آسان شارٹ کورس

آسان شارٹ کورس0%

آسان شارٹ کورس مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 47

آسان شارٹ کورس

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: حجت الاسلام شیخ یوسف عابدی
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 47
مشاہدے: 186
ڈاؤنلوڈ: 6

تبصرے:

آسان شارٹ کورس
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 47 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 186 / ڈاؤنلوڈ: 6
سائز سائز سائز
آسان شارٹ کورس

آسان شارٹ کورس

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۶-با ب الجہاد

سوال۱: جہاد کسے کہا جاتا ہے؟

جواب: دین کے استحکام اور مضبوطی کے لئے اور دین اسلام کو دشمنوں کے شر اور حملوں سے بچانے کے لئے جو جنگ کی جاتی ہے اس دفاعی سسٹم کا نام جہاد ہے۔ دین اسلام کے واجبات میں سے ایک اہم ترین فریضہ جہاد کرنا ہے اور جہاد کے بغیر نہ دین محفوظ ر ہتا ہے اور نہ ہی دین میں ترقی اور پیشرفت ہوتی ہے ۔

جہاد کی اہمیت و فضیلت

سوال۲: جہاد کی اہمیت و فضیلت کو بیان کریں ؟

جواب: دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کرنا ، دین کی حفاظت کرنا ایسا عظیم فریضہ ہے جس کے لئے قرآن میں باربار تاکید کی گئی ہے اور متعدد آیات میں مسلمانوں کو ضرورت کے وقت جہاد کا حکم کا دیا گیا ہے۔ جیساکہ رب العزت کا اعلان ہے: اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا اس (کی راہ) میں جہاد کرنے کا حق ہے

" وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِه

اور اللہ نے ایمان لانے کے بعد اللہ کی راہ میں جان ومال کے ذریعے سے جہاد کرنے والوں کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی خوشخبری دی ہے۔ جیساکہ سورہ توبہ میں ارشاد رب العزت ہے۔

الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ

جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے اموال سے اور اپنی جانوں سے راہ خدا میں جہاد کیا وہ اللہ کے نزدیک نہایت عظیم درجہ رکھتے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہیں ۔

اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہےکہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، عزت و سر بلندی اورد ین اسلام کے استحکام و مضبوطی اور دنیا و آخرت کی کامیابی وسعادت کی ضمانت ہے ۔

سوال۳: جہاد کی کتنی قسمیں ہیں؟

جواب: آیات و روایات میں جہاد کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں :

۱- دین کی حفاظت کے لئے ، دین کو پھیلانے کے لئے دشمنان خدا کے خلاف لڑائی کرنا

۲- اپنے آپ کو گناہوں سے برائیوں سے اور شیطان کے شر سے محفوظ کرنا ، گناہ کے خلاف جہا د کرنا بھی نہ صرف جہاد کا درجہ رکھتا ہے بلکہ اس جہاد کو سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہاد اکبر قرار دیا ہے۔جیساکہ روایات میں آیا ہے سرور کائنات اصحاب کے ساتھ ، جہاد سے پلٹ رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا: مر حبا ہو اس قوم پر جنہوں نے جہاد اصغرانجام دیا ہے لیکن ابھی جہاد اکبر باقی ہے۔ اصحاب نے گھبرا کے پوچھا اے اللہ کے رسول ! وہ بڑی جنگ و جہاد اکبر فرما رہے ہیں وہ کونسا جہاد ہے؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: نفس کے خلاف جہاد کرنا اور اپنے آپ کو گناہوں ، برائیوں سے ہمیشہ محفوظ رکھنا یہ جہا د اکبر ہے۔

عن الإمامِ عليٍّ عليه السلام:إنَّ رسولَ اللّه ِ صلى الله عليه و آله بَعثَ سَرِيّةً ، فلَمّا رَجَعوا قالَ: مَرْحَبا بقَومٍ قَضَوُا الجِهادَ الأصْغَرَ و بَقِيَ علَيهِمُ الجِهادُ الأكْبَرُ قيلَ: يا رسولَ اللّه ِ ، و ما الجِهادُ الأكْبَرُ ؟ قالَ: جِهادُ النَّفْس و قالَ عليه السلام : أفْضَلُ الجِهادِ مَن جَاهَدَ نَفْسَهُ الّتي بينَ جَنْبَيهِ

۲۱

۷-۸-با ب امر بالمعروف و نہی از منکر

۷،۸ با ب امر بالمعروف و نہی از منکر

سوال۱: امر بالمعروف اور نہی از منکر کسے کہتے ہیں ؟

جواب : دین کے اہم ترین ، فرائض و واجبات میں سے ایک امر بالمعروف اور نہی از منکر ہیں ۔

امر بالمعروف کا معنی یہ ہے کہ ہر مومن ، خود واجبات کو انجام دے اور تمام نیکیوں کو پسندیدہ کاموں کو انجام دے اور پھر دوسروں کو دی کی طرف اور واجبات ، نیک کاموں کی کی جانب دعوت دے ۔ اس کام کو انجام دینے کا نام دینی اصطلاح میں " امر بالمعروف ہے۔

اسی طرح ہر مومن پر واجب ہے تمام گناہوں ا ور برائیوں سے اجتناب کرے ۔ پھر جو لوگ گناہوں برائیوں میں مبتلا ہیں ان کو گناہوں اور برائیوں سے منع کرے۔ اس فریضے کا نام آیات و روایات میں " نہی از منکر " ہے۔

امر بالمعروف و نہی از منکر کی اہمیت و فضیلت

سوال۲: امر بالمعروف اور نہی از منکر کی ا ہمیت و فضیلت کو بیان کریں ؟

جواب : لوگوں کو دین کی طرف دعوت دینا ، گناہوں اور برائیوں سے روکنا اہم ترین فرائض میں شامل ہے۔

امر بالمعروف اور نہی ازمنکر اس قدر اہمیت کے حامل ہیں ۔ معصوم نے فرمایا: اگر یہ فریضہ قائم ہوجائے اور لوگ امربالمعروف کو انجام دیں تو دین کے تمام فرا ئض قا ئم ہو جائیں گے۔ لیکن یہ فریضہ اگر ترک کیا جائے تو دین کے آثار مٹ جائیں گے۔

امر بالمعروف ، عبادات میں سے سب سے افضل ترین عبادت ہے ۔ جیساکہ مولائےئے کائنات کا فرمان ہے:

الأمرُ بِالمَعروفِ أفضَلُ أعمالِ الخَلقِ ۔

قرآن پاک میں تمام مومنین پر امر بالمعروف کو واجب قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم میں سے ایک گروہ ایسا ہو جو لوگوں کو نیکیوں اور واجبات کی طرف دعوت دے۔ اور لوگوں کو تمام برائیوں اور گناہوں سے روکے۔ یہی لوگ دنیا وآخرت دونوں میں سعادت اور کامیابیو ں کو پا نے والے ہیں ۔

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

اور تم میں ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت اور بھلائی کا حکم دے اور برائیوں سے روکے اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام مومنین پر لوگوں کو دین کی طرف دعوت دینا اور دین کو پھیلانا ، برائیوں سے روکنا اور تمام گناہوں کا سد باب کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ اور اس کام کو انجام دینے والوں کے لئے دنیا و آخرت دونوں میں نجات و کامیابی کی خوشخبری دی ہے۔

سوال۳: امر بالمعروف کو تر ک کرنے کا انجام کیا ہے؟

جواب: امربالمعروف کا فریضہ ترک کیا جائے اور لوگوں کو برائیوں اور گناہوں سے نہ روکا جائے تو معاشرہ ، فساد کا گڑ بن جائے گا اور بہت جلد تباہی و بربادی کے دہانے پے پہنچ جائے گا اور پھر معاشرے میں کوئی انسان برائیوں اور گناہوں سے بچ نہ سکے گے۔ امر بالمعروف کو ترک کرنے کا انجام نہ فقط دنیوی تباہی ہے بلکہ ایسے لوگوں کی دنیا و آخرت دونوں برباد ہو جاتے ہیں اور عذاب الہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔

مولائے کائنات ؑ نے امر بالمعروف کو تر ک کرنے کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا : تم لوگ امر بالمعروف کے فریضے کو ضرورانجام دو اور لوگوں کو برائیوں سے روکو وگرنہ معاشرہ تباہ ہوجائے گا اور ظالم لوگ تم پر مسلط ہوجائیں گے اور پھر تمہاری دعاؤں کو بھی خدا ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ تم لوگوں کا مدد کرنے والا نہ زمین ہوگا نہ آسمان میں ۔

لَا تَتْرُکوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ النَّهْی عَنِ الْمُنْکرِ فَیوَلَّی عَلَیکمْ شِرَارُکمْ ثُمَّ تَدْعُونَ فَلَا یسْتَجَابُ لَکمْ

۲۲

۹،۱۰-باب تولاّ اور تبرّا

سوال۱: تولا اور تبرا سے کیا مراد ہے؟

جواب: وہ کلمات جن کے ادا کرنے سے ایک شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے، ان کلمات کو "شہادتیں" کہتے ہیں۔ یہ دوحصوں پر مشتمل ہیں، ان کا ایک حصہ دوسرے کے بغیر نامکمل اور ناتمام ہے۔ پہلا حصہ برائت پر مشتمل ہے جو"لا إله " یعنی کوئی معبود نہیں، جبکہ دوسرا " ولآیت ، محبت اور اقرار پر مشتمل ہے وہ ہے "إلا الله" یعنی "خدا کے سوا کوئی معبود نہیں" جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دین اسلام اس فلسفے پر قائم ہے، کہ خدا اور اس کے ولیوں کے ساتھ رہنا اور ان کے دشمنوں سے برائت کرنا ہے۔ پس محبت کی دیوار کو قائم کرنے کے لئے سب سے پہلے غیر مربوط چیزوں کو منہدم کرنےکی ضرورت ہے۔ جس طرح یہاں "لاالہ" سے تمام معبودوں کی نفی کردی پھر الا اللہ کے اقرار سے توحید کی بنیاد ڈالی گئی ہے۔

پس ولایت یا سرپرستی کا مطلب دل میں خدا اور اولیاء اللہ سے محبت اور عملی طور پر اس کا اظہار کرنا ہے، جبکہ تبریٰ کا مطلب دل اور عمل سے خدا اور اولیائے خدا کے دشمنوں سے دوری اختیار کرنا ہے۔

یہاں پر ایک اور خاص معنی بھی ہے وہ یہ ہے کہ تولا و تبریٰ سے مراد: اہل بیت علیھم السلام کی ولایت کا اقرار اور ان کے دشمنوں سے اظہار لاتعلقی اور برائت کرنا۔ جیساکہ چوتھی صدی ہجری کے مشہور شیعہ عالم شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب " الاعتقادات في دين الإمامية" میں اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "اللہ ، رسول اور ائمہ طاہرین کا اقرار اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا ہے جب تک ان کے دشمنوں سے برائت نہ کرے"

تولا و تبرا ، فروعات دین میں سےہیں اور تولا کا مطلب ہے ، خدا کے دوستوں کو دوست رکھنا اور تبرا کا مطلب ہے ، خدا کے دشمنوں کو دشمن رکھنا ۔ تولا اور تبرا کا ، اسلامی معاشرے اور حکومت اسلامی اور تمام مسلمانوں کی حقیقی زندگی میں بہت مؤثر کردار ہے۔

سوال۲: اہل بیت ؑ سے محبت اور ان کے دشمنوں سے برائت کی ضرورت کو بیان کریں؟

جواب: اہل بیت ؑ کی معرفت و محبت اور اطاعت ، دین کی اساس و بنیاد ہے۔جب تک اہل بیت ؑ سے محبت نہ ہو اور ان کی معرفت کے ساتھ اطاعت نہ کریں کوئی بھی شخص مومن نہیں ن سکتا ۔ایمان کی روح اور اسلام کی جان ، اہل بیت ؑ کی محبت اور امامت ہے ۔ جتنی اہل بیت سے محبت ہو اور ان کی اطاعت میں زندگی گزاری جائے تو انسان دنیا میں بھی کامیابی و خوشبختی کو پا لیتا ہے اور تمام کامیابیوں کا دارو مدار، اہل بیت ؑ کی محبت پر موقوف ہے۔

سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: جو شخص، علم و حکمت کا طلبگار ہے وہ میری اہل بیت سے محبت کرے۔ جو شخص خدا کی معرفت اور اس پر بھروسہ چاہتا ہے وہ بھی میری اہل بیت ؑ سے محبت کرے۔ جو قبر کے عذاب سے محفوظ رہنا چاہتا ہے وہ بھی میرے اہل بیت سے محبت کرے۔ جو شخص چاہتا ہے کہ وہ حساب و کتاب کے بغیر جنت میں چلا جائے اسے چاہیے وہ میرے اہل بیت سے محبت کرے۔ پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محبت اہل بیت ؑ کی اہمیت و ضرورت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: قسم بخدا کوئی بھی شخص میرے اہل بیت سے محبت نہیں کرے گا مگر وہ دنیا میں بھی کامیاب ہو گا اور آخرت میں بھی ۔

عن رسول اللّه صلي الله عليه و آله : مَن أرادَ التَّوَكُّلَ عَلَى اللّه ِ فَليُحِبَّ أهلَ بَيتي ، ومَن أرادَ أن يَنجُوَ مِن عَذابِ القَبرِ فَليُحِبَّ أهلَ بَيتي ، ومَن أرادَ الحِكمَةَ فَليُحِبَّ أهلَ بَيتي ، ومَن أرادَ دُخولَ الجَنَّةِ بِغَيرِ حِسابٍ فَليُحِبَّ أهلَ بَيتي ، فَوَاللّه ِ ما أحَبَّهُم أحَدٌ إلاّ رَبِحَ الدُّنيا وَالآخِرَةَ ۔

اس روایت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اہل بیت ؑ کی محبت کے بغیر نہ دنیا میں کامیابی ممکن ہے نہ آخرت میں،جو دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہونا چاہتا ہے اسے در اہل بیت ؑ پے آنا ہوگا اور انا سے سچی محبت اور ان کی اطاعت کا نا ہوگی۔

ایک دوسری روایت میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام امت پر محبت اہل بیت ؑ کو لازم وضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا:

عَنِ اَلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ : اِلْزَمُوا مَوَدَّتَنَا أَهْلَ اَلْبَيْتِ ، فَإِنَّهُ مَنْ لَقِيَ اَللَّهَ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ وَ هُوَ يَوَدُّنَا دَخَلَ اَلْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِنَا. [وَ اَلَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يَنْتَفِعُ عَبْدٌ بِعَمَلِهِ إِلاَّ بِمَعْرِفَتِهِ بِحَقِّنَا] ۔

میرے اہل بیت ؑ کی محبت اور مودت کو اپنے لئے ضروری قرار دو ۔ اس لئے کہ جو شخص قیامت کے دن بارگاہ الہی میں میرے اہل بیت ؑ کے محبت کو اپنے دل میں لے کے آئے وہ یقینا اہل بہشت ہے۔ اور ہم اہل کی شفاعت ان کو نصیب ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کسی بھی شخص کو اس کے عمل کا فائد ہ نہیں ہوگا جب تک اس کے دل میں ہم آل محمد کی معرفت اور محبت کا نور نہ ہو ۔

جہاں محبت اہل بیت ؑ ضروری ہے اور اس کے بغیر نجات ممکن نہیں ، وہاں اہل بیت ؑ کے دشمنوں سے برائت اور دوری اور ان کے کردار، برے افکار سے بیزاری بھی ضروری ہے۔

روایات اہل بیتؑ میں جس قدر اہل بیت ؑ کی محبت و مودت کی تاکید کی گئی ہے اسی انداز سے اہل بیت ؑ کے دشمنوں سے بیزاری کا حکم بھی دیا گیا ہے۔جیساکہ حضرت امام صادق ؑ کا فرمان ہے : کسی نے امام صادق ؑ سے عرض کیا : فلاں شخص آپ لوگو ں سے محبت کرتا ہے اور آپ اہل بیت ؑ کی ولایت کا بھی دم بھرتا ہے لیکن آپ کے دشمنوں سے برائت و بیزاری اختیار نہیں کرتا ۔ امام ؑ نے فرمایا: وہ محبت اہل بیت سے بہت دور ہے ، جھوٹ بولتا ہے وہ جو برائت کے بغیر محبت اہل بیت ؑ کا دعویٰ کرتا ہے۔ محبت اہل بیت ؑکے ساتھ، اہل بیت ؑ کے دشمنوں سے برائت بھی ضروری ہے۔

وقيل للصادق عليه السلام: أنّ فُلاناً يواليكم، إلّا أنّه يضعف عن البراءة من عدوكم، قال: هيهات، كذب من ادّعى محبّتنا ولم يتبرّأ من عدوّنا.قال الصادق (ع): كذب من ادّعى محبّتنا ولم يتبرّأ من عدوّنا ۔

جناب ابن ادریس نے ، اپنی معروف "کتاب المستطرافات" میں اپنے اساتذہ سے اس حقیقت کو نقل کیا ہے۔ ولآیت و محبت اہل بیت ؑ ، ممکن نہیں ہے جب تک ان کے دشمنوں سے برائت اختیار نہ کریں ۔ جس طرح قرآن حکیم میں ارشاد ہوا : وہ شخص ہرگز مومن نہیں ہے جو خدا و آخرت پر ایمان لائے لیکن اللہ اور رسول کے دشمنوں سے برائت و بیزاری اختیار نہ کرے۔اگرچہ یہ دشمن خدا و دشمن رسول ، ان کے عزیز و اقارب ، آباؤ اجداد ہی کیو ں نہ ہوں۔

اس آیت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے ۔ جب خدا ، رسول، آئمہ اور آخرت پر ایمان لائے تو ان کے دشمنوں سے برائت و دشمنی ضروری ہے وگرنہ ایمان کا دعوی ی جھوٹا ہے۔

ثم قال الصفواني: واعلم يا بنيّ، أنّه لا تتمّ الولاية، ولا تخلص المحبّة، وتُثبّت المودّة، لآل محمّد صلّى الله عليه وآله إلّا بالبراءة من عدوّهم، قريباً كان منك أو بعيداً، فلا تأخذك به رأفة، فإنّ الله عزّ وجل يقول :لا تجد قوما يؤمنون بالله واليوم الآخر يوادون من حاد الله ورسوله ولو كانوا آبائهم أو أبنائهم أو إخوانهم أو عشيرتهم.

اسی لئے حضرت امام رضا ؑ نے محبت اہل بیت ؑ کے ساتھ ساتھ ، دشمنان اہل بیت ؑ سے برائت کو ضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا: دین کا کمال ،اہل بیت ؑ کی ولآیت و محبت اور ان کے دشمنوں سے دوری اختیار کرنا ہے۔

عن الرضا عليه السلام أنه قال: كمال الدّين ولايتنا والبراءة من عدونا.

خدا سے تقرب ، رضا اور خوشنودی کا حصول قطعا ممکن نہیں ہے جب تک اہل بیت ؑ سے محبت اور دشمنوں سے نفرت و و برائت کا اظہار نہ کرے ۔ زیارت عاشورا اور دیگر زیارتوں میں تولا اور تبرا کو ضروری قرار دیتے ہوئے یہ جملے باربار تکرار ہوئے ہیں ۔ میں خدا سے تقرب حاصل کرتا ہوں آپ اہل بیت ؑ کی ولآیت اور آپ کے دشمنوں سے برائت کے ذریعے سے، جن لوگوں نے آپ اہل بیت ؑ سے جنگ کی ، میری ان سے جنگ ہے اور ان کے پیروکاروں اور ان کے ماننے والوں سے نفرت و برائت کرتا ہوں ۔

وَ أَتَقَرَّبُ إِلَی اللَّهِ ثُمَّ إِلَیْکُمْ بِمُوَالَاتِکُمْ وَ مُوَالَاةِ وَلِیِّکُمْ وَ بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَعْدَائِکُمْ وَ النَّاصِبِینَ لَکُمُ الْحَرْبَ وَ بِالْبَرَاءَةِ مِنْ أَشْیَاعِهِمْ وَ أَتْبَاعِهِمْ؛

۲۳

نتیجہ

سوال ۳: تولا اور تبرا کا خلاصہ بیان کریں ؟

جواب : نتیجہ یہ ہے کہ تمام انسانوں کی دنیا و آخرت کی کامیابی، دونوں جہانوں میں سعادت و خوشبختی، خدا کا تقرب ، خوشنودی اور کمال دین و ایمان کے لئے ، بلندترین درجات کو پانے کے لئے ، جنت میں آل محمد ؑ کی رفاقت و شفاعت حاصل کرنے کے لئے، اہل بیت ؑ کی معرفت ، محبت اور اطاعت نہایت ضروری ہے اور محبت کے ساتھ ساتھ ان کے دشمنوں سے برائت اور بیزاری بھی ضروری ہے۔ اہل بیت ؑ سے محبت اور ان کے دشمنوں سے نفرت اس قدر لازم اور ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہر انسان بے دین ، بے ایمان ہے اس لئے کہ اسلام کی بنیاد و اساس، دین و ایمان کی بنیاد و اساس ، اہل بیت ؑ سے محبت اور ان کے دشمنوں سے محبت ہے۔ جیساکہ سرور کائنات کا فرمان ہے: ہر شئی کی ایک اساس و بنیاد ہوتی ہے ، دین اسلام کی اسا س و بنیاد ہم اہل بیت ؑ کی محبت و مودت ہے ۔

لِکلِّ شَیءٍ أساسٌ، وَ أساسُ الإسلامِ حُبُّنا أهلَ البَیتِ.

۲۴

باب چہارم : آداب زندگی

کھانا ،کھانے کے آداب

سوال : کھانا ،کھانے کے آداب بیان کریں؟

جواب: کھانا ،کھانے کے آداب میں چند چیزیں مستحب ہیں۔

۱-کھانا ،کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا ۷-کھانا، کھانے کے بعد نمک کا چکھنا

۲-کھانا ،کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا ۸-اشتہاء اور خواہش سے کم کھانا

۳-کھانا ،دائیں ہاتھ سے کھانا ۹-اپنے سامنے رکھے ہوئے کھانے سے کھانا

۴-کھانا ،خوب اچھے طرح چبانا ۱۰-چھوٹے چھوٹے لقمے لینا

۵-کھانا ،کھا لینے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا

۱۱-کھانا، کھانے کے بعد صاحب خانہ کے لئے دعا کرنا اور مرحومین کے لئے فاتحہ پڑھنا

۶-کھانا، کھانے کے بعد الحمد للہ کہنا ۱۲-کھانےنے کے دوران باتیں اور دوسروں کی طرف نگاہ نہ کرنا

سوال : کھانا ،کھاتے وقت کن باتوں کی ممانعت ہے؟

۱- بہت زیادہ کھانا ۲- گرم کھانا ،کھانا ۳- روٹی کو چھری سے کاٹنا

۴-مرغن غذا نہ کھائیں ۵-کھانے کے دوران ،پانی نہ پینا ۶-جلدی جلدی کھانا نہ کھائیں

پانی پینے کے آداب

سوال: پانی پینے کے آداب بیان کریں؟

جواب: پانی پینے کے آداب درج ذیل ہیں:

۱-پانی چوسنے کی طرز سے پینا ،گھونٹ گھونٹ کرکے پینا ۲-پانی پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا

۳-پانی پینے کے بعد الحمدللہ پڑھنا ۴-پانی تین سانسوں میں پینا

۵-پانی خواہش کے مطابق پینا ۶- رات میں بیٹھ کر اور دن میں کھڑے ہو کر پانی پینا

۷-پانی پینے کے بعد حضرت امام حسین ؑ اور ان کے آل و اصحاب کو یاد کرنا اور ان کے قاتلوں پر لعنت کرنا

سوال :پانی پیتے وقت کن کاموں کی ممانعت ہے؟

۱- زیادہ پانی پینا ۲-مرغن کھانے کے بعد پانی پینا ۳-بائیں ہاتھ سے پانی پینا

سونے کے آداب

سوال :سونے کے آداب بیان کریں؟

جواب: سونے کے بارہ آداب ہیں۔

۱- سونے سے پہلے وضو کرنا ۲-مسواک کرنا

۳-کلمہ پڑھنا ۴-صلوات پڑھنا

۵-آیت الکرسی پڑھنا ۶- ایک بار سورہ حمد ، تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھنا

۷-تسبحات اربعہ کا پڑھنا ۸-سورہ واقعہ کی تلاوت کرنا

۹- قبلہ رُخ سونا ۱۰-دائیں کروٹ سونا

۱۱۔ تمام مرحومین کی مغفرت کے لئے دعا کرنا

یعنی اللہم اغفر للمومنین و المومنات پڑھنا ۱۲- سونے سے پہلے توبہ واستغفار کرنا

۲۵

سماجی ومعاشرتی آداب

سوال : آداب اجتماعی کو بیان کریں؟

جواب: معاشرے میں جن چیز وں کا خیال رکھنا اور ان کو انجام دینا ضروری ہے ان کو آداب اجتماعی اور معاشرتی آداب کہا جاتا ہےجوکہ درج ذیل ہیں :

۱-سلام کرنا ۲-دسروں کا احترام کرنا

۳- بیماروں کی عیادت کرنا ۴-دوسروں کی خوشی میں شریک ہونا

۵- اجتماعی اور دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ۶- یتیموں کی سر پرستی کرنا اور غریبوں کی مدد کرنا

۷- دوسروں کے غم میں شریک ہونا ۸-صفائی وستھرائی کا خیال رکھنا

۹- ہمیشہ لوگوں کو فائدہ پہنچانا ۱۰-نقصان و شر سے لوگوں کو بچانا،

۱۱-دوسروں کے بارے میں اچھی فکر رکھنا ۱۲-دوسروں سے حسد اور بد گمانی سے پرہیز کرنا

سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :میری امت میں سے بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور اس کے شر سے محفوظ ہوں ۔

۲۶

سلام کرنے کی اہمیت وفضیلت

سوال نمبر ۷- سلام کرنے کی اہمیت اور فضیلت بیان کریں؟

جواب: دین اسلام میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کی بہت زیادہ فضیلت و ثواب ہے اور گفتگو سے پہلے ایک دوسرے کو سلام کرناچاہیے۔ حضرت امام حسین سے منقول ہے کہ سلام کا ثواب ستر نیکیوں پر مشتمل ہے ، جس میں سے انہتر نیکیاں سلام کرنے والے کو ملتی ہیں اور ایک نیکی جواب دینے والے کو ملتی ہے ۔ سلام کرنا، دین اسلام کے اہم ترین آداب و عبادات میں شامل ہے۔ سلام کرنا ، تمام انبیاء کی سنت اور آئمہ طاہرین کی سیرت ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کو سلام کرتے تھے یہاں تک کہ بچوں کو بھی سلام کرتے تھے تاکہ آپ کے بعد پوری امت اس سنت پر عمل کرے۔

سلام کرنے کے آداب

سوال نمبر۸- سلام کرنے کے آداب بیان کریں؟

جواب: حدیث میں ہے کہ جب تم آپس میں ایک دوسرے سے ملاقات کرو تو سلام اور مصافحہ کرو اور جب جدا ہوتو ایک دوسرے کے لئے استغفار کرو اورچھوٹے ، بڑوں کو سلام ، کھڑا ہوا ، بیٹھے ہوئے کو ، سواری پر جانے والا پیدل چلنے کو سلام کرے۔

سوال نمبر ۹-مصافحہ کرنے کی اہمیت و فضیلت بیان کریں ؟

جواب: جتنی دیر، دو مومن ملاقات اور مصافحے میں مصروف رہتے ہیں، ان کے گناہ ایسے جڑتے رہتے ہیں جس طرح درختوں سے پتے اور جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے تب تک ان پر ،خدا وند منان کی نگاہ رحمت کا فیض جاری رہتا ہے۔ لہذا جب بھی کسی مومن سے ملاقات کریں ، پہلے سلام اور پھر مصافحہ کرناچاہیے۔

۲۷

صلہ رحمی کی اہمیت وفضیلت

سوال نمبر ۱۰- صلہ رحمی کی اہمیت و فضیلت بیان کریں؟

جواب: دین اسلام میں رستہ داروں سے رابطہ رکھنے اور ان کے ساتھ نیکی و احسان کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ صلہ رحمی کے عظیم آثار و فوائد ہیں ۔ متعدد روایات میں آیا ہے صلہ رحمی سے رزق میں اضافہ ، زندگی میں برکت ، بلاؤں اور مصیبتوں سے نجات، زندگی میں خوشیاں اور کامیابی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جہنم سے نجات ، حساب میں آسانی ،جنت میں مقام ملتا ہے ۔ جیساکہ امام باقر ؑ کا فرمان ہے: صلہ رحمی رزق میں اضافہ، مال میں فراوانی، اعمال کی قبولیت، زندگی میں برکت ، موت میں آسانی اور قیامت کی ہولناکی سے نجات کا باعث ہے ۔

سوال نمبر ۱۱ - بچوں اور بڑوں کے احترام کی اہمیت بیان کریں؟

جواب: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:چھوٹوں سے پیار کرو اور بڑوں کی عزت کرو اور ان کے احترام اور وقار کا خیال رکھو ۔

۲۸

شادی کی اہمیت و ضرورت

سوال نمبر ۱۲ –شادی کی اہمیت و ضرورت کو بیان کریں؟

جواب: دین اسلام ، شادی کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ اسلام کی نگاہ میں شادی کرنا سنت موکدہ ہے البتہ بسا اوقات شادی کرنا واجب ہو جاتی ہے۔ ازدواج ایک شرعی اور پاکیزہ رابطہ ہے اس کے علاوہ مرد و عورت کے ایک دوسرے کی زندگی میں شریک ہونے کا ذریعہ ہے اللہ نے انسان کو اس کی نسل کی حفاظت اور زمین کو آباد رکھنے کے لیے پیدا کیا ہے۔جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے ازواج پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے مابین محبت اور مہربانی پیدا کی، غور و فکر کرنے والوں کے لیے یقینا ان میں نشانیاں ہیں۔

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

مومن کی حاجت روائی

سوال نمبر ۱۳ مومن کی حاجت روائی کی اہمیت بیان کریں؟

جواب: حضرت امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ روئے زمین پر کچھ ایسے بندے ہیں جو لوگوں کی حاجات کو برآوردہ کرتے ہیں اور انکی مشکلات کو آسان بناتے ہیں یہ لوگ قیامت کے دن ، سکون و اطمینان کے ساتھ ہو ں گے۔پھر آپ نے مزید ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مومن کو خوشحال کرے تو خداوند تعالیٰ اسے قیامت کے دن خوشحال کرے گا ۔

مومنین سے ملاقات

سوال نمبر ۱۴ -مومنین سے ملاقات کرنے کی فضیلت بیان کریں؟

جواب: امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ تم ایک دوسرے سے رابطہ رکھو اور ایک دوسرے کے گھر آیا ، جایا کرو ۔ اس سے ہمارا دین زندہ ہوتا ہے ۔اور خدا کی رحمت ہو اس پر، جو ہمارے مذہب کو زندہ رکھے ۔حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ کسی برادر مومن کی ملاقات کے لیے جانا مومن غلام کے آزاد کرنے سے بہتر ہے۔ اور ایک مومن غلام کے آزاد کرنے کا یہ ثواب ہے کہ خداوند تعالیٰٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے آزاد کر نے والے ہر ہر عضو کو اتش سے نجات دیتا ہے۔ مولائےئے کائنات ؑ نے اپنے وصیت نامے میں ایک دوسرے سے رابطہ اور ملاقات کرنے کی تاکید کرتے ہوئئے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے جڑے رہنا اور تعلقات کو محکم و مضبوط بنانا اور خبردار ایک دوسرے سے رابطہ نہ توڑنا اور تعلقات کو خراب نہ کرنا ۔

نظافت و پاکیزگی

سوال نمبر ۱۵ -نظافت و پاکیزگی کی اہمیت بیان کریں؟

جواب: دین اسلام میں نظافت و پاکیزگی پر بہت زور دیا گیا ہے اور احادیث میں صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھنے کی تاکید اور فوائد کو بیان کیا گیا ہے ۔ جیساکہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافرمان ہے: تم پر نظافت اور پاکیزگی لازم ہے اس لیے کہ اسلام کی بنیاد طہارت اور نظافت اور پاکیزگی پر ہے۔ جنت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے مگر وہ لوگ کہ جو نہایت پاکیزگی اور نظافت حاصل کرنے والے ہیں ۔اس حدیث میں صفائی کو دین کی بنیاد قرار دیا گیا ہے اور جنت میں جانے کے لیے اہم شرط بھی ہے۔ یہاں پاکیزگی سے مراد نظافت ظاہری جیسے کپڑے ،جسم، گھر کا پاکیزہ ہونا اور نظافت باطنی سے مراد ، گناہوں سے دل کا پاک ہونا اور برائیوں اور بداخلاقی سے کردار کا پاک ہونا ہے۔

مسواک کی فضیلت

سوال نمبر ۱۶ مسواک کی فضیلت بیان کریں؟

جواب: تعلیمات اہلبیت ؑ میں مسواک کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ مسواکے کرنے کے بہت سارے فائدے بیان کئے گئے ہیں ۔ جیساکہ امام صادق ؑ نے مسواک کی اہمیت اور فوائد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

۱- پیغمبروں کی سنت ہے ۲- آنکھوں کی روشنی بڑھتی ہے

۳- خدا کی خوشنودی کا سبب ہے ۴- بلغم دفع ہوتا ہے

۵- حافظہ زیادہ ہوتا ہے ۶-دانت سفید ہوتے ہیں

۷- نیک اعمال کا ثواب کئی گنا زیادہ ہوتا ہے ۸- دانت نہیں گرتے

۹- دانتوں کی جڑیں مضبوط ہو جاتی ہیں ۱۰ -بھوک زیادہ لگتی ہے

۱۱- فرشتے مسواک کرنے والے سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔

ناخن تراشنے کی فضیلت

سوال نمبر ۱۷ – ناخن تراشنے کی فضیلت بیان کریں؟

جواب: اہل بیت ؑ کی تعلیمات میں ناخنو ں کو کاٹنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ ناخن کاٹنے کے فوائد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیساکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا کہ ناخن کاٹنے سے بہت سی امراض دور ہو تے ہیں اور روزی میں اضافہ ہوتا ہے۔نیز امام باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ ناخن کاٹنے کا حکم اس سبب سے ہے کہ جب ناخن بڑھ جاتے ہیں تو شیطان کو گندگی پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے ۔

سوال نمبر ۱۸- ناخن کاٹنے کے آداب اور اوقات بیان کریں ؟

جواب: حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے دانتوں سے ناخن کاٹنے کی ممانت فرمائی ہے۔ اور امیر المومنین سے نقل ہے کہ جمعہ کے دن ناخن کاٹنے سے ہر ایک بیماری رفع ہو جاتی ہے اور جمعرات کے دن کاٹنے سے روزی میں اضافہ ہوتا ہے۔

دعا کی اہمیت اور فضیلت

سوال نمبر ۱۹ -دعا کی اہمیت اور فضیلت بیان کریں؟

جواب: دعا، انسان کی معرفت میں اضافے اور بلاؤں سے نجات، حاجات کی برآوردگی اور پریشانیوں اور مشکلات سے نجات کا ذریعہ ہے۔ آئمہ طاہرین ؑ نے بہت زیادہ دعا کی تاکید فرمائی ہے ۔ ہمیں بہت ساری دعائیں بھی تعلیم دی ہیں ۔ جیساکہ حضرت امام سجاد ؑ نے اپنی پوری زندگی دعا و مناجات میں گزاری اور ہمیں ، ہر حاجت و ضرورت کے لئے دعا تعلیم دی۔ امام کی دعاؤں کے مجموعہ کو صحیفہ سجادیہ کہا جاتاہے۔

امیر المومنین ؑ فرماتے ہیں دعا، تمام کامیابیون کی کنجی ہے ۔ اوربہترین دعا وہ ہے جو پاکیزہ سینہ اور با تقوی دل سے خلوص کے ساتھ نکلے ۔

نیکی و احسان

والدین کے ساتھ نیکی و احسان کی اہمیت

سوال نمبر ۲۰- والدین کے ساتھ نیکی اور احسان کی اہمیت و فضیلت بیان کریں ؟

جواب: کوئی عبادت بھی ماں باپ کے احترام کی مانند اللہ کو خوش نہیں کرتی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: جب بھی کوئی انسان ، پیار و محبت سے اپنے والدین کو دیکھتا ہے تو اسے ہر نظر کے بدلے ایک مقبول حج کا ثواب ملتا ہے۔نیز جب ایک صحابی نے امام رضا علیہ السلام سے عرض کیا ! کیا مجھے اپنے والدین کے حق میں دعا کرنی چاہیے حالانکہ وہ شیعہ اور حق کے ماننے والےنہیں ہیں تو امام ؑنے فرمایا: ہاں ان کے حق میں دعا کرو، ان کے لیے صدقہ دو اور اگر وہ زندہ ہیں تو ان سے حسن سلوک اور تواضع سے پیش آؤ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے ساتھ احسان اور نیکی کرنا واجب ہے اسی طرح ان کی نافرمانی کرنا ، حرام ہے۔

قرآن کریم میں باربار والدین کت ساتھ نیکی اور احسان کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ آیت : و بالوالدین احسانا ) متعدد مقامات پر ذکر ہوئی ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰٰ نے قدم قدم پر انسانوں کو احسان و نیکی اور انک خدمت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور تمام انسانوں کی دنیا و آخرت میں کامیابی و نجات ، والدین کی خدمت اور ان کی خوشی اور دعا پر موقوف ہے ۔ احسان کی وضاحت بیان کرتے ہوئے امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو ان کے مانگنے سے پہلے مہیا کر و۔نیزامام ؑ فرماتے ہیں کہ جو اپنے والدین کی طرف غصے سے دیکھتاہے اگرچہ اس کے والدین ، ظالم ہی کیوں نہ ہو ں اللہ تعالیٰٰ ، انکی اولاد کی نماز قبول نہیں کرے گا۔ یعنی تمام اعمال کی قبولیت کے لئے، دعاؤں کی اجابت کے لئے،ماں باپ کی رضایت ضروری ہے۔

ہمیں اپنے والدین کی خدمت ، اطاعت اور ان کی تمام باتوں پر عمل کرنا چاہیے اور ان کی عزت و احترام کے ساتھ ان کی خوشی کا خیال رکھیں اور انکی نافرمانی سے بچنا چاہیے کیونکہ والدین کی ناراضگی و نافرمانی کو عاق والدین کہتے ہیں ۔ جوکہ اسلام میں گناہ کبیرہ میں سے ہے ، جسے والدین عاق کر دیں وہ یقینا جہنمی ہے اور خدا بھی اس کے گناہوں کو معاف نہیں فرماتا۔جیساکہ حدیث قدسی میں آیا ہے:جو شخص والدین می نافرمانی کرے والدین کو ستائے ، اور والدین اسے عاق کر دیں ، میں ہرگز اسے نہیں بخشوں گا اگرچہ وہ تمام ابنیاء کےاعمال و عبادات کو لے ہی کیوں نہ آئے یہاں تک وہ ہر جنت کی خوشبو بھی سونگ نہیں پائے گا ۔

دین اسلام میں عیدیں اور اعمال

سوال ۲۱:دین اسلام میں کتنی عیدیں ہیں اور ان کے اعمال کون سے ہیں ؟

جواب: دین اسلام میں چار بڑی عیدیں ہیں ۔ان عیدوں کے بہت سارے اعمال ہیں جنہیں انجام دینا ضروری ہے:

۱- عید غدیر: سب سے بڑی عید ،عید غدیر ہے۔ جس کو عید امامت ،عید ولایت اور عید آل محمد کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی سب سے افضل ترین عید، عید غدیر ہے جس میں خدا نے اپنے دین کو کامل کیا اور نعمتوں کو تمام اور اپنی خوشنودی کا اعلان کیا ۔سرور کائنات نے مولائے کائنات کی امامت اور ولایت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا :جس جس کا میں نبی مولائے، اس اس کا علی ولی ،مولائے ہے۔

فَقَالَ النبی :مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ

۲- عید قربان: دوسری عید، عید قربان ہے۔ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو حضرت ابراہیم ؑ کی عظیم قربانی کی یاد مناتے ہوئے عید قربان یا عید الاضحی کو منایا جاتا ہے۔ جناب ابراہیمؑ کی قربانی کی یاد میں جانوروں کو خدا کی راہ میں قربان کیا جاتا ہے اور دین اسلام میں قربانی دینے کی بہت زیادہ فضیلت اور تاکید ہوئی ہے یہاں تک کہ ایک آدمی قربانی نہ کر سکے تو ستر لوگ مل کر اجتماعی قربانی کریں تاکہ قربانی کے ثواب میں سب شریک ہوں اور قربانی ترک نہ ہونے پائے اس قدر قربانی کی تاکید ہے۔

سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: جو بندہ قربانی کرنے کی توان نہ رکھتا ہو وہ قرض لے کر قربانی کرے ۔نیزمولائےکائنات نے فرمایا :اگر لوگوں کو قربانی کی معرفت ، اس کی قدر اور اجر و ثواب کا علم ہو جائے تو وہ قربانی کو کبھی بھی ترک نہ کریں اگرچہ قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے ۔

۳- عید الفطر: رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد یکم شوال کو نہایت اہتمام کے ساتھ پوری دنیا کے مسلمان عید فطر مناتے ہیں۔

۴-روز جمعہ: روز جمعہ تمام مسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے اس دن تمام عیدوں کی طرح غسل کرنا ،ہو اچھا لباس پہننا ،نماز جمعہ میں شرکت کرنا اور جمعہ کا دن عبادت اور بندگی میں گزارنا ،اور دیگر اعمال کو انجام دینا ضروری ہے۔

عیدوں کے اعمال

تمام عیدوں میں چند اعمال ہیں جن کا انجام دینا ثواب کا باعث ہے۔

۱-ہر عید کو نہایت اہتمام کرنا اس کو شایان شان طریقے سے منانا ۲- عید کی نماز میں شریک ہونا

۳- عید کے دن غسل کرنا ۴- عیدی دینا اور گھر والوں کو خوشحال کرنا

۵- نئے کپڑے پہننا ۶- خوشبو لگانا

۷- خوشیوں کے اسباب اور وسائل کو فراہم کرنا ۸- ہر عید پر زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھنا

۹- عید کے دن اپنے مرحومین کو یاد کرنا اور ان کے لیے فاتحہ پڑھنا ، ان کی مغفرت کے لیے قرآن خوانی اور کار خیرانجام دے کر ان کو ہدیہ کرنا اور ممکن ہونے کی صورت میں قبرستان جا کر ان کی زیارت کرنا

امر بالمعروف کی اہمیت

سوال نمبر۲۲- امر بالمعروف کی اہمیت بیان کریں؟

جواب: امر بالمعروف یعنی نیکی کی ترغیب دینا اور نہی ازمنکر یعنی برے کاموں سے روکنا ہے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر، مقصد انبیاء و آئمہ ہے یہی مقصد تھا جس کے تحت امام حسین ؑمدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا کی طرف روانہ ہوئے اور اسی مقصد کے لیے اپنے اہل و عیال اور اپنے اصحاب کی عظیم الشان قربانی پیش کی ۔ امام حسین ؑ نے فرمایا : میری اس عظیم قربانی کا مقصد لوگو ں کو دین کی طرف دعوت دینا، نیکیوں کو پھیلانا ،تمام برائیوں کو مٹانا ، لوگوں کو برائیوں اور بدعتوں سے روکنا ہے۔ مزید آپ نے فرمایا: اگر معاشرے میں برائیاں اور بدعتیں رائج ہو جائیں اور لوگ باطل سے اجتناب اور حق پر عمل نہ کریں تو مومن کو چاہیے وہ برائیوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دے کر دین کو بچائے۔

نہی از منکر ،ہم سب پر واجب ہے اس سے معاشرے میں اچھائی اور برائی کی پہچان ہوتی ہے امام رضاؑ فرماتے ہیں جب لوگ امر بمعروف ونہی از منکر کو ایک دوسرے کی گردن پر ڈال دیں تو پھر عذاب الہی کے منتظر رہیں ۔

سوال نمبر ۲۳- غیبت و تہمت سے دوری کی اہمیت بیان کریں؟

جواب: غیبت اور تہمت گناہ کبیرہ میں سے ہیں ۔غیبت یعنی دوسروں کی برائی کرنا ، دوسروں کی خامیوں کو سب کے سامنے بیان کرنا ہے اور تہمت، دوسروں کی طرف کسی ایسے گناہ کی نسبت دینا جو ان میں نہ ہو ۔ غیبت اور تہمت دونوں ، دنیا و آخرت کی تباہی اور مومنین کے درمیان نفرت و دشمنی کا باعث ہے۔ اس وجہ سے قرآن و احادیث میں غیبت و تہمت کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے ۔ اور غیبت و تہمت سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی غیبت اور ایک دوسرے پر تہمت لگا نے سے اجتناب کرنا چاہیے اور دوسروں کی خامیوں پر پردہ ڈالنا چاہیے۔ جس طرح اللہ ہمارے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے۔

تعلیمات اسلام کے مطابق ،مومنین ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور بھائی کی عزت و آبرو کو بچانا ہم پر ضروری ہے اور کوئی دوسرا غیبت یا الزام لگائے تو اپنے مومن بھی کی حمایت اور اس کا دفاع کرتے ہوئے ، غیبت اور الزام لگانے والے کو روکنا ضروری ہے۔

بد اخلاقی اور بدکلامی

سوال نمبر ۲۴-بد اخلاقی اور بدکلامی سے اجتناب کیوں ضروری ہے؟

جواب: امیر المومنین ؑکا ارشاد ہے ہر انسان اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے چنانچہ ہر انسان کا اخلاق اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہ انسان کا اخلاق ہے جو اسے لوگوں کی نظر میں باعزت بنا تاہے اور باعزت شخص کو اس کی بد اخلاقی رسوا کر دیتی ہے۔ انسان کے عروج و ترقی میں اس کے بہترین اخلاق کا بہت اہم کردار ہے۔ بد کلامی و بد اخلاقی معاشرے میں نفرت و دشمنی اور لوگوں سے دوری کا باعث ہے۔ بد اخلاق و بد کلام ہوتا ہے لوگ اس سے نفرت اور دوری اختیار کرتے ہیں ۔جب کہ جو شخص خوش اخلاق ہو اور با ادب ، بہترین گفتگو کا مالک ہو اس کے بہت سارے چاہنے والے ہوتے ہیں ۔ اس لیے دین اسلام میں ہمیشہ اچھی گفتگو اور بہترین اخلاق کی بہت زیادہ تراکید کی گئی ہے۔

بچوں کی صفات

سوال :اچھے بچوں کی صفات اور خوبیاں بیان کریں؟

جواب: اچھے بچوں کی بہت ساری صفات ہیں: جن میں سے چند اہم ترین صفات اور خوبیوں کو بیان کیا جاتا ہے۔

۱- پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنا ۔ ۲- ماں باپ کے ساتھ نیکی اور ماں باپ کی خدمت کرنا

۳- ماںباپ کی باتوں کو سننا اور ان پر عمل کرنا۔ ۴- رات کو جلدی سونا ۔

۵- صبح سویرے اٹھنا۔ ۶- صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھنا۔

۷- مسواک کرنا۔ ۸- بڑوں کا ادب اور احترام کرنا ۔

۹-بڑوں کی باتوں کو غور سے سننا ۔ ۱۰- پڑھائی پر توجہ دینا ۔

۱۱- گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا۔ ۱۲-کسی سے لڑائی اور جھگڑا نہ کرنا اور غلط ونازیبا الفاظ سے پرہیز کرنا ۔

۱۳- دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا ۔ ۱۴- سب کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آنا اور اخلاق سے پیش آنا

۱۵ -ورزش کرنا اور اپنی صحت کا خیال رکھنا۔ ۱۶- گناہوں اور غلط کاموں سے پرہیز کرنا۔

۱۷- وقت پر کھانا کھانا ۔ ۱۸-کبھی بھی وقت کو ضائع نہ کرنا ۔

۱۹- نماز جماعت میں شرکت کرنا ۔ ۲۰- نماز جمعہ اور جماعت میں شرکت کرنا ۔

۲۱-مسجد میں نماز پڑھنا ۔

۲۲- مجالس میں شرکت کرنا ؛ولادت اور جشن آئمہ ؑ منانا اور ان کی شہادت پر گریہ کرنا ۔

۲۳- پابندی کے ساتھ ہوم ورک کرنا۔ ۲۴- گھر کی صفائی اور سیٹنگ کا خیال رکھنا۔

۲۵- استاد کی عزت و احترام اور باتوں پر عمل کرنا ۲۶-کسی کی توہین وتحقیر نہ کرنا

۲۷- کسی کی غیبت نہ کرنا ۲۸- کسی پر الزام نہ لگانا

۲۹-دینی اور نیکی کے کاموں اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ۳۰- ظالم اور ظلم سے نفرت کرنا ، مظلو موں اور غریبوں کی مدد کرنا

یہ وہ پسندیدہ صفات اور خوبیاں ہیں جن کو پابندی کے ساتھ اپنانے کی قرآن و روایات میں تاکید کی گئی ہے۔ یہی صفات انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضامن ہیں ۔

دوسرا حصہ

نوجوانوں کے لئے

باب القرآن

۱-عظمت قرآن بزبان قرآن

قرآن وہ عظیم کتاب ہے جو بشریت کی نجات اور سعادت ، دنیا و آخرت دونوں کی کامیابیوں کو پانے کا ذریعہ ہے اورتمام علوم و معارف کا مجموعہ ہے۔قرآن، قیامت تک بشریت کے لئے ہدایت ،ضابطہ حیات اور آئین زندگی ہے۔ ذیل میں ہم اس عظیم و لاریب کتاب کی عظمت کو خود قرآن کی زبانی اور سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)و مولائے کائنات ؑ کے کلام کی روشنی میں مختصرا بیان کریں گے تاکہ ہمیں قرآن کی معرفت، عظمت قرآن کو سمجھنا آسان ہو جائے ۔

قرآن پاک میں متعدد آیات میں عظمت قرآن اور اس عظیم کتاب کا تعارف کروایا گیا ہے۔قرآن میں اس کتاب کو بشریت کے لئے ہدایت اور ذریعہ نجات قرار دیا گیا ہے ۔ قرآن ، بشریت کے تمام دروں ، مشکلات کا حل اور بیماریوں کے لئے شفا قرار دیا گیا ہے۔ قرآن ،جامع ترین، کامل ترین کتاب ہے کہ جس میں بشریت کی ہدایت کےتمام اسباب فراہم ہیں۔ اسی لئے قرآن کو "تبیان لکل شئی" کہا گیا ہے یعنی ہر چیز کو بیان کرنے والی کتاب قرار دیا ہے ۔ پروردگار نے ہر خشک و تر کا ذکر قرآن میں کیا ہے۔قرآن ، ذکر ، رحمت، مبارک اور قرآن شفا ہے، قرآن بشریت کے لئے ہدایت و بشارت ہے۔ اور یہ کتا ب ہر لحاظ سے لاریب ، کتاب ہے۔ جس میں کسی قسم کےشک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے۔ جیساکہ سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات میں قرآن کا تعارف و عظمت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰٰ ہے ۔ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کا لاریب کلام ہے جو تمام متقین کے لئے قیامت تک رشد و ہدایت کا ذمہ دار ہے۔

(ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ) ۔

اسی طرح سورہ لقمان کی ابتدائی آیات میں قرآن کا تعارف و عظمت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد رب العزت ہے:

یہ قرآن پاک کی مقدس آیات ہیں جو تما انسانو ں کے لئے ہدایت بھی ہیں اور رحمت بھی ، خصوصا احسان کرنے والے،نماز گزار، زکات دینے والے اور آخرت پر یقین رکھنے والوں کے لئے ، یہ کتا ب ، ہدایت ، رحمت، نجات کا ذریعہ ہے۔ اور یہی لوگ پروردگار کی جانب سے ہدایت یافتہ ہیں ۔یقینا انہی لوگوں کے لئے تمام سعادت اور کامیابیاں ہیں ۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تمام سعادتوں ، خوشیوں اور دنیا و آخرت دونو ں کی کامیابیوں کا محور، قرآن کو قرار دیاہے۔

تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِي،مِهُدًى وَرَحْمَةً لِلْمُحْسِنِينَ،الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ،أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۔

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ

اور اسی طرح سورہ نحل میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو بشر کے لئے جامع و کامل اور ہر چیز کا بیا ن قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ہم آپ پر قرآن کو نازل کیا جو کہ ہر چیز کا بیان ہے ۔یعنی اخلاق، عقائد، احکام اور بشر کی تمام ضروریات کو یہ کتاب بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب مسلمانوں کے لئے ہدایت، رحمت اور فلاح و نجات اور بشارت ہے ۔ یعنی یہ کتاب مسلمانوں کو دنیا و آخرت دونوں عظیم کامیابیوں کی خوشخبری دیتی ہے اس شرط کے ساتھ کہ اس کو سمجھیں اور اس کے احکامات پر عمل کریں ۔ اور قرآن کو ضابطہ حیات و آئین زندگی قرار دیں ۔

۲-عظمت قرآن بزبان رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوری زندگی مسلمانوں کو قرآن کا تعارف اور قرآن و اہل بیت کی عظمت بیا ن کرتے رہے اور قرآن کے احکامات و تعلیمات و پیغامات قرآن سے آگاہ کرتے رہے اور تمام مسلمانوں کو یہ سمجھاتے رہے کہ قرآن و اہل بیت ہی ذریعہ نجات ہیں اور قرآن و اہل بیت کے بغیر بشر کے لئے نہ دنیا میں کامیابی ممکن ہے اور نہ آخرت میں ، دونوں جہانوں کی سعادت و خوش بختی اور عظیم کامیابیوں سے ہمکنار ہو نے کے لئے تعلیمات قرآن و اہل بیت کی پیروی میں پوشیدہ ہے۔جیساکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن و اہل بیت کی عظمت اور زندگی بھر دامن قرآنو اہل بیت کو تھامنے کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میرے اہل بیت ہیں ، جب تک ان دونوں سے متمسک رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوں گے ۔

اِنّی تارِکٌ فیکُمُ الثَّقَلَینِ: کِتابَ اللِّٰهِ وَ عِترَتی اَهلَ بَیتی ما اِن تَمَسَّکتُم بِهِما لَن تَضِلّوا اَبَدًا وَ اِنَّهُما لَن یَفتَرِقا حَتّیٰ یَردا عَلَیَّ الحَوضَ ۔

اس حدیث میں ہر قسم کی گمراہی ، ہلاکت و نبودی سے نجات کا وسیلہ اور ذریعہ قرآن و اہل بیت کو قرار دیا ہے۔

ایک دوسری حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بشر جکو دونوں جہانوں کی سعادت کا راستہ بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا: اگر تم لوگ دنیا میں سعادت مند زندگی اور کامیابی کو پانا چاہو اور دنیا سے جاتے ہوئے شہادت کا رتبہ و مقام ، آخرت میں نجات، تمام گمراہیوں سے چھٹکارا اور ہدایت پانا چاہو تو تم قرآن کو سمجھو اور اس پر عمل کرو۔ یہ رحمان کا کلام ہے اور شیطان کے شر سے نجات کا وسیلہ ہے۔ اور میزان عمل میں تمہاری کامیابی کا ذریعہ ہے۔

وَ قَالَ رسول الل ہ (ص): إِنْ أَرَدْتُمْ عَيْشَ اَلسُّعَدَاءِ وَ مَوْتَ اَلشُّهَدَاءِ وَ اَلنَّجَاةَ يَوْمَ اَلْحَسْرَةِ وَ اَلظِّلَّ يَوْمَ اَلْحَرُورِ وَ اَلْهُدَى يَوْمَ اَلضَّلاَلَةِ فَادْرُسُوا اَلْقرآن فَإِنَّهُ كَلاَمُ اَلرَّحْمَنِ وَ حِرْزٌ مِنَ اَلشَّيْطَانِ وَ رُجْحَانٌ فِي اَلْمِيزَانِ

قرآن اور اہل بیت بزرگ ترین امانت

قرآن و اہل بیت ؑ امت کے درمیان ، سرور کائنات کی بزرگ ترین امانت ہیں ۔ امت کی فلاح و نجات اور قیامت تک امت کی ہدایت و راہنمائی کے لئے سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان کے درمیان قرآن و اہل بیت ؑ کو چھوڑ کر گئے ہیں ۔ اور یہ فرما کر گئے جب تک قرآن پر عمل کرتے رہو گے اور دامن اہل بیت ؑ کو تھامے رہو گے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے رہو گے ہر گزگمراہ نہیں ہو گے۔

اس فرمان کی روشنی میں امت کی نجات ، سعادت اور دنیا و آخرت کی کامیابیوں کا مرکز ، قرآن و اہل بیت ہیں ۔

قَالَ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ: إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ اَلثَّقَلَيْنِ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي كِتَابَ اَللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي وَ إِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ اَلْحَوْضَ

۳-عظمت قرآن بزبان امیرالمومنین ؑ

قال امیر المؤمنین ؑ : وَ اعْلَمُوا أَنَّ هذَا الْقُرْآنَ هُوَ النَّاصِحُ الَّذِي لَا یَغُشُّ،وَ الْهَادِی الَّذِي لَا یُضِلُّ،وَ الْمُحَدِّثُ الَّذِي لَا یَکْذِبُ. وَ مَا جَالَسَ هذَا الْقُرْآنَ أَحَدٌإِلَّا قَامَ عَنْهُ بِزِیَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ: زِیَادَةٍ فِي هُدًی،أَوْ نُقْصَانٍ مِنْ عَمیً. وَ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ الْقُرْآنِ مِنْ فَاقَةٍ،وَ لاَ لِأَحَد قَبْلَ الْقُرْآنِ مِنْ غِنًی.فَاسْتَشْفُوهُ مِنْ أَدْوَائِکُمْ،وَ اسْتَعِینُوا بِهِ عَلَى لَأوَائِکُمْ،فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنْ أَکْبَرِ الدَّاءِ: وَ هُوَ الْکُفْرُ وَ النِّفَاقُ، وَ الْغَیُّ وَ الضَّلَالُ،فَاسْأَلُوا اللهَ بِهِ،وَ تَوَجَّهُوا إِلَيْهِ بِحُبِّهِ،وَ لَا تَسْأَلُوا بِهِ خَلْقَهُ،إِنَّهُ مَا تَوَجَّهَ الْعِبَادُ إِلَى اللهِ تعالیٰ بِمِثْلِهِ.

مولائے کائنات ؑ ،قرآن کریم کی عظمت و تعارف کراتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :یاد رکھو ! یہ قرآن مجید ایسا نصیحت کرنے والا ہے جو فریب نہیں دیتا، ایسا ہدایت کرنے والا ہے جو گمراہ ہونے نہیں دیتا اور ایسا بیان کرنے والا ہے جو جھوٹ نہیں بولتا ،جو بھی قرآن کا ہم نشین ہوا وہ گمراہی و ضلالت سے نکل کر ہدایت پا گیا۔ جان لو کسی کو قرآن (کی تعلیمات )کے بعد کسی اور لائحہ عمل کی ضرورت نہیں رہتی اور نہ کوئی قرآن سے پہلے بے نیاز ہو سکتا ہے ۔اسکے ذریعے بیماریوں سے بچنے کے لئے شفاء طلب کرو اور اپنی مصیبتوں پر اس سے مدد مانگو۔،اس میں کفر ونفاق اورضلالت وگمراہی جیسی بڑی بڑی بیماریوں کی شفاء پائی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے اللہ سے مانگواور اس کی محبت کو لیکرخدا کا رخ کرو اور اسے لوگوں سے مانگنے کا ذریعہ نہ بناؤ یقینا یہ بندوں کے لئے اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا بہترین ذریعہ ہے۔اس کے بعدحضرت مزید ارشاد فرماتے ہیں:

واعلموا ا ٴ نہّ شافعٌ مُشفَّعُ وقائلٌ مصدّق وا ٴ نہ من شَفع لہ القرآنُ یوم القیامة شفَّع فیہ

تمھیں معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن ایسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت مقبول ہے اور ایسا کلام کرنے والا ہے (جس کی ہر بات ) تصدیق شدہ ہے قیامت کے دن قرآن جس کی شفاعت کرے گا وہ اس کے حق میں قبول کی جائے گی۔

مولا کے اس کلام سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے قیامت کے دن قرآن ان لوگو ں کی شفاعت کرے گا جنہوں نے قرآن میں تدبر کیا اور احکامات قرآن پر عمل کیا اور وہ خوشی خوشی جنت پہنچ جائیں گے۔جب کہ ان لوگوں کے مقابلے میں قرآن ان لوگوں کی شکایت کرے گا جنہوں نے قرآن سے رو گرادنی کی۔

قرآن مؤثرترین ،موعظہ

قرآن مؤثرترین ،موعظہ اور تمام بیماریوں کی شفا ء

ایک اور کلام میں مولائے کائنات ؑ نے موثر ترین ، موعظہ اور ہدایت اور تمام بیماروں کی شفا ء اور بشریت کے تمام دردوں کی دواء قرار دیتے ہوئے فرمایا: قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرو ، اس لئے کے یہ کلام الہی ہے اور بہترین کلام ہے، موثرترین موعظہ و ہدایت ہے۔ پس قرآن میں غور و فکر کیا کرو یہ دلوں کی بہار ہے اور قرآن سے اپنی بیماریوں کی شفاء اور اپنے درد کا دواء تلاش کرو کیونکہ قرآن تمام بیمارویوں کی دواء اور شفاء ہے۔ قرآن کی بھرپور تلاوت کرو کیونکہ قرآن بہترین عبرت کا سامان اور موعظہ حسنہ کا مجموعہ ہے۔

قال امیر المومنین ؑ :تَعَلَّمُوا كتابَ اللّهِ تباركَ و تعالى ؛ فإنّهُ أحسَنُ الحَديثِ و أبلَغُ المَوعِظَةِ ، و تَفَقَّهُوا فيه فإنّهُ رَبيعُ القُلوبِ ، و استَشفُوا بنُورِهِ فإنّه شِفاءٌ لِما في الصُّدورِ ، و أحسِنُوا تِلاوَتَهُ فإنّهُ أحسَنُ القَصصِ

نتیجہ کلام :

ان تمام آیات و رورایات کا نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص دنیا و آخرت دونوں میں عزت و سربلندی ، سعادت و کامیابی اور ہر قسم کی گمراہی ، ذلت و پستی سے نجات پانا چاہتا ، اس واحد ذریعہ، قرآن و اہل بیت کی طرف رجوع کرنا ہے۔ قرآن کو ضابطہ اور آئین زندگی بناکر ایک ایک آیت پر عمل پیرا ہونا ہے، قرآن کو سیکھنا اور سیکھانا ہے، ہرروز قرآن ی تلاوت کرنا ، نور قرآن سے اپنے تاریک سینو ں کو ، معاشرے کو منور کرنا ہے۔ آنے والی نسلوں کو اور اپنی اولاد کو قرآن کی نورانی تعلیمات سے آگاہ و آشنا کرنا ہے۔

۲۹

آداب زندگی

سوال۱: آداب سے کیا مراد ہے؛ علمائے اخلاق کے کلام کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: علامہ مجلسی نے اپنی مشہور ترین کتاب مرات العقول میں آداب کی تعریف کرتے ہوئے بیان فرمایا ہے: ادب درحقیقت زندگی کے تمام شعبوں میں بہترین انداز اور بہترین طریقے کار اوربہترین رفتار و گفتار کے ساتھ انتہائی شائستہ طور پر لوگوں کے ساتھ پیش آنے کا نام ہے ۔

آداب انسانی زندگی میں خوبصورت ترین اور پسندیدہ گفتار اور رفتار اور نہایت خوبصورت زندگی گزارنے کا نام اور لوگوں کے ساتھ عزت اور احترام اور پیار و محبت اور تواضع کے ساتھ پیش آنے کا نام آداب کہلاتا ہے۔ دین اسلام در حقیقت زندگی میں بہترین آداب ، بہترین اصول حیات اور نہایت پسندیدہ رفتار و کردار کے مجموعے کا نام ہے ۔

سوال۲: بہترین آداب روایات کی روشنی میں بیان کریں ؟

جواب: تمام انسانی کمالات اور خوبیوں کو اپنانا اور اہل بیت کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل کرنے اور اسی طرح تمام بری عادات و صفات سے دوری اختیار کرنے کا نام بہترین آداب ہیں۔ جیسا کہ مولائےئے کائنات نے فرمایا : بری صفات اور عادتوں سے ہمیشہ اپنے آپ کو دور رکھو اور پسندیدہ صفات و عادات اور خوبیوں کو اپنا لو؛تمہیں ایک خوشگوار اور کامیاب زندگی نصیب ہو گی۔

حدیث : عَوِّدْ نَفْسَكَ اَلْجَمِيلَ فَإِنَّهُ يُجْمِلُ عَنْكَ اَلْأُحْدُوثَةَ وَ يُجْزِلُ لَكَ اَلْمَثُوبَةَ.

ایک اور روایات میں مولائےئے کائنات نے بہترین آداب کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا : ہمیشہ صداقت اور سچائی کو اپنانا؛جھوٹ اور غلط بیانی سے اجتناب کرنا اور بہترین صفات کو اپنانا اور بری صفات و عادات سے اجتناب ہی افضل ترین آداب ہیں۔

حدیث: تَحَرِّي اَلصِّدْقِ وَ تَجَنُّبُ اَلْكَذِبِ أَجْمَلُ شِيمَةٍ وَ أَفْضَلُ أَدَبٍ.

ایک اور روایت میں مولائے کائنات نے بہترین آداب زندگی بیان کرتے ہوئے فرمایا: لوگوں کے ساتھ تواضع اور فروتنی سےپیش آؤ اور زبان کو ،ہمیشہ لوگوں کو سلام کرنے کی عادت ڈالو اور پھر لوگوں کے ساتھ پیارو محبت اور نرمی سے بات کرنے کی کوشش کرو۔ اس طرح تمہاری زندگی کامیاب ہو گی ، تمہارے چاہنے والوں میں اضافہ ہوگا اور تمہارے دشمنوں میں کمی ہوگی۔

عَوِّدْ لِسانَكَ لينَ الْكَلامِ وَ بَذْلَ السَّلامِ، يَكْثُرْ مُحِبّوكَ وَ يَقِلَّ مُبْغِضوكَ؛

حضرت امام صادق علیہ السلام نے بہترین آداب کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : تمام خوبیوں کو حاصل کرنا اور دوسروں کو اذیت اور تکلیف نہ دینا اور ہر برے کام سے دوری اختیار کرنا بہترین آداب اور کمالات میں سے ہے اور یہ خوبیاں جس انسان میں ہوں وہ غریب نہیں ہے بلکہ دنیا کا سب سے بڑا امیر انسان ہے۔

سوال۳: بہترین آداب کو سیکھنے کی ضرورت و اہمیت کو روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: اہل بیت کی تعلیمات میں بہترین آداب و اخلاق اور تمام خوبیوں و کمالات کو سیکھنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔اور تمام انسانوں کے لئے قیمتی سرمایہ اور دولت بہترین آداب اور اخلاق کو قرار دیا گیا ہے۔ بہترین آداب ہی تمام انسانوں کے لئے کمال اور دنیا وآخرت دونوں میں کامیابی کا وسیلہ ہیں۔اس لیے والدین کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بہترین آداب سکھائیں اور آل محمد علیہم السلام کی بہترین تعلیمات سے ان کو آشنا کریں۔

جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ والدین کی جانب سے اولاد کے لیے بہترین تحفہ اور نہایت قیمتی سرمایہ بہترین آداب و اخلاق ہیں نہ مال و ثروت، اس لیے کہ مال اور ثروت فانی ہے اور بہترین اخلاق اور آداب جاودانی اور ابدی ہیں۔

قَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ إِنَّ خَيْرَ مَا وَرَّثَ اَلْآبَاءُ لِأَبْنَائِهِمُ اَلْأَدَبُ لاَ اَلْمَالُ فَإِنَّ اَلْمَالَ يَذْهَبُ وَ اَلْأَدَبَ يَبْقَى.

مولائے کائنات ؑنے بچوں کو بہترین آداب اور تعلیمات آل محمد علیہم السلام سکھانا ان کے حقوق میں سے قرار دیتے ہوئے فرمایا؛ اولاد کا حق یہ ہے کہ ان کے لئے بہترین نام انتخاب کریں اور بہترین آداب سکھائیں اور قرآن پاک کی تعلیم دیں۔ اور پھر والدین کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا: والدین کا حق یہ ہے کہ ہمیشہ ، بچےان کی اطاعت کریں اور ان کی نا فرمانی سے بچیں۔

قَالَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ: إِنَّ لِلْوَلَدِ عَلَى اَلْوَالِدِ حَقّاً وَ إِنَّ لِلْوَالِدِ عَلَى اَلْوَلَدِ حَقّاً. فَحَقُّ اَلْوَالِدِ عَلَى اَلْوَلَدِ أَنْ يُطِيعَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلاَّ فِي مَعْصِيَةِ اَللَّهِ سُبْحَانَهُ وَ حَقُّ اَلْوَلَدِ عَلَى اَلْوَالِدِ أَنْ يُحَسِّنَ اِسْمَهُ وَ يُحَسِّنَ أَدَبَهُ وَ يُعَلِّمَهُ اَلْقرآن

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اولاد کو بہترین آداب اور تعلیمات سکھانے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا : اپنی اولاد کو شخصیت دو؛ ان کا احترام کرو اور ان کو بہترین آداب سکھاؤ؛ ایسا کرو گے تو تمہارے گناہوں کو خدا بخش دے گا۔

قَالَ رسول الله (ص): أَكْرِمُوا أَوْلاَدَكُمْ وَ أَحْسِنُوا آدَابَهُمْ يُغْفَرْ لَكُمْ

اس روایت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے انسان کی کامیابی ، مغفرت و نجات ، اولاد کی تربیت اوران کو اچھے آداب سکھانے پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ، ان والدین کو معاف کر دیتا ہے جو اپنے اولاد کی اچھی تربیت کرتے ہیں ۔

ایک اور حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اپنی اولاد کو تین آداب ضرور تعلیم دو:

۱- ان کو پیامبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معرفت اور شناخت کراؤ اور ان کی محبت بچوں کے دل میں پیدا کرو۔

۲- اہل بیتؑ کی شناخت و معرفت کراؤ اور انکی محبت ان کے دل میں ڈالو۔

۳- قرآن سے آشنا کرو انکو قرآن کی تعلیم دو۔

عنه صلى الله عليه و آله : أدِّبوا أولادَكُم على ثَلاثِ خِصالٍ : حُبِّ نَبيِّكُم ، و حُبِّ أهلِ بَيتِهِ ، و قِراءةِ القرآن

سوال۴: مومن کی کامیابی کا راز امام صادق علیہ السلام کی نگاہ میں بیان کریں؟

جواب : حضرت امام صادق علیہ السلام نے مومن کی کامیابی کے راز کو اولاد کی تربیت اور ان کو آداب سکھانا قرار دیتے ہوئے فرمایا :مومن ہمیشہ آل محمد علیہم السلام کے علوم و آداب دینی کو سیکھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے؛ اپنے بچوں کو بھی سکھاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں مومن اور اس کے بیوی؛ بچے سب کو خدا جنت میں داخل کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے غلاموں اور کنیزوں کو بھی جنت میں لے جاتا ہے اور جنت میں جانے کا راز اور تمام کامیابیوں کو پانے کا سبب آل محمد علیہم السلام کی تعلیمات اور آداب دینی کا سیکھنا اور اپنے بچوں کو سکھانا ہے۔

عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَّهُ قَالَ: لاَ يَزَالُ اَلْمُؤْمِنُ يُورِثُ أَهْلَ بَيْتِهِ اَلْعِلْمَ وَ اَلْأَدَبَ اَلصَّالِحَ حَتَّى يُدْخِلَهُمُ اَلْجَنَّةَ [جَمِيعاً] حَتَّى لاَ يَفْقِدَ فِيهَا مِنْهُمْ صَغِيراً وَ لاَ كَبِيراً وَ لاَ خَادِماً وَ لاَ جَاراً وَ لاَ يَزَالُ اَلْعَبْدُ اَلْعَاصِي يُورِثُ أَهْلَ بَيْتِهِ اَلْأَدَبَ اَلسَّيِّئَ حَتَّى يُدْخِلَهُمُ اَلنَّارَ جَمِيعاً حَتَّى لاَ يَفْقِدَ فِيهَا مِنْهُمْ صَغِيراً وَ لاَ كَبِيراً وَ لاَ خَادِماً وَ لاَ جَاراً

سوال ۵:وہ کون سے آداب ہیں جن کی اولاد کو تعلیم دینا ضروری ہے؟

جواب: قرآن پاک کی آیات اور معصومین کی روایات کی روشنی میں والدین پر فرض اور واجب ہے اپنی اولاد کو بہترین آداب سکھائیں اور ان کو تمام خوبیوں اور انسانی کمالات اورفضائل کو تعلیم دیں، خصوصا دینی واجبات کا سکھانا اور حرام کاموں سے ، برائیوں اور گناہوں سے ان کو آگاہ کرنا ۔ اور پھر اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنا اور بہترین آداب سے روشناس کروانا نہایت ضروری ہے۔ اسی طرح دین کی شناخت کرانا، خدا کی معرفت کروانا اور سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ا ور اسی طرح اہل بیت کی معرفت کروانا اور پھر قرآن کی تعلیم دینا بہت ضروری ہے۔جیسا کہ سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :اپنی اولاد کو تین آداب ضرور سکھاؤ :

۱. خدا وپیغمبرکی معرفت کراؤ ۔

۲. اہل بیت کی شناخت و معرفت

۳. قرآن پاک کی تعلیم دو۔

عنه صلى الله عليه و آله : أدِّبوا أولادَكُم على ثَلاثِ خِصالٍ : حُبِّ نَبيِّكُم ، و حُبِّ أهلِ بَيتِهِ ، و قِراءةِ القرآن

ایک اور روایت میں آیا ہے سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :اپنے اہل عیال کو تمام فرائض اور واجبات کی تعلیم دو ؛نیکیوں اور خوبیوں سے ان کو آشنا کرو؛ تمام گناہوں برائیوں سے ان کو آگاہ کرو تاکہ تمہاری اولاد ،واجبات اور فرائض کو انجام دے اور گناہوں اور برائیوں سے اجتناب کرے؛ ایسا کرو گے تو تم بھی جہنم کی آگ سے محفوظ رہو گے اور تمہارے اہل و عیال بھی۔

حضرت امام صادق ؑ کے فرمان میں آیا ہے جب قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی: اے صاحبان ایمان اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو جہنم کی آپ سے بچا ؤ۔ تو نبی کے اصحاب حضرت کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول : کس طرح جہنم کی آپ سے اپنے کو اور اہل عیال کو محفوظ کر یں۔ تو اس سوال کے جواب میں حضور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ؛خود واجبات اور فرائض کو انجام دو اسی طرح اپنے اہل و عیال کو بھی فرائض کی تعلیم دو اور اس کا پابند بناؤ اور جتنی بھی خوبیاں اور نیکیاں ہیں ان کو اپنے اہل عیال کو سکھاؤ گے تو خود بھی جہنم کی آگ سے محفوظ رہو گے اور اپنے گھر والوں کو بھی جہنم کی آگ سے محفوظ رکھوگے۔ پھرامام صادق ؑ نے ایک نمونہ قرآن سے پیش کرتے ہوئے فرمایا: جسطرح قرآن میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم دیں اور خود بھی نماز کی پابندی کریں ، جس طرح حضرت اسماعیل اپنے اہل و عیال کو نماز و زکات کا حکم دیتے تھے اور وہ اللہ کے رسول اور وعدوں کے پابند اور خدا کے پسندیدہ نبی تھے۔

قَالَ الصادق (ع): لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ اَلْآيَةُ - يٰا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ نٰاراً قَالَ اَلنَّاسُ يَا رَسُولَ اَللَّهِ كَيْفَ نَقِي أَنْفُسَنَا وَ أَهْلِينَا قَالَ اِعْمَلُوا اَلْخَيْرَ وَ ذَكِّرُوا بِهِ أَهْلِيكُمْ فَأَدِّبُوهُمْ عَلَى طَاعَةِ اَللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ أَ لاَ تَرَى أَنَّ اَللَّهَ يَقُولُ لِنَبِيِّهِ وَ أْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاٰةِ وَ اِصْطَبِرْ عَلَيْهٰا وَ قَالَ وَ اُذْكُرْ فِي اَلْكِتٰابِ إِسْمٰاعِيلَ إِنَّهُ كٰانَ صٰادِقَ اَلْوَعْدِ وَ كٰانَ رَسُولاً نَبِيًّا وَ كٰانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلاٰةِ وَ اَلزَّكٰاةِ وَ كٰانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا.

اس روایت کی روشنی میں والدین پر ضروری ہے کہ وہ دین کے تمام فرائض اور واجبات اولاد کو سکھائیں اور بہترین آداب اور خوبیاں ان کو تعلیم دیں اور تمام برائیوں اور گناہوں سے دور رکھیں ۔اس طریقے سے خود بھی جہنم سے نجات اور جنت کو پانے میں کامیاب ہو ں گے اور اپنی اولاد کو بھی جہنم سےبچائیں گے ۔

سونے کے آداب

سوال ۱:سونے کے وہ آداب بیان کریں جو سرور کائنات نے بی بی زہرا کو تعلیم دئیے؟

جواب: سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے سونے سے پہلے چار آداب و اعمال جناب زہرا سلام اللہ علیہا کو تعلیم دیئے تھے اور سیدہ کونین ؑ پوری زندگی سونے سے پہلے ان آداب اور اعمال کو انجام دیتی تھیں۔

حضرت زہرا ؑ نے فرمایا :ایک شب میں سونے جارہی تھی کہ اتنے میں سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے حجرے میں داخل ہوئے اور جب دیکھا کہ میں سونے کے لیے تیار ہوں تو سونے کے آداب تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: اے بیٹی اس وقت نہ سونا جب تک تم:

۱- ختم قرآن نہ کر لو ؛ ۲-تمام انبیاء کو اپنے لیے شفیق قرار دے کر سونا ،

۳-مومنین کو خوشحال کر کے سونا ۴-حج اور عمرہ کر کے سونا۔

یہ کہہ کر سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں مشغول ہو گئے اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا:بابا جان! اس مختصر وقت میں کس طرح میں ختم قرآن کروں؛ حج اور عمرہ انجام دوں؛ انبیاء کو اپنا شفیع اور مومنین کو خوشحال کروں؟ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے تبسم کر تے فرمایا : اے بیٹی ! جب تین مرتبہ سونے سے پہلے سورہ توحید پڑھ لیں تو خداوند متعال مکمل قرآن پڑھنے کا ثواب عطا کرتا ہے۔ جب آپ مجھ پر اور تمام انبیاء پر درود پڑھ کر سو ؤ گی تو مجھ سمیت تمام انبیاء آپ کی شفاعت کریں گے۔ حضرت زہرا ؑخود قیامت کے دن سب سے زیادہ شفاعت کرنے والی ہیں انبیاء اور آل محمد کی شفاعت پانے کا طریقہ جناب زہرا کے ذریعے سے ہمیں تعلیم دیا ہے ۔ وہ یہ کہ انبیاء پر اس طرح سے درود پڑھیں:

(الل ہ م صل علی محمد آل محمد علی جمیع الانبیاء والمرسلین ) ۔

جب آپ مومنین کے لیے استغفار کرو گی تو کائنات کے تمام مومنین و مومنات آپ سے راضی ہوں گے اس طرح سے مومنین کے لئے مغفرت طلب کریں : (اللہم اغفرللمومنین والمومنات والمسلمین والمسلمات)۔

جب آپ تسبیحات اربع پڑھ کر سو ئیں گی، تو خداوند متعال حج اور عمرہ کا ثواب عطا کرتا ہے ۔

( سبحان الل ہ والحمدلل ہ ولا ال ہ الا الل ہ والل ہ اکبر )

عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ علي‌ها السلام قالَتْ: دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللّهِ صلى الله عليه وآله وسلم وَ قَدْ إِفْتَرَشْتُ فِراشى لِلنَّوْمِ، فقالَ: يا فاطِمَةُ لا تَنامى إلاّ وَ قَدْ عَمِلْتِ أَرْبَعَةً: خَتَمْتِ القرآن ، وَ جَعَلْتِ الاَْنـْبِياءَ شُفَعائَكِ، وَ أَرْضَيتِ الْمُؤْمِنينَ عَنْ نَفْسِكِ، وَ حَجَجْتِ وَ اعْتَمَرْتِ، قالَ هذا وَ أَخَذَ فِى الصَّلوةِ، فَصَبَرْتُ حَتّى أَتَمَّ صَلاتَهُ، قُلتُ: يا رَسُولَ اللّهِ أَمَرْتَ بِأَرْبَعَة لا أَقْدِرُ عَلَي‌ها فى هذَا الْحالِ! فَتَبَسَّمَ (صلى الله عليه وآله وسلم) وَ قال: إِذا قَرَأْتِ قُل هُوَ اللّهُ أَحَدٌ ثَلاثَ مَرّات فَكَأنَّكِ خَتَمْتِ القرآن ، وَ إِذا صَلَّيتِ عَلَىَّ وَ عَلَى الاَْنـْبِياءِ قَبْلى كُنّا شُفَعاءَكِ يوْمَ الْقِيمَةِ، وَ إِذا اسْتَغْفَرْتِ لِلْمُؤْمِنينَ رَضُوا كُلُّهُمْ عَنْكِ، وَ إِذا قُلْتِ: سُبْحانَ اللّهِ وَ الْحَمْدُ لِلّهِ وَ لا إِلَهَ إِلاَّ اللّهُ وَ اللّهُ أَكْبَرُ، فَقَدْ حَجَجْتِ وَ اعْتَمَرْتِ.

سوال۲ : حضرت امام رضا ؑ کے فرمان کے مطابق کو سونے کے آداب بیان کریں؟

جواب : حضرت امام رضا نے سونے کے آداب اور اعمال کو تعلیم دیتے ہوئے فرمایا : ہم آل محمد سونے سے پہلے دس اعمال انجام دیتے ہیں اس کے بعد سو تےہیں، وہ دس اعمال اور آداب یہ ہیں:

سونے سے پہلے وضو کرنا ،

حضور کا فرمان ہے جو سونے سے پہلے وضو کرے گا تو خداوند عالم اسے پوری رات جاگنے اور عبادت کرنے کا ثواب عطا کرے گا۔ جیساکہ جناب سلمان سے روایت ہے ۔ میں نےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے سنا : آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ارشاد فرمایا: جو شخص با وضو ہوکر سوئے تو خداوند منان اسے رات بھر عبادت میں مشغول رہنے کا ثواب عطا کرتا ہے ۔

عن سلمان : سَمِعْتُ حَبِيبِي رَسُولَ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ يَقُولُ مَنْ بَاتَ عَلَى طُهْرٍ فَكَأَنَّمَا أَحْيَا اَللَّيْلَ كُلَّهُ فَأَنَا أَبِيتُ عَلَى طُهْرٍ...

۱: سونے سے پہلے وضو کرنا ، ۶: روبہ ہوکرقبلہ سونا ؛

۲: دائیں کروٹ سونا؛ ۷ : سورہ حمد پڑھتے ہوئے سونا؛

۳: ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ؛ ۸ :تین مرتبہ، سورہ توحید: قل ھو اللہ احد پڑھنا؛

۴: ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا؛ ۹ : آیت الکرسی پڑھنا؛

۵: ۳۳ مرتبہ الحمدللہ پڑھنا ؛ ۱۰-آیت شہادت پڑھ کے سونا؛

اَلْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ اَلْعَلَوِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ مُوسَى اَلرِّضَا عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَقُولُ: لَنَا أَهْلَ اَلْبَيْتِ عِنْدَ نَوْمِنَا عَشْرُ خِصَالٍ اَلطَّهَارَةُ وَ تَوَسُّدُ اَلْيَمِينِ وَ تَسْبِيحُ اَللَّهِ ثَلاَثاً وَ ثَلاَثِينَ وَ تَحْمِيدُهُ ثَلاَثاً وَ ثَلاَثِينَ وَ تَكْبِيرُهُ أَرْبَعاً وَ ثَلاَثِينَ وَ نَسْتَقْبِلُ اَلْقِبْلَةَ بِوَجْهِنَا وَ نَقْرَأُ فَاتِحَةَ اَلْكِتَابِ وَ آيَةَ ا َلْكُرْسِيِّ وَ شَهِدَ اَللّٰهُ أَنَّهُ لاٰ إِلٰهَ إِلاّٰ هُوَ إِلَى آخِرِ اَلْآيَةِ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَخَذَ بِحَظِّهِ مِنْ لَيْلَتِهِ

سونے سے پہلے ، وضو اور سورہ واقعہ پڑھنے کی فضیلت

سوال۳: باوضو ہو کرسونے اور سورہ واقعہ پڑھنے کا فائدہ روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب : سونے سے پہلے وضو کرنے کی بہت زیادہ تاکید ہے اور اس کا عظیم اجر و ثواب بیان ہوا ہے۔حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: جو شخص وضو کر کے سو ئے، خداوند متعال اس شخص کو پوری رات جاگنے اور عبادت کرنے کا ثواب عطا کرتا ہے۔

ایک اور روایات میں ہے سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :جو شخص باوضو ہوکرسوئےاور اسے موت آجائے تو خدا اسے شہید کا رتبہ اور مقام عطا کرتا ہے۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جناب انس کو ہمیشہ باوضو رہنے اور باوضو ہوکر سونے کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: اے انس! ہمیشہ باوضو رہو ، اللہ تعالیٰ ٰتمہاری زندگی میں برکت عطا کرے گا اور دن ، رات باوضو رہو اور اگر وضو کی حالت میں موت آجائے تو شہادت کا رتبہ پاؤ گے۔ اور جس سے بھی ملاقات ہو اسے سلام کرو اس طرح خدا تمہاری نیکیوں میں اضافہ کرے گا ، جب بھی گھر میں داخل ہو سلام کرو اس سے خدا مال میں برکت عطا کرتا ہے۔ اور مسلمانوں میں سے بزرگو ں کی عزت و احترام کرو اور چھوٹوں سے پیار و محبت کرو تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں میرے ساتھ محشور کرے ۔

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : يَا أَنَسُ أَكْثِرْ مِنَ اَلطَّهُورِ يَزِدِ اَللَّهُ فِي عُمُرِكَ وَ إِنِ اِسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ بِاللَّيْلِ وَ اَلنَّهَارِ عَلَى طَهَارَةٍ فَافْعَلْ فَإِنَّكَ تَكُونُ إِذَا مِتَّ عَلَى اَلطَّهَارَةِ شَهِيداً وَ صَلِّ صَلاَةَ اَلزَّوَالِ فَإِنَّهَا صَلاَةُ اَلْأَوَّابِينَ وَ أَكْثِرْ مِنَ اَلتَّطَوُّعِ تُحِبَّكَ اَلْحَفَظَةُ وَ سَلِّمْ عَلَى مَنْ لَقِيتَ يَزِدِ اَللَّهُ فِي حَسَنَاتِكَ وَ سَلِّمْ فِي بَيْتِكَ يَزِدِ اَللَّهُ فِي بَرَكَتِكَ وَ وَقِّرْ كَبِيرَ اَلْمُسْلِمِينَ وَ اِرْحَمْ صَغِيرَهُمْ أَجِئْ أَنَا وَ أَنْتَ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ كَهَاتَيْنِ وَ جَمَعَ بَيْنَ اَلْوُسْطَى وَ اَلْمُسَبِّحَةِ

اسی طرح امام صادق کا فرمان ہےجو شخص باوضو سو ئے اس شخص کو پروردگار مسجد میں پوری رات نماز پڑھنے والے شخص جتنا ثواب عطا کرتا ہے۔

مَن تَطَهَّرَ ثُمّ أوى إلى فِراشِهِ ، باتَ و فِراشُهُ كمَسجِدِهِ ، فإن ذَكرَ أنّهُ على غَيرِ وُضوءٍ فلْيَتَيمَّمْ مِن دِثارِهِ كائنا ما كانَ ، فإن فَعَلَ ذلكَ لَم يَزَلْ في الصَّلاةِ و ذِكرِ اللّه ِ عَزَّ و جلَّ

سونے سے پہلے سورہ واقعہ کی تلاوت کرنا

اسی طرح سونے سے پہلے سورہ واقعہ پڑھ کر سونے کی بہت زیادہ تاکید اور بہت زیادہ اجر و ثواب اور فوائد روایات میں بیان ہوئے ہیں۔

روایات میں آیا ہے جو شخص سورہ واقعہ پڑھ کر سو ئے خدا اس کے رزق میں وسعت اور فراوانی عطا کرتا ہے اور وہ ہرگز فقر و غربت میں مبتلا نہیں ہوتا رزق کی فراوانی میں ہر رات سورہ واقعہ پڑھنا بہت زیادہ موثر و مفید ہے۔ جیسا کہ سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے جو شخص ہر رات سونے سے پہلے سورہ واقعہ کی تلات کرے وہ ہرگز فقر وغربت میں مبتلا نہیں ہوگا۔

سَمِعْتُ رَسُولَ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ يَقُولُ مَنْ قَرَأَ سُورَةَ اَلْوَاقِعَةِ كُلَّ لَيْلَةٍ لَمْ تُصِبْهُ فَاقَةٌ أَبَدا

حضرت امام باقر ؑنے سونے سے پہلے سورہ واقعہ پڑھنے کی تاکید اور اس کے فوائد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :جو شخص سورہ واقعہ پڑھ کر سو ئے وہ قیامت کے دن اس طرح خدا کے حضور میں آئے گا کہ اس کا چہرہ سب سے زیادہ نورانی اور چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہا ہو گا۔

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ: مَنْ قَرَأَ اَلْوَاقِعَةَ كُلَّ لَيْلَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ لَقِيَ اَللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ وَ وَجْهُهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ اَلْبَدْرِ

اسی طرح حضرت امام صادق ؑ نے ہر شب جمعہ سورہ واقعہ پڑھنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: جو شخص ہر جمعرات کو سورہ واقعہ کی تلاوت کرے اللہ تعالیٰٰ اسے پانچ چیزیں عطا کرتا ہے:

۱- یہ شخص محبو ب خدا ہوگا؛

۲- لوگوں کے نزدیک بھی محبوب و پسندیدہ ہو گا؛

۳- دنیا کی پریشانیوں و مشکلات سے نجات پائے گا ؛

۴- اللہ تعالیٰٰ اس بندے کو فقرو غربت سے محفوظ رکھے گا؛

۵- قیامت کے دن یہ شخص مولائےئے کائنات کے ساتھ محشور ہوگا کیونکہ یہ سورہ، امیرالمومنین کا سورہ ہے ۔

عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: مَنْ قَرَأَ فِي كُلِّ لَيْلَةِ جُمُعَةٍ سُورَةَ اَلْوَاقِعَةِ ، أَحَبَّهُ اَللَّهُ وَ أَحَبَّهُ اَلنَّاسُ أَجْمَعِينَ وَ لَمْ يَرَ فِي اَلدُّنْيَا بُؤْساً أَبَداً وَ لاَ فَقْراً وَ لاَ فَاقَةً وَ لاَ آفَةً مِنْ آفَاتِ اَلدُّنْيَا وَ كَانَ مِنْ رُفَقَاءِ أَمِيرِ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ وَ هَذِهِ اَلسُّورَةُ لِأَمِيرِ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ خَاصَّةً لَمْ يَشْرَكْهُ فِيهَا أَحَدٌ.

ان روایات کی روشنی میں سورہ واقعہ کا پڑھ کر سونا اور باوضو سونا دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی اور خوش بختی کا باعث ہے۔ دنیا میں خدا رزق میں فراوانی عطا کرتا ہے اور آخرت میں چہرے کا نور عطا کرتا ہے اور نورانی ہستیوں کے ساتھ اس شخص کو محشور کرےگا ۔

آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت

اسی طرح آیت الکرسی بھی پڑھ کر سونے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے جو شخص آیت الکرسی کی ایک بار تلاوت کرتا ہے خدا، اسے ہزار دنیاوی پریشانیوں او رہزار اخروی پریشانیوں سے نجات عطا کرتا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: دنیا کی پریشانیوں میں سے فقر و غربت سے نجات عطا کرتا ہے اور آخرت کی پریشانیوں سے عذاب قبر سے نجات عطا کرتا ہے۔ اسی طرح امام نے فرمایا: میں آیت الکرسی کے ذریعے سے دنیا و آخرت دونوں میں درجات کی بلندی کے لئے مدد حاصل کرتا ہوں ۔

عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ ذِرْوَةً وَ ذِرْوَةُ اَلْقرآن آيَةُ اَلْكُرْسِيِّ ، مَنْ قَرَأَ آيَةَ اَلْكُرْسِيِّ مَرَّةً صَرَفَ اَللَّهُ عَنْهُ أَلْفَ مَكْرُوهٍ مِنْ مَكَارِهِ اَلدُّنْيَا وَ أَلْفَ مَكْرُوهٍ مِنْ مَكَارِهِ اَلْآخِرَةِ أَيْسَرُ مَكْرُوهِ اَلدُّنْيَا اَلْفَقْرُ وَ أَيْسَرُ مَكْرُوهِ اَلْآخِرَةِ عَذَابُ اَلْقَبْرِ وَ إِنِّي لَأَسْتَعِينُ بِهَا عَلَى صُعُودِ اَلدَّرَجَةِ

سونے سے پہلے آیت الکرسی کا پڑھنا ، روایات میں آیا ہے بلاؤں ، خوف و ڈر سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے جو شخص آیت الکرسی کی تلاوت کرکے سوئے اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے۔

کھانے کے آداب

سوال: کھانے کے آداب، حضرت زہرا ؑکے فرمان کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: حضرت سیدہ کونین جناب زہرا نے فرمایا : کھانے کے بارہ آداب ہیں: جن کا جاننا ہر مسلمان پر لازم اور ضروری ہے ؛ ان میں سے چار آداب فرض ہیں اور چار سنت ہیں اور چار آداب ،آداب اسلامی میں شامل ہیں:

اور وہ چار جو فرض ہیں:

۱. جس ہستی نے دنیا میں بے شمار نعمتیں دی ہیں اس ہستی کی معرفت اور شناخت حاصل کرنا یعنی جب ہم دسترخوان پر کھانا کھانے جائیں تو اس بات کی معرفت ضروری ہے کہ دسترخوان پہ یہ ساری نعمتیں کس مہربان ذات نے عطا کی ہیں اس کی شناخت کے بعد کھانا شروع کریں۔

۲. کھانے کے بعد خدا کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کریں

۳. کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھیں ہر کھانے کے لیے الگ الگ بسم اللہ پڑھیں۔

۴. کھانے کے بعد خدا کا شکر ادا کریں اور اس طرح کہیں : شکر للہ یا الحمدللہ جتنا ممکن ہو پڑھیں ۔

وہ چار آداب جو سنت ہیں :

۱. کھانے سے پہلے ہاتھوں کو دھونا یا وضو کرنا ۲. ہاتھوں سے کھانا

۳. دائیں جانب بیٹھنا ۴. انگلیوں کو چاٹنا

وہ چار چیزیں جو آداب میں شامل ہیں:

۱. اپنے سامنے رکھے ہوئے کھانے سے کھانا ۲. خوب چبا کر کھانا

۳. چھوٹے چھوٹے لقمے بناکر کھانا ۴. کھانے کے دوران دوسری کی طرف نگاہ نہ کرنا یعنی یہ نہ دیکھیں کہ دوسرا کتنا کھا رہا ہے۔

عن فاطمة عليها السّلام : فِي اَلْمَائِدَةِ اِثْنَتَا عَشْرَةَ خَصْلَةً يَجِبُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَعْرِفَهَا أَرْبَعٌ مِنْهَا فَرْضٌ وَ أَرْبَعٌ سُنَّةٌ وَ أَرْبَعٌ تَأْدِيبٌ فَأَمَّا اَلْفَرْضُ فَالْمَعْرِفَةُ وَ اَلرِّضَا وَ اَلتَّسْمِيَةُ وَ اَلشُّكْرُ وَ أَمَّا اَلسُّنَّةُ فَالْوُضُوءُ قَبْلَ اَلطَّعَامِ وَ اَلْجُلُوسُ عَلَى اَلْجَانِبِ اَلْأَيْسَرِ وَ اَلْأَكْلُ بِثَلاَثِ أَصَابِعَ وَ لَعْقُ اَلْأَصَابِعِ وَ أَمَّا اَلتَّأْدِيبُ فَالْأَكْلُ مِمَّا يَلِيكَ وَ تَصْغِيرُ اَللُّقْمَةِ وَ تَجْوِيدُ اَلْمَضْغِ وَ قِلَّةُ اَلنَّظَرِ فِي وُجُوهِ اَلنَّاسِ

سوال: کھانے کے آداب،مولائے کائنات کے فرمان کی روشنی میں بیان کریں ؟

جواب: مولائے کائنات نے حضرت امام حسن کو کھانا ،کھانے کے آداب بیان کرتے ہوئے چار بنیادی اصولوں کو تعلیم دیا اور ساتھ ساتھ یہ فرمایا کہ اگر ان چار بنیادی اصولوں کی رعایت کرو گے تو کبھی بیمار نہیں ہو گے اور کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ہمیشہ تندرست اور صحت مند رہو گے۔

وہ چار اصول یہ ہیں:

۱. جب تک بھوک نہ لگے کھانا نہ کھاؤ۔

۲. کھانے کی خواہش باقی ہو تو کھانا ،کھانے سے ہاتھ اٹھا لو ۔

۳. لقمے کو خوب چبا کر کھاؤ ۔

۴. جب رفع حاجت کی ضرورت ہو تو فورا رفع حاجت کے لیے جاؤ ،حاجت کو روک کر رکھنا مضر اور بیماری کا باعث ہے۔

عَنِ اَلْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ قَالَ: قَالَ أَمِيرُ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ لِلْحَسَنِ اِبْنِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَا بُنَيَّ أَلاَ أُعَلِّمُكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ تَسْتَغْنِي بِهَا عَنِ اَلطِّبِّ فَقَالَ بَلَى يَا أَمِيرَ اَلْمُؤْمِنِينَ قَالَ لاَ تَجْلِسْ عَلَى اَلطَّعَامِ إِلاَّ وَ أَنْتَ جَائِعٌ وَ لاَ تَقُمْ عَنِ اَلطَّعَامِ إِلاَّ وَ أَنْتَ تَشْتَهِيهِ وَ جَوِّدِ اَلْمَضْغَ وَ إِذَا نِمْتَ فَأَعْرِضْ نَفْسَكَ عَلَى اَلْخَلاَءِ فَإِذَا اِسْتَعْمَلْتَ هَذَا اِسْتَغْنَيْتَ عَنِ اَلطِّبِّ

اس روایت میں مولائے کائناتؑ نے نہ صرف کھانے کے آداب بیان کیے بلکہ صحت و سلامتی کے چار بنیادی اصول بیان فرمائے ہیں اور ان اصولوں کی پابندی کرنے والوں کے لیے سلامتی اور عافیت کی خوشخبری دی ہے۔

۳۰

کھانے کےمکروہات

سوال: کھانا ،کھاتے وقت کن باتوں سے منع کیا گیا ہے ؟

جواب: روایات میں کھانا کھاتے وقت چند باتوں سے منع کیا گیا اور وہ چیزیں مکروہ قرار دی گئی ہیں جن میں سے اہم ترین مکروہات یہ ہیں :

۱. زیادہ کھانا، کھانا ۲. کھانے میں عیب نکالنا ۳. زیادہ گرم کھانا، کھانا

۴. روٹی کو چھری سے کاٹنا ۵. روٹی کے اوپر کوئی دوسری چیز رکھنا ۶. مرغّن غذائیں کھانا

۷. کھانے کے دوران پانی پینا ۸. جلدی جلدی کھانا، کھانا ۹. تنہا اور اکیلے کھانا ،کھانا

۱۰. ہڈی کو مکمل صاف کرنا

۱۱. پھلوں کو مکمل طور پر نہ کھانا

۱۲. جن پھلوں کو چھلکے کے ساتھ کھایا جاتا ہے ان کا چھلکا اتارنا

۱۳. ان چیزوں کو کھانا جن کے کھانے سے صحت کے ضرر کا اندیشہ ہو ۱۴۔کھانے میں اسراف کرنا؛ یعنی کھانے کو ضائع کرنا گناہوں میں شامل ہے۔

یہ سب چیزیں کھانے میں مکروہ اور ناپسند ہیں جس کی وجہ سے منع کیا گیا ہے۔

سوال : کھانے کے آداب، روایات کی روشنی بیان کریں؟

جواب : روایات میں کھانے کے آداب میں سے بعض آداب کو بہت زیادہ تاکید سے بیان کیا گیا ہے ان میں سے چند یہ ہیں:

۱-کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا،

کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا، ضروری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے اور گھر میں برکت اور وسعت پیدا ہوتی ہے ،رزق وسیع ہوتا ہے، پریشانی اور مشکلات دور ہوتی ہیں۔ جیسا کہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے:کھانے سے پہلے ہاتھوں کا دھونا ، فقر وغربت کو دور کرتا ہے اور کھانے کے بعد ہاتھ کا دھونا پریشانیوں و مشکلات کو دور کرتا ہے اور بینائی کو تقویت دیتا ہے۔

قَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ: اَلْوُضُوءُ قَبْلَ اَلطَّعَامِ يَنْفِي اَلْفَقْرَ وَ بَعْدَهُ يَنْفِي اَللَّمَمَ وَ يُصِحُّ اَلْبَصَرَ

۲-گھر والوں کے ساتھ مل کر کھانا، کھانا

گھر والوں کے ساتھ مل کر کھانا، کھانا ؛ روایت میں آیا ہے کہ بہترین دسترخوان وہ ہے جس پر کھانے والے بہت زیادہ ہوں،خصوصا بچے اور یتیم جس دسترخوان پر ہوں۔ ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰٰ مومن اور اس کے اہل و عیال کو دوست رکھتا ہے۔ اور خدا کے نزدیک محبوب ترین عمل ، مرد مومن کا اپنے اہل و عیال کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھنا ہے۔لہذا جب سب مل کر کھانا کھاتے ہیں تو خداوند متعال رحمت کی نگاہ سے ان سب کو دیکھتا ہے اور اٹھنے سے پہلے سب کے گناہوں کو بخش دیتا ہے ۔

اس روایت میں سب کو مل کر کھانا کھانے کی تاکید کی گئی ہے اور یہ عمل باعث رحمت اور مغفرت قرار دیا گیا ہے۔

اِنَّ اللّه َ يُحِبُّ المُؤمِنَ وَ يُحِبُّ اَهْلَهُ وَوُلْدَهُ وَ اَحَبُّ شَى ءٍ اِلَى اللّه ِ تَعالى اَن يَرَى الرَّجُلَ مَعَ امَرأَتِهِ و وُلْدِهِ عَلى مائِدَةٍ يَأكُلونَ فَاِذَ ا اجتَمَعوا عَلَيْها نَظَرَ اِلَيْهِم بِالرَّحْمَةِ لَهُمْ فَيَغْفِرُ لَهُم قَبْلَ اَن يَتَفَرّقُوا مِنْ مَوْضِعِهِم ؛

۳-کھانے کی ابتداء بسم اللہ اور آخر میں الحمد للہ پڑھنا

ہر کام کا آغاز اللہ کے نام سے کرنا چاہیے خصوصاً جب کھانے کے لئے دسترخوان پر بیٹھیں تو اللہ کے نام یعنی بسم اللہ سے شروع کریں اور آخر میں الحمدللہ کہیں ۔ جیساکہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان میں آیا ہے: کھانے میں چار چیزیں جمع ہو جائیں تو وہ کامل اور بہترین کھانا ہے۔

۱-رزق حلال ہو ۳-ابتداء میں بسم اللہ پڑھیں

۲-دسترخوان پر بہت سارے کھانے والے جمع ہوں ۴-آخر میں الحمدللہ کہیں

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : اَلطَّعَامُ إِذَا جَمَعَ أَرْبَعَ خِصَالٍ فَقَدْ تَمَّ إِذَا كَانَ مِنْ حَلاَلٍ وَ كَثُرَتِ اَلْأَيْدِي عَلَيْهِ وَ سُمِّيَ اَللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى فِي أَوَّلِهِ وَ حُمِدَ فِي آخِرِهِ

۴-گھروالوں کی خواہش کے مطابق کھانا ، کھانا

کھانا، گھر والوں کی پسند اور خواہش کے مطابق کھانا چاہیے اور اپنی پسند کے کھانوں پر ، گھروالوں کو مجبور نہیں کرنا چاہیے۔جیساکہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: مومن اہل و عیال کی پسند اور خواہش کے مطابق کھانا ، کھاتا ہے اور منافق اپنی پسند کے کھانوں پر اہل و عیال کو مجبور کرتا ہے۔

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ:المُؤْمِنُ يَأْكُلُ بشَهْوَةِ أهْلِهِ ، و المُنَافِقُ يَأْكُلُ أهْلُهُ بِشَهْوَتِهِ

۵-گھروالوں پر خرچ اور انکی پسندیدہ غذائیں فراہم کرنا

گھریلو امور اور کھانے پینے کے امور میں بخل اور کنجوسی سے کام لینے کی مذمت کی گئی ہے بلکہ گھر کے تمام امور خاص طور پر کھانے ، پینے کی چیزوں میں سخاوت اور گھر والوں کی خوشی اور پسند کی غذائیں فراہم کرنے اور اہل وعیال پر خرچ کو بہت بڑی عبادت قرار دیا گیا ہے۔اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے زیادہ، گھر والوں پر خرچ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔جیساکہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : اگر انسان کے پاس انفاق کے لئے کچھ ہو جیسے پانچ کھجوریں ، پاینچ روٹیاں یا پانچ درہم یا دینار تو سب سے افضل ترین مواردمیں پہلے والدین پر، خود پر اورپھر اہل و عیال پر پھر غریب رشتہ داروں پر، غریب ہمسائیوں پر اور پھر خدا کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے اور یہ کمترین اجر کا مقام ہے۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص: خَمْسُ تَمَرَاتٍ اَوْ خَمْسُ قُرَصٍ اَوْ دَنَانِیرُ اَوْ دَرَاهِمُ یَمْلِکُهَا الْاِنْسَانُ وَ هُوَ یُرِیدُ اَنْ یُمْضِیَهَا، فَاَفْضَلُهَا مَا اَنْفَقَهُ الْاِنْسَانُ عَلَی وَالِدَیْهِ ثُمَّ الثَّانِیَةُ عَلَی نَفْسِهِ وَ عِیَالِهِ ثُمَّ الثَّالِثَةُ عَلَی قَرَابَتِهِ الْفُقَرَاءِ ثُمَّ الرَّابِعَةُ عَلَی جِیرَانِهِ الْفُقَرَاءِ ثُمَّ الْخَامِسَةُ فِی سَبِیلِ اللَّهِ وَ هُوَ اَخَسُّهَا اَجْراً.

۶-کھانے کے بعد سب کے لیے دعا کرنا

کھانے کے بعد سب کے لیے دعا کرنا اور خاص طورپر صاحب خانہ کے لئے دعا کرنا اور ان کے مرحومین کے لیے فاتحہ پڑھنا؛ اٹھنے کے بعد ان کا شکریہ ادا کرنا بہت ضروری ہے۔

۷- کھانے کے بعد خلال کرنا اور دانتوں کو صاف کرنا اور ممکن ہو تو مسواک کرنا

۸- چھری کے ساتھ روٹی کا کاٹنا مکروہ ہے ۔

۹-کھانے سے پہلے تھوڑا سا نمک چکھنے کا حکم ہے۔ بعض روایات میں کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد نمک کے چکھنے کوستر بیماریوں سے شفاءقرار دیا گیا ہے.جیساکہ رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : کھانے کا آغاز نمک سے کرو اور کھانے کا اختتام بھی نمک سے کرو۔ کیونکہ جو شخص کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد نمک چکھتاہے خدا وند ستر مختلف بلاؤں کو اس سے دور کرتا ہے۔ ان میں ایک جذام ہے۔

قَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ لِأَمِيرِ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ يَا عَلِيُّ اِفْتَتِحْ بِالْمِلْحِ فِي طَعَامِكَ وَ اِخْتِمْ بِالْمِلْحِ فَإِنَّهُ مَنِ اِفْتَتَحَ طَعَامَهُ بِالْمِلْحِ وَ خَتَمَهُ بِالْمِلْحِ دَفَعَ اَللَّهُ عَنْهُ سَبْعِينَ نَوْعاً مِنْ أَنْوَاعِ اَلْبَلاَءِ أَيْسَرُهَا اَلْجُذَامُ

۱۰-کھانے کی تعریف کرنا؛ سرور کائنات کھانے کی تعریف کرتے تھے اور کھانا کھلانے والوں کے لئے دعا فرماتے تھے۔

۱۱-کھانے میں غریبوں اور یتیموں کو شامل کرنا یا پھر غریبوں کو کھانا بھجوانا، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امام رضا ؑ غریبوں کے ساتھ ، کھانا تناول فرماتے یا ان کے لئے کھانا بھجواتے تھے۔

۳۱

سلام کرنے کی فضیلت

سوال: سلام کرنے کی اہمیت و فضیلت آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب :قرآن پاک کی آیات اور معصومین ؑکی روایات میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے -سلام کرنا ایک عظیم عبادت ہے ۔دین اسلام میں اس کی بہت زیادہ فضیلت اور اہمیت ہے۔ سلام کرنے والے کے لئے بیان ہوا کہ سلام کرنا باعث رحمت بھی ہے اور باعث مغفرت بھی، ایک دوسروں کے لیے الفت اور محبت کا سبب بھی۔

قرآن پاک میں سورہ نور میں رب العزت کا ارشاد ہے کہ: جب بھی تم کسی گھر میں داخل ہو تو ایک دوسرے پر سلام کیا کرو کیونکہ یہ سلام کرنا خدا کی طرف سے تمہارے لیے ایک تحفہ ہے اور سلام کرنا باعث برکت اور رحمت ہے۔

... فَإِذٰا دَخَلْتُمْ بُيُوتاً فَسَلِّمُوا عَلىٰ أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اَللّٰهِ مُبٰارَكَةً طَيِّبَةً كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اَللّٰهُ لَكُمُ اَلْآيٰاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۔

اور سورہ نور کی آیت نمبر ۲۷ میں ،گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا اور گھر والوں پر سلام کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اجازت اور سلام کے بغیر کسی کے گھر میں داخل ہونا ممنوع قرار دیا گیاہے۔ سلام کر کے کسی کے گھر میں جانا باعث خیر و برکت اور باعث الفت و محبت قرار دیا گیا ہے۔

يٰا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا لاٰ تَدْخُلُوا بُيُوتاً غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَأْنِسُوا وَ تُسَلِّمُوا عَلىٰ أَهْلِهٰا ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات اور آئمہ کی روایات میں ،سلام کو دین اسلام کی عظیم سنت اور عبادت قرار دیا گیا ہے اور کلام سے پہلے سلام کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ سلام کرنے والے کا عظیم مقام و مرتبہ بھی بیان ہواہے۔ سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ایک دوسرے کو سلام کیا کرو اور کلام سے پہلے ملاقات وگفتگو کا آغاز سلام سے کرو اور وہ شخص خدا اور رسول کی بارگاہ میں بہت مرتبے کا مالک ہے جو بات کرنے سے پہلے سلام کرتا ہے۔

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : أَوْلَى اَلنَّاسِ بِاللَّهِ وَ بِرَسُولِهِ مَنْ بَدَأَ بِالسَّلاَمِ

اس روایت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کو کلام سے پہلے سلام کریں اور سلام کرنا ، خداکی بارگاہ مین مقرب ہونے کا سبب ہے۔

ایک اور روایت میں سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جناب انس کو سلام کرنے کی تاکید کی اور سلام کے فوائد اور برکات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :جو بھی تم سے ملاقات کرے اس کو سلام کیا کرو، خداوند متعال تمہاری نیکیوں اور رحمتوں میں اضافہ کرے گا اور گھر میں سب کو سلام کیا کرو، گھر میں داخل ہونے سے پہلے سلام کر کے داخل ہو خدا تیرے گھر میں خیر و برکت اور رزق میں فراوانی عطا کرے گا۔ اور آپ نے مزید فرمایا: بزرگوں کا احترام کیا کرو اور چھوٹوں سے پیار کیا کرو ۔ ان امور کو انجام دو گے تو قیامت کے دن (جنت میں )میرے ساتھ ہوں گے

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : يَا أَنَسُ سَلِّمْ عَلَى مَنْ لَقِيتَ يَزِدِ اَللَّهُ فِي حَسَنَاتِكَ وَ سَلِّمْ فِي بَيْتِكَ يَزِدِ اَللَّهُ فِي بَرَكَتِكَ وَ وَقِّرْ كَبِيرَ اَلْمُسْلِمِينَ وَ اِرْحَمْ صَغِيرَهُمْ أَجِئْ أَنَا وَ أَنْتَ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ كَهَاتَيْنِ وَ جَمَعَ بَيْنَ اَلْوُسْطَى وَ اَلْمُسَبِّحَةِ

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ایک دوسرے کو سلام کرو اور تواضع اور سلام بہترین اخلاق کی نشانی ہے اور بزرگ ہستیوں کی سیرت ہے اور وہ انسان بڑا بخیل ہے جو دوسروں کو سلام نہیں کرتا۔

عن الصادق عليه السلام : و من التواضع أن تسلم على من لقيت. وَ قَالَ: إِنَّ اَللَّهَ يَقُولُ: اَلْبَخِيلُ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلاَمِ.

اس روایت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک دوسرے کو سلام کرنا بہترین اخلاق اور بہترین انسان کی نشانی اور سلام نہ کرنا بخیل اور حقیر انسان کی پہچان ہے۔

سلام کرنا ،بہترین آداب اور اخلاق سے پیش آنا ،جنتی انسانوں کی نشانی ہے اور روایات میں ہے کہ ایک شخص سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور حضرت سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! مجھے وہ عمل بتائیے جس کو انجام دوں تو یقینا جنت میں چلا جاؤں تو سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: تین کاموں کو انجام دو، خدا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں جنت میں مقام عطا کرے گا:

۱- دوسروں کو کھانا کھلانا ۲- سب کو سلام کرنا ۳- بہترین گفتگو اور نہایت اچھے انداز سے خوبصورت کلام کرنا ۔

عَنْ بَعْضِهِمْ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اَللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي اَلْجَنَّةَ قَالَ إِنَّ مِنْ مُوجِبَاتِ اَلْمَغْفِرَةِ بَذْلَ اَلطَّعَامِ وَ إِفْشَاءَ اَلسَّلاَمِ وَ حُسْنَ اَلْكَلاَمِ

قَالَ أَبُو اَلدَّرْدَاءِ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اَللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي اَلْجَنَّةَ قَالَ لاَ تَغْضَبْ

ان روایات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دوسروں کو کھانا ،کھلانا،اور ادب و اخلاق سے پیش آنا ،سلام کرنا، بہترین کلام اور گفتگو کرنا جنتیوں کی نشانی ہے۔

سلام کرنے کے آداب

سوال :سلام کرنے کے آداب، روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

روایات معصومین ؑمیں جہاں سلام کرنے کی بڑی تاکید اور عظیم آثار و فوائد بیان کیےگئے ہیں وہاں سلام کرنے کے کچھ آداب بھی بیان ہوئے ہیں۔ ان آداب کا خیال رکھنا، سلام کے اجر و ثواب میں اضافے کا باعث ہے۔ چند اہم آداب یہ ہیں:

۱- مؤدبانہ طریقے سے سلام کرو یعنی کہو: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، اس طر ح سلام ، سلام کامل ہے۔

امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ اس طرح سلام کرنے والے کو خداوند متعال تیس نیکیوں کا ثواب اور اجر عطا کرتا ہے۔

۲- سب کو سلام کرنا چاہیے۔ امیر ،فقیر چھوٹے، بڑے کا فرق نہیں کرنا چاہیے۔ سب کو سلام کرنا سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کو سلام کرتے تھے یہاں تک کہ بچوں کو بھی سلام کیا کرتے تھے۔

۳- سلام ،واضح لفظوں اور بلند آواز سے کرنا چاہیے اور جواب بھی واضح اور بلند آواز میں دینا چاہیے۔

۴- حضرت امام صادق علیہ السلام نے سلام کے آداب بیان کرتے ہوئے فرمایا:سوار ،پیدل چلنے والے کو ، چلنے والا، بیٹھے ہوئے کو ، کم لوگ زیادہ لوگوں کو اور چھوٹے، بڑوں کو سلام کریں ۔

عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: يُسَلِّمُ اَلرَّاكِبُ عَلَى اَلْمَاشِي وَ اَلْمَاشِي عَلَى اَلْقَاعِدِ وَ إِذَا لَقِيَتْ جَمَاعَةٌ جَمَاعَةً سَلَّمَ اَلْأَقَلُّ عَلَى اَلْأَكْثَرِ وَ إِذَا لَقِيَ وَاحِدٌ جَمَاعَةً سَلَّمَ اَلْوَاحِدُ عَلَى اَلْجَمَاعَةِ

۵-گھر میں داخل ہونے والے، گھر والوں کو ، بچے ،والدین کو ، شاگرد، استاد کو ، عوام ،علماء کو سلام کریں اور اسی طرح سب کو چاہیے کہ بزرگوں کو اور مسلمان ،ایک دوسرے کو سلام کریں۔ پوری امت کو چاہیے کہ وہ انبیاء و آل محمد پر درود و سلام بھیجیں ۔ جس طرح قرآن نے ان ہستوں پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

اور معاشرے میں سلام کو رائج کریں تاکہ معاشرے میں الفت ،محبت ختم نہ ہو اور لوگوں میں عزت واحترام کا اضافہ ہو۔ اس لئے کہ سلام کرنا جہاںرزق میں برکت و وسعت کا سبب ہے اسی طرح معاشرے میں الفت و محبت ، اخوت و بھائی چارگی کا باعث بھی ہے۔ سلام کرنے سے کینہ ، عداوت، نفرت کا خاتمہ ہوتا ہے اور دلوں کو جوڑنے اورالفت و محبت کے فروغ کا بھی باعث ہے۔ در نتیجہ ،خدا کی محبت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی محبت بھی حاصل ہوتی ہے۔

عیادت مریض

سوال: روایات کی روشنی میں عیادت مریض کی اہمیت و فضیلت کو بیان کریں؟

جواب: دین اسلام میں ایک اہم ترین عبادت، مریض کی عیادت کرنا اور مریض کی احوال پرسی اور اس کے ساتھ اس کی مدد کرنا اور اس کا سہارا بننا ہے۔

روایات میں مریض کی عیادت کرنے اور اس کی مدد کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور مریض کی عیادت کرنے والوں کو اجر عظیم اور جنت کا وعدہ دیا گیاہے۔ جیسا کہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا فرمان ہے جو شخص رضا ئےالہی کی خاطر کسی مریض کی عیادت کرےاور اس کی مشکل کو حل کرے تو عرش الہی سے آوازآتی ہے: اے فلاں ابن فلاں اس شخص کا نام لے کر خوشخبری دی جاتی ہے کہ پروردگار نے تمہارے سارے گناہوں کو بخش دیا اور تجھے پاک و پاکیزہ کر دیا ہے نیز تیرا مقام جنت میں قرار دیا ہے۔

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ : مَنْ عَادَ مَرِيضاً نَادَى مُنَادٍ مِنَ اَلسَّمَاءِ بِاسْمِهِ يَا فُلاَنُ طِبْتَ وَ طَابَ مَمْشَاكَ بِثَوَابٍ مِنَ اَلْجَنَّةِ

ایک اور مقام پر مریض کی تیمار داری کے عظیم اجر و ثواب کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: جو شخص رضائے الہی کے لئے کسی مومن کی عیادت کی خاطر گھر سے نکلے، اللہ تعالیٰ ٰ ہر قدم کے بدلے ستر ہزار نیکیوں کو لکھ دیتا ہے اور ستر ہزار گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ستر ہزار درجات کو بڑھا دیتا ہے اور ستر فرشتوں کو مقرر کرتا ہے جو قیامت تک اس کے لئےاستغفار اور دعا کرتے رہے گے۔

قَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : مَنْ عَادَ مَرِيضاً فَلَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَنْزِلِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَ مُحِيَ عَنْهُ أَلْفُ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَ يُرْفَعُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ وَ يُوَكَّلُ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ أَلْفِ مَلَكٍ يَقْعُدُونَ فِي قَبْرِهِ وَ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ إِلَى يَوْمِ اَلْقِيَامَةِ

ایک اور روایت میں ہے سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مریض کی عیادت کرنا ،مومنین اور مسلمین کے حقوق میں سے قرار دیتے ہوئے فرمایا : ایک مسلمان کا حق دوسرے مسلمان پر یہ ہے کہ جب کسی مسلمان سے ملاقات کرے تو اسے سلام کرے اور جب مریض ہو جائے تو اس کی عیادت کرے اور جب کسی مسلمان یا مومن کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرے۔ مومنین ایک دوسرے کے لیے دعا کریں، دوسروں کے لیے بھی وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، ایک دوسرے کی عزت واحترام کریں، ایک دوسرے کی مدد کریں ، ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں۔ ایک دوسرے کا دیدار اور ملاقات کریں۔ جب کسی کو دعوت دی جاتی ہے تو اسے قبول کرے، ایک دوسرے کی خوبیاں بیان کریں اور برائیوں کو چھپائیں ۔

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : لِلْمُؤْمِنِ عَلَى اَلْمُؤْمِنِ سَبْعَةُ حُقُوقٍ وَاجِبَةٍ مِنَ اَللَّهِ تَعَالَى إِجْلاَلُهُ فِي عَيْنِهِ وَ اَلْوُدُّ لَهُ فِي صَدْرِهِ وَ اَلْمُوَاسَاةُ لَهُ فِي مَالِهِ وَ أَنْ يُحْرِمَ لَهُ فِي غَيْبَتِهِ وَ أَنْ يَعُودَهُ فِي مَرَضِهِ وَ أَنْ يُشَيِّعَ جَنَازَتَهُ وَ أَنْ لاَ يَقُولَ بَعْدَ اَلْمَوْتِ إِلاَّ خَيْراً.

اسی طرح امام صادق ؑ نے بھی مومنین کے حقوق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ایک مومن کے دوسرے مومن پر سات حق ہیں ۔ ان حقو ق کا ادا کرنا اور خیال کرنا سب کے لئے ضروری ہے ۔اور وہ سات حقوق یہ ہیں:

۱-مومن کے لئے اسی چیز کو پسند جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

۲-جان و مال ، زبان اور ہر طرح سے اس کی مدد کرے۔

۳-مومن سے محبت کرے اور اس کو را ضی و خوش رکھنے کی کوشش کرے اور اس کی باتوں پر عمل کرے۔

۴- اس کے لیے راہنما اور ہادی بن کر ہمیشہ راہنمائی کرے۔

۵- بھوک و پیاس اور نا داری کی حالت میں اسے کھانا کھلانا، لباس دینا اور دیگر ضروریات کو پورا کرنا

۶- مومن کی ضروریات زندگی میں اس کا سہارا بنو

۷- جب بیمار ہو جائے تو عیادت کرو ، انتقال ہو جائے تو جنازہ میں شریک ہوں اور اس کی مشکلات میں اس کی مدد کرنا

عَنِ الْمُعَلَّی بْنِ خُنَیسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِی عَبْدِ اللَّهِ عَلَیهِ السَّلَامُ: مَا حَقُّ الْمُؤْمِنِ عَلَی الْمُؤْمِنِ؟

قَالَ: إِنِّی عَلَیک شَفِیقٌ، إِنِّی أَخَافُ أَنْ تَعْلَمَ وَ لَا تَعْمَلَ، وَ تُضَیعَ وَ لَا تَحْفَظَ.قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

قَالَ: لِلْمُؤْمِنِ عَلَی الْمُؤْمِنِ سَبْعَةُ حُقُوقٍ وَاجِبَةٍ وَ لَیسَ مِنْهَا حَقٌّ إِلَّا وَ هُوَ وَاجِبٌ عَلَی أَخِیهِ إِنْ ضَیعَ مِنْهَا حَقّاً خَرَجَ مِنْ وَلَایةِ اللَّهِ وَ تَرَک طَاعَتَهُ وَ لَمْ یکنْ لِلَّهِ فِیهَا نَصِیبٌ: قَالَ: أَیسَرُ حَقٍّ مِنْهَا أَنْ تُحِبَّ لَهُ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِک، وَ أَنْ تَکرَهَ لَهُ مَا تَکرَهُهُ لِنَفْسِک وَ الثَّانِی أَنْ تُعِینَهُ بِنَفْسِک وَ مَالِک وَ لِسَانِک وَ یدِک وَ رِجْلِک.وَ الثَّالِثُ أَنْ تَتَّبِعَ رِضَاهُ وَ تَجْتَنِبَ سَخَطَهُ وَ تُطِیعَ أَمْرَهُ.وَ الرَّابِعُ أَنْ تَکونَ عَینَهُ وَ دَلِیلَهُ وَ مِرْآتَهُ.وَ الحَقُّ الْخَامِسُ أَنْ لَا تَشْبَعَ وَ یجُوعُ وَ تَرْوَی وَ یظْمَأُ وَ تَکتَسِی وَ یعْرَی.وَ السَّادِسُ أَنْ یکونَ لَک خَادِمٌ [وَ لَیسَ لَهُ خَادِمٌ ] وَ لَک امْرَأَةٌ تَقُومُ عَلَیک وَ لَیسَ لَهُ امْرَأَةٌ تَقُومُ عَلَیهِ أَنْ تَبْعَثَ خَادِمَک یغْسِلُ ثِیابَهُ، وَ یصْنَعُ طَعَامَهُ، وَ یهَیئُ فِرَاشَهُ.وَ السَّابِعُ أَنْ تُبِرَّ قَسَمَهُ وَ تُجِیبَ دَعْوَتَهُ وَ تَعُودَ مَرْضَتَهُ وَ تَشْهَدَ جَنَازَتَهُ وَ إِنْ کانَتْ لَهُ حَاجَةٌ تُبَادِرُ مُبَادَرَةً إِلَی قَضَائِهَا وَ لَا تُکلِّفْهُ أَنْ یسْأَلَکهَا.فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِک وَصَلْتَ وَلَایتَک بِوَلَایتِهِ وَ وَلَایتَهُ بِوَلَایتِک.

عیادت مریض کے آداب

سوال: عیادت مریض کے آداب کو بیان کریں ؟

جواب: جس طرح دین اسلام میں مریض کی عیادت کرنے کی تاکید کی گئی ہے وہاں بہت سارے آداب اور امور کا خیال رکھنے کی بھی تاکید کی گئی کی گئی ہے روایات میں عیادت مریض کے بہت سارے آداب بیان کیے گئے کہ جن میں سے چند اہم یہ ہیں:

۱- عیادت کے لیے خالی ہاتھ نہ جائیں

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :مریض کی عیادت کے لیے خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے۔ مریض کی ضرورت کی اشیاء لے کر جائیں۔

۲- مریض کے لیے دعا کرنا

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب کسی بیمار کی عیادت کے لیے جائیں تو اس کی شفا اور سلامتی کے لیے دعا کریں اور خود اس مریض سے بھی دعا کی التماس کریں۔اس لیے کہ خداوند تعالیٰٰ مریض کی دعا کو مستجاب فرماتا ہے۔

۳- مریض کی خواہش کا پورا کرنا

اگر مریض کسی چیز کے کھانے کی خواہش کرے تو اسے پورا کرنا چاہیے جیساکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو مریض کی خواہش کو پورا کرتا ہے خداوند متعال اس کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے جنت کے میں مرتبہ عطا کرتا ہے۔

۴- مریض کی دلجوئی کرنا اور تسلی دینا

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :جب کسی بیمار کی عیادت کے لیے جاؤ تو اس کی دلجوئی کرو اور اس کو شفا کی امید دو اور اسے تسلی دے کر خوشحال کرو اس کے لیے تمہاری باتیں مریض کے لیے موثر ہیں۔

۵ - بیمار کی بیماری کی مشکلات کو حل کرنا

عیادت کے لیے جانے کا مقصد صرف احوال پرسی کرنا نہیں ہے بلکہ مریض کی مشکلات کو حل کرنا اور مریض کو پریشانی اور مشکلات سے نجات دینا اور مشکل وقت میں اس کے لیے سہارا بننا ہے۔ جیساکہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرے اور اس کی مشکل کو حل کرے تو خداوند عالم اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اسے اجر عظیم عطا کرتا ہے۔

۶- عیادت کے لیے ہم آہنگی اور اجازت لے کر جانا

بہت سارے اوقات میں بیمار، عیادت کی حالت میں نہیں ہوتا اور بیمار نہیں چاہتا کہ اس کی عیادت کے لیے کوئی آئے ۔اس لیے روایات میں ہم آہنگی کر کے جانا اور اجازت کے ساتھ عیادت کے لیے جانے کا حکم دیا گیا ہے۔

۷- مریض کی خدمت اور تیمارداری کرنا

بہت سارے اوقات میں بیمار کو خدمت اور تیمارداری کی ضرورت ہوتی ہے ایسی حالت میں بیمار کی خدمت کرنا اور تیمار داری کو عظیم عبادت قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے جو شخص کسی بیمار کی ایک دن یا ایک رات خدمت کرے خداوند متعال جناب ابراہیم خلیل کے ساتھ محشور کرے گا اور پل صراط سے بجلی کی طرح گزر کے جنت میں داخل ہوجائے گا۔

۸- تمام مومنین کی عیادت کرنا

عیادت کو صرف اپنے عزیزوں اور اپنے خاندان تک محدود نہیں کرنا چاہیے تمام مسلمانوں اور تمام مومنین کی عیادت کرنا چاہیے۔ جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے ماننے والوں کو چاہیے کہ تمام مسلمانوں اور تمام مومنین کی عیادت کریں اور سب کے لیے سہارا بنیں تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ اہل بیت نے اپنے ماننے والوں کی کتنی اچھی تربیت کی ہے۔

۹- مختصر عیادت

روایات میں آیا کہ جتنا ممکن مختصر عیادت کریں جیساکہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا فرمان ہے: افضل ترین عبادت مختصر ترین عیادت ہے مگر مریض خواہش کرے تو زیادہ بیٹھیں۔

۱۰ - مریض کے سامنے نہ کچھ کھائیں اور اس کو نا امید کرنے کی باتیں نہ کریں

روایات میں مریض کے پاس کھانے پینے اور مریض کو نا امید کرنے والی باتوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔جیسا کہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کوئی شخص ،مریض کے پاس جا کر کھانا پینا شروع کر دے خصوصا ایسی چیزیں کھانا شروع کر دے کہ جو مریض نہیں کھا سکتا تو خداوند متعال اس کی عیادت کا ثواب ضائع کر دیتا ہے۔

۳۲

حقوق والدین

حقوق والدین آیات و روایات کی روشنی میں

سوال: حقوق والدین کو آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: قرآن پاک کی آیات میں اور معصومین﷨کی روایات میں والدین کے ساتھ نیکی کرنے اور والدین کی خدمت کرنے اور ان کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی بہت زیادہ تاکید اور سفارش کی گئی ہے۔جیساکہ سورہ شوری کی ۲۳ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت و بندگی خا حکم دینے کے بعد والدین کے ساتھ نیکی اور ان کی عزت و احترام کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ قَضىٰ رَبُّكَ أَلاّٰ تَعْبُدُوا إِلاّٰ إِيّٰاهُ وَ بِالْوٰالِدَيْنِ إِحْسٰاناً إِمّٰا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ اَلْكِبَرَ أَحَدُهُمٰا أَوْ كِلاٰهُمٰا فَلاٰ تَقُلْ لَهُمٰا أُفٍّ وَ لاٰ تَنْهَرْهُمٰا وَ قُلْ لَهُمٰا قَوْلاً كَرِيماً وَ اِخْفِضْ لَهُمٰا جَنٰاحَ اَلذُّلِّ مِنَ اَلرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَبِّ اِرْحَمْهُمٰا كَمٰا رَبَّيٰانِي صَغِيراً ۔

اور آپ کے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس ہوں اور بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا بلکہ ان سے عزت و تکریم کے ساتھ بات کرنا۔ اور مہر و محبت کے ساتھ ان کے آگے انکساری کا پہلو جھکائے رکھو اور دعا کرو: میرے رب! ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے پچپن میں (شفقت سے) پالا تھا۔

دین اسلام میں خدا کی عبادت اور بندگی کے بعد سب سے زیادہ والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ والدین کی خدمت دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت ہے ۔جو شخص والدین کی خدمت کرتا ہے اور والدین کی رضا اور خوشنودی حاصل کرتا ہے خداوند متعال اس شخص کو دنیا میں بھی کامیابی عطا کرتا ہے اور آخرت میں عظیم درجہ اور مقام عطا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نےقرآن میں تمام انسانوں کو ماں باپ کی زحمتوں اور مشقت اور ماں باپ کی خدمت کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے ماں باپ نے تمہاری تربیت اور پرورش کرنے میں بہت ساری مشقتیں اور زحمتیں اٹھائی ہیں ان کا شکریہ ادا کرتے رہو اور اسی طرح خدا کی نعمتوں کا بھی شکربجالاتے رہو۔

وَ وَصَّيْنَا اَلْإِنْسٰانَ بِوٰالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلىٰ وَهْنٍ وَ فِصٰالُهُ فِي عٰامَيْنِ أَنِ اُشْكُرْ لِي وَ لِوٰالِدَيْكَ إِلَيَّ اَلْمَصِيرُ ۔

مولائے کائنات علیہ السلام نے فرمایا :ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا اور ماں باپ کی خدمت کرنا ،دین اسلام میں بزرگ ترین فریضہ اور واجب ہے ۔

بِرُّ اَلْوَالِدَيْنِ أَكْبَرُ فَرِيضَةٍ.

اس فرمان کی روشنی میں والدین کی خدمت اور والدین کے ساتھ نیکی اور احسان کرنا دین اسلام میں سب سے زیادہ افضل ترین عبادت ہے۔ جب کسی ایک شخص نے حضرت سے سوال کیا کہ دین اسلام میں افضل ترین عبادت کون سی ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اول وقت میں نماز ادا کرنا اور والدین کی خدمت کرنا اور دین کی مضبوطی کے لیے جہاد کرنا ہے۔

سألت النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: أيُّ الأعمالِ أفضَلُ؟ قال: الصَّلاةُ لأوَّلِ وقتِها. قلتُ: ثمَّ ماذا يا رسولَ اللهِ؟ قال: بِرُّ الوالِدَينِ إحسانًا. قلتُ: وماذا يا رسولَ اللهِ؟ قال: الجِهادُ في سبيلِ اللهِ

ان آیات و روایات کی روشنی میں ہمیں ہمیشہ والدین کی خدمت کرنے و ان کو عزت و احترام ،ان کی خوشنودی اوردعا لینی چاہیے اور ہمیشہ اول وقت میں نماز ادا کرنی چاہیے ۔ تاکہ دنیا و آخرت کی فلاح و نجات اور خوشنودی خدا کے حقدار قرار پائیں۔

سوال: حقوق والدین اور اولاد کی ذمہ داری کو روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: روایات میں والدین کے بہت سارے حقوق اور والدین کے حوالے سے اولاد کی بہت ساری ذمہ داریوں کو بیان کیا گیا ہے۔ جن میں سے چند اہم ذمہ داریوں کو روایات کی روشنی میں بیان کرتے ہیں:

والدین کی خدمت کرنا

والدین کی خدمت اور پوری زندگی ان کی مدد کرنا اہم ترین فریضہ ہے جیسا کہ مولائے کائنات (ع)نے فرمایا: والدین کے ساتھ نیکی اور ان کی خدمت ، دین اسلام میں بزرگ ترین فرض اور واجب ہے۔

بِرُّ اَلْوَالِدَيْنِ أَكْبَرُ فَرِيضَةٍ

حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ جب جہاد واجب ہو گیا تو ایک جوان سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور عرض کرنے لگا ؛اے اللہ کے رسول! مجھے جہاد پے جانے کا بہت شوق ہے۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: اگر تم جہاد پے جاؤ گے اور جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے تو خدا تجھے شہداء کے ساتھ عظیم مقام اور مرتبہ عطا کرے گا، لیکن اگرجہاد کے غازی بن کر پلٹے توخداوند متعال جہاد کا ثواب بھی عطا کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بھی بخش دے گا۔ اس جوان کے شوق میں اضافہ ہوا لیکن حضور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا ہے۔اے اللہ کے رسول !میرے ماں باپ دونوں بوڑھے ہیں اور وہ مجھ سے محبت بھی کرتے ہیں اور میرے دور ہونے سے وہ ناراض ہوں گے۔تو رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :تم ماں باپ کے ساتھ رہو،خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہارا ان کے پاس ایک دن ورات خدمت کرنا ،ایک سال کے جہاد سے افضل ہے۔

عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ اَلصَّادِقِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اَللَّهِ ، إِنِّي رَاغِبٌ فِي اَلْجِهَادِ نَشِيطٌ قَالَ فَجَاهِدْ فِي سَبِيلِ اَللَّهِ فَإِنَّكَ إِنْ تُقْتَلْ كُنْتَ حَيّاً عِنْدَ اَللَّهِ تُرْزَقُ وَ إِنْ مِتَّ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُكَ عَلَى اَللَّهِ وَ إِنْ رَجَعْتَ خَرَجْتَ مِنَ اَلذُّنُوبِ كَمَا وُلِدْتَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اَللَّهِ إِنَّ لِي وَالِدَيْنِ كَبِيرَيْنِ يَزْعُمَانِ أَنَّهُمَا يَأْنَسَانِ بِي وَ يَكْرَهَانِ خُرُوجِي فَقَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ أَقِمْ مَعَ وَالِدَيْكَ فَوَ اَلَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُنْسُهُمَا بِكَ يَوْماً وَ لَيْلَةً خَيْرٌ مِنْ جِهَادِ سَنَةٍ

حضرت امام صادق علیہ السلام نے والدین کے حقوق کے حوالے سے اولاد کی ذمہ داریوں کو بیان کرتے ہوئے ایک جامع روایت میں کئی حقوق اور کئی ذمہ داریوں کو بیان فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مولائے نے فرمایا :والدین کی اطاعت اور ان کے فرمان پر عمل کرنا اور ان کے ساتھ نیکی و احسان کرنا واجب ہے۔ان کی عزت و احترام اور ان کے ساتھ تواضع اور فروتنی سے پیش آنا ضروری ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے زندگی گزارنا ضروری ہے کیونکہ خدا نے اپنا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ والدین کا شکریہ ادا کرنے کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔ اس فرمان کی روشنی میں والدین کے حقوق یہ ہیں:

۱-والدین کی خدمت کرنا ۲-والدین کی اطاعت ۳-نیکی و احسان

۴-تواضع واحترام ۵-تشکر اور قدردانی ۶-والدین کے مرنے کے بعد ان کو یاد کرنا اور دعا

اَلرِّضَاعَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ بِطَاعَةِ اَلْأَبِ وَ بِرِّهِ وَ اَلتَّوَاضُعِ وَ اَلْخُضُوعِ وَ اَلْإِعْظَامِ وَ اَلْإِكْرَامِ لَهُ إِلَى أَنْ قَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ تَابِعُوهُمْ فِي اَلدُّنْيَا أَحْسَنَ اَلْمُتَابَعَةِ بِالْبِرِّ وَ بَعْدَ اَلْمَوْتِ بِالدُّعَاءِ لَهُمْ وَ اَلتَّرَحُّمِ عَلَيْهِمْ فَإِنَّهُ رُوِيَ أَنَّ مَنْ بَرَّ أَبَاهُ فِي حَيَاتِهِ وَ لَمْ يَدْعُ لَهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ سَمَّاهُ اَللَّهُ عَاقّاً ۔

۷- والدین کے لیے اعمال خیر اور واجبات کو انجام دینا

والدین کے حقوق اور اولاد کی ذمہ داریوں اورفرائض میں سے ایک اہم ترین فریضہ اور ذمہ داری یہ ہے کہ والدین کے واجبات اور فرائض جو ان کی زندگی میں چھوٹ گئے ہیں۔ جیسے نمازیں قضا ہو ئی ہوں یا جو روز رہ گئے ہوں اور اسی طرح دیگر واجبات کو ادا کرنا بہت ضروری ہے۔زیارت کرنا، حج کرنا اور ان کے لیے دیگرنیکیاں انجام دینا ، اولاد کی اہم ذمہ داریوں اور حقوق والدین میں شامل ہے۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے تمہیں ہمیشہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی اور احسان کرنا چاہیے، چاہے وہ زندہ ہوں یا زندہ نہ ہوں ۔ان کی طرف سے صدقہ دو، نمازیں پڑھو، روزہ رکھو ،حج کرو اور ان کی جانب سے نیکی انجام دو کیونکہ خداوند متعال ، ان عبادات کا جو ثواب ان کے لئے ہوگا وہی تمہارے لئے بھی اور خداوند متعال نیکی کے صلے میں تمہیں خیر کثیر اور والدین کو مغفرت عطا کرے گا۔

قَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : مَا يَمْنَعُ اَلرَّجُلَ مِنْكُمْ أَنْ يَبَرَّ وَالِدَيْهِ حَيَّيْنِ وَ مَيِّتَيْنِ يُصَلِّيَ عَنْهُمَا وَ يَتَصَدَّقَ عَنْهُمَا وَ يَحُجَّ عَنْهُمَا وَ يَصُومَ عَنْهُمَا فَيَكُونَ اَلَّذِي صَنَعَ لَهُمَا وَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ فَيَزِيدَهُ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِبِرِّهِ وَ صِلَتِهِ خَيْراً كَثِيرا.

۸-مرنے کے بعد بھی والدین کو یاد کرنا اور ان کے لیے نیکی اور احسان کرنا

روایات میں آیا ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی اور احسان صرف ان کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ مرنے کے بعد وہ زیادہ محتاج ہوتے ہیں ان کو زیادہ نیکیوں اور خیرات کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اس عالم میں مجبور ہیں اور ہم ان کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔ جیساکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے عظیم مقامات اور مرتبہ اس شخص کے لئے جس نے اپنے والدین کے مرنے کے بعد ان کے لیے نیکی اور اعمال خیر کو انجام دیا۔

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : سَيِّدُ اَلْأَبْرَارِ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ رَجُلٌ بَرَّ وَالِدَيْهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا.

۹- والدین کی زیارت کے لیے قبرستان جانا

والدین کے حقوق میں سے ایک اہم حق اور اولاد کی ذمہ داریوں میں سے یہ ہے کہ والدین کی زیارت کے لیے قبرستان جائیں۔جن کے والدین کا انتقال ہو چکا ہے ان کی قبر پر حاضری دینا اور ان کی زیارت کرنا اور ان کے لیے فاتحہ اور مغفرت کی دعا کرنا اور ان کے لیے صدقہ دینا ،روایات میں اہم ذمہ داریوں اور حقوق والدین میں سے شمار کیا گیا ہے۔والدین کے انتقال کے بعد ان کو فراموش کرنا اور ان کی قبور پر نہ جانا اور ان کی مغفرت کے لیے کچھ نہ کرنا ،گناہ قرار دیا گیا اور بہت زیادہ مذمت وارد ہوئی ہے ۔حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: جو شخص ہر جمعہ اپنے والدین کی قبور پر زیارت کے لیے جائے اللہ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کا شمار نیک اولاد میں کرتا ہے۔

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : مَنْ زَارَ قَبْرَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ فَقَرَأَ عِنْدَهُمَا يس غَفَرَ اَللَّهُ لَهُ بِعَدَدِ كُلِّ حَرْفٍ مِنْهَا.

۱۰- والدین کے لیے دعا کرنا

والدین کے حقوق اور اولاد کی ذمہ داریوں میں سے ایک ، والدین کے لیے دعا کرنا ہے۔ والدین زندہ ہوں تو ان کی سلامتی ان کی خوشی کے لیے دعا کریں اور دنیا سے چلے جائیں تو ان کی مغفرت ، درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں۔ اولاد جب والدین کی مغفرت کے لیے دعا کرتی ہے تو خدا ان کے گناہ بخش دیتا ہے اور درجات کو بلند کرتا ہے اور جب ان کا درجہ بڑھ جاتا ہے تو وہ پوچھتے ہیں خدایا یہ ہمارےدرجے میں اضافہ کیسے ہوا ؟جب کہ ہم نے یہ اعمال انجام نہیں دیئے تھے۔ رب العزت کی طرف آواز آتی ہے کہ تمہاری اولاد کے تمہارے حق میں دعا اور استغفار کیا ہے اسی لئے تمہارا درجہ بلند ہوا ہے۔

إنَّ الرَّجُلُ لَتُرْفَعُ دَرَجَتُهُ فِي الجَنَّةِ فَيَقولِ: أنّى لي هَذَا؟ فيقالُ: باسْتِغْفارِ وَلَدِكَ لَكَ.

۱۱-والدین کے اخراجات پورے کرنا یا ادا کرنا

حقوق والدین اور اولاد کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے والدین کی ضروریات اور اخراجات کو پورا کرنا بھی ہے ۔جب والدین بوڑھےہو جاتے ہیں اوروہ اپنے اخراجات حاصل کرنے پر قادر نہ ہوں تو اولاد پر واجب ہے کہ ان کی تمام ضروریات کو جیسے کھانا پینا ،لباس، علاج اور زندگی کی دیگر تمام ضرورت کو پورا کرے جس طرح والدین نے تمہاری تمام ضروریات کو پورا کیا تھا جب ہم چھوٹے تھے تو والدین پر ہمارا نفقہ تھاہے، ہماری ضروریات کا ادا کرنا ان پر فرض تھا اور جب وہ بوڑھے ہو چکے ہیں تو وہ اب ہمارے واجب النفقہ ہیں، ان کی ضروریات ہم پر فرض ہے۔

۱۲- والدین کو راضی اور خوشحال رکھنا

اولاد پر فرض ہے ک ہ و ہ اپن ے والدین کو ہ ر حال می ں خوش اور راضی رک ھ ی ں ان کو کب ھ ی ب ھ ی ناراض ن ہ ہ ون ے دی ں اس لی ے ک ہ ان کی رضا اور خوشنودی، خدا کی رضا ہے اور ان کی ناراضگی ،خدا کی ناراضگی ہے ۔ جیسا ک ہ رسول خدا (صلی الل ہ علی ہ وآل ہ وسلم)کا فرمان ہے ک ہ خدا کی رضا، ما ں باپ کی رضا پر موقوف ہے اور الل ہ کی ناراضگی ما ں باپ کی ناراضگی پر موقوف ہے۔ جن پر والدین راضی ہ ی ں ان پر خدا ب ھ ی راضی اور جن پر والدین غضبناک ہ ی ں ان پر خدا ب ھ ی غضبناک ہ وتا ہے۔ قَالَ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : رِضَى اَللَّهِ مَعَ رِضَى اَلْوَالِدَيْنِ وَ سَخَطُ اَللَّهِ مَعَ سَخَطِ اَلْوَالِدَيْنِ ۔

۱۳- ماں باپ کے ساتھ انتہائی پیار اور محبت سے پیش آنا

والدین کے حقوق اور اولاد کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ماں باپ کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آنا ہے ۔ماں باپ کے ساتھ پیار اور محبت کرنا بہت ضروری ہے۔ صرف کھانا پینا اور اخراجات کا پورا کرنا کافی نہیں بلکہ ان سے پیار محبت سے پیش آنا بھی ضروری ہے۔ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :والدین کی طرف محبت بھری نگاہ کرنا،عظیم عبادت ہے ۔

رَسُولَ اَللَّهِ (صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) يَقُولُ: اَلنَّظَرُ إِلَى عَلِيٍّ عِبَادَةٌ، وَ اَلنَّظَرُ إِلَى اَلْوَالِدَيْنِ بِرَأْفَةٍ وَ رَحْمَةٍ عِبَادَةٌ، وَ اَلنَّظَرُ فِي اَلصَّحِيفَةِ - يَعْنِي صَحِيفَةَ اَلْقُرْآنِ - عِبَادَةٌ، وَ اَلنَّظَرُ إِلَى اَلْكَعْبَةِ عِبَادَةٌ ۔

۱۴- والدین کی عزت اور احترام کرنا

والدین کے حقوق اور اولاد کی ذمہ داریوں میں سے ایک اور اہم ذمہ داری والدین کی عزت کرنا ہے۔ ان کے احترام کا خیال رکھنا ہے اور ان کے ساتھ بڑے تواضع اور فروتنی سے پیش آنا ہے۔ مولائے کائنات نے فرمایا کہ جب تمہارے والدین یا تمہارا استاد تمہارے پاس ہے تو ان کی عزت اور احترام کے لئے کھڑے ہو جاؤ اگرچہ تم زمانے کے بادشا ہ ہی کیوں نہ ہو۔

أَكْرِمْ ضَيْفَكَ وَ إِنْ كَانَ حَقِيراً وَ قُمْ عَنْ مَجْلِسِكَ لِأَبِيكَ وَ مُعَلِّمِكَ وَ إِنْ كُنْتَ أَمِيراً

۱۵- والدین کی طرف محبت اور الفت سے دیکھنا

پروردگار نے اس کائنات کو محبت کی بنیاد پر خلق فرمایا ہےاورانسانی زندگی بھی پیار ومحبت کے ستون پر قائم ہے ۔ اسی لیےخدا نے ماں باپ سے الفت و محبت کو واجب قرار دیا ہے اور ان کے چہرے پر الفت اور محبت نگاہ ڈالنا،نہ صرف عبادت بلکہ ہر نگاہ پر خدا نے حج اور عمرے کا ثواب قرار دیا ہے۔ جیسا کہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے جب نیک اور صالح اولاد اپنے والدین کے چہرے کی طرف محبت بھری نگاہ کرتے ہیں اور پیار اور محبت سے پیش آتے ہیں تو خدا ہر نگاہ پر حج کا ثواب عطا کرتا ہے۔پیغمبر سے اصحاب نے سوال کیا کہ اگر سو مرتبہ دیکھیں تو کیا تو سو مرتبہ حج کا ثواب عطا کرے گا؟ نبی خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خدا کا خزانہ لامحدود ہے جتنی مرتبہ نگاہ کرو گے خداوند متعال ہر نگاہ پر حج اور عمرے کا ثواب عطا کرتا ہے۔

وَ قَالَ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ: مَا مِنْ وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ إِلَى وَالِدَيْهِ نَظَرَ رَحْمَةٍ إِلاَّ كَانَ لَهُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اَللَّهِ وَ إِنْ نَظَرَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ قَالَ نَعَمْ اَللَّهُ أَكْبَرُ وَ أَطْيَبُ

عاق والدین

سوال :عاق والدین سے کیا مراد ہے؟

جواب: علامہ مجلسی نے عاق والدین کے معنی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :ماں باپ کی عزت و احترام نہ کرنا اور ماں باپ کو اذیت و آزار پہنچانا اور ماں باپ کی توہین اور تحقیر کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور ماں باپ کی عزت و احترام کا خیال نہ رکھنا اور ماں باپ کے حقوق کو ادا نہ کرنا یہ سب عاق والدین میں شامل ہیں۔ والدین کی نافرمانی گناہ کبیرہ میں سے ہے اور جو اولاد اپنے ماں باپ کی نافرمانی اور ان کو اذیت و آزار پہنچائے یعنی عاق ہو جائے وہ ملعون ہے ؛خدا کی ان پر لعنت ؛ انبیاء کی ان پر لعنت ہوتی ہے اور عاق والدین جہنمی ہیں ۔ بحار الانوار میں روایت ہے :امام صادق (ع)فرماتے ہیں کہ وہ شخص ملعون ہے جو ماں باپ کی توہین کرے وہ شخص بھی ملعون ہے جو ماں باپ پر ہاتھ اٹھائے اور وہ شخص بھی ملعون ہے جو والدین کی نافرمانی کرتے ہوئے عاق ہو جائے۔

اَلصَّادِقَ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَقُولُ: مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ ضَرَبَ وَالِدَهُ أَوْ وَالِدَتَهُ مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ عَقَّ وَالِدَيْهِ مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ اَلْمَسْجِدَ.

عاق والدین کے بدترین اثرات اور انجام

سوال: عاق والدین کے بدترین اثرات کو بیان کریں ؟

جواب: والدین کی نافرمانی اور ناراضگی اور ان کو اذیت و آزار پہنچانا اور ان کے حقوق کو ادا نہ کرنا، عاق والدین میں شامل ہیں۔یہ شخص دنیا میں بھی خدا کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم ہوتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اور اعمال، والدین کی ناراضگی کی وجہ سے برباد ہو جاتے ہیں اور وہ پروردگار کے غضب میں مبتلا ہو جاتا ہے، قیامت کے دن یہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگ پا ئے گا اس لیے کہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :خبردار!

والدین کی نافرمانی نہ کرنا اور ان کو ہرگز نہ ستانا اس لیے کہ جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کی مسافت سے محسوس ہوگی لیکن عاق والدین ،جنت کی خوشبو سے بھی محروم ہوگا ۔اور وہ شخص جو رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرے اور جو زناکار ہو اور وہ شخص جو مغرور و متکبر ہو ۔ ان چار گروہ کے افردا، قیامت کے دن جنت کی خوشبو سے محروم ہوں گے اور فرشتے گھسیٹتے ہوئے انہیں جہنم میں دھکیل دیں گے.

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي كَلاَمٍ لَهُ: إِيَّاكُمْ وَ عُقُوقَ اَلْوَالِدَيْنِ فَإِنَّ رِيحَ اَلْجَنَّةِ يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ سَنَةٍ وَ لاَ يَجِدُهَا عَاقٌّ وَ لاَ قَاطِعُ اَلرَّحِمِ وَ لاَ شَيْخٌ زَانٍ

عاق والدین دنیا اور آخرت دونوں میں تباہی کا سبب ہے۔ جو شخص اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہے روایات کی روشنی میں اس کی دنیا و آخرت دونوں تباہ ہو جاتی ہیں۔ دنیا میں غربت اور ذلت ورسوائی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور آخرت میں ہمیشہ جہنم کی آگ میں جلتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے۔ اے علی میں نے شب معراج جنت کی سیر کی تو جنت کے دروازے پر یہ تحریر جو موجود تھی: میں نے جنت کو چار گروہوں پر حرام قرار دیا ہے : ایک: بخیل اور کنجوس تین: عاق والدین پر-

دو :ریاکار شخص پر چار: چغل خور پر

قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ: يَا عَلِيُّ رَأَيْتُ عَلَى بَابِ اَلْجَنَّةِ مَكْتُوباً أَنْتِ مُحَرَّمَةٌ عَلَى كُلِّ بَخِيلٍ وَ مُرَاءٍ وَ عَاقٍّ وَ نَمَّامٍ.

حضرت امام علی نقی(ع) فرماتے ہیں کہ ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور ان کو اذیت و آزار پہنچانا زندگی میں فقر و غربت کا سبب ہے اور ذلت اور رسوائی کا باعث ہے۔

قَالَ الامام الهادی عَلَيْهِ السَّلاَمُ : اَلْعُقُوقُ يُعْقِبُ اَلْقِلَّةَ وَ يُؤَدِّي إِلَى اَلذِّلَّةِ.

ان روایات کی روشنی میں ہمیں والدین کی نافرمانی اور ان کو ہر قسم کی اذیت وآزار اور ان کی ناراضگی کی مذمت بیان ہوئی ہے ہمیں ان سب امور سے پرہیز کرنا ہوگاکیونکہ ان کے ناراض کی وجہ سے خدا ناراض ہو تا ہے اور جس کے نتیجے میں دنیا و آخرت دونوں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔ وہ اولاد ، والدین کی نفرت اور نفرین اور بددعا کا شکار ہوجاتی ہے ان کی تقدیریں بگڑ جاتی ہیں۔ اورجو اطاعت اور خدمت کرتے ہوئےوالدین کی رضا اور خوشنودی کو پاتے ہیں ان سےخدا بھی راضی ہو تا ہے اور خداوند ایسی نیک اور صالح اولاد کو دنیا اور آخرت میں کامیابی اور سربلندی سے ہمکنار کرتاہے۔

سماجی ومعاشرتی رابطے کی اہمیت وضرورت

سوال: لوگوں کے ساتھ اچھے روابط رکھنے کی تاکید اور فضیلت آیات اور روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: دین اسلام میں لوگوں کے ساتھ اچھے روابط رکھنے کی اور ان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ قران پاک کی آیات میں لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھنے اور ان کے غم و خوشی میں شریک ہونے پرزور دیا گیا ہےاور لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھنا اور ان کے غم و خوشی میں شریک ہونا جنتیوں کی صفات میں سے قرار دیا گیا ہے۔

سورہ رعد کی آیت نمبر ۲۰ سے ۲۵ تک جنتیوں کی صفات کو بیان کیا گیا ہے اور ان میں سے ایک اہم صفت لوگوں سے پسندیدہ اور شائستہ اور محکم رابطہ رکھنا ہے۔

۱ اہل جنت وفادار ہیں کسی سےبے وفائی نہیں کرتے ۔

۲ وہ اپنے وعدوں کے پابند رہتے ہیں۔

۳ وہ لوگوں اور اپنے رشتہ داروں سے رابطے کو برقرار رکھتے ہیں اور کبھی قطع تعلقی نہیں کرتے ۔

۴ وہ اپنے دلوں میں خدا کی معرفت اور خدا کا خوف رکھتے ہیں۔

۵ قیامت کے عذاب سے بہت ڈرتے ہیں۔

۶ بہت زیادہ صبر و استقامت کے مالک ہیں ؛مشکلات اور سختیوں میں صبر سے کام لیتے ہیں ۔

۷ پابندی کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور کبھی اپنی نماز کو ضائع نہیں ہونے دیتے۔

۸ اپنے رزق کو خدا کی راہ اور عزیز و اقارب و رشتہ داروں اور ضرورت مند انسانوں پر خرچ کرتے ہیں۔

۹ برائی کے جواب میں وہ کسی کے ساتھ برائی نہیں کرتے اور نہ ہی برائی کرنے والوں سے انتقام لیتے ہیں۔

ان آیات کے ذیل میں جن کی زندگی میں یہ صفات پائی جاتی ہیں ان کے لیے اور ان کی فیملی اور خانوادہ کے لیے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے انہیں جنت میں داخل کر دیں گے۔

اَلَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اَللّٰهِ وَ لاٰ يَنْقُضُونَ اَلْمِيثٰاقَ وَ اَلَّذِينَ يَصِلُونَ مٰا أَمَرَ اَللّٰهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ يَخٰافُونَ سُوءَ اَلْحِسٰابِ وَ اَلَّذِينَ صَبَرُوا اِبْتِغٰاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ أَقٰامُوا اَلصَّلاٰةَ وَ أَنْفَقُوا مِمّٰا رَزَقْنٰاهُمْ سِرًّا وَ عَلاٰنِيَةً وَ يَدْرَؤُنَ بِالْحَسَنَةِ اَلسَّيِّئَةَ أُولٰئِكَ لَهُمْ عُقْبَى اَلدّٰارِ

وہ موارد جہاں زیادہ رابطہ رکھنے کی تاکید ہے

سوال: وہ کونسے مواقع ہیں جہاں لوگوں سے رابطہ رکھنے کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے؟

جواب: یوں تو روایات اور آیات میں ہمیشہ لوگوں سے رابطہ رکھنے کی سفارش و تاکید کی گئی ہے لیکن بعض مواقع میں رابطہ رکھنے اور ان کی غم و خوشی میں شریک ہونے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے:

۱-عید فطر؛ کے موقع پر ایک دوسرے اور بزرگوں اور رشتہ داروں کو عید ملنے کے لیے جانا بہت ضروری ہے،کیونکہ عید فطر مسلمانوں کی بڑی عید ہے ایک دوسرے سے ملنے کے لیے اور سلام کرنے کے لیے جانا ضروری ہے۔

۲-عید قربان؛ جو کہ مسلمانوں کی بہت بڑی عید ہے اس پر بھی ملاقات کے لیے جانا اور عید ملنے کے لیے جانا بہت ضروری ہے۔

۳- عید غدیر پر؛ جو عالم اسلام کی سب سے بڑی عید ہے اور یہ عید امامت و عید ولایت ،عید آل محمد ہے اس عید پر بھی نئے کپڑے پہننے اور بہت زیادہ اہتمام کرنے اور لوگوں سے عید ملنے ،جشن منانے مولائے کائنات کے فضائل اور مناقب کو بیان کرنے کی اور بڑے اہتمام سے جشن غدیر منعقد کرنے کی تاکید کی گئی ہے ۔

۴- عید مباہلہ؛ یہ بھی عالم اسلام کی عیدوں میں سے ہے۔ یہ دن عیسائیوں پر عالم اسلام کی فتح اور پنجتن پاک کی کامیابی و صداقت اور عیسائیوں کی طرف سے اسلام کی صداقت اور حقانیت کو تسلیم کرنے اور اپنی شکست کو تسلیم اور پنجتن پاک کی عظمت اور حقیقت کے سامنے سر تسلیم ہونے کا دن ہے۔

۵- روز جمعہ ؛یہ دن بھی عالم اسلام کی عیدوں میں شامل ہے اور روایات میں اس دن کی عظمت یوں بیان ہوئی ہے۔ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور افضل ترین دن ہےاور اس دن نظافت اور پاکیزگی ،نئے کپڑے پہننا اور غسل جمعہ کرنا اور پھر نماز جمعہ میں شرکت کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ بندگی کے ساتھ اجتماعی ملاقات اور اجتماعی زیارت کے لیے اور ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کے لیے تین میل کے فاصلے سے جامع مسجد میں سب کو جمع ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

۶- جب کسی کے ہاں خوشی کا موقع ہو اور خاندان والے سب خوش ہوں ان کی خوشی میں شریک ہونے کے لیے اور ان کو تبریک پیش کرنے کے لیے جانا اور اگر نہ جا سکے تو فون پر مبارکبادی پیش کرنا ضروری ہے جیسے کسی کی شادی ہو ہو یا فرزند کی ولادت ہوئی ہو یا کوئی ترقی یا کامیابی یا خوشی اور مسرت کا موقع ہو تو ان سے ان کی خوشی میں خود کو شامل کرنا اور اپنی خوشی کا اظہار کرنا ضروری ہے۔

۷- جب کوئی حج سے واپس آئے تو ان کو مبارکباد پیش کرنے کے لیے جانا اور ان کی خوشی میں شریک ہونا اور ان کو مبارکباد دینا ضروری ہے۔ روایات میں اس چیز کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے ۔

۸- اگر کوئی مقامات مقدسہ کی زیارات سے واپس لوٹے جیسےزائرمولائے امام علی علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام اورامام رضا علیہ السلام تواس کو مبارک پیش کرنا ۔

۹- غم اور مصیبت کے موقع پر

دین اسلام میں جہاں خوشیوں میں شریک ہونے کا حکم دیا گیا ہے اور خوشیوں میں ایک دوسرے کے پاس جانا اور ان کی خوشیوں کو بانٹنے کا حکم ہے اسی طرح غم کے موقع پر بھی تسلیت اور تعزیت کے لیے اور ان کے غم میں شریک ہونے کے لیے جانا اور ان کو تسلیت پیش کرنا بہت ضروری قرار دیا گیا ہے ۔مولائے کائنات کا فرمان ہے وہ شخص جو مرنے والےمومن کے گھر جائے اور اس کے لواحقین کو تعزیت و تسلیت پیش کرےخدا اس شخص کو عرش الہی کے سائے میں جگہ عطا کرتا ہے۔

من عزّی الثکلی اَظَلَّهُ عَرشِهِ یوم لاظِلَّ إلَّا ظِلُّهُ ۔

دوسروں کے غم اور خوشی میں شریک ہونا انسانیت کی نشانی ہے۔ حقیقت انسانیت ، ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور غم و خوشی میں شریک ہونا ہے۔ یہ وہ عظیم عبادت ہے جو کہ تمام انبیاء کی سیرت اور سرور کائنات کی سنت ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسروں کے غم و خوشی میں شریک ہوتے تھے اور ہمیں بھی دوسروں کے غم و خوشی میں شریک ہونے کا دیا ہے۔جیساکہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس سلسلہ میں ، سیرت نبوی کو بیان کرتے ہوئے مولائے کائنات نے فرمایا: حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسروں کے غم و خوشی میں شریک ہوتے تھے ۔ جب کسی کے ہاں تسلیت کے لئے تشریف لے جاتے تو فرماتے تھے ، اللہ تعالیٰ آپ کو اجر عطا کرے اور خدا کی رحمت خاص آپ کو نصیب ہو۔ اور جب کسی کے ہاں خوشی کا موقع ہوتا تو مبارکبادی کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو فرماتے تھے آپ کو مبارک ہو اوریہ خوشی باعث رحمت و برکت ہو۔

كانَ رَسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله إذا عَزّى قالَ : آجَرَكُمُ اللّه ُ و رَحِمَكُم ، و إذا هَنَّأ قالَ : بارَكَ اللّه ُ لَكُم و بارَكَ عَلَيكُم ۔

۱۰- مشکلات اور حوادث کے موقع پر انسانی زندگی میں کبھی کبھار حوادث اور مشکلات پیش آتے ہیں اور ان مشکلات کے موقع پر ایک دوسرے کوسہارا دینا اور ان کی مشکلات کو کم کرنا اور ہر ممکن مدد اور تعاون کرنا نہایت ضروری ہے ۔دین اسلام ، ہمدردی، محبت اور انسانیت کا دین ہے۔ انسانیت اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ دوسروں کے غموں میں شریک ہوں اور دوسروں سے ہر ممکن تعاون اور سہارا دینے کی کوشش کریں ۔ان تمام باتوں کا خلاصہ دوسروں کے ساتھ ہر حال میں رابطہ رکھنا اور ان کی خوشی میں ان کے ساتھ شریک ہونا نہایت ضروری ہے جوکہ انسانیت اور ایمان دونوں کا تقاضہ ہے ۔ جیساکہ مولائے کائنات نے اپنے وصیت نامے میں اجتماعی روابط اور معاشرتی تعلقات کو محکم رکھنے کی وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم سب پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے رابطہ رکھو اور قطع تعلقی دوری سے گریز کرو۔ مزید فرمایا: اللہ کی راہ میں مال ، جان اور زبان سے جہاد کرتے رہو اور ایک دوسرے ساتھ تعلقات اور نیکیوں کو ضروری قرار دو اور ہر گز ایک دوسرے سے دور اور رو گردان مت ہونا ۔ اور معاشرے میں لوگوں کو نیکیوں کی دعوت دینا اور برائیوں سے روکنا ، ہرگز ترک نہ کرنا وگرنہ برے لوگ تم پر مسلط ہو جائیں گے اور تم دعا کرو لیکن خدا تمہاری دعا ، مستجاب نہیں کرے گا ۔

عَلَيْكُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَ اَلْمُوَافَقَةِ وَ إِيَّاكُمْ وَ اَلْمُقَاطَعَةَ وَ اَلْمُهَاجَرَةَ

اَللَّهَ اَللَّهَ فِي اَلْجِهَادِ بِأَمْوَالِكُمْ وَ أَنْفُسِكُمْ وَ أَلْسِنَتِكُمْ فِي سَبِيلِ اَللَّهِ وَ عَلَيْكُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَ اَلتَّبَاذُلِ وَ إِيَّاكُمْ وَ اَلتَّدَابُرَ وَ اَلتَّقَاطُعَ لاَ تَتْرُكُوا اَلْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ اَلنَّهْيَ عَنِ اَلْمُنْكَرِ فَيُوَلَّى عَلَيْكُمْ شِرَارُكُمْ ثُمَّ تَدْعُونَ فَلاَ يُسْتَجَابُ لَكُمْ.

صلہ رحمی(رشتہ داروں سے رابطہ رکھنا)

سوال: صلہ رحمی کی اہمیت اور ضرورت، آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: رشتہ داروں سے اچھا رابطہ رکھنا اور ان کی غم و خوشی میں شریک ہونا، آیات و روایات کی روشنی میں لازم اور ضروری قرار دیاگیا ہے ۔ آیات و روایات میں صلہ رحمی پر زور دیا گیا ہے ۔امیر کائنات (ع) سے سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:تم سب اور قیامت تک آنے والے لوگوں کو سفارش کرتا ہوں کہ صلہ رحمی سے کام لینا ،اور رشتہ داروں سے رابطہ استوار رکھنا، اگرچہ وہ ایک سال کے فاصلے پر ہی کیوں نہ ہوں ان سے رابطہ رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ رابطہ اہم فریضہ ہے اور دین کا ستون ہے اور مولائے کائنات (ع)نےصلہ رحمی کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اپنے رشتہ داروں کی عزت اور احترام کرو کیونکہ یہ تمہارے پروں کی مانند ہیں ۔ جن کے ذریعے سے تم پرواز کرو گے اور تمہیں کامیابی ملے گی ۔ اور رشتہ داروں سے اچھا رابطہ رکھنا ان کے ساتھ اچھی زندگی گزارنا ،دنیا آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے ۔رشتہ داری ؛تمہاری بنیاد اور اساس ہے اور تمہاری طاقت کا سبب ہے۔ رشتہ داروں کے ذریعے سے تم بہت ساری کامیابیوں کو پاؤ گے پس رشتہ داروں کا خاص خیال رکھو، خدا تمہیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا کرے گا۔

قَالَ أَقْبَلَ أَمِيرُ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: أَكْرِمْ عَشِيرَتَكَ فَإِنَّهُمْ جَنَاحُكَ اَلَّذِي بِهِ تَطِيرُ وَ أَصْلُكَ اَلَّذِي إِلَيْهِ تَصِيرُ وَ أَنَّكَ بِهِمْ تَصُولُ وَ بِهِمْ تَطُولُ اَللَّذَّةُ عِنْدَ اَلشِّدَّةِ وَ أَكْرِمْ كَرِيمَهُمْ وَ عُدْ سَقِيمَهُمْ وَ أَشْرِكْهُمْ فِي أُمُورِهِمْ وَ تَيَسَّرْ عِنْدَ مَعْسُورِهِمْ وَ اِسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَى أُمُورِكَ فَإِنَّهُ أَكْفَى مُعِينٍ وَ اِسْتَوْدَعَ اَللَّهَ دِينَكَ وَ دُنْيَاكَ وَ اِسْأَلْهُ خَيْرَ اَلْقَضَاءِ فِي اَلدُّنْيَا وَ اَلْآخِرَةِ

صلہ رحمی کے فوائد و آثار روایات کی روشنی میں

سوال: دنیا و آخرت میں سے صلہ رحمی کے آثار اور فوائد بیان کریں ؟

جواب: آل محمد کی تعلیمات اور روایات میں نہ صرف صلہ رحمی کی تاکید اور سفارش ہے بلکہ دنیا وآخرت میں صلہ رحمی کی ہزاروں برکات ہیں: صلہ رحمی دنیا و آخرت میں کامیابی اورخوشیوں کا باعث ہے، رشتہ داروں سے رابطے کو منقطع کرنا دنیا وآخرت کی تباہی اور بربادی کا باعث ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ صلہ رحمی کے نتیجے میں خداوند بہت ساری خوشیوں کو عطا کرتا ہے اور رزق میں اضافہ ہوتا ہے مال و دولت میں فراوانی ہوتی ہے، اعمال قبول ہوتے ہیں، عمر میں برکت اور پریشانی اور بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ صلہ رحمی کرنے والے کو خداوند متعال دنیا میں اپنی رحمت کے سائے میں رکھتا ہے اور آخرت میں جنت عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ حضور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے جو شخص رشتے داروں کی طرف قدم بڑھائے اور روابط کومحکم کرے اور نفرتوں کو مٹائے اور دلوں سے قدورتوں کو ختم کرے، خدا اس شخص کو سو شہیدوں کا اجر عطا کرتا ہے اور ہر قدم کے بدلے میں چالیس ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے اور چالیس ہزار گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور سوسال خلوص کے ساتھ خدا کی عبادت کرنے کا اجر عطا کرتا ہے۔ اور جو شخص اپنے رشتہ داروں سے اور مسلمانوں میں سے کسی پریشان حال انسان کی حاجت کو پورا کرنے کے لیے قدم بڑھا ئےیہاں تک کہ اس کی حاجت کو پورا کرے خدا اس شخص کو جہنم کی آگ سے نجات عطا کرتا ہے اور دنیا میں ستر حاجات کو پورا کرتا ہے اور یہ شخص دنیا میں رحمت اور آخرت میں جنت میں ہوتا ہے۔

عَنِ اَلنَّبِيِّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي حَدِيثِ اَلْمَنَاهِي قَالَ: مَنْ مَشَى إِلَى ذِي قَرَابَةٍ بِنَفْسِهِ وَ مَالِهِ لِيَصِلَ رَحِمَهُ أَعْطَاهُ اَللَّهُ أَجْرَ مِائَةِ شَهِيدٍ وَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَرْبَعُونَ أَلْفَ حَسَنَةٍ وَ مَحَا عَنْهُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ سَيِّئَةٍ وَ رَفَعَ لَهُ مِنَ اَلدَّرَجَاتِ مِثْلَ ذَلِكَ وَ كَانَ كَأَنَّمَا عَبَدَ اَللَّهَ مِائَةَ سَنَةٍ صَابِراً مُحْتَسِباً.

روایات میں سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلہ رحمی کرنے والوں کو جنت میں عظیم مقام کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا :جنت میں ایک عظیم مقام ہے جسے کوئی نہیں پا سکتا مگر تین گروہ ،تین قسم کے افراد اس مقام پر فائز ہوں گے :

۱-امام معصوم ۲- بہت زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ۳-جس شخص کے زیادہ بچے ہوں اور مشکلات میں صبر سے کام لے۔

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : إِنَّ فِي اَلْجَنَّةِ دَرَجَةً لاَ يَبْلُغُهَا إِلاَّ إِمَامٌ عَادِلٌ أَوْ ذُو رَحِمٍ وَصُولٍ أَوْ ذُو عِيَالٍ صَبُورٍ.

حضرت امام باقر علیہ السلام نےصلہ رحمی کے عظیم آثار اور فوائد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والوں کو خداوند پانچ چیزیں عطا کرتا ہے:

۱ :خدا ،صلہ رحمی کرنے والوں کے اعمال کو قبول کرتا ہے ۔

۲: رزق اور دولت کی وسعت و فراوانی عطا کرتا ہے۔

۳: دعاؤں کو مستجاب کرتا ہے ۔

۴: قیامت کے دن اس کے حساب کو آسان بناتا ہے۔

۵: صلہ رحمی کے نتیجے میں عمر کو طولانی اور زندگی میں برکت عطا کرتا ہے ۔

قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : صِلَةُ اَلْأَرْحَامِ تُزَكِّي اَلْأَعْمَالَ وَ تَدْفَعُ اَلْبَلْوَى وَ تُنْمِي اَلْأَمْوَالَ وَ تُنْسِئُ لَهُ فِي عُمُرِهِ وَ تُوَسِّعُ فِي رِزْقِهِ وَ تُحَبِّبُ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ فَلْيَتَّقِ اَللَّهَ وَ لْيَصِلْ رَحِمَهُ

امام باقر(ع) کے اس فرمان اور دیگرروایات کے نتیجے میں صلہ رحمی کرنا اور رشتہ داروں کے ساتھ نیکی اور تعاون کرتے ہوئے اچھا رابطہ رکھنا اور ان کے غم و خوشی میں شریک ہونا دنیا و آخرت میں دونوں کی کامیابی اور خدا کی خوشنودی اور زندگی میں برکت اور آخرت میں جنت کا سبب ہے۔

باب مہدویت

امام زمانہ (عج) کی شخصیت اور عظمت

سوال: امام زمانہ کی شخصیت اور عظمت آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: امام زمانہ وہ عظیم ہستی ہے جس کی شان میں قرآن کی بہت ساری آیات ہیں اور اسی طرح سے امام زمانہ کی شخصیت اور امام زمانہ کی عظیم اور بے مثال حکومت کو بیان کرتے ہوئے ان کے حالات زندگی اور غیبت اور ظلم و جور کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا قیام اورآئین اسلام کا پوری کائنات پر نافذ ہونا اور دیگر تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے جناب شیخ مظفر نے عقائد امامیہ میں اور دیگر بزرگوں نے چھ ہزار روایات اور کئی آیات بیان کی ہیں۔ امام زمانہ منجی بشریت اور رمز بقائے جہان، قطب عالم امکان ہیں اور ان کے وجود سے کائنات میں دم ہے اور ان کی بقاء سے کائنات باقی ہے۔ جیسا کہ سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ اگر حجت خدا اور امام زمانہ دنیا میں نہ ہوتے تو پوری کائنات کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔

عن رسول اللہ ص :لولاالحجه لساخت الأرض بأهلها۔

نیز سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: مہدی آل محمد، صرف ایک فرد ،ایک ذات کا نام نہیں ہے بلکہ مہدی آل محمد ،فاتح کائنات اور حکومت الہی کا نام ہے۔ خداوند منان ان کے ذریعے سے شرق اور غرب پر یعنی پوری کائنات پر اپنی حکومت کو قائم کر کے پوری کائنات سے ظلم و جور کا خاتمہ کرے گا ۔

الآئمة من بعدی اثنا عشر اوّلھم انت یا علی و آخرھم القائم الذی یفتح اللّٰہ تعالٰی ذکرہ علٰی یدیہ مشارق الارض و مغاربھا ۔

غیبت صغریٰ اور کبریٰ

سوال: غیبت کبریٰ اور صغریٰ کو روایات کی روشنی میں بیان کریں ؟

جواب :متعدد روایات میں امام زمانہ کے لیے غیبت کبریٰ اور صغریٰ کو بیان کیا گیا ہے۔ امام کی ولادت سے پہلے مومنین کو آمادہ اور تیار کرنے کے لیے غیبت کبریٰ اور غیبت صغریٰ کی خبر دی گئی ۔جیسا کہ سرور کائنات نے فرمایا :مہدی میرابارواں جانشین ہے جو سیرت اور شکل و شمائل میں اور افعال و اقوال میں مجھ سے زیادہ شباہت رکھتا ہے۔ وہ پردہ غیب میں چلا جائے گا اور پھر حکم خدا سے ظہور فرمائے گا اور دین خدا کو پوری کائنات پر نافذ کرے گا۔خدا اور فرشتے ان کی مدد کریں گے اور ان کے ذریعے سے خدا پوری کائنات کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اور ظلم و جور کا خاتمہ کرے گا۔

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : ۔۔۔ مَهْدِيُّ أُمَّتِي أَشْبَهُ اَلنَّاسِ بِي فِي شَمَائِلِهِ وَ أَقْوَالِهِ وَ أَفْعَالِهِ - يَظْهَرُ بَعْدَ غَيْبَةٍ طَوِيلَةٍ وَ حَيْرَةٍ مُضِلَّةٍ فَيُعْلِنُ أَمْرَ اَللَّهِ وَ يُظْهِرُ دِينَ اَللَّهِ جَلَّ وَ عَزَّ يُؤَيَّدُ بِنَصْرِ اَللَّهِ وَ يَنْصُرُ بِمَلاَئِكَةِ اَللَّهِ فَيَمْلَأُ اَلْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً.

ایک اور حدیث میں امام زمانہ کے لیے غیبت صغریٰ یعنی مختصر غیبت اور غیبت کبریٰ ؛ طولانی غیبت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: امام زمانہ کے لیے دو غیبتیں خدا نے قرار دی ہیں:

ایک: غیبت صغری دو: غیبت کبریٰ

حضرت امام صادق علیہ السلام نے لوگوں کوعصر غیبت کے لیے آمادہ و تیار کرتے ہوئے فرمایا: قائم آل محمد کے لیے دو غیبتیں ہیں ایک مختصر اور دوسری طولانی ،غیبت صغری میں ان کا علم کسی کو نہیں ہوگا مگر خاص افراد کے ذریعے سے امام سے رابطہ ممکن ہے یعنی نواب اربعہ کے ذریعے سے اور غیبت کبریٰ میں ان سے رابطہ اور ان کی جگہ کا علم کسی کو نہیں ہوگا مگر کسی پر خدا کی خاص عنایت ہو۔

قَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ : لِلْقَائِمِ غَيْبَتَانِ إِحْدَاهُمَا قَصِيرَةٌ وَ اَلْأُخْرَى طَوِيلَةٌ ۔

ان روایات کا مقصد اور ہدف عصرغیبت کے لیے مومنین کو آمادہ اور تیار کرنا ہے۔ اور امام زمانہ کا پردہ غیبت میں جانا حکم خدا اور پروردگار کا فیصلہ ہے۔ جس سے لوگوں کو آگاہ کیاگیا ہے تاکہ امام زمانہ پردہ غیب میں چلیں جائے تو شکوک و شبہات میں مبتلا نہ ہوں بلکہ اس قانون الہی اور امام زمانہ کا پردہ غیب میں جانے کی صورت مومنین ثابت قدم رہیں۔

سوال: غیبت صغریٰ کا آغاز کب ہوا؟

جواب: امام عسکری علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ ہی ۲۶۰ ہجری میں امام زمانہ کی امامت اور ولایت اور غیبت صغریٰ کا بھی آغاز ہوا ۔ بزرگ علماء نے غیبت صغری کی مدت ۷۰ سال بیان کی ہے۔ ۲۶۰ ہجری سے غیبت صغری کا آغاز ہوا اور ۳۳۶ ہجری کو غیبت صغری کا اختتام اور غیبت کبریٰ کا آغاز ہوا ہے۔ ۳۳۶ ہجری سے غیبت کبریٰ شروع ہوتی ہے۔

ابھی تک جاری ہے ۔ا مام زمانہ غیبت صغری میں نواب اربعہ کے ذریعے سے لوگوں کے سوالات ،احکام شرعی اور ان کے خطوط کے جواب دیتے رہے۔ غیبت صغری میں امام زمانہ نے اپنے دست مبارک سے متعدد خطوط کے ذریعے لوگوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے نواب اربعہ کے حوالے کرتے تھے۔ امام زمانہ کے یہ خطوط ،توقیع کہلاتے ہیں اور مستند کے تابع میں جیسے موسوعہ امام مہدی ،معجم امام مہدی، بحار الانوار اور جناب شیخ صدوق نے اپنی مشہور کتاب کمال الدین میں ان خطوط کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

۳۳

نواب اربعہ

سوال :نواب اربعہ کون ہیں نیز ان کے نام بیان کریں؟

جواب: نواب اربعہ وہ چار عظیم ہستیاں ہیں جو غیبت صغریٰ میں امام زمانہ کے خاص نمائندے اور ان کے ذریعے سے امام لوگوں کی مشکلات حل کرتے تھے اور لوگوں کے سوالات کا جواب دیتے تھے ۔ ان کے نام یہ ہیں:

۱-ابوعمرو عثمان بن سعید عَمری ۲- ابوجعفر محمد بن عثمان بن سعید عَمرى

۳- ابوالقاسم حسین بن روح نوبختى ۴- ابوالحسن على بن محمد سمرى.

آخری نائب علی بن محمد سمری تھے۔امام زمانہ نے اس کو فرمایا تھا کہ آپ کے بعد میرا کوئی نائب نہیں ہوگا۔ اب غیبت کبریٰٰ کا زمانہ شروع ہوگا اور غیبت کبریٰ کے بعد اللہ کے حکم سے مولا کا ظہور ہوگا۔

غیبت کبریٰ میں ہماری ذمہ داری

سوال: غیبت کبریٰ میں مومنین کے وظائف اور ذمہ داریوں کو روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: غیبت کبریٰ میں جب امام زمانہ ، حکم خدا سےپردہ غیب میں چلے جائے گے تو اس صورت میں مومنین کے لیے روایات میں چند ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں: جن ذمہ داریوں کو انجام دینا ضروری ہے کیونکہ ان ذمہ داریوں کا انجام دینا ہمارے دین و ایمان کی بقا اور استحکام کا سبب بھی ہے۔لہذا ان ذمہ داریوں کو گہرائی سے سمجھنا اور پھر ان ذمہ داریوں کو انجام دیں اورعصر غیبت کبریٰ کی گمراہیوں کے طوفان میں غرق نہ ہو ں ۔اس پرآشوب دور میں امام زمانہ کی امامت اور ولایت پر ثابت قدم رہیں۔

عصر غیبت میں ہماری ذمہ داریاں :

۱-معرفت امام

ان اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ترین ذمہ داری ، امام زمانہ کی معرفت اور شناخت ہے جو تمام مسلمانوں پر لازم ہے اور ان کی معرفت نہ ہو تو اس شخص کی موت جہالت کی موت اور ضلالت کی موت ہے۔ جیسا کہ سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ہر شخص پر لازم اور ضروری ہے کہ وہ امام کی معرفت حاصل کرے۔ ان کی شناخت اور محبت کو اپنے دل میں بٹھائےاور امام کی معرفت کے ساتھ دنیا سے جائے ۔

قال رسول الل ہ ص :مَنْ ماتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إمامَ زَمانِهِ ماتَ مَيْتَةً جاهِلِيَّةً ۔

لہذا امام کی معرفت کے لیے مختلف کتابوں کا مطالعہ کرنا،امام کی شناخت اور معرفت کے لیے لیکچر و دروس دینا، امام زمانہ سے متعلق آیات اور روایات سے نئی نسلوں کو آگاہ کرنا اور امام کی یاد و ذکران کے دلوں میں تر و تازہ رکھنا اورامام کو فراموش نہ ہونے دینا ۔

۲- انتظار امام

زمانہ عصر غیبت میں امام زمانہ کے ظہور کے لیے انتظار کرنا ، امام کے ظہور کے لیے دعا کرنا ، اپنے آپ کو اور معاشرے کو آمادہ کرنا ،نئی نسل کو تیار کرنا اہم ترین فرائض میں شامل ہے۔ حضور کا فرمان ہے کہ غیبت کبریٰ میں امام زمانہ کا انتظار کرنا ،ان کے ظہور کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا میری امت کا بہترین عمل ہے۔

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : أَفْضَلُ أَعْمَالِ أُمَّتِي اِنْتِظَارُ فَرَجِ اَللَّهِ.

مولائے کائنات (ع) نے فرمایا: جو شخص ہماری تعلیمات پر عمل کرے اور عصرغیبت میں امام زمانہ کے ظہور کا انتظار کرے وہ قیامت کے دن ہم آل محمد کے ساتھ محشورر ہوگا اور منتظر امام کو خدا وہ مقام عطا کرتا ہے جو راہ الہی میں اپنے خون میں رنگین ہو چکا ہے اور جام شہادت نوش کر چکا ہے۔

قال أَمِيرُاَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: اِنْتَظَرُوا اَلْفَرَجَ وَ لاٰ تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اَللّٰهِ فَإِنَّ أَحَبَّ اَلْأَعْمَالِ إِلَى اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ اِنْتِظَارُ اَلْفَرَجِ مَا دَامَ عَلَيْهِ اَلْعَبْدُ اَلْمُؤْمِنُ.

قال أَمِيرُاَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: اَلْآخِذُ بِأَمْرِنَا مَعَنَا غَداً فِي حَظِيرَةِ اَلْقُدْسِ وَ اَلْمُنْتَظِرُ لِأَمْرِنَا كَالْمُتَشَحِّطِ بِدَمِهِ فِي سَبِيلِ اَللَّهِ.

۳-عصر غیبت میں امام زمانہ کے ظہور کے لیے کثرت سے دعا کرنا

عصر غیبت میں امام کے ظہور، امام کی سلامتی ، امام کی حکومت کی تشکیل اور کفر و شرک اور ظلم کے خاتمے کے لیے دعا کرنا بہت ضروری ہے۔جیسا کہ خود امام زمانہ نے فرمایا :عصر غیبت میں تعجیل ظہور کے لیے اور حکومت کے قیام کے لیے کثرت سے دعا کیا کرو اور میرا ظہور ہی تمام مشکلات کا حل ہے۔

قال المهدى عليه السلام :أكثِروا الدُّعاءَ بِتَعجيلِ الفَرَجِ فَإنَّ ذلِكَ فَرَجُكُم ؛

وہ دعائیں جن کی عصر غیبت میں پڑھنے کی تاکید ہوئی ہے

زمانے کے انحرافات اور گمراہیوں سے نجات اورتمام مشکلات کے حل کے لیےمعصومین نے عصر غیبت میں بہت ساری دعائیں تعلیم فرمائی ہیں۔ انہی دعاؤں میں سے مشہور اور معروف دعائیں ہیں جن کا پڑھنا ، دین کے استحکام اور عقیدے اور عاقبت بخیر کے لئے ضروری ہے ۔ ان میں سے چند دعائیں یہ ہیں:

۱-دعائے ندبہ:

جسےہر روز جمعہ صبح کے وقت پڑھنا چاہیے ۔

۲-دعائے معرفت:

دعائے معرفت جو کہ خود امام زمانہ نے تعلیم دی اور عصر غیبت میں اس دعا کا پڑھنا زیادہ مفید اور موثر ہے اور وہ دعا یہ ہے کہ :

اَللّهُمَّ عَرِّفْنى نَفْسَكَ، فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى نَفْسَكَ، لَمْ اَعْرِف نَبِيَّكَ؛ اَللّهُمَّ عَرِّفْنى رَسُولَكَ، فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى رَسُولَكَ، لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَكَ؛ اَللّهُمَّ عَرِّفْنى حُجَّتَكَ، فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى حُجَّتَكَ، ضَلَلْتُ عَنْ دينى.

اس دعا کو ہر نماز کے بعد پڑھنا چاہیے یہ تعقیبات نماز میں شامل ہے ۔امام صادق علیہ السلام نے یہ دعا تعلیم دی ہے اور اس دعا کا مسلسل پڑھنا اصحاب امام زمانہ میں شامل ہونے کا سبب ہے۔اس دعا میں خدا ورسول اور آئمہ کی معرفت کا تقاضا کیا گیا ہے۔

۳- دعائے غریق

دعائے غریق بھی انتہائی موثر دعاؤں میں سے ایک ہے ۔عصرغیبت میں مومنین کو چاہیے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے اس دعا کو مسلسل پڑہتے رہیں جوکہ امام صادق علیہ السلام نے تعلیم فرمائی ، وہ دعا یہ ہے :

یااللہ یا رحمن یا رحیم یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔

۴-دعائے سلامتی امام زمانہ

عصرغیبت کی اہم ترین دعاؤں میں سے ایک عظیم دعا جو خود معصومین نے تعلیم دی ہے۔ دعائے سلامتی امام زمانہ ہے۔ اس دعا میں امام زمانہ کی سلامتی اور حکومت کے جلد قیام کے لئے دعا ہے اور اس حکومت کے ذریعے کائنات کی اصلاح اور انقلاب کے لئے دعا ہے۔ وہ دعا یہ ہے:

اَللهمَّ کُن لولیَّک الحُجةِ بنِ الحَسَنِ صَلَواتُکَ عَلَیهِ وَ عَلی ابائهِ فی هذهِ السّاعةِ، وَ فی کُلّ ساعَة وَلیّا وَ حافظاً وقائِداً وَ ناصِراً وَ دَلیلاً وَ عَیناً حَتّی تُسکِنَهُ اَرضَکَ طَوعاً وَ تُمَتّعَهُ فیها طَویلاً ۔

۵-دعائے عہد

عصر غیبت کی اہم ترین دعاؤں میں سے ایک دعا ، دعائے عہد ہے جس کو ہر روز نماز صبح کے بعد پڑھنے کا حکم ہے۔ یہ دعا حضرت امام صادق نے تعلیم دی ہے۔ اور فرمایا ہے جو اس دعا کو مسلسل پڑھتا رہے اللہ تعالیٰ اس کو امام زمانہ کے اصحاب میں شامل کرے گا اور ہر کلمے کے بدلے ہزار نیکیا ں اس کے نامہ اعمال میں لکھے گا اور ہزار گناہو ں کو مٹا ئے گا ور ہزار درجات کو بلند کرے گا ۔

اللّٰهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظِیمِ، وَرَبَّ الْکُرْسِیِّ الرَّفِیعِ، وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ، وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ وَالْإِنْجِیلِ وَالزَّبُورِ، وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ، وَمُنْزِلَ الْقُرْآنِ الْعَظِیمِ، وَرَبَّ الْمَلائِکَةِ الْمُقَرَّبِینَ وَالْأَنْبِیاءِ وَ الْمُرْسَلِینَ. کامل دعا مفاتیح می ں موجود ہے۔

۴-واجبات کو انجام دینا اور حرام کاموں سے اجتناب کرنا ؛

امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے جو شخص امام زمانہ کے لشکر میں شامل ہونا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ کثرت سے امام کا انتظار کرے اور واجبات کو انجام دے اور حرام کاموں سے اجتناب کرے اور اپنے اخلاق کو سنوارے۔ اس حالت میں اگر وہ دنیا سے چلا بھی جائے تو امام کے اصحاب میں شامل ہوگا ۔

عن الصادق :مَنْ سَرَّهُ اَنْ يَكُونَ مِنْ اَصْحابِ الْقائِمِ فَلْيَنْتَظِرْ، وَلْيَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَ مَحاسِنِ الاَْخْلاقِ وَ هُوَ مُنْتَظِرٌ ۔

۵-اپنے آپ اور اپنے خاندان کو ظہور کے لیے آمادہ کرنا؛

عصر غیبت کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ظہور کے لیے اور امام کے لشکر میں شامل ہونے کے لیے اور اپنے آپ کو اور اہل عیال کو عصر غیبت میں مومنین اور معاشر ےکو آمادہ کرنا اور تیار کرنا ہے۔ جیسا کہ امیرالمومنین کا فرمان ہے: امام زمانہ کا انتظار کرتے رہو اور ان کے ظہور کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کرو اور ان کے ظہور میں تاخیر ہونے کی وجہ سے کبھی مایوس نہ ہونا اور خدا کی محبوب ترین اور پسند ترین عبادت امام زمانہ کا انتظار ہے۔

قال أَمِيرُاَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: اِنْتَظَرُوا اَلْفَرَجَ وَ لاٰ تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اَللّٰهِ فَإِنَّ أَحَبَّ اَلْأَعْمَالِ إِلَى اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ اِنْتِظَارُ اَلْفَرَجِ مَا دَامَ عَلَيْهِ اَلْعَبْدُ اَلْمُؤْمِنُ.

۶- امام سے اپنے رابطے کو مضبوط کرنا

عصر غیبت میں ایک اہم ذمہ داری، اپنے امام سے رابطے کو مضبوط کرنا اور محکم کرنا ہے۔ اور کسی حال میں بھی امام سے غافل نہ ہونا، امام کو فراموش نہ کرنا، امام کی یاد اور ذکر کو ہمیشہ زندہ رکھنا اور امام کی یاد سے اپنے وجود کو معطر رکھنا،اپنی محفلوں، مجلسوں اور ہر حال میں امام کے لیے دعا کرتے رہنا ہے۔نیز حضرت امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:اپنے امام منتظرسے رابطہ کو مضبوط اور مستحکم کر و۔

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ اَلْبَاقِرِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: يٰا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا اِصْبِرُوا وَ صٰابِرُوا وَ رٰابِطُوا قَالَ: اِصْبِرُوا عَلَى أَدَاءِ اَلْفَرَائِضِ وَ صَابِرُوا عَدُوَّكُمْ، وَ رَابِطُوا إِمَامَكُمْ اَلْمُنْتَظَرَ ۔

۷- عصر غیبت میں اپنے عقائد کی حفاظت کرنا

عصر غیبت میں اپنے عقائد کی حفاظت کرنا ،اور اس انتہائی مشکل ترین اور گمراہیوں کے پرآشوب زمانے میں شکوک و شبہات سے اپنے آپ کو اور مومنین کو بچانا اور ان کے عقائد کو مضبوط اور محکم کرنا انتہائی اساسی اور بنیادی فرائض میں شامل ہے۔جیسا کہ حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص عصر غیبت میں امام زمانہ اورآل محمد کی ولایت و امامت پر باقی رہے اور اپنے عقائد کی حفاظت کرے خداوند متعال اس شخص کو ایک ہزار شہید کے برابر اجر عطا کرتا ہے۔

الإمامُ زينُ العابدينَ عليه السلام :مَن ثَبَتَ على وَلايتِنا في غَيبةِ قائمنا أعطاهُ اللّه ُ أجرَ ألفِ شهيدٍ ، مثلِ شُهَداءِ بدرٍ و اُحدٍ ۔

۸-عصر غیبت میں مجتہدین کی تقلید کرنا

عصر غیبت میں مجتہدین کی تقلید کرنا،عصر غیبت میں نظام مرجعیت کو تقویت دینا، خود امام زمانہ نے عصر غیبت میں مجاہدین کی تقلید کرنا اور ان کی طرف رجوع کرنے کو واجب قرار دیا ہے ۔امام زمانہ نے فرمایا :میرے پردہ غیبت میں جانے کے بعد جو مسائل اور حوادث پیش آئیں گے ان کا حل کے لیے مراجع کی طرف رجوع کرو یہ لوگ میری طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں خدا کی جانب سے ان پر حجت ہوں۔

وَ أَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَ أَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِم؛

اسی طرح حضرت امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: فقہاء میں سےوہ فقہاء و مجتہدین جو دین کی حفاظت کرنے والے،مولا کی اطاعت کرنے والے اور اپنے آپ کو گناہوں سے بچانے والے ہیں ۔ ان کی تقلید کرنا تمام عوام پر واجب ہے۔

وَاَمّا مَنْ کانَ مِنَ الفُقَهاءِ صَائِنا لِنَفْسِهِ حافِظاً لِدینِهِ مُخالِفاً لِهَواهُ مُطیعاً لِاَمرِ مولائ ے هُ فَلِلْعَوامِ اَنْ یُقَلِّدُوهُ...

۹-امام کی زیارت اور تجدید بیعت کرنا

عصر غیبت میں ہمیشہ امام کی زیارت اور امام سے تجدید بیعت کرتے رہنا بہت ضروری ہے۔ حضرت شیخ عبا س قمی نے خصوصا جمعہ کے اعمال میں سے زیارت آل یسین کےپڑھنے اور اس زیارت کے ذریعے سے امام سے رابطہ قائم کرنے اور امام کی طرف متوجہ رہنے کو ضروری قرار دیا ہے۔ زیارت آل یاسین، امام زمانہ کی معرفت اور شناخت کا ایک خزانہ ہے۔

۱۰- امام زمانہ کے جشن ولادت کو اہتمام کے ساتھ منعقد کرنا

شعبان کی پندرویں رات ، شب برائت ہے۔ یہ رات بشریت کی نجات اور مشکلات سے دوری کی شب ہے جس کو پوری دنیا میں مسلمان بڑے اہتما م سے مناتے ہیں ۔ یہ رات منجی بشریت ، مصلح کائنات حضرت امام زمانہ کی ولادت کی رات ہے۔ اس رات کو اور دن کو نہایت اہتمام کے ساتھ منانا چاہیے اور جشن ولادت امام زمانہ کا ہرجگہ اہتمام کرنا اور لوگوں کو امام کے فضائل، مناقب اور شخصیت سے آگاہ کرنا اورعصر غیبت میں منتظرین امام زمانہ اور مومنین کی ذمہ داریوں کو بیان کرنا نہایت ضروری ہے۔

خدا سے دعا ہے کہ ان ذمہ داریوں کو نبھانے ، امام کی معرفت اور امام کے اصحاب میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

۳۴

مسجد کی فضیلت

سوال: مسجد میں نماز پڑھنے کی اہمیت اور فضیلت کو بیان کریں؟

جواب: مسجد، خانہ خدا ہے اور روئے زمین پر مقدس ترین اور با فضیلت ترین جگہ، مسجد ہے ۔تمام نمازوں کو مسجد میں ادا کرنا چاہیے کیونکہ مسجد میں نماز ادا کرنے سے ثواب میں اضافہ ہوتا ہے اور خدا کی رضا اور گناہوں کی مغفرت حاصل ہوتی ہے ۔جیسا کہ امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے مسجد میں نماز ادا کیا کرو خداوند تمہارے مقام کو بلند کرے گا ۔ اور گناہوں سے پاک کرے گا۔

عَنِ اَلصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَنَّهُ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِإِتْيَانِ اَلْمَسَاجِدِ فَإِنَّهَا بُيُوتُ اَللَّهِ فِي اَلْأَرْضِ وَ مَنْ أَتَاهَا مُتَطَهِّراً طَهَّرَهُ اَللَّهُ مِنْ ذُنُوبِهِ.

مسجد میں داخل ہونے سے پہلے یہ دعا پڑھنی چاہیے۔ یہ دعا گناہوں سے پاکیزہ بناتی ہے ۔

عَنْ عَلِيٍّ (عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ) : أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ (صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) كَانَ إِذَادَخَلَ اَلْمَسْجِدَ قَالَ : اَللَّهُمَّ اِفْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، فَإِذَا خَرَجَ قَالَ: اَللَّهُمَّ اِفْتَحْ لِي أَبْوَابَ رِزْقِكَ ۔

نماز با جماعت ادا کرنا

روایات میں آیا ہے کہ باجماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کریں اس لئے کہ مسجد میں ایک نماز کا ادا کرنا ، گھر میں چالیس نماز وں سے افضل ہے۔ جیساکہ رسول اعظم کا فرما ن ہے: مرد مومن کا باجماعت نماز ادا کرنا ، گھر میں چالیس سال نمازوں سے افضل ہے ۔ پھر آپ نے مزید ارشاد فرمایا: جو شخص باجماعت نماز ادا کرتا ہے خدا، اسے دو لاکھ بیس درجات عطاء کرتا ہے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ صَلاَةُ اَلرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ صَلاَتِهِ فِي بَيْتِهِ أَرْبَعِينَ سَنَةً قِيلَ يَا رَسُولَ اَللَّهِ صَلاَةُ يَوْمٍ فَقَالَ صَلاَةٌ وَاحِدَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ إِذَا كَانَ اَلْعَبْدُ خَلْفَ اَلْإِمَامِ كَتَبَ اَللَّهُ لَهُ مِائَةَ أَلْفِ أَلْفٍ وَ عِشْرِينَ دَرَجَةً ۔

مسجد جنت سے افضل

مولائے کائنات (ع) نے فرمایا: مسجد میں بیھٹنا ، جنت میں بیھٹنے سے افضل ہے اور مجھے مسجد میں بیھٹنا ، جنت میں بیھٹنے سے زیادہ پسند ہے کیونکہ مسجد میں بیھٹنے میں خدا کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور جنت میں بیھٹنے سے میرا نفس خوش ہوگا ۔

عَنْ أَمِيرِ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ: اَلْجَلْسَةُ فِي اَلْجَامِعِ خَيْرٌ لِي مِنَ اَلْجَلْسَةِ فِي اَلْجَنَّةِ فَإِنَّ اَلْجَنَّةَ فِيهَا رِضَا نَفْسِي وَ اَلْجَامِعَ فِيهَا رِضَا رَبِّي

نیز ایک روایت میں مولا ؑنے مسجد سے رابطہ محکم رکھنے اور مسجد میں عبادت تاکید کرتے ہوئے فرمایا: مومن کی زندگی مسجد میں گزرتی ہے اور مسجد میں مومن کو سکون ملتا ہے اور مون کی زندگی مسجد سے وابستہ ہے جس طرح مچھلی کی زندگی پانی سے وابستہ ہے۔

المومن فی المسجد کالسمک فی الماء ۔

۳۵

احکام مسجد

سوال: مسجد کے احکام بیان کریں؟

جواب:

۱- مسجد کے تقدس اور احترام کو برقرار رکھنا ۲- سب سےآخر میں مسجد سے نکلنا

۳- مسجد کو پاک رکھنا ۴- مسجد میں جاتے وقت دائیں پاؤں کا رکھنا اور مسجد سے نکلتے وقت بائیں پاؤں کو باہر رکھنا

۵-نجس ہونے کی صورت میں فورا پاک کرنا ۶--مسجد میں داخل ہوتے وقت دعا پڑھنا

۷- مسجد کی صفائی اور شان و شوکت کا خیال رکھنا ۸- مسجد میں شور،شرابہ اور دنیاوی باتوں سے اجتناب کرنا

۹- مسجد میں چراغ روشن کرنا ۱۰- نماز تحیت مسجد، جب بھی کسی مسجد میں داخل ہو ں تو دو رکعت نماز ادا کرنا؛اس کا طریقہ صبح کی نماز کی طرح ہے۔

۱۱- سب سے پہلے مسجد میں جانا ۱۲- مسجد میں تربیتی دروس اور قرآن پاک کی تلاوت اور دعاؤں کی محفل، خصوصا دعائے ندبہ اور حدیث کساء کا اہتمام کرنا ۔ مسجد میں نماز جماعت برپا کرکے اس میں بھرپور شرکت کرکے مسجد کی رونق میں اضافہ کرنا۔

اسلام کی عظیم مساجد

سوال : دین اسلام میں سب سے عظیم مساجد کو بیان کریں؟

جواب: دین اسلام میں کئی مسجدیں ہیں جو تمام مساجد پر فضیلت اور برتری رکھتی ہیں ان مسجدوں میں نماز پڑھنے اور عبادت کرنے کا ثواب انسان کے تصور سے بالاتر ہے۔ جن مسجد وں میں نماز اور عبادت کرنےکا ثواب زیادہ ہے۔ وہ مساجد یہ ہیں:

۱- مسجد الحرام :یعنی خانہ کعبہ یہ مسجد روئے زمین پر سب سے پہلی مسجد ہے۔ جس کی بنیاد حضرت آدم علیہ السلام نے رکھی پھر جناب ابراہیم نے اس مسجد کی زینت میں اضافہ کرتے ہوئے ہجر اسود کو نصب کیا تمام انبیاء اور سرور کائنات مسجد میں نماز ادا کرتے رہے اور اس مسجد کی اہمیت ہو فضیلت کو بیان کرتے رہے۔

۲- مسجد نبوی: اس مسجد کی بنیاد سرور کائنات نے رکھی اور جب تک مدینہ میں تشریف فرما تھے اس میں عبادت اور نماز جمعہ و جماعت ادا کرتے رہے اور لوگوں کو دین اسلام کے پیغامات اور شریعت کے احکام بیان کرتے رہے۔

۳- بیت المقدس: روئے زمین پر مقدس ترین اور عظیم مساجد میں سے ایک ہے۔ جس میں تمام انبیاء نے نماز ادا کی اور اسی مسجد کی طر ف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے ۔اور یہ وہ مسجد ہے جہاں سے سرور کائنات معراج کی شرافت حاصل ہوئی اور یہی مسجد قبلہ اول جہان اسلام ہے جسےمسجد اقصی کہتےہیں جو اس وقت دشمنان اسلام کے زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے جس کی آزادی کے لیے فلسطینی مسلمان جنگ لڑ رہے ہیں۔

۴- مسجد کوفہ :عراق کے مشہور شہر کوفہ میں یہ مسجد واقع ہے یہ مسجد امیر المومنین ہے۔ جسے مولائے کائنات نےاپنے دور خلافت اور اپنی حکومت میں دارالخلافہ قرار دیا۔ اس مسجد میں تمام فیصلے اور قضاوت کرتے تھے اور اسی مسجد میں نماز جماعت اور جمعہ ادا کی جاتی اور لوگوں کو اس مسجد سے پیغام الہی، شریعت کے احکام اور نہج البلاغہ کے عظیم خطبے بیان کرتے رہے۔ یہ مسجد مولائے کائنات (ع)کی عبادت گاہ بھی ہے اور شہادت گاہ بھی۔حضرت مسلم ابن عقیل اور حانی ابن عروہ کی عظیم ضریحیاں بھی مسجد کوفہ ایک جانب موجود ہیں ۔

۵- جامع مسجد :ہر شہر کی جامع مسجد، دین اسلام میں وہ مساجد جہاں نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے اسے جامع مسجد کہتے ہیں اس کی بڑی فضیلت اور عظمت ہے۔شہر کی دیگر مسجدوں میں سے یہ مسجد افضل ترین مسجد ہے اور اس میں نماز اور عبادت کا ثواب دیگر مساجد سے زیادہ ہے۔ اس مسجد میں ہر ہفتے میں تمام مومنین کو جمع ہونے کا اور نماز جمعہ میں شرکت کرنے کا حکم ہے۔ اور یہ نماز جمعہ غریبوں کا حج اور تمام نمازوں میں افضل ترین ہے۔ نماز جمعہ کو جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے ۔

۳۶

باب اخلاق

اخلاق کی تعریف:

سوال : اخلاق کی تعریف کریں؟

جواب: اخلاق، لوگوں کے ساتھ خندہ پیشانی اور پاکیزہ گفتگو اور نہایت شایستگی کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام ہے۔جب امام صادق علیہ السلام سے اخلاق کے بارے میں سوال کیا گیا تو امام نے فرمایا: اخلاق یہ ہے کہ فروتنی اور تواضع اختیار کرنا اور شائستہ اور بہترین طریقے سے کلام اور گفتگو کرنا اور جب کسی سے ملاقات کریں تو خندہ پیشانی اور کھلے چہرے کے ساتھ ملنا ہے۔

الإمامُ الصّادقُ عليه السلام ـ لَمّا سُئلَ عَن حَدّ حُسنِ الخُلقِ ـ : تُلينُ جانِبَكَ ، و تُطيِّبُ كلامَكَ ، و تَلْقى أخاكَ ببِشْرٍ حَسَنٍ

اس حدیث کی روشنی میں بہترین رفتار اور بہترین گفتار اور بہترین کردار کے مجموعے کا نام خوش اخلاقی ہے۔

علمائے اخلاق نے خوش اخلاقی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے، انسانی تمام کمالات، فضائل وخوبیوں کو اپنانا اور تمام برائیوں ، ناپسند و بری صفات سے اپنے آپ کو نجات دینے نام خوش اخلاقی ہے۔

۳۷

سوال: اخلاق کی کتنی قسمیں ہیں؟

اخلاق کی دو قسمیں ہیں۔

۱- نیک اور پسندیدہ اوراچھی صفات ، جن کو فضائل اخلاقی سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسے سچ بولنا، تواضع اختیار کرنا، دوسروں کا احترام کرنا اور تعظیم کرنا ، پیار و محبت سے پیش آنا، لوگوں سے ہمدردی اور لوگوں کی خدمت کرنا، سب کو سلام کرنا اور سب کے غم و خوشی میں شریک ہونا ہے۔

۲- ناپسند اور بری صفات جن کو رذائل اخلاقی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسے جھوٹ بولنا، ہمیشہ لڑائی کرنا ،بداخلاقی کے ساتھ پیش آنا،لوگوں سے دشمنی، ماں باپ کی نافرمانی ، تکبر وغرور سے پیش آنا، اہل بیت سے دشمنی ، تہمت والزام لگانا اور لوگوں کے بارے میں منفی سوچ رکھنا وغیرہ

زندگی میں اخلاق کی اہمیت و آثار

سوال : خوش اخلاقی کی اہمیت و آثار بیان کریں ؟

جواب: خوش اخلاقی، انسان کی زندگی میں کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ خوش اخلاق انسان دنیا میں کامیاب اور اعلی زندگی کے مرتبے پر فائز ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اس کا مقام ، انبیاء کے ساتھ جنت میں ہے۔ جیسے سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے:

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : عَلَيْكُمْ بِحُسْنِ اَلْخُلُقِ - فَإِنَّ حُسْنَ اَلْخُلُقِ فِي اَلْجَنَّةِ لاَ مُحَالَةَ - وَ إِيَّاكُمْ وَ سُوءَ اَلْخُلُقِ - فَإِنَّ سَيِّئَ اَلْخُلُقِ فِي اَلنَّارِ لاَ مُحَالَةَ ۔

تم لوگوں پر خوش اخلاقی کی اور خوش رفتاری اختیار کرنا ضروری ہے اس کے لیے کہ خوش اخلاق انسان جنتی ہے۔ یقینا اس کا مقام جنت میں ہے اور خبردار بداخلاقی بدرفتاری سے اجتناب کرنا، اس لیے کہ بد اخلاق انسان جہنمی ہے۔

اس حدیث کی روشنی میں اخلاق کا اثر یہ ہے کہ خوش اخلاقی، انسان کی دنیاوی زندگی کو جنت بنا دیتی ہے اور بد اخلاقی انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو جہنم بنا دیتی ہے اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیتی ہے۔

۳۸

فضائل اخلاقی

سوال : فضائل اخلاقی اور پسندیدہ کاموں کی مختصر فہرست بیان کریں؟

جواب: جتنے بھی پسندیدہ کام اور اچھی صفات ہیں سب کا شمار فضائل اخلاقی میں ہوتا ہے۔ یہ انسان کی زینت اورعظمت و فضیلت اور برتری کا باعث ہے ۔ روایات میں ان فضائل اور خوبیوں کو اپنانے نہایت تاکید کی گئی ہے۔ ان صفات اور خوبیوں کی مختصر فہرست یہ ہے :

۱-تقوی اور پرہیزگاری اختیار کرنا ۲- تواضع ا ور فروتنی سے پیش آنا ۳-توکل یعنی خدا پر بھروسہ کرنا

۴- لوگوں کے ساتھ تعاون اور ان کی مدد کرنا ۵- توبہ کرنا اور گناہوں کی معافی مانگنا-۶- امانت داری سے کام لینا۷ -عدل و انصاف کا خیال رکھنا-۸- خدا و رسول ، آئمہ اور والدین کی اطاعت کرنا۹- یقین ۱۰- صبر ۱۱- لوگوں کاخیر خواہ ہونا اور ان سے نیکی کرنا ۱۲-شجاعت و بہادری

۱۳- معرفت و محبت اہل بیت ۔ ۱۴-والدین کی فرمانبرداری کرنا ۱۵- خدا کی نعمتوں پر شکر بجالانا

۱۶-لوگوں کے غم و خوشی میں شریک ہونا ۱۷-لوگوں کو سلام کرنا -۱۸- لوگوں کے ساتھ ادب سے پیش آنا

۱۹- غریبوں کی مدد کرنا -۲۰- ضرورت کے وقت گواہی دینا ۲۱- بیماروں کی عیادت کرنا

۲۲- نماز جنازہ میں شریک ہونا-۲۳- لوگوں سے بھلائی اور ان کی خدمت کرنا ۲۴- فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا

۲۵- معاشرے میں تعلیم و تربیت کو فروغ دینا -۲۶- یتیموں پر خاص توجہ دینا ۲۷- لوگوں کی خوشی و غم میں شریک ہونا

۲۸۔ مجالس عزا کا اہتمام کرنا-۲۹- مساجد بنانا اور آباد کرنا ۳۰-نماز جماعت قائم کرنا

۳۹

اچھی صفات اپنانے کا حکم

روایات میں اچھی صفات اور خوبیوں اور کمالات کو حاصل کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔جیساکہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام خوبیوں اور اچھی صفات سے نوازا ہے ۔ تم لوگ بھی ان خوبیوں اور ا چھی صفات کو حاصل کرو۔ یہ خوبیاں اور کمالات، انبیاء کی صفات ہیں ۔ اگر تم میں یہ صفات ہیں تو خدا کا شکر کرو اور اگر تمہاری زندگی میں یہ پسندیدہ صفات اور خوبیاں نہیں ہیں تو حاصل کرنے کی بھر پور کو شش کرو۔پھر آپ نے ان پسندیدہ صفات میں سے چنداہم ٖصفات کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا: وہ صفات انبیاء یہ ہیں:

تقوی اور پرہیز گاری،قناعت اور خدا کی نعمتوں پر راضی رہنا ، زندگی کی مشکلات میں صبر و استقامت سے کام لینا،نعمتوں پر شکر بجالانا، حلم و بردباری،شرم وحیا کا مالک ہونا،جود وسخا ء کو زندگی میں اپنانا،شجاعت و بہادری،غیرت مند ہونا، صداقت و سچائی ،نیکی کرنا، امانت دار ، صاحب یقین ہونا ،بہترین اخلاق اور انسانیت و مروت کا حامل ہونا ہے۔

یہ سب صفات انبیاء اور انسانی کمالات ہیں ۔ جن کا حاصل کرنا ، سب پر لازم و ضروری ہے۔

وَ قَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: إِنَّا لَنُحِبُّ مَنْ كَانَ عَاقِلاً عَالِماً فَهِماً فَقِيهاً حَلِيماً مُدَارِياً صَبُوراً صَدُوقاً وَفِيّاً إِنَّ اَللَّهَ خَصَّ اَلْأَنْبِيَاءَ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ بِمَكَارِمِ اَلْأَخْلاَقِ فَمَنْ كَانَتْ فِيهِ فَلْيَحْمَدِ اَللَّهَ عَلَى ذَلِكَ وَ مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ فَلْيَتَضَرَّعْ إِلَى اَللَّهِ وَ لْيَسْأَلْهُ إِيَّاهَا وَ قِيلَ لَهُ وَ مَا هِيَ قَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ اَلْوَرَعُ وَ اَلْقَنَاعَةُ وَ اَلصَّبْرُ وَ اَلشُّكْرُ وَ اَلْحِلْمُ وَ اَلْحَيَاءُ وَ اَلسَّخَاءُ وَ اَلشَّجَاعَةُ وَ اَلْغَيْرَةُ وَ صِدْقُ اَلْحَدِيثِ وَ اَلْبِرُّ وَ أَدَاءُ اَلْأَمَانَةِ وَ اَلْيَقِينُ وَ حُسْنُ اَلْخُلُقِ وَ اَلْمُرُوَّةُ

اچھے الفاظ سے ایک دوسرے کو پکارنا

سوال: اچھے الفاظ سے ایک دوسرے کو پکارنے کی فضیلت کو آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں ؟

جواب: قرآن پاک کی آیات اور معصومین ؑ کی روایات میں ایک دوسرے کو انتہائی خوبصورت الفاظ اور اچھے القاب سے پکارنے کی تاکید کی گئی ہے اور ہرقسم کے برے الفاظ اور القاب سے پکارنے سے منع کیا گیا ہے۔پروردگار عالم نے واضح الفاظ میں اچھی گفتگو اور بہترین کلام کے ذریعے سے ایک دوسرے کو پکارنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا : قولوا للناس حسنا

لوگوں سے انتہائی خوبصورت اور بہترین انداز میں کلام کرو اور اچھے انداز سے ایک دوسرے کو پکارو۔

اس آیت کے ذیل میں حضرت امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ بہترین کلام سے مراد ایسے الفاظ سے پکارنا ہے جن الفاظ کو تم پسند کرتے ہو اور ایسے الفاظ سے پکارنا جن کو اپنے لئے اچھا سمجھتے ہو۔

رسالت ماب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین عبادت لوگوں کو کھانا ،کھلانا ہے اور لوگوں سے نہایت پاکیزہ اور بہترین گفتگو کرنا ہے ؛یعنی بہترین الفاظ سے اور بہترین القاب سے ایک دوسرے کو پکارنا دین اسلام میں افضل ترین عبادات میں شامل ہے۔: لَمّا سُئلَ عَن أفضَلِ الأعمالِ ـ : إطعامُ الطَّعامِ ، و إطيابُ الكَلامِ

حضرت امام سجاد علیہ السلام نے بہترین گفتگو کی فضیلت اور فوائد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : ایک دوسرےکو اچھے الفاظ سے پکارنا اور بہترین گفتگو کرنا ، رزق میں وسعت اور لوگوں میں محبت اور آخرت میں جنت کا سبب ہے۔

حدیث: القَولُ الحَسَنُ يُثرِي المالَ ، ويُنمِي الرِّزقَ ، ويُنسِئُ فِي الأَجَلِ ، ويُحَبِّبُ إلَى الأَهلِ ، ويُدخِلُ الجَنَّةَ

اس روایت میں امام سجاد علیہ السلام نے بہترین الفاظ سے ایک دوسرے کو پکارنے کے پانچ عظیم فائدےبیان فرمائے ہیں:

۱-مال میں فراوانی ۲-رزق میں وسعت ۳- زندگی میں برکت

۴- لوگوں کے درمیان الفت و محبت ۵- آخرت میں جنت کو پانے کا سبب

یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ اچھے الفاظ کا استعمال کرنا لوگوں میں الفت اور محبت کا سبب ہے اور خدا کی خوشنودی کا باعث ہے جب خدا کی رضا مل جاتی ہے تو خدا دنیا میں دولت و برکت اور آخرت میں مغفرت اور جنت عطا کرتا ہے اس لیے مولائے کائنات نے ارشاد فرمایا : اپنی زبان کو اچھی باتوں کی عادت ڈالو اور لوگوں کو سلام اور ادب و احترام سے پیش آؤ تاکہ تمہارے دوستوں اور چاہنے والوں میں اضافہ ہو اور دشمنوں میں کمی ہو۔

قال امیرالمؤمنین (علیه السلام):عَوِّدْ لِسَانَكَ لِينَ اَلْكَلاَمِ وَ بَذْلَ اَلسَّلاَمِ يَكْثُرُ مُحِبُّوكَ وَ يَقِلُّ مُبْغِضُوكَ ۔

مولا کے اس فرمان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے ۔ معاشرے میں الفت و محبت کا راز، اچھے الفاظ سے پکارنا ہے ۔ جب کہ اس کے مقابلہ میں برے الفاظ سے ، نازیبا کلمات سے ایک دوسرے کو پکارنا ، معاشرے میں نفرت ، عداوت اور لڑائی جھگڑے کا باعث ہے۔

اچھی عادتیں اپنانا

سوال: اچھی عادتوں کو اپنانے کی اہمیت فضیلت آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: انسان میں بہت ساری اچھی عادتیں، خوبیاں اور اچھی صفات پائی جاتی ہیں جیسا کہ سچ بولنا، دوسروں کو سلام کرنا ،والدین کی خدمت کرنا،مطالعہ کرنا، صفائی کا خیال رکھنا ،دوسروں کی مدد کرنا ،دوسروں سے حسن سلوک سے پیش آنا اور دوسروں کے دکھ و درد میں شریک ہونا اور ان کے دکھ کا خیال رکھنا، بروقت نماز پڑھنا اور دوسروں کا سہارا بننا، زحمت اور محنت کرنا ،یہ سب اچھی عادتیں ہیں ان اچھی عادتوں کو اپنانے اور ان پر عمل کرنے کی روایات میں بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔ اور یہی اچھی صفات ایک کامیاب انسان اور مومن کی نشانی ہیں۔ اچھی صفات اپنانے سے انسان کی شخصیت باعزت و باوقار ہوتی ہے اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی نصیب ہوتی ہے ۔

مولائے کائنات نے ارشاد فرمایا: بہترین عادتوں کو اپنانافضیلت اور شرافت کا باعث ہے اچھی عادتوں سے انسان دنیا اور آخرت دونوں میں فضیلت کو پاتا ہے۔

الفَضيلَةُ غَلَبَةُ العادَةِ

ایک دوسری روایت میں مولائے کائنات نے فرمایا :بہترین عبادت اور بندگی اچھی عادتوں کو اور اچھی صفات کو اپنانا ہے۔

أفضَلُ العِبادَةِ غَلَبَةُ العادَةِ ؛

نیز مولائے کائنات نے حضرت امام حسن علیہ السلام کو اچھی عادات اور صفات اپنانے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اپنے وجود میں اور اپنی ذات میں اچھی صفات اور اچھی عادتوں کو پیدا کرو ،سختیوں اور مشکلات کو برداشت کرو، باہمت بن کر زندگی گزارو ایسا کرو گے تو تمہیں دنیا میں شرافت وعزت اور کامیابی نصیب ہوگی اور آخرت کی کامیاب سے ہمکنار ہوگے اور تمہارے دوست اور چاہنے والوں میں اضافہ ہوگا۔

حدیث: قال امیر المؤمنین علی ہ السلام : للحَسن علی ہ السلام ، عَوِّدْ نفسَكَ فِعلَ المَكارِمِ ، و تَحَمُّلَ أعباءِ المَغارِمِ ، تَشرُفْ نفسُكَ

اس روایت میں مولائے کائناتؑ نے اچھی عادتوں کو اپنانے والے لوگوں کو دنیا اور آخرت کی عزت سر بلندی کی خوشخبری دی ہے۔

ان روایات اورآئمہ معصومین علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں ہم پر لازم ہے کہ ہمیشہ اچھی عادتوں کو اپنائیں اور ان پر عمل کریں اور بری عادات وصفات سے خود کو بچائیں اور خود کو دور رکھیں ۔

۴۰