فہرستِ مطالب
مقدمہ ۱۰
امام مہدیؑ کا مختصر تعارف ۱۲
ولادت کیسے ہوئی؟ ۱۲
دعائے تعجیل ظہور امام مہدی(عج)کے فوائد ۱۴
وظائف منتظران ۱۶
معصومین کے اسماء او ر القاب تشریفاتی اورتعارفی نہیں ہیں ۱۸
لقب اور کنیت میں فرق ۱۹
کنیت ۱۹
لقب ۱۹
امام عصر علیہ السلام کے لقب مہدی کیوں ہیں؟ ۲۰
لوگ امام مہدی علیہ السلام کے مقابل ہوگا یا ساتھ ہونگے؟ ۲۲
بَقِيَّتُ اللهِ خَيْرٌ لَّکُمْ سے مراد کون ہے؟ ۲۳
آلودگیوں کی وجہ سے دعا کا مستجاب نہ ہونا ۲۳
دنیا کی آخرین حکومت ۲۵
امام مہدی(عج) کےکنیت اور القاب ۲۷
قائم: ۲۷
منتقم: ۲۷
منتظر: ۲۷
امام غائب: ۲۸
صاحب الامر: ۲۸
صفات و خصوصیات: ۲۸
مرحوم شیخ عباس قمی رحمۃاللہ علیہ کتاب” منتہی الآمال“ میں آپؑ کے جمال کے بارے میں اس طرح لکھتے ہیں : جیسا کہ روایت میں آیا ہے ” آپؑ لوگوں میں سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت و سیرت ، خلق و خُلق اور کردار و گفتار میں شبیہ ترین شخصیت ہیں آنحضرت کی تمام صفات و خصوصیات امام زمان علیہ السلا م میں جمع ہیں “۔ ۲۸
مہدی(عج)فرزند فاطمہ سلام اللہ علیہا ہيں ۲۹
حضرت امام مہدی (عج) حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑکی نگاہ میں ۳۲
حضرت امام مہدی (عج) حضرت امام سجاد ؑکی نظر میں ۳۲
حضرت امام مہدی(عج) امام محمد باقر ؑکی نظر میں ۳۳
حضرت امام مہدی(عج) امام موسیٰ کاظم ؑکی نظر میں ۳۳
حضرت امام مہدی(عج)امام رضا ؑکی نظرمیں ۳۳
حضرت امام مہدی (عج) امام حسن عسکری ؑکی نظر میں ۳۴
حضرت امام مہدی(عج) شیعوں کی نظر میں ۳۴
حضرت امام مہدی(عج) اہل سنّت کی نظر میں ۳۵
علاّمہ خیرالدین آلوسی ۳۶
حضرت حذیفہؓ ۳۶
حضرت امام مہدی(عج)کے بارے میں اہل سنّت کی لکھی ہوئی کتابیں ۳۷
امام زمان(عج) کی ابتدائی دنوں کے مشکلات ۳۷
غیبت کا آغاز ، غیبت صغریٰ ، غیبت کبریٰ ۳۹
الف۔ غیبت کا آغاز ۳۹
ب۔ غیبت صغریٰ و غیبت کبریٰ ۳۹
غیبت صغریٰ ۳۹
نوّاب امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا تعارف ۴۳
١۔ عثمان بن سعید عَمری ۴۳
٢۔ محمد بن عثمان ۴۳
٣۔ حسین بن روح نوبختی ۴۳
٤۔ علی بن محمد سمری ۴۳
غیبت کبریٰ کے ظاہری اسباب ۴۴
حضرت امام زمان علیہ السلام کے طول عمر ۴۶
حضرت امام مہدی(عج)کے بارے میں ذکر شدہ احادیث کی تعداد ۴۹
حضرت امام زمان علیہ السلام سے ملاقات کا ذکر ۴۹
امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ظہور ۵۰
حضرت امام مہدی(عج)کے ظہور کی جگہ ۵۱
ظہور امام مہدی(عج)کی حتمی علامات ۵۲
١۔ خروج سفیانی ۵۲
۲ ۔ لشکر سفیانی کا سرزمین بیداء میں دھنس جانا ۵۳
٣۔ صیحہ آسمانی ۵۳
٤۔ نفس ذکیہ ۵۴
۵. خروج یمانی ۵۴
خروج سید حسنی ۵۵
حضرت امام مہدی(عج)کے ظہور کی غیر حتمی علامتیں ۵۷
حضرت امام رضا ؑکے کلام میں علائم ظہور ۵۷
حضرت ولی اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کے وفادار ۵۸
حضرت امام مہدی(عج)کے پیاروں اور یاروں کو خوش خبری ۵۸
غیبت کے زمانے میں منتظرین امام ؑکی ذمہ داریاں ۵۸
حجت خدا اور امام مہدی(عج)کی معرفت ۵۹
تزکیہ نفس اور اخلاقی تربیت ۵۹
امام ؑسے قلبی محبت رکھنا ۶۰
ظہور پُرنور حضرت حجت ؑکے لئے تیاری ۶۲
حضرت امام مہدی(عج)کے انتظار کی جزاء ۶۲
حضرت امام مہدی(عج)کے ظہور کی تعجیل کے لئے دعا ۶۳
دعا کے لئے مناسب مقامات: ۶۳
حضرت امام مہدی(عج)کیسے قیام فرمائیں گے؟ ۶۳
سب سے پہلے حضرت ؑ کے ہاتھ بیعت کرنے والے ۶۴
حضرت ؑکے پروگرام تلوار کے سایہ میں : ۶۴
مساوات و برابری ۶۵
مستضعفین کی حکومت ۶۶
انسانوں کی ذہنی اور فکری تربیت ۶۶
بیس احادیث امام زمان(عج)کے بارے میں ۶۶
حدیث نمبر ١: ۶۶
حدیث نمبر ٢: ۶۷
حدیث نمبر ٣: ۶۷
حدیث نمبر ٤: ۶۸
حدیث نمبر ٥: ۶۹
حدیث نمبر ٦: ۶۹
حدیث نمبر ٧: ۷۰
حدیث نمبر ٩: ۷۱
حدیث نمبر ١٠: ۷۲
حدیث نمبر ١١: ۷۲
حدیث نمبر ١٢: ۷۳
حدیث نمبر ١٣: ۷۳
حدیث نمبر١٤: ۷۵
حدیث نمبر١٥: ۷۵
حدیث نمبر١٦: ۷۵
حدیث نمبر١٧: ۷۶
حدیث نمبر١٨: ۷۶
حدیث نمبر١٩: ۷۶
حدیث نمبر٢٠: ۷۷
امام مہدی(عج)کے بارے میں کچھ اشعار ۷۸
خورشیدو زہرہ ۷۸
آثار انقلاب ۷۸
چراغ الفت ۸۰
نور فروزان ۸۱
مہدیؑ کا انقلاب ۸۲
میرا امامؑ ۸۳
کون و مکاں ۸۴
میر کارواں ۸۶
اے گل نرجس ۸۷
فہرست منابع مآخذ ۸۸
مقدمہ
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبین نیاز میں (علامہ اقبال)
خداوند عالم کی بارگاہ اقدس میں نہایت عجزو انکساری کے ساتھ عرض گزار ہیں کہ اس عطا کردہ توفیقات سے بقیۃاللّہی اور خیر خدائی حضرت امام زمانہ ؑکی صادقانہ خدمت کا یہ قدم ِخیر آنحضرت کے محضر مبارک میں خیر من الف خیر قرار دے اور اپنے اس منصور کی نصرت میں ناصر و مددگار رہے۔ اپنی مزجاة بضاعت اور ناچیز توان و طاقت کے مطابق ہمارا یہ اقدام اس نظریہ کے تحت ہے کہ اس طرح سے اپنے زمانے کے امام ؑکی مؤدت کا کچھ حق ادا ہو جائے ،اگر چہ جس قدر بھی اس سلسلے میں ہم سعی و کوشش کریں پھر بھی نہایۃ اس نتیجہ پر پہنچیں گے (حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا)بہر حال سعی مقدور کے مطابق بقول شاعر:
آب دریا را اگر نتو ان کشید ہم بقدر تشنگی با ید چشید
اور جہاں تک قبولیت کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ دروازہ کرم پر معیار قبولیت کمیت نہیں بلکہ نیت اور کیفیت ہواکرتی ہے لہذا اگر جوہر اخلاص عطا ہو جائے تو عمل کی قلت قبولیت سے محرومیت کا باعث نہیں ہو سکتی اور ان کی جود و سخا اور بخشش انسان کے لئے حوصلہ افزاہوتی ہے.
(باکریمان کارہا د شوار نیست)
اس خدمت کے پیش نظر یہ حدیث قابل ذکر ہے کہ معصوم علیہم السلام فرماتے ہیں :
( من مات ولم يعرف امام زمانه مات ميتة الجاهلية ) ( بحار الانوار ج ٢٣ ، ص٢٦-٩٥ )
”یعنی جو بھی اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مر جائے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے“۔
لہذا اہل علم حضرات پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ:
اولاً :وہ خود اس عظیم معرفت کے حصول کے لئے جدو جہد و توان بذل کریں
ثانیاً: اس نور معرفت کو پھیلا کر انسانیت کی خدمت کریں ، در حقیقت یہ معرفت ایسا انمول خزانہ ہے جو توحید و
وحدانیت کی صحیح معرفت کی اساس ہے۔
( اَلّلهُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکْ فاِ نّکَ اِن لَمْ تُعَرِّفْنِیْ نَفْسَکَ لَمْ اَعْرِفْ رَسُوْلَکْ؛ الّلهُمَّ عَرِّفْنِیْ رَسُولَکَ فَاِنَّکَ اِن لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَکْ؛ الّلهُمَّ عَرِّْفِنی حُجَّتَکْ فَاِنَّکَ اِن لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکْ ضَلَلْتُ عَنْ دِينِی ) (ب حار الانوار؛ج، ٥٣، ص ١٨٧)
امام عصر ؑپر عقیدہ رکھنا صرف شیعوں تک محدود نہیں بلکہ اہل تسنّن کی اکثریت بھی اسی عقیدے کے قائل ہیں اس کی واضح دلیل بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو حضرت امام عصر ؑکے بارے میں اہل سنت علماء اور دانشوروں نے لکھی ہیں ، لہذا ہم آج کے سیاسی نظریات سے بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت امام زمان(عج)کی شخصیت جو کہ شیعہ و اہل سنت کے درمیان ایک مشترک عقیدہ ہے اس کو مزید تقویت دیں ، یہ کتابچہ بھی، عدل کل، مصلح جہاں حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بارے میں مخصوص منابع اہل تشیّع اور منابع اہل تسنّن پرمبنی ہے، کیونکہ آج اسلام دشمن طاقتوں نے اسلام اور امام زمان(عج)کی شخصیت کو اپنے باطل اہداف کا نشانہ بنایا رکھاہے اور نظریہ امام زمان(عج)کو خراب کرنے کے لئے بے بنیاد پروپیگنڈوں کی بوچھاڑ کر رکھی ہے، عقیدہ مہدویت سے خائف ہو کر مسلمانوں اور مومنین کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے باطل طاقتوں کے درہم و دینار اور ڈالر حرکت میں آئے ہوئے ہیں اس حوالے سے ہالی وُڈ کی وہ فلمیں جو امام زمان(عج)کے خلاف بنائی گئی ہیں اس سازش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آج امریکہ اور اسرائیل خط مقدم پر اس نظریہ کے خلاف تیزی کے ساتھ مخفیانہ اور اعلانا کام کررہے ہیں ایسی صورت میں ہر سچے مسلمان اور مؤمن کا فریضہ ہے کہ اپنی توان کے مطابق اس عقیدہ اور نظریہ کی حفاظت اور دفاع کے لئے کام کرے اسی ضرورت کو مدّنظر رکھتے ہوئے اس کتابچہ کو ضبط تحریر میں لایا گیا ہے تاکہ ہماری نئی نسلیں دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رہیں اور امام زمانہ کی معرفت حاصل کریں ۔
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
(لطف عالی متعالی)
محمد حسین بہشتیؔ
مشہد مقدّس ایران