تفسير راہنما جلد ۲

 تفسير راہنما7%

 تفسير راہنما مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 749

جلد ۱ جلد ۲ جلد ۳ جلد ۴ جلد ۵ جلد ۶ جلد ۷ جلد ۸ جلد ۹ جلد ۱۰ جلد ۱۱
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 749 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 172631 / ڈاؤنلوڈ: 6295
سائز سائز سائز
 تفسير راہنما

تفسير راہنما جلد ۲

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

اسى طرح احتمال ہے كہ (نسوة) كے ليے صفت ہو تو دوسرے احتمال كى صورت ميں جملہ ( قال نسوة فى المدينة ...) سے مراد يعنى شہر كى عورتيں زليخا كے قصّے كو ايك دوسرے كے ليے بيان كرتى تھيں _

۴_ زليخا، عزيز مصر كى بيوى تھى _امرأت العزيز

۵_ يوسفعليه‌السلام كا عشق، زليخا كے دل و جان ميں راسخ ہوگيا تھا اور وہ اس عشق كے سامنے مسخّر ہوگئي تھى _قد شغفها حبّ (شغاف ) دل كے پردے يا دل كے مركزى نقطے كو كہا جاتا ہے _ پس ( شغف) كا معنى يہ ہوگا كہ يہ اس كے ليے دل كا غلاف بن گيا يا دل كے مركز تك پہنچ گيا _( شغفہا ) كے فاعل كى ضمير (فتى ہا )) كى طرف لوٹتى ہے اور (حبّاً) تميز ہے جوفاعل كا بدل ہے_ تو عبارت يوں گئي ( شغف حب يوسف اياہا ) يعنى يوسفعليه‌السلام كى محبت زليخا كے ليے دل كا غلاف ہوگئي اور اسكو گھير ليا يا يہ معنى كريں گئے كہ يوسفعليه‌السلام كے عشق نے زليخا كے دل كے پردہ كو پھاڑ كر اسميں نفوذ كرليا _

۶_زليخا كا يوسفعليه‌السلام پر فريفتہ ہونا اور اس كے عشق كى داستان، يوسفعليه‌السلام كى عين جوانى ميں تھى _

تراودفتى ها عن نفسه قد شغفها حبّ

۷_ اشراف كى عورتوں نے زليخا كا ايك زر خريد غلام سے آرزو پورا كرنےكے تقاضا كو برا سمجھا اوراسكى اس بات پر ملامت كرتى تھيں _و قال نسوة فى المدينة امرأت العزيز تراود فتى ها عن نفسه قد شغفها حبّ

(فتا ) غلام اور عبد كے معنى ميں ہے اور جوان كے معنى ميں بھى آتا ہے _ احتمال ديا جاسكتا ہے كہ جملہ (تراود فتاہا ) ميں (فتا) كے دونوں معنى مراد ليے گئے ہوں _

۸_ زرخريد غلام پر عاشق ہونا اور اس سے جنسى آرزو كا تقاضا كرنا، اشراف كى عورتوں اورزليخا كى ہم سن عورتوں كى نظر ميں واضح و روشن غلطى و خطا تھى _قد شغفها حبّاً إنا لنرى ها فى ضلال مبين اشراف كى عورتوں كايوسفعليه‌السلام كو ( غلام يا زليخا كا چھو كرا ) كہنا اس پر انگشت نمائي كرناتھا كہ كيوں اس نے اپنے زرخريد غلام سے عشق كيا ہے_

۹_ زليخا كا يوسفعليه‌السلام سے عشق كرنا در حالانكہ وہ عزيز مصر جيسے شخص كى بيوى تھى يہ اشراف كى عورتوں كے ليے بہت ہى تعجب آور بات اور اسكى بہت ہى سرزنش اور ملامت كا موجب تھى _امرأت العزيز تراود فتى ها عن نفسه

اشراف كى عورتوں كا زليخا كو ( عزيز مصر كى بيوى سے) ياد كرنا اسكى برائي كو زيادہ جلوہ دينا ہے_ يعنى غلاموں سے عشق ومعشوقى تو برى بات ہے چہ جائيكہ عزيز مصر كى بيوى ہو كر يہ كام كرے يہ تو بہت ہى نامناسب بات ہے _

۴۴۱

۱۰_عن على بن الحسين عليه‌السلام ... فلما سمع الملك كلام الصبى قال ليوسف : (أعرض عن هذا ) و اكتمه قال : فلم يكتمه يوسف و ا ذاعه فى المدينه حتى قلن نسوة منهنّ امرا ة العزيز تراود فتاها عن نفسه (۱)

امام سجادعليه‌السلام سے روايت ہے كہ جب بادشاہ نے اس بچے كى بات كو سنا ...تو پھر يوسفعليه‌السلام سے كہا اس بات كو فراموش كردو _ اور اسكو دل ميں ركھ لو _ (امامعليه‌السلام فرماتے ہيں ) كہ يوسفعليه‌السلام نے اس بات كو چھپايا نہيں بلكہ شہر والوں كو بتا ديا _ تب شہر كى چند عورتوں نے يہ كہا كہ عزيز مصر كى بيوى نے غلام كو اپنى ہوس پورى كرنے كى دعوت دى ہے_

۱۱_عن أبى جعفر عليه‌السلام فى قوله '' قد شغفها حبّا'' يقول : قد حجبها حبّه عن النّاس فلا تعقل غيره (۲)

امام باقرعليه‌السلام سےخداوند عالم كے اس قول( قد شغفہا حبّاً) كے بارے ميں سوال كيا گيا تو حضرتعليه‌السلام نے فرمايا : كہ عزيز مصر كى بيوى كے دل پر يوسف(ع) كے عشق نے اس طرح پردہ ڈال ديا تھا كہ وہ لوگوں كو فراموش كرچكى تھى يوسفعليه‌السلام كے علاوہ اسے كسى كى بھى فكر نہيں تھى _

اشراف مصر:اشراف مصر كى عورتيں اور زليخا ۷،۸; اشراف مصر كى عورتيں اور زليخا كى آرزو طلبى ۲، ۳;اشراف مصر كى عورتوں كا تعجب ۹;اشراف مصر كى عورتوں كى فكر ۸

رحجانات :غلام كى طرف رحجان كرنے كى مذمت ۸

روايت : ۱۰، ۱۱

زليخا:زليخا اور عزيز مصر ۴; زليخا كا شوہر ۴;زليخا كا يوسف(ع) سے عشق ۵،۶، ۹،۱۱;زليخا كى سرزنش ۷، ۹; زليخا كے آرزو طلبى كى شہرت ۱، ۳;زليخا كے عشق كى شہرت ۱، ۳; زليخا كے عشق كى شہرت كے عوامل ۲; عزيز مصر اور يوسفعليه‌السلام ۱

عزيز مصر:عزيز مصر كى بيوى ۴;عزيز مصر كى توقعات ۱۰

غلام :غلام سے آرزوپوركرنے پر سرزنش ۷، ۸

يوسفعليه‌السلام :يوسفعليه‌السلام كا فاش كرنا ۱۰; يوسفعليه‌السلام كا قصّہ ۱، ۲، ۳، ۵، ۶، ۷، ۸، ۹، ۱۰، ۱۱;يوسف(ع) كى جوانى ۶

____________________

۱) علل الشرائع ، ص ۴۹ ، ح ۱ ، ب ۴۹; نور الثقلين ، ج ۲ ، ص ۴۱۴ ، ح ۱۷_

۲) تفسير قمى ، ج ۱ ، ص۳۵۷ ; نور الثقلين ، ج ۲ ، ص ۴۲۳ ، ح ۵۴_

۴۴۲

آیت ۳۱

( فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً وَآتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّيناً وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّهِ مَا هَـذَا بَشَراً إِنْ هَـذَا إِلاَّ مَلَكٌ كَرِيمٌ )

پھر جب زليخا نے ان عورتوں كى مكارى اور تشہير كا حال سنا تو بلا بھيجا اور ان كے لئے پر تكلف دعوت كا انتظام كرے مسند لگادى اور سب كو ايك ايك چھرى دے دى اور يوسف سے كہا كہ تم ان كے سامنے سے نكل جائو پھر جيسے ہى ان لوگوں نھ ديكھا تو بڑا حسين و جميل پايا اور اپنے ہاتھ كاٹ ڈالے اور كہا كہ حاشا اللہ يہ تو آدمى نہيں بلكہ كوئي محترم فرشتہ ہے (۳۱)

۱_ زليخا نے يوسفعليه‌السلام سے اپنے عشق كى داستان پر مصر كى عورتوں كى سرزنش كو سنا اوراس سے آگاہ ہوئي _

فلما سمعت بمكرهنّ

(سمع) كا فعل متعدى ہے _(بأ) كے حرف كے ساتھ متعدى كرنے كى ضرورت نہيں ہے اسى وجہ سے(سمعت بمكرہنّ) كے جملہ ميں (علمت) كا معنى پايا جاتا ہے _ اسى وجہ سے جملے كا معنى يوں ہوگا _ زليخا عورتوں كے مكر سے آگاہ ہوئي اور يہ آگاہ ہونا انخبروں كى بناء پر تھاجو اس كے ليے بيان كى گئيں _

۲_ زليخا كا يوسفعليه‌السلام سے عشق كرنے كا قصّہ، اشراف مصر كى عورتوں كے ليے اس كے خلاف سازش اور پروپيگنڈاكا ہتھيا رتھا_قال نسوة فى المدينة ...فلما سمعت بمكرهنّ

(مكر) سے مراد زليخا كے قصّے كو نقل كرنا ہے (مكر) سے قصّہ كو نقل كرنے كا معنى لينے سے مراد يہ كہ اشراف مصر كى عورتيں ، اس قصّہ كومشہور كر كے زليخا كى شخصيت پر ضرب لگانا اور اس كے خلاف سازش كرنا چاہتى تھيں _

۳_ زليخا، نے عورتوں كى سازش اور سرزنش كرنے والى باتوں سے آگاہى حاصل كرنے كے بعد انہيں اپنے گھر مدعو كيا _

فلما سمعت بمكرهنّ أرسلت اليهنّ

(أرسلت اليہنّ) كا معنى يہ ہے كہ ان كى طرف بھيجا جملہ (و أعتدت لہنّ متّكئاً و ...) كے قرينہ سے معلوم ہوتا ہے كہ اس نے ان كو كھانے كى دعوت دى تھى _

۴۴۳

۴_ زليخا نے عورتوں كى سرزنش كا جواب دينے كے ليے ايك كھانے كى دعوت كا اہتمام كيا جو ايك مخصوص دعوت تھي_

أرسلت إليهنّ و أعتدت لهنّ متّكئا

۵_ زليخا نے مدّ عو عورتوں كے تكيہ لگانے اور آرام كے ليے ايك مخصوص تكيہ گاہ كا انتظام كيا _

و أعتدت لهنّ متّكئا

''اعتاد'' (اعتدت) كا مصدر ہے جو آمادہ اور مہيا كرنے كے معنى ميں آتا ہے _'' متكئا'' اسكو كہتے ہيں جسے تكيہ كے طور پر استعمال كيا جائے _ اسكا نكرہ لانا اسكے مخصوص ہونے كو بيان كرتا ہے _

(متّكئاً) غذا وطعام كے ليے بھى استعمال ہوتا ہے _ اسكا مفرد لانا اور جملہ ( آتت ...) كے ساتھ ذكر كرنا (يعنى ہرايك كو غذا كے ليے چاقو ديا گيا ) ممكن ہے كہ يہاں (متّكئاً) سے مراد (طعام) ہو_

۶_ زليخا نے ہرمدّ عوخاتون كو كھانے كى چيزوں سے استفادہ كے ليے چاقو فراہم كيا _و ء اتت كل واحدة منهنّ سكّينا

۷_ زليخا بنفس نفيس محفل دعوت كو آراستہ كرنے والى اور اشراف كى خواتين كے لئے ميزبان تھى _

و أعتدت لهنّ متّكئاً و ء اتت كل واحدمنهنّ سكّينا

(أعتدت) اور (أتت) كى ضمير (امرأة العزيز) كى طرف لوٹتى ہے اس سے يہ ظاہر ہوتا ہے كہ وہ خود ان كاموں كو انجام دے رہى تھى _ و گرنہ فعل (أعتد) اور (اوتيت) كو مجہول ذكر كيا جاتا _

۸_ زليخا نے جن عورتوں كو يوسف(ع) كے ديداركى دعوت دى تھى وہ دس سے زيادہ نہيں تھيں _

و قال نسوة فى المدينه فلماسمعت بمكرهنّ أرسلت اليهنّ

(مكرہنّ) اور (اليہنّ) كى ضمير'' نسوة'' كى طرف پلٹ رہى ہے جو اس سے پہلے والى آيت ميں ذكر ہے_اور (نسوة) كا لفظ جو جمع قلت كا صيغہ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے كہ عورتوں كى تعداد دس افراد سے كم تھي_

۹_ كھانے پينے كى چيزوں ميں چاقو كا استعمال قديمى مصر اور يوسفعليه‌السلام كے زمانے ميں رائجتھا_

و ء اتت كل واحدة منهنّ سكّينا

۱۰_ زليخا نے يوسفعليه‌السلام كو مدعو عورتوں سے دور ركھنے كے ليے انہيں عمارت كے اندر والے كمرے ميں رہنے كو كہا _و قالت اخرج عليهنّ

۴۴۴

(خروج) كا لفظ اندر سے باہر آنے كے معنى ميں آتا ہے _(اخرج عليہن )سے معلوم ہوتا ہے كہ جب حضرت يوسف(ع) عورتوں كے مجمع ميں آئے تو اس سے پہلے ايسى جگہتھے جو اندر كا حصہ شمار ہوتا تھا_يعنى اگر دعوت كا پروگرام باہر والے ہال ميں تھا تو زليخا نے حضرت يوسفعليه‌السلام كو اندر والے كمرے ميں ركھا تھا_

۱۱_ جب عورتيں اپنى جگہ پر تكيہ لگائے ہوئے كھانا كھانے كے ليے آمادہ ہوئيں تو زليخا نے يوسفعليه‌السلام سے كہا كہ ان كے سامنے سے گزر جائيں _وقالت اخرج عليهنّ

۱۲_ يوسف(ع) ، زليخا كے حكم كے مطابق بغير كسى وقفہ كے اشراف كى عورتوں ميں آگئے _

قالت أخرج عليهنّ فلمّا راينه

(فاء) (فلما) ميں فصيحہ ہے _ گويا كہ يہاں جملات تقدير ميں ہيں (فخرج عليہنّ فرا ينہ فلما رأينہ) ان جملات كا يہاں محذوف ہونا، بتاتا ہے كہ زليخا كا حكم اور يوسفعليه‌السلام كى بجا آورى ايكجيسى ہے _

۱۳_ زليخا، يوسفعليه‌السلام سے اپنے عشق كو لوگوں پر ظاہر ہونے سے پہلے اشراف مصر كى عورتوں سے انہيں مخفى ركھے ہوئے تھى _امرأة العزيز ترا ودفتيها ...فلما رأينه أكبرنه

۱۴_ اشراف مصر كى عورتوں نے زليخا كى دعوت ميں پہلى بار يوسفعليه‌السلام كا جلوہ ديكھا تھا_

فلما رأينه أكبرنه ...و قلن حاشالله ما هذا بشرّ

۱۵_ اشراف مصر كى عورتيں ، يوسفعليه‌السلام كو ديكھنے كے بعد حيرت زرّہ اور مدہوش ہو گئي_

فلما رأينه أكبرنه و قطّعن ا يديهنّ

''أكبر'' ''أكبران'' كا مصدر ہے جس كا معنى عظمت اور بزرگى والا پانا ہے _

۱۶_ اشراف مصر كى عورتيں ، يوسفعليه‌السلام كو ديكھنے كے بعد بے حال ہوگئيں اور ان كے حسن و جمال كے ديكھنے كے علاوہ كسى چيز كے ادراك پر قادر نہيں تھيں _فلما رأينه أكبر نه و قطعن ايديهن

۱۷_ اشراف مصر كى عورتوں نے يوسفعليه‌السلام كے (حيرت انگيز ) حسن و جمال كے مشاہدہ سے كھانے پر چاقو چلانے كى بجائے اپنے ہاتھوں كو كاٹ ڈالا _فلّما رأينه أكبرنه وقطّعن أيديهن

(قطع ) كامعنى جدا كرنا اور كاٹنے كا ہے _ زخمى اور مجروحكر نے ميں اس لفظ كا استعمال بتا تا ہے كہ زخم اور كاٹنا بہت شديد تھا _ (قطعن ) كے لفظ كا باب تفعيل سے لانا يہ بيان كرتا ہے كہ اشراف مصر كى عورتوں نے اپنے ہاتھوں كومختلف جگہسے

۴۴۵

كاٹ ديا اور (قطيع) كا معنى ٹكڑے ٹكرے كرنے كا ہے_

۱۸_ زليخا، ہوشيار و چالاك اور مكاّر عورت تھى _فلما سمعت بمكرهنّ أرسلت اليهن _و ء اتت كل واحدة منهن سكّيناً فلمّا رأينه أكبرنه

۱۹_ اشرف كى عورتوں نے ايك زبان ہو كر يوسفعليه‌السلام كى عظمت اور انكے پر كشش حسن و جمال كا اعتراف كيا _

فلمّا رأينه و قلن حاشاالله ماهذا البشر _

۲۰_ يوسفعليه‌السلام كا حسن و جمال بے نظير اور دلربا ہونے كے ساتھ زيبائي اورخوبصورتى كى بلنديوں كو چھور ہاتھا_

فلمّا رأينه اكبر نه و قطّعن أيديهن و قلن حاشا الله ماهذا البشر

(فلما راينہ ...) كے جملہ ميں يوسفعليه‌السلام كے حسن و زيبائي اور دلبرا ہو نے كا بيان ہے _ اس كے علاوہ يہ احتمال بھى ديا جاسكتا ہے كہ زليخا، حضرت يوسفعليه‌السلام سے عشق و محبت كرنے پر مجبور تھى _اس احتمال كا مؤيديہ ہے قرآن مجيد نے اسكى مذمت نہيں كى اور يوسف(ع) نے بھى اسكو عشق و معشوقى كے مراحل ميں عذاب الہى سے نہيں ڈراياہے _

۲۱_ انسان كے درك كرنے كى قوت، حسن و جمال كى بلندى كو ديكھ كر كام كرنے سے ہاتھ دھو بيٹھى ہے _

و قطّعن أيديهن

۲۲_ مصر كى عورتوں كے نزديك يوسفعليه‌السلام كا بے مثال حسن انكے انسان ہونے ميں شك و ترديد كا موجب بنا _

حاشالله ماهذا البشر

۲۳_ اشراف كى عورتوں نے يوسفعليه‌السلام كو بلندمرتبہ اور باعظمت فرشتہ پايا _ان هذا الّا ملك كريم

۲۴_ زليخا كو سرزنش اور ملامت كرنے والى عورتوں نے حضرت يوسفعليه‌السلام كا مشاہدہ كرنے كے بعد زليخا كا ان سے عشق و محبت كو باحق قرارديا _فلمّا رأينه أكبرنه إن هذا إلا ملك كريم

۲۵_ يوسفعليه‌السلام كے خدو خال انكى عظمت اور بزرگى كے بيانگر تھے _إن هذا إلا ملك كريم

۲۶_ يوسفعليه‌السلام كے زمانے ميں مصري، خداوند متعال اور اسكے پاك و پاكيزہ ہو نے كے معتقد تھے _حاشالله

۲۷_ عصر يوسفعليه‌السلام كے مصرى لوگ، فرشتوں كے وجود اور انكى زيبائي كے قائل تھے_إن هذا إلا ملك كريم

۴۴۶

۲۸_ فرشتوں كے وجود پر اعتقاد كى بنياد ،تاريخ بشر ميں بہت ہى قديم ہے _إن هذا إلا ملك كريم

۲۹_عن على بن الحسين عليه‌السلام : ...فا رسلت اليهن و هيا ت لهنّ طعاما و مجلساً ثم ا تتهنّ با ترج و (آتت كل واحدة منهن سكينا (۱)

امام سجاد(ع) سے روايت ہے: عزيز مصر كى بيوى نے عورتوں كے ليے ايك (قاصد ) روانہ كيا اور ان كو كھا نے كى دعوت دى او ر ايك محفل ترتيب دى _ اسوقت ان عورتوں كے ہاتھوں ميں ايك چاقو اور ايك سنگترہ ديا _

اشراف مصر :اشراف مصر كى عورتيں اور زليخا ،۲،۲۴; اشراف مصر كى عورتيں اور يوسفعليه‌السلام ۱۴،۱۵ ،۱۶، ۱۷،۱۹، ۲۲، ۲۳ ،۲۴;اشراف مصر كى سوچ ،۲۳، ۲۴;اشراف مصر كى عورتوں كا اقرار ۱۹;اشراف مصر كى عورتوں كا ہاتھ كاٹنا ،۱۷; اشراف مصر كى عورتوں كا تعجب ،۱۵،۱۷;اشراف مصر كى عورتوں كا عجز ،۱۶، اشراف مصر كى عورتوں كا مكر و فريب ،۲;اشراف مصر كى عورتوں كو بلانا ،۲۹;اشراف مصر كى عورتوں كى خدمت و تواضع ،۶،۷; اشراف مصر كى عورتوں كى خدمت وتواضع ،۵،۸،۱۰

چاقو :يوسفعليه‌السلام كے زمانہ ميں چاقو كا استعمال ،۹

خوبصورتى :خوبصورتى كا فائدہ ،۲۱

در ك كرنا :درك كرنے كى قوت كا اثر انداز ہونا ،۲۱

ديكھنے كى طاقت :ديكھنے كى طاقت كا عمل دخل،۲۱

روايت ،۲۹

زليخا :زليخا اور اشراف مصر كى عورتيں ۱۱،۲۹; زليخا اور مصر كى عورتوں كا ملامت كرنا ۱،۳; زليخا اور يوسفعليه‌السلام ۱۰،۱۳; زليخا كا دعوت كرنا ۴; زليخا كا يوسفعليه‌السلام سے عشق ۲،۱۳; زليخا كى چالاكى ۱۸; زليخا كى خواہشات ۱۰;زليخا كى دعوت كا پروگرام ۴،۵ ،۶، ۷، ۱۰ ،۲۹;زليخا كى دعوت ميں چاقو كا استعمال ۶;زليخا كى مصر كى عورتوں كو دعوت ،۳،۴; زليخا كى ہوشيار ى ۱۸;زليخا كے خلاف سازش ۲;زليخا كے صفات ۱۸; زليخا كے مہمانوں كى تعداد ۸

عقيدہ :الله تعالى كے پاك و پاكيزہ ہونے كا عقيدہ۲۶; عقيدہ كى تاريخ ۲۷،۲۸; ملائكہ كے وجود پر عقيدہ ۲۷،۲۸

قديمى اھل مصر :

____________________

۱)علل الشرايع ،ص ۴۹;ح ۱;ب ۴۱; نور الثقلين ،ج۲ ح۴۱۴;ح۱۷_

۴۴۷

قديمى اہل مصر اور ملائكہ ۲۷; قديمى اہل مصر كا عقيدہ ۲۶، ۲۷; قديمى اہل مصر كى الله تعالى كے بارے ميں شناخت۲۶

ملائكہ :ملائكہ كا خوبصورت ہو نا ۲۷

يوسفعليه‌السلام :يوسفعليه‌السلام اور ملائكہ ;۲۳; يوسفعليه‌السلام زليخا كى دعوت ميں ۱۱،۱۲، ۱۴;يوسف(ع) كا چھپا نا ۱۳;يوسف(ع) كا قصہ ۱،۲ ،۳ ،۴ ، ۵،۶، ۷ ، ۸ ،۱۰، ۱۱،۱۲،۳ ۱،۱۴،۱۵، ۱۶ ،۱۷ ، ۱۹، ۲۲ ،۲۳، ۴ ۲ ، ۲۹;يوسفعليه‌السلام كى بزرگى ۲۵ ; يوسفعليه‌السلام كى خوبصورتى ۱۵، ۱۶، ۱۷، ۱۹،۲۰،۲; يوسف(ع) كى خصوصيات ۲۰;يوسفعليه‌السلام كى عظمت ۱۹، ۲۳،۲۵;يوسف(ع) كے بشر ہونے ميں شك ۲۲ ; يوسفعليه‌السلام كے خدوخال ۲۵

آیت ۳۲

( قَالَتْ فَذَلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ فَاسَتَعْصَمَ وَلَئِن لَّمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوناً مِّنَ الصَّاغِرِينَ )

زليخا نے كہا كہ يہى _ وہ ہے جس كے بارے ميں تم لوگوں نے ميرى ملامت كى ہے اور ميں نے اسے كھينچنا چاہا تھا كہ يہ بچ كر نكل گيا اور جب ميرى بات نہيں مانى تو اب قيد كيا جائے گا اور ذليل بھى ہوگا (۳۲)

۱_ زليخا نے اشراف مصر كى عورتوں كو يوسفعليه‌السلام كا جلوہ دكھا كر يہ سمجھا يا كہ وہ يوسف(ع) سے عشق كرنے ميں مجھے ملامت نہ كريں _قالت فذلكن الذى لمثننى فيه

۲_ زليخا نے اشراف كى عورتوں كے سامنے يوسف(ع) سے اپنى آرزو كو پورا كرنے كے تقاضاكا اعتراف كيا _

لقد راودته عن نفسه

۳_ زليخا نے اشراف كى عورتوں كے سامنے يوسف(ع) كى پاكدامنى و عفت اور انكا اسكے وصال كى خواہش كو قبول نہ كرنے كى گواہى دي_لقد راودته عن نفسه فا ستعصم

عصمت اور استعصام كا معنى منع كرنا اور قبول نہ كرنے كا ہے ليكن استعصام ميں مبالغہ ہے (فاستعصم )يعنى يوسف(ع) نے بڑى سختى سے ميرى خواہش كو رد كر ديا اور اپنى عفت كو برقرار ركھا_

۴_ زليخا نے اشراف كى عورتوں كے سامنے اس بات كى تاكيد كى وہ وصال يوسف(ع) پراصرار كرے گئي

و لئن لم يفعل ماء امره

۴۴۸

۵_ زليخا نے قسم اٹھائي كہ يوسفعليه‌السلام نے اگر مجھ سے وصال كرنے سے انكار كيا تو وہ اس كو زندان ميں پھينك دے گى اور اسكو ذليل و خوار كرے گئي _و لئن لم يفعل ما ء امره ليسجنن و ليكونا من الصاغرين _

(لئن) ميں ''لام'' ''لام'' تاكيد ہے اور'' يكونا يا يكونن '' ميں فعل مضارع اور نون تاكيد خفيفہ كے ساتھ ہے

۶_ حضرت يوسف(ع) ، عزيز مصر كے دربار ميں قابل احترام اور عظيم شحصيت كے مالك تھے _

و ليكوناً من الصاغرين

۷_ قديمى مصر ميں قيد خانہ كا وجود _ليسجنن

۸_ يوسفعليه‌السلام كو جس زندان ميں قيدكرنے كى دھمكى دى گئي اسميں انہيں ذليل و خواركرنے كے لئے ركھا گيا_

ليسجنن و ليكونا من الصاغرين

(ليكوناً من الصاغرين ) كا جملہ يعنى حقير اور خوار كيا جائے گايہ جملہ (ليسجنن ) يعنى قيدى بنے گا ) كے لئے نتيجہ كے قائم مقام ہے _ كيونكہ يوسف(ع) نے عورتوں كى خواہش كو پورا كرنے كى جگہ قيد خانہ كو ترجيح دى ليكن بعد والى آيت ميں حقير و ذليل ہونے كو ترجيحدينے كے بارے ميں بات نہيں كى ہے_

۹_ زليخا، مصر كى عدالت اور حكومت ميں بہت زيادہ نفوذ ركھتى تھى _و لئن لم يفعل ما ء امر ه ليسجنن وليكوناً من الصاغرين

(ليسجنن ) كے فاعل كو محذوف ركھنا اور اسكو فعل مجہول ذكر كرنا اس بات كو متضمن ہے كہ يوسف(ع) كا زندان ميں جانا اسكے انكار كى وجہ سے ہے _ يعنى زليخا حكومت ميں اتنا اثر ركھتى تھى كہ كسى اور كو اسے حكم دينے كى ضرورت نھيں تھى بلكہ جو بھى اسكا كہنا نہيں مانتا تھا اسكو قيد خانہ ميں ڈال ديتى تھى _

۱۰_عزيز مصر كے زمانہ ميں حكومتى نظام ايك ظالمانہ نظام اور مستقل قضاوت كے شعبہ سے محروم تھا_

ولئن لم يفعل ماء امره ليسجنن وليكوناً من الصاغرين

۱۱_عن على بن الحسين: ...فقالت لهن (فذلكن الذى لمتننى فيه ) يعنى فى

۴۴۹

حبه (۱)

امام سجاد(ع) سے روايت نقل ہوئي ہے: ...عزيز مصر كى بيوى نے (حضرت يوسف(ع) كى طرف اشارہ) كركے خواتين كو خطاب كركے كہا: يہ ہے وہ شخص جس كے بارے ميں تم مجھے ملامت كرتى تھيں : يعنى اس كے عشق كے بارے ميں ميرى سرزنش كرتى تھيں _

روايت:۱۱

زليخا;زليخا اور اشراف مصر كى عورتيں ۱،۲; زليخا اور حضرت يوسفعليه‌السلام ۲; زليخا اور حضرت يوسفعليه‌السلام كا انكار ۵;زليخا اور حضرت يوسفعليه‌السلام كى ذلّت۵;زليخا كا اقرار ۲،۴;زليخا كا حضرت يوسفعليه‌السلام سے وصال كا تقاضا ۲،۴;زليخا كا حضرت يوسفعليه‌السلام كے ساتھ عشق ۱، ۱۱;زليخا كى سرزنش ۱،۱۱;زليخا كى قسم ۵;زليخا كي واہى ۳; زليخا مضر كے دربار ميں ۹

زندان:زندان كى تاريخ _۷

عزيز مصر:عزير مصراور حضرت يوسفعليه‌السلام ۶

قديمى مصر:حضرت يوسفعليه‌السلام كے زمانے ميں قديمى مصر كى حكومت ۱۰; قديمى مصر كا نظام حكومت ۱۰; قديمى مصر كى استبدادى حكومت ۱۰; قديمى مصر ميں زندان۷

يوسفعليه‌السلام :حضرت يوسفعليه‌السلام كا قصہ ۱،۲،۳ ،۴، ۵،۶ ،۸، ۱۱; حضرت يوسفعليه‌السلام كى پاكدامنى كى گواہى ۳; حضرت يوسفعليه‌السلام مصر كے دربار ميں ۶

____________________

۱) علل الشرائع ،ص۴۹،ح۱،ب،۴۱;تفسير برہان ،ج۲ ص۲۴۵،ح۱_

۴۵۰

آیت ۳۳

( قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّي كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ الْجَاهِلِينَ )

يوسف نے كہا كہ پروردگار يہ قيد مجھے اس كام سے زيادہ محبوب ہے جس كى طرف يہ لوگ دعوت دے رہى ہيں اور اگر تو ان كے مكر كو ميرى طرف سے موڑ نہ دے گا تو ميں ان كى طرف مائل ہوسكتاہوں اور ميرا شمار بھى جاہلوں ميں ہوسكتاہے (۳۳)

۱_حضرتعليه‌السلام يوسف اپنى عفت و پاكدامنى كى حفاظت اور زليخا كى دھمكيوں كى پرواہ نہ كرنے والے تھے_

قال رب السجن احبّ اليّ مما يدعوننى اليه

۲ _ حضرت يوسفعليه‌السلام اور خداوند عالم كے مخلص بندوں كے نزديك، گناہ اور معصيت ميں پڑنے سے يہ بہتر ہے كہ وہ زندان ميں چلے جائيں اور مصائب اٹھائيں _قال رب السجن احبّ الى ممّا يدعوننى اليه

۳_ حضرت يوسفعليه‌السلام اور الله كے خالص بندوں كے

نزديك، الله كى اطاعت ميں دكھ وتكليف برداشت كرنا، اور اپنى عفت كى پاسبانى و حفاظت كرنا ،قابل قدر اور پسنديدہ بات ہے _رب السجن احب الى ممايدعوننى اليه

۴_دكھ و تكليف ميں مبتلا ہونا، گناہ كے ارتكاب كا جواز نہيں بن سكتا ہے _رب السجن ا حب إلّى مما يدعوننى إليه

۵_ شوہر دار عورتوں سے جنسى روابط كا حرام ہونا _قال رب السّجن أحب إلّى مما يدعوننى إليه

۶_ اشراف مصر كى عورتيں (جو زليخا كى مہمان تھيں ) تمام كى تمام يوسفعليه‌السلام سے نزديكى كى خواہش مندتھيں _ممّا يدعوننى إليه

(يدعون ) مذكورہ آيت شريفہ ميں جمع مؤنث كا صيغہ ہے اس كا فاعل وہ عورتيں ہيں جو زليخا كى مہمان تھيں اور (اصب إليھنَّ ) كے جملہ كے قرينے سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ وہ يوسف(ع) كو اپنے وصال كے ليئے چاہتى تھيں اور (يدعوننى ) كا جملہ جو مضارع ہے يہ دلالت كرتا ہے كہ وہ اس پر اصراربھى كرتى تھيں _

۴۵۱

۷_ يوسفعليه‌السلام ، زليخا اور اشراف كى عورتوں كے اس مكر و فريب سے پر يشان تھے جو ان كو گناہ و معصيت پر آمادہ كرنا چاہتى تھيں _و إلاّ تصرف عنى كيدهنّ أصب إليهن

۸_ يوسفعليه‌السلام ، عورتوں كى جنسى خواہشات اور ان كى آرزو كو پورا كرنے كى پورى طرح قدرت ركھتے تھے _

وإلّا تصرف عنى كيدهنَّ أصب إليهنَّ

۹_جنسى خواہشات اور اسكى طرف جھكاؤ كسى وقت بھى انسان كے ليے خطرناك ثابت ہوتا ہے _

وإلّاتصرف عنى كيدهنَّ اصب إليهنَّ

۱۰_ يوسفعليه‌السلام نے زليخا اور اسكى ہم خيال عورتوں كے ناجائز مطالبہ كے مقابلہ ميں اپنى استقامت كے سلسلہ ميں اللہ تعالى كى مدد كے بغير اپنے آپ كو نا تواں پايا_و إلا تصرف عنى كيدهن أصب إليهن

۱۱_ يوسف(ع) نے زليخا اور اشراف كى عورتوں كے مكر اور شہوت كے جال سے نجات پانے كے ليے خدا سے التجا اور اسكى ذات سے مدد چاہى _ربّ و الا تصرف عنى كيدهنَّ أصب إليهن

(صبّو) (أصب)كا مصدر ہے جو ميلان و رغبت اور جھكاؤ پيدا كرنے كے معنى ميں آتا ہے _ جملہ (إلا تصرف ...) يعنى اگر تو مجھے ان عورتوں كے مكر و فريب سے دور نہيں ركھے گا تو ميں اسكى طرف جھك جاؤں گا بعد والى آيت كريمہ ميں (فاستجاب) خبر ہے جو دعا اور التجا كے ليے استعمالى ہوئي ہے _

۱۲_ يوسفعليه‌السلام كا گناہ ترك كرنے ميں خدائي مدد كا ضرورى سمجھنا ،انكا ربوبيت خداوندى پر اعتقاد كا جلوہ تھا _

ربّ ...و إلّا تصرف عنّى كيدهنّ أصب إليهنّ

۱۳_ عورتوں كے مكر اور جنسى خواہشات سے الہى امداد كے بغير بچنا انبياء عليہم السلام اور خدا كے خالص و نيك بندوں كے ليے بھى ممكن نہيں ہے_وإلّا تصرف عنى كيدهنّ أصب و إليهنّ

۱۴_ انبياء عليہم السلام گناہ سے بچنے اور عصمت پر قائم رہنے كے ليے ہميشہ امداد الہى اور اسكى توفيق كے محتاج ہيں _

و الّا تصرف عنى كيدهنّ أصب اليهنّ

۱۵_ خداوند متعال كے حضور دعاو التجا اور اس سے مدد طلب كرنا ، گناہ اور جنسى انحرافات سے بچنے كا طريقہ ہے _

ربّ وإلّا تصرف عنى كيدهنّ أصب اليهنّ

۴۵۲

۱۶_ خداوند متعال كى طرف توجہ اور اسكى ربوبيت پر اعتقاد ركھنا خصوصاً گناہ كے ارتكاب كے خطرہ كے موقع پر ضرورى ہے _ربّ الّا تصرف عنى كيدهنّ أصب اليهنّ

۱۷_ ربوبيت الہى كى طرف توجہ كرنا، دعا كے آداب ميں سے ہے _قال ربّ و إلّا تصرف عنى كيدهنّ أصب إليهنّ

۱۸_ يوسف(ع) ، زليخا اور اسكى ہم فكر عورتوں كى ناجائز خواہشات كو پورا كرنے كو بے عقلى اور بے وقوفى كے گرداب ميں گرنا سمجھتے تھے_والّا تصرف أصب اليهنّ و أكن من الجاهلين

جہل كا معنى عقل كے مقابلہ ميں بے وقوفى ہے نيز اس كا معنى علم كے مقابلہ ميں نادانى بھى ہے مذكورہ بالا تفسير ميں پہلا معنى كيا گيا ہے _

۱۹_ يوسفعليه‌السلام ،گناہ كے ارتكاب اور زليخا و اسكى ہم فكر عورتوں كى خواہش پورا كرنے كو خدادادى علم و حكمت سے محروميت كا موجب سمجھتے تھے _أتيناه حكماً و علماً و إلّا تصرف عنى كيدهنّ أصب إليهنّ و أكن من الجاهلين

مذكورہ معنى اس صورت ميں ہے كہ جہل كا معنى بےوقوفى كريں تو يہاں كہہ سكتے ہيں كہ يوسفعليه‌السلام كا جاہل ہوجانے سے مراد علم اور حكمت سے خالى ہوجانا تھا جو خداوند متعال نے ان كو عطا فرمائي تھى ( أتيناہ حكماً و علماً )'' آيت ۲۲''

۲۰_ گناہ، الله تعالى كے عطا كيے ہوئے علوم سے محروميت كاموجب ہے _

و أتيناه حكماً و علماً ...و الّا تصرف عنى كيدهنّ أصب اليهنّ و أكن من الجاهلين

۲۱_ ہوس پرستى اور ناجائز جنسى كاموں كے جال ميں پھنسے ہوئے لوگ بے عقل اور بے سمجھ ہوتے ہيں _

۲۲_ گناہ كا ارتكاب ،بے عقلى و بے وقوفى ہے _أصب إليهنّ و أكن من الجاهلين

۲۳_'' عن على بن الحسين عليه‌السلام ... و خرجن النسوة من عندها ( إمرا ة العزيز ) فأرسلت كل واحدة منهنّ الى يوسف سرّاً من صاحبتها تسأله الزيارةفأبى عليهنّ و قال : '' إلّا تصرف عنّى كيدهنّ أصب إليهنّ و أكن من الجاهلين '' (۱)

امام سجاد(ع) سے روايت ہے كہ مصر كى عورتيں عزيز مصر كى بيوى كے ہال سے جب باہر چلى گئيں تو اپنى سہيلى (زليخا) سے چھپ كر يوسفعليه‌السلام كو پيغام

____________________

۱)علل الشرائع ص۴۹ ، ح ۱ ،ب ۴۱، نور الثقلين ، ج ۲ ص ۴۱۵، ح۱۷_

۴۵۳

بھيجا كہ ہم تم سے ملنے كى خواہشمند ہيں يوسفعليه‌السلام نے اسكو قبول نہيں كيا اور كہا بارالہا اگر ان عورتوں كے مكر و حيلے كو مجھ سےتو نے دور نہ كيا تو ميں انكى طرف رغبت پيدا كرلوں گا اور جاہلين ميں سے ہوجاؤں گا

احكام : ۵

اشراف مصر:اشراف مصر كى عورتيں اور يوسفعليه‌السلام ۶; اشراف مصر كى عورتوں كا مكر ۲۳ا;شراف مصر كى عورتوں كى دعوتيں ۶

اطاعت :الله تعالى كى اطاعت گذارى ميں مشكلات ۳

الله تعالى :الله تعالى كى مدد كى اہميت ۱۳، ۱۴; توفيقات الہى كى اہميت ۱۴

انبياء :انبياء كا بشر ہونا ۸; انبياء كى عصمت كا سبب ۱۴; انبياء كى معنوى و روحانى ضروريات ۱۴

انسان :انسان كے گمراہ ہونے كے مقامات ۹

بے وقوف لوگ : ۲۱بے وقوفى :بے وقوفى كے اسباب ۲۲

جاہل لوگ:۲۱

جنسى بے راہ روى :جنسى بے راہ روى سے نجات ۱۵

جنسى شہوت :جنسى شہوت پر قدرت ۱۳;جنسى شہوت كا خطرہ ۹

حكمت:حكمت كے زوال كے عوامل ۱۹، ۲۰

دعا:دعا كے آثار ۱۵; دعا كے آداب ۱۷

ذكر :ربوبيت الہى كا ذكر ۱۷;ذكر الہى كى اہميت ۱۶; ربوبيت الہى كے ذكر كى اہميت ۱۶; گناہ كے وقت ذكر الہى كرنا ۱۶

ذلت:ذلت كو گناہ پر ترجيح دينا ۲

روايت : ۲۳

زنا:

۴۵۴

زنا كے احكام ۵; شوہر والى بيوى سے زنا ۵

ضرورتيں :الله تعالى كى مدد كى ضرورت ۱۴

عفت :عفت كى اہميت ۳

عقيدہ :ربوبيت الہى كا عقيدہ ۱۲

علم :علم كے زوال كے اسباب ۱۹، ۲۰قدر و قيمت ۳ ; علم لدنى ۱۹، ۲۰

عورتيں :عورتوں كے مكر سے نجات ۱۳

گناہ :گناہ سے نجات كا طريقہ ۱۵;گناہ كا جواز ۴;گناہ كے آثار ۱۹، ۲۰، ۲۲;گناہ كے ترك كا سبب ۱۴

محرمات :۵

مخلصين :مخلص لوگ اور ذلت ۲; مخلص لوگ اور گناہ ۲;مخلص لوگوں كا عقيدہ ۲، ۳;مخلص لوگوں كا عفت كو برقرار ركھنا ۳

مدد طلب كرنا :الله تعالى سے مدد طلب كرنا ۱۱;الله تعالى سے مدد طلب كرنے كے آثار ۱۵

مشكلات :مشكلات اور گناہ ۴;مشكلات كے آثار ۴

ناجائز روابط:۵

ہوا و ہوس كے پجارى :ہوا و ہوس كے پجاريوں كى بے وقوفى ۲۱

يوسفعليه‌السلام :يوسفعليه‌السلام اور اشراف مصر كى عورتوں كا مكر و حيلہ ۷،۱۱; يوسفعليه‌السلام اور بے قوفى و جہالت كے اسباب ۱۸; يوسفعليه‌السلام اور ترك گناہ ۱۲; يوسفعليه‌السلام اور ذلّت ۲; يوسفعليه‌السلام اور زليخا كى خواہشات ۱۸، ۱۹;يوسف(ع) اور زليخا كى دھمكياں ۱;يوسفعليه‌السلام اور گمراہى كے اسباب ۱۸; يوسفعليه‌السلام اور زليخا كامكر ۷،۱۱; يوسفعليه‌السلام اور گناہ ۲، ۸;يوسفعليه‌السلام كا اقرار ۱۰، ۱۲;يوسف(ع) كا الله تعالى كى مدد طلب كرنا ۱۰، ۱۲;يوسفعليه‌السلام كا عجز ۱۰، ۱۲;يوسفعليه‌السلام كاعفت كو بچانا ۳;يوسفعليه‌السلام كا عقيدہ ۱۲; يوسف(ع) كا مدد طلب كرنا ۱۱;يوسفعليه‌السلام كو دعوت دينا ۶;يوسفعليه‌السلام كى پريشانى ۷;يوسفعليه‌السلام كى دعا ۱۱، ۲۳; يوسفعليه‌السلام كى سوچ ۲، ۳، ۱۰، ۱۸، ۱۹; يوسفعليه‌السلام كى عفت ۱

۴۵۵

آیت ۳۴

( فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ )

تو ان كے پروردگار نے ان كى بات قبول كرلے اور ان عورتوں كے مكر كو پھير ديا كہ وہ سب كس سننے والا اور سب كا جاننے والا ہے (۳۴)

۱_ خداوند متعال نے يوسفعليه‌السلام كى دعا( زليخا اور اسكى ہم جوليوں كے مكر و فريب سے نجات كى در خواست ) كو قبول كيا اور اس كو ان كے مكر و فريب سے محفوظ ركھا _فاستجاب له ربّه فصرف عنه كيدهنّ

'' استجابة '' استجاب كا مصدر ہے جس كا معنى در خواست قبول كرنا ہے_

۲_ خداوند متعال كى غيبى امداد، يوسفعليه‌السلام كے ليے زليخا اور اشراف كى عورتوں كے مكرو فريب اور گناہ سے نجات كا موجب بني_فاستجاب له ربّه فصرف عنه كيدهن ّ

۳_ زليخا اور اشراف كى عورتيں ، يوسفعليه‌السلام كے خداوند متعال سے توسّل كرنے كى وجہ سے اس سے مايوس و نااميد اور اس كے خلاف مكر و فريب كرنے سے رك گئيں _فصرف عنه كيدهنّ

عورتوں كے مكر ( كيد ) سے مراد يہاں انكا مكرر فريفتہ ہونا اور اظہار محبت كرنا ہے _ (صرف عنہ كيدہنّ) كى عبارت سے يہ مراد ہوگا كہ يوسفعليه‌السلام كى دعا كے بعد انہوں نے يوسفعليه‌السلام سے عشق بازى اورخواہشات كرنا ترك كرديں _ (ثم) كا لفظ جو بعد والى آيت كريمہ ميں ہے _ اس بات پر نويد ہے كہ يوسفعليه‌السلام كے قيد خانہ ميں جانے سے پہلے ہى وہ اپنى آرزو كى تكميل ميں نااميد ہوگئيں تھيں اور ان سے دور ہوگئيں نہ يہ كہ ان كا زندان ميں جانا ،انكے عشق كى خواہش كے قطع كا سبب بنا _

۴_ خداوند متعال كے حضور عجز و انكسارى كا اظہار اس ذات كى حمايت حاصل كرنے اور انسان كيلئے اپنى حاجات كى برآورى ميں بہت مؤثر ہے _فاستجاب له ربّه إنه هو السميع العليم

۵_ انسان كى عاقبت ميں دعا كا كردار _الّا تصرف عنى كيدهنّ فاستجاب له ربّه فصرف عنه كيدهنّ

۶_ زليخا اور دوسرى عورتوں كے مكر و فريب سے نجات ، ربوبيت الہى كا ان پر جلوہ تھا _

فاستجاب له ربّه ...إ نه هو السميع العليم

۴۵۶

۷_بندوں كى دعاؤں كو مستجاب كرنا، ربوبيت الہى كا جلوہ ہے_فاستجاب له ربّه

۸_انسان كى سرنوشت و رفتار اور سير و سلوك ميں خداوند عالم كا كردار ہوتاہے_الاّ تصرف فصرف عنه كيدهنّ

۹_اپنى تقدير اور سرنوشت بنانے ميں انسان كا خود خداوندعالم سے تقاضا كرنا، بہت كردار كا حامل ہوتاہے_

قال ربّ السجن احبّ الى فصرف عنه كيدهن

۱۰_خداوند عالم كے ارادے اور مشيّت كے مقابلے ميں انسان كى چاہت اور كوشش، بے ثمر اور شكست سے دوچار ہوتى ہے_فصرف عنه كيدهنّ

۱۱_صرف ذات الہى ہى سميع (مطلق سننے والا) اور عليم (مطلق جاننے والا) ہے_انّه هو السميع العليم

''ہو''كى ضمير ، ضمير فصل ہے جو حصر سے حكايت كررہى ہے اور''السميع'' اور ''العليم'' پر جو '' الف لام'' داخل ہے وہ استغراق صفات كے ليے ہے اسى وجہ سے ان دونوں صفات سے مطلق سننے والا اور مطلق جاننے والا كا معنى ليا گيا ہے_

۱۲_خداوند عالم بندوں كى دعاؤں كو سننے والا اور انہيں مستجاب كرنے والا ہے_

فاستحاب له ربّه انّه هو السميع

''سميع'' خداوند عالم كے سننے پر دلالت كرنے كے علاوہ ''فاستجاب لہ ربّہ'' كے قرينہ كى وجہ سے اس بات كى بھى حكايت كررہاہے كہ خداوند عالم لوگوں كى دعاؤں كو مستجاب بھى كرنے والا ہے_

۱۳_ خداوند عالم بندوں كے حالات اور ان كى ضرورتوں سے مكمل طور پر آگاہ ہے_

فاستجاب له ربّه انّه هو السميع العليم

۱۴_خداوند عالم بندوں كى سازشوں اور ان كے مكر و فريب سے آگاہ ہے اور ان كو ناكام بنانے اور ختم كرنے سے بھى مكمل واقفيت ركھتاہے_فصرف عنه كيدهن انّه هو السميع العليم

''كيدہنّ'' كے قرينے كى وجہ سے ''سميع'' اور '' عليم'' كے متعلق كے جو مصاديق مورد نظر ہيں وہ اشرف مصر كى عورتوں كے مكر و فريب ہيں اور

۴۵۷

''صرف عنہ'' كے قرينہ كى وجہ سے اس كا معنى يہ ليا گيا ہے كہ خداوند عالم نے ان مكر و فريب كو ختم كيا ہے _

۱۵_ خداوند عالم بندوں كى حاجات پر آگاہى كے ليے اس بات كا محتاج نہيں ہے كہ وہ زبان سے اپنا مدعى بيان كريں _

انه هو السميع العليم

خداوند عالم كے سننے كے بعد اس كے علم كا ذكر كرنا اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ بندوں كى حاجات سے آگاہى كے ليے يہ ضرورى نہيں ہے كہ انسان خدا كے سامنے درخواست پيش كرے اور اپنى حاجات كو زبان پر جارى كرے اگر چہ حاجات كے مستجاب ہونے ميں يہ چيز مؤثر ہے كہ حاجت كو زبان پر جارى كيا جائے_

اسماء و صفات:سميع ۱۱،عليم۱۱، مجيب۱۲

اشراف مصر:اشراف مصر كى عورتيں اور حضرت يوسفعليه‌السلام كى دعا۴ ; اشراف مصر كى عورتوں كى مايوسي۳; اشراف مصر كى عورتوں كے فريب سے نجات ۲،۶

اللہ تعالي:اللہ تعالى كا سننا ۱۲; اللہ تعالى كا علم غيب ۱۳، ۱۴،۱۵;اللہ تعالى كا كردار ۸;اللہ تعالى كى امداد كے آثار ۲; اللہ تعالى كى حمايت كا زمينہ ۴; اللہ تعالى كى ربوبيت كى علامات ۶،۷; اللہ تعالى كے ارادہ كى اہميت ۱۰; اللہ تعالى كے علم كى خصوصيات۱۰ ; اللہ تعالى كے مختصّات ۱۱

انسان:انسانوں كا عجز۱۰;انسانوں كا مكر و فريب ۱۴; انسانوں كى خواہشات اور اللہ تعالى كے ارادے ۱۰; انسانوں كى ضرورتيں ۱۳; انسانوں كے تقاضوں كا كردار ۹;انسانوں كے حالات ۱۳

دعا:دعا كا مستجات ہونا ۷; دعا كو قبول كرنے والا۱۲; دعا كى قبوليت كا زمينہ ۴; دعا كے آثار ۴،۵

رفتار:رفتار كے موثر اسباب ۸

زليخا:زليخا اور حضرت يوسفعليه‌السلام كى دعا ۳; زليخا كى مايوسى ۳; زليخا كے مكرو فريب سے نجات ۱،۲،۶

سرنوشت:سرنوشت ميں موثر اسباب ۵،۸،۹

يوسفعليه‌السلام :حضرت يوسفعليه‌السلام كا قصہ ۱،۲،۳; حضرت يوسفعليه‌السلام كى دعا كا مستجاب ہونا ۱;حضرت يوسفعليه‌السلام كى دعا كے آثار ۳; حضرت يوسفعليه‌السلام كى نجات ۶; حضرت يوسفعليه‌السلام كى نجات كے اسباب ۲

۴۵۸

آیت ۳۵

( ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّن بَعْدِ مَا رَأَوُاْ الآيَاتِ لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ )

اس كے بعد ان لوگوں كو تمام نشانياں ديكھنے كے بعد بھى يہ خيال آگيا كہ كچھ مدت كے لئے يوسف كو قيدى بنا ديں (۳۵)

۱_اشراف مصر كى عورتوں كى حضرت يوسفعليه‌السلام كے ساتھ عشق كى داستان، حكومت اور ان كے گھروں ميں بحران پيدا كرنے كا سبب بني_ثم بدالهم من بعد ما رأوا الآيات

۲_ بحران اور دربارى حيثيت كو بحال كرنے كى خاطر مصر كى حكومت نے يہ قطعى ارادہ كرليا كہ حضرت يوسف(ع) كو زندان ميں ڈال ديا جائے_ثم بدالهم يسجننه

۳_ حضرت يوسفعليه‌السلام كو زندان ميں ڈالنے كا مقصد يہ تھا كہ انہيں گناہ گار ثابت كيا جائے_

ثم بدالهم من بعد ما رأوا الآيات يسجننه

۴_حضرت يوسف(ع) كے زندان ميں جانے كى درخواست اور محرك زليخا نہ تھي_

لئن لم يفعل ما ا مره ليسجنن ثم بدالهم ليسجننه

''ثم بَدالہم '' (يعنى كچھ مدت كے بعد يہ بات ان كے ذہن ميں خطور كرگئي كہ حضرت يوسف(ع) كو زندان ميں ڈال ديا جائے) يہ اس بات سے حكايت كرتاہے كہ حضرت يوسفعليه‌السلام كو زندان ميں مقيد كرنے كى رائے اور درخواست زليخا نے نہ كى تھى اس كے علاوہ پہلى والى آيت واضح طور پر بتاتى ہے كہ خداوند عالم نے حضرت يوسف(ع) سے زليخا اور دوسرى عورتوں كو دور كرديا تھا اور عشقيہ داستان ختم ہوگئي تھى پس زليخا اب اس بات كى منتظر نہ تھى كہ حضرت يوسف(ع) كو زندان ميں ڈال كر انہيں اپنے مقصد كے ليے استعمال كرسكے_

۵_ حضرت يوسفعليه‌السلام كى پاكدامنى پر متعدد علامات موجود تھيں _ثم بدالهم من بعد ما رأوا الآيات

۶_ متعدد دلائل اور علامات ديكھنے كے بعد عزيز مصر اور حكام، حضرت يوسف(ع) كى پاك دامنى سے مكمل طور پرآگاہ تھے_

۴۵۹

ثم بدالهم من بعد ما راو الآيات

۷_ مصر كے حكام نے حضرت يوسفعليه‌السلام كى بے گناہى كو جاننے كے باوجود انہيں زندان ميں ڈال ديا_

ثم بدالهم من بعد ما راوالآيات يسجننه

۸_مصر كى استبدادى حكومت ميں سياسى اور عدليہ كے نظام ميں يكجہتى تھي_ثم بدالهم من بعد ما راوا الآيات ليسجننه

۹_ حضرت يوسف(ع) كو محدود و نامعلوم عرصے تك زندان ميں قيد ركھنے كا فيصلہ سنايا گيا_ليسجننه حتى حين

۱۰_حضرت يوسف(ع) كى زندان ميں قيد اس وقت تھى جب تك زليخا اور دوسرے اشراف مصر كى عورتوں كے فتنہ كى آگ ٹھنڈى نہ ہوجائے_ليسجننه حتى حين

۱۱_''عن ابى جعفر عليه‌السلام فى قوله: ( ثم بدالهم من بعد ما رأوا الآيات يسجننه حتى حين'' فالآيات شهادة الصبى و القميص المخرق من دبر و استباقهما الباب حتى سمع مجاذبتها اياه على الباب فلما عصاها فلم تزل ملحة بزوجها حتى حسبه ...؟ (۱)

امام جعفر صادقعليه‌السلام سے خداوند عالم كے اس قول ''ثم بدالہم''كے بارے ميں روايت نقل ہوئي ہے كہ يہاں علامت سے مراد ، بچے كى گواہى دينا، پشت سے پيراہن كا پارہ ہونا اور دونوں كا دروازے كى طرف بھاگنا وہ بھى اس انداز سے كہ سناگياتھا كہ وہ عورت پيچھے سے حضرت يوسف(ع) كو اپنى طرف كھينچ رہى تھى پس جب حضرت يوسفعليه‌السلام نے اس عورت كى بات كو قبول نہ كيا تو اس نے سزا كے طور پر اپنے شوہر سے كہا كہ حضرت يوسفعليه‌السلام كو قيد كرديا جائے''_

۱۲_''عن الصادق(ع) انّه قال دخل يوسف السجن و هو ابن إثنى عشر سنة و مكث فيه ثمان عشر سنة ..(۲)

امام جعفر صادقعليه‌السلام سے روايت نقل ہوئي ہے كہ حضرت يوسف(ع) بارہ سال كى عمر ميں زندان ميں قيد ہوئے اور اٹھارہ سال تك اس ميں قيد رہے ...''

اشراف مصر:حضرت يوسف(ع) كے ساتھ اشراف مصر كى عورتوں كے عشق كى داستان۱

روايت: ۱۱،۱۲

____________________

۱)تفسير قمى ج۱، ص۳۴۴;نورالثقلين ج۲ ص۴۲۴ ، ح۶۰_

۲) ا مالى صدوق، ص ۲۰۸، ح۷مجلس ۳۴; بحار الانوار ج ۱۲ص ۲۶۱ح ۲۳

۴۶۰

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

541

542

543

544

545

546

547

548

549

550

551

552

553

554

555

556

557

558

559

560

561

562

563

564

565

566

567

568

569

570

571

572

573

574

575

576

577

578

579

580

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

و انّ منهم لفريقاً يلون السنتهم بالكتاب لتحسبوه من الكتاب ...ما كان لبشر ان يؤتيه الله الكتاب ثمّ يقول للناس كونوا عباداً لي سابقہ آيت كے اس آيہ كے ساتھ ارتباط سے يہ استفادہ ہوتاہے_

٣_ خداوندعالم كى طرف سے حضرت عيسى (ع) كى الوہيت كى نفى _ان ّ مثل عيسى عند الله (آيت ٥٩) ما كان لبشر ان يوتيه الله الكتاب اس آيت كے مورد نظر مصاديق ميں سے حضرت مسيح(ع) ہيں كيونكہ سابقہ آيات اہل كتاب كے بارے ميں ہيں _

٤_ انبياء (ع) انسانوں ميں سے افضل اور فوقيت ركھنے والے ہيں نہ كہما فوق انسان _ما كان لبشر ان يوتيه الله الكتاب و الحكم

٥_ كتاب اور حكمت ، انبياء (ع) كو خداوند متعال كا عطيہ _ان يوتيه الله الكتاب والحكم يہ اس صورت ميں ہے كہ ''الحكم''كے معنى حكمت كے ہوں _

٦_ حكومت ،انبياء (ع) كو خدا وند عالم كا عطيہ _ان يوتيه الله الكتاب و الحكم يہ اس صورت ميں ہے كہ''الحكم'' حكومت كے معنى ميں ہو_

٧_ انبياء (ع) لوگوں كو صرف خدا تعالى كى بندگى كى دعوت ديتے تھے_ما كان لبشر ثم يقول للناس كونوا عباداً لى من دون الله و لكن كونوا ربانيّين

٨_ انبياء (ع) نے كبھى بھى اپنے منصب اور دين خدا سے سوء استفادہ نہيں كيا _ما كان لبشر ثم يقول للناس كونوا عباداً لى من دون الله

٩_ مقام نبوت پر فائز ہونا اور كتاب و حكمت والا ہونا اس بات سے مناسبت نہيں ركھتا كہ لوگوں كو اپنى بندگى كى طرف دعوت دى جائے _ما كان لبشر: ثم يقول للناس كونوا عباداً لى من دون الله

١٠_ خداوند متعال كى عبوديت اور غير خدا سے عبوديت كى نفى ، انبياء (ع) كى دعوت كا اصلى محورہے _ما كان لبشر ...ثم يقول للناس كونوا عباداً لى من دون الله و لكن كونوا ربّانيين ربّانى اسے كہتے ہيں جو ربّ سے انتہائي ارتباط ركھتاہو اور اسكى بہت عبادت كرے_

١١_ اديان كے پيروكاروں كے اپنے انبياء (ع) كے بارے ميں مشركانہ اعتقادات خود ان انبياء (ع) كى تعليمات كے برخلاف ہيں _

۶۰۱

ما كان لبشر ثم يقول و لكن كونوا ربانيين

١٢_ انبياء (ع) كى رسالت خدا ئي انسانوں كى تربيت ہے_و لكن كونوا ربانيين

١٣_ آسمانى كتابوں كا پڑھانا اور پڑھنا انسان كے ربانى ہونے كا ذريعہ _كونوا ربانيين بما كنتم تعلمون الكتاب و بما كنتم تدرسون

١٤_ آسمانى كتابوں سے سيكھى ہوئي تعليمات پر عمل كرنا ضرورى ہے_ كونوا ربانيين بما كنتم تعملون الكتاب و بما كنتم تدرسون كيونكہ ربّانى ہونے كا حكم ان لوگوں كو ديا گيا ہے جنہوں نے آسمانى كتابوں كو سيكھا ہے معلوم ہوتاہے كہ صرف ان كا علم كافى نہيں ہے بلكہ ان پر عمل كرنا بھى ضرورى ہے_

١٥_ ربّانى علماء و دانشمند انسانوں كى آسمانى كتابوں كى تعليمات كى بنياد پرپرورش انبياء (ع) كے اہداف ميں سے ہے_

كونوا ربانيين بما كنتم تعلمون الكتاب

١٦_ آسمانى كتابيں سيكھنے اور سكھانے كے ليئے ہيں _بماكنتم تعلمون الكتاب وبما كنتم تدرسون

١٧_ لوگوں كو اپنى طرف دعوت دينے كے ليئے دينى منصب اور عہدے سے ناجائز استفادہ كرنا ممنوع ہے_

ما كان لبشر ان يوتيه الله الكتاب ثمّ يقول للناس كونوا عباداً لي

١٨_ علمائے دين آسمانى كتابوں كے علم كے مقابل ذمہ دارہيں _و لكن كونوا ربانيين بما كنتم تعلمون الكتاب و بما كنتم تدرسون

١٩_ آسمانى كتابيں لوگوں كے لئے قابل ادراك و فہم ہيں _بما كنتم تعملموں الكتاب و بما كنتم تدرسون

٢٠_ آنحضرت (ص) كا اپنے بارے ميں لوگوں كو غلو ( حد سے بڑھانا ) كرنے سے منع فرمانا_

ماكان لبشر ان يوتيه ثمّ يقول للناس كونوا عباداً لي رسول خدا (ص) نے فرمايا :''لا ترفعونى فوق حقى فان الله تعالى اتخذنى عبداً قبل ان يتخذنى نبياً '' مجھے ميرے مقام سے نہ بڑھاؤ كيونكہ خداوند عالم نے مجھے نبى بنانے سے پہلے بندہ بنايا ، اس كے بعد آپ (ص) نے

۶۰۲

مذكورہ بالا آيت كى تلاوت فرمائي (١)

آنحضرت(ص) : آنحضرت(ص) كے نواہى ٢٠ آسمانى كتابيں : ٥ ، ٩ ،١٣ ، ١٩ آسمانى كتابوں كى تحريف ٢;آسمانى كتابوں كى تعليمات ١٤ ;آسمانى كتابوں كے اہداف ١٦

انبياء (ع) : انبياء (ع) اور تربيت ١٢ ; انبياء (ع) كا مقام و مرتبہ٤ ; انبياء (ع) كى تعليمات ١١ ، ١٢ ، ١٣ ، ٥ ١ ; انبياء (ع) كى حكمت ٥ ، ٩;انبياء (ع) كى حكومت ٦ انبياء (ع) كى دعوت ٧ ، ٩ ، ١٠; انبياء (ع) كى ذمہ دارى كا دائرہ ١ ، ١٠ ;انبياء (ع) كى عصمت ٨ ;انبياء (ع) كى نبوت ٩;انبياء (ع) كے اہداف ١٢ ، ١٥

تربيت : ١٢

ترقى : ترقى كے مراحل ١٣

تعليم و تعلّم ١٣ ، ١٧ توحيد عبادى : ٣ ، ٧ ، ٩ ، ١٠

حضرت عيسى (ع) : حضرت عيسى (ع) كى الوہيت ٣

خدا تعالى : خدا تعالى كى بندگى ٧ ، ١٠ ; خدا تعالى كے عطيّے ٥ ، ٦;خدا تعالى كے نواہى ١

خودسازى : خود سازى كے عوامل ١٣

دين : دين سے ناجائز استفادہ ٨ ، ١٧

ذمہ دارى : علم اور ذمہ دارى ١٨

روايت : ٢٠ عقيدہ : باطل عقيدہ ٢ ، ١١

علمائ: ١٣ ، ١٥ ، ١٨

عمل : عمل كى اہميت ١٤

غلو : ٢٠

نبوت : ٩

____________________

١) عيون اخبار الرضا (ع) ج٢ ص ٢٠١حديث ١ باب ٤٦ نورالثقلين ج١ ص ٣٥٧ حديث ٢٠٩_

۶۰۳

وَلاَ يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُواْ الْمَلاَئِكَةَ وَالنِّبِيِّيْنَ أَرْبَابًا أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ (٨٠)

وہ تمہيں يہ حكم بھى نہيں دے سكتا كہ ملائكہ يا انبياء كو اپنا پروردگار بنالوكيا وہ تمھيں كفر كا حكم دے سكتا ہے جب كہ تم لوگ مسلمان ہو _

١_ انبياء (ع) نے كسى كو يہ حكم نہيں ديا كہ وہ فرشتوں اور انبياء (ع) كو اپنا ربّ بنائيں _

ما كان لبشر ولا يامركم ان تتخذوا الملائكة والنبيين ارباباً

٢_ انبياء (ع) اور فرشتوں كى ربوبيت كا اعتقاد انبياء (ع) كے اہداف كے ساتھ سازگار نہيں _

ولايامركم ان تتخذوا الملائكة والنبيين ارباباً

٣_ بعض اہل كتاب كا ،انبياء (ع) اور فرشتوں كى ربوبيت كا معتقد ہونا_ولايامركم ان تتخذوا الملائكة والنبيين ارباباً

يہ آيت بعض اہل كتاب كے اعتقاد كى طرف ناظر ہے_

٤_ انبياء (ع) اور فرشتوں ( غير خدا ) كى ربوبيت كا اعتقاد كفر ہے_و لا يامركم ا يامركم بالكفر

٥_ انبياء (ع) ، فرشتے اور جو كچھ غير خدا ہے كائنات كى ربوبيت ميں مستقل كوئي تاثير نہيں ركھتے_

و لا يامركم ارباباً ايامركم بالكفر

٦_ خداوند عالم كے سامنے سرجھكانا كفر ( غير خدا كى ربوبيت كاعقيدہ) كے ساتھ سازگار نہيں _ايا مركم بالكفر بعد اذ انتم مسلمون

٧ خداوند متعال كے سامنے سر تسليم خم كرنااور اسكى توحيد، انبياء (ع) كى دعوت كى روح ہے_

ولا يامركم ان تتخذوا ا يامركم بالكفر بعد اذ انتم مسلمون

۶۰۴

انبياء (ع) : انبياء (ع) اور اہل كتاب ٣ ;انبياء (ع) اور توحيد ٧; انبياء (ع) اور خلقت ٥;انبياء (ع) كى تعليمات ١ ; انبياء (ع) كى دعوت ١ ، ٧;انبياء (ع) كے اہداف ٢ ; ربوبيت اورانبيا ء (ع) ٤

اہل كتاب ٣ : اہل كتاب اور انبياء (ع) ٣ ; اہل كتاب كے عقائد ٣ ;فرشتے اوراہل كتاب ٣

توحيد : ٧ توحيد صفاتى ١

دين : دين كى حقيقت ٧

سر تسليم خم كرنا: خدا كے سامنے سر تسليم خم كرنا ٦ ، ٧;سر تسليم خم كرنا اور كفر ٦

شرك : شرك كى نفى ٢ ;شرك كے موارد ٦

عالم خلقت : ٥ عالم خلقت كى تدبير ٥ ; فرشتے اورعالم خلقت ٥

عقيدہ : باطل عقيدہ ٢ ، ٣ ، ٤

فرشتے : ١ ،٣ ، ٤، ٥

كفر : ٦ كفر كے موارد ٤

۶۰۵

وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَ أَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ (٨١)

اور اس وقت كو ياد كرو جب خدا نے تمام انبياء سے عہد ليا كہ ہم تم كو جو كتاب و حكمت دے رہے ہيں اس كے بعد جب وہ رسول آجائے جو تمھارى كتابوں كى تصديق كرنے والا ہے تو تم سب اس پر ايمان لے آنا او راس كى مدد كرنا _او رپھر پوچھا كيا تم نے ان باتوں كا اقراركرليا اور ہمارے عہد كو قبول كرليا تو سب نے كہا كہ بيشك ہم نے اقرا ركرليا _ ارشاد ہوا كہ اب تم سب گواہ بھى رہنا اور ميں بھى تمھارے ساتھ گواہوں ميں ہوں _

١_ خداتعالى كا انبياء (ع) اور ان كے پيروكاروں سے يہ عہد و پيمان لينا كہ وہ بعد والے نبى (ع) پر ايمان لائيں گے اور اسكى مدد كريں گے_اذ اخذ الله ميثاق النبيين ثمّ جاء كم رسول لتؤمنن به و لتنصرنّه ''ميثاق النبيين''ميں ميثاق سے مراد ہوسكتاہے خداوند عالم كا انبياء (ع) سے ليا جانے والا عہد وپيمان ہو اور ہوسكتاہے لوگوں سے انبياء (ع) كے ليئے ليا جانے والا ميثاق ہو_

٢_ خداوند عالم كا اہل كتاب كو وہ ميثاق ياد دلاكر جو گذشتہ انبياء (ع) سے پيغمبر اسلام (ص) كے بارے ميں ليا گيا تھا ، انكے خلاف استدلال كرنا _و اذ اخذ الله ميثاق النبيين يہ اس صورت ميں ہے كہ ''اذ'' ''اذكروا'' كے متعلق ہو اور اس كے مخاطب سابقہ آيات كے قرينہ سے اہل كتاب ہوں _

٣_ كتاب اور حكمت، انبياء (ع) كيلئے خداوند عالم كا

۶۰۶

عطيّہ_لما آتيتكم من كتاب: وحكمة

٤_ پيغمبر اسلام (ص) كو حكم كہ وہ لوگوں كو سابقہ انبياء (ع) سے ليا جانے والا وہ عہد و پيمان ياد دلائيں جو بعد والے پيغمبر (ص) پر ايمان لانے كے لازمى ہونے كے بارے ميں تھا _و اذ اخذ الله ميثاق النبيين لتؤ مننّ به

يہ اس صورت ميں ہے كہ '' اذ''،'' اذكر'' سے متعلق ہو_

٥_ تمام انبياء (ع) كا ايك ہى راستہ اور ايك ہى ہدف ہے_و اذ اخذ الله ميثاق النبيين لتؤمنن به و لتنصرنّه

٦_ ايك ہى پيغمبر (ص) كى پيروى كے نتيجہ ميں امّتوں كى وحدت كے لئے، انبياء (ع) سے خداوند عالم كا عہد و پيمان _

و اذ اخذ الله ميثاق النبيين لتؤمنن به و لتنصرنه بعد والے نبى (ع) پر ايمان اور اسكى پيروى كا لازمى ہونا بتلاتاہے كہ ہر زمانے ميں ايك ہى نبى (ع) محور رہاہے كہ اسكى پيروى كى بنياد پر امّتيں متحّد ہوجاتى تھيں _

٧_ سابقہ انبياء (ع) آنے والے رسولوں (ع) كى بعثت كا پيش خيمہ ہيں _و اذ اخذ الله ميثاق النبيين ثم ّ جاء كم رسول مصدق لما معكم لتومنن به

٨_ خداوند عالم كا انبياء (ع) كو كتاب اور حكمت دينے سے پہلے عہد و پيمان لينا _و اذ اخذ الله ميثاق النبيين لما آتيتكم من كتاب و حكمة يہ اس صورت ميں ہے كہ '' لما'' شرطيہ ہو_

٩_ پيغمبر اسلام (ص) پر ايمان اور آپ (ص) كى مدد كرنا ، خداتعالى كا گزشتہ انبياء (ع) اور انكے پيروكاروں سے ليا جانے والا عہد و پيمان_ثمّ جاء كم رسول مصدق لما معكم يہ اس صورت ميں ہے كہ يہ آيت اہل كتاب كو خطاب ہو اور '' رسول ''سے مراد پيغمبر اكرم (ص) ہوں _

١٠_ انبياء (ع) كى باہمى ذمہ دارى ہے كہ وہ ايك دوسرے كى حمايت كريں _و اذ اخذ الله ثمّ جاء كم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به و لتنصرنّه سابقہ انبياء (ع) كا بعد والے انبياء (ع) پر ايمان لانے كى نصيحت كرنا اور بعد والے انبياء (ع) كا سابقہ انبياء (ع) كى تصديق كرنا مذكورہ بالا مطلب پر دلالت كرتاہے_

۶۰۷

١١_ پيغمبر اكرم (ص) ،سابقہ انبياء (ع) اور سابقہ الہى كتابوں كى تصديق فرمانے والے ہيں _

ثمّ جاء كم رسول مصدق لما معكم يہ اس صورت ميں ہے كہ '' رسول ''سے مراد پيغمبر اسلام (ص) ہوں _

١٢_ دعوائے پيغمبرى كى صحت كى شرط سابقہ انبياء (ع) اور آسمانى كتابوں كى تصديق ہے_

ثم جاء كم رسول مصدق لما معكم

١٣_ صاحبان كتاب و حكمت پر پيغمبر اكرم (ص) كى حمايت كى ذمہ دارى _لما آتيتكم من كتاب و حكمة لتؤمنن به

كيونكہ كہ انبياء (ع) كتاب و حكمت ركھتے تھے انھيں پيغمبر اسلام (ص) كى حمايت كا حكم ہوا معلوم ہوتاہے كہ جس ميں بھى يہ خصوصيت ہو اگرچہ بالواسطہ طور پر اس پر بھى يہ ذمہ دارى عائد ہوگي_

١٤_ مكتب پہ ايمان كے ساتھ ساتھ اسكے اجرا كى جد وجہد كرناضرورى ہے _لتؤمنن به و لتنصرنه

١٥_ نئے دين كو قبول كرنا اور پہلے دين كو چھوڑنا مشكل امر ہے_و اذ اخذ الله ميثاق النبيين و اخذتم على ذلكم اصري

تاكيد كے ساتھ عہد و پيمان لينا بتلاتاہے كہ ہر دين و مذہب والے نئے دين كو قبول كرنے ميں ضد و سختى كا مظاہر ہ كرتے ہيں اور پہلے دين سے ہاتھ اٹھانا مشكل كام ہے_

١٦_ گذشتہ انبياء (ع) اور امّتوں كا بعد والے رسولوں (ع) پر ايمان لانے اور انكى مدد كرنے كے بارے ميں ليئے گئے ميثاق الہى كا اعتراف كرنا _قال ء اقررتم و اخذتم على ذلكم اصرى قالوا اقررنا

'' ء اقررتم '' انبياء (ع) سے اقرار لينا ہے اور ''اخذتم'' امتوں سے انبياء (ع) كے ذريعے عہد و پيمان لينے كا بيان ہے اور ''اقررنا'' تمام انبياء (ع) اور امتوں كا اقرار ہے_

١٧_ خداوند عالم كا انبياء (ع) اور انكى امّتوں كو ان سے ليئے گئے عہد و پيمان پر گواہ بننے اور گواہى دينے كا حكم_

قالوا اقررنا قال فاشهدوا و انا معكم من الشاهدين جملہ '' فاشھدوا ...'' گواہ بننے اور گواہى دينے دونوں پر دلالت كررہاہے_

١٨_ انبياء (ع) پر ايمان لانے اور انكى مدد كرنے كے

۶۰۸

سلسلہ ميں خداوند متعال كى طرف سے ليئے گئے عہد و پيمان كى عظمت_و اذ اخذ الله قال فاشهدوا

عہد و پيمان لينا اور پھر اس پر گواہ بننے اور گواہى دينے كا حكم عہد و پيمان كى عظمت پر دلالت كرتاہے_

١٩_ انبياء (ع) پر ايمان لانے اور انكى مدد كرنے كے سلسلہ ميں خداتعالى كے عہد و پيمان كے گواہ خدا وند عالم اور انبياء (ع) ہيں _و انا معكم من الشاهدين

٢٠_ خداتعالى كا انبياء (ع) كو پيغمبر اكرم(ص) كى حقانيت پر گواہ بنانا اور اس حقانيت پر ان كے ساتھ خود خداوند متعال كا گواہ ہونا_ثم جاء كم رسول قال فاشهدوا و انا معكم من الشاهدين يہ اس صورت ميں ہے كہ '' رسول''سے مراد پيغمبر اكرم (ص) ہوں _

٢١_ گذشتہ انبياء (ع) كى آنے والے انبياء (ع) كے بارے ميں بشارت_و اخذتم على ذلكم اصري

'' اصْر'' عہد كے معنى ميں ہے اور لوگوں سے آئندہ انبياء (ع) پر ايمان لانے اور انكى مدد كرنے كا عہد لينا خود ان كے آنے كى بشارت ہے_

٢٢_ انبياء (ع) كا فريضہ ہے كہ لوگوں كو انبياء (ع) ،پر ايمان اور انكى مدد كے بارے ميں خداوند متعال كے ان سے تاكيدى عہد و پيمان سے مطلع كريں _و اخذتم على ذلكم اصرى فاشهدوا و انا معكم من الشاهدين يہ اس صورت ميں ہے كہ '' فاشھدوا'' انبياء (ع) كو حكم ہو كہ امتوں كے سامنے شہادت دو_

٢٣_ پيغمبر اسلام (ص) اپنے سے پہلے انبياء (ع) اور آسمانى كتابوں كى تصديق كرنے والے ہيں _

ثم جاء كم رسول مصدق لما معكم امام صادق (ع) فرماتے ہيں : '' ثمّ جاء كم رسول مصدق لما معكم''ميں رسول سے مراد رسول اسلام (ص) ہيں (١)

٢٤_ انبيائے (ع) الہى كى ذمہ داريہے كہ وہ لوگوں كو پيغمبر اسلام ، ان كى بعثت اور انكے اوصاف كى پہچان كرائيں اور تصديق كا حكم ديں _و اذ اخذ الله ميثاق النبيين امير المؤمنين (ع) فرماتے ہيں :انّ الله تعالى اخذ الميثاق على الانبياء قبل نبيّنا ان يخبروا اممهم بمبعثه و نعته و يبشروهم به و يامروهم بتصديقه (٢)

____________________

١) تفسير قمى ج١ ص ٢٤٧ آيت ١٧٢ سورہ اعراف كے ذيل ميں ، نورالثقلين ج١ ص ٣٥٨ حديث ٢١١_ ٢) مجمع البيان ج٢ ص ٧٨٤ ، نورالثقلين ج١ ص ٣٥٩ حديث ٢١٥_

۶۰۹

اللہ تعالى نے ہمارے نبى (ص) سے پہلے انبياء (ع) سے يہ عہد ليا كہ وہ اپنى امتوں كو آنحضرت (ص) كى بعثت و صفت كى خبر ديں _ انہيں آنحضرت (ص) كى بشارت ديں اور ان كو حكم ديں كہ وہ آپ (ص) كى تصديق كريں _

٢٥_ خداوند عالم كا سابقہ انبياء (ع) كى امتّوں سے اپنے اپنے پيغمبر(ص) كى تصديق اور اسكى تعليمات پر عمل كرنے كے بارے ميں عھد و پيمان لينا _و اذ اخذ الله ميثاق النبيين امام صادق (ع) فرماتے ہيں :تقديره و اذ اخذ الله ميثاق امم النبيين بتصديق كلّ امّة نبيّها والعمل بما جاء هم به (١) يعنى اس آيت كى اصل يوں بنے گى كہ خدا نے نبيوں كى امتوں سے عہد لياكہ ہر امت اپنے نبى (ص) كى تصديق كرے اور اس كى تعليمات پر عمل كرے _

آسمانى كتابيں : ٣ ، ٨ ، ١١ ، ١٢ ، ٢٣ ، ٢٤

آنحضرت(ص) : آنحضرت(ص) اور آسمانى كتابيں ١١ ، ٢٣; آنحضرت(ص) اور انبياء ٩ ، ١١ ، ٢٣ ، ٢٤ ; آنحضرت(ص)

اور اہل كتاب ٢ ;آنحضرت(ص) كى حقانيت ٢٠ ; آنحضرت(ص) كى حمايت ١٣ ; آنحضرت(ص) كى ذمہ دارى ٢ ، ٤

اديان : اديان كى ہم آہنگى ٥

استدلال كرنا : ٢

امّت واحدہ : ٦ انبياء (ع) ١ ، ٤ ، ٦ ، ٨ ، ٩ ، ١١ ، ١٢ ، ١٦ ، ١٨ ، ٢٢ ، ٢٣ ، ٢٤

انبياء (ع) كا پے در پے آنا ٧;انبياء (ع) كى بشارت ٢١ انبياء (ع) كى تعليمات ٢٥; انبياء (ع) كى حكمت ٣ ، ٨ ; انبياء (ع) كى دعوت ٢٢; انبياء (ع) كى ذمہ دارى ١٠ ، ١١ ، ١٧ ، ٢٢ ;انبياء (ع) كى گواہى ١٩ ، ٢٠; انبيائے (ع) ماسلف ٧،٢١

اہل كتاب: ٢

ايمان : آسمانى كتابوں پرايمان ١٢ ; انبياء (ع) پر ايمان ١٢ ، ١٦ ، ١٨ ، ١٩ ، ٢٢ ، ٢٥ ; پيغمبر اسلام(ص) پر ايمان٩ ، ٢٤ ; دين پر ايمان١٥; نبوت پرايمان ١ ، ٤ ، ٩ ، ١٩

خداتعالى : خدا تعالى كا عہد ١ ، ٢ ، ٤ ، ٦ ، ٨ ، ٩ ، ١٧ ، ١٨ ، ١٩ ، ٢٢ ; خدا تعالى كى گواہى ١٩; خدا تعالى كے اوامر ١٧ ;خداتعالى كے عطيّے ٣

____________________

١) تفسير تبيان ج٢ ص٥١٤ ، مجمع البيان ج٢ ص٧٨٤_

۶۱۰

دين : دين اور عينيت ١٤

روايت ٢٣ ، ٢٤ ، ٢٥

علماء : علماكى ذمہ دارى ١٣

عہد : انبياء (ع) كے ساتھ عہد ١ ، ٤ ، ٦ ، ٨ ، ٩ ، ١٦ ، ١٧

نبوت : ١ ، ٤ ، ٩ ، ١٩ ، نبوت كى دليليں ١٢

فَمَن تَوَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (٨٢)

اس كے بعد جو انحراف كرے گا وہ فاسقين كى منزل ميں ہوگا _

١_ انبياء (ع) پر ايمان نہ لانا اور انكى مدد نہ كرنا فسق و فجور ہے_لتومنن به و لتنصرنه فمن تولّى بعد ذلك فاولئك هم الفاسقون

٢_ جو لوگ پيغمبر اسلام (ص) پر ايمان نہ لائيں اور آپ (ص) كى مدد نہ كريں وہ فاسق ہيں _لتومنن به و لتنصرنه فمن تولى بعد ذلك فاولئك هم الفاسقون يہ اس صورت ميں ہے كہ سابقہ آيت ميں ''رسول''سے مراد رسول اكرم (ص) ہوں

٣_ دين كے مركز سے نكلنا ، ہر زمانے ميں انبيائے (ع) الہى كى مخالفت كرنا اور دوسرے اديان كى طرف

مائل ہونا فسق ہے_و اذ اخذ الله فمن تولى بعد ذلك فاولئك هم الفاسقون

٤_ الہى عہد و پيمان كا توڑنا فسق ہے اور توڑنے والے فاسق ہيں _و اذ اخذ الله ميثاق فمن تولى بعد ذلك فاولئك هم الفاسقون

آنحضرت (ص) : ٢

ارتداد : ٣

انبياء (ع) :١

۶۱۱

عہد : عہد كا توڑنا ٤

فاسقين : ٢ ، ٤

فسق : ١ ، ٣ ، ٤

كفر :

انبياء (ع) كے بارے ميں كفر١ ، ٢ ; پيغمبر اسلام (ص) كے بارے ميں كفر ٢

أَفَغَيْرَ دِينِ اللّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (٨٣)

كيا يہ لوگ دين خدا كے علاوہ كچھ او رتلاش كر رہے ہيں جب كہ زمين و آسمان كى سارى مخلوقات بہ رضا و رغبت يا بہ جبر و كراہت اسى كى بارگاہ ميں سر تسليم خم كئے ہوئے ہے او رسب كو اسى كى بارگاہ ميں واپس جانا ہے _

١_ اہل كتاب كا دين خدا ( پيغمبر اسلام (ص) پر ايمان اور انكى مدد كرنے)سے منحرف ہونا _

افغير دين الله يبغون سابقہ آيات پر توجہ كرتے ہوئے جو كہ اہل كتاب كے بارے ميں تھيں يہ آيت بھى اہل كتاب كى طرف اشارہ ہے_

٢_ خداوند عالم كے عہد و پيمان (انبياء (ع) پر ايمان لانا اور انكى مدد كرنا )پرعمل پيرا ہونا دين خدا ہے_

واذاخذ الله ميثاق ...افغير دين الله يبغون

٣_ دين كى طرف ميلان فطرى امر ہے_*

افغير دين الله يبغون ''بغي'' طلب كے معنى ميں ہے اور فعل مضارع ''يبغون''دائمى و مستمر طلب پر دلالت كرتاہے لہذا آيت ميں فرض كيا گيا ہے كہ لوگ دائمى طور پر دين كى طرف مائل رہتے ہيں _

٤_ غير خدا كے دين كا انتخاب نظام ہستى كى حركت سے مناسبت نہيں ركھتا_افغير دين الله يبغون و له اسلم من فى السماوات والارض

٥_ پيغمبر اكرم (ص) پر ايمان اور انكى مدد كرنا دين خدا ہے_

۶۱۲

ثمّ جاء كم رسول افغير دين الله يبغون يہ اس صورت ميں ہے كہ گذشتہ دو آيتوں ميں '' رسول ''سے مراد پيغمبر اسلام (ص) ہوں _

٦_ خدا تعالى كے سامنے سر تسليم خم كرنا ہى دين كى حقيقت ہے_افغير دين الله يبغون و له اسلم من فى السماوات

٧_ تمام باشعور موجودات خواہ نخواہ خدا وند متعال كے حضور سر تسليم خم كرتے ہيں _افغير دين الله يبغون و له اسلم من فى السماوات والارض طوعاً و كرها كلمہ '' مصنْ''پر توجہ كرتے ہوئے جو كہ صاحبان عقل موجودات كے ليئے آتاہے يہاں پر مراد باشعور موجودات ہيں _

٨_ آسمانوں ميں باشعور موجودات كا ہونا _و له اسلم من فى السماوات والارض

٩_ خداوند عالم كے حضور سر تسليم خم كرنا نظام ہستى كے كلى تحرك كى ہمراہى ہے_وله اسلم من فى السماوات و الارض طوعاً و كرهاً

١٠_ نظام ہستى ميں قوانين الہى كى حكمرانى _و له اسلم من فى السماوات والارض

١١_ تمام موجودات كا خداوند متعال كے سامنے سر تسليم خم كرنا ، دين كو قبول كرنے اور خدا وند عالم كے سامنے سر تسليم خم كرنے كے ضرورى ہونے كى دليل ہے _افغير دين الله يبغون و له اسلم من فى السماوات والارض

١٢_ تمام موجودات خداوند عالم كى طرف لوٹنے پر مجبور ہيں _ واليه يرجعون

١٣_ تمام موجودات كے خداوند متعال كى طرف جبرى رجوع كى طرف توجہ دين خدا كو قبول كرنے كا پيش خيمہ ہے_

افغير دين الله و اليه يرجعون جملہ ''واليہ '' دين خدا كى قبوليت كے لازمى ہونے كى دليل كے طور پر ہے جو كہ ''افغير دين ...''سے مستفادہے_

١٤_ تمام باشعور موجودات تكوينى طور پر توحيد خدا كے قائل ہيں _و له اسلم من فى السماوات والارض طوعاً و كرها

مذكورہ بالا آيت كے بارے ميں امام صادق(ع)

۶۱۳

نے فرمايا: ہو توحيد ہم لله عزوجل(١)

١٥_ عالم ذرميں اصحاب يمين كا خدا كى ربوبيت كے بارے ميں اپنى رغبت و ميلان سے اعتراف اور اصحاب شمال كا مجبوراً اعتراف_و له اسلم من فى السماوات والارض طوعاً و كرهاً

امام صادق (ع) فرماتے ہيں :فخلق تربة آدم فقبض قبضة من كتفه الايمن فخرجوا الذر فقال لهم جميعا الست بربكم؟ قال اصحاب اليمين بلى طوعاً و قال اصحاب الشمال بلى كرهاً ...فذلك قوله تعالى ''وله اسلم من فى السماوات والارض طوعاً وكرهاً'' خداوند عالم نے آدم(ع) كى تربت كو خلق كيا پس اس كے دائيں كندھے سے ايك مٹھى مٹى لى اس سے لوگ ذرّوں كى صورت ميں نكلے پھر خدا تعالى نے ان سے كہا '' الست بربكم'' پھر اصحاب يمين نے رغبت سے اقرار كيا اور اصحاب شمال نے مجبوراً اعتراف كيا يہ ہے مراد اللہ تعالى كے اس فرمان سے''و له اسلم من فى السموات والارض طوعاً و كرها'' (٢)

١٦_ فرشتوں كا خداوند عالم كے سامنے سر تسليم خم كرنا_و له اسلم من فى السموات مذكورہ بالا آيت كے بارے ميں رسول خدا (ص) نے فرمايا: امّامن فى السماوات فالملائكة (٣) سر تسليم خم كرنے والے جو آسمانوں ميں ہيں ان سے مراد فرشتے ہيں _

آخرت : آخرت پر ايمان كے اثرات ١٣

آنحضرت : ١ ، ٥

اطاعت : ١١

انبياء (ع) :٢

اہل كتاب : اہل كتاب كى گمراہى ١ ; پيغمبر اسلام (ص) اور اہل كتاب ١ ايمان ١٣ ،

انبياء (ع) پر ايمان ٢ ;ايمان اور عمل ١٣ ; پيغمبر اسلام (ص) پر ايمان ١ ، ٥

____________________

١) توحيد صدوق ص ٤٦ حديث ٧باب ٢ ، نورالثقلين ج١ ص ٣٦٠ حديث ٢٢٠_

٢) علل الشرائع ص ٤٢٥ حديث ٦ باب ١٦١ ، تفسير برہان ج١ ص ٢٩٥ حديث ١_

٣) الدرالمنثور ج٢ ص ٢٥٤_

۶۱۴

تكوين و تشريع :٤ ، ٩

توحيد : ١٤

خدا تعالى :

خدا تعالى كا عہد ٢;خدا تعالى كى حكمرانى ١٠ ; خدا تعالى كى ربوبيت ١٥ ; خد ا تعالى كى طرف بازگشت١٢ ، ١٣

دين : دين كو قبول كرنا ٤ ، ١١ ، ١٣ ; دين كى حقيقت ٢ ، ٦ ; دين كى طرف ميلان ٣

روايت : ١٤ ، ١٥ ، ١٦

زندگى : آسمانوں ميں زندگى ٨

سر تسليم خم كرنا: اللہ تعالى كے حضور سر تسليم خم كرنا ٦، ٧، ٩، ١١، ١٥، ١٦

عالم خلقت : عالم خلقت اور اطاعت ١١ ;عالم خلقت كى قانونمندى ١٠ ;عالم خلقت ميں شعور ٧

عالم ذرّ : عالم ذرّ ميں اصحاب شمال ١٥ ;عالم ذرّ ميں اصحاب يمين ١٥ عمل : ١٣

فرشتے : ١٦

فطرى رجحانات: ٣

معاد :١٢

موجودات : موجودات كا انجام ١٢;موجودات كى توحيد ١٤

۶۱۵

قُلْ آمَنَّا بِاللّهِ وَمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَالنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (٨٤)

پيغمبر ان سے كہہ ديجئے كہ ہمارا ايمان الله پر ہے او رجو ہم پر نازل ہوا ہے او رجو ابراہيم ، اسماعيل ، اسحاق ، يعقوب او راسباط پر نازل ہوا ہے اور جو موسى ، عيسى او رانبياء كو خدا كى طرف سے ديا گيا ہے ان سب پر ہے _ ہم ان كے د رميان تفريق نہيں كرتے ہيں او رہم خدا كے اطاعت گذار بندے ہيں _

١_ پيغمبر اسلام (ص) كو خداتعالى كا حكم كہ آپ(ص) اور آپ (ص) كى امّت خداوند متعال اور ، جو كچھ آپ(ص) اور سابقہ انبياء (ع) پر نازل كيا گيا ہے اس پر ايمان كا اظہار كريں _قل آمنا بالله و ما انزل علينا و ما اوتى موسى و عيسى و النبيون

٢_ حضرت ابراہيم (ع) ،حضرت اسماعيل (ع) ،حضرت اسحاق(ع) ، حضرت يعقوب(ع) اورآپ(ع) كے بيٹے انبياء (ع) ميں سے تھے اور انہيں خداوند عالم كى طرف سے وحى ہوتى تھي_و ما انزل على ابراهيم و الاسباط

چونكہ ''الاسباط'' جو نواسوں كے معنى ميں ہے حضرت يعقوب(ع) كے بعد ذكر ہوا ہو ، ايسا معلوم ہوتا ہے كہ اس سے مرادحضرت يعقوب(ع) كے بيٹے ہيں _

٣_ حضرت موسى (ع) اورحضرت عيسى (ع) خداوند عالم كے انبياء (ع) ميں سے اور صاحب كتاب ہيں _

و ما اوتى موسى و عيسي ظاہر يہ ہے كہ ''ما اوتي''سے مراد كتاب ہے_

۶۱۶

٤_ خداتعالى پر ايمان اور تمام انبيائے (ع) الہى اور آسمانى كتابوں پرايمان كا با ہم ہونا ضرورى ہے_

قل آمنا بالله و النبيون من ربّهم

٥_ تمام انبياء (ع) اور آسمانى كتابوں پر ايمان خدا تعالى كے عہد و پيمان پر عمل ہے _

و اذ اخذ الله ميثاق النبين قل آمنا بالله و ما انزل والنبيون من ربّهم

٦_ پيغمبر اكرم(ص) خاتم النبيين (ع) ہيں _و اذ اخذ الله قل آمنا بالله و النبيون من ربهم

كيونكہ جب دوسرے انبياء (ع) كے ميثاق كى بات ہورہى تھى تو ہر آنے والے رسول (ص) كے اقرار كا ذكر كيا گيا ليكن رسول اكرم (ص) كے ايمان ميں آنے والے رسول كے اقرار كا ذكر نہيں ہے_

٧_ خداوند عالم ، تمام انبياء (ع) اور آسمانى كتابوں پر ايمان اہم اعتقادى اصولوں ميں سے ہے_

قل آمنا بالله و النبيون من ربهم '' قل آمنا''سابقہ آيت ميں مذكور ''دين'' كو بيان كررہاہے لہذا اس آيت ميں ذكر كيئے جانے والے مطالب دين كے اہم اركان ہوں گے_

٨_ حضرت موسى (ع) اور حضرت عيسى (ع) كى شريعتوں اور ان پر نازل كى جانے والى كتابوں ( تورات و انجيل ) كى خاص اہميت _و ما اوتى موسى و عيسي

٩_ انبياء (ع) كى نبوت اور انكى آسمانى كتابوں كا نزول خداتعالى كى ربوبيت كا جلوہ ہے_

و ما اوتى والنبيون من ربهم

١٠_ تمام انبياء (ع) اور ان پر نازل كى جانے والى كتابوں پر ايمان نہ لانا خداوند عالم كے سامنے سر تسليم خم نہ كرنے كى علامت ہے_آمنا لا نفرق بين احد منهم و نحن له مسلمون

١١_ انبياء (ع) پر ايمان لانے ميں تفريق و تبعيض سے پرہيز ضرورى ہے_لانفرق بين احد منهم آيت كى ابتداء ميں '' آمنا''كے قرينہ سے تفريق نہ كرنا صرف انبياء (ع) پر ايما ن لانے كے لحاظ سے ہے نہ كہ ديگر جہات سے _

١٢_ پيغمبر اكرم(ص) كى اديان الہى كے پيروكاروں كو اعتقادى وحدت اور انبياء (ع) پر ايمان لانے ميں فرق نہ كرنے كى طرف دعوت _لا نفرق بين احد منهم

١٣_ اعتقادى اور عملى جہات كے حوالے سے اديان

۶۱۷

الہى اور انبياء (ع) ميں ہم آہنگى _آمنا بالله وما انزل لانفرق بين احد منهم و نحن له مسلمون

١٤_ پيغمبر اكرم (ص) اور ان كے پيروكاروں كا مكمل طور پرخدا كے سامنے سر تسليم خم كرنا _

و نحن له مسلمون تسليم كے متعلق كا حذف اسكے عموم پر دلالت كرتاہے_

١٥_ سر تسليم خم كرنا دين خدا ( شريعت اسلام ) كى روح و حقيقت ہے _ و نحن لہ مسلمون گويا ''ونحن لہ مسلمون''گذشتہ مطالب كا خلاصہ ہے_

١٦_ سر تسليم خم كرنا صرف خداوند عالم كے حضور اور خدا كى خاطر ہونا چاہيئے_

و نحن له مسلمون

حصر، ''لہ'' ظرف كے اپنے متعلق''مسلمون'' پر تقدم سے حاصل ہوتا ہے_

١٧_ مؤمنين كا خدا كے سامنے سرتسليم خم كرنا تمام موجودات كے خدا كے حضور سر تسليم خم كرنے كے ساتھ ہم آہنگ ہے_و له اسلم من فى السموات والارض و نحن له مسلمون

آسمانى كتابيں : ٤ ، ٥ ، ٧ ، ٩ ، ١٠

آنحضرت (ص) : آنحضرت (ص) كى خاتميت٦;آنحضرت(ص) كى دعوت ١٢ ; آنحضرت(ص) كى ذمہ دارى ١; آنحضرت (ص) كے پيروكار ١ ، ١٤

اديان : اديان ميں ہم آہنگى ١٢ ، ١٣

انبياء (ع) : ١ ، ٢ ، ٣ ، ٤ ، ٥ ، ٩ ، ١٠

انبياء (ع) كى دعوت ١٢ ; انبياء (ع) كى ہم آہنگى ١٣

انجيل : انجيل كى اہميت ٨

ايمان : آسمانى كتابوں پرايمان ٤ ، ٥ ، ٧ ; انبياء (ع) پر ايمان ١ ، ٤ ، ٥ ، ٧ ، ١١ ،١٢; ايمان كے اركان ٧;خدا كے بھيجے ہوئے پرايمان ١

تكوين و تشريع ١٧

تورات : تورات كى اہميت ٨

۶۱۸

حضرت ابراھيم (ع) : حضرت ابراہيم (ع) كى نبوت ٢

حضرت اسحاق (ع) : حضرت اسحاق (ع) كى نبوت ٢

حضرت اسماعيل (ع) : حضرت اسماعيل (ع) كى نبوت ٢

حضرت عيسى (ع) : حضرت عيسى (ع) كى كتاب ٣ ;حضرت عيسى (ع) كى نبوت ٣

حضرت موسى (ع) : حضرت موسى (ع) كى كتاب ٣ ; حضرت موسى (ع) كى نبوت ٣

حضرت يعقوب (ع) : حضرت يعقوب (ع) كى اولاد ٢ ; حضرت يعقوب(ع) كى نبوت ٢

خدا تعالى : خدا تعالى كى ربوبيت ٩ ; خدا تعالى كا عہد ٥ خداتعالى كے اوامر ١

دين : دين كى حقيقت ١٥

سر تسليم خم كرنا : خدا كے سامنے سر تسليم خم كرنا١٠ ، ١٤ ، ١٥ ، ١٦ ، ١٧

عالم خلقت : عالم خلقت اور اطاعت ١٧

كفر : انبياء (ع) كے بارے ميں كفر ١٠ ; كفر كے اثرات ١٠

مسيحيت : دين مسيحيت ٨

نبوت ٢ ، ٣

يہود : دين يہود ٨

۶۱۹

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ (٨٥)

او رجو اسلام كے علاوہ كوئي بھى دين تلاش كرے گا تو وہ دين اس سے قبول نہ كيا جائے گا او روہ قيامت كے دن خسارہ والوں ميں ہو گا _

١_ دين اسلام كا قبول كرنا ، خداوند متعال كا انبياء (ع) اور لوگوں سے عہد و پيمان_و اذ اخذ الله ميثاق النبيين و من يبتغ غير الاسلام دينا يہ اس صورت ميں ہے كہ ''الاسلام ''سے پيغمبر اسلام (ص) كى شريعت مراد ہو_

٢_ اسلام كے علاوہ كسى دين كا انتخاب خدا وند عالم كو قابل قبول نہيں ہے_و من يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه

٣_ خدا كے سامنے سر تسليم خم كرنے كے علاوہ كوئي راہ و روش اختيار كرنا خدا تعالى كو قابل قبول نہيں ہے_

و من يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه يہ اس صورت ميں ہے كہ سابقہ آيت كے قرينہ سے ''الاسلام ''سے مراد اس كے لغوى معنى ہوں يعنى خدا كے حضور سر تسليم خم كرنا _

٤_ اسلام ہى وہ واحد دين ہے جو عالمى ہے_و من يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه

٥_ اسلام تمام سابقہ شريعتوں كو منسوخ كرنے والا ہے_و من يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه

يہ اس صورت ميں ہے كہ ''الاسلام ''سے پيغمبر اكرم (ص) كى شريعت مرادہو_

٦_ مسلمان ( خدا كے سامنے سر تسليم خم كرنے والے ) سعادت و نيك بختى سے بہرہ مند اور اخروى نقصان سے محفوظ ہيں _ومن يبتغ ...وهو فى الآخرة من الخاسرين

٧_ اس حقيقت كى طرف توجہ كہ مسلمان آخرت ميں بہرہ مند ہونگے اور دوسرے لوگ نقصان ميں ہونگے اسلام قبول كرنے كا محرك ہے_ومن يبتغ ...و هو فى الآخرة من الخاسرين

۶۲۰

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749