آفتاب عدالت

آفتاب عدالت13%

آفتاب عدالت مؤلف:
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 455

آفتاب عدالت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 455 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 181095 / ڈاؤنلوڈ: 5446
سائز سائز سائز
آفتاب عدالت

آفتاب عدالت

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۲

کتاب کانام: آفتاب عدالت

مؤلف : آیت اللہ ابراہیم امینی

ترجمہ : نثار احمد زینپوری

ناشر : انصاریان پبلیکیشنز قم ایران

نظرثانی : حجة الاسلام مولانا نثار احمد صاحب

کتابت : سید قلبی حسین رضوی کشمیری

سال طبع : ذی الحجة الحرام سہ ۱۴۱۵ ھ

تعداد : ۳۰۰۰

پریس کانام بہمن قم

۳

بسم الله الرحمن الرحیم

اللهمّ کن لوليّک الحجة

بن الحسن صواتک علیه

و علی آبائه فی هذه الساعة و

فی کل ساعة ولیاً و حافظاً

و قاعداً و ناصراً و دلیلاً و عینا

حتی تسکنه ارضک طوعاً

و تمتعه فیها طویلاً

۴

پیش گفتار

زندہ اور غائب امام حضرت مہدی موعود کے وجود کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے جو کہ امامیہ مذہب کے ارکان میں شمار ہوتا ہے _ یہ عقیدہ متواتر اور قطعی الصدور احادیث سے ثابت ہوچکا ہے _ اس میں شک کی گنجائشے نہیں ہے _ لیکن اس سلسلے میں بہت سے مسائل تحقیق کے محتاج ہیں _ جیسے : طول عمر ، طولانی غیبت ، غیبت کی وجہ ، زمانہ غیبت میں امام زمانہ کے فوائد ، غیبت کے زمانہ میں مسلمانوں کے فرائض ، ظہور کی علا متیں ، حضرت مہدی کا عالمی انقلاب ، آپ(ع) کی کامیابی کی کیفیت ، حضرت مہدی کی فوج کا اسلحہ ، ان کے علاوہ اور دسیوں مسئلے ہیں ، کیونکہ مخالفین جوانوں اور تعلیم یافتہ طبقہ کے در میان کتابوں اور تقاریر کی صورت میں ان ہی باتوں کو اعتراضات کا نشانہ بنا تے ہیں _ ان کا جواب دینا ضروری ہے _ با وجودیکہ امام زمانہ روحی فداہ کے بارے میں بہت سی کتا بیں لکھی جا چکی ہیں مگر افسوس کہ لکھنے والے ان اعتراضات کی طرف متوجہ نہیں تھے _ لہذا ان کا جواب بھی نہیں دیا _ مؤلف ان اعتراضات سے واقف تھے چنانچہ ان کا جواب دینے کی غرض سے کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا تا کہ امام زمانہ(ع) سے متعلق ایسے صحیح مطالب قارئین کی خدمت میں پیش کئے جائیں جو کہ ان کی ضرورت کو پو را کرسکیں خدا کی توفیق شامل حال ہوئی اور ۱۳۴۶ ق ش میں یہ کتاب طبع ہوکر شائفین کے ہاتھوں میں پہنچ گئی _ لیکن مؤلف ہمیشہ اس کی تکمیل کی فکر میں رہے اور ہیں _ چنانچہ ۱۳۴۷ ق ش میں نظر ثانی اور اضافات کے ساتھ دوسرے ایڈیشن طبع ہو کر شائفیں تک پہنچ گیا ، اس کے بعد

۵

اگر چہ آج تک یہ کتاب مستقل چھپتی رہی لیکن تجدید نظر کے لئے فرصت نہ مل سکی _ یہاں تک کہ اس زمانہ میں توفیق نصیب ہوئی اور نئے مطالب جمع ہوگئے _ لہذا نظر ثانی اور سودمند اضافات کے ساتھ شائقین کی خدمت میں حاضر ہے _ واضح رہے ہمیشہ کی طرح کتاب ہذا کی فائل کھلی رہے گی _ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنی تحقیقات اور مشور وں سے نوازیں شکریہ

ابراھیم امینی قم _ مارچ ۱۹۹۵ئ

۶

مقدمہ

دنیا کے آشفتہ اور افسوس ناک حالات نے لوگوں کو خوف زدہ کر رکھا ہے ، اسلحہ کی دوڑ ، سردو گرم جنگ اور مشرق و مغرب کے درمیان صف آرائی اور وحشت ناک بحرانوں نے دنیا والوں کے دل و دماغ کو فرسودہ کردیا ہے _ جنگی اسلحہ کی پیدا وار اور بہتا ت، نسل آدم کو تہدید کررہی ہے ، عالمی دہشت گردوں اور خودسروں نے پسماندہ قوموں کو زندگی کے حق سے بھی محروم کردیا ہے ، پسماندہ طبقے کی روز افزوں محرومیت ، دنیا کے بیماروں اور بھوکے لوگوں کا استغاثہ و امداد طلبی اوربڑھتی ہوئی بیکاری نے حساس و زندہ دل و خیراندیش اشخاص کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے_ اخلاقی تنزل ،دینی امور سے بے پروائی ، احکام الہی سے روگردانی ، مادہ پرستی اور شہوت رانی میں افراط نے دنیا کے روشن خیال افراد کو مضطرب کردیا ہے _

یہ اور ایسے ہی سیکڑوں حالات نے عاقبت اندیشی اور بشر کے خیرخواہ و اصلاح طلب افراد کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور انسانیت کی تباہی و پستی کے اندیشے کی گھنٹیاں ان کے کانوں میں بج رہی ہیں_ وہ انسان کی مشکلیں حل کرنے اور عالمی بحران کو دفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس لئے ہر در پردستک دیتے ہیں لیکن جتنی کوششیں کرتے ہیں اتنی ہی مایوسی سے دوچار ہوتے ہیں _ کبھی اس حد تک مایوس ہوجاتے ہیں کہ انسان کی اصلاح کی قابلیت ہی کا انکار کردیتے ہیں اور دنیا کے مستقبل کے بارے میں بد ظن ہوجاتے ہیں اور اس کے بھیانک نتائج سے لرزہ بر اندام رہتے ہیں اور دنیائے انسانیت کی مشکلیں حل

۷

کرنے کے سلسلے میں عاجزی کا اظہار کرتے ہیں _ اس سے بڑھ کر ، کبھی غیظ و غضب کی شدت کی بناپر انسانیت کے ارتقاء کے بھی منکر ہوجاتے ہیں اور اس کے علم و صنعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جبکہ کبھی عام حالات میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ علم و صنعت کی کوئی غلطی نہیں ہے بلکہ سرکش اور خودخواہ انسان اس سے غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور اصلاح کی بجائی اس سے فساد کی طرف لے جاتا ہے _

دنیا کا مستقبل شیعوں کی نظر میں

لیکن شیعوں نے یاس و ناامیدی کے دیو کو کبھی اپنے پاس نہیں آنے دیا ہے وہ انسان کی عاقبت اور سرنوشت کے بارے میں نیک توقع رکھتے ہیں _ دنیا کے نیک و شریف انسانوں کو کامیباب تصوّر کرتے ہیں _ وہ کہتے ہیں ( اس بات کو ثابت بھی کردیا ہے) کہ یہ مختلف قسم کے پروگرام اور بشر کے خود ساختہ دل فریب مسلک انسان کو بدبختی کے گرداب سے نہیں نکال سکتے اور عالمی خطرناک بحران کا علاج نہیں کر سکتے ہیں بلکہ وہ صالح بشر کی کامیابی و سعادت کیلئے صرف اسلام کے متین و جامع قوانین ، جن کا سرچشمہ منبع وحی ہے ، کو کافی سمجتھے ہیں _

وہ ایک روشن مستقبل کی پیشین گوئی کرتے ہیں _ جس زمانہ میں انسان حد کمال کو پہنچ جائے گا اور دنیا کی حکومت کی زمام ایسے معصوم امام کے ہاتھ میں ہوگی جو کہ غلطی و اشتباہ اور خود غرضی و خودخواہی سے پاک ہوگا _ کلی طور پر شیعہ امیدوار بنانے والے عطیات کے حال ہیں ، انہوں نے اس تاریک زمانہ میں بھی اپنے ذہن میں حکومت الہی کا نقشہ بنا رکھا ہے اور اس کے انتظار میں زندگی گزاررہے ہیں اور اس عالمی انقلاب کیلئے

۸

تیارہیں _

انتظار فرج اور ظہور میں تاخیر کی وجہ

شیعوں کے دشمن جن چیزوں پر اعتراض کرتے ہیں ان میں سے ایک مہدی موعود پر ایمان اور انتظار فرج ہے _ وہ کہتے ہیں کہ : شیعوں کی پسماندگی کا ایک سبب مصلح غیبی پر ایمان رکھنا ہے _ اس عقیدہ نے شیعوں کو بے پروا اور کاہل بنادیا ہے ، اجتماعی کوشش سے بازر کھا ہے اور ان سے علمی ترقیات و فکری اصلاحات کی صلاحیت سلب کرلی ہے _ چنانچہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں ذلیل و رسوا ہیں اور اب اپنے امور کی اصلاح کیلئے امام مہدی کے ظہور کے منتظر ہیں

ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ ہم شیعہ اور مسلمانوں کے انحطاط کے اسباب کی تحقیق کریں لیکن اجمالی طور پر یہ بات مسلّم ہے کہ اسلام کے احکام و عقائد مسلمانوں کے انحطاط و پستی کا باعث نہیں بنے ہیں بلکہ خارجی اسباب و علل نے دنیائے اسلام کو پستی میں ڈھکیلا ہے ، یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ آسمانی مذاہب میں سے اسلام سے زیادہ کسی نے بھی ملت کی ترقی و عظمت اور اس کے اجتماعی امور کی تاکید نہیں کی ہے _ اسلام نے اپنے ماننے والوں کیلئے ظلم و فساد سے جنگ اور نہی عن المنکر کو لازمی قرار دیا ہے اور اجتماعی و سماجی اصلاحات ، عدل پرستی اور امر بالمعروف کو دین کے واجبات میں شامل کیا ہے _ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ یہ سارے مسلمانوں پر واجب ہیں تا کہ ایک گروہ خود آمادہ کرے _

''تم میں سے ایک گروہ کو ایسا ہونا چاہئے کہ جو خبرکی دعوت دے ، نیکیوں کاحکم دے برائیوں سے منع کرے اور ایسے ہی لوگ

۹

نجات یافتہ ہیں ''_(۱)

بلکہ ان دو فریضوں کو مسلمانوں کے افتخارات میں شمار کرتا ہے اور فرماتا ہے :

'' تم دنیا میں بہترین امت ہو کیونکہ تم امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہو''(۲)

پیغمبر (ص) مسلمانوں کے امور کی اصلاح کی کوشش کو اسلام کا رکن اور مسلمان ہونے کی علامت قراردیتے ہوئے فرماتے ہیں :'' جو بھی دنیائے اسلام کی طرف سے بے پروائی کرے ، کوشش نہ کرے ، اہمیت نہ دے ، وہ مسلمان نہیں ہے '' _

قرآن مجید دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کو مسلح اور تیار رہنے کا حکم دیتا ہے : ''جہاں تک ہوسکے دشمنوں کے مقابلہ میں خود کو مسلح و آمادہ کرو اور انھیں دہشت زدہ کرنے کیلئے جنگی توانائی کو مضبوط بناؤ''(۳)

اب ہم آپ ہی سے پوچھتے ہیں : ان آیتوں اور اس سلسلے میں وارد ہونے والی سیکڑوں احادیث کے باوجود اسلام نے مسلمانوں سے یہ کب کہا ہے کہ وہ دنیا کی علمی ترقی و صنعت سے آنکھیں بند رکھیں اور اسلام کیلئے جو خطرات ہیں انھیں اہمیت نہ دیں اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسلام اور مسلمانوں کی حمایت کیلئے ظہور امام مہدی (ع) کے منتظر رہیں؟ اور دنیائے اسلام پر ہونے والے حملوں کے سلسلے میں خاموش رہیں اور ایک مختصر جملہ _ '' اے اللہ: ظہور مہدی میں تعجیل فرما'' کہکر میدان چھوڑدیں

ہم نے اپنی کتاب میں یہ بات تحریر کی ہے کہ انتظار فرج بجائے خود کامیابی کا راز ہے _ چنانچہ جب کسی قوم و ملت کے دل میں چراغ امید خاموش ہوجاتا ہے اور یاس

____________________

۱_ آل عمران / ۱۰۴

۲_ آل عمران /۱۱۰

۳_ انفال / ۶۰

۱۰

و ناامیدی کا دیواس کے خانہ دل میں جایگزیں ہوجاتا ہے توہ کبھی کامیابی و سعادت کا منھ نہیں دیکھ سکتی ہے جو لوگ اپنی کامیابی کے انتظار میں ہیں انھیں اپنے آخری سانس تک کوشاں رہنا چاہئے اور اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے راستہ ہموار کرنا چاہئے اور مقصد سے بہرہ مند ہونے کیلئے خود کو آمادہ کرنا چاہئے _

امام جعفر صادق (ع) کا ارشاد ہے کہ : '' ضرور آل محمد (ص) کی حکومت قائم ہوگی لہذا جو شخص امام زمانہ کے انصار میں شامل ہوناچاہتا ہے اسے بھر پور طریقہ سے متقی و پرہیزگار بننا اور نیک اخلاق سے آراستہ ہونا چاہئے اور اس کے بعد قائم آل محمد (ص) کے ظہور کا انتظار کرنا چاہئے _ جو بھی اس طرح ہمارے قائم کے ظہور کا انتظار کرے اور اس کی حیات میں مہدی (ع) کا ظہور نہ ہو بلکہ ظہور سے قبل ہی مرجائے تو اسے زمانہ کے انصار کے برابر اجر و ثواب ملے گا'' _ اس کے بعد آپ نے فرمایا:'' کوشش و جانفشانی سے کام لو اور کامیابی کے منتظر رہو ، اس معاشرہ کو کامیابی مبارک ہو جس پر خدا کی عنایات ہیں ''_(۱)

اسلام نے مسلمانوں کی تیاری کو بہت اہمیت دی ہے، اس کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ امام صادق نے فرمایا:'' ظہور قائم کے لئے تم خود کو تیار رکھو اگر چہ ایک تیر ہی ذخیرہ کرنے کے برابر ہو '' _(۲)

خدا نے مقرر کردیا کہ دنیا کے پراگندہ امور کی مسلمانوں کے ذریعہ اصلاح ہو اور ظلم و ستم کا جنازہ نکل جائے اور کفر و الحاد کی جڑیں کٹ جائیں ، پوری دنیا پر اسلام کا پرچم لہرائے کوئی سوجھ بوجھ رکھنے والا اس میں شک نہیں کرستا کہ ایسا

____________________

۱_ غیبت نعمانی ص ۱۰۶_

۲_ بحار الانوار ج ۵۲ ص ۳۶۶_

۱۱

عالمی انقلاب مقدمات اور وسائل کی فراہمی کی بغیر ممکن نہیں ہے _

قرآن مجید نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ روئے زمین پرحکومت کیلئے شائستگی ضروری ہے _ خداوند عالم کا ارشاد ہے :'' ہم نے لکھدیا ہے کہ زمین کے وارث ہمارے صالح بندے ہوں گے ''(۱) مذکورہ مطالب کے پیش نظر کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس انقلاب کا علم بردار مسلمانوں کو ہونا چاہئے وہ اس کے مقدمات و اسباب فراہم نہ کریں اور اس سلسلے میں ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ؟ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ کوئی عقلمند اس بات کو تسلیم کرے گا _

ایک پیغام

غیرت دار مسلمانو غفلت کا زمانہ ختم ہوچکا ہے ، خواب غفلت سے اٹھو اختلافات سے چشم پوشی کرلو ، پرچم توحید کے نیچے جمع ہوجاؤ ، اپنی زمام مشرق و مغرب کے ہاتھ میں نہ دو ، ہرجگہ تہذیب و تمدن انسانیت کے طلایہ دار بن جاؤ_ اپنی عظمت و استقلال اور تہذیب و تمدن کے محل کو اسلام کے محکم پایوں پر استوار کرو _ روح قرآن سے الہام حاصل کرو ، اسلام کی عزّت و سربلندی کی راہ پر چل کھڑے ہو ، مشرق و مغرب کے غلط اورزہریلے افکار کو لگام چڑھادو بشری تمدن کے قافلے کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لے لو ، اپنی عظمت و حریت حاصل کرو ، جہالت و نادانی اورفکری جمود و خرافات سے جنگ کرو _ جوانو اسلام کے حقائق سے واقفیت پیدا کرو تا کہ استعماری دیو تم سے مایوس ہوجائے اور تمہارے مرزوبوم (سرزمین) سے فرار کرجائے _

____________________

۱_ انبیائ/۱۰۵_

۱۲

پیارے مسلمانو عزت و اقتدار شائستہ اور صالح لوگوں سے مخصوص ہے ، تم نے اپنی شائستگی کو ثابت کردیا ہے _ قرآن کے اجتماعی ، اقتصادی اور اخلاقی علوم کے گراں بہا منابع کو حاصل کرو ، دنیا والوں کے سامنے اسلام کے تئیں اصلاحی پروگرام کو پیش کرو اور اپنے عمل سے یہ ثابت کردو کہ اسلام صرف عبادت گا ہوں میں گوشہ نشینی کی تلقین نہیں کرتا ہے بلکہ وہ بشر کی ترقی و سرفرازی کے اسباب فراہم کرتا ہے _ تم دنیا کے خیر اندیش افراد کی امید بندھا دو اور اس مقدس جہاد میں انھیں بھی مدد کرنے کی دعوت دو اور دنیائے انسانیت کے قافلہ تمدن و خیرخواہی کی قیادت کرو _

اے جوانان اسلام اس مقدس جہاد اور انسانیت کے عظیم مقصد و ذمہ داری کو پورا کرنے میں تمہارا بہت بڑا حصہ ہے _ تمہیں عظمت اسلام، مسلمانوں کی ترقی اور امام زمانہ (عج) کے مقصد کی تکمیل میں بھرپور طریقہ سے کوشش کرنا چاہئے _ تمہیں آفتاب عدالت حضرت مہدی (ع) کے اصحاب میں شامل ہونا چاہئے کہ جن کے بارے میں امیر المؤمنین(ع) فرمایا ہے:'' مہدی موعود کے سارے اصحاب وانصار جوان ہوں گے ، ان میں بوڑھے کمیاب ہوں گے '' _(۱)

و من اللہ التوفیق

ابراہیم امینی

حوزہ علمیہ قم _ ایران

فروردین ۱۳۷۴ (مارچ ۱۹۹۵ء)

____________________

۱بحارالانوارج۵۲ص۳۳۳

۱۳

بسم اللہ الرحمن الرحیم

میں نے ایک انٹر کالج میں منعقد ہونے والی محفل میں شرکت کی _ یہ باشکوہ محفل ۱۵ / شعبان کو امام زمانہ کی ولادت کے سلسلے میں منعقد ہوئی تھی _ بڑی ہی آراستہ و پیراستہ محفل تھی ، اس میں ہر طبقے کے لوگ شریک تھے جبکہ اکثریت تعلیم یافتہ اور جوانوں کی تھی ، اس کا نظم و نسق اس کالج کی انجمن اسلامی کے ہاتھ میں تھا_

پروگرام کا آغاز ایک کمسن بچے نے کلام پاک کی تلاوت سے کیا _ اس کے بعد دوسرا طالب علم نے امام زمانہ کے بارے میں اشعار پڑھے، پھر ایک طالب علم کالکھا ہوا بہت ہی دلچسپ مقالہ پڑھاگیا _ پروگرام کے اختتام پر مذکورہ کالج کے پرنسپل جناب ہوشیار صاحب نے امام زمانہ (ع) کے سلسلے میں بصیرت افروز تقریر کی _ اور بعد از آں شیرینی و غیرہ سے ضیافت کی گئی _ مذکورہ پروگرام سے سب ہی متاثر تھے لیکن میں اں سب سے زیادہ متاثر تھا _ میں آرائشے اور مہمان نوازی کے وسائل سے متاثر نہیں ہواتھا_ بلکہ میں ان جوانوں کی پاکیزہ روح سے متاثر ہوا تھا جو کہ دین و دانش کے جمع کرنے کے ساتھ حقائق و معارف کی اشاعت ، اور عمومی اذہان و افکار کوروشن کرنے میں بے پناہ کوشش کررہے تھے _ ملّت کے نونہالوں کی روح پاکیزگی ، بلند ہمتی اور صفائے قلب محفل کے درودیوارسے عیاں تھی وہ ذوق و شوق اور گرم جوشی سے شرکت کرنے والوں کا استقبال و مدارات کررہے تھے_

ان روشن فکر اور حوصلہ مند جوانوں نے مجھے مسلمانوں کے تابناک مستقبل کے بارے میں مطمئن کردیا _ میں نے ان کے دوش پر قوم کی تہذیب و ترقی کا پرچم دیکھا تو میری آنکھوں میں

۱۴

خوشی کے آنسو ڈبڈبانے لگے اور اس کالج کی انجمن اسلامی اور طلبہ کی کمیٹی اور ان کی بلند ہمتی کو میں نے دل کی گہرائی سے سراہا اور خداوند عالم سے ان کی کامیابی کیلئے دعا کی _

اسی اثناء میں انجینئر مدنی صاحب نے _ جو کہ جناب ہوشیار صاحب کے پاس بیٹھے تھے _ کہا:'' کیا آپ لوگ واقعاً امام غائب پر عقیدہ رکھتے ہیں؟ کیا آپ کے عقیدہ کی بنیاد تحقیق پر استوار ہیں یا تعصب کی بناپر اس سے دفاع کرتے ہیں؟

ہوشیار: میرا ایمان اندھی تقلید کی بناپر نہیں ہے _ میں نے تحقیق و مطالعہ کے بعد یہ عقیدہ قبول کیا ہے ، پھر بھی اس عقیدہ پر نظر ثانی اور تحقیق کیلئے تیارہوں _

انجینئر: چونکہ امام زمانہ (عج) کا موضوع میرے لئے بخوبی واضح نہیں ہے اور ابھی تک اس سلسلے میں ، میں خود کو مطمئن نہیں کر سکا ہوں، اس لئے آپ سے بحث و تبادلہ خیال کے ذریعہ آپ کے مطالعہ سے مستفید ہونا چاہتاہوں _

ڈاکٹر امامی اور فہیمی : اگر ایسی کوئی نشست کا اہتمام ہوا تو ہم بھی اس میں شرکت کریں گے _

ہوشیار: جو وقت بھی آپ لوگ مقرر کریں میں حاضر ہوں _

آخر کار مناظرہ کے لئے ہفتہ کی شب کا تعین ہوااور اسی پر جشن ختم ہوگیا ، ہفتہ کی شب میں انجینئر صاحب کے گھر پر مجلس مناظرہ منعفد ہوئی رسمی چائے و غیرہ کے بعد ۸ بجے مناظرہ کی کاروائی شروع کرنے کا اعلان ہوا _

۱۵

عقیدہ مہدویت کا آغاز

ڈاکٹر: اسلامی معاشرہ میں عقیدہ مہدی کب داخل ہوا؟ کیا پیغمبراسلام کے زمانہ میں بھی اس کا تذکرہ ملتا ہے یا اس عقیدہ نے آپکی رحلت کے بعد مسلمانوں کے درمیان شہرت پائی ہے ؟ بعض صاحبان قلم نے لکھا ہے کہ : صدر اسلام میں اس عقیدہ کا کہیں نام و نشان نہیں تھا _

ایک جماعت محمد بن حنفیہ کو مہدی کہتی ہے اور ان کے ذریعہ اسلام کے ارتقاء کی خوش خبری سنائی اور جب ان کاانتقال ہوگیا تو کہا: وہ مرے نہیں ہیں بلکہ رضوی نامی پہاڑ میں چلے گئے اور ایک دن ظہور کریں گے _

ہوشیار: عقیدہ مہدی صدر اسلام ہی سے مسلمانوں کے درمیان مشہور تھا اور پیغمبر اسلام (ص) نے ایک بار نہیں بلکہ بار بار مہدی کے وجود کی خبر دی اور کبھی تو امام مہدی کی حکومت اور ان کے اسم و کنیت کو بھی بیان کرتے تھے _

اس سلسلے میں آپ (ص) نے جو احادیث بیان فرمائی ہیں وہ شیعہ و سنی طریقوں سے ہم تک پہنچی ہیں ، اور توا تر کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں ، ان میں سے چند نمونے کے طور پر آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں :

عبداللہ بن مسعود نے پیغمبر اکرم (ص) سے روایت کی ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: '' اس وقت تک دنیا کا خاتمہ نہ ہوگا جب تک میرے اہل بیت سے مہدی نام کا ایک شخص لوگوں

۱۶

پر حکومت نہیں کرے گا ''_(۱)

ابوالجحاف نے بیان کیا ہے کہ رسول خدا نے تین مرتبہ فرمایا: '' میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں _ جب لوگوں میں شدید اختلاف ہوگا اور سخت مشکلوں میں گھرے ہوں گے اور زمین ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی اس وقت ظہور کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے پر کریں گے اور اپنے پیروکاروں کے دلوں کو عبادت اور عدل گستری کے جذبہ سے بھردیں گے '' ( ۲)_

آپ (ص) ہی کا ارشاد ہے :'' اس وقت تک قیامت بر پا نہ ہوگی جب تک ہمارا برحق قائم قیام نہ کرے گا _ جب خدا حکم دے گا تو ظہور کرے گا _ جو شخص ان کی پیروی کرے گا ، نجات پائے گا اور جوروگردانی کرے گا ، وہ ہلاک ہوجائے گا _ خدا کے بندو خدا پر نظر رکھوجب بھی مہدی (عج) کا ظہور ہو تو فوراً ان کی طرف دوڑو اگر تمہیں برف کے اوپر ہی سے چل کرجانا پڑے کیونکہ وہ خلیفة اللہ ہیں ''(۳)

آپ (ص) ہی نے فرمایاہے :'' جو میرے بیٹے قائم کا انکار کرے گویا اس نے میرا انکار کیا ہے ''(۴) نیز فرمایا :'' دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک حسین (ع) کی اولاد میں سے ایک شخص میری امت کا حاکم نہ ہوگا جو کہ دنیا کو اس طرح عدل و انصاف سے پرکرے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہوگی''(۵)

____________________

۱_ بحار الانوار طبع اسلامیہ سنہ ۱۳۸۴ ھ ج ۵۱ ص ۷۵ _ اثبات الہداة ط ۱ ج ۷ ص ۹ _

۲_ بحار الانوار ج ۵۱ ص ۷۴_

۳_ بحار الانوار ج ۵۱ ص ۶۵ و اثبات الہداة ج ۶ ص ۲۸۲_

۴_ بحارالانوار ج ۵۱ ص ۷۳_

۵_ بحارالانوار ج ۵۱ ص ۶۶_

۱۷

مہدی (ص) عترت نبی (ص) سے ہیں

ایسی احادیث بہت زیادہ ہیں بلکہ ان میں سے اکثر سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حضرت امام مہدی اور قائم کا موضوع زمانہ رسول (ص) میں ایک مسلم عقیدہ تھا اور آپ (ص) مسلمانوں کے سامنے کسی نئی خبر کے عنوان سے پیش نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے آثار و علامتیںبیان کرتے تھے اور فرماتے تھے:'' مہدی اور قائم میری عترت سے ہوگا '' _

حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیں :'' میں نے رسول (ص) خدا کی خدمت میں عرض کی : کیا مہدی موعود ہم میں سے ہوگا یا ہمارے غیرمیں سے ؟ فرمایا : ہم میں سے ہوگا _ ان ہی کے ذریعہ خدا دین کو تمام کرے گا جیسا کہ اس کی ابتداء میرے ہاتھ سے ہوئی ہے ، اور ہمارے ذریعہ لوگ فتنوں سے نجات پائیں گے جیسا کہ ہمارے ہی وسیلہ سے شرک سے نجات پائی ہے ہمارے طفیل میں خدا انکے دلوں سے پرانی کدور تین ختم کرے گا جیسا کہ اس نے شرک و بت پرستی کے زمانہ کی دشمنی کے بعد دین میں انھیں باہم مہربان بنادیا ہے اور وہ ایک دوسرے کے بھائی بن گئی ہیں '' _(۱)

ابو سعید خدری کہتے ہیں :'' میں نے سنا کہ رسول(ص) نے بالائے منبر سے فرمایا : مہدی موعود میرے اہل بیت سے ہوگا ، آخری زمانہ میں ظہور کرے گا ، آسمان ان کے لئے بارش برسائے گا اور زمین سبزہ اگائے گی ، وہ زمین کو ایسے ہی عدل و انصاف سے پرکریں گے جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی''_(۲)

ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول (ص) خدا سے سنا کہ آپ (ص) نے فرمایا: '' مہدی میری عترت اور

____________________

۱_ بحارالانوار ج ۵۱ ص ۸۴و اثبات الہداة ج ۷ ص ۱۹۱ و مجمع الزوائد تالیف علی بن ابی بکر ہیثمی ط قاہرہ ج ۷ ص ۱۳۱۷_

۲_ بحارالانوار ج ۵۱ ص ۷۴و اثبات الہداة ج ۷ ص ۹_

۱۸

اولاد فاطمہ (ع) سے ہوگا ''_ (۱)

رسول خدا (ص) نے فرمایا :'' قائم میری ذریت سے ہوگا، اس کا نام میرا نام ، اس کی کنیت میری کنیت اور اس کی عادت میری عادت ہے _ وہ لوگوں کو میرے دین و مذہب اور کتاب خدا کی طرف بلائے گا_ جس نے اس کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی_ جس نے س کی غیبت کے زمانہ میں اس کا انکار کیا اس نے میرا انکار کیا جس نے اس کی تکذیت کی اس نے میرے تکذیب کی ، جس نے اس کی تصدیق کی اس نے میری تصدیق کی _ او رمیں اسکی تکذیب کرنے والے اور اس کے بارے میں اپنی حدیث کے انکار کرنے والے اور امت کو گمراہ کرنے والے کی خدا سے شکایت کروں گا _ ظالم عنقریب اپنے لئے کا نتیجہ دیکھ لیں گے ''(۲)

ابو ایوب انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رسول (ص) خدا کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ (ع) نے فرمایا : '' میں پیغمبروں کا سردار ہوں اور علی (ع) اوصیاء کے سردار ہیں اور میرے دو بیٹے بہترین بیٹے ہیں _ ہمارے معصوم ائمہ حسین (ع) کی اولاد سے ہوں گے اور اس امت کا مہدی ہم میں سے ہوگا'' یہ سن کر ایک صحرا نشین شخص اٹھا اور عرض کی :'' اے اللہ کے رسول (ص) آپ (ع) کے بعد کتنے امام ہوں گے ؟ فرمایا: ''جتنے عیسی کے حواری ، بنی اسرائیل کے نقباء اور اسباط تھے''(۳)

حذیفہ نے روایت کی ہے کہ رسول (ص) خدا نے فرمایا :'' میرے بعد اتنے ہی امام ہوں گے جتنے بنی اسرائیل کے نقباء تھے_ ان میں سے نو حسین کی نسل سے ہوں گے او راس امت کا مہدی ہم میں سے ہوگا _ آگاہ ہوجاؤ وہ حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے _ دیکھو

____________________

۱_ بحار ج ۵۱ ص ۷۵_

۲_ بحار ج ۵۱ ص ۷۳_

۳_ اثبات الہداة ج ۲ ص ۳۵۱_

۱۹

میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کروگے ''_ (۱)

سعید بن مسیب نے عمر اور عثمان بن عفان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:'' ہم نے رسول (ص) خدا سے سنا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: میرے بعد بارہ امام ہوں گے _ ان میں سے نو حسین (ع) کی اولاد میں سے ہوں گے اور اس امت کا مہدی ہم میں سے ہوگا _ میرے بعد جو بھی ان سے تمسک کرے وہ یقینا خدا کی مضبوط رسی کو تھام لے گا او رجو انھیں چھوڑ دے گا وہ خدا کو چھوڑ دے گا ''_(۲)

____________________

۱_ اثبات الہداة ج ۲ ص ۵۳۳_

۲_ اثبات الہداة ج ۲ ص ۵۲۶_

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

مبارزت: مبارزت كا خوف ١٧

مجاہدين : احد كے مجاہدين ٢

مسلمان : ١ ، ٦ ، ٧ صدر اسلام كے مسلمان ١٠;مسلمانوں كى شكست ٤

منافقين : منافقين كا اعتراض ٧ ; منافقين كاسلوك ٨، ٩; منافقين كا غم و اندوہ ٥;منافقين كى بہانہ تراشى ٩; منافقين كى جانب سے قدر و قيمت كا اندازہ ٦;منافقين كى حسرت ٥ ;منافقين كى خصوصيات ١٢; منافقين كى خودپسندى ١٢ ;منافقين كى خوشنودى ٣; منافقين كى رخنہ اندازى ٨، ٩;منافقين كى سازش،١; منافقين كى سرزنش ٦;منافقين كى سوچ و فكر ٢ ، ٣ ، ١١ ، ١٣ ، ١٦ ، ١٨; منافقين كى كمزورى ١٨

موت: موت كا سرچشمہ١٤;موت كا مقرر ہونا ١٥ ، ١٧

آیت (۱۶۹)

( وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ) اور خبردار راہ خدا ميں قتل ہونے والوں كو مردہ خيال نہ كرنا وہ زندہ ہيں اور اپنے پروردگار كے يہاں رزق پار ہے ہيں _

١_ بعض لوگوں كى طرف سے راہ خدا ميں قتل ہونے والے (شہدائ) كو مردہ خيال كيا جانا اور خداوند متعال كا اس قسم كے خيال سے نہى فرمانا_و لاتحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله أمواتا

٢_ شہداء كے پسماندگان اور مؤمنين كى خداوند متعال كى جانب سے تسلى و تشفي_و لاتحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله امواتا

٣_ راہ خدا ميں شہيد ہونے والے افراد زندہ ہيں اور اپنے پروردگار كى بارگاہ سے روزى پار ہے ہيں _

بل أحياء عند ربهم يرزقون اس مفہوم ميں ''عند ربھم''كو ''يرزقون''سے متعلق قرار ديا گيا ہے_

۲۲۱

٤_ كردار و رفتار كى اصلاح، فكر و سوچ كى اصلاح سے مربوط ہے_

و لاتحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم چونكہ يہ آيت جہاد كى ترغيب دلانے ( كردار و اعمال كى اصلاح ) كيلئے ان كى اس سوچ اور فكر كى تصحيح كررہى ہے جو وہ شہداء كے بارے ميں ركھتے تھے_

٥_ درست اور صحيح اعمال اختيار كرنے كيلئے افكار كى اصلاح كرنا قرآنى طريقوں ميں سے ايك طريقہ ہے_

و لاتحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله امواتا بل احياء عند ربهم

٦_ موت كے بعد كے عالم (برزخ) ميں شہداء كا ايك خاص زندگى سے بہرہ مند ہونا_

بل احيآء عند ربهم يرزقون كلمہ ''احيآئ'' كا نكرہ ہونا اس مطلب كى طرف اشارہ ہے كہ شہداء كى زندگى ايك ايسى زندگى ہے جس سے انسان دنيا ميں لا علم ہوتا ہے لہذا يہ ايك خاص زندگى ہوگي_

٧_ راہ خدا ميں قتل ہونے والے شہداء كا بلند مقام و مرتبہ_

بل احياء عند ربهم يرزقون شہدا ء كا بارگاہ خداوند متعال ميں روزى سے بہرہ مند ہونا اور اس مقام پر فائز ہونا ان كى عظمت اور بلند مقام كى علامت ہے_

٨_ موت كے بعد عالم برزخ ميں شہداء كى حيات و زندگى كا دوسرے انسانوں سے مختلف ہونا_

بل احياء عند ربهم يرزقون چونكہ قرآن كى نظر ميں مرنے والے دوسرے لوگ بھى برزخى زندگى سے بہرہ مند ہيں لہذا شہداء كى خصوصى زندگى كو بيان كرنا، ان دونوں زندگيوں ميں فرق كو ظاہر كرتا ہے_

٩_ موت كے بعد، انسان كا باقى رہنا_بل احيآء عند ربهم يرزقون

١٠_ حقيقت انسان، اسكے جسم سے بالاتر حيثيت ركھتى ہے_و لاتحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله امواتاً بل احياء عند ربهم يرزقون اس لحاظ سے كہ شہيدوں كا جسم دنيا ميں ہوتا ہے اور زندگى و روزى سے بہرہ مند نہيں ہوتا ،معلوم ہوا كہ حقيقت انسان، اسكے جسم سے بالاتر حيثيت كى حامل ہے_

١١_ عالم برزخ ميں بھى حيات اور رزق كے درميان تعلق كا باقى رہنا_بل احيآء عند ربهم يرزقون

۲۲۲

١٢_ فقط پيغمبراكرم(ص) جيسى ہستياں ہى شہداء كى زندگى اور اسكى كيفيت كو درك كرسكتى ہيں نہ كہ عام افراد_ *

و لاتحسبن الذين عند ربهم يرزقون يہ كہ خداوند نے گذشتہ آيات ميں تمام مؤمنين كو مخاطب كيا ہے جبكہ اس آيت ميں فقط پيغمبر اكرم (ص) كومخاطب كيا گيا ہے (و لاتحسبن صيغہ مفرد ہے) ہوسكتا ہے اس بات كى طرف اشارہ ہو كہ اس آيت كے مضمون يعنى شہادت كے بعد شہداء كى زندگى كو فقط پيغمبر(ص) ہى درك كرسكتے ہيں _

١٣_ شہدائ، خداوند متعال كے مقام ربوبيت كے تربيت يافتہ ہيں _بل احيآء عند ربهم يرزقون

١٤_ شہادت، شہيد كے رشد و تكامل كا ذريعہ ہے_بل احيآء عند ربهم يرزقون

''ربھم''كے مفہوم كو ديكھتے ہوئے كہ خداوند متعال شہيدوں كا مربى اور تربيت كرنے والا ہے، معلوم ہوتا ہے كہ شہادت، خداوند متعال كى خاص ربوبيت سے بہرہ مند ہونے كا مقدمہ ہے_

١٥_ راہ خدا ميں جہاد كرنے اور شہيد ہونے كى طرف تشويق و ترغيب_و لاتحسبن الذين بل احيآء عند ربهم يرزقون

١٦_ بارگاہ الہى سے شہداء كا رزق حاصل كرنا، اسكى ربوبيت كا ايك پرتو ہے_عند ربهم يرزقون

آنحضرت(ص) : آنحضرت كاعلم ١٢

انسان: انسان كا انجام ٩;انسان كى موت ٩;انسان كے مختلف پہلو ١٠

تربيت: تربيت كا طريقہ ٥

تعقل: تعقل كى اصلاح٤، ٥

جھاد: جھاد كى جانب تشويق ،١٥

حيات: ١، ٣، ٦، ٨، ١١، ١٢

خدا تعالى: خدا تعالى كى امداد، ٢; خدا تعالى كى ربوبيت ١٣، ١٦; خدا تعالى كے نواہى ١

راہ خدا: ١، ٣، ٧، ١٥

۲۲۳

راہ و روش: راہ و روش كى بنياد ٤

رُشد و تكامل: رشد و تكامل كا پيش خيمہ١٤

روزي: ١١، ١٦

شہادت: ١، ٣، ٧ شہادت كى طرف تشويق ١٥;شہادت كے اثرات ١٤

شہدائ: شہداء كا كمال ١٤; شہداء كى حيات ١، ٣، ٦، ٨، ١٢ ; شہداء كى روزى ٣، ١٦;شہداء كے پسماندگان ٢;شہداء كے فضائل ٣، ٧، ١٣

عالم برزخ: عالم برزخ كى زندگى ٦، ٨، ١١;عالم برزخ ميں تفاوت ٨;عالم برزخ ميں روزى ١١

عقيدہ: باطل عقيدہ ١

علم: ١٢

عمل: عمل كے صحيح ہونے كى شرائط ٥

موت: ٩

مؤمنين: مؤمنين كو تسلى و تشفى ٢

آیت(۱۷۰)

( فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُواْ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلاَّ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ )

خدا كى طرف سے ملنے والے فضل و كرم سے خوش ہيں او ر جو ابھى تك ان سے ملحق نہيں ہوسكے ہيں ان كے بارے ميں يہ خوش خبرى ركھتے ہيں كہ ان كے واسطے بھى نہ كوئي خوف ہے اور نہ حزن _

١_ راہ خدا ميں قتل ہونے والوں كا خدا كے اس فضل و كرم پر خوش و شادمان ہونا كہ جو خداوند متعال نے انہيں

۲۲۴

عطا فرمايا ہے_فرحين بماآتاهم الله من فضله

٢_ خداوند عالم كى راہ ميں قتل ہونے والے (شہدائ) پر اس كا لُطف و عنايت كرنا_فرحين بما آتاهم الله من فضله

٣ _ شہيدوں كا بلند مقام، انكى خاص زندگى اور خدا كى جانب سے رزق پانا ان پر خدا كے فضل و كرم ميں سے ہيں _

فرحين بما آتاہم اللہ من فضلہ

اس صورت ميں كہ جب ''ما اتاھم اللہ ''سے مراد وہى ہوجو گذشتہ آيت ميں بيان ہوا ہے يعنى خاص زندگى اور

٤_ شہيدوں كو استحقاق سے زيادہ عطا كرنا اور ان پر فضل الہى ان كى خوشى كا باعث ہے_

فرحين بما آتاهم الله من فضله مندرجہ بالا مطلب ''فضل''كے معنى (استحقاق سے زيادہ اور لطف و عنايت كى بنا پر عطا) كو مدنظر ركھتے ہوئے اخذ كيا گيا ہے_

٥_ دنيوى زندگى كى نسبت عالم برزخ ميں شہداء كى بہتر اور برتر زندگى _فرحين بما آتاهم الله من فضله و يستبشرون

شہداء كى خوشى اور ان كے دوسرے ساتھيوں كا اس فضل الہى كے حصول كى آرزو كرنا حكايت كر رہا ہے كہ ان كى دنيوى زندگى كى نسبت ان كى اخروى و برزخى زندگى بہتر و برتر ہے_

٦_ شہيدوں كا دوسرے مجاہدين كى سعادت مندى اور ان كيلئے راہ خدا ميں قتل ہونے والوں كے مقام پر فائز ہونے كى آرزو كرنا اور اس كو چاہنا_و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم

٧_ موت كے بعد، قيامت تك برزخ كى زندگى كا ہونا_*بل احيآء عند ربهم يرزقون_ فرحين بما اتاهم الله من فضله و يستبشرون

٨_ تمام شہداء كا عالم برزخ ميں ايك ساتھ زندگى گذارنا_*و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم

جملہ''لم يلحقوا بهم'' اس بات پر دلالت كر رہا ہے كہ شہداء كے ساتھى اپنى شہادت كے بعد اپنے سے پہلے شہيد ہونے والے ساتھيوں سے ملحق ہوجاتے ہيں بنابرايں ، شہداء جدا جدا نہيں رہتے بلكہ پورى تاريخ عالم كے شہداء ايك ساتھ رہتے ہيں اور ايك دوسرے سے ملحق ہوتے رہتے ہيں _

٩_ مؤمنين كى سعادت كے بارے ميں دلچسپى لينا اور

۲۲۵

اس پر توجہ دينا ضرورى ہے_و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الا خوف عليهم

خداوند متعال نے شہداء كى ستائش كرتے ہوئے دوسرے مؤمنين اور اپنے ہم رزم ساتھيوں كى سعادت كے بارے ميں ان كى خوشحالى و سرور كى كيفيت كا تذكرہ كيا ہے_ بنابرايں ايسى صفت اور حالت خداوند عالم كو پسند اور محبوب ہے_

١٠_ شہداء كا دنيا ميں موجود مجاہدين كى حالت و كيفيت سے آگاہ ہونا_*و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم

١١_ شہداء عالم برزخ ميں ، اپنے اور راہ خدا كے دوسرے مجاہدين كے مقامات كے شاہد ہوتے ہيں _

فرحين و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الا خوف عليهم و لا هم يحزنون چونكہ يہ آيت اس خيال كو رد كررہى ہے كہ جس كے مطابق شہيدوں كو مردہ سمجھا جاتا ہے_ لہذا خداوند متعال مذكورہ آيات كو ذكر كر كے، شہادت كے بعد شہيدوں كے اجر و ثواب اور ان كے حالات بيان كرنا چاہتا ہے نہ كہ قيامت كے دن ان كے مقام و مراتب يا اجر كو بيان كيا جا رہا ہے_

١٢_ شہادت كے بعد راہ خدا كے مجاہدين كيلئے كسى قسم كے خوف و ڈر اور غم كے نہ ہونے كى وجہ سے شہداء كا مسرور ہونا_و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الا خوف عليهم و لا هم يحزنون

''استبشار''كا معني، بشارت ملنے كے نتيجے ميں حاصل ہونے والى خوشى اور سرور ہے_ (لسان العرب)

١٣_ راہ خدا ميں قتل ہونے والے شہداء كا مكمل امن اور سعادت سے بہرہ مند ہونا_الا خوف عليهم و لا هم يحزنون كلمہ ''خوف'' نكرہ ہے اور حرف نفى ''لا''كے بعد ہونے كى وجہ سے ہر قسم كے خوف اور اضطراب كے نہ ہونے پر دلالت كرتا ہے_ يعنى ہر طرح كا امن_

١٤_ شہداء كيلئے ہونے كى وجہ سے حيات جاويد، نعمتيں اورسكون قلب_*الا خوف عليهم و لا هم يحزنون

خوف و ہراس كى نفى كا لازمہ فنا كى نفى ہے چونكہ خوف اور غم و اندوہ كے اسباب ميں سے ايك فنا اور نابودى كو قبول كرنا ہے_

١٥_ راہ خدا ميں جہاد اور شہادت كى ترغيب_فرحين بما اتاهم الله من فضله و لا هم

۲۲۶

يحزنون

١٦_ بعض انسانوں كيلئے موت كے بعد كے عالم (برزخ) كا مقام غم و اندوہ ہونا_و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الا خوف عليهم و لا هم يحزنون اگر عالم برزخ ميں كسى كيلئے كسى قسم كا خوف و غم نہ ہوتا تو شہداء كا اس بات پر خوش و مسرور ہونا بے مقصد ہوتا كہ وہ اور ان سے ملحق ہونے والے دوسرے شہيد مجاہدين كسى قسم كا خوف و غم نہيں ركھتے_

١٧_ شہدا ء كے تمام گناہوں كا بخشا جانا_ فرحينبما اتاهم الله الا خوف عليهم و لا هم يحزنون

چونكہ گناہ، عالم برزخ اور قيامت ميں غم و اندوہ كا باعث ہوگا جبكہ آيت ''الا خوف ...''كے مطابق شہداء كسى قسم كا غم و خوف نہيں ركھتے_ پس معلوم ہوا كہ ان كے تمام گناہ خداوند نے معاف كرديئے ہيں _

١٨_ عالم برزخ ميں انسان كيلئے غم و خوف اور خوشى و سرور (جيسے نفسياتى حالات) كا ہونا_فرحين بما اتاهم الله من فضله الا خوف عليهم و لا هم يحزنون

امنيت: ١٣، ١٤

بخشش: ، ١٧

جہاد : جہاد كى تشويق ١٥

خداوند تعالى: خدا تعالى كا فضل١، ٣ ،٤; خدا تعالى كا لطف٢ ; خدا تعالى كى عنايات ٤ ; خدا تعالى كى نعمات١٤

خشنودي: ١، ٦، ١٢ برزخ ميں خوشنودى ١٨ ; خوشنودى كے عوامل٤

خوف ١٢: برزخ ميں خوف ١٦،١٨

دعا: ٦

راہ خدا: ١، ٢، ١٥

روزي: ١، ٣، ١٤

سعادت: ٦، ٩،١٣

شہادت: ١، ٢، ١٢ شہادت كى تشويق ١٥

شہداء:

۲۲۷

شہداء برزخ ميں ، ٥، ٨، ١١ ; شہداء كا علم ١٠ ;شہداء كى امنيت ١٣، ١٤ ; شہداء كى حيات ٣، ٥، ٨، ١٤ ; شہداء كى خوشنودى ١، ٤، ٦، ١٢;شہداء كى دعا ٦; شہداء كى روزى ١، ٣، ١٤;شہداء كى سعادت ١٣ ; شہداء كى مغفرت ١٧; شہداء كے فضائل ٢، ٣، ٦، ١١

عالم برزخ: ١ ، ١٦ ، ١٨ عالم برزخ كى زندگى ٥، ٧، ٨

غم واندوہ : ١٢ برزخ ميں غم و اندوہ ١٦، ١٨

گناہ: گناہ كى مغفرت١٧

مجاہدين: ١٠، ١١، ١٢ مجاہدين كى سعادت ٦

مؤمنين: مؤمنين كى سعادت ٩

نظريہ كائنات: توحيدى نظريہ كائنات٧

آیت(۱۷۱)

( يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ ) وہ اپنے پروردگار كى نعمت ، اس كے فضل اور اس كے وعدہ سے خوش ہيں كہ وہ صاحبان ايمان كے اجر كو ضائع نہيں كرتا _

١_ شہداء كا، خداوند عالم كى طرف سے خصوصى نعمت اور خاص فضل الہى سے خوش ہونا_

يستبشرون بنعمة من الله و فضل كلمہ ''بنعمة'' اور ''فضل'' كا نكرہ ہونا، انسانوں كيلئے نامعلوم نعمت و فضل پر دلالت كر رہا ہے بنابرايں يہ ايك خاص نعمت اور فضل ہے_

٢_ عالم برزخ ميں انسان كيلئے خوشى و سرور (نفسياتييستبشرون بنعمة من الله و فضل

٣_ الہى فضل و نعمات ،درجات و مراتب كے حامل ہيں _يستبشرون بنعمة من الله و فضل

كلمہ ''نعمة''اور ''فضل'' كو نكرہ لانا كہ جو ان كے نامعلوم ہونے كو ظاہر كرتا ہے، ہوسكتا ہے فضل

۲۲۸

و نعمت كے عظيم اور زيادہ ہونے كى وجہ سے ہو نتيجتاً يہ فضل و نعمت كے مراتب و درجات كى حكايت كرتا ہے_

٤_ خداوند متعال كى جانب سے مؤمنين كے اعمال كے اجر و ثواب كى ضمانت_ان الله لايضيع اجر المؤمنين

٥_ عمل كے اجر و ثواب كے ضائع نہ ہونے كى شرط، ايمان ہے_ان الله لايضيع اجر المؤمنين ضمير كے بجائے اسم ظاہر ''المؤمنين''لانے سے ظاہر ہوتا ہے كہ مجاہدين كے اعمال كا اجر و ثواب، ان كے ايمان سے مشروط ہے_

٦_ ايمان و عمل كى طرف لوگوں كو ترغيب دلانے كيلئے اجر و ثواب كا وعدہ دينا اور اسكى ضمانت دينا، ايك قرآنى روش ہے_ان الله لايضيع اجر المؤمنين

٧_ شہداء كا اس بات پر خوش ہونا كہ خداوند متعال مؤمنين كا اجر ضائع نہيں كرتا_يستبشرون بنعمة و ان الله لايضيع اجر المؤمنين جملہ ''ان الله '' كلمہ ''نعمة'' پر عطف ہے يعنى ''يستبشرون بان الله لايضيع''_

٨_ بارگاہ خدا ميں شہداء كا بلند مقام و مرتبہ_يستبشرون بنعمة من الله و فضل و ان الله لايضيع اجر المؤمنين

اجر: ٤، ٥، ٧ اجر كا وعدہ ٦

ايمان: ايمان كا پيش خيمہ٦; ايمان كى طرف تشويق ٦; ايمان كے اثرات ٥

تربيت: تربيت كا طريقہ ٦

تحريك: تحريك كے اسباب ٦

خداوند تعالى: خدا تعالى كا فضل ١; خدا تعالى كى نعمتوں كے مراتب ٣; خدا تعالى كى نعمتيں ١; خدا تعالى كے فضل كے مراتب ٣;خدا تعالى كے حضور ٨

خوشنودي: ١، ٧ برزخ ميں خوشنودى ٢

شہدائ: شہداء كى خوشنودى ١، ٧ ;شہداء كے فضائل ٨

عالم برزخ: ٢

۲۲۹

عمل: عمل كا اجر ٤، ٥;عمل كا قبول ہونا٥; عمل كى تشويق ٦

مؤمنين: مؤمنين كا اجر ٤، ٧

آیت(۱۷۲)

( الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَواْ أَجْرٌ عَظِيمٌ )

يہ صاحبان ايمان ہيں جنھوں نے زخمى ہونے كے بعد بھى خدا اور رسول كى دعوت پر لبيك كہى _ ان كے نيك كردار اور متقى افراد كے لئے نہايت درجہ اجرعظيم ہے _

١_ جن لوگوں نے گذشتہ جنگ ميں زخم برداشت كرنے كے باوجود، ايك دوسرى جنگ كيلئے خدا اور اسكے رسول(ص) كى دعوت پر لبيك كہا، ان كيلئے خداوند متعال كا بہت بڑا اجر ہے_الذين استجا بوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح اجر عظيم چونكہ گذشتہ آيات اور بعد والى آيات جنگ و جہاد كے بارے ميں ہيں اس سے پتہ چلتا ہے كہ جس فرمان پرلبيك كہا گيا ہے (استجابوا) وہ جنگ و جہاد كا فرمان تھا_

٢_ زمانہ پيغمبر اكرم(ص) كے مجاہدين ميں سے بعض كا گذشتہ جنگ (احد) ميں زخم و تكاليف اٹھانے كے باوجود، جہاد ميں شركت كيلئے آمادہ ہونا_الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح اجر عظيم

٣_ جنگ احد ميں شكست اور پراگندگى كے بعد پيغمبراكرم(ص) كا سپاہ اسلام كو دوبارہ اكٹھا كر كے جنگ كيلئے آمادہ كرنا_

الذين استجابوالله والرسول من بعد ما اصابهم القرح

٤_ جنگ احد ميں زخم و تكاليف اٹھانے كے باوجود ايك دوسرى جنگ كيلئے خدا اور رسول(ص) كى دعوت كو قبول كرنے والوں كيلئے عظيم اجر الہى كا ان كے احسان و تقوي سے مشروط ہونا_الذين استجابوا للذين احسنوا منهم

۲۳۰

واتقوا اجر عظيم اس آيت كا جنگ احد كے بيان كے بعد واقع ہونا اور يہ كہ اس ميں ''قرح''(زخم) كى بات كى گئي ہے جيساكہ جنگ احد كے بارے ميں بھى فرمايا تھا ''ان يمسسكم قرح''اسكى وجہ سے مفسرين كا كہنا ہے كہ وہ گذشتہ جنگ كہ جس ميں مسلمانوں نے زخم ديكھے ہيں وہى جنگ احد ہے_

٥_ جنگ احد كے بعض مجروحين، ايك دوسرى جنگ كيلئے خدا اور پيغمبراكرم (ص) كى دعوت كو قبول كرنے كے باوجود لازمى تقوي و نيكوكارى سے بہرہ مند نہيں تھے_الذين استجابولله للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم

''منھم''، ''احسنوا''كى ضميركيلئے حال ہے اور كلمہ ''من'' تبعيض ميں ظاہر ہے_ يعنى دعوت قبول كرنے والوں كو صاحبان تقوي ونيكوكاروں اور دوسروں ميں تقسيم كر رہا ہے_

٦_ جنگى زخميوں كى جہاد ميں دوبارہ شركت كا اہم اور بلند مقام و مرتبے كا حامل ہونا_

الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح اجر عظيم گذشتہ جہاد ميں زخمى ہونے كى وجہ سے مجاہدين كيلئےاجر عظيم نہيں ہے بلكہ زخمكھانے كے بعد دوبارہ جہاد ميں شركت كى وجہ سے ہے_

٧_ جنگ احد ختم ہوجانے كے بعد، مسلمانوں پر مشركين كے حملے كا خطرہ_*

الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح چونكہ فوجى قوت كو دوبارہ آراستہ كرنے كيلئے پيغمبر(ص) كا دعوت دينا ظاہر كرتا ہے كہ مشركين كى طرف سے دوبارہ حملے كا خطرہ موجود تھا_

٨_جنگ احد كے بعد مسلمانوں كى تقدير سازجنگى آمادگى اور فوجى مشق_

الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح جنگ احد ميں مصائب و مشكلات برداشت كرنے كے بعد لشكر اسلام كا دوبارہ منظم ہونا اور جنگ كيلئے دوبارہ دعوت كاديا جانا حتي كہ جنگى زخميوں كو بھى شركت كيلئے بلانا، ظاہر كرتا ہے كہ يہ آمادگى اور فوجى تيارى تقدير ساز تھي_

٩_ مجاہد مؤمنين كا عمل و اجر كے اعتبار سے متفاوت ہونا_لا يضيع اجر المؤمنين _ الذين استجابوا الله للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم اگر''الذين''،''المومنين''كے ليے صفت ہو تو مؤمنين دو گروہوں ميں تقسيم ہوتے ہيں ، وہ لوگ جنہوں نے پيغمبر اسلام (ص) كى دعوت جہاد كو قبول كيا ليكن لازمى تقوي اورنيكوكارى كے حامل نہيں تھے

۲۳۱

اور وہ لوگ جنہوں نے جہاد كى دعوت قبول كى اور تقوي و نيكوكارى كے بھى حامل تھے_ اجر عظيم دوسرے گروہ سے مخصوص ہے اور'' ان الله لا يضيع اجر المؤمنين'' كے قرينے سے پہلے گروہ كيلئے بھى اجر ہے ليكن نہ اجر عظيم_

١٠_تقوي اور نيكوكاري، مؤمن مجاہدين كے اجر و ثواب ميں زيادتى كا باعث بنتے ہيں _للذين احسنوا منهم وا تقوا اجر عظيم

١١_ ايمان پر ثابت قدم رہنے اور مشكلات اور سختياں برداشت كرنے كے بعد خد ا و رسول(ص) كى دعوت كے قبول كرنے كى بہت زيادہ قدر و قيمت ہے_ان الله لايضيع اجر المؤمنين_الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح

١٢_ جنگ احد كے بعد، دشمن كا مقابلہ كرنے كيلئے پيغمبراسلام(ص) كو مجاہد جنگجوؤں كى اشد ضرورت_

الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح جيساكہ شان نزول ميں آيا ہے كہ ايك دوسرى جنگ كيلئے، جنگ احد كے زخميوں تك كو بلايا جانا، ظاہر كرتا ہے كہ مجاہد جنگجوؤں كى اشد ضرورت تھي_

١٣_ خداوندعالم كا نيكوكارى اور تقوي كے ساتھ ساتھ، جہاد كى طرف تشويق كرنا_الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم

١٤_ مجاہدين كيلئے خداوند متعال كى طرف سے اجر عظيم كى شرائط ميں سے ايك ،جنگ ميں بہتر كاركردگى دكھانا (نيكوكاري) اور جنگى قواعد وضوابط كى خلاف ورزى نہ كرنا (تقوي) ہے_الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم

مندرجہ بالا مطلب ميں ''احسنوا''كا متعلق جنگ كو بنايا گيا ہے_ يعنى وہ جنگ ميں بہتر كاركردگى دكھائيں _ اسى طرح ''اتقوا''كا متعلق جنگى قواعد و ضوابط (مثلاً سپہ سالار كى پيروى وغيرہ) كو قرار ديا گيا ہے_

١٥_ اعمال كا ثمر آور ہونا، نيكى و تقوي سے مربوط ہے_الذين استجابوا للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم

يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''الذين'' مبتدا ہو نہ كہ المؤمنين كى صفت_

١٦_ مشكلات اور سختياں برداشت كرنے كے باوجود خداوندعالم اور رسول اكرم(ص) كے فرامين كى اطاعت كرنا نيكى و تقوي كے مصاديق ميں سے ہے_الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و

۲۳۲

اتقوا اجر عظيم مندرجہ بالا مطلب ميں ''منھم''كے ''من''كو بيانيہ ليا گيا ہے_ يعنى محسنين اور تقوي اختيار كرنے والے ،وہى دعوت پيغمبر(ص) كو قبول كرنے والے ہيں اور ان كيلئے اجر عظيم ہے_

١٧_ مشكلات اورسختيوں كے وقت فرامين الہى كى اطاعت كى اہميت اور قدر و قيمت_

الذين استجابوا لله والرسول من بعد مااصابهم القرح

١٨_ راہ خدا ميں صبر واستقامت كى كامل قدر وقيمت ، نيكى و تقوي كى مرہون منت ہے_

الذين استجابوا لله و الرسول من بعد ما اصابهم القرح للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم

١٩_ جہاد ميں شركت، خواہ پيغمبراسلام(ص) كے ہم ركاب ہى كيوں نہ ہو، انسان كى نيكى و تقوي كى دليل نہيں بن سكتي_الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم چونكہ خداوند متعال نے جہاد كيلئے دعوت پيغمبر(ص) كو قبول كرنے والوں كو دو گروہوں ميں تقسيم كيا ہے اول نيكى و تقوي كے حامل افراد اور دوم ان صفات سے عارى افراد_ البتہ يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''من''تبعيض كيلئے ہو_

٢٠_ عمل كا دشوار ہونا، بارگاہ خدا ميں اجر و ثواب كے زيادہ ہونے كا باعث بنتا ہے_

الذين استجابوا لله و الرسول من بعد ما اصابهم القرح چنانچہ''الذين استجابوا'' مبتدا ہو تو جملہ ''من بعد ما اصابھم القرح''اجر عظيم كے وعدہ كى شرائط ميں سے ہوگا كہ جو جہاد كيلئے حركت كرنے كى دشوارى كو ظاہر كر رہا ہے_

٢١_ جنگ احد ميں زخمى ہونے كے بعد خدا تعالى اور پيغمبر اسلام(ص) كى دعوت قبول كرنے اورنيكى و تقوي اختيار كرنے كى وجہ سے امير المؤمنين على عليہ السلام كو اجر عظيم عطا ہونا_الذين استجابوا لله و الرسول اجر عظيم

امام صادق (ع) فرماتے ہيں :ان رسول الله بعث علياً فى عشرة '' استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابھم القرح''الى ''اجر عظيم''انما نزلت فى امير المؤمنينيعنى يہ آيت امير المؤمنين (ع) كے بارے ميں نازل ہوئي_(١)

آنحضرت (ص) : ١، ٤، ١١، ١٦، ٢١

آنحضرت(ص) كى سپہ سالارى ٣

____________________

١)تفسير عياشي، ج١ ص٢٠٦ ح١٥٣; تفسير برھان ج١ص ٣٢٦ ح٤

۲۳۳

اجر: ٩، ١٠، ٢١ اجر كے مراتب ٤; اجر كے موجبات ١، ٤، ١٤، ٢٠

استقامت: استقامت كى قدروقيمت ١٨

اسلام: صدر اسلام كى تاريخ٣، ٥، ٧، ٨،١٢،٢١

اطاعت: آنحضرت(ص) كى اطاعت ١، ٤، ١١، ١٦، ٢١;اطاعت كى قدروقيمت ١٧;خدا كى اطاعت ١، ١٦،١٧، ٢١;سختى كے وقت اطاعت، ١٧

امير المؤمنين (ع) : اميرالمؤمنين (ع) كا تقوي ٢١;امير المؤمنين (ع) كى نيكوكاري٢١

ايمان: ايمان كى قدروقيمت ١١;سختى ميں ايمان ١١

تقوي: ١٦، ١٩ تقوي كا اجر ٢١;تقوي كے اثرات ٤، ١٠، ١٥، ١٨;جہاد ميں تقوي ١٣، ١٤

جنگ: جنگى مجروحين ١، ٥، ٦،٢١ ;عسكرى آمادگى ٢، ٣، ٨

جہاد: ١٤، ١٩ جہاد كى تشويق ١٣;جہاد كى سختي١، ٢;جہاد كى قدر و منزلت ٦;دشمنوں سے جہاد ١٢

خدا تعالى: ١٦، ١٧، ٢١ خدا تعالى كى جانب سے اجر ١، ١٤;خدا تعالى كى دعوت ١، ٤، ٥،١١

دشمن: ١٢

دين: دشمنان دين ١٢

روايت: ٢١

راہ خدا: ١٩

سختي: ١، ٢، ١١، ١٧ سختى كے اثرات ٢٠

شكست: جنگ ميں شكست ٣

صبر: صبر كى قدر و منزلت، ١٨

عمل: ٩ عمل كا اجر ٢٠;عمل كا قبول ہونا ١٥ ;عمل كى اہميت ٢٠

غزوہ احد: ٢، ٣، ٤، ٧، ٢١

۲۳۴

كاميابي: جنگ ميں كاميابى كے عوامل ،٨

مجاہدين: مجاہدين كا اجر ٤، ٩، ١٠، ١٤;صدر اسلام كے مجاہدين ٢;غزوہ احد كے مجاہدين، ٥

مشركين: مشركين كا خطرہ ٧

مؤمنين: مؤمنين كا تفاوت ٩;مؤمنين كا عمل ٩

نيكوكاري: ١٩، ٢١ جہاد ميں نيكوكاري١٣، ١٤; نيكوكارى كے اثرات ٤، ١٠، ١٥، ١٦، ١٨

نظم و ضبط: جنگ ميں نظم و ضبط ٣

آیت(۱۷۳)

( الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ )

يہ وہ ايمان والے ہيں كہ جب ان سے بعض لوگوں نے كہا كہ لوگوں نے تمہارے لئے عظيم لشكر جمع كرليا ہے لہذا ان سے ڈرو تو ان كے ايمان ميں اور اضافہ ہوگيا اور انہوں نے كہا كہ ہمارے لئے خدا كافى ہے اور وہى ہمارا ذمہ دار ہے _

١_ جنگ احد كے بعد جہاد كيلئے خدا اور پيغمبراكرم(ص) كى دعوت قبول كرنے والے وہ لوگ تھے جو دشمن كے حملے كے بارے ميں افواہوں سے نہيں گھبرائے اوران كے ايمان ميں مزيد اضافہ ہوگيا_الذين استجابوا لله الذين قال لهم الناس فزادهم ايماناً

٢_ جنگ احد كے بعد، مسلمانوں كے درميان دشمن كے كارندوں كا نفوذ كرنا اور ان كے حوصلے پست كرنے كيلئے سرد جنگ كا آغاز كيا جانا_الذين قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم

بعض كا خيال ہے كہ ''قال لھم الناس''ميں ''الناس''سے مراد وہ منافقين ہيں جو دشمنان دين كيلئے جاسوسى كرتے تھے_ بعض دوسروں كا

۲۳۵

كہنا ہے كہ اس سے مراد دشمن كے وہ افراد ہيں جو مسلمانوں كے درميان خوف و ہراس پھيلاتے تھے_

٣_ جنگ احد كے بعد مشركين كا مسلمانوں كے خلاف دوبارہ اكٹھا ہوجانا_ان الناس قد جمعوا لكم جنگ احد كے بيان كے بعد اس آيت كاآنا نيز اسكے بعضشان نزول سے اس بات كى تائيد ہوتى ہے كہ مذكورہ آيت احد كے بعد كے واقعات كے بارے ميں ہے_

٤_ مسلمانوں كے درميان ايسے افراد كا وجود جو انہيں مشركين سے ڈرانے كيلئے افواہيں پھيلانے كى سعى كرر ہے تھے_

الذين قال لهم الناس انص الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم

٥_ ايمان كا درجات و مراتب پر مشتمل ہونااور اس ميں اضافہ كا امكان_فزادهم ايماناً

٦_ حقيقى مؤمنين دشمن كى كثرت اور اسكى جنگى آمادگى سے خوف زدہ نہيں ہوتے_الذين قال لهم الناس ان الناس فزادهم ايماناً

٧_ خدا اور رسول اكرم (ص) كے پيروكار مؤمنين كے ساتھ جنگ كيلئے دشمنوں كا اكٹھا ہونا، مؤمنين كے ايمان اور اپنے راستے كى حقانيت پر اعتقاد ميں اضافے كا موجب بنتا ہے_الذين قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لكم فزادهم ايماناً ''زادھم'' ميں فاعلى ضمير سے مراد دشمنوں كا وہ اجتماع ہے جو ''انص الناس قد جمعوا لكم''سے اخذ ہوتا ہے_ يعنى مشركين كا جنگ كيلئے اكٹھا ہونا، خدا و رسول (ص) كے پيروكاروں كے ايمان ميں اضافے كا باعث بنتا ہے_

٨_ جنگ احد كے بعد دشمن كے حملے سے متعلق افواہوں كے مقابلے ميں مسلمانوں كا رد عمل كے طور پر خداوند عالم پر اعتماد اور توكل كا اظہار كرنا_الذين قال لهم الناس و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

٩_ خداوند متعال پر توكل اور اعتماد، دشمن كے حملوں سے نہ ڈرنے كا موجب بنتا ہے_فزادهم ايماناً و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

١٠_ حملہ آور دشمنوں كے مقابلے ميں خداوند متعال پر توكل كرنا ضرورى ہے_و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل حقيقى مجاہدين كى پسنديدہ صفات كو شمار كرنے اور

۲۳۶

خداوند متعال كى جانب سے ان كى تعريف و تمجيد كا مقصد دوسرے مؤمنين كو بھى ايسى صفات و حالات كے حصول كى ترغيب دلانا ہے_

١١_ خداوندعالم پر توكل كا لازمہ، اس پر ايمان و اعتقاد ميں اضافہ ہے_فزادهم ايماناً و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

١٢_ خداوند متعال ، باتقوي، نيكوكار، صابر اور اطاعت گذار مؤمنين كا وكيل ہے اور ان كے كيلئے كافى ہے_

الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و اتقوا و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

١٣_ خداوند عالم كے كافى ہونے پر مكمل اعتماد اور صفت توكل كا حصول، خدا و رسول(ص) كى اطاعت ، صبر و تقوي اور نيك عمل اپنانے سے مربوط ہے_الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و اتقوا و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

گذشتہ آيت ميں مذكورہ صفات بظاہر انسان كے اس مقام تك پہنچنے كى طرف راہنمائي ہے كہ جہاں وہ خداوند متعال كو اپنا وكيل جان كر اسكے كافى ہونے سے مطمئن ہوجاتا ہے_

١٤_ خداوند عالم، مؤمنين كيلئے كافى اور بہترين وكيل ہے_حسبنا الله و نعم الوكيل

١٥_ غزوہ حمراء الاسد ميں مؤمنين كا نصرت الہى اور فتح كى اميد ركھنا_و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

اكثر مفسرين كے نزديك يہ آيت اور گذشتہ آيات، غزوہ حمراء الاسد كے بارے ميں ہيں _جنگ احد كے فاتح مشركين مكہ كى طرف پلٹتے وقت راستے ميں اس بات پر پشيمان ہوگئے تھے كہ انہوں نے آخر مسلمانوں كو كيوں ختم نہيں كرديا_ لہذا انہوں نے مدينہ پر حملے كا ا رادہ كرليا يہ خبر جب پيغمبراكرم (ص) تك پہنچى تو آپ(ص) نے مسلمانوں كو دفاع كى خاطر حمراء الاسد تك جانے كا حكم ديا اور مسلما ن وہاں تك گئے_ لہذا يہ غزوہ ، غزوہ حمراء الاسد معروف ہوا_

١٦_ غزوہ حمراء الاسد يا بدر صغري ميں مسلمانوں كى طاقت سے دشمن كى طاقت كا زيادہ ہونا_*

و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل يہ كہ منافقين نے مؤمنين كو خوف زدہ و ہراساں كرنے كيلئے انہيں دشمن كى كثرت سے ڈرانا چاہا (ان الناس قد جمعوا لكم ) ليكن مسلمانوں نے ان كے جواب ميں طاقت و قوت كى زيادتى كى طرف اشارہ نہيں كيا بلكہ فقط خداوند متعال پر توكل كى بات كى ، اس سے مؤمنين كى قوت كے مقابل دشمن كى قوت كى كثرت كا اندازہ ہوتا ہے_

۲۳۷

قابل ذكر ہے كہ مذكورہ آيات بعض مفسرين كے نزديك غزوہ حمراء الاسد كے بارے ميں ہيں اور بعض كے نزديك بدر صغري كے بارے ميں ہيں _

١٧_ خدا و رسول(ص) كے اطاعت گذار مؤمنين كى نشانيوں ميں سے ايك يہ ہے كہ وہ دشمن كى كثرت سے نہيں گھبراتے اور اس كا مقابلہ كرنے ميں خداوند عالم پر توكل كرتے ہيں _الذين استجابوا لله و الرسول و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

١٨_ خداوند متعال پر توكل كے ساتھ ساتھ كوشش اور جدوجہد ضرورى ہے_الذين استجابوا لله و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

١٩_ جنگ احد كے بعد، نعيم بن مسعود كا مؤمنين كو دشمن كے اجتماع سے ہراساں كرنا_

الذين قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لكم حضرت امام باقر(ع) اور حضرت امام صادق(ع) نے مذكورہ آيت ميں پہلے ''الناس''كے بارے ميں فرمايا ہے كہ اس سے مراد نعيم بن مسعود الاشجعى ہے_

آنحضرت(ص) : ١، ١٣ آنحضرت-(ص) كے پيروكار ١٧

اسلام: صدر اسلام كى تاريخ ٣، ٤، ٨، ١٥، ١٦، ١٩

اسماء و صفات: وكيل ١٢، ١٤

اطاعت: آنحضرت (ص) كى اطاعت ١، ١٣ ;اطاعت كے اثرات ١٣; اللہ تعالى كى اطاعت ١، ١٣

اللہ تعالى: ١، ٨، ١١، ١٣، ١٨ اللہ تعالى كى امداد ١٥

ايمان: اللہ تعالى پر ايمان ١١; ايمان كا پيش خيمہ ٧; ايمان كا زيادہ ہونا ١، ٥، ١١; ايمان كے مراتب، ٥

تقوي: تقوي كے اثرات ١٣

توكل: اللہ تعالى پر توكل ٨، ١٨; توكل كا پيش خيمہ١٣; توكل كى اہميت ١٠ ;توكل كے اثرات ٩، ١١، ١٧; جہاد ميں توكل ١٧

____________________

١) مجمع البيان ج ٢ ص ٨٨٩ ، تفسير تبيان ج ٣ ص ٥٢.

۲۳۸

جنگ: عسكرى آمادگى ١، ٦

جہاد: ١٧

حوصلہ بڑھانا: حوصلہ بڑھانےكے اسباب ٩

حوصلہ پست كرنا: حوصلہ پست كرنے كے اسباب ٢

خوف : دشمنوں كا خوف ١٩;ناپسنديدہ خوف ١٧

دشمن: ٧، ١٩ دشمنوں سے برتاؤ كا طريقہ ١٠;دشمنوں كى افواہيں ٢، ٤، ٨

دين: دين كے دشمن٧، ١٠

روايت: ١٩

سختي: سختى كو سہل بنانے كا طريقہ ٩، ١٠

صبر: صبر كے اثرات ١٣

غزوہ احد: ١، ٢، ٣، ٨، ١٩ غزوہ حمراء الاسد: ١٥، ١٦

كوشش: كوشش كى اہميت ١٨;كوشش كے آداب ١٨

مجاہدين: مجاہدين صدر اسلام، ١

مسلمان: صدر اسلام كے مسلمان ٢

مشركين: مشركين كا منظم ہونا٣

مؤمنين: ١٤ صابر مؤمنين ١٢;متقى مؤمنين ١٢;مومنين كا توكل ٨;مؤمنين كا خوف ١٩;مومنين كى اميدوارى ١٥;

مومنين كى صفات ٦، ٧، ١٥، ١٧; نيكوكار مؤمنين ١٢

نعيم بن مسعود: ١٩

نيكوكاري: نيكوكارى كے اثرات ١٣

۲۳۹

آیت(۱۷۴)

( فَانقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُواْ رِضْوَانَ اللّهِ وَاللّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ ) پس يہ مجاہدين خدا كے فضل و كرم سے يوں پلٹ آئے كہ انہيں كوئي تكليف نہيں پہنچى اور انھوں نے رضائے الہى كا اتباع كيا اور الله صاحب فضل عظيم ہے _

١_ مؤمنين كا غزوہ حمراء الاسد يا بدر صغري سے نعمت اور فضل الہى كى وجہ سے بغيركسى ضرر و نقصان كے واپس پلٹ آنا_فانقلبوا بنعمة من الله و فضل لم يمسسهم سوئ يہ اس بنا پر كہ جب ''بنعمة''كى ''بائ''مصاحبت كے معنى ميں ہو اور ايك محذوف سے متعلق ہو اور ''انقلبوا''كے فاعل كيلئے حال ہو_ ياد ر ہے كہ اكثر مفسرين نے كہا ہے كہ مذكورہ آيات غزوہ حمراء الاسد كے بارے ميں ہيں اور بعض كے نزديك يہ آيات بدر صغري كے بارے ميں ہيں _

٢_ غزوہ حمراء الاسد يا بدر صغري ميں شركت كرنے والے مؤمنين كے ضرر و نقصان سے محفوظ رہنے كا سبب، ان پر خداوند متعال كا عظيم فضل اور نعمت تھے_فانقلبوا بنعمة من الله و فضل لم يمسسهم سوئ

اس مطلبميں ''بنعمة''كى ''بائ''كو سببيت اور ''انقلبوا''كے متعلق ليا گيا ہے_

٣_ مؤمنين كا غزوہ حمراء الاسد يا بدر صغري ميں شركت كيلئے پيغمبر اكرم (ص) كى دعوت كو قبول كرنا_

الذين استجابوا لله والرسول فانقلبوا بنعمة من الله و فضل

٤_ غزوہ حمراء الاسد يا بدر صغري ميں ، مشركين اور مؤمنين كے درميان جنگ كا واقع نہ ہونا_*

فانقلبوا بنعمة من الله و فضل لم يمسسهم سوئ بظاہر''لم يمسسهم سوئ'' جنگ كے واقع نہ ہونے سے كنايہ ہے_

۲۴۰

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455