تالیفات :
اکثر ائمہ علیہ السلام کی زندگی کے زیادہ تر حصے حکومت وقت کی سختیوں اور پابندیوں سے دوچار ہے۔ امام رضا کی مدت امامت کے ۲۰ سال میں سے صرف تقریبا تین سال ایسے تھے کہ نسبتا آپ نے ایک بہتر ماحول میں وقت گزار ا لیکن یہاں بھی ہمیشہ ایک مسلسل نگرانی ( Surveliance ) کی فضا موجود تھی ان کے عقیدتمندوں کا حکومتی عملہ ہمیشہ پچھا کرتا۔ اس گھٹن کے ماحول کے باوجود مختلف موضوعات پر ائمہ حقہ کے علمی فیوض تک رسائی کی اور ان کو قلمبند کیا جواب ان ائمہ کی تالیفات کی شکل میں موجود ہے۔ امام رضا سے منسوب تالیفات کا ایک سرسری ذکر حسب ذیل ہے۔
۱.
کتاب فقہ رضوی: یہ کتاب دانشمندوں کے درمیان موضوع بحث بنی ہے۔ کچھ علما جن میں مجلسی اول و دم بحر العلوم ، صاحب حدائق اور شیخ نوری شامل ہیں اس کو معتبر شمار کرتے ہیں۔ یہ امام سے منسوب احادیث کا مجموعہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ:
یہ شیخ صدوق کے والد کی تالیف ہے جن کا نام علی بن موسی تھا اور نام کےساتھ رضا کا اضافہ کا تب کی غلطی شمار کیا گیا۔ بعض اس کو شیخ صدوق کی تالیف قرار دیتے ہیں جنہوں نے روایات کو اسناد کے بغیر جمع کیا۔ آغا مہدی صاحب کے بموجب اس کا فارسی ترجمہ" فقہ رضوی" اصل نسخوں کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا جو ممتاز علماء کے پاس پائے گئے ۔
۲. کتاب محض الاسلام : نماز اور دیگر واجبات سے متعلق احکام پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے متعلق عام رائے یہ ہے کہ یہ فتوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن جو او فضل اللہ کو اس کی سند میں شک ہے۔
۳. صحیفۃ الرضا : فقہ کے موضوع پر ہے لیکن اسکا انتساب امام کی طرف ثابت نہیں ہوسکا البتہ مستدرک الوسائل میں اس کو قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے۔ اسی نام سے ایک اور رسالہ حدیث "سلسلۃ الذهب " پر مشتمل ہے جس کا اردو ترجمہ حکیم اکرام رضا نے نول کشور پریس لکھنو سے شائع کروایا ہے۔ ( آغا مهدی )
۴. امام رضا اور طب : امام رضا کے علمی فیوض میں سب سے اہم رسالہ ذهبیہ یعنی Golden Treatise )) طب کے موضوع پر ہے۔
علم طب سے امام کے خصوصی تعلق کی بظاہر ایک وجہ اس کی ابتدائی ترویج و فروغ میں ملت ایران کا امتیازی کردار ہے۔
ظہور اسلام سے قبل ایران کے صوبہ خوزستان کے جندی شاہ پور کے شفاخانہ کا شمار دنیا میں علم طلب کی پہلی یونیورسٹی کے طور پر ہوتا ہے۔ ایران کے مسلمان قابل الذکر علما میں محمد بن ذکر یا اور بو علی سینا کا نام لیا جاتا ہے۔ دانشور جواد فاضل ( ۱۳) نے اپنی تالیف طب اسلامی اور جدید میڈیکل سائنس کے انکشافات میں طب سے متعلق معصومین کے ارشادات کو طب النبی ، طب الصادق اور طب الرضا کے عنوانات کے تحت جمع کیا ہے طب النبی کو علامہ مجلسی نے بحارلانوار کے ۱۴ ویں جلد "السما العالم " میں نقل کیا ہے۔
طب الصادق کی تفصیلات کشف الاحضار، خصال اور بحار میں موجود ہیں۔
طب الرضا کی اساس وه تفصیلی خط ہے جو امام رضا نے نیشاپور میں ۲۰۱ ھ میں مامون کو ارسال کیا تھا۔
اس ضمن میں مامون اور امام کے علاوہ مشہور ا طبا یوحنا ابن ماسویه ، جبریل بن یختی یشوع ، حکیم بن سلمہ کے درمیان انسانی جسم اور حفظان صحت کے اصول کے موضوع پر تفصیلی بحث ہوئی تھی اس رسالہ میں وہ تمام معلومات وجود ہیں جن پر آج علم طب کی بنیاد ہے مثلاً فزیا لوجی، پھتالوجی، اناٹومی، جسم انسانی کا ڈھانچہ ، اعصاب اور ان کےوظائف وغیرہ یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ اسلامی طب کی بنیاد اعتدال ہے جو قران کریم کی آیت " كلو والشر بوا ولا تسر فوا "(سورہ اعراف) کھاؤ پیومگر اسرا ف نہ کرو کی عملی تفسیر ہے۔
اس کے کئی تراجم ہیں اور بے شمار شرحیں لکھی گئی ہیں جو عربی اور فارسی میں ہیں ( صادق عارف ) لیکن ارد و ان طبقہ کے لئے یہ امر باعث فخر اطمینان ہے کہ علامہ رشید ترابی (۱۴) نے بھی اپنی تالیف "طب معصومین " کے ذریعہ اس ضمن میں قابل قدر خدمت انجام دی ہے۔
اس کتاب میں مختلف امراض کے لئے چہاردہ معصومین کے تجویز کردہ علاج کو یکجا جمع کیا ہے۔ ایک جامع مقدمہ میں علامہ موصوف نے اپنے خاص انداز میں صحت انسان سے متعلق قرآن کی آیات اور ائمہ کے ارشادات اور تجربات کوقلمبند کیا ہے۔
اس کتاب کے انتساب میں ان کی فکر رسا کے انداز دیکھئے"
اے صبح اول یہ درر ارشادات تیرے ہیں گلے کے موتی ہیں مگر زمانے کے ہاتھوں بکھر گئے تھے میں نے ان کو ایک جگہ جمع کیا اور آج تیرے دروازہ پران کو تیرے ہی هاتھوں بیچنے کے لئے آیا ہوں اس کی قیمت یہ ہے کہ تو مجھے دیکھ کر ایک مرتبہ مسکرا دے۔“
امام رضا کے اصحاب اور شاگرد :
امام رضا کے اصحاب اور شاگرد کی ایک طویل فہرست ہے۔