آسان شارٹ کورس

آسان شارٹ کورس0%

آسان شارٹ کورس مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 47

آسان شارٹ کورس

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: حجت الاسلام شیخ یوسف عابدی
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 47
مشاہدے: 174
ڈاؤنلوڈ: 6

تبصرے:

آسان شارٹ کورس
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 47 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 174 / ڈاؤنلوڈ: 6
سائز سائز سائز
آسان شارٹ کورس

آسان شارٹ کورس

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

آسان شارٹ کورس

(قرآن ؛ عقائد؛ احکام؛ آداب؛ اخلاق)

بچوں کی بنیادی تعلیمات کا مجموعہ

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام)

کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

www.alhassanain.org/urdu

۱

۲

شخصات کتاب

نام کتاب: آسان شارٹ کورس

مؤلفین: استاد محمدیوسف عابدی، محمدسبطین علوی اور امتیازحسین

پیشکش: بشارت حسین

ترتیب وتنظیم: امتیازحسین

نظر ثانی وتصحیح: محمدسبطین علوی

ناشر: اثرقلم

تعداد: ۵۰۰

طبع: دوم

تاریخ اشاعت: ۱۴۰۴ش بمطابق ۲۰۲۵ء

قیمت: ۱۰۰۰ روپے

جملہ حقوق بحق مؤلفین محفوظ ہیں۔

۳

فہرستِ مطالب

آسان شارٹ کورس ۱

چھوٹے بچوں کے لئے ۱۳

باب اول: قرآن ۱۳

باب دوم: عقائد ۱۹

اصول دین ۱۹

اول: توحید ۲۰

صفات سلبیہ ۲۰

صفات ثبوتیہ ۲۲

دوم: عدل ۲۶

سوم:نبوت ۲۷

چہارم:امامت ۳۰

مہدویت ۳۲

۱-دعائے امام زمانہ ۳۶

۲- دعائے معرفت ۳۶

۳-دعائے عہد ۳۶

۴-دعائےغریق ۳۷

عصر غیبت میں تقلید کی اہمیت ۳۸

پنجم: قیامت ۴۴

باب سوم ۴۷

احکام ۴۷

فروع دین ۴۷

شریعت کے احکام ۵۱

احکام طہارت ۵۳

نظافت اور طہارت کی اہمیت ۵۳

پانی کی قسمیں ۵۳

احکام نجاسات ۵۴

مطہرات ۵۵

بیت الخلا ءکے احکام ۵۶

تخلی ۵۷

واجبات : ۵۷

مستحبات: ۵۷

مکروہات: ۵۷

محرمات: ۵۸

وضو کی اہمیت ۵۹

وضو کے مستحب موارد ۵۹

شرائط وضو ۶۰

مبطلات وضو ۶۰

مستحبات وضو ۶۱

غسل ۶۲

واجب غسل ۶۳

مستحب غسل ۶۳

اقسام غسل ۶۴

تیمم ۶۵

(مشترک حصہ)فروعات دین کی تفصیل ۶۷

۱-باب الصلاۃ ۶۷

نماز کی اہمیت و فضلیت ۶۷

واجب نمازیں ۶۷

مستحب نمازیں ۶۸

واجباتِ نماز ۶۸

نمازآیات ۶۹

نماز کے مستحبات ومکروہات ۷۰

مبطلات نماز ۷۱

نمازجماعت ۷۳

سجدے کے واجب اور مستحب موارد ۷۵

نمازقضا ۷۷

مسافر کی نماز ۷۷

۲- باب الصوم(روزہ ) ۷۸

روزہ کے مبطلات ۸۰

اقسام روزہ ۸۰

۱-واجب روزے ۸۰

۲-حرام روزے ۸۱

مکروہ روزے ۸۱

مستحب روزے ۸۲

۳-باب زکات ۸۳

زکوۃ کتنی چیزوں پر واجب ۸۴

زکات فطرہ ۸۵

۴-باب خمس ۸۶

خمس کی اہمیت ۸۶

خمس کے حصے ۸۷

موارد خمس ۸۷

۵-باب حج ۸۸

حج کے فوائد ۸۹

حج کے بقیہ احکام ۹۰

۶-با ب الجہاد ۹۲

۷-۸- با ب امر بالمعروف و نہی از منکر ۹۵

۹،۱۰-باب تولاّ اور تبرّا ۹۸

نتیجہ ۱۰۴

باب چہارم : آداب زندگی ۱۰۵

کھانا ،کھانے کے آداب ۱۰۵

پانی پینے کے آداب ۱۰۶

سونے کے آداب ۱۰۶

سماجی ومعاشرتی آداب ۱۰۸

سلام کرنے کی اہمیت وفضیلت ۱۰۹

سلام کرنے کے آداب ۱۰۹

صلہ رحمی کی اہمیت وفضیلت ۱۱۱

شادی کی اہمیت و ضرورت ۱۱۲

مومن کی حاجت روائی ۱۱۲

مومنین سے ملاقات ۱۱۳

نظافت و پاکیزگی ۱۱۴

مسواک کی فضیلت ۱۱۴

ناخن تراشنے کی فضیلت ۱۱۵

دعا کی اہمیت اور فضیلت ۱۱۶

نیکی و احسان ۱۱۷

والدین کے ساتھ نیکی و احسان کی اہمیت ۱۱۷

دین اسلام میں عیدیں اور اعمال ۱۱۸

عیدوں کے اعمال ۱۲۰

امر بالمعروف کی اہمیت ۱۲۱

بد اخلاقی اور بدکلامی ۱۲۳

بچوں کی صفات ۱۲۴

دوسرا حصہ ۱۲۶

نوجوانوں کے لئے ۱۲۶

باب القرآن ۱۲۶

۱-عظمت قرآن بزبان قرآن ۱۲۶

قرآن اور اہل بیت بزرگ ترین امانت ۱۳۰

قرآن مؤثرترین ،موعظہ ۱۳۲

نتیجہ کلام : ۱۳۲

آداب زندگی ۱۳۴

سونے کے آداب ۱۴۱

سونے سے پہلے وضو کرنا ، ۱۴۳

سونے سے پہلے سورہ واقعہ کی تلاوت کرنا ۱۴۵

آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت ۱۴۷

کھانے کے آداب ۱۴۸

کھانے کےمکروہات ۱۵۱

سلام کرنے کی فضیلت ۱۵۷

سلام کرنے کے آداب ۱۶۰

عیادت مریض ۱۶۲

عیادت مریض کے آداب ۱۶۵

حقوق والدین ۱۶۹

والدین کی خدمت کرنا ۱۷۱

عاق والدین ۱۷۹

سماجی ومعاشرتی رابطے کی اہمیت وضرورت ۱۸۲

صلہ رحمی(رشتہ داروں سے رابطہ رکھنا) ۱۸۸

صلہ رحمی کے فوائد و آثار روایات کی روشنی میں ۱۸۹

باب مہدویت ۱۹۲

غیبت صغریٰ اور کبریٰ ۱۹۳

نواب اربعہ ۱۹۶

غیبت کبریٰ میں ہماری ذمہ داری ۱۹۶

۱-معرفت امام ۱۹۷

۲- انتظار امام ۱۹۸

مسجد کی فضیلت ۲۰۵

نماز با جماعت ادا کرنا ۲۰۵

مسجد جنت سے افضل ۲۰۶

احکام مسجد ۲۰۷

اسلام کی عظیم مساجد ۲۰۸

باب اخلاق ۲۱۰

زندگی میں اخلاق کی اہمیت و آثار ۲۱۱

فضائل اخلاقی ۲۱۳

اچھی صفات اپنانے کا حکم ۲۱۵

اچھی عادتیں اپنانا ۲۱۸

علم کی اہمیت و فضیلت ۲۲۱

علم دین کی اہمیت ۲۲۵

استاد کا مقام ۲۲۷

نظافت اور پاکیزگی کی اہمیت ۲۳۰

مسواک کی فضیلت و اہمیت ۲۳۲

اخلاقی خوبیا ں اور کمالات ۲۳۴

باب رذائل اخلاقی ۲۳۷

مذاق اڑانے کی مذمت ۲۳۸

غیبت کی مذمت اور نقصانات ۲۴۰

جھوٹ بولنے کی مذمت ۲۴۲

جھوٹ کے نقصانات ۲۴۳

حسدکی مذمت اور نقصانات ۲۴۵

غرور اور تکبر ۲۴۷

تکبر کے نقصانات ۲۴۹

غصہ کرنے کی مذمت ۲۵۱

غصے پر قابو پانا ۲۵۳

برے القاب سے لوگوں کو پکارنا ۲۵۵

بری عادتیں ۲۵۸

تہمت اور الزام لگانا ۲۶۰

گانا بجانا ۲۶۲

گانے کے نقصانات ۲۶۲

بد اخلاقی کی مذمت ۲۶۳

بداخلاقی کے نقصانات ۲۶۶

دین اسلام میں عیدیں ۲۶۷

۴

چھوٹے بچوں کے لئے

باب اول: قرآن

قرآن تمام سعادتوں ، ہدایت اور کامیابیوں کو پانے کا مجموعہ ہے۔ پروردگار عالم نے انسانوں کی ہدایت اور تمام بشریت کی نجات کے لئے نازل کیا ہے۔ قرآن قیامت تک کے لئے آئین زندگی اور ضابطہ حیات ہے۔جو لوگ خالق کی اس لا ریب کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں وہ دونوں جہانو ں کی کامیابیوں اور خوشیوں کو پا لیتے ہیں ۔

انسان کی کی تمام کامیابیوںو ترقی کا دارو مدار ، قرآن کی تلاوت ، قرآن سمجھنے اور عمل کرنے پر موقوف ہے۔اسی لئے سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: اگر تمہیں ، دنیا و آخرت کی کامیابی اور موت کے وقت، شہادت کا مرتبہ، قیامت کے دن ، نجات اور جنت چاہیے تو قرآن پاک پر عمل کریں ۔ خود بھی پڑھنا سیکھو اور دوسروں کی بھی سیکھاؤ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مزید ارشاد فرمایا: میری امت میں افضل ترین وہ شخص ہے جو خود قرآن سیکھ چکا اور دوسروں کو سیکھاتا ہے۔

(خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اَلْقُرْآنَ وَ عَلَّمَهُ)

سوال نمبر ۱: قرآن کے کیا معنی ہیں ؟

جواب: قرآن کےمعنی ہیں؛ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ۔

سوال نمبر ۲: قرآن کس مہینے میں نازل ہوا ؟

جواب : قرآن رمضان المبارک کے مہینے میں نازل ہوا ۔

سوال نمبر۳: قرآن کس رات میں نازل ہوا؟

جواب: رمضان المبارک کی تئیسویں رات، شب قدر میں نازل ہوا ۔

سوال نمبر۴: قرآن مجید کس نبی پر نازل ہوا ۔

جواب: قرآن مجید حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا ۔

سوال نمبر۵: قرآن مجید کتنے سالوں میں نازل ہوا۔

جواب: قرآن مجید تقریبا ۲۳ سال کے عرصے میں نازل ہوا۔

سوال نمبر ۶: قرآن میں کل کتنی سورتیں ہیں؟

جواب: قرآن میں کل ۱۱۴ سورتیں ہیں۔

سوال نمبر۷: قرآن مجید کی وہ کون سے چار سورتیں ہیں جن میں واجب سجدے والی آیات ہیں؟

۱-سورہ حم سجدہ آیت ۱۵ ۳-سورہ نجم آیت ۶۲

۲-سورہ فصلت آیت ۳۷ ۴-سورہ علق آیت ۱۹

سوال نمبر۸: قرآن کا نزول کن دو شہروں میں ہوا ؟

جواب:قرآن کا نزول مدینے میں اور مکے میں ہوا، مکہ میں نازل ہونے والی سورتوں کو مکی سورت کہتے ہیں اور ان کی تعداد ۸۶ ہے مدینہ میں نازل ہونے والی سورتوں کو مدنی سورت کہتے ہیں اور ان کی تعداد ۲۸ ہے۔

سوال نمبر ۹: قرآن کو پڑھنے کے آداب بیان کریں؟

جواب:۱- انسان کو قرآن پاک کی تلاوت روزانہ کرنی چاہیے تاکہ اس سے نصیحت اور ہدایت حاصل ہو سکے۔ قرآن پاک کی تلاوت عظیم عبادت ہے ۔اور تلاوت قرآن کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔

۲- کم از کم روزانہ۵۰ آیتوں کی تلاوت کرنی چاہیے۔ جیساکہ حضرت امام صادق ؑ کا فرمان ہے قرآن خدا کی طرف سے بندوں کے لیے ایک عہد نامہ اور آئین زندگی ہے مومن کو چاہیے ہر روز قرآن کی پچاس آیتو ں کی ضرور تلاوت کرے۔

۳-قرآن کو باوضو ہوکر پڑھنا چاہیے۔

۴- اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا : اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر باقاعدہ پڑھو یعنی قرآن کی تلاوت اس طرح کرو جیسا کہ تلاوت کا حق ہے۔

اس آیت مجیدہ کے ذیل میں حضرت علی علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ ترتیل سے مراد، حفظ الوقوف و بیان الحروف ہیں یعنی رک رک کر قوانین کے مطابق پڑھنا اور حروف کو اپنے مخارج اور واضح طور پر ادا کرنا

عَنْ أَمِيرِ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ : أَنَّهُ حِفْظُ اَلْوُقُوفِ وَ بَيَانُ اَلْحُرُوفِ.( بحار الانوار،جلد ۸۱ ،صفحه ۱۸۸ )

۵- قرآن کی تلاوت کا اعوذ باللہ اور بسم اللہ سے آغاز کرنا

۶- تلاوت کرتے وقت رو بہ قبلہ ہونا

۷۔توجہ کے ساتھ تلاوت کرنا

۸-قرآن کو سمجھ کر اور غور و فکر کے ساتھ پڑھنا

۹- قرآن پاک کی آیات کو سمجھنے کی کوشش کرنا اور آیات پر عمل کرنا

۱۰-قرآن کی تلاوت کو غور سے سننا اور خاموشی اختیار کرنا جیساکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جب قرآن کی تلاوت ہورہی ہو تو غور سے سنو اور خاموشی اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

سوال ۱۰: قرآن کس جگہ نازل ہوا؟

جواب: قرآن ، مکہ اور مدینہ میں نازل ہوا ۔

مکی سورتیں مدنی سورتیں کل سورتیں

۸۶ سورتیں ۲۸ سورتیں ۱۱۴ سورتیں

قرآن کی وہ سورتیں جو مکہ میں نازل ہوئیں ا ن کو مکی سورتیں کہا جاتا ہے۔ اور جو سورتیں مدینہ میں نال ہوئیں ان کو مدنی کہا جاتا ہے ۔

سوال۱۱:قرآن کے حوالے ہماری ذمہ داریوں کو بیان کریں؟

جواب: قرآن پاک کی آیات اور معصومین ؑ کی روایات کی روشنی میں قرآن کے حوالے سے ہر مسلمان و مومن کی یہ ذمہ داریاں ہیں ۔

ان کو انجام دئیے بغیر نجات و کامیابی ممکن نہیں ہے۔

یوں تو قرآن کے حوالے سے ہماری ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں لیکن ان ذمہ داریوں میں سے چند اہم ترین ذمہ داریاں یہ ہیں:

۱-قرآن پر ایمان لانا

۲-قرآن کو سمجھنا

۳-قرآن پر عمل کرنا

۴-قرآن میں غور و فکر اور تدبر کرنا

۵-قرآن کو خود سیکھنا اور دوسروں کو قرآن سیکھانا

۶-قرآن کی تلاوت کو غور سے سننا اور خاموشی اختیار کرنا

۸-معاشرے میں قرآنی تعلیمات کو پھیلانا اور قرآن کو زندہ رکھنا

۷- معاشرے میں قرآن سیکھانے اور قرآنی تعلیمات کو عام کرنے لئے برنامہ ریزی اور پلاننگ کرنا ، ان تمام امور کو انجام دینے میں ہر قسم کا تعاون کرنا

۹-قرآن کی تعظیم اور آیات قرآنی کا بہت زیادہ احترام کرنا

۱۰-قرائت قرآن کی محافل اور قرآنی مقابلے برپا کرنا

۱۱-قرآنی مراکز ، مدارس اور قرآنی سنٹرز کا قائم کرنا اور ان کو تقویت دینا

۱۲- ہمیشہ قرآن پاک کی تلاوت کرنا

۱۳-بچوں کو قرآن سیکھانا اور ان کو قرآن کی تلاوت کا پابند بنانا

۱۴-قرآن کو آئین زندگی اور ضابطہ حیات قرار دینا اور اپنی زندگی کے تمام امور کو دستور کے مطابق انجام دینا تا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی ، خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہو سکے۔

۵

باب دوم: عقائد

اصول دین

دین مقدس اسلام کی بنیادی چیزوں میں سے ایک اصول دین ہے۔ یعنی دین کی جڑیں اور بنیادیں جس پر دین کی عمارت قائم ہے۔

اصول دین محکم و مضبوط عقلی دلیلوں کے ذریعے سے جاننا ضروری ہے اس میں تقلید جائز نہیں ہے۔

سوال نمبر ۱: اصول دین کیا ہیں؟

جواب: دین کی جڑوں کو اصول دین کہتے ہیں ۔ جو کہ دین کے بنیادی نظریات و عقائد کا مجموعہ ہے۔ اصول دین میں سب سے بنیاد خدا کی توحید اور خدا کو وحدہ لا شریک ماننا ہے، عدل یعنی خدا کو عادل ماننا، پھر نبوت ؛تمام انبیاء خاص طور پر سرور کائنات کی نبوت کو تسلیم کرنا،امامت پھر نبی کے بارہ جانشین امام علی ؑ سے امام مہدی عج تک کی امامت و ولآیت کو تسلیم کرنا اور پھر قیامت یعنی مرنے کے بعد حساب و کتاب اور ابدی زندگی پر یقین رکھنا ۔

سوال نمبر۲ : اصول دین اور فروع دین میں بنیادی فرق کیا ہے ؟

جواب: اصول دین ؛ دین کی جڑیں اور اساس ہیں جن پر یقین رکھنا ہر مسلمان پر ضروری ہے اور فروع دین؛ دین کی شاخوں کا نام ہے۔

اصول دین، افکار اورعقائد کا نام ہے اور فروع دین، عمل اور کردار کا نام ہے۔

اصول دین میں تقلید جائز نہیں ہے بلکہ دلیل اور برہان کا ہونا ضروری ہے جبکہ فروع دین میں تقلید ضروری ہے اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے ۔

سوال نمبر۳: اصول دین کی تعداد بیان کریں؟

جواب: اصول دین کی تعداد پانچ ہے:

۱- توحید ۲ - عدل ۳- نبوت ۴- امامت ۵- قیامت

 اول: توحید

سوال ۱: توحید کے کیا معنی ہیں؟

جواب: توحید کے معنی خدا کو وحدہ لا شریک ماننا اور صرف خدا کی عبادت کرنا اور کائنات کے بنانے اور چلانے میں خدا کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دینا ہے ۔

سوال ۲ : توحید کے منکر کو کیا کہتے ہیں؟

جواب: توحید کا منکر کافر اور نجس ہے۔

صفات سلبیہ

سوال۳:صفات سلبیہ کسے کہتے ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہے؟

جواب: صفات سلبیہ ان صفات کو کہا جاتا ہے جو خدا کی ذات میں نہیں پائی جاتیں۔ خداوند متعال ان صفات سے پاک اور منزہ ہے کیونکہ خداوند متعال تمام نقائص اور عیوب اور ضرورتوں سے بالاتر ہے وہ کسی چیز سے عاجز نہیں ہے اور نہ ہی اسے کسی چیز کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس میں کسی چیز کی کمی ہے ان تمام صفات کو جن سے خدا بالاتر ہے صفات سلبیہ کہتے ہیں۔ اور وہ یہ ہیں :

خداوند منان جسم و جسمانیت سے پاک ہےاور وہ کسی خاص جہت اور کسی خاص جگہ پر نہیں ہے بلکہ تمام جگہوں پر موجود ہے۔

خداوند کسی میں حلول نہیں کرتا، خداوند کسی چیز کے ساتھ یا اپنے غیر کے ساتھ متحد نہیں ہے خدا میں کوئی تبدیلی اور تغیر نہیں ہے خدا کو کسی لذت یا درد کا احساس نہیں ہے وہ تمام لذتوں اور خواہشات سے بالاتر ہے ۔

غیر مرئی ،خدا کو اس دنیا میں اور آخرت میں ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔

۶

صفات ثبوتیہ

سوال:صفات ثبوتیہ کی تعریف اور ان کی تعداد کو بیان کریں؟

جواب: وہ تمام صفات جو خدا کی ذات میں پائی جاتی ہیں ان صفات کو صفات ثبوتیہ اور صفات جمالیہ اور صفات کمال بھی کہتے ہیں۔ خدا کی ذات میں تمام خوبیاں اور تمام کمالات اور تمام اچھی صفات پائی جاتی ہیں ان تمام اچھی صفات اور خوبیوں اور کمالات کے مجموعے کا نام صفات ثبوتیہ ہے اور اس کے مقابلے میں جو صفات خدا کی ذات میں نہیں پائی جاتی ان صفات کا نام صفات سلبیہ اور صفات جلالیہ ہے ۔

 صفات ثبوتیہ یہ ہیں:

۱-حی: خدا ہی ہے یعنی خداوند ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور خدا زندہ ہے اورہر شئی کو حیات بخشنے اور دینے والی ذات ہے۔

۲-عالم: خدا عالم ہے یعنی خداوند ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے آسمانوں ،زمینوں میں اور کائنات میں ہر شے پر خدا کا علم محیط ہے اور کوئی شے خدا کے علم سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے۔

۳-قادر: خدا قادر ہے ؛ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے یعنی کسی چیز سے خداوند عاجز اور ناتوان نہیں ہے خدا کی قدرت ،قوت طاقت، حکومت و سلطنت ہر چیز سے بالاتر ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔بے شک خداوند متعال ہر شے پر قادر ہے اسی طرح متعدد روایات میں آیا ہے خدا کی قدرت سلطنت پوری کائنات پر محیط اور نافذ ہے۔ جیسا کہ امام صادق کا فرمان ہے: خداوند متعال ہر شے پر قادر ہے سلطنت خدا کی ہے ہر چیز پر خدا کا قبضہ ہے یعنی خدا کی قدرت اور حکومت سے کوئی شے باہر نہیں ہے ۔

۴-مرید: خدا مرید ہے یعنی خداوند متعال ارادے کا مالک ہے جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے وجود عطا کرتا ہے اور وجود میں لاتا ہے اور اس کے ارادے کے مقابلے میں کوئی مانع یا رکاوٹ نہیں ہے جب وہ کسی چیز کو ایجاد کرنا چاہتا ہے تو وہ شے ارادئے الہی کے ساتھ وجود میں آجاتی ہے یعنی خدا کن فیکون کا مالک ہے جب وہ کسی چیز کو حکم دیتا ہے تو وہ فورا ً وجود میں آجاتی ہے جیسا کہ قرآن میں فرمایا :

إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (سوره یٰس،آیت ۸۲)

۵-متکلم: خدا صاحب کلام ہے اورکلام کا مالک ہے اور جس سےچیز چاہے کلام کو ایجاد کرے اور اللہ تعالیٰ انبیاء سے کلام اور گفتگو کرتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: کلم اللہ موسی تکلیما "خدا نے حضرت موسی سے کلام کیا۔ اور اسی وجہ سے حضرت موسی کو کلیم اللہ کا لقب عطا ہوا۔یعنی خدا سے گفتگو اور کلام کرنے والا ۔

خدا کی ایک صفت متکلم ہے یعنی گفتگو کرنے والا یا گفتگو کو ایجاد کرنے والا ۔

۶-قدیم: خدا قدیم ہے یعنی اللہ تعالیٰ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اور پروردگار عالم ہر زمانے اور ہر مکان سے بالاتر ہے نہ اس کے لیے کوئی زمانہ ہے نہ مکان ہے ہر زمانے میں تھا اور رہے گا اور اسی طرح ہر جگہ موجود ہے اور موجود رہے گا۔

۷-حکیم:خدا حکیم ہے یعنی اللہ تعالیٰ صاحب حکمت ہے ہر چیز کو حکمت اور مصلحت کے مطابق ایجاد کرتا ہے اور کائنات کی کوئی شے عبس اور بےہودہ خلق نہیں ہوئی ۔جیسا کہ قرآن میں سورہ مومنون میں پروردگار عالم نے ارشاد فرمایا: کیا تم گمان کرتے ہو ہم نے تمہیں عبس اور بےہودہ خلق کیا ہرگز ایسا نہیں ہے۔

آیت:

أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ ۔ (مؤمنیون- ۱۱۵)

آیات الہی کی روشنی میں تمام انسانوں کی زندگی کا مقصد خدا کی عبادت و بندگی ہے اور پوری کائنات کی تخلیق ، انسان کے لیے ہے یعنی کائنات میں ہر شے کو انسان کے لیے بنایا گیا اور انسان کو خدا کی بندگی اور اس کی پرستش کے لیے خلق کیا گیا۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے: اے انسان میں نے تجھے اپنی عبادت اور بندگی کے لیے خلق کیا اور کائنات کی تمام اشیاء کو تیرےلیے خلق کیا ۔ گویا خدا نے فرمایا: اے انسان میری بندگی اور بندگی کے راستے سے ہرگز دور نہ ہونا۔

فِي الحَديثِ القُدسيِّ : يَابنَ آدَمَ ، خَلَقتُ الأَشياءَ لِأَجلِك وخَلَقتُكَ لِأَجلي ۔ (مکيال المکارم، جلد۱، صفح ہ ۳۷۳.)

۷-مدبر:خدا مدبر ہے یعنی خدا اپنی تدبیر اور ارادے سے پوری کائنات کے نظام کو چلاتا ہے اور اپنی تدبیر سے پورے نظام کائنات کو بہترین طریقے سے بنایا ہے اور کائنات کے تمام نظام کو بنحو احسن چلاتا ہے۔ اس کائنات کے نظام کو بہترین طریقے سے چلانے والی ذات کانام مدبر ہے۔

۸-خالق: خدا نے ہر شے کو خلق کیا وہ ہستی خالق کائنات ہے کائنات کے ہر ذرے اور ہر شے کا ایجاد کرنے والا اور بنانے والی ذات احدیت ہے اس نے آسمان و زمین میں ہر شئی کو خلق کیا اور اس کے علاوہ کوئی بھی اس کائنات کا خالق اور مالک نہیں ہے جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: کیا خدا کے علاوہ کوئی اور بھی خالق ہے ہرگز نہیں

. هَل مِن خَٰلِقٍ غَيرُ ٱللَّهِ ۔ ( سوره فاطر،آیت ۳)

۷

دوم: عدل

سوال ۱: عدل کے کیا معنی ہیں؟

جواب: عدل کے معنی ،خدا کو عادل سمجھنا یعنی وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ پوری کائنات کو عدل اور انصاف کی بنیاد پر چلاتا ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: خدا نے کسی انسان پر ظلم نہیں کیا ؛ انسان خود ایک دوسرے پر اور اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں۔

آیت :

وَ لا یَظلِمُ رَبکَ اَحَداً (سوره کهف، آیت ۴۹)

تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔(وجود خدا ، سراپا ئے عدل و انصاف ہے)

سوال ۲: خدا ظلم کیوں نہیں کرتا ہے؟

جواب: ظلم کے دو سبب ہیں۔

پہلا: جہالت کی وجہ سے دوسرا : فقرو غربت کی وجہ سے ۔ خدا نہ جاہل ہے نہ فقیر پس ظلم نہیں کرتا ؛ظلم خدا کے لیے محال ہے۔ انسان ایک دوسرے پر ظلم کرتا ہے اور ایک دوسرے کے حقوق کو پامال بھی کرتا ہے اس کی بنیادی وجہ جہالت ہے یا غربت ہے۔

۸

سوم:نبوت

سوال ۱: انبیاء کی تعداد کتنی ہے؛ پہلے اور آخری نبی کا نام بتائیں؟

جواب: انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے؛ پہلے نبی حضرت آدمؑ اور آخری نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

سوال ۲ : رسولوں کی تعداد کتنی ہے ؟

جواب: رسولوں کی تعداد ۳۱۳ ہے ۔

سوال ۳: اولو العزم انبیاء سے کیا مراد ہے اور اولو العزم انبیاء کون کون سے ہیں ؟

جواب: اولو العزم انبیاء ،ان انبیاء کو کہتے ہیں جو صاحب شریعت و صاحب کتاب ہیں اور وہ پانچ ہیں ۔

حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ،حضرت موسی ٰ ،حضرت عیسیٰ اورحضرت محمد(صلی اللہ تعالی علیہم اجمعین)

سوال ۴: نبیوں پرنازل ہونے والی کتابوں کے نام بتائیں ؟

زبور :حضرت داؤد

تورات:حضرت موسیٰ

انجیل:حضرت عیسیٰ

قرآن پاک:حضرت محمد (صلی اللہ تعالی علیہم اجمعین)

سوال ۵ : نبیوں کے لیے کتنی چیزیں ضروری ہیں؟

جواب: نبیوں کے لیےچار چیزیں ضروری ہیں: یہ چار صفتیں ہر نبی میں موجود ہوتی ہیں۔

۱ - معصوم ہونا ؛یعنی کوئی غلطی اور گناہ ان سے سرزد نہ ہو۔

۲- معجزہ : اپنی نبوت کو معجزے کے ذریعے ثابت کر سکے ۔

۳-علم: زمانہ میں سب سے زیادہ دین کی معرفت اور علم رکھنے والا ہو ۔

۴-تمام صفات و کمالات میں سب انسانوں سے برتر اور اعلیٰ مرتبے پر فائز ہو۔ اور کسی قسم کی خامی و نقص ان کی ذات میں نہیں ہوتی۔

سوال ۶ : معجزہ کیا ہے؟

جواب: ایسا کام جسے دوسرے لوگ کرنے سے عاجز رہیں اسے معجزہ کہتے ہیں ۔جیسے مردوں کو زندہ کرنا،مریضوں کو شفا ء دینا، اور عصا کے ذریعے سے پتھر سے بارہ چشمے جاری کرنا ، چاند کے دوٹکڑے کرنا، کنکریوں سے اپنی نبوت کے گواہی لینا ، زمانے میں پھیلے ہوئے سحر و جادو کو باطل کرنا وغیرہ۔

سوال ۷: معصوم کون ہے ؟

جواب: جو نہ کوئی گناہ کرے اور نہ کسی غلطی کا مرتکب ہو بلکہ ہر قسم کے اشتباہ سے پاک اور منزہ ہو اسے معصوم کہتے ہیں۔اور انسانی تمام خامیوں و کمزرویوں اور برائیوں سے پاک و منزہ ، تمام کمالات و فضائل کا حامل ومالک ہوتا ہے۔

۹

چہارم:امامت

سوال نمبر ۱: امامت کے معنی کیا ہیں؟

جواب: عوام الناس کے دینی اور دنیاوی امور میں رہبری اور پیشوائی کا نام امامت ہے۔جوکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سچا جانشین اور تمام ذمہ داریوں کو انجام دینے والا ہے۔

سوال نمبر ۲: امام کا تعیّن کون کرتا ہے۔

جواب: : امام کا تعین ، نبی کی طرح اللہ کی جانب سے ہوتا ہے ۔ جس طرح نبی کو خدا انتخاب کرتا ہے اسی طرح امام کا انتخاب کرنے والا بھی خدا ہے۔

سوال ۳: امام کتنے ہیں ان کے نام ترتیب سے بیان کریں؟

جواب: امام بارہ ہیں:

امام علی امام حسن امام حسین امام زین العابدین

امام محمد باقر امام جعفر صادق امام موسی کاظم امام علی رضا

امام محمد تقی امام علی نقی امام حسن عسکری امام محمد مہدی (علیهم السلام)

سوال ۴ : کیا بغیر کسی خدائی نمائندے کے دنیا باقی رہ سکتی ہے ؟

جواب: بالکل نہیں معصوم کا فرمان ہے کہ اگر دنیا ایک لمحہ کے لیے بھی خدائی نمائندے سے خالی ہو جائے تو زمین پھٹ جائے گی اور اپنے اندر ان تمام چیزوں کو سمو لے گی جو اس پر موجود ہیں ۔حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے تمام کائنات ایک لمحہ کے لئے بھی قیامت تک حجت خدا سے خالی نہیں ہو گی ۔

(إنَّ الأرضَ لا تَخلُو مِن حُجَّةٍ للهِ)

اور خود امام زمانہ بھی فرماتے ہیں زمین حجت الہی سے خالی نہیں ہے چاہے وہ حجت الہی ظاہر ہو یا غاےب ہو۔

(إنَّ الأرضَ لا تَخلُو مِن حُجَّةٍ إمّا ظاهِرا و إمّا مَغمُورا)( كمال الدّين ، ج ۲ ، ص ۵۱۱)

سوال ۵: کیا اس وقت بھی کوئی ایسا الہی نمائندہ موجود ہے ؟

جواب: جی ہاں ،رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ارشاد کے مطابق ان کے آخری جانشین موجود ہیں۔ جن کا نام رسول کے نام اور جن کی کنیت رسول کی کنیت پرہے اور لوگ انہیں مہدی (عج )کے نام سے یاد کرتے ہیں ان کی وجہ سے دنیا قائم ہے۔

حضرت امام زمانہ اس کائنات میں نہ صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانشین ہیں بلکہ تمام انبیاء کے جانشین اور تمام آئمہ طاہرین ؑ جانشین اور وارث ہیں ، تمام انبیاء کے علوم و اسرار ان کے پاس موجود ہیں۔

مہدویت

سوال ۱: حضرت امام مہدی علیہ السلام کب اور کہاں پیدا ہوئے ؟

جواب: حضرت امام مہدی علیہ السلام ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری کو عراق کے شہر سامرا میں پیدا ہوئے

سوال ۲: امام مہدی علیہ السلام غیبت میں کیوں ہیں؟

جواب: غیبت میں جانے کی بہت سی وجوہات ہیں:

ان میں سے ایک؛ یہ ہے کہ امام (عج)کے دشمن آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے اس لیے اللہ نے امام (عج)کو ہماری نظروں سے غیب رکھا ہے۔ اور چونکہ گیارہ اماموں کو دشمنوں نے شہید کیا اور آپ کو بھی شہید کرنا چاہتے تھے اللہ تعالیٰ نے کائنات کی بقاء کے لئے آپ کو پردہ غیب میں محفوظ کر لیا۔ امام زمانہ ہی رمز بقائے جہان اور کائنات کی جان ہیں ۔

دو: امام ہمارے گناہوں اور برے کردار کی وجہ سے پردہ غیب میں ہیں۔ جب لوگوں کے کردار سدھر جائیں گے اور امام کی آمد کے لئے آمادہ و تیار ہوجائیں گے تو امام زمانہ پوری کائنات پر حکومت الہی کو قائم کرنے کئ لئے خدا کے حکم سےظہور فرمائیں گے۔

سوال ۳: غیبت صغری کسے کہتے ہیں؟

جواب: سن ۲۶۰ ہجری سے سن ۳۲۹ ہجری تک، غیبت صغری کا زمانہ ہے جس میں امام زمانہ (عج)نواب اربعه کے ذریعے لوگوں سے ملتے رہے اور ان کی مشکلات حل کرتے رہے۔ نواب اربعه یعنی نائبین خاصہ کے زمانے کو غیبت صغریٰ کہا گیا ہے۔جوکہ تقریباً ستر برس پر مشتمل ہے۔

سوال ۴ : نواب اربعه، نائبین خاص کون ہیں ان کے نام بتائیں؟

جواب: غیبت صغریٰ میں امام زمانہ (عج) کی طرف سے چار خصوصی نائب مقرر کیے گئے تھے جن کو نواب اربعه کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں :

۱-عثمان بن سعید ۲-محمد بن عثمان ۳-حسین بن روح ۴-علی بن محمد سمری

عصرغیبت میں ہماری کیا ذمہ داریاں

سوال : غیبت امام زمانہ(عج) میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں، بیان کریں؟

جواب: غیبت امام زمانہ(عج) میں ہماری بہت ساری ذمہ داریاں ہیں۔

ان میں سے ذمہ داریاں یہ ہیں :

۱-امام زمانہ (عج)کی معرفت اور شناخت حاصل کرنا

۲- ہروقت امام زمانہ(عج) کا انتظار کرنا

۳-امام زمانہ(عج) کے لیے صدقہ دینا۔

۴-جب بھی امام زمانہ(عج) کا نام سنیں تو تعظیم کے لیے کھڑے ہونا۔

۵-امام زمانہ (عج) کے پردہ غیبت میں جانے سے مغموم رہنا ۔

۶-جب بھی کوئی پریشانی آئے تو امام زمانہ (عج) سے استغاثہ کرنا۔

۷-امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لیے کثرت سے دعا کرنا۔

۸-عصرغیبت امام زمانہ (عج) میں مجتہدین کی پیروی کرنا۔

۹-امام کی ولادت کو شایان شان طریقے سے منانا۔

۱۰-جمعہ کے روز امام (عج) کو یاد کرنا اور دعا ندبہ پڑھنا ۔

۱۱-لوگوں کو امام زمانہ (عج) سے آگاہ کرنا

۱۲-امام زمانہ (عج) کی یاد کو تازہ رکھنااور اپنی محافل و مجالس میں امام کا تذکرہ کرنا تا کہ لوگ امام کو فراموش نہ کریں ۔

سوال: معرفت امام زمانہ (عج) کی اہمیت کو بیان کریں؟

جواب: پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا فرمان ہے جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ اس کو امام زمانہ(عج) کی معرفت حاصل نہ ہو وہ جہالت کی موت مرتاہے۔

«مَن ماتَ وَ لَم یَعرِف اِمامَ زَمانِهِ ماتَ میتَهً جاهِلیهً» (شیخ صدوق، کمال الدین و تما م النعمه۔)

اس حدیث کی روشنی میں امام زمانہ(عج) کی معرفت حاصل کرنا تمام انسانوں پر واجب اور ضروری ہے۔اور شناخت کے بعد امام کے لشکر میں شامل ہونے کی تیاری کرنا بھی ضروری ہے۔ جیساکہسرورکائنات کا فرمان ہے:

افضل اعمال امتی انتظار الفرج ؛

میری امت کا بہترین اور افضل ترین عمل امام زمانہ کا انتظار کرنا ہے اور اپنے آپ کو لشکر امام زمانہ کے لیے تیار کرنا ہے ۔

انتظار امام صرف ایک فکر اور نظریہ کا نام نہیں ہے بلکہ کردار سازی اور بہترین عمل کرنے کا نام ہے۔ جیسا کہ حضور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ آپ نے

"افضل اعمال امتی"

فرمایا یعنی انتظار، عملی تیاری اور بہترین کردار سازی کا نام ہے۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ عملی طور پر اپنے آپ کو امام زمانہ کے لشکر کے لیے تیار کریں ، خانودہ کو اور معاشرے اور دنیا والوں کو امام زمانہ کے ظہور کے لئے آمادہ کریں ۔

سوال : امام زمانہ (عج)کے لیے کثرت سے دعا کرنے کی اہمیت کو بیان کریں ؟

جواب: امام زمانہ کے لیے کثرت سے دعا کرنے کی تاکید وارد ہوئی ہے۔جیسا کہ خود امام زمانہ کا فرمان ہے؛میرےظہور کے لیے کثرت سے دعا کریں کیونکہ اس ظہور میں تمام مشکلات کا حل ہے۔

اَكثِروا الدُّعاءَ بِتَعجِيل الفَرَجِ فَاِنَّ ذلِكَ فَرَجُكُم.( كمال الدّين ، ص ۴۸۵)

وہ دعائیں جن کوغیبت امام زمانہ میں بہت زیادہ پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ ان میں سے چند دعائیں درج ذیل ہیں۔

۱-دعائے امام زمانہ

اَللهمَّ کُن لولیَّک الحُجةِ بنِ الحَسَنِ صَلَواتُکَ عَلَیهِ وَ عَلی ابائهِ فی هذهِ السّاعةِ، وَ فی کُلّ ساعَة وَلیّا وَ حافظاً وقائِداً وَ ناصِراً وَ دَلیلاً وَ عَیناً حَتّی تُسکِنَهُ اَرضَکَ طَوعاً وَ تُمَتّعَهُ فیها طَویلاً؛

یہ دعا ہر نماز کے بعد اور خاص اجابت کے موقع پر گڑگڑا کر پڑھنی چاہیے۔ اور اس دعا کو خود معصوم نے عصر غیبت میں پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔

۲- دعائے معرفت

اس دعا کو امام صادق علیہ السلام نے زمانہ غیبت میں ہمیشہ پڑھنے کے لئے تعلیم دی ہے اور اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔

اَللّهُمَّ عَرِّفْنى نَفْسَكَ، فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى نَفْسَكَ، لَمْ اَعْرِف نَبِيَّكَ؛ اَللّهُمَّ عَرِّفْنى رَسُولَكَ، فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى رَسُولَكَ، لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَكَ؛ اَللّهُمَّ عَرِّفْنى حُجَّتَكَ، فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى حُجَّتَكَ، ضَلَلْتُ عَنْ دينى.( اصول کافی ج‌۲، ص ۱۴۹)

۳-دعائے عہد

ہر روز صبح کی نماز کے بعد اس دعا کو پڑھنے کی سفارش کی گئ ہے امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے جو شخص دعا ئےعہد کو پڑھتا ہے وہ امام زمانہ کے اصحاب و انصار میں شامل ہو گا اور خدا ہر لفظ کے بدلے اس شخص کے نامہ اعمال میں ہزار نیکیاں لکھتا ہے اور ہزار گناہ معاف کر دیتا ہے اور ہزار درجات کو بڑھا دیتا ہے ۔

۴-دعائےغریق

یہ وہ دعا ہے جسے حضرت امام صادق نے عصر غیبت میں دین وعقائد کی حفاظت کے لئے ہمیشہ تلاوت کرنے کا حکم دیا ہے۔ جو مسلسل اس دعا کی تلاوت کرتا ہے اس کا دین و ایمان محفوظ رہتا ہے اور عاقبت بخیر ہوجاتی ہےاور زمانے کی گمراہیوں سے محفوظ رہتا ہے ۔

دعائے غریق یہ ہے:

یَا الله یَا رَحْمَانُ یَا رَحِیمُ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِینِکَ.

۵-اور ہر وقت جب بھی امام زمانہ کو یاد کریں تو یہ عا پڑہیں :

اللهم عجل لولیک الفرج والعافیة والنصر

۱۰

عصر غیبت میں تقلید کی اہمیت

سوال: غیبت کے زمانے میں مجتہدین کی تقلید کی اہمیت کو بیان کریں ؟

جواب: غیبت امام زمانہ کے دور میں ایک اہم ذمہ داری مجتہدین کی تقلید کرنا اور اور ان کے فرامین اور فتاوی کے مطابق اپنی زندگی گزارنا ہے۔ مجتہدین عصر غیبت میں امام زمانہ کے نائب ہیں اور ہمیں ان کی طرف رجوع کرنا اور ان کے دستور پر عمل کرنا؛ خود امام زمانہ نے حکم دیا ہے۔

جیساکہ امام زمانہ کا فرمان ہے:

وَ أَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَ أَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِم؛

میرے بعد عصر غیبت میں جو مسائل اور حوادث پیش آئیں گے ان کے حل کے لیے مراجع اور مجتہدین کی طرف رجوع کرو یہ مجتہدین میری طرف سے تمہارے اوپر حجت اور میرے نائب ہیں اور میں خدا کی طرف سےان پر حجت ہوں اور جس شخص نے مجتہدین کی بات کو ٹھکرایا گویا اس نے ہماری باتوں کو ٹھکرایا ۔

امام زمانہ کے اس فرمان کے مطابق عصر غیبت میں تمام شیعوں کے لیے مجتہدین کی طرف رجوع کرنا اور ان کی تقلید کرتے ہوئے فتووں پر عمل کرنا ،تمام شیعوں پر لازم و ضروری ہے۔

ایک اور حدیث میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا :

وَاَمّا مَنْ کانَ مِنَ الفُقَهاءِ صَائِنا لِنَفْسِهِ حافِظاً لِدینِهِ مُخالِفاً لِهَواهُ مُطیعاً لِاَمرِ مولاهُ فَلِلْعَوامِ اَنْ یُقَلِّدُوهُ...

مجتہدین میں سے جو دین کے محافظ؛ مولائے کے فرمانبردار ہوں خواہشات نفسانی سے اپنے آپ کو بچانے والا ہو اس کی تقلید تم پر لازم اور واجب ہے۔

نظام مرجعیت ایک اہم ترین نظام ہے ۔عصر غیبت میں دین کی حفاظت اور احکام شریعت کو بیان کرنے اور دین کو تمام انحرافات سے بچانے کا واحد ذریعہ ہے ۔ اگرچہ دشمنان اسلام نظام مرجعیت کے خلاف بہت سازش کررہے ہیں اور اس نظام کو خراب کرنے اور لوگوں کو مجتہدین سے دور کرنے کی بھر کوشش میں لگے ہیں۔ لیکن ہمیں چاہیے معصومین کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عصر غیبت میں دین کی بقاء و حفاظت کے لئے مجتہدین کی تقلید کریں۔ مجتہدین کی عزت و احترام کرتے ہوئے ان کو امام زمانہ کا نائب و جانشین سمجھیں۔

سوال : امام زمانہ کے جشن ولادت کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب: تمام شیعوں کی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ مجالس آل محمد اور ان کی محا فل کو شایان شان طریقے سے منعقد کریں لیکن سب سے زیادہ زمانے کے امام اور تمام انبیاء کے وار ث امام زما نہ کی ولادت کو بہت زیادہ اہمیت دینا اور اس جشن کو اہتمام کے ساتھ منعقد کرنا تمام منتطرین امام کی ذمہ داری ہے ۔ اور اپنی محفلوں میں اور نشستوں میں امام زمانہ کا ذکر کریں، ہمیشہ لوگوں کو امام کی یاد دلائیں اور امام کو لوگوں کے ذہنوں میں تازہ رکھیں تاکہ لوگ ہمیشہ امام کے ظہور کے لیے آمادہ وتیار رہیں ۔

سوال: امام زمانہ سے روز جمعہ کی نسبت کو بیان کریں ؟

جواب: روز جمعہ، امام زمانہ کا دن ہے اور جمعہ کے روز ہی امام کا ظہور ہوگا جیساکہ حضرت امام صادق ؑ کا فرمان ہے: قائم آل محمد کا ظہور جمعہ کو ہو گا ۔ اور جمعہ ہی کے دن امام زمانہ کی ولادت کا دن ہے۔لہذا نہایت رغبت و شوق کے ساتھ ہر جمعہ کو امام کو یاد کرنا اور ہر جمعہ کو دعا ئے ندبہ پڑھنا اور سارا دن، امام کی یاد میں رہنا اور امام کی آمد کے لیے دعا کرتے ہوئے گزارنا اور کم از کم سو مرتبہ درود ( اللہم صلی علی محمد آل محمد) پڑھنا ضروری ہے۔

جمعہ کے دن کے اعمال

جمعہ کے دن ہمیں کیا کرنا ہے؟

سوال : جمعہ کے دن ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

جواب: جمعہ کے دن ،حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق تمام دنوں کا سردار اور افضل ترین دن ہے۔ روایات میں ذکر ہوا ہے جمعہ کے دن ہمیں کئی اعمال کو انجام دینا چاہیے :

۱- روزجمعہ کو روایات میں یوم النظافہ سے تعبیر کیا گیاہے۔یعنی صفائی، پاکیزگی اختیار کرنے کا دن ؛ اس وجہ سے جمعہ کے دن جتنا ممکن ہو اپنے آپ کو ، لباس ، گھر اور اردگرد کے ماحول کو صاف کیا جائے۔

۲- جمعہ کے دن غسل کرنا، گسل جمعہ کی بہت تاکید ہوئی ہے۔

۳- جمعہ کے دن ، نماز جمعہ میں پابندی کے ساتھ شرکت کرنا؛ اس لئے کہ قرآن حکیم سورہ جمعہ میں تمام مومنین کو نماز جمعہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

۴- جمعہ کا دن ، نیکیوں کا دن ہے۔ زیادہ سے زیادہ نیکیاں اور اعمال خیر کو انجام دینا چاہیے۔ جیساکہ فرامین آئمہ ؑ میں بیان ہوا ہے جو شخص جمعہ کے دن نیک کا م کرتا ہے اللہ تعالیٰ ٰ اس کے اجر وثواب میں کئی گنا زیادہ کرتا ہے۔

۵- جمعہ کادن ، امام زمانہ کا دن ہے۔ لہذا امام زمانہ کے ظہور کے لئے بہت زیادہ دعا کرنا اور بالخصوص دعائے ندبہ پڑھنی چاہیے۔

۶- جمعہ کے دن ، کثرت سے آل محمد پر صلوات پڑھنی چاہیے۔

حضرت امام صادق کا فرمان ہے : شب جمعہ اور روز جمعہ جمعہ میں افضل ترین عمل ، آل محمد پر درود پڑھنا ہے۔کم از کم ایک ہزار مرتبہ درود پڑھنے کا حکم ہے۔

۷- جمعہ کے دن اور شب جمعہ مرحومین کو یاد کرنا چاہیے اور ان کے لئے فاتحہ اور خیرات کو بجالانا چاہیے۔

روایات میں آیا ہے روز جمعہ ، شب جمعہ اپنے مرحومین کی قبروں پر جاؤ اور ان کے فاتحہ اور ہدیہ بھیجتے رہو۔

۸- جمعہ کے دن بیماروں کی عیادت کے لئے جانا،مریض کی عیادت و احوال پرسی کرنا عظیم عبادت ہے ۔ ہمیشہ اس عبادت کو انجام دینا چاہیے بالخصوص جمعہ کے دن ، مریض کی عیادت کی تاکید کی گئی ہے۔

سوال: کیا غیبت کے زمانے میں امام ہمارے اعمال سے باخبر ہیں؟

جواب: جی ہاں احادیث کی رو سے ہر پیر یا جمعرات کو فرشتے ہمارے اعمال امام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اور امام جب ہمارے نیک اعمال اور کردار کا مشاہدہ کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور ہماری مزید توفیقات کے لیے دعا کرتے اور جب ہمارے برے اعمال و کردار کا مشاہدہ کرتے ہیں تو پریشان اور غمگین ہو جاتے ہیں۔

جیساکہ خود امام زمانہ کا فرمان ہے:

ہم نے تمہیں کبھی فراموش نہیں کیا ۔

اور نہ ہی تمہاری حفاظت میں کوئی کوتاہی کی ہے وگرنہ تمہیں بلائیں نگل لیتی اور دشمن تمھے مٹا دیتے۔

امام زمانہ کے اس فرمان کی روشنی میں ہمارے کردار و اعمال ، امام کے سامنے ہیں اور امام ہم پر خصوصی عنایت کرتے ہیں اور دنیا کی بلاؤں ، دشمن کے شر سے ہمیں اور دین خدا کو محفوظ رکھتے ہیں

۱۱

پنجم: قیامت

سوال ۱: قیامت کا کیا معنی ہے؟

جواب: مرنے کے بعد لوگ اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور اس کی بارگاہ میں حاضر کیے جائیں گے۔ اس روز اچھے اعمال انجام دینے والوں کو جنت اور برے اعمال انجام دینے والوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ یعنی ہر انسان کو اپنی زندگی کے تمام اعمال کے حساب و کتاب کے لئے اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا اور اس د ن کا نا م قیامت ہے ۔

سوال ۲: قیامت پر کوئی دلیل دیجئے؟

جواب: چونکہ خدا عادل ہے اس لیے قیامت پر ایمان رکھنا ضروری ہے تاکہ ہر شخص اپنے اچھے اور برے اعمال کی جزا و سزا پا سکے ۔ خدا بیہودہ اور فضول کام انجام نہیں دیتا اگر قیامت نہ ہو تو دنیا کا خلق کرنا ،عبث و بیہودہ قرار پائے گا۔

سوال نمبر ۳: قیامت پر ایمان رکھنے کا کیا فائدہ ہے :

جواب: جب انسان اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ اسے ایک روز مرنا ہے اور مرنے کے بعد اسے اچھے کاموں پر انعام اور برے کاموں کی سزا ملے گی تو وہ سچائی اور انصاف سے کام لیتا ہے اور نیک کردار اختیارکرتا ہے۔اور فرائض و واجبات کو انجام دیتا ہے اور تمام برائیوں و گناہوں سے اجتناب کرتاہے۔ اور جو قیامت پر ایمان نہیں رکھتا وہ ہر برائی اور گناہ کی دلدل میں گھرا ہوا ہے۔

سوال نمبر ۴: کیا جنت اور جہنم کے تمام درجات برابر ہیں؟

جواب: نہیں، جنت اور جہنم میں مختلف درجات ہوں گے اور یہ درجات تمام انسانوں کے ایمان اور عمل صالح کی بنیاد پر حاصل ہوں گے۔جیساکہ پروردگار عالم کا فرمان ہے : ہر مومن کے لئےاس کے اعمال کے حساب سے بہت سارے درجات ہیں اور آپ کا پروردگار تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

(وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ)( سور ہ انعام،آیت ۱۳۲)

اس حقیقت کو علامہ اقبال نے یوں بیا ن کیا ہے:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری

سوال ۵ : کیا قیامت کے روز دولت ؛رشتہ داری ہماری مدد کر سکیں گے؟

جواب: جی نہیں ،قیامت میں نجات اور کامیابی صرف اور صرف انسان کے نیک کردار اور اچھے اعمال پر موقوف ہے۔ اس دن نہ رشتہ دار ، اور نہ ہی اولاد کام آئے گی ۔اسی لئے قرآن میں ارشاد ہے: اس دن کو یاد کرتے رہو جس دن نہ مال اور نہ ہی اولاد کام آئیں گے۔

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ (سور ہ شعراء ، آیت ۸۸)

اس آیت کی روشنی میں قیامت میں نجات اور کا میابی کے لئے اور ابدی سعادت و عزت کو پانے کے لئے ہمیں اپنے کردار کو سنوارنا اور نیکیوں اور بہترین اعمال کو انجام دینا ہو گا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہر برائی و گناہ سے بچنا ہوگا ۔

۱۲

باب سوم

احکام

فروع دین

دین مقدس اسلام کا دوسرا اہم ترین حصہ، فروع دین ہے۔ یہ ایسے اعمال ہیں جن پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ان فرائض پر عمل پیرا ہونے کے لیے کسی مجتہد کے فتوے کو جاننا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے، فروع دین در حقیقت اعمال ، عبادات ومعاملات کا مجموعہ ہے اور قیامت کے دن انسان کی نجات و کامیابی انہی اعمال پر موقوف ہے ۔

سوال ۱: فروع دین کی تعریف کریں ؟

جواب: فروع دین یعنی دین کی شاخیں؛ جوکہ اعمال و عبادات و معاملات کے مجموعے کا نام فروع دین ہے ۔ جن کو عملا ً انجام دینا ضروری ہے۔

اور فروع دین میں ، مجتہد کی تقلید کرنا اور اس کے فتوی ٰ کے مطابق اعمال کو انجام دینا بھی ضروری ہے۔

سوال ۲ : فروع دین کی تعداد کتنی ہے ان کے نام تحریر کریں ؟

جواب: فروع دین کی تعداد دس ہے اور وہ درج ذیل ہیں :

۱-نماز ۲-روزہ ۳- زکوۃ ۴-خمس ۵-حج

۶-جہاد ۷-امر بالمعروف ۸-نہی عن المنکر ۹-تولا ۱۰-تبرا

سوال ۳: فروع دین پر عمل کرنے کے لیے کتنے طریقے ہیں؟

جواب: فروع دین پر عمل کرنے کے تین طریقے ہیں:

۱- اجتہاد کرنا ۲-احتیاط کرنا ۳-تقلید کرنا

سوال ۴: مجتہد کسے کہتے ہیں ؟

جواب: مجتہد وہ شخص ہے، جس کی لوگ تقلید کرتے ہیں جس کے بتائے ہوئے فتویٰ کے مطابق شریعت کے احکام پرعمل کرتےہیں اور عصر غیبت میں مجتہد ، امام زمانہ کا نائب ہے اور ان کی تقلید تمام لوگوں پر واجب ہے۔

سوال ۵ : مجتہد کی تقلید کرنا کیوں ضروری ہے ؟

جواب: معصومین ؑ نے ہمیں تقلید کا حکم دیا ہے ۔ کیونکہ مجتہدین عصر غیبت میں امام زمانہ کے نائب ہیں اور ہمیں ان کی طرف رجوع کرنا اور ان کے دستور پر عمل کرنا؛ خود امام زمانہ نے حکم دیا ہے۔

جیساکہ امام زمانہ کا فرمان ہے:

وَ أَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَ أَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِم؛

میرے بعد عصر غیبت میں جو مسائل اور حوادث پیش آئیں گے ان کے حل کے لیے مراجع اور مجتہدین کی طرف رجوع کرو یہ مجتہدین میری طرف سے تم پر حجت اور میرے نائب ہیں اور میں خدا کی طرف سےان پر حجت ہوں ۔

اور جس شخص نے مجتہدین کی بات کو ٹھکرایا گویا اس نے ہماری باتوں کو ٹھکرایا ۔ امام زمانہ کے اس فرمان کے مطابق عصر غیبت میں تمام شیعوں کے لیے مجتہدین کی طرف رجوع کرنا اور ان کی تقلید کرتے ہوئے فتووں پر عمل کرنا ،تمام شیعوں پر لازم و ضروری ہے۔

ایک اور حدیث میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا :

وَاَمّا مَنْ کانَ مِنَ الفُقَهاءِ صَائِنا لِنَفْسِهِ حافِظاً لِدینِهِ مُخالِفاً لِهَواهُ مُطیعاً لِاَمرِ مولاهُ فَلِلْعَوامِ اَنْ یُقَلِّدُوهُ...

مجتہدین میں سے جو دین کے محافظ؛ مولائے کا فرمانبردار ، خواہشات نفسانی سے خود کو بچانے والا ہو اس کی تقلید تم پر لازم اور واجب ہے۔

نظام مرجعیت ایک اہم ترین نظام ہے ۔عصر غیبت میں دین کی حفاظت اور احکام شریعت کو بیان کرنے اور دین کو تمام انحرافات سے بچانے کا واحد ذریعہ ہے ۔ اگرچہ دشمنانِ اسلام ،نظام مرجعیت کے خلاف بہت سازشیں کررہے ہیں اور اس نظام کو زیرسوال اور لوگوں کو مجتہدین سے دور کرنے کی بھر کوشش میں لگے ہیں لیکن ہمیں چاہیے معصومین ؑ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عصر غیبت میں دین کی بقاء و حفاظت کے لیےمجتہدین کی تقلید کریں۔

سوال ۶ : مجتہد کو پہچاننے کے طریقے کیا ہیں؟

جواب: مجتہد کو پہچاننے کے تین طریقے ہیں:

ایک : خود انسان کو یقین ہو جائے ۔

دو : دو عادل شخص گواہی دیں۔

تین: اہل خبرہ یعنی جاننے والے بتا ئیں یا وہ خودمشہور ہو۔

سوال ۷ : مجتہد کی کتنی شرائط ہیں؟

جواب: مجتہد کی نوشرائط درج ذیل ہیں:

۱-مرد ہو ۲-عاقل ہو ۳-بالغ ہو ۴-مسلمان ہو ۵-عادل ہو ۶-شیعہ اثناعشری ہو ۷-حلال زادہ ہو اور زندہ ہو۹-اعلم ہو

سوال ۸ : مجتہد سے احکام کو حاصل کرنے کے کتنےطریقے ہیں؟

جواب: مجتہد سے احکام کو حاصل کرنے کے چارطریقے ہیں:

۱. خود مجتہد کی زبان سے سننا۔ ۲. کسی بااعتماد شخص سے سننا

۳. دو عالموں سے سننا۔ ۴. مجتہد کی توضیح المسائل سے پڑھنا۔

 شریعت کے احکام

سوال: شریعت کے احکام کتنے ہیں ؟

جواب: شریعت کے احکام پانچ ہیں:

۱- واجب ۲-حرام ۳-مستحب ۴-مکروہ ۵-مباح

سوال: احکام خمسہ کی تعریف کریں ؟

۱- واجب: وہ کام ہے جس کا انجام دینا ضروری ہے اور ترک باعث عقاب ہے۔ جیسے نماز، روزہ اور حج وغیرہ

۲-حرام: وہ کام ہے جس کا ترک کرنا ضروری اور انجام دینا باعث عقاب ہے۔ جیسے غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، چوری کرنا، نماز کو ترک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا ، دوسروں کو اذیت پہنچانا،دوسروں کا مال کھانا وغیرہ۔

۳-مستحب: وہ کام ہے جس کا انجام دینا ثواب و درجات کی بلندی کا باعث ہے لیکن ترک کرنا باعث عقاب نہیں ہے۔ جیسے زیارت کرنا،لوگوں کی مدد کرنا ، سلام کرنا، بیمار کی عیادت کرنا، قرآن پاک کی تلاوت کرنا، عزاداری کرنا اور مرحومین کے لئے فاتحہ پڑھنا وغیرہ۔

۴-مکروہ: وہ کام ہے جس کا ترک کرنا ثواب اور انجام دینے پر عقاب نہیں ہے۔جیسے نمازصبح کے بعد سونا، سیاہ لباس میں نماز پڑھنا، جنابت کی حالت میں کھانا پینا، گندھا لباس پہننا ، برتنوں کا دھوئے بغیر رکھنا وغیرہ۔

۵-مباح: وہ کام ہے جس کا انجام دینا اور ترک کرنا برابر ہیں ۔ جیسے باتیں کرنا ، سونا، کھانا پینا وغیرہ۔

 

۱۳

احکام طہارت

نظافت اور طہارت کی اہمیت

سوال: نظافت اور طہارت کی اہمیت کو بیان کریں؟

جواب: دین اسلام میں نظافت و پاکیزگی اور طہارت و صفائی کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ نظافت و پاکیزگی کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ جیساکہ سرور کائنات کا فرمان ہے: طہارت و پاکیزگی ، نصف ایمان ہے۔ بدن کی صفائی ، لباس کی صفائی ، دانتوں کی صفائی ، اپنے ماحول و گھر کی صفائی ایما ن کی پہچان و نشانی ہے ۔ طہارت و پاکیزگی کے مقابلے میں آلودگی ، گندگی کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے ۔

پانی کی قسمیں

سوال ۱: پانی کی کتنی قسمیں ہیں ؟

جواب: پانی کی دو قسمیں ہیں۔ ۱. آب مطلق ۲. آب مضاف

سوال ۲ : آب مطلق اور آب مضاف کا فرق بیان کرتے ہوئے دونوں کا حکم بیان کریں؟

جواب: صاف ستھرا اور پاکیزہ پانی، آب مطلق کہلاتا ہے ۔اس کا حکم یہ ہے کہ یہ خود پاک ہے اور نجس چیزوں کو پاک کرتا ہے اور اس سے وضو اور غسل کرنا صحیح ہے۔

آب مضاف : وہ پانی جو آلودہ ہو یا دوسری چیزوں سے لیا ہو اپانی جیسے جوس وغیرہ یہ پانی ، مضاف کہلاتا ہے اس کا حکم یہ ہے کہ یہ خود پاک ہے مگر نجس چیزوں کو پاک نہیں کرتا اور اس سے وضو اور غسل کرنا بھی صحیح نہیں ہے ۔

سوال: آب مطلق کی قسموں کو بیان کریں؟

جواب: آب مطلق کی پانچ قسمیں ہیں :

آب قلیل آب کُر آب جاری آب باران کنوئے کا پانی

 احکام نجاسات

سوال ۱ :نجاسات کتنی ہیں؟

جواب: نجاست دس ہیں۔

۱-پیشاب ۲-پاخانہ ۳-منی ۴-خون ۵-مردار

۶-کافر ۷-شراب ۸-کتا ۹-سور ۱۰-نجاست کھانے والے حیوان کا پسینہ

نوٹ : جب تک کسی چیز کے نجس ہونے کا یقین نہ ہو تو وہ چیز پاک ہوتی ہے۔

سوال ۲: نجاست ثابت ہونے کے کتنے طریقے ہیں ؟

کسی بھی چیز کو نجس ثابت کرنے کے تین طریقے ہیں۔

۱. انسان خود جانتاہو۔ ۲. دو عادل آدمی گواہی دیں۔

۳. چیزجس کے زیر استعمال ہے وہ خود بتائے ۔

سوال ۳: نجاست ایک چیز سے دوسری چیز میں کیسے منتقل ہوتی ہے ؟

جواب: نجاست صرف تری لگنے یعنی گیلے پن سے ایک چیز سے دوسری دوسری چیز میں منتقل ہوتی ہے۔

سوال ۴: کیا نجس چیزوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے ؟

جواب : نجس چیزوں کا کھانا پینا حرام ہے۔ لیکن کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ جیسے لباس یا فرش(نماز کی حالت کے علاوہ) وغیرہ کا استعمال کرنے میں کو ئی حرج نہیں ہے۔

مطہرات

سوال ۱: مطہرات کتنے ہیں؟

جواب: مطہرات بارہ ہیں:

۱-پانی ۲- زمین ۳-سورج

۴-استحالہ ۵-انتقال ۶-اسلام

۸-تبعیت ۹-انقلاب ۷-عین نجاست کا زائل ہوجانا

۱۰-مسلمان کا غائب ہونا ۱۱-نجاست کھانے والے حیوان کااستبراء ۱۲- مذبوح جانورکے بدن سے خون کا نکل جانا

سوال ۲ : پانی کن شرائط کے ساتھ نجس چیز کو پاک کرتا ہے؟

جواب: پانی ،چار شرائط کے ساتھ نجس چیز کو پاک کرتا ہے:

۱. پانی پاک ہو ۔ ۲. پانی نجس چیز کو پاک کرنے کے دوران مضاف نہ ہو ۔

۳. پانی مطلق ہو۔ ۴. عین نجاست کا زائل ہونا۔

 بیت الخلا ءکے احکام

سوال ۱: رفع حاجت اور پیشاب کرنا کن موارد میں مستحب ہے؟

جواب: رفع حاجت اور پیشاب کرنا درج ذیل مواقع پر مستحب ہے:

۱. سونے سے پہلے ۲. سفر سے پہلے

۳. نماز سے پہلے ۴. مباشرت سے پہلے

۵. منی نکلنے کے بعد

سوال ۲: استبرا ء کا طریقہ کیاہے اور استبرا ءکیوں ضروری ہے؟

جواب: پیشاب کرنے کے بعد خاص طریقے سے انجام دیئے جانے والے عمل کا نام استبراء ہے۔ اور استبراء کا انجام دینا مستحب ہے۔

اگر استبراء نہ کیا جائے اور کوئی قطرہ خارج ہو جائے تو یہ قطرہ ، پیشاب کے حکم میں ہے۔

اس سے لباس اور بدن نجس ہو گا اور وضو بھی باطل ہو جائے گا۔

اور اگر استبراکیا ہو تو یہ قطرہ ،پاک سمجھا جائے گا لباس اور بدن بھی پاک رہے گا اور وضو بھی نہیں ٹوٹے گا ۔

 تخلی

تخلی کے واجبات ؛مستحبات ؛مکروہات اور محرمات

سوال ۳ : تخلی کے واجبات ؛مستحبات ؛مکروہات اور محرمات بیان کریں؟

واجبات :

تخلی کے وقت دونوں شرمگاہوں کا دوسروں سےچھپانا واجب ہے ۔

مستحبات:

۱. ایسی جگہ بیٹھے جہاں اسے کوئی نہ دیکھے

۲. باتھ روم میں جاتے وقت بایاں پاؤں پہلے رکھنا؛ اور نکلتے وقت دایاں پاؤں رکھنا

۳. سر کا ڈھاپنا

۴. استبرا ءکرنا

۵. بدن کا وزن بائیں جانب رکھنا

مکروہات:

۱. باتھ روم میں بات کرنا ؛ ۲. دائیں ہاتھ سے طہارت کرنا

۳. سخت زمین پر پیشاب کرنا؛ ۴. باتھ روم میں کھانا پینا؛

۵. سورج اور چاند کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنا ۶. ہوا کے رخ پیشاب کرنا؛

۷. پانی میں پیشاب کرنا ؛ ۸. پھلدار درخت کے نیچے پیشاب یا پاخانہ کرنا؛

۹. کھڑے ہو کر پیشاب کرنا؛

محرمات:

۱- قبلہ کی طرف رخ کرکے پیشاب کرنا ۲-پشت کر کے پیشاب کرنا ۳-مومن کی قبر پر پیشاب کرنا

وضو کے احکام

وضو کے واجب موارد

سوال نمبر۱: وضو کتنے موارد پر واجب ہے؟

جواب: وضو چھ موارد پر واجب ہے۔

۱. تمام نمازوں کے لیے ، سوائے نماز میت کے

۲. بھولے ہوئے سجدہ اور تشہد کو انجام دینے کے لئے

۳. طواف کے لیے۔ ۴. وضو کرنے کی منت ؛عہد اور قسم مانی ہو۔

۵. نجس قرآن کو پاک کرنے کے لیےاور قرآن کی آیات کو چھونے کے لیے۔

۶. ابنیاء اور آئمہ ؑ کے ناموں کو چھونے کے لئے

وضو کی اہمیت

سوال۲: وضو کی اہمیت کو بیان کریں ؟

جواب : روایات میں ہمیشہ باوضو رہنے کی بہت زیادہ تاکید اور ثواب بیان ہوا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: ہمیشہ باوضو رہو اگر کسی کو وضو کی حالت میں موت آجائے تو وہ شہید کی موت مرتا ہے۔ خدا اس شخص کو شہادت کا درجہ دیتا ہے۔ ہمیشہ باوضو رہنا روح کی تسکین ؛درجات کی بلندی اور رزق کی فراوانی کا سبب ہے۔ نیز قرآن میں بھی رب العزت کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ ہمیشہ پاکیزہ اور باوضو رہنے والوں اور توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتاہے۔اور ہمیشہ باوضو رہنا انبیاء کی سنت اور آئمہ طاہرین کی سیرت ہے۔

وضو کے مستحب موارد

سوال: وضو کتنے موارد پر مستحب ہے؟

جواب: ہمیشہ باوضو رہنا مستحب ہے اور رزق کی فراوانی ، ترقی و کامیابی، اطمینان و سکون نفس کے لئے بہت زیادہ موثر ہے۔ اور ہمیشہ باوضو رہنا ، انبیاء و آئمہ کی سنت ہے اسی لئے روایات میں ہمیشہ باوضو رہنے کی تاکید ہوئی ہے۔ لیکن کچھ مقامات پر وضو کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے:

۱. مسجد میں داخل ہونے کے لیے۔ ۲. تلاوت کرنے کے لیے ۔

۳. سونے سے پہلے ۔ ۴. نماز میت کے لیے۔

۵. ہمیشہ باوضو رہنا۔ ۶. دعا کرنے کے لئے

۷. زیارت کرنے کے لئے ۸. مجالس اہل بیت میں شرکت کے لئے

۹. مطالعہ کرنے کے لئے ۱۰. درس دینے اور درس میں شرکت کے وقت

شرائط وضو

سوال: وضو کی شرائط بیان کریں؟

جواب: وضو کی شرائط درج ذیل ہیں:

۱-پانی پاک ہو ۲-وضو کے اعضاءپاک ہوں ۳-پانی خالص ہو

۴-پانی مباح ہو ۵-وضو میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۶-وقت کافی ہو

۷-نیت ۸-موالات ۹-تریتب

مبطلات وضو

سوال: مبطلات وضو کتنے ہیں؟

جواب: مبطلات وضو آٹھ ہیں ۔

۱-پیشاب ۲-پاخانہ

۳-نیند ایسی کہ کان سنے نہ اور آنکھ دیکھ نہ سکے ۴-معدے کی گیس کا خارج ہونا

۵-عقل کا زائل ہونا ۶-بے ہوش ہونا

۷-ہر وہ کام جس سے غسل واجب ہو ۸-خون استحاضہ

سوال نمبر ۵: وضو جبیرہ کی تعریف کریں؟

جواب: ہر وہ چیز جس سے زخم یا ٹوٹی ہوئی ہڈی باندھی جاتی ہے یا وہ دوا جو زخم یا ایسی ہی کسی چیز پر لگائی جاتی ہے جبیرہ کہلاتی ہے جبیرہ پر جو وضو کیا جائے اسے وضو جبیرہ کہتے ہیں۔

مستحبات وضو

سوال: وضو کے مستحبات کو بیان کریں ؟

جواب: وضو کے بہت سارے مستحبات ہیں ۔ ان کا انجام دینا عظیم اجر و ثواب کے ساتھ ، گناہوں کی بخشش، درجات کی بلندی کا سبب ہے۔ان میں سے چند اہم ترین مستحبات یہ ہیں :

۱. وضو سے پہلے بسم اللہ کاپڑھنا

۲. وضو شروع کرتے وقت اس دعا کا پڑھنا؛

اللهم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطهرین ۔

۳. وضو کرتے وقت سورہ قدر کا پڑھنا ؛ حضرت امام رضا ؑ کا فرمان ہے : جو شخص وضو کرتے وقت سورہ قدر پڑھتا ہے پروردگا عالم اس کے گناہو ں کو بخشش دیتا ہے۔

۴. وضو کی دعاؤں کا پڑھنا، جنہیں امام علی ؑنے تعلیم دیا ہے اور ان دعاؤں کے پڑھنے کا عظیم ثواب ہے۔

۵. وضو کے وقت آنکھوں کو کھلا رکھنا

۶. وضو کے بعد آیت الکرسی پڑھنا

۷. کم پانی سے وضو کرنا

۸. وضو سے پہلے مسواک کرنا، کم از کم انگلیوں سے دانتوں کو صاف کرنا

۹. ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالنا ، تین مرتبہ کلی کرنا

۱۰. حضور قلب اور توجہ کے ساتھ وضو کرنا اور وضو کے دوران قیامت کے مراحل کو یاد کرنا، جب دائیں ہاتھ پر پانی ڈالیں تو قیامت کے دن نامہ اعمال ، دائیں ہاتھ میں ملنے کی دعا کرنا، بایاں ہاتھ دھوتے وقت،نامہ اعمال ، بائیں ہاتھ میں نہ ملنے کی دعا کرنا اور چہرہ دھوتے وقت ، قیامت کے دن چہرے کے نورانی ہونے کی دعا کرنا اور پاؤں کا مسح کرتے وقت پل صراط پر قائم رہنے کی دعا کرنا ۔

نوٹ:دعاؤں کا پڑھنا مستحب ہے اور توجہ ، قیامت کے ان مراحل کو یاد کرتے ہوئے پڑھنا دوسرا مستحب ہے۔

غسل

سوال نمبر۱: غسل کی کتنی قسمیں ہیں؟

جواب: غسل کی دو قسمیں ہیں:

۱- واجب غسل ۲- مستحب غسل

واجب غسل

سوال نمبر ۲: واجب غسل کتنے ہیں؟

جواب: واجب غسل سات ہیں۔

۱-غسل جنابت ۲- غسل میت ۳- غسل مس میت

۴-غسل حیض ۵-غسل نفاس ۶-غسل استحاضہ

۷- غسل نذر عہدو قسم

مستحب غسل

سوال نمبر ۳: مستحب غسل کتنے ہیں؟

جواب: مستحب غسل بہت سارے ہیں ان میں سے مشہور یہ ہیں۔

جمعہ کے دن عید غدیر عید فطر عید قربان عید مبعث

شب قدر عید مباہلہ طواف کا غسل زیارت آئمہؑ کا غسل ستائیس رجب اورباقی مناسبتوں کا غسل

اقسام غسل

سوال نمبر ۴: غسل ترتیبی اور غسل ارتماسی میں کیا فرق ہے؟

جواب: غسل ترتیبی؛ میں جسم کے ہر عضو کو الگ الگ دھویا جائے۔

غسل ارتماسی؛ میں تمام بدن کو ایک ہی بار پانی میں غوطہ لگا کر دھویا جائے ۔

 سوال نمبر ۵ : مجنب کون ہے؟

جواب: جو شخص جماع کرے یا جس کی منی خارج ہو اسے مجنب کہتے ہیں۔

وہ کام جو مجنب پر حرام یا مکروہ

سوال نمبر۶ :مجنب پر کون سی چیزیں حرام ہیں؟

جواب: مجنب پر پانچ چیزیں حرام ہیں۔

۱. قرآن کو چھونا ۲. انبیاء، آئمہ اور خدا کے ناموں کو چھونا

۳. عام مسجد میں ٹھہرنا اورمسجد میں کوئی چیز رکھنا یا اٹھانا ۴. واجب سجدہ والی آیات پڑھنا

۵. مسجد حرام اور مسجد نبوی میں جانا ۔

سوال نمبر ۷ : مجنب پر کتنی چیزیں مکروہیں؟

جواب: مجنب پر چندچیزیں مکروہ ہیں۔

۱- کھانا پینا ۲-قرآن پاک کی تلاو ۳- قرآن کو اٹھانا

۴-جنابت کی حالت میں سونا ۵-بدن پر تیل لگانا

۶ - مہندی یا اس طرح ملتی جلتی چیزوں سے خضاب کرنا

۷- اپنے بدن کا کوئی حصہ قرآن مجید کی،جلد،حاشیہ یا الفاظ کی درمیانی جگہ سے مس کرنا

تیمم

سوال نمبر ۱: تیمم کب کیا جاتا ہے؟

جواب: جب وضو یا غسل کرنا ممکن نہ ہو تو اس وقت تیمم کرنا ضروری ہے۔

سوال نمبر۲: کن صورتوں میں تیمم کرنا ضروری ہے؟۱- پانی نہ ہو ۳- پانی کا استعمال ضرر کا سبب ہو ۵-اتنا پانی ہوکہ خود یا دوسروں کی جان بچائی جاسکے۔

۲-پاک پانی تک رسائی نہ ہو ۴-وضو کے لیے وقت کم ہو

سوال نمبر ۳: کس چیز پر تیمم کرنا درست ہے؟

جواب: مٹی؛ ریت اور پتھر اور گرد وغبار پر تیمم کرنا جائز ہے ۔

سوال نمبر ۴: تیمم کرنے کا طریقہ بیان کریں؟

جواب: نیت کرنے کے بعد دونوں ہتھیلیوں کو مٹی پر مارے پھر دونوں ہتھیلیوں کو سر کے بالوں کے اگنے کی جگہ سے بھنؤوں سمیت پیشانی کے دونوں طرف کو کھینچ کر ناک کے اوپر سے لائے پھر بائیں ہتھیلی کو دائیں ہتھیلی کی پشت پر پھیریں اس کے بعد دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی کی پشت پر پھیریں۔

سوال۵: مبطلات تیمم کو بیان کریں ؟

جواب: جو چیزیں وضو کو باطل کرتی ہیں ، ان سے تیمم بھی باطل ہوجاتاہے۔ جیسے نیندیا ریح کا خارج ہونا وغیرہ

۱۴

(مشترک حصہ)فروعات دین کی تفصیل

۱-باب الصلاۃ

نماز کی اہمیت و فضلیت

سوال: نماز کی اہمیت و فضلیت بیان کریں؟

جواب: نماز دین کا ستون ہے اور مومن کی معراج ہے- دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کے لئے مؤثر ترین عبادت نماز ہے۔قرآن پاک کی آیات اور معصومین کی روایات میں تمام فرائض میں سے سب سے زیادہ نماز کی تاکید اور سفارش کی گئی ہے۔ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے سوال کیا جائے گا اگر نماز قبول ہوئی تو دیگر تمام عبادات قبول ہوں گی۔جیساکہ سرور کائنات کا فرمان ہے:

اول ما یحاسب به العبد الصلوة ان قبلت قبل ماسواه ان ردت رد ماسواه

پس ہمیں نماز کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے اور کسی بھی حالت میں نماز کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔

واجب نمازیں

سوال نمبر۱:واجب نمازیں کتنی ہیں ؟

جواب: واجب نمازیں سات ہیں۔

۱ -نماز یومیہ ۲- نماز آیات ۳-نماز میت ۴-نمازطواف

۵-نماز اجارہ ۶-نماز قسم، عہد ونذر ۷-باپ کی قضا نمازیں بڑے بیٹے پر

مستحب نمازیں

سوال نمبر۲: مستحب نمازیں کتنی ہیں؟

مستحب نمازیں بہت ساری ہیں؛ ان میں سے مشہور یہ ہیں ۔

۱-نوافل یومیہ ۲- نماز عیدین ۳- نماز شب ۴ - نماز مغفرت والدین

۵-نماز وحشت ۶- نماز جعفر طیار ۷- زیارت آئمہ کی نمازیں ۸- نماز تحیت مسجد

۹-نماز غفیلہ ۱۰-نماز استسقاء ۱۱-نماز اول ماہ

واجباتِ نماز

سوال نمبر۳: واجباتِ نماز کتنے ہیں؟

جواب: جو چیزیں نماز میں لازم و ضروری ہیں ان کو واجبات نماز کہا جاتاہے اور وہ گیارہ ہیں۔

۱-نیت ۲-تکبیرہ الاحرام ۳- قیام

۴-رکوع ۵-سجود ۶-قرائت

۷-ذکر ۸-تشہد ۹-سلام

۱۰-ترتیب ۱۱-موالات

سوال نمبر۴: نماز کے واجب رکن کتنے ہیں؟

جواب: نماز کےوا جب رکن پانچ ہیں ۔

۱-نیت ۲-تکبیرہ الاحرام ۳- قیام متصل بہ رکوع

۴- رکوع ۵- سجدہ

سوال نمبر ۵: ارکان نماز کے علاوہ واجبات کتنے ہیں؟

جواب: ارکان نماز کے علاوہ چھ واجبات ہیں۔

۱-تشہد ۲-سلام ۳-قرائت

۴-ذکر ۵-موالات ۶-ترتیب

نمازآیات

سوال نمبر۶: نماز آیات واجب ہونے کے اسباب بیان کریں ؟

جواب: نماز آیات چار موقع پر واجب ہو جاتی ہے

۱- زلزلہ ۲- خطرناک طوفان

۳- چاندگرہن ۴- سورج گرہن

سوال نمبر۷:نماز آیات کا طریقہ بیان کریں؟

جواب: نماز آیات ، دو رکعت ہے اور ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں اور ہر رکوع سے پہلے سورہ حمد اورکوئی دوسرا سورہ پڑھیں۔ اس طرح دو رکعتوں میں دس بار حمد اور دس بار سورہ(جیسے سورہ قدر) پڑھا جائے گا۔

سوال نمبر۸: نماز سے پہلے کتنی چیزیں ضروری ہیں؟

جواب : نماز سے پہلے چھ چیزیں ضروری ہیں۔

۱- طہارت ۲- ستر ۳- وقت

۴- قبلہ ۵ - لباس ۶- مکان

نماز کے مستحبات ومکروہات

سوال نمبر۹: نماز کے مستحبات بیان کریں؟

نماز کے مستحبات آٹھ ہیں۔

۱-سفیداورصاف ستھرا لباس پہننا ۲- انگوٹھی پہننا ۳- خوشبو لگانا ۴- سفید عبا پہننا

۵- جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ۶-مسواک کرنا ۷- اول وقت پر نماز ادا کرنا ۸- مسجد میں نماز ادا کرنا

سوال نمبر ۱۰: نماز کے مکروہات بیان کریں؟

جواب: مکروہات نماز دس ہیں۔

آئینے کے سامنے نماز پڑھنا کھلے درہوئے دروازے کے سامنےآگ کے سامنےتصویر کے سامنے

قبر وں کے درمیان قبر کے سامنےقبر کے اوپر ٹی وی کے سامنے کھلی کتاب اور اخبار کے سامنےانسانوں کے تصویروں کے سامنےسیاہ اور کثیف لباس میں ہر وہ کام جس سے نماز میں توجہ ہٹ جائے

مبطلات نماز

سوال نمبر ۱۱: مبطلات نماز کتنے ہیں؟

جواب: مبطلات نماز بارہ ہیں ۔

۱-لباس نجس ہو ۷-نماز کے دوران ہنس پڑے

۲-نماز کے دوران وضو اور طہارت باطل ہو جائے مثلا ریح خارج ہو جائے۔ ۸-کوئی ایسا کام کرے جس سے نماز کی شکل بگڑ جائے مثلا اچھلنا کودنا

۳-نماز کے دوران ہاتھ باندھ لے ۹-نماز کے دوران دنیاوی کاموں کے لیے رونا

۴-سورہ الحمد کے بعد آمین کہے ۱۰-نماز میں کھانا پینا

۵-نماز کے دوران اپنا رخ قبلے سے پھیر لے ۱۱-دو رکعتی یا تین رکعتی نماز میں شک کرنا

۶-نماز میں عمدا کوئی بات کہے ۱۲-ارکان نماز میں سے کسی ایک رکن کو بھول کر یا جان بوجھ کر چھوڑ دے

سوال نمبر ۱۲ کیا نماز کا توڑنا کسی وجہ سے جائز ہے؟

۱-نماز کا اختیاری حالت میں باطل کرنا جائز نہیں ہے بلکہ فعل حرام ہے مگر جان کی حفاظت یا ضروری مال کی حفاظت کے لیے اضطراری اور مجبوری کی حالت میں نماز کا توڑنا جائز ہے۔

۲- اگر مسجد نجس ہو اور نماز کے دوران پتہ چلے تو نماز کا توڑنا جائز ہے مسجد کو پاک کرے اور بعد میں نماز پڑھے اور اگر وقت تنگ ہو تو پہلے نماز پڑھیں اور بعد میں مسجد پاک کرے ۔

۱۵

نمازجماعت

سوال نمبر ۱۳:نماز جماعت کی فضیلت کو بیان کریں؟

جواب: نماز جماعت کی بہت زیادہ فضیلت ہے ۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے: ایک نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا ۴۰ سال کی عبادت سے افضل ہے ۔

قرآن پاک کی آیات اور معصومین کی روایات میں نماز باجماعت کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور مجبوری کے علاوہ نماز جماعت کو ترک کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔ خاص طور پر نماز صبح کی جماعت اور مسجد کےہمسائیوں کے لئے نماز جماعت کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔

سرورکائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: مسجد کے ہمسائیوں کی نماز ، مسجدکے علاوہ نہیں ہوتی۔ لا صلوة لجار المسجد الا فی المسجد

لہذا ہمیں حتی الامکان اپنی نماز وں کو با جماعت ادا کرنا چاہیے۔

سوال نمبر۱۴:جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا طریقہ بیان کریں؟

جواب: جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ امام جماعت کی اقتدا کی نیت کرنے کے بعد نماز جماعت میں شامل ہوں اور جب امام جماعت قیام یا رکوع کی حالت میں ہو تو جماعت میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ جماعت میں شامل ہونے کے بعد نماز کے تمام اذکار و افعال میں امام کی اقتداء کرنا ضروری ہے۔ امام جماعت سے پہلے افعال نماز کو انجام نہیں دینا چاہیے۔

سوال نمبر ۱۴ :نمازی کے لباس کی شرائط بیان کریں؟

جواب: نمازی کے لباس کی پانچ شرائط ہیں۔

۱- پاک ہو؛ نجس نہ ہو ۴- حرام گوشت کےاعضاسے نہ بنا ہو

۲-مباح ہو؛غصبی نہ ہو ۵- ریشمی لباس نہ ہو۔

۳- مردار کے اعضا سے نہ بنا ہو

سوال نمبر ۱۵ :نمازی کے لیے مکروہ لباس کتنے ہیں؟

جواب: نمازی کے لیے چار لباس مکروہ ہیں۔

۱- سیاہ ہو ۲-تنگ ہو ۳- گندا ہو ۴- بٹن کھلے ہوئے ہوں ۵-ذی روح کی تصویر بنی ہو

سوال نمبر ۱۶:سجدہ کے احکام اور مستحبات کو بیان کریں؟

جواب: سجدہ میں سات اعضا کازمین پر رکھنا واجب ہے جنکو اعضائے سبعہ کہا جاتا ہے

۱- دونوں ہتھیلیاں ۲-دونوں گھٹنے ۳-پیشانی ۴- دونوں پاؤں کے انگوٹھے

سجدہ کو طول دینا اور سجدے میں دعائیں کرنا خاص طور پر نماز کے آخری سجدہ میں اس دعا کو پڑھنے کی بہت تاکید ہوئی ہے اور بہت زیادہ ثواب و فراوانی رزق کا سبب ہے ۔

یا خیر المسولین و یا خیر المعطین ارزقنی و ارزق عیالی من فضلک فانک ذوالفضل العظیم

سجدے کے واجب اور مستحب موارد

سوال نمبر ۱۷ : قرآن میں کتنے سجدے واجب ہیں؟ اور ان کو پڑھنے کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟

جواب: قرآن مجید کی چار سورتوں میں ۴سجدے واجب ہیں ۔

ان آیات کو پڑھنے کے فورا بعد سجدہ کرنا چاہیے۔ بھول جانے کی صورت میں جب یاد آئے ؛سجدہ کریں۔

سورہ سجدہ آیت نمبر ۱۵ سورہ فصلت آیت نمبر ۳۷

سورہ نجم آیت نمبر ۶۲ سورہ علق آیت نمبر ۱۹

سوال نمبر ۱۸: سجدہ شکر کسے کہتے ہیں اور اس کا کیا فائدہ ہے؟

جواب: نماز کے ختم ہونے کے بعد شکرانے کے طور پر جو سجدہ کرتے ہیں اسے سجدہ شکر کہتے ہیں۔

سجدہ شکر ؛نماز کے علاوہ بہت سارے مقام پر مستحب ہے۔

جیسے ترقی یا خوشخبری یا کامیابی حاصل ہو ، بیماری سے شفاء ملے، بلا و مصیبت ٹل جائے اور کوئی نعمت ملے تو سجدہ شکر کرنا چاہیے ؛

اس سے رزق میں فراوانی اور نعمت میں اضافہ ہوتا ہے اور مزید ترقی ملتی ہے اس لیے قرآن مجید میں آیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو ہم اپنی نعمتوں میں اضافہ کریں گے۔

۱۶

نمازقضا

سوال نمبر۱۹: نماز قضا کسے کہتے ہیں؟

جواب: جب کسی مجبوری یا بیماری یا سفر کی وجہ سے نماز کو اپنے وقت میں بجا نہ لاجائے اوربعد میں پڑھا جائے اسے نماز قضا کہتے ہیں ۔ اور اسی طرح مرحومین کی جو نمازیں چھوٹ گئی ہیں ان کو بھی پڑھایا جانا ضروری ہے اور یہ بھی نماز قضا ہے۔

نکتہ : قضا نمازیں ،تابع ادا ہیں ، یعنی نماز جس طرح قضا ہوئی ہے اسی طرح اسے بعد میں بجالایا جائے گاجیسے سفر میں جو نمازیں قضا ہوئی ہیں وہ کسر پڑھی جائیں گے اور گھر میں قضا نمازوں کو پورا پڑھا جائے گا۔

مسافر کی نماز

سوال نمبر ۲۰: سفر میں نماز کیسے پڑھی جاتی ہے؟

جواب: سفر میں چار رکعتی نماز کو دو رکعت بجا لایا جاتاہے اور اسے نماز قصر بھی کہتے ہیں ۔ اور مسافر کے لئے ضروری ہے اپنی چار رکعتی تمام نمازوں کو قصر پڑھے لیکن نماز صبح اورمغرب پوری پڑھے۔ قصر نماز پڑھنے کے لئے مسافت شرعی کا پورا ہونا ضروری ہے۔ شرعی مسافت ۴۵ کلومیٹر سفر کرنا ہے۔ اور سفر کا مباح ہونا ،سفر کا ارادہ رکھنا اور حد ترخص تک پہنچنا ضروری ہے۔

۲- باب الصوم(روزہ )

سوال: روزہ کی اہمیت و فضیلت کو بیان کریں؟

جواب: روزہ دین اسلام کے بنیادی ارکان و واجبات میں شامل ہےاور پروردگارعالم نے روزے کو تمام امتوں پر فرض و واجب قرار دیا ہے ۔روزے کے عظیم اجروثواب ، دنیا و آخرت دونوں میں اس کے بےشمار اثرات و فوائد ہیں ۔حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: روزہ رکھا کرو تاکہ تمہیں صحت و سلامتی حاصل ہو۔

(صوموا تصحوا)

ایک دوسری روایت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزے کے اثرات و فوائد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: روزے دار کا سوجانا، عبادت ہے اور ہر سانس تسیح ہے،اس کے اعمال بارگاہ الہی میں قبول ہیں اور دعائیں مستجاب ہیں۔

نوم الصائم عبادة ،وانفاسه تسیح و عمله متقبل ودعائه مستجاب( میزان الحکمت) ۔

سوال:روزے سے کیا مراد ہے؟ ۔

جواب: روزے سے مراد ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انسان اذان صبح سے مغرب تک ان چیزوں سے پرہیز کرے جن سے روزہ باطل ہوتا ہے جیسے کھانا پینا وغیرہ۔

سوال : سورہ بقرہ میں روزے کے بارے میں خدا نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟

جواب: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ۔ (بقر ہ ، آیت ۱۸۳)

اے ایمان والو ! روزہ تم پر فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ۔

اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی کہ روزہ اس قدر فضیلت و اہمیت کا حامل ہے کہ اللہ نے تمام امتوں پر فرض قرار دیا ہے۔پھر روزے کی حکمت و فائدہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: روزہ انسان کی روحانیت و معنویت کو تقویت دیتا ہے اور انسان کے وجود میں تقوی و پرہیزگار ی کی روح ڈالتا ہے ۔ جس کے باعث انسان تمام گناہوں و خطاؤں سے اجتناب کرتا ہے۔

سوال: رسول خدا نے روزے کے بارے میں کیا فرمایا ؟

جواب: الصوم جُنة من النار؛

رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا کہ روزہ آتش جہنم کے لیے ڈھال ہے ۔

یعنی روزہ انسان کو جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے گا اور جنت کا مستحق قرار دیتا ہے۔

سوال:مبطلات روزہ سے کیا مراد ہے ؟

جواب: جو چیزیں روزے کو باطل کرتی ہیں ان کو مبطلات روزہ کہتے ہیں ۔

۱۷

روزہ کے مبطلات

سوال : مبطلات روزہ کون کون سے ہیں ؟

مبطلات روزہ نو ہیں:

کھانا ، پینا جماع کرنا استمناء کرنا

غبار کا حلق تک پہنچانا خدا پیغمبر اور ان کی جانشینوں سے جھوٹی بات منسوب کرنا اذان صبح کا حیض نفاس یا جنابت کی حالت میں رہنا

پورا سر پانی میں ڈبونا حقنہ کرنا قے کرنا

اقسام روزہ

سوال: روزے کی کتنی قسمیں ہیں ؟

جواب: روزہ کی چار قسمیں ہیں:

واجب حرام مستحب مکروہ

۱-واجب روزے

سوال : کونسے روزے واجب ہیں ؟

جواب: بہت سارے روزے واجب ہیں ۔ جن میں سے اہم ترین واجب روزے یہ ہیں :

۱-رمضان کا روزہ ۲-رمضان کے قضا روزے ۳-کفارہ کا روزہ ۴-اجارہ کے روزے

۵-اعتکاف کا تیسرا روزہ ۶-قربانی کے بدلے روزے ۷-نذر،عہد اورقسم کا روزہ ۸-باپ کے قضا روزے بڑے بیٹے پر

۲-حرام روزے

سوال: کونسے روزے حرام ہیں؟

۱-عید فطر کے دن روزہ رکھنا ۵-دن، رات کا روزہ

۲-عید قربان کے دن روزہ ۶-آخر شعبان کا روزہ ، رمضان کی نیت سے

۳-گناہ کی منت کا روزہ ۷-اولاد کا مستحب رکھنا،جو والدین کے لئے اذیت کا باعث

۴-خاموشی کا وزہ ۸-بیوی کا مستحب، جس کی وجہ سے شوہر کا حق ضائع ہو

مکروہ روزے

سوال : مکروہ روزں کو بیان کریں؟

۱- عاشور کے دن روزہ ۲- عرفہ کے دن روزہ رکھنا جب دعا کے ضعف کا باعث ہو

۳- بیٹے کا والدین کی اجازت کے بغیر روزہ رکھنا ۴- مہمان کا روزہ، میزبان کی اجازت کے بغیر

مستحب روزے

سوال : مستحب روزوں کو بیان کریں؟

جواب : حرام اور مکروہ روزں کے علاوہ ،سال بھر روزہ رکھنا مستحب ہے۔ لیکن کچھ دنوں میں روزہ رکھنے کی بہت زیادہ تاکید اور سفارش کی گئی ہے۔ ان ایام میں روزہ رکھنا ، سنت مؤکدہ ہے۔ اور وہ ایام یہ ہیں :

۱-ماہ شعبان کے روزے ۲-ماہ رجب کے روزے۳-ہر جمعرات کا روزہ ۴-ہر جمعہ کے دن روزہ

۵-ہر مہینہ میں دسویں دن کے بعد بدھ کا روزہ ۶-ہر مہینے کے ایام تشریق(۱۳،۱۴،۱۵)کے روزے

۷-حضور اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کے دن(۱۷ ربیع الاول) ۸-روز مبعث (۲۷ رجب)

۹-دحو الارض کے دن(۲۵ ذیقعدہ) ۱۰-اول ذی الحجہ سے ۹ ذی الحجہ

۱۱-مباہلہ کے دن روزہ(۲۴ ذی الحجہ) ۱۲-عرفہ کے دن ،اگر کمزوری کا سبب نہ ہو

۳-باب زکات

سوال نمبر ۱: زکوۃ کی اہمیت و فضیلت کو بیان کریں؟

جواب: دین اسلام میں اہم ترین فریضہ، زکوۃ دینا ہے۔قرآن پاک کی آیات اور معصومین کی روا یات میں بہت زیادہ زکوۃ کی اہمیت و فضیلت کو بیان کیا گیا اور زکوۃ ادا کی تاکید کی گئی ہے ۔ قرآن میں بار بار نماز کے ساتھ زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔نماز قائم کرنے و زکوۃ ادا کرنے والوں کے لئے پروردگار نے عظیم اجر و پاداش کا وعدہ کیا ہے۔ جیساکہ سورہ مزمل کی تئیویں آیت میں رب العزت نے مؤمنین کو حکم دیا ہے۔ نماز قائم کرو ، زکات ادا کرو اور ضرورتمندوں کو قرض دیا کرو ۔ اور جو اپنی آخرت کے لئےتم نیکی کرتے ہو ان کے لئے اللہ کے ہاں عظیم اجر وثواب ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۔ (سور ہ مزمل ، آیت ۲۰)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نماز کے ساتھ ، زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ لہذا صرف نماز پڑھنا کافی نہیں ہے بلکہ نماز کے ساتھ زکوۃ کا ادا کرنا بھی جڑوری ہے۔

روایات میں آیا ہے : زکات کا ادا کرنا مال کو محفوظ اور پاک کرتا ہے اور مومن کو دنیا و آخرت کی پریشانیوں اور مشکلات سے نجات بھی دیتاہے۔

زکوۃ کتنی چیزوں پر واجب

سوال نمبر ۲: زکوۃ کتنی چیزوں پر واجب ہے؟

جواب: زکوۃ دس چیزوں پر واجب ہے۔

۱-گندم ۲-جو ۳-کھجور ۴-کشمش ۵-سونا

۶-چاندی ۷-اونٹ ۸-گائے ۹،۱۰-بھیڑ،بکری

سوال ۳: زکات کو کہاں خرچ کیا جاتا ہے؟

جواب : زکات آٹھ جگہوں پر خرچ کی جاتی ہے:

۱-فقیروں پر ۲-مسکینوں پر

۳-زکات جمع کرنے والوں پر ۴-دین اسلام کی طرف لوگوں کو دعوت دینے کیلئے

۵-غلاموں کی آزادی کیلئے ۶-ادائیگی قرض کیلئے

۷-اللہ کی راہ میں ۸-وہ مسافر جس کے پاس زادراہ نہ ہو

سوال۴: کیا قرآن پاک میں زکات خرچ کرنے کے موارد بیان ہوئے ہیں؟

جواب: جی ہاں، قرآن نے جہاں زکات ادا کرنے کی بہت تاکید کی ہے وہاں زکات کو خرچ کرنے کے موارد کو بھی سورہ توبہ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۔ (سور ہ توب ہ ،آیت۶۰)

یہ صدقات(زکات) تو صرف فقیروں، مساکین اور صدقات کے کام کرنے والوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کی تالیف قلب مقصود ہو اور غلاموں کی آزادی اور قرضداروں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے ہیں، یہ اللہ کی طرف سے ایک مقرر حکم ہے اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔

زکات فطرہ

سوال۵: زکات فطرہ کسے کہا جاتاہے؟

جواب: عید فطر پر ،ہر شخص پر فطرے کا ادا کرنا واجب ہے۔ اس زکات کو زکات فطرہ کہا جاتاہے جوکہ ہر فرد پر تین کلو گندم ، جو ،خرما یا وہ چیز جو کھانے میں زیادہ استعمال کرتے ہیں یا اس چیز کی قیمت ادا کی جائے۔ اور فطرہ ، تمام افراد پر واجب ہے اگرچہ چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔

۱۸

۴-باب خمس

خمس کی اہمیت

سوال: خمس کی اہمیت و فضیلت کو بیان کریں؟

جواب : دینی واجبات اور فرائض میں س ے ایک ا ہ م ترین فریض ہ ، خمس کا ادا کرنا ہے۔ الل ہ تعالیٰ ن ے قرآن حکیم میں خمس کی ا ہ میت و ضرورت کو بیان کرت ے ہ یں:

وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۔۔۔(انفال ۴۱)

اور جان لو کہ جو غنیمت تم نے حاصل کی ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول اور قریب ترین رشتے داروں اور یتیموں اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کے تمام مومنین کو مال کے پانچویں حصے پر خمس ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔آیات و روایات میں خمس ادا کرنے کی بہت تاکید و سفارش کی گئی ہے۔ خمس کا ادا کرنا ، گناہوں کی مغفرت،مال و رزق میں وسعت و فراوانی،آل محمد کی شفاعت کا حصول اور خدا کی رضا و خوشنودی اور آخرت میں نجات و جنت کا اہم ترین ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ انسان جو کچھ کماتاہے ، سال بھر خرچ کرنے کے بعد مال جو مقدار بچ چائے ، اس کا پانچواں حصہ ، خمس کے طور پر ادا کرنا ضروری ہے۔ اس پانچویں حصے کو خمس کہا جاتا ہے۔

۱۹

خمس کے حصے

سوال: خمس کتنے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے؟

جواب: خمس دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا:

ایک حصہ سادات کا ہے جو کسی فقیر یا یتیم سید کو دیں جو ضرورتمند اور مستحق ہو۔ اس حصے کو مال سادات کہا جاتا ہے۔

دوسرا حصہ امام علیہ السلام کا ہے جو موجودہ زمانہ میں کسی جامع الشرائط مجتہد کو دیا جائے یا ایسے کاموں میں خرچ کیا جائے جس کی مجتہدین اجازت دیں۔ اس حصے کو مال امام کہا جاتا ہے۔

موارد خمس

سوال۳: خمس کے موارد بیان کریں ؟

جواب: خمس سات چیزوں پر واجب ہے:

۱-معدنیات پر ۲-خزانے پر۳-وہ جواہرات جو غوطہ لگا کر حاصل کیا جائے ۴-حلال مال کا حرام میں مخلوط ہونا۵-مال غنیمت ۶-اس زمین پر جو کافر ذمی، مسلمان سے خریدے۷-سال بھر کے اخراجات سے جو مال بچ جائے(مکاسب )ان سات موارد میں خمس کا ادا کرنا واجب ہے۔ جن کی تفصیلات فقہی کتابوں میں موجود ہے۔

۵-باب حج

سوال۱: حج کی اہمیت و فضیلت بیان کریں ؟

جواب: دین اسلام کے اہم ترین و عظیم ترین عبادات میں سے ایک فریضہ حج ہے۔ اللہ تعالیٰ ٰ نے حج کی اہمیت اور فضیلت کو بیان کرتے ہوئے کائنات کے تمام انسانوں کو حج بجا لانے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ(آل عمران-۹۷)

اور لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ جو اس گھر تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس گھر کا حج کرے اور جو کوئی اس سے انکار کرتا ہے تو (اس کا اپنا نقصان ہے) اللہ تو عالمین سے بے نیاز ہے

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر حج بجالانے کا حکم دیا ہے۔

اور حج کو ترک کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ روایات میں بھی حج کی فضیلت و اہمیت کو بیان کیا گیاہے۔ حج واجب ہونے کے بعد اس اہم ترین فریضے کے ترک کرنے والوں کو یہودی و نصرانی قرار دیا گیا ہے۔ جس سال حج واجب ہوا ہو اسی سال حج کا انجام دینا ضروری ہے۔

جیساکہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے:

من سوّف الحج حتی یموت بعثه الله یوم القیامة یهودیا او نصرانیا ۔ ( بحار الانوار ،ج۷۴، ص۴۶)

جو شخص حج میں تاخیر کرے یہاں تک کہ وہ مر جائے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن یہودی یا عیسائی اٹھائے گا۔

حج کے فوائد

سوال ۲: حج کے فوائد اور برکات کو روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: فریضہ حج میں بے شمار فوائد و برکات پوشیدہ ہیں ۔ انہی عظیم فوائد و برکات کو پانے کے لئے دنیا و آخرت کی سعادت اور کامیابی کے حصول کے لئے حج کو واجب قرار دیا گیا ہے۔ حج میں دنیوی اور اخروی عظیم فوائد پوشیدہ ہیں ۔ جن میں سے بعض کی طرف روایات میں اشارہ کیا گیا ہے۔ حج گناہوں کی مغفرت ، رزق و مال کی فراوانی ، جسمانی صحت و سلامتی اور بہت سارے تجربات و معلومات اور خدا کی رضا و خوشنودی کا باعث ہے۔ انہی فوائد و برکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت امام سجاد ؑ نے فرمایا:

حُجُّوا وَ اِعْتَمِرُوا تَصِحَّ أَجْسَامُكُمْ وَ تَتَّسِعْ أَرْزَاقُكُمْ وَ يَصْلُحْ إِيمَانُكُمْ وَ تُكْفَوْا مَئُونَةَ اَلنَّاسِ وَ مَئُونَةَ عِيَالِكُمْ

(بحار الأنوار،جلد۵۹، ص-۲۶۷)

حج اور عمرہ بجا لایا کرو تاکہ تمہیں جسمانی صحت و سلامتی حاصل ہو ، مال و دولت کی فراونی، تمہارے ایمان محکم و مضبوط ہوں اور لوگوں کا قرض اور گھر والوں کی ضروریات پوری ہوں۔

اسی طرح حضرت امام باقر ؑ نے حج کو تمام پریشانیوں ، مشکلات سے نجات قرار دیتے ہوے فرمایا : حج دلوں کا سکون اور زندگی میں راحت و خوشی کا باعث ہے۔اَلْحَجُّ تَسْكِينُ اَلْقُلُوبِ۔

اسی طرح حضرت امام صادق ؑ نے دنیوی کامیابی کے ساتھ ساتھ ، حج کو آخرت میں نجات و کامیابی کا باعث قرار دیتے ہوئے فرمایا:

عَلَيْكُمْ بِحَجِّ هَذَا اَلْبَيْتِ فَأَدْمِنُوهُ فَإِنَّ فِي إِدْمَانِكُمُ اَلْحَجَّ دَفْعَ مَكَارِهِ اَلدُّنْيَا عَنْكُمْ وَ أَهْوَالِ يَوْمِ اَلْقِيَامَةِ

(امالى، شیخ طوسى، ص ۲۹۶، ح ۵۸۲)

حج بیت اللہ کو انجام دینا تم لوگوں پر ضروری ہے ، مسلسل حج کا فریضہ انجام دیا کرو اس لئے کہ یقینا حج کا مسلسل انجام دینا ، دنیا و آ خرت کی کامیابی کا باعث ہے۔اور بھی بہت سارے عظیم فوائد حج میں پوشیدہ ہیں ۔ ہم نے معصومین کے فرامین کی روشنی میں چند ایک فوائد کو بیان کیا ہے۔

حج کے بقیہ احکام

سوال۳: حج کس مہینے میں بجا لایا جاتا ہے ؟

جواب: حج کی مخصو ص عبادت ، ذی الحج کے مہینے میں نو سےبارہ ذی الحج تک ادا کی جا تی ہے۔اس عبادت کے لئے دنیا بھر کے مسلما ن ایک ہی مرکز یعنی خانہ کعبہ کے گرد جمع ہوتے ہیں ۔ اس میں امیر و غریب سب حج کو انجام دیتے ہیں ۔ سب کے سب ایک ہی لبا س میں ، ایک ہی لگن کے ساتھ ، منی، عرفات کے میدانوں میں جمع ہو کر اللہ کے حضور اس عبادت کو انجام دیتے ہیں اور اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور گڑ گڑاتے ہوئے بارگاہ الہی میں دعائیں کرتے ہیں اور عید کے دن ، شیطان سے نفرت و دوری کا اظہار کرتے ہوئے شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہیں اور پھر میدان منیٰ میں قربانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔

سوال۴: حج ، زندگی میں کتنی مرتبہ واجب ہے؟

جواب: حج ، زندگی میں ایک مرتبہ واجب ہے ، اس کے علاوہ مستحب ہے۔

سوال ۵: حج کے واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟

جواب: حج واجب ہونے کی بہت ساری شرائط ہیں ۔ ان میں سے درج ذیل ہیں:

بالغ ہونا عاقل ہونا راستے کا پر امن ہونا مالی استطاعت کا ہونا

۲۰