قرآن کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب

قرآن کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب0%

قرآن کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مفاھیم قرآن
صفحے: 14

قرآن کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ڈاکٹر میر محمد علی
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 14
مشاہدے: 622
ڈاؤنلوڈ: 192

تبصرے:

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 14 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 622 / ڈاؤنلوڈ: 192
سائز سائز سائز
قرآن کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب

قرآن کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

فیضان علم

تحقیقی مقالہ

قرآن کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب

محقق: ڈاکٹر مير محمد علی(رح)

۱

۲

فہرستِ مطالب

پیش لفظ ۴

قرآن کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب ۶

سائنسی مزاج یا سائنسی رویہ ۷

قرآن کی فضیلت ۸

قرآن میں سائنسی مزاج کے آثار و شواہد : ۱۰

مسلمان سائنسدان اور قرآن ۱۲

قرآن کی الهامی ترتیب اور تسلسل : ۱۴

بسم اللہ الرحمن الرحیم کی چند خصوصیات ۱۵

حروف مقطعات بطور کلید قرآن ۱۷

تتمہ ۱۹

سوره قرآن: ۲۰

تشریح ۲۱

حوالہ جات ۲۲

۳

بسم الله الرّحمن الرّحيم

پیش لفظ

قر آن نهج البلاغه ،صحیفہ کاملہ آئمہ علیهم السلام کی زندگی اور علمی فیوض کا مطالعہ ہمارے ایمان اور معرفت میں اضافہ کرتا ہے اور پیغام حق کے تسلسل کا ذریعہ بنتا ہے۔

اس مناسبت سے ان قلمی کاوشوں کو فیضان علم کے نام سے موسوم کیا گیا ہے بحمد اللہ :

جعفری پاکستان اور آل عبا مر کز تحقیق کتب خانہ ( آل عباٹرسٹ ) کے زیر اہتمام حسب ذیل عنوانات پر مقالے پیش کئے گئے۔

۱. قران کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب

۲. نهج البلاغہ کا تعارفی جائزہ

۳. صحیفہ کاملہ کا تجزیاتی مطالعہ

۴. حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت اور علمی فیوض

۵. حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی شخصیت اور عہد امامت

۶. آئمہ عسکرین کا عہد امامت اور علمی فیوض

۷. انہدام جنت البقیع : تاریخی عوامل و اسباب

۸. نتظار امام مہدی علیہ السلام اور تشیع کا سفر علم و دانش

دوست احباب اور بالخصوص ابو طالب ترابی مرحوم کی خواہش تھی کہ ان مقالوں کو ایک کتابی شکل دی جائے تا کہ مومنین استفادہ کر سکیں۔

میری بھی تمنا ہے کہ ا س سرمایہ نجات کو روز حشر آئمہ علیهم السلام کی خدمت میں پیش کروں۔

ان مقالوں کی تدوین میں مختلف افراد اور اداروں کا تعاون حاصل رہا ہے جن کے حوالے مقالوں میں دئے گئے ہیں۔

خصوصی طور پر خطیب آل عباسید ناصر عباس زیدی ، حجت الاسلام عقیل الغروی اور برادرم نصیر ترابی قابل ذکر ہیں۔ میرے ایرانی دوست مرتضی طلوع ہاشمی اور ڈاکر حیدر رضا ضابط نے اسلام ریسرچ فاؤنڈیشن مشهد ایران کی مطبوعت سے نوازا۔

میرے افراد خاندان کا تعاون لائق شکر هے ۔قارئین سے میرے والدین کے لئے سوره فاتحه کی درخواست ہے۔ شکریہ

ناشر : احقر

سید علی حیدر - حق پرنٹر اینڈ پبلشر ڈاکٹر میں محمد علی

کراچی سابق چیئرمین سندھ بورڈ آف ٹکنیکل ایجوکیشن ،

فون نمبر : ۶۶۷۶۰۳۴ کراچی اکتوبر ۲۰۰۵ء

۴

قرآن کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب

قرآن حکیم خدائے بزرگ و برتر کی لازوال نعمت ہے جو رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ آلہ وسلم )کے وسیلہ سے بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے نازل ہوئی ہے۔ ہر دور میں انسان نے اس وسیع اور بسیط کتاب کی تشریح اور تفہیم اپنے علم کی روشنی میں کیا ہے۔ انسانی علم کے ارتقا کے ساتھ ساتھ اس کی قرآن فہمی کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ صدیوں تک قرآن کی تفسیر کرنے والے بعض آیات کی صریح توضیح کرنے سے قاصر رہے۔

بہت سی آیات ایسی ہیں جن کا ظاہری ترجمہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی پوشیدہ حقیقوں کا انسانی علم احاطہ نہ کر سکتا۔

جدید علوم کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان حقائق کی کما حقہ، ترجمانی میں آسانی ہوئی ہے اور ظاہری معنوں کے علاوہ پنہاں مقاصد بھی واضح ہوتے جا رہے ہیں۔

قرآن اور علوم جدید بالخصوص سائنس کے موضوع پر بحث میں نوجوان طبقہ کیلئے فکر کا موقع ملتا ہے۔ عام طور پر قرآن اور سائنس کے موضوع پر بحث کا رخ قرآنی ارشادات اور سائنسی ایجادات کے درمیان ہم آہنگی کی تلاش پر مرکوز رہتا ہے۔ اور اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ سائنسی ایجادات اور انکشافات کو قرآن کریم کی کسی نہ کسی پیشنگوئی پر منطبق کیا جائے ۔ یہ بھی قرآن فہمی کا ایک رخ ہو سکتا ہے لیکن اس میں ایک خطرہ ہے وہ یہ ہے کہ قرآن اٹل حقیقتوں سے بحث کرتا ہے جبکہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں ۔

اس مقالہ میں قرآن کے متن میں سائنسی تحقیق کے عناصر اور اس کی الہامی ترتیب پر بحث کی گئی ہے۔ با الفاظ دیگر قرآن کے سائنسی مزاج کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

۵

سائنسی مزاج یا سائنسی رویہ

سائنس بنیادی طور پر ایک انداز فکر ہے۔ محدود معنوں میں ہم سائنس سے فزکس کیمسٹری، بیالوجی وغیرہ مراد لیتے ہیں لیکن آفاقی مفہوم میں سائنس کائنات کا علم ہے۔

سائنسی رویہ انفرادی سوچ بچار ( Individual Inquiry ) ، منطقی طرز فکر ( Logical Approach ) جرمی سوالات کی جرات ( Critical Questioning ) شوق تجسس ( Inquistiveness ) ، اور استدلالی صلاحیتوں ( Argumentative Capacity ) پر مشتمل ہوتا هے نوجوان رواجی عقیدوں اور سا‏‏‏ئنسی نظریوں میں ہم آہنگی کی کوش میں ایک عجیب انشراح ( lllumination ) محسوس کرتے ہیں۔ اس میں انکی مدد کرنی چاہئے تاکه وه دین کو صحیح طور پر سمجھ سکیں۔ بعض معاشروں میں مروجہ عقائد ، فطر تی شوق تجسس اور دریافت طلبی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا گلیلیو کی مثال سامنے ہے جس کو مروجہ عقائد کے خلاف نئے سائنسی انکشافات پیش کرنے پر موت کی سزا دی گئی۔ اسکے برعکس مسلمان سائنسدانوں نے قرآنی احکامات اور ارشادات کی روشنی میں بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔

۶

قرآن کی فضیلت

بہ حیثیت کتاب قرآن کی بے شمار فضیلتیں ہیں۔ اسکے پڑھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ کئی زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی ہوا ہے۔ مختلف رسم الخط میں اس کو لکھا گیا۔ بے شمار فنکاروں نے اسکی تزئین اور آرائش کی اور ایک سے ایک لاجواب شکل میں یہ ہمارے سامنے ہے

لیکن اسکی سب سے بڑی فضلیت اس کے متن کی دائمیت ہے جس کو ابد تک انسانیت کی رہنمائی کرنا ہے۔ اس کے مطالب میں کشادگی اور بلندی کی ایسی صلاحیت موجود ہے کہ ہر دور کے انسان کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ دنیا میں موجود بے شمار تفسیر یں اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح ہر دور کے انسان نے اس کے مفہوم کو اپنے علم کی روشنی میں پیش کیا ہے۔

قرآن کی سب سے بڑی فضلیت یہ ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اور اسکا موضوع بحث کائنات ہے جو خدا کا فعل اور تخلیق ہے لہذا خدا کے قول اور فعل میں ہم آہنگی ضروری ہے۔

اگر ہم اپنے ناقص علم سے ہم آہنگی تلاش نہیں کر سکتے تو یہ همارا قصور ہے۔

ہماری مروجہ تقسیم عللوم کے حوالہ یہ کسی شعبہ علم کی کتاب نہیں۔

اسکے وجود میں تمام کائنات کا علم ہےمختصرا یہ کہ اس میں وہ صداقتیں ہیں جن کی بنا پر یہ نظام کائنات چل رہا ہے ۔ دوسرے وہ تاریخی اصول ہیں جن کے تحت قوموں کو عروج و زوال ہوتا ہے۔

اور تیسرے وہ اخلاقی ضابطے ہیں

جن سے معاشرہ اور اور فرد کی زندگی سنورتی ہے اور جن کے ترک کرنے سے فساد واقع ہوتا ہے۔

یہ کتاب روشنی اور رہنمائی کی کتاب ہے اسمیں کائنات کا علم ہے۔

قرآن سائنس کی درسی کتاب نہیں ہے لیکن اسکے باوجود مختلف اشاروں ، کنایوں ، اصولوں کا ذکر ہے جن کے ذریعہ قرآن فطرت کے بعض بنیادی اصولوں اور سائنسی حقیقتوں سے متعلق اپنے پڑھنے والوں کیلئے فکر کی راہ متعین کرتا ہے ۔

قرآن کا مطالعہ کرتے وقت قاری کو مضامین اور موضوعات کا تنوع ( Diversity ) کی فراوانی پر حیرت ہوتی ہے

مثلا تخلیق کائنات قوموں کا کردار، تمدنی اصول غیرہ ۔

لیکن ان تمام موضوعات کی غرض و غایط ایک دینی مقصد ہے جس سے ایمان اور عقیدہ میں پختگی ہوتی ہے ۔

خدا کی قدرت کاملہ کے متعلق قرآن میں جو ارشادات ملتے ہیں انہیں پڑھ کر فکر انسان میں تخلیق کائنات پر غور اور فکر کرنے کی تحریک ہوتی ہے۔

اور اس کی روشنی میں انسان کا ہر فعل قدرت کی منشاء کے مطابق ہوتا ہے یہی دین کی بنیادی غرض ہے ۔

قرآن کا مطالعہ ہمیں جابجا فطرت کا مشاہدہ کرنے اور عوامل فطرت پر تحقیق جستجو کی مسلسل دعوت دیتا ہے۔

قرآن میں سب سے پہلے نازل ہونے والے سورہ اقراء کی آیت میں قلم کا ذکر شامل کر کے اس کو علم کی علامت ( Symbol ) قرار دیا گیا ہے۔

۷

قرآن میں سائنسی مزاج کے آثار و شواہد :

وہ کیا آثار ہیں جن کی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کا مزاج سائنسی ہے۔

قرآن کے سائنسی مزاج کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے سائنسی تحقیق کے بنیادی اصول جاننا چاہئے جو چھ عوامل پر مشتمل ہیں ۔

۱. مشاہدہ Observation

۲. مفروضه Hypothesis

۳. تجربه Experimentation

۴. ثبوت یا عدم ثبوت Prove or Disprove

۵. استخراج یا استنباط Induction or Deduction

۶. مزید تجربات Further Experimentation

قرآن کریم میں حضرت ابراہیم کا واقعہ اس مسلسل غور مشاہدہ، مفروضہ کی بہترین مثال ہے۔ حضرت ابراہیم نے چمکتے ستارے اور چاند اور سورج کے نکلنے اور ڈوبنے اور جسامت کے لحاظ سے جن مفروضوں پر بظاہر تکیہ کیا اور بالاخر حقیقت کی طرف مائل ہوئے اس میں بین السطور انہی تحقیقی اصولوں کی جھلک نظر آتی ہے اور اس طریقہ ہدایت کو دلیل خلف کہتے ہیں سائنس میں اس کے مماثل ( Antithesis ) ہے۔

ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے قرآن کے سائنسی تحقیقی مزاج کی تشریح میں بڑے قابل قدر انکشافات کئے ہیں ۔

مندرجہ بالا سائنسی تحقیق کے بنیادی اصولوں کو انہوں نے قرآن میں تلاش کر کے ان کے مماثل معافی رکھنے والے قرآنی الفاظ کے ایک ذخیرہ کی نشاندہی کی ہے۔

ان کی تحقیق کےمطابق قرآن میں حسب ذیل الفاظ اور ان کے مشتقات تحقیق وتجسس کی علامت قرار پاتے ہیں۔

یراؤن ۔را۔ دیکھنا ۲۹۸ دفعہ (س ۴ - آیت ۱۴۳) ۔ بینظرون ۔نظر مشاہدہ کرنا - ۱۳۰ دفعہ (س۷ - آیت ۱۹۵)

یعقلون - تعقل - سمجھنا ا ۵ دفعہ (س ۳ - آیت ۷۵) یتد برّون - تدبّر - سوچنا ۴ دفعہ (س ۴ - آیت ۸۲ )

یفقهون - تفقّہ -سمجھنا - ۲۸ دفعہ (س ۴ - آیت ۱۸۷) ۔ یتفکرّون - تفکر - خیال کرنا- ۸دفعہ (س ۱۴ - آیت ۱۹۱)

(آیات کا حوالہ بشکر یہ سید ناصر عباس زیدی صاحب )

اس کے علاوہ ڈاکٹر برق نے فطری مظاہرات سے متعلق آیات کی تعداد ۲۰۰ بتائی ہے اسطرح تقریبا ۷۷۰ مقامات پر قرآن کے اس سائنسی مزاج کی عکاسی ہوتی ہے۔

یہاں یہ ذکر دلچپسی سے خالی نہیں ہوگا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ریڈر ڈاکٹر محمد شریف خاں نے اپنے ایک حالیہ مقالہ میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں اگر ۱۵۰ آیات احکامات مثلاً نماز ، روزہ زکواۃ اور حج سے متعلق ہیں تو ۷۵۶ آیات کائنات سے متعلق ہیں ۔

فطری مظاہرات اور مطالعہ کائنات سے متعلق ڈاکٹر برق اور ڈاکٹر شریف کی تلاش کردہ آیات کی تعداد میں تقریباً یکسانیت ہے۔ یہ بات اس ضمن میں تحقیق کرنے والوں کیلئے ہمت افزا ہے۔

سائنسی تحقیق کے متبادل مندرجہ بالاقرانی الفاظ کی تعداد کے حوالے سے ایک اور دلچسپ انکشاف بھی قابل غور ہے ۔ عام سائنسی طریقہ تحقیق میں مشاہدات اور تجربات میں صرف ہونے والے وقت اور پھر مشاہدات کی بنا پر غور فکر اور نتائج اخذ کرنے میں تقریبا ۳ اور ۱ کا تناسب ہوتا ہے۔ مشاہدہ کے اور اسکے مماثل آیات کی تعداد ۴۲۸ہے جبکہ باقی آیات جنکا تعلق سوچ بچار سے ہے ۱۴۱ یعنی تقریبا ۳ اور ۱ کا تناسب جو قابل غور ہے۔

۸

مسلمان سائنسدان اور قرآن

اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان سائنسدانوں نے قرآن کریم کے مظاہر کے واضح اور خفی اشارات سے جو کامیابیاں حاصل کیں وہ موجودہ سائنس میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔

a سلام سے پہلے انسانیت پر شرک کا غلبہ تھا جو فطرت پر ح تحقیق کرنے میں مانع تھا۔

مشرک کیلئے فطرت کے مظاہر پوجنے اور عبادت کی چیزیں تھیں اور اس کا عقیدہ اس میں تجسس اور جرح کی اجازت نہیں دے سکتا تھا جبکہ قرآن ان مظاهر کی تسخیر کا حکم دیتا ہے۔

فطرت کے خزانے تخلیق کے روز اول ہی سے زمین کے اندر اور باہر کائنات میں موجود تھے اور انسانی ذہن کی صلاحیتیں بھی روز اول ہی سے پائی جاتی ہیں مگر قرآنی تعلیمات کا اثر تھا کہ مسلمان سائنسدانوں نے کائنات میں پوجنے کا تقدس ختم کیا اور اس کے وسائل کی ماہیت میں تحقیق اور استعمال کی طرح ڈالی جو با اخر اہم علوم کا سر چشمہ بن گئی۔ اس سلسلہ میں جن مسلمان سائنسدانوں کا نام سر فہرست ہے ان میں سے چند یہ ہیں ۔

جابر بن حیان ( کیمیا )، البیرونی ( طبیعات )عمر خیام،الکندی (ریاضی ) و میری ( حیوانیات ) ابن الهیشم (عکاسی ) ابن سینا (طب) اور زہرادی ( سرجری) وغیرہ تقریبا ۶ صدیوں تک عربی زبان سائنسی دنیا کی زبان کے طور پر حاوی رہی جسکے مغرب پر دیر پا اثرات آج بھی الجبراء کی شکل میں قائم ہیں جو محمد بن موسی الخوارزمی کی ایجاد ہے اور اس کے نام سے آج ریاضی اور کمپیوٹر میں مستعمل اصطلاح الگوریتھم ( ( Algorithm منسوب ہے۔

مصر کے مشہور مورخ سید حسین نصر نے اپنی اہم تصنیف میں مسلمان سائنسدانوں کی ایسی انکشافات کی نشاندہی کی ہے جو آگے چل کر بے شمار سائنسی ایجادات کا پیش خیمہ بنی۔

۸۰۰ سال تک مسلمان سائنس کے علمبردار رہے ۔ جب تک یہ مسلمانوں کے پاس تھی عقید تا خدا پرست رہی اور اس سارے عرصہ میں مسلمانوں نے حکمت کو خدا کی امانت سمجھ کر خدا کی بتائی ہوئی حدود میں اس کی پرورش کی مسلمان سائنسدانوں نے انسانیت کے فلاح و بہبود کیلئے بہت کام کیا جسکی کچھ تفصیل او پر دی گئی ہے۔

مرور زمانہ کے ساتھ جب انہیں انحطاط آ گیا تو اہل یورپ نے اس کو اپنی گود میں لے لیا اور اس طویل عرصہ میں اسکی اصلی شناخت بھی ختم ہو گئی۔ شاید اسی آنیوالی کیفیت کی طرف آنحضرت (صلی اللہ علیہ آلہ وسلم) نے اشارہ کیا تھا حکمت مومن کی گمشدہ دولت ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سر پرستی کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ سائنس کے عقیدہ میں بھی تبدیلی آگئی۔ یعنی اس کی فطرت بدل گئی تو اس سے انسان کی نسل کشی کا بھی کام لیا گیا۔ جسکی وجہ یہ ہے کہ مغرب نے سائنس کو اقدار سے لاتعلق بنا دیا جبکہ مسلمانوں کے نزدیک ہر کام میں سبب اور اثر کے ساتھ سزا اور جزا کا تصور بھی ہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ آج انسان کے پاس ایسے ہتھیار اور پروسس ہیں جو اگر بے دریغ استعمال کئے جائیں تو انسانیت کو کرہ ارض سے نیست و نا بود کر سکتے ہیں ۔ خدا ترسی ہی وہ جذبہ ہے جو احتساب کے خیال سے انسان کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

آج کا دور اپنے وسیع تر معنوں میں سائنسی دور ہے۔ مشاہدہ اور تجربہ کا جو میلان سائنس نے دیا ہے وہ قرانی اصول ہے۔ قران اور سائنس کا ربط مخلوق کو خالق تک رسائی کا موقع دیتا ہے۔

اور وہ بے اختیار کہتا ہے کہ اے خدا تو نے اس کائنات کو بغیر غایت نہیں پیدا کیا ایسا سوچنا بطور خود ایک مثبت رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ معرفت الہی کی پہلی منزل هے خدا ہم کو قران نہی او اس پر عمل کر نے کی توفیق دے۔

۹

قرآن کی الهامی ترتیب اور تسلسل :

اس مضمون میں اب تک ہم قرآن کے مزاج اور اس کے متن کی خصوصیات پر غور کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لئے عربی اور دیگر زبانوں سے کما حقہ واقفیت اور ایک خاص ذهنی اپج Approach بھی ضروری ہے۔

آئیں اب قران کی ایک ایسی خصوصیت دیکھیں جو عام فہم بھی ہے اور سب کو نظر آسکتی ہے۔ اس میں نہ دلیل کی ضرورت هے نہ منطق کی اور نہ ہی سائنسی تحقیق کے مزاج کی ۔ بس آپ ہند سے اور گنتی سے واقف ہوں جس کو بچہ بچہ بھی جانا ہے۔

قرآن کی ایک اہم خصوصیت اس کے متن کی ترتیب کا مسلسل اور ابدیت ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جولفظ کسی آیت کے سیاق و سباق میں ۴ اسو سال پہلے جس ترتیب میں تھا آج یا آئندہ اس میں تبدیلی ناممکن ہے یہی قرآن کی الہامی ترتیب کی دلیل ہے۔

۱۰

بسم اللہ الرحمن الرحیم کی چند خصوصیات

بسم الله الرحمن الرحیم هر سوره کا سرنامہ ہے اس آیت میں ۱۹ حروف میں جن کو آپ انگلیوں پر گن سکتے ہیں ۔ آپ یہ جانتے ہیں کہ قرآن میں ۱۱۴ سورے ہیں تمام سورے بسم اللہ سے شروع ہوتے ہیں سوا‏‏‏ئے سورہ توبه کے ( شماره ۹)۔ لیکن جب ہم سورہ نمل کی ۳۰ میں آیت دیکھیں تو اس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم موجود ہے۔ ( ملکہ سبا کے نام حضرت سلیمان کا خط ) اس طرح کل بسم اللہ الرحم الرحیم کی تعداد۱۱۴ ہوتی ہے جو مساوی ہے ۶/ ۱۹ آگے چل کر ہم دیکھنگے کہ ۱۹ کا ہندسہ یا با الفاظ دیگر بسم الله الرحمن الرحیم کا قرآن کی ترتیب میں بڑا عمل دخل ہے

یہ تمام مظاہر اس آسمانی کتاب کی منظم ترتیب اور الہامی خصوصیت کا ثبوت مہیا کرتے ہیں ۔ کیا ۱۹ کے ہندسہ کا قرآن کی ترتیب سے کوئی خاص ربط ہے؟ ہاں ہے ۔ ۱۹ کا ہندسہ قرآن کا محافظ ہے ۔

سورہ مدثر (۷۴) کی ۳۰ ویں آیت میں دوزخ کے ۱۹ دار وغہ فرشتوں کا ذکر ہے۔

یہ ذکر قرانی آیات کو سحر اور جادو سے تعبیر کرنیوالوں کی تنبیہ میں ہے۔ یعنی ۱۹ کا ہندسہ الفاظ دیگر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے محافظ سے عبارت ہے۔ با، بسم اللہ کے نکتہ دن کے لئے یہ باعث طمانیت ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ۱۴ الفاظ ہے۔

(بسم، الل ہ ، الرحمن، الرحیم )

سارے قران میں یہ چار الفاظ جتنی مرتبہ آئے ہیں وہ ۱۹ کا ضعف یا پر قابل تقسیم ہیں ۔ لفظ بسم اللہ ۱۹ مرتبه (۱۹/۱ ) لفظ الله ۲۶۹۸ مرتبه (۱۹/ ۱۴۲) الرحمن ۵۷ مرتبه (۱۹/۳) اور لفظ الرحیم ۱۱۴ مرتبه یعنی (۹/۶) یه امر قابل غور هے کہ یہ چار الفاظ قرآن میں یوں ہی نہیں بکھرے ہو‏‏‏ئے ہیں

بلکہ و ہ مختلف جملوں یعنی آیات کا جزو بن کر ایک خاص مفہوم اداکرتے ہیں جس میں تبدیلی سے قرآنی مفہوم بدل جائیگا۔

حروف مقطعات اور بسم الله الرحمن الرحیم کاربط

او پر ہم نے قرآن کے چار الفاظ کی ترتیب کا ذکر کیا ہے۔

اب چند حرف کی خصوصیات پر غور کریں ۔ قران کی عجیب خصوصیت اس کے حروف مقطعات ہیں جو اس کو دوسرے صحیفوں سے ممتاز کرتی ہے۔ عربی کے ۸ ۲حروف تهجی ہیں ان سے ۱۴ حروف کو منتخب کر کے ان سے ۴ احروف مقطعات بنائے گئے ہیں مثلاً ( الم ،الرص، ق، ن وغیرہ ) قرآن کے ۲۹ سورہ ایسے ہیں جنکی ابتداء ان حروف مقطعات سے ہوتی ہے۔ ان حروف مقطعات میں کیا معنی پنہاں ہیں کوئی نہیں جانتا ۔

البتہ کچھ قیاس آرائی سے ان کے مفہوم نکالنے کو کوشش کرتے ہیں ۔

لیکن ایک خصوصیت سے کسی کو انکار نہیں وہ ان کا ۱۹ سے رابط ، اب ذرا ( ۱۴ + ۱۴ + ۲۹) کو جوڑے یعنی ۵۷ یہ دراصل حروف مقطعات کے ماخذ حروف، مقطعات کے مرکب اور مقطعات والے سوروں کا مجموعہ ہے جملہ ۵۷ یعنی ۱۹ / ۳۔

۱۱

حروف مقطعات بطور کلید قرآن

اب چند حروف مقطعات کی مخصوص کیفیات پر غور کریں۔ حرف ق به حیثیت حرف مقطع دوسوروں میں آیا ہے ۔ سورہ ق شمارہ ۵۰) اور سورہ شوری (۴۲) میں حمعسق کے جزو کے طور پر ۔

ان ہر دو سورتوں میں حرف ق کی تعداد ۵۷ ہے یعنی ۱۱۴ جو کہ ۶/۱۹ ہے۔

لیکن ق کے سلسلہ میں ایک اور اہم خصوصیت قرآن کے الہامی ترتیب پر صداقت کی مہر ہے۔ سورہ کی آیات ۱۳، ۱۲ اور ۱۴ میں قوم عاد قوم ثمود اور قوم لوط کاذکر ہے یہ ساری باغی اقوام ہیں۔

سارے قرآن میں قوم لوط کا ذکر ۱۲ دفعہ ہے اور ہر جگہ اس کو تسلسل کے ساتھ قوم لوط سے مخاطب کیا ہے ۔ لیکن سوره ق کی ۱۳ ویں آیت میں اس قوم لوط کو " اخوان لوط " لکھا ہے۔

اگر یہاں پر قوم لوط لکھا جاتا تو ایک قا کا اضافہ ہو جاتا یعنی قا کی تعداد ۵۸ ہو جا‏‏‏تی جو کہ ۱۹ پر قابل تقسیم ہو کر قرآن کی اس حرفی ترتیب کے نظام کو متاثر کرتی ۔

حرف ص بھی حروف مقطعات میں شامل ہے۔ یہ حرف تین سوروں کی ابتداء میں ہے ۔

سورہ ص ( ۳۸ واں ) اعراف ( ۷ واں) اس میس المص کا جز د ہے۔ اور سورہ مریم ( ۱۹ واں) میں کھیعص میں شامل هے

ان تینوں سوروں میں ص کی تعداد ۱۵۲ ہے ( ۱۹/ ۸) جو سورہ ص کے ۳۸ ، اعراف کے ۹۵ اور مریم کے ۱۹ کا مجموعہ ہے لیکن اس میں بھی ایک ا ستثناء کارفرما ہے۔ سورہ اعراف کی ۶۹ ویں آیت میں جسمیں ص شامل ہے ایک لفظ بصطہ ہے ۔

(وزاد کم فی اخلق بصطه ) ، اس لفظ کی ترکیب میں حرف ص استعمال ہوا ہے جبکہ عام طور پر یہ س سے لکھا جاتا ہے ۔ ساری عربی زبان میں بسطہ کی ہجوں میں ص نہیں ۔

اس سلسلہ میں بتایا جاتا ہے کہ جب اس آیت کا نزول ہوا تو جبریل نے آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم ) سے کہا اپنے کاتب وحی کو حکم دیں کہ وہ اس لفظ کو ص سے لکھیں نہ کہ س سے ؛ یہ اس بات کا اہتمام تھا کہ اس سے حرف ص کی تعداد پوری ۱۵۲ رہے اگر بصطه کو س سے لکھا جاتا تو ص کی تعداد ۱۵۱ ہوتی جو ۱۹ پر ناقابل تقسیم رہتا ہے ۔ ان دو مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن میں ہر لفظ اور ہر حرف بطور نگینہ اپنی جگہ ثابت ہے یہی اس کی الہامی ترتیب کا ایک مظہر ہے ۔

حروف مقطعات جن میں ایک سے زیادہ حروف شامل ہیں مثلا یسن ، الم وغیره ایک اور خصوصیت کے حال ہیں۔ یه مشاہدہ کیا گیا ہے کہ تمام سوروں میں جن میں حروف مقطعات ہیں ان میں ان حروف کی تعداد کا مجموعہ۱ ۴۹۳۸ ہے جو ۱۹ سے قابل تقسیم ہے یعنی (۱۵۹۹/۱۹ ) ریاضی کی زبان میں کہا جائیگا کہ یہ ایک طرح سے پیوست ( Initerlocked ) کردیا گیا ہے جو قران کےتمسلسل پر دلالت کرتا ہے۔

مقالہ کے ساتھ دئے ہوئے جدول میں قرآن کے حروف مقعطات ، سورہ اور ان سوروں میں ان کی تعداد بتائی گئی ہے۔ اس کی ایک مثال حروف ط اور ھ میں دیکھئے۔

بطور حروف مقطعات یہ دو حروف سورہ طہ ( نمبر ۲۰ ) میں ہیں اور انکی تعداد (۲۸+۳۱۴= ۳۴۲ ہے ۔ ۱۹/۱۸ ہے ۔ اسکے علاوہ حرف ط حرف مقطعات کے جزو کے طور پر تین اور سوروں یعنی شعرا ( ۲۶) میں بطور طسم، سورہ نمل ( ۲۷) میں بطور طس اور سورہ قص (۲۸) میں بطور طسم ، دارد ہوا ہے۔

اسی طرح حرف ،ہ سورہ مریم(۱۹) میں کھیعص کے ساتھ موجود ہے۔

اگر ان پانچوں سوروں میں ط ، ا ور ه ، کی تعداد جوڑ لیں تو ۵۸۹ ہے جو ۱۹ / ۳۱ ہے۔

دیگر تفصیلات جدول میں دیکھ سکتے ہیں جس کے آخر میں تشریح بھی دی گئی ہے۔

۱۲

تتمہ

تتمہ کلام میں عرض کرنا ہے کہ قران کے متن کی سائنسی نوعیت اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کے حروف کی تعداد اور حروف مقطعات میں ۱۹ کی کارفرمائی انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے قران کی ترتیب الہامی ہے۔

مغرب والوں کا الزام ہے کہ قرآن آنحضرت (صلی اللہ علیہ آلہ وسلم) نے خود لکھا ہے

بلکہ یہ کہنا کہ نعوذ باللہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب کا ایک شخص جو بظاہر امّی کے لقب سے مشہور تھا اور جبکہ ہندسوں کے علم کی کوئی سہولت اسکے پاس موجود نہیں تھی اپنے آپ سے کہتا ہے کہ میں ۲۳ سال کے عرصہ میں ایک ایسی طویل کتاب لکھونگا جو ہزاروں ( ۶۶۶۶) چھوٹے بڑے کلمات پر مشتمل ہو گی اور اس کے پہلے جملہ کے ۱۹ حروف اور ساری کتاب میں ایک مستقل ربط اور تعلق قائم رہیگا۔

آپ خود غور کریں کہ یہ مفروضہ کس قدر لغو ہے۔ بالاخر ہمیں تسلیم کرنا پڑیگا کہ قران خالق کائنات کا ایک معجزہ ہے اور اسکا ارشاد ہے کہ ہم نے اس قران کو نازل کیا ہے اور اسکی حفاظت کرینگے لفظ بہ لفظ صحیح ہے ۔

آج چودہ سو سال کے بعد بھی یہ ہمارے ہاتھوں میں ہے اور اپنے متن اور الہی ترتیب کی بدولت ساری انسانیت کیلئے ایک ہدایت ہے۔ خدا ہم کو قران فهمی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔

۱۳

سوره قرآن:

حروف مقطعات:جدول : حروف مقطعات کا ہندسہ ۹ اسے تعلق

حروف مقطعات مقطعات میں استعمال شدہ حروف اور تعداد

ا-ل م ر ص ح ط س ه ی ع ق ن ک

جمله

۱ البقره (۳) الم ۴۵۹۲ ۳۲۰۴ ۲۱۹۶ -۹۹۹۱

۲ آل عمران (۳) الم ۲۵۷۸ ۱۸۸۵ ۱۲۵۱ -۵۷۱۴

۳ الاعراف (۷) المص ۲۵۷۲ ۱۵۲۳ ۱۱۶۶ ۹۸-۵۳۶۸

۴ یونس (۱۰) الر ۱۳۵۳ ۹۱۲ ۲۵۷ -۲۵۲۲

۵ هود (۱۱) الر ۱۴۰۲ ۷۸۸ ۳۲۴-۲۵۱۴

۶ یوسف (۱۲) الر ۱۳۳۵ ۸۱۲ ۲۵۸-۲۴۰۵

۷ الرعد (۱۳) الر ۶۲۵ ۴۷۹ ۲۶۰ ۱۳۷ -۱۵۰۱

۸ ابراهیم (۱۵) الر ۵۹۴ ۴۵۲ -۱۶۰ -۱۲۰۶

۹ الحجر (۱۵) الر-۵۰۳ ۳۲۳ -۹۹-۹۲۶

۱۰ مریم (۱۹) کهیعص -۲۶ - ۱۶۸ ۳۴۵ ۱۲۲ ۔ ۱۳۷ ۷۹۸

۱۱ طه (۲۰) طه - ۲۸ ۳۱۴ ۔ ۳۴۲

۱۲ الشعرا (۲۶) طسمه ۔۴۸۹ ۔۳۳۔۹۳ ۔۶۱۵

۱۳ الحمل (۳۷) طس ۔۲۷ ۹۳۔۱۲۰

۱۴ القصص(۲۸ القصص۔۴۶۱ ۔۱۹۔۱۰۰- ۵۸۰

۱۵ العنکبوت(۲۹) المه۔۷۸۴ ۵۵۴ ۳۴۷ -۱۶۸۵

۱۶ الروم (۳۰) المه ۵۴۵ ۳۹۶ ۳۱۸ -۱۲۵۹

۱۷ لقمان (۳۱) المه ۳۴۸ ۲۹۶ ۱۷۷-۸۲۳

۱۸ السجده (۳۲) المه ۲۶۸ ۱۵۴ ۱۵۸ -۵۸۰

۱۹ یسن (۳۶) یس-۴۸ -۲۳۷ - ۲۸۵

۲۰ ص (۳۸) ص -۲۸ -۲۸

۲۱ الموص (۴۰) حمه -۳۸۹ -۶۴-۴۵۳

۲۲ حمد السجده (۴۱) حمه -۲۷۶ - ۵۸-۳۳۴

۲۳ الشوری(۴۲) حمعسق -۳۰۸ -۵۳ -۶۳ - ۹۹-۵۷ -۳۶۱

۲۴ الزخرف (۳۴) حمه - ۳۱۷ - ۴۵ -۳۶۲

۲۵ الدخان (۴۴) حمه-۱۴۵ - ۱۶-۱۶۱

۲۶ الجاثیه (۴۵) حمه -۲۰۰ - ۳۱ -۲۳۱

۲۷ الاحقاب (۴۶) حمه -۳۷۔ ۲۶۴

۲۸ ق (۵۰) ق - ۵۷ - ۵۷

۲۹ القلم (۶۸) -ن-۱۳۳-۱۳۳

کل :۱۷۴۹۹-۱۱۷۶۰ ۸۶۸۳۰ ۱۲۳-۱۵۲-۳۰۴-۱۰۷ ۳۸۷ ۴۸۲ ۵۸۲ ۲۲۱ ۱۱۴ ۱۳۳ ۱۳۷

تشریح

ا-ل – م - ۲۶۶۷۶=۱۴۰۴/۱۹ -ک-ھ –ی-ع-ص -۷۹۸=۱۹/۴۲ ط-ھ۳۴۲=۱۸/۱۹ -ق ۱۱۴ = ۶/۹

-جمع کل

ا-ل-ر ۹۷۰۹=۵۱۱/۱۹ -ط-س-م- ۱۴۴۴= ۷۶/۱۹ ی- س ۲۸۵= ۱۵/۱۹ ن – ۱۳۳= ۷/۱۹ ۴۹۳۸۱

ا-ل-م-ص ۵۳۵۸= ۲۸۲/۱۹ ع-س-ق ۲۰۹=۱۱/۱۹ -ط-س -۴۹۴=۲۶/۱۹ - ص- ۱۵۲=۸/۱۹ -۲۵۹۹/۱۹ -ا-ل-م-ر-۱۵۰۱=۷۹/۱۹ - ح-م ۲۱۶۶= ۱۱۴/۱۹ -

ح- م- ۲۱۶۶ =۱۱۴۱۹

حوالہ جات

۱. مورس بکائی : "بائبل ، قران اور سائنس ناشر مجلس اتحاد مسلمین۔ کراچی ۱۹۷۹ ء

۲. بین الاقوامی اسلامی مجلس مذاکرہ کی رپورٹ پنجاب یونیورسٹی۔ لاہور ۱۹۵۸ ء

۳. حبیب شطی : ( سکرٹری جنرل ) "سائنس اور ٹکنالوجی میں مسلمانوں کی خدمات" سندھ ایجوکیشنل جرنل ۔ سندھ سیکنیکل بورڈ ۔ کراچی شماره ۳ – ۱۹۸۴ ء

۴. مقالات: قرآن اور سائنس ۔ بین اقوامی سمینار کراچی - ۱۹۸۶ ء

۵. ڈاکٹر محمود علی سڈنی : " فلسفہ سائنس اور کائنات " ترقی اردو بیورو - نئی دہلی ۱۹۹۳ ء

۶. حیدرعلی مولجی طہ: (مترجم ): " قران اور جدید سائنس" عباس بک ایجنسیز- درگاہ حضرت عباس رستم نگر لکھنو ۱۹۹۴ ء

۷. سید حسین نصر- جدید سائنسی ایجادات اور مسلمان سائنسدانوں کا حصہ - مصر ۱۹۸۵ ء

۸. بنیادی حوالہ : مضمون Quran; Attempt at Computerzation رسالہ العطش ۔ کراچی شمارہ ۹- ۱۹۷۸ ء

حوالے Islamic production, Tuesm, Arizon, USA

۹. سیارہ ڈائجسٹ - قران نمبر ۱۹۸۸ ء ۔

۱۴