نہج البلاغہ کا تعارفی جائزہ

نہج البلاغہ کا تعارفی جائزہ0%

نہج البلاغہ کا تعارفی جائزہ مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 17

نہج البلاغہ کا تعارفی جائزہ

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ڈاکٹر میر محمد علی
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 17
مشاہدے: 732
ڈاؤنلوڈ: 180

تبصرے:

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 17 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 732 / ڈاؤنلوڈ: 180
سائز سائز سائز
نہج البلاغہ کا تعارفی جائزہ

نہج البلاغہ کا تعارفی جائزہ

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

فیضان علم

تحقیقی مقالہ

نہج البلاغہ کا تعارفی جائزہ

محقق: ڈاکٹر مير محمد علی

۱

۲

فہرستِ مطالب

پیش لفظ ۴

نہج البلاغہ کا تعارفی جائزہ ۶

تمهید : ۶

نهج البلاغہ کی ابتداء : ۸

سید رضی اور نهج البلاغہ ۹

نهج البلاغه : نه اوّل نہ آخر ۱۱

نہج البلاغہ کا اسلوب بیان ۱۳

نهج البلاغہ کے تراجم ۱۶

نهج البلاغہ کی شرحیں ۱۸

نهج البلاغہ کے قلمی نسخے : ۱۹

نهج البلاغہ: علمی افادیت : ۲۰

خلاصه: ۲۱

نتیجه : ۲۲

حوالہ جات ۲۵

۳

بسم الله الرحمن الرحيم

پیش لفظ

قرآن، نہج البلاغہ ، صحیفہ کاملہ آئمہ علیهم السلام کی زندگی او علمی فیوض کا مطالعہ ہمارے ایمان اور معرفت میں اضافہ کرتا ہے اورپیغام حق کے تسلسل کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس مناسبت سے ان قلمی کاوشوں کو فیضان علم کے نام سے موسوم کیا ہے بحمداللہ گروہ جعفری پاکستان اور آل عبا مرکز تحقیق و کتب خانہ (آل عباٹرسٹ) کے زیر اہتمام حسب ذیل عنوانات پر مقالے پیش کئے گئے۔

۱. قرآن کا سائنسی مزاج اور الہامی ترتیب

۲. ج البلاغہ کا تعارفی جائزہ

۳. صحیفہ کاملہ کا تجزیاتی مطالعہ

۴. حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت اور علمی فیوض

۵. حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی شخصیت اور عہد امامت

۶. آئمہ عسکرین کا عہد امامت اور علمی فیوض

۷. انہدام جنت البقیع : تاریخی عوامل و اسباب

۸. انتظار امام مہدی علیہ السلام اور تشیّع کا سفر علم و دانش

۹. امام سجاد علیہ السلام کی سیاسی بصیرت اور علمی فیوض

دوست احباب اور بالخصوص ابو طالب ترابی مرحوم کی خواہش تھی کہ ان مقالوں کو ایک کتابی شکل دیجائے تا کہ مومنین استفادہ کر سکیں۔

میری بھی تمنا ہے کہ اس سرمایه نجات کو روز حشر آئمہ علیهم السلام کی خدمت میں پیش کروں۔

ان مقالوں کی تدوین میں مختلف افراد اور اداروں کا تعاون حاصل رہا ہے جن کے حوالے مقالوں میں دئے گئے ہیں۔

خصوصی طور پر خطیب آل عباسید ناصر عباس زیدی، حجة الاسلام عقیل الغروی اور برادرم نصیر ترابی قابل ذکر ہیں۔ میرے ایرانی دوست مرتضی طلوع ہاشمی اور ڈاکٹر حیدر رضا ضابطہ نے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن مشهد ایران کی مطبوعات سے نوازا۔

میرے افراد خاندان کا تعاون لائق شکر ہے۔

قارئین سے میرے والدین کے لئے سورۃ فاتحہ کی درخواست ہے۔

شکریہ

ناشر: الاحقر

سید علی حیدر - حق پرنٹ اینڈ پبلشر ڈاکٹر میر محمد علی

کراچی سابق چیئر مین سندھ بورڈ آف ٹکنیکل ایجوکیشن ،

فون نمبر : ۶۶۷۶۰۳۴ مئی ۲۰۰۶ء

۴

بسم الله الرحمن الرحيم

نہج البلاغہ کا تعارفی جائزہ

تمهید :

تمام حمد اس اللہ تعالیٰ کے لئے سزاوار ہے جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں ۔ جس کی نعمتوں کو شمار کرنے والے گن نہیں سکتے اور کوشش کرنے والے اس کا حق ادا نہیں کر سکتے ۔ وہ رب العالمین ہر مقصد کی آخری غایت ہے اور تلاش کی آخری حد ہے۔ ( حضرت علی علیہ السلام، نہج البلاغہ )

ہم مولائے کائنات کو ایک امام اور عظیم ہستی مانتے ہیں ۔

ہماری تمام تر محبت اور فدائیت ان کے ساتھ ہے اور ہم نے تاریخ کے طویل سفر میں اپنے اس رویہ پر نہ صرف فخر کیا ہے بلکہ اس کی حفاظت کےلئے بڑی قربانیاں بھی دیں کیوں کہ علی سے ہماری وابستگی ہی ہماری امتیازی شناخت ہے لیکن کیا ہم نے ان کو اس طرح پہچانا جس کا حق تھایا ہے ؟

" علی اور تنہائی" کے عنوان پر اپنی ایک تقریر میں ڈاکٹر علی شریعتی کہتے ہیں کہ ہم مولا کی ستائش میں زیادہ مصروف ہیں اور ان کو پہچاننے میں نہیں ۔

ان کی رائے میں علی کی شناخت کا مضمون ابھی نامکمل ہے اور رہے گا۔ ( ۱)

اس لئے ضروری ہے کہ محراب و منبر اور دیگر میڈیا سے جہاں جہاں ہماری دسترس ہو ہم ایسی باتیں کہیں جس کے زریعہ ہم علی علیہ السلام کو مزید پہچان سکیں۔

مولائے کائنات کو سمجھنے کے لئے ہمارے سامنے ان سے متعلق بے شمار حوالے اور ماخذ ہیں اور ان کی تعریف میں لکھی جانے والی تحریریں ۔

تبصرے نظم ، نثر اور سوان کی کتابیات سے کتب خانے بھرے پڑے ہیں۔ نامساعد حالات کے باوجود علی کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا۔ استبدادی رویوں کے باوجود آپ کے بارے میں اتنی شہادتوں کا باقی رہ جانا خود ایک معجزہ سے کم نہیں۔

لیکن مصنّفین اور مؤلفین کا اپنا ایک رنگ ور جحان رہتا ہے۔

ان ذاتی خیالات کی وجہ سے ممدوح کا حقیقی کردار واضح نہیں ہوتا یا اس میں ایک طرح کی تحلیل واقع ہو جاتی ہے یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ کسی انسان کی صحیح شناخت اس وقت ہوتی ہے جب وہ بولتا ہے۔

اس کا کردار اور شخصیت اس کے کلام، اقوال اور تحریروں میں جھلکتی ہے اس لئے علی کی حقیقی شناخت کے لئے ان کا اپنا کلام ایک بہترین ذریعہ ہے ۔

اس کلام کے مجموعہ کا نام نہج البلاغہ ہے عربی اور فارسی میں نہج البلاغ سے متعلق کافی مواد موجود ہے مگر اردو دان طبقہ کی یہ محرومی ہے کہ ہمارے پاس اس ضمن میں بہت کمی ہے میری ناچیز رائے میں علی کی صحیح معرفت حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم پہلے نہج البلاغہ سے اچھی طرح واقف ہوں ۔

نہج البلاغہ کے تعارفی جائزہ کے اس مقالہ میں اس کی ابتداء ، اس کے مؤلف ، اس کا اسلوب بیان، مختلف نسخے تر جموں اورشرحوں کے تناظر میں اس کتاب کی عظمت کو اجاگر کرنے کی ایک ادنی کوشش کی گئی ہے۔

۵

نهج البلاغہ کی ابتداء :

جس زمانے میں اسلام دور دراز ممالک میں پھیل رہا تھا، علی مدینہ میں مسلمان عربوں کی ابھرتی ہوئی قوم کی دماغی قوت بڑھا رہے تھے، مدینہ کی جامع مسجد میں علی اور ان کے چچازاد بھائی عبد اللہ ابن عباس فلسفہ ،منطق ،فصاحت ، وبلاغت، حدیث وقفہ پر خطبات اور درس دیا کرتے تھے۔

یہ ابتداء تھی اس دماغی تحریک کی جو بعد میں بہت زور و شور سے بغداد میں ظہور پزیر ہوئی ۔ علامہ ضمیر اختر نقوی نے اپنے ایک مقالہ "علی اور علم " میں مشہور مؤرخین اور صاحب قلم افراد بشمول جسٹس امیر علی ، جے جے پول اور خلیل جبران کے حوالہ سے اس صورت حال کی مزید اس طرح وضاحت کی کہ :

"علی نے اپنے عہد حکومت میں کوفہ کو دارلحکومت ہی نہیں بلکہ دار العلم بھی بنا دیا تھا کوفہ کی مسجد میں هزاروں اصحاب کے سامنے جس میں نہ صرف عرب بلکہ غیر عرب ، عجم اور قبطی سبھی ہوتے تھے مختلف عنوانات مثلا الهیات ، طبعیات ، اخلاق ، سیاست ، تمدن و معاشرت ، تخلیق کائنات، فنون ونظام عسکری پر برابر تقریریں فرماتےتھے ۔

علی علیہ السلام کی نظرمستقبل پرتھی وہ یہ جانتے تھے کہ تقریر کی حفاظت کے لئے اس کوضبط تحریر میں لانا ضروری ہے اسوقت کے تقاضہ ) اسی وجہ سے انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں مصنفین اور جمع کنندوں کا نہ صرف تحفظ کیا بلکہ ان کو اس کام کی ترغیب بھی دیتے تھے۔

اس حکمت عملی کا نتیجه یہ نکلا کہ آپ کے عہد خلافت میں اہل قلم آپ کےخطبات اور اقوال کو محفوظ کرنے لگے۔ ان افراد میں امام حسن ، امام حسین کے علاوہ عبداللہ بن عباس، جابر ابن عبداللہ انصاری، اسبغ بن نباته، کمیل ابن زیاد اور حسن بصری کے نام لائق ذکر ہیں ۔ ( ۲)

یہی چیدہ چیدہ تحریریں بعد کے مولفین اور جمع کنندوں کے لئے ایک بے بہا ذخیرہ ثابت ہوئیں۔

۶

سید رضی اور نهج البلاغہ

کلام امیر المومنین کے جمع کرنے والوں میں سب سے ممتاز نام سید رضی کا ہے۔ ابوالحسن محمد بن حسین ملقب به شریف رضی معروف بہ سید رضی کا تعلق امام هفتم کی پانچویں پشت سے تھا۔ وہ ۲۵۹ میں بغداد میں پیدا ہوئے ان کا گھرانہ ہدایت ، عزت اور شوکت کا محور تھا اور معاشرہ میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔

ان کا شمار چوتھی صدی ہجری کے نصف آخر کے دانشوروں میں ہوتا ہے۔ بچپن ہی سے حصول علم ، شعر و ادب میں اپنے ساتھیوں میں بہت ممتاز پائے گئے ۔ سب سے پہلے امتیاز و اعجاز قرآن سے متعلق تحقیق کے نتیجہ میں حقائق التاویل نامی تفسیر لکھی۔ بعد ازاں آنحضرت کی ۳۶۱ احادیث کی انواع و استعارہ ، مجاز اور باریک نکات کی تشریح پر مبنی ایک

کتاب " المجازات النوبية " تالیف کی ۔ ظاہر ہے کہ قرآن اور حدیث کے بعد ان کا اگلا ہدف کلام امیر المومنین ہی هو سکتا تھا۔ شاعری قبلہ قریش کا طرہ امتیاز تھا۔

وہ خود بھی عرب کے بہترین شعرا سے تھے اپنی اس شاعرانہ حسن کو کام میں لاتے ہوئے انہوں نے کلمات علمی سےلفظی و معنوی حیثیت اور بلاغت کے لحاظ سے معتبرترین کلمات کا انتخاب کیا اور ان کو خطبات، خطوط اور مختصر اقوال کےتین ابواب پر مشتمل کتاب کی صورت میں رجب ۳۰۰ اھ میں مکمل کیا( جب کہ عمر ۴۰ سال تھی۔

کلام علی علیہ السلام کے اس مجموعہ کو انہوں نے نہج البلاغہ سے موسوم کیا کیوں کہ خود قول سید رضی یہ کتاب دیکھنے والوں کے لئے بلاغت کے بند دروازے کھولے گی اور اس کے لئے راہ تلاش قریب کرے گی۔ ان کو شاید اپنی قلیل مدت حیات کا علم تھا اس مختصرسی مدت میں یہ عظیم کام مکمل کر کے صرف ۴۷ سال کی عمر میں ۴۰۶ ھ میں وفات پا گئے ۔( بعض مورخ ان کی عمر ۴۵ سال بھی بتاتے ہیں ) اس کتاب کو مدون ہو کر ۱۰۰۰ سال گزر چکے ہیں۔ اس میں ۲۳۷ خطبات ، ۷۹خطوط اور ۴۸۱ مختصر اقوال شامل ہیں۔

۷

سید رضی کا زمانہ حیات اسلامی تہذیب اور تمدن کے منابع اور ماخذوں سے بھر پور کتب خانوں کی فروانی کے لحاظ سے تاریخ کانادر دور تھا کیوں کہ ابھی تک یہ کتاب خانے یورپی مسیوں اور منگولوں کی چیرہ دستیوں اور وحشیانہ مظالم سے محفوظ تھے ان میں چند قابل ذکر ہیں۔

۱. کتب خانه دارالعلم " ۸۰۰۰۰ کتابیں جو سید رضی اوران کے بڑے بھائی سید مرتضی کا تھا۔

۲. کتب خانہ "بیت الحکمت" جو بغداد کا بہترین کتب خانہ تھا۔

۳. کتاب خانه قرطبہ" ( اندلس )۴ لاکھ کتا ہیں۔

۴. کتاب خانه خزانة الكتب" ( مصر ) ۱۶ لاکھ کتا ہیں ۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب ہلا کو خان بغداد آیا تھا تو اس کی فوج نے ان کتب خانوں کی کتابوں سے پل بناکر دریا کو عبور کیا تھا۔ بس اسی پر اکتفانہ کیا بلکہ باقی ماندہ کتا بیں جلا دی گئیں۔ یورپین نے جب طرابلس اور شام پر حمله کیا تھا تو ۳۰ لاکھ کتابیں جلادیں۔ یہ مقام عبرت ہے۔ ہم آن انہی اقوام کو مہذب اور متمدن کہتے ہیں۔

مذکورہ بالا کتب خانوں میں حضرت علی ، امام حسن امام حسین علیہم السلام کے نوشته خطوط عہد نامے اور مضامین بھی موجود تھے۔ سید رضی خوش قسمت تھے کہ نهج البلاغه کی تدوین میں ان کو دنیا کے ان بہترین کتب خانوں تک رسائی تھی۔ وہ نقیب خانوادہ ابوطالب کےعہدہ پر بھی فائز تھے جوایک بڑا اعزاز تھا۔

نهج البلاغه کی تدین کےلئے انہوں نے بے شمار سفر کئے اور ان ذخیروں سے بھر پور فائدہ اٹھا کر بڑی محنت شاقہ سے نہج البلاغہ کی تدوین کی یه نا ممکن ہے کہ اس پایه کے علمی ماخذ و مصادر آج کے مورخ کو حاصل ہو سکیں ۔ لیکن اتنے بڑے مواد کے تلف ہو جانے کے باوجود دانشوروں کی کوش سے نہج البلاغہ پر مسلسل تحقیق کا کام جاری ہے۔

۸

نهج البلاغه : نه اوّل نہ آخر

نهج البلاغه کے نام سے فورا ہمارے ذہن میں صرف ایک کتاب آتی ہے جس کے سید رضی مولف ہیں۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سید رضی نے نہج البلاغہ کے ماخذ کی تلاش انتخاب ، نظم و ترتیب میں اتنی جانفشانی کی ہے کہ اب سید رضی کو نہج البلاغہ سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ بالخصوص برصغیر کے علماءاور دانشوروں کو زیادہ تر نهج البلاغه کے ایسے تراجم (اردو اور فارسی) تک رسائی رہی جو سید رضی کی تالیف کردہ ہے لیکن علمی حلقوں میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سید رضی کی نہج البلاغہ کلام امیر المومنین میں نہ اول ہے نہ آخر، یه کوئی حیرت کی بات نہیں خود سید رضی نہے نہج البلاغہ کے مقدمه میں لکھا ہے ، مجھے یہ دعوی نہیں ہے کہ میں نے حضرت کا کلام ہر طرف سے سمیت لیا ہے اور کو‏‏‏ئی جملہ بھی چھوٹنے نہیں پایا بلکہ میں یہ بعید نہیں سمجھتا کہ جو مجھ سے رہ گیا ہے اس سے کہیں زیادہ ہو جو مجھ تک پہنچا ہے ۔(۳)

اس وقت ہمارے کتب خانوں اور علماء کے ہاتھوں میں کلام علی پر مشتمل ایک سے زیادہ معتبر نسخے موجود ہیں ذاتی طور پر میں اس کو ایک مصلحت خداوندی سمجھتا ہوں۔ یوں بھی علی کی پر شکوہ اور معجز نما شخصیت کے بارے میں بعض پرستار مبینہ افراد تفریط کی بحث میں مبتلا ہیں ۔

ایسی صورت میں اگر نہج البلاغہ اپنی تمام تر صفات کے ساتھ ایک واحد کتاب کا وجود رکھتی تو پھر آپ خود اندازہ لگائیں کہ تخیل کا انتشار کیا رخ اختیار کرتا جب کہ مثنوی مولانا رومی کو قرآن در زبان پہلوی سمجھنے والے اور کارل مارس کو اس کی کتاب کل پیغمبر سے تشبیہ دینے والے بھی موجود ہیں۔ نهج البلاغہ قرآن کا مد مقابل نہیں ہے۔ اس حساس نکتہ کو ہمارے نوجوان مفکر سید کمال حیدر رضوی نے ایک موثر اور لطیف پیرایہ میں ادا کیا ہے۔ نہج البلاغہ کی جامعیت اور ابدیت پر ایک تقریر میں انہوں نے کہا محمد کی زبان سے وحی کی ترجمانی نے عربوں کو گونگا کیا ہوا تھا۔

۳۵ برس کی طویل خاموشی کے بعد علی کے کلام کی تلوار نیام دہن سے باہر آئی۔ ہونا یہ چاہئےتھا کہ علی کے کلام کی موجین قرآن کے ساحل سے ٹکرا کر واپس آجاتیں یا قرآن کی موجوں پر علی کے کلام کی نہریں غالب آجاتیں لیکن دونوں میں کچھ نہیں بلکه علی کا کام وہ کنارے بن گیا جو قرآن کی حفاظت کرتے ہیں یعنی علی نے قرآن کی حفاظت کے لئے نهج البلاغه کی فصیل تعمیر کردی۔ اس مماثلت پر مجھے بے اختیار علامہ ترابی کا ایک جملہ یا دآگیا یعنی عصمت پیغمبر کے اطراف معصومین کا کردار ایک حصار کا کام کرتا ہے۔ سید رضی سے پهلے اور بعد کے نسخوں کے درمیان ان کی تالیف ایک ممتاز مقام رفتی ہے۔

سید رضی سے پہلے قابل ذکر تالیف "خطیب امیر المومنین على النار" کا مؤلف زیدین وہب جحفی ہے جوپیغمبر اسلام کے زمانہ میں مشرف بہ اسلا ہوا۔ آنحضرت کا دیدارنه کر سکا لیکن یہ ایک سرکردہ مسلمان اور لشکر علی کا سرگرم رکن تھا کلام علی کا اولین جمع کرنے والا تھا اور خود امیر المومنین سے جو سنا تھا ضبط اور تحریر میں لایا اس بنا پر اس کتاب کو تحقیق کی زبان میں بنیادی دستاویز کا درجہ حاصل ہے اس کا انتقال۹۶ ھ میں ہوا۔

دانشمند حق عبد الزہرا خطیب نے کلام علی پر مبنی شیعہ اور سنی علماء کی تالیف کردہ ۴۶ کتابوں کی تفصیل بمعہ نام ؛ مؤلف اور تاریخ تالیف بیان کی ہے جس میں ۲۲ ایسی ہیں جونهج البلاغه سے پیشتر لکھی جا چکی تھیں ، اسی مؤلف نے مصا نهج البلاغه کی تدوین میں ۱۰۰ سے زائد کتابوں سے استعفادہ کیا تھا جن کا تعلق ۴۰۰ ھ سے قبل کا تھا۔یہ بھی ممکن ہے کہ ان مدارک سے خود سید رضی نے بھی استفادہ کیا ہو۔

سید رضی کے پہلے اور بعد کے کلام علی کے نسخوں کی کچھ تفصیل پر بیان کردی گئی ہے۔ ان بے شمار دستاویزوں کی موجودگی میں ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ کلام امیر المومنین اس قدر گہرائی اور ہمہ گیر وسعت کا حامل ہے که ہر دور میں مؤلفین اپنی پسند اور بساط کے مطابق اس میں سے شہ پارے جمع کرتے اور مطالب کو اجا کرتے رہے ہیں اس کلام کی تکثیر ایک فطری ؛ صحتمند او ر خوش آ‏‏‏ئند رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس کو جاری رہنا چاہئے اس سلسلے میں ایران میں قا‏‏‏ئم بنیاد نہج البلاغہ (نہج البلاغہ فاؤنڈیشن) کی خدمات لا‏‏‏ئق ستا‏‏‏ئش ہیں ۔

۹

نہج البلاغہ کا اسلوب بیان

عربی زبان کی جن تخلیقات کو لازوال شہرت حاصل ہوتی ہے اس میں نہج البلاغہ سرفہرست ہے یه علمی دنیا کی انتهائی مقبول مشہور اور محترم کتاب ہےاس کا ایک ایک لفظ انسانی وجدان اور بصیرت میں اضافہ کرتا ہے۔ نهج البلاغه محض ایک صاحب علم و حکمت کی گفتگو نہیں جو زندگی کے شور و غوغا سے دور اور روز مرہ واقعات سے بے نیاز ہوکر کسی دانشگاہ میں بیٹھا معارف اسلامی کا درس دے رہا ہو بلکہ یہ ایک ایسے انسان کے کلمات میں جس کےکندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری ہے اور اس کی دانائی اور بصیرت کلی طور پر معارف قرآن سے مالامال ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک ذمہ دار مقام پر فائز تصور کرتے ہوئے عوام کے سامنے بولتا ہے۔ ان سے سوال کرتا ہے۔ ان کو سوال کرنے کی کھلی دعوت دیتا ہے۔ سوالات کے جواب دیتا ہے اور سننے والوں کی فکر کو جھنجوڑتا ہے ۔

نہج البلاغہ کا یہی اسلوب ماسوائے قرآن اس کو دوسری تمام کتابوں سے ممتاز کرتا ہے یا یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اپنے اس نهج میں وہ قرآن کی پیروی کرتا ہے۔

اس کتاب کی فصاحت و بلاغت کا ہر کوئی معترف ہے۔

چند مثالیں:

۱. آیت الله خامنہ ای فرماتے ہیں کہ فصاحت ، بلاغت اور فوق العادہ الفاظ کے پیش نظریہ ضروری ہے کہ ایک ایسی لغت ترتیب دی جائے جو صرف نہج البلاغہ کے دقیق کلمات کی وضاحتوں پر مشتمل ہو۔

۲. علامه ضمیر اختر نقوی نے نهج البلاغه میں موجود عجیب و غریب الفاظ کی ایک طویل فہرست اپنے مقالہ میں دی ہے جس کا حوالہ پہلے آچکا ہے۔

۳. اسلوب نهج البلاغہ کے سلسلہ میں مشهور استاد شیخ محمد عبده ( مصری) خود بھی جامع نہج البلاغہ ہیں کہتے هیں کہ ہر خطیب اور مصنف کے لئے نہج البلاغه کا مطالعہ اس کے تجسس کے ہدف کو پورا کر سکتا ہے۔ اس کتاب میں ترغیب، سیاست ، اصول تمدن ، اجتماعی اور انفرادی حقوق، قوانین عدالت ، پندو نصیحت کےبشمول ہر کوئی عنوان جو انسان کے ذہن میں آسکتا ہے موجود ہے۔

۴. استاد محمد حسن نائل المرصفی کہتے ہیں۔ "نہج البلاغہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ علی ہدایت ،فصاحت اوعقل کا بہترین نمونہ اور قرآنی معجزہ ہے۔ جب بھی میں اس کتاب کا مطالعہ کرتا ہوں اپنے میں ایک تغیر محسوس کرتا ہوں ۔“

۵. اور پھر نهج البلاغہ کی شرح نے جس ابن ابی الحدید معتزلی کومعتبر بنا دیا وہ رقم طراز ہے .(حوالہ محمد ابو الفضل ابراہیم بشرح نہج البلاغہ جلد ۱ ص ۷ ) کہ اپنی بے مثال پذیرائی الفاظ کی خوبصورت ، معنوی جامعیت اور زبان کی سلاست نے اس کتاب کو عربی زبان کے خوبصورت نثروں میں ایک برتر اور اولین مقام دیا ہے۔

۶. شیخ ناصف یاز جی اپنے فرزند ابراہیم کو ہدایت کرتے ہیں کہ اگر دانش، ادب ، انشاء اور نگارش میں دوسروں پر فوقیت حاصل کرنا ہو تو قرآن اور نهج البلاغہ کواز بر کرو۔

۷. محمد امین نواری کہتے ہیں۔ علی تمام قرآن کے حافظ تھے اور اس کے اسرار سے واقف تھے قرآن ان کےگوشت و خون میں سرائیت کر گیا تھا۔ اگر قاری چاہتا ہے کہ ان مطالب کو سمجھے تو نہج البلاغہ پڑھے۔

۸. معروف شاعر ابو عثمان بن بحر جاحظ (سن وفات ۳۰۰) نے بر ملا اعتراف کیا ہے کہ قرآن اور قول پیغمبر کے سوا ہر کلام، خط اور مقالہ میں نے پڑھا یا سنا ہے اس کے برابر یا اس سے بہتر پیش کر سکتا ہوں لیکن میں ہر طرح کی کوشش کے باوجود اپنے آپ میں کلمات امیر المومنین کی برابری کی سکت نہیں پاتا۔

۹. مصر کے ڈاکر ذ کی مبارک کہتے ہیں کہ یہ میرا عقاد ہے کہ نہج البلاغہ غورو فکرانسان میں توانائی، علم اورعظمت روح پیدا کرتی ہےکیونکہ کہ یہ کتاب ایک ایسےبزرگ انسان کی ہےجو تمام مشکلات کےباوجود شیر کے ارادہ کی طرح مستحکم تھا“

۱۰. اور آخر میں عبید اللہ امرتسری ارحج المطالب میں علی کے کلام، نمو اور فصاحت کے نمونوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ افلاطون اور ارسطو بھی باوجود اس قدر علم کے توحید کے نازک اور پیچیدہ مسائل کو اس سلیس انداز میں نہیں بیان کر سکے۔ نہج البلاغہ کے خطبہ اول کا جس میں توحید اور تخلیق کائنات کا ذکر ہے حوالہ دے کر کہتے ہیں۔

” جناب امیر کے نادر اقوال کے دیکھنے کا شوق ہو تو نهج البلاغہ کا مطالعہ کرے ۔ ( ۴)

مختصراً یہ کہ اوپر بیان کئے ہوئے تمام نام علم و ادب کی دنیا کی نامور شخصیتیں ہیں۔ کو نہج البلاغہ ان تبصروں کی محتاج نہیں لیکن ان حوالوں کے ذریعہ ناواقف افراد کو اس کتاب کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اور وہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ علی نے اپنی گفتگو میں عقل، سیاست، معنویت اور فصاحت و بلاغت اور طنز کی کچھ اس طرح آمیزش کی ہے کہ ہر وہ شخص جو عربی ادبیات سے واقف ہے وه نهج البلاغہ کے مطالعہ سے اس کی حقیقت سے آشنا هو سکتا ہے یه کتاب اس بات کی متقاضی ہے کہ اس پر مسلسل تحقیق ؛ غور وفکر اور سیر حاصل بحث کی جا‏‏‏ئے ۔ کا ش ہم اپنے اطراف ایسا ماحول پیدا کر سکیں۔

۱۰

نهج البلاغہ کے تراجم

یه سمجھنا کہ نہج البلاغہ کی رسائی صرف اسلام تک محدود ہے نامناسب ہے۔ علم و حکمت کی یہ شاہکار کتاب تمام دنیا کے اہل دانش کو مستقل دعوت مطالعه و تحقیق دیتی رہی اور اس کا سلسلہ باقی ہے۔ کسی کتاب کے اثر ونفو ذ کا اندازہ غیر زبانوں میں اس کے تراجم سے بھی ہوتا ہے۔ نهج البلاغہ کے ضمن میں اس خصوصیت کا حوالہ پروفیسر سردار نقوی نے عبدالکریم گلشنی کے مضمون کے ترجمہ میں یوں دیا ہے۔

تاریخی اعتبار سے نهج البلاغہ نہایت قدیم کتاب ہے۔ اس کے عربی متن اور فارسی تراجم بہت پہلے ہی سے موجود ہیں لیکن یورپی مستشرقین سے اس کا تعارف نسبتا حال کی بات ہے جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ کتب تشیع بالخصو ص نهج البلاغه تک یورپ کے اسلام شناسوں کی رسائی اہل سنن کے منابع و مصادر کے مقابلہ میں تاخیر ہوئی ( ۵)

اس صورت حال کے باوجود معروف مغربی زبانوں میں معتبر نسخوں اور تبصروں کی موجودگی اس کتاب کی عظمت کے گواہ ہیں۔ ان میں سے ذیل میں چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔

۱. نهج البلاغہ کے بارے میں تحقیق جمیل سلطان ، فرانسیسی زبان ، پیرس ۱۹۴۰ ء

۲. صحت و اصالت نہج البلاغہ س – الف- خلوصی - انگریزی زبان ۱۹۵۰ ء

۳. نہج البلاغہ اور اس کے مرتب رضی کے بارے میں، اور اچیا والیری اطالوی زبان ۱۹۵۵ ء

۴. نهج البلاغه کی روشنی میں شیعی نقطہ نظر سے حضرت علی کی شخصیت – صدر اسلام کی تاریخ کا تحقیقاتی مطالعہ " ہانس یورگن میف، جرمن زبان ۱۹۴۹ ء

۵. سویڈن کی مادام ریاس چپل نے نهج البلاغہ کے کچھ حصوں کو جمع کیا اور شرح لکھی ( حوالہ ڈاکٹر علی شریعتی علی اور تنہائی ۔)

۶. انگریزی تر جموں میں قابل ذکر سید محمد عسکری جعفری کا ترجمہ جو اولا پاکستان میں شائع ہوا ۔ ( ۱۹۶۰) اور پھر تہران سے کتاب خانہ مسجد جامع چہلستون کے ذریعہ آفسٹ میں طبع ہوا۔ اس میں تقریباً .۱۰۰ صفحات پر مشتمل مقدمہ ہے ۔ ( ۶)

۷. علامہ ترابی اعلیٰ اللہ مقامہ نے مالک اشتر کے نام امیر المومنین کے مشہور زمانہ خط کا انگریزی ترجمہ کیا جو اب بھی اچھی حکومت کے موضوع پر ایک معتبر دستاویز ہے ۔ ۱۹۶۸ ء ( ۷)

ہندوستان اور پاکستان میں نہج البلاغہ کے اردو تراجم کے سلسلہ میں چند معتبر مثالیں ملتی ہیں اس میں " شرح النهج "کے نام سے ۲ جلدوں میں سید ظفر مہدی کا ترجمہ ہے اور "الاشاعتہ" کے نام سے سید اولاد حسن مروہوی کا ترجمہ ہے جو ۱۳۳۸ ء میں ہندوستان میں شائع ہوا۔ پاکستان میں " ترجمہ نہج البلاغہ" کے نام سے مفتی جعفر حسین کا ترجمہ ہے جو تین جلدوں پر مشتمل ہے اور ۱۳۷۵ ھ میں لاہور سے شائع ہوا۔ اس میں نہج البلاغہ کے ماخذ اور سید رضی کی نہج البلاغہ کی اصالت جیسے اہم نکات پرسید العلماء علی نقی (نقن ) کی مدلل بحث پر مبنی تقریبا ۴۰ صفحات کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ ( ۸)

اس کے علاوہ رئیس احمد جعفری کا اردو ترجمہ " نهج البلاغت" بھی ہے۔ "شرح النهج" جس کا ذکر او پر ہوا ہے کہ سلسلہ میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ گجراتی اسکرپٹ میں اس کی اشاعت غلام علی مولوی ہندی کی وساطت سے ہوئی۔ موجودہ دور میں کلام امیرالمومنین کی تالیف کی قابل ذکر مثال سید غلام حسین رضا آقا کی " نهج الاسرار " ہے جو۲ جلدوں میں اردو ترجمہ کے ساتھ ہے۔ یہ ۱۴۰۲ ھ مطبع کاظمی حیدر آباد ڈکن سے شائع ہوئی۔مؤلف کے مطابق اس کے مندرجات نہج البلاغہ میں درج نہیں اس لحاظ سے یہ ایک اہم دریافت ہے۔ (۹)

امیر المومنین کے شاعرانہ کلام کے اردو ترجمہ کے حوالہ سے ڈاکٹر عمران لیاقت حسین کی " انوار العقل "قابل ذکر ہے یہ ابوالحسن بیهقی کے جمع کردہ دیوان علی کے عربی متن کے ساتھ اردو ترجمہ پر مشتمل ہے اور کراچی سے شائع ہوئی ہے ( ۱۰)

مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ اوپر بیان کئے ہوئے مختلف زبانوں میں نهج البلاغہ کے تراجم اور حوالےکوئی حتمی فہرست نہیں ہے ان حوالوں کا مقصد اس عظیم الشان کتاب کے عالمگیر اثر و نفوذ کی نشاندہی کرنا ہے جو اب بھی جاری ہے۔

نهج البلاغہ کی شرحیں

ترجمہ کے علاوہ نہج البلاغہ کی ایک اور خصوصیت اس کی شرحیں ہیں۔ ابتداء ہی سے جب کلام علمی دانشوروں اور علماء کے ہاتھوں میں پہنچاتو انکی فکر اور قلم کو جنبش ہوئی اور علمی محافل میں اس پر بحث کی راه ہموار هوئی اور اس کے نتیجہ میں اس کی شرحیں لکھنے کا رواج ہوا۔ خود سید رضی کے زمانہ میں علامہ سیدعلی بن ناصر نے اولین شرح تحریر فرمائی۔

البتہ مصادرنہج البلاغہ کی رو سے اولین شارح کے ضمن میں قطب الدین رلوندی اور ابوالحسن محمد بن حسن بیہقی کے نام لئے جاتے ہیں لیکن عزالدین عبدالحمید ابن ہبت لله ابن ابي الحديد معتزلی (متوفی ۶۵۶ھ ) نے شارح نہج البلاغہ کے طور پر جو شہرت پائی وہ بے مثال ہے۔

عربی میں اب تک لکھی جانے ولائی شرحوں میں یہ مشہور ترین ہے جو ۲۰ جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ خواجہ نصیر الدین طوسی کے ہم عصر فلسفی

بزرگ کمال الدین ابن میثم بحرانی اور استاد شیخ محمد عبده ( مصری) متوفی ۳۳۳ اھ نے بھی عربی شرح نهج البلاغه لکھی هے موخر الذکر کے شاگردوں نے اس شرح کو انضمام اور ترتیب جدید کے ساتھ بار بار شائع کیا ہے۔

فارسی زبان میں محمد صالح قزوینی (۱۱ وین صدی ہجری اور محمد باقر اصفہانی نے ۳ جلدوں میں شرح ۱۲۳۴ ھ میں لکھی جو ۳۱۷ اھ میں شائع ہوئی ۔ علامہ سید حبیب اللہ خوئی ( متوفی ۱۲۲۴ھ) نے بھی "منهاج البراعتہ "کے نام سے عربی میں ایک شرح تالیف کی مگر اس کی تکمیل سے پہلے وہ وفات پا گئے۔ اس کے معانی، مطالب اور افادیت کے پیش نظر بعد میں استاد حسن زاده آملی اور شیخ محمد باقر نےاس کو مکمل کیا جو مع فاری ترجمہ ۲۰ جلدوں میں ہے۔ نہج البلاغہ کی توضیحات کے سلسلہ میں هبت الدین شہرستانی کی "ماھو نہج البلاغہ " (فاری ترجمہ نهج البلاغه چیست ) اور شیخ ہادی کا شف العظا کی "مدارک نہج البلاغہ" قابل ذکر ہیں۔ امین الاسلام شیخ طبرسی نے اپنی کتاب " نثر النالی" میں کلمات علی کو بلحاظ حروف تهجی ترتیب دیا ہے اسی طرح عبدالواحد آمدی نے " غرر الحکم " اور دار الکلم" کے نام سے مختصر کلمات کو حروف تهجی سے ترتیب دی ہے جس کا فارسی اور اردو ترجمه بھی موجود ہے علامہ جاوید جعفری نے اس کتاب کی پاکستان میں اشاعت مکرر کا انتظام کیا۔

نهج البلاغہ کے قلمی نسخے :

کسی کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس کی اشاعتوں کی تعداد سے ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں فن طباعت کی ترقی اور فٹوکاپی کمپوٹر اور دیگر ذرائع کی موجودگی میں ہر قلمی نسخوں کی تیاری کی مشکلات کا صحیح انداز نہیں لگا سکتے ۔

هر قلمی نسخه کو از سر نو ترتیب دینا پڑتا ہے ابتدا ہی سے نهج البلاغہ علماء اور دانشوروں اور طلبہ کی توجہ کا مرکز رہی ۔حوزہ هائے علمیہ میں یہ کتاب زیر مطالعہ رہی۔ اس کی مانگ کے پیش نظر مختلف ادوار میں اس کے قلمی نے لکھے گئے اس میں اولین خود سید رضی کا لکھا نسخہ ہے جس سے ابن ابی الحدید نے بھی استفادہ کیا اور کمال الدین میثم بحرانی جن کا ذکر او پر آچکا ہے اپنی شرح میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ الغدیر میں علامہ امینی نے لکھا ہے کہ انہوں نے نجف اشرف میں بزرگوں کے پاس قدیم نسخہ دیکھا جس پرسید رضی کے بھائی سید مرتضی کا اجازہ لکھا تھا۔ اس کے علا و ۱۲ ایسے قدیم نسخوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس وقت کتب خانوں کی زینت ہیں۔ ان میں دو سے مشہور خوش نویس یا قوت مستعصمی کے لکھے آستانہ قدس رضوی مشہد میں ہیں ۔ یاقوت کا ایک اور نسخہ کتاب خانہ حسینی موصل میں ہے۔

سنہری اور چاندی کے کام سے مزین جلد میں ایک نسخہ ( ۱۰۹۰ ھ ) لائبریری آف کانگریس واشنگٹن ، امریکہ میں ہے۔ سید نجم الدین حسینی کا لکھا ہوا نسخہ ( ۶۶۷ ھ) کتاب خانہ آیت اللہ حکیم نجف اشرف میں ہے۔ بغداد میں عراق کے میوزیم میں ۴ نسخے ہیں (۷۰۴ھ ۷۶۷ ھ ۸۷۵ ھ ۱۱۰۳ھ ۷۶۷ ھ) کتاب خانہ طاہر یہ دمشق میں دو نسخے ہیں ( ۹۱۸ ھ ۱۰۷۷ ھ ) اور ایک قلمین لکھنو کے کتب خانہ سید تقی اعلی اللہ میں موجود ہے۔ (۱۱)۔

ان قدیم نسخوں کی موجودگی اس عظیم کتاب کی اصالت کی دلیل ہیں۔

۱۱

نهج البلاغہ: علمی افادیت :

امیر المومنین وه پہلے مفکر اسلام ہیں جنہوں نے خداوند عالم کی توحید اور اس کے صفات پر منطقی نقطہ نظر سے بحث کی ان کا کلام اخلاقی تعلیمات کا سرچشمہ ہے، انکی خطابت اور نگارشات میں بعد الطبعیاتی، نفسیانی مسائل کے علاوہ تہذیب، تمدن اور معاشرتی اصول سائنس ، قانون ، سیاست ، مشاہدات اور فلسفہ پر مباحث اور هدایات ہیں جو ان علوم میں نقش اول بھی ہیں اور حرف آخر بھی۔

سید رضی کا نه صر دنیا اسلام بلکه انسانیت پر احسان هے کہ ان بے بہا جواہر ریزوں کو بڑی محنت تحقیق اور جستجو سے جمع کرکے ہر مکتبہ فکر کے علماء و فضلاء اور طلاب کو اپنی اہلیت اور ضرورت کے مطابق فیض حاصل کرنے کا موقع فراہم کردیا۔

اس کتاب سے استفادہ کرنے والوں میں ایک نوع ( Diversity ) ہے جو اس کے موضوعات کے وسعت کی نشاندہی کرتی ہے. متفقین نے پچاس سے زا‏‏‏ئد ایسی مستند کتابوں کی فہرست ہی ہے جو تاریخ، حدیث، تفسیر، فقه سیاست، علم الکلام اور دیگر علوم سے متعلق ہیں جن میں نہج البلاغہ سے چار سوحوالے لئے گئے ہیں۔

بطور مثال اصول کافی پچاس حوالے ، الغارات، چالیس حوالے تحف العقل ۴۶ ، کتاب صفین ۳۲. الامامه والسیاستہ ا۱ حوالے، دیگر قابل ذکر کتابوں میں ارشاد مفید، تاریخ طبری تفسیر عیاشی، عون اخبار رضا من لایحضر الفقیہ اور تہذیب شیخ طوسی شامل ہے۔

۱۲

خلاصه:

اب تک جو کچھ بھی عرض کیا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ :

۱. علی سے وابستگی کا تقاضہ ہے کہ نہج البلاغہ کا مطالعہ کریں۔

۲. قومی اور علاقائی زبانوں میں اس کتاب کی اشاعت کا اہتمام کیا جائے۔

۳. نهج البلاغہ قرآن کا مدمقابل نہیں بلکہ قرآن فہمی کا معاون ہے۔

۴. نهج البلاغہ کا اسلوب بیان بہت ممتاز اور اور موثر ہے اور بلا لحاظ مذاہب ، اعتقاد سب کو غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

۵. کلام علی کی تدوین میں سید رضی کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔

۶. نهج البلاغہ کے تراجم ، شرحیں ، قلمی نسخے اور دیگر مستند کتب میں اس کے حوالے اس کی افادیت اورمقبولیت کی دلیل ہے۔

۷. علی کے کلام میں جامعیت اور ابدیت ہے جو آنے والے ہر دور میں انسان کی فکر کو جلا بخشتے رہیں گے۔

۱۳

نتیجه :

اس مقالہ میں علی کے کلام کے صرف گرد و پیش کے تعارف کی ایک نا مکمل کوشش کی گئی ہے۔ نہج البلاغه فکر کا اوقیانوس اور بحر ذخار ہے۔ اس میں حمد باری تعالی علوم معرفت الهی ، منقب ، رحمت العالمین منزلت محمد و آل محمد اسرار رانی، تو حید، عدل علائم الظهور، عقل ، سیاست ، تمدن ، سائنس اور دیگر بے شمار مضامین پر ارشادات هیں جو ذہن کی سیرابی اور ہر شبہ کا دافع ہے۔ ان موضوعات پر گفتگو علماء خطیب اور ذاکرین کا نہ صرف حق ہے بلکہ ایک فریضہ بھی۔

اس مختصر تعارف کے نتیجہ میں ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ نهج البلاغہ ہماری فکری بالیدگی اور کردارک تعمیر کا ذریعہ ہے۔ یہ آنے والی تمام نسلوں کی رہنما ہے۔

علی ابن ابیطالب علیہما السلام قرآن ناطق ہیں جن سے ساری عقل و دانش کی دنیا فضیاب ہوتی ہے۔ ان کے اعمال و خصائل میں در حقیقت قرآن و سنت کی عکاسی ہے۔

علی علیہ السلام کی گفتار قرآن اور پیغمبرکے کلام کے بعد بہترین اثر رکھنے والی گفتگو ہے جو انسان کی روح کو صیقل کرتی ہے۔ مشہور ایرانی دانشور ناصر مکارم شیرازی نهج البلاغہ سے متعلق کانگریس میں اپنے مقالہ میں رقم طراز ہیں۔

۱۴

انسانی تاریخ کا خلاصہ

یہ ہے کہ :

" جوان پیر ہو جاتا ہے، نیا پرانا ہو جاتا ہے انسانی ذہن سے واقعات محو ہو جاتے ہیں لیکن بعض امور انسانی تاریخ کی اس سنت کے برخلاف حیات جاودانہ پاتے ہیں مثلا حادثہ کر بلا کیوں زندہ ہے؟

کیوں ایک ہزار سال بعد بھی نہج البلاغہ اب تک اپنے اثر میں درخشندہ ہے؟

اتنے زمانی اور مکانی فاصلوں کے بعد بھی کیوں ہمارے دلوں میں نہج البلاغہ کے مطالعہ اور افہام کے لئے ایک نرم گوشہ ہے؟

اس کا صرف ایک ہی جواب ہے وہ یہ کہ نہج البلاغہ میں روحانیت ہے، جامعیت ہے اور ابدیت ہے۔ ( ۱۲)

تتمہ کلام میں عرض ہے کہ مولائے کائنات کی عظیم کتاب آج تک ہمارے ہاتھوں کی زینت نہ بن سکی ، ہم ان کے پیغام سے ابھی نا آشنا ہیں ۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ کلام علی کو ہمارے محراب و منبر سے اس طرح پیش کیا جائے جس کا وہ مستحق ہے۔

هم سب خوش قسمت ہیں کہ ہم ایک صدی بلکہ ایک ہزاروی کی تبدیلی دیکھ رہے ہیں لیکن گزشتہ صدی کے هولناک واقعات کے تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے ماہ و سال مسلم امہ کے لئے بہت چیلنج رکھتے ہیں۔

گلوبلائزیشن کی وجہ سے دنیا سمٹ گئی ہے تمدنوں کے ٹکراؤ میں ہمارے تہذیبی ، تمدنی اور مذہبی اقدار راست زد پر هوں گی ایسی صورت میں ہمیں قر آن کے ساتھ ساتھ نهج البلاغہ سے ہدایت لینی چاہئے۔

یهی آنحضرت کا آخری پیغام ہے۔

۱۵

ہمیں امید ہے کہ :

ہمارے علماء، خطیب ذاکرین محراب و منبر اور دانشور سے کلام علی کو پھیلانے کا ایک نیا دور شروع کریں گے نوجوانوں کی نظریں ان پر ہیں۔

آخر میں ایک دعا پر اس مقالہ کو ختم کرتا ہوں جوسید رضی نے مقدمہ نہج البلاغہ میں لکھی ہے۔

میں اللہ سے توفیق مانگتا ہوں اور بے راہ روی سے بچاؤکا طالب ہوں ۔

عمل کی درستگی اور اعانت کا خواستگار ہوں ۔

لغزش زبان سے پہلے لغزش دل و دماغ سے پناہ مانگتا ہوں

وہی میرے لئے کافی اور کارساز ہے۔ آمین

۱۶

حوالہ جات

۱. علی شریعتی علی اور تنہائی کتاب مرکز کراچی۔

۲. سید ضمیر اختر نقوی علی اور علم مرکز علوم اسلامیہ کراچی

۳. سید رضی نہج البلاغہ ترجمہ نهج البلانه مفتی جعفر حسین مترجم ادارہ علمیہ پاکستان ۱۳۷۵

۴. عبید اللہ امرتسری ارحج المطالب" یعنی سیرت امیر المومنین حق برادر ز لاہور ۱۹۹۴ ء

۵. سردار نقوی مترجم نہج البلانہ کے بارے میں جدید تحقیقات، (عبد الکریم گلشنی) بنیاد علم و آگاہی لاہور۔

۶. سید محمد عسکری جعفری، مترم نهج البلاغه ( امام علی) انگریزی خراسان اسلامک سینٹر کراچی ۱۹۷۷ء ( طبع مکرر)

۷. علامہ رشید ترابی مترجم Dos & Donts for Successful administrators انگریزی ( مالک اشتر کے نام علی کا خط ) سکس بکس کراچی ۱۹۶۸ ء

۸. سید العلماء سید علی نقی (مقدمہ) ترجمه نہج البلاغہ مفتی جعفر حسین مترجم ادارہ علمیہ پاکستان ۱۳۷۵ ھ

۹. سید غلام حسین رضا آقا مولف و مترجم نهج الاسرار"، مطبع کاظمی حیدر آباد کن ۱۴۰۲ ھ

۱۰. عمران لیاقت حسین ، مترجم انوارالعقل یعنی دیوان حضرت علی مکتبہ حامد یہ کراچی ۱۹۹۶ ء

۱۱. بنیاد نہج البلاغہ" نہج البلانه و گرد آورنده آن فارسی تهران ۱۴۰۵ ھ

۱۲. ناصر مکارم شیرازی

" سه و پژگی درنهج البلاغہ جامعیت ، عینیت، ابدیت " بنیاد نہج البلاغه" کنگره بین الملل نہج البلانه (فاری تهران ۱۴۰۰ھ)

۱۷