علم کی اہمیت و فضیلت
سوال :علم کی اہمیت و فضیلت آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں؟
جواب: اس کائنات میں سب سے قیمتی ہیرا اور موتی علم کی دولت ہے۔ علم سے بڑھ کر کوئی دولت اور ثروت کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔ جتنی قوموں نے ترقی کی ہے اور عظیم ونئی نئی ایجادات اور ٹیکنالوجی کو بنانے میں کامیاب ہوئے ، یہ ترقی علم و دانش کی مرہون منت ہے۔ تمام ترقیوں اور کامیابیوں اور بلندیوں کا راز علم ہے اسی وجہ سے قرآن پاک کی آیات اور معصومین کی روایات میں سب سے زیادہ علم حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور تمام مسلمانوں کو علم حاصل کرنے کے لیے زور وشور سے متوجہ کیا گیا ہے اور علم کو زندگی میں چراغ اور صاحبان علم کو تمام رفعتوں اور بلندیوں کا مالک قرار دیا گیا ہے۔ صاحبان علم و فضل کا مقام دنیا میں بھی بلند ہے اور آخرت میں بھی ۔جیسا کہ سورہ مجادلہ آیت ۱۱ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ؛
خدا صاحبان ایمان کو رفعت و بلندی عطا کرتا ہے اور اسی طرح صاحبان علم کو بھی عظیم درجات اور کامیابیوں سے نوازتا ہے اور انکے اعمال اور کردار سے بخوبی آگاہ ہے۔
اس آیت میں صاحبان ایمان اور صاحبان علم سے دنیا و آخرت دونوں میں تمام رفعتوں اور بلندیوں اور کامیابیوں کا وعدہ کیا گیاہے۔ اسی طرح سے صاحبان علم کی فضیلت اور برتری کو بیان کرتے ہوئے رب العزت نے ارشاد فرمایا:
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا ال ۡ اَل ۡ بَابِ ؛
کہدیجئے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے یکساں ہو سکتے ہیں؟ بیشک نصیحت تو صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔
صاحبان علم اور نادان برابر نہیں ہیں بلکہ صاحبان علم کا مقام بہت بلند ہے بے شک حقائق کو وہی سمجھتے ہیں جو صاحبان عقل ہیں۔ احادیث میں بھی علم اور صاحبان علم کی بڑی فضیلت اور عظمت بیان کی گئی ہے ۔جیسا کہ سرور کائنات کا فرمان ہے: دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی علم کے ساتھ ہے اور دنیا اور آخرت دونوں میں ناکامی اور شکست جہالت و نادانی کے ساتھ ہے۔
قال رسول الل ہ (ص)خَيْرُ الدُّنْيا وَ الآْخِرَةِ مَعَ الْعِلْمِ وَ شَرُّ الدُّنْيا وَ الآْخِرَةِ مَعَ الْجَهْلِ؛
اسی طرح مولائے کائنات نے تمام کامیابیوں اور دنیا و آخرت کی خوش بختی کا سبب علم کو قرار دیتے ہوئے فرمایا :تمام خوبیوں اور تمام ترقی و کمالات کی بنیاد علم ہے اور تمام برائیوں اور ناکامیوں کی اساس اور بنیاد جہالت ہے۔
اَلْعِلْمُ اَصْلُ كُلِّ خَيْرٍ، اَلْجَهْلُ اَصْلُ كُلِّ شَرٍّ؛
اس حدیث سے واضح ہوا کہ انسان کے تمام کمالات اور کامیابیاں علم کے حصول پر موقوف ہیں۔ جو لوگ علم کی دولت کو پا لیتے ہیں وہ تمام کامیابیوں کو حاصل کر لیتے ہیں جبکہ اس کے برعکس تمام برائیوں اور ناکامیوں کا سبب ،جہالت ہے۔
ایک دوسری روایت میں سرور کائنات نے علم کے حصول کو انسانوں پر فرض اور ضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا: علم کا طلب کرنا تمام مسلمانوں پر فرض اور ضروری ہے فرق نہیں ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور علم ہی کے ذریعے سے خدا کی اطاعت و بندگی حاصل ہوتی ہے اور علم ہی کے ذریعے خوبیوں اور صلہ رحمی کو انجام دیا جاتا ہے اور علم ہی کے ذریعے سے حلال و حرام کی شناخت ہوتی ہے اور علم کے ذریعے سے اعمال کو انجام دیا جاتا ہے علم پیشوائے اعمال ہے اور اعمال و کردار علم کے تابع ہیں ۔علم کی دولت نیک اور صالح اور کامیاب لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جبکہ بدبخت اور بد نصیب لوگ علم سے محروم رہتے ہیں۔
عن اَلرِّضَا عَلِيِّ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ اَلْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ اَلْحُسَيْنِ ، عَنْ أَمِيرِ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ (عَلَيْهِمُ اَلسَّلاَمُ) ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اَللَّهِ (صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) يَقُولُ: طَلَبُ اَلْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ، فَاطْلُبُوا اَلْعِلْمَ فِي مَظَانِّهِ، وَ اِقْتَبِسُوهُ مِنْ أَهْلِهِ، فَإِنْ تَعَلُّمِهِ لِلَّهِ حَسَنَةً، وَ طَلَبِهِ عِبَادَةِ، وَ اَلْمُذَاكَرَةِ فِيهِ تَسْبِيحٌ، وَ اَلْعَمَلُ بِهِ جِهَادِ، وَ تَعْلِيمُهُ مِنْ لاَ يَعْلَمُهُ صَدَقَةَ، وَ بَذَلَهُ لِأَهْلِهِ قُرْبَةٌ إِلَى اَللَّهِ (تَعَالَى)، لِأَنَّهُ مَعَالِمَ اَلْحَلاَلِ وَ اَلْحَرَامِ، وَ مَنَارُ سُبُلِ اَلْجَنَّةِ ، وَ المؤنس فِي اَلْوَحْشَةِ، وَ اَلصَّاحِبِ فِي اَلْغُرْبَةِ وَ اَلْوَحْدَةِ، وَ اَلْمُحْدِثُ فِي اَلْخَلْوَةِ، وَ اَلدَّلِيلُ فِي اَلسَّرَّاءِ وَ اَلضَّرَّاءِ، وَ اَلسِّلاَحَ عَلَى اَلْأَعْدَاءِ، وَ اَلزَّيْنَ عِنْدَ الأخلاء. يَرْفَعُ اَللَّهُ بِهِ أَقْوَاماً فَيَجْعَلُهُمُ فِي اَلْخَيْرِ قَادَةَ، تقتبس آثَارِهِمْ، وَ يُهْتَدَى بفعالهم، وَ يُنْتَهَى إِلَى آرَائِهِمْ، تَرْغَبُ اَلْمَلاَئِكَةُ فِي خلتهم، وَ بِأَجْنِحَتِهَا تمسهم، وَ فِي صَلاَتِهَا تَبَارَكَ عَلَيْهِمْ، يَسْتَغْفِرُ لَهُمْ كُلِّ رَطْبٍ وَ يَابِسٍ حَتَّى حِيتَانُ اَلْبَحْرِ وَ هَوَامُّهُ، وَ سِبَاعِ اَلْبِرِّ وَ أنعامه. إِنْ اَلْعِلْمِ حَيَاةِ اَلْقُلُوبِ مِنْ اَلْجَهْلِ، وَ ضِيَاءُ اَلْأَبْصَارُ مِنْ اَلظُّلْمَةِ، وَ قُوَّةَ اَلْأَبْدَانِ مِنْ اَلضَّعْفَ، يَبْلُغَ بِالْعَبْدِ مَنَازِلَ اَلْأَخْيَارِ، وَ مَجَالِسِ اَلْأَبْرَارِ، وَ اَلدَّرَجَاتِ اَلْعُلَى فِي اَلدُّنْيَا وَ اَلْآخِرَةِ، اَلذَّكَرِ فِيهِ يَعْدِلُ بِالصِّيَامِ، وَ مدارسته بِالْقِيَامِ، بِهِ يُطَاعُ اَلرَّبِّ وَ يَعْبُدُ، وَ بِهِ تُوصَلُ اَلْأَرْحَامِ، وَ يَعْرِفُ اَلْحَلاَلَ مِنَ اَلْحَرَامِ، اَلْعِلْمِ إِمَامٍ اَلْعَمَلِ وَ اَلْعَمَلِ تَابَعَهُ، يلهم بِهِ اَلسُّعَدَاءَ وَ يُحَرِّمْهُ اَلْأَشْقِيَاءِ، فَطُوبَى لِمَنْ لَمْ يُحَرِّمْهُ اَللَّهِ مِنْهُ حَظُّهُ
سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بچپن سے لے کر موت تک، علم کی جستجو کولازم اور ضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا :
حدیث: اطلبوا العِلم من المهد إلى اللحد.
علم حاصل کرو، ماں کی گود سے لے کر لحد تک۔
بچپن میں علم حاصل کرنے کی اہمیت و ضرورت
انسان کی تمام خوبیاں اور کمالات کو حاصل کرنے کے لئے بچپن کا زمانہ ہے۔ جس میں جو کچھ انسان حاصل کرتا ہے وہ دل پر نقش ہو جاتا ہے اور کبھی فراموش نہیں ہوتا لیکن بڑھاپے میں جو کچھ انسان حاصل کرتا ہے وہ فوراً بھول جاتا ہے۔ بچپن اور جوانی میں تعلیم پتھر پر لکیر کی مانند ہے جو ہرگز نہیں مٹتی لیکن بڑھاپے میں تعلیم پانی پر لکیر کی مانند ہے جو ایک لحظے میں مٹ جاتی ہے۔ جیسا کہ مولائے کائنات کا فرمان ہے بچپن میں علم گویا ایسے ہے جیسے پتھر پر لکیر اور بڑھاپے میں علم حاصل کرنا گویا ایسا ہے جیسے پانی پر لکیر کھینچنا۔
حدیث: اَلْعِلْمُ فِي اَلصِّغَرِ كَالنَّقْشِ فِي اَلْحَجَرِ والعلم فی الکبر کالنقش علی الماء.
اس روایت میں مولائے کائنات نے بچپن اور جوانی میں علم حاصل کرنے کی اہمیت اور ضرورت کو واضح کیا ہے جو لوگ اپنی زندگی میں کامیابی اور کمال کو پانا چاہتے ہیں وہ بچپن اور جوانی میں علم کے حصول کے لیے زحمت اور محنت کریں۔ ایک اور فرمان میں مولائے کائنات نے بچپن اور جوانی کے عالم میں علم حاصل کرنا ،تمام کامیابیوں کا راز قرار دیتے ہوئے فرمایا جو لوگ اپنے بچپن میں اور جوانی میں علم حاصل نہیں کرتے وہ اپنے بڑھاپے میں کامیابی اور کسی مقام کو نہیں پا سکتے۔
قال امیرالمؤمنین علی ہ السلام : مَنْ لَمْ يَتَعَلَّمْ فِي اَلصِّغَرِ لَمْ يَتَقَدَّمْ فِي اَلْكِبَرِ
اس روایت سے یہ واضح ہوا کہ جو قومیں ترقی اور کامیابیوں کوپا چکی ہیں وہ بچپن اور جوانی میں محنت کرنے کا نتیجہ ہے۔ مولائےکائنات کے فرمان کی روشنی میں اپنے بچپن اور جوانی میں خوب علم حاصل کریں تاکہ مستقبل میں عظیم کامیابیوں کو پا سکیں۔
علم دین کی اہمیت
سوال: علم دین کی اہمیت روایات کی روشنی میں بیان کریں؟
جواب: دین اسلام میں تمام علوم کو سیکھنے کی تاکید اور سفارش کی گئی ہےجن کے بغیر انسانی ترقی اور کامیابیوں کو حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔لہذا انسان کی ترقی اور پیشرفت میں جتنے علوم مؤثر ہیں سب کو سیکھنا چاہیے۔ لیکن سب سے ضروری اور واجب، دینی علوم کا سیکھنا ہے جو کہ تمام مرد و زن پر فرض اور واجب ہے۔ جیسا کہ سرور کائنات کا فرمان ہے:
طَلَبُ اَلْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَ مُسْلِمَةٍ ۔
اس علم سے مراد جس کا حاصل کرنا ، ہر مسلمان پر فرض قرار دیا گیا ہے۔ وہ دینی علم ہے۔ اس علم کا حصول ،ہر ایک پر واجب ہے اور اس کے بغیر کسی کے لیے نجات ممکن نہیں ہے۔ دینی علم سے مراد اپنے عقائد کو درست کرنا ،خدا کی معرفت رسول کی معرفت اور آئمہ کی معرفت، قیامت اور دینی عقائد کی معرفت، ہر پر ایک پر ضروری ہے۔ اسی طرح دینی فرائض اور واجبات جیسے نماز، روزہ ،حج زکوۃ اور تمام دیگر فرائض کا سیکھنا اور پھر بہترین طریقے سے انجام دینا ہر ایک پر ضروری ہے۔اسی طرح شریعت میں بہت ساری چیزیں حرام ہیں اور گناہ شمار کی گئی ہیں۔ ان حرام چیزوں اور گناہوں کو جاننا پھر ان سے دوری اختیار کرنا بھی ضروری ہے وگر نہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے گناہوں کے دریا میں غرق ہو جائیں گے ۔اسی طرح دین اسلام کا ایک بڑا حصہ اخلاقیات اور حقوق ہیں ۔ ان کا جاننا بھی ضروری ہے۔ ماں باپ بچوں کے حقوق ،میاں بیوی کے حقوق اور حقوق الناس اور ان تمام حقوق کا جاننا اور ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ ان تمام علوم دینی کی اہمیت اور ضرورت کو بیان کرتے ہوئے اور ان کو سیکھنے کی تاکید کرتے ہوئے سرور کائنات نے فرمایا: سب سے اہم ترین اور ضروری ترین علم ،علم دین ہے۔دین اسلام میں تین علوم ہیں: علم عقائد یعنی اصول دین کا علم ،علم احکام: فروع دین کا علم ، علم اخلاق یعنی حقوق وآداب کا علم۔
حدیث: قَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ إِنَّمَا اَلْعِلْمُ ثَلاَثَةٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ وَ مَا خَلاَهُنَّ فَهُوَ فَضْلٌ.
الإمامُ الصّادقُ عليه السلام :إذا أرادَ اللّهُ بعَبدٍ خَيرا زَهَّدهُ في الدُّنيا ، و فَقَّههُ في الدِّينِ ، و بَصَّرَهُ عُيوبَها ، و مَن اُوتِيَهُنَّ فَقد اُوتِيَ خَيرَ الدُّنيا و الآخِرَةِ
حقیقت میں تمام انسانو ں کی سعادت و کامیابی کا راز ، دین کی معرفت اور دین پر عمل کرنا ہے۔ دین کی معرفت و شناخت میں انسان کا کمال پوشیدہ ہے ۔اور جب خدا کسی بندے پر خاص عنایت کرنا چاہتا ہے تو اسے دین کی معرفت عطا کرتا ہے۔جیساکہ حضرت امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے : جب اللہ تعالیٰ کسی بندے پر خاص عنایت کرنا چاہتا ہے تو اسے تین چیزیں عطا کرتا ہے:
۱- دین کی معرفت عطا کرکے دین میں فقیہ بنا دیتا ہے۔
۲- دنیا میں زہد اور پرہیز گاری کی دولت عطا کرتاہے۔
۳- بصیرت اور اپنی تمام خامیوں اور برائیوں سے آگاہی عطا کرتاہے۔
یہ تین چیزیں کسی کو حاصل ہوجائیں تو وہ دنیا و آخرت دونوں کی سعادت و خوشبختی کا مالک ہے۔
استاد کا مقام
سوال:استاد کا مقام اور مرتبہ روایات کی روشنی میں بیان کریں؟
جواب: انسان کی زندگی میں استاد کا مقام اور مرتبہ نہایت بلند اور عظیم ہے۔ استاد اس ہستی کا نام ہے جو تمام کامیابیوں کا راستہ دکھاتا ہے اور علم و حکمت کی دولت عطا کرتا ہے اور ایک چھوٹے سے بچے کی تربیت کر کے اسے عظیم انسان کی شکل میں معاشرے میں پیش کرتا ہے ۔انسان کو اپنی زندگی میں جتنی بھی کامیابیاں اور کمالات حاصل ہوتے ہیں وہ سب استاد کی محنت اور زحمت کا نتیجہ ہے ۔اسی وجہ سے اسلام میں استاد کو باپ کا درجہ دیا گیا ہے ۔جس طرح باپ کی تعظیم اور احترام واجب ہے اور باپ کے فرمان پر اطاعت کرنا اور پوری زندگی باپ پر احسان اور نیکی کرنا اور باپ کے حقوق کو ادا کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح استاد بھی باپ ہے استاد کی تعظیم اور استاد کے فرمان پر عمل کرنا اور استاد کے حقوق کو ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
جیسا کہ مولائے کائنات کا فرمان ہے: تم باپ اور استاد کی تعظیم کے لیے اپنی جگہ سے کھڑے ہو جاؤ اگرچہ تم زمانے کے بادشاہی کیوں نہ ہو۔
قُم عَنْ مَجْلِسِکَ لِأَبیکَ وَ مُعَلِّمِکَ وَ إنْ کُنْتَ أَمیراً.
اس روایت میں مولائے کائنات نے استاد کو باپ کی طرح واجب الاحترام قرار دیا ہے ۔ ایک دوسری روایت،شاگرد پر استاد کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا :تم پر ضروری ہے کہ تمام لوگوں کو عمومی سلام کرو اور استاد کے لیے خصوصی سلام کرو ، استاد سے پہلے نہ بیٹھو ، استاد کے آگے نہ چلو ، استاد سےآنکھوں اور ہاتھوں کے اشاروں سے بات نہ کرو ، کبھی بھی استاد کی برائی اور توہین نہ کرو ، استاد سے کبھی بھی نہ الجھو اور استاد جو کچھ عطا کرے اسے لے لو ساتھ جو کچھ عطا کرتا ہے اسے غنیمت سمجھو ،استاد کی عطاء اس پھل کی طرح ہے جو تمہارے لیے طاقت و توانائی کا باعث ہے۔
حدیث: قال امیرالمؤمنین علی ہ السلام :مِن حَقِّ العالِمِ عَلَيكَ أن تُسَلِّمَ عَلَى القَومِ عامَّةً و تَخُصَّهُ دونَهُم بِالتَّحِيَّةِ ، و أن تَجلِسَ أمامَهُ ، و لا تُشيرَنَّ عِندَهُ بِيَدِكَ ، و لا تَغمِزَنَّ بِعَينَيكَ ، و لا تَقولَنَّ : «قالَ فُلانٌ» خِلافا لِقَولِهِ ، و لا تَغتابَنَّ عِندَهُ أحَدا ، و لا تُسارَّ في مَجلِسِهِ ، و لا تَأخُذَ بِثَوبِهِ ، و لا تَلِجَّ .حديثعَلَيهِ إذا مَلَّ ، و لا تُعرِضَ مِن طُولِ صُحبَتِهِ ، فإنَّما هِيَ بِمَنزِلَةِ النَّخلَةِ تَنتَظِرُ مَتى يَسقُطُ عَلَيكَ مِنها شَيءٌ ؛ فإنَّ المُؤمِنَ العالِمَ لَأعظَمُ أجرا مِنَ الصّائمِ القائمِ الغازي في سَبيلِ اللّه ِ ، فإذا ماتَ العالِمُ انثَلَمَت في الإسلامِ ثُلمَةٌ لا يَسُدُّها شَيءٌ إلى يَومِ القِيامَةِ
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے استاد کے حقوق اور استاد کے مقام اور مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : جان لو خدا نے استاد کو تمہارا سرپرست قرار دیا ہے۔ استاد تمہیں علم عطا کرتا ہے اور علم کے خز انے کھولتا ہے اور استاد کی تعظیم اور توقیر تم پر لازم ہے۔ استاد کی باتوں کو غور سے سنو اور کان اورآنکھ اورتمام توجہ کو استاد کی طرف رکھو اور استاد پر اپنی آواز کو بلند نہ کرو اور کوئی سوال کرے تو تم جواب نہ دو اور استاد کی برائی نہ کرو، استاد کی خامیوں کو چھپاؤ اور استاد کی خوبیوں کو بیان کرتے رہو۔ ایسا کرو گے تو فرشتےگواہی دیں گے کہ تم نے استاد کا حق ادا کر دیا اور تم نے خدا کے لیے علم حاصل کیا ہے-
الإمامُ زينُ العابدينَ عليه السلام : حَقُّ سائسِكَ بِالعِلمِ : التَّعظيمُ لَهُ ، و التَّوقيرُ لِمَجلِسِهِ ، و حُسنُ الاستِماعِ إلَيهِ ، و الإقبالُ عَلَيهِ ، و أن لا تَرفَعَ عَلَيهِ صَوتَكَ ، و أن لا تُجيبَ أحَدا يَسألُهُ عَن شَيءٍ حَتّى يَكونَ هُوَ الّذي يُجيبُ ، و لا تُحَدِّثَ في مَجلسِهِ أحَدا ، و لا تَغتابَ عِندَهُ أحَدا ، و أن تَدفَعَ عَنهُ إذا ذُكِرَ عِندَكَ بِسُوءٍ ، و أن تَستُرَ عُيوبَهُ ، و تُظهِرَ مَناقِبَهُ ، و لا تُجالِسَ لَهُ عَدُوّا ، و لا تُعادِيَ لَهُ وَلِيّا ، فإذا فَعَلتَ ذلكَ شَهِدَ لَكَ مَلائكَةُ اللّه ِ بِأنَّكَ قَصَدتَهُ و تَعَلَّمتَ عِلْمَهُ للّه ِِ جَلَّ اسمُهُ لا لِلنّاسِ ۔
نظافت اور پاکیزگی کی اہمیت
سوال:نظافت اور پاکیزگی کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں؟
جواب: دین اسلام میں نظافت اور پاکیزگی ،طہارت اور صفائی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے کثافت اور آلودہ رہنے کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے۔ اپنے آپ کو پاک صاف رکھنا اور بدن اور اپنے دانتوں اور پورے وجود کو پاک و پاکیزہ رکھنا ایک طرح سے انسان کی شخصیت میں اضافہ کرتاہے۔ اور دوسری طرف انسان کے لیے صحت و سلامتی اور بیماریوں سے محفوظ رہنے کا سبب ہے۔ کثافت کی وجہ سے بہت ساری بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ خداوند متعال نے انسان کی سلامتی اور ہر طرح کی بیماریوں سے اور جراثیم سے محفوظ رہنے کے لیے صفائی کا حکم دیا ہے۔ اور صاف ستھرا رہنے والے اور پاک و پاکیزہ رہنے والے لوگوں سے خدا محبت کرتا ہے اور ان کو پسند کرتا ہے۔ جیسا کہ سورہ بقرہ میں رب العزت کا ارشاد ہے بے شک خدا توبہ کرنے والے اور صاف ستھرے اور پاک کو پاکیزہ رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ ۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جو لوگ نظافت اور پاکیزگی کو اختیار کرتے ہیں اور جن کی فطرت میں نظافت اور صفائی سے محبت ہے خدا بھی ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جبکے اس کےمقابلے میں وہ لوگ جو نظافت اور پاکیزگی کا خیال نہیں رکھتے اور جن کو نظافت سے محبت نہیں ہے خدا کو بھی ایسے لوگوں سے محبت نہیں ہے۔ اسی لیے سرور کائنات نے فرمایا :پروردگار عالم کے نزدیک محبوب ترین چیز نظافت اور پاکیزگی ہے۔ خدا خود بھی پاک اورمنزہ ہے اور نظافت اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا :جتنا ممکن ہے آلودگیوں سے اور کثافتوں سے دوری اختیار کرو اور ہمیشہ پاک اور صاف رہنے کی کوشش کرو اور یہودیوں کے ساتھ شباہت پیدا کرنے کی کوشش نہ کرو۔
عن النبی: ان الل ہ نظیف ویحب النظاف ۃ فنظفوا عذرتکم ولاتشب ہہ بالی ہ ود ۔
ایک اور روایت میں سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاک و پاکیزہ رہنے والے اور صفائی کا خیال رکھنے والوں کو جنتی قرار دیتے ہوئے فرمایا: کہ تمہاری زندگی میں جتنا ممکن ہو سکے نظافت اور پاکیزگی اختیار کرو اس لیے کہ خدا نے اسلام کی بنیاد میں نظافت اور پاکیزگی پر رکھی ہے اور ہرگز جنت میں نہیں جائے گا مگر وہ شخص کہ جس کی زندگی میں نظافت اور پاکیزگی میں گزری ہو۔ جو لوگ دنیا میں پاک و پاکیزہ رہتے ہیں جن کا دل بھی پاک ہے اور اس کا بدن اور مکمل وجود پاک و پاکیزہ ہے اورپاکیزہ کردار کے مالک ہیں ،خلد بریں میں خداوند متعال پاکیزہ ہستیوں کے ساتھ ان لوگوں کو محشور کرے گا۔
حدیث:قال رسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله : تَنَظَّفوا بكُلِّ ما استَطَعتُم ؛ فإنَّ اللّه َ تعالى بَنَى الإسلامَ علَى النَّظافَةِ ، و لَن يَدخُلَ الجَنَّةَ إلاّ كُلُّ نَظيفٍ ۔
صفائی اور پاکیزگی کی خاطر اسلام میں ہر نماز سے پہلے وضو کو واجب قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سے سات غسلوں کو واجب قرار دیا اور نظافت اور پاکیزگی کے حصول کے لیے بہت سارے مواقع پر غسل کو مستحب قرار دیا گیا ہے ۔جیسے عید الفطر عید قربان، عید غدیر اور روز جمعہ وغیرہ کے ان تمام ایام میں غسل کرنا، پاکیزہ لباس پہننا، خوشبو لگانا اور جتنا ہو سکے طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنا ،عظیم عبادت اور خدا کی رضا اور خوشنودی کا سبب ہے۔
مسواک کی فضیلت و اہمیت
سوال:مسواک کی اہمیت اور فوائد کو روایات کی روشنی میں بیان کریں؟
جواب: دین اسلام میں دانتوں کی صفائی پر بہت توجہ دی گئی ہے اسی وجہ سے مسواک کرنا سنت قرار پایا اور ہر کھانے کے بعد دانتوں کی صفائی ضروری قرار دی گئی ہے اور دانتوں کو صاف ستھرا رکھنے اور ہمیشہ مسواک کرنے سے بہت ساری بیماریوں سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ اور دانتوں میں بیماریاں نہیں لگتی لیکن اگرمسواک نہ کیا جائے تو دانتوں میں بیماریاں لگتی ہیں اور جو لوگ ہمیشہ مسواک کرتے ہیں دانت بیماریوں سے محفوظ رہنے کے ساتھ انتہائی خوبصورت اور موتیوں کی طرح چمکتے ہیں اور مسواک کرنے کے بہت سارے فوائد ہیں ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے مسواک کے فوائد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :
۱. مسواک کرنا سنت ہے ؛ ۲. مسواک کرنا منہ دانتوں کی پاکیزگی کا باعث ہے
۳. آنکھوں کی بینائی کو تقویت ملتی ہے؛ ۴. خدا کی خوشنودی کا باعث ہے؛
۵. مسواک کرنے سے دانت سفید ہوتے ہیں؛ ۶. منہ سےبدبو ختم ہوتی ہے ؛
۷. مسوڑوں کی مضبوطی کا باعث ہے؛ ۸. اشتہاء کو بڑھاتا ہے(یعنی کھانا کھانے کی خواہش)
۹. بلغم کا خاتمہ؛ ۱۰. حافظہ قوی ہوتا ہے
۱۱. نیکیوں کے اجر و ثواب میں اضافہ ۱۲. فرشتوں کی خوشحالی کا سبب ہے
حدیث: قال الصادق : فِي اَلسِّوَاكِ اِثْنَتَا عَشْرَةَ خَصْلَةً هُوَ مِنَ اَلسُّنَّةِ وَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ وَ مَجْلاَةٌ لِلْبَصَرِ وَ يَرْضَى اَلرَّبَّ وَ يُبَيِّضُ اَلْأَسْنَانَ وَ يَذْهَبُ بِالْحَفَرِ وَ يَشُدُّ اَللِّثَةَ وَ يُشَهِّي اَلطَّعَامَ وَ يَذْهَبُ بِالْبَلْغَمِ وَ يَزِيدُ فِي اَلْحِفْظِ وَ يُضَاعِفُ اَلْحَسَنَاتِ وَ تَفْرَحُ بِهِ اَلْمَلاَئِكَةُ
مسواک کرنے کی اس قدر تاکید ہوئی ہے کہ سرورکائنات نے فرمایا: جبرائیل امین جب بھی بارگاہ الہی سے میرے پاس آتے تو مجھے ہمیشہ مسواک کی سفارش کی یہاں تک کہ مجھے گمان ہو گیا کہ کہیں خداوند عالم اس مسواک کرنے کو واجبات میں سے قرار نہ دے۔
عن رسول الل ہ :مازالَ جَبرئيلُ يُوصِيني بالسِّواكِ حتّى ظَنَنتُ أ نّهُ سَيَجعَلُهُ فَريضَةً
مسواک ہمیشہ کرنا چاہیے لیکن کچھ مواقع پر مسواک کرنے کی بہت زیادہ تاکید اور سفارش کی گئی ہے:
۱-ہر نماز سے پہلے ۲-وضو کے وقت ۳-تلاوت سے پہلے ۴-دعا سے پہلے
۵-مسجد میں جانے سے پہلے ۶-سونے سے پہلے ۷-کھانے کے بعد ۸-دانت گندے ہونے پر
اخلاقی خوبیا ں اور کمالات
سوال:اخلاقی خوبیاں اور کمالات کو روایات کی روشنی میں بیان کریں؟
جواب: انسان کے وجود میں بہت ساری خوبیاں اور کمالات پائے جاتے ہیں ان خوبیوں کو اور کمالات کو روایات میں مکارم الاخلاق اور انسانی فضائل و کمالات کہا گیا ہے اور انہی کمالات اور فضائل کی تکمیل کے لیے اور انسان کی تربیت کے لیے انبیاء کو مبعوث کیا گیا ہے جیسا کہ رسول گرامی اسلام کا فرمان ہے میری بعثت اور نبوت کا مقصد تمام انسانوں کی اعلی تربیت اور ان کو اخلاقی کمالات اور فضائل سکھانا ہے۔ یعنی تمام انسانوں کو عظیم شخصیت بنانے اور ان کو انسانی کمالات اور فضائل سکھانا میری رسالت کا اصل ہدف اور مقصد ہے۔
حدیث: عن النبی:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ اَلْأَخْلاَقِ.
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :خدا نے سرور کائنات کو تمام انسانی اعلی صفات بہترین کردار اور عظیم اخلاق سے نوازا ہے تم لوگ اپنےا محاسبہ کرو اور اپنے نفس کا جائزہ لو یہ اعلی صفات اور انسانی کمالات تمہاری زندگی میں ہیں تو خدا کا شکر ادا کرو اور پھر ان صفات کو مزید بڑھانے کی کوشش کرو آپ نے ان عظیم صفات اور اخلاقی کمالات کو بیان کرتے ہوئے مزید فرمایا: ان عظیم صفات اور کمالات انسانی کی تعداد، دس ہے۔
۱- یقین،خدا پر یقین رکھنا ،پیغمبر کی نبوت اہل بیت کی ولآیت اور آخرت پر یقین رکھنا ؛ ۲- قناعت؛ خدا کی دی ہوئی نعمتوں پر راضی رہنا اور حرص اور لالچ سے اپنے اپ کو دور رکھنا
۳-مشکلات پر صبر اور استقامت سے کام لینا- ۴-خدا کی دی ہوئی عظیم نعمتوں کا شکر ادا کرنا
۵-حلم و بردباری کے ساتھ زندگی گزارنا-۶-بہترین اخلاق اور محبت کے ساتھ زندگی گزارنا
۷- لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا اور سخاوتمندانہ زندگی گزرانا ۸- با عزت زندگی گزارنا یعنی ہر قسم کے توہین آمیز کام سے اجتناب کرنا
۹- زندگی میں شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کرنا ۱۰- ایک دوسرے کے ساتھ مروت سے پیش آنا
یہ دس امور ،صفات انبیاء میں سے ہیں مگریہ اعلی صفات خدا نے اپنے حبیب کو بصورت اتم عطاء کی ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ عظیم انبیاء کی ان صفات اور انسانی کمالات کو اپنائیں تاکہ دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہوں اور عظیم انسانوں میں ہمارا شمار ہو۔