دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع)

دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع)3%

دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع) مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 639

دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 639 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 270675 / ڈاؤنلوڈ: 6349
سائز سائز سائز
دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع)

دین حق مذہبِ اہلِ بیت(ع)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

ہوئے لکھتے ہیں جکہ انھوں نے حضرت عثمان اور حضرت علی(ع) سے روایتیں کیں۔ حضرت علی(ع) کی معیت میں جنگِ صفین میں شریک ہوئے۔ بڑے فصیح و بلیغ خطیب تھے معاویہ کے ساتھ ان کے بڑے معرکے ہوئے ہیں۔ شعبی ان کے متعلق کہا کرتے کہ میں نے ان سے خطب کی تعلیم حاصل کی۔

علائی نے حالات زیاد میں ذکر کیا ہے کہ مغیرہ نے بحکم معاویہ انھیں کوفہ سے جلا وطن کر کے جزیرہ یا بحرین کی طرف بھیج دیا۔ بعض کہتے ہیں جزیرہ ابن کافان میں بھیجے گئے اور وہیں انتقال کیا۔ جس طرح جناب ابوذر نے زبذہ میں جلا وطن ہو کر انتقال کیاہ۔

علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں انھیں ثقہ ، معروف ، مشہور و معروف موثق لکھا ہے نیز ان کے ثقہ ہونے کے متعلق علامہ ابن سعد اور نسائی کے اقوال ذکر کیے ہیں۔ ان کی حدیثیں سنن نسائی میں موجود ہیں۔

ظ :

 ظالم بن عمرو بن سفیان ابو الاسود  دؤلی

ان کا شیعہ و مخلص اہلِ بیت(ع) ہونا دنیا جانتی ہے ملاحظہ ہو اصابہ جلد ۲ صفحہ ۲۴۲۔ جملہ اربابِ صحاح ستہ نے ان کی حدیثیں سر آنکھوں پر لی ہیں۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم سبھی میں موجود  ہیں۔ پچانوے(۹۵) برس کی عمر میں سنہ۹۹ھ میں شہر بصرہ میں انتقال کیا۔ یہ وہی ابوالاسود دؤلی ہیں جنھوں نے امیرالمومنین(ع) سے تعلیم حاصل کر کے علم نحو کی بنیاد رکھی اور دنیائے عربیت میں موجدِ علم نحو کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔

۱۲۱

ع :

 ابو الطفیل عامر بن وائلہ بن عبداﷲ بن عمرو اللیثی

غزوہ احد کے سال پیدا ہوئے۔ علامہ ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں اول درجہ کے غالی شیعوں میں شمار کیا ہے نیز ذکر کیا ہے کہ مختار کے علمدار لشکر اور مختار کے آخری وقت تک رفیق تھے۔

علامہ ابن عبدالبر ، استیعاب میں ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ کوفہ میں وارد ہوئے اور حضرت علی(ع) کے ساتھ ہر معرکہ میں شریک رہے۔ جب حضرت علی(ع) شہید ہوگئے تو یہ مکہ چلے گئے۔ بڑے عالم و فاضل زیرک و دانا فصیح و بلیغ حاضر جواب تھے۔ حضرت علی(ع) کے پیرو خاص تھے۔ بعد موت امیرالمومنین(ع) یہ ابو طفیل ایک مرتبہ معاویہ کے پاس پہنچے، معاویہ نے پوچھا تم اپنے دوست ابوالحسن (علی(ع)) کی وفات پر کتنے رنجیدہ ہو؟ انھوں نے کہا ( اتنا ہی جتنا مادر موسی(ع) ، موسی(ع) کے انتقال پر رنجیدہ تھیں خداوندا میری اس کوتاہی کو معاف کرنا ( یعنی امیرالمومنین(ع) سزاوار تھے کہ ان کا غم اس سے بھی زیادہ کیا جائے)

معاویہ نے ان سے پوچھا۔ عثمان کا محاصرہ کرنے والوں میں تم بھی تھے؟ انھوں نے کہا۔ محاصرہ کرنے والوں میں نہیں تھا البتہ میں ان کے قریب ضرور موجود تھا۔ معاویہ نے پوچھا ۔ تم نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ ابوطفیل نے پوچھا اور تم؟ تم نے کیوں مدد سے جان چرائی؟ تم تو شام میں تھے اور شام والے سب کے سب تمھارے تابع تھے۔

۱۲۲

معاویہ نے کہا : میرا خونِ عثمان کا انتقام لینا کیا ان کی مدد نہ تھی؟ ابو طفیل نے کہا: تمھاری مثال تو ایسی ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :

             “ میری موت کے بعد مجھ پر ٹسوے بہاتے ہو اور میری زندگی میں تم نے ذرہ برابر میری مدد نہ کی۔”

صحیح مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

عباد بن یعقوب الاسدی

دار قطنی نے شیعہ اور صدوق لکھا ہے۔ ابن حبان نے کہا ہے کہ یہ رفض کے مبلغ تھے۔ ابن خزیمہ ان کے متعلق کہا کرتے کہ ہم سے حدیث بیان کی عباد بن یعقوب نے جو روایت میں ثقہ اور مذہب میں متہم ( یعنی شیعہ ) تھے۔

انھیں عباد نے روایت کی ہے کہ ابن مسعود مشہور صحابی پیغمبر(ص) آیت “و کفی اﷲ المومنين القتال ” کو یوں پڑھا کرتے تھے “و کفی اﷲ المومنين القتال بعلی ” نیز یہ حدیث بھی کہ ”اذا رائيتم معاوي ه علی منبری فاقتلو ه ” “جب معاویہ کو میرے منبر پر دیکھنا تو قتل کر ڈالنا۔”

یہ عباد کہا کرتے تھے کہ جو شخص نماز میں دشمنان آل محمد(ص) پر تبرا نہ بھیجا کرے گا وہ انھیں کے ساتھ محشور ہوگا۔ یہ بھی انھیں کا قول ہے کہ خداوند عالم اس سے کہیں زیادہ اںصاف کرنے والا ہے کہ وہ طلحہ و زبیر  کو جنت میں داخل کرے جنھوں نے علی(ع) کی بیعت کرنے  کے بعد پھر ان سے جنگ کی۔

۱۲۳

صالح جزرة کا بیان ہے کہ عباد ، عثمان کو سب و شتم کیا کرتے تھے ان سب باتوں کے باوجود بخاری، ترمذی ، ابن ماجہ وغیرہ میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۲۵۰ھ میں انتقال کیا۔

ابو عبدالرحمن بن داؤد ہمدانی کوفی

علامہ ابن قتیبہ نے انھیں مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے ۔ صحیح بخاری میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

 عبداﷲ بن شداد

ابن سعد اپنی طبقات جلد۶ صفحہ ۸۶ پر ان کے متعلق لکھتے ہیں ۔ بڑے ثقہ، فقیہہ، کثیر الحدیث اور شیعہ تھے۔ ان کی حدیثیں کل صحاح ستہ میں موجود ہیں۔

عبداﷲ بن عمر مشہور بہ مشکدانہ

امام مسلم و ابوداؤد بغوی وغیرہ کے استاد ہیں۔ ابن حاتم نے انھیں صدوق اور شیعہ لکھا ہے۔ صالح بن محمد بن جزرہ نے ان کے متعلق کہا کہ بڑے غالی شیعہ تھے۔ ان کی حدیثیں صحیح مسلم، سنن ابی داؤد میں موجود ہیں۔

عبداﷲ بن لہیعہ قاضی و عالمِ مصر

ابن قتیبہ نے انھیں شیعہ لکھا ہے۔ ابن عدی نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ تشیع میں حد سے بڑھے ہوئے تھے۔ ابو یعلی نے عبداﷲ بن لہیعہ سے روایت

۱۲۴

کی ہے اور انھوں نے  بسلسلہ اسناد عبداﷲ بن عمر سے کہ رسالت ماب(ص) نے مرض موت میں فرمایا : میرے بھائی کو بلا دو۔ لوگوں نے ابوبکر کو بلادیا۔ آںحضرت(ص) نے منہ پھیر لیا۔ پھر فرمایا کہ میرے بھائی کو بلاؤ۔ لوگوں نے اب کی عثمان کو بلا دیا اس مرتبہ بھی آپ(ص) نے منہ پھیر لیا۔ پھر علی(ع) بلائے گئے۔ آپ نے انھیں اپنی چادر میں لے لیا اور ان پر جھک گئے۔ جب علی(ع) چادر سے باہر آئے تو لوگوں نے پوچھا ۔ رسول(ص) سے کیا باتیں کیں۔ علی(ع) نے بتایا کہ آںحضرت(ص) نے مجھے ایک ہزار باب علم کے تعلیم کیے کہ ہر باب سے ایک ہزار باب منکشف ہوتےہیں۔

ان کی حدیثیں جامع ترمذی ، سنن ابی داؤد وغیرہ میں موجود ہیں۔ سنہ ۱۷۴ھ میں انتقال کیا۔

عبداﷲ بن میمون قداح صحابی امام جعفر صادق(ع)

ترمذی نے ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیاہے ۔ جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

ابو محمد عبدالرحمن بن صالح ازدی

ابن عدی نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ “ احترق بالتشیع” شیعیت میں بھن گئے تھے۔ صالح جزرہ نے کہا کہ یہ عثمان کو برا کہتے تھے۔ امام ابو داؤد نے ذکر کیا ہے کہ عبدالرحمن نے صحابہ کی مذمت میں ایک کتاب لکھی تھی۔ بڑے برے آدمی تھے۔ ان سب کے باوجود عباس دوری امام بغوی و نسائی نے ان سے حدیثیں روایت کیں ، سنن نسائی میں ان کی

۱۲۵

حدیثیں موجود ہیں۔ علامہ ذہبی نے ابن معین کےمتعلق لکھا ہے کہ وہ انھیں ثقہ کہا کرتے تھے۔

عبدالرزاق بن ہمام بن نافع حمیری

یہ اکابر و عمائد شیعہ اور سلف صالحین سے تھے ۔ ابنی قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے مورخ ابن اثیر نے تاریخ کامل جلد۶ صفحہ۱۳۰ میں سنہ۲۱۱ھ کے حوادث کے سلسلہ میں ان کی وفات کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

             “ اسی سنہ۲۱۱ھ کے آخر میں عبدالرزاق بن ہمام نے وفات پائی یہ امام احمد کے ساتذہ میں سے تھے اور شیعہ تھے۔”

ملا متقی صاحب کنزالعمال نے حدیث ۵۹۹۴ کے سلسلہ میں ان کا ذکر کیا اور ان کی شیعیت کی صراحت کی ہے۔ ( کنزالعمال جلد۶ صفحہ۳۹۱)

علامہ ذہبی میزان میں ان کے متعلق لکھتے ہیں:

             “ عبدالرزاق بن نافع یکے از علمائے اعلام و ثقات تھے بہت سی کتابیں لکھیں۔  جامع کبیر تصنیف کی۔ یہ خزانہ علوم تھے۔ علم کی تحصیل کے لیے لوگ دور دراز سے سفر کر کے ان کے پاس آتے مثلا امام احمد و اسحاق ، یحی ، ذھلی ، رمادی وغیرہ جملہ حفاظِ حدیث و ائمہ علم نے ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیا ہے۔ طیالسی سے منقول ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ابن معین بیان کرتے تھے کہ میں نے عبدالرزاق کی زبان سے ایسی باتیں سنن جن سے مجھے ان کے شیعہ ہونے کا

۱۲۶

 یقین ہوگیا۔ میں نے عبدالرزاق سے پوچھا کہ تمھارے اساتذہ جن سے تم نے پڑھا ہے وہ تو سب کے سب سنی تھے معمر، مالک، ابن جریح، سفیان، اوزاعی وغیرہ، پھر تم شیعہ کیسے ہوگئے؟ انھوں نے جواب دیا کہ جعفر بن سلیمان ہمارے یہاں آئے تھے ہم نے انھیں عالم و فاضل اور بڑا نیک سیرت پایا ، انھیں سے متاثر ہوکر میں نے یہ مذہب اختیار کیا۔”

عبدالرزاق کی اس گفتگو سے نکلتا ہے کہ وہ جعفر ضبعی کی وجہ سے شیعہ ہوئے مگر لطف یہ ہے کہ محمد بن ابی بکر مقدمی کا خیال یہ ہے کہ خود جعفر ضبعی عبدالرزاق کی وجہ سے شیعہ ہوئے۔ محمد بن ابی بکر ، عبدالرزاق پر بد دعا کرتے تھے کہ جعفر ضبعی ایسے لوگوں کو اس نے شیعہ کردیا۔

ابن معین جن کا قول ہم نے اوپر ذکر کیا  باوجودیکہ عبدالرزاق کی شیعیت سے بخوبی آگاہ تھے لیکن انھوں نے بہت زیادہ ان کی حدیثوں سے استفادہ کیا۔

احمد بن خیثمہ بیان کرتے تھے کہ ابن معین سے کسی نے کہا کہ امام احمد تو کہتے ہیں کہ عبیداﷲ بن موسی عبدالرزاق کی حدیثوں کو ان کی شیعیت کی وجہ سے مردود سمجھتے تھے تو ابن معین نے کہا ، خدا کی قسم عبدالرزاق ، عبیداﷲ بن موسی سے سور درجہ اونچے ہیں اور میں نے عبیدااﷲ بن موسی کی حدیثوں سے کئی گنا زیادہ حدیثیں عبدالرزاق سے سنی ہیں۔ ( میزان الاعتدال)

ابو صالح محمد بن اسماعیل ضراری کا بیان ہے کہ ہم لوگ شہر صنعا میں عبدالرزاق کے پاس تحصیل علم حدیث میں منہمک تھے ہمیں خبر ملی کہ امام احمد اور ابن معین نے عبدالرزاق کی حدیثوں کو شیعہ ہونے کی وجہ سے متروک قرار دے دیا ہے ہمیں اس خبر سے بڑا صدمہ ہوا کہ ساری محنت اکارت گئی

۱۲۷

 پھر ہم حاجیوں کے ہمراہ مکہ آئے وہاں ابن معین سے ملاقات ہوئی ہم نے ان سے دریافت کیا۔ انھوں نے کہا اگر عبدالرزاق مرتد بھی ہوجائیں تو ( وہ اتنے ثقہ ہیں کہ ) ہم ان کی حدیثوں کو متروک نہیں قرار دے سکتے۔( میزان الاعتدال تذکرہ عبدالرزاق)

ابن عدی ، عبدالرزاق کے متعلق لکھتے ہیں کہ انھوں نے فضائل ( اہلبیت(ع)) میں ایسی حدیثیں بیان کی ہیں جس کی تائید کسی دوسرے(۱) نے نہیں کی۔ اور

--------------

۱ ـ  ابن عدی کا یہ کہنا سوا ان کے تعصب کے اور کیا سمجھا جائے عبدالرزاق نے فضائل اہلبیت(ع) کی جو حدیثیں روایت کی ہیں انصاف پسند علماء اہل سنت نے اس کی تائید بھی کی ہے اور اسے صحیح حدیثوں میں شمار کیا ہے ۔ ہاں خارجی و ناصبی دشمنان اہلبیت(ع) نے البتہ مخالفت کی ہے ۔ منجملہ ان حدیثوں کے ایک وہ حدہث ہے جو احمد بن ازہر جو باتفاق حجت ہیں نے روایت کی ہے کہ مجھ سے عبدالرزاق نے بیان کیا ان سے معمر نے ان سے زہری نے ان سے عبیداﷲ نے ان سے ابن عباس نے کہ پیغمبر(ص) نے حضرت علی(ع) کی طرف نگاہ اٹھا کر کہا تم دنیا میں بھی سردار ہو اور آخرت میں بھی جس نے تمھیں دوست رکھا اس نے مجھے دوست رکھا اور جس نے تم سے دشمنی کی اس نے مجھ دشمنی کی۔ تمھیں دوست رکھنے والا خدا کو دوست رکھنے والا اور تمھیں دشمن رکھنے والا دشمن  رکھنے والا اور عذاب جہنم ہے تمہارے دشمن کے لیے۔ امام حاکم مستدرک جلد۳ صفحہ ۱۲۸ پر اس کی درج کر کے لکھتے ہیں کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کے معیار پر بھی صحیح ہے مگر ان دونوں نے اپنی صحیحین میں درج نہیں کیا دوسری حدیث ہے جو عبدالرزاق نے بسلسلہ اسناد ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جناب سیدہ نے رسالت ماب(ص) سے عرض کی بابا جان آپ(ص) نے مجھے غریب و نادار شخص سے بیاہا آںحضرت(ص) نے فرمایا کیا تم اس سے خوش نہیں ہو کہ خداوند کریم نے باشندگان زمین کی طرف نظر کی ان میں سے صرف دو شخصوں  کو منتخب کیا ایک کو تمھارا باپ بنایا دوسرے کو تمھارا شوہر۔ اس حدیث کو امام حاکم نے بسلسلہ اسناد ابوہریرہ سے بھی روایت کیا ہے۔ ( ملاحظہ ہو مستدرک جلد۳ صفحہ۱۲۹۔

۱۲۸

 اہل بیت(ع) کے دشمنوں کے معائب(۱) میں منکر حدیثیں بیان کی ہیں۔ لوگوں نے انھیں شیعہ لکھا ہے۔

مختصر یہ کہ باوجود عبدالرزاق کے کھلم کھلا شیعہ ہونے کے علماء اہل سنت نے انتہائی جلیل القدر عالم محدث اور بے حد ثقہ و معتبر سمجھا ہے، امام احمد سے کسی نے پوچھا عبدالرزاق سے بڑھ کر بھی آپ کو بہتر حدیث والا ملا؟ انھوں نے جواب دیا۔ نہیں ان سے بہتر کوئی نہیں۔

علامہ قیسرانی اپنی کتاب جمع بین رجال الصحین میں بسلسلہ حالات عبدالرزاق امام احمد کا قول نقل کرتے ہیں کہ جب لوگ پیغمبر(ص) کی کسی حدیث میں اختلاف کریں تو عبدالرزاق جو کہیں وہ صحیح ہے۔ ان کی جلالت قدر کا اسی سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ علامہ ابن خلسکان عبدالرزاق کے پاس ( ملاحظہ ہو وفیات الاعیان ) ان سے اپنے زمانہ کے ائمہ اسلام نے حدیثیں روایت کیں جیسے سفیان بن عینیہ ، احمد بن حنبل، یحی بن معین وغیرہ ان کی حدیثیں جملہ صحاح ستہ میں موجود ہیں سنہ۱۲۶ے میں پیدا ہوئے اور سنہ۲۱۱ھ میں انتقال کیا۔ امام جعفر صادق(ع) سے امام محمد تقی (ع) تک کا زمانہ پایا۔

--------------

۱ ـ دشمناں اہل بیت(ع) کے متعلق عبدالرزاق کی بیاں کردہ حدیثیں معاویہ اور ان کے پیروؤں ہی نزدیک منکر ہوسکتی ہیں مثلا یہ حدیث جو عبدالرزاق نے بسلسلہ اسناد مرفوعا روایت کی کہ“اذا رائيتم معاويه علی منبری فاقتلوه” جب معاویہ کو میرے منبر پر دیکھنا قتل کردینا۔

۱۲۹

عبدالملک بن اعین

یہ زرارہ ، جمران و بکیر و عبدالرحمن و غیرہ کے بھائی ہیں۔ یہ سب کے سب بزرگان شیعہ سے ہیں اور انھوں نے خدمت شریعت کر کے بڑے درجے حاصل کیے۔ ان بھائیوں نے اولاد بھی بڑی  صالح و مبارک پائی۔ باپ کی طرح بیٹوں نے بھی مذہب حقہ کی ترویج و اشاعت میں بڑا حصہ لیا عبدالملک کے متعلق علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں۔ ابو وائل وغیرہ کا بیان ہے کہ ابو حاتم نے انھیں صالح الحدیث کہا ہے دوسروں نے صدوق او رافضی کہا۔

ابن قیسرانی، کتاب جمع بین الرجال الصحیحین میں ان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عبدالملک بن اعین حمران کوفی کے بھائی ہیں اور شیعہ تھے۔

بخاری و مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

عصر امام جعفر صادق(ع) میں انتقال کیا۔ امام نے ان  کے لیے دعا کی اور یہ بھی روایت میں ملتا ہے کہ امام نے اپنے اصحاب کے ساتھ ان کی قبر کی زیارت کی۔

عبداﷲ بن عیسی کوفی

امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں۔ ابن قتیبہ نے اپنی کتاب معارف صفحہ۱۷۷ میں اصحاب حدیث میں ان کا ذکر اور ان کی شیعیت کی تصریح کی ہے پھر مشاہیر شیعہ کے ضمن میں بھی ان کا ذکر کیا ہے۔ ( ملاحظہ ہو معارف صفحہ۲۷۹)

علامہ ابن سعد نے طبقات جلد۶ صفحہ۱۳۹ پر ان کے حالات لکھے ہیں

۱۳۰

 اور ان کے شیعہ ہونے کی صراحت کی ہے۔ ابن اثیر نے تاریخ کامل میں بسلسلہ واقعات سنہ۲۱۳ھ ان کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عبیداﷲ بن موسی عبسی فقیہ۔ یہ شیعہ تھے اور امام بخاری کے شیخ ہیں۔ ان کی صحیح میں علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھا ہے۔ عبیداﷲ بن موسی بخاری کے شیخ ہیں اور فی نفسہ ثقہ ہیں لیکن یہ شیعہ اور مذہب اہلسنت سے منحرف تھے۔ ابوحاتم و ابن معین نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ احمد بن عبداﷲ عجلی ان کے متعلق کہتے ہیں کہ عبیداﷲ بن موسی بڑے عالم قرآن و صاحب معرفت تھے میں نے انھیں کبھی سر بلند کیے ہوئے یا ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔

انھیں علامہ ذہبی نے مطر بن میمون کے حالات کے ضمن میں بھی عبیداﷲ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ثقہ اور شیعہ تھے۔ ابن معین عبیداﷲ بن موسی اور عبدالرزاق سے حدیث کا استفادہ کرتے، یہ جانتے ہوئے کہ یہ دونوں شیعہ مسلک کے ہیں ان کی حدیثیں بخاری و مسلم اور سبھی صحاح میں موجود ہیں۔

ابوالیقطان عثمان بن عمیر ثقفی کوفی بجلی

سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

عدی بن ثابت کوفی

ابن معین نے انھیں غالی شیعہ لکھا ہے۔ دار قطنی ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ غالی رافضی ہیں اور ثقہ ہیں۔

علامہ ذہبی ان کے حالات میں لکھتے ہیں کہ یہ شیعوں کے عالم صادق ان کے قاضی اور ان کی مسجد کے امام ہیں۔ اگر انھیں جیسے دوسرے شیعہ بھی ہوا کریں

۱۳۱

 تو شیعوں کی برائیاں بہت کم ہوجائیں۔ دار قطنی، احمد بن حنبل ، احمد عجلی ، احمد نسائی، سبھی انھیں ثقہ جانتے تھے۔ ان کی حمد حدیثیں صحیح مسلم و بخاری میں موجود ہیں۔

عطیہ بن سعد بن جنادہ عوفی

بڑی مشہور شخصیت کے بزرگ ہیں۔ علامہ ذہبی سالم مرادی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عطیہ شیعہ تھے۔

ابن قتیبہ نےعطیہ سعد کے پوتے حسین بن حسن ابن عطیہ کے حالات کے ضمن میں لکھا ہے کہ یہ عطیہ حجاج کے زمانہ میں فقیہ  تھے اور شیعہ تھے۔ پھر بسلسلہ تذکرہ مشاہیر شیعہ بھی ان کا تذکرہ کیا ہے۔

علامہ ابن سعد نے ان کے جو حالات لکھے ہیں اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شیعیت میں کتنے راسخ و ثابت قدم بزرگ تھے۔ ان کے باپ سعد بن جنادہ امیرالمومنین (ع) کے اصحاب میں سے تھے۔ امیرالمومنین(ع) کوفہ میں تھے۔ سعد حضرت کی خدمت میں آئے۔ عرض کیا : امیرالمومنین(ع) ! میرے یہاں فرزند پیدا ہوا ہے اس کا نام رکھ دیجیے۔

آپ نے فرمایا: یہ عطیہ خداوندی ہے۔ چنانچہ عطیہ نام رکھ دیا گیا۔ ابن سعد یہ بھی لکھتے ہیں کہ :

             “ عطیہ نے ابن اشعث کی ہمراہی میں حجاج پر خروج کیا جب ابن اشعث کو شکست ہوئی تو عطیہ فارس بھاگ گئے۔ حجاج نے فارس کے حاکم محمد بن قاسم ثقفی کو لکھا کہ عطیہ کو بلا کر کہو کہ علی(ع) پر تبرا کریں ورنہ تم انھیں چار سو کوڑے مارو۔ سر اور ڈاڑھی مونڈ ڈالو۔ محمد بن قاسم نے بلاکر حجاج کا یہ خط سنایا

۱۳۲

انھوں  نے انکار کیا تو اس نے انھیں چار سو کوڑے مارے اور سر اور ڈاڑھی مونڈ ڈالی۔ جب قتیبہ والی خراسان ہوا تو عطیہ اس کے پاس پہنچے اور برابر خراسان ہی میں رہے۔ پھر جب عمر بن ہیبرہ عراق کا گورنر ہوا تو انھوں نے عمر کو خط لکھا اور عراق آنے کی اجازت مانگی۔ اس کی اجازت پر یہ کوفہ آئے اور برابر کوفہ میں رہے۔ یہاں تک کہ سنہ۱۱۱ھ میں وہیں انتقال کیا۔ یہ بڑے ثقہ بزرگ ہیں اور ان کی حدیثیں بڑی پاکیزہ ہیں۔ ( طبقات ابن سعد جلد ۶ صفحہ۲۱۲ )”

عطیہ نے بڑی پاکیزہ نسل پائی۔ ان کی اولاد سب کے سب شیعہ تھے اور بڑے عالم و فاضل صاحب عزو شرف اور ممتاز شخصیتوں کے مالک جیسے حسین بن حسن بن عطیہ و محمد بن سعد بن محمد بن حسن بن عطیہ وغیرہ۔ عطیہ کی حدیثیں سنن ابی داؤد و ترمذی میں موجود ہیں۔

علاء بن صالح تیمی کوفی

میزان الاعتدال میں بسلسلہ حالات علماء ابو حاتم کو یہ قول مذکور ہے کہ یہ خالص شیعوں میں سے تھے۔ امام ابوداؤد و ترمذی نے ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدالال کیا ہے۔ ابن معین نے ثقہ کہا ہے ابو حاتم و ابو زرعہ نے ان میں کوئی خرابی نہیں سمجھی۔

ان کی حدیثیں سنن ابی دادؤد و جامع ترمذی میں موجود ہیں۔ یہ شاعر بھی تھے۔ امیرالمومنین(ع) کی مدح میں بڑے معرکہ کے قصیدے اور حضرت سید الشہداء کے مرثیے لکھے ہیں۔

۱۳۳

علقمہ بن قیس بن عبداﷲ نخعی

یہ مخصوص محبان اہل بیت(ع) سے تھے۔ علامہ شہرستانی نے ملل و نحل میں انھیں مشاہیر شیعہ کے زمرہ میں لکھا ہے۔ یہ علقمہ کبار محدثین میں سے تھے۔ یہ اور ان کے بھائی ابی امیرالمومنین(ع) کے صحابی ہیں۔ جنگ صفین میں حضرت کے ہمرکاب تھے۔ ابی جنھیں کثرت عبادت کی وجہ سے “ ابی الصلاة” نماز والے ابی کہا جاتا تھا۔ جنگ صفین میں شہید ہوئے۔  علمقمہ نے بھی بڑے کار ہائے نمایاں انجام دیے۔ دشمنوں کو خوب تہ تیغ کیا۔ ان کی ٹانگ زخمی ہوگئی۔ یہ مدت العمر معاویہ کے سرگرم مخالف رہے۔

علقمہ کی عدالت و جلالت قدر حضرات اہل سنت کے نزدیک باوجود ان کی شیعیت کے مسلم الثبوت حیثیت رکھتی ہے۔ ارباب صحاح ستہ نے ان کی حدیثوں سے احتجاج کیا ہے۔ صحیح بخاری جو صحیح مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۶۲ھ میں کوفہ میں انتقال کیا۔

علی بن بدیمہ

علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھا ہے۔ احمد بن حنبل انھیں صالح الحدیث اور جلیل القدر شیعہ بیان کرتے تھے۔ ابنِ معین نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ اصحاب سنن نے ان سے روایت کی ہے۔

ابو الحسن علی بن جوہری بغدادی

امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں۔ ابی قتیبہ نےمعارف میں انھیں

۱۳۴

مشاہیر شیعہ میں لکھا ہے۔ میزان الاعتدال میں ان کے حالات میں ہے کہ ساٹھ برس تک ان کا وطیرہ یہ رہا ہے کہ ایک دن روزہ سے رہتے دوسرے دن بحالتِ افطار۔ قیسرانی نے کتاب جمع بین رجال الصحیحین میں ان کا ذکر کیا ہے بخاری نے اپنی صحیح میں ان سے بارہ حدیثیں روایت کی ہیں۔ ۹۶ برس کی عمر میں سنہ۲۳۰ھ میں انتقال کیا۔

علی بن زید بن عبداﷲ تیمی بصری

احمد عجلی نے انھیں شیعہ اور رافضی لکھا ہے مگر باوجود ان کے شیعہ رافضی ہونے کے علماء تابعین نے ان سے استفادہ کیا۔ یہ بصرہ کے فقہا میں سے تھے اور ایسے جلیل القدر و علم و فضل میں ممتاز کہ جب حسن بصری کا انتقال ہوا تو بصرہ والوں نے ان سے کہا کہ آپ حسن بصری کی جگہ پر تشریف فرما ہوں۔ اس زمانہ میں بصرہ کے اندر کوئی کوئی شیعہ ہوا کرتا۔

قیسرانی نے اپنی کتاب جمع بین رجال الصحیحین میں ان کا ذکر کیا ہے۔ سنہ ۱۳۱ھ میں انتقال کیا۔

علی بن صالح

حسن بن صالح  کے بھائی ہیں۔ حسن کے حالات میں ہم قدرے ان کا ذکر کر چکے ہیں۔ صحیح مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔ سنہ۵۱ھ میں انتقال کیا۔

ابویحیٰ علی بن غراب فزاری کوفی

ابن حبان نے انھیں شیعہ لکھا ہے۔ ابن معین و دار قطنی نے انھیں ثقہ

۱۳۵

 قرار دیا ہے ۔ ابوحاتم نے ان کی حدیثوں میں کوئی مضائقہ نہٰیں سمجھا ۔ ابو زرعہ نے کہا ہے کہ میرے نزدیک صدوق ہیں۔

امام احمد کا ارشاد ہے کہ میں تو انھیں صدیق ہی سمجھتا ہوں۔ اصحاب سنن نے ان کی حدیثیں درج کی ہیں۔ ہارون رشید کے زمانہ میں سنہ۱۸۴ھ میں انتقال کیا۔

ابوالحسن علی بن قادم خزاعی کوفی

یہ بہت سے محدثین کے شیخ ہیں۔ ابن سعد نے طبقات جلد۶ صفحہ۲۷۳ پر ان کا تذکرہ کیا اور لکھا ہے کہ بڑے شیعہ تھے۔ سنن ابی داؤد و جامع ترمذی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

علی بن منذر طرائفی   

ترمذی و نسائی اور دیگر محدثین کے شیخ ہیں۔ علامہ ذہبی نے عالم نسائی کا قول نقل کیا ہے کہ علی ابن منذر خالص شیعہ اور ثقہ ہیں۔ ابن حاتم نے انھیں صدوق و ثقہ لکھا ہے۔ امام نسائی گواہی دیتے ہیں کہ علی بن منذر خالص شیعہ تھے۔ پھر ان کی حدیثوں کی روایت قابل اعتنا نہیں اور شیعہ راویوں سے محدثین اہل سنت نے روایت لی ہے کس حد تک لائق ماتم ذہنیت ہے۔ سنہ ۲۵۶ھ میں انتقال کیا۔

ابوالحسن علی بن ہاشم بن برید کوفی

امام احمد کے اساتذہ میں ہے ہیں۔ امام ابوداؤد نے انھیں ٹھوس

۱۳۶

 شیعہ لکھا ہے۔ ابن حبان کا قول ہے کہ علی بن ہاشم غالی شیعہ تھے ۔ جعفر ابن ابان کہتے ہیں کہ میں نے ابن نمیر کو کہتے سنا۔ علی بن ہاشم شیعیت میں حد سے بڑھے ہوئے تھے۔

بخاری فرماتے ہیں کہ علی بن ہاشم اور ان کے باپ دونوں اپنے مذہب میں بڑے غالی تھے۔ اسی وجہ سے بخاری نے ان کی حدیثیں صحیح میں درج نہیں کیں لیکن باقی پانچ ارباب صحاح نے ان کی حدیثیں اپنی صحاح میں درج کی ہیں اور ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر احتجاج کیا ہے۔

ابن معین وغیرہ نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ ابو داؤد نے اثبات میں شمار کیا۔ ابورزعہ نے صدوق کہا۔ امام نسائی نے ان میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا۔ سنہ۱۸۱ھ میں انتقال کیا۔

عمار بن زریق کوفی

سلیمان نے انھیں رافضی شمار کیا ہے اور باوجود ان کے رافضی ہونے کے صحٰیح مسلم و سنن ابی داؤد  وسنن نسائی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

عمار بن معاویہ

ان کی کنیت ابو معاویہ تھی۔ یہ جلیل القدر شیعہ تھے۔ محبت اہلبیت(ع) کے جرم میں انھیں بڑی اذیتیں دی گئیں۔ بشیر بن مروان نے شیعیت کے جرم میں ان کے دونوں پیر کاٹ ڈالے۔ بہت سے محدثین کے استاد ہیں جنھوں نے ان سے حدیث کا استفادہ کیا اور ان کی حدیثوں سے اپنے مسلک پر استدلال کیا۔ امام احمد ، ابن معین، ابو حاتم، اور بہت سے لوگوں نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے

۱۳۷

 بخاری کو چھوڑ کر باقی سبھی ارباب صحاح نے ان کی حدیثیں اپنے صحاح میں درج کی ہیں۔ علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ان کے متعلق تمام مذکورہ باتیں نقل کی ہیں اور ان کے شیعہ اور ثقہ ہونے کی صراحت کی ہے نیز یہ کہ ان کے متعلق کسی نے بھی لب کشائی نہیں کی اور نہ ان کے ثقہ ہونے میں کلام کیا سوا عقیلی کے۔ سنہ۱۳۳ھ میں انتقال کیا۔

ابواسحٰق عمرو بن عبداﷲ ہمدانی کوفی

ابن قتیبہ نے معارف میں، علامہ شہرستانی نے ملل و نحل میں، ان کی شخصیت کے تصریح کی ہے۔ یہ بزرگ کوفہ کے انھیں جلیل القدر محدثین مین سے ہیں جن کے مسلک کو دشمنان اہل بیت نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ انھوں نے جمہور کی روش کو چھوڑ کر اہل بیت(ع) کی اتباع و پیروی کو بہتر سمجھا اور ہر دینی مسئلہ میں۔ اہل بیت(ع) کی طرف رجوع کرنے میں انھوں نے نجات سمجھی۔ اسی وجہ سے تو جوزجانی کا یہ فقرہ ہے:

“ کوفہ کے کچھ ایسے افراد تھے کہ باوجودیکہ لوگ ان کے عقائد و خیالات کو پسند نہیں کرتے تھے مگر فن حدیث میں  وہ مرجع انام اور محدثین کوفہ کے راس و رئیس تھے۔ جیسے ابواسحٰق ، منصور، زبید یامی، اعمش وغیرہ لوگوں نے ان افراد کی سچائی و دیانتداری کی وجہ سے ان کی بیان کردہ حدیثوں کو سر آنکھوں پر رکھا اور جو حدیثیں ان لوگوں نے مرسلا بیان کیں ان میں توقف کیا۔”

ابو اسحٰق کی مرسلا بیان کی ہوئی حدیثوں میں ناصبی ذہنیت والوں نے

۱۳۸

توقف جو کیا انھیں میں سے ایک حدیث یہ ہے:

 “  قال رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله:  مثل عليّ‏ كشجرة أنا أصلها، و عليّ فرعها، و الحسن و الحسين ثمرها، و الشيعة ورقها”

 “ علی(ع) کی مثال درخت جیسی ہے۔ میں اس درخت کی جڑ ہوں ، علی (ع) اس کی شاخ ہیں حسن(ع) و حسین(ع) اس کے پھل ہیں اور شیعہ اس درخت کے پتے ہیں۔”

 ان کی حدیثوں سے جملہ ارباب صحاح نے احتجاج کیا ہے۔ بخاری و مسلم اور دیگر کتب صحاح سبھی میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

ابو سہل عوف ابن ابی جمیلہ البصری

ابن قتیبہ نے معارف میں انھیں مشاہیر شیعہ میں شمار کیا ہے۔ علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ :کان يقال ل ه عوف الصدق ” انہیں لوگ سچائی والے عوف کہتے ہیں۔ جعفر بن سلیمان انھیں شیعہ اور بندار انھیں رافضی بیان کرتے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری و صحیح مسلم میں بھی ہیں اور دیگر کتب صحاح میں بھی۔

ف :

 فضل بن دکین

کنیت آپ کی ابونعیم تھی یہ بخاری  کے شیوخ میں سے ہیں۔ محققین

۱۳۹

 اہلسنت مثلا ابن قتیبہ وغیرہ نے انھیں شیعہ لکھا ہے۔ علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں :

“الفضل بن دکين ابونعيم حافظ حجة الا انه يتشيع”

     “ فضل بن دکین جن کی کنیت ابونعیم تھی یہ حدیث کے حافظ اور حجت ہیں، مگر یہ کہ شیعہ تھے۔”

ان کی شیعیت میں کسی کو تامل کی گنجائش نہیں۔ ان سے جملہ ارباب صحاح احتجاج کرتے ہیں۔ ان کی حدیثیں صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور دیگر صحاح سبھی میں موجود ہیں۔ سنہ۲۱۰ھ زمانہ حکومتِ معتصم میں انتقال کیا۔

علامہ ابن سعد طبقات جلد۶ صفحہ ۲۷۹ پر ان کے متعلق لکھتے ہیں:

             “و کان ثق ه مامونا کثيرالحديث ، حجة

             “ یہ بھروسہ کے لائق ہر طرح قابل اطمینان ، بہت زیادہ حدیثوں کے راوی اور حجت ہیں۔”

ابو عبدالرحمن فضیل بن مرزوق

علامہ ذہبی ان کے متعلق میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں کہ یہ مشہور و معروف شیعہ ہیں۔

سفیان بن عینیہ ، ابن معین، ابن عدی وغیرہ جملہ ائمہ حدیث نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ ہیثم بن جمیل نے ان کے متعلق کہا ہے کہ فضیل بن مرزوق ، بلحاظ زہد و فضل یکے از ائمہ ہدایت تھے۔ صحیح مسلم میں ان کی حدیثیں موجود ہیں۔

۱۴۰

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639