حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت

حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت0%

حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: امام رضا(علیہ السلام)
صفحے: 26

حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ڈاکٹر میر محمد علی
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 26
مشاہدے: 943
ڈاؤنلوڈ: 198

تبصرے:

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 26 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 943 / ڈاؤنلوڈ: 198
سائز سائز سائز
حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت

حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

عنوان نمونہ چند کا حال مقصود ہے۔

۱. نصر بن قابوس ۲۰ سال تک امام صادق کے وکیل رہے، ان کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ امام مویٰ کاظم اور امام رضا کی امامت کے نصوص کے شاہد ہیں ۔ ( وصایت )

۲. ذکریا ابن آدم بن عبد الله کے خصوص اصحاب میں سے تھے ان پر اعتماد کا یہ حال تھا کہ امام نے آپ کو اپنی طرف سے سوالات کے جوابات پر مامور کیا تھا۔

۳. محمد بن اسماعیل مرد ثقہ اور خاص اصحاب میں سے تھے۔ ان کے مرتبہ کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ علامہ بحر العلوم طباطبائی کی ولادت کی رات ان کے والد جناب سید مرتضی کے خواب میں امام رضا کی طرف سے بھیجی ہوئی شمع روشن کی۔

۴. اس کے علاوہ حسن بن محبوب السراد الکوفی ، حسن بن علی بن زیاد کوئی اور صفوان بن بی وغیرہ ہیں ۔

۵. امام کے اصحاب میں عامتہ الناس میں "دعبل بن علی الخزاعی کو بیحد شہرت نصیب ہوئی یہ شاعر تھے۔ ایام عزاداری میں امام شعرا اور ذاکرین کو اپنی موجودگی میں منبر پر بیٹھنے کے لئے اصرار کرتے ۔

بعض روایات کے مطابق ایک مرتبہ دعبل نے اپنے ایک مرثیہ میں جناب سیدہ کو مخاطب کرتے ہوئے اہلیت کی بکھری ہوئی قبروں کا ذکر کیا تو امام نے اپنی طرف سے اس مرثیہ میں ایک شعرکا اضافہ کر دیا جس میں طوس میں ایک قبر کا ذکر تھا۔ دعبل کے استفسار پر امام نے کہا کہ یہ میری قبر ہوگی جو طوس میں بنے گے اور جو شخص میری زیارت کر یگا وہ روز قیامت میرے ساتھ محشور ہوگا۔

۲۱

شهادت :

مامون رشید نے امام کو صرف اس غرض سے ولی عہد بنایا تھا کہ امام کے ذریعہ علویوں کی مخالفت پر قابو پائیگا اور امام اس کے سیاسی امور میں مدد کریں گے۔ جب اس نے امام کی امور سلطنت میں بے رخی دیکھی اور ساتھ ساتھ آپ کے علم فضل اور روحانیت کا چرچہ دیکھا تو وہ عوام کی متوقع بیداری سے خائف ہو گیا اور اس کو خلافت عباسی کے لئے خطرہ سمجھا، بغداد کے عباسیوں پر قابو پانے سے پہلے اس نے اپنے وزیر خاص فضل بن سہل کو قتل کروایا اور پھر ۲۰۳ھ میں امام کوز ہر دیکر شہید کر دیا " ایک سیل خوں رواں ہے حمزہ سے عسکری تک " مورخین کی اکثریت مامون کو اس جرم کا ذمہ دار سمجھتی ہے جبکہ بعض امام کی ناسازی طبع کو رحلت کا سب قرار دیتے ہیں اور "شبلی نعمانی " المامون “ میں مامون کو اس جرم سے بالکل بری قرار دیتے ہیں۔

امام کے روز شہادت میں ۱۷ صفر ، آخر ماہ صفر اور رمضان کے آخری ہفتہ کی تواریخ قابل ذکر ہیں ۔ مقام قبر کے لئے خراسان کے انتخاب پر ابن حسن جار چوی لکھتے ہیں کہ عید کے دن امام نماز تونہ پڑھا سکے لیکن اہل خراسان کو امام کے بلند مقام کا اندازہ ہو گیا اور ان کے دلوں میں امام کے لئے مودت اس قدر پیوست ہو ہوگئی گی کہ آج صدیاں گزرنے کے بعد بھی ان کی وفاداریاں عیاں ہیں شاید ان کا یہی طرز عمل تھا کہ امام نے اس سرزمین کو اپنا دائمی مسکن بنالیا۔

۲۲

تتمہ:

تتمه کلام میں اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ حضرت امیرالمومنین سے لیکر امام حسن عسکری تک ہمارے کسی امام کی طبعی موت واقع نہیں ہوئی۔ واقعہ کربلا نے تیغ و سناں کے زخموں کا سلسلہ تو ختم کردیا لیکن ائمہ کی زهر خورانی کا ایک مسلسل عمل قائم رہا اور نت نئے طریقوں یہ مقصد حاصل کیا گیا ائمہ کی مدت حیات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں امام رضا ع کے بعد کے ائمہ یعنی امام تقی جواد، امام هادی اور امام حسن عسکری جو ملقب بہ ابن الرضا بھی ہیں دشمنوں کے ہاتھوں کوتاہی عمرکا شکار ہوئے۔ جب یہ صورت پیدا ہوئی تو خدائے تعالی کو بھی ان انوار عصمت کی حفاظت کے سلسلہ میں نئی حکمت عملی تیار کرنا پڑی پہلے مرحلے میں جسے ہم غیبت صغری کا آزمائشی دور بھی کہہ سکتے ہیں اس نے اپنے ولی کو ایک معینہ مت ۶۹ سال تک پردہ میں چھپا دیا۔ اس دوران علما کے ایک گروہ کو تیار کیا گیا جو نواب اربعہ کے نام سے موسوم ہوئے جن کی خدمات سے بتدریج اجتہاد کے نام کا ارتقاء عمل میں آیا۔یہ خداوند تعالی کا ہمارے مراجع اجتهاد کی قائدانہ صلاحیتوں پراعتماد کی علامت ہے کہ بالآخر اس نے اپنے ولی کو مصلحتا ایک غیر معینہ مدت تک پردہ غیب "غیبت کبری" میں چھپا دیا ہے، خدا ہماری مدد کرے اور توفیق دے کہ ہم " انتظار امام" کی امانت کو " انتصار امام" سے بدلنے کے قابل ہو سکیں۔

۲۳

عہد نامہ ولی عہدی

ابوالحسن ار بلی نے کشف الغمہ میں عہد نامہ ولی عہدی جو مامون رشید اور امام رضا کے درمیان طے پایا مکمل متن درج کیا ہے۔ جواد معینی اور احمد ترابی نے " امام علی بن موسی الرضا منادی توحید و امامت" میں اس کی تفصیلات دی ہے۔ قارئین کے استفادہ کے لئے کچھ اقتباسات درج کئے جاتے ہیں بتایا جاتا ہے کہ مامون رشید نے بقلم خود اس عہد نامہ کو تحریر کیا تھا۔

بسم الله الرحمن الرحيم

یه تحریر عبداللہ بن بارون کی جانب سے اس کے ولی عہد علی بن موسی کے درمیان ہے۔ خدا نے اسلام کو ایک برگزیدہ دین کی حیثیت سے اس کی تبلیغ کے لئے پیغمبر ان کو مبعوث کیا تا کہ مخلوق خدا کی رہنمائی کی جائے اور آخر پیغمبر اکرم کو تمام انبیاء پر گواہ قرار دیا۔ جب نبوت اختتام کو پہونچی تو بندگان خدا کی مسئولیت خلفاء اور جانشینان رسول کو منتقل ہوئی ۔ عوام پر لازم ہے کہ ان جانشینوں کی اطاعت کریں تاکہ مسلمانوں کے درمیان رشتہ وحدت مضبوط ہو ۔ ان جانشینوں کے لئے لازم ہے کہ احکام خداوندی پر کار بند ر ہیں اس کے بعد مرقوم ہے کہ مامون نے محسوس کیا کہ اس کے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے اور اس امر میں وہ ایک ولی عہد کی تلاش میں تھا تا کہ خدا کے سامنے سرخرو ہو کر وہ اپنے فرائض کو احسن طریقہ پر انجام دے سکے۔

اس جستجو میں انتہائی تلاش کے بعد عباسیوں اور علویوں کے درمیان حضرت علی بن موسی کو فضل، شرافت ، علم ، زہد اور تقویٰ کے لحاظ سے موزوں ترین اور شائستہ ترین پایا "۔

مامون نے اپنے اہل خانہ سرداران لشکر اور کارگزاروں سے اس ضمن میں امام کی بیعت لی۔

( دوشنبه ۱۷ رمضان ۵۲۰۱)

مامون کی درخواست پر امام نے بھی اس عہد نامہ پر اپنی جانب سے چند خیالات مثبت کئے ۔

۲۴

بسم الله الرحمن الرحيم

خدائے تعالی جو چاہتا ہے اس میں چوں و چرا کی گنجائش نہیں۔ وہ ہر ایک کی نیت اور ارادوں سے واقف ہے، فرمانروائے مومنین کو توفیق ہوئی کہ ہمارے حق کو جسے دوسروں نے نہیں پہچانا اس کا رسمی اظہار کیا اور عباسیوں اور علویوں کے درمیان جورشتہ ٹوٹ گیا تھا اس کو پیوست کیا۔ خلیفہ نے اپنی ولی عہدی مجھے سپرد کی ہے اور اپنے بعد فرمانروائی کے لئے معین کیا ہے بشرطیکہ میں اس کے بعد زندہ رہوں امام نے اپنے ارشاد میں لوگوں کو کار خیر پر کار بند رہنے کی تاکید کی اور خدا کو گواہ رکھتے ہوئے یقین دلایا کہ اگر مجھ پر مسلمانوں پر حکومت کی ذمہ داری عائد کی گئی تو میں تمام افراد اور بالخصوص بنی عباس کے ساتھ خدا اور رسول کے فرماں کے بموجب کام کرونگا کسی بے گناہ کا خون نہ ہے گا اور کسی کی ناموس اور ملکیت دوسرے کے لئے مباح نہ ہوگی ، سوائے اس کے کہ قانون الہی کے تحت خدا سے اس کام میں مدد چا ہو گا اور اس کو اس ضمن میں گواہ رکھو گا ۔“

اس عہد نامہ کے سیاق و سباق میں حسب ذیل امور پنہاں ہیں :

۱. مامون کا تاکیدا اپنے آپ کو امیر المومنین لکھنا۔

۲. امام رضا کی بیعت کے ساتھ اپنی بیعت طلب کرنا یعنی اپنی خلافت کی تصدیق چاہنا۔

۳. مامون بعد پیغمبر خلافت کو عہدہ کمال سمجھتا تھاجبکہ اہلبیت کی نظر میں امامت کمال دین کے مقام پر ہے۔

۴. مامون خلافت کو اپنے لئے خدا کا عطا کردہ منصب سمجھتا تھا۔

۵. مامون اپنے تمام افعال اور حکمرانی کی پالیسیوں کو مبنی بر شریعت قرار دیتا ہے۔

۶. مامون ولی عہدی کے عہدہ کی تفویض کو اپنی طرف سے علویوں پر احسان و ایثار بتاتا ہے۔

۷. امام کے نوشتہ سے ظاہر ہوتا کہ حق حکومت امام کے لئے ہے اور دوسرے غاصب ہیں۔

۸. امام نے مامون کے بعد اپنی خلافت کو بشرط زندگی مشروط کر کے یہ بتا دیا کہ اس امر کا وقوع محال ہے۔

امام نے تحریر میں اس امر کا بھی اشارہ کیا ہے کہ ماضی میں اسلام کی حفاظت اور بہتر مصالح کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس طرز عمل کو حضرت امیرالمومنین ، امام حسن اور امام حسین نے معاویہ کی حکومت کے دور میں روا رکھا تھا بعینہ یہی عمل امام سے سرزد ہوا۔

اس عہد نامہ پر اس وقت کی سربراہ اور وہ شخصیات نے جیسے یحیی بن اکثم، حماد بن نعمان ،فضل بن سہل نے دستخط بہ حیثیت گواہ کئے ہیں ۔

اظہار تشکر :

اس مقالہ کی تدوین کے سلسلہ میں شکر گزار ہوں اسلامک ریسرچ اینڈ کلچر سینٹر کراچی کا جن کی شیخ مفید لائبریری سے حوالہ کا مواد مل سکا یہ ایک اچھی لائبریری ہے اور اس کے لائبریرین موسیٰ رضا صاحب بڑی محنت سے کام کرتے ہیں ۔ آل عبا ٹرسٹ کی لائبریری سے بھی چند اچھی کتابوں سے استفادہ کیا ہے۔ میں بالخصوص اپنے ایرانی دوست آقائے مرتضی طلوع ہاشمی ( مقیم مشہد ) کا بیحد ممنون ہوں کہ انہوں نے امام رضا سے متعلق موضوعات پر آستانہ قدس مشہد کے ریسرچ سنٹر میں شائع ہونے والی کتابیں مہیا کیں جن کو میرے بھانجے محمود رضا نے بہ حفاظت پہونچایا ۔ آغا موسیٰ رضا صاحب کی وساطت سے ڈاکٹر علی شریعی کی کتاب سے بھی مواد حاصل کیا گیا۔ میں خطیب آل عبا مولانا ناصر عباس زیدی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس مقالہ سے متعلق مفید مشورہ سے نوازا ۔ منتظمین گروه جعفری پاکستان اور آل عبا ٹرسٹ قابل مبارکباد ہے کہ تسلسل سے اس فکری اور مطالعاتی پروگرام کے ۵ سال مکمل کئے۔ میں خدائے تعالیٰ اور چہاردہ معصومین کا شکر گزار ہوں کہ ائمہ حقہ کے فیوض جاری کے صدقہ میں مجھے اس دینی خدمت میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا مواقع ملا خدا میری اس خدمت کو قبول فرمائے ۔ آمین۔

۲۵

حوالے

۱. سید صفدر حسین نجفی ( مترجم ) القرآن الکریم ترجمه و حواشی از تفسیر نمونہ مصباح القران ٹرسٹ لاہور ۱۹۹۵ ء

۲. محمد جوا دمعینی واحمد ترابی "امام علی موسی الرضا ، منادی توحید و امامت "(فارسی )بنیاد پژوهشهای اسلامی – آستانه قدس - مشبر ۱۳۸۶ ( ایرانی)م ۲۰۰۰ ء

۳. سید آغا مہدی لکھنوی "الرضا "جمعیت خدام عز اء النجف، کراچی ۱۹۶۶ ء

۴. نجم الحسن کر اروی " چودہ ستارے " امامیہ کتب خانہ لاہور ۱۳۹۳ ء

۵. سید حسن امداد ( مترجم )" بحارالانوار جلد پنجم حات ابوان علی ابن موس الرضا" علامه مجلسی محفوظ بک ایجنسی کراچی۔

۶. سید محمد صادق عارف ( مترجم ) "تحلیل از زندگانی امام رضا" ( فارسی) محمد جواد فضل الله نیاد پژوهشهای اسلامی ۱۳۷۷ ایرانی، مشهد ، ۱۹۹۵ ء

۷. علامہ ابن حسن جار چوی "عہد مامون و امام رضا "انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک کلچر اینڈ ریسرچ، کراچی

۸. نثار احمد زمین پوری ، مترجم "وسیلہ الخادم الى المخد وم " در شرح صلوت چهاردہ معصوم (فارسی) فضل الله بن روز بہان نجی اصفهانی ، انصاریاں پہلیکشنز تم ۴۱۷ اھ

۹. سید محسن مظفر نقوی الرضا" سیرت امام علی بن موسی" خراسان اسلامک ریسرچ سینٹر کراچی، ۱۹۸۱ ء

۱۰. جلیل عرفان منش "جغرافیائی تاریخی ہجرت امام رضا مدینہ تامر" ( فارسی )

۱۱. سید محمد موسیٰ رضوی ( مترجم ) "تشیع محمدی اسلام کے آئینہ میں " ڈاکٹر علی شریعتی ادار وه ن والقلم؛ کراچی ۶۲۰۲

۱۲. علامہ سید ذیشان حیدر جوادی "نقوش عصمت" چهارده معصومین کی مکمل سوانح حیات محفوظ بک ایجنسی، کراچی ۲۰۰ ء

۱۳. جواد فاضل ، مترجم "طب اسلامی اور جدید میڈیکل سائنس کے انکشافات" الحسن بک ڈ پو، کراچی، ۱۹۹۹ ء

۱۴. علامہ رشید ترابی "طب معصومین "محفوظ بک ایجنسی ، کراچی ۔

۱۵. روش علی نجفی ( مترجم ) "گفتار دلنشین چهارده معصوم علیہ السلام" انتشارات انصاریاں ، قم۔

۱۶. عباس حید رسید "الحمد اللہ" شاہ ولایت پبلیکشنز ، کراچی۔

۱۷. سید غلام تقی " شاہ خراسان حضرت امام علی الرضا" پاک محرم ایجوکیشن ٹرسٹ ، کراچی۔

۱۸. Mirza Mahmmed Ali Khoarasani (translater) "Mashad- the land of Miracles", Tehran, ۱۹۹۹.

۲۶