی نسل سے ایک شخص ظہور کرئے گا جو دین کی نصرت اور عد ل و انصاف کو ظاہر کرئے گا تمام مسلمانوں اسکی پیروی کریں گے اور وہ تمام اسلامی ممالک کاحکمران ہو گا اور اسکا نام مھدی  ہو گا ۔

اسی طرح علامہ مروی قرن    ۳    کے مشہور اہل سنت عالم اپنی کتاب سوائک الذھب میں یوں تحریرفرماتے ہیں:الذّی اتفق علیه العلماء انّ المهدی هو القائم فی آخر الوقت وانه یملاء الارض عدلاًوالاحادیث فیه کثیرة ُ (۲)   اس بات پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ حضرت مھدی  ہی آخری زمانہ میں قیام فرمائیں گے اور زمین کو عدلو انصاف سے بھر دیں گئے جبکہ انکے وجود اور انکے ظھور سے متعلق روایات بہت ذیادہ ہیں ۔ اسیلے اہل سنت کے بڑے بڑے علماء نے تیس سے زیادہ کتابیں اسی موضوع کے متعلق لکھی ہے ۔(۳)  

 سوال نمبر ۱۷:  حضرت امام مھدی  کے ظہور کی نشانیاں اور شرائط کیا ہیں    ؟

     جواب : حضرت امام مھدی  کے ظہور کی کچھ نشانیاں اور شرائط ہیں جن کو ظہور کے اسباب اور علامات ظہور کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے ۔ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اسباب کا مہیا ہونا ظہور میں واقعی طور بر اثر رکھتا ہے اس طرح کہ ان اسباب کے ہموار ہونے سے امام  کا ظہور ہو جائے گا اور ان کے بغیر ظہور نہیں ہو سکتا ۔

--------------

(۱):- مقدمہ ابن خلدوں ص۳۶۷

(۲):- سوائک الذھب ص۲۸

(۳):- رجوع کریں نوید امن امان  ؛ صافی گلپائی گانی ص۷۸

۸۳

لیکن جہاں تک علامات اور نشانیوں کا تعلق ہے تو وہ ظہور میں کوئی اثر نہیں رکھتیں بلکہ صرف ظہور کی نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ ظہور کے زمانہ یا ظہور کے قریب ہونے کو پہچانا جا سکتا ہے ۔ پس شرائط اور اسباب کا مہیا ہونا نشانیوں سے ذیادہ اہمیت رکھتا ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ نشانیوں کو تلاش کرنے سے پہلے امام زمانہ  کے ظہور کی شرائط پر توجہ دیں اورہر ایک اپنی اپنی قدرت کے مطابق ان شرائط کے مہیا کرنے میں سہیم بنائے تاہم ہم یہاں امام زمانہ کے ظہور کے کچھ اہم اسباب اور عالمات بیان کرتے ہیں ۔

ظہور کی شرائط اور اسباب

اس کا ئنات میں پروردگار عالم کی سنتوں میں ایک سنت(إن اللّه سبحانه یجری الأمور علی ما یقتضیه لا علی ما ترتضیه‏ (۱)    ہر چیز کا جب تک اپنی اسباب اور شرائط مہیا نہیں ہوتی وجود میں نہیں آتی مثال کے طور پر اگر کسی زمین میں کوئی سا بیج دال دے تو وہ دانہ اس وقت نکل آے گا جب اس کے لیے مناسب آب وہوا اور مٹی مل جاے اسی بنا پر معاشر ے کی اصلاح کے لیے یا معاشرے میں انقلاب لانے کے لیے بھی زمینہ فراہم ہونا اور اسکے لیے اسباب مہیا ہو بھی ضروری ہے لہذا حضرت مھدی  کا عالمی انقلاب اور قیام میں بھی کو معجزہ درکار نہیں ہے بلکہ جب تک اسباب اور شرائط پوری نہ ہو جائیں اس وقت تک واقع نہیں ہو گا ۔ اسیلے اما محمد باقر  سے کسی شخص نے کہا لوگ کہتے ہیں جب امام مہدی  کا ظہور ہو گا تو تمام امور ان کی مرضی کے مطابق خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے ۔امام  نے فرمایا : ہرگز  ایسا نہیں ہے قسم ہے اس ذات کی جس نے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ؛ اگر یہ طے ہوتا کہ کسی کے کام خود بخود ہو جایا کری تو پھر ایسا تو رسول اکرم (ص) کے لیے ہوا چاہئے تھا(۲)    اور امام زمانہ  کے عالمی مشن اور نظام کے قیام تین عنصر کی ضرورت ہیں جو کہ ہر انقلاب اور نظام کے قیام اور استحکام کے لیے ضروری ہے ۔

--------------

(۱):- غرر الحکم و درر ال کلم / ۲۲۲ / ۵۶ ص : ۲۲۲

(۲):- غیبت نعمانی ؛ باب۲ ح  ۱۵

۸۴

۱۔ شائستہ قیادت

 ہر انقلاب اور قیام میں رہبر اور قائد کی ضرورت سب سے پہلی ضرورت شمار کی جاتی ہے اور انقلاب جس قدر وسیع اور بلند مقصد کا حامل ہوتا ہے اس انقلاب کا رہبر اور قائد بھی ان اغراض و مقاصد کے لحاظ سے عظیم و بلند مر تبہ ہو نا ضروری ہے ۔ حضرت مھدی  جو انبیاء اور اولیا  کے وارث ہیں اس عظیم الشان انقلاب کے رہبر کے عنوان سے حاضر اور زندہ ہیں صرف آپ ہی اسیے رہبر ہیں جو عالم غیب سے رابط کی وجہ سے کائنات اور اسکی اشیاء کے باہمی روابط سے مکمل طور پرآگاہی رکھتے ہیں اور اپنے زمانے کے سب  سے بابصیرت اور علم لدنی کے مالک ہیں ۔جیسا کہ پیغمبر اکرم  (ص)سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں:آگاہ رہو کہ مہدی  تمام علوم کے وارث ہیں تمام علوم پر احاطہ رکھتے ہیں  ۔(۱)

۲۔کامل قانوں اور دستور

دوسرا عنصر انتہائی ضروری ہے وہ ہے قانوں ایک ایسا قانون کہ جس میں تمام معاشرتی ضروریات کا خیال رکھا گیا ہو اور وہ قانون ایک عادلانہ نظام حکومت کے تحت تمام  انفرادی اور اجتماعی حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہو اور معاشرے کی ترقی کی سمت کا رخ اسکی منزل مقصود کی طرف موڑدے ۔ اور وہ قانون اور دستور بھی قرآن سنت اور سیرت اہلیبیت  کی شکل میں موجود ہے ۔

۳ ۔لوگوں کے اطاعت کے لیے آمادگی

کامل قانوں اور شائستہ رہبر اس وقت کار آمد ثابت ہوتے ہیں کہ جب امت اسکی اطاعت کرنے لگے اور معاشرے میں لائق انصار اور مددگار موجود ہوایسے جان نثارمددگاروں کی بھی ضرورت ہے جنکی کی کچھ صفات راویات میں آئی ہیں جیسا کہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں : وہ لوگ اپنے امام کی اطاعت میں کوشاں رہتے ہیں(۲) :

--------------

(۱):- نجم الثاقب ؛ص۱۹۳

(۲):- منتخب الاثر فصل۸؛باب ۱ ؛ح ۲

۸۵

 یا امیر المؤمنین  فرماتے ہیں وہ ایسے شیر ہیں جو خود باہر نکل آئے ہیں اور اگر چاہیں تو پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہلا سکتے ہیں(۱) :  صادق آل محمد فرماتے ہیں : وہ لوگ رات بھر عبادت کرتے ہیں اور دن میں روزہ رکھتے ہیں حتی کہ گھوڑوں پر سواری کی حالت میں بھی خدا کی تسبیح کرتے ہیں: (۲)  

اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ شرط اب تک فاقد ہے تو ہم سب کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم خود بھی ذہنی طور پر تیار ہو جائے اور دوسروں کو بھی آمادہ کرے ۔

ظہور کی علامات اور نشانیاں

روایات میں امام مھدی  کی بابرکت ظہورکے کچھ نشانیاں اور علاما ت بیاں ہوئی ہے ان نشانیوں کی طرع متوجہ رہنا منتظریں اور مؤمنیں کے ایمان ؛ استقامت ؛صبر اور ولولہ میں اضافہ کے باعث بننے کے ساتھ ساتھ دشمنوں "گمراہوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی ہے تاکہ وہ ان برائیون سے باز آجائیں ۔ اھل بیت اطہار سے امام مھدی  کے ظہور کی بہت سے نشانیاں ذکر ہوئی ہیں تاہم ان نشانیوں کو دو حتمی اور غیر حتمی میں تقسیم کرسکتے ہیں ابن فضیل نے امام محمد باقر  سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا ظہور کی نشانیاں دو طرح کی ہے ایک حتمی اور دیگر غیر حتمی (۳)

۱۔ حتمی علامات

حتمی اورقطعی نشانیاں وہ ہیں جنکا نمایاں ہونا ظہور سے پہلے ضروری ہے :

--------------

(۱):- یوم الخالص ؛ ص۲۲۴ 

(۲):- بحار ؛ ج۵۲ ؛ ج۳۰۸

(۳):- غبتر نعمانہج باب۸۱ ص ۴۲۹

۸۶

۱۔سفیانی کا خروج

سفیانیکا خروج بہت سی روایات میں بیاں ہونے والی ان حتمی نشانیوں میں سے ہے  اسکا تفصیل یہ ہے کہ سفیانی ابوسفیان کی نسل سے ہوگا جو ظہور سے تھوڑی مدت پہلے سر زمین شام سے خروج کرے گا وہ ظالم وجابر ہو گا جس کو قتل وغارت کی کوئی پرواہ نہیں ہو گی اور اپنے دشمنوں سے بہت ہی بُرا سلوک کرے گا :حضر ت امام صادق  اس بارے میں بیاں فرماتے ہیں : اگر تم سفیانی کو دیکھو گے تو تم نے گویا سب سے پلیداور بُرے اناسن کو دیکھ لیا ہے  :قَالَ: لِلْقَائِمِ خَمْسُ عَلَامَاتٍ‏ ظُهُورُ السُّفْيَانِيِّ وَ الْيَمَانِيِّ وَ الصَّيْحَةُ مِنَ السَّمَاءِ وَ قَتْلُ النَّفْسِ الزَّكِيَّةِ وَ الْخَسْفُ بِالْبَيْدَاءِ. (۱)

۲۔ خسف بیدا ء

خسف بیداء مکہ ومدینہ کے درمیاں ایک صحرائی علاقہ کا نام ہے جہاں سفیانی کا لشکرزمین میں دھنس جاے گا ۔ امام صاد ق فرماتے ہیں ۔ حضرت قائم کے ظہور سے پہلے پانچ نشانیاں حتمی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔صحراء کا پھٹ جانا ہے

۳ یمنی کا قیام

سر زمین یمنی اس صالح اور مومن شخص کا نام ہے جو ظلم وبربریت کے خلاف یمن کے سرزمن پرامام مھدی  کے ظہور سے پہلے قیام کریں گے امام محمد باقر  فرماتے ہیں : امام مھدی کے قیام سے پہلے بلند ہونے والے پرچموں کے درمیاں یمنی کا پرچم تمام ہدایت کرنے والے پرچموں میں سب سے بہتر ہو گا ؛ کیونکہ وہ تمہارے آقا کی طرف دعوت دے گا ۔(۲)

--------------

(۱):- الغیبة( للنعمانی) / النص / ۲۵۲ / باب ۱۴

(۲):- غبیت نعمانہ ن ؛باب۱۴/ ح۱۳/ص ۲۶۴

۸۷

۴۔ نفس زکیہ کا قتل

نفس زکیہ سے مراد اس ممتاز اور پاک سرشت شخصیت ہیں جو اما م  کے ظہور سے پہلے آپ  کے مخالفیں کے ہاتھوں قتل ہو جائے گی بعض روایات کے مطابق یہ واقعہ امام  کے ظہور سے ۱۵ دن پہلے واقع ہو گا حضرت صادق  اس بارے میں فرماتے ہیں : قائم آل محمد  کے ظہور اور نفس زکیہ کے قتل میں صرف ۱۵ دن رات کا فاصلہ ہو گا  :(۱)

۵۔ صیحہ آسمانی

بعض روایات کے مطابق امام عصر  کے ظہور سے پہلے جناب جبرئیل آسمان سے نام مقدس حضرت مھدی لے کے آوازدیں گے کہ جس کو تمام آہل مشرق ومغرب سن لیں گے ۔چنانچہ امام صادق   سورہ ق ؛کی آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں : آسمان سے آواز دینے والا حضرت مھدی کو آپ کے نام اور آپ کی ولدیت کے ساتھ پکارے گا(۲)

۲۔ غیر حتمی علامات

غیر حتمی علامتوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو کسی نہ کسی شرط کے ساتھ مشروط ہیں جب تک وہ شرط تحقق نہ پائے وہ مشروط بھی حتمی نشانیوں میں شمار نہیں ہوتی ۔ان غیر حتمی نشانیوں کے متعلق امام صادق  سے ایک انتہائی طولانی روایت ہے جس میں ۱ سے اوپر علامات بیاں ہوئی ہیں رجوع کریں  (۳)

--------------

(۱):- کمال الدین ؛ ج۲ / باب ۵۷ /ح۲ /ص ۵۵۴

(۲):- معجم احادیث الامام مھدی؛ج۳ /ص ۲۵۳

(۳):- بحار ؛ج۵۲ /ص ۲۵۶

۸۸

امام مھدی  کی حکومت

سوال نمبر ۱۸ :   امام مھدی  کی حکومت کیسی ؟کہاں اور کن کن خصوصیت کے حامل ہو گی ؟

جواب :وَعَدَ اللَّهُ الَّذِینَ ءَامَنُواْ مِنكمُ‏ْ وَ عَمِلُواْ الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فىِ الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِینَ مِن قَبْلِهِمْ (۱)    تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور نیک اعمال بجا لائے ہیں اللہ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ انہیں زمین میں اس طرح جانشین ضرور بنائے گا جس طرح ان سے پہلوں کو جانشین بنایا اور جس دین کو اللہ نے ان کے لیے پسندیدہ بنایا ہے اسے پائدار ضرور بنائے گا اور انہیں خوف کے بعد امن ضرور فراہم کرے گا، وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اوراس کے بعد بھی جو لوگ کفر اختیار کریں گے پس وہی فاسق ہیں۔ امام مھدی  کے اس عالمی انقلاب کے نتیجے میں پروردگار عالم کا حتمی وعدہ روئے زمین پر پہلی بارا تحقق ہوگا ؛ اور صفحہ ہستی سے ظلم وستم ؛برائیوں ؛ تباہیوں ؛ خیانتوں ؛ اور ہر قسم کی فکری اور عملیانحرافات سے مکمل مقابلہ کے بعد  (البیعة للہ ) کی بنیاد پر ایک ایسی الھی نظام اور حکومت تشکیل پائے گی جسکی بنیاد توحید اور مکمل طور پر حق وعدالت پر مبنی ہوگئی ؛ایک ایسی حکومت جو مظھر تام(قائماً بالقسط ) (۲)   ہوگئی جس میں ذرہ برار ظلم وستم نہیں ہوگا اسکا دار الحکومت نجف اور کوفہ اور بر گ و شاخ پوری دنیاپر چھا جائے گئی اور نفسانی وسوسوں اور شہوتوں کی وجہ سے مردہ انسانیں کو دوبارہ ایک نئی زندہ گی کلے گی تاکہ وہ مسجود ملائکہ کو حقیقی زندگی اور واقعی حیات کی شیرینی چکھائے اور اس الھی حکومت کی خصوصیت  کچھ یوں ہو گئی

--------------

(۱):- نور : ۵۵

(۲):- العمران۱۸

۸۹

۱: معنوئی ترقی

بے شک دنیا میں جتنے بھی انبیاء ؛ اوصیاء اور مصلح آئیں ہیں ان سب کی تمام تر کوششیں لوگوں کی معنوی زندگی کورشد دے کر انھیں مقام انسانیت تک لے جانے کے لیے تھا اور انسان کو اسی معنوی زندگی کی وجہ ہے ہی انسان کہا ہے اور اسی سے ہی دیگر حیوانات سے جدا ہوتا اور اسی راہ سے ہی انسان کو  راز خلقت (جو کہ قرب الھی) ہاتھ آتا ہے جبکہ معنویت کی کمزوری ہر دور میں تمام تر معاشرتی اور فردی بد بختیوں اور خرابیوں کا پیش خیمہ بنی ہے لھذا جسطرح قرآن مجید نے ہمیں خبر دیا ہے :الَّذِینَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فىِ الْأَرْضِ أَقَامُواْ الصَّلَوةَ وَ ءَاتَوُاْ الزَّكَوةَ وَ أَمَرُواْ بِالْمَعْرُوفِ وَ نَهَوْاْ عَنِ الْمُنكَرِ  وَ لِلَّهِ عَقِبَةُ الْأُمُو  * (۱) یہ وہ لوگ ہیں، اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوۃ ادا کریں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور تمام امور کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حضرت مھدی عجل ﷲ فرجہ الشریف کی حکومت عدل الھی کے سایے میں ہر جگہ برائیون اور تباہیوں کی جگہ معنویت  اور عبودیت لے  آئےگئی اور جب معاشرے میں معنویت عام ہو جائے تو خود بخود اس معاشرے میں صدق؛ صفا ؛ ایثار ؛ محبت ؛ اچھائی؛ اور نیکی پھیل جائیں گے اورزندگی کے تمام پہلو میں انسانی اقدار کی رونق اور شادابی ہو گئی۔ چنانچہ امیر المؤمنیں فرماتے ہیں ک لوگ حضرت مھدی کے زمانے میں عبادت اور معنویت کی طرف مائل ہوں گے اور نماز جماعت سے پڑھیں گے(۲) :  نیز فرماتے ہیں انکے دور میں لوگوں کے دلوں سے کینے ختم ہو جائیں گے(۳)

--------------

(۱):- حج :۴۱

(۲):- احقاق الحق ؛ج۱۳ ؛ ص ۳۱۲ 

(۳):-  الغیبة طوسی ؛ ص۲۹۵ 

۹۰

۲: کتاب وسنت کی احیای

هُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَی‏ وَ دِینِ الْحَقّ‏ِ لِيُظْهِرَهُ عَلىَ الدِّینِ كُلِّهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُون* (۱) ۔

اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اسی نے بھیجا ہے تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین کو برا ہی لگے ۔  خداوند عالمیں کا یہ حتمی وعدہ امام مھدی  کے دور میں انکے الھی نظام کے زیر سائے میں محقق ہوگا اور سراسر عالم سے بد پرستی اور شرک کے آثار مٹا کر شریعت کے قوانین کو نافذ کیا جائے گا۔ چنانچہ تفسیر عیاشی میں مذکورةآیت کی ذیل میں آیا ہے :و الله ما نزل تأویلها بعد و لا ینزل تأویلها حتی یخرج القائم علیه السلام، فاذا خرج القائم لم یبق كافر بالله العظیم و لا مشرك بالإمام الأكرة خروجه، حتی لو كان كافر أو مشرك فی بطن صخرة لقالت: (۲)   جب ہمارے قائم قیام کریں گے  تو دیکھنے والے دیکھ لیں گئے کہ روئے زمین پر کوئی مشرک نظر نہیں آئے گا دین اسلام ہر جگہ پہو نچ چکا ہو گا  ـ آیة ﷲ جوادی آملی فرماتے ہیں : حضرت حجت کے دور  میں نہ صرف کفروشرکو بتپرستی کے آثار مت جائے گی بلکہ ہر قسم کے اضافی تشریفات ؛ رسومات ؛ عادات اور تجمل پرستی کا بھی خاتمہ ہوجاے گا(۳)

۳ : عدالت میں وسعت

جس چیز سے غریب اور کمزورعوام سب سے زیادہ رنجیدہ ہے وہ معاشرے میں اجتماعی زندگی میں عدل وانصاف کا فقدان ہے ؛ ہمیشہ سےشکم سیر لوگوں کے ساتھ ایک بہت بڑا گروہ بھوکا رہا ہے اور ہمیشہ سے غریبوں اور کمزوروں کے حقوق طاقتوروں اور مکاروں نے پامال کئے ہیں ۔

--------------

(۱):- توبہ: ۳۳

(۲):- تفسیر نور الثقل ین، ج ۲، ص: ۲۱۲

(۳):- امام مھدی موجود موعود ص۲۵۷ طبع ۳

۹۱

 لیکن بشر فطری طور پر زندگی کے ہر پہلو میں عدل وانصاف کے خواہاں ہے اور یہ درینہ آرزو  امام مھدی  کے حق وعدالت پر مبنی حکومت کے زیر سایے میں محقق ہو گی چنانچہ امام حسین  فرماتے ہیں : اگر دنیا کی عمر کا ایک دن بھی رہ جائے تو خداوند عالم اس دن کو اتنا طولانی کردے گا کہ میری نسل سے ایک شخص قیام کرئے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح ظلم جور سے بھر ی ہو گئی  (۱)

۴: علم معرفت میں ترقی

امام مھدی  کی حکومت علماء اور دانشوروں کی  سر پرستی اور بذات خود آپکی زیر نگرانی میں تشکیل پائے گئی لھذا آپکی حکومت کا ہر پروگرام علم ومعرفت اور انسانی دانش کی عظیم پیش رفت  اور ترقی کا سبب بنے گا ؛ روایات بتاتی ہیں کہ علم ودانش کا ادراک اور شعور امام زمانہ  کے دور میں آج کی ترقی سے قابل مقائسہ نہیں ہوگا یہاں تک صنعت اور تکنالوجی کے اعتبار سے بھی حیرت انگیز ترقی ہوگی لیکن آج کی ترقی اور امام زمانہ  کے دور کے علمی ترقی میں فرق یہ ہو گا کہ آج انسان جتنے ترقی کرتا جارہا ہے اتنا ہی انسانیت سے دور دن بدن اخلاقی اور اجتماعی فسادات کے دلدل میں ڈھوپ رہا ہے جبکہ اس کے بر عکس آپ کے دور میں اس نظام عدل الھی کے نفاذ کے نتیجے میں جتنی علم ودانش اور سائنس ؛ تکنالوجی ترقی کر تا جائے گا اتنا ہی انسان اخلاق کی بلندی اور انسانی کمالات کے اعلی منزل فائز ہوتا جاے گا ۔حضرت صادق آل محمد اس دور کی علمی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: علم ودانش کے ۲۷ حروف ہیں اب تک جو کچھ انبیاء  نے پیش کیا ہے وہ دو حرف ہے اور بس جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو باقی ۲۵ حروف کو بھ پیش کریں گے ۔اسی طرح امام محمد باقر  اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں : اما مھدی کے دور میں تمھیں حکمت دیا جاے گا یہاں تک عورتیں گھروں میں کتاب وسنت کے مطابق فیصلہ کیا کریں گے(۲)

--------------

(۱):-   عبد الرزاق المصنف ؛ج۱ ؛ ص ۴۰۲ اور الفتن لابن حماد ؛ص ۱۶۲

(۲):- نعمانی ص۲۳۹

۹۲

  نیز آپ  فرماتے ہیں :اذا قام قائمنا وضع یده علی رؤوس  اور جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو لوگوں کے سروں پر اپنا ہاتھ رکھیں گئے جسے انکے عقل جمع ہو جاے گئی اور انکا اخلاق کامل ہو جاے گا(۱)    یہ روایت کنایہ ہے اس دور میں عقل اور فکر انسانی کی بے تحاشا ترقی کی طرف کہ جو کسی خاص طبقہ کے لے مختص نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقہ کے لیے ہوگئی۔

۵:  بدعتوں کا مقابلہ

آج کے مادہ پرست دور میں دین دار اور دینی اصولوں کے پابند لوگ بہت کم نظر آتے ہیں اور اکثر لوگ یا تو دین سے ناواقف ہیں یا تو من مانی منگھڑٹ بدعتوں  کو دین کا جز قرار دے کر انکے پیچھے پھر تے ہیں ؛ جو کہ حقیقت میں خدا و ر رسول (ص) کے ساتھ جنگ  اور اپنے نفس کی خواہشات کے پیروی کرنا ہے(۲) ۔ لیکن امام مھدی  کی دور حکومت میں آپ سنتوں کو دوبارہ زندہ اور بدعتوں کی بساط لپیٹ لیں گئے ؛ امام محمد باقر  اس بارے میں فرماتے: وَ لَا يَتْرُكُ بِدْعَةً إِلَّا أَزَالَهَا وَ لَا سُنَّةً إِلَّا أَقَامَهَا (۳)    کوئی بھی بدعت ایسی نہیں ہو گئی جسکو جڑ سے اکھاڑ نہ پھینکیں اور کوئی بھی سنن ایسی نہیں ہو گئی جسکو زندہ نہ کریںـ

۶:  امنیت

آج انسانی معاشرے کے پیکر پر جو سب سے بڑا زخم ہے جسکی وجہ سے بشر ہر جگہ بے چینی اور اضطراب کا شکار ہے وہ زندگی کے مختلف پہلو میں امنیت کا فقدان ہے ؛ آج دنیا میں ہر کمزور اور ضعیف خواہ وہ افراد کی شکل میں ہو یا آقوام کی شکل میں ہو یا خطے کی شکل میں مالی اور جانی اور عرض و عزت نفس کی اعتبار سے

--------------

(۱):- بحار ؛ج۵۲ ؛ص ۳۳۲ 

(۲):- مزاان الحکمہ ؛ ح۶۴۹ 

(۳):- بحار الانوار (ط - ب یروت) / ج ۵۵ / ۹۲ /. ص : ۶۱

۹۳

 ہر اعتبار سے شیطانی اور استکباری عالمی طاقتوں کے پاوں کے نیچے دست وپنجہ نرم کررہا ہے ؛ لیکن امام حجت عج کی حکومت کے سائے میں نہ صرف انسانی معاشرے میں امنیت قائم ہوگی لوگوں کی جان ومال وعزت آبرو محفوظ ہو جائے گئی بلکہ امنیت اور سالمیت کا دائرہ ھر جاندار اور ذی روح تک پھل جائے گا ؛ پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں : زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا تاکہ لوگ اپنی فطرت کی جانب بازگشت کریں نہ کوئی ناحق خون بہے گا اور نہ کسی سوئے کو جگایا جائے گا(۱) ۔ نیز آنحضرت (ص) فرماتے ہیں  ایک عورت ظلم وستم ناانصافی سے بے خوف وخطر ہو کر شب کو سفر کرئے گئی  .(۲)

۷ : اقتصاد ی ترقی اور دولت کا عادلانہ تقسیم

وَ لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَی ءَامَنُواْ وَ اتَّقَوْاْ لَفَتَحْنَا عَلَیهِْم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ (۳)  اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کرلیتے تو ہم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کی گرفت میں لے لیا۔ بے شک ایک کامل نظام اور معاشرے کی پہچان صحیح اقتصاد کے ائپر ڈپند ہے ؛ اگر معاشرے میں مال ودولت اور مادی وسائل سے صحیح فائدہ اٹھایا جائے اور تقسیم دولت میں عدالت کا لحاظ رکھا جائے تو  پھر اس معاشرے سے فقرو فاقہ ؛ محرومیت اور تنگ دستی کا خود بخود خاتمہ ہو جائے گا اور لوگ فطری طور پر دین اور معنویت کی طرف توجہ دیں گئے اور تقوای اختیار کرنے لگیں گے اور جب معاشرے با تقوای ہو جائے تو پروردگار عالم کا حتمی وعد ہ محقق ہو گا اور زمین آسمان میں برکت اور رحمت کے دروازے کھول دیا جائے گا جیسا کہ امیر المؤمنین علی  اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں :ولو قام قائمنا لانزلت السماء قطرها ولاخرجت الرض نباتها (۴)

--------------

(۱):- لامامة والتبصرة ص۱۲۱اور خصال ؛ باب ۴۰۰ ؛ ص ۲۵۵

(۲):-  المعجم الکبیر ؛ج۶ ؛ ص ۱۷۹ 

(۳):-   اعراف : ۹۶

(۴):-  خصال للصدوق  ص۶۲۶

۹۴

جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو حتما ً آسمان سے بارشیں ہوگئی اور زمین دانہ اگائے گئی اسی طرح بعض روایات میں آیا ہے : وتظہرلہ الکنوز  تمام خزانے انکے لیے ظاہر ہو جائیں گے(۱)   نیز پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں : وہ مال ودولت کو صحیح تقسیم کریں گے(۲)   اور معاشرے میں مال کا مساوات کے ساتھ تقسم کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کوئی فقیر اور مختاج نہیں رہے گا اور زکاة لینے والا تک نہیں ملے گا ؛ چنانچہ آنحضرت (ص) اس بارے میں فرماتے ہیں : انکی حکومت میں مال کا ڈھیر لگ جائے گا(۳)   مذید یہ کہ خداوند عالم لوگوں کے دلوں کو غنی وبے نیازی سے بھر دے گا اسحد تک کہ حضرت اعلان کریں گے جسیے مال ودولت چاہیے وہ میرے پاس آئے ۱ لیکن کوئی آگے نہیں بڑھے گا ۔(۴)

۸: محرومیں اور مستضعفیں کی نجات

 اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت مھدی  کا قیام معاشرے میں عدالت کی برقراری اورسماج سے محرمیت کی بیخ کنی کے لیئے ہی ہو گا ۔ اسیلیے امیر المؤمنین  فرماتے ہیں : حضرت مھدی ظہور کریں گے تو کوئی مسلمان غلام نہیں ہوگا مگر یہ کہ حضرت اسے خرید کر آذاد کردیں نیز کوئیقرضدار نہیں ہوگا مگر یہ کہ حضرت انکے قرض ادا کردیں گے(۵)    اسی طرح امام محمد باقر  فرماتے ہیں : آپ  سال میں دو مرتبہ لوگوں کو بخشش عنایت کریں گے اور مہینہ میں دو دفعہ ان کی روزی انہیں عطا فرماے گا لوگوں کے درمیاں مساوات قائم کریں گے یہاں تک زکواة لینے والا کوئی نیاز مند نہیں ملے گا  (۶) خلاصہ یہ کہ حضرت حجہ  کی حکومت میں انسان اندرونی اور بیرونی لحاظ سے بے نیاز ہو جاے گا اور دولت کی عادلانہ تقسیم سے خود بخود انکے اندر قناعت آجائے گئی ۔ امید ہے کہ پرودرگار عالم جلد از جلد وہ دن دیکھنے کی توفیق عطا فرمائیں !

--------------

(۱):- کما ل الدین ؛ ج۱ باب ۳۲  ح ۱۶  (۲):- بحار ؛ج۵۱ ص ۸۱ 

(۳):- مستدرک ؛ج۴ ص ۵۵۸ (۴):- المصنف ؛عبد الرزاق ؛ ج۱ ؛ ص ۴۰۲

(۵):- تفیر عیاشی ؛ج۱ ؛ ص۶۴ (۶):-  بحار ؛ج۵۲ ؛ح ۲۱۲ 

۹۵

رجعت

سوال ۱۹ :   کیا امام مھدی کے قیام کرنے کے بعد مردہ لوگوں کے ایک گروہ رجعت کریں گے ؟

جواب :  امام مھدی کے عالمی قیام کے بعد قیامت کے آنے سے پہلے لوگوں کے ایک گروہ کا اسی دنیا میں پلٹ کر آنا ضروریات مذہب میں سے شمار ہوتا ہے   ' سیّد مرتضی علم الھد ی  فرماتے ہیں:أنّ الذی تذهب الشیع الإمامیه أن الله تعال یعید عند ظهور مام الزمان المهدی ع قوما ممن ان قد تقدم موته من شیعته لیفوزوا بثواب نصرته و معونته و مشاهده دولته و یعید ایضا قوما من عدائه لینتقم منهم فیلتذوا بما یشاهدون من ظهور الحق و علو لم هله (۱) شیعہ امامیہ کے اعتقادات میں سے یہ ہے کہ ﷲ تعالی امام مھدی  کے ظہور کے وقت شیعوں کے ایک گروہ کو جو پہلے مر چکے  ہوں گئے انکو دوبارہ پلٹایا جائے گا تاکہ امام زمانہ کی مدد اور نصرت کا ثواب انکے نصیب میں ہونے کے ساتھ ساتھ انکی حکومت کا مشاہدہ کر کے خوش حال ہوں نیز انکے دشمنوں سے بھی ایک گروہ کو دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں بیجھ دیے گا تاکہ انسے انتقام لے سکے : رجعت عالم مادی میں کلی طور پر قیامت کے دن حیات نو سے مشابہت رکھتا ہے  اسیلے  جناب آلوسی آہل سنت کے مشہور مفسر کہتے ہیں :وکون الاحیاء بعد الاماته والارجاع الی الدنیا من الامور المقدوره له عزّوجل ممّا لا نستطیع فیه کبشان لاّ انّ الکلام فی وقوعه … مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور دنیاکی طرف پلٹانا ایسے امور میں سے ہیں جوخدا کی قدرت کے مطابق ہے کہ کوئی بھی شخص اس میں شک وشبہ نہیں رکھتا صرف اسکے واقع ہونے میں بحث ہے ۔ لہذا ایک طرف عقلی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو جس طرح جناب آلوسی فرماتے ہیں رجعت ایک ممکن امر ہے  اگر خداوند عالم ارادہ کے لیے تواسمیں تعجب کی کوئی گنجائش نہیں

--------------

(۱):-   بحار الانوار  ط - بیروت / ج۵۳ / ۱۳۸ / ص : ۱۳۸

۹۶

دوسری طرف  قرآن کریم نے متعدد آیات میں مختلف مقامات متعدد  افراد کے مرنے کے بعد دوبارہ پلٹ کر آنے کا تذ کرہ کیا ہے ۔جیسا کہ سورة بقرہ کی ۲۴۳ آیت جس پرودگار عالم اپنے رسول کو یوں یاد دھانی کراتاہے ۔*  الم تر ِالی الذِین خرجوا مِن دِیارِهِم و هم الوف حذر الموتِ فقال لهم الله موتوا ثم احیاهم (۱)   کیا آپ نے ان لوگوں کے حال پر نظر نہیں کی جو موت کے ڈر سے ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکلے تھے؟ اللہ نے ان سے فرمایا: مر جا، پھر انہیں دبارہ  زندہ کر دیا ۔

جناب سیوطی فرماتے ہیں : انکی تعداد ستّر ہزارسے بھی ذیادہ تھے  ان پر موت آنے کے بعد مدت تک ایسی حالت میں پڑھے رہے یہاں تک  بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ایک نبی جنکا نام حزقیل تھا انکا وہاں سے گزر ہوا تو انھوں نے اس حالت کو دیکھ کر عرض کیا بارے الہی اگر ممکن ہے تو انکودوبارہ زندہ کردے ﷲ تعالی نے انکی دعا مستجاب کی اور انھیں دوبارہ زندہ کیا اور ایک مدت کے بعد طبیعی اموات سے اس دنیا سے رخصت ہوئے(۲)    اسی طرح پروردگار عالم حضرت عیسی  کے زبانی یوں حکایت کرتا ہے : و احِی الموت بِاذانِ اللہِ(۳) .  اور میں اللہ کے حکم سے  اور مردے کو زندہ کرتا ہوں:تفاسیر کی مشہور کتابوں میں آیا ہے کہ حضرت عیسی  نے اپنے دوست عاز کو زندہ کیا  نیز ضعیف العمر عورت کے فرزند کی زندگی کو پلٹایا اور ایک لڑکی کو بھی زندہ کیا یہ تینوں زندہ ہونے کے بعد  بہ قید حیاة تھے اور اپنے بعد اپنی یادگار اولاد کی شکل میں چھوڑگئے(۴)    اسی طرح ابن عباس کی مشہور روایت آنحضرت (ص) سے جس میں رسول صلعم    نے  اصحاب کھف کے پلٹ کرآنے کے بارے میں خبر دی ہے(۵)  

--------------

(۱):- بقرہ:

(۲):- درر المنثور ج۲ ص ۷۹۲  / کشاف 'ج ۱ ص ۲۸۶ 

(۳):- آلعمران :

(۴):- ترسم  الجلالں  'ج /۱ ص/۷۳

(۵):- الطرائف ج۱/ص۸۳)(العمدہ /ص۳۷۳

۹۷

اجمالی فہرست

مقدمہ

مہدویت اور امام مہدی

سوال نمبر ۱: مہدویت کیا ہے اور کہاں سے شروع ہوئی ہے ؟

سوال  نمبر ۲:   عقیدہ مھدویت  اور امام مہدی کے درمیان کیا رابطہ ہے ؟

سوال نمبر ۳: کیا اہل سنت علماء امام مہدی کے متعلق احادیث کے صحیح اورمتواتر ہونے کا قائل ہیں ؟

سوال  نمبر ۴: کیا مہدویت  پر اسلام کے علاوہ دوسرے دینی اور مادی ادیان اور مکاتب فکر بھی عقیدہ رکھتے ہیں کیا دلیل ہے ؟

سوال نمبر ۵: کیا اہل سنت علماء میں سے کوئی امام مہدی کے امام حسن العسکری ؑ کے بیٹا ہونے اور انکی ولادت کے قائل ہیں ؟

سوال نمبر  ۶ :کیا قرآن کریم میں مھدویت اور امام مھدی ؑ کے متعلق کوئی صریح  گفتگو ہوئی ؟

سوال نمبر ۷ : امام مہدی ؑ کا پیغمبر اکرم(ص) کے وصی اور خلیفہ ہونے پر کیا دلیل ہے ؟

۹۸

عصر غیبت

 سوال نمبر۸: غیبت امام عصر کی حقیقت کیا ہے اور یہ کہاں سے شروع ہوئی ؟

سوال نمبر ۹ : فلسفہ غیبت کیا ہے ؟

سوال نمبر۱۰: اگر حضرت مھدی امام عصر اور حجت خدا ہیں تو امام اور ہادی کو چاہیے لوگوں کے درمیاں رہیں تاکہ لوگ انکی امامت کی سایے میں ہدایت حاصل کرسکے لیکن جو امام مخفیانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو تو ایسیے امام اور ہادی کے ہونے سے نہ ہونا بہتر نہیں ہے ؟    

سوال نمبر۱۱:  بعض روایات میں امام زمانہ عجل ﷲ فرجہ کو عصر غیبت میں خورشید پنہان سے تشبیہ دی ہے اس تشبیہ کے کیا راز ہو سکتی ہے ؟

سوال نمبر ۱۲ : یہ کسے ممکن ہے کہ ایک انسان  ہزار سال سے زیادہ زندہ رہے ؟

سوال نمبر ۱۳ : غیبت کبری  کی دور میں جب حجت خدا غیب کی پردے میں ہیں تو ہماری کیا کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

سوال نمبر ۱۴: کیا عصر غیبت میں حضرت مھدی  سے ملاقات ممکن ہے اگر ممکن ہے تو کیسے ؟

سوال نمبر ۱۵: انتظار کیا ہے ؟  اور اسکا صحیح  معنی بیان کیجہے ؟

۹۹

عصر ظہور

سوال نمبر ۱۶: کیا امام زمانہ  حضرت مہدی منجی عالم بشریت کے ظہور پر شیعہ سنی سب متفقہ عقیدہ رکھتے ہیں ؟

سوال نمبر ۱۷:  حضرت امام مھدی  کے ظہور کی نشانیاں اور شرائط کیا ہیں ؟

امام مھدی  کی حکومت

سوال نمبر ۱۸ :   امام مھدی  کی حکومت کیسی ؟کہاں اور کن کن خصوصیت کے حامل ہو گی ؟

رجعت

سوال ۱۹ :   کیا امام مھدی کے قیام کرنے کے بعد مردہ لوگوں کے ایک گروہ رجعت کریں گے ؟

۱۰۰

101

102

103

104

105

106

107

108

109