گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)

گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)0%

گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج) مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 37

گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 37
مشاہدے: 413
ڈاؤنلوڈ: 22

گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 37 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 413 / ڈاؤنلوڈ: 22
سائز سائز سائز
گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)

گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔


مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=370&view=download&format=pdf
ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=370&view=download&format=doc
HTML  فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=370&view=download&format=html

نیز اپنے مکتوبات و تحریر(مفید وعلمی کتابیں اور مقالات)مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہرقسم کے سوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

نوّاب امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا تعارف

غیبت صغریٰ کے دوران حکومتی کا رندے امام ؑ کو نہیں دیکھ سکتے تھے اور عام لوگ بھی آپ کے دیدار سے محروم تھے لیکن امامؑ کے ماننے والے اور قریبی افراد آپؑ سے وقتاً فوقتاً ملاقات کرتے رہتے تھے اس عرصہ میں چار افراد ایسے تھے جو امام ؑ کے قریبی اور خاص تھے انہیں کے توسط سے لوگ اپنے مسائل حل کراتے تھے یہ افراد امامؑ اور لوگوں کے درمیان واسطہ اور پل کی حیثیت رکھتے

تھے۔ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں :

١۔ عثمان بن سعید عَمری

یہ شخص حضرت امام علی نقی ؑکے خاص صحابی اور مورد اعتماد تھے ۔عثمان بن سعید حضرت امام حسن عسکری ؑکے دور امامت میں گھی بیچنے کے بہانے امامؑ اور لوگوں کے درمیان واسطہ کا کردار ادا کرتے تھے۔ امام عسکری ؑکی شہادت کے بعد آپ حضرت امام مہدی(عج)کے پہلے نائب مقرر ہوئے ،لوگ آپ کے ذریعہ امامؑ سے اپنے مسائل حل کراتے تھے۔

٢۔ محمد بن عثمان

حضرت امام مہدی(عج)کے پہلے نائب کی رحلت کے بعد محمد بن عثمان امام کے نائب خاص منتخب ہوئے ،شیعہ آپ کے

علاوہ کسی اور کو نائب امام نہیں مانتے تھے۔ آپ سے لوگوں نے بہت سی کرامات دیکھیں ۔محمد بن عثمان ۵۰سال تک نیابت امامؑ کے منصب پر فائز رہے۔آپ اپنی وفات سے پہلے حضرت امام زمان(عج)کی توسط سے جانتے تھے کہ آپ کب رحلت فرمائیں گے۔

٣۔ حسین بن روح نوبختی

دوسرے نائب امام ؑ کی رحلت کے بعد حسین بن روح نوبختی نائب امام منتخب ہوئے اور مسلمانوں کے مالی امور کے عہدہ کو سنبھالا۔ جب بغداد کو حامد بن عباس نے فتح کیا تواس وقت حسین بن روح نو بختی کو گرفتار کیا گیا۔ اس عرصہ میں ابوجعفر محمد بن علی سلمخانی نیابت کی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ جب بعد میں اس کے انحراف فکری کو پہچان لیا تو حسین بن روح نو بختی نے ایک خط کے ذریعے لوگوں کو اطلاع دی کہ سلمخانی کو اس عہدہ سے ہٹایا گیا ہے سال ۳۲۶ہجری قمری کو حسین بن روح رحلت فرماگئے۔

٤۔ علی بن محمد سمری

تیسرے نائب امامؑ کی رحلت کے بعد حضرت امام زمان(عج)کے حکم سے علی بن محمد سمری کو حسین بن روح کا جانشین اور نائبِ امام منتخب کیا گیا۔ تین سال تک آپ امامؑ اور لوگوں کے درمیان واسطے کا کردار ادا کرتے رہے آپ کی وفات سے قبل لوگوں نے سوال کیا کہ آپ کے بعد نائب امام اور آپ کا جانشین کون ہوگا؟تو آپ نے فرمایا: خدا کا حکم ہے جو ذمہ داری میری گردن پر ہے میں اسے انجام دوں ۔ اس طرح آپ دنیا سے رحلت فرماگے۔

جب غیبت صغریٰ کا زمانہ ختم ہوا تو پھر غیبت کبریٰ کا دور شروع ہوا جو امام ؑکے ظہور تک جاری رہے گا۔

غیبت کبریٰ کے ظاہری اسباب

در حقیقت حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا مخفی رہنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ غیبت کے ضرور ایسے اسباب ہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو غیبت بھی نہ ہوتی ، جیسا کہ باقی ائمہ طاہرین علیہم السلام میں سے کسی کی غیبت نہیں ہوئی سب کچھ برداشت کیا مگر نظروں سے مخفی نہیں ہوئے ۔ اگرچہ ان کے اوپر کڑے پہرے لگے ہوئے تھے مگر سلاطین جانتے تھے کہ یہ انہی دنیوی حکومت بنانے کے لئے کھڑے نہیں ہونگے بلکہ اس کا تعلق مہدی موعود سے ہے جو گیارہ اماموں کے بعد آنے والے ہیں اس لئے حکمرانوں اور سلاطین کی آنکھیں اول ہی سے حضرت امام زمان علیہ السلام کی طرف ایسی لگی ہوئی تھیں کہ قدرت کے انتظامات سے حضرت کی ولادت بھی پوشیدہ طور پر ہوئی وہ یہ تو سمجھے ہوئے تھے کہ بارہویں امامت کے زمانہ میں دنیا کی صورت بدلے گی مگر یہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ اس زمانہ میں یہ سب انقلابات کب ہونگے کس وقت ہونگے اگر انہیں یہ معلوم ہوتی کہ ہماری حکومت ان کے ہاتھ سے نہیں بلکہ پہلے ہی حوادث زمانہ سے ختم ہوجائے گی تو شاید حضرت امام زمان علیہ السلام کے تجسّس میں ایسی کوششیں نہ کرتے جو ہوئیں۔

باقی ائمہ طاہرین علیہم السلام کے واقعات اور امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے حالات میں بڑا فرق تھا ۔ ان حضرات علیہم السلام کی شہادتوں پر سب کے قائم مقام موجود تھے اور ہر امام نے اپنے بعد کے لئے امت کی ذمہ داریاں اپنے جانشین کے سپرد فرمائی ہیں لیکن حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ آخری امام تھے بارہ کے بعد تیرھواں آنے والا نہ تھا آیندہ کے لئے امامت کا دروازہ بند ہوچکا تھا اگر حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ پر دشمنوں کا غلبہ ہوجاتا تو نتیجہ میں زمین حجت خدا سے خالی ہوجاتی ۔ وہ پیش گوئیاں صحیح نہ رہتیں جو روز اوّل سے مہدی موعود علیہ السلام کے بارے میں ہوتی چلی آرہی تھی وعدہ الٰہی غلط ہوجاتا کہ ان کی حکومت تمام روئے زمین پر ہوگی ان کے مبارک ہاتھوں سے ظالمین کا خاتمہ ہوگا اور ساری زمین ان ظالم اور فاسق حکمرانوں سے پاک ہوکر عدل وداد سے بھر جائے گی حالانکہ یہ ناممکن ہے کہ خدوند کریم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان جو آنے والے حالات اور واقعات بیان کئے گئے ہیں وہ وقوع میں نہ آئیں یہ سب باتیں دنیا کے آخری حصہ میں پوری ہوکر رہیں گی اور اس وقت تک دنیا میں حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ کا موجود رہنا لازمی امر ہے۔

خداوند عالم کی طرف سے بھی مجبور نہیں کئے جاسکتے تھے کیونکہ بندے اپنے افعال میں مختار ہیں اور جبر غلط چیز ہے پس حضرت کی حفاظت صرف صورت غیبت میں منحصر تھی اس لئے عوام کی نظروں سے مخفی ہوئے ہیں ۔

حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی غیبت کبریٰ سے پہلے غیبت صغریٰ رہی چونکہ حضرت کے وجود امامت کا مسئلہ مشتبہ بنایا جانے والا تھا اس لئے ضرورت تھی کہ ایک زمانہ ایسا بھی ہو جو عین دیکھنے والے حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ کو بحیثیت امامت پہچان کر دیکھ لیں تاکہ حضرت کے وجود اقدس سے انکار کرنے والوں کو یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ جس کو کسی نے کبھی نہ دیکھا اس کی موجودگی اور امام ہونے پر کیسے ایمان لایا جائے یہ تو خدا ہی کی خصوصیت ہے کہ اس کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ آیندہ کبھی کوئی دیکھ سکتا ہے وہ خود دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کے آثار وجود نظر آتے ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت کی ولادت کے بعد پدر بزرگوار نے بقدر ضرورت اپنے فرزند کو دیکھا یا اور بہت سے لوگوں کو اطلاع دیں پھر کافی زمانہ تک خود حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف نے مومنین کو اپنی ملاقات سے مشرف فرمایا یا ہزاروں انسان مطلع ہوئے اور نائبین کے ذریعہ سے تمام کام پورے ہوتے رہے لیکن جب حالات بدلے اور نائب خاص کی خدمت میں لوگوں کی حاضری نظروں سے کھٹکی اور ان کی مرجعیت بھی حکومت کو ناگوار ہونے لگی اور اس میں بھی مصیبتوں کا مقابلہ ہوا تو غیبت صغریٰ کی صورت ختم ہوئی اور غیبت کبریٰ کا وقت آگیا ۔

غیبت صغریٰ میں یہ صورت بھی پیش آئی کہ نیابت اور سفارت کے جھوٹے مدعی پیدا ہونے لگے جن پر حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ نے اپنے فرمانوں میں لعنت فرمائی ہے اور اظہار برائت کیا ہے ۔

ابو محمد شریعی ، محمد بن نصیر نمیری ، احمد بن ہلال کرخی ، محمد بن علی شلغمانی وغیرہ نے اپنے اپنے لئے غلط دعوئے کرکے فتنہ وفساد پھیلانا شروع کردیا یا خمس وغیرہ کی رقمیں وصول کرنے لگے حضرت پر افتراء اور بہتان ، باطل عقیدے ، بیہودہ مسئلہ تلقین ہونے لگے ، کفر والحاد کی نوبت پہنچ گئی اور ایسی خلاف شریعت باتوں کا سادہ لوح افراد پر بُرا اثر پڑنے لگا ، حکومت کے مظالم تو جھیلے جارہے تھے لیکن عقیدتمندوں کے پردے میں ان دشمنوں کا یہ ظلم وستم طرح طرح کی گمراہیاں پھیلانا مومنین میں تفرقہ اندازی اور ان کو دھوکے دینا حضرت کی طرف سے اپنا تقریر بتا کر رسوخ پیدا کرنا اس جھوٹی نسبت کو اپنی بدکرداریوں میں کامیابی کا ذریعہ بنانا ناقابل عفو جرائم تھے جن کو آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔

اور جن کے انسداد کی یہی صورت تھی کہ سفارت اور وکالت کا وہ سلسلہ ہی ختم کردیا جائے جس کے بہانے سے یہ کاذب وظالم سب کچھ کررہے تھے چنانچہ نیابت کا دروازہ بند ہوگیا ، جس کی اطلاعات مخلص مومنین کو پہنچ گئیں اور وہ ان کی بلاؤں سے محفوظ ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت کا وہ نور ہدایت بھی حجاب میں آگیا جو زمانہ غیبت صغریٰ نائبین کے ذریعہ نفاذ احکام سے مومنین میں پھیلا ہوا تھا اور غیبت کبریٰ واقع ہوگئی ۔

غیبت کبریٰ کا یہ سبب بھی کس قدر روشن اور واضح ہے کہ اگر یہ صورت نہ ہوتی تو دنیا میں خونریزی کا سلسلہ جاری ہوجاتا کیونکہ لوگ جانتے تھے کہ آخری امام کا وجود آخری وقت تک رہنے والا ہے جس میں سارے عالم پر آپ کی حکومت ہوگی اس خوف میں ہرزمانہ کی تمام سلطنتیں اپنے اپنے زوال کے خیال سے حضرت کے مقابلہ میں آتیں چاہیے یہ مدافعانہ لڑائیاں ہوتیں لیکن روئے زمین پر خون کی ندیاں بہتی رہتی حالانکہ اسلامی نظریہ ہمیشہ صلح اور امن پسندی رہا ہے مسلمان ہر ایک انسان کی سلامتی کا خواہاں رہتا ہے مومن دنیا میں بقاء امن وامان کا حامی ہوتا ہے اس لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کسی جنگ کی ابتداء نہیں ہوتی اور تبلیغ اسلام کے واسطے حضرت نے اخلاقی ہتھیاروں کو چھوڑ کر مادی آلات کو استعمال نہیں کیا اور کبھی تلوار نہیں اٹھائی بلکہ جتنی لڑائیاں ہوئیں سب دفاعی اور جوابی کاروائی تھی ۔ حضرت ائمہ طاہرین علیہم السلام کے پیش نظر ہمیشہ دنیا میں امن وامان کے قیام کا مسئلہ رہا ، طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں مگر صبروتحمل سے کام لیا اپنے حقوق پامال ہوتے دیکھئے مگر صبر کیا۔

حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام جن کی تلوار کے جوہر بدر ، احد ، خندق اور خیبر وغیرہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کی لڑائیوں میں یادگار ہیں انہوں نے پچیس برس کی خاموشی سے گزارے اور اپنی حق طلبی کے لئے جنگ پر آمادہ نہ ہوئے کیونکہ جانتے تھے کہ اس سے اسلام کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ حق کا مطالبہ زبانی ہوتا رہا لیکن شمشیر انتقام نیام سے باہر نہ آئی اور کوئی ایسا اقدام نہیں فرمایا جس سے ظاہری امن وامان کو ٹھیس لگے البتہ جب تمام مسلمانوں نے اپنی خوشی سے مملکت کی ذمہ داریاں حضرت کو سپرد کردیں اور کچھ لوگ اپنی ذاتی اغراض ومقاصد کے تحت فتنہ وفساد پر آمادہ ہوئے تو حضرت بھی ان کی شرارتوں کو روکنے اور ان کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور جنگ جمل ، صفین اور نہروان میں ہوا جو کچھ ہوا۔

حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے اسی امن وامان کی خاطر معاویہ سے صلح فرمائی باوجودیکہ یہ بات ساتھیوں کو ناگوار ہوئی لیکن حضرت نے اس مخالفت کی کچھ پروا نہ کی اور جنگ کی آگ کو بھڑکنے نہ دیا۔

اسی طرح سرکار سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام بھائی کی شہادت کے بعد دس برس خاموش رہے مگر جب یزید پلید نے بیعت کا مطالبہ کیا اور جان کے پیچھے پڑگیا تو حضرت نے بغیر لشکری تیاری کے جس سے امن وامان میں خلل پڑتا تھا فوج یزید کا مقابلہ کیا کربلا کے میدان میں اپنا سارا گھر بار قربان کردیا راہ خدا میں جان دیدی مگر بیعت نہ کی اور اسلام کو موت سے بچالیا۔

حق کبھی باطل کا اتباع نہیں کرسکتا یہ کارنامہ ہے جس سے اسلام زندہ رہا اور حسین علیہ السلام کے نام کا سکّہ ساری دنیا میں چل رہا ہے اور کربلا والوں کی صدائے بازگشت فضاء عالم میں گونچ رہی ہے ،پھر اس قیامت خیز واقعہ کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام سے لیکر امام حسن العسکری علیہم السلام تک سب حضرات کی عمریں مصیبتوں میں گزریں بڑے بڑے مظالم جھیلے مگر کسی وقت لڑائی کا خیال بھی نہ کیا قید خانوں میں رہے مگر صبر کیا ، یہاں تک کہ خفیہ طور پر زہر دے کر شہید کئے گئے ، پس جسطرح ان جملہ حضرات کے پیش نظر امن وامان کا مسئلہ رہا ہے اسی طرح بارہویں امام علیہ السلام کی اس غیبت میں امن وامان کے بقاء کا راز مظہر ہے۔

دشمنوں کا قابو نہیں چلتا خون ریزی کی نوبت نہیں آتی بلکہ جب ظہور ہوگا تب دعوت ایمان کے لئے تلوار نہ اٹھائی جائے گی بلکہ خداوند تعالیٰ کی نشانیاں سامنے آئیں گی اور ان آیات وبینات سے پوری دنیا روشن ومنوّر ہوں گی ایک ندائے آسمانی بلند ہوگی کہ تمام عالم متوجہ ہوجائے گا کہ حق کیا ہے تو باطل کیا ہے؟

حضرت امام زمان علیہ السلام کے طول عمر

ہر سچے مومن کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ پروردگار عالم ہر زمانے میں اپنی حجت کا وجود واجب قرار دیا ہے جس کے اوپر ایمان رکھنا ضروری ہے دشمنان اسلام اور محمد وآل محمد کے دشمنوں کے طرف سے حضرت امام زمان علیہ السلام کے طول عمر کے بارے میں مختلف قسم کے نظریات اور خیالات اور سوالات کے بوچھاڑ کرکے سادہ لوح مسلمانوں اور مومنین کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ خود شخص مسلمان اور مؤمن کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ ایک شخص کیسے اتنی لمبی عمر پاسکتا ہے ؟ بہر حال جو بھی ہو تاریخ کے مطالعہ نہ ہوتے اور تاریخ سے آشنائی اور آگاہی نہ ہونے کے بناء پر یہ سوالات ذہنوں میں پیدا ہوئےہیں یایہ کہ خود اسلام دشمن طاقتوں اور محمد وآل محمد علیہم السلام کے دشمنوں کی طرف سے یہ سوالات اٹھائے جاتے ہیں اس ضمن میں ہم یہاں پر مختلف زاویوں سے مختصراً کچھ عرائض پیش کردیتے ہیں۔

شیعوں کے ممتاز عالم الدین علامہ مجلسی رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ ودوسرے علماء اور دانشوروں نے اپنی کتابوں میں حضرت امام زمان علیہ السلام کی طول عمر کے ذیل میں بہت سے شخصیات کی ایک فہرست بیان کیں ہیں، جن کے مکمل حالات زندگی کتب تواریخ میں نقل کئے گئے ہیں۔ اگر کوئی عاقل اور انصاف پسند شخص توجہ کریں تو اس کے لئے صرف حضرت خضر علیہ السلام کی ذات کافی ہے جن کے روئے زمین پر موجود ہونے پر کسی کو کوئی اشکال نہیں ہے تو پھر حضرت امام عصر علیہ السلام کے وجود مقدس کی طول عمر پر کیوں اعتراض اور شکایت ہے۔

جو پروردگار عالم کی طرف سے سارے کائنات کی حیات کا باعث ہیں ، دو عظیم پیغمبر حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ مسیح علیہم السلام دونوں اب تک زندہ ہیں جن کو خداوند عالم کی طرف سے رزق مل رہا ہے ۔ اصحاب کہف سورہے ہیں زندہ ہیں ان کا کتا بھی زندہ ہے۔

حضرت آدم صفی اللہ کی عمر ١٣٦ سال حضرت شیث علیہ السلام کی عمر ٩١٢ سال حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ٢٥٠٠ سال حضرت سام بن نوح کی عمر ٦٠٠ سال حضرت لقمان حکیم کی عمر ١٠٠٠ سال لقمان بن عاد کی عمر ٣٠٠٠ سال خدا کے دشمن اوج بن عناق کی عمر ٣٠٠٠ ہزار ٦٠٠ (تین ہزار چھے سو سال) شداد کی عمر ٩٠٠ برس ہے ، اسی طرح دوسرے مختلف افراد کی عمریں بھی طولانی ذکر ہوئی ہے مثلاً جمشید نے جو ایران کے پادشاہ تھا ٥٠٠ سال زندگی کی۔

ضحاک نے ایک ہزار سال حیات پائی۔ فریدون عادل نے ایک ہزار سال زندگی کی ، اس کے علاوہ اور بھی افراد موجود ہیں جن کے عمرطولانی ذکر ہوئی ہے۔

پس خدواند رب العزت کی آخری حجت حضرت امام زمان علیہ السلام کی عمر طویل ہونے سے تعجب نہیں ہونی چاہئے اور حضرت کے وجود اقدس سے انکار نہیں کرنا چاہئے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ رہنے کی حکمت یہ ہے کہ وہ حضرت امام زمان علیہ السلام کی تصدیق کریں۔

حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہم جو ہزاروں برس پہلے دنیا میں موجود ہیں ان کا یہ بقا اور عمر کی طولانی اس کی مقصد اور غرض انکی پیغمبری نہیں ہوسکتی جسکا آیندہ وہ اظہار فرمائیں نہ ان پر کوئی آسمانی کتاب کسی وقت نازل ہونے والی ہے جس کے انتظار میں ان کو زندہ رکھا گیا ہونہ آگے چل کر ان کے پیش نظر کسی شریعت تازہ کی ترویج ہے نہ ان کے متعلق کسی ایسی پیشوائی کسی خبر دی گئی ہے جس پر بندہ گان خدا کے لئے ان کی اقتداء اور اطاعت لازم ہو بلکہ ان کی زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ مخلوق خدا ان کی طول عمر کو دیکھتے ہوئے آخری حجت خدا حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کی طولانی عمر ہونے پر تعجب نہ کریں اور حضرت کے وجود اقدس سے انکار نہ کرے اور اس حیثیت سے بھی بندوں پر حجت الٰہی قائم ہوجائے ۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ رہنے کی حکمت یہ ہے کہ ان کی تصدیق سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر اہل کتاب ایمان لائیں اور ان کی زندگی سے حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ کی زندگی کا ثبوت ہوجائے کیونکہ خاتم الانبیاء صلوات اللہ علیہ کے بعد کسی نبوت ورسالت کا وقت نہیں رہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی متابعت کریں گے اور دعوت اسلام میں ان کے معین ومددگار ہونگے۔

۲۱

حضرت امام مہدی(عج)کے بارے میں ذکر شدہ احادیث کی تعداد

وہ احادیث جو آپؑ کے ظہور انور کی بشارت کے حوالہ سے ذکر ہوئی ہیں ان کی تعداد ۶۵۷ہے وہ احادیث جو آپؑ کو اہل بیت پیغمبر ؐ میں سے ہونے کی خبر دیتے ہیں ان کی تعداد ۳۸۹ہے۔

وہ روایات جو آپ ؑ کو فرزندان فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کے عنوان سے معرفی کراتی ہیں ان کی تعداد۱۹۲ہے ۔ روایات میں سے بعض ایسی بھی ہيں جن میں آپؑ کاامام حسین ؑکے نویں فرزند ہونے کی صراحت موجود ہے ان کی تعداد ۱۴۸ہے۔ آپؑ کے امام حسن ؑعسکری ؑکے فرزند ارجمند ہونے پر ایک سوچھیالیس روایات موجود ہیں ۔

وہ روایات جو پوری دنیا کو عدالت سے پر کرنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں ان کی تعداد ۱۲۲ہے۔

وہ روایات جن میں آپؑ کی ولادت کا تذکرہ ہے ان کی تعداد ۲۱۴ ہے۔

وہ روایات جو آپؑ کے بارہویں امام ہونے کو بیان کرتی ہیں ان کی تعداد۱۲۶ہے۔

حضرت امام زمان علیہ السلام سے ملاقات کا ذکر

غیبت صغری میں حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے ملاقات کے بارے میں تو کوئی اعتراض اور اشکال نہیں ہے اس زمانے میں مومنین کرام حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے ملاقات کا شرف حاصل کرتے رہے ہیں۔

مگر کچھ افراد کو غیبت کبریٰ میں یہ شکایت رہی ہے کہ حضرت امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف عام طور پر سب کی نظروں سے پوشیدہ ہیں اور کسی شخص سے بھی حضرت کی ملاقات معنی غیبت کے خلاف ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ غیبت کبریٰ کا منشاء یہ ہے کہ غیبت صغریٰ میں خاص خاص افراد سے جو ملاقات کی صورت تھی وہ ختم ہوگئی اور حضرت کی قیام گاہ پر حاضری کا پہلا طریقہ باقی نہیں رہا اب حضرت کا مکان اور مقام نظروں سے پوشیدہ ہے اور اس کا مطلب کہ حضرت نظر خلائق سے غائب ہیں۔

عقل کی رو سے غیبت کا مسئلہ اور ملاقات میں کوئی منافات نہیں ہے مثال کے طور پر ملائکہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں مگر انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کی خدمت میں ان کی آمد ورفت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اگرچہ وہ جن نظروں سے مخفی ہے لیکن بعض لوگ ان کو دیکھتے ہیں ان سے ملاقات ہوتی ہے حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام کی غیبت ہے مگر کچھ لوگ ان دونوں حضرات سے ملتے رہتے ہیں پس بنا برایں جس طرح ان کے مکان ومقام معلوم نہ ہونے کے ان سے ملاقات ہوسکتی ہے اسی طرح حضرت امام زمان عجل اللہ..... سے ملاقات ہوسکتی ہے۔

حضرت امام زمان عجل.... سے ملاقات کا شرف حاصل ہونا خود اس انسان کی قسمت ہے بہت خوش نصیب ہیں وہ حضرات جن کو حضرت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہو اس خطرناک دور میں بھی ایسی خوش قسمت اور مسرت والے بھی موجود ہوتے ہیں ہر زمانے میں بڑی بڑی ہستیاں گزری ہیں بڑے بڑے صاحبان زہد وتقویٰ ہوتے رہے ہیں ہوسکتا ہے کہ ان کو حضرت کی زیارت نصیب ہوئی ہو اور واقعات کو اس غرض سے پوشیدہ رکھا ہو کہ کہیں ریا اور خود نمائی نہ ہوجائے۔ جو واقع یہاں بیان ہوئے ہیں ان سے مومنین اور مسلمین کی کچھ رہنمائی ہوجائے ایسے قصوں اور واقعہ کا پڑھنا، سننا بھی عبادت ہوتا ہے۔

یہاں پر چند واقعات کا ذکر کریں گے جو امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے ملاقات کے بارے میں نقل کرنے کے ہیں۔ البتہ شیعہ اعتقاد اور عقیدے کے تحت ملاقات سے مراد یہ ہے کہ وہ صاحب جس نے امام علیہ السلام سے ملاقات کی ہو وہ صاحب تقویٰ وپرہیزگار ہو۔ شہرت طلب نہ ہو نہایت ہی متین اور سلجھا ہوا بندہ ہو۔ یہ جو واقعات نمونے کے طور پر یہاں ذکر کر رہے ہیں جن میں سے اکثر ان صاحب کی وفات کے بعد ہی برملا ہوا ہے لہٰذا یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ہر کوئی بندہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں امام سے ملاقات کئے ہوئے ہوں۔ بلکہ احادیث میں بھی نقل ہوا ہے کہ امام سے ملاقات کے بارے میں دعویٰ کرنے والا جھوٹا ہے حقیقت بھی یہی ہے ورنہ دین میں فتنہ وفساد برپا ہوگا۔

امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ظہور

حضرت امام رضا ؑنے فرمایا: قائم آل محمد ؐ کی مثال قیامت جیسی ہے جس طرح قیامت ناگہانی طورپربر پا ہوگی اسی طرح امام زمان(عج)اچانک ظہور فرمائیں گے۔

جیسا کہ خدا وند عالم نے قرآن مجید میں اشارہ فرمایا ہے کہ لوگ آپؑ سے سوال کرتے ہیں کہ قیامت کب برپا ہو گی؟

آپؑ کہہ دیجئے: کہ اس کا علم صرف خدا کے پاس ہے اس کے علاوہ اس وقت کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔یہ واقعہ و حادثہ زمین و آسمان پر سخت گزرے گا اور یہ واقعہ اچانک رونما ہو گا ۔ (سورہ اعراف آیت ۱۸۷)

اس آیت کی ذیل میں دو مہم نشایاں ، اجمالی طور پر قیامت کے بارے میں ذکر ہوئی ہيں :

١۔ قیامت کا وقت نہایت ہی سنگین اور سخت ترین وقت ہو گا کیونکہ اجرامی فلکی سب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونگے سورج خاموش، چاندتاریک،ستار ے بے نور ، سیارے بے حرکت اور ایٹم تباہ و برباد ہو جائیں گے۔

٢۔ جس طرح قیامت اچانک برپا ہو گی۔ اسی طرح امام زمان(عج)کا ظہور انور بھی پلک جھپکنے میں ہوگا۔ پھر آپؑ سب سے پہلے پوری دنیا کے نظام کی ازسر نو بنیاد گزاری فرمائیں گے۔

٣۔ آپؑ کا ظہور اچانک اور انقلابی طور پر واقع ہو گا۔

۲۲

حضرت امام مہدی(عج)کے ظہور کی جگہ

حضرت امام رضا ؑفرماتے ہیں : ایک منادی غیب سے اس طرح ندا دے گی کہ روئے زمین کے تمام انسان اس ندا کو سن لیں گے، اس آواز کے ذریعے انسانوں کو دعوت دیں گے مزید فرماتے ہیں :

آگاہ ہو جاؤ ! اللہ کی حجت نے خدا کے گھر کے کنارے ظہور فرمایا ہے اس کی اطاعت اور پیروی کرو! کیونکہ حق اس کے ساتھ ہے اور قدرت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔مہدی منتظر تمام ادیان کی زبان اور تمام مسلمانوں کے نزدیک بالاتفاق اور باقی تمام ادیان کے مطابق کعبہ سے ندا دیں گے اور بشریت کو توحید کی دعوت فرمائیں گے۔ کعبہ اور مکہ سے یہ آواز ہر ایک تک پہنچے گی ، لوگوں کو چاہیے کہ اس آواز پر لبیک کہیں اور اس کی پیروی کریں ۔آپؑ کلمہ توحید کی طرف لوگوں کو دعوت دیں گے اور اس مکان مقدس سے آواز آئے گی کہ آج کے بعد ظلم و کفر کی بنیادیں مٹادی جائیں گی اور تمام سیاسی اور بربریتی حکومتیں توڑ دی جائیں گی اور شیاطین کو خصوصاً سب سے بڑے شیطان کو پتھر مارے جائیں گے اور ان چھوٹے اور بڑے شیطانوں کو نیست و نابود کیا جائے گا تاکہ خلیل اللہ و حبیب اللہ اور ولی اللہ مہدی عزیز کی حج بجا لائے جاسکیں گے و اللہ ہمارے لئے کہا گیاہے۔

امام باقراور امام صادق علیہماالسلام سے روایت ہے:

(فقالَ : ما أكْثَرَ الضَّجيجَ و أقَلَّ الحَجيجَ ! (بحار الأنوار : ۲۷/۱۸۱/۳۰ - المناقب ،ج ۴ ، ص ۱۸۴)

کتنے شور شرابے ہیں اور حج کرنے والے کس قدر کم ہیں ۔ ( صحیفہ نور؛ ص ۱۸ ،ص ۸۸)

۲۳

ظہور امام مہدی(عج)کی حتمی علامات

جب حضرت بقیۃ اللہ الاعظم امام زمان(عج)غیب کے پردہ سے تشریف لائیں گے تو اس وقت کے علائم اور نشانیاں جو ائمہ معصومین علیہم السلام کی طرف سے بیان ہوئی ہیں وہ درج ذیل ہیں ۔ ان علامات کے ساتھ جو ہم ترتیب وار بیان کریں گے، قدرت ومنشاء الٰہی بھی شامل ہے اور مرضئ الٰہی یہ ہے کہ جب اس کی مرضی ہوگی انکا ظہور ہوگا۔

بعض علامات اپنے طبیعی مسیر کے مطابق خود بخود واقع ہوئی ہیں جن میں خدا وند متعال کا کوئی دخل نہیں ہے مثلاً انحرافات فکری، انحرافات ثقافتی اور انحرافات عملی وغیرہ ، یہ طبق مرور زمان خود بخود واقع ہوتی ہیں ۔

جو امام زمان(عج)کے ظہور کی علامات سمجھی جاتی ہیں ۔ ان میں چاند کا مہینے کی آخری تواریخ میں گرہن لگنا اور سورج کا وسط ماہ میں گرہن لگنا وغیرہ شامل ہیں ۔مگر وہ علائم جو ظہور پر نور کے نزدیک واقع ہوں گی ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر ظہور کے بالکل نزدیک اور ظہور سے متصل قتل نفس ذکیہ کا واقع ہونا۔

دوسری علامات حضرت امام مہدی(عج)کے ظہور سے کافی عرصہ پہلے بنی عباس کے درمیان اختلاف وجود میں آنا وغیرہ۔

تیسری تقسیم بندی کچھ اس طرح ہے:

وہ علائم جن کا واقع ہو نا حتمی ہے یا جن کے واقع ہونے میں کوئی خدشہ وارد نہیں ہو سکتا ہے یہ وہ حوادث ہیں جو احادیث کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں ممکن ہے کہ بداء حاصل ہو جائے یا بداء حاصل نہ ہو ۔ (یہ سورہ رعد کی آیۃ ۴۹کی طرف اشارہ ہے )

ہماری بحث ان علائم میں ہو رہی ہے جو حتمی ہیں جو روایات کی روشنی میں پانچ یا چھے علائم میں منحصر ہیں ۔

حضرت امیر المؤمنین ؑنے فرمایا:

( قال مولانا امير المؤمنين عليه السلام: من المحتوم الذی لا بُدّ منه ان يکون قبل القائم: خروج السفيانی، وخسف با لبيداء وقتل الذ کيه والمنادی من السماء و خُرُجُ اليمانی )

مولا امیرالمؤمنین ؑنے فرمایا: وہ نشانیاں جو قائم سے پہلے ظاہر ہوں گی اور جن کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ( یہ وہ بات ہے جو قطع و یقین پر مبنی ہے) وہ یہ ہیں : خروج سفیانی، زمین کا دھنس جانا ، قتل نفس ذکیہ ، نداء آسمانی اور یمانی کا خروج ۔

١۔ خروج سفیانی

سفیانی ان لوگوں میں سے ہے جو حضرت امام زمان(عج)کے ظہور کے موقع پر باطل کے طور پر سامنے آئے گا جو خون آشام اور قتل و غارت میں مشہور ہو گا۔ وہ حق و حقیقت کی مکمل طور پر مخالفت کرے گا اس سے خداوند عالم نے قرآن مجید میں لوگوں کو خبردار کیا ہے۔ یہ بات محققین اور محدّثین کے درمیان یقینی ہے کہ اس شخص کا نام اس لئے سفیانی رکھا گیا ہے کہ یہ شقاوت و بدبختی اور پلیدی کے لحاظ سے ابو سفیان جیسا ہو گا۔ سفیانی کی نسبت ابو سفیان ملعون و پلید اور اس کی بیوی ھندہ جگر خوارہ حضرت حمزہ سید الشہداءؓ سے ہے اسی لئے اس ملعون اور بدبخت انسان کا نام سفیانی رکھا گیا ہے۔حضرت امیر المؤمنین علی ؑفرماتے ہیں : یہ شخص حد سے زیادہ انسانوں کے جگر کھائے گا اوراس کے بعدصحرا کی طرف نکل جائے گا۔

اس کا اصلی نام عثمان اور باپ کا نام عتبہ ہو گا اور وہ ابوسفیان کی اولاد میں سے ہے۔ جب بھی کسی ایسی سرزمین پر پہنچے گاجو ہموار اور اس کا پانی صاف و شفاف ہوگا وہاں پر ٹھہرے گا ۔ (کمال الدین ؛ج۲، ص ۶۵۱ ، اعلام الوری ، ص ۴۲۱)

یہ ملعون ابتداء میں شہر دمشق ، حمص ، فلسطین ، اردن اور قنسرین کو اپنے قبضہ میں لے لے گا، لوگوں کا قتل عام کرنے کے بعد کوفہ، بغداد، نجف اور مدینہ پر حملہ کرے گا اور یہ ملعون شیعوں کا اس قدر سخت ترین دشمن ہے کہ جو کوئی بھی کسی شیعہ کا سر تن سے جدا کر کے لائے گا اسے بڑے بڑے انعامات سے نوازے گا۔ آخر کار سرزمین بیداء جو (مکہ و مدینہ کے درمیان ہے) میں سفیانی کے لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔ اور خود سفیانی حضرت امام زمان(عج)کے لشکر کے ہاتھوں بیت المقدس میں قتل ہو جائے گا۔

۲۔ لشکر سفیانی کا سرزمین بیداء میں دھنس جانا

٣۔ صیحہ آسمانی

صیحہ اس وقت واقع ہو گی جب پوری دنیا اختلاف اور جھگڑوں میں گھر جائے گی، تفرقہ و جدائی نے سایہ کیا ہو گا اسوقت ایک آسمانی آواز سب کے کانوں سے ٹکرائے گی اس کے بعد ایک پنجہ ظاہر ہوگا۔اس طرح پورے طور پر صیحہ آسمانی پھیل جائے گی۔

حضرت امیر المؤمنین علی ؑفرماتے ہیں :

( ثُمَّ لا يستقم امر الناس علی شیء ولا يکون لهم جماعة، حتیٰ ينادیَ منادٍ من السماء عليکم بغلان وتطلع کفّ تشير ) ( اللام ولافتن ؛ص ۴۸، روزگار ھائی؛ ج۲، ص ۸۶۷)

اس وقت لوگوں کی اصلاح ہر گز نہیں ہو گی اور مسلمان ہر گز ایک مرکز پر جمع نہیں ہو سکیں گے۔ اس وقت منادی آسمان سے آواز دے گی۔ اس کی طرف دوڑئیے اس سے د ور نہ ہو جائیں اس وقت ایک پنجہ آسمان سے ظاہر ہو جائے گا اور امام زمان(عج)کی طرف کرے گا اس طرح صیحہ کے وقوع کو سب مان لیں گے۔

اس صیحہ کا مطلب کیا ہے؟ کیا بے مقصد آواز ہو گی؟

یہ ایک ایسا پیغام ہے جس میں حکم الٰہی پوشیدہ ہے!

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

( اذا کان عنده خروجِ القائمِ ينادی من السماء !)

( ايهاالنّاس، قطع ، عنکم مدّه الجبارين و ولی الامر خير امّة محمدٍ ، فالحقوا مکّة ) ( بحار الانوار جلد ۵۲ ،ص۴۰۴)

جب قائم کا ظہور ہوگا اس وقت آسمان سے نداء دی جائے گی : اے لوگو! خداوند عالم نے ستمگروں کی مہلت کو آخر تک پہنچا دیا ہے اور امت محمدؐ کو بہترین امام عنایت کیا ہے اپنے آپ کو جلد از جلد مکہ مکرمہ میں اس کے پاس پہنچا دو!

یہ واقعہ شب جمعہ، نماز صبح کے بعد ماہ مبارک رمضان کی ۲۳تاریخ کو رونما ہو گا۔

٤۔ نفس ذکیہ

١۔ نفس ذکیہ کا قتل اور حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور میں صرف ۱۵دن کا فاصلہ ہو گا۔

٢۔ نفس ذکیہ وہی ہے جو رکن و مقام کے درمیان قتل ہو گا۔

٣۔ نفس ذکیہ بعنوان سفیر امام زمان(عج) مکہ میں جائیں گے۔ تاکہ حضرت امام زمان(عج)کے پیغام کو مکہ والوں تک پہنچائیں مگر انہیں اسی وقت رکن و مقام کے درمیان کو شہید کیا جائے گا۔

٤۔ نفس ذکیہ رکن و مقام کے درمیان حضرت امام زمان(عج)کے ظہور سے پندرہ ۱۵ دن پہلے شہید ہو جائیں گے آپ کا نام محمدؑ اور والد گرامی کا اسم گرامی حسنؑ ہو گا آپؑ حضرت امام حسین ؑکی نسل سے ہونگے۔

۵. خروج یمانی

حضرت امام صادق ؑخروج یمانی کے بارے میں یوں فرماتے ہیں :

( خروجُ رجل من ولد عمّی زيد با ليمن ) (نور الابصار؛ ص ۱۷۹ ، بشارالاسلام ؛ص ۱۷۵)

یہ وہ شخص ہو گا جو ہمارے چچا زاد بھائی زید شہید کی اولاد میں سے ہو گا جو یمن میں خروج کریں گے۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

( خروج الثلاثه:السفيانیّ ُ والخراسانیُّ واليمانیُّ فی سنة واحدة ، فی شهر واحدٍ ، فی يوم واحد ، وليس فيها من راية اهدایٰ من راية اليمانی ، لانّه يدعو الیٰ الحق ) (بحارالانوار؛ ج۵۲، ص۲۱۰)

تین جھنڈے ایک ہی سال ایک ہی مہینہ، ایک ہی دن میں خروج کریں گے۔ سفیانی ، خراسانی ، یمانی. ان کے درمیان میں سے صالح اور صحیح تر یمانی کے علاوہ کوئی نہیں ہو گا وہ لوگوں کو حق کی طرف بلائے گا۔

روایات کہتی ہیں : یمانی، سفیانی سے لڑتے ہوئے عراق میں داخل ہو گا یمانی، خراسانی کی فوج کی مدد سے سفیانی کی فوج سے لڑے گا۔

روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یمانی کا لشکر خراسانی کے لشکر کو اپنی کمانڈ میں رکھے گا ۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سپاہ خراسان کی تعریف میں فرماتے ہیں :

( فتخرج راية هدي من الکوفة، فتلحق ذٰلک الجيش فيقتلونهم لا يفلِتَ منهم مُخبِرُ ويستنقذون مافی ايديهم من اسّبی ولغنائم ) (مجمع البیان ؛ ج ۸،ص۴۹۸)

ہدایت کا پرچم کوفہ سے خارج ہو گا اور اس سپاہ (سفیانی )کا پیچھا کر کے سبھی افراد کو قتل کرے گا۔ یہا ن تک کہ ان کا ایک فرد بھی نہیں بچے گااورجوکچھ بھی ان کے پاس ہوگا غنیمت کے طور پر اپنے قبضہ میں لے لے گا اور لوگوں کو اسیر بنا لے گا۔

خروج سید حسنی

روایات میں ہے کہ سید حسنی وہ شخص ہے کہ جو شہر رئے سے خراج کرے گا اس کا اصل نام شعیب بن صالح ہے اصالتاً قبیلہ بنی تتمیم سے تعلق رکھتا ہو گا۔

یہ شخص گندمی رنگ اور تنومند ہوگا، بنام شعیب بن صالح ،وہ چا رہزار افراد کے ساتھ اس حالت میں نکلیں گے کہ انکے لباس سفید اور جھنڈا سیاہ رنگ کا ہوگا۔ درحقیقت ان کا خروج ظہورِ امام مہدی(عج)کے لئے مقدمہ الجیش کی حیثیت رکھتا ہوگا ،جوبھی ان کے سامنے آئے گا ماراجائے گا ۔

شعیب بن صالح کی تعریف میں حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

( يخرج علی لواء المهدی غلام حديث السنَّ خفيف الحيه، اصفر ، لو قاتل الجبال لهزَّ ها حتیّٰ ينزل ايليا ) (والملاح و الفتن؛ ص ۵۳)

یہ ایک نوجوان ہوگا ہلکی داڑھی ، گندمی رنگ کا حامل ہو گا۔ اگر پہاڑ بھی اس کے مقابل آجائیں تو پاش پاش ہو جائے گا یہ سید حسن آگے بڑھتے ہوئے بیت المقدس تک پہنچ جائیں گے۔

یہ شخص حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا علمبردار ہو گا۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے بارے فرماتے ہیں :

( ورود الرايات السود مِن خراسان ، حتّيٰ تنزل ساحلَ دجله )

اس کا لشکر کا اصل مقصد اور ہدف ارض مقدس کو دشمنوں سے پاک اور صاف کرنا ہے۔

خراسانی لشکر اپنے اصل ہدف سے کبھی غافل نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ بیت المال مقدس کو دشمنوں سے پاک کرنے کے بعد دجلہ اور فرات تک پہنچ جائے گا۔

حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

سیاہ پرچم خراسان سے برآمد ہو کر دجلہ اور فرات میں داخل ہو گا۔

حضرت امام محمد باقر ؑفرماتے ہیں :

اس مقدس لشکر کے ساتھ ایرانی شیعہ اور مستضعف افراد خروج کریں گے اور ہدایت کے پرچم کو لے کر نخیلہ

کی طرف جائیں گے، اس دن لوگ حق پر جمع ہو ں گے اور تیس لاکھ افراد مارے جائیں گے۔

حضرت امیر المؤمنین ؑاس وقت کے حالات سے لوگوں کو باخبر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

( اذا رأيتم الريات السود فالز مواالارض لا تحرکوا ايديکم ولا ارجلکم ثم يظهر قوم صغارٌ لا يوبه لهم )

جب تم سیاہ پرچم دیکھو تو اس وقت زمین پر لیٹ جاؤ اور اپنے ہاتھ پاؤں بالکل نہ ہلاؤ پھر ایک چھوٹا سا گروہ ظاہر ہوگا جو بالکل مورد اعتماد اور توجہ کے قابل نہیں ہوگا۔

۲۴

حضرت امام مہدی(عج)کے ظہور کی غیر حتمی علامتیں

علائم غیر حتمی بہت سارے ہیں ہم یہاں پر چند ایک کو ذکر کرتے ہیں :

١۔ شدید قحط پڑنا۔

٢۔ نہر فرات کا جاری ہونا۔

٣۔ کوفہ خراب ہونے کے بعد دوبارہ آباد ہونا۔

٥۔ دنیا کی اکثر جگہوں پر زلزلہ اور طاعون کی بیماری پھیلنا۔

٦۔ قتل عام ہونا۔

٧۔ نجف کے دریا میں طغیانی پیدا ہونا۔

٨۔ مسجد براثا کا خراب ہونا ۔

٩۔ دنبالہ دارستارہ کا ظاہر ہونا۔

١٠۔ قوم عرب کا مطلق ا لعنان ہونا جو جہاں چاہے جائے اور جو چاہے کرے۔

حضرت امام رضا ؑکے کلام میں علائم ظہور

١۔ جھوٹے اماموں کا دعویٰ کرنا

٢۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں عجیب قسم کے واقعات رونما ہونا۔

٣۔ دوستی اور صلہ رحمی کا قطع ہونا اور معاشرے کے اندر اصول و اخلاص نامی چیز کا باقی نہ رہنا۔

٤۔ حالات اور واقعات کا نا امن ہونا۔

٥۔ دین کے اندر بہت ساری بدعتوں کا ظاہر ہونا۔

٦۔ مسلسل قتل و غارت کا بازار گرم ہونا۔

٧۔ لوگوں کا امن وسلامتی کی تلاش میں سرگرداں رہنا۔

٨۔ درد دل میں جلنا اور جلانا۔

۲۵

حضرت ولی اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کے وفادار

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

تین سو تیرہ (۳۱۳)یعنی اصحاب بدر کی تعداد کے برابر افراد آپؑ کے اردگرد جمع ہوں گے مثل شمشیر در غلاف جب خروج

کے وقت نزدیک ہوگا تو یہ سب آپؑ کے وفادار سپاہی آپؑ سے عرض کریں گے یا ولی اللہ قیام فرمائیےاور خدا کے دشمنوں کو ہلاک کریں ۔

حضرت امام رضا ؑفرماتے ہیں :

آنحضرت ؑ کے پاس ایسے خزانے موجود ہیں لیکن یہ خزانے سونا چاندی کے نہیں بلکہ بہترین قسم کی سواریاں اور بہترین سپاہی ہیں جن کاایمان اور شجاعت مشخص و معلوم ہے ان کے ہاتھوں میں ایسے پرچے ہونگے جن کے اوپر مہر لگی ہوگی۔ ان کے اوپر ان کی اصحاب کی تعداد اور ان کے شہروں کے اخلاق اور کردار کے بارے میں لکھا ہوا ہوگاان کے چہرے اور شکل و صورت اور کنیت سب درج ہونگے۔ یہ سب کے سب بہترین جنگی سپاہی ہونگے اورامام ؑ کی اطاعت اورپیروی کی تلاش میں ہمہ وقت تیار ہونگے۔ یہ لوگ سخت محنتی اور ہمت کرنے والے اور سب کے سب آپؑ کے فرمانبردار اور مطیع ہونگے۔

حضرت امام مہدی(عج)کے پیاروں اور یاروں کو خوش خبری

خوش قسمت وہ ہے جو اس سے ملاقات کرے۔

خوش قسمت وہ ہے جوآپ کو دوست رکھے۔

خوش قسمت وہ ہے جو آپ کی امامت کا قائل ہو۔

امام مہدیؑ اور خدا و رسول ؐپر اعتماد رکھنے کی خاطر اس گروہ کو ہلاکت سے نجات ملے گی۔ خداوند منان کے حکم سے ان کے لئے جنت کے دروازے کھول دئے جائیں گے ان کی مثال مشک و عنبر کی ہیں مشک و عنبر کی خاصیت یہ ہے کہ یہ اپنے خوشبوسے دوسروں کو معطر کرتے ہیں کسی تغیر و تبدل کےبغیر۔

غیبت کے زمانے میں منتظرین امام ؑکی ذمہ داریاں

غیبت کے دوران شیعوں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اس کے بارے میں بہت سے اقوال موجود ہیں یہاں تک کہ بعض کتابوں میں ۸۰سے اوپر ذمہ داریاں لکھی گئی ہیں جو امام زمان(عج)کے منتظرین میں پائی جانی چاہئے۔ ان تمام ذمہ داریوں کو ہم یہاں بیان نہیں کر سکتے ہیں فقط چند مہم و ظائف کی جانب اشارہ کریں گے۔

حجت خدا اور امام مہدی(عج)کی معرفت

ہر شیعہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے وقت کی حجت خدا اورامام زمان(عج)کی معرفت حاصل کرے تاکہ دشمنان اسلام و تشیع مختلف سوالوں کے ذریعے شبہہ پیدا نہ کر سکےں ۔

اگر ہماری معرفت مکمل اور مستحکم ہو تو ہم مؤمن حقیقی ثابت ہونگے اور دشمن کی کوئی طاقت ہمیں کمزور نہیں کر سکتی اور اگر ہماری معرفت مستحکم نہ ہو توہم دنیا کی باطل طاقتوں کے پروپیکنڈوں اور مختلف سوالوں کے سیلاب میں بہہ جائیں گے۔

اس صورت میں ہماری دنیا و آخرت دونوں خراب ہوجائے گی یعنی نہ ہم دنیا کے رہيں گے نہ آخرت کے۔ روایات میں ائمہ معصومین علیہم السلام کی معرفت کے حوالے سے اتنا زور دیا ہے کہ ملحدوں اور منافقوں کے جھوٹے دعووں سے پریشان نہ ہو جائیں اور ولایت و امامت کے حوالے سے بھی ثابت قدمی سے رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

اس حوالے سے امام کی معرفت کے لئے سب سے پہلے نام و نسب و صفات و خصوصیات کی شناخت و معرفت حاصل کرنا واجب ہے خاص طور پر دور جدید میں جھوٹے دعوے کرنے والے بہت نکلیں گے اورمختلف بہانوں اور حیلوں سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ لہذا امامؑ کے نسب اور خصوصیات سے آگاہی حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ یہاں اس ضمن میں ایک مہم نکتہ کی طرف اشارہ ضروری سمجھتا ہوں کہ حقیقی امام کی شناخت و معرفت صرف خدا کے لطف و کرم سے ہی ہو سکتی ہے لہذا بارگاہ خداوند میں دعا کی جائے کہ دشمن عناصر اور غلط پروپیکنڈے سے محفوظ رہیں ۔

تزکیہ نفس اور اخلاقی تربیت

ایک مہم وظیفہ اور ذمہ داری امام زمان(عج)کے منتظروں پر یہ عائد ہوتی ہے کہ وہ تزکیہ نفس اور اخلاقی تربیت سے آراستہ ہوں ، چنانچہ حضرت امام جعفر صادق ؑسے نعمانی نقل کرتے ہیں ۔جو شخص امام زمانہ ؑکے دوستوں میں سے ہونے کی تمنا رکھتا ہو اور اسی حالت میں مرجائے اوراس کے مرنے کے بعد امام زمان(عج)کا ظہور ہو جائے تو اس کا درجہ وہی ہوگا جس نے امام زمان(عج)کو درک کیا ہو، پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ خداوند عالم ہمیں بھی منتظرین واقعی میں قرار دے۔ تہذیب نفس ، گناہوں سے دوری ،برے اعمال انجام دینے سے پرہیز ایک ایسا موضوع ہے جو بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔حضرت امام عصر و الزمان ؑکی طرف سے جو توقیع مرحوم شیخ مفید کو عنایت ہوئی اس میں سر فہرست یہ ہے کہ میری غیبت کے طولانی ہونے کی ایک وجہ ہمارے شیعوں کا گناہوں سے دور نہ رہنا اور نامناسب اعمال بجا لانا ہے۔

( فما يحْسَبُنا عَنْهُم الّا ما يتصل بنا ممّا نکرهه ، ولا نؤثره منهم )

امام ؑسے قلبی محبت رکھنا

حضرت امام عصر( عجل اللہ فرجہ الشریف) سے قلبی لگاؤ اور محبت اس بات کا سبب ہے کہ امام سے کئے گئے عہدو پیمان کے پابندی کریں اور یہ احساس نہ کریں کہ امام تو غائب ہيں لہذا ہمارے اوپر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور معاشرہ میں کسی ذمہ داری اور مسؤلیت کے بغیر زندگی کریں ، بلکہ امام ؑ کے ماننے والوں پر دو برابر ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اسے دوسرے مسلمانوں سے زیادہ ذمہ دار شخص ہونا چاہیے تا کہ ہمارے اعمال اور کردار کی وجہ سے امام زمان(عج)خوش ہو جائیں اور معاشرہ بھی فلاح و بہبود سے آراستہ ہواور امام ؑ کے مدد گاروں میں اضافہ ہو۔ اس سلسلے میں ایک مؤمن پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسکا ایمان دوسروں کی نسبت زیادہ مضبوط اور مستحکم ہو۔

حضرت امام باقر ؑسے ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ خدا وند عالم کی اس آیت

( يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَرَابِطُوْا وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ )

کی ذیل میں فرما تا ہے:( اصبروا علیٰ اداء الفرائض صابروا عدّوکم و رابطوا اما مکم )

واجب چیزوں کے ادا کرنے میں صبر کرو،

دشمنوں کے مقابل میں مضبوط و مستحکم رہو،

اپنے امام کے ساتھ مخلصانہ رابطہ رکھو۔

اسی طرح حضرت امام جعفر صادق ؑبھی اسی آیت کی تفسیر کے ذیل میں فرماتے ہیں :

( اصبرو علیٰ الفرائض وصابرو ا علی المصائب ورابطوا علی الائم ہ )

انجام واجبات پر صبر سے کام لو!

مشکلات اور سختیوں میں صابر رہو

امام ؑسے رابطہ اور تعلقات میں مستحکم رہو۔

ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی روایات ایسی ہیں جن میں ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام نے شیعوں کو اپنے امام کے ساتھ کئے ہوئے عہدو پیمان پر وفادار اور پابند رہنے کی بہت تاکید فرمائی ہے اور ہم سے ہر روز بلکہ ہر نماز کے بعد دعائے عہد پڑھنے کی سفارش فرمائی ہے یہ ساری علامات شیعوں کو اپنے زمانے کے امام کے ساتھ مخلص و وفادار اور حجت خدا اور مرتبہ و مقام عظمائے ولایت سے رابطہ قائم و دائم رکھنے کی بہت سفارش کی گئی ہے۔

مشہور ترین دعائے عہد میں سے ایک دعا یہ ہے کہ جو مرحوم سید ابن طاؤس اپنی بہترین کتاب ”مصباح الزائر“ میں حضرت امام صادق ؑسے نقل فرمائی ہے :

( من دعا بهذا الدعا اربعين صباحاً کان من انصار قائم )

جو شخص چالیس دن تک اس دعاکو پڑھے تو وہ حضرت قائم ؑکے مدد گاروں میں سے ہو گا۔

اگر حضرت کے ظہور سے پہلے مر جائے تو خداوند عالم اس کو زندہ کرے گا۔ تاکہ وہ حضرت ؑ کے رکاب میں جہاد کرسکے اور ہر کلمہ کے بدلے میں اس کو ہزار حسنہ عنایت فرمائے گا۔ اس دعا کے مضمون کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ عبارت کو ہم یہاں نقل کریں گے۔

خداوند کریم کا ذکر اور محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرصلوٰت اور اپنے امام غائب پر درود و سلام کے بعد عبارت اس طرح سے ہے۔

( اللهم انی اجددله فی صبیحة یومی هذا وما عشت من ایّام حیاتی عهداً وعقداً وبیعة له فی عنقی لا احول عنها ولا از ول ابداً اللّهم اجعلنی من النصار واعوانه و الذابین عنه والمسارعین الیه فی قضاء حوائجه والممتشلین لا امره و نواهیه والمحامین عنه والسابقین الیٰ اراته والمستشهدین بین یدیه )

خداوندا ! مجھے اس کے یارومددگاروں ، اصحاب و انصار اور اس کے دفاع کرنے والوں میں سے اس کی طرف جلد جانے والوں اور ان کے اوامر پر عمل کرنے والوں ، اس کی طرف سبقت کرنے والوں اور اس کے رکاب میں لڑتے ہوئے شہید ہونے والوں میں سے قرار دے( آمین)۔

مذکورہ دعا کی عبارت پر توجہ کرنے سے یہ نتیجہ ملتا ہے کہ مفہوم ِ عہد و پیمان کس قدر اہمیت کے حامل ہے خصوصاً امام زمان(عج)اور حجت خدا کے ساتھ عہدو پیمان بڑی قدرو قیمت اور سنگین ذمہ داری ہے امام زمان علی ؑاور حجت خدا کی یاری و نصرت مخلصانہ اطاعت چاہتی ہے۔خداوند کریم کے امر و نہی کا لحاظ کرنا اور اس پر عمل پیرا ہونا خود ایک قسم کی نصرت و یاری امام زمان(عج)ہے۔

اگر شیعیان علی بن ابی طاب ؑہر روز اس دعا کی تلاوت کرتے رہیں اور اس دعا کے مفہوم و معنی پر توجہ دیتے رہیں تو ہر ذلت و رسوائی سے بچ سکتے ہیں ۔ظلم و بے عدالتی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور کبھی بھی گمراہی و ضلالت کے کنارے سیرو سفر نہیں کریں گے۔

۲۶

ظہور پُرنور حضرت حجت ؑکے لئے تیاری

حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے منتظرین کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ زمان و مکان کے حالات و واقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مکمل تیاری کے ساتھ چاہے وہ تیاری ذہنی ، فکری ، علمی ، معاشی ، معاشرتی ، سیاسی ، نظامی غرض یہ کہ جس طرح ممکن طریقہ سے ہو اپنے آپ کو آمادہ کرنا ہے۔ میرا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ شیعوں کے درمیان فکری لحاظ سے جس بلند فکری کی اہمیت ہونی چاہیے، کم نظر آتی ہے اس کی بنیادی وجہ اور علت یہ ہے کہ ایسے علماء اور دانشمندوں کی صحبت میں کم رہے ہیں جن سے فکری اور روحی غذا نصیب ہو جائے اور معرفت امام ؑ کے حوالہ سے اپنے آپ کو تیار کریں ۔

حضرت امام مہدی(عج)کے انتظار کی جزاء

حضرت امام باقر ؑفرماتے ہیں : جان لیجئے ! جو بھی امام زمان(عج)کے انتظار میں ہے وہ حق و عدالت کی حکومت کے قیام

کے درپے ہے اس کی مثال یوں ہے جس نے تمام عمر عبادت میں گزاری ہو اورپوری زندگی روزے رکھے ہوں ۔

حضرت امیرالمؤمنین علی ؑنے فرمایا: ہمیشہ ظہور کے انتظار میں رہو۔ خدا کی طرف سے رحمت اور فرج حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ،کیونکہ خدا کے نزدیک محبوب ترین عمل امام زمان(عج)کے ظہور کے انتظار میں رہنا ہے اس کے بعد مزید ارشاد فرمایا:جو بھی ہمارے فرزند کے فرج کے انتظار میں رہے گا۔ گویا وہ خدا کی راہ میں خون میں لت پت ہے۔

حضرت امام صادق ؑنے فرمایا: اے ابا بصیر ! خوش قسمت ہیں ہمارے شیعہ جو ہمارے قائم کی غیبت کے ظہور کا انتظار کرتے رہے امام زمان(عج)کی اطاعت اور پیروی کو اپنی گردنوں پر واجب جانا۔ یہی لوگ اولیاء خدا ہیں اور ان کے لئے قیامت میں کوئی حزن و غم نہیں ہوگا۔

۲۷

حضرت امام مہدی(عج)کے ظہور کی تعجیل کے لئے دعا

حضرت امام زمان(عج)کے ظہور کی دعا اور ان کی زیارت کرنا شیعوں کابہترین عمل سمجھا جاتا ہے اتنے بڑے پیمانے پر دعا و زیارت کی تاکید یقیناً خدا کی آخری حجت امام زمان(عج)کے ظہور انور میں خاص اہمیت کی حامل ہے اور ایک ایسی حکومت کی امید دلاتی ہے جو مکمل طور پر عدل وانصاف پر مبنی ہے۔ جس میں ظلم و ستم نابود ہو جائے گا۔ اس حوالہ سے بہت سی دعائیں نقل ہوئی ہیں جن میں سے چند ایک کا نام یہ ہیں :

دعائے ندبہ ، دعائے عہد ، دعائے سلامتی امام زمان ، زیارت آل یٰسین ، نماز صبح کے بعد حضرت کے لئے زیارت روز جمعہ حضرت امام زمان(عج)کی زیار ت اور دعا ، دعائے نیمہ شعبان ۔

دعا کے لئے مناسب مقامات:

مسجد کوفہ ،مسجدسہلہ، حرم حضرت امام حسین ؑ، مسجد حرام ، میدان عرفات، سرداب حضرت امام زمان(عج)، حرم ائمہ معصومین علیہم السلام ...۔

حضرت امام مہدی(عج)کیسے قیام فرمائیں گے؟

مفضّل نے حضرت امام صادق ؑسے پوچھا ! اے میرے آقا !

حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کہاں اور کیسے ظہور فرمائیں گے؟

حضرت امام صادق ؑنے فرمایا: اے مفضّل ! وہ تنہا ظہور کریں گے اور تنہا خانہ کعبہ کے پاس بیٹھیں گے اور تنہا رات وہاں گزاریں گے۔ جب سب لوگ سو جائیں گے ،صبح کے وقت جبرئیل ، میکائل اور فرشتوں کے گروہ آپ ؑکی خدمت میں حاضر ہوں گے، جبرئیل کہیں گے اے میرے سید و سرور! آپؑ کی بات قبول ہے آپؑ کا امر و حکم جائز ہے اس وقت آپؑ دست مبارک کو اپنے چہرہ انور پر پھیر یں گے اور فرمائیں گے: ساری تعریف اور حمد پروردگار علام کے لئے سزاوار ہے کہ جس نے اپنے وعدہ کو پورا فرمایا اور ہمیں روئے زمین کا وارث بنایا اور خدا وند عالم بہترین جزا دینے والا ہے ۔ (سورہ زمر؛ آیت۷۴)

اے گروہ نقباو خاصان ! خدا نے لوگوں کو میرے لئے ظہور سے پہلے ذخیرہ فرمایا ہے ابھی میں تم لوگوں کو حکم کرتا ہوں کہ میرے حکم کی تعمیل کرو اور اس صیحہ آسمانی کو سن لو جو پورے شرق و غرب عالم سے لوگ کہاں (کنار کعبہ) جمع ہو جائیں گے اور پلک جھپکنے کے اندر رکن و مقام کے درمیان جمع ہو جائیں گے ۔ (بحارلانوار؛ ج ۵۳ ، ص ۷)

سب سے پہلے حضرت ؑ کے ہاتھ بیعت کرنے والے

فِي كِتَابِ كَمَالِ اَلدِّينِ وَ تَمَامِ اَلنِّعْمَةِ بِإِسْنَادِهِ إِلَى أَبَانِ بْنِ تَغْلِبَ قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : أَوَّلُ مَنْ يُبَايِعُ اَلْقَائِمَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ جَبْرَئِيلُ ، يَنْزِلُ فِي صُورَةِ طَيْرٍ أَبْيَضَ فَيُبَايِعُهُ ثُمَّ يَضَعُ رِجْلاً عَلَى بَيْتِ اَللَّهِ اَلْحَرَامِ وَ رِجْلاً عَلَى بَيْتِ اَلْمَقْدِسِ ، ثُمَّ يُنَادِي بِصَوْتٍ ذَلِقٍ تَسْمَعُهُ اَلْخَلاَئِقُ: ( أَتىٰ أَمْرُ اَللّٰهِ فَلاٰ تَسْتَعْجِلُوهُ ) (سورہ النحل آیت ۱)

”امر الٰہی آگیا ہے لہذا اب بلاوجہ جلدی نہ مچاؤ“

حضرت امام صادق ؑنے فرمایا: حضرت قائم ؑکے مبارک ہاتھوں میں سب سے پہلے جو بیعت کرے گا وہ حضرت جبرئیل ؑہو گا۔ جو سفید مرغ کی شکل میں نازل ہو جائیں گے اور حضرت قائم ؑکے مبارک ہاتھوں میں بیعت کریں گے اس وقت آپؑ اپنے قدم مبارک کو کعبہ میں رکھیں گے اور دوسرے قدم کو بیت المقدس میں رکھیں گے اور بلند آواز میں فرمائیں گے۔

(أَتىٰ أَمْرُ اَللّٰهِ فَلاٰ تَسْتَعْجِلُوهُ) (سورہ النحل آیت ۱) یہ آواز پوری دنیا کو سنائی جائے گی۔

حضرت ؑکے پروگرام تلوار کے سایہ میں :

حضرت امام باقر ؑفرماتے ہیں : قائم آل محمد علیہم السلام پانچ پیغمبروں سے شباہت رکھتے ہیں ، سب سے پہلی شباہت اپنے جد گرامی حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تلوار کے حوالہ سے قیام فرمائیں گے تاکہ خدا کے دشمن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن ، ظالم ، جبار اور سرکش افراد کو قتل کریں ۔ (کمال الدین ، ج ۷، ص ۴۲۷)

حضرت امام زمان(عج)کے حتمی کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ تمام ظالموں اور جابروں سے جنگ کریں گے۔ تاریخ بشریت کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو تی ہے جب تک خون ریزی اور فساد کے تمام اسباب کو راستے سے نہ ہٹائے جائیں اس وقت تک ترقی کرنا ممکن نہیں ہے اخلاقی تعلیم اور اصولوں کی تربیت اگرچہ اچھے نتیجہ کے حامل ہے لیکن ہم اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں اچھے افرادکی موجودگی کے باوجود جب طاقت کے زور پر ، دنیاپرست اور ظالم جب ان کے سیاسی و اقتصادی ، نظامی معاشرہ میں خطرہ میں پڑجائیں تو اس وقت ان صالح افراد کی نصیحت اور وعظ سے ان کے اوپر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے لہذا ان کوراستے سے ہٹانے کے لئے دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑے گا تا کہ معاشرہ امن و سلامتی اور آزاد طریقے سے ترقی ہو سکے۔اسی دلیل کے بناء پر مسئلہ جنگ کو بہ عنوان ایک ہدف اور ضرورت کے طور پر استعمال کریں گے۔تاکہ ظلم و ظالم ، جابر ، دہشت گرد ، استکبار اور طاغوت کو اپنی جگہ بٹھائیں اور معاشرہ کے اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، امنیت ، صلح و صفائی اپنی جگہ برقرار رہیں اور معاشرہ کے لئے آزاد انہ طور طریقوں سے معاشرہ کی خدمت کرنے والے اور امن و سلامتی کے حوالہ سے اپنی سعی و کوشش کو جاری و ساری رکھ سکیں ۔

تاریخ انبیاء علیہم السلام کو بھی ہم دیکھتے ہیں جنگ و جدل سے پُرہے ظالم اور ستمگروں اور طاغوت زمان فرعون ، نمرود ، ہامان ، وغیرہ سے جنگ ہوتی رہی اسی لئے علامہ اقبال ؒ کہتے ہیں :

موسیٰ ؑ و فرعون و شبیر ؑ و یذید + این دو قوت از حیات آمد پدید

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلی وسلم مرکز رحمت اور معلم اخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ کفر و طاغوت سے ۸۳جنگیں لڑیں ،حضرت علی ؑ، حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑاور حضرت ابا عبد اللہ الحسین ؑنے بھی ظلم و ستم کے خلاف خدا کی راہ میں اور معاشرہ کو ظلم و بربریت سے نجات دلانے کے لئے ظالم اور طاغوتیوں سے جنگ کیں ۔

حضرت امام مہدی(عج)بھی اسی طرح انبیاء علیم السلام کی سیرت و صورت کو جاری و ساری رکھنے کے لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی راہ و روش کو قائم و دائم اور معاشرہ میں نافذ کرنے کے لئے عالمی استکبار اور ظلم و ستم کرنے والے ظالموں اور دہشت گردوں کو نابود کرنے کےلئے جنگ فرمائیں گے۔

مساوات و برابری

حضرت امام باقر ؑفرماتے ہیں : حضرت امام زمان(عج)مال کو برابر تقسیم کریں گے ، نیک اور برے لوگوں کے درمیان عدالت سے پیش آئیں گے، حضرت امام زمان(عج)کے پروگراموں میں سے ایک پروگرام مساوات کا اجراء ہے اسلام دین مساوات و برابری کا نام ہے حضرت امام مہدی(عج)روئے زمین پر عدل و مساوات اس طرح اجراء فرمائیں گے کہ انسان تو انسان، چرند، پرند ، حیوانات ، نباتات اور دنیا کے تمام ذی روح امام مہدی(عج)کے مساوات سے فائدہ اٹھائیں گے ایسا فائدہ جس کا تصور تک انسان نہیں کرسکتا ہے قانون سب کےلئے یکساں ہو گا فقیر ہو یا امیر ، طاقتور ہو یا کمزور اسی طرح سیاہ ہو یا سفید، ملازم ہو یا آفسیر ، نوکر ہو یا آقا سب ایک ہی زمرے میں آئیں گے۔

ایک اہم بات بیت المال کی تقسیم ہے ۔بیت المال میں قومی صنعت و تجارت ، قومی معدنیات وغیرہ ہیں غرض ہر وہ مال جو قومی سطح پر حکومتوں کے پاس موجود ہے یہ سب لوگوں کے درمیان تقسیم کئے جائیں گے حضرت امام مہدی(عج)کی حکومت کوئی امتیازی عہدہ نہیں ہو گا مثلاً یہ صدر ،وہ وزیر اعظم ، یہ وزیر خارجہ ،وہ وزیر داخلہ وغیرہ بلکہ بڑے بڑے وزیر و وزراء عام لوگوں کی سطح سے نیچے زندگی کریں گے اور لوگوں کے خدمت گزار ہو ں گے۔ وزیر و وزراء عقل اور ایمان کی بنیاد پر ہوں گے جس کا ایمان اور عقل سب سے کامل تر ہو۔ امام مہدی(عج)کے ظہور کے بعد کوئی جنگ و جدل ، اختلافات ، فساد اور چور ی نہیں ہوگی۔ سارے انسان بھائیوں کی طرح رہیں گے ایک دوسرے کی محبت اور مدد کرنے کی فکر میں رہیں گے طاقت ور ، کمزوروں کی مدد کریں گے اور ان کی مشکلات کو حل کریں گے ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کریں گے اس عرصے میں تمام انسان ایک ہی گھر کے افراد کی طرح رہیں گے ۔لوگوں کے رابطے اور تعلقات، محبت اور دوستی کی بنیاد پر ہوں گے۔ یہ بات معاشرہ اور انسانی سماج کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہوں گی۔ لوگوں کے چہروں سے دوستی ، محبت اور اخلاص نظر آئیں گے اور یہ سب کچھ حکومت امام مہدی(عج)کے ذریعے انجام پائیں گے۔

مستضعفین کی حکومت

حضرت امیر المؤمنین علی بن طالب ؑفرماتے ہیں :

یہ روئے زمین پر مستضعفین کی میراث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان میں سے ہیں کہ خداوندعالم سختیوں اور مشکلات کے بعد مہدی(عج)کو ظہور فرمائیں گے اور ان کمزوروں کو عزت بخشیں گے اور ان کے دشمنوں کو ذلیل و خوار فرمائیں گے۔ زمین پر مستضعفین اور محروموں کی حکومت قا ئم کریں گے۔ آپؑ کے ظہور پُر نور کے بعد ظالموں اور ستمگروں کو ٹھکانے لگانے کے بعد جو کمزوروں کے راہ میں ہمیشہ روڑے اٹکاتے رہتے تھے تمام حکومتی ذمہ داریاں اور عہدوں کو ان کمزوروں اور مستضعفین کو دیئے جائیں گے گویا کہ غریب اور فقیر لوگ اس معاشرہ پر حکومت کریں گے دیگر ظالم و ستمگر نامی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ یہ وہ اعلیٰ اہداف تھے جن کے لئے تمام انبیاء علیہم السلام اور مرسلین نے سختیاں برداشت کیں ، صبرو تحمل سے کام لیا ، سارے ائمہ معصومین علیہم السلام اسی مقصد کے لئے جد وجہد کرتے رہے یہاں تک وہ اس مقدس راہ میں شہید ہو گئے۔

انسانوں کی ذہنی اور فکری تربیت

حضرت امام باقر ؑفرماتے ہیں :

جب قائم ؑ قیام فرمائیں گے اس وقت خدا وند عالم لوگوں کی فکری قوت کو بڑھائیں گے اور ان کے اخلاق کو کامل کریں گے، حضرت امام زمان(عج)کے پروگراموں میں ایک پروگرام انسانی فکر کی تربیت کرنا ہے تاکہ ان کی رشد فکری و عقلی کامل ہو جائیں ۔ صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے اچھے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے لہذا تمام اچھے اقتصادی ، سیاسی، جنگ ، صلح ، نظم ، بد نظمی ، نیکی و بدی وغیرہ سب انسانوں سے مربوط ہیں لہذا حضرت امام زمان(عج)معاشرے کا سارا نظام اچھے اور نیک بندوں کے سپرد کریں گے۔

بیس احادیث امام زمان(عج)کے بارے میں

مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ بیس احادیث کو بھی جو امام زمان(عج)سے متعلق ہیں یہاں پر نقل کرتا ہوں تاکہ مؤمنین زیادہ سے

زیادہ آگاہی اور نفع حاصل کرسکے ۔ کتاب کے آخر میں تنوع کے طور پر کچھ اشعار آقا ومولا حضرت حجۃابن الحسن روحی وارواح العالمین لہ الفداء کے بارے میں درج کیا ہے خداوند منان اس سعی قلیل کو قبول ومقبول فرمائے۔

حدیث نمبر ١:

عَنْ سُلَيْمَانَ اَلْجَعْفَرِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا اَلْحَسَنِ اَلرِّضَا عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قُلْتُ تَخْلُو اَلْأَرْضُ مِنْ حُجَّةِ اَللَّهِ قَالَ لَوْ خَلَتِ اَلْأَرْضُ طَرْفَةَ عَيْنٍ مِنْ حُجَّةٍ لَسَاخَتْ بِأَهْلِهَا ۔ ( کمال الدین صدوق، ص ٢٠٤)

سلیمان جعفری کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوالحسن الرضا ؑکی خدمت میں عرض کیا:

کیا زمین حجت خدا سے خالی ہو سکتی ہے؟

آپ ؑ نے فرمایا: اگر زمین پلک جھپکنے کی مدت تک کے لئے بھی حجت خدا سے خالی ہو جائے تو وہ اپنے مکینوں کو نگل جائے گی۔

٭ کسی قسم کے شک و شبہ کے بغیر اس زمانہ میں زمین پر اللہ کی حجت ،حضرت ابا صالح المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف، بارہویں امام، قائم آل محمدؐ ہیں ۔ حضرت امام ہشتم ؑکے فرمان کے مطابق زمین پر زندگی بسر کرنے والی تمام مخلوق خدا(انسان ہو حیوانات، نباتات ہوں یا جمادات ) حجت خدا کے وجود مبارک کی برکت سے زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ انہیں کے طفیل میں خداوند عالم ہم کو روزی دیتا ہے اور ہم لوگ اس کے مقدس سایہ میں اللہ کے لطف و کرم سے بہرہ مند ہو رہے ہیں ۔

حدیث نمبر ٢:

عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ اَلرِّضَا عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَقُولُ: إِنَّ اَلْأَرْضَ لاَ تَخْلُو مِنْ أَنْ يَكُونَ فِيهَا إِمَامٌ مِنَّا ۔ (کمال الدین صدوق:ص ٢٢٨)

صفوان بن یحیٰ کہتے ہیں : میں نے حضرت امام رضا ؑسے سنا کہ آپ ؑ نے فرمایا:

زمین ہمارے خاندان کے امام کے وجود سے خالی نہیں رہ سکتی۔

٭ امامؑ کے وجود مبارک سے زمین کاخالی نہ رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات میں حجت خدا کا وجود کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔

٭ خداوند عزوجل کبھی بھی اپنے بندوں کو امام کے بغیر نہیں چھوڑتا اور یہ سنت کبھی بھی بدل نہیں سکتی ۔

حدیث نمبر ٣:

عَنِ اَلْفُضَيْلِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ: مَنْ مَاتَ وَ لَيْسَ لَهُ إِمَامٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَ لاَ يُعْذَرُ اَلنَّاسُ حَتَّى يَعْرِفُوا إِمَامَهُمْ. (کمال الدین صدوق:ص٤١٢)

فضیل بن یسار کہتے ہیں : ابو جعفر حضرت امام باقر ؑفرماتے ہیں : امام معصومؑ جسے خداوند عالم نے لوگوں کی ہدایت کے لئے خلق فرمایا ہے جو بھی ان کی پیروی اور اطاعت کے بغیر مرجائے تو وہ جاہلیت اور مشرک کی موت مرتا ہے ۔ اس سلسلے میں لوگوں کا کوئی بھی عذر اور بہانہ امام ؑ کو درک نہ کرنے کے حوالے سے کبھی بھی قابل قبول نہیں ہے۔

موحد اور یکتا پرست وہ شخص ہے جس کے تمام اعمال اور کردار خالق زمین و آسمان کے حکم کے مطابق ہوں ۔ خداوند عالم کے فرامین، پیغمبران الٰہی اور امام معصومؑ کے علاوہ کوئی اور لوگوں کو ابلاغ نہیں کرتا ہے۔

٭ ہواوہوس کی پیروی اور غیر حجت خدا کی اطاعت شرک اور بت پرستی ہے۔

٭ حضرت آدم ؑسے لے کر خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام انبیاء ؑ خدا کی طرف سے بار نبوت کے حامل تھے۔ رسالت و نبوت کی سنگین ذمہ دا ریاں رکھتے تھے تا کہ خدا کی امانت و رسالت کو لوگوں تک پہنچانے میں کوئی غلطی نہ ہونے پائے۔ اور امامؑ کی معرفت اور پہچان میں ان کا نام،لقب اور مدت عمر تک بیان فرمائی۔

٭ حضرت بقیہ اللہ الاعظم ، حجت ابن الحسن العسکری ؑکو تمام پیغمبروں اور اماموں نے ان کی تمام خصوصیات کے ساتھ لوگوں کو متعارف کرایا۔

٭ مذکورہ حدیث کے معنیٰ و مفہوم سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ امام زمان(عج)کی پہچان اور معرفت سب پر واجب ہے کیونکہ مسلمانوں کی عبادت ولایت کو قبول کئے بغیر بارگاہ خداوندی میں قبول نہیں ۔

حدیث نمبر ٤:

عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: قُلْتُ لَهُ تَكُونُ اَلْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ وَ حُجَّةٍ:

قَالَ: لاَ

قُلْتُ: فَيَكُونُ إِمَامَانِ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ ؟

قَالَ: لاَ إِلاَّ وَ أَحَدُهُمَا صَامِتٌ لاَ يَتَكَلَّمُ

قُلْتُ: فَالْإِمَامُ يَعْرِفُ اَلْإِمَامَ اَلَّذِي بَعْدَهُ

قَالَ: نَعَمْ

قُلْتُ : اَلْقَائِمُ إِمَامٌ قَالَ إِمَامٌ اِبْنُ إِمَامٍ قَدِ اِئْتَمَّ بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ

( کمال الدین صدوق:ص ٢٢٣)

حسین بن ابی العلا ء کہتے ہیں : میں نے حضرت امام جعفر صادق ؑکی خدمت میں عرض کیا :

کیا زمین بغیر امام کے رہ سکتی ہے؟

آپؑ نے فرمایا: نہیں !

عرض کیا ؟ کیا ایک وقت میں دو امام ہو سکتے ہیں ؟

آپؑ نے فرمایا: نہیں ! مگر یہ کہ ان دو میں سے ایک خاموش رہے۔

عرض کیا ؟ کیا امام اپنے بعد والے امام کی لوگوں کے سامنے معرفی کرتا ہے ؟

آپؑ نے فرمایا: جی ہاں !

عرض کیا گیا؟ کیا قائم آل محمد(عج) امام ہیں ؟

آپؑ نے فرمایا: جی ہاں ! امام ہیں اور امام کے بیٹے ہیں ۔

٭ ہر زمانے میں کسی ایک معصوم کی زندگی میں معمولاً دوسرے معصوم بھی زندگی کرتے رہے،ایک ہی وقت میں حضرت امیر المو، منین علی ؑ، امام حسن مجتبیٰ اور امام حسین علیہم السلام بھی زندگی کرتے تھے اورسب کے سب ائمہ حق تھے اور زمان پیغمبر اکرم ؐ میں موجود تھے لیکن پیغمبر اکرمؐ کی موجودگی میں یہ تینوں امام، خاموش (ساکت و صامت)رہتے تھے اس سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ یہ لوگ امام معصوم نہیں تھے، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے دو سو بیس(۲۲۰ ھجری قمری) سے آج تک قرآن ناطق حضرت حجت ابن الحسن العسکری،امام زمان(عج)امامت کے عظیم عہدے پر فائز ہیں آپؑ کے آنے سے پہلے بھی تمام پیغمبران الہٰی اور ائمہ معصومین علیہم السلام نے آپؑ کی تائید فرمائی ہے۔

حدیث نمبر ٥:

۔۔۔ فی قول الله عزّول:( اِنَّمَاۤ اَ نْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍ)فقال: الباقر(علیه السلام) إِمَامٌ هَادٍ لِکُلِّ قَوْمٍ فِی زَمَانِهِمْ ؟ (سورہ رعد آیۃ ٧) (کمال الدین صدوق ٦٦٧)

محمد ابن مسلم کہتے ہیں : حضرت امام صادق ؑکی خدمت میں عرض کیا ؟

خداوند متعال کا فرمان کہ ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے کے بارے میں آپؑ کیا فرماتے ہیں ؟

تو آپؑ نے فرمایا: ہر امام اپنے زمانے کے لوگوں کا ہادی ورہبر ہوتا ہے۔

٭ خداوند عالم جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

٭ امام زمان(عج)جو کہ خدا کے خلیفہ برحق ہیں وہ بھی اللہ کی دی ہوئی قدرت سے جس کو چاہیں ، ہدایت کرسکتے ہیں ۔

٭ حضرت امام زمان(عج)کے شیعوں اور دوستوں کو تمام امور میں آپؑ سے متوسل رہنا چاہیے، گناہوں اور خطاؤں سے دوری اور گمراہی سے نجات حاصل کرنے کے لئے حضرت امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے ہدایت اور مدد کی درخواست کرنی چاہیے۔

حدیث نمبر ٦:

عن أبی ا لجا رود، عن جابر بن عبد الله الانصاری قال:

دخلت علیٰ فاطمة علیها السلام و بین یدیها لوحٌ فیه اسماءُ الأوصیاء من وُلدها ، فعددت اثنیٰ عشر ، آخرُهم القائم ثلاثة منهن محمد و ثلاثة علی (اصول کافی، ج ١ ص٢٣٥)

ابو جارود نے جابر ابن عبداللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک لوح آپؑ کی خدمت میں موجود تھی جس پر پیغمبر اکرم ؐ کے جانشینوں کے نام درج تھے میں نے انہیں گنا تو وہ بارہ ۱۲ نفر تھے ان کے آخری حضرت قائم ؑتھے ان میں سے تین کا نام محمدؑ تھے اور تین کا نام علیؑ تھا۔

٭ معصوم امام خدا کے منتخب بندے ہیں جو حضرت آدم ؑکی تخلیق سے پہلے وجود میں آئے ہیں ۔

٭ چونکہ گیارہ نفر پیغمبر اکرم ؐ کے اوصیاء حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے فرزندوں میں سے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐ کےجانشین حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے اولاد میں سے ہیں ۔

٭ جیسا کہ حدیث میں کہا گیا تین علی سے مراد ؛ امیر المو،منین علی ؑچونکہ حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی اولاد میں سے نہیں ہیں اس لئے انہیں حساب نہیں کیا ہے وگرنہ چار علی ہوتے۔

حدیث نمبر ٧:

عن مسعدة بن صدقة، عن ابی عبد الله ، عن آبائه ، عن علیّ انّه قال له علیٰ منبر الکوفة:

اللهم انّه لا بُدّ لأرضک من حجة لک علیٰ خلقک ، یهدیهم الیٰ دینک ، ویعلّمهم علمک لئلّا تبکطُل حجتُک ، ولا یضلّ أتباعُ اولیائک بعد اذ هدایتهم به ، امّا ظاهرٌ لیس بالمطاع ،أومکُتَتَمٌ مترقّبٌ ان غاب عن النّاس شخصه فی حالٍ هدایتهم، فأنَّ علمه و آدابه فی قلب المومنین مبثبتة ، فهم بها عاملون ( کمال الدین صدوق ٣٠٢)

مسعدہ بن صدقہ کہتے ہیں : حضرت امام صادق ؑاپنے اجداد طاہرین حضرت امیر المؤمنین علی ؑسے نقل فرماتے ہیں :

حضرت امیرالمؤمنین علی ؑنے مسجد کوفہ کے منبر سے ارشاد فرمایا:

پروردگارا! تیری ، زمین تیری حجّت سے خالی نہیں اور امام تیری طرف سے لوگوں کی ہدایت کرتا ہے تاکہ آپ کی دلیل اور برہان باطل نہ ہو جائے اور تیرے ولی کی اطاعت کرنے والے ایسے ہدایت یافتہ ہیں جو کبھی بھی گمراہ نہیں ہونگے۔

٭ معارف اور احکام کا علم دین خدا کے علوم میں سے ہے جو خدا کے فرستادہ بندوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

٭ خداوند عالم قیامت کے دن اپنے بندوں سے سوال نہیں کرے گا مگر یہ کہ ان تعلیمات کو حجت خدا کے ذریعے واضح اور روشن طریقے سے ان تک پہنچا یا ہو۔

٭ قرآن مجید اور تاریخ بشریت اس بات کی گواہ ہے کہ ہر زمانے میں لوگوں کی قلیل تعداد نے پیغمبروں اور اماموں کی اطاعت اور پیروی کی ہے۔

٭ حضرت امام عجل اللہ تعلیٰ فرجہہ الشریف

( اِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ اِمَّا شَاکِرًا وَ اِمَّا کَفُورًا ) (سورہ الدھر آیت ۳)

کی بنیاد پر خدا کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے مأمور ہیں اس دوران اگر کوئی ہدایت یافتہ ہو گیا تو بقول حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام” بنا اہتدیتم “ ہمارے توسط سے ہدایت یافتہ ہوا ہے، یقیناً ہادی اور رہنما

( نوراً الله الذی لا یطفؤا )

ہیں جوکہ خاتم الاوصیاء، حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف کی ذات گرامی ہے۔

حدیث نمبر ٨:

عن ابی الحسن اللّیثی قال: حدّثنی جعفر بن محمد ، عن آبائه علیهم السلام أن النّبیّ(صلی الله علیه وآله وسلّم) قال:انّ فی کلّ خلفٍ من اُمّتی عد لاً من أهل بیتی ینفی عن هذا الذین تحریف العالمین و أنتعالَ المبطلین و تأویل المجاهلین ، وانّ أئمّتکم قادتکم الی الله عزّوجلّ ، فانظروا بهنّ تقتدون فی دینکم وصلاتکم (کمال الدین صدوق٢٢١)

ابو الحسن لیثی کہتے ہیں : حضرت امام صادق ؑاپنے اجداد طاہرین ؑ سے فرداً فرداً نقل فرماتے ہیں :کہ پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا:

میری امت کے ہر آنے والی نسل میں ہم اہلبیتؑ میں سے ایک امام عادل ضرور ہو گا تحریف کرنے والوں نے اہل باطل اور غلط لوگوں سے مختلف غلط اقوال اور جھوٹی باتیں دین میں شامل کر لی ہیں ۔

٭ ادیان الہی ہمیشہ دنیا پرستوں کے ذریعے تحریف کا شکار ہو تے رہے ہیں دنیا پرست اپنے خیال خام میں دین کی ہر روز ایک نئی تعبیر و تشریح کرتے رہتے ہیں اور اسی عنوان کے تحت اپنے مقصد اور ہدف کے لئے آیات قرآن کی تفسیر کرتے ہیں (تفسیر بالرائے) بحر حال آیات الٰہی کا علم صرف اور صرف امام زمان(عج)کے پاس ہے۔

حدیث نمبر ٩:

عن غیاث بن ابراهیم ، عن الصادق جعفر بن محمد عن أبیه محمد بن علی ، عن ابیه علی بن الحسین ، عن أبیه الحسین بن علی علیهم السلام قال:

سئل امیر المؤمنین صلوٰت الله علیه ، عن معنیٰ قول رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم انّی نخلّفٌ فیکم الثّقلین کتاب الله وعترتی؛ من العترة؟

فقال: أنا والحسن والحسین والأئمّة التسعة من وُلد الحسین ، تاسعهم مهدیّهم وقائمهم ، لا یُفارقون کتاب الله ، ولا یُفارقهم حتّیٰ یردُوا علیٰ رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم حوضه (کمال الدین صدوق٢٤٠)

غیاث بن ابراہیم کہتے ہیں : حضرت امام جعفر صادق ؑاپنے آباء و اجداد طاہرین سے نقل فرماتے ہیں :

حضرت امیر المؤمنین ؑسے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان :

( انّی تارکم فیکم الثقلین ......) میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اللہ کی کتاب اورعترت” کے بارے میں پوچھا گیا،عترت کون لوگ ہیں ؟

حضرت امیر المؤمنین ؑنے فرمایا” میں ،حسنؑ ، حسین ؑ نو ٩ امام معصوم علیہم السلام جو امام حسین ؑکی نسل سے ہیں کہ ان میں نویں ان کے مہدی اور قائم ہیں یہ لوگ کتاب خداسے اور کتاب خداان سے ہرگز جدا نہیں ہونگے یہاں تک کہ پیغمبر اکرم ؐ کے پاس حوض کوثر تک پہنچ جائیں ۔

٭ حضرت امام زمان مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف پیغمبر اکرم ؐ کی باقی ماندہ عترت میں سے ہیں ۔

٭ یہ عظیم شخصیت قرآن سے ہرگز جدا نہیں ہو گی اور نہ ہی قرآن ان سے جدا ہوگا۔ وہ در حقیقت قرآن ناطق ہیں ۔

٭ خداوند منان نے ہمارے لئے جو کچھ امر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی پیروی کریں حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف کی امامت کے ساتھ ،تنہا قرآن کی پیروی کا حکم نہیں دیا۔

٭ قرآن ہرگز امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف سے جدا نہیں ہے پس وہ لوگ جو امام زمان(عج)کے بغیر قرآن کی پیروی کرتے ہیں وہ ہدایت کے راستے سے ہٹ چکے ہیں اور ایک قسم کی گمراہی میں گرفتار ہیں ۔

حدیث نمبر ١٠:

عن أبی بصیر، عن الصّادق جعفر بن محمد آبائه علیهم السلام قال: قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم: المهدیُّ من وُلدی ، اسمه اسمی ، وکنیته کنیتی ، أشبه النّاس بی خلقاً ، وخلقاً ، تکون له غیبة و حیرة حتّیٰ تضلّ الخلق عن أدیانهم ، فعن ذٰ لک یقبل کالشّهابِ الثّاقب فیملأها قسطاً وعد لاً کما ملئت ظلماً وجوراً ۔ ( کمال الدین صدوق )

ابو بصیر کہتے ہیں :حضرت امام جعفر صادق ؑنے اپنے والد گرامی سے نقل کیا ہے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:مہدی منتظر میرے فرزندوں میں سے ہیں ان کا نام میرا نام اور انکی کنیت میری کنیت ہو گی وہ خَلق وخُلق میں تمام لوگوں کی نسبت مجھ سے زیادہ مشابہ ہيں۔ اس کی غیبت اس قدر حیرت آور ہو گی کہ لوگ دین سے باہر نکل جائیں گے اس وقت مہدیؑ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ظہور فرمائیں گے ، پھر وہ زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح پُر کریں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

حدیث نمبر ١١:

عن اسحاق بن عمّار قال: قال ابو عبدالله علیهم السلام: للقائم غیبتان: احدهما قصیرة الأخریٰ طویلة:الغیبة الأولیٰ لا یعلمُ بمکانه فیها الّا خاصّة شیعته، ولأخریٰ لا یعلم بمکانه فیها الّا خاصّة موالیه ( اصول کافی ج١ ، ص ٣٤٠)

اسحاق بن عمّار نے کہا: حضرت امام جعفر صادق ؑنے فرمایا:

حضرت قائم آل محمد عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف کے لئے دو غیبتیں ہیں ١۔ غیبت صغریٰ ٢۔ غیبت کبریٰ

ایک مختصر،دوسری طولانی ۔پہلی غیبت میں ان کے خاص شیعوں کے علاوہ لوگ ان کی جگہ اور قیام گاہ کو نہیں جانتے تھے، اور دوسری غیبت میں ان کی قیام گاہ کو کوئی نہیں جانتا ہے۔

٭ خوش قسمت ہیں وہ حضرات جو حضرت قائم امام زمان(عج)کی قیام گاہ ،وحی کے نزول کی جگہ اور فرشتوں کے آمدورفت کے مقام سے آگاہ ہیں ۔

این سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائ بخشندہ

حدیث نمبر ١٢:

عن أبی هاشم داؤد بن القاسم الجعفری قال: سمعت أبا الحسن صاحب العسکری یقول:الخلف من بعدی ، أبنیّ الحسن ، فکیف لکم بالخلف من بعد الخلف؟

فقلت: ولِمَ ، جعلنی الله فداک؟

فقال: لأنّکم لا ترون شخصه ولا یحلُّ لکم ذکرُه باسمه ،

قلت: فکیف تذکره؟

قال: قولوا: الحجّة من آل محمد صلی الله علیه وآله وسلم (کمال الدین صدوق٣٨١)

داؤد بن قاسم کہتے ہیں : حضرت ابو الحسن الہادی ؑسے سنا کہ آپ ؑ نے فرمایا میرا جانشین میرے بعد میرے بیٹے حسنؑ ہیں میرے جانشین کے جانشین کے ساتھ کیا کریں گے؟

میں نے عرض کیا ! میری جان آپؑ پر قربان ہو جائے ! یہ کیسا سوال ہے؟

آپؑ نے فرمایا ! تم ان کو نہیں دیکھ سکو گے اور تمہارے لئے ان کے خاص نام لیکر یاد کرنا جائز نہیں !

عرض کی! مولا ! پھر کیسے ان کو یاد کریں ؟

آپؑ نے فرمایا: کہو ! حجّت آل محمدؐ۔

٭ ہم آج حضرت امام زمان ، حجت ابن الحسن المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہہ الشریف کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھیں ، جبکہ ہم آپؑ کو نہیں دیکھتے اور ہمیں حق حاصل نہیں ہے کہ ہم انہیں ان کے مقدس نام جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمنام ہیں سےپکاریں ۔

حدیث نمبر ١٣:

عن عبد السلام بن صالح هروی قال:سمعت دعبل بن علی الخزاعی یقول: أنشدت مولای الرضا علی بن موسیٰ قصیدتی الّتی أوّلها:

مدارس آیاتٍ خلّت من تلاوة

ومنزل و حیٍ مقفر العرصات

فلمّا انتهیت الیٰ قولی !

خروج امام لا محالة خارجٌ

یقوم علی اسم الله ولبرکات

یمیّز فینا کلّ حقٍّ و باطلٌ

ویجزی علی النّعماء ولنّقمات

بکی الرّضا بُکائً شدیداً، ثمّ رفع رأسه الیّ فقال لی:

یا خزاعیُّ نطق روح القدس علیٰ لسانک بهذین البیتین ، فهل تدری من هذا الأمام ومتیٰ یقوم ؟ فقلت:لا یا مولای الّا انّی سمعت بخروجٍ امامٍ منکم یطهر الأرض من الفساد و یملأها عدلاً(کما ملئت جوراً)

فقال: یا دعبل الأمام بعدی محمدٌ ابن ، وبعد محمدٍ ابنه علیّ ٌ ، وبعد علیٌّ ابنه الحسن ، وبعدالحسن ابنه الحجة القائم المنتظر فی غیبته ، المطاع فی ظهوره ، لو لم یبق من الدّنیا الّا یومٌ واحدٌ لطوّ ل الله عزّوجل ذٰالک الیوم حتّیٰ یخرج فیملأ الأرض عدلاًکما ملئت جوراً (کمال الدین باب ٣٥ حدیث ٦)

عبد اللہ بن صالح ہروی کہتے ہیں : میں نے دعبل خزاعی سے سنا کہ انہوں نے کہا :میں نے مولا و آقا حضرت ابولحسن الرضا علیہ آلاف التحیۃ والثنا کی شان میں ایک قصیدہ کہا ہے جس کا پہلا مصرع یہ تھا:

مدارس آیاتٍ خلَت من تلاوة ومنزل و حیٍ مقفر العرصات

“ اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گھر جو محل تدریس آیات الٰہی تھا۔ ابھی تلاوت سے خالی پڑا ہوا ہے۔ جہاں پر مرکز وحی تھا ابھی وہ عبادت و ہدایت سے خالی ہے۔

جب ان دو مصرعوں پر پہنچا۔

خروج امام لا محالة خارجٌ یقوم علی اسم الله ولبرکات

یمیّز فینا کلّ حقٍّ و باطل ویجزی علی النّعماء ولنّقمات

جو کچھ میرے لئے سرمایہ امیدہے وہ اس امام کا قیام ہے جو حتماً قیام کریں گے۔ خدا کے نام کے ساتھ بہت سی خیر وبرکت لائیں گے۔ لوگوں کے درمیان سے حق کو باطل سے جدا کریں گے اورلوگوں کو نعمت و نقمت کے تحت جزا و سزا دیں گے۔

حضرت امام رضا ؑشدت سے گریہ کرنے لگے اس کے بعد آپؑ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور میری طرف دیکھ کر فرمایا:

اے دعبل خزاعی ان دو ابیات کو روح قدس نے تمہاری زبان پر جاری کیاہے۔ کیا جس امام کے بارے میں شعر کہاگیاہے اسے جانتے ہووہ کون ہیں اور کس وقت قیام فرمائیں گے؟

عرض کیا: نہیں مولا! میں نے آپ لوگوں کی زبان مبارک سے سنا ہے کہ وہ قیام کریں گے، زمین کو تباہی و بربادی سے بچائیں گے اور اسے یوں عدل وانصاف سے بھر دیں گے جس طرح سے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

حضرت امام رضا ؑنے فرمایا:

اے دعبل! میرے بعد میرے فرزند محمد ؑ امام ہیں اور محمدؑ کے بعد ان کے فرزند علیؑ، علیؑ کے بعد ان کے فرزند حسنؑ اور حسنؑ کے بعد ان کے فرزند حجت قائمؑ ہیں کہ ان کی غیبت کے دوران لوگ ان کا انتظار کریں گے اور انکے ظہور پر ان کی اطاعت کریں گے۔

اگر دنیا کی عمر ایک دن کے برابر باقی رہے تو اس دن کو خداوند عالم اس قدر طولانی کرے گا کہ حضرت حجتؑ ظہور فرمائیں گے، زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح پُر کریں گے جس طرح سے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہو گی۔

٭ قیام قائم آل محمد خداوند عالم کے حتمی وعدوں میں سے ہے اور خداوند رب العزت کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

حدیث نمبر١٤:

عن محمد بن عثمان العمری قال:سمعته یقول:والله انّ صاحب هذا اأمر لیحضر الموسم کلّ

سنة فیر ی النّاس ویعرفهم ویرونه ۔ (کمال الدین صدوق٤٤٠)

محمد بن عثمان عمری کہتے ہیں : میں نے امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے نائب خاص محمد بن عثمان عمری سے سنا کہ فرمایا:

خدا کی قسم! یہ صاحب الامر ہر سال حج کے موسم میں حج کے مراسم میں شریک ہوتے ہیں اور لوگوں کو دیکھتے ہیں مگر لوگ آپؑ کو نہیں دیکھتے ہیں اور نہیں پہچانتے ہیں ۔

٭ وجود نازنین امام زمان(عج)حجت خدا ہیں اور روئے زمین پر خلق خدا کے درمیان موجود ہیں لیکن لوگ ان کی شناخت و پہچان کی قدرت نہیں رکھتے ۔ البتہ جو نشانیاں اور علامات کتابوں میں درج ہیں ان کے مطابق وہ امام کو اپنے نزدیک حس کریں گے۔

حدیث نمبر١٥:

عن محمد بن مسلم قال: سمعت أبا عبد اللهیقول:انّ بلغکم عن صاحب هذا الأمر غیبة فلا تنکروها ۔ (اصول کافی ج ١ ،ص ٣٣٨)

محمد بن مسلم کہتے ہیں : حضرت امام صادق ؑسے سنا ہے کہ آپؑ نے فرمایا: اگر صاحب الامر کی غیبت پہنچ جائے تو تم لوگ اس کاانکار مت کرنا.

٭ ابھی وہی زمانہ ہے اور ہم غیبت امام زمان حضرت مہدی(عج)میں زندگی گزار رہے ہیں آپؑ کی طولانی غیبت سے ہمارے عقیدوں میں کوئی لغزش پیدا نہ ہوجائے۔

٭ غیبت کے زمانے میں کسی کو اجاذت نہیں ہے کہ وہ آپؑ کی امامت اور ولایت سے انکار کر بیٹھے۔

حدیث نمبر١٦:

عن ابان بن تغلب قال:قال ابو عبد الله: اذا قام القائم لم یقم بین یدیه احدٌ من خلق الرّحمٰن الّا عرفه صالحٌ هو أم طالحٌ ؟ ( اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ ) (کمال الدین صدوق٦٧١، قرآن سورہ حجر آیۃ ، ٧٥ ، ٧٦)

ابان بن تغلب کہتے ہیں : حضرت امام صادق ؑفرماتے ہیں :

جب قائم قیام فرمائیں گے تو مخلوقات خدا میں سے کوئی بھی ایسا آپ کے سامنے نہ ہوگا جس کو آپ نہ پہچانتے ہونگے کہ ان میں سے کون اچھے ہیں اور کون بُرے؟ کیونکہ خداوند متعال فرماتاہے:

یہ علامتیں ہوشیار لوگوں کے لئے ہیں اور وہ سیدھے راستے پر ثابت اور استوار ہیں ۔

٭ حضرت امام زمانؑ خدا کے خلیفہ اور تمام مخلوقات کے درمیان امین اللہ ہیں وہ خدا کے علاوہ تمام چیزوں پر احاطہ رکھتے ہيں اور تمام مخلوقات کو اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہيں ۔ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ وہ دوسرے حکمرانوں کے طرح ایک حکمران ہيں جو اپنے اطرافیوں کو پہچاننے سے عاجز ہيں ۔ وہ کسی سے فریب نہیں کھائیں گے۔ وہ خداوند عالم کے عطا کردہ علم پر عمل کریں گے۔

حدیث نمبر١٧:

عن ابان بن تغلب قال: قال ابوعبد الله علیه السلام: أوّل من یبایع القائمجبرئیل ، ینزل فی صورة الطیر أبیض فیبایعه ، ثمّ یضع رجلاً علیٰ بیت الله الحرام ورجلاً علیٰ بیت المقدس ثّم ینادی بصوت طلقٍ تسمعه الخلائق: ( اَتٰۤى اَمْرُ اللهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ ) (قرآن :سورۃ النحل، آیۃ ١(کمال الدین صدوق ؛ ص ٦٧١)

ابان بن تغلب کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق ؑفرماتے ہیں :

سب سے پہلے قائم آل محمد کے مبارک ہاتھوں میں بیعت کرنے والا جبریلؑ امین ہو گا جو سفید پرندے کی شکل میں آسمان سے نازل ہو کر حضرت کے دست مبارک پر بیعت کریں گے اس کے بعد جبریلؑ اپنا ایک پاؤں بیت اللہ پر اور دوسرا پاؤں بیت المقدس پر رکھتے ہوئے آواز دیں گے جو تمام مخلوق خداوندی سن لے گی۔اللہ کا حکم آیا ہے پس اس کی طرف دوڑیں ۔

حدیث نمبر١٨:

عن هشام بن سالم ، عن أبی عبد الله قال:یقوم القائم ولیس لأحدٍ فی عنقه أحدٌ ولا عقدٌ ولا بیعة ۔ (اصول کافی، ج ١ ، ص ٣٤٢)

ہشام بن سالم کہتے ہیں : حضرت امام جعفر صادق ؑفرماتے ہیں :

قائم قیام فرمائیں گے جبکہ اس کے گردن پر نہ کوئی قرارداد ہوگی ، نہ عہد و پیمان اور نہ ہی کوئی بیعت ہوگی۔

٭ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ ظہورہ کے ظہور کے موقع پر کوئی بھی عدل وانصاف کو لاگو کرنے میں رکاوٹ نہیں ہوگا وہ مشرکوں ،کافروں ،منافقوں اور ستم گروں کو مکمل طور پر سرکوب اور نابود کریں گے۔

حدیث نمبر١٩:

عن أبی بصیر ، عن أبی عبد الله قال:

تنکسف الشمس لخمسٍ مضَین من شهر رمضان قبل قیام القائم (کمال الدین صدوق٦٥٥)

ابو بصیر کہتے ہیں : حضرت امام جعفر صادق ؑفرماتے ہیں :

قائم آل محمد کے قیام سے پہلے ماہ رمضان کی پانچ تاریخ کو سورج گرہن ہوگا۔

حدیث نمبر٢٠:

عن غیاث بن ابراهیم ، عن الصادق جعفر بن محمد ، عن أبیه ، عن آبائه علیهم السلام قال: مَن انکر القائمَ مِن وُلدی فقد انکرنی (کمال الدین صدوق، ص٤١٢)

غیاث بن ابراہیم کہتے ہیں : حضرت امام جعفر صادق ؑاپنے آباء واجداد سے یکے بعد دیگرے یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ:حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

جو کوئی میرے فرزند قائم کا انکار کرے گا گویا اس نے میرا انکار کیا ہے۔

٭ امام زمان(عج)کا انکار کرنا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کرنے کے برابر ہے۔ امامت اور ولایت کے منکر درحقیقت اسلام و قرآن و نبوت کے منکر ہیں ۔

۲۸

امام مہدی(عج)کے بارے میں کچھ اشعار

خورشیدو زہرہ

مرھم بر زخم ھجران ، بین کہ دل ویرانہ شد از غم ہجر تو ای لیلای من دیوانہ شد

باد ہ ی حزن فراحت، بند بندم را گرفت آتشم بر دل زد ودل ، شعلہ ی مستانہ شد

بہترین معنی ی عشق ای سراپا سرو ناز ناز تو دُردِ ہلاک ِ پیر ہر میخانہ شد

زہرہ در آغوش خورشید آمدای جان جہان! نقطہ ای خال ِ رخ مہ پارہ ی افسانہ شد

ذرہ ای ھستم و تو سراپا جام نور دل اسیر نرگسِ خورشید آن یک دانہ شد

خاطرات تو دُرون لحظہ لحظہ بودنم لعل دروؔیشم ربود و شہد در پیمانہ شد

( حضرت آیت اللہ سید ناصر حسین درویش میبدی کرمان شاہی (اسیر عشق)

آثار انقلاب

ہے کون جس کی دونوں جہان کو ہے جستجو ہے کس کا نام مہر ِ نبوّ ت کی آبرو

کس کے وجود سے ہے دو عالم میں ھا و ھو بہتی ہے کس کے اذن سے سانسوں آب جو

غیبت کسے ملی ہے خدا سے قریب کی ؟ خیرات کون بانٹ رہا ہے نصیب کی؟

یہ رات ہے نجات ِ بشر کی نوید بھی یہ رات ہے بہشت بریں کی کلید بھی

یہ رات سعد بھی ہے ، سراج سعید بھی یہ رات رات بھی ہےمگر” صبح عید بھی”

اس رات میں رواں ہے سمندر خیال کا آ تذکرہ کریں ذرا نرگس کے لعل کا

اے فخر ابن مریم و سلطان فقر خو تیرے کرم کا اَبر بھرستا ہے چار سو

تیرے لئے ہوائیں بھٹکتی ہیں کو بہ کو تیرے لئے ہی چاند اترتا ہے جو بہ جو

پانی تیرے لئے ہے صدا ارتعاش میں سورج ہے تیرے نقش قدم کی تلاش میں

اے آسمان فکر بشر ، وجہ ذو الجلال اے منزل خرد کا نشان ، سرحد خیال

اے حسن لا یزال کی تزئین لا زوال رکھتا ہے مضطرب مجھے اکثر یہی سوال

جب تو زمین و اہل زمین کا نکھار ہے عیسٰیؑ کو کیوں فلک پہ تیرا انتظار ہے

تو مرکز جہاں بھی شہہ جبرئیل بھی دنیا کا محتسب بھی ہمارا وکیل بھی

تو عقل بھی ، جنوں بھی ، جمال و جمیل بھی پردے میں ہے وجودِ خدا کی دلیل بھی

دنیا تیری مزاجِ سماعت کا نام ہے محشر تیرے ظہور کی ساعت کا نام ہے

اے باغ عسکری کےمقدس ترین پھول اے کعب ۀ فروع ِ نظر ، قبل ۀ اصول

آ ہم سے کر خراجِ دل و جاں کبھی وصول تیرے بغیر ہم کو قیامت نہیں قبول

دنیا ، نہ مال و زر ، نہ وزارت کے واسطے! ہم جی رہےہیں،تیری زیارت کے واسطے!

اے آفتاب مطلع ہستی اُبھر کبھی اے چہر ۀ مزاجِ دو عالم نکھر کبھی

اے عکس حق ، فلک سے ادھر بھی اتر کبھی اے رونق ِ نمو ، لے ہماری خبر کبھی

قسمت کی سر نوش کو ٹوکے ہوئے ہیں ہم تیرے لئے تو موت کو روکے ہوئے ہیں ہم

اب بڑھ چلاہےذہن ودل وجان میں اضطراب پیدا ہیں شش جہات میں آثارِ انقلاب

اب ماند پڑ رہی ہے زمانے کی آب و تاب اپنے رخ ِ حسین سے اٹھا تو بھی اب نقاب

ہر سو یزیدیت کی کدورت ہے ان دنوں مولاؑ تیری شدید ضرورت ہے ان دنوں

نسل ستم ہے در پہ آزار ، اب تو آ پھر رہیں ہیں ظلم کے دربار ، اب تو آ

پھر آگ پھر وہی در و دیوار ، اب تو آ کعبے پہ پھر ہے ظلم کی یلغار ، اب تو آ

دن ڈھل رہا ہے ، وقت کو تازہ اڑان دے آ ، “اے امام عصر “ حرم میں “آذان” دے

(شہید محسن نقویؔ فرات فکر؛ ص، ۱۱۲تا۱۲۰)

۲۹

چراغ الفت

ظہور کا وقت آ گیا ہے امامؑ سے “لو” لگائے رکھنا

ظہور کا وقت آ گیا ہے حرم پہ نظریں جمائے رکھنا

ظہور کا وقت آ گیا ہے چراغ الفت جلائے رکھنا

نہ نیند آئے، نہ اونگھ آئے رکھو ہر ایک پر نظر جمائے!

دل و نظرسے کہ سامرہ سے نہ جانے کس راستے سے آئے

ظہور کا وقت آ گیا ہے ہر ایک رستہ سجائے رکھنا

نہ حبّ دنیا سے کچھ لانا ، نہ غیر سے راہ و رسم رکھنا!

تمہاری دولت ہے علم و تقویٰ ،کرے گا دجال اس پہ حملہ

ظہور کا وقت آ گیا ہے تم اپنی پونجھی بچائے رکھنا

یہیں کہیں ، آس پاس ہو گا، وہ آنے ولا آ چکا ہے

حواری عیسیٰ کے ساتھ ہونگے ،موالی مولا کے ساتھ ہونگے

ظہور کا وقت آ گیا ہےموالیوں سے بنائے رکھنا

ہے انتقام ِحسینؑ باقی وہ آنے والا حساب ہو گا

عقیدہ اپنا درست رکھناجو ان کے نصرت کی ہے تمنا

ظہور کا وقت آ گیا ہے عمل کو بھی آزمائے رکھنا

سوائے چند دن ظہور کی سب علامتیں پوری ہو چکی ہیں

بصیرت و معرفت تمہاری عدوئے حق کو کٹک رہی ہے

ظہور کا وقت آ گیا ہے دل و نظر کو بچائے رکھنا

نئے نئے نغمہ ہائےالفت جو روز کہہ کہہ کے لا رہے ہو

پڑھے ذیارت جو سبطہ جعفر ؔ امام ؑ کے در پَرا پڑے ہو

ظہور کا وقت آ گیا ہے تم اپنا بستر لگائے رکھنا (پروفیسر سبط جعفر زیدیؔ )

۳۰

نور فروزان

اے شمع دل و دیدۂ احرار کہاں ہو

اے نور فروزانِ شبِ تار کہاں ہو

اے باغ رسالت کے حسین پھولوں کا دستہ

اے وارث پیغمبر مختار ؐ کہا ں ہو

مظلوم و ستم دیدہ و بے چارہ ہوئے ہم

اے حامی و اے مونس وغمخوار کہاں ہو

اس دور میں ہے جان ہتھیلی پہ ہماری

مشکل میں ہے جینا میرے دلدار کہاں ہو

ہے عشق کے ہونٹوں پہ سدا نام تمہارا

ہم سب ہیں تیرے طالب دیدار کہاں ہو

چھائی ہے گھٹا ظلم کے تاریک ہے دنیا

اے شمع عدالت کے نگہدار کہاں ہو

آماد ۀ حرکت ہے تیرے قافلہ والے

بس یہ ہے صدا قافلہ سالار کہاں ہو

اے منتقم خون شہیدان راہِ حق

اے نوحہ گر زینب ؑ غمخوار کہاں ہو

اے مہدی موعود ؑ امم ، حاکم برحق

اے زمزم ۀ عالمِ افکار کہاں ہو

مرجاؤں تو رجعت کی ہے امید اے آقا

اطہرؔ کو عطا ہو تیرا دیدار کہاں ہو؟ ( از کلام سید سجاد اطہرؔ موسوی )

۳۱

مہدیؑ کا انقلاب

ظلم و ستم مٹائے گا مہدیؑ کا ا نقلاب

امن و امان لائے گامہدیؑ کا انقلاب

خوشبو دہر میں پھیلے گی نرگس کے پھول کی

بن کر بہار آئے گا مہدیؑ کا انقلاب

طوفاں ہیں ظلم و جور کے اپنے عروج پر

طوفاں میں مسکرائے گامہدیؑ کا انقلاب

ہر داغدیدہ ہے ابھی شدت سے منتظر

داغ جگر مٹائے گا مہدیؑ کا انقلاب

جو آتش سقیفہ سے روشن ہوئے دئے

ان سب کو آبجھائے گا مہدیؑ کا انقلاب

جتنی عمارتیں ہیں بقیع کے نواح میں

سب خاک میں ملائے گا مہدیؑ کا انقلاب

عدل و صفا کی ہو گی حکومت جہان پر

مظلوم کو بسائے گا مہدیؑ کا انقلاب

گردن کشو نہ بھولنا تم انتقام کو

یہ گردنیں جھکائے گا مہدیؑ کا انقلاب

آمادہ رہنا شیعو! تم نصرت کے واسطے

شیعوں کو آزمائے گا مہدیؑ کا انقلاب

مکہ سے ا بتداء ہے اسی انقلاب کی

سارے جہاں پہ چھائے گا مہدیؑ کا انقلاب

خوش ہو کے سیدهؑ تجھے نقویؔ کریں دعا

محفل میں جب سنائے گا مہدیؑ کا انقلاب ( حجۃ الاسلام سید تحریر علی نقوی صاحب )

۳۲

میرا امامؑ

میری بےچارگی کا تیری ماتم مدام ہے

اظہار عشق کیا کروں عشق خام ہے

اس نے تو اپنے حسن کا جادو دکھا دیا

میری طرف سے اس کو درود و سلام ہے

وہ توچلے گئے ہیں بڑی خاموشی کے ساتھ

دل میں میرے جدائی کا ماتم مدام ہے

کتنی حسین شمع کی محفل تھی جب وہ تھے

جب وہ گئے تو اپ نہ سحر ہے نہ شام ہے

جانے سے اس کے گھر کا نقشہ ہی بدل گیا

ایک لحظہ مجھ کو آنکھ جھپکنا حرام ہے

اس کے ہی دم سے ہے یہ چراغوں میں روشنی

جب وہ نہ ہو تو زندگی کا کیا نظام ہے

شام و سحر ہے میری نگاہوں میں سامرا

میں جس کا منتظر ہوں وہ میرا امامؑ ہے ( شیخ محمد حسین بہشتیؔ (٢٨رمضان المبارک ١٤٣١ھ مشہد مقدس)

۳۳

کون و مکاں

امام عصر مہدیٔ جہاں ہے

انہیں کے نام یہ کون و مکاں ہے

انہیں کے دم سے ہے تابندہ عالم

انہیں کے نام یہ ارض و سماں ہے

یہی تو باب رحمت باب حق ہے

یہی تو رحمتوں کا آستاں ہے

نہیں پوشیدہ کوئی راز ان سے

یہی ارض و سماء کا رازداں ہے

درِ مہدی(عج) بھی جنت ہی کا در ہے

فرشتوں کا بھی تو یہ ہی مکاں ہے

ہے جب تک دم تیرا ہی ذکر ہو گا

تیرے ہی نام بس وردِ زباں ہے

زمانہ اب بدلتا جا رہا ہے

نہ گلشن ہے نہ کوئی باغباں ہے

ہے عالم منتظر مہدیؑ زماں کا

ظہور اپنا دکھا آ ! تو کہاں ہے

منافق پھر سے سر گرم عمل ہے

مسلماں وقتِ شمشیر و سناں ہے

دھماکے ہو رہے ہیں ہر جگہ پر

مسلماں ڈھوب مرنے کا مکاں ہے

کبھی ان کو نہ تو ا پنا سمجھنا

لگانا مت گلے آتش فشاں ہے

مٹانے کو تُلے ہیں تجھ کو یہ سب

تیری جرأ ت تیری غیرت کہاں ہے

اٹھا یا سر ہے پھر سے کوفیوں نے

تیرا آنا ضروری اب یہاں ہے

عجب منظر فقط میری نظر میں

اگر ہے تو تیرا ہی آستاں ہے

میرے مولا میری جان تمنا

بہ جز تیرے مجھے جانا کہاں ہے

میری کشتی میرا طوفاں ہے تو

تو ہی تو میرا بحرِ بیکراں ہے

بیاں ان کا کریں کیا ہم بہشتیؔ

بہت رنگین ان کی داستاں ہے

ذرا فریاد کر دل سے بہشتیؔ

بدلتا کیوں نہیں طرزِ فغاں ہے ( نتیجہ فکر: شیخ محمد حسین بہشتیؔ (١٩رمضان المبارک ١٤٣١ھ مشہد مقدس)

۳۴

میر کارواں

سلگتا ہوں میں ایسے جس طرح آتش فشاں اے دوست

رہا ہوں میں ہمیشہ غم کا تیرے پاسباں اے دوست

تیرے ہی نام سے وابستہ ہے یہ زندگی میری

تجھے میں چھوڑ کر جاؤں بھی تو جاؤں کہاں اے دوست

بڑی مدت سے تیری کھوج میں سرگرداں ہے یہ دل

تیرا ہی فکر ہے دل میں تجھے پاؤں کہاں اے دوست

کہاں تو اور کہاں میں در بدر ، آوارہ، بےچارہ

میں ہوں خار مغیلا تو ہی ہے گل ستاں اے دوست

بہشتی ؔ چھوڑ کر چوکھٹ تیری جائیں کہاں بتلا

کہاں پیدا کرے گا تیرے جیسا مہرباں اے دوست

میں ایک بھٹکا ہوا راہی ہوں رستہ سے ہوں بیگانہ

نمایاں کر میری آنکھوں کو منزل کے نشاں اے دوست

کرم کرنا تیری خُو ہے تو ہی تو باب ِ رحمت ہے

مجھے بھی ساتھ لے لے تو ہے میر کارواں اے دوست

میرا مقصدہے تو تیرا ہی ہر دم نام ہے لب پر

تو ہی ہے زندگی میری تو ہے روح رواں اے دوست

تیرے دامن سے میں لپٹا ر ہوں گا تو بتا کیسے؟

گریں گی کس طرح آکر کہ مجھ پر بجلیاں اے دوست

تیرے قدموں میں رہنے سے مجھے مل جائے گا رتبہ

میں ہوں شبنم کا قطرہ تو ہے بحر بیکراں اے دوست

ہزاروں داغ دل میں یوں چھپائے ہیں بہشتیؔ نے

تڑپتا ہی رہا پھر بھی نہ کی آہ و فغاں اے دوست (نتیجہ فکر: شیخ محمد حسین بہشتیؔ (١٤شعبان المعظم ١٤٣١ھ مشہد مقدس)

۳۵

اے گل نرجس

”صدف غیبت کا کھل جائے ہویدا ہو رخ ِ انور“

بڑی مدّت سے ہیں بیتاب نظر آ ا ب تو اے اختر

کہاں شمس و قمر او ر تو کہاں اے نور یزدانی

تیرے ہی نام کےچرچے ہیں اس عالم میں سرتا سر

تیرا آنا زمانے کے لئے ایک ابر رحمت ہے

تو ہی رحمت کا سر چشمہ تو ہی ہے مخزن گوہر

تیر ا آنا خدا کی رحمتوں کا سا تھ لانا ہے

خلائق کو دکھا دیں اب ذ را آ کر تیرے جوھر

یہ بارش ہو رہی ہے ہر طرف تیری محبت کی

تیرا ہی جلوۂ عالم میں نظر آتا ہے سر تا سر

ترستے پھر رہے ہیں عالم کون ومکاں میں سب

تیری ہی جستجو ، تیرا تصوّر ساتھ میں لے کر

تیرا ہو نا یہا ں پر اے شہ والا ضروری ہے

عجب حالت ہے اب اس خاک داں کی اے میرے دلبر

تیرے ہی منتظر ہیں سب تو ہی تو مظہر حق ہے

تو ہی شمشیرِ یزداں ہے تو ہی ہے نعر ۀ حیدر

سبھی تشنہ لبوں کو جا م دے خود اپنے ہا تھوں سے

شرابِ ناب سے سیراب کر اے سا قیئ کوثر

فقط چہرہ دکھا دیں آپؑ اپنا اے گل ِ نرجس

شمع گل ہو ہی نہ جائے بہشتی ؔ کو یہی ہے ڈر (نتیجہ فکر: شیخ محمد حسین بہشتیؔ (٠٩شعبان المعظم ١٤٣١ھ مشہد مقدس)

۳۶

فہرست منابع مآخذ

۱. قرآن مجید

۲. کمال الدین وتمام النعمۃ محمد ابن علی ابن بابویہ

۳. کلمۃ الامام المہدیؑ سید حسین شیرازی

۴. اثبات الرجعۃ فضل ابن شاذان

۵. دارالسلام شیخ محمود میثمی عراقی

۶. نجم الثاقب نوری طبرسی

۷. عصر غیبت مسعود پوسید آقائی

۸. مکیال المکارم موسوی اصفہانی

۹. مہدی موعود باقر مجلسی ؒ

۱۰. اثبات ھداۃ حر عاملی

۱۱. ارشاد العوام کریم خان کرمانی

۱۲. اصالۃ المہدویۃ فی الاسلام مہدی فقیہ ایمانی

۱۳. الامام المہدی عند اہل السنۃ مہدی فقیہ ایمانی

۱۴. تاریخ غیبت کبریٰ شہید سید محمد صدر

۱۵. بحار الانوار علامہ مجلسی

۱۶. منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر صافی گلپائیگانی

۱۷. حیاۃ الامام محمد المہدی باقر شریف قرشی

۱۸. الامام المہدی علی محمد دخیل

۱۹. خورشید مغرب محمد رضا حکیمی

۲۰. صحیفۃ المہدی جواد قیومی اصفہانی

۲۱. شیعہ در اسلام علامہ محمد حسین طباطبائی

۲۲. ملل ونحل علامہ جعفر سبحانی

۲۳. امام مہدی(عج)و آئینہ زنگی مہدی حکیمی

۲۴. امام زمان(عج)(سورہ ولعصر) عباس راسخی نجفی

۲۵. آشنائی با امام زمان(عج) علامہ سید محسن امین

۲۶. انتظار در آئینہ شعری محمد علی سفری

۲۷. یوسف زہرا مہدی صاحب زمان ؑ حبیب اللہ کاظمی

۲۸. پاسدار اسلام (مجلہ ) دفتر تبلیغات اسلامی

۲۹. چہل حدیث در شناخت امام زمان(عج)

۳۰. حکومت مہدی(عج) نجم الدین طبسی

۳۱. فروغ تابان ولایت محمد محمدی اشتہاردی

۳۲. خور شید تابناک جواد عقیلی پور

۳۳. در انتظار مہدی موعود ؑ ابراہیم شفیعی سروستانی

۳۴. داغ شقائق علی مہدوی

۳۵. سیمائے امام زمان(عج) محمد مہدی تاج لنگرودی

۳۶. سفیران امامؑ عباس راسخی نجفی

۳۷. علامات ظہور مہدی(عج) علامہ طالب جوہری

۳۸. ظہور نور سید محمد جواد وزیری فرد

۳۹. بعثت ،غدیر ، عاشورہ ، مہدیؑ محمد رضا حکیمی

۴۰. مہدی منتظر اور اسلامی فکر محمد تقی

۴۱. موعود ادیان آیت اللہ منتظری

۴۲. مہدی ترح برائے فرداہ حسن پور ازغدی

۴۳. نقش امام زمان(عج)در زندگیئ من شیخ مہدی محقق

۴۴. مہدویت و دانشمندان عامہ بیان معرفت

۴۵. مجلۂ ظہور (۲۰۰۷، ۲۰۰۸) شیخ محمد حسین بہشتی

۳۷