نهج البلاغہ کے تراجم
یه سمجھنا کہ نہج البلاغہ کی رسائی صرف اسلام تک محدود ہے نامناسب ہے۔ علم و حکمت کی یہ شاہکار کتاب تمام دنیا کے اہل دانش کو مستقل دعوت مطالعه و تحقیق دیتی رہی اور اس کا سلسلہ باقی ہے۔ کسی کتاب کے اثر ونفو ذ کا اندازہ غیر زبانوں میں اس کے تراجم سے بھی ہوتا ہے۔ نهج البلاغہ کے ضمن میں اس خصوصیت کا حوالہ پروفیسر سردار نقوی نے عبدالکریم گلشنی کے مضمون کے ترجمہ میں یوں دیا ہے۔
تاریخی اعتبار سے نهج البلاغہ نہایت قدیم کتاب ہے۔ اس کے عربی متن اور فارسی تراجم بہت پہلے ہی سے موجود ہیں لیکن یورپی مستشرقین سے اس کا تعارف نسبتا حال کی بات ہے جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ کتب تشیع بالخصو ص نهج البلاغه تک یورپ کے اسلام شناسوں کی رسائی اہل سنن کے منابع و مصادر کے مقابلہ میں تاخیر ہوئی ( ۵)
اس صورت حال کے باوجود معروف مغربی زبانوں میں معتبر نسخوں اور تبصروں کی موجودگی اس کتاب کی عظمت کے گواہ ہیں۔ ان میں سے ذیل میں چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔
۱. نهج البلاغہ کے بارے میں تحقیق جمیل سلطان ، فرانسیسی زبان ، پیرس ۱۹۴۰ ء
۲. صحت و اصالت نہج البلاغہ س – الف- خلوصی - انگریزی زبان ۱۹۵۰ ء
۳. نہج البلاغہ اور اس کے مرتب رضی کے بارے میں، اور اچیا والیری اطالوی زبان ۱۹۵۵ ء
۴. نهج البلاغه کی روشنی میں شیعی نقطہ نظر سے حضرت علی کی شخصیت – صدر اسلام کی تاریخ کا تحقیقاتی مطالعہ " ہانس یورگن میف، جرمن زبان ۱۹۴۹ ء
۵. سویڈن کی مادام ریاس چپل نے نهج البلاغہ کے کچھ حصوں کو جمع کیا اور شرح لکھی ( حوالہ ڈاکٹر علی شریعتی علی اور تنہائی ۔)
۶. انگریزی تر جموں میں قابل ذکر سید محمد عسکری جعفری کا ترجمہ جو اولا پاکستان میں شائع ہوا ۔ ( ۱۹۶۰) اور پھر تہران سے کتاب خانہ مسجد جامع چہلستون کے ذریعہ آفسٹ میں طبع ہوا۔ اس میں تقریباً .۱۰۰ صفحات پر مشتمل مقدمہ ہے ۔ ( ۶)
۷. علامہ ترابی اعلیٰ اللہ مقامہ نے مالک اشتر کے نام امیر المومنین کے مشہور زمانہ خط کا انگریزی ترجمہ کیا جو اب بھی اچھی حکومت کے موضوع پر ایک معتبر دستاویز ہے ۔ ۱۹۶۸ ء ( ۷)
ہندوستان اور پاکستان میں نہج البلاغہ کے اردو تراجم کے سلسلہ میں چند معتبر مثالیں ملتی ہیں اس میں " شرح النهج "کے نام سے ۲ جلدوں میں سید ظفر مہدی کا ترجمہ ہے اور "الاشاعتہ" کے نام سے سید اولاد حسن مروہوی کا ترجمہ ہے جو ۱۳۳۸ ء میں ہندوستان میں شائع ہوا۔ پاکستان میں " ترجمہ نہج البلاغہ" کے نام سے مفتی جعفر حسین کا ترجمہ ہے جو تین جلدوں پر مشتمل ہے اور ۱۳۷۵ ھ میں لاہور سے شائع ہوا۔ اس میں نہج البلاغہ کے ماخذ اور سید رضی کی نہج البلاغہ کی اصالت جیسے اہم نکات پرسید العلماء علی نقی (نقن ) کی مدلل بحث پر مبنی تقریبا ۴۰ صفحات کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ ( ۸)
اس کے علاوہ رئیس احمد جعفری کا اردو ترجمہ " نهج البلاغت" بھی ہے۔ "شرح النهج" جس کا ذکر او پر ہوا ہے کہ سلسلہ میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ گجراتی اسکرپٹ میں اس کی اشاعت غلام علی مولوی ہندی کی وساطت سے ہوئی۔ موجودہ دور میں کلام امیرالمومنین کی تالیف کی قابل ذکر مثال سید غلام حسین رضا آقا کی " نهج الاسرار " ہے جو۲ جلدوں میں اردو ترجمہ کے ساتھ ہے۔ یہ ۱۴۰۲ ھ مطبع کاظمی حیدر آباد ڈکن سے شائع ہوئی۔مؤلف کے مطابق اس کے مندرجات نہج البلاغہ میں درج نہیں اس لحاظ سے یہ ایک اہم دریافت ہے۔ (۹)
امیر المومنین کے شاعرانہ کلام کے اردو ترجمہ کے حوالہ سے ڈاکٹر عمران لیاقت حسین کی " انوار العقل "قابل ذکر ہے یہ ابوالحسن بیهقی کے جمع کردہ دیوان علی کے عربی متن کے ساتھ اردو ترجمہ پر مشتمل ہے اور کراچی سے شائع ہوئی ہے ( ۱۰)
مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ اوپر بیان کئے ہوئے مختلف زبانوں میں نهج البلاغہ کے تراجم اور حوالےکوئی حتمی فہرست نہیں ہے ان حوالوں کا مقصد اس عظیم الشان کتاب کے عالمگیر اثر و نفوذ کی نشاندہی کرنا ہے جو اب بھی جاری ہے۔
نهج البلاغہ کی شرحیں
ترجمہ کے علاوہ نہج البلاغہ کی ایک اور خصوصیت اس کی شرحیں ہیں۔ ابتداء ہی سے جب کلام علمی دانشوروں اور علماء کے ہاتھوں میں پہنچاتو انکی فکر اور قلم کو جنبش ہوئی اور علمی محافل میں اس پر بحث کی راه ہموار هوئی اور اس کے نتیجہ میں اس کی شرحیں لکھنے کا رواج ہوا۔ خود سید رضی کے زمانہ میں علامہ سیدعلی بن ناصر نے اولین شرح تحریر فرمائی۔
البتہ مصادرنہج البلاغہ کی رو سے اولین شارح کے ضمن میں قطب الدین رلوندی اور ابوالحسن محمد بن حسن بیہقی کے نام لئے جاتے ہیں لیکن عزالدین عبدالحمید ابن ہبت لله ابن ابي الحديد معتزلی (متوفی ۶۵۶ھ ) نے شارح نہج البلاغہ کے طور پر جو شہرت پائی وہ بے مثال ہے۔
عربی میں اب تک لکھی جانے ولائی شرحوں میں یہ مشہور ترین ہے جو ۲۰ جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ خواجہ نصیر الدین طوسی کے ہم عصر فلسفی
بزرگ کمال الدین ابن میثم بحرانی اور استاد شیخ محمد عبده ( مصری) متوفی ۳۳۳ اھ نے بھی عربی شرح نهج البلاغه لکھی هے موخر الذکر کے شاگردوں نے اس شرح کو انضمام اور ترتیب جدید کے ساتھ بار بار شائع کیا ہے۔
فارسی زبان میں محمد صالح قزوینی (۱۱ وین صدی ہجری اور محمد باقر اصفہانی نے ۳ جلدوں میں شرح ۱۲۳۴ ھ میں لکھی جو ۳۱۷ اھ میں شائع ہوئی ۔ علامہ سید حبیب اللہ خوئی ( متوفی ۱۲۲۴ھ) نے بھی "منهاج البراعتہ "کے نام سے عربی میں ایک شرح تالیف کی مگر اس کی تکمیل سے پہلے وہ وفات پا گئے۔ اس کے معانی، مطالب اور افادیت کے پیش نظر بعد میں استاد حسن زاده آملی اور شیخ محمد باقر نےاس کو مکمل کیا جو مع فاری ترجمہ ۲۰ جلدوں میں ہے۔ نہج البلاغہ کی توضیحات کے سلسلہ میں هبت الدین شہرستانی کی "ماھو نہج البلاغہ " (فاری ترجمہ نهج البلاغه چیست ) اور شیخ ہادی کا شف العظا کی "مدارک نہج البلاغہ" قابل ذکر ہیں۔ امین الاسلام شیخ طبرسی نے اپنی کتاب " نثر النالی" میں کلمات علی کو بلحاظ حروف تهجی ترتیب دیا ہے اسی طرح عبدالواحد آمدی نے " غرر الحکم " اور دار الکلم" کے نام سے مختصر کلمات کو حروف تهجی سے ترتیب دی ہے جس کا فارسی اور اردو ترجمه بھی موجود ہے علامہ جاوید جعفری نے اس کتاب کی پاکستان میں اشاعت مکرر کا انتظام کیا۔
نهج البلاغہ کے قلمی نسخے :
کسی کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس کی اشاعتوں کی تعداد سے ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں فن طباعت کی ترقی اور فٹوکاپی کمپوٹر اور دیگر ذرائع کی موجودگی میں ہر قلمی نسخوں کی تیاری کی مشکلات کا صحیح انداز نہیں لگا سکتے ۔
هر قلمی نسخه کو از سر نو ترتیب دینا پڑتا ہے ابتدا ہی سے نهج البلاغہ علماء اور دانشوروں اور طلبہ کی توجہ کا مرکز رہی ۔حوزہ هائے علمیہ میں یہ کتاب زیر مطالعہ رہی۔ اس کی مانگ کے پیش نظر مختلف ادوار میں اس کے قلمی نے لکھے گئے اس میں اولین خود سید رضی کا لکھا نسخہ ہے جس سے ابن ابی الحدید نے بھی استفادہ کیا اور کمال الدین میثم بحرانی جن کا ذکر او پر آچکا ہے اپنی شرح میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ الغدیر میں علامہ امینی نے لکھا ہے کہ انہوں نے نجف اشرف میں بزرگوں کے پاس قدیم نسخہ دیکھا جس پرسید رضی کے بھائی سید مرتضی کا اجازہ لکھا تھا۔ اس کے علا و ۱۲ ایسے قدیم نسخوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس وقت کتب خانوں کی زینت ہیں۔ ان میں دو سے مشہور خوش نویس یا قوت مستعصمی کے لکھے آستانہ قدس رضوی مشہد میں ہیں ۔ یاقوت کا ایک اور نسخہ کتاب خانہ حسینی موصل میں ہے۔
سنہری اور چاندی کے کام سے مزین جلد میں ایک نسخہ ( ۱۰۹۰ ھ ) لائبریری آف کانگریس واشنگٹن ، امریکہ میں ہے۔ سید نجم الدین حسینی کا لکھا ہوا نسخہ ( ۶۶۷ ھ) کتاب خانہ آیت اللہ حکیم نجف اشرف میں ہے۔ بغداد میں عراق کے میوزیم میں ۴ نسخے ہیں (۷۰۴ھ ۷۶۷ ھ ۸۷۵ ھ ۱۱۰۳ھ ۷۶۷ ھ) کتاب خانہ طاہر یہ دمشق میں دو نسخے ہیں ( ۹۱۸ ھ ۱۰۷۷ ھ ) اور ایک قلمین لکھنو کے کتب خانہ سید تقی اعلی اللہ میں موجود ہے۔ (۱۱)۔
ان قدیم نسخوں کی موجودگی اس عظیم کتاب کی اصالت کی دلیل ہیں۔