حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت

حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت0%

حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: امام رضا(علیہ السلام)
صفحے: 26

حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ڈاکٹر میر محمد علی
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 26
مشاہدے: 944
ڈاؤنلوڈ: 198

تبصرے:

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 26 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 944 / ڈاؤنلوڈ: 198
سائز سائز سائز
حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت

حضرت امام رضا(ع)کی شخصیت اور عہد امامت

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

تحقیقی مقالہ

حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام

کی شخصیت اور عہد امامت

محقق : ڈاکٹر میر محمد علی

۱

۲
۳

فہرستِ مطالب

پیش لفظ ۵

ابتدائيه: ۷

حالات زندگی : ۹

اعلان امامت ۱۱

امام کا ابتدائی دور ۔ ہارون کے زوال کے آثار : ۱۲

امام رضا کی شخصیت : ۱۴

شخصیت معنوی: ۱۵

امام رضا اور عہد مامون رشید : ۱۶

سفر امام رضا(علیہ السلام)، مدینه تا مرو : ۱۸

تفصیلات سفر : ۱۹

شخصیت سیاسی : ۲۱

شخصیت علمی : ۲۴

تالیفات : ۲۶

شهادت : ۳۰

تتمہ: ۳۱

عہد نامہ ولی عہدی ۳۲

اظہار تشکر : ۳۴

حوالے ۳۵

۴

بسم الله الرّحمن الرّحیم

پیش لفظ

قرآن ،نهج البلاغہ ،صحیفه کا ملہ ائمہ علیہم السلام کی زندگی اورعلمی فیوض کا مطالعہ ہمارے ایمان اور معرفت میں اضافہ کرتا ہے اور ہے اور پیغام حق کے تسلسل کا ذریعه بنتا ہے۔ اس مناسبت سے ان قلمی کاوشوں کو فیضان علم کے نام سے موسوم کیا ہے،

بحمد لله گروه جعفری پاکستان

۵

اور آل عبا مر کز تحقیق و کتب خانہ( آل عباٹرسٹ) کے زیر اہتمام حسب ذیل عنوانات پر مقالے پیش کئے گئے۔

۱. قران کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب

۲. نهج البلاغہ کا تعارفی جائزہ

۳. صحیفہ کاملہ کا تجزیاتی مطالعہ

۴. حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت اور علمی فیوض

۵. حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی شخصیت اور عہد امامت

۶. آئمہ عسکرین کا عہد امامت اور علمی فیوض

۷. انہدام جنت البقیع : تاریخی عوامل و اسباب

۸. نتظار امام مہدی علیہ السلام اور تشیع کا سفر علم و دانش

دوست احباب اور بالخصوص ابو طالب ترابی مرحوم کی خواہش تھی کہ ان مقالوں کو ایک کتابی شکل دی جائے تا کہ مومنین استفادہ کر سکیں۔ میری بھی تمنا ہے کہ اس سرمایہ نجات کو روزحشر ائمہ علیهم السلام کی خدمت میں پیش کروں۔

ان مقالوں کی تدوین میں مختلف افراد اور اداروں کا تعاون حاصل رہا ہے جن کے حوالے مقالوں میں دئے گئے ہیں۔

خصوصی طور پر خطیب آل عباسید ناصر عباس زیدی، حجت الاسلام عقیل الغروی ادر برادرم نصیر ترابی قابل ذکر ہیں۔ میرے ایرانی دوست

مرتضی طلوع ہاشمی اور ڈاکٹر حیدر رضا ضابط نے اسلامک ریسری فاؤنڈیشن مشهد ایران کی مطبوعات سے نوازا۔ میرے افراد خاندان کا

تعاون لائق شکر ہے۔ قارئین سے میرے والدین کے لئے سورۃ فاتح کی درخواست ہے۔ شکریہ

ناشر : احقر

سید علی حیدر ۔ حق پرنٹ اینڈ پبلشر ڈاکٹر میں محمد علی

کراچی سابق چیئر مین سندھ بورڈ آف تلفی کل ایجوکیشن ،

فون نمبر : ۶۶۷۶۰۳۴ کراچی نومبر ۲۰۰۵ء

۶

بسم الله الرّحمن الرّحیم

حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام

کی شخصیت اور عہد امامت

ابتدائيه:

امام علی ابن موسی الرضا کی شخصیت اور عہد امامت کے تجزیاتی مطالعہ کو میں قرآن مجید کے سورہ حج کی ۴۱ ویں آیت سے شروع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔

بسم الله الرحمن الرحیم

الَّذِينَ إِنْ مَّكَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُو الصَّلوَةَ وَاتَوُ الزَّكُوةَ وَآمَرُوابِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ طوَاللَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ۰

ترجمه :

وہ لوگ ایسے ہیں جنہیں جب زمین پر صاحب اقتدار بنایا گیا تو انہوں نے نماز قائم کی ، زکوۃ ادا کی ، نیکی کا حکم دیا اور بدی سے روکا اور ہر چیز کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں امام حسین اور امام موسی کاظم سے منقول ہے کہ یہ آیت مخصوص ہے ہم اہل بیت کے لئے اور تفسیر نور التقلین کے بموجب حضرت امام محمد باقر نے کہا کہ یہ پوری آیت آل محمد کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ (سید صفدر حسین نجفی )

ان وضاحتوں کے بعد اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی عمومیت میں یہ آیت تمام ائمہ اثناء عشری کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس آیت کے مندرجات کے پس منظر میں جب ہم امام رضا کی معنوی علمی اور سیاسی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو امام رضا ایک امتیازی حیثیت کے حامل نظر آتے ہیں وہ اس طرح کہ ائمہ حقه امامیہ میں حضرت امیر المومنین کی ظاہری خلافت کے بعد امام رضا ہی وہ فرد ہیں جنہوں نے اپنے دور امامت میں ولی عہدی کے منصب پر فائز ہو کرمندرجہ بالا آیت میں بیان کردہ شرائط کی تکمیل کے ساتھ انتظام مملکت میں اعانت کی عملی مثال قائم کی اور بتایا کہ دین سیاست سے اور سیاست دین سے جدا نہیں بشرطیکہ یہ عمل احکام خداوندی کے تحت بحالا یا جائے ۔

۷

اس مقالے میں تین بنیادی حوالوں سے امام رضا کی شخصیت پر بحث کی گئی ہے۔

۱. امام کی معنوی اور روحانی شخصیت۔

۲. مام کی سیاسی بصیرت اور ولی عہدی کے مضمرات ۔

۳. امام کے علمی فیوض ۔

۸

حالات زندگی :

امام علی الرضا کی تاریخ ولادت ۱۱ ذیقعده ۱۴۸ ھ (م ۲۹ دسمبر ۶۷۶۵ ء) روز جمعه یا پنجشنبه پراکثر مؤرخین متفق ہیں۔ اس لحاظ سے آپ کی ولادت کا سال آپ کے جد بزرگوار امام جعفر صادق کے سال شہادت کا ہم عصر هے( بحارالانوار - روضة الواعظين ) لیکن بعض مؤرخین کے بموجب جن میں شیخ صدوق بھی شامل ہیں تاریخ ولادت (۱۱ ربیع الاول ۱۵۳ ھ ) روز پنجشنبہ ہے۔ ( عیون اخبار رضا ، مروج الذهب )

لقب رضا کی وضاحت ۔ ہمارے ائمہ علیہ السلام کے نام ، لقب اور کنیت میں ایک خاص پیغام ہوتا ہے (مثلا سجاد، باقر ، صادق وغیرہ ) ابن جریر طبری نے سال ۲۱ ھ کے واقعات کے ضمن میں لکھا ہے کہ اس سال مامون رشید نے امام علی بن موسیٰ بن جعفر کو اپنا ولی عہد مقرر کیا اور ان کو (الرضا من آل محمد) کے نام سے مخصوص کیا۔ البتہ ابن خلدون نے الرضا کی جگہ الرضی تحریر کیا ہے۔ لیکن محمد جواد معینی ( ۲) ( مترجم ) کتاب امام علی بن موسی الرضا "نے مختلف روایات کی روشنی میں یہ دلیل دی ہے کہ اس لقب کا ولی عہدی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مامون رشید کے وزیر خاص فضل بن سہل نے امام کے نام اپنے تمام پیغامات میں الفاظ علی بن موسی الرضا سے مخاطب کیا ہے جو اس لقب کی قدامت پر دلیل ہے۔ اس کے علاوہ ابوالحسن حسن ابوعلی اور اب محمد آپ کی کنیت ہیں۔ امام کے رضا کے علاوہ اور بھی القاب ہیں جنہیں سراج اللہ، نور الحدی، سلطان انس و جن، غریب الغربا، اور شمس الشموس وغیرہ ہیں جو آپ کی زیارتوں میں شامل ہیں ۔

امام علی الرضا کی والدہ کا نام تکتم ، نجمه ، خیزران ، نجیه ، اور طاهره تھا، آپ کی ازواج میں حضرت سبیکہ اما محمد تقی جواد کی والدہ تھیں ۔ آپ کی زوجین کی نسبت سے ام حبیبہ دختر مامون رشید کا نام بھی لیا جاتا ہے لیکن اس کی سند میں مورخین میں اختلاف ہے۔

امام کی اولاد کے سلسلہ میں مورخین میں دو امور پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ اولا یہ کہ ام حبیبہ کے بطن سے امام کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ دیگر یہ کہ سبیکہ نامی خاتون امام تقی جواد کی والدہ ہیں۔ ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ ابن شہر آشوب، محمد بن جریر طبری، شیخ مفید اور طبرسی کے بموجب سوائے امام محمد تقی کے امام کی کوئی اور اولاد نہیں تھی۔ لیکن بعض روایات کے لحاظ سے امام کے دو فرزند محمد اور موسی ، یا محمد و جعفر اور بعض کے مطابق پانچ فرزند اور ایک دختر تھی۔ امام کی اولاد کے سلسلہ میں جناب آغا مہدی لکھنوی، ( ۳) نے اپنی کتاب الرضا میں ۱۸حوالوں سے یہ وضاحت کی ہے کہ امام کی ایک سے زیادہ اولاد تھی ان حوالوں میں صاحب کشف الغمہ، عبد العزیز بن اخضر ابن خشاب ، سبط ابن جوزی اور شیخ ابراہیم کفعمی شامل ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق یہ ممکن ہے کہ امام جعفر صادق کے بعد اسماعیل کے بارے جو غلط فہمی پیدا کی گئی اس کی تکرار کے سدباب کے لئے امام نے خود اپنی زندگی میں اولاد کو منتشر کر دیا ہو اور خطرہ برطرف ہونے پر اپنے اولا دامام ہونے کا اظہار کر دیا ہو۔

امام کی شہادت ۲۰۳ ھ میں واقع ہوئی ۔ ۲۵ جب ۱۸۳ ھ ( یکم ستمبر ۷۹۹ ء) کو امام موسی کاظم کی شہادت واقع ہوئی تھی۔ اس طرح امام رضا تقریباً ۳۵ سال اپنے والد بزرگوار کی سرپرستی میں گزارے لیکن اس دوران کئی موقعوں پر امام موسی کاظم ہارون رشید کی قید کی سختیاں برداشت کرتے رہے اور یوں آپ شفقت پدرانہ سے زیادہ عرصہ تک محروم رہے ، علامہ نجم الحسن کرا روی ( ۴) نے والد کی شہادت کے وقت امام کی عمر ۳۰ سال بتائی ہے۔

۹

اعلان امامت

شیعہ عقیدہ کے بموجب امامت ایک وہبی وصف ہے یعنی اس کا تعین خود اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور ایک امام آنے والے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس عمل کو نص کہتے ہیں یعنی منشائے الہی کا اظہار، امام موسی کاظم نے اپنی زندگی میں ہی اہلبیت کی ممتاز شخصیتوں کے سامنے اپنے فرزند علی کی جانشینی کا اعلان فرمایا تھا ( حسن امداد ۔ ترجمہ بحارالانوار ۵) – ۸۳ ھ میں اپنے والد کی شہادت پر امام رضا نے اپنی امامت کا اعلان کیا۔ آپ کے اصحاب کو اس دور کے حالات اور بالخصوص امام موسی کاظم کی شہادت کے واقعات کے بعد یہ ڈرتھا کہ کہیں بارون آپ کو گزند نہ پهنچائے ۔ آپ نے فرمایا کہ پیغمبر اسلام کا قول هے کہ اگر ابو جہل میرا ایک بال بھی بیکا کر سکے تو گواہ رہنا میں پیغمبر نہیں ہوں ۔ اس طرح اگر ہارون مجھے نقصان پہونچا سکے تو میں امام نہیں ہوں ۔ ( سید محمد صادق عارف - ۶)

امام علی رضا نے اپنے ۵۵ سالہ دور زندگی میں چھ خلفاء بنی عباس یعنی منصور ،مہدی، ہادی، ہارون، امین اور مامون کا دور حکومت دیکھا، آپ کی امامت کے ابتدائی دس سال کے دوران هارون رشید کی تھی اس دوران بغداد میں بارون کے ظلم و ستم کا بازار گرم تھا، ہارون کا ۱۹۳ ھ (۸۰۹م) میں انتقال ہوا اس کے بعد سال ہارون کے بیٹوں امین اور مامون کا دور خلافت تھا۔

۱۰

امام کا ابتدائی دور ۔ ہارون کے زوال کے آثار :

هارون رشید کی خلافت کے آخری ایام انتہائی کمشمکش اور اندرونی سازشوں کی دفاع میں گزرے۔ عوام اس کے ظلم وستم سے بیزار اور با الخصوص دوستداران اہلبیت امام موسی کاظم کی شہادت کے بعد حکومت سے بدظن تھے۔ اس کوشش میں کہ عوام کو خوش رکھا جائے اور ان کے اعتماد حاصل کرنے کی خاطر ہارون کبھی مولائے کائنات کی فضیلت اور برتری کی باتیں کرتا اور بعد پیغمبر خلافت پر ان کے حق کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ، معاویہ پر لعنت کو اس نے رسی شکل دیدی تھی اور فدک کو علویوں کو واپس کرنے کی کوشش بھی کی۔

لیکن ان اقدامات سےیہ نہ سمجھا جاے کہ امام موسی کاظم کی شہادت کے بعد اس کا رویہ بدل گیا تھا۔ عیسی جلودی کے ذریعہ سادات مدینہ کی اور اہلبیت کے مال واسباب کی لوٹ مار کے واقعات اس کے شاہد ہیں ( صادق عارف ) ایک اہم عنصر جو ہارون کی پریشانی کا باعث تھا وہ اہل خراسان کا رویہ تھا۔

اس کا پس منظریہ ہے کہ جب بنی امیہ کے مظالم اپنی انتہاء کو پہونچ گئے تو ابو مسلم خراسانی نے دعوت رضائے آل محمد کے نام سے ایک تحریک شروع کی جس نے بالآخر بنی ہاشم کے طرفداروں کی جدوجہد کے نتیجہ میں بنی امیہ کی حکومت کو درہم و برہم کر دیا ۔ مگر جب عنان حکومت بنی عباس کے ہاتھ میں آنے کے بعد بھی اہل خراسان کو مایوسی رہی اور حق بحقدار نہیں ملا تو انہوں نے حکومت بغداد کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا۔

ان حالات کے نتیجہ میں بارون نے محسوس کیا کہ بغداد میں بیٹھ کر خراسان کا انتظام نہیں چلایا جا سکتا ( علامہ ابن حسن جار چوی۔ ۷) ۔

بالآخر ہارون رشید نے سلطنت بنی عباس کے انتظام اپنے تینوں بیٹوں امین ، مامون اور قاسم میں تقسیم کر دیا۔ امین کو جس کی ماں زبیدہ جو عربی نسل تھی منصور ووانیقی کے قبیلہ سے تھی اور مامون عیسی بن جعفر سیاسی اہمیت رکھتا تھا اس نے عراق اور شام کا علاقہ سپر د کر دیا جس کا دار الخلافہ بغداد تھا۔ اس طرح سے وہ عباسیوں پر قابو پانا چاہتا تھا۔

مامون کوجس کی ماں عجمی کنیز تھی ہمدان سے ایران کے تمام علاقوں کا انتظام سپرد کردیا تاکہ عجمیوں کوزیر قابو رکھ سکے

اس کا صدر مقام مرو ( خراسان) تھا۔ باقی اطراف کے علاقے قاسم کے تسلط میں دیئے گئے۔

۱۱

اس تقسیم کے نتیجہ میں بھائیوں کے درمیان یہ بھی معاہدہ ہوا تھا کہ :

امین کے بعد خلافت مامون کو ملیگی لیکن بعد کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مملکت کی اس انتظامی تقسیم نے امین اور مامون کے درمیان پہلے سے موجود نسلی تعصبات کو مزید ہوا دی۔ ہارون رشید کے انتقال ( ۱۹۳ ھ م ۰۸۰۹) کے بعد دونوں بھائیوں میں تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔ امین نے تقسیم کے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے بیٹے موسیٰ کی بیعت کا حکم جاری کیا۔

حالات میں مزید سنگینی اس وقت پیدا ہوگئی جب محمد ابن ابراہیم طباطبا نے جو علویوں کی جانی شخصیت تھی بھائیوں میں اس محاذ آرائی کے دوران کوفہ سے یمن تک قبضہ جمالیا اور بغداد میں جہاں بنی عباس کا زور تھا علویوں کی شورش کا بھی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ چار سال کی معرکہ آرائی کے بعد امین کو شکست ہوئی اور وہ ۱۹۸ ء میں قتل کر دیا گیا اور مامون سلطنت بنی عباس کا خلیفہ بن گیا۔

ان تمام واقعات کے دوران امام رضا مدینہ میں مقیم رہے اور ہدایت و رشد کے فرائض انجام دیتے رہے۔

ان کے اس طرز عمل پر حکومت کی جانب سے کوئی تعرض نہیں تھا کیونکہ اس دوران حکومت اپنے اندرونی خلفشار سے نبرد آزماتھی ۔

۱۲

امام رضا کی شخصیت :

شیعہ ائمہ کی شخصیت کے مطالعہ کے سلسلہ میں ان کی معنوی علمی اور سیاسی زندگانی کا جائزہ ضروری ہے۔

معنوی یا روحانی زندگی سے مراد وہ خصوصیات ہیں جو خدا کی خاص عنایات کے طور پر ان کے اور خدا کے درمیان ایک رشتہ استوار کرتی ہیں یہ ان کے عبادات ، تقوی اور اخلاق کی عکاسی کرتا ہے۔

امام کی معنوی خصوصیات کے ضمن میں خود امام رضا فرماتے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ امام تمام افرا سے دانا ترین، پرہیزگار، بردباری اور دلیری بخشش اور پارسائی میں سب سے افضل ہو۔

ان صفات کی موجودگی اس لئے بھی ضروری ہے کہ پیغمبر کے بعد وہ احکام رسالت کا اجرا کننده ہے اور دین کے مہم نکات اور دقیق مسائل جو عام انسانوں کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں ان کی وضاحت امام کی ذمہ داری ہے ۔

( صادق عارف )

۱۳

شخصیت معنوی:

امام کی شخصیت معنوی کے ضمن نجم الحسن کر اروی لکھتے ہیں کہ امام گفتگو میں بیحد نرم مزاج تھے۔ جب بات کرنے والا اپنی بات ختم کر لیتا تب اپنی طرف سے کلام کا آغاز فرماتے کسی کے کلام کو قطع نہیں کرتے۔ راتوں کو کم سوتے ۔ اکثر روزہ رکھتے تھے مزدور کی مزدوری پہلے طے فرماتے پھر اس سے کام لیتے ۔ مشہور شاعر ابونو اس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جس کے آباء واجداد کے آستانہ کا جرئیل خدمتکار تھا اس کی مدح محال تھی۔ عبداللہ بن مطرف بن ہامان سے مامون رشید نے امام رضا کی بابت دریافت کیا تو اس نے برجستہ کہا کہ اس کے بارے میں کیا کہوں جس کی طینت رسالت میں پیوستہ اور اس کی سرشت میں وحی ہے۔ (جواد معینی/ احمد ترابی) امام رضا اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں خلق پیغمبر کی ایسی تصویر تھے کہ بے اختیار رسول اکرم کا خلق یا د آجاتا تھا۔

امام کی شخصیت کے اخلاقی اور روحانی اوصاف کے ضمن میں حسب ذیل حوالوں کا ذکر ضروری ہے۔

۱. امام کے اخلاق کے پر توان کے بے شمار اقوال اور احادیث میں عیاں ہے۔ مولانا روشن علی نجفی نے گفتار دلنشین چهارده معصوم علیہ السلام کے اردو ترجمہ میں چہاردہ معصومین میں سے ہر ایک کے حوالہ سے اقوال اور احادیث نقل کیا ہے۔ امام رضا کی احادیث میں ایمان ، قران ، توحید ، مومن کی خصوصیات اور فلسفہ نماز کا ذکر ہے۔

۲. امام نے ذات تعالیٰ کے اوصاف کی نسبت سے حروف تهجی کے ہر حرف کے پنہاں معنی پر بصیرت ، افروز تبصرہ فرمایا ہے. ( سید غلام نقی)

۳. امام کے روحانی تصرفات اور معجزات سے متعلق معلومات میں مرزا محمد علی خراسانی نے انگریزی میں زائرین مشہد کے حوالہ سے امام کے ۳۴ معجزات تحریر کئے ہیں۔ عباس حیدرسید نے اپنی تالیف " الحمد للہ" میں ا مام رضا کے ۱۰ معجزات شامل کئے ہیں۔

ائمه علیہ سلام کی شخصیتوں کو سمجھنے کے لئے تاریخی بخل کے کو ه گراں کی رکاوٹ کو تحقیق اور تجسس سے عبور کرنا ضروری ہے اس جستجو میں ہمیں فضل اللہ بن روز بہان اصفہانی نظر آتے ہیں جو اپنی بعض تالیفات کی وجہ سے فریقین میں متنازع شخصیت ہیں لیکن چہاردہ معصومین پر صلوات کے موضوع پر اپنی کتاب " وسیلة الخادم الی الخدوم " میں آپ نے امام رضا احسان اور مودت کا پیکر، توحید کی نشانیوں کو رفعت عطا کرنے والا اورکمال علم ومعرفت کے القاب سے یاد کیا ہے۔ ( نثار احمد - مترجم ۸)

۱۴

امام رضا اور عہد مامون رشید :

امام رضا کی زندگی کے آخری سال جو کہ عہد مامون کے ہم زمان تھے تاریخی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس اہمیت کو سمجھنے کے لئے ہمیں کچھ ماضی میں جانا ہوگا۔ واقعہ کربلا کے بعد خاندان رسول اور عام مسلمانوں کے درمیان جو رابطہ منقطع ہو گیا تھا ائمہ صادقین نے اپنے دور مدینہ میں اسلامی درسگاہ قائم کر کے اس کو بحال کر دیا تھا میں یہاں ایک وقت میں ہزاروں طالب علم جمع ہوتے تھے۔ لیکن بہت جلد حالات بدل گئے ۔

دوسری صدی ہجری کے وسط تک ہارون رشید نے بنی عباس کی سلطنت کو عروج پر پہونچا دیا اور امام موسی کاظم کی ایک طویل عرضہ کی قید تنہائی میں تشیع کی دنیا میں ایک خاموشی چھانے لگی اور ملوکیت نے واقعہ کربلا کو عوام کے ذہنوں سے مٹانے کی اپنی کوششوں کو تیز کر دیا۔ صرف مدینہ اور حجاز کے کچھ حصوں میں فقہا اور دانشوروں کی حد تک اہلیت کا ذکر محدود ہو گیا۔

ان حالات میں ۸۳ اھ میں امام ہفتم کی شہادت کے بعد امام رضا نے اپنی امامت کا اعلان کر دیا تھا۔ امین کے قتل کے بعد امام رضا کے حوالہ سے مامون رشید کے لئے تین راستے تھے ۔ (۱) اپنے آباء کی پیروی میں امام کے ساتھ وہی سلوک کرتا جو امام کے والد کے ساتھ روا رکھا گیا یعنی قتل کر دینا لیکن اس میں عوام کے غم و غصہ کا امکان تھا۔ ( ۲)

امام کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا مگر اس میں وہ اپنی سلطنت کے لئے خطرہ سمجھتا تھایا ( ۳)

پھر امام کو اپنے سیاسی نظام کے استحکام کا ذریعہ بنالیتا، مورخین نے مامون رشید کو خلفائے عباسی میں بطور ایک طاقتورترین، با ہوش ، دانشمند اور میانہ رو فرد کے طور پر پیش کیا ہے۔

امین کے قتل کے بعد مامون نے حالات کے تقاضوں کے تحت آخری متبادل صورت پر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اس کو رو بہ عمل لانے کے لئے مامون نے یہ فیصلہ کیا کہ:

امام رضا کو خلافت کی پیشکش کی جائے۔ یہ ایک سیاسی چال تھی ، جو شخص جاہ و اقتدار کے لئے اپنے بھائی کو قتل کر دے یکا یک اتنا انصاف پسند کیسے ہو گیا کہ آل محمد کو خلافت کا حقدار سجھنے لگا۔ محسن مظفر (۹) نے مامون کے اس رویہ اور شیعیت کی طرف جھکاؤ کو ایک بناوٹی اور غیر فطری عمل قرار دیا ہے۔

اس فیصلہ میں مامون رشید کی نیت یه تھی کہ امام کو اپنے رنگ میں رنگ لے اور دامن تقوی اور فضیلت کو داغدار کر دے۔ اگر امام خلافت قبول کر لیں تو وہ اپنے لئے ولی عہد کی شرط پیش کرتا اور اس طرح اپنا استحقاق ثابت کرتا ۔

امام رضا کو خلافت تفویض کرنے کے منصوبہ کو رو بہ عمل لانے کے لئے مامون چاہتا تھا کہ امام کو مرو بلایا جائے جو اس زمانہ میں خراسان کا مرکزی شہر تھا۔

شیخ مفید ، شیخ صدوق، مسعودی اور کلینی جیسے مستند حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مامون نے امام رضا کے نام خط بھیجا اور مرد آنے کی دعوت دی۔

امام نے عذر ظاہر کیا لیکن مامون کے مسلسل خطوط کے نتیجہ میں امام نے محسوس کیا کہ مامون اس امر سے دستبردار نہ ہو گا اور آپ نے مدینہ سے مروسفر کا ارادہ کر لیا۔

۱۵

سفر امام رضا(علیہ السلام)، مدینه تا مرو :

یہ بات قابل ذکر ہے کہ تاریخ ائمہ کے دو سفر ہیں جن کے درمیان تقریبا ۱۴ سال کا زمانی فاصلہ ہے یعنی ۴۰ھ میں مدینہ سے امام حسین کا کربلا کا سفر اور ۲۰۰ھ میں امام رضا کا مرو کا سفر ۔ ان کی چند خصوصیات ہیں۔

۱. امام حسین نے کر بلا جانے کا فیصلہ اپنی صوابدید پر کیا۔ (آزادانہ )

۲. امام رضا کا مدینہ سے مرو کا سفر مامون رشید کی درخواست پر ہوا۔

۳. امام حسین نے اپنے سفر کی راہ اور قیام کے مقامات خود طے کئے تھے۔

۴. امام رضا کے سفر کی راہ مامون کی ہدایات کے تحت منظم کی گئی تھی ۔

۵. امام حسین اپنے ساتھ اپنے اہلیت اور معتمد اصحاب کو لے گئے تھے۔

۶. امام رضا نے خاندان کی کسی فرد کو ساتھ نہیں رکھا تھا۔

۷. امام حسین کے سفر کا ہدف حق و باطل میں خط فاصل کھینچنا تھا۔

۸. امام رضا کے سفر کا مقصد کر بلا کے معرکہ کے ثمرات کی حفاظت اور اسلام کی نشاة ثانیہ تھی۔

امام رضا کے مدینہ سے مرد کے سفر کی منصوبہ بندی میں سب سے زیادہ قابل توجہ ان شہروں کا محل وقوع اور ان کی تاریخ سیاسی اور جغرافیائی اہمیت تھی جہاں سے امام گزرنے والے تھے۔ جواد معینی اور محمد ترابی کے مطابق امام کے سفر کے رستہ کے تعینی میں اس امر کو پیش نظر رکھا گیا کہ کاروان ایسے شہروں سے دور رہے جہاں دوستداروں اہلبیت کا غلبہ ہو۔ اس زمانہ میں مدینہ سے مرد تک دو مروج راستے تھے۔ ایک براہ بصرہ ، اهواز ، دشت لوط ، فارس ، نیشا پور سے گزرتا ہوا مرو پہنچنا تھا جبکہ دوسرا کوفه ، بغداد قم، خراسان کی راہ تھا جس میں کوفہ بغداد اور قم سیاسی لحاظ سے حساس مجھے جاتے تھے کو فہ شیعیان علی کا اجتماعی مرکز شمار ہوتا تھا اور بنی امیہ اور بنی عباس کے خلاف تحریک کا مضبوط مرکز رہا تھا، بغداد مامون کے سیاسی مخالفین اور متعصب عباسیوں کا مرکز تھا جو امین اور مامون کے درمیان کشمکش میں مخالف مامون رویہ اختیار کر گئے تھے۔ شہر قم کا شمار ان چند شہروں میں تھا جہاں دلوں میں خاندان علی ابن ابی طالب کی محبت موجزن تھی ، ان سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر مورخین کا اتفاق ہے کہ امام رضا کے سفر کے لئے بصرہ ، بناج، اهواز ، ارا کی، دشت لوط ، نیشا پور، طوس اور سناباد کا راستہ منتخب کیا گیا حالانکہ اس راستے میں زیادہ صعوبتیں تھیں۔

۱۶

تفصیلات سفر :

جلیل عرفان منش (۱۰) نے اپنی کتاب جغرافیائی تاریخی ہجرت امام رضا از مدینہ تا مرو میں اس سفر کی تفصیلات تحریر کی ہے جس کے بموجب مدینہ سے مرو کے سفر میں مامون نے رجاء ابن ابی ضحاک اور یا سر خادم کو بطور نگراں مقرر کیا تھا ۔ امام کے خاص خادم ابا صلت ہر وی بھی ساتھ تھے۔ امام کی قبر رسول سے وداع کا منظر امام حسین کی رخصت سے بالکل مشابہ تھا۔ امام نے فرمایا کہ غربت میں میری رحلت ہو گی اور ہارون کے باز و دفن ہونگا۔

امام نے اپنے فرزند امام محمد تقی کو اپنا قائم مقام مقرر کرتے ہوئے اصحاب اور اعزہ کو ان کی ہدایات پر عمل کی تلقین کی بعض روایات کے مطابق مدینہ سے امام نے مکہ کا ارادہ کیا لیکن جلیل عرفان نے مکہ کے سفر کو خارج از امکان قرار دیا که اولا وه خراسان کی مخالف سمت میں واقع تھا مزید برآں اس زمانہ میں مکہ میں محمد دیباج اور ابن افطس جو امام زین العابدین کی اولاد ہیں حاکم وقت کے خلاف قیام کیا ہوا تھا۔

اس وقت کے محدود ذرائع ابلاغ میں یہ سفر اہلیت کی حقانیت کو نشر کرنے میں بیحد مثبت اثرات کا حامل تھا۔ سفر کے دوران امام کے بے شمار کرامات کا ظہور ہوا جس میں سے چند یہ ہیں۔

-۱ اهواز میں طبیب کو علاج کے لئے ایک نا معلوم درخت کے پتہ کی نشاندہی کرنا۔

-۲ نیشا پور میں ۳۴ ہزار راویوں کے سامنے حدیث سلسلة الذهب يعنى كلمة لا اله الا الله حصنى من دخل حصنی امن بشر طها وشروطها و انا من شرو طها، کا اعلان اس میں ولایت کی شرط کے ذریعہ امام والے اسلام کے مقابلے میں ملوکیت کے اسلام کی نفی کر دی۔

-۳ نیشا پور میں چشمہ کا برآمد ہونا جو آج تک جاری ہے۔

-۴ کوہ سنگی میں برتن بنانے کے پتھروں کا نرم ہو جانا جو آج تک موجود ہے۔

-۵ بناج میں محمد بن عیسی حبیب بناجی کو اس کے خواب کی تعبیر میں مثل آنحضرت صرف ۱۸ کھجو دینا۔

(بحار الانوار ، صواعق محترقه ، عيون اخبار رضا )

تقریبا ایک سال کے سفر کے اختتام پر امام رضا ۲۰۱ ھ کے پہلے نصف (م یکم مئی ۸۱۷) مرد میں وارد ہوئے ۔ مروپہونچنے پر مامون نے اور اہل خراسان نے امام کا شایان شان استقبال کیا۔

زمانہ گذشتہ میں بے شمار سیاسی اور مذہبی تحریکوں کے مرکز کی وجہ سے یہاں کے لوگ آزاد خیال اور کھلے دل والے تھے (ابن حسن جار چوی ) ۔

یکم رمضان المبارک ۲۰۱ بروز پنجشنبہ امام کی ولی عہدی کا جلسہ منایا گیا اور لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔

اس موقع پر مامون نے حلف نامہ ولی عہدی خود تیار کیا تھا جو بطور ضمیمہ مقالہ میں موجود ہے۔

امام کی ولی عہدی کے اعتراف میں جمعہ کے خطبہ میں آپ کے نام کا اضافہ کیا گیا اور حکومت کے سکوں پر آپ کا نام نقش ہوا۔

انہی سکوں کو عقیدتمندوں نے بعد کے دور میں بطور تبرک اور ضمانت سفر کے دوران اپنے پاس رکھنا شروع کیا جس سے رسم امام ضامن کی بنا پڑی۔ (آغا مہدی )

۱۷

شخصیت سیاسی :

حضرت امام رضا کا مامون رشید کی ولی عہدی قبول کرنا امور مملکت میں ائمہ کی شراکت کا ایک منفر د واقعہ ہے۔ امام کے اس فیصلہ کے محرکات سمجھنے کے لئے جب ہم ائمہ حقہ کے ۳۵۰ سالہ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک بدلتا هوا نقشہ نظر آتا ہے جس میں ہر امام نے اپنے دور کی حالات کے تقاضوں کے تحت ایک خاص حکمت عملی اختیار کیا۔ مثلا علی نے ۳۴ سال خاموشی کے بعد اپنے زمانہ میں معاشرہ کی اصلاح مخالفین سے جنگ اور مشکل فیصلوں کو امت کی اخلاقی علمی اور اجتماعی رہنمائی کے لئے ضروری سمجھا (نهج البلاغہ)

امام حسن نے معاویہ کے ساتھ صلح کو ناگزیر جانا، اس کے برعکس حسین ابن علی نے شرائط صلح کی خلاف ورزی پر ایک نئے عنوان سے ہجرت اور جہاد کے ذریعہ حق اور باطل کے درمیان خط کھینچا ، لیکن بعد کربلا امام سجاد نے ہدایت کے پیغام کو دعاؤں کے پیرا ہن میں ملبوس کر دیا جبکہ امام صادقین نے اموی اور عباسی خلافتوں کے درمیان اقتدار کی شکش کے وقفہ کو علم و معارف اسلامی اور فقه محمد ی کی ترویج واشاعت کے لئے بھر پور استعمال کیا، امام موسی کاظم اور امام رضا کے بعد ائمہ نے بغداد اور سامرہ کے قید خانوں کی گوشه نشینی سے پیغام حق پہونچایا جبکہ امام رضا نے ولی عہدی قبول کر کے ایک منفرد اقدام کیا۔ اگر حالات کے تناظر

میں ائمہ کے عمل میں واضح فرق نظر آتا ہے تو یہ نہ توان کی صلاحیت یا فہم میں فرق کی نشاندہی ہے اور نہ فکر کا اختلاف ہے کیونکہ اہل بصیرت جانتے ہیں کہ یہ تمام ہستیاں اپنے مقصد و ہدف میں متحد تھے، ہر ایک کا مقصد صرف خدا کی ذات، اس کے دین کی ترویج اور کتاب اور سنت کے ذریعہ بندوں کی ہدایت اور راہنمائی کے سلسلہ کی حفاظت کرنا تھا جس کےلئے سید الشهداء نے عظیم قربانی دی تھی۔

اس ضمن میں ڈاکر علی شریعتی اپنی کتاب "تشیع" میں لکھتے ہیں کہ امام صادق کے بعد تقریبا ۵۰ سال کے عرصہ میں استعماری قوتوں کے پروپیگنڈہ کے تحت عوام واقعہ کر بلا کی اہمیت سے بے بہرہ هو رهے تھے اور تشیع کی تحریک اور اهلبیت کی علمی اوفکری جہادوں کی یاد محو هو رهی تھی ، اس لئے امام رضا کے لئے ضروری تھا کہ ایسی حکمت عملی اختیار کریں کہ ائمہ کی گذشتہ نسلوں کے تاریخی فاصلوں کو قریب لا سکے۔

امام صادق کے بعد مدینہ کی مرکزی حیثیت اور افادیت ختم ہو چکی تھی اور یہ ایک زیارت گاہ کی حدتک گیاتھا جبکہ امام رضا اپنا پیغام سارے عالم اسلام کو سنانا چاہتے تھے۔ جس کے لئے امام کو ایک مرکزی مقام کی ضرورت تھی۔ (سید محمد موسیٰ رضوی )

اس صورت حال کو جب ہم امام کے نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں تو امام جانتے تھے کہ ولی عہدی کی پیشکش میں مامون قطعی مخلص نہیں تھا بلکہ وہ امام کو اپنے اور بنی عباس کے مخالفین بغداد کے علویوں اور خراسان کی تحریکوں کے مقابل بطور باندھنا چاہتا تھا۔ لیکن امام نے اپنی سیاسی بصیرت سے یہ فیصلہ کیا کہ اس موقع کو جودشمن نے اپنی احتیاج کے تحت فراہم کیا ہے خود اس کے خلاف استعمال کریں اور شیعیت کی تحریک کو زندہ کریں یہ بھی امکان تھا کہ اگر وہ مامون کی پیشکش قبول نہ کرتے تو وہ یا تو قید کر دیئے جاتے یا قتل کر دیئے جاتے جو اس زمانہ کا معمول تھا۔ امام رضا مامون کے خلاف کسی فوج کشی کی تیاری نہیں کر رہے تھے بلکہ جس علمی مبارزہ کے ذریعہ وہ پیغام حق پہونچانا چاہتے تھے اس کیلئے ایک موافق ماحول کی ضرورت تھی۔

امام رضا بھی خود اپنے علم امامت سے جانتے تھے کہ وہ اس نوعیت کی خلافت کے لئے ناموزوں ہونگے ، جو مامون پیش کر رہا تھا اور ان کے لئے دائرہ امامت سے بالکل باہر آ جانا مناسب نہیں ہو گا اس لئے امام نے مامون رشید کی خلافت کی پیشکش کی تختی سے مخالفت کی۔ اس ضمن میں امام اور مامون رشید کے درمیان طویل گفتگو ہوئی بالآخر مامون کے شدید اصرار پر آپ نے فرمایا کہ خدا نے انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا ہے۔ (اشارہ قتل کا امکان هے)، لہذا امام نے مشروط ولی عہدی قبول کی کہ وہ حکومتی کاروبار سے علیحدہ رہیں گے لفظی یا عملی امرونہی کو انجام نہیں دیں گے۔ ( احکامات صادر کرنا اور صرف دور سے رہنمائی کے فرائض انجام دیں گے۔ ( جلیل عرفان )

اس منزل پر مکتب اہلیت اور ان کے مزاج سے واقف افراد یہ سجھنا چاہیں گے۔ کہ حکومتی عہدہ قبول کرنا ائمہ گزشتہ کا شیوہ نہیں رہا تھا تو امام نے ایسا کیوں کیا؟

ذیشان حیدر جوادی ( ۱۲) نے نقوش عصمت میں ولی عہدی کے موضوع کا مامون اور امام رضا کے نکتہ نظر سے تجزیہ کیا ہے۔ ان کے خیال میں مامون کے نزدیک ولی عہدی کی پیشکش کا مقصد امام کو زیر نظر رکھنا ، ان کا عوام سے رابطہ منقطع یا دشوار بنانا، ان کی نظام حکومت میں شمولیت کے ذریعہ اپنی خلافت کی عظمت میں اضافہ کرنا اور اس کے لئے ایک شرعی تائید حاصل کرنا تھا، اور سب سے اہم علویوں کی انقلابی تحریکوں کو دبانا تھا۔

اس کے برخلاف ا مام علی رضا ع نے ولی عہدی کو اس وقت کے سیاسی اور معاشرتی رجحانات کے پیش نظرا حکام اور تبلیغات اسلامی کی ترویج واشاعت کا موثر ذریعه قرار دیا اور" مکره مکر اللہ" قرآنی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ مدینہ سے مرو کے سفر کے دوران اور عہد ولی عہدی میں حکومتی پروٹوکول کی موجودگی میں معجزات اور کرامات کا اظہار، مناظروں میں شرکت ، نماز عید، بارش کی دعاؤں، نماز عید ، بارش کی دعا ، زینب گذابیہ اوردیگر واقعات امام کی اس حکمت عملی کا حصہ تھے۔

اس لحاظ سے ہم اس نتیجہ پر پہونچے کہ گو ولی عہدی قبول کرنا تاریخ ائمہ کے دھارے میں ایک منفرد واقعہ ہے جونا و اقفین میں شکوک پیدا کر سکتا ہے لیکن در حقیقت یہ امام کی سیاسی بصیرت کی عکا سی کرتا ہے کہ ایک مشکل مرحلہ کو کس طرح ایک اعلی و ارفع مقصد کے حصول کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔

دوران ولی عہدی کے واقعات امام کے مناظروں اور علی فیوض سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔

امام رضا نے اپنے فیصلے سے یہ بات ثابت کر دیا کہ خداوند عالم کی صحیح خلافت اور نمائندگی کے حقدار صرف ائمہ ہیں اور زمین پر خدا کی حجت اور اس کے نمائندہ ہیں اور یہ عہدہ ناقابل انتقال ہے۔

۱۸

شخصیت علمی :

امام رضا کے عہد کو ہم علمی عزات ( Academic crusades ) کا عہد کہہ سکتے ہیں۔ آپ جب ظاہری امامت پر فائز ہوئے تو اسلام پر علوم باطلہ کی یلغار تھی اور ہر جانب سے اسلام کی حقانیت اور صداقت کو علمی حیثیت سے زیر کرنے کی کوشش جاری تھی ۔

امام جعفر صادق کے بعد امام رضا کو ترویج علم دانش کا سب سے زیاده مواقع ملا۔ امام موسی کاظم اپنے اهل خاندان اور فرزندوں کوفرماتے تھے کہ " تمهارے بھائی علیرضا عالم آل محمد ہیں احادیث میں ہر ۳ سال بعد ایک مجدد اسلام کے نمود و شهود کا نشانہ ملتا ہے.

علامہ ابن اثیر جندی اپنی کتاب جامع الاصول میں لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضا تیسری صدی ہجری میں مجدد تھے اور حضرت یعقوب کلینی چوتھی صدی ہجری میں مجدد تھے۔ شاہ عبدالعزیزی محدث دہلوی نے "تحفہ اشاعشری" میں ابن اثیر کا قول نقل کیا ہے۔

امام علی رضا اہلبیت کے ان اماموں میں سے ہیں جنہوں نے عمومی طور پر اپنی دانش اور علم اور اپنے شاگردوں کی تعلیم و تربیت اور مختلف موقعوں پر کئے جانے والے سوالات اور جوابات ، مباحثات اور علمی مناظروں کے ذریعہ اسلامی فکر کو مالامال کیا۔

تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی کہ ان ائمہ نے کسی دانشمند سے سبق لیا ہو بلکہ ان کی دانش کا سر چشمہ ان کے جد بزرگوار حضرت آنحضرت تھے جن سے انہوں نے وراثتا علم حاصل کیا۔

عیسی یقطینی کا بیان ہے کہ میں نے امام کے تحریری مسائل کے جوابات کو اکٹھا کیا تو ان کی تعداد تقریبا ۸۰۰۰ تھی۔

مامون رشید کا یہ دستور تھا کہ مختلف مذاہب کے علما کو دربار میں امام کے روبرو بحث کی دعوت دیتا۔ محدثیں و مفسرین اور علما جو آپ کی برابری کا دعویٰ رکھتے تھے وہ بھی ان علمی مباحث میں آپ کے سامنے ادب سے بیٹھتے تھے۔

زہری ، ابن قتیبہ ، سفیان ثوری ، عبدالرحمن اور عکرمہ نے آپ سے فیض حاصل کیا ان مناظروں کے پیچھے مامون کے سیاسی مقاصد بھی تھے۔ علمی مباحث سے طبعا دلچپسی کے باوجود مامون یہ نہیں چاہتا تھا کہ ان مناظروں کے ذریعہ امام کی شخصیت ، علویوں اور انقلابیوں کی توجہ کا مرکز بن جائے بلکہ اس موقع کی تلاش میں تھا کہ کسی وقت امام جواب دینے سے عاجز ہو جائیں جو نا ممکن تھا بلکہ مامون کی خواہش کے برعکس یہ مناظرات امام کے علمی شکوہ و شائستگی اور شیعہ عقیدہ کی برتری منوانے کا ذریعہ بن گئے ۔ ( جواد معینی)

امام کے مناظروں میں ایک قابل ذکر مجلس میں جاثلیق ،مسیحی پادریوں کا رئیس ، راس الجالوت یہودی دانشمند، ہندو دانشور، پارسی، مجوسی، بدھ اور دیگر مذاہب کے علما بہ یک ساتھ موجود تھے۔ امام نے ہر عالم سے اس کی اپنی مقدس کتاب کے حوالوں سے اس کی مروجہ زبان میں بحث کی ۔

ایک اور مناظرہ خراسانی عالم سلیمان مروزی کے ساتھ ہوا جس میں مسئلہ بدا، موضوع بحث تھا۔ علی بن جھم سے مناظرہ میں عصمت پیغمبران پر بحث ہوئی جس میں امام نے حضرت یوسف، ذالنون اور داؤد علیہ السلام کے واقعات سے اپنی دلائل کو مستحکم کیا المختصران مناظروں کے ذریعہ امام کو جید علماء اور فقہاء کی موجودگی میں اپنے علم اور فضیلت کے اظہار کا موقع ملا جوان کی حکمت عملی کا ایک جز و تھا۔

۱۹

تالیفات :

اکثر ائمہ علیہ السلام کی زندگی کے زیادہ تر حصے حکومت وقت کی سختیوں اور پابندیوں سے دوچار ہے۔ امام رضا کی مدت امامت کے ۲۰ سال میں سے صرف تقریبا تین سال ایسے تھے کہ نسبتا آپ نے ایک بہتر ماحول میں وقت گزار ا لیکن یہاں بھی ہمیشہ ایک مسلسل نگرانی ( Surveliance ) کی فضا موجود تھی ان کے عقیدتمندوں کا حکومتی عملہ ہمیشہ پچھا کرتا۔ اس گھٹن کے ماحول کے باوجود مختلف موضوعات پر ائمہ حقہ کے علمی فیوض تک رسائی کی اور ان کو قلمبند کیا جواب ان ائمہ کی تالیفات کی شکل میں موجود ہے۔ امام رضا سے منسوب تالیفات کا ایک سرسری ذکر حسب ذیل ہے۔

۱. کتاب فقہ رضوی: یہ کتاب دانشمندوں کے درمیان موضوع بحث بنی ہے۔ کچھ علما جن میں مجلسی اول و دم بحر العلوم ، صاحب حدائق اور شیخ نوری شامل ہیں اس کو معتبر شمار کرتے ہیں۔ یہ امام سے منسوب احادیث کا مجموعہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ:

یہ شیخ صدوق کے والد کی تالیف ہے جن کا نام علی بن موسی تھا اور نام کےساتھ رضا کا اضافہ کا تب کی غلطی شمار کیا گیا۔ بعض اس کو شیخ صدوق کی تالیف قرار دیتے ہیں جنہوں نے روایات کو اسناد کے بغیر جمع کیا۔ آغا مہدی صاحب کے بموجب اس کا فارسی ترجمہ" فقہ رضوی" اصل نسخوں کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا جو ممتاز علماء کے پاس پائے گئے ۔

۲. کتاب محض الاسلام : نماز اور دیگر واجبات سے متعلق احکام پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے متعلق عام رائے یہ ہے کہ یہ فتوں کا مجموعہ ہے۔ لیکن جو او فضل اللہ کو اس کی سند میں شک ہے۔

۳. صحیفۃ الرضا : فقہ کے موضوع پر ہے لیکن اسکا انتساب امام کی طرف ثابت نہیں ہوسکا البتہ مستدرک الوسائل میں اس کو قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے۔ اسی نام سے ایک اور رسالہ حدیث "سلسلۃ الذهب " پر مشتمل ہے جس کا اردو ترجمہ حکیم اکرام رضا نے نول کشور پریس لکھنو سے شائع کروایا ہے۔ ( آغا مهدی )

۴. امام رضا اور طب : امام رضا کے علمی فیوض میں سب سے اہم رسالہ ذهبیہ یعنی Golden Treatise )) طب کے موضوع پر ہے۔

علم طب سے امام کے خصوصی تعلق کی بظاہر ایک وجہ اس کی ابتدائی ترویج و فروغ میں ملت ایران کا امتیازی کردار ہے۔

ظہور اسلام سے قبل ایران کے صوبہ خوزستان کے جندی شاہ پور کے شفاخانہ کا شمار دنیا میں علم طلب کی پہلی یونیورسٹی کے طور پر ہوتا ہے۔ ایران کے مسلمان قابل الذکر علما میں محمد بن ذکر یا اور بو علی سینا کا نام لیا جاتا ہے۔ دانشور جواد فاضل ( ۱۳) نے اپنی تالیف طب اسلامی اور جدید میڈیکل سائنس کے انکشافات میں طب سے متعلق معصومین کے ارشادات کو طب النبی ، طب الصادق اور طب الرضا کے عنوانات کے تحت جمع کیا ہے طب النبی کو علامہ مجلسی نے بحارلانوار کے ۱۴ ویں جلد "السما العالم " میں نقل کیا ہے۔

طب الصادق کی تفصیلات کشف الاحضار، خصال اور بحار میں موجود ہیں۔

طب الرضا کی اساس وه تفصیلی خط ہے جو امام رضا نے نیشاپور میں ۲۰۱ ھ میں مامون کو ارسال کیا تھا۔

اس ضمن میں مامون اور امام کے علاوہ مشہور ا طبا یوحنا ابن ماسویه ، جبریل بن یختی یشوع ، حکیم بن سلمہ کے درمیان انسانی جسم اور حفظان صحت کے اصول کے موضوع پر تفصیلی بحث ہوئی تھی اس رسالہ میں وہ تمام معلومات وجود ہیں جن پر آج علم طب کی بنیاد ہے مثلاً فزیا لوجی، پھتالوجی، اناٹومی، جسم انسانی کا ڈھانچہ ، اعصاب اور ان کےوظائف وغیرہ یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ اسلامی طب کی بنیاد اعتدال ہے جو قران کریم کی آیت " كلو والشر بوا ولا تسر فوا "(سورہ اعراف) کھاؤ پیومگر اسرا ف نہ کرو کی عملی تفسیر ہے۔

اس کے کئی تراجم ہیں اور بے شمار شرحیں لکھی گئی ہیں جو عربی اور فارسی میں ہیں ( صادق عارف ) لیکن ارد و ان طبقہ کے لئے یہ امر باعث فخر اطمینان ہے کہ علامہ رشید ترابی (۱۴) نے بھی اپنی تالیف "طب معصومین " کے ذریعہ اس ضمن میں قابل قدر خدمت انجام دی ہے۔

اس کتاب میں مختلف امراض کے لئے چہاردہ معصومین کے تجویز کردہ علاج کو یکجا جمع کیا ہے۔ ایک جامع مقدمہ میں علامہ موصوف نے اپنے خاص انداز میں صحت انسان سے متعلق قرآن کی آیات اور ائمہ کے ارشادات اور تجربات کوقلمبند کیا ہے۔

اس کتاب کے انتساب میں ان کی فکر رسا کے انداز دیکھئے"

اے صبح اول یہ درر ارشادات تیرے ہیں گلے کے موتی ہیں مگر زمانے کے ہاتھوں بکھر گئے تھے میں نے ان کو ایک جگہ جمع کیا اور آج تیرے دروازہ پران کو تیرے ہی هاتھوں بیچنے کے لئے آیا ہوں اس کی قیمت یہ ہے کہ تو مجھے دیکھ کر ایک مرتبہ مسکرا دے۔“

امام رضا کے اصحاب اور شاگرد :

امام رضا کے اصحاب اور شاگرد کی ایک طویل فہرست ہے۔

۲۰