فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں

فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں28%

فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 17 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 14015 / ڈاؤنلوڈ: 4178
سائز سائز سائز
فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں

فضائل اہلبیت علیہم السلام زیارت جامعہ کبیرہ کی روشنی میں

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

پانچویں مجلس

رسول اکرم(ص)اورعلی کےمشترکات( ۲)

اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَأَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكاذِبين )

سورہ آل عمران، آیة ۶۱ ۔

ان سےکہہ دیجئےکہ آؤ ہم لوگ اپنےاپنےفرزند، اپنی اپنی عورتوں اوراپنےاپنےنفسوں کو بلائیں اورپھرخدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

رسول اکرم(ص) ارشاد فرماتے ہیں :

إِنَّكَ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ وَ تَرَى مَا أَرَى

بحار، ج۱۴، ص۴۷۶۔

گذشتہ بحث میں ہم نےکہا کہ جب ہم متفقہ احادیث۔جن کو اہل سنت نےبھی نقل کیاہےاورانکےمعتبرکتابوں میں بھی ہیں۔ کی طرف مراجعہ کرتےہیں تواس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ علی تمام صفات، خصوصیات اورکمالات میں خاتم النبیین حضرت محمدکےبرابر ہیں سوائےظاہری نبوت کے۔

یہاں ان دو عظیم ہستیوں کےاشتراکات کےمزید رخو ں کو بیان کرتے ہیں

قدرت بینائی اورشنوائی

حضرت علی (ع)خطبہ قاصمہ میں فرماتے ہیں:

وَ قَدْ عَلِمْتُمْ مَوْضِعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ص بِالْقَرَابَةِ الْقَرِيبَةِ وَ الْمَنْزِلَةِ الْخَصِيصَةِ

نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲

تمہیں معلوم ہےکہ رسول اکرم(ص)سےمجھے کس قدر قریبی قربت اورمخصوص منزلت حاصل ہے۔

وَضَعَنِي فِي حِجْرِهِ وَ أَنَا وَلِيدٌ؛

انہوں نےبچپنےسےمجھے اپنی گود میں رکھا۔ یعنی جلوت اور خلوت میں، خواب اور بیداری میں مجھے اپنےساتھ رکھا یہاں تک کہ فرماتے ہیں علی کا گھوارہ میرےنزدیک رکھو، جب غار حرا میں جاتے تھے مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے، میرے کپڑے دھوتے تھے اور مجھے اپنےہاتھوں سےدودہ پلاتے تھے۔

کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۹ ۔

يَضُمُّنِي إِلَى صَدْرِهِ ؛

بچپنےسےمجھے اپنےسینےسےلگائے رہتے تھے، اپنےکلیجہ سےلگا کر رکھتے تھے ۔وَ يُشِمُّنِي عَرْفَهُ ؛مجھے مسلسل اپنی خوشبو سےسرفراز فرمایا کرتے تھے ۔

وَ كَانَ يَمْضَغُ الشَّيْ‏ءَ ثُمَّ يُلْقِمُنِيه‏؛

غذا کو اپنےدانتوں سےچباکرمجھے کھلاتے تھے، پھر فرمایا: میں کبھی بھی پیغمبرسےجدا نہیں ہوا جس طرح بچہ اپنی ماں سےجدانہیں ہوتا،ہمیشہ رسول اللہ کےساتھ ہوتا تھا، مجھےحکم دیتے تھےکہ میری پیروی کرو۔

اس طرح کی احادیث اور روایات میں وارد ہوا ہےکہ جب پہلی بار رسول اللہ پر وحی نازل ہوئی تو حضرت علی (ع)بھی وہاں تھے اور جبرائیل کی آواز سن رہےتھے کیونکہ فرمایا:

أَرَى نُورَ الْوَحْيِ وَالرِّسَالَةِ وَ أَشُمُّ رِيحَ النُّبُوَّةِ؛

بحار، ج ۱۴ ، ص ۴۷۶

میں نور وحی اور رسالت کا مشاہدہ کررہاتھا اورخوشبوئےرسالت سےدماغ کومعطرکررہا تھا۔ یعنی جب جبرائیل نازل ہوئےتھےمیں جبرائیل کےجملات سنتا تھا یا یہ جو فرمایا:

وَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشَّيْطَانِ؛

میں نےنزول وحی کےوقت شیطان کی چیخ سنی تھی اور عرض کی تھی یا رسول اللہ یہ چیخ کیسی ہے؟ حضرت نےفرمایا : یہ شیطان ہےجوآج اپنی عبادت سےمایوس ہوگیاہےپھرفرمایا:

إِنَّكَ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ وَ تَرَى مَا أَرَى إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ وَ لَكِنَّكَ وَزِيرٌ وَ إِنَّكَ لَعَلَى خَيْر؛

نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲ ۔

تم وہ سب دیکھ رہےہو جو میں دیکھ رہا ہوں وہ سب سن رہےہو جو میں سن رہا ہوں فرق صرف یہ ہےکہ تم نبی نہیں ہو لیکن تم میرے وزیر بھی ہو اور منزل خیر پر بھی ہو۔

یہ مسائل کس زمانےمیں واقع ہوئے؟ اس زمانےمیں جب مولا کی عمر دس سال سےزیادہ نہ تھی اور اس وقت ظاہری امامت تک بھی نہیں پہنچے تھے (اگرچہ باطن میں امام تھے) یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی لازمی ہےکہ ہمارا عقیدہ ہےکہ آئمہ کا رحم مادر میں آنےسےپہلے اور بعد والے حالات میں فرق نہیں ہےایسا نہیں ہےکہ کثرت سےعبادت کر کےنفس سےمقابلہ کر کےکمالات تک پہنچے ہوں ۔ اس بنا پر کہا جا سکتا ہےکہ حضرت علی (ع)کی قوت بینائی اور شنوائی رسول اللہ کےبرابر تھی۔

چہاردہ معصومین کی بینائی وہی خداکی بینائی ہے

رسول اکرم(ص) اور آئمہ کی بینائی اور نظر کہاں تک کام کر سکتی ہے؟

خداوند متعال قرآن میں فرما رہا ہے:

( وَ قُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُولُهُ وَ الْمُؤْمِنُون )

سورہ توبہ، آیت ۱۰۵

اورپیغمبر کہہ دیجئےکہ تم لوگ عمل کرتےرہو کہ تمہارےعمل کو اللہ، رسول اورصاحبانِ ایمان سب دیکھ رہےہیں۔

یعنی جس طرح خدا جانتا اور دیکھتا ہےپیغمبراورآئمہ بھی اسی کیفیت میں جانتے اور دیکھتے ہیں بہرحال خدا، رسول اور آئمہ میں کس چیز میں فرق ہے؟ اس سوال کا جواب امام زمانہ نےماہ رجب کی دعا میں دیا ہے۔

لَا فَرْقَ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهَا إِلَّا أَنَّهُمْ عِبَادُكَ وَ خَلْقُكَ فَتْقُهَا وَ رَتْقُهَا بِيَدِك‏

اقبال الاعمال، ج ۳ ، ص ۲۱۴ ؛ مفاتیح ماہ رجب میں روزانہ پڑہی جانےوالی پانچویں دعا

خدایا تم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہےسوائے اس کہ وہ تیر لائق بندے ہیں ان کےسب امور تیرے دست قدرت میں ہیں یعنی خدایا تو نےاپنی قدرت، اپنا علم، اپنی رحمت، اپنےاسما اور تمام کائنات آئمہ کےہاتھ میں دے دی ہےتیرا ان سےفرق یہ ہےکہ تویہ سب کچھ ذاتارکھتاہےذاتا توبےنیازہےلیکن وہ غنی بالعرض تیری وجہ سےبےنیازہیں یعنی

یدالله، عین الله، ولی الله، علم الله، رحمه الله

وغیرہ ہیں

اگرقرآنی آیت بیان کرتی ہےکہ خداوندمتعال قیامت کےدن لوگوں سےملاقات کرےگا یعنی آئمہ سےملاقات کریںگے۔ اگرروایت کہتی ہےکہ شہید وجہ اللہ کی طرف دیکھے گا یعنی امیرالمومنین اورآئمہ معصومین کودیکھےگا؛ کیونکہ امام صادق(ع) فرماتے ہیں:

نحن وَجْهُ اللَّهِ؛

بحار، ج ۲۴ ، ص ۱۹۲

ہم ہی وجہ اللہ ہیں۔ یا یہ جو ہم دعا ندبہ میں پڑھتے ہیں:

أَيْنَ وَجْهُ اللَّهِ الَّذِي يَتَوَجَّهُ إِلَيْهِ الْأَوْلِيَاء؛

کہاں ہیں وجہ اللھ جس کی طرف اولیا توجہ کرتے ہیں پس وجہ اللھ معصوم امام ہیں۔

اگر قرآنی آیت کا کہنا یہ ہےکہ :

( إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون )

سورہ بقرہ، آیت۱۵۶.

ہم اللہ ہی کےلئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانےوالے ہیں۔

تمام انسان خدا کی طرف لوٹ جائینگے یعنی آئمہ کی طرف لوٹ جائینگے اگر یہ کہا جاتا ہےکہ خداوند متعال کل قیامت کےدن مخلوق کا حساب کتاب کرے گا یہ بھی اس معنی میں ہےکہ آئمہ معصومین مخلوق کا حساب کتاب کریں گے ان تمام مطالب کو آپ زیارت جامعہ میں زبان پر جاری کرتے ہیں۔ و ایاب الخلق الیکم و حسابہم علیکم۔ اس بنا پر رسول اللہ کا دیکھنا خود خدا کا دیکھنا ہے۔

بحث کو مکمل کرنےکیلئے چند روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں: امام صادق (ع) فرماتے ہیں:

مَا لَكُمْ تَسُوءُونَ رَسُولَ اللَّهِ؛

مستدرک الوسائل، ج ۱۲ ، ص ۱۶۳ ۔

تمہیں کیا ہو گیا ہےکہ رسول اللہ کو ستاتے ہو؟اصحاب نےعرض کی: رسول اللہ تورحلت فرما چکےہیں ہم انہیں کس طرح ستا سکتے ہیں، اذیت دے سکتے ہیں؟ حضرت نےفرمایا:یہ نہ سمجھو کہ رسول خدا کی حیات و موت میں فرق ہےجس طرح اس دنیا میں تھے اور تمھارے اعمال انکےسامنےپیش ہوتے تھے، رحلت کےبعد بھی تمھارے اعمال ان کےسامنےپیش ہوتے ہیں، وہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہےہیں ۔ اگر تمہارےعمل نیک اور اچھے ہوں تو خوشحال ہوتے ہیں اور تمھارے لئے دعا کرتے ہیں اگر تم نےگناہ کیا تو وہ غمگین ہوتے ہیں اور تمہارے لئے استغفار کرتے ہیں۔

دوسری روایت میں رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں:

حَيَاتِي خَيْرٌ لَكُمْ وَ مماتِي خَيْرٌ لَكُم‏؛

بحار، ج ۲۲ ، ص ۵۵۰

میری زندگی بھی تمہارے لئےبھلی ہےمیری موت بھی تمہارے لئے بھلی ہے۔ اصحاب نےعرض کیا : یارسول اللہ آپ کی زندگی ہمارے لئے بھلی ہےکیونکہ کہ قرآن میں ارشاد ہواہے:

( وَ ما كانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فيهِم )

سورہ انفال، آیت۳۳

حالانکہ اللہ ان پر اس وقت تک عذاب نہ کرے گا جب تک پیغمبر آپ ان کےدرمیان ہیں۔

روایات میں آیا ہے:

وَ ما كانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبهمْ وَ الآئمه المعصومون فهم‏

معانی الاخبار، ص۳۴

جب تک آئمہ معصومین لوگوں کےدرمیان ہیں خدا ان پر عذاب نہیں کرے گا۔اس کا تو ہمیں پتا ہےلیکن آپ کی موت ہمارے لئے کیسےبھلی ہے؟ حضرت نےفرمایا:کیونکہ تمہارے اعمال برزخ میں میرے پاس پہنچیں گے میں اپنےاور اپنےاہل بیت کےچاہنےوالوں کیلئے استغفار کروں گا۔

باوجود اس کےکہ حضرت اپنی جماعت میں شریک ہونےوالے لوگوں کو فرماتے تھے:

لا ترفعوا قبلی و لا تضعواقبلی ؛

رکوع میں مجھ سےپہلےنہ جاؤ،مجھ سےپہلےسرنہ اٹھاؤ وہ سرگوشیاں کرنےلگےکہ کس نےرسول کوبتایاہے؟پیغمبراکرم نےفرمایا:

إِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَي

بحار، ج ۸۵ ،ص ۱۰۰

جس طرح میں اپنےآگےدیکھ سکتہوں اپنےپیچھے بھی دیکھ سکتا ہوں۔ رسول اللہ کی قوت شامہ سونگھنےکی قوت بھی ایسی تیز تھی کہ اویس قرنی کےآنےاور جانےکےبعد جب گھر میں تشریف لائے تو فرمایا: میں خدائے رحمان کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں، یہ خوشبو اس فرد سےآرہی ہےجو یمن میں سےآیا تھا

فیض الغدیر، ج ۴ ، ص ۱۷۰ ۔

اوراس خدائی خوشبو کومیرےگھرمیں لے آیا۔یہ سب کچھ حضرت علی(ع)اورآئمہ معصومین کےپاس بھی ہےجیساکہ فرمایا:

یا علی انک تسمع ما اسمع ۔

اور فرمایا:

إِنَّهُمْ مِنِّي وَ أَنَا مِنْهُم؛

الغدیر، ج ۲ ، ص ۳۰۳ ۔

وہ مجھ سےہیں اور میں ان سےہوں یعنی آئمہ، رسول سےہیں، رسول کی جان و نفس شمار ہوتے ہیں ۔ جب رسول کی جان و نفس شمار ہوں تو اس وقت رسول اللہ کا باطن اور آپ کی صفات کی حقیقت بھی آئمہ میں آ جائے گی یعنی جس طرح رسول اللہ دیکھ سکتے ہیں ،سن سکتے ہیں، محسوس کر سکتے ہیں وہ بھی دیکھ سکتے ہیں ،سن سکتے ہیں۔ اگر ہمارے اعمال دنیا و آخرت میں رسول اللہ سےپوشیدہ نہیں تو آئمہ سےبھی پوشیدہ نہیں رہیں گے۔

امام صادق (ع) فرماتے ہیں:

لَا يَسْتَكْمِلُ عَبْدٌ الْإِيمَانَ حَتَّى يَعْرِفَ أَنَّهُ يَجْرِي لآِخِرِهِمْ مَا يَجْرِي لِأَوَّلِهِم‏؛

الاختصاص، ص ۲۲ ۔

کسی بھی بندےکاایمان مکمل نہیں ہوگایہاں تک کہ وہ یہ عقیدہ رکھےکہ رسول اکرم(ص)کےتمام کمالات(سوائے نبوت کے)آئمہ معصومین میں بھی ہیں۔اگررسول اکرم(ص)چاندکےدوٹکڑےکرسکتےہیں اورمعجزہ دکھاسکتےہیں توامیرالمومنین(ع)بھی سورج سےبات کرواسکتے ہیں، اس واقعہ میں آپ کےساتھ آپ کےدشمن بھی موجودتھےجب آپ نےسورج پرسلام کیا،

السَّلَامُ علیكَ يَا خَلْقَ اللَّهِ الْجَدِيدَ الْمُطِيعَ لَه‏ ؛

بحار، ج ۴۱ ، ص ۱۸۰ ۔

سلام ہو تم پراےخدا کی نئی اورمطیع مخلوق اورسورج نےجواب دیا:

وَ علیكَ السَّلَامُ يَا أَوَّلُ يَا آخِرُ يَا ظَاهِرُ يَا بَاطِن‏؛

آپ پر بھی سلام ہو اےاول اورآخر، اے ظاہراوراے باطن۔

اس کی سادہ معنی یہ ہےکہ سلام ہوتم پر اے ابوالحسن، اے جہان آفرینش کی پہلی مخلوق، اے وہ آخری مخلوق جس کےبعد قیامت آئے گی، اے وہ جو رسول اللہ کےساتھ ظاہر میں اور تمام انبیا کےساتھ باطن میں ساتھ رہے۔ یعنی وہی بات جو رسول اللہ نےامیرالمومنین (ع) کو فرمائی تھی:اے علی تو تمام انبیا کےساتھ باطن میں اور میرے ساتھ ظاہر میں رہاہے۔

القطرہ من بحار النبی والعترہ، ص ۱۸۸ ۔

پیغمبراورامام علی میں خداکی تجلی

امام صادق (ع)، امیرالمومنین (ع) کی زبانی فرما رہےہیں :

وَ لَقَدْ حُمِّلْتُ عَلَى مِثْلِ حَمُولَتِهِ وَ هِيَ حَمُولَةُ الرَّب‏ ؛

بحار، ج ۲۵ ، ص ۳۵۲ ۔

یعنی خداوندمنان نےجوکمالات، ایمان،اخلاق، صفات، ہدایت اورمعاشرےکی سختیاں برداشت اورتحمل کرنےکی صفت رسول اکرم(ص) کو دی تھی وہ سب علی کو بھی دی تھی۔

روایت کی دوسری معنی یہ ہےکہ : جس طرح رسول اکرم(ص)رب دو جہاں کےمظہر ہیں اورخدانےاپنےرسول کےوجود میں تجلی کا کامل اور جامع ظہور کیا ہےاور اپنی تمام صفات اور اخلاق اور ربوبیت کو ظاہر کیا ہے، علی کےوجود میں بھی بغیر کمی و زیادتی کےوہی تجلی کی ہے۔

کیا ایسا نہیں ہےکہ جب حضرت موسی اپنی قوم کےستر افراد کو خدا کو دیکھنےکیلئے کوہ طور پر لے گئے اور پھر خدانےکوہ پر اپنی تجلی کی تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا اور ستر افراد جل گئے اور :

( وَ خَرَّ مُوسى‏ صَعِقا؛ )

سورہ اعراف، آیت۱۴۳.

اورموسٰی علیہ السّلام بیہوش ہوکرگرپڑے۔

حضرت موسی بےہوش ہوگئے۔ روایات میں آیاہےکہ وہ کروبین میں سےایک کی تجلی تھی جس کو وہ برداشت نہ کر پائے اور فرمایا :

الکروبین قوم من شیعتنا من الخلق الاول؛

نور الثقلین، ج ۲ ، ص ۶۴ ۔

کروبین پہلی مخلوق میں سےہمارےخالص شیعہ ہیں پس توکسطرح خود حضرت کےنورکوبرداشت کیاجاسکتاہے۔جب یمن سےایک وفد آیا اورحضرت علی(ع)کےفیصلہ کی شکایت کرنےلگاتوپیغمبراکرم نےفرمایا:

لَا تَسُبُّوا علیاً فَإِنَّهُ مَمْسُوسٌ فِي ذَاتِ اللَّهِ ؛

مناقب آل ابی طالب، ج ۳ ، ص ۲۱ ۔

علی کوبرابہلا نہ کہو وہ خدامیں فانی ہوچکاہےیعنی امیرالمومنین کی صفات اورافعال خدا کی تجلی ہیں۔ اس معنی کی تاکیدکیلئے ایک ظریف نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہوں وہ یہ کہ لفظ رب کےابجد کےاعتبار سے ۲۰۲ عدد بنتے ہیں، محمد و علی دونوں لفظوں کی ابجد کےبھی ۲۰۲ بنتے ہیں یعنی وہ رب کےنمائندے اورمظہرہیں۔

دوسرا شاہد یہ ہےکہ خداوند متعال نےآیہ قرآنی میں ارشاد فرمایا ہے:

( أَ لَيْسَ اللَّهُ بِكافٍ عَبْدَه )

سورہ زمر، آیت ۳۶ ۔

کیا خدا اپنےبندوں کےلئے کافی نہیں ہے۔

دعائے فرج میں بھی ہم پڑھتے ہیں :

يَا مُحَمَّدُ يَا علی يَا علی يَا مُحَمَّدُ اكْفِيَانِي فَإِنَّكُمَا كَافِيَان‏؛

اے محمد، اے علی، اے علی اور اے محمد آپ دونوں ہی میرے کاموں کی میرے لئے کفایت کریں۔ ہم یہاں مستقیما اور بلا فسےکہیں وہ کفایت کرے، کیونکہ خداوندمتعال نےاپنےان نمائندوں کو امورعالم میں مکمل اختیاردےدیا ہے۔

مذکورہ اشتراکات کےعلاوہ حضرت آیت اللہ میلانی نےاپنےکتاب ،،

قادتنا کیف نعرفھم ،

میں مندرجہ ذیل مشترکات بھی بیان کئےہیں ۔

عبداللہ ہونا: جس طرح خداوندنےقرآن میں فرمایاہے:

( وَ أَنَّهُ لَمَّا قامَ عَبْدُ اللَّه‏؛ )

سورہ جن، آیت۱۹۔

اور یہ کہ جب بندہ خدا عبادت کےلئےکھڑا ہوا۔

حضرت علی (ع)بھی فرماتے ہیں :

أنا عبد الله و أخو رسول الله‏ ؛

میں بندہ خدا اور رسول اللہ کا بھائی ہوں۔

عصمت:

جس طرح خداوندمتعال نےاپنےرسول کوبت پرستی اورگناہ سےمعصوم بنایا، علی نےبھی کوئی گناہ نہیں کیاکبھی بت پرستی نہیں کی۔

سب و دشنام:

رسول اکرم(ص) نےفرمایا:

مَنْ سَبَّ علیاً فَقَدْ سَبَّنِي وَ مَنْ سَبَّنِي فَقَدْ سَبَّ اللَّهَ وَ مَنْ سَبَّ اللَّه‏؛

بحار، ج ۲۷ ، ص ۲۲۷ ۔

جس نےعلی کو دشنام دی اس نےمجھے دشنام دی، جس نےمجھے دشنام دی اس نےخدا کو دشنام دی۔

صاحب ہونا: اللھ تعالی نےقرٓن مجید میں رسول اللہ کو صاحب کےعنوان سےیاد کیا ہےاور فرمایا:

( وَ ما صاحِبُكُمْ بِمَجْنُون؛ )

سورہ تکویر، آیت۲۲۲.

اورتمہاراساتھی پیغمبردیوانہ نہیں ہے۔

رسول اکرم(ص)بھی فرماتے ہیں :

یا علی انت منی و انا منک أَنْتَ أَخِي وَ صَاحِبِي‏؛

اے علی تم مجھ سےہو میں تم سےہوں تو میرا بھائی اور صاحب ہے۔

سیادت: جس طرح رسول اکرم(ص)سیدالمرسلین اورسیدالناس یعنی لوگوں کےسردارہیں علی کےبارےمیں فرمایاہے:

أَنْتَ سَيِّدٌ فِي الدُّنْيَا وَ سَيِّدٌ فِي الْآخِرَة؛

تو دنیا و آخرت میں آقا و سردار ہو۔

چھٹی مجلس

رسول اللہ کےنزدیک،مولا علی کا مقام

اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( :فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكاذِبين )

سورہ آل عمران، آیت ۶۱ ۔

ان سےکہہ دیجئےکہ آؤہم لوگ اپنےاپنےفرزند، اپنی اپنی عورتوں اوراپنےاپنےنفسوں کوبلائیں اورپھرخداکی بارگاہ میں دعاکریں اورجھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

رسول اکرم(ص) ارشاد فرماتے ہیں :

علی مِنِّي بِمَنْزِلَةِ رَأْسِي مِنْ بدنی

بحار، ج ۳۸ ، ص ۳۱۹ ۔

علی کومجھ سےوہی نسبت ہےجوسرکو پورے بدن سےہے۔

حدیث منزلت کےنام سےایک حدیث ہےجوشیعہ اوراہلسنت کےدرمیان متواترحدیث ہےکوئی بھی اس روایت کوسندکےاعتبارسےردنہیں کرسکتا اس پر اعتراض نہیں کرسکتا۔ اس روایت میں رسول اکرم(ص) نےعلی کو فرمایا ہے:

أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي‏؛

کافی، ج ۸ ، ص ۱۰۷ ؛ صحیح مسلم، ج ۷ ،ص ۱۲۰ ۔

تیری مجھ سےوہی منزلت ہےجو ہارون کی موسی سےتھی سوائے اس کےکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

اس حدیث میں دو نکتے ہیں

ا۔ نسبی حوالےسےامیرالمومنین(ع)اور رسول اللہ چچا ذادبھائی ہیں،نسبی بھائی نہیں ہیں لیکن ہارون اورموسی نسبی بھائی تھے۔

۲ ۔ ہارون مقام نبوت پر فائز تھے لیکن حضرت علی(ع)ظاہری طورپرمقام نبوت نہیں رکھتے، برادری اورنبوت کےبغیر ہارون کےتمام منصب علی کےلئے ثابت ہیں۔

علی اورہارون کی شباہتیں

یہاں ہم ہارون کی حضرت موسی سےنسبت کی تحقیق کرتےہیں اورعلی کی رسول اللہ سےمنزلت کےساتھ اسکامقایسہ کرتےہیں۔

پہلی شباہت

حضرت موسی نےکیونکہ ایک آدمی کو قتل کیا تھا لھذا جب واپس فرعون کےپاس جانا چاہا تو خدا سےدرخواست کی کہ اسےشرح صدر عطا فرمائے:

( قالَ رَبِّ اشْرَحْ لي‏ صَدْري وَ يَسِّرْ لي‏ أَمْري وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِساني‏ يَفْقَهُوا قَوْلي‏ وَ اجْعَلْ لي‏ وَزيراً مِنْ أَهْلي‏ هارُونَ أَخي‏ اشْدُدْ بِهِ أَزْري )

سورہ طہ، آیت ۲۵ تا۳۱.

موسٰی نےعرض کی پروردگار!میرےسینےکوکشادہ کردےمیرےکام کوآسان کردےاورمیری زبان کی گرہ کوکھول دےکہ یہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اورمیرےاہل میں سےمیراوزیرقراردےدے ہارون کوجومیرابھائی بھی ہےاس سےمیری پشت کومضبوط کردے۔

یعنی خدایا ان تمام مشکلات کےمقابلے میں مجھے شرح صدر عطا فرما، میرا شرح صدر میرا بھائی ہارون ہےاگر ہارون میرے ساتھ ہوتو میں مکمل اطمینان کےساتھ فرعون کےمحل میں چلا جاؤں گا۔

خدا نےجواب میں ارشاد فرمایا:

( قالَ قَدْ أُوتيتَ سُؤْلَكَ يا مُوسى )

سورہ طہ آیت ۳۶

ارشاد ہوا موسٰی ہم نےتمہاری مرادتمہیں دے دی ہے۔

لیکن حضرت موسی اوررسول اللہ میں جوفرق ہےوہ یہ ہےکہ پیغمبرنےدعاءکیلئےدست بلندنہیں کئےاورخداسےشرح صدرکی درخواست نہیں کی خدانےبھی اپنےحبیب پراحسان کیااوربغیرسوال کےاسےشرح صدرعطافرمایا۔ خداوندمتعال سورہ انشراح میں رسول اکرم(ص)کو فرماتا ہے:

( أَ لَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَ وَضَعْنا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ )

سورہ انشراح، آیت۱ تا۳.

کیاہم نےآپ کےسینہ کوکشادہ نہیں کیا اورکیاآپ کےبوجھ کواتارنہیں لیاجس نےآپ کی کمرکوتوڑدیاتھا۔

پیغمبرکاشرح صدر کونسا تھا؟تفاسیراورروایات کی روشنی میں خداوندمنان نےعلی کےوجودسےپیغمبرکےسینےکی تنگی کودورفرمایااورحضرت کی کمر ٹوٹنےسےبچائی:

أَ لَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ بعلی؛

علی یعنی شرح صدر پیغمبر، یعنی پیغمبر کی کمر کو ٹوٹنےسےبچانےوالا یعنی پیغمبر کےاحساس سنگینی کو بر طرف کرنےوالا۔

تاویل الآیات، ص۴۵۴

سورہ انشراح میں آگے پڑھتے ہیں :

( فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَ إِلى‏ رَبِّكَ فَارْغَبْ )

سورہ انشراح، آیت۷،۸.

لہذا جب آپ فارغ ہوجائیں تو نصب کردیں اور اپنےرب کی طرف رخ کریں۔

یعنی جب حجت الوداع کےاعمال پورےکرچکےہوتو ؛

فانصب علیا للخلافه؛

علی کوغدیرخم پرجانشینی کیلئےمنصوب کرواس کےبعدتمہارامشن پوراہوجائےگااورہماری طرف لوٹنےکیلئےتیارہوجاؤ۔

یہاں پرحضرت علی(ع)کا رسول اللہ کیلئےشرح صدرہونےکےکچھ مواردکی طرف اشارہ کرتےہیں

رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں:

ما قام و لا استقام دینی الا بشیئین مال خدیجة و سیف علی بن ابی طالب؛

شجرہ طوبی، ج ۲ ، ص ۲۳۳ ۔

دین اسلام کھڑانہیں ہوسکتا، اسےزندگی نہیں ملی مگردوچیزوں سےایک خدیجہ کامال دوسراعلی کی تلوار۔

دوسری روایت میں حضرت نےفرمایا:

الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي السَّيْفِ وَتَحْتَ ظِلِّ السَّيْف‏؛

کافی، ج ۵ ،ص ۲

تمام نیکیاں تلوار میں اور تلوار کےسائے تلے ہیں یعنی اگر علی نہ ہوتے تمام نیکیوں کی فاتحہ پڑھی جاچکی ہوتی۔

جنگ احزاب میں

وہ کونسی تلوارہےکہ تمام نیکیاں اسکےسائےتلےہیں؟رسول اکرم(ص)نےفرمایا:

ضربة علی یوم الخندق افضل من عبادة الثقلین؛

خصال، ص ۵۷۹ ۔

جنگ احزاب میں علی کی ایک ضربت ابتدائے تخلیق سےانتھائے تخلیق تک کےانس و جن کی عبادت سےافضل ہے۔

کسی نےبھی عمرو بن عبدود سےمقابلہ کرنےکیلئے آمادگی کا اعلان نہ کیا لیکن مولا باوجود اس کےکہ عمر کےلحاظ سےجوان تھے پھر بھی آپ نےقبول کیا اور عمرو بن عبدود کو ایک ضربت سےواصل جہنم کیا۔

جنگ خیبرمیں

رسول اکرم(ص)نےجس کوبھی قلعہ فتح کرنےکیلئےبھیجا وہ ڈرکرلوٹ آیا۔حضرت نےفرمایا:

فَقَالَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَداً رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ كَرَّاراً غَيْرَ فَرَّارٍ لَا يَرْجِعُ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ‏؛

کافی، ج ۸ ، ص ۳۵۱ ۔

کل میں علم اسےدوں گاجوخدااوراسکےرسول سےمحبت کرتاہوگااورخدا اوراسکارسول بھی اس سےمحبت کرتےہونگےوہ جم کرحملہ کرنےوالا ہوگا، فرارنہیں کرے گا اس وقت تک نہیں لوٹے گا جب تک خدا اسےکامیابی نصیب نہ کرے۔کل سب نےدیکھاکہ رسول اکرم(ص)نےعلم علی کےہاتھ میں دیامولا علی گئےاورخیبرکےمرحب کومارکرقلعہ خیبرکوفتح کرکےآئے۔

جنگ ذات السلاسل میں

اس جنگ کو ذات السلاسل اس لئے کہتے ہیں کہ دشمنوں نےتلواروں کےخول پہن رکھے تھے کہ جو بھی دیکھ رہا تھا وہ وحشت کر رہا تھا ۔ بارہ ہزار جنگجو تھے جو کاملا مسلح تھے، سب نےوعدا کیا کہ اسلام کی فاتحہ پڑہینگے۔پیغمبر نےجسےبھی بھیجا وہ ڈر کرو اپس آگیا لیکن جب حضرت علی (ع)کو بھیجا تو مولا علی نےکتنوں کو تہہ تیغ کیا اور کچھ کو اسیر کر لیا۔ خداوند منان نےکچھ آیتیں اس جنگ کی شان میں نازل فرمائیں۔

بحار، ج ۲۱ ، ص ۶۶ ۔

( وَ الْعادِياتِ ضَبْحاً فَالْمُورِياتِ قَدْحاً فَالْمُغيراتِ صُبْحاً فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعاً ) ۔

سورہ عادیات، آیت ۱ تا۴.

فراٹےبھرتےہوئےتیزرفتارگھوڑوں کی قسم جو ٹاپ مارکرچنگاریاں اڑانےوالےہیں پھرصبحدم حملہ کرنےوالےہیں پھرغبارجنگ اڑانےوالےنہیں۔

دوسری شباہت: کاموں میں آسانی

حضرت موسی نےخدا سےدرخواست کی:

وَ يَسِّرْ لي‏ أَمْري؛

خدایا میرے کاموں کو آسان فرما ۔ خدانےبھی ہارون دےدیا تاکہ اس کےلئے آسانی ہو۔ رسول اللہ کےکاموں کی آسانی علی کےوجود سےتھی؛ کیونکہ جب بھی کوئی مصیبت رسول اللہ پر آتی تو یہ علی ہی تھے جو اسےٹال دیتے۔ مشکل کشا ئی کرنےوالے علی ہی ہوتے مثال کےطور پر جنگ احد میں جب دشمنوں نےرسول اللہ کو گھیر لیا، جبرائیل نازل ہوئے اور مولا کیلئے ذوالفقار لے آئے جس پر دو شعار لکھے تھے ایک مشھور شعار

(نعرا) لَا فَتَى إِلَّا علی لَا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفَقَارِ؛

بحار، ج ۲۰ ، ص ۷۳

ایک خصوصی شعارجو رسول اللہ کیلئے خطاب تھا وہ یہ تھا :

نَادِ علیاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ تَجِدْهُ عَوْناً لَكَ فِي النَّوَائِب‏

اےمیرےحبیب،اےمیرےرسول نادعلیامظھرالعجائب،بلا علی کوجومظھرعجائب ہےتاکہ تیری مددکرے۔یاجب رسول اللہ مکہ سےباہرجاناچاہتےتھےتوامیرالمومنین کواپنی جگہ پرسلانےکیلئےانتخاب کیا۔روایت میں آتاہےکہ خداوندمنان نےجبرائیل اورمیکائیل کوفرمایا:میں نےتم دونوں میں عقداخوت پڑھاہےتم میں سےایک کی عمردوسرےسےزیادہ ہے،کون حاضرہےجواپنی عمردوسرے پرفداکرے!دونوں فرشتوں نےایک دوسرےکودیکھالیکن کوئی جواب نہیں دیاپھرخطاب ہوا: زمین میں نظر ڈالو علی کو دیکھو جو رسول اللہ کی جگہ پر سویا ہوا ہےان دونوں کےدرمیان بھی عقد اخوت پڑھا گیا ہے۔

بحار، ج ۳۶ ، ص ۴۳ ۔

تیسری شباہت: جانشینی

حضرت موسی کی تیسری دعا یہ تھی کہ خدایا میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر اور جانشین بنا، خداوند منان نےحضرت موسی کی یہ دعا بھی قبول کی ،اسی طرح پیغمبر اکرم نےخدا کی طرف سےبلا فصل جانشینی اور وزارت کا منصب حضرت علی (ع)کو عنایت فرمایا روایت دار کو شیعہ سنی قبول کرتے ہیں کہ رسول اکرم(ص) نےاپنی تبلیغ کےابتدائی دنوں میں اپنےرشتہ داروں کو دعوت دی اور امیرالمومنین (ع) کا اپنےوزیر، وصی اور جانشین کےطور پر تعارف کروایا۔

بحار، ج ۳۵ ، ص ۱۴۴ ؛ کنزالعمال، ج ۱۳ ، ص ۱۳۱ ۔

یہاں ایک سوال اٹھتا ہےوہ یہ کہ حضرت ہارون، حضرت موسی کےنسبی برادر تھے لیکن علی تو رسول اللہ کےنسبی بھائی نہ تھے وہ تو انکےپسر عمو تھے تو روایات میں کیسےآیا کہ رسول اللہ نےمولا سےخطاب ہی کرتے ہوئے فرمایا:

انت اخی فی الدنیا و الآخره؛

مناقب آل ابی طالب، ج ۲ ، ص ۳۳ ؛ ینابیع المودہ، ج ۱ ،ص ۱۷۸ ۔

تو دنیا وآخرت میں میرابھائی ہےیہ کیسی برادری ہے؟اسکی علت یہ ہےکہ باوجوداسکےکہ قرآن مجیدنےتمام مومنین کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ہے: مومنین آپس میں بالکل بھائی بھائی ہیں

( إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَة )

سورہ حجرات، آیت۱۰.

لیکن رسول اکرم(ص)نےہجرت کرنےکےبعدجوافرادمعنوی اورایمانی صفات میں ایک دوسرےکےمشابہ تھے،ان میں عقداخوت پڑھا ان کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔سلمان کو ابوذر کا بھائی بنایا کیونکہ وہ مزاج اور ایمانی لحاظ سےایک دوسرے کےنزدیک تھے، بات جب پوری ہو گئی تو سب کہنےلگے رسول اللہ نےکیوں علی کو کسی کا بھائی نہیں بنایا ؟ اس وقت رسول اللہ نےعلی کو فرمایا

مَا أَخَّرْتُكَ إِلَّا لِنَفْسِي‏؛

احتجاج، ج ۱ ، ص ۱۶۲ ۔

اےعلی میں نےتمہیں کسی اورکابھائی اسلئےنہیں بنایاکہ میں نےتمہیں اپنےلئےباقی رکھاہےاورفرمایا:

انت اخی فی الدنیا والآخرة؛

تودنیا وآخرت میں میرابھائی ہے۔پیغمبراکرم(ص)نےعقداخوت میں علی کےسواکسی کواپنابھائی نہیں بنایاکیونکہ علم،قدرت،وحی کےدریافت کرنےاورقرب خدامیں علی ہی آپ کےسب سےزیادہ نزدیک تھا۔

اسی طرح ابن عباس نےنقل کیا ہےجب پیغمبر اکرم نےخدا سےیہ دعا کی:

( وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْني‏ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْني‏ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَلْ لي‏ مِنْ لَدُنْكَ سُلْطاناً نَصيرا )

سورہ اسراء، آیت ۸۰

اوریہ کہئےکہ پروردگارمجھےاچھی طرح سےآبادی میں داخل کراوربہترین اندازسےباہرنکال اورمیرےلئےایک طاقت قراردےدےجو میری مددگارثابت ہو۔

تورسول اکرم(ص)کی دعاءمستجاب ہوئی اورخدانےامیرالمومنین(ع)یعنی سلطان نصیرکےعنوان سےحضرت کوعطافرمایا۔

مناقب آل ابی طالب، ج ۱ ، ص ۳۴۱ ۔

خداوند متعال فرما رہا ہے:

( يا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطارِالسَّماواتِ وَ الْأَرْضِ فَانْفُذُوا لا تَنْفُذُونَ إِلاَّ بِسُلْطانٍ )

سورہ رحمن، آیت۳۳

اےگروہ جن وانس اگرتم میں قدرت ہوکہ آسمان وزمین کےاطرف سےباہرنکل جاؤتونکل جاؤمگریادرکھوکہ تم قوت اورغلبہ کےبغیر نہیں نکل سکتے ہو۔

اگرطاقت ہےتواوج آسمان پرجاؤیازمین کی گھرائیوں میں جاؤلیکن جان لوکہ امیرالمومنین(ع)کی ولایت اورسلطنت سےباہرنہیں جاسکتے ہو کیونکہ جیسا کہ ہم نےبتایا سلطان کی معنی حضرت علی (ع)ہے۔

پہلی مجلس

اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَعَلَامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ )

سورہ نحل، آیت ۱۶

اور علامات معین کردیں اور لوگ ستاروں سےبھی راستے دریافت کرلیتے ہیں۔

امام علی نقی (ع)زیارت جامعہ میں ارشاد فرماتے ہیں :

مَوَالِيَّ لا أُحْصِي ثَنَاءَكُمْ وَ لا أَبْلُغُ مِنَ الْمَدْحِ كُنْهَكُمْ؛

اے ہمارے پیشوا، آپ کی تعریف کا احصاء نہیں ہو سکتا اور میں مدح میں آپ کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ۔

شیعوں کا سب اہم وظیفہ امام معصوم کی پہچان ہےاور یہ صرف شیعوں کا وظیفہ نہیں بلکہ تمام انسانوں کا وظیفہ ہے۔ ا س روایت کےمطابق جو رسول اکرم (ص) سےمنقول ہے، جسےتمام شیعہ اور سنی علماء نےبیان کیا، جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ۔ رسول اکر م (ص) فرماتے ہیں:

مَنْ مَاتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّة؛

بحارالانوار جلد ۳۲ ، صفحہ ۳۳۱ ینابیع المودہ، جلد ۳ صفحہ ۳۷۲

اگر امام کی معرفت نہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔

جاہلیت کا زمانہ، خدا کےانکار، نبوت اور رسالت کی نفی، وحشی گری، بت پرستی، بے حیائی اور کفرکا زمانہ تھا ۔

زیارت جامعہ، امام کی معرفت کا درس

اس کےباوجود کہ امام علی نقی(ع) نے ۳۴ چونتیس سال امامت کی، امام کا زمانہ انتہائی ظلم و جورکا زمانہ شمار ہوتا ہے۔ امام کےدور میں بنی عباس کےخبیث ترین خلیفہ متوکل عباسی کی حکومت تھی، جس نےامام کو لوگوں سےدور کرنےکیلئے سامرا جلا وطن کیا اور وہاں امام کا محاصرہ کیا، لیکن امام ہادی ؑنےکمال امامت کےساتھ وہ کام کیا کہ ہر شیعہ کو حیرانی اور پریشانی سےنجات بخشی۔

اگر امامت کےموضوع پر کوئی آیت اور روایت نہ ہوتی تو بھی زیارت جامعہ امام کی معرفت کیلئے کافی تھی ۔ امام علی نقی (ع) اس زیارت کےذریعے قیامت تک کےانسانوں کو امام کی معرفت کا درس دیتے ہیں ۔ مرحوم سید عبد الہادی شیرازی

(نجف اشرف کےعظیم مرجع تقلید)اس بارے میں فرماتے ہیں: زیارت جامعہ، امام کا کلام ہونےکی وجہ سےہمارے افکار کی تصحیح کرتی ہے۔

زیارت جامعہ کی سند

ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی فضائل ائمہ معصومین(ع) والی روایتوں کی سند کےبارے میں تحقیق کی جاتی ہےکہ اس روایت کی سند ضعیف ہےیا قوی؟ اس لحاظ سےہم چاہتے ہیں کہ پہلے زیارت جامعہ کی سند پر تحقیق پیش کریں تاکہ اس کی صحت کا اطمنان پیدا ہو جا ئے اور کوئی بھی اس پر اعتراض نہ کرسکے۔ اس تحقیق میں ہم زیارت جامعہ پر چند زاویوں سےنظر ڈالتے ہیں۔

۱ ۔ قوت متن

کچھ روایتوں پہ نظر پڑتے ہی ان کی صحت اور صداقت کا یقین ہو جاتا ہے؛ کیونکہ ان کا متن ہی ان کےسچے اور کلام امام ہونےکی تصدیق کرتا ہےان میں سےایک زیارت جامعہ ہے۔

ہمارے استاد مرحوم شیخ عبدالکریم حامد فرماتے تھے: بعض لوگ کہتےہیں: مناجات خمسہ عشر کی سند ضعیف ہے۔ تم سےجو بھی یہ بات کہےاس کو جواب میں کہو: تمہاری عقل ضعیف ہے۔ معصوم کےعلاوہ کوئی بھی اللہ تعالی سےاس قسم کی مناجات نہیں کر سکتا کیونکہ معصوم کےعلاوہ کوئی ایسی معرفت نہیں رکھتا ۔

جیسےکچھ لوگ حدیث کساکےبارے میں بحث کرتے ہیں کہ: اسکی صحیح سند موجود ہےیا نہیں؟

جنگ کےزمانےمیں آیت اللہ بہاء الدین اپنےچند دوستوں کےساتھ درود (ایران کا ایک شہر )میں تھے۔ ان کےساتھ ہمارے استاد حاج آقا سوشتری بھی موجودتھے، جو اس وقت شہر (درود) کےامام جمعہ تھے۔

انہوں نےآیت اللہ بھاء الدین سےسوال کیا: دشمن اس جگہ پرمسلسل بمباری کر رہا ہےآپ کیا حکم دیتے ہیں؟

آیت اللہ بھاء الدین نےجواب دیا: میری ماں زہرا(س) نےمجھ سےکہا ہےکہ لوگوں سےکہو:حدیث کساء پڑھیں۔

لوگوں نےحدیث کسا پڑھنا شروع کردی اس دن کےبعد درود میں کبھی بم کا دھماکہ نہیں ہوا ۔

وہ فرماتے ہیں: اس وقت ہم نےدشمن کےایک پائلٹ کو پکڑا۔ اس سےبات چیت کی میں نےخود وہ بات چیت سنی۔ اس سےپوچھا گیا: تمہاری ڈیوٹی کہاں تھی ؟

پائلٹ نےجواب میں کہا: میری ڈیوٹی درود میں تھی۔ جب میں یہاں آیا میں نےشہر( درود)کو دیکھا۔

لیکن جب نزدیک آیا تو مجھے ایک دریا نظر آیا، اس لئے میں نےاس پر بمباری نہیں کی اور کہیں اور بمباری کی۔

جب ہم نےتحقیق کی توپتاچلاحدیث کساپڑھنےکےبعدیہ واقعہ پیش آیاتھا۔اس دلیل کےہوتےہوئےکوئی اسکی صحت میں شک کرسکتا ہے؟ کیا یہ حدیث من بلغ (کافی، ج ۲ ، ص ۸۷) سےکمتر ہےجس پر مستحبات اور مکروہات پر عمل کیا جاتا ہے؟

اسی طرح کچھ لوگ سوال کرتے ہیں جمکران کی سند ہےیا نہیں ؟حالانکہ بہت زیادہ افرادنےوہاں امام زمانہ(ع) کی زیارت کی ہےاور وہاں سےاپنی مرادیں پائی ہیں۔ ہم اپنےدوستوں کےساتھ آیت اللہ بھاء الدین کی خدمت میں تھے، جب جمکران کی بات آئی۔

تو انہوں نےفرمایا: کتنی ہی بار ایسا ہوا ہےکہ جب ہم جمکران کےقریب جاتے ہیں تو ہماری حالت تبدیل ہو جاتی ہے۔

احادیث من بلغ سےمراد وہ احادیث ہیں جن کا مضمون یہ ہےکہ اگر تمہارے پاس کوئی روایت پہنچے جس میں کسی عمل کا ثواب ذکر ہوا ہو اور تم اطاعت کرتے ہوئے اس پر عمل کرع تو اتنا ثواب تمہیں ملے گا اگرچہ وہ روایت ضعیف ہو، البتہ اس حدیث پر زیادہ تر عمل مستحبات اور مکروہات میں کیا جاتا ہے۔

۲ ۔ معتبر کتابوں میں نقل ہونا

زیارت جامعہ کو اکثر بزرگوں نےاپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ شیعوں کےپاس قرآن کےبعد چار کتابیں معتبر ہیں جن کو کتب اربعہ کہا جاتا ہے۔ جو کہ شیعوں کی بنیادی کتابیں ہیں۔ان میں سےایک کتاب، اصول اور فروع کافی ہے۔ جس کو شیخ کلینی نےلکھا ہے۔ دوسری کتاب من لا یحضر ہ الفقیہ ہےجس کو رئیس المحدثین شیخ صدوق نےلکھا ہے، ج کہ و امام زمانہ (ع)کی دعا سےپیدا ہوئے۔ بعض بزرگان فرماتے ہیں : امام زمانہ(ع) بعض اوقات ان کی قبر پر جاتے ہیں۔تیسری اور چوتھی کتاب تہذیب اور استبصار ہے۔جس کےمصنف شیخ طوسی ہیں ۔

شیخ طوسی تہذیب الاحکام، جلد ۶ ، صفحہ ۹۵ میں اورشیخ صدوق من لا یحضرہ الفقیہ، جلد ۲ ، صفحہ ۶۰۹ میں زیارات کےباب میں اس دعا کو ذکر کرتے ہیں مخصوصا شیخ صدوق اپنی کتاب کی ابتدا میں فرماتے ہیں: میں اس کتاب میں نقل کردہ تمام روایات کی صحت اورصدق کااعتقادرکھتا ہوں اور اسکی صحت اور صدق کا فتوی دیتا ہوں۔

آپ لوگو ں نےملاحظہ کیا کہ تین معتبر کتابوں کےدو بزرگوار عالم اپنی کتابوں میں اس زیارت کو نقل کرتے ہیں ۔

ائمہ معصومین(ع)کی تائید

دوسرےعلماءبھی جیسےعلامہ محمدتقی مجلسی اپنی کتابوں میں زیارت جامعہ کی تصدیق کرتےہیں اورروضہ المتقین کی پانچویں جلدمیں فرماتے ہیں: مجھے خواب میں امام رضا (ع) کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ میں نےدیکھا کہ: جب مجھے امام رضا(ع) کی زیارت نصیب ہوئی تو میں زیارت جامعہ پڑھ رہاتھا۔

امام نےفرمایا : احسنت، احسنت یعنی بہت خوب۔ امام (ع)نےزیارت جامعہ کی تعریف کی اور زیارت جامعہ پڑھنےپرمیری بھی تعریف کی۔

روضة المتقین، جلد ۵ ، صفحہ ۴۵۱

اس کےبعد وہ فرماتے ہیں : جب میں امام علی(ع) کی خدمت میں تہذیب اور ریاضت میں مشغول تھا۔ مجھے رواق عمرا ن میں ایک مکاشفہ ہوا۔ میں نےدیکھا کہ: میں سامرا میں امام زمانہ (ع)کی خدمت میں کھڑے ہو کر زیارت جامعہ کی تلاوت میں مشغول ہوں۔ جب زیارت تمام ہوئی امام زمانہ (ع)نےارشاد فرمایا : نعمت الزیارۃ۔ یہ بہترین زیارت ہے۔

اس مکاشفہ کےذکر کےبعد علامہ مجلسی فرماتے ہیں:

والحاصل لا شک لی انه من انشائات امام الهادي(ع)

مجھے یقین ہےکہ زیارت جامعہ، امام علی نقی (ع) سےوارد ہوئی ہے۔ ہم ہمیشہ حرم اور غیر حرم میں جب کسی معصوم (ع) کی زیارت پڑھتے ہیں تو زیارت جامعہ کی تلاوت کرتے ہیں۔

روضة المتقین، جلد ۵ ، صفحہ ۴۵۲

علامہ نےاپنی کتاب روضہ المتقین کی پانچویں جلدمیں زیارت جامعہ کی سندکےسلسلےمیں بحث کی ہےاوراسےقابل اعتمادقراردیاہے۔

علامہ مجلسی کےکلام میں زیارت جامعہ کی خصوصیات

مرحوم علامہ محمدباقرمجلسی، علامہ محمدتقی مجلسی کےفرزند اپنےنورانی کتاب بحارالانوارمیں فرماتے ہیں:

إنما بسطت الكلام في شرح تلك الزيارة قليلا و إن لم أستوف حقها حذرا من الإطالة لأنها أصح الزيارات سندا و أعمها موردا و أفصحها لفظا و أبلغها معنى و أعلاها شأنا ۔

بحارالانوار جلد۹۹، صفحہ ۱۴۴

ہم نےزیارت جامعہ کو کچھ تفصیل سےبیان کیا ہے۔ اگر چہ اس کاحق ادا نہیں کر سکےکیونکہ زیارت جامعہ سند کےلحاظ سےصحیح ترین زیارت ہے، اور لفظ کےلحاظ سےفصیح ترین زیارت ہے، معنی کےلحاظ سےموثر ترین زیارت ہےاور اس زیارت کی شان بہت بلند ہے۔

جب میں نےزیارتوں کو نقل کرنا چاہا اور بات زیارت جامعہ تک پہنچی تو میں نےمندرجہ ذیل دلائل کی وجہ سےاس کو شرح کی ہے:

الف) زیارت جامعہ شیعوں کی زیارتوں میں سےصحیح ترین زیارت ہے۔ زیارت امین اللہ بھی صحیح ہےاور زیارت امام رضا اور حضرت معصومہ بھی صحیح ہے۔ لیکن صحیح ترین اور سند کےلحاظ سےمحکم ترین زیارت، زیارت جامعہ ہے۔

ب) زیارت جامعہ کےعلاوہ تمام زیارتیں کسی ایک مقام اور کسی ایک امام یا چند مقام اور چند اماموں کےساتھ مخصوص ہیں۔ صرف زیارت جامعہ ہی ہےجو تمام اماموں اورمعصومین کی زیارت میں پڑھی جا سکتی ہے۔

ج )عبارت کےلحاظ سےزیارت جامعہ بہت ہی بلند، فصیح اور خوبصورت ہےکوئی کلام اتنا بلند، فصیح اور خوبصورت نہیں ہو سکتا ۔

د)تمام زیارتیں بلاغت کا نمونہ ہیں۔ لیکن ان زیارتوں میں کچھ عبارتیں بہت مشکل ہیں جو ہر ایک کو اچھی طرح سمجھ میں نہیں آسکتیں۔ لیکن زیارت جامعہ معنی کےلحاظ سےاور مطلب کو پہنچانےمیں عجیب تاثیر رکھتی ہے۔ بلاغت کا بے نظیر نمونہ ہےجس کو ہر ایک آسانی سےسمجھ سکتا ہے۔

ھ)دوسری زیارتوں میں ائمہ معصومین (ع) کےچند ایک فضائل اور منصب ذکر ہوئے ہیں۔ لیکن زیارت جامعہ وہ تنہا زیارت ہےجس میں امامت اور ولایت کےتمام مسائل تفصیل سےبیان ہوئے ہیں ۔

علامہ مجلسی فرماتے ہیں: ان پانچ اسباب کی بنیاد پر میں نےچاہا کہ زیارت جامعہ پر ایک مختصر شرح لکھوں ۔

حکایت سیدرشتی

جن بزرگوں نےزیارت جامعہ کو نقل کیا ہےان میں سےایک مرحوم شیخ عباس قمی ہیں۔ وہ اپنی کتاب مفاتیح الجنان میں زیارت جامعہ کےباب میں سیدرشتی کی حکایت کو ذکرکرتے ہوئے فرماتےہیں:مرحوم سیدرشتی اپنےقافلے سےبچھڑ گیا اوربہت پیچھے رہ گیا تو ان کو امام زمانہ(ع)کی زیارت کاشرف نصیب ہوا، امام زمانہ(ع)نےان کوتین چیزوں کی سفارش کی۔

امام زمانہ (ع) فرماتے ہیں: تم لوگ نافلہ نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ نافلہ، نافلہ، نافلہ ۔تم لوگ زیارت عاشورا کیوں نہیں پڑھتے؟ عاشورا، عاشورا، عاشورا۔ تم لوگ زیارت جامعہ کیوں نہیں پڑھتے؟ جامعہ، جامعہ، جامعہ

اس حکایت میں ایک اہم نکتہ یہ ہےکہ : بھلا گم ہونےکا زیارت جامعہ سےکیا واسطہ؟ واسطہ یہ ہےکہ: اگر ظاہری چیز گم ہو جائےامام زمانہ(ع)کو پکارو۔ اگرمعنوی چیز گم ہو جائے!معنوی مسئلےمیں حیران اور پریشان ہوں، اگرتمہیں پتا نہ چلے کہ اللہ تعالی سےکیسےرابطہ رکھیں تو بھی امام زمانہ(ع)کو پکارو۔ اب ہرچیز کیلئے امام زمانہ(ع)کو پکاریں لیکن امام زمانہ(ع) کی معرفت حاصل کرنےکیلئےکیا کریں؟امام زمانہ کی معرفت کیلئےزیارت جامعہ پڑھیں۔جس کی معرفت میں اضافہ ہوگاوہی امام کویا اباصالح المہدی کہہ کر بلائےگااورامام بھی اس کی فریادکوآئےگااوراس مسئلہ حل کرےگا ۔

ہمارےایک استادعقائدپر درس دےرہےتھے۔ میں بھی پہلےتوحید، امامت اورولایت کےبارےمیں وسوسےکاشکارتھا۔ میں آیت اللہ مرعشی نجفی کی خدمت میں گیا اور اپنا مسئلہ بیان کیا تو انہوں نےارشاد فرمایا: تمہیں چاہیے لگاتار زیارت جامعہ کی تلاوت کرو۔ میں نےاس بات پرعمل کیا نہ صرف وسوسےدور ہوگئے بلکہ مجھےکچھ معنوی مقامات بھی نصیب ہوئے ۔

یہ تمام چیزیں مقدمہ تھیں تاکہ ہم اصل بحث میں داخل ہوسکیں ۔

اللہ تعالی سےدعا ہےکہ ہمیں توفیق نصیب ہو کہ ہمارا روزبروز دعائوں اورزیارتوں سےتعلق گہراہوتا جائے۔انشاء اللہ

دوسری مجلس

اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّـهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَفِيهَا اسْمُهُ )

سورہ نور، آیت ۳۶ ۔

یہ چراغ ان گھروں میں ہےجن کےبارے میں خدا کاحکم ہےکہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اوران میں اس کےنام کا ذکر کیا جائے۔

امام علی نقی(ع) زیارت جامعہ میں ارشاد فرماتے ہیں :

كَيْفَ أَصِفُ حُسْنَ ثَنَائِكُمْ

میں کیونکر آپ کی بہترین تعریف کر سکتا ہوں؟!

زیارت جامعہ کی نظر میں امامت کےمسائل،

اس بحث میں داخل ہونےسےپہلےہم کچھ نکات بیان کرنا چاہتے ہیں۔

پہلا نکتہ : فضائل کامجموعہ

زیارت جامعہ حقیقت میں ائمہ معصومین(ع)کےفضائل کا مجموعہ ہے۔جس میں ائمہ معصومین(ع) کےفضائل کی سیکڑوں حدیثیں بیان ہوئی ہیں۔ اگرکوئی ائمہ معصومین(ع)کےفضائل جانناچاہتاہے، اسےسالوں لگ جائیں گےہزاروں کتاب ڈھونڈنےپڑیں گے۔ لیکن امام علی نقی(ع)نےان تمام فضائل کو جمع کردیاہے۔

اب کہا جاسکتا ہے: زیارت جامعہ حقیقت میں ائمہ معصومین(ع) کےفضائل کی وہ کتاب ہےجو لاکھوں صفحات پرمشتمل ہے۔ تمام شیعہ اور سنی کتابوں میں موجود آئمہ معصومین(ع) کےفضائل ایک طرف اور زیارت جامعہ دوسری طرف، ان تمام کی برابری کرتی ہےبلکہ ان تمام پر برتری رکھتی ہے۔

دوسرا نکتہ: تکبیرکا فلسفہ

مرحوم محمدتقی مجلسی، مرحوم محمد باقرمجلسی، مرحوم شیخ عباس قمی اور بہت سارے بزرگوں نےفرمایا ہے: زیارت جامعہ پڑھنےکا طریقہ یہ ہےکہ: حرم میں داخل ہو جائیں اور زیارت جامعہ پڑھنےسےپہلے تیس مرتبہ، اللہ اکبر کہیں۔ پھر ضریح کی طرف چند قدم آگے بڑھیں، پھر تیس مرتبہ، اللہ اکبر کہیں۔ پھر ضریع کی طرف چند قدم آگے بڑہیں پھر چالیس مرتبہ، اللہ اکبر کہیں اور ضریح کےبلکل نزدیک ہو جائیں۔ جب ۱۰۰ سو تکبیریں پوری ہو جائیں تو زیارت جامعہ کی تلاوت شروع کریں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ: ان تکبیرات کا فلسفہ کیا ہے؟ ان تکبیروں کا فلسفہ یہ ہےکہ: جب انسان زیارت جامعہ کی تلاوت کرے تو ممکن ہےاس کو غلو کی بو آئے اور وہ سوچنےلگے کہ یہ تو خدائی صفات ہیں۔ کیونکہ بعض ضعیف عقیدہ افرادکو زیارت جامعہ غلو لگتی ہے۔ اس لئے پہلے سو بار، اللہ اکبر کہہ کر اعلان کریں کہ اللہ تعالی اس سےبھی بلندہے۔

مجھ حقیرکی نظرمیں، ان تکبیروں کاایک اورفلسفہ بھی ہوسکتا ہے۔وہ یہ کہ: زیارت جامعہ کی تعلیم امام علی نقی(ع)نےدی ہے۔اگر اس میں غلو ہوتا تو امام تعلیم نہ فرماتے۔بلکہ ائمہ معصومین(ع)کا مقام اس سےبھی بلند ہے۔امام علی نقی(ع) کا منظورہمیں سمجھانا تھا، اس لئے زیارت جامعہ میں اسان انداز اپنایا۔ اگر ہماری عقلیں سمجھ سکتیں تو ائمہ معصومین(ع) کی معرفت اس سےکہیں زیادہ بلند ہے۔ امام علی نقی(ع) اس سےبہتر انداز میں بیا ن کرتے۔

زیارت جامعہ میں تدبر

ہم جب کسی امام (ع) کی خدمت میں زیارت جامعہ کی تلاوت کرتےہیں تو اس نا آشنا کی طرح ہوتے ہیں جو کسی کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہو۔ اس لئے ہم سےکہا جاتا ہےہمیں مخاطب کر کےکلام کرو۔اس لئے ہم کہتے ہیں:

السَّلامُ علیكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ

سلام ہو آپ پر اے نبوت کےاہلبیت!

یہ تمام سلام، اہلبیت(ع) کو مخاطب کر کےہیں۔ کیونکہ ہم پہلے مہمان کی طرح ہیں۔ اس لئے اہلبیت (ع)نہیں چاہتے کہ کو ئی مہمان نا امید ہو۔ اس لئے ہمیں مخاطبانہ کلام کی اجازت دیتے ہیں! پھر جب انسان متوجہ ہوتا ہےکہ وہ کس سےکلام کر رہا ہے؟ تو ارشاد ہوتا ہے: اب دوبارہ پلٹ جاؤ اور غائبانہ طور پر ہم سےکلام کرو اور کہو:

السَّلامُ عَلَى أَئِمَّةِ الْهُدَى وَ مَصَابِيحِ الدُّجَى وَ

سلام ہو ہدایت کےائمہ پر اور تاریکیوں کےچراغ پر!

اس حصے میں زائر، ائمہ معصومین(ع)سےغائبانہ کلام کرتا ہےتو اہلبیت(ع) فرماتے ہیں: ہم سےغائبانہ کلام کرچکےاور ہمیں کسی حد تک پہچان لیا۔ اس لئے ہم سےدوبارہ مخاطبانہ کلام کرو۔ زائر کہتا ہے:

أَشْهَدُأَنَّكُمُ الْأَئِمَّةُ الرَّاشِدُونَ الْمَهْدِيُّونَ

اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سب ائمہ ہادی اور مہدی ہیں۔

یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ:آپ ائمہ معصومین، آپ اہلبیت (ع) ہدایت کرنےوالے ہیں!

غائبانہ کلام سےمخاطبانہ کلام کی طرف آنےکو بلاغت میں التفات کہتے ہیں۔ زیارت جامعہ میں یہ انداز کس لئے ہے؟ اس انداز کا مطلب یہ سمجھانا ہےکہ حقیقیت میں اہلبیت(ع) اس سےبھی بہت زیادہ بلند ہیں۔ یہ زیارت جامعہ میں بیان شدہ صفتیں تو کچھ بھی نہیں۔ اہلبیت (ع) ان صفتوں کےعلاوہ بھی ہزاروں عظیم صفتوں کےمالک ہیں ۔ آپ لوگ صرف یہ نہ سمجھیں کہ: اللہ تعالی نےاہلبیت(ع) کو پیدا کیا اور فقط یہ فضائل اور کمالات ان کےنام کردئے۔ نہیں! اہلبیت(ع) کی ایک اور صفت بھی ہے۔ جو زیارت جامعہ میں بیان نہیں ہوئی۔ وہ یہ ہےکہ: اہلبیت (ع) کا وہ بلند مقام ہےکہ: جس کو سمجھنا ممکن نہیں۔ کیونکہ ہماری عقلیں اتنی سمجھ نہیں رکھتیں۔ اس لئے اس نورانی مقام کو بیان نہیں کیا گیا۔

ایک بزرگ فرماتے ہیں: اہلبیت(ع) کےمقام کو ایک لطیف نکتے کےذریعے سمجھنےکی کوشش کی جاسکتی ہے۔ وہ نکتہ یہ ہےکہ: اللہ تعالی نےقرآن میں ارشاد فرمایا ہے:

( وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ )

سورہ ذاریات، آیت ۵۶۔

اورمیں نےجنات اورانسانوں کوصرف اپنی عبادت کےلئے پیداکیاہے۔

عبادت کی بہت فضیلت ہے۔ لیکن معرفت کا درجہ اس سےبھی بلند ہے۔ تو اللہ تعالی نےیہ کیوں نہیں فرمایا کہ: انسانوں اور جنوں کو معرفت کیلئے پیدا کیا گیا ہے؟ وہ بزرگ فرماتے ہیں: عبادت بندے کا کام ہےاور معرفت اللہ تعالی کا کام ہے۔ معرفت بندے کےبس کی بات نہیں کہ اللہ تعالی مقصد خلقت، معرفت کو قرار دے۔ معرفت ایسی بلند چیز ہےجس کو انسان خود حاصل نہیں کر سکتا بلکہ معرفت دینا اللہ تعالی کا کام ہے۔ اس لئے ارشاد ہوتا ہے:

أَنَّ الْمَعْرِفَةَ مِنْ صُنْعِ اللَّه‏

کافی، ج ۲ ، ص ۲۱۲ ۔

معرفت دینا اللہ تعالی کاکام ہے۔ اس لئے اللہ تعالی انسانوں اور جنوں کی خلقت کیلئے عبادت کو مقصد قرار دیتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ دینا اللھ تعالی کا کام ہے۔ اس لئے ہم پڑھتے ہیں:

اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي نَفْسَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي نَفْسَكَ لَمْ أَعْرِفْ رَسُولَكَ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي رَسُولَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي رَسُولَكَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَكَ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي حُجَّتَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي حُجَّتَكَ ضَلَلْتُ عَنْ دِينِ

(حوالہ:مفاتیح الجنان، غیبت کےدورمیں امام زمانہ (ع)کی دعاکاایک حصہ) ۔

پروردگارامجھےاپنی معرفت عطا فرما۔اگرتومجھےاپنی معرفت عطانہ کرےگاتومیں تیرےرسول کی معرفت حاصل نہ کرپاوںگا۔

پروردگارا مجھے اپنےرسول کی معرفت عطافرما؛ کیونکہ اگر تو نےمجھے اپنےرسول کی معرفت عطا نہ کی تو میں تیری حجت کی معرفت حاصل نہ کر پاؤں گا۔ پروردگارا! مجھے اپنی حجت کی معرفت عطا فرما کیونکہ اگر تو نےمجھے اپنی حجت کی معرفت عطا نہ کی تو میں اپنےدین سےگمراہ ہوجاؤں گا۔

تیسرا نکتہ: بے انتہا فضائل

ائمہ معصومین (ع)کی زندگی، ائمہ معصومین(ع)کی خصوصیتیں، ائمہ معصومین(ع)کےاخلاق حسنہ کابیان ایک زاویہ یادس زاویوں یاسوزاویوں میں محدودنہیں ہو سکتا۔ہماری تعبیرکےمطابق ائمہ معصومین(ع) اللہ تعالی کی نسبت متناہی اورمحدود ہیں۔لیکن ہم انسانوں کی نسبت نا متناہی اورغیر محدود ہیں۔ اب جب ائمہ معصومین(ع) غیر متناہی صفتوں کےمالک ہیں تو کیسےممکن ہےہم ائمہ معصومین(ع) کےبارے میں مکمل گفتگو کر سکیں !

زیارت جامعہ میں بھی دو مقامات پر اس نکتے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

پہلا مقام: اس عبارت میں

مَوَالِيَّ لا أُحْصِي ثَنَاءَكُمْ وَ لا أَبْلُغُ مِنَ الْمَدْحِ كُنْهَكُمْ وَ مِنَ الْوَصْفِ قَدْرَكُمْ

دوسرا مقام:

كَيْفَ أَصِفُ حُسْنَ ثَنَائِكُمْ

میں کیونکر آپ کی بہترین تعریف کر سکتا ہوں۔

یہ سچی بات ہےکہ ہم زیارت جامعہ کو پڑھتے اور سمجھتے ہیں لیکن ائمہ معصومین (ع) کی ذات کو اور خصوصیات کو کو ئی شمار نہیں کر سکتا ۔ رسول اکرم(ص) امام علی(ع) کےبارے میں فرماتے ہیں :

إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ لِأَخِي علی بْنِ أَبِي طَالِبٍ ع فَضَائِلَ لَا تُحْصَى كَثْرَةً ؛

بحار، ج ۲۶ ، ص ۲۲۲۹ ۔

اللہ تعالی نےمیرے بھائی علی کیلئے اتنی فضیلتیں رکھی ہیں کہ جن کی تعداد کو کوئی شمار نہیں کر سکتا۔

بحارالانوار، ج ۲۶ ، و ۲۲۹ ۔

ممکن ہےیہاں کوئی اعتراض کرے کہ : حضرت علی (ع) کی فضیلتیں ایک فرد شمار نہ کر سکتا ہو یہ ممکن ہےلیکن کیسےممکن ہےتمام مخلوقات مل کر بھی حضرت علی (ع) کی فضیلتیں شمار نہ کر سکیں؟

رسول اکرم(ص) ایک اور روایت میں ارشاد فرماتے ہیں :

لَوْ أَنَّ الرِّيَاضَ أَقْلَامٌ وَ الْبَحْرَ مِدَادٌ وَ الْجِنَّ حُسَّابٌ وَ الْإِنْسَ كُتَّابٌ مَا أَحْصَوْا فَضَائِلَ علی بْنِ أَبِي طَالِبٍ ؛

بحار، ج ۳۸ ، ص ۱۹۷ ۔

اگرتمام درخت قلم بن جائیں اور تمام دریا سیاہی بن جائیں اورتمام جن شمارکرنےبیٹھیں اورتمام انسان لکھنےبیٹھیں تو بھی امام علی (ع) کےفضائل نہیں لکھ سکتے۔

بحار، ج ۳۸ ، ص ۱۹۷ ۔

امام صادق (ع) ایک روایت میں فرماتے ہیں :

لَا يَقْدِرُ الْخَلَائِقُ عَلَى كُنْهِ صِفَةِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَل‏؛

تمام مخلوقات جس طرح اللہ تعالی کاحق ہےاللہ تعالی کی ایسی معرفت حاصل نہیں کرسکتیں۔

بحار، ج ۶۴ ، ص ۶۵ ۔

جیسا کہ یہ قرآنی آیت بھی اسی مضمون کو بیان کر رہی ہے:

( وَ ما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِه‏؛ )

سورہ انعام، آیت ۲۱ ۔

اس کےبعد امام (ع) نےارشاد فرمایا :

فَكَمَا لَا يَقْدِرُ عَلَى كُنْهِ صِفَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَكَذَلِكَ لَا يَقْدِرُ عَلَى كُنْهِ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ ؛

جس طرح تمام مخلوقات اللہ تعالی کی معرفت حاصل نہیں کرسکتیں اسی طرح تمام مخلوقات رسول اکرم(ص) کی صفتوں کو شمار نہیں کر سکتیں اور رسول اکرم(ص) کی معرفت حاصل نہیں کر سکتیں۔

اس کےبعد امام (ع) نےفرمایا : جس طرح تمام مخلوقات رسول اکرم(ص) کی معرفت حاصل نہیں کر سکتیں اسی طرح ائمہ معصومیں (ع) کی بھی معرفت حاصل نہیں کر سکتیں۔ اسی طرح ایک حقیقی مومن کی معرفت بھی حاصل نہیں کر سکتیں۔ اس لئے اللہ تعالی نےارشاد فرمایا ہے:

( وَ ما أُوتيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَليلا )

سورہ اسرا، آیت ۸۵ ۔

یعنی اللہ تعالی کےبارے میں، امامت اور ائمہ معصومین (ع) کی فضیلتوں کےبارے میں تمہارا علم بہت کم ہے۔

چوتھا نکتہ: ائمہ معصومین (ع)کی توصیف سےانسان کی عاجزی

اگر ہم ائمہ معصومین (ع) کی چند صفتیں جانتے بھی ہیں تو بھی اس طرح نہیں جانتے جیسےجاننےکا حق ہےیعنی ائمہ معصومین (ع)کی بےشمارصفتیں ہیں اورہرصفت کےبےشمارپہلو ہیں۔

امام رضا (ع) اپنےعظیم الشان خطبہ میں ۔ جو انہوں نےامامت کےبارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں :

ضَلَّتِ الْعُقُولُ وَ تَاهَتِ الْحُلُومُ وَ حَارَتِ الْأَلْبَابُ وَ حَسَرَتِ الْعُيُونُ وَ تَصَاغَرَتِ الْعُظَمَاءُ وَ تَحَيَّرَتِ الْحُكَمَاءُ وَ تَقَاصَرَتِ الْحُلَمَاءُ وَ حَصِرَتِ الْخُطَبَاءُ وَ جَهِلَتِ الْأَلِبَّاءُ وَ كَلَّتِ الشُّعَرَاءُ وَ عَجَزَتِ الْأُدَبَاءُ وَ عَيِيَتِ الْبُلَغَاءُ عَنْ وَصْفِ شَأْنٍ مِنْ شَأْنِهِ أَوْ فَضِيلَةٍ مِنْ فَضَائِلِه‏؛

کافی، ج ۱ ، ص ۲۰۱ ۔

لوگوں کی عقلیں گمراہ ہو گئیں ہیں، فہم اور ادراک سرگشتہ اور پریشان ہیں، عقہل حیران ہیں، آنکھیں ادراک سےقاصر ہیں، عظیم المرتبت لوگ اس امر میں حقیر ثابت ہوئے، حکماء حیران ہو گئے، ذی عقل چکرا گئے، خطیب لوگ عاجز ہو گئے، عقول پر جہالت کا پردہ پڑ گیا، شعرا تھک کر رہ گئے، اہل ادب عاجز ہوگئے، صاحبان بلاغت عاجز آگئے، امام کی کسی ایک شان کو بیان نہ کر سکےاور اس کی ایک فضیلت کی تعریف نہ کر سکے۔

یعنی اگر کائنات کی تمام عقلین اتحاد کریں، تمام علماء اور دانشمند مل بیٹھیں، تمام تاریخ دان اور لکھنےوالے جمع ہوں اور ائمہ معصومین (ع) کی کسی ایک صفت کو کماحقہ بیان کرنےکی کوشش کریں تو اس ایک صفت کو بھی کما حقہ بیان نہیں کر سکتے۔

کافی، ج ۱ ، ص ۲۰۱ ۔

مثال کےطور پر زیارت جامعہ میں ائمہ معصومین (ع) کی ایک صفت خزان العلم بیان ہوئی ہے۔ کیاہم اپنی عقل، فکر اور دانش کی بنیاد پر ائمہ معصومین (ع) کےعلم کو جان سکتے ہیں؟ کیا ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ائمہ معصومین (ع) کےعلم کی حد کیا ہے؟

اگر کوئی تاجر اپنا پورا کاروبار کسی کےحوالے کرنا چاہےتو ضروری ہےکہ سامنےوالابھی اس کاروبار سےواقف ہوتاکہ اس کاروبار کو مناسب طریقے سےچلا سکے۔ یا اگر کسی کےحوالے پورا ملک کرنا ہو تو ضروری کہ وہ جانتا ہو کہ اس ملک میں کیا ہےاوراس ملک کو کیسےچلایا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالی نےاپنےعلم کا خزانچی اہلبیت کو قرار دیا ہےلیکن اللہ تعالی کا علم، قدرت اور صفتیں غیر محدود ہیں :

لَيْسَ لِصِفَتِهِ حَدٌّ مَحْدُودٌ وَ لَا نَعْتٌ مَوْجُود

نہج البلاغہ، خطبہ اول۔

اس کی ذات کیلئے نہ کوئی معین حد ہےاور نہ توصیفی کلمات۔

اس بنا پر کوئی کیسےجان سکتا ہےکہ ائمہ معصومین (ع) کا علم کتنا ہے؟ کیونکہ ائمہ معصومین (ع) اللہ تعالی کےعلم کےخزانچی ہیں اس بنا پر ائمہ معصومین (ع) کا علم بھی غیر محدود ہوا۔

ابن عباس فرماتے ہیں : میں ایک رات امیرالمومنین (ع) کی خدمت میں تھا امیرالمومنین (ع) سورج کےغروب ہونےسےسورج کےطلوع ہونےتک الحمد للہ کی الف کےبارے میں بتاتے رہےلیکن میں زیادہ مطالب کو فراموش کر چکا ہوں اور مجھے یاد نہیں رہےاور آخر میں ارشاد فرمایا : اے ابن عباس! اگر میں چاہوں تو سورہ حمد کی تفسیر میں اتنا بیان کروں کہ ستر اونٹ بھی اس وزن کو نہ اٹھا سکیں۔

بحار، ج ۴۰ ، ص ۱۵۷ ۔

اللہ تعالی سےدعاءہےکہ اہلبیت علیہم السلام کےمتعلق ہماری معرفت میں روزبروزاضافہ فرمائےانشاءاللہ۔

تیسری مجلس

اہلبیت نبوت

اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا )

سورہ حشر، آیت ۷ ۔

اور جو کچھ بھی رسول تمہیں دیدے اسےلے لو اور جس چیز سےمنع کردے اس سےرک جاؤ۔

امام علی نقی (ع) زیارت جامعہ میں ارشاد فرماتے ہیں :

السَّلامُ علیكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ

سلام ہو آپ پر اے نبوت کےاہلبیت!

ہماراموضوع زیارت جامعہ کی نظرمیں ائمہ معصومین (ع)کامقام ہےہم اپنی بحث کی ابتدا میں مقام امامت اورائمہ معصومین(ع)کا مقام نبوت اورانبیاءسےمقایسہ کریں گے ۔

زیارت جامعہ کا سب سےپہلا جملہ یہ ہے:

السَّلامُ علیكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ

یہاں اہلبیت نبوت کہا گیا ہے۔ یہ نہیں کہا گیا :

السَّلامُ علیكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النبی

اس جملےسےسمجھ میں آتاہےکہ رسول اکرم(ص)کےدوگھرہیں: ایک ظاہری اورمادی گھردوسراباطنی، روحانی اورمعنوی گھر،ظاہری اورنسبی لحاظ سےتو بحث کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ سب جانتے ہیں حضرت زہرا(ع)اورائمہ معصومین(ع)، رسول اکرم(ص) کےنسبی فرزند ہیں۔

رسول اکرم(ص) کےدوسرے گھر سےمراد مقام نبوت اور مقام خاتمیت ہےکہ جس گھر کا سامان اللہ تعالی کےنام اور صفتیں ہیں یعنی نبوت کا گھر اللہ تعالی کی قدرت مطلقہ، حیات مطلقہ اور اللہ تعالی کی ملکوتی اور جبروتی صفتوں سےبنایا گیا ہے۔ ایک بزرگ نےاس بارے میں بہترین تعبیر استعمال کی ہےوہ فرماتے ہیں : نبوت کےگھر کےدو، دروازے ہیں ایک دروازہ عالم وحدت، عالم توحید اور اللہ تعالی کی طرف کھلتا ہےاور دوسرا دروازہ عالم کثرت اور عالم خلق کی طرف کھلا ہو ا ہے۔ رسول اکرم(ص) عالم توحید سےعلم، رحمت، حیات، اور تمام کمالات لیتے ہیں اور دوسرے دروازے سےرسول اکرم(ص) وہ علم، رحمت، حیات، اور تمام کمالات، پوری مخلوق کےحوالے کرتے ہیں یہاں تک کہ انبیاء اور فرشتوں کو بھی فیض آپ کےدروازے سےملتا ہے۔

شرح زیارت جامعہ فخر المحققین، شیخ الاسلام شیرازی، ج ۱ ، ص ۲۶ ۔

مثال کےطورپرہمارےپاس بجلی کا ایک آلہ ہےجسےہم فیوزکہتے ہیں اسکاکام یہ ہےکہ وہ آگےسےبجلی لیتاہےاورگھرکےتمام بجلی والےسامان کوجیسےلائٹیں وغیرہ سب کو ان کےحساب اورظرفیت جتنی بجلی دیتا ہے۔ اسی طرح رسول اکرم(ص) بھی اللہ تعالی سےبرکتوں اور رحمتوں کو لیتےہیں اورہرانسان اورہرموجود کواس کی ظرفیت کےلحاظ سےدیتے ہیں۔

قرآن میں بھی اس کی مثال موجود ہےجو گذشتہ مثال سےبھی بہت بہتر ہے۔ اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا )

سورہ آل عمران، آیہ ۱۰۳ ۔

اور اللہ کی ر سّی کو مضبوطی سےپکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو ۔

یعنی قرآن نےحضرت علی(ع) اور ائمہ معصومین(ع) کو ایک رسی سےتشبیہ دی ہے۔

تفسیر صافی، ج ۱ ، ص ۳۶۵ ۔

اب سوال یہ پیداہوتاہےکہ قرآن نےحضرت علی(ع)اورائمہ معصومین(ع)کورسی سےتشبیہ کیوں دی ہے؟ہم اس سوال کےچند جواب دیتے ہیں :

پہلا:

کیونکہ رسی اوپر سےنیچے کی طرف لٹکتی ہے۔ اللہ تعالی بھی یہی سمجھانا چاہتا ہےکہ جیسےہم نےقرآن کو اوپر سےتمہاری طرف نازل کیا ہےاسی طرح اہلبیت(ع) کوبھی عالم بالا اور عالم معنی سےتمہاری ہدایت کیلئے تمہاری طرف بھیجا ہے۔

دسرا:

رسی کےدو، سرے ہوتے ہیں ایک سرا نیچے کی طرف اور دوسرا، سرا، اوپر کی طرف ہوتا ہےائمہ معصومین(ع) بھی اسی طرح دو شخصیتوں کےمالک ہیں : ایک شخصیت بشری اور دوسری شخصیت نور الاہی والی ہے۔ ائمہ معصومین(ع) رسی کےاوپر والے حصے کےذریعے، اپنی نور والی شخصیت کےذریعے اللہ تعالی سےمتصل ہیں اور عالم وحدت اور عالم توحیدسےرازونیاز کرتے ہیں۔ اور رسی کےدوسرے حصے کےذریعے، یعنی اپنی بشری شخصیت کےذریعے اس دنیا میں آئے ہیں تاکہ ہم دنیا تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچا سکیں اورہمیں دنیاکےکنویں، پستی اور تہ سےاللہ تعالی کی بارگاہ تک پہنچائیں۔

ائمہ معصومین(ع) میں رسول اکرم(ص)کی خوبیاں

اس بناپرکہ ائمہ معصومین(ع)، اہل بیت نبوت ہیں تووہ نہ صرف نبی کےگھروالےہیں بلکہ نبوت کےگھروالےبھی ہیں۔وہ تمام صفات جورسول اکرم(ص) کےباطنی اورمعنوی گھرمیں ہیں وہ اہل بیت بھی میں پائی جا تی ہیں۔اس مطلب کی تائیدکیلئےہم چندروایتوں کی طرف اشارہ کرتےہیں :

پہلی روایت:

امام صادق(ع) فرماتے ہیں :

مَاجَاءَ بِهِ علی ع آخُذُ بِهِ وَمَا نَهَى عَنْهُ أَنْتَهِي عَنْهُ جَرَى لَهُ مِنَ الْفَضْلِ مَاجَرَى لِمُحَمَّدٍ ص وَ لِمُحَمَّدٍ ص الْفَضْلُ عَلَى جَمِيعِ مَنْ خَلَقَ اللَّهُ؛

جس کا حضرت علی(ع) حکم دیتے ہیں ہم انجام دیتے ہیں اور جس سےحضرت علی(ع) روکتے ہیں ہم رک جاتے ہیں ۔ کیوں ؟ کیونکہ جتنےفضائل اور کمالات کےمالک رسول اکرم(ص) ہیں اتنےفضائل اور کمالات حضرت علی(ع) میں بھی پائے جاتے ہیں۔

اس بنا پر جب قرآن فرماتا ہے:

( وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا )

سورہ حشر، آیت۷۔

اور جو کچھ بھی رسول تمہیں دیدے اسےلے لو اور جس چیز سےمنع کردے اس سےرک جاؤ۔

یعنی جو رسول اکرم(ص) دے دے اسےلے لو اور جس سےمنع کرے اس سےرک جاؤ یہ روایت اس کےساتھ لگائیں تو اس طرح ہو جائے گا :

وَمَا آتَاكُمُ علی فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا

سورہ حشر، آیت ۷ ۔

اورجوکچھ بھی حضرت علی(ع)تمہیں دیدے اسےلےلواورجس چیزسےمنع کردےاسسےرک جاؤ۔ کیونکہ رسول اکرم(ص)اورحضرت علی(ع)دونوں کےفضائل اورکمالات برابرہیں۔رسول اکرم(ص)تمام مخلوق سےافضل ہیں حضرت علی(ع)،رسول اکرم(ص)کےبرابر ہیں اس سےیہ نتیجہ نکلتا ہےکہ حضرت علی(ع) بھی رسول اکرم(ص) کی طرح تمام مخلوق سےافضل ہیں۔ روایت اس سےآگے بڑھتی ہےاور ارشاد ہوتا ہےکہ :

و کذلک یجری لائمة الهدی واحد بعد واحد؛

یہ رسول اکرم(ص)کی برابری والاحکم اورتمام مخلوق سےافضلیت والاحکم ایک کےبعددوسرےتمام ائمہ معصومین(ع)میں پایاجاتاہے۔

ہم یہاں پر ایک دلچسپ نکتہ بیان کرنےکیلئے ایک سوال پیش کرتےہیں : اللہ تعالی نےاپنی لاریب کتاب قرآن مجید میں مباہلہ والی آیت

سورہ آل عمران، آیت ۶۱ ۔

میں جمع کا صیغہ کیوں ارشاد فرمایاہے؟ حالانکہ اس سےمراد صرف حضرت علی(ع) ہیں جو اکیلے ہیں ۔ یا جب

( الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ )

سورہ مائدہ، آیت ۵۵ ۔

وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوِٰ دیتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نےمسجد میں نماز کےاندر حالت رکوع میں حضرت علی(ع) کی سخاوت کا تذکرہ کیاہےتو جمع کا صیغہ کیوں ارشاد فرماتا ہے؟ حالانکہ اس سےمراد صرف حضرت علی(ع) ہیں جو اکیلے ہیں ؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کہ جب ان تمام آیتوں میں حضرت علی(ع) اکیلے مراد ہیں تو قرآن نےجمع کا صیغہ کیوں استعمال کیا ہے؟

زمحشری جو کہ اہلسنت کےعلماء میں سےہیں فرماتے ہیں : یہ آیت درس دینےکیلئے ہےتربیت کرنےکیلئے ہےکہ آپ لوگ بھی اس کام کوانجام دیں۔ لیکن یہ بات غلط ہےکیونکہ دوسرےافراد لاکھوں انگوٹھیاں بھی دیں تو بھی کوئی آیت نازل نہ ہوگی۔ یہ واقعہ مخصو ص ہےشان امامت کےساتھ کہ اللہ تعالی ان کےہر کام کیلئے آیت نازل کرتاہے۔

یا جہاں قرآن نےحضرت علی(ع) کےرسول اکرم(ص) کےبستر پر سونےکا اور اپنی جان کو رسول اکرم(ص) کی جان پر فدا کرنےکا تذکرہ کیا ہےتو جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیاہے؟

سورہ بقرہ، آیت ۲۰۷ ۔

حالانکہ اس سےمراد صرف حضرت علی(ع) ہیں جو اکیلے ہیں ؟ تو ان تمام سوالوں کا جواب یہ ہےکہ : ان آیتوں کےمصداق تمام ائمہ معصومین(ع) ہیں کیونکہ تمام ائمہ معصومین(ع) کی حققیت ایک ہےاللہ تعالی نےچاہا کہ تمام ائمہ معصومین(ع) کو ایک ساتھ بیان کرے ۔ اس لئے اللہ تعالی نےقرآن میں جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے۔

اب دوسرا سوال یہ وجود میں آتا ہےکیسےممکن ہےحضرت علی(ع) کےکام کو اللہ تعالی تمام ائمہ معصومین(ع) کی طرف نسبت دے؟ تو اس بات کا جواب خود قرآن مجید میں موجود ہےجہاں اللہ تعالی نےحضرت علی(ع) کو رسول اکرم(ص) کا نفس قرار دیا ہےاور حضرت علی(ع) کےفعل کو رسول اکرم(ص) کا فعل قرار دیاہے۔ اب جب ان کا نفس ایک ہےتو اس بات سےان کا اتحاد ثابت ہوگا اور ان کا فعل بھی ایک ہوگا اب یہ صرف حضرت علی(ع) کا فعل شمار نہ ہوگا بلکہ تمام ائمہ معصومین(ع) کا فعل ہوگا مثلا اگر حضرت علی (ع) نےانگو ٹھی دی تو ہم کہہ سکتے ہیں امام صادق(ع) نےنماز کی حالت رکوع میں انگوٹھی دی۔

ہم اس بات کی تائید کیلئے ایک مطلب کو بیان کرتے ہیں جو امام صادق(ع)نےارشاد فرمایا،جس کومفضل نےنقل کیا ہےجو بہت تفصیلی روایت ہےتقریبا تیس صفحوں کی روایت ہے۔ اس میں امام(ع) ارشاد فرماتے ہیں : جب امام زمانہ(ع) ظہور فرمائیں گے پہلے اور دوسرے کو ان کی قبروں سےباہر نکالیں گے اور ان کو تازیانےماریں گے۔

نوائب الدھور، ج ۳ ، ص ۱۳۲ ۔

دوسری طرف امام محمد تقی(ع) جب تین یاچار سال کےتھے تو انہوں نےارشاد فرمایا :اللہ تعالی کی قسم میں پہلے اور دوسرے کو ان کی قبروں سےنکال کر جلاو ٔں گا اور ان کی مٹی کو ہوا میں اڑاؤں گا۔

بیت الاحزان، ص ۱۲۴ ۔

اب ان دو روایتوں کو کیسےجمع کیا جائے؟ اب اس کام کو کون انجام دے گا امام زمانہ(ع) یا امام محمد تقی(ع) ؟ اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہےکہ : ان دونوں میں کوئی فرق نہیں امام زمانہ(ع) انجام دیں یا امام محمد تقی(ع) بات ایک ہی ہےکیونکہ ان کی حقیقت ایک ہےتوان کا فعل بھی ایک ہےاسلئے ایک کےکام کو دوسرے کا کام کہا جا سکتا ہے۔

دوسری روایت

امام علی(ع) فرماتے ہیں :

إِنِّي وَ إِيَّاهُ لَعَلَى سَبِيلٍ وَاحِدٍ إِلَّا أَنَّهُ هُوَ الْمَدْعُوُّ بِاسْمِه‏

بحار، ج ۲۵ ، ص ۳۵۴ ۔

میں اور رسول اکرم(ص) ایک راستے پر ہیں فرق صرف یہ ہےرسول اکرم(ص) کو ان کےنام سےپکا را جاتا ہے۔

یعنی ہم میں کوئی فرق نہیں فرق صرف یہ ہےمیرا نام علی (ع) ہےاور رسول اکرم(ص) کا نام محمد ہےمجھے نبی نہیں کہا جاتا اور ان کو نبی کہا جاتا ہےوہ نبی ہیں اور میں وصی ہوں۔ حضرت علی(ع) فرمانا چاہتے ہیں کہ : مجھے بنی نہیں پکار ا جاتا لیکن نفس نبوت اور حقیقت نبوت میرے اندرموجود ہے۔

لقمان اورنبوت

حضرت لقمان کا قصہ بھی ایسا ہےاللہ تعالی نےحضرت لقمان کی طرف فرشتے کو پیغام دے کر بھیجا لقمان سےپوچھو کیا میں تمہیں لوگوں کی ہدایت کیلئے نبی مقرر کروں ؟ لقمان نےفرشتے سےپوچھا : یہ حکم ہےیا میری مرضی پر ہے؟ اللہ تعالی کا جواب آیا : تیری مرضی پر ہے۔ تو لقمان نےعرض کیا : پروردگارا ! اگر میری مرضی پر ہےتو میں اس ذمیداری کو اٹھانا نہیں چاہتا۔

تفسیر صافی، ج ۴ ، ص ۱۴۱

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ :اگر لقمان نبوت کی صلاحیت نہیں رکھتے تو کیا اللہ تعالی اس پر ابلاغ نہیں کرتا ؟ اس واقعے کی بنیاد پر حضرت لقمان نبی نہیں تھے۔ لیکن شان نبوت رکھتے تھے اور کئی نبیوں سےافضل تھے ۔ قرآن مجید میں بہت سارے نبیوں کےنام پر سورتیں ہیں جیسےآدم، ابراہیم، یوسف، نوح اور تمام نبیوں کےنام پہ ایک سورت، سورت انبیاء آئی ہےاور حضرت لقمان کےنام پہ ایک سورت نازل ہوئی ہےاس سےحضرت لقمان کی منزلت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس بناپر ممکن ہےکوئی ظاہرا نبی اور رسول نہ ہو لیکن نبوت اور رسالت والا مرتبہ، صلاحیت اور شان رکھتا ہو جیسا کہ کہا جا تا ہےرسول اکرم(ص) کی امت کےعلماء بنی اسرائیل کےنبیوں سےافضل ہیں۔

المزار شیخ مفید، ص ۶ ۔

اس بات پر تعجب نہ کریں کیونکہ اس دور میں نبوت نہیں ہےورنہ بہت سارے افراد نبوت والی شان رکھتے ہیں (لیکن کوئی بھی نہ رسول اکرم(ص) جتنی شان رکھتا ہےنہ ائمہ معصومین(ع) جتنی لیاقت )

تیسری روایت :

ایک دن ابوذر، سلمان کےپاس آئے اورعرض کیا : اے سلمان! امیرالمومنین(ع) کی معرفت کیسی ہے؟ سلمان بھی ہوشیار آدمی تھا ۔ اس نےجواب میں کہا : خود امیرالمومنین(ع) سےپوچھتے ہیں ؟ وہ دونوں امیرالمومنین(ع) کی خدمت میں آئے اور سوال کیا مولا آپ کی معرفت کیسی ہے؟ حضرت علی(ع) نےجواب میں فرمایا :

مَعْرِفَتِي بِالنُّورَانِيَّةِ مَعْرِفَةُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ مَعْرِفَةُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مَعْرِفَتِي بِالنُّورَانِيَّة

بحارالانوار، ج۲۶، ص ۲

جس نےہماری نورانی معرفت کو سمجھا اسےاللہ تعالی کی معرفت حاصل ہوئی اور جسےاللہ تعالی کی معرفت ملی اسےہماری نورانی معرفت حاصل ہوگی۔

اب یہاں دو چیزیں نہیں بلکہ ایک چیز ہے۔ ہماری معرفت، اللہ تعالی کی معرفت ہےاور اللہ تعالی کی معرفت، ہماری معرفت ہے۔ اس کےبعد امیرالمومنین نےفرمایا :

أَنَا مُحَمَّدٌ وَ مُحَمَّدٌ أَنَا وَ أَنَا مِنْ مُحَمَّدٍ وَ مُحَمَّدٌ مِنِّي‏؛

میں، محمد ہوں اور محمد، علی ہے۔ میں محمدمیں سےہوں اور محمد، مجھ سےہے۔ اس کےبعد امیرالمومنین(ع) نےفرمایا:

أَنَا الَّذِي حَمَلْتُ نُوحاً فِي السَّفِينَةِ بِأَمْرِ رَبِّي وَ أَنَا الَّذِي أَخْرَجْتُ يُونُسَ مِنْ بَطْنِ الْحُوتِ بِإِذْنِ رَبِّي‏ وَ أَنَا الَّذِي أَخْرَجْتُ إِبْرَاهِيمَ مِنَ النَّارِ بِإِذْنِ رَبِّي‏ َنَا أُحْيِي وَ أُمِيتُ بِإِذْنِ رَبِّي وَ أَنَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَ مَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ بِإِذْنِ رَبِّي وَ أَنَا عَالِمٌ بِضَمَائِرِ قُلُوبِكُم‏؛

نوح(ع)، کو غرق ہونےسےبچانےوالا میں ہوں ۔ یونس(ع)، کو مچھلی کےپیٹ سےنجات دینےوالے میں ہوں ۔ ابراہیم(ع)، کو فرعون کی آگ سےبچانےوالا ۔اللہ تعالی کےحکم سے۔ میں ہوں ۔ میں اللہ تعالی کےحکم سےزندہ کرتا ہوں، میں اللہ تعالی کےحکم سےمارتا ہوں، میں لوگوں کےگھروں اور دلوں کےحال بتاتا ہوں، میں تم لوگوں کےباطن سےآگاہ ہوں۔

امیرالمومنین(ع) کلام کرتے رہےیہاں تک کہ ارشاد فرمایا :

وَ الْأَئِمَّةُ مِنْ أَوْلَادِي ع يَعْلَمُونَ وَ يَفْعَلُون‏؛

یہ خصوصیتیں تمام ائمہ معصومین(ع) کی ہیں ۔ کیوں ؟ کیونکہ ہم ایک نور سےہیں اور لانا کلنا محمد؛ ہم سب کےسب محمد ہیں ۔

أَوَّلُنَامُحَمَّدٌوَآخِرُنَامُحَمَّدٌوَأَوْسَطُنَامُحَمَّدٌوَكُلُّنَامُحَمَّدٌفَلَاتَفَرَّقُوابَيْنَنَاوَنَحْنُ إِذَاشِئْنَاشَاءَاللَّهُ وَإِذَا كَرِهْنَا كَرِهَ اللَّه‏؛

ہم میں سےپہلا بھی محمد ہےاور آخری بھی محمد ہےاور بیچ والا بھی محمد ہے۔ ہم میں کوئی فرق نہیں اگر ہم چاہتے ہیں تو اللہ تعالی بھی چاہتا ہے۔ اگر ہم کسی چیز کو پسند نہیں کرتے تو اسےاللہ تعالی بھی پسند نہیں کرتا ۔

ان تمام باتوں سےنتیجہ نکلا کہ ائمہ معصومین(ع) تمام فضائل اور کمالات میں رسول اکرم(ص) کےبرابرہیں اور تمام ائمہ معصومین (ع) بھی تمام فضائل اور کمالات میں مشترک ہیں ۔

چوتھی مجلس

رسول اکرم(ص)اورامیرالمومنین(ع)کی مشترک خصوصیتیں

اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( فَسْئَلُواأَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُون ‏)

سورہ نحل، آیت ۴۳ ۔

اگرتم نہیں جانتے ہو تو جاننےوالوں سےدریافت کرو۔

امام علی(ع) نقی زیارت جامعہ میں ارشاد فرماتے ہیں :

السَّلامُ علیكُمْ يَا أَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ

سلام ہو آپ پر اے نبوت کےاہلبیت!

ہماری گفتگو زیارت جامعہ کےمتعلق تھی جو یہاں تک پہنچی کہ : بہت ساری حدیثوں سےاور روایتوں سےپتا چلتا ہےکہ ائمہ معصومین(ع) تمام فضائل اور کمالات میں رسول اکرم(ص) کےبرابرہیں اور تمام ائمہ معصومین (ع) بھی تمام فضائل اور کمالات میں مشترک ہیں ۔ جو بھی رسول اکرم(ص) کا کمال ہےوہ حضرت علی(ع) کا کمال ہےاور تمام ائمہ معصومین(ع) کا کمال ہےاس بات کی زیادہ وضاحت کیلئے ہم یہاں رسول اکرم(ص) اور امیرالمومنین(ع) کی چند مشترک خصوصیتیں بیان کرتے ہیں۔ ان مشترک خصوصیتوں کو اہلسنت کےدو بزرگ عالموں نےبیان کیا ہےایک کا نام سلمان بلخی ہےجنہوں نےاپنی کتاب ینابیع المودہ میں بیان کیا ہے۔ دوسرے بزرگ عالم کا نام میر سید علی ہمدانی ہےجنہوں نےاپنی کتاب مودہ القربی میں نقل کیا ہے۔

اخلاق حسنہ اورصفتوں میں برابری

رسول اکرم(ص)ایک روایت میں ارشاد فرماتے ہیں :

اشبه خلقک خلقی و اشبه خلقی خلقک؛

اے علی ! تیرا، اخلاق، صفتیں اور رفتار میری طرح ہےاور میرا، اخلاق، صفتیں اور رفتار تمہاری طرح ہے۔

قادتنا کیف نعرفھم، ج ۱ ، ص ۳۳۳ ۔

رسول اکرم(ص) اس حدیث میں صرف چند صفتوں کی بات نہیں کر رہےبلکہ رسول اکرم (ص) کا فرمان تمام اخلاق اور صفتوں کےبارے میں ہے۔ قرآن کا فرمان ہےکہ:

( وَ إِنَّكَ لَعَلى‏ خُلُقٍ عَظيم )

سوره قلم، آیت۴

رسول اکرم(ص) خلق عظیم کےمالک ہیں۔ حضرت علی (ع)کا اخلاق رسول اکرم(ص) کےاخلاق کی طرح ہےیعنی اے علی! انک لعلی خلق عظیم؛ حضرت علی (ع)بھی خلق عظیم کےمالک ہیں۔ یہاں دلچسپ نکتہ یہ ہےکہ رسول اکرم(ص) نےصرف حضرت علی (ع)کو خود سےتشبیہ نہیں دی بلکہ خود کو بھی حضرت علی (ع)سےتشبیہ دی ہےتاکہ یہاں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اصل اور فرع کی بات ہےنہیں! یہاں برابری ہےحضرت علی (ع)کو رسول اکرم(ص) جیسا کہیں یا، رسول اکرم(ص) کو حضرت علی (ع)جیسا کہیں کوئی فرق نہیں بات ایک ہی ہے۔

اللَّهُمَّ عَظُمَ الْبَلَاء والی دعا میں ہم پڑہتے ہیں یامحمد یاعلی، یاعلی یا محمد، علی کی جگہ محمد کا نام رکھتے ہیں اور محمد کی جگہ علی کا نام رکھتے ہیں ۔ ایک کی جگہ دوسرے کا نام رکھنا کس بات کی خبردیتا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہےکہ رسول اکرم(ص) کا نام پہلے لو یا حضرت علی (ع)کا بات ایک ہےکیونکہ یہ دونوں تمام کمالات میں برابر ہیں۔

اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَ لَوْلا فَضْلُ اللَّهِ علیكُمْ وَ رَحْمَتُه )

سورہ نور، آیت ۲۱

اوراگرتم پر اللہ کافضل اوراس کی رحمت نہ ہوتی۔

اس آیت کی تفسیرمیں موجود روایتوں میں آیا ہےکہ: فضل اللہ سےمراد رسول اکرم(ص) ہیں اور رحمتہ سےمراد حضرت علی (ع)ہیں۔

البرھان، ج ۱ ، ص ۳۹۸ ۔

یا دوسری روایت کےمطابق فضل اللہ سےمراد حضرت علی (ع)ہیں اور رحمتہ سےمراد رسول اکرم(ص) ہیں۔

ان روایتوں کا مقصد یہ ہےکہ فضل اللہ سےمراد رسول اکرم(ص) لیں یا حضرت علی (ع)بات ایک ہےاسلئے رسول اکرم(ص) نےارشاد فرمایا :

يَا علی أَنْتَ مِنِّي وَ أَنَا مِنْك‏؛

مناقب ابن شھر آشوب، ج ۲ ، ص ۳۳ ۔

اے علی ! تو مجھ سےہےاور میں تم سےہوں۔

اوپر والی روایت (شباہت والی روایت ) سےیہ بات بھی سمجھ میں آتی ہےکہ ہم قیامت تک رسول اکرم(ص) اور حضرت علی (ع)کی شباہتوں کو شمار کرتے رہیں پھر بھی ختم نہ ہونگی۔اس لئے جس سنی عالم نےاس روایت کو ذکر کیا ہےوہ عالم فرماتے ہیں : رسول اکرم(ص) اور حضرت علی (ع)کی شباہتیں آسمان کےستاروں اور صحراء میں موجود ریت کےذروں سےبھی زیادہ ہیں۔

خلقت میں برابری

رسول اکرم(ص) نےعبداللھ بن مسعود سےارشاد فرمایا:

كُنْتُ أَنَا وَ علی نُوراً بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ بِأَرْبَعَةَ عَشَرَ أَلْفَ عَام‏

بحار، ج ۳۵ ، ص ۲۴ ۔

میں اورعلی،خداکےسامنےایک ہی نورتھےخدا کےآدم کوپیداکرنےسےچودہ ھزارسال پہلے، پھرآدم کےصلب میں منتقل ہوئےپھراسی طرح ایک ہی نورکی صورت میں صلب ابراھیم میں قرارپائےیہاں تک کہ اس نورکےدو ٹکڑےہوےآدھ عبداللہ کےصلب میں اورآدھاابو طالب کےصلب میں منتقل ہوا۔خدانےفرمایا:میں اس نورکےدوحصےکرتاہوں پیغمب کونبوت اورامیرالمومنین (ع)کووصایت عطا کرتا ہوں۔

چودہ ہزارسال سےمرادشاید یہ ہوکہ خداوندنےحضرت آدم کوپیداکرنےسےپہلےچودہ معصومین کےنورکوپیداکیا۔

اخوت اوربرادری

ایک سنی عالم کا کہنا ہے:خداوندمتعال نےرسول اللہ کوحکم دیا کہ اپنےاورعلی کےدرمیان عقد اخوت پڑھے۔رسول اکرم(ص)نےجب ہجرت کےبعدمسلمانوں کےدرمیان عقد اخوت جاری کیا تو اس کام کو انجام دیا۔ اس برادری کا مطلب یہ تھا کہ کمالات، صفات اورمسئولیت کےاعتبار سےیہ دونوں معنوی برادر ایک جیسےہیں۔

اسی طرح رسول اللہ سےحدیث معراج میں منقول ہےکہ آپ نےفرمایا: جب میں معراج پر گیا تو کسی نےحجاب کےاس طرف سےندادی:

نِعْمَ الْأَبُ أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ وَنِعْمَ الْأَخُ أَخُوكَ علی‏ فاستوص به

طرائف، ص ۴۱۴ ۔

اچھے باپ حضرت ابراہیم ہیں اوراچھےبھائی علی ہیں اپنی امت کواسی کی وصیت کرنا اسےاپنا وصی بنانا۔

جن روایات کوشیعہ اورسنی دونوں نےنقل کیاہے،ان میں آیاہےکہ رسول اکرم(ص)نےجان کنی اوراحتضارکےوقت فرمایا:میرےبھائی کوکہوکہ میرےپاس آئےعائشہ اورحفصہ نےابوبکرکوبلانےکےلئےکہاجب وہ آئےتوپیغمبرنےفرمایا:میں نےکہاکہ میرےبھائی کوبلاوپھران دونوں نےعمرکو بلانےکیلئے کسی کوبھیجا۔ جب وہ آیا تو آنحضرت نےفرمایا: میں نےکہا کہ میرےبھائی کوبلاؤ۔ تیسری بارعثمان کوبلانےکیلئےکسی کوبھیجنا چاہاتو ام سلمہ نےچیخ کرکہا، کسی کوعلی کوبلانےکیلئےبھیجو کیاتمہیں پتانہیں کہ پیغمبرکابھائی علی ہے؟پھرمجبورامولاکوبلوانےکیلئےکسی کوبھیجا،جب امیرالمومنین تشریف لائے تو لوگوں کی طرف پیٹھ کر کےرسول اللہ سےباتیں کرنےلگےبعدجب حضرت سےپوچھا گیا کہ جب آپ لوگوں کی طرف پیٹھ کرکےبیٹھےتورسول اللہ نےآپ کوکیا فرمایا؟جواب دیا:رسول اللہ نےمجھےہزارباب کی تعلیم دی اور پھر ہر باب میں سےمیرے لئے دو ہزار باب کھولے

کافی، ج ۱ ، ص ۲۹۶ ؛ میزان الاعتدال، ج ۲ ، ص ۴۸۳ ۔

امام خمینی اس قضیہ کو بڑی اچھی تعبیرسےبیان کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے:علم کےوہ ہزارچشمے ان علوم میں سےنہیں ہیں جو ہم تک پھنچے ہیں مطلب یہ کہ علم فقہ، اصول، کلام وغیرہ نہیں ہیں بلکہ ان سےما فوق اور بڑہ کر ہیں ان کےپاس ایسےعلوم ہیں جن کو ہم سمجھ ہی نہیں سکتے، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کس قسم کےعلوم ہیں۔

صحیفہ نور، ج ۱۹ ، ص ۷ ۔

مدت عمرمیں برابری

رسول اکرم(ص)اورامام علی کی تیسری شباہت یہ ہےکہ ان دونوں کی مدت عمر ۶۳ سال تھی۔ ان سب میں کوئی رازہے۔منقول ہےکہ حضرت کی خدمت میں فالودہ لے کر آئے تو حضرت نےتناول نہیں کیا اور ارشاد فرمایا: میرے حبیب نےتناول نہیں کیا تو میں بھی نہیں کھاونگا۔

بحار، ج ۴۰ ، ص ۳۲۷ ۔

یعنی ان دو ہستیوں کا آپس میں اتنا گہرا رابطہ تھا یا یہ جو منقول ہےکہ حضرت علی (ع)کبھی بھی مکہ میں سوئے نہیں جب حضرت سےسوال کیا گیا کہ کیوں آپ مکےمیں سوئے نہیں، رات کو اتنی مشقت اٹھاتے ہیں کہ مکےسےباھر جا کر سوئیں؟ فرمایا: کیوں کہ میرے حبیب کو مکہ سےجلا وطن کیا گیا، میں نہیں چاہتا اس میں آرام کروں۔

علل الشرایع، ج ۲ ، ص ۳۱۱

بشرکی بنسبت اولی ہونا

وہ سنی عالم، احکام اور قوانین میں سب انسانوں کےبنسبت رسول اکرم(ص) اور علی کےاولی ہونےکیلئے اس آیت کو پیش کرتا ہے:

( إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهيمَ لَلَّذينَ اتَّبَعُوهُ وَ هذَا النَّبِي‏؛ )

سوره آل عمران، آیت۶۸

یقینا ابراہیم علیہ السّلام سےقریب تر ان کےپیرو ہیں۔

ابراہیم کےنزدیک وہی لوگ ہیں جو ایک تو حضرت ابراہیم کی اطاعت کریں اور دوسرا یے کہ اس رسول کو مانتے ہوں البتہ یہاں ابراہیم کی اطاعت سےرسول اللہ کی استثنا کی گئی ہے۔

پھر دوسری آیت لے آتا ہے:

( النَّبِيُّ أَوْلى‏ بِالْمُؤْمِنينَ مِنْ أَنْفُسِهِم )

سوره احزاب، آیت ۶ ۔

بیشک نبی تمام مومنین سےان کےنفس کےبہ نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔

جالب یہ ہےکہ یہ نہیں فرمایامِنْ فسِهِم بلکہ فرمایاہےمِنْ أَنْفُسِهِم کیونکہ مقصد یہ ہےکہ رسول اکرم(ص)لوگوں کی جان کی بنسبت،شخص و شخصیت کی بنسبت اولویت رکھتے ہیں،اولویت کا سبب یہ ہےکہ رسول اکرم(ص)وہی خداوالاحکم رکھتے ہیں،یعنی جس طرح خداکائنات پرحاکم ہے،رسول اللہ بھی حاکم ہیں۔اگرکہا جائےکہ کیوں حضرت خضرن جرم سےپہلے قصاص لیا اوراس جوان کو قتل کردیا؟ جواب میں ہم کہیں گے کہ جو کام نبی خدا سےصادر ہو وہ وہی ہےجو خدا سےصادر ہو۔

( مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ‏ اللَّه )

سورہ نسا ، آیت ۸ ۔

جو رسول کی اطاعت کرے گا اس نےاللہ کی اطاعت کی

( لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنينَ إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ؛ )

سورہ فتح، آیت۱۸۔

یقیناخداصاحبانِ ایمان سےاس وقت راضی ہوگیاجب وہ درخت کےنیچےآپ کی بیعت کررہےتھے

بریدہ نقل کرتا ہے: میں حضرت علی (ع)کےزیر رکاب یمن میں جھاد کر رہا تھا میں نےعلی میں کچھ دیکھا جب میں نےوہ بات رسول اللہ کو بتائی اور علی پر اعتراض کیا میں نےدیکھا کہ رسول اللہ کا مبارک چہرا سرخ ہو گیا اور آپ نےفرمایا:

أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِم‏

اے بریدہ کیا میں مومنین کی بنسبت ان سےزیادہ حق نہیں رکھتا ؟ میں نےعرض کیا جی ہاں آپ نےفرمایا:

فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعلی مَوْلَاهُ؛

یعنی جس طرح میں تم پر حق رکھتا ہوں میرے بعدعلی بھی تم سب پر زیادہ حق رکھتے ہیں۔

ینابیع المودہ، ج ۱ ، ص ۱۰۶ ۔

پہلےمسلمان

قرآن مجید میں ایک آیت ہےجو پہلے مسلمان کو بیان کر رہی ہے:

( لا شَريكَ لَهُ وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمين )

سورہ انعام، آیت۱۶۳۔

اس کا کوئی شریک نہیں ہےاور اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہےاور میں سب سےپہلا مسلمان ہوں۔

یہ آیت رسول اللہ کےبارے میں ہےآپ ارشاد فرماتے ہیں : پہلا مسلمان اور خدا کےسامنےپہلا تسلیم ہونےوالا میں ہوں پھر وہ سنی عالم کہتا ہے:

أَنَّ علیاً أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ

ینابیع المودہ، ج ۱ ، ص ۱۹۱

بتحقیق سب سےپہلےاسلام قبول کرنےوالےعلی ہیں اسی طرح رسول اکرم(ص)جو پہلے مسلمان ہیں، حضرت علی (ع)کیلئے فرمارہےہیں :

هَذَا أَفْضَلُكُمْ حِلْماً وَ أَعْلَمُكُمْ عِلْماً وَ أَقْدَمُكُمْ سِلْما علی حلم

بحار، ج ۳۸ ، ص ۸۸ ۔

میں تم سب سےافضل ہیں، علم میں تم سب سےبڑےعالم ہیں،اسلام میں تم سب پرسبقت کرنےوالےہیں۔ یعنی جس طرح پیغمبرپہلےمسلمان ہیں علی بھی پہلے مسلمان ہیں، خدا و رسول کےآگےتسلیم ہیں۔

پیغمبر و علی کےسائے تلے

وہ کہتاہے: ایک شخص رسول اکرم(ص)کی خدمت میں آیا، عرض کرنےلگا: یا رسول اللہ آپ انبیاءکےدرمیان کونسا منصب رکھتے ہیں ؟ حضرت نےفرمایا:

آدَمُ وَ مَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ؛

ینابیع المودہ، ج ۲ ، ص ۲۶۳ ۔

آدم اور اس کےبعد آنےوالے (چاہےنبی ہوں یا امتی) قیامت کےدن میرے پرچم تلے ہونگے۔ حضرت علی (ع)کےبارے میں بھی رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں :

بِيَدِهِ لِوَاءُ الْحَمْد؛

ینابیع المودہ، ج ۲ ، ص ۲۷۰ ۔

حق کا پرچم علی کےہاتھ میں ہوگا۔ اس جملے کی یہ معنی نہیں ہےکہ مولا کےہاتھوں میں ایک علم ہوگا جس کےسائے میں سب ہونگے بلکہ آپ تو ایک تکوینی اورحقیقی مطلب کو بیان کرنا چاہتے ہیں مطلب یہ کہ لوائےحمد کی حقیقت خود مولا علی ہےکیونکہ مولا علی کا فرمان ہے: بسم اللہ کی "با" کےنیچے والا نقطہ میں ہی ہوں

ینابیع المودہ، ج ۲ ، ص ۲۱۳ ۔

اور بشرسےصادر ہونےوالا پہلا حرف "با "ہےجیسا کہ اس آیت میں ہے

( أَ لَسْتُ بِرَبِّكُمْ قالُوا بَلى )

سورہ اعراف، آیت ۱۷۲۔

کیا میں تمھارا خدا نہیں ہوں تو سب نےکہا بیشک ہم اس کےگواہ ہیں۔

اس لئے خدا نےحرف با کا انتخاب کیا اور بسم اللہ میں اسےلے آئے۔

رسالات الاسلامیہ، ص ۸۹ ۔

پس علی کا ہاتھ یداللھ ہےوہ بھی ایسا ہاتھ جو تمام حقائق و معارف رکھتا ہےجو کچھ خدا کےہاتھ میں ہےوہ سب امیرالمومنین (ع) کےہاتھ میں ہے۔

پیغمبر کو ستانا، علی کو ستانا ہے

ستانےکےبارے میں خداوند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرمارہا ہے:

( إِنَّ الَّذينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيا وَ الْآخِرَةِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذاباً مُهينا )

سورہ احزاب، آیت۵۷

یقیناجولوگ خدا اور اس کےرسول کو ستاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہےاور خدا نےان کےلئے رسواکن عذاب مہیاّ کر رکھا ہے۔یہ ایک سنی عالم کہہ رہا ہے: رسول اللہ نےارشاد فرمایا:

مَنْ آذَى علیاً فَقَدْ آذَانِي وَ مَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّه‏؛

ینابیع المودہ، ج ۲ ، ص ۱۰۱ ۔

جس نےبھی علی کو تکلیف دی اس نےمجھے تکلیف دی جس نےمجھے ستایا اس نےخدا کو ستایا ۔

علی سےجدا ہونا

وہی سنی عالم، حضرت علی (ع)سےجدا ہونےکےبارے میں کہہ رہاہے:

مَنْ فَارَقَ علیاً فَقَدْ فَارَقَنِي و مَنْ فَارَقَنِي فَقَدْ فَارَقَ اللَّهَ ؛

ینابیع المودہ، ج ۱ ، ص ۱۷۳

علی سےمفارقت رسول اللہ سےمفارقت اورجدائی ہےکیونکہ رسول اللہ کاارشادہے:جوبھی علی سےجدا ہوا وہ مجھ سےجدا ہوا اورجومجھ سےجدا ہوا وہ خداسےجدا ہوا۔

ولایت علی

رسول اکرم(ص)اورمولا علی کی شباہتوں میں سےایک ولایت کامسئلہ ہےیعنی جس طرح رسول اکرم (ص) مومنین پرولایت رکھتےہیں اور ان کی ولایت قبول کئے بغیر کوئی بھی عبادت قبول نہیں ہوتی بالکل اسی اطرح مولا علی بھی ولایت رکھتے ہیں رسول اکرم(ص)نےفرمایا:

مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعلی مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ وَ انْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَ اخْذُلْ مَنْ خَذَلَه‏

ینابیع المودہ، ج ۱ ، ص ۹۸

رسول اکرم(ص)کس کےمولا ہیں؟ تمام انبیا، فرشتوں کےبلکہ پوری کائنات کےمولا ہیں یعنی رسول اکرم(ص)فرما رہےہیں : خدایا میں جس کابھی مولا ہوں، درجہ اورمرتبہ کوکم زیادہ کئےبغیر علی بھی اس کےمولا ہیں۔


3

4

5

6

7