آسان شارٹ کورس

آسان شارٹ کورس0%

آسان شارٹ کورس مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 47

آسان شارٹ کورس

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: حجت الاسلام شیخ یوسف عابدی
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 47
مشاہدے: 175
ڈاؤنلوڈ: 6

تبصرے:

آسان شارٹ کورس
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 47 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 175 / ڈاؤنلوڈ: 6
سائز سائز سائز
آسان شارٹ کورس

آسان شارٹ کورس

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

علم کی اہمیت و فضیلت

سوال :علم کی اہمیت و فضیلت آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: اس کائنات میں سب سے قیمتی ہیرا اور موتی علم کی دولت ہے۔ علم سے بڑھ کر کوئی دولت اور ثروت کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔ جتنی قوموں نے ترقی کی ہے اور عظیم ونئی نئی ایجادات اور ٹیکنالوجی کو بنانے میں کامیاب ہوئے ، یہ ترقی علم و دانش کی مرہون منت ہے۔ تمام ترقیوں اور کامیابیوں اور بلندیوں کا راز علم ہے اسی وجہ سے قرآن پاک کی آیات اور معصومین کی روایات میں سب سے زیادہ علم حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور تمام مسلمانوں کو علم حاصل کرنے کے لیے زور وشور سے متوجہ کیا گیا ہے اور علم کو زندگی میں چراغ اور صاحبان علم کو تمام رفعتوں اور بلندیوں کا مالک قرار دیا گیا ہے۔ صاحبان علم و فضل کا مقام دنیا میں بھی بلند ہے اور آخرت میں بھی ۔جیسا کہ سورہ مجادلہ آیت ۱۱ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ؛

خدا صاحبان ایمان کو رفعت و بلندی عطا کرتا ہے اور اسی طرح صاحبان علم کو بھی عظیم درجات اور کامیابیوں سے نوازتا ہے اور انکے اعمال اور کردار سے بخوبی آگاہ ہے۔

اس آیت میں صاحبان ایمان اور صاحبان علم سے دنیا و آخرت دونوں میں تمام رفعتوں اور بلندیوں اور کامیابیوں کا وعدہ کیا گیاہے۔ اسی طرح سے صاحبان علم کی فضیلت اور برتری کو بیان کرتے ہوئے رب العزت نے ارشاد فرمایا:

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا ال ۡ اَل ۡ بَابِ ؛

کہدیجئے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے یکساں ہو سکتے ہیں؟ بیشک نصیحت تو صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں۔

صاحبان علم اور نادان برابر نہیں ہیں بلکہ صاحبان علم کا مقام بہت بلند ہے بے شک حقائق کو وہی سمجھتے ہیں جو صاحبان عقل ہیں۔ احادیث میں بھی علم اور صاحبان علم کی بڑی فضیلت اور عظمت بیان کی گئی ہے ۔جیسا کہ سرور کائنات کا فرمان ہے: دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی علم کے ساتھ ہے اور دنیا اور آخرت دونوں میں ناکامی اور شکست جہالت و نادانی کے ساتھ ہے۔

قال رسول الل ہ (ص)خَيْرُ الدُّنْيا وَ الآْخِرَةِ مَعَ الْعِلْمِ وَ شَرُّ الدُّنْيا وَ الآْخِرَةِ مَعَ الْجَهْلِ؛

اسی طرح مولائے کائنات نے تمام کامیابیوں اور دنیا و آخرت کی خوش بختی کا سبب علم کو قرار دیتے ہوئے فرمایا :تمام خوبیوں اور تمام ترقی و کمالات کی بنیاد علم ہے اور تمام برائیوں اور ناکامیوں کی اساس اور بنیاد جہالت ہے۔

اَلْعِلْمُ اَصْلُ كُلِّ خَيْرٍ، اَلْجَهْلُ اَصْلُ كُلِّ شَرٍّ؛

اس حدیث سے واضح ہوا کہ انسان کے تمام کمالات اور کامیابیاں علم کے حصول پر موقوف ہیں۔ جو لوگ علم کی دولت کو پا لیتے ہیں وہ تمام کامیابیوں کو حاصل کر لیتے ہیں جبکہ اس کے برعکس تمام برائیوں اور ناکامیوں کا سبب ،جہالت ہے۔

ایک دوسری روایت میں سرور کائنات نے علم کے حصول کو انسانوں پر فرض اور ضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا: علم کا طلب کرنا تمام مسلمانوں پر فرض اور ضروری ہے فرق نہیں ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور علم ہی کے ذریعے سے خدا کی اطاعت و بندگی حاصل ہوتی ہے اور علم ہی کے ذریعے خوبیوں اور صلہ رحمی کو انجام دیا جاتا ہے اور علم ہی کے ذریعے سے حلال و حرام کی شناخت ہوتی ہے اور علم کے ذریعے سے اعمال کو انجام دیا جاتا ہے علم پیشوائے اعمال ہے اور اعمال و کردار علم کے تابع ہیں ۔علم کی دولت نیک اور صالح اور کامیاب لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جبکہ بدبخت اور بد نصیب لوگ علم سے محروم رہتے ہیں۔

عن اَلرِّضَا عَلِيِّ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ اَلْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ اَلْحُسَيْنِ ، عَنْ أَمِيرِ اَلْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ (عَلَيْهِمُ اَلسَّلاَمُ) ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اَللَّهِ (صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) يَقُولُ: طَلَبُ اَلْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ، فَاطْلُبُوا اَلْعِلْمَ فِي مَظَانِّهِ، وَ اِقْتَبِسُوهُ مِنْ أَهْلِهِ، فَإِنْ تَعَلُّمِهِ لِلَّهِ حَسَنَةً، وَ طَلَبِهِ عِبَادَةِ، وَ اَلْمُذَاكَرَةِ فِيهِ تَسْبِيحٌ، وَ اَلْعَمَلُ بِهِ جِهَادِ، وَ تَعْلِيمُهُ مِنْ لاَ يَعْلَمُهُ صَدَقَةَ، وَ بَذَلَهُ لِأَهْلِهِ قُرْبَةٌ إِلَى اَللَّهِ (تَعَالَى)، لِأَنَّهُ مَعَالِمَ اَلْحَلاَلِ وَ اَلْحَرَامِ، وَ مَنَارُ سُبُلِ اَلْجَنَّةِ ، وَ المؤنس فِي اَلْوَحْشَةِ، وَ اَلصَّاحِبِ فِي اَلْغُرْبَةِ وَ اَلْوَحْدَةِ، وَ اَلْمُحْدِثُ فِي اَلْخَلْوَةِ، وَ اَلدَّلِيلُ فِي اَلسَّرَّاءِ وَ اَلضَّرَّاءِ، وَ اَلسِّلاَحَ عَلَى اَلْأَعْدَاءِ، وَ اَلزَّيْنَ عِنْدَ الأخلاء. يَرْفَعُ اَللَّهُ بِهِ أَقْوَاماً فَيَجْعَلُهُمُ فِي اَلْخَيْرِ قَادَةَ، تقتبس آثَارِهِمْ، وَ يُهْتَدَى بفعالهم، وَ يُنْتَهَى إِلَى آرَائِهِمْ، تَرْغَبُ اَلْمَلاَئِكَةُ فِي خلتهم، وَ بِأَجْنِحَتِهَا تمسهم، وَ فِي صَلاَتِهَا تَبَارَكَ عَلَيْهِمْ، يَسْتَغْفِرُ لَهُمْ كُلِّ رَطْبٍ وَ يَابِسٍ حَتَّى حِيتَانُ اَلْبَحْرِ وَ هَوَامُّهُ، وَ سِبَاعِ اَلْبِرِّ وَ أنعامه. إِنْ اَلْعِلْمِ حَيَاةِ اَلْقُلُوبِ مِنْ اَلْجَهْلِ، وَ ضِيَاءُ اَلْأَبْصَارُ مِنْ اَلظُّلْمَةِ، وَ قُوَّةَ اَلْأَبْدَانِ مِنْ اَلضَّعْفَ، يَبْلُغَ بِالْعَبْدِ مَنَازِلَ اَلْأَخْيَارِ، وَ مَجَالِسِ اَلْأَبْرَارِ، وَ اَلدَّرَجَاتِ اَلْعُلَى فِي اَلدُّنْيَا وَ اَلْآخِرَةِ، اَلذَّكَرِ فِيهِ يَعْدِلُ بِالصِّيَامِ، وَ مدارسته بِالْقِيَامِ، بِهِ يُطَاعُ اَلرَّبِّ وَ يَعْبُدُ، وَ بِهِ تُوصَلُ اَلْأَرْحَامِ، وَ يَعْرِفُ اَلْحَلاَلَ مِنَ اَلْحَرَامِ، اَلْعِلْمِ إِمَامٍ اَلْعَمَلِ وَ اَلْعَمَلِ تَابَعَهُ، يلهم بِهِ اَلسُّعَدَاءَ وَ يُحَرِّمْهُ اَلْأَشْقِيَاءِ، فَطُوبَى لِمَنْ لَمْ يُحَرِّمْهُ اَللَّهِ مِنْهُ حَظُّهُ

سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بچپن سے لے کر موت تک، علم کی جستجو کولازم اور ضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا :

حدیث: اطلبوا العِلم من المهد إلى اللحد.

علم حاصل کرو، ماں کی گود سے لے کر لحد تک۔

بچپن میں علم حاصل کرنے کی اہمیت و ضرورت

انسان کی تمام خوبیاں اور کمالات کو حاصل کرنے کے لئے بچپن کا زمانہ ہے۔ جس میں جو کچھ انسان حاصل کرتا ہے وہ دل پر نقش ہو جاتا ہے اور کبھی فراموش نہیں ہوتا لیکن بڑھاپے میں جو کچھ انسان حاصل کرتا ہے وہ فوراً بھول جاتا ہے۔ بچپن اور جوانی میں تعلیم پتھر پر لکیر کی مانند ہے جو ہرگز نہیں مٹتی لیکن بڑھاپے میں تعلیم پانی پر لکیر کی مانند ہے جو ایک لحظے میں مٹ جاتی ہے۔ جیسا کہ مولائے کائنات کا فرمان ہے بچپن میں علم گویا ایسے ہے جیسے پتھر پر لکیر اور بڑھاپے میں علم حاصل کرنا گویا ایسا ہے جیسے پانی پر لکیر کھینچنا۔

حدیث: اَلْعِلْمُ فِي اَلصِّغَرِ كَالنَّقْشِ فِي اَلْحَجَرِ والعلم فی الکبر کالنقش علی الماء.

اس روایت میں مولائے کائنات نے بچپن اور جوانی میں علم حاصل کرنے کی اہمیت اور ضرورت کو واضح کیا ہے جو لوگ اپنی زندگی میں کامیابی اور کمال کو پانا چاہتے ہیں وہ بچپن اور جوانی میں علم کے حصول کے لیے زحمت اور محنت کریں۔ ایک اور فرمان میں مولائے کائنات نے بچپن اور جوانی کے عالم میں علم حاصل کرنا ،تمام کامیابیوں کا راز قرار دیتے ہوئے فرمایا جو لوگ اپنے بچپن میں اور جوانی میں علم حاصل نہیں کرتے وہ اپنے بڑھاپے میں کامیابی اور کسی مقام کو نہیں پا سکتے۔

قال امیرالمؤمنین علی ہ السلام : مَنْ لَمْ يَتَعَلَّمْ فِي اَلصِّغَرِ لَمْ يَتَقَدَّمْ فِي اَلْكِبَرِ

اس روایت سے یہ واضح ہوا کہ جو قومیں ترقی اور کامیابیوں کوپا چکی ہیں وہ بچپن اور جوانی میں محنت کرنے کا نتیجہ ہے۔ مولائےکائنات کے فرمان کی روشنی میں اپنے بچپن اور جوانی میں خوب علم حاصل کریں تاکہ مستقبل میں عظیم کامیابیوں کو پا سکیں۔

علم دین کی اہمیت

سوال: علم دین کی اہمیت روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: دین اسلام میں تمام علوم کو سیکھنے کی تاکید اور سفارش کی گئی ہےجن کے بغیر انسانی ترقی اور کامیابیوں کو حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔لہذا انسان کی ترقی اور پیشرفت میں جتنے علوم مؤثر ہیں سب کو سیکھنا چاہیے۔ لیکن سب سے ضروری اور واجب، دینی علوم کا سیکھنا ہے جو کہ تمام مرد و زن پر فرض اور واجب ہے۔ جیسا کہ سرور کائنات کا فرمان ہے:

طَلَبُ اَلْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَ مُسْلِمَةٍ ۔

اس علم سے مراد جس کا حاصل کرنا ، ہر مسلمان پر فرض قرار دیا گیا ہے۔ وہ دینی علم ہے۔ اس علم کا حصول ،ہر ایک پر واجب ہے اور اس کے بغیر کسی کے لیے نجات ممکن نہیں ہے۔ دینی علم سے مراد اپنے عقائد کو درست کرنا ،خدا کی معرفت رسول کی معرفت اور آئمہ کی معرفت، قیامت اور دینی عقائد کی معرفت، ہر پر ایک پر ضروری ہے۔ اسی طرح دینی فرائض اور واجبات جیسے نماز، روزہ ،حج زکوۃ اور تمام دیگر فرائض کا سیکھنا اور پھر بہترین طریقے سے انجام دینا ہر ایک پر ضروری ہے۔اسی طرح شریعت میں بہت ساری چیزیں حرام ہیں اور گناہ شمار کی گئی ہیں۔ ان حرام چیزوں اور گناہوں کو جاننا پھر ان سے دوری اختیار کرنا بھی ضروری ہے وگر نہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے گناہوں کے دریا میں غرق ہو جائیں گے ۔اسی طرح دین اسلام کا ایک بڑا حصہ اخلاقیات اور حقوق ہیں ۔ ان کا جاننا بھی ضروری ہے۔ ماں باپ بچوں کے حقوق ،میاں بیوی کے حقوق اور حقوق الناس اور ان تمام حقوق کا جاننا اور ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ ان تمام علوم دینی کی اہمیت اور ضرورت کو بیان کرتے ہوئے اور ان کو سیکھنے کی تاکید کرتے ہوئے سرور کائنات نے فرمایا: سب سے اہم ترین اور ضروری ترین علم ،علم دین ہے۔دین اسلام میں تین علوم ہیں: علم عقائد یعنی اصول دین کا علم ،علم احکام: فروع دین کا علم ، علم اخلاق یعنی حقوق وآداب کا علم۔

حدیث: قَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ إِنَّمَا اَلْعِلْمُ ثَلاَثَةٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ وَ مَا خَلاَهُنَّ فَهُوَ فَضْلٌ.

الإمامُ الصّادقُ عليه السلام :إذا أرادَ اللّهُ بعَبدٍ خَيرا زَهَّدهُ في الدُّنيا ، و فَقَّههُ في الدِّينِ ، و بَصَّرَهُ عُيوبَها ، و مَن اُوتِيَهُنَّ فَقد اُوتِيَ خَيرَ الدُّنيا و الآخِرَةِ

حقیقت میں تمام انسانو ں کی سعادت و کامیابی کا راز ، دین کی معرفت اور دین پر عمل کرنا ہے۔ دین کی معرفت و شناخت میں انسان کا کمال پوشیدہ ہے ۔اور جب خدا کسی بندے پر خاص عنایت کرنا چاہتا ہے تو اسے دین کی معرفت عطا کرتا ہے۔جیساکہ حضرت امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے : جب اللہ تعالیٰ کسی بندے پر خاص عنایت کرنا چاہتا ہے تو اسے تین چیزیں عطا کرتا ہے:

۱- دین کی معرفت عطا کرکے دین میں فقیہ بنا دیتا ہے۔

۲- دنیا میں زہد اور پرہیز گاری کی دولت عطا کرتاہے۔

۳- بصیرت اور اپنی تمام خامیوں اور برائیوں سے آگاہی عطا کرتاہے۔

یہ تین چیزیں کسی کو حاصل ہوجائیں تو وہ دنیا و آخرت دونوں کی سعادت و خوشبختی کا مالک ہے۔

استاد کا مقام

سوال:استاد کا مقام اور مرتبہ روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: انسان کی زندگی میں استاد کا مقام اور مرتبہ نہایت بلند اور عظیم ہے۔ استاد اس ہستی کا نام ہے جو تمام کامیابیوں کا راستہ دکھاتا ہے اور علم و حکمت کی دولت عطا کرتا ہے اور ایک چھوٹے سے بچے کی تربیت کر کے اسے عظیم انسان کی شکل میں معاشرے میں پیش کرتا ہے ۔انسان کو اپنی زندگی میں جتنی بھی کامیابیاں اور کمالات حاصل ہوتے ہیں وہ سب استاد کی محنت اور زحمت کا نتیجہ ہے ۔اسی وجہ سے اسلام میں استاد کو باپ کا درجہ دیا گیا ہے ۔جس طرح باپ کی تعظیم اور احترام واجب ہے اور باپ کے فرمان پر اطاعت کرنا اور پوری زندگی باپ پر احسان اور نیکی کرنا اور باپ کے حقوق کو ادا کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح استاد بھی باپ ہے استاد کی تعظیم اور استاد کے فرمان پر عمل کرنا اور استاد کے حقوق کو ادا کرنا بھی ضروری ہے۔

جیسا کہ مولائے کائنات کا فرمان ہے: تم باپ اور استاد کی تعظیم کے لیے اپنی جگہ سے کھڑے ہو جاؤ اگرچہ تم زمانے کے بادشاہی کیوں نہ ہو۔

قُم عَنْ مَجْلِسِکَ لِأَبیکَ وَ مُعَلِّمِکَ وَ إنْ کُنْتَ أَمیراً.

اس روایت میں مولائے کائنات نے استاد کو باپ کی طرح واجب الاحترام قرار دیا ہے ۔ ایک دوسری روایت،شاگرد پر استاد کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا :تم پر ضروری ہے کہ تمام لوگوں کو عمومی سلام کرو اور استاد کے لیے خصوصی سلام کرو ، استاد سے پہلے نہ بیٹھو ، استاد کے آگے نہ چلو ، استاد سےآنکھوں اور ہاتھوں کے اشاروں سے بات نہ کرو ، کبھی بھی استاد کی برائی اور توہین نہ کرو ، استاد سے کبھی بھی نہ الجھو اور استاد جو کچھ عطا کرے اسے لے لو ساتھ جو کچھ عطا کرتا ہے اسے غنیمت سمجھو ،استاد کی عطاء اس پھل کی طرح ہے جو تمہارے لیے طاقت و توانائی کا باعث ہے۔

حدیث: قال امیرالمؤمنین علی ہ السلام :مِن حَقِّ العالِمِ عَلَيكَ أن تُسَلِّمَ عَلَى القَومِ عامَّةً و تَخُصَّهُ دونَهُم بِالتَّحِيَّةِ ، و أن تَجلِسَ أمامَهُ ، و لا تُشيرَنَّ عِندَهُ بِيَدِكَ ، و لا تَغمِزَنَّ بِعَينَيكَ ، و لا تَقولَنَّ : «قالَ فُلانٌ» خِلافا لِقَولِهِ ، و لا تَغتابَنَّ عِندَهُ أحَدا ، و لا تُسارَّ في مَجلِسِهِ ، و لا تَأخُذَ بِثَوبِهِ ، و لا تَلِجَّ .حديثعَلَيهِ إذا مَلَّ ، و لا تُعرِضَ مِن طُولِ صُحبَتِهِ ، فإنَّما هِيَ بِمَنزِلَةِ النَّخلَةِ تَنتَظِرُ مَتى يَسقُطُ عَلَيكَ مِنها شَيءٌ ؛ فإنَّ المُؤمِنَ العالِمَ لَأعظَمُ أجرا مِنَ الصّائمِ القائمِ الغازي في سَبيلِ اللّه ِ ، فإذا ماتَ العالِمُ انثَلَمَت في الإسلامِ ثُلمَةٌ لا يَسُدُّها شَيءٌ إلى يَومِ القِيامَةِ

حضرت امام سجاد علیہ السلام نے استاد کے حقوق اور استاد کے مقام اور مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : جان لو خدا نے استاد کو تمہارا سرپرست قرار دیا ہے۔ استاد تمہیں علم عطا کرتا ہے اور علم کے خز انے کھولتا ہے اور استاد کی تعظیم اور توقیر تم پر لازم ہے۔ استاد کی باتوں کو غور سے سنو اور کان اورآنکھ اورتمام توجہ کو استاد کی طرف رکھو اور استاد پر اپنی آواز کو بلند نہ کرو اور کوئی سوال کرے تو تم جواب نہ دو اور استاد کی برائی نہ کرو، استاد کی خامیوں کو چھپاؤ اور استاد کی خوبیوں کو بیان کرتے رہو۔ ایسا کرو گے تو فرشتےگواہی دیں گے کہ تم نے استاد کا حق ادا کر دیا اور تم نے خدا کے لیے علم حاصل کیا ہے-

الإمامُ زينُ العابدينَ عليه السلام : حَقُّ سائسِكَ بِالعِلمِ : التَّعظيمُ لَهُ ، و التَّوقيرُ لِمَجلِسِهِ ، و حُسنُ الاستِماعِ إلَيهِ ، و الإقبالُ عَلَيهِ ، و أن لا تَرفَعَ عَلَيهِ صَوتَكَ ، و أن لا تُجيبَ أحَدا يَسألُهُ عَن شَيءٍ حَتّى يَكونَ هُوَ الّذي يُجيبُ ، و لا تُحَدِّثَ في مَجلسِهِ أحَدا ، و لا تَغتابَ عِندَهُ أحَدا ، و أن تَدفَعَ عَنهُ إذا ذُكِرَ عِندَكَ بِسُوءٍ ، و أن تَستُرَ عُيوبَهُ ، و تُظهِرَ مَناقِبَهُ ، و لا تُجالِسَ لَهُ عَدُوّا ، و لا تُعادِيَ لَهُ وَلِيّا ، فإذا فَعَلتَ ذلكَ شَهِدَ لَكَ مَلائكَةُ اللّه ِ بِأنَّكَ قَصَدتَهُ و تَعَلَّمتَ عِلْمَهُ للّه ِِ جَلَّ اسمُهُ لا لِلنّاسِ ۔

نظافت اور پاکیزگی کی اہمیت

سوال:نظافت اور پاکیزگی کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: دین اسلام میں نظافت اور پاکیزگی ،طہارت اور صفائی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے کثافت اور آلودہ رہنے کی بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے۔ اپنے آپ کو پاک صاف رکھنا اور بدن اور اپنے دانتوں اور پورے وجود کو پاک و پاکیزہ رکھنا ایک طرح سے انسان کی شخصیت میں اضافہ کرتاہے۔ اور دوسری طرف انسان کے لیے صحت و سلامتی اور بیماریوں سے محفوظ رہنے کا سبب ہے۔ کثافت کی وجہ سے بہت ساری بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ خداوند متعال نے انسان کی سلامتی اور ہر طرح کی بیماریوں سے اور جراثیم سے محفوظ رہنے کے لیے صفائی کا حکم دیا ہے۔ اور صاف ستھرا رہنے والے اور پاک و پاکیزہ رہنے والے لوگوں سے خدا محبت کرتا ہے اور ان کو پسند کرتا ہے۔ جیسا کہ سورہ بقرہ میں رب العزت کا ارشاد ہے بے شک خدا توبہ کرنے والے اور صاف ستھرے اور پاک کو پاکیزہ رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ ۔

اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جو لوگ نظافت اور پاکیزگی کو اختیار کرتے ہیں اور جن کی فطرت میں نظافت اور صفائی سے محبت ہے خدا بھی ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جبکے اس کےمقابلے میں وہ لوگ جو نظافت اور پاکیزگی کا خیال نہیں رکھتے اور جن کو نظافت سے محبت نہیں ہے خدا کو بھی ایسے لوگوں سے محبت نہیں ہے۔ اسی لیے سرور کائنات نے فرمایا :پروردگار عالم کے نزدیک محبوب ترین چیز نظافت اور پاکیزگی ہے۔ خدا خود بھی پاک اورمنزہ ہے اور نظافت اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا :جتنا ممکن ہے آلودگیوں سے اور کثافتوں سے دوری اختیار کرو اور ہمیشہ پاک اور صاف رہنے کی کوشش کرو اور یہودیوں کے ساتھ شباہت پیدا کرنے کی کوشش نہ کرو۔

عن النبی: ان الل ہ نظیف ویحب النظاف ۃ فنظفوا عذرتکم ولاتشب ہہ بالی ہ ود ۔

ایک اور روایت میں سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاک و پاکیزہ رہنے والے اور صفائی کا خیال رکھنے والوں کو جنتی قرار دیتے ہوئے فرمایا: کہ تمہاری زندگی میں جتنا ممکن ہو سکے نظافت اور پاکیزگی اختیار کرو اس لیے کہ خدا نے اسلام کی بنیاد میں نظافت اور پاکیزگی پر رکھی ہے اور ہرگز جنت میں نہیں جائے گا مگر وہ شخص کہ جس کی زندگی میں نظافت اور پاکیزگی میں گزری ہو۔ جو لوگ دنیا میں پاک و پاکیزہ رہتے ہیں جن کا دل بھی پاک ہے اور اس کا بدن اور مکمل وجود پاک و پاکیزہ ہے اورپاکیزہ کردار کے مالک ہیں ،خلد بریں میں خداوند متعال پاکیزہ ہستیوں کے ساتھ ان لوگوں کو محشور کرے گا۔

حدیث:قال رسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله : تَنَظَّفوا بكُلِّ ما استَطَعتُم ؛ فإنَّ اللّه َ تعالى بَنَى الإسلامَ علَى النَّظافَةِ ، و لَن يَدخُلَ الجَنَّةَ إلاّ كُلُّ نَظيفٍ ۔

صفائی اور پاکیزگی کی خاطر اسلام میں ہر نماز سے پہلے وضو کو واجب قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سے سات غسلوں کو واجب قرار دیا اور نظافت اور پاکیزگی کے حصول کے لیے بہت سارے مواقع پر غسل کو مستحب قرار دیا گیا ہے ۔جیسے عید الفطر عید قربان، عید غدیر اور روز جمعہ وغیرہ کے ان تمام ایام میں غسل کرنا، پاکیزہ لباس پہننا، خوشبو لگانا اور جتنا ہو سکے طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنا ،عظیم عبادت اور خدا کی رضا اور خوشنودی کا سبب ہے۔

مسواک کی فضیلت و اہمیت

سوال:مسواک کی اہمیت اور فوائد کو روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: دین اسلام میں دانتوں کی صفائی پر بہت توجہ دی گئی ہے اسی وجہ سے مسواک کرنا سنت قرار پایا اور ہر کھانے کے بعد دانتوں کی صفائی ضروری قرار دی گئی ہے اور دانتوں کو صاف ستھرا رکھنے اور ہمیشہ مسواک کرنے سے بہت ساری بیماریوں سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ اور دانتوں میں بیماریاں نہیں لگتی لیکن اگرمسواک نہ کیا جائے تو دانتوں میں بیماریاں لگتی ہیں اور جو لوگ ہمیشہ مسواک کرتے ہیں دانت بیماریوں سے محفوظ رہنے کے ساتھ انتہائی خوبصورت اور موتیوں کی طرح چمکتے ہیں اور مسواک کرنے کے بہت سارے فوائد ہیں ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے مسواک کے فوائد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :

۱. مسواک کرنا سنت ہے ؛ ۲. مسواک کرنا منہ دانتوں کی پاکیزگی کا باعث ہے

۳. آنکھوں کی بینائی کو تقویت ملتی ہے؛ ۴. خدا کی خوشنودی کا باعث ہے؛

۵. مسواک کرنے سے دانت سفید ہوتے ہیں؛ ۶. منہ سےبدبو ختم ہوتی ہے ؛

۷. مسوڑوں کی مضبوطی کا باعث ہے؛ ۸. اشتہاء کو بڑھاتا ہے(یعنی کھانا کھانے کی خواہش)

۹. بلغم کا خاتمہ؛ ۱۰. حافظہ قوی ہوتا ہے

۱۱. نیکیوں کے اجر و ثواب میں اضافہ ۱۲. فرشتوں کی خوشحالی کا سبب ہے

حدیث: قال الصادق : فِي اَلسِّوَاكِ اِثْنَتَا عَشْرَةَ خَصْلَةً هُوَ مِنَ اَلسُّنَّةِ وَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ وَ مَجْلاَةٌ لِلْبَصَرِ وَ يَرْضَى اَلرَّبَّ وَ يُبَيِّضُ اَلْأَسْنَانَ وَ يَذْهَبُ بِالْحَفَرِ وَ يَشُدُّ اَللِّثَةَ وَ يُشَهِّي اَلطَّعَامَ وَ يَذْهَبُ بِالْبَلْغَمِ وَ يَزِيدُ فِي اَلْحِفْظِ وَ يُضَاعِفُ اَلْحَسَنَاتِ وَ تَفْرَحُ بِهِ اَلْمَلاَئِكَةُ

مسواک کرنے کی اس قدر تاکید ہوئی ہے کہ سرورکائنات نے فرمایا: جبرائیل امین جب بھی بارگاہ الہی سے میرے پاس آتے تو مجھے ہمیشہ مسواک کی سفارش کی یہاں تک کہ مجھے گمان ہو گیا کہ کہیں خداوند عالم اس مسواک کرنے کو واجبات میں سے قرار نہ دے۔

عن رسول الل ہ :مازالَ جَبرئيلُ يُوصِيني بالسِّواكِ حتّى ظَنَنتُ أ نّهُ سَيَجعَلُهُ فَريضَةً

مسواک ہمیشہ کرنا چاہیے لیکن کچھ مواقع پر مسواک کرنے کی بہت زیادہ تاکید اور سفارش کی گئی ہے:

۱-ہر نماز سے پہلے ۲-وضو کے وقت ۳-تلاوت سے پہلے ۴-دعا سے پہلے

۵-مسجد میں جانے سے پہلے ۶-سونے سے پہلے ۷-کھانے کے بعد ۸-دانت گندے ہونے پر

اخلاقی خوبیا ں اور کمالات

سوال:اخلاقی خوبیاں اور کمالات کو روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: انسان کے وجود میں بہت ساری خوبیاں اور کمالات پائے جاتے ہیں ان خوبیوں کو اور کمالات کو روایات میں مکارم الاخلاق اور انسانی فضائل و کمالات کہا گیا ہے اور انہی کمالات اور فضائل کی تکمیل کے لیے اور انسان کی تربیت کے لیے انبیاء کو مبعوث کیا گیا ہے جیسا کہ رسول گرامی اسلام کا فرمان ہے میری بعثت اور نبوت کا مقصد تمام انسانوں کی اعلی تربیت اور ان کو اخلاقی کمالات اور فضائل سکھانا ہے۔ یعنی تمام انسانوں کو عظیم شخصیت بنانے اور ان کو انسانی کمالات اور فضائل سکھانا میری رسالت کا اصل ہدف اور مقصد ہے۔

حدیث: عن النبی:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ اَلْأَخْلاَقِ.

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :خدا نے سرور کائنات کو تمام انسانی اعلی صفات بہترین کردار اور عظیم اخلاق سے نوازا ہے تم لوگ اپنےا محاسبہ کرو اور اپنے نفس کا جائزہ لو یہ اعلی صفات اور انسانی کمالات تمہاری زندگی میں ہیں تو خدا کا شکر ادا کرو اور پھر ان صفات کو مزید بڑھانے کی کوشش کرو آپ نے ان عظیم صفات اور اخلاقی کمالات کو بیان کرتے ہوئے مزید فرمایا: ان عظیم صفات اور کمالات انسانی کی تعداد، دس ہے۔

۱- یقین،خدا پر یقین رکھنا ،پیغمبر کی نبوت اہل بیت کی ولآیت اور آخرت پر یقین رکھنا ؛ ۲- قناعت؛ خدا کی دی ہوئی نعمتوں پر راضی رہنا اور حرص اور لالچ سے اپنے اپ کو دور رکھنا

۳-مشکلات پر صبر اور استقامت سے کام لینا- ۴-خدا کی دی ہوئی عظیم نعمتوں کا شکر ادا کرنا

۵-حلم و بردباری کے ساتھ زندگی گزارنا-۶-بہترین اخلاق اور محبت کے ساتھ زندگی گزارنا

۷- لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا اور سخاوتمندانہ زندگی گزرانا ۸- با عزت زندگی گزارنا یعنی ہر قسم کے توہین آمیز کام سے اجتناب کرنا

۹- زندگی میں شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کرنا ۱۰- ایک دوسرے کے ساتھ مروت سے پیش آنا

یہ دس امور ،صفات انبیاء میں سے ہیں مگریہ اعلی صفات خدا نے اپنے حبیب کو بصورت اتم عطاء کی ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ عظیم انبیاء کی ان صفات اور انسانی کمالات کو اپنائیں تاکہ دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہوں اور عظیم انسانوں میں ہمارا شمار ہو۔

۴۱

باب رذائل اخلاقی

سوال : رذائل اخلاقی کی فہرست بیان کریں؟

جواب: تمام ناپسند اور برے رذائل اوربری صفات، رذائل اخلاقی میں شامل ہیں اور یہ بری صفات انسان کی پستی اور ذلت کا سبب بنتی ہیں یہ بری صفات دنیا وآخرت کی تباہی و بربادی کا باعث ہے۔ اسی وجہ سے ان سے اجتناب کرنا بھی ضروری ہے ۔رذائل اخلاقی کی فہرست یہ ہے۔

۱- مذاق اڑانا ۶-ظلم اور ستم کرنا ۱۱-کفران نعمت ۱۶- دوسروں سے بد گمانی

۲-جھوٹ بولنا ۷- ریا و دکھاوا کرنا ۱۲-چغلی ۱۷- دوسروں کی توہین و تحقیر کرنا

۳- تکبر کرنا ۸- خود پسندی ۱۳- تعصب ۱۸-معاشرے میں برائیوں کو پھیلانا

۴-غیبت و برائی کرنا ۹-حسدکرنا ۱۴-والدین کی نافرمانی کرنا ۔ ۱۹-ظالم کی مدد کرنا

۵- کنجوسی ۱۰-خیانت ۱۵-دوسروں کو نقصان پہنچانا ۲۰- دوسروں کا حق چھیننا

۴۲

مذاق اڑانے کی مذمت

سوال: مذاق اڑانے کی مذمت آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں ؟

جواب : کسی کا مذاق اڑانا اور توہین وتحقیر کرنا اور عیب و برائی کو بیان کرنا بہت برا مرض اور گناہانان کبیرہ میں سے شمار ہوتا ہے۔قرآن کی آیات اور معصومین کے فرمودات میں مذاق اڑانے ، توہین و تحقیر سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔کسی کا مسخرہ کرنا اور کسی کو حقیر سمجھنا حرام قرار دیا ہے۔ جیساکہ پروردگار عالم نے سورہ حجرات میں ارشاد فرمایاہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ ۔

اے صاحبان ایمان کوئی کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے اور ان کے ساتھ مسخرہ نہ کرے ممکن ہے کہ وہ لوگ تم سے بہتر ہوں اور عورتیں بھی ایک دوسرے کا مذاق یا مسخرہ نہ کیا کریں ممکن ہے جن کا تم نے مذاق کیا ہے وہ خدا کے ہاں تم سے افضل ہوں۔

اس آیت میں خدا نے مردوں اور عورتوں کو سختی کے ساتھ دوسروں کا مذاق اڑانے سے منع کیا ہے۔ مذاق کرنا اور دوسروں کی توہین کرنا یہ مشرکین کی عادت ہے۔ مشرکین ، انبیاء اور مومنین کی توہین اور تحقیر کرتے تھے کہ پروردگارعالم نے قرآن میں اعلان فرمایا:

وَ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كاَنُواْ بِهِ يَسْتهَزِءُون

اور ان کے پاس کوئی رسول ایسا نہیں آیا جس کا انہوں نے استہزاء نہ کیا ہو۔( جب بھی مشرکین کے پاس انبیاء آتے تھے تو یہ کفار و مشرکین ان کا ہمیشہ مذاق اڑایا کرتے تھے)

اس آیت سے یہ بات واضح ہوئی کہ دوسروں کا مذاق اڑانا اور دوسروں کا مسخرہ و توہین کرنا کفار و مشرکین اور انتہائی برے لوگوں کا شیوہ ہے۔ اس بری عادت سے ہمیں بچنا چاہیے۔

نیز رسول گرامی اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے ہیں :

لا تُحَقِّرنَّ أحَدا مِن المسلمينَ ، فإنَّ صَغيرَهُم عِند اللّه ِ كَبيرٌ

کسی کی توہین و تحقیر مت کروکیونکہ ان میں سے چھوٹا بھی خداکے نزدیک بڑا ہوسکتا ہے۔

دین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ، دوسروں میں عزت کرنا ، خاص طور پر بزرگوں کے ساتھ تعظیم و احترام سے پیش آنا اور چھوٹوں کے ساتھ ، پیار و محبت کرنا ہے۔ اور جو شخص اس عظیم تعلیم سے محروم ہے وہ در حقیقت اسلام سے دور ہے۔ جیساکہ ابن عباس نے سرور کائنات سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عزت و احترام اور بچوں سے پیار ومحبت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: جو بچوں سے پیارو محبت نہ کرے اور بزرگوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش نہ آئے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

عَنِ اِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَ لَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا.

ان آیات و روایات سے واضح ہوا کہ کبھی بھی کسی کی توہین و تحقیر اور مذاق نہیں اڑانا چاہیے بلکہ ایک دوسرے سے عزت و احترام سے پیش آئیں اور پیار و محبت سے مل جل کر زندگی گزاریں ۔

غیبت کی مذمت اور نقصانات

سوال: غیبت کی مذمت اور نقصانات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: دوسروں کی برائی ،عیب جوئی اور خامیوں کو سب کے سامنے بیان کرنے کا نام غیبت ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔ غیبت کرنے والے کو قرآن و فرامین معصومین ؑ میں جہنمی قرار دیا گیاہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دوسروں کی برائی اور غیبت کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔جیساکہ سورہ مبارکہ حجرات میں ارشاد فرمایا:

وَ لَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَ يحُبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوه ۔

تم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم نفرت کرتے ہو۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ غیبت کرنا بہت قبیح اور ناپسندیدہ عمل ہے گویا کہ مردہ بھائی کا گوشت کھاناہے۔

حدیث قدسی: مَنْ مَاتَ تَائِباً مِنَ اَلْغِيبَةِ فَهُوَ آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ اَلْجَنَّةَ وَ مَنْ مَاتَ مُصِرّاً عَلَيْهَا فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ اَلنَّارَ ۔

سرورکائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ پروردگارعالم نے حضرت موسیٰ کو وحی فرمائی:غیبت کرنے والا سب سے پہلے جہنم کا ایندھن بنے گا اور توبہ کی صورت میں بہت سی سختیوں کو جھیلنے کے بعد سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ دوسروں کی پشت میں ان کی برائی کرنے والا شخص دوزخی ہے اور غیبت کے نقصانات کی بات کی جائے تو غیبت ، دشمنی اور نفرت کا باعث بنتی ہے۔نیز اعمال و عبادتوں کی تباہی و بربادی اورمعاشرے میں فساد کا باعث ہےجس سےانسان کی دنیا و آخرت دونوں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں ۔ لوگوں کے درمیان پیار و محبت کا خاتمہ، ایک دوسرے پر اعتماد کی بجائے نفرت و کدورت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

لہذا ہم اس بات کا خیال رکھیں کہ اگر کسی سےکوئی برا کام سرزد ہو ا ہے تو اس کو چھپائیں اور کسی کی خامیوں اور برائیوں کو دوسروں کے سامنے بیان نہ کریں بلکہ جس طرح خدا ہمارے گناہوں کو چھپاتا ہے اسی طر ح ہم دوسروں کی لغزشوں اور خطاؤں کو چھپائیں ۔

جھوٹ بولنے کی مذمت

سوال: جھوٹ بولنے کی مذمت اور نقصانات قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: جھوٹ اور دروغ گویی گناہانان کبیرہ میں سے ایک ہے جس کی قرآن و حدیث میں بہت مذمت ہوئی ہے۔ اور جھوٹ بولنے سے سختی سے منع بھی ہوا ہے۔ قرآن نے جھوٹ کو منافقین کی صفت اور عادت قرار دیا ہے۔ جیساکہ سورہ منافقون میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُون ؛ منافقین یقینا ج ھ و ٹے ہ یں ۔

اس آیت میں جھوٹ بولنے کو منافق کی صفت اور عادت کے طور پے بیان کیا گیاہے۔ جھوٹ بولنے والوں پر خدا کی لعنت ہے۔جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: الا لعنت اللہ علی القوم الکاذبین ؛جھوٹی قوم پر خدا کی لعنت ہے۔

اس آیت قرآن میں پروردگارعالم نے جھوٹ بولنے والی قوم اور جھوٹے لوگوں پر لعنت بھیجی ہے۔

حضرت امام حسن عسکری ؑ نے فرمایا: جھوٹ تمام برائیوں کی چابی ہے اور اگر کسی گھر میں تمام برائیاں پائی جارہی ہوں تو یقینا ان تمام برائیوں کا سرچشمہ جھوٹ ہوگا۔

جُعِلَتِ اَلْخَبَائِثُ كُلُّهَا فِي بَيْتٍ وَ جُعِلَ مِفْتَاحُهَا اَلْكَذِبَ.

اس روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ معاشرے میں بہت ساری برائیوں کے پھیلنے کا سبب جھوٹ ہے۔ جھوٹ ایک برائی نہیں بلکہ تمام برائیوں کی جڑ اور کلید ہے۔

جھوٹ کے نقصانات

جھوٹ کے بہت سارے نقصانات ہیں ان میں سے چند ایک یہاں ذکر کرتے ہیں :

• جھوٹ کی وجہ سے لوگوں میں اعتماد اور بھروسہ ختم ہونا شروع ہوجاتاہے ۔جھوٹے انسان پر کوئی بھروسہ نہیں کرتا ہے۔

• جھوٹے انسان کو ہر ایک حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

• جھوٹے انسان کے ساتھ لوگ معاملہ کرنے یالین دین سے دور بھاگتے ہیں۔

• جھوٹ ،معاشرے میں دشمنی کا باعث بنتاہے۔

• جھوٹے انسان سے دوستی نہ کرنے کی تاکید ہوئی ہے۔ جیساکہ امام زین العابدین ؑ نے فرمایا :

ایاک و مصاحب ۃ الکذاب؛

جھوٹے انسان سے دوستی مت کروکیونکہ وہ تمہیں دھوکہ دے گا۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ سچ بولیں ،صداقت و سچائی سے کام لیں اور غلط بیانی ، جھوٹ سے بچیں ،دوسروں کو دھوکہ ا ور فریب نہ دیں۔

جھوٹ، دنیا و آخرت میں رسوائی ،ہلاکت اور تباہی کا سبب بنتاہے جبکہ سچ بولنا اور سچائی کے ساتھ زندگی گزارنا دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ جیساکہ مولائے کائنات نے فرمایا: جھوٹ سے بچو اورجھوٹ بولنے سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ ،ایمان کا دشمن ہے۔ سچ بولو اور سچے انسان بنو۔ کیونکہ سچ بولنا اور سچائی کے ساتھ زندگی گزارانا ، دنیا و آخرت میں نجات اور بزرگی کا سبب ہے۔ جبکہ جھوٹا انسان دنیا و آخرت دونوں میں رسوا و ذلیل ہوتا ہے۔

۴۳

حسدکی مذمت اور نقصانات

حسدکی مذمت اور نقصانات قرآن و حدیث کی روشنی میں

سوال: حسدکی مذمت اور نقصانات قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں ؟

جواب: دوسروں کی ترقی، مال و دولت اور کامیابیوں کو دیکھ کر جلنا اور ان کی کامیابیوں اور مال و دولت کی نابودی کی تمنا و خواہش کا نام حسد ہے۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں دوسروں سے حسد کرنا اور ان کی کامیابیوں کو دیکھ کر جلنا بہت بری صفت ہے اور انتہائی مہلک بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے۔ اسی لیے قرآن میں حسد جیسی مہلک بیماری سے پناہ مانگی گئی ہے:

ومن شر حاسد اذا حسد ۔

تمام برائیوں سے خصوصا ًحاسد انسان جب حسد کرنے لگے تو اس کے شر سے خدا کی پناہ مانگو۔

اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ حسد ایک خطرناک بیماری اور بدترین عادت ہے۔ اس بری عادت سے ہمیشہ بچنا چاہیے اور خدا کی پناہ طلب کریں ۔

حسد کے نقصانات

• حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے اور اعمال کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔

• حسد آپسی تعلقات ،پیار ومحبت،اور ایک دوسرے سے خیرخواہی اور برادری کو تباہ کرتاہے۔

• حسد دنیا و آخرت دونوں کی بربادی کا موجب ہے۔

• رسول گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام مسلمانوں کو خصوصا مومنین کو حسد جیسے موذی مرض سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اور حسد کے نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حسد انسان کی نیکیوں کو کھا جاتا ہے اور اعمال کو اس طرح تباہ و برباد کر دیتا ہے، جیسے آگ لکڑیوں کو راکھ کر دیتی ہے۔

قال رسو ل الل ہ : الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب

حضرت امام حسن ؑ نے حسد کو دنیا و آخرت دونوں کی تباہی کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا: تین بری صفات کی وجہ سے تمام لوگوں کی ہلاکت وتباہی ہے۔

۱-غرور و تکبر ۲- حرص و لالچ ۳- حسد دوسروں کی کامیابی سے جلنا

قال الحسن : ہلاک الناس فی ثلاث: الکبر والحرص والحسد۔۔۔ منہ قتل قابیل ہابیل

پھر مزید آپ نے ارشاد فرمایا: حسد ہی کی وجہ سے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا ۔دنیا میں پہلا خون حسد کی وجہ سے زمین پر گرا۔

ان روایات سے واضح ہوا کہ حسد کی وجہ سے دنیا میں بہت ساری تباہی و بربادی پھیلتی ہے ۔ترقی اور کامیابی میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ حسد کرنے والا نہ خود آگےبڑھتا ہے اور نہ ہی دوسروں کو آگے بڑھتا ہوا دیکھ سکتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایک دوسرے سے خیر خواہی اور ایک دوسرے کی کامیابی میں مدد کرنا اور ایک دوسرے کی کامیابیوں کو دیکھ کر خوشحال ہونا انسان کی دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی اور معاشرے میں ترقی کا سبب ہے۔

غرور اور تکبر

سوال: تکبر کی مذمت قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں ؟

جواب : اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر اور چھوٹا سمجھنا، حق بات کو تسلیم نہ کرنا اور حق کاانکار کرنے کا نام تکبر اور غرور ہے ۔ جس طرح شیطان نے جناب آدم ؑ کی بزرگی کو تسلیم نہیں کیا اور آدم کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا۔ اس تکبر و غرور کی وجہ سے شیطا ن پر خدا کی لعنت ہوئی اور بارگاہ الہی میں سے نکالا گیا اور وہ کافرین میں سے ہوگیا جبکہ فرشتے معصوم ہوتے ہوئے جناب آدم کی عظمت کو اور بزرگی کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔ جیساکہ پروردگار عالم نے اعلان فرمایا: تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ تکبر کا شکار ہوا اور کافرین میں سے قرار پایا۔

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ

اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبر و غرور کرنے والا اور حق کا انکار کرنے والا اور اپنے آپ کو بہت بڑا اوردوسروں کو حقیر سجمھنے والا زمانے کا شیطان اور شیطان کا پیرو کار ہے ۔جبکہ دوسروں کو بڑا سجمھنا اور دوسروں کی تعظیم کرتے ہوئے تواضع اور فروتنی سے پیش آنا فرشتہ صفت انسان اور واقعی رحمان کے پیروکاروں کی نشانی ہے۔ تکبر و غرور وہ بد ترین صفت ہے جو انسان کو جہنم میں پہنچا دیتی ہے اور دنیا کو بھی جہنم بنا دیتی ہے ۔متکبر اور مغرور انسان کے لئے پروردگار عالم نے ہمیشہ جہنم میں رہنے کا اعلان کیا ہے ۔جیساکہ سورہ نحل میں تکبر کرنے والوں کے لئے پروردگار نے اعلان کیاہے: جہنم کے دروازوں سے داخل ہو جاؤ ہمیشہ کے لئے اور متکبرین کے لئے جہنم بدترین ٹھکانہ ہے۔

فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ

اس آیت میں خدا نے متکبر و مغرور انسانوں کےلئے جہنم کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی جہنم کو متکبر ومغرور انسانوں کا ٹھکانہ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خبردار !ماں باپ کی نافرمانی نہ کرنا کیونکہ جنت کی خوشبو ایک سال کے فاصلے سے محسوس کرے گا لیکن چار گروہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکیں گے۔

۱. ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا

۲. رشتے داروں سے قطع تعلق کرنے والا

۳. بدکار اور زنا کار انسان

۴. متکبر ومغرور انسان

پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: کبرائی اور بزرگی صرف خدا کے لئے ہے۔

قالَ رَسُولُ اللّهِ صلي الله عليه و آله: اِيّاكُمْ وَعُقُوقَ الْوالِدَيْنِ، فَاِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ عَامٍ وَ لاَ يَجِدُهَا عَاقٌّ وَ لاَ قَاطِعُ رَحِمٍ وَ لاَ شَيْخٌ زَانٍ وَ لاَ جَارُّ إِزَارِهِ خُيَلاَءَ إِنَّمَا اَلْكِبْرِيَاءُ لِلَّهِ رَبِّ اَلْعَالَمِينَ ۔

تکبر کے نقصانات

تکبر اور غرور کے بہت سارے نقصانات ہیں: ان میں سے چند کو ذکر کرتے ہیں

o متکبر انسان لوگوں سے دور ہو جاتاہے ۔

o متکبر شخص سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔

o تکبر اورغرور انسان کو ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔

o تکبر انسان کی دنیا و آخرت دونوں کو تباہ و برباد کردیتاہے۔ جیساکہ امام حسن ؑ کا فرمان ہے تمام انسانوں کی تباہی و بربادی کے تین سبب ہیں:

۱-تکبر وغرور ۲-حرص و لالچ ۳- حسد

پھر آپ نے فرمایا: تکبر کی وجہ سے شیطان پر خدانے لعنت کی اور بارگاہ الہی سے نکال دیا گیا۔ اور حسد کی وجہ سے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔

وَ قَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: هَلاَكُ اَلنَّاسِ فِي ثَلاَثٍ اَلْكِبْرِ وَ اَلْحِرْصِ وَ اَلْحَسَدِ فَالْكِبْرُ هَلاَكُ اَلدِّينِ وَ بِهِ لُعِنَ إِبْلِيسُ وَ اَلْحِرْصُ عَدُوُّ اَلنَّفْسِ وَ بِهِ أُخْرِجَ آدَمُ مِنَ اَلْجَنَّةِ وَ اَلْحَسَدُ رَائِدُ اَلسَّوْءِ وَ مِنْهُ قَتَلَ قَابِيلُ هَابِيلَ

اسی طرح رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: پروردگار عالم دنیا میں سب سے زیادہ، متکبر اور مغرور انسان کو ناپسند کرتاہے۔

ایک دوسری روایت میں سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو شخص متکبر اور مغرور ہوتا ہے وہ دنیا وآخرت دونوں میں ذلیل و خوار ہوتاہے اور جو شخص انکساری وفروتنی کو اختیار کرتا ہے اور لوگوں سے عزت و احترام سے پیش آتا ہے خداوندمتعال اسے عزت وبزرگی عطاء کرتاہے۔ اور جو شخص ہمیشہ قناعت سے کام لیتا ہے اللہ اس کے رزق میں وسعت عطا کرتا ہے اور جو رزق میں اسراف کرتا ہے اسے اللہ روزی سے محروم کر دیتا ہے اورجو ہمیشہ ذکر خدا میں مشغول رہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اجر کثیر عطا کرتا ہے۔

وَ جَاءَهُ رَجُلٌ بِلَبَنٍ وَ عَسَلٍ لِيَشْرَبَهُ فَقَالَ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ شَرَابَانِ يُكْتَفَى بِأَحَدِهِمَا عَنْ صَاحِبِهِ لاَ أَشْرَبُهُ وَ لاَ أُحَرِّمُهُ وَ لَكِنِّي أَتَوَاضَعُ لِلَّهِ فَإِنَّهُ مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اَللَّهُ وَ مَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اَللَّهُ وَ مَنِ اِقْتَصَدَ فِي مَعِيشَتِهِ رَزَقَهُ اَللَّهُ وَ مَنْ بَذَّرَ حَرَمَهُ اَللَّهُ وَ مَنْ أَكْثَرَ ذِكْرَ اَللَّهِ آجَرَهُ اَللَّهُ

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ دوسروں کا احترام کرنا، دوسروں کو اپنے سے بڑا سجمھنااور پھر ان کے ساتھ تواضع اور احترام سے پیش آنا ،دنیا و آخرت دونوں کی فلاح و کامیابی اور بزرگی کا موجب ہے جبکہ اس کے مقابلہ میں تکبر و غرور دنیا و آخرت دونوں میں ذلت و رسوائی اور نا کامی کا سبب ہے ۔

پروردگار ہمیں سب کی عزت و احترام کرنے اور تواضع سے پیش آنے ،تکبر جیسی بری خصلت سے محفوظ رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

غصہ کرنے کی مذمت

سوال: غصہ کرنےکی مذمت اور نقصانات قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں ؟

جواب: انتہائی نقصان دہ اور بری صفات میں سے ایک غصہ اور دوسروں سے لڑائی کرنا ہے۔ جو انسان کی دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی تباہ و برباد کرتاہے ۔ غصہ در حقیقت وہ آگ ہے ،جس میں انسان خود بھی جلتا ہے اور دوسروں کو بھی جلاتا ہے۔ غصے کی وجہ سے انسان لڑائی و جھگڑے پر اتر آتا ہے۔ جس کے نتیجے میں انسان اپنا عقل و شعور کھو بیھٹتا ہے اور جب غصہ حد سے بڑھ جاتا ہے تو انسان ہر وہ کام کر بیھٹتا ہے جس پر بعد میں پچھتاوا ہوتاہے۔ جیسے کسی کا جانی یا مالی نقصان کرنا۔ اسی لئے احادیث میں غصے کو آگ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ جیسا کہ سرور کائنات کا فرمان ہے : غصہ ، شیطان کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے ۔ اس سے خود کو محفوظ رکھو۔ قَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : اَلْغَضَبُ جَمْرَةٌ مِنَ اَلشَّيْطَانِ

غصہ تمام برائیوں کی چابی ہے۔ جیساکہ حضرت امام صادق ؑ نے فرمایا: غصہ تمام برائیوں اور شر کی چابی ہے ۔ تمام برائیوں کا آغاز غصے سے ہے۔قال الصادق عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : اَلْغَضَبُ مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ. ایک دوسری روایت میں امام صادق ؑ نے فرمایا: جو شخص اپنے غصے پر قابو پالیتا ہے وہ عاقل و دانا ہے اور جو غصے کو کنٹرول نہ کرسکے اور قابو نہ پا سکے وہ بے وقوف و جاہل انسان ہے ۔ مزید فرمایا: غصہ ، حکیم کے سینے سے تمام حکمتوں کو نابو د کردیتا ہے۔

قال الصادق عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ : اَلْغَضَبُ مَمْحَقَةٌ لِقَلْبِ اَلْحَكِيمِ - وَ قَالَ مَنْ لَمْ يَمْلِكْ غَضَبَهُ لَمْ يَمْلِكْ عَقْلَهُ ؛

اس روایت سے واضح ہوا کہ غصہ ہر انسان کو آتاہے لیکن عاقل و دانا انسان غصے کو اپنے قابو میں رکھتا ہے اور غصے کی حالت میں دوسروں کو نقصان نہیں پہنچاتا لیکن بیوقوف اور جاہل انسان غصے کی حالت میں بے لگام اور آپے سے باہر ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اسے بڑے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

۴۴

غصے پر قابو پانا

سوال: غصے پر کیسے قابو پایا جائے؟

جواب: غصے پر قابو پانا، غصے کو پی جانا اور غصے کی حالت میں کسی کو نقصان نہ پہنچانا بزرگ ہستیوں اور اہل بہشت لوگوں کی خصوصیت ہے۔

الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ؛

۱-اہل تقوی ۳-غصے کو پی جانا ۴- عفو ودرگزر کرنا

۲-راہ خدا میں خرچ کرنا ۵- احسان و نیکی کرنا

پروردگارعالم نے قرآن میں اہل بہشت کی صفات کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جنت پرہیزگار بندوں کےلئے بنائی گئی ہے۔ اور متقی وہ لوگ ہیں جو اپنے مال و ثروت کو ہمیشہ اور ہر حال میں راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کی خطاؤں اور لغزشوں کو معاف کردیتے ہیں اور لوگوں پر احسان کرنے والے ہیں اورخدا احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اس آیت میں پروردگارعالم نے جنتیوں کی پانچ صفات کو بیان کیا ہے۔

سرور کائنات کا فرمان ہے:جوشخص غصے کی آگ کو خاموش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ایمان اور سکون سے بھر دیتا ہے۔ قَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : مَنْ كَظَمَ غَيْظاً وَ لَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ أَمْلَأَ اَللَّهُ قَلْبَهُ أَمْناً وَ إِيمَاناً اسی طرح سے حضرت امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے جو شخص اپنے غصے سے لوگوں کو محفوظ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے۔ اور اس کے دل کو اپنے خوشنودی و رضا کے سرور سے بھر دیتا ہے۔رسول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: جو دنیا میں اپنے غصے سے لوگوں کو محفوظ رکھتا ہے خدا بھی اسے قیامت کے دن جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔

عن النبی ص : مَنْ کَفَّ غَضَبَه عَنِ النّاس کفَّ اللهُ عَنْهُ عَذابَ یَومِ القیامَة ۔

سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کی روشنی میں جو شخص غصےکی صورت میں دوسروں کو نقصان نہ پہنچائے تو خدا بھی اس شخص کو ہر طرح کے نقصان سے محفوظ رکھتاہے۔

غصے پے قابو پانے کا طریقہ

حضور سرورگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غصے پر قابو پانے کا طریقہ بیان فرمایا ہے: اےعلیؑ! کسی پر غصہ نہ کرو اور اگر غصہ آبھی جائے تو فورا بیٹھ جاؤ اور غصے کے عواقب و انجام اور نقصانات کے بارے میں سوچو اور یہ دیکھو کہ پروردگارعالم کس قدر قدرت و طاقت کا مالک ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے بندوں کو معاف کردیتا ہے اور انہیں اپنے غیض و غضب سے محفوظ رکھتا ہے ۔ لہذا ہم بھی لوگوں پر غصہ نہ ہوں اور حلم و برداشت سے کام لیں۔

قال رسول الل ہ : يَا عَلِيُّ لاَ تَغْضَبْ فَإِذَا غَضِبْتَ فَاقْعُدْ وَ تَفَكَّرْ فِي قُدْرَةِ اَلرَّبِّ عَلَى اَلْعِبَادِ وَ حِلْمِهِ عَنْهُمْ ۔۔۔

اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ جس طرح خدا وند متعال تمام قدرت و طاقت کے باوجود گناہگاروں کوبخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں تباہ و برباد نہیں کرتا بلکہ اپنی رحمانیت کے پیش نظر لوگوں کی خطائیں معاف فرماتاہے۔ہمیں بھی چاہیے غصہ کی حالت میں دوسروں کی خطاؤں سےصرف نظر کریں اور عفو ودرگزر سے کام لیں اور غصے پر قابو پانے کی صورت میں خدا اپنے بندوں کو دنیا و آخرت کی کامیابی عطاء کرتا ہے اور بزرگ ہستیوں میں اسے شامل کرتاہے۔

برے القاب سے لوگوں کو پکارنا

سوال: برے القاب سے کسی کو پکارنے کی مذمت قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب:ایسےبرے الفاظ و القاب سے کسی کونہیں پکارنا چاہیے جو توہین اور تحقیر کا باعث ہو۔برے الفاظ و القاب سے دوسروں کو پکارنا گناہ کبیرہ ہے۔قرآن پاک کی آیات اور معصومین ؑ کی روایات میں اس عمل سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں رب العزت کا واضح الفاظ میں حکم ہے :

وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ؛

اے صاحبان ایمان ایک دوسرے پر تہمت نہ لگایا کرو اور ایک دوسرے کو برے القاب اور برے الفاظ سے یاد نہ کیا کرو ایمان لانے کے بعد برے الفاظ سے پکارنا اور نا زیبا جملات کا استعمال کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ لوگ اس کام سے باز نہ آئیں تو وہ ظالموں میں شامل ہیں۔

اس آیت سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے برے القاب اور برے الفاظ سے ایک دوسرے کو یاد کرنا اور پکارنا گناہ ہے۔ اور خدا کی ناراضگی کا سبب ہے اور برے الفاظ کے ذریعے یا برے القاب اور کلمات کے ذریعے سے ایک دوسرے کو پکارنا مومن کی توہین اور تحقیر کا سبب ہو جوکہ گناہ کبیرہ ہے۔

مولائے کائنات ؑنے فرمایا: نازیبا اور برے الفاظ سے کسی کو پکارنا پست اور حقیر انسانوں کی صفت اور عادت ہے پس تم اچھے اور خوبصورت الفاظ سے پکارو تاکہ تمہارا شمار اچھے لوگوں میں ہو ۔ ایک اور روایت میں امیر المومنین نے اچھے انداز سے گفتگو کرنے کی تاکید اور برے الفاظ سے اور القاب سے دوسروں کو پکارنے کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا :

سِلاحُ اللِّئامِ قَبيحُ الكلامِ

سب سے خوبصورت ترین چیز ،بہترین کلام ہے اور سب سے بدترین و بری چیز، بدترین کلام ہے۔ اس لیے کہ کلام کے ذریعے انسان کو عزت اور آبرو بھی عطا ہوتی ہے اور کلام ہی کے ذریعے انسان کی توہین اور رسوائی ہوتی ہے۔

سُئلَ [ عليٌّ] عليه السلام أيُّ شَيءٍ مِمّا خلقَ اللّه ُ أحسَنُ ؟ فَقالَ عليه السلام : الكلامُ ، فقيلَ : أيُّ شيءٍ ممّا خَلَقَ اللّه ُ أقبَحُ ؟ قالَ : الكلامُ ، ثُمّ قالَ : بالكلامِ ابيَضَّتِ الوُجوهُ ، و بالكلامِ اسوَدَّتِ الوُجوهُ

برے الفاظ سے ایک دوسرے کو پکارنا نفرت اور دشمنی کا سبب ہے بہت ساری لڑائیاں اور جھگڑے تلخ کلامی نازیبا اور برے الفاظ کے استعمال کرنے کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔

خصوصا ایسے الفاظ جن کو معاشرے میں بہت برا سمجھا جاتا ہے ان الفاظ کا استعمال کرنے سے لڑائی جھگڑا ،دشمنی اور نفرت یقینی ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے برے الفاظ سے برے القاب سے اور برے ناموں سے ایک دوسرے کو پکارنے سے اجتناب کریں۔

بری عادتیں

سوال :بری عادتوں کی مذمت روایات کی روشنی میں بیان کریں ؟

جواب:انسان کی زندگی میں بہت ساری بری عادتیں اور بری صفات پائی جاتی ہیں ۔ان بری عادتوں کی وجہ سے انسان دنیا میں ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے اور دوسروں کی نگاہ میں حقیر و پست ہوجاتا ہے ۔ انہی بری عادتوں اور صفات کی وجہ سے انسان جہنم کا ایندھن بنتا ہے ۔اس لیے رسول سرور کائنات(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اچھی عادات اور اچھی صفات اور بہترین اخلاق کے ساتھ زندگی گزارو تاکہ کہ اچھی صفات اور بہترین اخلاق تمہیں جنت کا راہی بنائے اور بری عادتوں اور بری صفات سے دوری اختیار کرو کیونکہ یہ بری عادتیں انسان کو جہنمی بنا دیتی ہیں۔

قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : عَلَيْكُمْ بِحُسْنِ اَلْخُلُقِ فَإِنَّ حُسْنَ اَلْخُلُقِ فِي اَلْجَنَّةِ لاَ مَحَالَةَ وَ إِيَّاكُمْ وَ سُوءَ اَلْخُلُقِ فَإِنَّ سُوءَ اَلْخُلُقِ فِي اَلنَّارِ لاَ مَحَالَةَ.

بری عادتوں سے مراد تمام برائیاں اور انسان کے لیے نقصان دہ اور ضرر رساں تمام حرکات اور افعال ہیں جیسے جھوٹ بولنا ،چوری کرنا، گالی دینا ،نشہ کرنا اور دوسروں کی اہانت و تو ہین کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی ، استاد کی باتوں پر عمل نہ کرنا وغیرہ یہ سب بری عادتوں میں شامل ہیں ۔مولائے کائنات نے بری عادتوں سے اپنے آپ کو بچانے کی اور اچھی عادتوں کو اپنانے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: انسان بری عادتوں کو چھوڑنے سے اور اچھی عادتوں کو اپنانے سے عظیم ترین مقامات اور درجات کو پا لیتا ہے۔حدیث:

بِغَلَبَةِ اَلْعَادَاتِ اَلْوُصُولُ إِلَى أَشْرَفِ اَلْمَقَامَاتِ.

ایک دوسری روایت میں مولائے کائنات ؑنے فرمایا: اپنے آپ کو بری عادتوں سے اور بری صفات سے اور برے کردار سے نجات دو اور اپنے نفس کو اور اپنے وجود کو اچھی عادتیں اور اچھی صفات سکھاؤ، نفس کو برداشت کرنے کی عادت ڈالو اور نفس کو اچھی عادتوں سے زینت دو سے اور اپنے آپ کو گناہوں کی آلودگی اور حقیر عادتوں سے پاک و پاکیزہ رکھو ۔

عن امیرالمومنین علی ہ السلام:ذَلِّلُوا أَنْفُسَكُمْ بِتَرْكِ اَلْعَادَاتِ وَ قُودُوهَا إِلَى فِعْلِ اَلطَّاعَاتِ وَ حَمِّلُوهَا أَعْبَاءَ اَلْمَغَارِمِ وَ حَلُّوهَا بِفِعْلِ اَلْمَكَارِمِ وَ صُونُوهَا عَنْ دَنَسِ اَلْمَآثِمِ.

معصومین علیہم السلام کی ان روایات اور تعلیمات کی روشنی میں ہمیں تمام بری عادتوں سے پرہیز کرنا چاہیے اور جتنی بھی اچھی عادتیں اور صفات ہیں ان کو اپنانا چاہیے تاکہ دنیا و آخرت دونوں کی ذلت و رسوائی سے نجات مل سکے اور عزت و کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں۔

۴۵

تہمت اور الزام لگانا

سوال: تہمت اور الزام لگانے کی مذمت آیات و روایات کی روشنی میں بیان کریں ؟

جواب: دین اسلام میں گناہان کبیرہ یعنی بہت بڑے گناہوں میں سے ایک ،لوگوں پر الزام و تہمت لگانا ہے۔ اور لوگوں کی طرف ایسے کام کی نسبت دینا جو انہوں انجام نہ دیا ہو اور گناہ اور غلط کام کولوگوں پر تھوپنا اور ذمہ دار ٹھہرانا الزام اور تہمت کہلاتا ہے۔ تہمت لگانا اور الزام تراشی کرنا وہ عظیم گناہ ہے کہ جس کے انجام دینے والوں کے لیے جہنم کا اعلان کیا گیا ہے اور جو شخص دوسروں پر بلاوجہ الزام یا تہمت لگاتا ہے اس کی تمام نیکیاں اور دین و ایمان تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے: جب مومن اپنے برادر مومن بھائی پر تہمت اور الزام لگائے تو اس کا دین اور ایمان اس طرح تباہ و برباد ہو جاتا ہے جس طرح نمک پانی میں گھل کر ختم ہو جاتا ہے۔

الامام الصادق ع : إِذَا اِتَّهَمَ اَلْمُؤْمِنُ أَخَاهُ اِنْمَاثَ اَلْإِيمَانُ فِي قَلْبِهِ كَمَا يَنْمَاثُ اَلْمِلْحُ فِي اَلْمَاءِ

اسی طرح ایک اور روایت میں حضرت امام صادق نے تہمت اور الزام لگانے کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: جو شخص دوسرے مومنین پر تہمت اور الزام لگائے اس سے کسی خیر کی توقع اور امید نہیں کرنی چاہیے اور اس کا رشتہ مومنین سے الگ ہو جاتا ہے ۔

مَنِ اِتَّهَمَ أَخَاهُ فِي دِينِهِ فَلاَ حُرْمَةَ بَيْنَهُمَا ۔

ایک اور روایت میں حضرت امام صادق علیہ الصلوۃ والسلام نے تہمت اور الزام کو گناہ کبیرہ میں شمار کرتے ہوئے فرمایا :بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا اور ان کو بدنام کرنا بڑے بڑے پہاڑوں سےبھی بڑا گناہ ہے۔

حدیث: اَلْبُهْتَانُ عَلَى اَلْبَرِيِّ أَثْقَلُ مِنَ اَلْجِبَالِ اَلرَّاسِيَاتِ.

ان روایات سے معلوم ہوا ہے کہ بے گناہ لوگوں پر تہمت اور الزام لگانا برے انسانوں کی بری صفت اور بڑے گناہوں میں شامل ہے اور تہمت اور الزام لگانے کی وجہ سے دین و ایمان اور نیکیاں اور اعمال تباہ و برباد ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں سے محبت اور الفت بھی ختم ہو جاتی ہے اور یہ عمل دشمنی وعداوت اور نفرتوں کا باعث بنتا ہے۔

لہذا ہمیں ان بری عادتوں سے خود کو بچانا چاہیے اور الزام تراشی، دوسروں پر ناحق تمہت نہیں لگانی چاہیے۔

۴۶

گانا بجانا

گانے کے نقصانات

سوال: گانا گانے کے نقصانات ومذمت آیات اور روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: زبان کے گناہوں میں سے ایک بہت بڑا گناہ گانا ،گانا ہے آیات و روایات کی روشنی میں گانا، گانا گناہان کبیرہ میں شامل ہے اور دین اسلام میں اس سے بچنے کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے ۔گانا ،معاشرے میں بہت سارے فسادات اور نقصانات اور معاشرتی برائیوں کو جنم دینے کا سبب ہے۔ گانے کے نتیجے میں لوگ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے بہت ساری برائیوں میں مبتلا ہوجاتےہیں اور گانا ،انسان کو خدا سے دور کرتا ہے۔اور انسان اپنی زندگی کے مقصد سے غافل ہو جاتا ہے ۔ نقصانات اور معاشرے میں پھیلنے والی برائیوں کی وجہ سے گانے کو دین محمدی میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ رب العزت کا سورہ حج میں ارشاد ہوتا ہے: وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ؛ اور باطل باتوں سے اجتناب کرو۔ جنا ب ابوبصیرنے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا؟ قول زور (لغو و بیہودہ)سے کیا مراد ہے؟ مولا نے فرمایا :اس سے مراد گانا ،گانا اور باطل اور بیہودہ گفتگو ہے اور اس کے قریب بھی نہ جانا ۔ایک اور روایت میں گانا ،گانےاور گانا سننے کی سخت مذمت اور اس کے نقصانات کو بیان کرتے ہوئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: گانا، گانے سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے ۔انسان کا دل سیاہ ہو جاتا ہے اور اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتی اور جس گھر میں گانا گایا جائے وہ خدا کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ سرور کائنات نے گانے کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : دو آوازوں پر خدا کی لعنت ہے گانے کی آواز اور ڈھول کی آواز۔

حدیث: صَوتانِ مَلعونانِ فِي الدنيا والآخِرَةِ : مِزمارٌ عندَ نِعمَةٍ ، ورَنَّةٌ عندَ مُصيبَةٍ

حدیث: عن الامام الصادق علیہ السلام :

الغِناءُ مِمّا أوعَدَ اللّه ُ عَزَّ و جلَّ علَيهِ النارَ ؛

حضرت امام صادق علیہ السلام نے گانے کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا گانا ،گانے والے قیامت کے دن جہنم کی آگ میں جلیں گے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

ان آیات اور روایات سے معلوم ہوا کہ گانا، گانا بہت بڑا گناہ ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت دونوں کی تباہی ہے۔ دنیا میں خدا کی رحمت سے دوری اور آخرت میں جہنم کا باعث ہے۔ گانا، گانا خدا کے غضب کا سبب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دنیا و آخرت دونوں میں ذلت اور رسوائی کا سبب بھی ہے۔

بد اخلاقی کی مذمت

سوال:بد اخلاقی کی مذمت اور نقصانات کو روایات کی روشنی میں بیان کریں؟

جواب: اخلاقی خامیاں، انسان کے برے کردار اور بری صفات کو سوء خلق اور بداخلاقی کہا گیا ہے۔ لوگوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنا تکبر اور غرور سے پیش آنا دوسروں کی توہین اور تحقیر کرنا ،دوسروں سے اپنے آپ کو افضل وبہتر سمجھنا ،ان سے نفرت و عداوت کرنا ان سے تعلقات کو خراب کرنا یہ سب بد اخلاقی کہلاتا ہے ۔بد اخلاقی ایک عظیم گناہ ہے اس کی روایات میں بہت زیادہ مذمت کی گئی ہے۔ بداخلاقی انسان کو دنیا اور آخرت دونوں برباد کر دیتی ہے۔ انسان کی دنیا کو بھی جہنم بنا دیتی اور آخرت میں بھی جہنم کی بدترین طبقے میں پہنچا دیتی ہے ۔جیسا کہ رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا فرمان ہے:بداخلاقی ایک ایسا گناہ ہے جس کو پروردگار ہرگز نہیں بخشتا اور بد اخلاقی کی وجہ سے انسان جہنم کے پست ترین طبقے میں پہنچ جاتا ہے اور ہمیشہ کے لئے آگ میں جلتا رہتا ہے ۔

حدیث: عن رسول الل ہ ص : سوءُ الخُلُقِ ذَنبٌ لا يُغفَرُ ؛ إنّ العَبدَ لَيَبلُغُ••• بِسُوءِ خُلقِهِ أسْفَلَ دَرَجَة في جَهنَّمَ.

حضرت صادق علیہ السلام نے بداخلاقی کے عظیم نقصانات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :بے شک بداخلاقی انسان کے اعمال اور نیکیوں کو اس طرح برباد کر دیتی ہے جس طرح سرکہ شہد کو برباد کر دیتا ہے۔

حدیث: عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ: إِنَّ سُوءَ اَلْخُلُقِ لَيُفْسِدُ اَلْعَمَلَ كَمَا يُفْسِدُ اَلْخَلُّ اَلْعَسَلَ....

مولائے کائنات نے بداخلاقی کو زندگی کی تباہی کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا: بداخلاقی ایک ایسی بری صفت ہے جو زندگی کو تباہ اور تلخ کر کے رکھ دیتی ہے اور جو انسان بد اخلاقی میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ ہمیشہ عذاب کی حالت میں رہتا ہے۔

حدیث: سُوءُ اَلْخُلُقِ نَكَدُ اَلْعَيْشِ وَ عَذَابُ اَلنَّفْسِ.

ایک دوسری روایت میں ارشاد فرمایا :جو شخص بداخلاق ہو جاتا ہے وہ اپنے اپ کو اور اپنے اہل و عیال کو عذاب میں مبتلا کر لیتا ہے۔ اسی طرح مولائے کائنات نے ارشاد فرمایا: بداخلاقی کی وجہ سے انسان کا سکون تباہ ہو جاتا ہے اور پھر انسان کے رزق میں بھی کمی کا باعث ہے۔ اور فرمایا :خوش اخلاقی، رزق کی فراوانی کا باعث ہے اور بداخلاقی فقر اور تنگدستی کا باعث ہے۔

قَالَ علی عَلَيْهِ السَّلاَمُ : حُسْنُ اَلْخُلُقِ يَزِيدُ فِي اَلرِّزْقِ....

ان روایات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خوش اخلاقی دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا باعث ہے اور بداخلاقی دنیا و آخرت کی تباہی کا موجب ہے۔ بداخلاقی کی وجہ سے دوستوں میں ، رزق میں کمی ہوتی ہے اور زندگی سے خوشیاں ختم ہو جاتی ہیں ۔ لوگ محبت کی بجائے، نفرت کرنے لگتے ہیں ، اپنے عزیز اور رشتہ داروں سے بھی انسان دور ہو جاتا ہے۔

بد اخلاقی درحقیقت خطرناک آگ ہے جس میں انسان خود بھی جلتا ہے اور دوسروں کو بھی جلاتا ہے اپنے سکون اور خوشی کو بھی تباہ و برباد کر لیتا ہے اور دوسروں کی خوشیوں کو بھی نذرآتش کر دیتا ہے۔ لہذا ہمیں ہر قسم کی بدخلاقیوں سے اور اخلاقی کمزوریوں اور بری صفات سے دوری اختیار کرنی چاہیے تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں اور خدا کی رضا آل محمد کی شفاعت سے بہرہ مند ہوں۔

بداخلاقی کے نقصانات

بداخلاقی کی مذمت اور نقصانات اور ہماری عبرت کے لیے یہی کافی ہے ۔روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے زمانے میں ایک خاتون بہت زیادہ عبادت گزار تھی ۔جو دن کو روزہ رکھتی تھی اور رات بھر عبادت و بندگی کے لیے شب بیداری کرتی تھی۔ اس کی عبادت بہت مشہور تھی اور قائمۃ اللیل اور صائمۃ النہار کے نام سے معروف تھی اس کی عبادت کے چرچے کی خبر سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی، حضور نے جب اس عورت کی شب زندہ داری اور دن کو روزہ رکھنے کی شہرت سنی تو آپ نے سوال کیا کہ اس کا اخلاق کیسا ہے؟ تو لوگوں نے سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی گئی کہ اس خاتون کی صرف یہی کمزوری ہے وہ اپنی زبان سے ہمسائیوں کو ستاتی ہے ۔یہ سن کر سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: ان ساری عبادتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے یہ عورت جہنمی ہے اس کی بد اخلاقی اس کو جہنم میں پہنچا دے گی۔

اس روایت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بد اخلاقی نہ صرف اعمال و عبادات کو برباد کرتی ہے بلکہ دنیاو آخرت دونوں کی تباہی کا باعث ہے۔بداخلاقی کے ان عظیم نقصانات کی وجہ سے آئمہ نے نہایت سختی کے ساتھ ، بد اخلاقی اور بدکلامی اور ناپسند صفات سے روکا ہے۔

دین اسلام میں عیدیں

سوال:دین اسلام میں کتنی عیدیں ہیں اور ان کے اعمال کون سے ہیں ؟

جواب: دین اسلام میں چار بڑی عیدیں ہیں ۔ان عیدوں کے بہت سارے اعمال ہیں جنہیں انجام دینا ضروری ہے:

۱- عید غدیر: سب سے بڑی عید ،عید غدیر ہے۔ جس کو عید امامت ،عید ولایت اور عید آل محمد کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی سب سے افضل ترین عید، عید غدیر ہے جس میں خدا نے اپنے دین کو کامل کیا اور نعمتوں کو تمام اور اپنی خوشنودی کا اعلان کیا ۔سرور کائنات نے مولائے کائنات کی امامت اور ولایت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا :جس جس کا میں نبی مولائے، اس اس کا علی ولی ،مولائے ہے۔

فَقَالَ النبی :مَنْ كُنْتُ مَوْلاَهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاَهُ

۲- عید قربان: دوسری عید، عید قربان ہے۔ ذی الحجہ کی دس تاریخ کو حضرت ابراہیم ؑ کی عظیم قربانی کی یاد مناتے ہوئے عید قربان یا عید الاضحی کو منایا جاتا ہے۔ جناب ابراہیمؑ کی قربانی کی یاد میں جانوروں کو خدا کی راہ میں قربان کیا جاتا ہے اور دین اسلام میں قربانی دینے کی بہت زیادہ فضیلت اور تاکید ہوئی ہے یہاں تک کہ ایک آدمی قربانی نہ کر سکے تو ستر لوگ مل کر اجتماعی قربانی کریں تاکہ قربانی کے ثواب میں سب شریک ہوں اور قربانی ترک نہ ہونے پائے اس قدر قربانی کی تاکید ہے۔

سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: جو بندہ قربانی کرنے کی توان نہ رکھتا ہو وہ قرض لے کر قربانی کرے ۔نیزمولائےکائنات نے فرمایا :اگر لوگوں کو قربانی کی معرفت ، اس کی قدر اور اجر و ثواب کا علم ہو جائے تو وہ قربانی کو کبھی بھی ترک نہ کریں اگرچہ قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے ۔

۳- عید الفطر: رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد یکم شوال کو نہایت اہتمام کے ساتھ پوری دنیا کے مسلمان عید فطر مناتے ہیں۔

۴-روز جمعہ: روز جمعہ تمام مسلمانوں کے لیے عید کا دن ہے اس دن تمام عیدوں کی طرح غسل کرنا ،ہو اچھا لباس پہننا ،نماز جمعہ میں شرکت کرنا اور جمعہ کا دن عبادت اور بندگی میں گزارنا ،اور دیگر اعمال کو انجام دینا ضروری ہے۔

عیدوں کے اعمال اور آداب

دین اسلام میں تمام عیدوں کے لئے اہم ترین اعمال و آداب قرار دئیے ہیں ۔ ان اعمال و آداب کا بجالانا ، عیدوں کی شان و عظمت میں اضافے اور مومنین کے لئے عظیم اجر و پاداش کا با عث ہے۔ جن میں سے چند اہم ترین اعمال و آداب درج ذیل ہیں:

۱-ہر عید کو نہایت اہتمام کرنا اس کو شایان شان طریقے سے منانا

۲- عید کی نماز کے لئے اہتما م کرنا اور نماز عید میں شریک ہونا

۳- عید کے دن غسل کرنا

۴- نئے کپڑے پہننا اور پاکیزہ اور اچھالباس پہننا

۵-خوشیوں کےاسباب اور وسائل کو فراہم کرنا اور اہلخانہ اور مومنین کو خوشحال کرنا

۶- ایک دوسرے سے عید ملنا اور عید کی مبارک دینا ، خصوصا رشتہ داروں کے ہاں ، بزرگ علماء قومی و مذہبی شخصیات کے پاس عید ملنے جانا ۷- عیدی دینا اور گھر والوں کو خوشحال کرنا ۸- خوشبو لگانا اور اپنے آپ کو آراستہ کرنا

۹- ہر عید پر زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھنا

۱۰- عید کے دن اپنے مرحومین کو یاد کرنا اور ان کے لیے فاتحہ پڑھنا ،ان کی مغفرت کے لیے قرآن خوانی اور کار خیرانجام دے کر ان کو ہدیہ کرنا اور ممکن ہونے کی صورت میں قبرستان جا کر ان کی قبور کی زیارت کرنا۔

۱۱-عید فطر پر فطرہ دینا اور غریبوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا

۱۲-عید قربا ن پر ، قربانی کرنا اور قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا : گھر والوں ، رشتہ داروں اور ہمسائیوں اور غریبوں میں تقسیم کرنا

۱۳-ہر عید پر کثرت سے آل محمد پر درود بھیجنا؛ ہر عید کے دن آل محمد پر درود پڑھنا افضل ترین اعمال میں شامل ہے۔

۱۴-عید قربان اور عید فطر پر مخصوص تکبیرات کا پڑھنا جوکہ عید کے اعمال میں سے ہے اور مفاتیح الجنان میں تفصیل سے موجود ہے۔

حوالہ جات وکتابیات

۱. قرآن مجید

۲. نہج البلاغہ

۳. ابن بابویہ، محمد بن على، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال- قم: دوم، ۱۴۰۶ ق.

۴. ابن بابویہ، محمد بن على، عيون أخبار الرضا (ع)- تہران، چاپ: اول، ۱۳۷۸ق.

۵. ابن بابویہ، محمد بن على‏؛ معاني الأخبار؛ دفتر انتشارات اسلامى وابستہ بہ جامعہ مدرسين حوزه علميہ قم‏؛۱۴۰۳ق۔

۶. ابن بابویہ، محمد بن على، فضائل الأشہر الثلاثہ- قم، چاپ: اول، ۱۳۹۶ ق.

۷. ابن شعبہ حرانى،حسن بن على، تحف العقول،قم،چاپ: دوم، ۱۴۰۴، ۱۳۶۳ق.

۸. برقى، احمد بن محمد بن خالد، المحاسن- قم، چاپ: دوم، ۱۳۷۱ ق.

۹. تميمى آمدى، عبد الواحد بن محمد، تصنيف غرر الحكم ، ايران؛قم،: اول، ۱۳۶۶.

۱۰. پاينده، ابو القاسم، نہج الفصاحہ (مجموعہ كلمات قصار حضرت رسول صلى الله عليہ و آلہ) - تہران، چاپ: چہارم، ۱۳۸۲ش.

۱۱. شريف الرضي، محمد بن حسين، نہج البلاغہ ،صبحي صالح - قم: اول، ۱۴۱۴ ق.

۱۲. طبرسى، حسن بن فضل، مكارم الأخلاق،قم، چاپ: چہارم، ۱۴۱۲ ق، ۱۳۷۰ ش.

۱۳. طوسى، محمد بن الحسن، تہذيب الأحكام (تحقيق خرسان)، تہران:۴، ۱۴۰۷ ق.

۱۴. على بن موسى، امام ہشتم (ع)، صحيفة الإمام الرضا(ع)، - مشہد: اول، ۱۴۰۶ ق.

۱۵. فتال نيشابورى، روضة الواعظين و بصيرة المتعظين-ايران ؛ قم، اول، ۱۳۷۵ ش.

۱۶. قمى، على بن ابراهيم، تفسير القمي- قم، چاپ: سوم، ۱۴۰۴ق.

۱۷. كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلاميہ) - تہران، چاپ: چہارم، ۱۴۰۷ ق.

۱۸. ليثى واسطى، على بن محمد؛عیون الحکم و المواعظ؛ دارالحدیث؛ قم؛ ۱۳۷۶ش۔

۱۹. مجلسى، محمد باقر بن محمد تقى، بحار الأنوار(ط-) بيروت، چاپ: دوم، ۱۴۰۳ ق

۲۰. محمدى رى شہرى، محمد، ميزان الحكمة، ۱۴جلد، موسسہ علمى فرہنگى دار الحديث، سازمان چاپ و نشر - قم- ايران، چاپ: ۱۱، ۱۳۸۹ ه.ش.

۴۷