حضرت امام مہدی(عج)کے ظہور کی تعجیل کے لئے دعا
حضرت امام زمان(عج)کے ظہور کی دعا اور ان کی زیارت کرنا شیعوں کابہترین عمل سمجھا جاتا ہے اتنے بڑے پیمانے پر دعا و زیارت کی تاکید یقیناً خدا کی آخری حجت امام زمان(عج)کے ظہور انور میں خاص اہمیت کی حامل ہے اور ایک ایسی حکومت کی امید دلاتی ہے جو مکمل طور پر عدل وانصاف پر مبنی ہے۔ جس میں ظلم و ستم نابود ہو جائے گا۔ اس حوالہ سے بہت سی دعائیں نقل ہوئی ہیں جن میں سے چند ایک کا نام یہ ہیں :
دعائے ندبہ ، دعائے عہد ، دعائے سلامتی امام زمان ، زیارت آل یٰسین ، نماز صبح کے بعد حضرت کے لئے زیارت روز جمعہ حضرت امام زمان(عج)کی زیار ت اور دعا ، دعائے نیمہ شعبان ۔
دعا کے لئے مناسب مقامات:
مسجد کوفہ ،مسجدسہلہ، حرم حضرت امام حسین ؑ، مسجد حرام ، میدان عرفات، سرداب حضرت امام زمان(عج)، حرم ائمہ معصومین علیہم السلام ...۔
حضرت امام مہدی(عج)کیسے قیام فرمائیں گے؟
مفضّل نے حضرت امام صادق ؑسے پوچھا ! اے میرے آقا !
حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کہاں اور کیسے ظہور فرمائیں گے؟
حضرت امام صادق ؑنے فرمایا: اے مفضّل ! وہ تنہا ظہور کریں گے اور تنہا خانہ کعبہ کے پاس بیٹھیں گے اور تنہا رات وہاں گزاریں گے۔ جب سب لوگ سو جائیں گے ،صبح کے وقت جبرئیل ، میکائل اور فرشتوں کے گروہ آپ ؑکی خدمت میں حاضر ہوں گے، جبرئیل کہیں گے اے میرے سید و سرور! آپؑ کی بات قبول ہے آپؑ کا امر و حکم جائز ہے اس وقت آپؑ دست مبارک کو اپنے چہرہ انور پر پھیر یں گے اور فرمائیں گے: ساری تعریف اور حمد پروردگار علام کے لئے سزاوار ہے کہ جس نے اپنے وعدہ کو پورا فرمایا اور ہمیں روئے زمین کا وارث بنایا اور خدا وند عالم بہترین جزا دینے والا ہے ۔ (سورہ زمر؛ آیت۷۴)
اے گروہ نقباو خاصان ! خدا نے لوگوں کو میرے لئے ظہور سے پہلے ذخیرہ فرمایا ہے ابھی میں تم لوگوں کو حکم کرتا ہوں کہ میرے حکم کی تعمیل کرو اور اس صیحہ آسمانی کو سن لو جو پورے شرق و غرب عالم سے لوگ کہاں (کنار کعبہ) جمع ہو جائیں گے اور پلک جھپکنے کے اندر رکن و مقام کے درمیان جمع ہو جائیں گے ۔ (بحارلانوار؛ ج ۵۳ ، ص ۷)
سب سے پہلے حضرت ؑ کے ہاتھ بیعت کرنے والے
فِي كِتَابِ كَمَالِ اَلدِّينِ وَ تَمَامِ اَلنِّعْمَةِ بِإِسْنَادِهِ إِلَى أَبَانِ بْنِ تَغْلِبَ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : أَوَّلُ مَنْ يُبَايِعُ اَلْقَائِمَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ جَبْرَئِيلُ ، يَنْزِلُ فِي صُورَةِ طَيْرٍ أَبْيَضَ فَيُبَايِعُهُ ثُمَّ يَضَعُ رِجْلاً عَلَى بَيْتِ اَللَّهِ اَلْحَرَامِ وَ رِجْلاً عَلَى بَيْتِ اَلْمَقْدِسِ ، ثُمَّ يُنَادِي بِصَوْتٍ ذَلِقٍ تَسْمَعُهُ اَلْخَلاَئِقُ: ( أَتىٰ أَمْرُ اَللّٰهِ فَلاٰ تَسْتَعْجِلُوهُ ) (سورہ النحل آیت ۱)
”امر الٰہی آگیا ہے لہذا اب بلاوجہ جلدی نہ مچاؤ“
حضرت امام صادق ؑنے فرمایا: حضرت قائم ؑکے مبارک ہاتھوں میں سب سے پہلے جو بیعت کرے گا وہ حضرت جبرئیل ؑہو گا۔ جو سفید مرغ کی شکل میں نازل ہو جائیں گے اور حضرت قائم ؑکے مبارک ہاتھوں میں بیعت کریں گے اس وقت آپؑ اپنے قدم مبارک کو کعبہ میں رکھیں گے اور دوسرے قدم کو بیت المقدس میں رکھیں گے اور بلند آواز میں فرمائیں گے۔
(أَتىٰ أَمْرُ اَللّٰهِ فَلاٰ تَسْتَعْجِلُوهُ) (سورہ النحل آیت ۱) یہ آواز پوری دنیا کو سنائی جائے گی۔
حضرت ؑکے پروگرام تلوار کے سایہ میں :
حضرت امام باقر ؑفرماتے ہیں : قائم آل محمد علیہم السلام پانچ پیغمبروں سے شباہت رکھتے ہیں ، سب سے پہلی شباہت اپنے جد گرامی حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تلوار کے حوالہ سے قیام فرمائیں گے تاکہ خدا کے دشمن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن ، ظالم ، جبار اور سرکش افراد کو قتل کریں ۔ (کمال الدین ، ج ۷، ص ۴۲۷)
حضرت امام زمان(عج)کے حتمی کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ تمام ظالموں اور جابروں سے جنگ کریں گے۔ تاریخ بشریت کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو تی ہے جب تک خون ریزی اور فساد کے تمام اسباب کو راستے سے نہ ہٹائے جائیں اس وقت تک ترقی کرنا ممکن نہیں ہے اخلاقی تعلیم اور اصولوں کی تربیت اگرچہ اچھے نتیجہ کے حامل ہے لیکن ہم اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں اچھے افرادکی موجودگی کے باوجود جب طاقت کے زور پر ، دنیاپرست اور ظالم جب ان کے سیاسی و اقتصادی ، نظامی معاشرہ میں خطرہ میں پڑجائیں تو اس وقت ان صالح افراد کی نصیحت اور وعظ سے ان کے اوپر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے لہذا ان کوراستے سے ہٹانے کے لئے دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑے گا تا کہ معاشرہ امن و سلامتی اور آزاد طریقے سے ترقی ہو سکے۔اسی دلیل کے بناء پر مسئلہ جنگ کو بہ عنوان ایک ہدف اور ضرورت کے طور پر استعمال کریں گے۔تاکہ ظلم و ظالم ، جابر ، دہشت گرد ، استکبار اور طاغوت کو اپنی جگہ بٹھائیں اور معاشرہ کے اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، امنیت ، صلح و صفائی اپنی جگہ برقرار رہیں اور معاشرہ کے لئے آزاد انہ طور طریقوں سے معاشرہ کی خدمت کرنے والے اور امن و سلامتی کے حوالہ سے اپنی سعی و کوشش کو جاری و ساری رکھ سکیں ۔
تاریخ انبیاء علیہم السلام کو بھی ہم دیکھتے ہیں جنگ و جدل سے پُرہے ظالم اور ستمگروں اور طاغوت زمان فرعون ، نمرود ، ہامان ، وغیرہ سے جنگ ہوتی رہی اسی لئے علامہ اقبال ؒ کہتے ہیں :
موسیٰ ؑ و فرعون و شبیر ؑ و یذید + این دو قوت از حیات آمد پدید
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلی وسلم مرکز رحمت اور معلم اخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ کفر و طاغوت سے ۸۳جنگیں لڑیں ،حضرت علی ؑ، حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑاور حضرت ابا عبد اللہ الحسین ؑنے بھی ظلم و ستم کے خلاف خدا کی راہ میں اور معاشرہ کو ظلم و بربریت سے نجات دلانے کے لئے ظالم اور طاغوتیوں سے جنگ کیں ۔
حضرت امام مہدی(عج)بھی اسی طرح انبیاء علیم السلام کی سیرت و صورت کو جاری و ساری رکھنے کے لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی راہ و روش کو قائم و دائم اور معاشرہ میں نافذ کرنے کے لئے عالمی استکبار اور ظلم و ستم کرنے والے ظالموں اور دہشت گردوں کو نابود کرنے کےلئے جنگ فرمائیں گے۔
مساوات و برابری
حضرت امام باقر ؑفرماتے ہیں : حضرت امام زمان(عج)مال کو برابر تقسیم کریں گے ، نیک اور برے لوگوں کے درمیان عدالت سے پیش آئیں گے، حضرت امام زمان(عج)کے پروگراموں میں سے ایک پروگرام مساوات کا اجراء ہے اسلام دین مساوات و برابری کا نام ہے حضرت امام مہدی(عج)روئے زمین پر عدل و مساوات اس طرح اجراء فرمائیں گے کہ انسان تو انسان، چرند، پرند ، حیوانات ، نباتات اور دنیا کے تمام ذی روح امام مہدی(عج)کے مساوات سے فائدہ اٹھائیں گے ایسا فائدہ جس کا تصور تک انسان نہیں کرسکتا ہے قانون سب کےلئے یکساں ہو گا فقیر ہو یا امیر ، طاقتور ہو یا کمزور اسی طرح سیاہ ہو یا سفید، ملازم ہو یا آفسیر ، نوکر ہو یا آقا سب ایک ہی زمرے میں آئیں گے۔
ایک اہم بات بیت المال کی تقسیم ہے ۔بیت المال میں قومی صنعت و تجارت ، قومی معدنیات وغیرہ ہیں غرض ہر وہ مال جو قومی سطح پر حکومتوں کے پاس موجود ہے یہ سب لوگوں کے درمیان تقسیم کئے جائیں گے حضرت امام مہدی(عج)کی حکومت کوئی امتیازی عہدہ نہیں ہو گا مثلاً یہ صدر ،وہ وزیر اعظم ، یہ وزیر خارجہ ،وہ وزیر داخلہ وغیرہ بلکہ بڑے بڑے وزیر و وزراء عام لوگوں کی سطح سے نیچے زندگی کریں گے اور لوگوں کے خدمت گزار ہو ں گے۔ وزیر و وزراء عقل اور ایمان کی بنیاد پر ہوں گے جس کا ایمان اور عقل سب سے کامل تر ہو۔ امام مہدی(عج)کے ظہور کے بعد کوئی جنگ و جدل ، اختلافات ، فساد اور چور ی نہیں ہوگی۔ سارے انسان بھائیوں کی طرح رہیں گے ایک دوسرے کی محبت اور مدد کرنے کی فکر میں رہیں گے طاقت ور ، کمزوروں کی مدد کریں گے اور ان کی مشکلات کو حل کریں گے ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کریں گے اس عرصے میں تمام انسان ایک ہی گھر کے افراد کی طرح رہیں گے ۔لوگوں کے رابطے اور تعلقات، محبت اور دوستی کی بنیاد پر ہوں گے۔ یہ بات معاشرہ اور انسانی سماج کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہوں گی۔ لوگوں کے چہروں سے دوستی ، محبت اور اخلاص نظر آئیں گے اور یہ سب کچھ حکومت امام مہدی(عج)کے ذریعے انجام پائیں گے۔
مستضعفین کی حکومت
حضرت امیر المؤمنین علی بن طالب ؑفرماتے ہیں :
یہ روئے زمین پر مستضعفین کی میراث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان میں سے ہیں کہ خداوندعالم سختیوں اور مشکلات کے بعد مہدی(عج)کو ظہور فرمائیں گے اور ان کمزوروں کو عزت بخشیں گے اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و خوار فرمائیں گے۔ زمین پر مستضعفین اور محروموں کی حکومت قا ئم کریں گے۔ آپؑ کے ظہور پُر نور کے بعد ظالموں اور ستمگروں کو ٹھکانے لگانے کے بعد جو کمزوروں کے راہ میں ہمیشہ روڑے اٹکاتے رہتے تھے تمام حکومتی ذمہ داریاں اور عہدوں کو ان کمزوروں اور مستضعفین کو دیئے جائیں گے گویا کہ غریب اور فقیر لوگ اس معاشرہ پر حکومت کریں گے دیگر ظالم و ستمگر نامی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ یہ وہ اعلیٰ اہداف تھے جن کے لئے تمام انبیاء علیہم السلام اور مرسلین نے سختیاں برداشت کیں ، صبرو تحمل سے کام لیا ، سارے ائمہ معصومین علیہم السلام اسی مقصد کے لئے جد وجہد کرتے رہے یہاں تک وہ اس مقدس راہ میں شہید ہو گئے۔
انسانوں کی ذہنی اور فکری تربیت
حضرت امام باقر ؑفرماتے ہیں :
جب قائم ؑ قیام فرمائیں گے اس وقت خدا وند عالم لوگوں کی فکری قوت کو بڑھائیں گے اور ان کے اخلاق کو کامل کریں گے، حضرت امام زمان(عج)کے پروگراموں میں ایک پروگرام انسانی فکر کی تربیت کرنا ہے تاکہ ان کی رشد فکری و عقلی کامل ہو جائیں ۔ صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے اچھے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے لہذا تمام اچھے اقتصادی ، سیاسی، جنگ ، صلح ، نظم ، بد نظمی ، نیکی و بدی وغیرہ سب انسانوں سے مربوط ہیں لہذا حضرت امام زمان(عج)معاشرے کا سارا نظام اچھے اور نیک بندوں کے سپرد کریں گے۔
بیس احادیث امام زمان(عج)کے بارے میں
مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ بیس احادیث کو بھی جو امام زمان(عج)سے متعلق ہیں یہاں پر نقل کرتا ہوں تاکہ مؤمنین زیادہ سے
زیادہ آگاہی اور نفع حاصل کرسکے ۔ کتاب کے آخر میں تنوع کے طور پر کچھ اشعار آقا ومولا حضرت حجۃابن الحسن روحی وارواح العالمین لہ الفداء کے بارے میں درج کیا ہے خداوند منان اس سعی قلیل کو قبول ومقبول فرمائے۔
حدیث نمبر ١:
عَنْ سُلَيْمَانَ اَلْجَعْفَرِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا اَلْحَسَنِ اَلرِّضَا عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قُلْتُ تَخْلُو اَلْأَرْضُ مِنْ حُجَّةِ اَللَّهِ قَالَ لَوْ خَلَتِ اَلْأَرْضُ طَرْفَةَ عَيْنٍ مِنْ حُجَّةٍ لَسَاخَتْ بِأَهْلِهَا ۔ ( کمال الدین صدوق، ص ٢٠٤)
سلیمان جعفری کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوالحسن الرضا ؑکی خدمت میں عرض کیا:
کیا زمین حجت خدا سے خالی ہو سکتی ہے؟
آپ ؑ نے فرمایا: اگر زمین پلک جھپکنے کی مدت تک کے لئے بھی حجت خدا سے خالی ہو جائے تو وہ اپنے مکینوں کو نگل جائے گی۔
٭ کسی قسم کے شک و شبہ کے بغیر اس زمانہ میں زمین پر اللہ کی حجت ،حضرت ابا صالح المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف، بارہویں امام، قائم آل محمدؐ ہیں ۔ حضرت امام ہشتم ؑکے فرمان کے مطابق زمین پر زندگی بسر کرنے والی تمام مخلوق خدا(انسان ہو حیوانات، نباتات ہوں یا جمادات ) حجت خدا کے وجود مبارک کی برکت سے زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ انہیں کے طفیل میں خداوند عالم ہم کو روزی دیتا ہے اور ہم لوگ اس کے مقدس سایہ میں اللہ کے لطف و کرم سے بہرہ مند ہو رہے ہیں ۔
حدیث نمبر ٢:
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ اَلرِّضَا عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَقُولُ: إِنَّ اَلْأَرْضَ لاَ تَخْلُو مِنْ أَنْ يَكُونَ فِيهَا إِمَامٌ مِنَّا ۔ (کمال الدین صدوق:ص ٢٢٨)
صفوان بن یحیٰ کہتے ہیں : میں نے حضرت امام رضا ؑسے سنا کہ آپ ؑ نے فرمایا:
زمین ہمارے خاندان کے امام کے وجود سے خالی نہیں رہ سکتی۔
٭ امامؑ کے وجود مبارک سے زمین کاخالی نہ رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات میں حجت خدا کا وجود کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔
٭ خداوند عزوجل کبھی بھی اپنے بندوں کو امام کے بغیر نہیں چھوڑتا اور یہ سنت کبھی بھی بدل نہیں سکتی ۔
حدیث نمبر ٣:
عَنِ اَلْفُضَيْلِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ: مَنْ مَاتَ وَ لَيْسَ لَهُ إِمَامٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَ لاَ يُعْذَرُ اَلنَّاسُ حَتَّى يَعْرِفُوا إِمَامَهُمْ. (کمال الدین صدوق:ص٤١٢)
فضیل بن یسار کہتے ہیں : ابو جعفر حضرت امام باقر ؑفرماتے ہیں : امام معصومؑ جسے خداوند عالم نے لوگوں کی ہدایت کے لئے خلق فرمایا ہے جو بھی ان کی پیروی اور اطاعت کے بغیر مرجائے تو وہ جاہلیت اور مشرک کی موت مرتا ہے ۔ اس سلسلے میں لوگوں کا کوئی بھی عذر اور بہانہ امام ؑ کو درک نہ کرنے کے حوالے سے کبھی بھی قابل قبول نہیں ہے۔
موحد اور یکتا پرست وہ شخص ہے جس کے تمام اعمال اور کردار خالق زمین و آسمان کے حکم کے مطابق ہوں ۔ خداوند عالم کے فرامین، پیغمبران الٰہی اور امام معصومؑ کے علاوہ کوئی اور لوگوں کو ابلاغ نہیں کرتا ہے۔
٭ ہواوہوس کی پیروی اور غیر حجت خدا کی اطاعت شرک اور بت پرستی ہے۔
٭ حضرت آدم ؑسے لے کر خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام انبیاء ؑ خدا کی طرف سے بار نبوت کے حامل تھے۔ رسالت و نبوت کی سنگین ذمہ دا ریاں رکھتے تھے تا کہ خدا کی امانت و رسالت کو لوگوں تک پہنچانے میں کوئی غلطی نہ ہونے پائے۔ اور امامؑ کی معرفت اور پہچان میں ان کا نام،لقب اور مدت عمر تک بیان فرمائی۔
٭ حضرت بقیہ اللہ الاعظم ، حجت ابن الحسن العسکری ؑکو تمام پیغمبروں اور اماموں نے ان کی تمام خصوصیات کے ساتھ لوگوں کو متعارف کرایا۔
٭ مذکورہ حدیث کے معنیٰ و مفہوم سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ امام زمان(عج)کی پہچان اور معرفت سب پر واجب ہے کیونکہ مسلمانوں کی عبادت ولایت کو قبول کئے بغیر بارگاہ خداوندی میں قبول نہیں ۔
حدیث نمبر ٤:
عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: قُلْتُ لَهُ تَكُونُ اَلْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ وَ حُجَّةٍ:
قَالَ: لاَ
قُلْتُ: فَيَكُونُ إِمَامَانِ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ ؟
قَالَ: لاَ إِلاَّ وَ أَحَدُهُمَا صَامِتٌ لاَ يَتَكَلَّمُ
قُلْتُ: فَالْإِمَامُ يَعْرِفُ اَلْإِمَامَ اَلَّذِي بَعْدَهُ
قَالَ: نَعَمْ
قُلْتُ : اَلْقَائِمُ إِمَامٌ قَالَ إِمَامٌ اِبْنُ إِمَامٍ قَدِ اِئْتَمَّ بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ
( کمال الدین صدوق:ص ٢٢٣)
حسین بن ابی العلا ء کہتے ہیں : میں نے حضرت امام جعفر صادق ؑکی خدمت میں عرض کیا :
کیا زمین بغیر امام کے رہ سکتی ہے؟
آپؑ نے فرمایا: نہیں !
عرض کیا ؟ کیا ایک وقت میں دو امام ہو سکتے ہیں ؟
آپؑ نے فرمایا: نہیں ! مگر یہ کہ ان دو میں سے ایک خاموش رہے۔
عرض کیا ؟ کیا امام اپنے بعد والے امام کی لوگوں کے سامنے معرفی کرتا ہے ؟
آپؑ نے فرمایا: جی ہاں !
عرض کیا گیا؟ کیا قائم آل محمد(عج) امام ہیں ؟
آپؑ نے فرمایا: جی ہاں ! امام ہیں اور امام کے بیٹے ہیں ۔
٭ ہر زمانے میں کسی ایک معصوم کی زندگی میں معمولاً دوسرے معصوم بھی زندگی کرتے رہے،ایک ہی وقت میں حضرت امیر المو، منین علی ؑ، امام حسن مجتبیٰ اور امام حسین علیہم السلام بھی زندگی کرتے تھے اورسب کے سب ائمہ حق تھے اور زمان پیغمبر اکرم ؐ میں موجود تھے لیکن پیغمبر اکرمؐ کی موجودگی میں یہ تینوں امام، خاموش (ساکت و صامت)رہتے تھے اس سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ یہ لوگ امام معصوم نہیں تھے، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے دو سو بیس(۲۲۰ ھجری قمری) سے آج تک قرآن ناطق حضرت حجت ابن الحسن العسکری،امام زمان(عج)امامت کے عظیم عہدے پر فائز ہیں آپؑ کے آنے سے پہلے بھی تمام پیغمبران الہٰی اور ائمہ معصومین علیہم السلام نے آپؑ کی تائید فرمائی ہے۔
حدیث نمبر ٥:
۔۔۔ فی قول الله عزّول:( اِنَّمَاۤ اَ نْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍ)فقال: الباقر(علیه السلام) إِمَامٌ هَادٍ لِکُلِّ قَوْمٍ فِی زَمَانِهِمْ ؟ (سورہ رعد آیۃ ٧) (کمال الدین صدوق ٦٦٧)
محمد ابن مسلم کہتے ہیں : حضرت امام صادق ؑکی خدمت میں عرض کیا ؟
خداوند متعال کا فرمان کہ ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے کے بارے میں آپؑ کیا فرماتے ہیں ؟
تو آپؑ نے فرمایا: ہر امام اپنے زمانے کے لوگوں کا ہادی ورہبر ہوتا ہے۔
٭ خداوند عالم جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
٭ امام زمان(عج)جو کہ خدا کے خلیفہ برحق ہیں وہ بھی اللہ کی دی ہوئی قدرت سے جس کو چاہیں ، ہدایت کرسکتے ہیں ۔
٭ حضرت امام زمان(عج)کے شیعوں اور دوستوں کو تمام امور میں آپؑ سے متوسل رہنا چاہیے، گناہوں اور خطاؤں سے دوری اور گمراہی سے نجات حاصل کرنے کے لئے حضرت امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے ہدایت اور مدد کی درخواست کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر ٦:
عن أبی ا لجا رود، عن جابر بن عبد الله الانصاری قال:
دخلت علیٰ فاطمة علیها السلام و بین یدیها لوحٌ فیه اسماءُ الأوصیاء من وُلدها ، فعددت اثنیٰ عشر ، آخرُهم القائم ثلاثة منهن محمد و ثلاثة علی (اصول کافی، ج ١ ص٢٣٥)
ابو جارود نے جابر ابن عبداللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک لوح آپؑ کی خدمت میں موجود تھی جس پر پیغمبر اکرم ؐ کے جانشینوں کے نام درج تھے میں نے انہیں گنا تو وہ بارہ ۱۲ نفر تھے ان کے آخری حضرت قائم ؑتھے ان میں سے تین کا نام محمدؑ تھے اور تین کا نام علیؑ تھا۔
٭ معصوم امام خدا کے منتخب بندے ہیں جو حضرت آدم ؑکی تخلیق سے پہلے وجود میں آئے ہیں ۔
٭ چونکہ گیارہ نفر پیغمبر اکرم ؐ کے اوصیاء حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے فرزندوں میں سے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐ کےجانشین حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے اولاد میں سے ہیں ۔
٭ جیسا کہ حدیث میں کہا گیا تین علی سے مراد ؛ امیر المو،منین علی ؑچونکہ حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی اولاد میں سے نہیں ہیں اس لئے انہیں حساب نہیں کیا ہے وگرنہ چار علی ہوتے۔
حدیث نمبر ٧:
عن مسعدة بن صدقة، عن ابی عبد الله ، عن آبائه ، عن علیّ انّه قال له علیٰ منبر الکوفة:
اللهم انّه لا بُدّ لأرضک من حجة لک علیٰ خلقک ، یهدیهم الیٰ دینک ، ویعلّمهم علمک لئلّا تبکطُل حجتُک ، ولا یضلّ أتباعُ اولیائک بعد اذ هدایتهم به ، امّا ظاهرٌ لیس بالمطاع ،أومکُتَتَمٌ مترقّبٌ ان غاب عن النّاس شخصه فی حالٍ هدایتهم، فأنَّ علمه و آدابه فی قلب المومنین مبثبتة ، فهم بها عاملون ( کمال الدین صدوق ٣٠٢)
مسعدہ بن صدقہ کہتے ہیں : حضرت امام صادق ؑاپنے اجداد طاہرین حضرت امیر المؤمنین علی ؑسے نقل فرماتے ہیں :
حضرت امیرالمؤمنین علی ؑنے مسجد کوفہ کے منبر سے ارشاد فرمایا:
پروردگارا! تیری ، زمین تیری حجّت سے خالی نہیں اور امام تیری طرف سے لوگوں کی ہدایت کرتا ہے تاکہ آپ کی دلیل اور برہان باطل نہ ہو جائے اور تیرے ولی کی اطاعت کرنے والے ایسے ہدایت یافتہ ہیں جو کبھی بھی گمراہ نہیں ہونگے۔
٭ معارف اور احکام کا علم دین خدا کے علوم میں سے ہے جو خدا کے فرستادہ بندوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
٭ خداوند عالم قیامت کے دن اپنے بندوں سے سوال نہیں کرے گا مگر یہ کہ ان تعلیمات کو حجت خدا کے ذریعے واضح اور روشن طریقے سے ان تک پہنچا یا ہو۔
٭ قرآن مجید اور تاریخ بشریت اس بات کی گواہ ہے کہ ہر زمانے میں لوگوں کی قلیل تعداد نے پیغمبروں اور اماموں کی اطاعت اور پیروی کی ہے۔
٭ حضرت امام عجل اللہ تعلیٰ فرجہہ الشریف
( اِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ اِمَّا شَاکِرًا وَ اِمَّا کَفُورًا ) (سورہ الدھر آیت ۳)
کی بنیاد پر خدا کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے مأمور ہیں اس دوران اگر کوئی ہدایت یافتہ ہو گیا تو بقول حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام” بنا اہتدیتم “ ہمارے توسط سے ہدایت یافتہ ہوا ہے، یقیناً ہادی اور رہنما
( نوراً الله الذی لا یطفؤا )
ہیں جوکہ خاتم الاوصیاء، حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف کی ذات گرامی ہے۔
حدیث نمبر ٨:
عن ابی الحسن اللّیثی قال: حدّثنی جعفر بن محمد ، عن آبائه علیهم السلام أن النّبیّ(صلی الله علیه وآله وسلّم) قال:انّ فی کلّ خلفٍ من اُمّتی عد لاً من أهل بیتی ینفی عن هذا الذین تحریف العالمین و أنتعالَ المبطلین و تأویل المجاهلین ، وانّ أئمّتکم قادتکم الی الله عزّوجلّ ، فانظروا بهنّ تقتدون فی دینکم وصلاتکم (کمال الدین صدوق٢٢١)
ابو الحسن لیثی کہتے ہیں : حضرت امام صادق ؑاپنے اجداد طاہرین ؑ سے فرداً فرداً نقل فرماتے ہیں :کہ پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا:
میری امت کے ہر آنے والی نسل میں ہم اہلبیتؑ میں سے ایک امام عادل ضرور ہو گا تحریف کرنے والوں نے اہل باطل اور غلط لوگوں سے مختلف غلط اقوال اور جھوٹی باتیں دین میں شامل کر لی ہیں ۔
٭ ادیان الہی ہمیشہ دنیا پرستوں کے ذریعے تحریف کا شکار ہو تے رہے ہیں دنیا پرست اپنے خیال خام میں دین کی ہر روز ایک نئی تعبیر و تشریح کرتے رہتے ہیں اور اسی عنوان کے تحت اپنے مقصد اور ہدف کے لئے آیات قرآن کی تفسیر کرتے ہیں (تفسیر بالرائے) بحر حال آیات الٰہی کا علم صرف اور صرف امام زمان(عج)کے پاس ہے۔
حدیث نمبر ٩:
عن غیاث بن ابراهیم ، عن الصادق جعفر بن محمد عن أبیه محمد بن علی ، عن ابیه علی بن الحسین ، عن أبیه الحسین بن علی علیهم السلام قال:
سئل امیر المؤمنین صلوٰت الله علیه ، عن معنیٰ قول رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم انّی نخلّفٌ فیکم الثّقلین کتاب الله وعترتی؛ من العترة؟
فقال: أنا والحسن والحسین والأئمّة التسعة من وُلد الحسین ، تاسعهم مهدیّهم وقائمهم ، لا یُفارقون کتاب الله ، ولا یُفارقهم حتّیٰ یردُوا علیٰ رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم حوضه (کمال الدین صدوق٢٤٠)
غیاث بن ابراہیم کہتے ہیں : حضرت امام جعفر صادق ؑاپنے آباء و اجداد طاہرین سے نقل فرماتے ہیں :
حضرت امیر المؤمنین ؑسے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان :
( انّی تارکم فیکم الثقلین ......) میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اللہ کی کتاب اورعترت” کے بارے میں پوچھا گیا،عترت کون لوگ ہیں ؟
حضرت امیر المؤمنین ؑنے فرمایا” میں ،حسنؑ ، حسین ؑ نو ٩ امام معصوم علیہم السلام جو امام حسین ؑکی نسل سے ہیں کہ ان میں نویں ان کے مہدی اور قائم ہیں یہ لوگ کتاب خداسے اور کتاب خداان سے ہرگز جدا نہیں ہونگے یہاں تک کہ پیغمبر اکرم ؐ کے پاس حوض کوثر تک پہنچ جائیں ۔
٭ حضرت امام زمان مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف پیغمبر اکرم ؐ کی باقی ماندہ عترت میں سے ہیں ۔
٭ یہ عظیم شخصیت قرآن سے ہرگز جدا نہیں ہو گی اور نہ ہی قرآن ان سے جدا ہوگا۔ وہ در حقیقت قرآن ناطق ہیں ۔
٭ خداوند منان نے ہمارے لئے جو کچھ امر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی پیروی کریں حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف کی امامت کے ساتھ ،تنہا قرآن کی پیروی کا حکم نہیں دیا۔
٭ قرآن ہرگز امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف سے جدا نہیں ہے پس وہ لوگ جو امام زمان(عج)کے بغیر قرآن کی پیروی کرتے ہیں وہ ہدایت کے راستے سے ہٹ چکے ہیں اور ایک قسم کی گمراہی میں گرفتار ہیں ۔
حدیث نمبر ١٠:
عن أبی بصیر، عن الصّادق جعفر بن محمد آبائه علیهم السلام قال: قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم: المهدیُّ من وُلدی ، اسمه اسمی ، وکنیته کنیتی ، أشبه النّاس بی خلقاً ، وخلقاً ، تکون له غیبة و حیرة حتّیٰ تضلّ الخلق عن أدیانهم ، فعن ذٰ لک یقبل کالشّهابِ الثّاقب فیملأها قسطاً وعد لاً کما ملئت ظلماً وجوراً ۔ ( کمال الدین صدوق )
ابو بصیر کہتے ہیں :حضرت امام جعفر صادق ؑنے اپنے والد گرامی سے نقل کیا ہے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:مہدی منتظر میرے فرزندوں میں سے ہیں ان کا نام میرا نام اور انکی کنیت میری کنیت ہو گی وہ خَلق وخُلق میں تمام لوگوں کی نسبت مجھ سے زیادہ مشابہ ہيں۔ اس کی غیبت اس قدر حیرت آور ہو گی کہ لوگ دین سے باہر نکل جائیں گے اس وقت مہدیؑ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ظہور فرمائیں گے ، پھر وہ زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پُر کریں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔
حدیث نمبر ١١:
عن اسحاق بن عمّار قال: قال ابو عبدالله علیهم السلام: للقائم غیبتان: احدهما قصیرة الأخریٰ طویلة:الغیبة الأولیٰ لا یعلمُ بمکانه فیها الّا خاصّة شیعته، ولأخریٰ لا یعلم بمکانه فیها الّا خاصّة موالیه ( اصول کافی ج١ ، ص ٣٤٠)
اسحاق بن عمّار نے کہا: حضرت امام جعفر صادق ؑنے فرمایا:
حضرت قائم آل محمد عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف کے لئے دو غیبتیں ہیں ١۔ غیبت صغریٰ ٢۔ غیبت کبریٰ
ایک مختصر،دوسری طولانی ۔پہلی غیبت میں ان کے خاص شیعوں کے علاوہ لوگ ان کی جگہ اور قیام گاہ کو نہیں جانتے تھے، اور دوسری غیبت میں ان کی قیام گاہ کو کوئی نہیں جانتا ہے۔
٭ خوش قسمت ہیں وہ حضرات جو حضرت قائم امام زمان(عج)کی قیام گاہ ،وحی کے نزول کی جگہ اور فرشتوں کے آمدورفت کے مقام سے آگاہ ہیں ۔
این سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائ بخشندہ
حدیث نمبر ١٢:
عن أبی هاشم داؤد بن القاسم الجعفری قال: سمعت أبا الحسن صاحب العسکری یقول:الخلف من بعدی ، أبنیّ الحسن ، فکیف لکم بالخلف من بعد الخلف؟
فقلت: ولِمَ ، جعلنی الله فداک؟
فقال: لأنّکم لا ترون شخصه ولا یحلُّ لکم ذکرُه باسمه ،
قلت: فکیف تذکره؟
قال: قولوا: الحجّة من آل محمد صلی الله علیه وآله وسلم (کمال الدین صدوق٣٨١)
داؤد بن قاسم کہتے ہیں : حضرت ابو الحسن الہادی ؑسے سنا کہ آپ ؑ نے فرمایا میرا جانشین میرے بعد میرے بیٹے حسنؑ ہیں میرے جانشین کے جانشین کے ساتھ کیا کریں گے؟
میں نے عرض کیا ! میری جان آپؑ پر قربان ہو جائے ! یہ کیسا سوال ہے؟
آپؑ نے فرمایا ! تم ان کو نہیں دیکھ سکو گے اور تمہارے لئے ان کے خاص نام لیکر یاد کرنا جائز نہیں !
عرض کی! مولا ! پھر کیسے ان کو یاد کریں ؟
آپؑ نے فرمایا: کہو ! حجّت آل محمدؐ۔
٭ ہم آج حضرت امام زمان ، حجت ابن الحسن المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھیں ، جبکہ ہم آپؑ کو نہیں دیکھتے اور ہمیں حق حاصل نہیں ہے کہ ہم انہیں ان کے مقدس نام جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمنام ہیں سےپکاریں ۔
حدیث نمبر ١٣:
عن عبد السلام بن صالح هروی قال:سمعت دعبل بن علی الخزاعی یقول: أنشدت مولای الرضا علی بن موسیٰ قصیدتی الّتی أوّلها:
مدارس آیاتٍ خلّت من تلاوة
ومنزل و حیٍ مقفر العرصات
فلمّا انتهیت الیٰ قولی !
خروج امام لا محالة خارجٌ
یقوم علی اسم الله ولبرکات
یمیّز فینا کلّ حقٍّ و باطلٌ
ویجزی علی النّعماء ولنّقمات
بکی الرّضا بُکائً شدیداً، ثمّ رفع رأسه الیّ فقال لی:
یا خزاعیُّ نطق روح القدس علیٰ لسانک بهذین البیتین ، فهل تدری من هذا الأمام ومتیٰ یقوم ؟ فقلت:لا یا مولای الّا انّی سمعت بخروجٍ امامٍ منکم یطهر الأرض من الفساد و یملأها عدلاً(کما ملئت جوراً)
فقال: یا دعبل الأمام بعدی محمدٌ ابن ، وبعد محمدٍ ابنه علیّ ٌ ، وبعد علیٌّ ابنه الحسن ، وبعدالحسن ابنه الحجة القائم المنتظر فی غیبته ، المطاع فی ظهوره ، لو لم یبق من الدّنیا الّا یومٌ واحدٌ لطوّ ل الله عزّوجل ذٰالک الیوم حتّیٰ یخرج فیملأ الأرض عدلاًکما ملئت جوراً (کمال الدین باب ٣٥ حدیث ٦)
عبد اللہ بن صالح ہروی کہتے ہیں : میں نے دعبل خزاعی سے سنا کہ انہوں نے کہا :میں نے مولا و آقا حضرت ابولحسن الرضا علیہ آلاف التحیۃ والثنا کی شان میں ایک قصیدہ کہا ہے جس کا پہلا مصرع یہ تھا:
مدارس آیاتٍ خلَت من تلاوة ومنزل و حیٍ مقفر العرصات
“ اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گھر جو محل تدریس آیات الٰہی تھا۔ ابھی تلاوت سے خالی پڑا ہوا ہے۔ جہاں پر مرکز وحی تھا ابھی وہ عبادت و ہدایت سے خالی ہے۔
جب ان دو مصرعوں پر پہنچا۔
خروج امام لا محالة خارجٌ یقوم علی اسم الله ولبرکات
یمیّز فینا کلّ حقٍّ و باطل ویجزی علی النّعماء ولنّقمات
جو کچھ میرے لئے سرمایہ امیدہے وہ اس امام کا قیام ہے جو حتماً قیام کریں گے۔ خدا کے نام کے ساتھ بہت سی خیر وبرکت لائیں گے۔ لوگوں کے درمیان سے حق کو باطل سے جدا کریں گے اورلوگوں کو نعمت و نقمت کے تحت جزا و سزا دیں گے۔
حضرت امام رضا ؑشدت سے گریہ کرنے لگے اس کے بعد آپؑ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور میری طرف دیکھ کر فرمایا:
اے دعبل خزاعی ان دو ابیات کو روح قدس نے تمہاری زبان پر جاری کیاہے۔ کیا جس امام کے بارے میں شعر کہاگیاہے اسے جانتے ہووہ کون ہیں اور کس وقت قیام فرمائیں گے؟
عرض کیا: نہیں مولا! میں نے آپ لوگوں کی زبان مبارک سے سنا ہے کہ وہ قیام کریں گے، زمین کو تباہی و بربادی سے بچائیں گے اور اسے یوں عدل وانصاف سے بھر دیں گے جس طرح سے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔
حضرت امام رضا ؑنے فرمایا:
اے دعبل! میرے بعد میرے فرزند محمد ؑ امام ہیں اور محمدؑ کے بعد ان کے فرزند علیؑ، علیؑ کے بعد ان کے فرزند حسنؑ اور حسنؑ کے بعد ان کے فرزند حجت قائمؑ ہیں کہ ان کی غیبت کے دوران لوگ ان کا انتظار کریں گے اور انکے ظہور پر ان کی اطاعت کریں گے۔
اگر دنیا کی عمر ایک دن کے برابر باقی رہے تو اس دن کو خداوند عالم اس قدر طولانی کرے گا کہ حضرت حجتؑ ظہور فرمائیں گے، زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح پُر کریں گے جس طرح سے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔
٭ قیام قائم آل محمد خداوند عالم کے حتمی وعدوں میں سے ہے اور خداوند رب العزت کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔
حدیث نمبر١٤:
عن محمد بن عثمان العمری قال:سمعته یقول:والله انّ صاحب هذا اأمر لیحضر الموسم کلّ
سنة فیر ی النّاس ویعرفهم ویرونه ۔ (کمال الدین صدوق٤٤٠)
محمد بن عثمان عمری کہتے ہیں : میں نے امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے نائب خاص محمد بن عثمان عمری سے سنا کہ فرمایا:
خدا کی قسم! یہ صاحب الامر ہر سال حج کے موسم میں حج کے مراسم میں شریک ہوتے ہیں اور لوگوں کو دیکھتے ہیں مگر لوگ آپؑ کو نہیں دیکھتے ہیں اور نہیں پہچانتے ہیں ۔
٭ وجود نازنین امام زمان(عج)حجت خدا ہیں اور روئے زمین پر خلق خدا کے درمیان موجود ہیں لیکن لوگ ان کی شناخت و پہچان کی قدرت نہیں رکھتے ۔ البتہ جو نشانیاں اور علامات کتابوں میں درج ہیں ان کے مطابق وہ امام کو اپنے نزدیک حس کریں گے۔
حدیث نمبر١٥:
عن محمد بن مسلم قال: سمعت أبا عبد اللهیقول:انّ بلغکم عن صاحب هذا الأمر غیبة فلا تنکروها ۔ (اصول کافی ج ١ ،ص ٣٣٨)
محمد بن مسلم کہتے ہیں : حضرت امام صادق ؑسے سنا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: اگر صاحب الامر کی غیبت پہنچ جائے تو تم لوگ اس کاانکار مت کرنا.
٭ ابھی وہی زمانہ ہے اور ہم غیبت امام زمان حضرت مہدی(عج)میں زندگی گزار رہے ہیں آپؑ کی طولانی غیبت سے ہمارے عقیدوں میں کوئی لغزش پیدا نہ ہوجائے۔
٭ غیبت کے زمانے میں کسی کو اجاذت نہیں ہے کہ وہ آپؑ کی امامت اور ولایت سے انکار کر بیٹھے۔
حدیث نمبر١٦:
عن ابان بن تغلب قال:قال ابو عبد الله: اذا قام القائم لم یقم بین یدیه احدٌ من خلق الرّحمٰن الّا عرفه صالحٌ هو أم طالحٌ ؟ ( اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ ) (کمال الدین صدوق٦٧١، قرآن سورہ حجر آیۃ ، ٧٥ ، ٧٦)
ابان بن تغلب کہتے ہیں : حضرت امام صادق ؑفرماتے ہیں :
جب قائم قیام فرمائیں گے تو مخلوقات خدا میں سے کوئی بھی ایسا آپ کے سامنے نہ ہوگا جس کو آپ نہ پہچانتے ہونگے کہ ان میں سے کون اچھے ہیں اور کون بُرے؟ کیونکہ خداوند متعال فرماتاہے:
یہ علامتیں ہوشیار لوگوں کے لئے ہیں اور وہ سیدھے راستے پر ثابت اور استوار ہیں ۔
٭ حضرت امام زمانؑ خدا کے خلیفہ اور تمام مخلوقات کے درمیان امین اللہ ہیں وہ خدا کے علاوہ تمام چیزوں پر احاطہ رکھتے ہيں اور تمام مخلوقات کو اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہيں ۔ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ وہ دوسرے حکمرانوں کے طرح ایک حکمران ہيں جو اپنے اطرافیوں کو پہچاننے سے عاجز ہيں ۔ وہ کسی سے فریب نہیں کھائیں گے۔ وہ خداوند عالم کے عطا کردہ علم پر عمل کریں گے۔
حدیث نمبر١٧:
عن ابان بن تغلب قال: قال ابوعبد الله علیه السلام: أوّل من یبایع القائمجبرئیل ، ینزل فی صورة الطیر أبیض فیبایعه ، ثمّ یضع رجلاً علیٰ بیت الله الحرام ورجلاً علیٰ بیت المقدس ثّم ینادی بصوت طلقٍ تسمعه الخلائق: ( اَتٰۤى اَمْرُ اللهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ) (قرآن :سورۃ النحل، آیۃ ١(کمال الدین صدوق ؛ ص ٦٧١)
ابان بن تغلب کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق ؑفرماتے ہیں :
سب سے پہلے قائم آل محمد کے مبارک ہاتھوں میں بیعت کرنے والا جبریلؑ امین ہو گا جو سفید پرندے کی شکل میں آسمان سے نازل ہو کر حضرت کے دست مبارک پر بیعت کریں گے اس کے بعد جبریلؑ اپنا ایک پاؤں بیت اللہ پر اور دوسرا پاؤں بیت المقدس پر رکھتے ہوئے آواز دیں گے جو تمام مخلوق خداوندی سن لے گی۔اللہ کا حکم آیا ہے پس اس کی طرف دوڑیں ۔
حدیث نمبر١٨:
عن هشام بن سالم ، عن أبی عبد الله قال:یقوم القائم ولیس لأحدٍ فی عنقه أحدٌ ولا عقدٌ ولا بیعة ۔ (اصول کافی، ج ١ ، ص ٣٤٢)
ہشام بن سالم کہتے ہیں : حضرت امام جعفر صادق ؑفرماتے ہیں :
قائم قیام فرمائیں گے جبکہ اس کے گردن پر نہ کوئی قرارداد ہوگی ، نہ عہد و پیمان اور نہ ہی کوئی بیعت ہوگی۔
٭ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ ظہورہ کے ظہور کے موقع پر کوئی بھی عدل وانصاف کو لاگو کرنے میں رکاوٹ نہیں ہوگا وہ مشرکوں ،کافروں ،منافقوں اور ستم گروں کو مکمل طور پر سرکوب اور نابود کریں گے۔
حدیث نمبر١٩:
عن أبی بصیر ، عن أبی عبد الله قال:
تنکسف الشمس لخمسٍ مضَین من شهر رمضان قبل قیام القائم (کمال الدین صدوق٦٥٥)
ابو بصیر کہتے ہیں : حضرت امام جعفر صادق ؑفرماتے ہیں :
قائم آل محمد کے قیام سے پہلے ماہ رمضان کی پانچ تاریخ کو سورج گرہن ہوگا۔
حدیث نمبر٢٠:
عن غیاث بن ابراهیم ، عن الصادق جعفر بن محمد ، عن أبیه ، عن آبائه علیهم السلام قال: مَن انکر القائمَ مِن وُلدی فقد انکرنی (کمال الدین صدوق، ص٤١٢)
غیاث بن ابراہیم کہتے ہیں : حضرت امام جعفر صادق ؑاپنے آباء واجداد سے یکے بعد دیگرے یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ:حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جو کوئی میرے فرزند قائم کا انکار کرے گا گویا اس نے میرا انکار کیا ہے۔
٭ امام زمان(عج)کا انکار کرنا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کرنے کے برابر ہے۔ امامت اور ولایت کے منکر درحقیقت اسلام و قرآن و نبوت کے منکر ہیں ۔