حقوق والدین
حقوق والدین آیات و روایات کی روشنی میں
سوال: حقوق والدین کو آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں؟
جواب: قرآن پاک کی آیات میں اور معصومینکی روایات میں والدین کے ساتھ نیکی کرنے اور والدین کی خدمت کرنے اور ان کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی بہت زیادہ تاکید اور سفارش کی گئی ہے۔جیساکہ سورہ شوری کی ۲۳ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت و بندگی خا حکم دینے کے بعد والدین کے ساتھ نیکی اور ان کی عزت و احترام کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَ قَضىٰ رَبُّكَ أَلاّٰ تَعْبُدُوا إِلاّٰ إِيّٰاهُ وَ بِالْوٰالِدَيْنِ إِحْسٰاناً إِمّٰا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ اَلْكِبَرَ أَحَدُهُمٰا أَوْ كِلاٰهُمٰا فَلاٰ تَقُلْ لَهُمٰا أُفٍّ وَ لاٰ تَنْهَرْهُمٰا وَ قُلْ لَهُمٰا قَوْلاً كَرِيماً وَ اِخْفِضْ لَهُمٰا جَنٰاحَ اَلذُّلِّ مِنَ اَلرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَبِّ اِرْحَمْهُمٰا كَمٰا رَبَّيٰانِي صَغِيراً ۔
اور آپ کے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس ہوں اور بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا بلکہ ان سے عزت و تکریم کے ساتھ بات کرنا۔ اور مہر و محبت کے ساتھ ان کے آگے انکساری کا پہلو جھکائے رکھو اور دعا کرو: میرے رب! ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے پچپن میں (شفقت سے) پالا تھا۔
دین اسلام میں خدا کی عبادت اور بندگی کے بعد سب سے زیادہ والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ والدین کی خدمت دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت ہے ۔جو شخص والدین کی خدمت کرتا ہے اور والدین کی رضا اور خوشنودی حاصل کرتا ہے خداوند متعال اس شخص کو دنیا میں بھی کامیابی عطا کرتا ہے اور آخرت میں عظیم درجہ اور مقام عطا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نےقرآن میں تمام انسانوں کو ماں باپ کی زحمتوں اور مشقت اور ماں باپ کی خدمت کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے ماں باپ نے تمہاری تربیت اور پرورش کرنے میں بہت ساری مشقتیں اور زحمتیں اٹھائی ہیں ان کا شکریہ ادا کرتے رہو اور اسی طرح خدا کی نعمتوں کا بھی شکربجالاتے رہو۔
وَ وَصَّيْنَا اَلْإِنْسٰانَ بِوٰالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلىٰ وَهْنٍ وَ فِصٰالُهُ فِي عٰامَيْنِ أَنِ اُشْكُرْ لِي وَ لِوٰالِدَيْكَ إِلَيَّ اَلْمَصِيرُ ۔
مولائے کائنات علیہ السلام نے فرمایا :ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا اور ماں باپ کی خدمت کرنا ،دین اسلام میں بزرگ ترین فریضہ اور واجب ہے ۔
بِرُّ اَلْوَالِدَيْنِ أَكْبَرُ فَرِيضَةٍ.
اس فرمان کی روشنی میں والدین کی خدمت اور والدین کے ساتھ نیکی اور احسان کرنا دین اسلام میں سب سے زیادہ افضل ترین عبادت ہے۔ جب کسی ایک شخص نے حضرت سے سوال کیا کہ دین اسلام میں افضل ترین عبادت کون سی ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اول وقت میں نماز ادا کرنا اور والدین کی خدمت کرنا اور دین کی مضبوطی کے لیے جہاد کرنا ہے۔
سألت النَّبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: أيُّ الأعمالِ أفضَلُ؟ قال: الصَّلاةُ لأوَّلِ وقتِها. قلتُ: ثمَّ ماذا يا رسولَ اللهِ؟ قال: بِرُّ الوالِدَينِ إحسانًا. قلتُ: وماذا يا رسولَ اللهِ؟ قال: الجِهادُ في سبيلِ اللهِ
ان آیات و روایات کی روشنی میں ہمیں ہمیشہ والدین کی خدمت کرنے و ان کو عزت و احترام ،ان کی خوشنودی اوردعا لینی چاہیے اور ہمیشہ اول وقت میں نماز ادا کرنی چاہیے ۔ تاکہ دنیا و آخرت کی فلاح و نجات اور خوشنودی خدا کے حقدار قرار پائیں۔
سوال: حقوق والدین اور اولاد کی ذمہ داری کو روایات کی روشنی میں بیان کریں؟
جواب: روایات میں والدین کے بہت سارے حقوق اور والدین کے حوالے سے اولاد کی بہت ساری ذمہ داریوں کو بیان کیا گیا ہے۔ جن میں سے چند اہم ذمہ داریوں کو روایات کی روشنی میں بیان کرتے ہیں:
والدین کی خدمت کرنا
والدین کی خدمت اور پوری زندگی ان کی مدد کرنا اہم ترین فریضہ ہے جیسا کہ مولائے کائنات (ع)نے فرمایا: والدین کے ساتھ نیکی اور ان کی خدمت ، دین اسلام میں بزرگ ترین فرض اور واجب ہے۔
بِرُّ اَلْوَالِدَيْنِ أَكْبَرُ فَرِيضَةٍ
حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ جب جہاد واجب ہو گیا تو ایک جوان سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور عرض کرنے لگا ؛اے اللہ کے رسول! مجھے جہاد پے جانے کا بہت شوق ہے۔
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: اگر تم جہاد پے جاؤ گے اور جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے تو خدا تجھے شہداء کے ساتھ عظیم مقام اور مرتبہ عطا کرے گا، لیکن اگرجہاد کے غازی بن کر پلٹے توخداوند متعال جہاد کا ثواب بھی عطا کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بھی بخش دے گا۔ اس جوان کے شوق میں اضافہ ہوا لیکن حضور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا ہے۔اے اللہ کے رسول !میرے ماں باپ دونوں بوڑھے ہیں اور وہ مجھ سے محبت بھی کرتے ہیں اور میرے دور ہونے سے وہ ناراض ہوں گے۔تو رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :تم ماں باپ کے ساتھ رہو،خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہارا ان کے پاس ایک دن ورات خدمت کرنا ،ایک سال کے جہاد سے افضل ہے۔
عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ اَلصَّادِقِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اَللَّهِ ، إِنِّي رَاغِبٌ فِي اَلْجِهَادِ نَشِيطٌ قَالَ فَجَاهِدْ فِي سَبِيلِ اَللَّهِ فَإِنَّكَ إِنْ تُقْتَلْ كُنْتَ حَيّاً عِنْدَ اَللَّهِ تُرْزَقُ وَ إِنْ مِتَّ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُكَ عَلَى اَللَّهِ وَ إِنْ رَجَعْتَ خَرَجْتَ مِنَ اَلذُّنُوبِ كَمَا وُلِدْتَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اَللَّهِ إِنَّ لِي وَالِدَيْنِ كَبِيرَيْنِ يَزْعُمَانِ أَنَّهُمَا يَأْنَسَانِ بِي وَ يَكْرَهَانِ خُرُوجِي فَقَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ أَقِمْ مَعَ وَالِدَيْكَ فَوَ اَلَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُنْسُهُمَا بِكَ يَوْماً وَ لَيْلَةً خَيْرٌ مِنْ جِهَادِ سَنَةٍ
حضرت امام صادق علیہ السلام نے والدین کے حقوق کے حوالے سے اولاد کی ذمہ داریوں کو بیان کرتے ہوئے ایک جامع روایت میں کئی حقوق اور کئی ذمہ داریوں کو بیان فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مولائے نے فرمایا :والدین کی اطاعت اور ان کے فرمان پر عمل کرنا اور ان کے ساتھ نیکی و احسان کرنا واجب ہے۔ان کی عزت و احترام اور ان کے ساتھ تواضع اور فروتنی سے پیش آنا ضروری ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے زندگی گزارنا ضروری ہے کیونکہ خدا نے اپنا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ والدین کا شکریہ ادا کرنے کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔ اس فرمان کی روشنی میں والدین کے حقوق یہ ہیں:
۱-والدین کی خدمت کرنا ۲-والدین کی اطاعت ۳-نیکی و احسان
۴-تواضع واحترام ۵-تشکر اور قدردانی ۶-والدین کے مرنے کے بعد ان کو یاد کرنا اور دعا
اَلرِّضَاعَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ بِطَاعَةِ اَلْأَبِ وَ بِرِّهِ وَ اَلتَّوَاضُعِ وَ اَلْخُضُوعِ وَ اَلْإِعْظَامِ وَ اَلْإِكْرَامِ لَهُ إِلَى أَنْ قَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ تَابِعُوهُمْ فِي اَلدُّنْيَا أَحْسَنَ اَلْمُتَابَعَةِ بِالْبِرِّ وَ بَعْدَ اَلْمَوْتِ بِالدُّعَاءِ لَهُمْ وَ اَلتَّرَحُّمِ عَلَيْهِمْ فَإِنَّهُ رُوِيَ أَنَّ مَنْ بَرَّ أَبَاهُ فِي حَيَاتِهِ وَ لَمْ يَدْعُ لَهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ سَمَّاهُ اَللَّهُ عَاقّاً ۔
۷- والدین کے لیے اعمال خیر اور واجبات کو انجام دینا
والدین کے حقوق اور اولاد کی ذمہ داریوں اورفرائض میں سے ایک اہم ترین فریضہ اور ذمہ داری یہ ہے کہ والدین کے واجبات اور فرائض جو ان کی زندگی میں چھوٹ گئے ہیں۔ جیسے نمازیں قضا ہو ئی ہوں یا جو روز رہ گئے ہوں اور اسی طرح دیگر واجبات کو ادا کرنا بہت ضروری ہے۔زیارت کرنا، حج کرنا اور ان کے لیے دیگرنیکیاں انجام دینا ، اولاد کی اہم ذمہ داریوں اور حقوق والدین میں شامل ہے۔ جیسا کہ امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے تمہیں ہمیشہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی اور احسان کرنا چاہیے، چاہے وہ زندہ ہوں یا زندہ نہ ہوں ۔ان کی طرف سے صدقہ دو، نمازیں پڑھو، روزہ رکھو ،حج کرو اور ان کی جانب سے نیکی انجام دو کیونکہ خداوند متعال ، ان عبادات کا جو ثواب ان کے لئے ہوگا وہی تمہارے لئے بھی اور خداوند متعال نیکی کے صلے میں تمہیں خیر کثیر اور والدین کو مغفرت عطا کرے گا۔
قَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : مَا يَمْنَعُ اَلرَّجُلَ مِنْكُمْ أَنْ يَبَرَّ وَالِدَيْهِ حَيَّيْنِ وَ مَيِّتَيْنِ يُصَلِّيَ عَنْهُمَا وَ يَتَصَدَّقَ عَنْهُمَا وَ يَحُجَّ عَنْهُمَا وَ يَصُومَ عَنْهُمَا فَيَكُونَ اَلَّذِي صَنَعَ لَهُمَا وَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ فَيَزِيدَهُ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِبِرِّهِ وَ صِلَتِهِ خَيْراً كَثِيرا.
۸-مرنے کے بعد بھی والدین کو یاد کرنا اور ان کے لیے نیکی اور احسان کرنا
روایات میں آیا ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی اور احسان صرف ان کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ مرنے کے بعد وہ زیادہ محتاج ہوتے ہیں ان کو زیادہ نیکیوں اور خیرات کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اس عالم میں مجبور ہیں اور ہم ان کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں ۔ جیساکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے عظیم مقامات اور مرتبہ اس شخص کے لئے جس نے اپنے والدین کے مرنے کے بعد ان کے لیے نیکی اور اعمال خیر کو انجام دیا۔
قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : سَيِّدُ اَلْأَبْرَارِ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ رَجُلٌ بَرَّ وَالِدَيْهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا.
۹- والدین کی زیارت کے لیے قبرستان جانا
والدین کے حقوق میں سے ایک اہم حق اور اولاد کی ذمہ داریوں میں سے یہ ہے کہ والدین کی زیارت کے لیے قبرستان جائیں۔جن کے والدین کا انتقال ہو چکا ہے ان کی قبر پر حاضری دینا اور ان کی زیارت کرنا اور ان کے لیے فاتحہ اور مغفرت کی دعا کرنا اور ان کے لیے صدقہ دینا ،روایات میں اہم ذمہ داریوں اور حقوق والدین میں سے شمار کیا گیا ہے۔والدین کے انتقال کے بعد ان کو فراموش کرنا اور ان کی قبور پر نہ جانا اور ان کی مغفرت کے لیے کچھ نہ کرنا ،گناہ قرار دیا گیا اور بہت زیادہ مذمت وارد ہوئی ہے ۔حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: جو شخص ہر جمعہ اپنے والدین کی قبور پر زیارت کے لیے جائے اللہ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس کا شمار نیک اولاد میں کرتا ہے۔
قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : مَنْ زَارَ قَبْرَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ فَقَرَأَ عِنْدَهُمَا يس غَفَرَ اَللَّهُ لَهُ بِعَدَدِ كُلِّ حَرْفٍ مِنْهَا.
۱۰- والدین کے لیے دعا کرنا
والدین کے حقوق اور اولاد کی ذمہ داریوں میں سے ایک ، والدین کے لیے دعا کرنا ہے۔ والدین زندہ ہوں تو ان کی سلامتی ان کی خوشی کے لیے دعا کریں اور دنیا سے چلے جائیں تو ان کی مغفرت ، درجات کی بلندی کے لیے دعا کریں۔ اولاد جب والدین کی مغفرت کے لیے دعا کرتی ہے تو خدا ان کے گناہ بخش دیتا ہے اور درجات کو بلند کرتا ہے اور جب ان کا درجہ بڑھ جاتا ہے تو وہ پوچھتے ہیں خدایا یہ ہمارےدرجے میں اضافہ کیسے ہوا ؟جب کہ ہم نے یہ اعمال انجام نہیں دیئے تھے۔ رب العزت کی طرف آواز آتی ہے کہ تمہاری اولاد کے تمہارے حق میں دعا اور استغفار کیا ہے اسی لئے تمہارا درجہ بلند ہوا ہے۔
إنَّ الرَّجُلُ لَتُرْفَعُ دَرَجَتُهُ فِي الجَنَّةِ فَيَقولِ: أنّى لي هَذَا؟ فيقالُ: باسْتِغْفارِ وَلَدِكَ لَكَ.
۱۱-والدین کے اخراجات پورے کرنا یا ادا کرنا
حقوق والدین اور اولاد کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے والدین کی ضروریات اور اخراجات کو پورا کرنا بھی ہے ۔جب والدین بوڑھےہو جاتے ہیں اوروہ اپنے اخراجات حاصل کرنے پر قادر نہ ہوں تو اولاد پر واجب ہے کہ ان کی تمام ضروریات کو جیسے کھانا پینا ،لباس، علاج اور زندگی کی دیگر تمام ضرورت کو پورا کرے جس طرح والدین نے تمہاری تمام ضروریات کو پورا کیا تھا جب ہم چھوٹے تھے تو والدین پر ہمارا نفقہ تھاہے، ہماری ضروریات کا ادا کرنا ان پر فرض تھا اور جب وہ بوڑھے ہو چکے ہیں تو وہ اب ہمارے واجب النفقہ ہیں، ان کی ضروریات ہم پر فرض ہے۔
۱۲- والدین کو راضی اور خوشحال رکھنا
اولاد پر فرض ہے ک ہ و ہ اپن ے والدین کو ہ ر حال می ں خوش اور راضی رک ھ ی ں ان کو کب ھ ی ب ھ ی ناراض ن ہ ہ ون ے دی ں اس لی ے ک ہ ان کی رضا اور خوشنودی، خدا کی رضا ہے اور ان کی ناراضگی ،خدا کی ناراضگی ہے ۔ جیسا ک ہ رسول خدا (صلی الل ہ علی ہ وآل ہ وسلم)کا فرمان ہے ک ہ خدا کی رضا، ما ں باپ کی رضا پر موقوف ہے اور الل ہ کی ناراضگی ما ں باپ کی ناراضگی پر موقوف ہے۔ جن پر والدین راضی ہ ی ں ان پر خدا ب ھ ی راضی اور جن پر والدین غضبناک ہ ی ں ان پر خدا ب ھ ی غضبناک ہ وتا ہے۔ قَالَ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : رِضَى اَللَّهِ مَعَ رِضَى اَلْوَالِدَيْنِ وَ سَخَطُ اَللَّهِ مَعَ سَخَطِ اَلْوَالِدَيْنِ ۔
۱۳- ماں باپ کے ساتھ انتہائی پیار اور محبت سے پیش آنا
والدین کے حقوق اور اولاد کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری ماں باپ کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آنا ہے ۔ماں باپ کے ساتھ پیار اور محبت کرنا بہت ضروری ہے۔ صرف کھانا پینا اور اخراجات کا پورا کرنا کافی نہیں بلکہ ان سے پیار محبت سے پیش آنا بھی ضروری ہے۔ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :والدین کی طرف محبت بھری نگاہ کرنا،عظیم عبادت ہے ۔
رَسُولَ اَللَّهِ (صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) يَقُولُ: اَلنَّظَرُ إِلَى عَلِيٍّ عِبَادَةٌ، وَ اَلنَّظَرُ إِلَى اَلْوَالِدَيْنِ بِرَأْفَةٍ وَ رَحْمَةٍ عِبَادَةٌ، وَ اَلنَّظَرُ فِي اَلصَّحِيفَةِ - يَعْنِي صَحِيفَةَ اَلْقُرْآنِ - عِبَادَةٌ، وَ اَلنَّظَرُ إِلَى اَلْكَعْبَةِ عِبَادَةٌ ۔
۱۴- والدین کی عزت اور احترام کرنا
والدین کے حقوق اور اولاد کی ذمہ داریوں میں سے ایک اور اہم ذمہ داری والدین کی عزت کرنا ہے۔ ان کے احترام کا خیال رکھنا ہے اور ان کے ساتھ بڑے تواضع اور فروتنی سے پیش آنا ہے۔ مولائے کائنات نے فرمایا کہ جب تمہارے والدین یا تمہارا استاد تمہارے پاس ہے تو ان کی عزت اور احترام کے لئے کھڑے ہو جاؤ اگرچہ تم زمانے کے بادشا ہ ہی کیوں نہ ہو۔
أَكْرِمْ ضَيْفَكَ وَ إِنْ كَانَ حَقِيراً وَ قُمْ عَنْ مَجْلِسِكَ لِأَبِيكَ وَ مُعَلِّمِكَ وَ إِنْ كُنْتَ أَمِيراً
۱۵- والدین کی طرف محبت اور الفت سے دیکھنا
پروردگار نے اس کائنات کو محبت کی بنیاد پر خلق فرمایا ہےاورانسانی زندگی بھی پیار ومحبت کے ستون پر قائم ہے ۔ اسی لیےخدا نے ماں باپ سے الفت و محبت کو واجب قرار دیا ہے اور ان کے چہرے پر الفت اور محبت نگاہ ڈالنا،نہ صرف عبادت بلکہ ہر نگاہ پر خدا نے حج اور عمرے کا ثواب قرار دیا ہے۔ جیسا کہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے جب نیک اور صالح اولاد اپنے والدین کے چہرے کی طرف محبت بھری نگاہ کرتے ہیں اور پیار اور محبت سے پیش آتے ہیں تو خدا ہر نگاہ پر حج کا ثواب عطا کرتا ہے۔پیغمبر سے اصحاب نے سوال کیا کہ اگر سو مرتبہ دیکھیں تو کیا تو سو مرتبہ حج کا ثواب عطا کرے گا؟ نبی خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خدا کا خزانہ لامحدود ہے جتنی مرتبہ نگاہ کرو گے خداوند متعال ہر نگاہ پر حج اور عمرے کا ثواب عطا کرتا ہے۔
وَ قَالَ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ: مَا مِنْ وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ إِلَى وَالِدَيْهِ نَظَرَ رَحْمَةٍ إِلاَّ كَانَ لَهُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اَللَّهِ وَ إِنْ نَظَرَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ قَالَ نَعَمْ اَللَّهُ أَكْبَرُ وَ أَطْيَبُ
عاق والدین
سوال :عاق والدین سے کیا مراد ہے؟
جواب: علامہ مجلسی نے عاق والدین کے معنی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :ماں باپ کی عزت و احترام نہ کرنا اور ماں باپ کو اذیت و آزار پہنچانا اور ماں باپ کی توہین اور تحقیر کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور ماں باپ کی عزت و احترام کا خیال نہ رکھنا اور ماں باپ کے حقوق کو ادا نہ کرنا یہ سب عاق والدین میں شامل ہیں۔ والدین کی نافرمانی گناہ کبیرہ میں سے ہے اور جو اولاد اپنے ماں باپ کی نافرمانی اور ان کو اذیت و آزار پہنچائے یعنی عاق ہو جائے وہ ملعون ہے ؛خدا کی ان پر لعنت ؛ انبیاء کی ان پر لعنت ہوتی ہے اور عاق والدین جہنمی ہیں ۔ بحار الانوار میں روایت ہے :امام صادق (ع)فرماتے ہیں کہ وہ شخص ملعون ہے جو ماں باپ کی توہین کرے وہ شخص بھی ملعون ہے جو ماں باپ پر ہاتھ اٹھائے اور وہ شخص بھی ملعون ہے جو والدین کی نافرمانی کرتے ہوئے عاق ہو جائے۔
اَلصَّادِقَ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ يَقُولُ: مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ ضَرَبَ وَالِدَهُ أَوْ وَالِدَتَهُ مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ عَقَّ وَالِدَيْهِ مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ لَمْ يُوَقِّرِ اَلْمَسْجِدَ.
عاق والدین کے بدترین اثرات اور انجام
سوال: عاق والدین کے بدترین اثرات کو بیان کریں ؟
جواب: والدین کی نافرمانی اور ناراضگی اور ان کو اذیت و آزار پہنچانا اور ان کے حقوق کو ادا نہ کرنا، عاق والدین میں شامل ہیں۔یہ شخص دنیا میں بھی خدا کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم ہوتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اور اعمال، والدین کی ناراضگی کی وجہ سے برباد ہو جاتے ہیں اور وہ پروردگار کے غضب میں مبتلا ہو جاتا ہے، قیامت کے دن یہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگ پا ئے گا اس لیے کہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا :خبردار!
والدین کی نافرمانی نہ کرنا اور ان کو ہرگز نہ ستانا اس لیے کہ جنت کی خوشبو ایک ہزار سال کی مسافت سے محسوس ہوگی لیکن عاق والدین ،جنت کی خوشبو سے بھی محروم ہوگا ۔اور وہ شخص جو رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرے اور جو زناکار ہو اور وہ شخص جو مغرور و متکبر ہو ۔ ان چار گروہ کے افردا، قیامت کے دن جنت کی خوشبو سے محروم ہوں گے اور فرشتے گھسیٹتے ہوئے انہیں جہنم میں دھکیل دیں گے.
قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي كَلاَمٍ لَهُ: إِيَّاكُمْ وَ عُقُوقَ اَلْوَالِدَيْنِ فَإِنَّ رِيحَ اَلْجَنَّةِ يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ سَنَةٍ وَ لاَ يَجِدُهَا عَاقٌّ وَ لاَ قَاطِعُ اَلرَّحِمِ وَ لاَ شَيْخٌ زَانٍ
عاق والدین دنیا اور آخرت دونوں میں تباہی کا سبب ہے۔ جو شخص اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہے روایات کی روشنی میں اس کی دنیا و آخرت دونوں تباہ ہو جاتی ہیں۔ دنیا میں غربت اور ذلت ورسوائی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور آخرت میں ہمیشہ جہنم کی آگ میں جلتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے۔ اے علی میں نے شب معراج جنت کی سیر کی تو جنت کے دروازے پر یہ تحریر جو موجود تھی: میں نے جنت کو چار گروہوں پر حرام قرار دیا ہے : ایک: بخیل اور کنجوس تین: عاق والدین پر-
دو :ریاکار شخص پر چار: چغل خور پر
قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ: يَا عَلِيُّ رَأَيْتُ عَلَى بَابِ اَلْجَنَّةِ مَكْتُوباً أَنْتِ مُحَرَّمَةٌ عَلَى كُلِّ بَخِيلٍ وَ مُرَاءٍ وَ عَاقٍّ وَ نَمَّامٍ.
حضرت امام علی نقی(ع) فرماتے ہیں کہ ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور ان کو اذیت و آزار پہنچانا زندگی میں فقر و غربت کا سبب ہے اور ذلت اور رسوائی کا باعث ہے۔
قَالَ الامام الهادی عَلَيْهِ السَّلاَمُ : اَلْعُقُوقُ يُعْقِبُ اَلْقِلَّةَ وَ يُؤَدِّي إِلَى اَلذِّلَّةِ.
ان روایات کی روشنی میں ہمیں والدین کی نافرمانی اور ان کو ہر قسم کی اذیت وآزار اور ان کی ناراضگی کی مذمت بیان ہوئی ہے ہمیں ان سب امور سے پرہیز کرنا ہوگاکیونکہ ان کے ناراض کی وجہ سے خدا ناراض ہو تا ہے اور جس کے نتیجے میں دنیا و آخرت دونوں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔ وہ اولاد ، والدین کی نفرت اور نفرین اور بددعا کا شکار ہوجاتی ہے ان کی تقدیریں بگڑ جاتی ہیں۔ اورجو اطاعت اور خدمت کرتے ہوئےوالدین کی رضا اور خوشنودی کو پاتے ہیں ان سےخدا بھی راضی ہو تا ہے اور خداوند ایسی نیک اور صالح اولاد کو دنیا اور آخرت میں کامیابی اور سربلندی سے ہمکنار کرتاہے۔
سماجی ومعاشرتی رابطے کی اہمیت وضرورت
سوال: لوگوں کے ساتھ اچھے روابط رکھنے کی تاکید اور فضیلت آیات اور روایات کی روشنی میں بیان کریں؟
جواب: دین اسلام میں لوگوں کے ساتھ اچھے روابط رکھنے کی اور ان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ قران پاک کی آیات میں لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھنے اور ان کے غم و خوشی میں شریک ہونے پرزور دیا گیا ہےاور لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھنا اور ان کے غم و خوشی میں شریک ہونا جنتیوں کی صفات میں سے قرار دیا گیا ہے۔
سورہ رعد کی آیت نمبر ۲۰ سے ۲۵ تک جنتیوں کی صفات کو بیان کیا گیا ہے اور ان میں سے ایک اہم صفت لوگوں سے پسندیدہ اور شائستہ اور محکم رابطہ رکھنا ہے۔
۱ اہل جنت وفادار ہیں کسی سےبے وفائی نہیں کرتے ۔
۲ وہ اپنے وعدوں کے پابند رہتے ہیں۔
۳ وہ لوگوں اور اپنے رشتہ داروں سے رابطے کو برقرار رکھتے ہیں اور کبھی قطع تعلقی نہیں کرتے ۔
۴ وہ اپنے دلوں میں خدا کی معرفت اور خدا کا خوف رکھتے ہیں۔
۵ قیامت کے عذاب سے بہت ڈرتے ہیں۔
۶ بہت زیادہ صبر و استقامت کے مالک ہیں ؛مشکلات اور سختیوں میں صبر سے کام لیتے ہیں ۔
۷ پابندی کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور کبھی اپنی نماز کو ضائع نہیں ہونے دیتے۔
۸ اپنے رزق کو خدا کی راہ اور عزیز و اقارب و رشتہ داروں اور ضرورت مند انسانوں پر خرچ کرتے ہیں۔
۹ برائی کے جواب میں وہ کسی کے ساتھ برائی نہیں کرتے اور نہ ہی برائی کرنے والوں سے انتقام لیتے ہیں۔
ان آیات کے ذیل میں جن کی زندگی میں یہ صفات پائی جاتی ہیں ان کے لیے اور ان کی فیملی اور خانوادہ کے لیے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے انہیں جنت میں داخل کر دیں گے۔
اَلَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اَللّٰهِ وَ لاٰ يَنْقُضُونَ اَلْمِيثٰاقَ وَ اَلَّذِينَ يَصِلُونَ مٰا أَمَرَ اَللّٰهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ يَخٰافُونَ سُوءَ اَلْحِسٰابِ وَ اَلَّذِينَ صَبَرُوا اِبْتِغٰاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ أَقٰامُوا اَلصَّلاٰةَ وَ أَنْفَقُوا مِمّٰا رَزَقْنٰاهُمْ سِرًّا وَ عَلاٰنِيَةً وَ يَدْرَؤُنَ بِالْحَسَنَةِ اَلسَّيِّئَةَ أُولٰئِكَ لَهُمْ عُقْبَى اَلدّٰارِ
وہ موارد جہاں زیادہ رابطہ رکھنے کی تاکید ہے
سوال: وہ کونسے مواقع ہیں جہاں لوگوں سے رابطہ رکھنے کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے؟
جواب: یوں تو روایات اور آیات میں ہمیشہ لوگوں سے رابطہ رکھنے کی سفارش و تاکید کی گئی ہے لیکن بعض مواقع میں رابطہ رکھنے اور ان کی غم و خوشی میں شریک ہونے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے:
۱-عید فطر؛ کے موقع پر ایک دوسرے اور بزرگوں اور رشتہ داروں کو عید ملنے کے لیے جانا بہت ضروری ہے،کیونکہ عید فطر مسلمانوں کی بڑی عید ہے ایک دوسرے سے ملنے کے لیے اور سلام کرنے کے لیے جانا ضروری ہے۔
۲-عید قربان؛ جو کہ مسلمانوں کی بہت بڑی عید ہے اس پر بھی ملاقات کے لیے جانا اور عید ملنے کے لیے جانا بہت ضروری ہے۔
۳- عید غدیر پر؛ جو عالم اسلام کی سب سے بڑی عید ہے اور یہ عید امامت و عید ولایت ،عید آل محمد ہے اس عید پر بھی نئے کپڑے پہننے اور بہت زیادہ اہتمام کرنے اور لوگوں سے عید ملنے ،جشن منانے مولائے کائنات کے فضائل اور مناقب کو بیان کرنے کی اور بڑے اہتمام سے جشن غدیر منعقد کرنے کی تاکید کی گئی ہے ۔
۴- عید مباہلہ؛ یہ بھی عالم اسلام کی عیدوں میں سے ہے۔ یہ دن عیسائیوں پر عالم اسلام کی فتح اور پنجتن پاک کی کامیابی و صداقت اور عیسائیوں کی طرف سے اسلام کی صداقت اور حقانیت کو تسلیم کرنے اور اپنی شکست کو تسلیم اور پنجتن پاک کی عظمت اور حقیقت کے سامنے سر تسلیم ہونے کا دن ہے۔
۵- روز جمعہ ؛یہ دن بھی عالم اسلام کی عیدوں میں شامل ہے اور روایات میں اس دن کی عظمت یوں بیان ہوئی ہے۔ جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور افضل ترین دن ہےاور اس دن نظافت اور پاکیزگی ،نئے کپڑے پہننا اور غسل جمعہ کرنا اور پھر نماز جمعہ میں شرکت کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ بندگی کے ساتھ اجتماعی ملاقات اور اجتماعی زیارت کے لیے اور ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کے لیے تین میل کے فاصلے سے جامع مسجد میں سب کو جمع ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
۶- جب کسی کے ہاں خوشی کا موقع ہو اور خاندان والے سب خوش ہوں ان کی خوشی میں شریک ہونے کے لیے اور ان کو تبریک پیش کرنے کے لیے جانا اور اگر نہ جا سکے تو فون پر مبارکبادی پیش کرنا ضروری ہے جیسے کسی کی شادی ہو ہو یا فرزند کی ولادت ہوئی ہو یا کوئی ترقی یا کامیابی یا خوشی اور مسرت کا موقع ہو تو ان سے ان کی خوشی میں خود کو شامل کرنا اور اپنی خوشی کا اظہار کرنا ضروری ہے۔
۷- جب کوئی حج سے واپس آئے تو ان کو مبارکباد پیش کرنے کے لیے جانا اور ان کی خوشی میں شریک ہونا اور ان کو مبارکباد دینا ضروری ہے۔ روایات میں اس چیز کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے ۔
۸- اگر کوئی مقامات مقدسہ کی زیارات سے واپس لوٹے جیسےزائرمولائے امام علی علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام اورامام رضا علیہ السلام تواس کو مبارک پیش کرنا ۔
۹- غم اور مصیبت کے موقع پر
دین اسلام میں جہاں خوشیوں میں شریک ہونے کا حکم دیا گیا ہے اور خوشیوں میں ایک دوسرے کے پاس جانا اور ان کی خوشیوں کو بانٹنے کا حکم ہے اسی طرح غم کے موقع پر بھی تسلیت اور تعزیت کے لیے اور ان کے غم میں شریک ہونے کے لیے جانا اور ان کو تسلیت پیش کرنا بہت ضروری قرار دیا گیا ہے ۔مولائے کائنات کا فرمان ہے وہ شخص جو مرنے والےمومن کے گھر جائے اور اس کے لواحقین کو تعزیت و تسلیت پیش کرےخدا اس شخص کو عرش الہی کے سائے میں جگہ عطا کرتا ہے۔
من عزّی الثکلی اَظَلَّهُ عَرشِهِ یوم لاظِلَّ إلَّا ظِلُّهُ ۔
دوسروں کے غم اور خوشی میں شریک ہونا انسانیت کی نشانی ہے۔ حقیقت انسانیت ، ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور غم و خوشی میں شریک ہونا ہے۔ یہ وہ عظیم عبادت ہے جو کہ تمام انبیاء کی سیرت اور سرور کائنات کی سنت ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسروں کے غم و خوشی میں شریک ہوتے تھے اور ہمیں بھی دوسروں کے غم و خوشی میں شریک ہونے کا دیا ہے۔جیساکہ سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس سلسلہ میں ، سیرت نبوی کو بیان کرتے ہوئے مولائے کائنات نے فرمایا: حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسروں کے غم و خوشی میں شریک ہوتے تھے ۔ جب کسی کے ہاں تسلیت کے لئے تشریف لے جاتے تو فرماتے تھے ، اللہ تعالیٰ آپ کو اجر عطا کرے اور خدا کی رحمت خاص آپ کو نصیب ہو۔ اور جب کسی کے ہاں خوشی کا موقع ہوتا تو مبارکبادی کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو فرماتے تھے آپ کو مبارک ہو اوریہ خوشی باعث رحمت و برکت ہو۔
كانَ رَسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله إذا عَزّى قالَ : آجَرَكُمُ اللّه ُ و رَحِمَكُم ، و إذا هَنَّأ قالَ : بارَكَ اللّه ُ لَكُم و بارَكَ عَلَيكُم ۔
۱۰- مشکلات اور حوادث کے موقع پر انسانی زندگی میں کبھی کبھار حوادث اور مشکلات پیش آتے ہیں اور ان مشکلات کے موقع پر ایک دوسرے کوسہارا دینا اور ان کی مشکلات کو کم کرنا اور ہر ممکن مدد اور تعاون کرنا نہایت ضروری ہے ۔دین اسلام ، ہمدردی، محبت اور انسانیت کا دین ہے۔ انسانیت اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ دوسروں کے غموں میں شریک ہوں اور دوسروں سے ہر ممکن تعاون اور سہارا دینے کی کوشش کریں ۔ان تمام باتوں کا خلاصہ دوسروں کے ساتھ ہر حال میں رابطہ رکھنا اور ان کی خوشی میں ان کے ساتھ شریک ہونا نہایت ضروری ہے جوکہ انسانیت اور ایمان دونوں کا تقاضہ ہے ۔ جیساکہ مولائے کائنات نے اپنے وصیت نامے میں اجتماعی روابط اور معاشرتی تعلقات کو محکم رکھنے کی وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم سب پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے رابطہ رکھو اور قطع تعلقی دوری سے گریز کرو۔ مزید فرمایا: اللہ کی راہ میں مال ، جان اور زبان سے جہاد کرتے رہو اور ایک دوسرے ساتھ تعلقات اور نیکیوں کو ضروری قرار دو اور ہر گز ایک دوسرے سے دور اور رو گردان مت ہونا ۔ اور معاشرے میں لوگوں کو نیکیوں کی دعوت دینا اور برائیوں سے روکنا ، ہرگز ترک نہ کرنا وگرنہ برے لوگ تم پر مسلط ہو جائیں گے اور تم دعا کرو لیکن خدا تمہاری دعا ، مستجاب نہیں کرے گا ۔
عَلَيْكُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَ اَلْمُوَافَقَةِ وَ إِيَّاكُمْ وَ اَلْمُقَاطَعَةَ وَ اَلْمُهَاجَرَةَ
اَللَّهَ اَللَّهَ فِي اَلْجِهَادِ بِأَمْوَالِكُمْ وَ أَنْفُسِكُمْ وَ أَلْسِنَتِكُمْ فِي سَبِيلِ اَللَّهِ وَ عَلَيْكُمْ بِالتَّوَاصُلِ وَ اَلتَّبَاذُلِ وَ إِيَّاكُمْ وَ اَلتَّدَابُرَ وَ اَلتَّقَاطُعَ لاَ تَتْرُكُوا اَلْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ اَلنَّهْيَ عَنِ اَلْمُنْكَرِ فَيُوَلَّى عَلَيْكُمْ شِرَارُكُمْ ثُمَّ تَدْعُونَ فَلاَ يُسْتَجَابُ لَكُمْ.
صلہ رحمی(رشتہ داروں سے رابطہ رکھنا)
سوال: صلہ رحمی کی اہمیت اور ضرورت، آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں؟
جواب: رشتہ داروں سے اچھا رابطہ رکھنا اور ان کی غم و خوشی میں شریک ہونا، آیات و روایات کی روشنی میں لازم اور ضروری قرار دیاگیا ہے ۔ آیات و روایات میں صلہ رحمی پر زور دیا گیا ہے ۔امیر کائنات (ع) سے سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:تم سب اور قیامت تک آنے والے لوگوں کو سفارش کرتا ہوں کہ صلہ رحمی سے کام لینا ،اور رشتہ داروں سے رابطہ استوار رکھنا، اگرچہ وہ ایک سال کے فاصلے پر ہی کیوں نہ ہوں ان سے رابطہ رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ رابطہ اہم فریضہ ہے اور دین کا ستون ہے اور مولائے کائنات (ع)نےصلہ رحمی کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اپنے رشتہ داروں کی عزت اور احترام کرو کیونکہ یہ تمہارے پروں کی مانند ہیں ۔ جن کے ذریعے سے تم پرواز کرو گے اور تمہیں کامیابی ملے گی ۔ اور رشتہ داروں سے اچھا رابطہ رکھنا ان کے ساتھ اچھی زندگی گزارنا ،دنیا آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے ۔رشتہ داری ؛تمہاری بنیاد اور اساس ہے اور تمہاری طاقت کا سبب ہے۔ رشتہ داروں کے ذریعے سے تم بہت ساری کامیابیوں کو پاؤ گے پس رشتہ داروں کا خاص خیال رکھو، خدا تمہیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا کرے گا۔
قَالَ أَقْبَلَ أَمِيرُ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: أَكْرِمْ عَشِيرَتَكَ فَإِنَّهُمْ جَنَاحُكَ اَلَّذِي بِهِ تَطِيرُ وَ أَصْلُكَ اَلَّذِي إِلَيْهِ تَصِيرُ وَ أَنَّكَ بِهِمْ تَصُولُ وَ بِهِمْ تَطُولُ اَللَّذَّةُ عِنْدَ اَلشِّدَّةِ وَ أَكْرِمْ كَرِيمَهُمْ وَ عُدْ سَقِيمَهُمْ وَ أَشْرِكْهُمْ فِي أُمُورِهِمْ وَ تَيَسَّرْ عِنْدَ مَعْسُورِهِمْ وَ اِسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَى أُمُورِكَ فَإِنَّهُ أَكْفَى مُعِينٍ وَ اِسْتَوْدَعَ اَللَّهَ دِينَكَ وَ دُنْيَاكَ وَ اِسْأَلْهُ خَيْرَ اَلْقَضَاءِ فِي اَلدُّنْيَا وَ اَلْآخِرَةِ
صلہ رحمی کے فوائد و آثار روایات کی روشنی میں
سوال: دنیا و آخرت میں سے صلہ رحمی کے آثار اور فوائد بیان کریں ؟
جواب: آل محمد کی تعلیمات اور روایات میں نہ صرف صلہ رحمی کی تاکید اور سفارش ہے بلکہ دنیا وآخرت میں صلہ رحمی کی ہزاروں برکات ہیں: صلہ رحمی دنیا و آخرت میں کامیابی اورخوشیوں کا باعث ہے، رشتہ داروں سے رابطے کو منقطع کرنا دنیا وآخرت کی تباہی اور بربادی کا باعث ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ صلہ رحمی کے نتیجے میں خداوند بہت ساری خوشیوں کو عطا کرتا ہے اور رزق میں اضافہ ہوتا ہے مال و دولت میں فراوانی ہوتی ہے، اعمال قبول ہوتے ہیں، عمر میں برکت اور پریشانی اور بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ صلہ رحمی کرنے والے کو خداوند متعال دنیا میں اپنی رحمت کے سائے میں رکھتا ہے اور آخرت میں جنت عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ حضور(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے جو شخص رشتے داروں کی طرف قدم بڑھائے اور روابط کومحکم کرے اور نفرتوں کو مٹائے اور دلوں سے قدورتوں کو ختم کرے، خدا اس شخص کو سو شہیدوں کا اجر عطا کرتا ہے اور ہر قدم کے بدلے میں چالیس ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے اور چالیس ہزار گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور سوسال خلوص کے ساتھ خدا کی عبادت کرنے کا اجر عطا کرتا ہے۔ اور جو شخص اپنے رشتہ داروں سے اور مسلمانوں میں سے کسی پریشان حال انسان کی حاجت کو پورا کرنے کے لیے قدم بڑھا ئےیہاں تک کہ اس کی حاجت کو پورا کرے خدا اس شخص کو جہنم کی آگ سے نجات عطا کرتا ہے اور دنیا میں ستر حاجات کو پورا کرتا ہے اور یہ شخص دنیا میں رحمت اور آخرت میں جنت میں ہوتا ہے۔
عَنِ اَلنَّبِيِّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي حَدِيثِ اَلْمَنَاهِي قَالَ: مَنْ مَشَى إِلَى ذِي قَرَابَةٍ بِنَفْسِهِ وَ مَالِهِ لِيَصِلَ رَحِمَهُ أَعْطَاهُ اَللَّهُ أَجْرَ مِائَةِ شَهِيدٍ وَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَرْبَعُونَ أَلْفَ حَسَنَةٍ وَ مَحَا عَنْهُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ سَيِّئَةٍ وَ رَفَعَ لَهُ مِنَ اَلدَّرَجَاتِ مِثْلَ ذَلِكَ وَ كَانَ كَأَنَّمَا عَبَدَ اَللَّهَ مِائَةَ سَنَةٍ صَابِراً مُحْتَسِباً.
روایات میں سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلہ رحمی کرنے والوں کو جنت میں عظیم مقام کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا :جنت میں ایک عظیم مقام ہے جسے کوئی نہیں پا سکتا مگر تین گروہ ،تین قسم کے افراد اس مقام پر فائز ہوں گے :
۱-امام معصوم ۲- بہت زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ۳-جس شخص کے زیادہ بچے ہوں اور مشکلات میں صبر سے کام لے۔
قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : إِنَّ فِي اَلْجَنَّةِ دَرَجَةً لاَ يَبْلُغُهَا إِلاَّ إِمَامٌ عَادِلٌ أَوْ ذُو رَحِمٍ وَصُولٍ أَوْ ذُو عِيَالٍ صَبُورٍ.
حضرت امام باقر علیہ السلام نےصلہ رحمی کے عظیم آثار اور فوائد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والوں کو خداوند پانچ چیزیں عطا کرتا ہے:
۱ :خدا ،صلہ رحمی کرنے والوں کے اعمال کو قبول کرتا ہے ۔
۲: رزق اور دولت کی وسعت و فراوانی عطا کرتا ہے۔
۳: دعاؤں کو مستجاب کرتا ہے ۔
۴: قیامت کے دن اس کے حساب کو آسان بناتا ہے۔
۵: صلہ رحمی کے نتیجے میں عمر کو طولانی اور زندگی میں برکت عطا کرتا ہے ۔
قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : صِلَةُ اَلْأَرْحَامِ تُزَكِّي اَلْأَعْمَالَ وَ تَدْفَعُ اَلْبَلْوَى وَ تُنْمِي اَلْأَمْوَالَ وَ تُنْسِئُ لَهُ فِي عُمُرِهِ وَ تُوَسِّعُ فِي رِزْقِهِ وَ تُحَبِّبُ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ فَلْيَتَّقِ اَللَّهَ وَ لْيَصِلْ رَحِمَهُ
امام باقر(ع) کے اس فرمان اور دیگرروایات کے نتیجے میں صلہ رحمی کرنا اور رشتہ داروں کے ساتھ نیکی اور تعاون کرتے ہوئے اچھا رابطہ رکھنا اور ان کے غم و خوشی میں شریک ہونا دنیا و آخرت میں دونوں کی کامیابی اور خدا کی خوشنودی اور زندگی میں برکت اور آخرت میں جنت کا سبب ہے۔
باب مہدویت
امام زمانہ (عج) کی شخصیت اور عظمت
سوال: امام زمانہ کی شخصیت اور عظمت آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں؟
جواب: امام زمانہ وہ عظیم ہستی ہے جس کی شان میں قرآن کی بہت ساری آیات ہیں اور اسی طرح سے امام زمانہ کی شخصیت اور امام زمانہ کی عظیم اور بے مثال حکومت کو بیان کرتے ہوئے ان کے حالات زندگی اور غیبت اور ظلم و جور کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا قیام اورآئین اسلام کا پوری کائنات پر نافذ ہونا اور دیگر تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے جناب شیخ مظفر نے عقائد امامیہ میں اور دیگر بزرگوں نے چھ ہزار روایات اور کئی آیات بیان کی ہیں۔ امام زمانہ منجی بشریت اور رمز بقائے جہان، قطب عالم امکان ہیں اور ان کے وجود سے کائنات میں دم ہے اور ان کی بقاء سے کائنات باقی ہے۔ جیسا کہ سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ اگر حجت خدا اور امام زمانہ دنیا میں نہ ہوتے تو پوری کائنات کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔
عن رسول اللہ ص :لولاالحجه لساخت الأرض بأهلها۔
نیز سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: مہدی آل محمد، صرف ایک فرد ،ایک ذات کا نام نہیں ہے بلکہ مہدی آل محمد ،فاتح کائنات اور حکومت الہی کا نام ہے۔ خداوند منان ان کے ذریعے سے شرق اور غرب پر یعنی پوری کائنات پر اپنی حکومت کو قائم کر کے پوری کائنات سے ظلم و جور کا خاتمہ کرے گا ۔
الآئمة من بعدی اثنا عشر اوّلھم انت یا علی و آخرھم القائم الذی یفتح اللّٰہ تعالٰی ذکرہ علٰی یدیہ مشارق الارض و مغاربھا ۔
غیبت صغریٰ اور کبریٰ
سوال: غیبت کبریٰ اور صغریٰ کو روایات کی روشنی میں بیان کریں ؟
جواب :متعدد روایات میں امام زمانہ کے لیے غیبت کبریٰ اور صغریٰ کو بیان کیا گیا ہے۔ امام کی ولادت سے پہلے مومنین کو آمادہ اور تیار کرنے کے لیے غیبت کبریٰ اور غیبت صغریٰ کی خبر دی گئی ۔جیسا کہ سرور کائنات نے فرمایا :مہدی میرابارواں جانشین ہے جو سیرت اور شکل و شمائل میں اور افعال و اقوال میں مجھ سے زیادہ شباہت رکھتا ہے۔ وہ پردہ غیب میں چلا جائے گا اور پھر حکم خدا سے ظہور فرمائے گا اور دین خدا کو پوری کائنات پر نافذ کرے گا۔خدا اور فرشتے ان کی مدد کریں گے اور ان کے ذریعے سے خدا پوری کائنات کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اور ظلم و جور کا خاتمہ کرے گا۔
قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : ۔۔۔ مَهْدِيُّ أُمَّتِي أَشْبَهُ اَلنَّاسِ بِي فِي شَمَائِلِهِ وَ أَقْوَالِهِ وَ أَفْعَالِهِ - يَظْهَرُ بَعْدَ غَيْبَةٍ طَوِيلَةٍ وَ حَيْرَةٍ مُضِلَّةٍ فَيُعْلِنُ أَمْرَ اَللَّهِ وَ يُظْهِرُ دِينَ اَللَّهِ جَلَّ وَ عَزَّ يُؤَيَّدُ بِنَصْرِ اَللَّهِ وَ يَنْصُرُ بِمَلاَئِكَةِ اَللَّهِ فَيَمْلَأُ اَلْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً.
ایک اور حدیث میں امام زمانہ کے لیے غیبت صغریٰ یعنی مختصر غیبت اور غیبت کبریٰ ؛ طولانی غیبت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: امام زمانہ کے لیے دو غیبتیں خدا نے قرار دی ہیں:
ایک: غیبت صغری دو: غیبت کبریٰ
حضرت امام صادق علیہ السلام نے لوگوں کوعصر غیبت کے لیے آمادہ و تیار کرتے ہوئے فرمایا: قائم آل محمد کے لیے دو غیبتیں ہیں ایک مختصر اور دوسری طولانی ،غیبت صغری میں ان کا علم کسی کو نہیں ہوگا مگر خاص افراد کے ذریعے سے امام سے رابطہ ممکن ہے یعنی نواب اربعہ کے ذریعے سے اور غیبت کبریٰ میں ان سے رابطہ اور ان کی جگہ کا علم کسی کو نہیں ہوگا مگر کسی پر خدا کی خاص عنایت ہو۔
قَالَ أَبُو عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ : لِلْقَائِمِ غَيْبَتَانِ إِحْدَاهُمَا قَصِيرَةٌ وَ اَلْأُخْرَى طَوِيلَةٌ ۔
ان روایات کا مقصد اور ہدف عصرغیبت کے لیے مومنین کو آمادہ اور تیار کرنا ہے۔ اور امام زمانہ کا پردہ غیبت میں جانا حکم خدا اور پروردگار کا فیصلہ ہے۔ جس سے لوگوں کو آگاہ کیاگیا ہے تاکہ امام زمانہ پردہ غیب میں چلیں جائے تو شکوک و شبہات میں مبتلا نہ ہوں بلکہ اس قانون الہی اور امام زمانہ کا پردہ غیب میں جانے کی صورت مومنین ثابت قدم رہیں۔
سوال: غیبت صغریٰ کا آغاز کب ہوا؟
جواب: امام عسکری علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ ہی ۲۶۰ ہجری میں امام زمانہ کی امامت اور ولایت اور غیبت صغریٰ کا بھی آغاز ہوا ۔ بزرگ علماء نے غیبت صغری کی مدت ۷۰ سال بیان کی ہے۔ ۲۶۰ ہجری سے غیبت صغری کا آغاز ہوا اور ۳۳۶ ہجری کو غیبت صغری کا اختتام اور غیبت کبریٰ کا آغاز ہوا ہے۔ ۳۳۶ ہجری سے غیبت کبریٰ شروع ہوتی ہے۔
ابھی تک جاری ہے ۔ا مام زمانہ غیبت صغری میں نواب اربعہ کے ذریعے سے لوگوں کے سوالات ،احکام شرعی اور ان کے خطوط کے جواب دیتے رہے۔ غیبت صغری میں امام زمانہ نے اپنے دست مبارک سے متعدد خطوط کے ذریعے لوگوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے نواب اربعہ کے حوالے کرتے تھے۔ امام زمانہ کے یہ خطوط ،توقیع کہلاتے ہیں اور مستند کے تابع میں جیسے موسوعہ امام مہدی ،معجم امام مہدی، بحار الانوار اور جناب شیخ صدوق نے اپنی مشہور کتاب کمال الدین میں ان خطوط کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔