احکام طہارت
نظافت اور طہارت کی اہمیت
سوال: نظافت اور طہارت کی اہمیت کو بیان کریں؟
جواب: دین اسلام میں نظافت و پاکیزگی اور طہارت و صفائی کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ نظافت و پاکیزگی کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ جیساکہ سرور کائنات کا فرمان ہے: طہارت و پاکیزگی ، نصف ایمان ہے۔ بدن کی صفائی ، لباس کی صفائی ، دانتوں کی صفائی ، اپنے ماحول و گھر کی صفائی ایما ن کی پہچان و نشانی ہے ۔ طہارت و پاکیزگی کے مقابلے میں آلودگی ، گندگی کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے ۔
پانی کی قسمیں
سوال ۱: پانی کی کتنی قسمیں ہیں ؟
جواب: پانی کی دو قسمیں ہیں۔ ۱. آب مطلق ۲. آب مضاف
سوال ۲ : آب مطلق اور آب مضاف کا فرق بیان کرتے ہوئے دونوں کا حکم بیان کریں؟
جواب: صاف ستھرا اور پاکیزہ پانی، آب مطلق کہلاتا ہے ۔اس کا حکم یہ ہے کہ یہ خود پاک ہے اور نجس چیزوں کو پاک کرتا ہے اور اس سے وضو اور غسل کرنا صحیح ہے۔
آب مضاف : وہ پانی جو آلودہ ہو یا دوسری چیزوں سے لیا ہو اپانی جیسے جوس وغیرہ یہ پانی ، مضاف کہلاتا ہے اس کا حکم یہ ہے کہ یہ خود پاک ہے مگر نجس چیزوں کو پاک نہیں کرتا اور اس سے وضو اور غسل کرنا بھی صحیح نہیں ہے ۔
سوال: آب مطلق کی قسموں کو بیان کریں؟
جواب: آب مطلق کی پانچ قسمیں ہیں :
آب قلیل آب کُر آب جاری آب باران کنوئے کا پانی
احکام نجاسات
سوال ۱ :نجاسات کتنی ہیں؟
جواب: نجاست دس ہیں۔
۱-پیشاب ۲-پاخانہ ۳-منی ۴-خون ۵-مردار
۶-کافر ۷-شراب ۸-کتا ۹-سور ۱۰-نجاست کھانے والے حیوان کا پسینہ
نوٹ : جب تک کسی چیز کے نجس ہونے کا یقین نہ ہو تو وہ چیز پاک ہوتی ہے۔
سوال ۲: نجاست ثابت ہونے کے کتنے طریقے ہیں ؟
کسی بھی چیز کو نجس ثابت کرنے کے تین طریقے ہیں۔
۱. انسان خود جانتاہو۔ ۲. دو عادل آدمی گواہی دیں۔
۳. چیزجس کے زیر استعمال ہے وہ خود بتائے ۔
سوال ۳: نجاست ایک چیز سے دوسری چیز میں کیسے منتقل ہوتی ہے ؟
جواب: نجاست صرف تری لگنے یعنی گیلے پن سے ایک چیز سے دوسری دوسری چیز میں منتقل ہوتی ہے۔
سوال ۴: کیا نجس چیزوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے ؟
جواب : نجس چیزوں کا کھانا پینا حرام ہے۔ لیکن کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ جیسے لباس یا فرش(نماز کی حالت کے علاوہ) وغیرہ کا استعمال کرنے میں کو ئی حرج نہیں ہے۔
مطہرات
سوال ۱: مطہرات کتنے ہیں؟
جواب: مطہرات بارہ ہیں:
۱-پانی ۲- زمین ۳-سورج
۴-استحالہ ۵-انتقال ۶-اسلام
۸-تبعیت ۹-انقلاب ۷-عین نجاست کا زائل ہوجانا
۱۰-مسلمان کا غائب ہونا ۱۱-نجاست کھانے والے حیوان کااستبراء ۱۲- مذبوح جانورکے بدن سے خون کا نکل جانا
سوال ۲ : پانی کن شرائط کے ساتھ نجس چیز کو پاک کرتا ہے؟
جواب: پانی ،چار شرائط کے ساتھ نجس چیز کو پاک کرتا ہے:
۱. پانی پاک ہو ۔ ۲. پانی نجس چیز کو پاک کرنے کے دوران مضاف نہ ہو ۔
۳. پانی مطلق ہو۔ ۴. عین نجاست کا زائل ہونا۔
بیت الخلا ءکے احکام
سوال ۱: رفع حاجت اور پیشاب کرنا کن موارد میں مستحب ہے؟
جواب: رفع حاجت اور پیشاب کرنا درج ذیل مواقع پر مستحب ہے:
۱. سونے سے پہلے ۲. سفر سے پہلے
۳. نماز سے پہلے ۴. مباشرت سے پہلے
۵. منی نکلنے کے بعد
سوال ۲: استبرا ء کا طریقہ کیاہے اور استبرا ءکیوں ضروری ہے؟
جواب: پیشاب کرنے کے بعد خاص طریقے سے انجام دیئے جانے والے عمل کا نام استبراء ہے۔ اور استبراء کا انجام دینا مستحب ہے۔
اگر استبراء نہ کیا جائے اور کوئی قطرہ خارج ہو جائے تو یہ قطرہ ، پیشاب کے حکم میں ہے۔
اس سے لباس اور بدن نجس ہو گا اور وضو بھی باطل ہو جائے گا۔
اور اگر استبراکیا ہو تو یہ قطرہ ،پاک سمجھا جائے گا لباس اور بدن بھی پاک رہے گا اور وضو بھی نہیں ٹوٹے گا ۔
تخلی
تخلی کے واجبات ؛مستحبات ؛مکروہات اور محرمات
سوال ۳ : تخلی کے واجبات ؛مستحبات ؛مکروہات اور محرمات بیان کریں؟
واجبات :
تخلی کے وقت دونوں شرمگاہوں کا دوسروں سےچھپانا واجب ہے ۔
مستحبات:
۱. ایسی جگہ بیٹھے جہاں اسے کوئی نہ دیکھے
۲. باتھ روم میں جاتے وقت بایاں پاؤں پہلے رکھنا؛ اور نکلتے وقت دایاں پاؤں رکھنا
۳. سر کا ڈھاپنا
۴. استبرا ءکرنا
۵. بدن کا وزن بائیں جانب رکھنا
مکروہات:
۱. باتھ روم میں بات کرنا ؛ ۲. دائیں ہاتھ سے طہارت کرنا
۳. سخت زمین پر پیشاب کرنا؛ ۴. باتھ روم میں کھانا پینا؛
۵. سورج اور چاند کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنا ۶. ہوا کے رخ پیشاب کرنا؛
۷. پانی میں پیشاب کرنا ؛ ۸. پھلدار درخت کے نیچے پیشاب یا پاخانہ کرنا؛
۹. کھڑے ہو کر پیشاب کرنا؛
محرمات:
۱- قبلہ کی طرف رخ کرکے پیشاب کرنا ۲-پشت کر کے پیشاب کرنا ۳-مومن کی قبر پر پیشاب کرنا
وضو کے احکام
وضو کے واجب موارد
سوال نمبر۱: وضو کتنے موارد پر واجب ہے؟
جواب: وضو چھ موارد پر واجب ہے۔
۱. تمام نمازوں کے لیے ، سوائے نماز میت کے
۲. بھولے ہوئے سجدہ اور تشہد کو انجام دینے کے لئے
۳. طواف کے لیے۔ ۴. وضو کرنے کی منت ؛عہد اور قسم مانی ہو۔
۵. نجس قرآن کو پاک کرنے کے لیےاور قرآن کی آیات کو چھونے کے لیے۔
۶. ابنیاء اور آئمہ ؑ کے ناموں کو چھونے کے لئے
وضو کی اہمیت
سوال۲: وضو کی اہمیت کو بیان کریں ؟
جواب : روایات میں ہمیشہ باوضو رہنے کی بہت زیادہ تاکید اور ثواب بیان ہوا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: ہمیشہ باوضو رہو اگر کسی کو وضو کی حالت میں موت آجائے تو وہ شہید کی موت مرتا ہے۔ خدا اس شخص کو شہادت کا درجہ دیتا ہے۔ ہمیشہ باوضو رہنا روح کی تسکین ؛درجات کی بلندی اور رزق کی فراوانی کا سبب ہے۔ نیز قرآن میں بھی رب العزت کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ ہمیشہ پاکیزہ اور باوضو رہنے والوں اور توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتاہے۔اور ہمیشہ باوضو رہنا انبیاء کی سنت اور آئمہ طاہرین کی سیرت ہے۔
وضو کے مستحب موارد
سوال: وضو کتنے موارد پر مستحب ہے؟
جواب: ہمیشہ باوضو رہنا مستحب ہے اور رزق کی فراوانی ، ترقی و کامیابی، اطمینان و سکون نفس کے لئے بہت زیادہ موثر ہے۔ اور ہمیشہ باوضو رہنا ، انبیاء و آئمہ کی سنت ہے اسی لئے روایات میں ہمیشہ باوضو رہنے کی تاکید ہوئی ہے۔ لیکن کچھ مقامات پر وضو کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے:
۱. مسجد میں داخل ہونے کے لیے۔ ۲. تلاوت کرنے کے لیے ۔
۳. سونے سے پہلے ۔ ۴. نماز میت کے لیے۔
۵. ہمیشہ باوضو رہنا۔ ۶. دعا کرنے کے لئے
۷. زیارت کرنے کے لئے ۸. مجالس اہل بیت میں شرکت کے لئے
۹. مطالعہ کرنے کے لئے ۱۰. درس دینے اور درس میں شرکت کے وقت
شرائط وضو
سوال: وضو کی شرائط بیان کریں؟
جواب: وضو کی شرائط درج ذیل ہیں:
۱-پانی پاک ہو ۲-وضو کے اعضاءپاک ہوں ۳-پانی خالص ہو
۴-پانی مباح ہو ۵-وضو میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۶-وقت کافی ہو
۷-نیت ۸-موالات ۹-تریتب
مبطلات وضو
سوال: مبطلات وضو کتنے ہیں؟
جواب: مبطلات وضو آٹھ ہیں ۔
۱-پیشاب ۲-پاخانہ
۳-نیند ایسی کہ کان سنے نہ اور آنکھ دیکھ نہ سکے ۴-معدے کی گیس کا خارج ہونا
۵-عقل کا زائل ہونا ۶-بے ہوش ہونا
۷-ہر وہ کام جس سے غسل واجب ہو ۸-خون استحاضہ
سوال نمبر ۵: وضو جبیرہ کی تعریف کریں؟
جواب: ہر وہ چیز جس سے زخم یا ٹوٹی ہوئی ہڈی باندھی جاتی ہے یا وہ دوا جو زخم یا ایسی ہی کسی چیز پر لگائی جاتی ہے جبیرہ کہلاتی ہے جبیرہ پر جو وضو کیا جائے اسے وضو جبیرہ کہتے ہیں۔
مستحبات وضو
سوال: وضو کے مستحبات کو بیان کریں ؟
جواب: وضو کے بہت سارے مستحبات ہیں ۔ ان کا انجام دینا عظیم اجر و ثواب کے ساتھ ، گناہوں کی بخشش، درجات کی بلندی کا سبب ہے۔ان میں سے چند اہم ترین مستحبات یہ ہیں :
۱. وضو سے پہلے بسم اللہ کاپڑھنا
۲. وضو شروع کرتے وقت اس دعا کا پڑھنا؛
اللهم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطهرین ۔
۳. وضو کرتے وقت سورہ قدر کا پڑھنا ؛ حضرت امام رضا ؑ کا فرمان ہے : جو شخص وضو کرتے وقت سورہ قدر پڑھتا ہے پروردگا عالم اس کے گناہو ں کو بخشش دیتا ہے۔
۴. وضو کی دعاؤں کا پڑھنا، جنہیں امام علی ؑنے تعلیم دیا ہے اور ان دعاؤں کے پڑھنے کا عظیم ثواب ہے۔
۵. وضو کے وقت آنکھوں کو کھلا رکھنا
۶. وضو کے بعد آیت الکرسی پڑھنا
۷. کم پانی سے وضو کرنا
۸. وضو سے پہلے مسواک کرنا، کم از کم انگلیوں سے دانتوں کو صاف کرنا
۹. ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالنا ، تین مرتبہ کلی کرنا
۱۰. حضور قلب اور توجہ کے ساتھ وضو کرنا اور وضو کے دوران قیامت کے مراحل کو یاد کرنا، جب دائیں ہاتھ پر پانی ڈالیں تو قیامت کے دن نامہ اعمال ، دائیں ہاتھ میں ملنے کی دعا کرنا، بایاں ہاتھ دھوتے وقت،نامہ اعمال ، بائیں ہاتھ میں نہ ملنے کی دعا کرنا اور چہرہ دھوتے وقت ، قیامت کے دن چہرے کے نورانی ہونے کی دعا کرنا اور پاؤں کا مسح کرتے وقت پل صراط پر قائم رہنے کی دعا کرنا ۔
نوٹ:دعاؤں کا پڑھنا مستحب ہے اور توجہ ، قیامت کے ان مراحل کو یاد کرتے ہوئے پڑھنا دوسرا مستحب ہے۔
غسل
سوال نمبر۱: غسل کی کتنی قسمیں ہیں؟
جواب: غسل کی دو قسمیں ہیں:
۱- واجب غسل ۲- مستحب غسل
واجب غسل
سوال نمبر ۲: واجب غسل کتنے ہیں؟
جواب: واجب غسل سات ہیں۔
۱-غسل جنابت ۲- غسل میت ۳- غسل مس میت
۴-غسل حیض ۵-غسل نفاس ۶-غسل استحاضہ
۷- غسل نذر عہدو قسم
مستحب غسل
سوال نمبر ۳: مستحب غسل کتنے ہیں؟
جواب: مستحب غسل بہت سارے ہیں ان میں سے مشہور یہ ہیں۔
جمعہ کے دن عید غدیر عید فطر عید قربان عید مبعث
شب قدر عید مباہلہ طواف کا غسل زیارت آئمہؑ کا غسل ستائیس رجب اورباقی مناسبتوں کا غسل
اقسام غسل
سوال نمبر ۴: غسل ترتیبی اور غسل ارتماسی میں کیا فرق ہے؟
جواب: غسل ترتیبی؛ میں جسم کے ہر عضو کو الگ الگ دھویا جائے۔
غسل ارتماسی؛ میں تمام بدن کو ایک ہی بار پانی میں غوطہ لگا کر دھویا جائے ۔
سوال نمبر ۵ : مجنب کون ہے؟
جواب: جو شخص جماع کرے یا جس کی منی خارج ہو اسے مجنب کہتے ہیں۔
وہ کام جو مجنب پر حرام یا مکروہ
سوال نمبر۶ :مجنب پر کون سی چیزیں حرام ہیں؟
جواب: مجنب پر پانچ چیزیں حرام ہیں۔
۱. قرآن کو چھونا ۲. انبیاء، آئمہ اور خدا کے ناموں کو چھونا
۳. عام مسجد میں ٹھہرنا اورمسجد میں کوئی چیز رکھنا یا اٹھانا ۴. واجب سجدہ والی آیات پڑھنا
۵. مسجد حرام اور مسجد نبوی میں جانا ۔
سوال نمبر ۷ : مجنب پر کتنی چیزیں مکروہیں؟
جواب: مجنب پر چندچیزیں مکروہ ہیں۔
۱- کھانا پینا ۲-قرآن پاک کی تلاو ۳- قرآن کو اٹھانا
۴-جنابت کی حالت میں سونا ۵-بدن پر تیل لگانا
۶ - مہندی یا اس طرح ملتی جلتی چیزوں سے خضاب کرنا
۷- اپنے بدن کا کوئی حصہ قرآن مجید کی،جلد،حاشیہ یا الفاظ کی درمیانی جگہ سے مس کرنا
تیمم
سوال نمبر ۱: تیمم کب کیا جاتا ہے؟
جواب: جب وضو یا غسل کرنا ممکن نہ ہو تو اس وقت تیمم کرنا ضروری ہے۔
سوال نمبر۲: کن صورتوں میں تیمم کرنا ضروری ہے؟۱- پانی نہ ہو ۳- پانی کا استعمال ضرر کا سبب ہو ۵-اتنا پانی ہوکہ خود یا دوسروں کی جان بچائی جاسکے۔
۲-پاک پانی تک رسائی نہ ہو ۴-وضو کے لیے وقت کم ہو
سوال نمبر ۳: کس چیز پر تیمم کرنا درست ہے؟
جواب: مٹی؛ ریت اور پتھر اور گرد وغبار پر تیمم کرنا جائز ہے ۔
سوال نمبر ۴: تیمم کرنے کا طریقہ بیان کریں؟
جواب: نیت کرنے کے بعد دونوں ہتھیلیوں کو مٹی پر مارے پھر دونوں ہتھیلیوں کو سر کے بالوں کے اگنے کی جگہ سے بھنؤوں سمیت پیشانی کے دونوں طرف کو کھینچ کر ناک کے اوپر سے لائے پھر بائیں ہتھیلی کو دائیں ہتھیلی کی پشت پر پھیریں اس کے بعد دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی کی پشت پر پھیریں۔
سوال۵: مبطلات تیمم کو بیان کریں ؟
جواب: جو چیزیں وضو کو باطل کرتی ہیں ، ان سے تیمم بھی باطل ہوجاتاہے۔ جیسے نیندیا ریح کا خارج ہونا وغیرہ