گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)

گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)0%

گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج) مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 37

گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 37
مشاہدے: 391
ڈاؤنلوڈ: 22

گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 37 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 391 / ڈاؤنلوڈ: 22
سائز سائز سائز
گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)

گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔


مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=370&view=download&format=pdf
ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=370&view=download&format=doc
HTML  فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=370&view=download&format=html

نیز اپنے مکتوبات و تحریر(مفید وعلمی کتابیں اور مقالات)مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہرقسم کے سوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام)

کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

www.alhassanain.org/urdu

۲

مشخصات کتاب

نام : گل نرگس مہدئ صاحب زمان(عج)

مؤلف: حجۃ الاسلام شیخ محمد حسین بہشتی

تدوین و تنظیم: سید سجاد اطہر موسوی

طباعت: اول

ناشر: موسسہ قائم آل محمد ؑ

www.alhassanain.org/urdu

۳
۴

فہرستِ مطالب

مقدمہ ۱۰

امام مہدیؑ کا مختصر تعارف ۱۲

ولادت کیسے ہوئی؟ ۱۲

دعائے تعجیل ظہور امام مہدی(عج)کے فوائد ۱۴

وظائف منتظران ۱۶

معصومین کے اسماء او ر القاب تشریفاتی اورتعارفی نہیں ہیں ۱۸

لقب اور کنیت میں فرق ۱۹

کنیت ۱۹

لقب ۱۹

امام عصر علیہ السلام کے لقب مہدی کیوں ہیں؟ ۲۰

لوگ امام مہدی علیہ السلام کے مقابل ہوگا یا ساتھ ہونگے؟ ۲۲

بَقِيَّتُ اللهِ خَيْرٌ لَّکُمْ سے مراد کون ہے؟ ۲۳

آلودگیوں کی وجہ سے دعا کا مستجاب نہ ہونا ۲۳

دنیا کی آخرین حکومت ۲۵

امام مہدی(عج) کےکنیت اور القاب ۲۷

قائم: ۲۷

منتقم: ۲۷

منتظر: ۲۷

امام غائب: ۲۸

صاحب الامر: ۲۸

صفات و خصوصیات: ۲۸

مرحوم شیخ عباس قمی رحمۃاللہ علیہ کتاب” منتہی الآمال“ میں آپؑ کے جمال کے بارے میں اس طرح لکھتے ہیں : جیسا کہ روایت میں آیا ہے ” آپؑ لوگوں میں سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت و سیرت ، خلق و خُلق اور کردار و گفتار میں شبیہ ترین شخصیت ہیں آنحضرت کی تمام صفات و خصوصیات امام زمان علیہ السلا م میں جمع ہیں “۔ ۲۸

مہدی(عج)فرزند فاطمہ سلام اللہ علیہا ہيں ۲۹

حضرت امام مہدی (عج) حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑکی نگاہ میں ۳۲

حضرت امام مہدی (عج) حضرت امام سجاد ؑکی نظر میں ۳۲

حضرت امام مہدی(عج) امام محمد باقر ؑکی نظر میں ۳۳

حضرت امام مہدی(عج) امام موسیٰ کاظم ؑکی نظر میں ۳۳

حضرت امام مہدی(عج)امام رضا ؑکی نظرمیں ۳۳

حضرت امام مہدی (عج) امام حسن عسکری ؑکی نظر میں ۳۴

حضرت امام مہدی(عج) شیعوں کی نظر میں ۳۴

حضرت امام مہدی(عج) اہل سنّت کی نظر میں ۳۵

علاّمہ خیرالدین آلوسی ۳۶

حضرت حذیفہؓ ۳۶

حضرت امام مہدی(عج)کے بارے میں اہل سنّت کی لکھی ہوئی کتابیں ۳۷

امام زمان(عج) کی ابتدائی دنوں کے مشکلات ۳۷

غیبت کا آغاز ، غیبت صغریٰ ، غیبت کبریٰ ۳۹

الف۔ غیبت کا آغاز ۳۹

ب۔ غیبت صغریٰ و غیبت کبریٰ ۳۹

غیبت صغریٰ ۳۹

نوّاب امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا تعارف ۴۳

١۔ عثمان بن سعید عَمری ۴۳

٢۔ محمد بن عثمان ۴۳

٣۔ حسین بن روح نوبختی ۴۳

٤۔ علی بن محمد سمری ۴۳

غیبت کبریٰ کے ظاہری اسباب ۴۴

حضرت امام زمان علیہ السلام کے طول عمر ۴۶

حضرت امام مہدی(عج)کے بارے میں ذکر شدہ احادیث کی تعداد ۴۹

حضرت امام زمان علیہ السلام سے ملاقات کا ذکر ۴۹

امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ظہور ۵۰

حضرت امام مہدی(عج)کے ظہور کی جگہ ۵۱

ظہور امام مہدی(عج)کی حتمی علامات ۵۲

١۔ خروج سفیانی ۵۲

۲ ۔ لشکر سفیانی کا سرزمین بیداء میں دھنس جانا ۵۳

٣۔ صیحہ آسمانی ۵۳

٤۔ نفس ذکیہ ۵۴

۵. خروج یمانی ۵۴

خروج سید حسنی ۵۵

حضرت امام مہدی(عج)کے ظہور کی غیر حتمی علامتیں ۵۷

حضرت امام رضا ؑکے کلام میں علائم ظہور ۵۷

حضرت ولی اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کے وفادار ۵۸

حضرت امام مہدی(عج)کے پیاروں اور یاروں کو خوش خبری ۵۸

غیبت کے زمانے میں منتظرین امام ؑکی ذمہ داریاں ۵۸

حجت خدا اور امام مہدی(عج)کی معرفت ۵۹

تزکیہ نفس اور اخلاقی تربیت ۵۹

امام ؑسے قلبی محبت رکھنا ۶۰

ظہور پُرنور حضرت حجت ؑکے لئے تیاری ۶۲

حضرت امام مہدی(عج)کے انتظار کی جزاء ۶۲

حضرت امام مہدی(عج)کے ظہور کی تعجیل کے لئے دعا ۶۳

دعا کے لئے مناسب مقامات: ۶۳

حضرت امام مہدی(عج)کیسے قیام فرمائیں گے؟ ۶۳

سب سے پہلے حضرت ؑ کے ہاتھ بیعت کرنے والے ۶۴

حضرت ؑکے پروگرام تلوار کے سایہ میں : ۶۴

مساوات و برابری ۶۵

مستضعفین کی حکومت ۶۶

انسانوں کی ذہنی اور فکری تربیت ۶۶

بیس احادیث امام زمان(عج)کے بارے میں ۶۶

حدیث نمبر ١: ۶۶

حدیث نمبر ٢: ۶۷

حدیث نمبر ٣: ۶۷

حدیث نمبر ٤: ۶۸

حدیث نمبر ٥: ۶۹

حدیث نمبر ٦: ۶۹

حدیث نمبر ٧: ۷۰

حدیث نمبر ٩: ۷۱

حدیث نمبر ١٠: ۷۲

حدیث نمبر ١١: ۷۲

حدیث نمبر ١٢: ۷۳

حدیث نمبر ١٣: ۷۳

حدیث نمبر١٤: ۷۵

حدیث نمبر١٥: ۷۵

حدیث نمبر١٦: ۷۵

حدیث نمبر١٧: ۷۶

حدیث نمبر١٨: ۷۶

حدیث نمبر١٩: ۷۶

حدیث نمبر٢٠: ۷۷

امام مہدی(عج)کے بارے میں کچھ اشعار ۷۸

خورشیدو زہرہ ۷۸

آثار انقلاب ۷۸

چراغ الفت ۸۰

نور فروزان ۸۱

مہدیؑ کا انقلاب ۸۲

میرا امامؑ ۸۳

کون و مکاں ۸۴

میر کارواں ۸۶

اے گل نرجس ۸۷

فہرست منابع مآخذ ۸۸

مقدمہ

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں

کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبین نیاز میں (علامہ اقبال)

خداوند عالم کی بارگاہ اقدس میں نہایت عجزو انکساری کے ساتھ عرض گزار ہیں کہ اس عطا کردہ توفیقات سے بقیۃاللّہی اور خیر خدائی حضرت امام زمانہ ؑکی صادقانہ خدمت کا یہ قدم ِخیر آنحضرت کے محضر مبارک میں خیر من الف خیر قرار دے اور اپنے اس منصور کی نصرت میں ناصر و مددگار رہے۔ اپنی مزجاة بضاعت اور ناچیز توان و طاقت کے مطابق ہمارا یہ اقدام اس نظریہ کے تحت ہے کہ اس طرح سے اپنے زمانے کے امام ؑکی مؤدت کا کچھ حق ادا ہو جائے ،اگر چہ جس قدر بھی اس سلسلے میں ہم سعی و کوشش کریں پھر بھی نہایۃ اس نتیجہ پر پہنچیں گے (حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا)بہر حال سعی مقدور کے مطابق بقول شاعر:

آب دریا را اگر نتو ان کشید ہم بقدر تشنگی با ید چشید

اور جہاں تک قبولیت کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ دروازہ کرم پر معیار قبولیت کمیت نہیں بلکہ نیت اور کیفیت ہواکرتی ہے لہذا اگر جوہر اخلاص عطا ہو جائے تو عمل کی قلت قبولیت سے محرومیت کا باعث نہیں ہو سکتی اور ان کی جود و سخا اور بخشش انسان کے لئے حوصلہ افزاہوتی ہے.

(باکریمان کارہا د شوار نیست)

اس خدمت کے پیش نظر یہ حدیث قابل ذکر ہے کہ معصوم علیہم السلام فرماتے ہیں :

( من مات ولم يعرف امام زمانه مات ميتة الجاهلية ) ( بحار الانوار ج ٢٣ ، ص٢٦-٩٥ )

”یعنی جو بھی اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل کئے بغیر مر جائے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے“۔

لہذا اہل علم حضرات پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ:

اولاً :وہ خود اس عظیم معرفت کے حصول کے لئے جدو جہد و توان بذل کریں

ثانیاً: اس نور معرفت کو پھیلا کر انسانیت کی خدمت کریں ، در حقیقت یہ معرفت ایسا انمول خزانہ ہے جو توحید و

وحدانیت کی صحیح معرفت کی اساس ہے۔

( اَلّلهُمَّ عَرِّفْنِی نَفْسَکْ فاِ نّکَ اِن لَمْ تُعَرِّفْنِیْ نَفْسَکَ لَمْ اَعْرِفْ رَسُوْلَکْ؛ الّلهُمَّ عَرِّفْنِیْ رَسُولَکَ فَاِنَّکَ اِن لَمْ تُعَرِّفْنِی رَسُولَکَ لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَکْ؛ الّلهُمَّ عَرِّْفِنی حُجَّتَکْ فَاِنَّکَ اِن لَمْ تُعَرِّفْنِی حُجَّتَکْ ضَلَلْتُ عَنْ دِينِی ) (ب حار الانوار؛ج، ٥٣، ص ١٨٧)

امام عصر ؑپر عقیدہ رکھنا صرف شیعوں تک محدود نہیں بلکہ اہل تسنّن کی اکثریت بھی اسی عقیدے کے قائل ہیں اس کی واضح دلیل بہت سی ایسی کتابیں ہیں جو حضرت امام عصر ؑکے بارے میں اہل سنت علماء اور دانشوروں نے لکھی ہیں ، لہذا ہم آج کے سیاسی نظریات سے بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت امام زمان(عج)کی شخصیت جو کہ شیعہ و اہل سنت کے درمیان ایک مشترک عقیدہ ہے اس کو مزید تقویت دیں ، یہ کتابچہ بھی، عدل کل، مصلح جہاں حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بارے میں مخصوص منابع اہل تشیّع اور منابع اہل تسنّن پرمبنی ہے، کیونکہ آج اسلام دشمن طاقتوں نے اسلام اور امام زمان(عج)کی شخصیت کو اپنے باطل اہداف کا نشانہ بنایا رکھاہے اور نظریہ امام زمان(عج)کو خراب کرنے کے لئے بے بنیاد پروپیگنڈوں کی بوچھاڑ کر رکھی ہے، عقیدہ مہدویت سے خائف ہو کر مسلمانوں اور مومنین کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے باطل طاقتوں کے درہم و دینار اور ڈالر حرکت میں آئے ہوئے ہیں اس حوالے سے ہالی وُڈ کی وہ فلمیں جو امام زمان(عج)کے خلاف بنائی گئی ہیں اس سازش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

آج امریکہ اور اسرائیل خط مقدم پر اس نظریہ کے خلاف تیزی کے ساتھ مخفیانہ اور اعلانا کام کررہے ہیں ایسی صورت میں ہر سچے مسلمان اور مؤمن کا فریضہ ہے کہ اپنی توان کے مطابق اس عقیدہ اور نظریہ کی حفاظت اور دفاع کے لئے کام کرے اسی ضرورت کو مدّنظر رکھتے ہوئے اس کتابچہ کو ضبط تحریر میں لایا گیا ہے تاکہ ہماری نئی نسلیں دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رہیں اور امام زمانہ کی معرفت حاصل کریں ۔

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

(لطف عالی متعالی)

محمد حسین بہشتیؔ

مشہد مقدّس ایران

۵

امام مہدیؑ کا مختصر تعارف

نام: محمد

لقب: مہدی (عج)

کنیت: ابالقاسم

والد ماجد: امام حسن العسکری علیہ السلام

والدہ گرامی: نرجس خاتون

جائے ولادت: سامراء

سال ولادت: ۲۵۵ ہجری

مدّت عمر: خدا ہی بہتر جانتا ہے

ولادت کیسے ہوئی؟

شیعوں کے بارہویں امام ؑنے مشہور ترین قول کے مطابق شب جمعہ نیمہ شعبان ۲۵۵ ہجری قمری کو شہر سامرہ میں آنکھیں کھولیں ۔ ( کافی؛ ج ١ ، ص ۵۱۴)

شیخ مفید علیہ الرحمہ کا قول: آپ کے پدر گرامی حضرت امام حسن عسکری ؑکے ہاں آپ کے علاوہ نہ ظاہراً اور نہ ہی باطناً کوئی فرزند تھا۔ آپ کی حفاظت بھی خفیہ طور پر کرتے رہے ۔ (المفید؛ ص ۳۴۶)

اس نیمہ شعبان ۱۴۳۲ ہجری كو حضرت امام زمانہ ؑکی غیبت کے ۱۱۷۷ سال مکمل ہو رہے ہیں ۔ جب تک خدا چاہے یہ تسلسل جاری و ساری رہے گا۔

آپ ؑ کی والدہ گرامی کا اسم مبارک نرجس خاتون ہے البتہ سوسن ،صیقل، ملیکا بھی کہا جاتا ہے ۔ (الصدوق؛ ص ۴۳۲)

آپ ”یوشع “ کی بیٹی تھیں ، دادھیال کے اعتبار سے قیصر روم کی پوتی تھیں اور نانیہال کے اعتبار سے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے جانشین جناب شمعون کی نواسی ہوتی تھیں حضرت نرجس خاتون معجز انہ طریقہ سے حضرت امام حسن عسکری ؑکے تحت عقد آگئی ۔ (کمال الدین و تمام النعمۃ؛ ج ۲ , ص ۴۲۳، ۴۱۷)

اہل بیت علیم السلام کے دشمن بنی امیہ اور بنی عباس کے حکمران حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے نام سے بہت ڈرتے تھے کیونکہ حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ علیہم السلام کی طرف سے اس طرح کی روایت نقل ہوئی تھی کہ خاندان پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام میں سے ایک شخص بنام مہدی(عج)ظلم و ستم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے اور ظلم و ستم کا قلع قمع کریں گے۔

لہذا یہ ظالم لوگ اس انتظار میں تھے کہ یہ جب دنیا پر آئے تو اسے فوراً قتل کر ڈالیں

حضرت امام محمد تقی ؑکے بعد آہستہ آہستہ ظلم و ستم میں اضافہ ہوتا گیا اور خاندان عصمت و طہارت پر دنیا تنگ ہوتی گئی یہاں تک کہ حضرت امام حسن عسکری ؑکے زمانے میں یہ ظلم وبر بریت اپنے عروج کو پہنچ چکاتھا۔ امام حسن عسکری ؑ کی پوری زندگی ،شہر سامراء میں فو جی چھاؤنی میں حکومت کے زیرنظررہے۔

حضرت امام حسن عسکری ؑکے گھر میں معمولی رفت وآمد، حکومت سے مخفی نہ تھی؛ ایسی صورت حال میں آخرین حجت خدا حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کیسے آشکار طریقے سے دنیا میں آتے؛ لہذا جب آپؑ کی ولادت نزدیک ہوئی تو حضرت نرجس خاتون میں حاملگی کے کوئی آثار موجود نہ تھے۔

حضرت امام حسن عسکری ؑنے فرمایا: خدا کی قسم !میرے فرزند کی غیبت اتنی طولانی ہوگی کہ لوگ اس وقت تک ہلاکت سے نجات نہیں پاسکیں گے جب تک وہ میرے فرزند کی امامت پر ثابت قدم نہ رہیں اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرتے نہ رہیں ۔ (الصدوق؛ ج ۲،ص ۴۴۴- ۴۳۴)

۶

دعائے تعجیل ظہور امام مہدی(عج)کے فوائد

حضرت امام زمان(عج)نے فرمایا: میرے ظہور کی تعجیل کے لئے کثرت سے دعا کیا کریں کیونکہ اسی میں تمہارے لئے فرج(آسانی) ہے۔

۱. نعمتوں میں اضافہ ہوگا۔

۲. یہ اظہار محبت قلبی کی علامت ہے۔

۳. ائمہ طاہرین علیہم السلام کے فرامین کو زندہ کرنا ہے۔

۴. شیطان کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔

۵. خداوند عالم کے دین کو زندہ رکھتا ہے۔

۶. حضرت کی دعا شامل حال ہونے کا موجب ہے۔

۷. اجر رسالتؐ کو ادا کرنا ہے۔

۸. خداوند عالم کی اطاعت کرنا ہے۔

۹. دعا قبول ہونے کی علامت ہے۔

۱۰. بلائیں دور ہو جائیں گی۔

۱۱. رزق میں وسعت کا باعث ہے۔

۱۲. گناہوں کے پاک ہونے کا سبب ہے۔

۱۳. پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوستوں میں شامل ہو جائیں گے۔

۱۴. امام ؑ کا ظہور پر نور جلد ہو جائے گا۔

۱۵. دین خدا کی مدد و نصرت کرنے والوں میں سے ہونگے۔

۱۶. اہل بہشت میں سے ہونگے۔

۱۷. دعا اولو الامر کی اطاعت ہے۔

۱۸. قیامت کے دن حساب و کتاب میں آسانی ہو گی۔

۱۹. دعا بہترین عبادت ہے۔

۲۰. شعائر اللہ کی تعظیم ہے۔

۲۱. پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو گی۔

۲۲. برائی اچھائی میں بدل جائے گی۔

۲۳. اہل زمین کے عذاب میں کمی واقع ہو گی۔

۲۴. خداوند کریم کی رحمت شامل حال ہو گی۔

۲۵. قیامت کے دن امام زمانہؑ کی شفاعت نصیب ہو گی۔

۲۶. قیامت کے دن تشنگی دور ہو جائے گی۔

۲۷. فرشتے اس کے حق میں دعا کریں گے۔

۲۸. دعا عالم برزخ میں اس کی مونس ہو جائے گی۔

۲۹. پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں جنگ و جہاد میں شہید ہونے والوں کا درجہ حاصل ہو گا۔

۳۰. حضرت امام زمانہ ؑکے پرچم تلے شہید ہونے کا ثواب نصیب ہو گا۔

۳۱. حضرت ولی اللہ اعظم امام زمان(عج)پر احسان کرنے کا ثواب نصیب ہو گا۔

۳۲. قیامت کے روز عذاب سے محفوظ رہیں گے۔

۳۳. حضرت فاطمۃالزہرا سلام اللہ علیہا کی شفاعت نصیب ہو گی۔

۳۴. آخرالزمان کے فتنہ و فساد سے محفوظ رہیں گے۔

۳۵. حج کا ثواب ملے گا۔

۳۶. عمرہ کا ثوب ملے گا ۔ (مکیال المکارم ؛ج ١ ، کمال الدین ؛ ج ٢، ص ۳۸۴)

۷

وظائف منتظران

اس کتاب میں منتظران امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے لئے کچھ وظائف تحریر کئے گئے ہیں ۔

١۔ حضرت ولی اللہ اعظم امام زمان(عج) کی معرفت ۔

٢۔ امام زمان(عج)کے اسمائے گرامی کا عزت و احترام کرنا۔

٣۔ حضرت امام زمان(عج)کے ساتھ خاص محبت۔

٤۔ لوگوں کے درمیان حضرت امام زمانؑ کا اسم مبارک عزت و تعظیم سے لینا۔

٥۔ آپؑ کے ظہور پر نور کا انتظار کرنا۔

٦۔ حضرت ؑ کے دیدار کا مشتاق رہنا۔

٧۔ لوگوں کے درمیان حضرت ؑ کا زیادہ تذکرہ کرنا۔

٨۔ آپ ؑ کی جدائی میں غمگین و اندھناک رہنا۔

٩۔ مجالس و محافل میں شرکت اور حضرت کا ذکر خیر کرنا۔

١٠۔ حضرت امام زمان(عج)سے منسوب مجالس و محافل منعقد کرنا۔

١١۔ مولا کی شان میں شعر و شاعر ی اور مدح خوانی کے جلسات منعقد کرنا۔

١٢۔ اٹھنے بیٹھنے وقت حضرت ؑ کا اسم گرامی لیتے رہنا۔

١٣۔ حضرت ؑ کے فراق میں گریہ وزاری کرنا۔

١٤۔ خداوند عالم سے حضرت ؑ کی معرفت حاصل ہونے کی دعا کرنا۔

١٥۔ دعا میں مداومت اور مقاومت کرنا۔

١٦۔ امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی یاری و نصرت میں مسلسل کو شش و سعی کو جاری رکھنا۔

١٧۔ امام ؑ کے ظہور ہونے پر آپ (علیہ السلام) کی مکمل مدد و حمایت کی نیت رکھنا۔

١٨۔ امام زمان(عج)کی خوشنودی کے لئے اچھی جگہوں پر مال و دولت خرچ کرنا۔

١٩۔ شیعوں سے ارتباط و رابطہ میں رہنااور ضرورت پڑھنے پر ان کی مدد کرنا۔

٢٠۔ شیعوں کو خوش رکھنا۔

٢١۔ حضرت ولی اللہ اعظم امام زمان(عج)کی خیر خواہی کے لئے کام کرنا۔

٢٢۔ جہاں کہیں بھی ہو حضرت ؑ کی زیارت اور آپؑ کو سلام کرتے رہنا۔

٢٣ زیارت امام زمان(عج)کے قصد سے مؤمنین وصالحین کی زیارت کرنا۔

٢٤۔ آنحضرت پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام بھیجنا۔

٢٥۔ آنحضرت کی طرف لوگوں کو دعوت اور رہنمائی کرنا۔

٢٦۔ آنحضرت کے لئے ہمیشہ خضوع و خشوع میں رہنا۔

٢٧۔ نماز پڑھنا اور اس کا ثواب امام زمان(عج) کی خدمت میں ہدیہ کرنا۔

٢٨۔ امام زمان(عج)کی خوشنودی اور رضایت حاصل کرنا۔

٢٩۔ امام زمان(عج)کی خوشنودی کے لئے زیارت امام حسین ؑپڑھتے رہنا۔

۸

معصومین کے اسماء او ر القاب تشریفاتی اورتعارفی نہیں ہیں

امام زمان علیہ السلام کے القاب میں سے ایک لقب مہدی ہے ، اگرچہ آپ کے بہت سارے القاب ہیں جیساکہ محدث نوری نے نجم الثاقب میں نقل کیا ہے ۔

امام عصرؑ کے ایک سو بیاسی (۱۲۸) اسم اور لقب ہیں ۔ ویسے تو کسی معصوم علیہم السلام کے القاب تعارفی نہیں ہیں جس طرح ہم لوگ ایک دوسرے کو دیتے ہیں بلکہ ان ذوات مقدسہ کے ہر لقب ان کے خاص صفت پر دلالت کرتے

ہیں جو ان کے وجود مبارک میں پائے جاتے ہیں ۔

مثال کے طور پر حضرت کبریٰ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں کہتے ہیں :

آپ ؑ کے کئی القاب اور اسم مبارکہ کے ہیں ۔ فاطمہ ، زہرا، زکیہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان اسماء مبارک کے معنیٰ رکھتے ہیں اس میں سے ہر اسم ایک حقیقت جو حجرت کے وجود مقدس میں نور افشانی کرتی ہے۔

ہمارے آپس میں جو اسم گزاری کرتے ہیں وہ تشریفاتی اور تعارفی ہیں ۔ مثلا ہم کہتے ہیں حجۃ الاسلام ،آیۃ اللہ، شریعت مدار ، نائب امام وغیرہ یہ القاب ہم بہ عنوان عزت و احترام کے طور پر دیئے جاتے ہیں ۔ لیکن ائمہ معصومین علیہم السلام کے القاب اور اسمای گرامی ایک حقیقت اور باسم بہ مسمیٰ ہیں ۔

۹

لقب اور کنیت میں فرق

جی ہاں ! اسم ، لقب اور کنیت میں فرق کرتے ہیں۔

کنیت

کنیت وہ ہے جو کلمہ اب ( بمعنی باپ) یا ام(بمعنی ماں) یا ابن (بمعنی بیٹا) ہیں مثلا ابوالحسن ، ابن الرضا، ام سلمہ وغیرہ یہ کنیت ہیں ۔

لقب

وہ لفظ ہے جو کسی اچھی یا بُری صفت پر دلالت کرتا ہے ۔ مثلا فلان صاحب محمود ہے یعنی پسندیدہ شخص ۔

مثلا حضرت امیر المومنین کا اسم گرامی علیؑ ہے آپ کا کنیت ابوالحسنؑ، آپ کا القاب ، امیر المؤ منینؑ ۔

اسم مبارک امام زمان علیہ السلام وہی اسم مبارک حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کنیت گرامی بھی ابوالقاسم مثل پیغمبر اکرمؐ کے ہمنام ہیں ۔ امام زمان علیہ السلام کے بہت سے القاب ہیں ، آپ کا مشہور ترین لقب مہدی ہے البتہ ہمارے سارے ائمہ طاہرین علیہم السلام مہدی ہیں ۔

اشهد انکم الائمة الراشدون المهدیون المعصومون

یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ سب کے سب مہدی ہیں ۔

۱۰

امام عصر علیہ السلام کے لقب مہدی کیوں ہیں؟

امام زمان علیہ السلام کے خاس لقب مہدی کیوں رکھا گیا :

کہا گیا ہے کہ آپ کی ہدایت کرنے کا انداز ایک خاص راہ وروش کے مطابق ہوگا ۔ یعنی آپ جب لوگوں کو دعوت حق دیں گے اس وقت کسی قسم کی رکاوٹ اور مزاحمت نہیں ہوگا ۔ لوگوں کو اسلام ناب محمدی کے صاف وشفاف دعوت دیں گے اور لوگ بغیر کسی لیت ولعل کے قبول کریں گے ۔ اور جسطرح سے چاہیں گے دنیا کے سامنے اسلام کی حقانیت کو ظاہر اور آشکار کریں گے ۔ قوانین اسلام پر مکمل عمل درآمد ہوگا ، یہ سب کچھ صرف آقا امام زمان علیہ السلام کی توسط سے ہی ہوگا ۔

باقی ائمہ علیہم السلام اپنے اپنے زمانے میں ہادی اور مہدی ضرور تھے مگر حقیقت اسلام کو لوگوں کے درمیان آشکار اور ظاہر نہیں کرسکا ۔اور قوانین اسلام کو اجراء کے مرحلے تک نہیں پہنچایا جاسکے ، کیونکہ وقت کے غاصب اور ظاہم حکمرانوں نے اس چیز کی اجازت نہیں دی کہ اسلام کے صحیح پیغام کو لوگوں تک پہنچا سکے ۔

( اَلَالَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَ‌) (سورہ ہود آیت ۱۸)

لیکن جب امام زمان علیہ السلام ظہورفرمائیں گے تو اس وقت شریعت اسلامی ، قرآن پاک اور اسلامی اصولوں پر مکمل عمل در آمد ہوگا ، اس زمانے میں کوئی طاغوت اور ظالم حکمران نہیں ہونگے کیونکہ سبھی جھوٹے ، ظالم اور طاغوتی طاقتوں کو اللہ کی مدد سے نیست ونابود فرمائیں گے ۔ اور اسلامی قوانین کو من وعن اجراء فرمائیں گے ۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

وَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ : إِذَا قَامَ اَلْقَائِمُ دَعَا اَلنَّاسَ إِلَى اَلْإِسْلاَمِ جَدِيداً وَ هَدَاهُمْ إِلَى أَمْرٍ قَدْ دُثِرَ فَضَلَّ عَنْهُ اَلْجُمْهُورُ ۔۔ ۔ ( الوافي , جلد۲ , صفحه۴۶۹)

یعنی جب ہمارے قائم قیام فرمائیں گے تو لوگوں کو ایک جدید اور تازہ اسلام کی دعوت کریں گے اور اس صاف وشفاف اسلام کی ہدایت کریں گے جبکہ گذشتہ لوگوں کے اسلام اس قدر منحرف اور پرانے ہوچکے ہونگے کہ لوگوں کی اکثریت گمراہ ہوچکے ہونگے ۔

ان باتوں سے اندازہ ہوتا ہے ظہور انور سے پہلے احکام اسلامی اس قدر مہجور اور متروک ہوئے ہونگے جسطرح آئینہ پر گرد وغبار چھا چکے ہے اور آئینہ سے جلا وصفا نکل چکے ہے، اور آدمی کو اپنا چہرہ صحیح طور پر دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔

اسی وجہ سے لوگوں کی نظر میں امام زمان علیہ السلام کے دعوت شدہ اسلام کو جدید پائیں گے جس اسلام کی امام دعوت دیں گے اس کی بہ نسبت اپنے اسلام میں بہت فرق محسوس کریں گے اور مختلف پائیں گے ۔

امام صادق علیہ السلام مذید فرماتے ہین:

وَ إِنَّمَا سُمِّيَ اَلْقَائِمُ مَهْدِيّاً لِأَنَّهُ يُهْدَى إِلَى أَمْرٍ مَضْلُولٍ عَنْهُ وَ سُمِّيَ بِالْقَائِمِ لِقِيَامِهِ بِالْحَقِّ ۔ (سفینۃ البحار ج۲ ص۷۰۱ الوافي , ج۲ ص۴۶۹)

حضرت قائم کو اس لئے مہدی نام رکھا گیا ہے جو چیز گم ہوچکا ہو اور لوگ اس چیز سے بے خبر ہوں ۔ حضرت امام زمان لوگوں کے درمیان گم ہونے والے اسلام کو دوبارہ ظاہر اور آشکار فرمائیں گے (گم ہونے سے یہاں مراد یہ ہے کہ لوگوں کی غلط رسم ورواج اور اسلامی تعلیمات کو اس قدر تحریف کر چکے ہونگے گویا کہ اصل اسلام گم ہوچکے ہیں) آقا امام زمان علیہ السلام پورے دنیا پر اصل اسلام کو ظاہر اور آشکار فرمائیں گے لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیمات سے آشنا اور آگاہ فرمائیں گے ۔

نہج البلاغۃ میں بھی مولائے کائنات امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں :

امیرالمؤمنین (علیه السلام): يَعْطِفُ اَلْهَوَى عَلَى اَلْهُدَى إِذَا عَطَفُوا اَلْهُدَى عَلَى اَلْهَوَى وَ يَعْطِفُ اَلرَّأْيَ عَلَى اَلْقُرْآنِ

(نہج البلاغہ خطبہ۱۳۸)

یعنی وہ اس وقت قیام فرمائیں گے جب ہدایت کو خواہشات نفسانی سے پلٹا دیں گے لیکن لوگوں نے ہدایت کو اپنی خواہشات نفسانی میں تبدیل کیا ہوگا ۔

وہ قرآن پاک کو ہر قسم کی رائے سے پاک وصاف کریں گے لیکن لوگوں نے قرآن پاک کو اپنے رائے میں ( اپنی مرضی کے مطابق) بدل چکا ہوگا ۔

۱۱

لوگ امام مہدی علیہ السلام کے مقابل ہوگا یا ساتھ ہونگے؟

اس وقت ہمیں انتہائی بیدار اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم وہی لوگ ہیں جو خدا پرستی کے بجائے ہوا پرستی کو اختیار کیا ہوا ہے اپنی زندگی کو قرآن کے مطابق چلنے کے بجائے اپنے آراء اور افکار کے مطابق ڈالے ہوئے ہیں یہی سبب ہے اسلام فرسودہ اور کہنہ ہوچکا ہے ، ظاہری اسلام کے ساتھ بھی ہمارے حکام اور حکمران مذاق اڑایا جارہا ہے ۔ اور عوام اور عوامی لیڈر صرف نعرہ بازوں میں وقت ضائع کررہے ہیں آج الحمد للہ ساری دنیا کے مسلمان جانتے ہیں کہ ان کے ملک کے حکمران ننگ دین اور ننگ ملت ہیں لیکن یہ بیچارے عوام کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں ۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر کسی ملک کے عوام اپنے ظالم اور نمدار حکمرانوں کے خلاف جمہوری طریقے سے آواز بلند کرنا چاہے بھی تو ان کی آواز کو ٹینک اور توپ کے ذریعہ دبانا چاہتے ہیں مسلمانوں کے ۷۳ فرقوں میں سے ہر ایک اپنے ہاں قرآن اور اسلام کی خاص تعبیر وتصریح کرتے ہیں اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس حدیث شریف میں کتنی وزن اور حقانیت پوشیدہ ہے اور یہ بھی یاد رکھنی چاہئے فی الحال تو صرف مسلمان ہی وہ قوم ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں اسلام ہی تنہا نجات دھندہ بشریت ہے اور احکام اسلامی پر عمل اور اس کو اجراء کرنے والے ہم ہی ہیں لیکن ہم لوگ ہوا وہوس پر غالب کریں اور اپنی آراء وافکار کو قرآن پر مقدم کریں پہلے مرحلے میں تو یقینا تنہا ہم ہی ہونگے جو امام زمان علیہ السلام ہمارے خلاف قیام فرمائیں گے اور قرآن اور اسلام کو ہمارے غلط آراء اور افکار سے پاک وصاف اور ہم سے نجات دلائیں گے ۔

جو اس راہ میں مخالفت اور مزاحمت کریں تو ان کے جڑ سے اسلام کو آزاد اور اس گروہ کے قلع قمع کریں گے اور یہ بات بھی حدیث شریف میں آیا ہے کہ سب سے پہلا گروہ جو حضرت کو قتل کرنے کے بارے میں فتوی دیں گے وہ امت اسلامی کے مفتی اور فقہاء ہونگے !

۱۲

بَقِيَّتُ اللهِ خَيْرٌ لَّکُمْ سے مراد کون ہے؟

یہ جملہ سورہ ہود کی آیہ شریفہ ۸۶ کی ضمن میں ہے اور حضرت شعیب سے متعلق ہیں آپ نے اپنی قوم سے فرمایا۔

وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ ،

ہوشیار رہئے ! اپنے ترازو اور پیمانہ میں کم نہ تولئے ۔ (سورہ ہود آیت ۸۴)

آلودگیوں کی وجہ سے دعا کا مستجاب نہ ہونا

معاملات میں توجہ کرنی چاہئے یہ ایک ایسا مطلب ہے جس کی طرف قرآن مجید نے بہت تاکید کی ہے ۔ حقیقتا یہ ایک ایسی بات اور توجہ طلب چیز ہے ہماری بہت بڑی مشکلات ہماری کاروباری زندگی کی آلودگیوں کی وجہ سے ہیں ۔

یہی سبب ہے کہ ہماری مشکلات کاروباری زندگی کی آلودگیوں کی وجہ سے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی اور وعظ ونصیحت اثر نہیں کرتی ہے ۔ یعنی ہمارے دل سیاہ ہوچکے ہیں اس اثر کی وجہ سے ہماری دعائیں رک جاتی ہیں اور مشکلات اور گرفتاریوں میں دگنااضافہ ہوجاتا ہے ۔

اور معاشی طور پر تنگ دستی کا شکار ہوجاتے ہے لہٰذا قرآن مجید میں خداوند منان فرماتا ہے ،

وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہوشیار رہنا چاہئے ۔ اپنے معاملات میں گڑھ بڑھ نہیں کرنا چاہئے کمی وبیشی نہیں کرنی چاہئے ۔ ناپ تول میں کمی نہیں کرنی چاہئے ۔

اِنِّیْ اَرٰکُمْ بِخَيْرٍ........

میں اسطرح دیکھ رہا ہوں کہ اگر تم لوگ خدا کی وعظ ونصیحت کو قبول کریں تو تمہاری زندگی سراسر خیرو برکت سے پر ہوجائیں گے اور اگر نہ کریں !

( وَ اِنِّیْ اَخَافُ عَلَيْکُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍ ) ( سورہ ھود آیہ ۸۴)

” مجھے ڈر اس بات پر ہے کہ خدا کی عذاب میں تم لوگ گرفتار ہوجائیں گے “، دنیا ، عالم برزخ اور محشر کے دن عذاب خدا میں مبتلا ہوجائیں گے ۔

( وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَا ٓ ءَهُمْ......... )

۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں کے قیمتی اشیاء میں کم نہ کیجئے ۔

اپنے بازار کی رونق کے لئے دوسروں کے بازار کو خراب نہ کریں ۔

`بَقِيَّتُ اَللّٰهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۔۔

جو کچھ اللہ کی طرف سے بچا ہے تمہارے لئے خیر وبرکت ہے ۔

خداوند عالم کی اطاعت وفرمان برداری میں حرام چیزوں کو چھوڑ دے اس ضمن میں جو کچھ باقی رہ جائے لیکن اسی حلال چیز میں اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو ۔ خدا کی مرضی اور دستخط کی وجہ سے بہت زیادہ حرام مال سے بہتر ہے اسی میں خداوند عزوجل خیروبرکت عنایت کرے ۔ اگرچہ اس قلیل سی مال سے آپ کے پاس بلڈنگ ، محل ، بڑی قیمتی گاڑی وغیرہ نہیں ہونگے، مگر یہ کہ آپ کی خیر دنیا اور آخرت اسی میں مضمر ہیں وہ ہیں بقیۃ اللہ ۔

یعنی وہی مختصر سودا جو خدا کی مرضی اور حلال طریقے سے ہاتھ میں آجاتے ہیں یہاں پر بقیۃ اللہ کی مصداق وہی حلال سودا ہے۔

مگر اس آیت کی تاویل میں آیا ہے بقیۃ اللہ سے مراد وجود اقدس حضرت امام زمان علیہ السلام ہیں ، چونکہ خدا کی طرف سے انبیاء اور ائمہ طاہرین کے بعد باقی رہنے والا تنہا آپ کی ذات مبارک ہیں ۔

وہ تمہارے لئے خیر ہیں اس شرط پر اگر تم اپنے زندگیوں میں حلال اور حرام خدا میں رعایت کریں اور خدا کی مرضی کے مطابق زندگی چلائیں ۔

اس وقت ہم خوشی منائیں ، جشن منائیں ، چراغاں کریں ، نعرہ لگائیں بہت اچھی بات ہیں اس وقت خدا ہمیں اپنے خیر وبرکت سے مالا مال کریں گے ۔ یہ کہ ہم سب اظہار محبت کرتے ہیں لیکن یہ تمام جلسے جلوس ہمارے عیاں ، چراغاں وغیرہ طبق تقوی الٰہی کے مطابق ہونی چاہئے اسی لئے خداوند قدوس فرماتا ہے :

( وَ مَنْ يُّعَظِّمْ شَعَا ٓ ئِرَ اللهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ‌ ) (سورہ حج آیت ۳۲)

یہاں پر شعائر اللہ سے مراد ، مسجد ، امام بارگاہ ، خیابان ، گلی کوچہ کو چراغاں کرنا وغیرہ مقدمہ ہے اصل میں دل کو روشن کرنا چاہئے ۔ قلوب کو عشق ومحبت امام زمان سے منور کرنا چاہئے۔

مسجد ، امام بارگاہ، خیابان ، گلی کوچہ ، شہر اور محلہ وغیرہ روشن کریں خدا نخواستہ ، دل روشن نہ ہو، قلوب عشق ومحبت اور معرفت بقیۃ اللہ سے تاریک ہو تو پھر فیصلہ آپ پر؟؟ البتہ مسجد، امام بارگاہ، سڑکیں، گلی کوچےوغیرہ کے ساتھ ساتھ آپ کے قلوب بھی عشق ومحبت، ایمان ویقین کے نور سے روشن ہوجائیں یہ بہت ہی اچھی بات ہوگی ۔

۱۳

دنیا کی آخرین حکومت

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

الإمامُ الباقرُ عليه السلام :فإذا خَرجَ أسْندَ ظَهْرَهُ إلَى الكعبةِ،و اجْتَمعَ إليه ثلاثُ مائةٍ و ثلاثةَ عَشَرَ رجُلاً، فأوّلُ ما يَنطِقُ بهِ هذهِ الآيةُ: «بَقِيّةُ اللّه ِ خيرٌ لكم إنْ كُنتم مؤمنين» (هود : ۸۶ )

ثُمّ يقولُ :أنا بَقِيّةُ اللّه ِوحُجّتُهُ و خليفتُهُ علَيكُم، فلا يُسَلِّمُ إلَيهِ مُسَلِّمٌ إلاّ قالَ: السّلامُ عليكَ يا بَقِيّةَ اللّه ِفي أرضِهِ

(نور الثقلين : ۲ / ۳۹۲ / ۱۹۴ )

جب امام زمان علیہ السلام ظہور فرمائیں گے ۔ تو سب سے پہلا کلمہ یہ ہوگا ۔

أنا بَقِيّةُ اللّه ِ و حُجّتُهُ و خليفتُهُ علَيكُم ۔۔۔

میں بقیۃ اللہ ہوں ، میں اللہ کی طرف سے تمہارا خلیفہ ہوں ۔ لہٰذا اس وقت کوئی بھی حضرت کو سلام عرض کریں تو ان جملوں کے ساتھ السلام علیک یا بقیۃ اللہ فی ارضہ ، آپ پر سلام ہو اے خدا کی باقی ماندہ حجت خدا جو روئے زمین پر ہیں ۔

امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔:

... إِنَّ دَوْلَتَنَا آخِرُ اَلدُّوَلِ وَ لَمْ يَبْقَ أَهْلُ بَيْتٍ لَهُمْ دَوْلَةٌ إِلاَّ مُلِّكُوا قَبْلَنَا لِئَلاَّ... (كشف الغمة، ج۲،ص،۴۶۵)

یعنی ہماری دولت آخرین دولت ہیں ۔

ہماری دولت آخرین دولت ہیں ، ہماری حکومت آخرین حکومت ہیں ۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے ۔

عنه عليه السلام : ما يكونُ هذا الأمرُ حتّى لا يبقى صِنفٌ مِن النّاسِ إلاّ و قد وُلّوا عَلَى النّاسِ، حتّى لا يَقولَ قائلٌ : إنّا لو وُلِّينا لَعَدَلْنا ! ثُمّ يَقومُ القائمُ بالحقِّ و العَدلِ (الغيبة للنعماني : ۲۷۴ / ۵۳ )

حضرت امام زمان کی حکومت اس وقت تک منشاء ش ہ ود پر واقع ن ہ ی ں ہ ونگ ے جب تک دنیا کی ہ ر طبق ہ س ے تعلق رک ھ ن ے والا حکومت تک ن ہ ی ں پ ہ نچ ی ں گ ے او ر حکومت تک پ ہ نچ ے ک ے بعد دیک ھ ی ں گ ے و ہ دنیا می ں اصلاح ن ہ ی ں کرسکا ہے۔ حتی لایقول قائل انا لو ولّینا لعدلنا ثم یقوم القائم بالحق والعدل ۔ (غیبت نعمانی)

جب ہم حکومت ہاتھ میں لیں گے اور دنیا کی اصلاح کریں گے تو اس وقت کوئی مائی کا لال یہ نہ کہے گا اگر یہ حکومت ہماری ہاتھ میں آجاتی تو ہم بھی اس طرح اصلاح کرتے ۔

ہم مہلت دیں گے تاکہ زندگی سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ حکومت تشکیل دیں اس وقت ہم دیکھتے ہیں جو ہم نے اصلاح کی ہے وہ کسی کو توفیق نہیں ہونگے ۔

ثُمَّ قَالَ إِنَّ دَوْلَتَنَا آخِرُ اَلدُّوَلِ وَ لَمْ يَبْقَ أَهْلُ بَيْتٍ لَهُمْ دَوْلَةٌ إِلاَّ مُلِّكُوا قَبْلَنَا لِئَلاَّ يَقُولُوا إِذَا رَأَوْا سِيرَتَنَا إِذَا مَلَكْنَا سِرْنَا مِثْلَ سِيرَةِ هَؤُلاَءِ وَ هُوَ قَوْلُ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ : وَ اَلْعٰاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (كشف الغمة، ج۲،ص،۴۶۵)

۱۴

امام مہدی(عج) کےکنیت اور القاب

حضرت امام زمانہ ؑکا نام اور کنیت وہی نام اورکنیت ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ اآلہ وسلم کا ہے۔ خداوند عالم جب تک آپؑ کے ظہور پر نور سے روئے زمین کو زینت نہ بخشے اس وقت تک کسی کو اجازت حاصل نہیں ہے کہ آپؑ کو آپ کے اصل نام اور کنیت سے پکارے، اسی وجہ سے بعض فقہاء آپؑ کے اصل نام اور کنیت سے پکارنے کی حرمت کے قائل ہیں ۔ (ا لطبرسی؛ ص ۴۱۸, ۴۱۷)

اور بعض فقہاء اس امر کو مکروہ قرار دیتے ہیں البتہ اکثر فقہاء آپؑ کے اصل نام سے کسی کو پکارنے کی حرمت کو عصر غیبت صغریٰ میں منحصرکرتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ آپؑ کو اس زمانے میں خطرات لاحق تھے اسی لئے حرمت کا حکم بھی اسی دور میں منحصر ہے۔ (سیرہ معصومین؛ ج ۶ ،ص ۱۶۳، ۱۶۱)

ان روایات کی دلالت کی بناء پر شیعہ آنحضرت ؑ کو درج ذیل القاب سے پکارتے ہیں ۔

بقیة الله ، امام غائب ، غائب ، خلیفۃ الله ، مہدی ، صاحب الامر ، خلف الصالح ، فرح المؤمنین ، مہدی موعود ، صاحب الزمان ، حافظ دین ، فرح اعظم ، قائم موعود ، حجۃ الله ، صاحب العصر ، کلمۃ الحق ، منتقم ، ولی الله ، خاتم الاوصیاء ، میزان حق ، امام المنتظر ، ہادی ، المنصور ، احمد ، موعود:

چونکہ آپؑ کے اور آپؑ کے ظہور کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔ خداوند رب العزت ،تمام پیغمبران برحق ، اولیاء برحق اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وعدہ دیا ہے کہ وہ آئیں گے اور پوری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اسی وجہ سے آپؑ کا نام ”موعود “ رکھا ہے۔

قائم:

کیونکہ آپؑ دین حق کو پھیلائیں گے اور قیام عدل کے لئے قیام فرمائیں گے اسی لئے آپ ؑ کا نام “قائم“ رکھا ہے۔

منتقم:

چونکہ آپؑ انبیاء کرام اور اولیاء کرام علیہم السلام اور خدا پرستوں کا انتقام جابر اور ظالموں سے ضرور لیں گے۔

جن لوگوں نے بشریت اور آدمیت کو قتل کیا اور حق و حقیقیت کے پرستاروں کا پاک خون بہایااور جو خدا کی راہ میں شہید ہوئے ان کا انتقام لیں گے اسی لئے آپ ؑ کو “منتقم“ کہا جاتا ہے۔

منتظر:

چونکہ مسلمان آپ ؑ کے انتظار میں ہیں بلکہ پوری بشریت ایک ایسے منجی کے انتظار میں ہے جو ان کو ظلم و بربریت سے نجات دے۔ اسی لئے آپ ؑ کو” منتظر “ کہتے ہیں ۔

امام غائب:

آپؑ عام طور پر لوگوں کی نظروں سے پنہاں ہیں اسی لئے آپؑ کو ”امام غائب “ کہتے ہیں ۔

صاحب الامر:

چونکہ آپؑ خدا کے صاحب امر ہیں اسی لئے آپؑ کو ” صاحب الامر “ کہتے ہیں ۔

صفات و خصوصیات:

مرحوم شیخ عباس قمی رحمۃاللہ علیہ کتاب” منتہی الآمال“ میں آپؑ کے جمال کے بارے میں اس طرح لکھتے ہیں : جیسا کہ روایت میں آیا ہے ” آپؑ لوگوں میں سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت و سیرت ، خلق و خُلق اور کردار و گفتار میں شبیہ ترین شخصیت ہیں آنحضرت کی تمام صفات و خصوصیات امام زمان علیہ السلا م میں جمع ہیں “۔

۱۵

مہدی(عج)فرزند فاطمہ سلام اللہ علیہا ہيں

حضرت مہدی(عج)کے فضائل میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ آپؑ حضرت فاطمہ صدیقۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے فرزند ہیں اور حضرت ابا عبد اللہ الحسین ؑکی نسل سے ہیں آپؑ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے تسلسل کا نام ہیں ، آپؑ کی سیرت طیبہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت طیبہ سے مربوط ہے، آپؑ کا مقصد اور ہدف حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا مقصد اور ہدف ہے، آپؑ کا راستہ فاطمہ ؑ کا راستہ ہے۔حضرت زہرا ؑ نام امام زمان(عج)سے بہت خوش ہوتی ہیں اور آپؑ کی یاد سے اپنے دل کو تسلی دیتی ہیں اور امام زمان(عج)جیسی ہستی کے وجود مبارک پر فخر کرتی ہیں اور امام زمان(عج)اپنی اس عظیم ماں پر رشک کرتے ہیں ۔

امام زمان(عج) کا فر زندزہرا علیہا السلام سے ہونا یہ ان امور میں سے ایک ہے جن پر شیعہ و سنی اتفاق رکھتے ہیں ۔اس ضمن میں بہت سی روایات موجود ہیں نمونے کے طور پر ایک حدیث کو نقل کیا جاتا ہے۔ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے آخری دنوں میں بستر بیماری پر تھے تو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اپنے با با کی حالت پر رو رہی تھیں ، آہستہ آہستہ آپؑ کی آواز بلند ہوئی، پیغمبر اسلام ؐ نے اپنے سر مبارک کو اٹھایا اور رونے کی وجہ پوچھی: حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے عرض کیا: آپؐ کے بعد اسلام کی بربادی اور عترت وآل کی مظلومیت سے ڈرتی ہو ں ۔یہاں پر پیغمبر اسلام ؐ نے اپنی بیٹی کو تسلی و تشفی دی اور صبر و حوصلے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا : اس امت کے مہدی(عج) ظہور کریں گے اور گمراہی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، آپؑ کو بشارت ہو کہ وہ آپؑ کی نسل سے ہو نگے.

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا حضرت امام زمان(عج)کے لئے ایک بہترین نمونہ ہيں ۔ انسان کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اسلام نے جو آفاقی پروگرام دیا ہے آپ کا وجود مقدس اس میں سے ایک نمونہ ، آئیڈیل اور رہنما ہے، بہترین نمونہ کی شناخت اور رہنما کی معرفت انسان کے معنوی درجات کی بلندی کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے، خدا وند عالم پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابراہیم خلیل ؑاور ان کے واقعی پیرو کاروں کو بہترین نمونہ قرار دیتا ہے ایک حدیث میں حضرت امام زمان(عج)نے اپنے جدہ ماجدہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو اپنے لئے بہترین نمونہ بیان فرمایا ہے:

امام مهدى عليه السلام : إنَّ لِي في إبنَةِ رَسولِ اللّه ِ اُسوَةٌ حَسَنةٌ ؛ (الغيبه ، طوسى ، ص ۲۸۶ )

الف: روایات می ں حضرت صدی ق ہ کبریٰ فاطم ہ ز ہ را سلام الل ہ علی ہ ا اور حضرت م ہ دی عجل الل ہ تعالیٰ فرج ہ الشریف کو سار ے ج ہ ا ں ک ے لئ ے سرور و سالار قرار دیا گیا ہے پیغمبر اکرم صلی الل ہ علی ہ وآل ہ وسلم ن ے فرم ایا : میری بی ٹ ی فاطم ہ ؑ تمام ج ہ ا ں کی عورتو ں کی سردار ہ ی ں

(من الأوَّلينَ و الآخِرينَ).

حضرت امام رضا ؑنے اپنے بیٹے امام مہدی(عج)کو سارے عالم کے لئے بہترین خلق قرار دیا ہے

ب: حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا طاہرہ ہیں اور حضرت امام زمان(عج)طاہر ہیں طاہرہ اور طاہر وہ لقب ہیں جو حضرت نبی اکرم ؐنے اپنی بیٹی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور اپنے بیٹے امام زمان(عج)کو دئے ہیں حضرت پیغمبر گرامی اسلامؐ نے فرمایا : کیا تو نہیں جانتا ہے کہ میری بیٹی پاک و پاکیزہ ہيں ؟ اور فرمایا خدا وند عالم نے امام حسن العسکری ؑکے صلب میں ایک مبارک اور پاک و پاکیزہ ہستی کو قرار دیا ہے ۔

ج: دونوں کا وجود مبارک عظیم ہے”حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے القاب میں سے ایک مبارکہ ہے اور امام زمان(عج)کے القاب میں سے ایک لقب مبارک ہے دونوں کا وجود باعث خیر و برکت ہے۔ اور اسی طرح بہت سے دیگر القاب میں بھی مشترک ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں : حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ذکیہ ہیں اور امام زمان(عج)ذکی ہیں ، آپ(س) مطہرہ ہیں اور امام زمان (ع) طاہر ہیں ،آپ(س) تقیہ ہیں اور وہ تقی ہیں ، آپ(س) نقیہ ہیں وہ نقی، آپ (س) محدثہ ہیں اور وہ محدث، آپ(س) منصورہ ہیں اور وہ منصور، آپ(س) صدیقہ ہیں اوروہ صادق المقال، آپ(س) صابرہ ہیں اور وہ صابر۔آپ(س) معصومہ ہیں اوروہ معصوم، آپ(س) مظلومہ ہیں اور وہ مظلوم ، آپ(س) شفیع ۀ محشر ہیں اور وہ شافع محشر،دونوں غوث اور فریاد رس ہیں ، دونوں بدعت گزاروں اور گمراہ کرنے والوں کے خلاف جہاد کرنے والے ہیں ، دونوں مسلمین اور مؤمنین کے لئے مہرباں ، غمخواراور ہمدرد ہیں ، دونوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نہایت عزیز اور پیارے ہیں ۔

جی ہاں :بیان ہوا کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا مظلومہ ہیں اور امام مہدی(عج)مظلوم، جیساکہ زیارت حضرت فاطمہ زہرا (س) میں ہم پڑھتے ہیں :

( السَّلاَمُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمَظْلُومَةُ الْمَغْصُوبَةُ )

حضرت امیر المؤمنین ؑحضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت کے بارے میں فرماتے ہیں :

( قـالَ عَلِـىٌّ عليه السلام: اِنَّ فاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللّه ِ صلي الله عليه و آله لَمْ تَزَلْ مَظْلومَةً مِنْ حَقِّها مَمْنُوعَةً وَ عَنْ ميراثِها مَدْفُوعَةً ۔۔ (امالى شيخ طوسى: ۱۵۵)

فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر اکرم ؐ کی بیٹی مسلسل ظلم و ستم سہتی رہیں اور اپنے حق سے محروم رہیں ۔

حضرت امام علی ؑامام زمان(عج)کی مظلومیت اور غربت کے بارے میں فرماتے ہیں :

( يَقُولُ : صَاحِبُ هَذَا اَلْأَمْرِ اَلشَّرِيدُ اَلطَّرِيدُ اَلْفَرِيدُ اَلْوَحِيدُ ( کمال الدين و تمام النعمة، ج۱ ، ص۳۰۳ )

اس امر کے صاحب ،نکالے ہوئے ، دور رکھے ہوئے اور یک و تنہا ہیں ۔

آیئے ! ہم مل کر ان حضرات کی معرفت حاصل کریں اور اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرتے ہوئے امام زمان(عج)کی غیبت کے دور میں ان دونوں مظلوموں کی مظلومیت کو کم کرنے میں معاون و مددگار بننے کی بھر پور کوشش کریں ۔

دلی شکستہ تر از من در آن زمانہ نہ بود+در این زمان دل فرزند من شکستہ تر است (کتاب سحاب رحمت / بیان شہادت حضرت علی اصغر ؑ )

۱۶

حضرت امام مہدی (عج) قرآن میں

١۔ ( وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْم بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُها عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ ) ( سورہ انبیاء آیت۱۰۵)

ترجمہ: ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہونگے۔

نیک کردار بندوں کی وراثت اور سلطنت کا ذکر زبور میں بھی ہے اور اس سے پہلے توریت وغیرہ میں تھا جس سے صاحبان کردار کی تسکین قلب کا سامان مہیا کیا گیا ہے کہ ان کی ریاضتیں دار دنیا میں بھی برباد ہونے والی نہیں ہیں اور بالآخر دنیا کا آخری قبضہ انہیں کے ہاتھوں میں ہو گا، جس کے ذریعے وہ نظام الٰہی کورائج کریں گے اور ملک خدا میں قانون ِخدا کا نفاذ ہو گا اور اس طرح ان کی دیرینہ حسرت پوری ہوگی اور انہیں ان کی محنتوں کا ثمر حاصل ہو گا۔

اس کے بغیر غرض تخلیق مکمل نہیں ہو سکتی اور کائنات ناتمام کی ناتمام ہی رہ جائے گی۔ دنیا اہل شروفساد کے لئے نہیں بنائی گئی ، اس کی تخلیق قانون الٰہی کے نفاذ کے لئے ہوئی ہے۔

اس اقتدار و سلطنت میں تردد و تأمل اور تشکیک کی کوئی گنجائش نہیں ہے اگر اہل باطل اور بے ایمان و بدکردار افراد اپنی عیاریوں سے دنیا کے حاکم ہو سکتے ہیں اور نظام عالم کو چلاسکتے ہیں تو پروردگار عالم کے نیک و پاک بندے کیوں اس زمین کے وارث نہیں ہو سکتے اور وہ نظام دنیا کو کیوں نہیں چلا سکتے؟

اہل باطل کو ہمیشہ یہی خوش فہمی رہی ہے کہ دنیا میں ہمارے علاوہ کوئی حکومت کرنے کے قابل نہیں ہے لیکن خدا کا شکر ہے کہ اب دھیرے دھیرے یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ باطل کا یہ خیال ایک جنون و وہم کے علاوہ کچھ نہیں ، اور نظام عالم کا چلانا صرف اہل حق و حقیقت ہی کا کام ہے اہل باطل نظام دنیا کو درہم برہم تو کر سکتے ہیں لیکن نظام دنیا کو کامیابی کے ساتھ چلا نہیں سکتے ۔

حضرت امام محمد باقر ؑفرماتے ہیں :خدا کے نیک بندے ہی اس روئے زمین کے وارث ہونگے اور وہ اصحاب امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں ۔ (تفسیر مجمع البیان؛ج ٧، ص ۶۶)

٢۔ ( وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّنَجْعَلَهُمْ الْوٰرِثِیْنَ ۝لا وَنُمَکِّنَ لَهُمْ فِی الاَرْضِ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَهامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ ) ( سورہ قصص آیت۵،۶)

ترجمہ: اور ہم چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین پر کمزور بنا دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا امام بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیدیں ۔ اور انہیں کو روئے زمین کا اقتدار دیں اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکر کو انہیں کمزوروں کے ہاتھوں سے وہ منظر دکھلائیں جس سے یہ ڈر رہے ہیں ۔

٣۔ ( وَقُلْ جَا ٓ ءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوْقًا ) ( سورہ اسراء آیت۸۱ )

ترجمہ: اور کہہ دیجئے کہ حق آگیا اور باطل فنا ہو گیا بتحقیق باطل بہر حال فنا ہونے والا ہی تھا۔

یہ وعدہ ٔ الٰہی ہے جس کا وقتی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں ۔ وقتی طور پر باطل اپنی جولانیوں کا مظاہرہ کر سکتا ہے لیکن دائمی اقتدار اور اختیار صرف حق کے لئے ہے ۔صاحبان ایمان کو اس وعدہ الٰہی کی بناء پرمطمئن ہو جانا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ انجام کار انہیں کے ہاتھوں میں ہے۔

حضرت امام مہدی (عج) حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑکی نگاہ میں

حضرت ولی اللہ اعظم امام زمان(عج)جب ظہور فرمائیں گے اس وقت حضرت عیسیٰ ؑآسمان سے زمین پر اتر آئیں گے اور امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے پیچھے نماز پڑھیں گے ان کی ولادت لوگوں سے پنہاں ہوگی اور خود بھی لوگوں کی نظروں سے غائب ہوں گے وہ میرے بھائی حسین ؑکے نویں فرزند ہیں ، وہ بہترین خاتون کے فرزند ہیں اور آپؑ کی عمر بہت طولانی ہوگی۔ خداوند عالم ان کو (زمین)سے چالیس سالہ انسان کی طرح ظاہر فرمائیں گے تاکہ سب مخلوق خدا جان لے کہ خدا ہر چیز پر قادر اور توانا ہے ۔ (کمال الدین؛ ج ١ ، ص ۴۱۶)

حضرت امام مہدی (عج) حضرت امام سجاد ؑکی نظر میں

بے شک غیبت کے زمانہ میں لوگ آپؑ کی امامت پر ایمان رکھتے ہونگے اور آپؑ کا انتظار کر رہے ہونگے۔یہ لوگ دوسرے زمان کے لوگوں سے افضل ہونگے، چونکہ خداوند عالم نے ان کو عقل و فہم و درک عنایت کیا ہے۔ غیبت ان لوگوں کے لئے مثل ظہور ہے۔ خداوند کریم نے ان لوگوں کی فضیلت و عظمت کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلی وسلم کے زمانے کے ان صحابیوں کے برابر قرار دیا ہے جنہوں نے خدا کی راہ میں تلوار لے کر جہاد کیا، یہی لوگ واقعی اخلاص رکھنے والے اور لوگوں کو سراً و علاناً دین مقدس اسلام کی طرف دعوت دینے والے ہیں اور یہی لوگ حقیقت میں ہمارے شیعہ ہیں ۔ (منتخب الاثر؛ ص ۲۴۴)

۱۷

حضرت امام مہدی(عج) امام محمد باقر ؑکی نظر میں

محمد بن مسلم (جو حضرت امام صادق اور امام باقر علیہم السلام کے شاگردوں میں سے تھے ) کہتے ہیں : میں نے امام محمد باقر ؑسے پوچھاتو آپ نے فرمایا: امام مہدی(عج) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ و روش اپنائیں گے تاکہ اسلام کو حاکم بنائیں ۔میں نے عرض کیا ! روش پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہے ؟امامؑ نے فرمایا: جو نظام اور دستورات زمانہ جاہلیت میں تھے آنحضرت نے ان سب کو باطل کیا اور عدالت کو لوگوں کے درمیان قائم کیا۔

امام زمان(عج)(قائم) بھی اسی طریقہ کار کو اپنائیں گے، جب آپؑ ظہور فرمائیں گے تو جو کچھ ظہور سے پہلے لوگوں کے درمیان رائج ہوگا ان سب کو پاؤں تلے روند ڈالیں گے اور جو اسلام کے واقعی اصول اور دستور ہیں ان کو قائم کریں گے۔

( تہذیب؛ ج ۶، ص ۱۵۴)

حضرت امام مہدی(عج) امام موسیٰ کاظم ؑکی نظر میں

خداوند عالم ہمارے خاندان کے بارھویں شخصیت کے ذریعے ہر مشکل اور دشوار ی کو آسان بنائیں گے اور اس کے مبارک ہاتھوں سے ہر قسم کے جابروں اور طاقت ور ظالموں کو نابود کرے گا اور ہر شیطان سر کس کو تباہ و برباد کرے گا ۔

( کمال الدین؛ ج ۲، ص ۳۶۹)

حضرت امام مہدی(عج)امام رضا ؑکی نظرمیں

دعبل خزاعی کہتے ہیں : میں اپنا قصیدہ بارگاہ امام رضا ؑ میں پڑھ رہا تھا، جب اس شعر پر پہنچا ” ایک امام آلِ محمد ؐ میں قیام کریں گے وہ اللہ کے اسم اعظم کی تائید و برکت اور غیبی مدد سے قیام فرمائیں گے اور حق کو باطل سے جدا کریں گے اور خوردونوش اور کینہ پروری کرنے والوں کو اپنے اصل انجام تک پہنچائیں گے“ (اس وقت) حضرت امام رضا ؑبہت روئے اور اس وقت فرمایا:

اے دعبل! روح قدس نے تمہاری زبان میں بولا ہے کیا تم جانتے ہو یہ امام کون ہيں ؟

میں نے عرض کیا :نہیں آقا میں نہیں جانتا ہوں ! لیکن میں نے سنا ہے کہ آپؑ کے خاندان سے ایک امام قیام فرمائیں گے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے ۔

امام رضا ؑنے فرمایا:میرے بعدامام میرے بیٹے محمد جواد ؑہوں گے، ان کے بعد محمد ؑکے بیٹے علی ؑامام ہوں گے اور ان کے بعد علی ہادی ؑ کے فرزند حسن ؑامام ہوں گے ، ان کے بعد امام حسن العسکری ؑکے فرزند ارجمند حجت وقائم امام ہوں گے ۔ لوگ ان کی راہ میں تک رہے ہونگے۔ان کے ظہور کے بعدسب کے سب اس کے مطیع اور فرمانبردار ہو جائیں گے، وہ زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح وہ اس سے پہلے ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی۔ ( کمال الدین؛ ج ۲ ، ص ۴۷۲)

حضرت امام مہدی (عج) امام حسن عسکری ؑکی نظر میں

میں اس پروردگار عالم کا شکر گزار ہوں جس نے میرے مرنے سے پہلے مجھے میرا جانشین دکھایا۔ اوروہ جانشین انسانوں میں سے شکل وشمائل اور اخلاقی کمالات کے اعتبار سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شبیہ ترین شخص ہے۔

خدا وند ان کو دوران غیبت بلاؤں سے محفوظ فرمائے گا،اس کے بعد ان کو ظاہر و آشکار فرمائے گا اور وہ زمین کو عدل وداد سے بھر دے گا جسطرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ۔ ( کمال الدین؛ ج ۲ ،ص ۴۰۹)

حضرت امام مہدی(عج) شیعوں کی نظر میں

ہمارے عقیدے کا بنیادی ڈھانچہ یہ ہے کہ ہمارے امامؑ ،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان میں سے ہيں ۔ اسی وجہ سے ہمارے مذہب کا نام شیعہ رکھا گیا ہے، ہمارے عقیدہ کے مطابق سب سے پہلے امام معصوم حضرت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب ؑاور آخری امام معصوم حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فر جہ الشریف صاحب الامر وصاحب العصر والزمان ہیں جو کہ ۲۵۵ہجری قمری کو سامرا میں دنیا پر تشریف لائے اور ان کی عمر طولانی ہے اور لوگوں کی نظروں سے پنہاں ہیں تاکہ اس دن پوری دنیا میں اسلام کے آئین اور دستور کو تمام ادیان پر غالب فرمائیں اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں ۔ پس یہ عقیدہ رکھنا کہ امام زمان(عج)مہدی موعود، بارھویں امام، زندہ اور غائب ہیں ہمارے مذہب کے ارکان میں سے ہے، اس بناء پر حضرت امام مہدی(عج)روئے زمین پر حجت خدا ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان میں سے خاتم الاوصیاء اور امام ہیں ۔ آپؑ اسلام کے علمدار، قرآن و وحی کے محافظ اور روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کا نور حساب ہو تے ہيں اسلام کی تمام قدرو قیمت آپؑ کے وجود میں جلوہ نما ہے۔ آپؑ خلق و خُلق اور کردار وگفتارمیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہیں ۔ آپؑ کی غیبت میں زندگی کے اعلیٰ مقاصد پوشیدہ ہیں خداوند رب العزت نے جو وعدہ مؤمنین سے کیا ہے اسے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند گرامی حضرت امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف عملی جامہ پہنائیں گے غمزدہ افرادکو خوش حال کریں گے۔

۱۸

حضرت امام مہدی(عج) اہل سنّت کی نظر میں

بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ امام زمان(عج)پر عقیدہ رکھنا صرف شیعوں سے تعلق رکھتاہے حالانکہ ایسی بات نہیں ہے، بلکہ اس موردمیں اہل سنت بھی اہل تشیع کی مانند حضرت امام زمان(عج)پر عقیدہ رکھتے ہیں ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت اور خوشخبری جو آپ ؐ نے امام زمان(عج)کے بارے میں دی ہے کہ آپؑ کی حکومت عالمی سطح پر ہو گی اس بات پر سب شیعہ و سنی اتفاق نظر رکھتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ اہل سنت کے علماء کہتے ہیں آپؑ ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں اورآپؑ جلد دنیا میں تشریف لائیں گے اور جو کچھ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوشخبری دی ہے اسے عملی جامہ پہنائیں گے۔ اس بات کی دلیل ان کی کتابوں میں موجود احادیث ہیں جو امام زمان(عج)کے بارے میں نقل ہوئی ہيں ۔

اہل سنت کے راوی اہل تشیع کے راویوں سے کم نہیں ہيں ان میں صحابہ سے لے کر تبع تابعین تک راوی ملتے ہیں امام زمان(عج)کے بارے میں ہم تک جو قدیم ترین کتابیں پہنچی ہیں ان میں فضل بن شاذان نیشاپوری کی کتاب ”قائم “ ہے۔

اہل سنت کے ہاں قدیم ترین کتاب جو امام زمان(عج)کے بارے میں لکھی گئی ہے وہ کتاب “ فتن ملاصم “ مرحوم حافظ نعیم بن عماد مروزی کی ہے۔ مرور زمان کے ساتھ ساتھ امام مہدی(عج)پر عقیدہ رکھنا ایک مسلم اسلامی عقیدہ ثابت ہو چکا ہے۔ علماء اہل سنت کے ساتھ عوام بھی اس عقیدہ پر پختہ ایمان رکھتی ہے ۔ اگر کوئی اس نظریہ کا مخالف نظر آئے تو ہم دلیل اور نمونے کے طور پر چند بزرگ علماء کا ذکر کریں گے تا کہ ثابت ہو جائے کہ اہل سنت کا امام مہدی(عج)پر عقیدہ روایت کے اعتبار سے ہے۔

ابن ابی الحدید

وہ شرح نہج البلاغہ میں حضرت امیر المؤمنین ؑکے اس جملہ

( بِنَا فَتَحَ اَللَّهُ وَ بِنَا يَخْتِمُ وَ بِنَا يَمْحُو مٰا يَشٰاءُ وَ يُثْبِتُ )

کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں آپؑ کا اشارہ اس جملہ میں امام مہدی(عج)کی طرف ہے کہ جو آخری زمانے میں ظہور کریں گے۔ اکثر محدثین کا کہنا ہے کہ آپؑ اولاد حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا میں سے ہیں ۔

معتزلہ کے ماننے والے اس بات کا انکار نہیں کرتے ہیں بلکہ اپنی کتابوں میں وضا حت سے بیان کرتے ہیں ۔ ان کے اکابرین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اگرچہ آپؑ پیدا نہیں ہوئے ہیں مگر آپؑ ضرور تشریف لا ئیں گے ۔

( الامام مہدی عند اہل سنہ؛ ج ۲،ص ۱۶۰، ص۱۵۸)

علاّمہ خیرالدین آلوسی

آپؑ کتاب” غایۃ المواعظ “ میں بیان فرماتے ہیں ۔ اکثر علماء اور بزرگان کے کہنے کے مطابق ظہور مہدی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے، اگر کوئی اہل فضل اس بات سے انکار کردے توگویا اس کا کوئی اعتبار اور قیمت نہیں ہے اس کے بعد وہ کہتے ہیں :ہم نے حضرت امام مہدی(عج)کے بارے میں جو بات کی ہے وہ اہل سنت کی نظر میں معتبر، صحیح اور موثق ہے ۔

(ا لامام مہدی عند اہل سنہ؛ ج ۲،ص ۱۶۰،ص ۱۵۸)

حضرت حذیفہؓ

حذیفہؓ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: اگر دنیا کی عمر صرف ایک دن سے زیادہ باقی نہ رہ جائے تو اس دن خداوند عالم ایک ایسے شخص کو ظاہر کرے گا جس کا نام میرا نام ہو گا جس کا خلق وخو میرا خلق وخو ہوگا جس کی کنیت میری کنیت ہو گی۔ جس کا کام میرا کام ہو گا۔

حضرت بقیۃ اللہ ا لاعظم امام مہدی(عج)کے بارے میں شیعوں کی لکھی ہوئی کتابیں درج ذیل کتابیں علماء شیعہ سے منسوب ہیں مرحوم علامہ آقا بزرگ تہرانی نے کتاب شریف ” الذریعہ الیٰ تصانیف شیعہ “ میں نقل فرمایا ہے:

١۔ المہدی مرحوم خندق آبادی۔۔

٢۔ کتاب الغیبہ والحیرہ ابی العباس حمیری قمی۔

٣۔ المہدی جلال الدین مردوشتی۔

٤۔ کتاب الغیبہ و ذکر القائم ابی اخی طاہر۔

٥۔ المہدی ابو موسیٰ عیسیٰ بن مہران۔

٦۔ رسالۃ فی الحجہ مرحوم شیخ صدوق۔

٧۔ المہدی موعود سید علی لاہوری۔

٨۔ رسالۃ فی غیبۃ الحجہ سید مرتضیٰ علم الھدیٰ۔

٩۔ کتاب قائم علی بن مہزیار۔

١٠۔ رسالۃ فی غیبۃ الحجہ میرزا علی اکبر عراقی۔

١١۔ رسالۃفی غیبۃ الامام سید دلدار۔

١٢۔ کتاب الغیبہ شیخ مفید ۔

یہ وہ کتابیں ہیں جو بہت قدیمی ہیں اور گزشتہ صدیوں میں لکھی گئی ہیں ۔

۱۹

حضرت امام مہدی(عج)کے بارے میں اہل سنّت کی لکھی ہوئی کتابیں

١۔ البیان فی الاخبار صاحب الزمان گنجی شافعی۔٢۔ المہدی حماد بن یعقوب۔

٣۔ عقد الدرر فی اخبار مہدی المنتظر ابی بدر مقدس۔٤۔ علامات المہدی المنتظر ابن حجر عسقلانی۔

٥۔ البرھان فی علامات مہدی آخر الزمان متقی ہندی۔٦۔ علامات المہدی جلال الدین سیوطی۔

امام زمان(عج) کی ابتدائی دنوں کے مشکلات

گیارہویں امام حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعدحضرت کے لئے ٣٢٨؁ھ تک کا دور بڑی مشکلات اور مصیبتوں کا زمانہ رہا ہے۔ ان دنوں میں محمد وآل محمد علیہم السلام پر بنی عباس کے مظالم، بنی امیہ کے مظالم سے کچھ کم نہ تھے۔ اس دور میں سادات اور ان کے ارادتمندوں، عقیدتمندوں کے خون کی ندیاں بہائی گئیں ان کے خون سے گارے بنائے گئے۔ مکانوں کی بنیادوں میں، دیواروں میں زندہ چنوائے گئے۔ سولیوں پر چڑھائے گئے حبس ابد کی سزائیں ملیں، جائدادیں ضبط ہوئیں مختلف قسم کے مصیبت اور آلام میں گرفتار ہوئے۔ بنی عباس کے خلیفہ معتمد نے حضرت امام زمان علیہ السلام کو شہید کرنے کا مکمل پروگرام بنایا۔

اس حالے سے ہر طرف سے جاسوس مقرر کئے۔ مردوں، عورتوں، غلاموں ،کنیزوں کی شکل میں معین کئے۔ پروگرام کے مطابق حضرت امام زمان علیہ السلام کو پیدا ہوتے ہی قتل کرنا تھا مگر اس میں وہ ناکام رہے تو حضرت کی سراغ رسانی کے لئے دوسرے بڑے بڑے انتظامات کئے گئے اس دوران آپ کی خفیہ تلاش صرف شہروں تک محدود نہیں تھی بلکہ جنگل ، ریگستان، صحرا، میدانی علاقے اور غیر آباد جگہوں پر حکومت کی طرف سے جاسوس لگے ہوئے تھے خاص طور پر جہاں پر شیعہ اکثریت سے بستے تھے۔ جس شخص پر شک ہوتا تھا کہ وہ حضرت امام زمان علیہ السلام سے رابطہ میں ہے اسے مار دیا جاتا تھا۔

مومنین کی حالت یہ تھی کہ عزیزوں سے دوستوں سے آپس میں ملنا چھوڑ دیا تھا باپ بیٹے کے درمیان عہد وپیمان کے بعد حضرت کے بارے میں کوئی بات کرسکتے تھے۔ان پریشان حال لوگوں کا نہ کوئی کاروبار تھا نہ ہی روزگار، نتیجہ یہ ہوا کہ اپنا اپنا شہر بار چھوڑ کر خاندان کے خاندان اطراف عالم میں نکل گئے اور مختلف ملکوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ان میں سے اکثر جنگلوں ،پہاڑوں میں حیران وپریشان،سرگردان پھرتے رہے اور خانہ بدوشی میں زندگی بسر کی بہت سے غریب عالم غربت ومسافرت میں بہت ہی مظلومانہ مرگئے۔ ہزاروں درود وسلام ہو اس زمانے کے راسخ العقیدہ شیعوں پر جنہوں نے نہائیت ہی صبر وتحمل اور ثابت قدمی کے ساتھ ان حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بنی عباس کے حکمرانوں کی طرف سے قیامت خیر مظالم سے صفحہ قرطاس پر ہیں۔ یہاں پر مومنین اور مسلمین کی آگاہی آیئے صرف ایک واقعہ نقل کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ ایک دفعہ معتضد نے حکم دیا کہ حضرت امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو کسی طریقے سے گرفتار یا قتل کر ڈالیں۔ اس حوالے سے صدارتی گارڈ کے ایک فوجی دستے کو سامراء میں امام علی نقی علیہ السلام کے گھر کا محاصرہ کرنے کا اور جس کو بھی جس حالت میں ملے گرفتار کر کے لے آئیں۔

چنانچہ اس فوجی دستے نے شاہی حکم پر چاروں طرف سے مکان کو گھیر لیا آمد ورفت کے تمام راستے بند کردیئے۔ کچھ فوجی مع افسران کے گھر کے اندر داخل ہوئے حسب دستور اس سرداب مقدس کے قریب پہنچ گئے جو مکان کے آخری حصے میں ایسے مخفی مقام پر واقع تھا جہاں کسی کے رہنے کا احتمال نہیں ہوسکتا ہے ایسے میں وہاں سے کسی کی دلنشین انداز میں تلاوت قرآن مجید کرتے ہوئے سنایا گیا۔جس کو سن کر سب حیران رہ گئے فوجی دستے کے افسر نے باہر کے سپاہیوں کو بھی اند ر بلا لیا اور کہا ہمارا جو ہدف ہے وہ اسی سرداب کے اندر موجود ہے پس اس کو گرفتار کرنا ہے وہ یہیں پر موجود ہیں محاصرہ کی ضرورت نہیں ہے اب سب مل کر اس کو پکڑ لینا۔اتنے میں حضرت امام زمان علیہ السلام سرداب سے باہر آئے اور ان لوگوں کے سامنے سے نکل کر سب کی نگاہوں سے غائب ہوگئے بہت سے سپاہیوں نے حضرت کو نکلتے ہوئے دیکھا کچھ کی نظریں نہ پڑیں مگر جب فوجی افسر نے سرداب کے اندر داخل ہونے کا سپاہیوں کو حکم دیا تو دیکھنے والوں نے کہا کہ ایک صاحب ابھی برآمد ہوئے تھے اور اس طرف کو چلے گئے افسر نے کہا کہ ہم نے تو کسی کو نکلتے نہیں دیکھا جب آپ نے کچھ نہ کہا تو ہم نے بھی توجہ نہ کی۔ اس صورت حال سے سب دنگ رہ گئے پھر ہر چند کوشش کی گوشہ گوشہ چھان ڈالا لیکن کوئی نشان نہ ملا۔ آخر کار ندامت وشرمندگی کے ساتھ یہ گروہ واپس ہوگیا اور معتضد کو صورت حال سے آگاہ کیا۔

نور خدا کفر کے حرکت پر خندہ زن + پھونکوں سے یہ نور بجھایا نہ جائے گا

جن کو قدرت نے یہ بتا دیا کہ حجت خدا کا نگہبان خدا ہے جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹا سکتا ہے کون!

معاندین کی کوئی ظالمانہ حرکت کامیاب نہیں ہوسکتی۔ پہلے بھی خدا والوں کے کیسے کیسے محاصرے ہوتے رہے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے گرفتار کرکے پھانسی دینے کے ارادے سے ایک گھر میں بند کردیا تھا مگر خداوند عالم نے ان کو تو اٹھا لیا اور یہودیوں کے سردار یہودا کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں کردیا جو سولی پر چڑھا دیا گیا،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کرنے کے سلسلہ میں کفار ومشرکینن نے بڑی بڑی تدبریں کرتے رہے یہاں تک کہ شب ہجرت کیسا محاصرہ ہوا مگر حضرت اندر سے باہر تشریف لائے دشمنوں کے سامنے سے چلے گئے اور کسی نے نہ دیکھا اسی طرح حضرت حجت علیہ السلام کی حفاظت کا واقعہ ہوا کہ سرداب سے تشریف لا کر حملہ کرنے والوں کے درمیان سے نکلے لیکن ان قاتلوں کی آنکھوں پر ، عقلوں پر ایسے پردے پڑے کہ کچھ نہ کرسکے مگر اپنی اس ناکامی وشان الٰہی کے مظاہرہ سے بھی کچھ سبق نہ لیا اور گمراہی کی دیواروں میں محصور رہے۔

غیبت کا آغاز ، غیبت صغریٰ ، غیبت کبریٰ

الف۔ غیبت کا آغاز

حضرت امام حسن عسکری ؑآٹھ ربیع الاوّل ٢٦٠ ؁ ہجری قمری کو عباسی خلیفہ معتمد کے ہاتھوں شہید ہوئے تو حضرت مہدی(عج)جنکی عمر ابھی پانچ سال سے زیادہ نہ تھی آپ نے اپنے والد بزرگوار کی پیکر مبارک پر نماز اداکی۔ (سید محسن امین؛ ص ۲۵۹)

ب۔ غیبت صغریٰ و غیبت کبریٰ

( وله قبل قَياَمه غيبَتَان: احدايهما اَطوَلُ مِنَ الاُخریٰ کما جاأت بذالک الاخبارفَاِنّما القصریٰ مِنهمامنذئوقتِ مؤ لد الیٰ انقطاع السّفارةبينّة و بين شيعته وعدم السُّفراء بالوفاه و امّا الطّول لی فهی بعدالاولیٰ وفی اٰخرِها يقوم با السّيف )

عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : لِلْقَائِمِ غَيْبَتَانِ إِحْدَاهُمَا قَصِيرَةٌ وَ اَلْأُخْرَى طَوِيلَةٌ اَلْغَيْبَةُ اَلْأُولَى لاَ يَعْلَمُ بِمَكَانِهِ فِيهَا إِلاَّ خَاصَّةُ شِيعَتِهِ وَ اَلْأُخْرَى لاَ يَعْلَمُ بِمَكَانِهِ فِيهَا إِلاَّ خَاصَّةُ مَوَالِيهِ

(ارشاد مفید؛ باب ۳۵، ص ۶۷۳)

حضرت ؑ کے قیام سے پہلے دو غیبت ہیں ۔ ایک، دوسرے سے زیادہ طولانی ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں کچھ اس طرح آیا ہے۔

ایک (غیبت صغریٰ) ہے جو آپؑ کی ولادت سے لے کرآپؑ کے سفراء اور نائبین تک کے زمانہ پر محیط ہے آپؑ کے معتمد نائبین کی رحلت کے بعد آپؑ غیبت کبریٰ میں چلے گئے جس میں آپؑ اپنے ظہور پر نورتک لوگوں سے مخفی رہیں گے۔

غیبت صغریٰ

حضرت امام زمان علیہ السلام کی غیبت ایسی ہی ہے کہ جیسی گذشتہ امتوں میں بعض انبیاء علیہم السلام وا ولیاء علیہم السلام کی غیبتیں ہوئیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ میری امت میں ہو بہو وہ باتیں ہوں گی جو گذشتہ امتوں میں پیش آتی رہیں ہیں لہٰذا حسب حالات مذکورہ اس امت میں بھی حجت خدا حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت ہوئی۔

سب سے پہلے ظالمین کے ظلم وستم کی وجہ سے حضرت ادریس علیہ السلام کو جو حضرت آدم علیہ السلام کی پانچویں پشت میں حضرت نوح علیہ السلام کے پر دادا ہیں غیبت کا حکم ہوا جبکہ بادشاہ وقت ان کے قتل کی فکر میں تھا چنانچہ وہ غائب ہوئے اور قوم کی شقاوت اور نافرمانی سے اس شہر میں اور اس کے اطراف میں بیس ٢٠ برس تک بارش تک نہ برسی اتنی مدت میں حضرت ادریس علیہ السلام پہاڑوں میں ویرانوں میں پوشیدہ رہے جب وہ ظالم حکمراں ہلاک ہوگیا اور قوم نے توبہ کی تو حضرت ادریس علیہ السلام ظاہر ہوئے اور آپ کی دعا سے بارش ہوئی پھر وہ وقت آیا کہ بالائے آسمان اٹھا لئے گئے۔

حضرت نوح علیہ السلام نے وقت وفات مومنین سے فرمایا تھا کہ میرے بعد غیبت کا زمانہ آئے گا یہاں تک کہ مدت کے بعد قائم آل نوح علیہ السلام ظاہر ہوں گے جن کا نام ہود ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا اور محبت خدا کی غیبت کا زمانہ اتنا طویل رہا کہ لوگ حضرت ہود علیہ السلام کے ظہور سے ناامید ہونے لگے تھے حضرت خضر علیہ السلام کی غیبت اب تک ہے اور حضرت امام زمان علیہ السلام کے رفیق ہیں آپ کا معجزہ یہ رہا ہے کہ آپ جس خشک زمین پر بیٹھتے وہ سر سبز وشاداب ہوجاتی جس خشک لکڑی پر تکیہ کرتے اس سے پھول پتے نکل آتے چونکہ خضرۃ کے معنی سبزہ کے ہیں اس لئے ان کو خضر کہتے ہیں آپ نے آب حیات پیا ہے اسی لئے قیامت کے وقت صور پھونکے جانے کے وقت تک زندہ رہیں گے۔ بعض صالحین نے ان کو مسجد سہلہ اور مسجد صعصعہ میں دیکھا ہے جس قوم کی طرف وہ مبعوث ہوئے تھے اس نے انہیں ایک کمرے میں بند کرکے راستے میں مٹی پتھر سے روک دیئے تھے جب دروازہ کھولا گیا تو کمرہ خالی تھا وہ بحکم الٰہی وہیں سے غائب ہوگئے خداوند رب العزت نے وہ قوت عطا فرمائی کہ جس شکل وصورت میں چاہیں متشکل ہوجائیں حضرت خضر علیہ السلام کا تعلق دریاؤں سے ہے بے راہیوں کی رہبری فرماتے ہیں ہلاکت سے بچاتے ہیں اور حضرت امام زمان علیہ السلام کے رفقاء میں سے ہیں۔

اسی طرح حضرت الیاس علیہ السلام کی غیبت ہے بنی اسرائیل کے پیغمبر رہے قوم ان کی تکذیب کرتی اور ان کی توہین کرتی رہی مدت تک ان کے ظلم وستم پر صبر کرتے رہے مگر جب وہ قتل کرنے پر تل گئے تو آپ ایک پہاڑ میں غائب ہوگئے اور سات برس اسی حالت میں گزرے کہ زمین کی گھاس غذا رہی خداوند رب العزت نے وحی کی کہ اب آپ جو چاہو سوال کرو عرض کیا کہ میں قوم بنی اسرائیل سے بہت بیزار ہوں تو مجھے دنیا سے اٹھالے ارشاد رب العزت ہوا کہ یہ وہ زمانہ نہیں ہے جو زمین واہل زمین کو تم سے خالی دیکھوں اس عہد میں زمین تمہاری وجہ سے قائم ہے اور ہر زمانہ میں میرا ایک خلیفہ ضرور رہتا ہے پس خداوند عالم نے وہ طاقت وکرامت فرمائی کہ حضرت الیاس علیہ السلام بھی حضرت خضر علیہ السلام کی طرح زمین پر موجود وغائب ہیں حضرت حجت علیہ السلام کی رفاقت کا شرف حاصل ہے جنگلوں میں پریشان حالوں کی رہنمائی ضعیفوں کی دستگیری فرماتے ہیں حضرت صالح علیہ السلام جب اپنی قوم ثمود کو ایک سو بیس ١٢٠ برس تک ہدایت کرتے رہے مگر انہوں نے بت پرستی نہ چھوڑی تو ان سے پوشیدہ ہوگئے اور اتنی مدت تک غیبت رہی کہ کچھ لوگ خیال کرنے لگے کہ آپ انتقال فرماگئے ایک گروہ کو یقین تھا کہ وہ زندہ ہیں جب ظاہر ہوئے تو کسی نے ان کو نہ پہچانا۔ حضرت صالح علیہ السلام سے کہا گیا تھا کہ اس پتھر سے جس کی لوگ پرستش کرتے تھے اونٹنی مع بچہ کے نکال دو تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے آپ نے دعا کی قبول ہوئی پھر بھی ایمان نہ لائے اور ایک شقی القلب کو لالچ دے کر اس اونٹ کے پاؤں کٹوا دیئے ٹکڑے ٹکڑے کیا گوشت کو کھایا توبہ کے لئے تین دن کی مہلت ملی لیکن وہ نہ سمجھے۔ چوتھے روز بڑی چیخ وپکار کی آواز ہوئی کانوں کے پردے پھٹ گئے زمین کو زلزلہ آیا قلب وجگر پاش پاش ہوگئے آسمان سے آگ آئی جس نے سب کو جلا کر خاکستر کردیا۔

حضرت شعیب علیہ السلام کی عمر دو سو بیالیس ٢٤٢ برس کی ہوئی قوم کو ہدایت کرتے کرتے بوڑھے ہوگئے اور مدت تک غائب رہے پھر خدا کی قدرت اور عنایت سے جوانی کی حالت میں پلٹ گئے اور رہنمائی میں مصروف ہوئے قوم نے کہا ہم نے تمہارا کہنا اس وقت تک نہ مانا جب تم بوڑھے تھے اب تو جوانی میں تمہاری باتوں کا کیسے یقین کریں۔حضرت یونس علیہ السلام بھی اپنی قوم سے غائب ہوئے بلکہ ان کی غیبت تو ایسی ہے کہ مچھلی کے پیٹ میں رہے ٣٣ برس سمجھایا مگر دو افراد کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ بارگاہ خداوندی میں بڑے اصرار کے ساتھ نزول عذاب کی دعا کی بالآخر عذاب نازل ہونے کا مہینہ، دن اور وقت مقرر ہوا جس کی اطلاع دے کر خود آبادی سے باہر آئے اور پہاڑ کے کسی گوشے میں چھپ گئے جب عذاب کا وقت قریب آیا تو اس قوم نے صحرا میں پہنچ کر بوڑھوں کو جوانوں سے جدا، عورتوں کو شیر خوار بچوں سے جدا، حیوانوں کو ان کے دودھ پیتے بچوں سے جدا کرکے فریاد شروع کردی ۔یکایک عذاب کے آثار دیکھے کہ زرد آندھی آئی جس میں خوفناک صدائے عظیم تھی سب نے گریہ وزاری کے ساتھ توبہ واستغفار کی آوازیں بلند کیں بچے اپنی ماؤں کو ڈھونڈتے اور روتے تھے جانور اپنے بچوں سے علیحدہ ہونے پر شور کررہے تھے رحمت الٰہی جوش میں آئی اور عذاب ٹل گیا۔ اس کے بعد حضرت یونس علیہ السلام یہ خیال کرکے کہ سب ہلاک ہوگئے ہوں گے شہر کی طرف آئے مگر وہاں سے چرواہوں کو آتے دیکھا اور سمجھ گئے کہ عذاب الٰہی نہیں آیا ہے آپ اس تصور میں کہ قوم مجھے جھوٹا کہے گی مخفی ہوگئے بیابانوں میں پھرے یہاں تک کہ دریا پر آئے کشتی میں سوار ہوئے اور مچھلی نگل گئی پھر باہر نکلے اپنی قوم میں واپس آئے تب سب نے تصدیق کی اور ان میں رہنے لگے حضرت یونس علیہ السلام کی غیبت ایسی تھی جس سے متعلق خداوند عالم نے فرمایاہے کہ اگر وہ اس کی تسبیح نہ کرتے تو روز قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طرح طرح سے ستایا جب یہودی تھک گئے تو پھانسی دینے کے ارادے سے ان کو ایک مکان میں بند کردیا رات کا وقت تھا بحکم الٰہی جبرئیل آئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں سے نکال کر بالائے آسمان لے گئے۔ صبح کو یہ سب ظالم پھانسی لگانے کے قصد سے جمع ہوئے اور ان کا سردار جس کا نام یہودا تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو باہر لانے کے لئے تنہا اس مکان میں داخل ہوا خداوند رب العزت نے اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں کردیا۔ جب اس نے ان کو وہاں نہ پایا تو دوسروں کو خبر دینے کے واسطے لوٹا اس کے باہر آتے ہی قبل اس کے کہ وہ کچھ کہے یہودا کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر پکڑ لیا اس نے شور مچایا کہ میں عیسیٰ ؑ نہیں ہوں یہودا ہوں۔ مگر کسی نے اس کی نہیں سنی اور اس کو سولی پر چڑھایا پھر خدا کی قدرت سے اس کی اصلی صورت ہوگئی۔

اس وقت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غیبت ہے جب حضرت امام زمان علیہ السلام کا ظہور ہوگا تب آسمان سے اتریں گے اور ظاہر ہونگے۔

مذکورہ غیبتوں کے علاوہ دیگر انبیاء علیہم السلام کی غیبتیں بھی ہیں ، جب بنی اسرائیل پر بلاؤں کا وقت آیا تو چار سو سال تک انبیاء اور اوصیاء علیہم السلام ان سے غائب رہے باوجودیکہ روئے زمین پر حجت خدا موجود تھے لیکن غیبت رہی یہاں تو صرف چند حضرات سے متعلق روایات کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے جس پر نظر کرنے سے امام زمان علیہ السلام کی غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ دونوں کی صورتیں سمجھنے میں آسانی ہوجائیگی۔

۲۰