تفسير راہنما جلد ۳

 تفسير راہنما5%

 تفسير راہنما مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 797

جلد ۱ جلد ۲ جلد ۳ جلد ۴ جلد ۵ جلد ۶ جلد ۷ جلد ۸ جلد ۹ جلد ۱۰ جلد ۱۱
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 797 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 170958 / ڈاؤنلوڈ: 5175
سائز سائز سائز
 تفسير راہنما

تفسير راہنما جلد ۳

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460

461

462

463

464

465

466

467

468

469

470

471

472

473

474

475

476

477

478

479

480

481

482

483

484

485

486

487

488

489

490

491

492

493

494

495

496

497

498

499

500

501

502

503

504

505

506

507

508

509

510

511

512

513

514

515

516

517

518

519

520

521

522

523

524

525

526

527

528

529

530

531

532

533

534

535

536

537

538

539

540

بہرہ مند ہونے كے باوجود ان ميں سے بعض كا شرك اختيار كرنا_الم تر الى الذين اوتوا نصيباً من الكتاب يؤمنون بالجبت و الطّاغوت ہوسكتا ہے جملہ''اوتوا نصيباً ''اس اعتراض و سرزنش كى علت كى طرف اشارہ ہو جو جملہ ''الم تر ...''سے حاصل ہوتى ہے_ يعنى يہ كيسى عجيب بات ہے كہ وہ كتاب خداسے بہرہ مند ہونے كے باوجود كافر اور مشرك ہيں _

٥_ آسمانى كتب سے آگاہ علماء كا كفر و شرك، باعث تعجب اور خلاف توقع ہے_الم تر الى الذين اوتوا نصيباً من الكتاب يؤمنون بالجبت والطّاغوت

٦_ خداوند متعال كا مؤمنين كو كفر و شرك كى طرف رجحان كے خطرے سے خبردار كرنا_

الم تر الى الذين اوتوا نصيباً من الكتاب يؤمنون بالجبت والطّاغوت مؤمنين كو خطاب كرنا اور پھر اہل كتاب كے شرك آلود انجام كو بيان كرنا، درحقيقت مخاطبين كيلئے تعريض ہے كہ اس قسم كا خطرہ تمہيں بھى درپيش ہے لہذا ہوشيار رہو_

٧_ قرآن كريم كا، درس و عبرت حاصل كرنے كى خاطر، گذشتہ اديان كے پيروكاروں كے حالات كے بارے ميں تحقيق كرنے كى دعوت دينا_الم تر الى الذين اوتوا نصيباً من الكتاب يؤمنون بالجبت والطّاغوت

٨_ اہل كتاب (علمائے يہود) كے دعووں اور عمل ميں واضح تضادموجود ہونا_الم تر الى الّذين اوتوا نصيباً من الكتاب يؤمنون بالجبت و الطّاغوت خداوند متعال نے ايك طرف يہوديوں كو آسمانى كتاب كا حامل قرار ديا ہے كہ جو ايك توحيدى كتاب ہے اور دوسرى جانب ان كے شرك كو بيان كيا ہے تاكہ يہوديوں كے ادعا اور عمل ميں جو تضاد و تناقض موجود ہے اسے خود ان پر اور مسلمانوں پر روشن كردے_

٩_ بعض اہل كتاب مشركين مكہ كو مسلمانوں سے زيادہ ہدايت يافتہ قرار ديتے تھے_و يقولون للّذين كفروا هولاء اهدى من الذين امنوا سبيلاً

١٠_ علمائے يہود كا مسلمانوں كے بارے ميں ظالمانہ قضاوت كرنا اور ناانصافى سے كام لينا_

الم تر الى الذين و يقولون للذين كفروا هؤلاء اهدى من الّذين امنوا سبيلاً

۵۴۱

١١_ اہل ايمان كے خلاف علمائے يہود اور مشركين مكّہ كا مشتركہ موقف اختيار كرنا_

الم تر الى الذين و يقولون للذين كفروا هؤلاء اهدى من الّذين امنوا سبيلاً

١٢_ مؤمنين كے بارے ميں ظالمانہ قضاوت كرنے اور كفار كے ساتھ سازباز كرنے كى وجہ سے اہل كتاب (علمائے يہود) كى مذمت _الم تر الى الّذين اوتوا نصيباً من الكتاب يؤمنون جملہ ''الم تر ...''مذمت و اعتراض پر مبنى لہجہ و انداز رركھتا ہے_

١٣_ حُييى بن اخطب اور كعب اشرف كا جبت و طاغوت پر ايمان ركھنا اور مسلمانوں كے بارے ميں ناروا باتيں كرنا_

الم تر الى الذين اوتوا نصيباً من الكتاب يؤمنون بالجبت والطّاغوت و يقولون جناب ابن عباس فرماتے ہيں كہ يہ آيت حيُيى بن اخطب اور كعب اشرف كے بارے ميں نازل ہوئي ہے_

آسمانى كتب: آسمانى كتب سے استفادہ ٣

انحراف: انحراف كا پيش خيمہ٣

اہل كتاب: اہل كتاب اور آسمانى كتابيں ٤;اہل كتاب او ر جبت ٢;اہل كتاب اور طاغوت ٢;اہل كتاب كا ادعا ٨;اہل كتاب كا ايمان ٢;اہل كتاب كا شرك ٤;اہل كتاب كا عقيدہ ٩;اہل كتاب كا نفاق ٨;اہل كتاب كى سرزنش ١٢; علمائے اہل كتاب كا رجحان ٢

ايمان: جبت پر ايمان ٢، ١٣;طاغوت پر ايمان ٢، ١٣

تاريخ: تاريخ سے عبرت ٧;تاريخ ميں تحقيق ٧

حييى بن اخطب: حييى بن اخطب كا كفر ١٣

شرك: شرك پر سرزنش ٥; شرك كا خطرہ ٦

عبرت: عبرت كے اسباب ٧

علماء: علماء كا شرك ٥;علماء كا كفر ٥

۵۴۲

قضاوت: ظالمانہ قضاوت ١٢

كعب اشرف: كعب اشرف كا كفر ١٣

كفار:٣ ١ كفار اور مسلمان ١٣;كفار سے سازباز ١٢

كفر: آسمانى كتب كے بارے ميں كفر ٥; كفر كا خطرہ ٦

مسلمان: مسلمان اور اہل كتاب ٩

مشركين: ٤ مشركين اور مسلمان ١١;مشركين مكہ ٩، ١١

موقف اختيار كرنا: ١١

مؤمنين: مؤمنين كو خبردار كرنا٦

يہود: علمائے يہود اور تورات ١; علمائے يہود اور مسلمان ١٠ ، ١١; علمائے يہود كا ايمان ٢; علمائے يہود كا رجحان ٢;علمائے يہود كا شرك ٤; علمائے يہود كا ظلم ١٠;علمائے يہود كا نفاق ٨;علمائے يہود كى سرزنش ١٢; علمائے يہود كى قضاوت ١٠،١٢علمائے يہود كے دعوے٨

آیت(۵۲)

( أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللّهُ وَمَن يَلْعَنِ اللّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ نَصِيرًا ) يہى وہ لوگ ہيں جن پر خدا نے لعنت كى ہے اور جس پر خدا لعنت كردے آپ پھر اس كاكوئي مددگار نہ پائيں گے _

١_ مسلمانوں كے خلاف، كفار كا ساتھ دينے اور حق كو چھپانے كى وجہ سے اہل كتاب(علمائے يہود) پر خداوند متعال كى لعنت ہے_الم تر اولئك الّذين لعنهم الله

٢_ جبت و طاغوت پر ايمان (كفر و شرك) لعنت خدا كا موجب بنتا ہے_

الم تر الى اولئك الذين لعنهم الله و من يلعن الله فلن تجد له نصيراً

۵۴۳

٣_ جو لوگ اسلام كى حقانيت پر پردہ ڈالتے ہيں اور اسلام كى نسبت شرك كے راستوں كو بہتر متعارف كرواتے ہيں وہى لعنت الہى كے مستحق ہيں _الم تر الى الذين يقولو ن هؤلاء اهدي من الّذين امنوا سبيلاً _ اولئك لعنهم الله

٤_ مسلمانوں كے خلاف كفار كا ساتھ دينا لعن الہى كے موجبات ميں سے ہے_

يقولون هؤلاء اهدي من الّذين امنوا سبيلاً_ اولئك الّذين لعنهم الله

٥_ خداوند متعال كى جانب سے لعنت شدہ لوگوں كو ہرگز كوئي مددگار نہيں ملے گا_و من يلعن الله فلن تجد له نصيراً

٦_ لعنت خداوند متعال كے مشمول افراد كا اسكى مدد و نصرت سے محروم ہونا_و من يلعن الله فلن تجد له نصيراً

٧_ اہل كتاب (علمائے يہود) كى طرف سے كفار و مشركين كا ساتھ ، مسلمانوں كے خلاف طاقت و قوت فراہم كرنے كى ايك كوشش _*الم تر الى الذين و يقولون للّذين كفروا فلن تجد له نصيراً مشركين كے ساتھ يہود كے ہم قدم ہونے كو بيان كرنے كے بعد جملہ ''فلن تجد لہ نصيراً''ہوسكتا ہے اس بات كى طرف اشارہ ہو كہ يہودي، مسلمانوں كے خلاف مددگار تلاش كرنے كى خاطر مشركين كا ساتھ ديتے ہيں _

٨_ مسلمانوں كے خلاف مشتركہ جدوجہد ميں كفار و يہود كى ناكامى كے بارے ميں خداوند متعال كا بشارت دينا_

الم تر الى الذين اوتوا الكتاب و من يلعن الله فلن تجد له نصيراً

٩_ لعنت الہى كے مشمول افراد كيلئے كسى كى بھى مدد و نصرت كا ،كارساز نہ ہونا_و من يلعن الله فلن تجد له نصيراً چونكہ كفار اور لعنت الہى كے مشمول افراد بعض اوقات ايك دوسرے كى مدد كرتے ہيں بنابر ايں جملہ ''فلن تجد ...'' اس مدد و نصرت پہنچانےكے مقصد و ہدف كى طرف ناظر ہے_ يعنى بالفرض وہ ايك دوسرے كى مدد كريں تو بھى انہيں كوئي فائدہنہيں ہوگا_

١٠_ لعنت الہى كے مشمول افراد كيلئے كسى قسم كى مدد و نصرت كا كارساز نہ ہونا، سنن خدا وندمتعال ميں سے ہے_

و من يلعن الله فلن تجد له نصيراً كلمہ ''لن'' كہ جو ابدى نفى پر دلالت كرتا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ يہ بات سنن الہى ميں سے

۵۴۴

ہے_

اسلام: اسلام كى حقانيت ٣

اللہ تعالى: اللہ تعالى كى امدادسے محروميت ٦; اللہ تعالى كى بشارت ٨; اللہ تعالى كى سنن١; اللہ تعالى كى طرف سے لعنت ١، ٢، ٣، ٤، ٥، ٦، ٩،١٠

اہل كتاب: اہل كتاب اور كتمان حق ١;اہل كتاب كى سازش ٧

ايمان: جبت پر ايمان ٢;طاغوت پر ايمان ٢

شرك: شرك كى سزا ٣; شرك كے اثرات ٢

كتمان حق: كتمان حق كى سزا ٣; كتمان حق كے اثرات ١

كفار: كفار كى شكست ٨;كفار كے ساتھ اتحاد ١، ٤

كفر: كفر كے اثرات ٢

لعنت: لعنت كے مشمولين ١، ٢، ٣، ٦; لعنت كے موجبات ١، ٢،٤

لعنتى افراد: لعنتى افراد كا بے پناہ ہونا ٥، ٩، ١٠; لعنتى افراد كى محروميت ٦

مسلمان: مسلمانوں كے خلاف نبرد٨; مسلمانوں كے دشمن ٧، ٨ ; مسلمانوں كے ساتھ دشمنى ٤

يہود: علمائے يہود اور كتمان حق ١;علمائے يہود اور كفار ١، ٧ ;علمائے يہود اور مسلمان ١;علمائے يہود اور مشركين ٧;

علمائے يہود كى سازش ٧;يہود كى شكست ٨

۵۴۵

آیت( ۵۳)

( أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لاَّ يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا )

كيا ملك دنيا ميں ان كا بھى كوئي حصہ ہے كہ لوگوں كو بھوسى برابربھى نہيں دينا چاہتے ہيں _

١_ كائنات كے نظام ميں يہود كا كوئي كردار نہيں _ام لهم نصيبٌ من الملك

٢_نظام كائنات ميں يہوديوں كا كوئي كردار نہ ہونے كى وجہ سے ان كيلئے كسى قسم كى مدد و نصرت كا، كارساز نہ ہونا_

فلن تجدله نصيراً _ ام لهم نصيبٌ من الملك مذكورہ بالا مطلب ميں جملہ ''ام لھم''كو جملہ ''فلن تجد ...''كيلئے علت كے طور پر لايا گيا ہے_

٣_ اگر يہوديوں كا، كائنات پر سلطنت و حكومت ميں كوئي كردار ہوتا تو وہ لوگوں كو كچھ نہ ديتے_

ام لهم نصيبٌ من المُلك فاذاً لايؤتُون النّاس نقيراً كلمہ ''نقيراً''كا معنى وہ چيز ہے جو پرندہ اپنى چونچ ميں پكڑتا ہے، لہذا يہ معمولى و كم چيز سے كنايہ ہے_

٤_ لوگوں پر يہود كى حكمرانى كى صورت ميں ان كا فقر و تنگدستى كے خطرے سے دوچار ہوجانا_

ام لهم نصيبٌ من الملك فاذاً لايؤتون النّاس نقيراً كلمہ ''الملك'' مندرجہ بالا مطلب ميں ، اعتبارى سلطنت كے معنى ميں ليا گيا ہے يعنى لوگوں پر حكومت_

اس مطلب كى تائيد امام باقر(ع) كے ''المُلك'' كے بارے ميں اس فرمان سے ہوتى ہے ''اس سے مراد ''الامامة و الخلافة ... ہے''(١)

٥_ يہوديوں كا شديد بخل و انحصار طلبي_فاذا لايؤتون الناس بظاہر بعد والى آيت ''ام يحسدون النّاس'' كے قرينے سے كلمہ ''الناس''سے مراد غيريہودى ہيں _ بنابرايں جملہ''فاذا ...'' كا معنى يوں

____________________

١)كافى ج١ ص٢٠٥ ح١ نورالثقلين ج١ ص٤٩٠ ح٢٩٩

۵۴۶

ہوگا_ يہودى دنيوى منافع دوسروں كو دينے ميں بخل كرتے ہيں اور ہرچيز اپنے تسلط ميں ركھنا چاہتے ہيں _

٦_ خداوند متعال كا لوگوں كى معاشى حالت سے غافل حكمرانوں اور حكومتوں كى مذمت كرنا_فاذاً لايؤتون النّاس نقيراً جملہ ''فاذاً ...''سے اس روش كى مذمت ظاہر ہورہى ہے_

٧_ خداوند متعال كا بخيلوں كى مذمت كرنا اور انہيں ناپسند كرنا_فاذا لايؤتون النّاس نقيراً

٨_ حكمرانوں اور حكومتوں كے فرائض ميں سے ہے كہ وہ لوگوں كى معاشى حالت كى طرف توجہّ ديں اور سخاوت مند ى كا مظاہرہ كريں _ام لهم نصيبٌ فاذاً لايؤتون النّاس نقيراً

اقتصاد: اقتصاد كى اہميت ٦ اقتصادى نظام: ٨

اللہ تعالى: اللہ تعالى كى طرف سے مذمت ٦، ٧

انحصار طلب لوگ: ٥

بخيل: ٥ بخيل كى مذمت ٧

حكومت: حكومت كى ذمہ دارى ٦، ٧

فقر: فقر كے خطرات ٤

قيادت: قيادت كى ذمہ دارى ٨

يہود: يہود اور آفرينش ١، ٢، ٣; يہود كا انحصار طلب ہونا٥; يہود كا بخل ٥;يہود كى بے پناہى ٢ ;يہود كى حاكميت ٤; يہود كى سرزنش ٣;يہود كى صفات ٥

۵۴۷

آیت(۵۴)

( أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَی مَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَآ آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا )

ياوہ ان لوگوں سے حسد كرتے ہيں جنھيں خدا نے اپنے فضل و كرم سے بہت كچھ عطا كيا ہے تو پھر ہم نے آل ابراہيم كوكتاب و حكمت اور ملك عظيم سب كچھ عطا كيا ہے _

١_ پيغمبراكرم(ص) اور مسلمانوں كے بارے ميں اہل كتاب (يہود) كا حسد_ام يحسدون النّاس على ما اتيهم الله من فضله يہ آيت اور گذشتہ آيات اہل ايمان كے بارے ميں يہود كى غيرمنصفانہ باتوں ''ھؤلا اھدى ...''كا جواب ہے_ بنابرايں يہاں ''الناس'' سے پيغمبراكرم(ص) اور مؤمنين مراد ہيں _

٢_ اہل كتاب (يہود) كا پيغمبراكرم (ص) اور مسلمانوں كے ساتھ حسد كرنا ان كے كفار كا ساتھ دينے اور ان كے عقائد كى تصديق كرنے كا سرچشمہ ہے_يقولون هؤلاء اهدى من الّذين امنوا سبيلاً ام يحسدون النّاس جملہ ''ام يحسدون ...'' آيت نمبر ٥١ ميں بيان شدہ مسائل كى علت كے طور پر لايا گيا ہے_

ان ميں سے ايك ظالمانہ قضاوت كرنا اور كفار كا ساتھ دينا ہے، يعنى يہ ظالمانہ قضاوت اور كفار كا ساتھ دينايہود كى حسادت كا نتيجہ ہے_

٣_ آنحضرت(ص) اور آپ(ص) كے پيروكاروں كے ساتھ يہوديوں كے حسد كا ايك سبب، پيغمبراكرم(ص) كو خداوند متعال كى جانب سے عطا شدہ حكومت اور مقام نبوت ہے_ام يحسدون الناس على ما اتيهم الله من فضله فقد اتينا ال ابراهيم آيت مجيدہ (فقد اتينا ...) كے ذيل كے قرينے سے ''فضلہ''سے مراد كتاب، حكمت اور ملك عظيم ہے_

٤_ پيغمبراكرم(ص) كو قرآن كا عطا ہونا، آنحضرت(ص) كے

۵۴۸

ساتھ يہوديوں كے حسد كا باعث بنا_ام يحسدون الّناس على ما اتيهم الله من فضله آيت كے ذيل كے قرينہ سے ''فضل''كے مصاديق ميں سے ايك قرآن كريم ہے_

٥_ انبياء (ع) كى بعثت اور الہى رہبروں كى قيادت كا سرچشمہ فضل خدا ہے_ام يحسدون النّاس على ما اتيهم الله من فضله

٦_ يہوديوں كا پيغمبراكرم(ص) اور آپ(ص) كے مقام و منزلت كے ساتھ حسد كے باعث كفر و شرك كى طرف مائل ہونا_يؤمنون بالجبت والطّاغوت ام يحسدون النّاس على ما اتيهم الله من فضله

٧_ حسد، ايمان و اعتقاد كيلئے ايك خطرہ اور شرك و كفر كى طرف مائل ہونے كا سبب ہے_

يؤمنون بالجبت والطّاغوت ام يحسدون الناس على ما اتيهم الله من فضله جيساكہ پہلے بھى كہا گيا ہے كہ ''ام يحسدون'' آيت ٥١ ميں بيان شدہ مسائل كى علت ہے_ ان ميں سے ايك، يہوديوں كا كفر و شرك كى طرف رجحان ركھنا اور اسى پر ايمان لانا ہے_ يعنى يہ حسد ہے كہ جو ''جبت''و ''طاغوت''پر ايمان لانے كا باعث بنا ہے_

٨_ آل ابراہيم (ع) كو كتاب و حكمت (پيغمبري) اور ملك عظيم عطا ہونا فضل الہى ميں سے ہے_

فقد اتينا ال ابراهيم الكتاب والحكمة و اتيناهم ملكا عظيماً بعض مفسرين كى رائے ہے كہ حكمت سے مراد نبوت و پيغمبرى ہے_

٩_ پيغمبراكرم(ص) پر الہى فضل كى نسبت اہل كتاب (يہود) كے حسد كا بے نتيجہ ہونا_

ام يحسدون النّاس على ما اتيهم الله من فضله فقد اتينا ال ابراهيم (ع) ''فقد اتينا''كا مطلب يہ ہے كہ جس طرح آل ابراہيم سے حسد كرنے والوں نے كوئي فائدہ حاصل نہيں كيا اور انہيں نقصان نہيں پہنچا سكے اسى طرح پيغمبراكرم(ص) كے ساتھ حسد كرنے والے بھى كوئي فائدہ حاصل نہ كرسكيں گے اور نہ ہى آپ(ص) كو نقصان پہنچاسكيں گے_

١٠_ خاندان رسالت كا فضل خداوند متعال اور الہى نعمات سے بہرہ مند ہونے كى وجہ سے، حسد كا نشانہ بننا_

ام يحسدون الناس على ما اتيهم الله من فضله امام صادق(ع) فرماتے ہيں :نحن الناس المحسودون الّذين قال الله : ام يحسدون الناس (١) اللہ تعالى جو يہ فرماتا ہے كہ '' لوگوں سے حسد كرتے ہيں '' لوگوں سے مراد ہم ہيں

____________________

١)كافى ج١ ص١٨٦ ح٦، ص٢٠٥ ح١، ص٢٠٦ ح٢،٤ نورالثقلين ج١ ص٤٩١، ح٣٠١ ، تفسير عياشى ج١ ص ٢٤٦ ح ١٥٣.

۵۴۹

١١_ نبوت، فہم، منصب قضاوت اور لوگوں پر ان كى اطاعت كا ضرورى ہونا وہ تفضّلات الہى ہيں جو آل ابراہيم (ع) كو عطا ہوئے ہيں _فقد اتينا ال ابراهيم الكتاب والحكمة و اتيناهم ملكاً عظيماً امام صادق(ع) نے مذكورہ بالا آيت كے بارے ميں سوال كے جواب ميں فرمايا: ''الكتاب''سے ''النبوة '' ، '' الحكمة' 'سے ''الفہم والقضائ''اور ''ملكاً عظيماً''سے ''الطاعة'' مراد ہے(١)

١٢_ مقام امامت ،خاندان ابراھيم (ع) پر خداوند متعال كا فضل اور عطا ہے_و اتيناهم ملكاً عظيماً امام باقر(ع) نے آيت ميں موجود''ملك عظيم'' كے بارے ميں فرمايا:ان جعل فيهم آئمه (٢) يعنى ان ميں ائمہ قرا ردئے_

١٣_ آل محمد(ص) كا نسل ابراھيم (ع) ميں سے ہونا_و اتينا ال ابراهيم الكتاب والحكمة و اتيناهم ملكاً عظيماًّ

حضرت علي(ع) نے اس آيت كے بارے ميں فرمايا:و نحن آل ابراهيم (٣) اور آل ابراہيم ہم ہيں _

آل ابراہيم (ع) : آل ابراہيم (ع) كا علم ١١;آل ابراہيم (ع) كى امامت ١٢;آل ابراہيم (ع) كى حكمت ٨;آل ابراہيم (ع) كى حكومت ٨;آل ابراہيم (ع) كى قضاوت ١١;آل ابراہيم (ع) كى نبوت ١١;آل ابراہيم (ع) كى نسل ١٣;آل ابراہيم (ع) كے فضائل ٨، ١١، ١٢

آنحضرت(ص) : آنحضرت (ص) كے فضائل ٣، ٤، ٦

اللہ تعالى: اللہ تعالى كا فضل٥، ٨، ٩، ١٠، ١٢ ; اللہ تعالى كى نعمات ٣، ٤، ٨،١١، ١٢

انبياء (ع) : انبياء (ع) كى بعثت ٥

اہل بيت(ع) : اہل بيت(ع) كے آبا و اجداد ١٣

اہل كتاب: اہل كتاب اور آنحضرت (ص) ٩;اہل كتاب اور كفار ٢;اہل كتاب كا حسد ١، ٢، ٩

ائمہ (ع) : ائمہ (ع) كے فضائل ١٠

____________________

١)كافى ج١ ص٢٠٦ ح٣ نورالثقلين ج١ ص٤٩١ ح٣٠٣تفسير عياشى ج١ ص٢٤٨ ح١٦٠.

٢)كافى ج١ ص٢٠٦ ح٥ تفسير عياشى ج١ ص٢٤٨ ح١٥٨.

٣)كتاب سليم بن قيس ص٨٧ بحار الانوار ج٢٨ ص٢٧٥ ح٤٥.

۵۵۰

ايمان: ايمان كے موانع ٧

حاسدين: ١،٢، ٣، ٤، ٦، ٩

حسد: حسد كے اثرات ٦، ٧، ٩ ;حسد كے عوامل ٣،٤، ١٠

راہبري: دينى راہبرى ٥

روايت: ١٠، ١١، ١٢، ١٣

شرك: شرك كا پيش خيمہ ٦;شرك كے اسباب ٧

قضاوت: قضاوت كى اہميت ١١

كفر: كفر كا پيش خيمہ ٦;كفر كے اسباب ٧

يہود: يہود اور آنحضرت(ص) ١، ٣، ٦، ٩;يہود اور كفار ٢ ;يہود اور مسلمان ١، ٢،٣;يہود كا حسد ١، ٢، ٣، ٤، ٦، ٩ ;يہود كا شرك ٦;يہود كا كفر ٦

آیت( ۵۵)

( فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُم مَّن صَدَّ عَنْهُ وَكَفَی بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا ) پھر ان ميں سے بعض ان چيزوں پر ايمان لے آئے اوربعض نے انكار كرديا او ران لوگوں كے لئے دہكتا ہوا جہنم ہى كافى ہے _

١_ بعض اہل كتاب (يہود) كا پيغمبراسلام(ص) پر ايمان لانا_فمنهم من امن به و منهم

يہ اس احتمال كى بنا پر ہے كہ گذشتہ آيت ميں ''النّاس''سے پيغمبر اكرم(ص) مراد ہوں اور ''بہ''كى ضمير كو بھى اسى طرف پلٹا يا جائے_

٢_ بعض اہل كتاب (يہود) كا آل ابراہيم (ع) كے انبياء (ع) پر ايما ن لانا_فقد اتينا ال ابراهيم فمنهم من امن به يہ اس بنا پر ہے كہ ''بہ''كى ضمير مجموعى طور پر

۵۵۱

كتاب، حكمت اور ملك عظيم كى طرف پلٹائي جائے يعنى''فمنهم من امن بما اتينا ال ابراهيم'' _

٣_ بعض اہل كتاب (يہود) كا پيغمبراكرم(ص) پر ايمان نہ لانا اور اسلام كے راستے ميں خلل ڈالنا_

و منهم من صدّ عنه اس مفہوم ميں ''صدّ''كو متعدى معنى ميں ليا گيا ہے يعنى روكنا اور منع كرنا_ لہذا اس كو يہاں خلل ڈالنے اور رخنہ اندازى سے تعبير كيا گيا ہے_

٤_ بعض اہل كتاب (يہود) كا آل ابراھيم (ع) كے انبياء (ع) پر ايمان نہ لانا اور ان كے اہداف و مقاصد كے راستے ميں رخنہ و خلل ڈالنا_فقد اتينا ال ابراهيم و منهم من صدّ عنه

٥_ پورى تاريخ كے دوران دو گروہوں مؤمنين اور رخنہ اندازوں كا وجود_فمنهم من امن به و منهم من صدّ عنه

٦_ جہنم كى دہكتى ہوئي آگ، انبيا(ع) كے خلاف آگ بھڑكانے والے اور رخنہ انداز لوگوں كى سزا ہے_

و كفي بجهنّم سعيراً ''سعيرا''كا معنى دہكتى ہوئي اور جلانے والى آگ ہے_

٧_ گذشتہ انبيا(ع) كى دعوت كے مقابلے ميں بعض لوگوں كى مخالفت كى ياددہانى كرانے كا مقصد، پيغمبراسلام(ص) (دينى رہبروں اور مبلغين) كے حوصلوں كو بلند كرنا ہے_*فمنهم من امن به و منهم من صدّ عنه

ہوسكتا ہے انبياء (ع) كے مقابلے ميں لوگوں كے مختلف موقف (ايمان و كفر) كا بيان پيغمبر(ص) كى تسلى و تشفى كيلئے ہو كہ سابقہ انبياء (ع) كو بھى اس قسم كے لوگوں كا سامنا تھا لہذا وہ ان كے مقابلے ميں مقاومت و صبر كرتے ر ہے_

آنحضرت(ص) : آنحضرت(ص) كا حوصلہ بلند كرنا ٧

اسلام: اسلام كى اشاعت كے موانع ٣; صدر اسلام كى تاريخ ١، ٣

انبيا(ع) : انبيا(ع) كى دعوت٧; انبيا(ع) كى دعوت اور رخنہ انداز لوگ ٥; انبيا(ع) كے مخالفين٦، ٧

اہل كتاب: اہل كتاب كى رخنہ اندازي٣، ٤;اہل كتاب كے كفار ٣، ٤;اہل كتاب كے مؤمنين ١، ٢

ايمان: آل ابراہيم(ع) پر ايمان ٢; آنحضرت(ص) پرايمان ١، ٢

۵۵۲

ايمان لانے والے: انبيا (ع) پر ايمان لانے والے٥

جہنم: آتش جہنم ٦

رخنہ انداز لوگ ٦ رخنہ انداز لوگوں كى سزا ٦

قيادت: قيادت كا حوصلہ بلند كرنا٧

كفار: كفار كى سزا ٦

كفر: آل ابراہيم (ع) كے بارے ميں كفر ٤; آنحضرت (ص) كے بارے ميں كفر ٣; انبياء (ع) كے بارے ميں كفر ٤

يہود: يہود كى رخنہ اندازى ٣، ٤; يہود كے كفار ٣، ٤ ; يہود كے مؤمن ١،٢

آیت( ۵۶)

( إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُواْ الْعَذَابَ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا )

بيشك جن لوگوں نے ہمارى آيتوں كاانكار كيا ہے ہم انھيں آگ ميں بھون ديں گے اور جب ايك كھال پك جائے گى تو دوسرى بدل ديں گے تاكہ عذاب كا مزہ چكھتے رہيں خدا سب پر غالب اور صاحب حكمت ہے _

١_ آيات الہى سے كفر اختيار كرنے والوں كى سزا، جہنم كى دہكتى ہوئي آگ ہے_انّ الذين كفروا باياتنا سوف نصليهم ناراً

٢_ آسمانى كتابوں ، نبوّت اور انبيا (ع) كى حكومت كا آيات خداوندمتعال ميں سے ہونا_

فقد اتينا ال ابراهيم الكتاب و الحكمة و اتيناهم ملكاً عظيماً انّ الّذين كفروا باياتنا

۵۵۳

آيت ٥٤كو مدنظر ركھتے ہوئے كہہ سكتے ہيں كہ كتاب، حكمت اور ملك عظيم ''باياتنا''كے مصاديق ميں سے ہيں _

٣_ انبيا(ع) كے كاموں ميں رخنہ ڈالنا، آيات الہى كا انكار اور ان سے كفر ہے_و منهم من صدّ عنه ان الّذين كفروا باياتنا سوف نصليهم ناراً

٤_ جہنم كى آگ ميں كھال كے جل بھون جانے كے بعد بدن پر نئي كھال كا نمودار ہوجانا_كلما نضجت جلودهم بدّلنا هم جلوداً غيرها

٥_ جہنم ميں انسان كے عذاب كا ذريعہ كھال ہے_كلما نضجت جلودهم بدلّناهم جلوداً غيرها ليذوقوا العذاب

مندرجہ بالا مطلب اس بنا پر ہے كہ ''ليذوقوا'، ''بدلناھم''كے متعلق ہو_

٦_ انسان اپنى جسمانى دگرگونى كے باوجود، ايك مستمرحقيقت ہے_كلما نصجت جلودهم بدلّناهم جلوداً غيرها

كفار كى كھال كا مكرر تبديل ہونا جو كہ ايك جسمانى تبديلى ہے، ان كى واقعى حقيقت و ماہيت كو تبديل نہيں كرتا اور ''جلودھم''اور ''بدلّناھم''كى ضميريں دليل ہيں كہ ہر صورت ميں آيات الہى كے منكر وہى كفار ہيں _

مندرجہ بالا مطلبكى تائيد امام صادق(ع) كے اس فرمان سے بھى ہوتى ہے جو آپ(ص) نے مذكورہ آيت كے بارے ميں سوال كے جواب ميں فرمايا: ارايت لو اخذت لبنة فكسرتھا و صيرتھا تراباً ثم ضربتھا فى القالب ا ھى التى كانت انّما ھى ذلك و حدث تغيير آخر والاصل واحد(١) كيا سمجھتا ہے اگر تو اينٹ كو لے اور اسے توڑ كر مٹى كر دے پھردوبارہ اسے قالب ميں ڈھال كر اينٹ بنادے تو كيا يہ وہى نہيں ہے جو پہلے تھي؟ بيشك يہ وہى ہے اور اس ميں تبديلى ہوگئي ہے ليكن اصل ايك ہے _

٧_ معاد كا جسمانى ہونا_كلما نضجت جلودهم بدّلنا هم جلوداً غيرها

٨_ دوزخيوں كے عذاب اور رنج و درد كا دائمى ہونا_كلّما نضجت جلودهم بدّلنا هم جلوداً غيرها ليذوقوا العذاب

٩_ كھال كا بار بار نمودار ہونا، دوزخيوں كو عذاب كا مزہ چكھانے كا دائمى وسيلہ ہے_كلمّا نضجت جلودهم بدلّنا هم جلوداً غيرها ليذوقوا العذاب

١٠_ خداوند متعال ہميشہ عزيز (ناقابل شكست) اور حكيم (صاحب حكمت ) ہے_انّ الله كان عزيزاً حكيماً

____________________

١) تفسير قمى ج١ص١٤١ نورالثقلين ج١ ص٤٩٤ ح٣١٣

۵۵۴

كلمہ ''كصانص''خداوند متعال كى عزت و حكمت كے استمرار پر دلالت كرتا ہے_

١١_ قدرت خدا كا حكيمانہ طور پر جارى ہونا_انّ الله كان عزيزاً حكيماً

١٢_ كفار كو آگ ميں ڈالنا اور دوزخ ميں انہيں عذاب دينا خداوند متعال كى حكمت كى بنياد پر ہے_

ان الّذين كفروا باياتنا سوف نصليهم ناراً ان الله كان عزيزاً حكيماً كفار كے عذاب كو بيان كرنے كے بعد حكمت خداوندمتعال كى ياددہاني، اس قسم كے عمل كے حكيمانہ ہونے كى طرف اشارہ ہے_

١٣_ كوئي بھى طاقت، دوزخ ميں كفار كے عذاب كو روكنے پر قادر نہيں ہوگي_سوف نصليهم ناراً ...انّ الله كان عزيزاً حكيماً كفار كو دوزخ ميں ڈالنے كے بيان كے بعد خداوند متعال كے ناقابل شكست ہونے كى ياددہاني، اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ مبادا يہ خيال كيا جائے كہ وہ خداوندمتعال كى مشيت كے برعكس اس پر غلبہ پاكر اپنے آپ كو آتش جہنم سے نجات دلوا سكتے ہيں _

١٤_غلبہ ( عزت) و حكمت الہى كا تقاضا ہے كہ كفر پيشہ دوزخيوں كو دائمى عذاب ديا جائے_*ان الّذين كفروا ان الله كان عزيزاً حكيماً يہ اس بنا پر ہے كہ جملہ ''انّ الله ...''،''سوف نصليهم ناراً' 'كى علت كا بيان ہو_

آسمانى كتب: ٢

آيات خدا: ٢ آيات خدا كو جھٹلانا ٣

اسماء و صفات: حكيم ١٠;عزيز ١٠

اللہ تعالى: اللہ تعالى كا غلبہ ١٤; اللہ تعالى كى حكمت ١١، ١٢، ١٤;اللہ تعالى كى قدرت ١١

انبيا (ع) : انبيا (ع) كى حكومت ٢;انبيا(ع) كى نبوت ٢

انسان: انسان كى حقيقت ٦

اہل عذاب: ١٢

جہنم: جہنم كا عذاب ٤، ٥، ٩ ;جہنم كى آگ١، ١٢

جہنمى لوگ: جہنميوں كا عذاب ٨;جہنميوں كى سزا ٤، ٥، ٨، ٩، ١٤

۵۵۵

رخنہ اندازى : رخنہ اندازى كے موارد ٣

سزا: كھال كے ذريعے سزا ٩

كفار: كفار جہنم ميں ١٣; كفار كى اخروى سزا ١، ١٢، ١٣، ١٤

كفر: آيات خدا كے بارے ميں كفر ١، ٣

معاد: معاد جسمانى ٧

آیت( ۵۷)

( وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا لَّهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَنُدْخِلُهُمْ ظِـلاًّ ظَلِيلاً ) اور جو لوگ ايمان لے آئے اور انھوں نے نيك عمل كئے ہم عنقريب انھيں جنتوں ميں داخل كريں گے جن كے نيچے نہريں جارى ہوں گى اور وہ انھيں ميں ہميشہ رہيں گے ان كے لئے وہاں پاكيزہ بيوياں ہوں گى اور انھيں گھنى چھاؤں ميں ركھا جائے گا _

١_ بہشت، عمل صالح بجالانے والے مؤمنين كا صلہ ہے_والّذين امنوا و عملوا الصالحات سندخلهم جنّات تجرى من تحتها الانهار

٢_ ايمان اور عمل صالح، بہشت ميں داخل ہونے كى دوضرورى شرائط ہيں _والذين امنوا و عملوا الصّالحات سندخلهم جنّات تجرى من تحتها الانهار

٣_ خدا وند متعال كے اجر و ثواب كا اسكے عذاب و سزا پر مقدم ہونا_انّ الذين كفروا باياتنا سوف نصليهم والّذين امنوا و عملوا الصّالحات سندخلهم

۵۵۶

جناتً

كيونكہ عذاب و وعيد كى نسبت، حرف ''سوف'' اور اجر و ثواب كے بارے ميں حرف ''س'' استعمال ہوا ہے_

٤_ خداوندمتعال ، مؤمنين كوبہشت ميں داخل كرنے والا ہے_سندخلهم جنّات و ندخلهم ظلاً ظليلاً

٥_ نيك اعمال بجا لانے والے مؤمنين كى جنت كا دائمى ہونا اوراس ميں بہتى نہروں و گھنے سايوں (خوشگوار اور پر سكون ماحول )كا ہونا_انّ الذين امنوا و عملوا الصّالحات و ندخلهم ظلاً ظليلاً

''ظلّ''كا معنى سايہ ہے اور ''ظليلاً''اسكى تاكيد ہے اور بظاہر بہشت كے مرغوب و دل پسند موسم سے كنايہ ہے_

٦_ اہل بہشت كى بيويوں كا ہميشہ پاك و پاكيزہ اور ہر قسم كى آلودگى سے منزّہ ہونا_والذين امنوا لهم فيها ازواج مطهرة ''مطھر''اس كو كہتے ہيں جو جسمانى و روحانى لحاظ سے پاك و منزہ ہو_

٧_ نيك اعمال بجا لانے والے مؤمنين كا بہشت ميں ہميشہ رہنا_والذين امنوا خالدين فيها

٨_ دلپذير اور تسكين بخش سايہ بہشتميں ايك خاص مقام و مرتبہ ہے_و ندخلهم ظلاً ظليلاً ''ندخلھم''كا تكرار، بہشت ميں ظلّ (سايہ) كى خصوصيت كو ظاہر كرتا ہے_

٩_ لوگوں كو ايمان اور عمل صالح كى طرف راغب كرنے اور كفر سے بچانے كيلئے قرآن كا ايك طريقہ، وعدہ و وعيد سنانا ہے_انّ الّذين كفروا باياتنا سوف والذين امنوا و عملوا الصالحات سندخلهم

١٠_ تربيت كا ايك طريقہ خوف و رجا پيدا كرنا ہے_ان الذين كفروا والذين امنوا

خداوند متعال انسانوں كى تربيت كيلئے انہيں دوزخ سے ڈراتا ہے اور ابدى بہشت كى اميد دلاتا ہے_

١١_ اہل بہشت كى بيويوں كا حيض و حدث كى آلودگى سے پاك ہونا_لهم فيها ازواج مطهرة

امام صادق(ع) نے مذكورہ بالا آيت كے بارے ميں پوچھے گئے سوال كے جواب ميں فرمايا:الازواج المطهرة اللاتى لايحضن ولايحدثن (١) ازواج مطہرہ وہ ہيں جن كو نہ حيض ہوگا اور نہ حدث_

____________________

١)من لايحضرہ الفقيہ ج١ ص٥٠ ح٤ باب ٢٠ مسلسل ١٩٥ تفسير برھان ج١ ص٣٧٩ ح١.

۵۵۷

اللہ تعالى: اللہ تعالى كى طرف سے اجر٣; اللہ تعالى كى طرف سے سزا ٣;اللہ تعالى كے افعال ٤

ايمان: ايمان كا پيش خيمہ٩;ايمان كے اثرات ٢

بہشت: بہشت كا ابدى ہونا ٥; بہشت كى نعمات ٥ ، ٨،١١; بہشت كے موجبات ٢;بہشت ميں دائمى قيام ٧; بہشتى بيوياں ٦، ١١;بہشتى سائے ٥، ; بہشتى موسم ٥;بہشتى نہريں ٥

بہشتى لوگ: بہشتى لوگوں كے فضائل ٦

تحريك: تحريك كے اسباب ٩

تربيت: تربيت كا طريقہ ٩،١٠;تربيت ميں اميد دلانا ١٠;تربيت ميں انذار٩; تربيت ميں بشارت ٩;تربيت ميں خوف١٠

رشد: رشد كے اسباب ٩

روايت: ١١

عمل: نيك عمل كا پيش خيمہ ٩; نيك عمل كا صلہ ١;نيك عمل كے اثرات ٢ ;

كفر: كفر كے موانع ٩

مؤمنين: مؤمنين كا بہشت ميں قيام١، ٤;مؤمنين كا صلہ ١;مؤمنين كا نيك عمل ٧;مؤمنين كى ابديت ٧;مؤمنين كى بہشت ٥;مؤمنين كے فضائل ٤

۵۵۸

آیت( ۵۸)

( إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَی أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُواْ بِالْعَدْلِ إِنَّ اللّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ إِنَّ اللّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا )

بيشك الله تمھيں حكم ديتا ہے كہ امانتوں كوان كے اہل تك پہنچا دو اور جب كوئي فيصلہ كروتو انصاف كے ساتھ كرو الله تمھيں بہترين نصيحت كرتا ہے بيشك الله سميع بھى ہے اور بصير بھي_

١_ امانتيں ان كے مالكوں كو واپس كرنے كا واجب ہونا_ان ّ الله يا مركم ان تودّوا الامانات الى اهلها

٢_ امانت كو اسكے مالك تك پہنچانے اور امانتدارى كى غيرمعمولى اہميت_ان الله يامركم ان تودّوا الامانات الى اهلها

كلمہ ''إنّص'' اور امر كى نسبت اسم جلالہ (الله ) كى طرف دينا نيز جملہ خبريہ كے ذريعے فرمان كا جارى ہونا (يامركم) امانت كى اہميت اور اسكى طرف بہت زيادہ توجہ كرنے كى طرف اشارہ ہے_

٣_ افراد پر ذمہ دارى ڈالنے كى شرط يہ ہے كہ وہ اس كے اہل ہوں اور اسكى لياقت و صلاحيت ركھتے ہوں _

انّ الله يامركم ان تؤدّوا الامانات الى اهلها امانت كے اہم ترين مصاديق ميں سے ايك وہ ذمہ دارى ہے جو معاشرے ميں افراد كے حوالے كى جاتى ہے_

٤_ قضاوت ميں عدل و انصاف كا لحاظ ركھنا واجب ہے_ان الله يامركم و اذا حكمتم بين النّاس ان تحكموا بالعدل

٥_ قضاوت ميں عدل و انصاف كى خاص اہميت_ان الله يامركم و اذا حكمتم بين النّاس ان تحكموا بالعدل

٦_ قرآن كريم اور پيغمبراسلام(ص) كى حقيقت وہ امانت الہى ہے جس كو بيان كرنا اہل كتاب كا فريضہ تھا_

۵۵۹

ام يحسدون الناس على ما اتيهم الله من فضله ان الله يامركم ان تؤدوا الامانات الى اهلها

٧_ يہوديوں كا امانتوں ميں خيانت كرنے والے اور ظلم و ستم پر مبنى قضاوت كرنے والے لوگوں ميں سے ہونا_

يقولون هؤلاء اهدى من الذين امنوا اذا حكمتم بين الناس ان تحكموا بالعدل ہوسكتا ہے جملہ''ان تحكموا بالعدل'' يہوديوں كى مؤمنين كے بارے ميں غير عادلانہ قضاوت كى طرف اشارہ ہوكيونكہ انہوں نے مشركين كو راہ راست كے زيادہ قريب قرار دياتھا_

٨_ قضاوت ميں عدل و انصاف كا لحاظ ركھنا، تمام انسانوں كا حق ہے_و اذا حكمتم بين الناس ان تحكموا بالعدل

٩_ اسلامى معاشرے ميں حكومت اور جزا و سزا كا عادلانہ نظام برقرار كرنا ضرورى ہے_*ان الله يامركم ان تؤدوا الامانات الى اهلها و اذا حكمتم بين الناس ان تحكموا بالعدل امانت كو اسكے مالك تك پہچانے ، لائق افراد پر ذمہ دارى ڈالنے اور لوگوں ميں عادلانہ قضاوت كرنے كا لازمہ يہ ہے كہ لوگوں كے درميان ايك حكومت اور نظام جزا و سزا موجود ہو_

١٠_ امانت اسكے مالك تك پہچانا اور قضاوت ميں عدل و انصاف كا لحاظ ركھنا، نيك اعمال كے مصاديق ميں سے ہے_

والذين امنوا و عملوا الصالحات ان الله يا مركم ان تؤدوا الامانات الى اهلها بظاہر جملہ ''عملوا الصّالحات''كے بعد جملہ ''انّ الله ''اعمال صالح كے بعض مصاديق كى طرف اشارہ ہے كہ جن سے مراد امانت دارى اور عادلانہ قضاوت ہے_

١١_ امانت ان كے اہل تك پہنچانے اور عادلانہ قضاوت كرنے كا حكم خدا كى بہترين نصيحتوں ميں سے ہے_

انّ الله يامركم انّ الله فنعما يعظكم به

١٢_ خداوند متعال بندوں كو پند و نصيحت كرنے والا ہے_ان الله نعمّا يعظكم به

١٣_ بندوں كى نسبت خداوند متعال كا لطف و عنايت اور خيرخواہى _ان الله نعمّا يعظكم به

يہ كلمہ ''موعظہ'' كو مدنظر ركھتے ہوئے ہے جس ميں موعظہ كرنے والے كا لطف و عنايت اور اسكى خيرخواہى مضمر ہے_

١٤_ لوگوں كو نيكيوں كى طرف بلانے كا ايك مفيد طريقہ،

۵۶۰

موعظہ ہے_ان الله نعمّا يعظكم به چونكہ خداوند متعال تربيت كيلئے بہترين طريقہ اختيار كرتا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ موعظہ اور پند و نصيحت لوگوں كى تربيت كيلئے بہت زيادہ مفيد ہيں _

١٥_ خداوند متعال ہميشہ سميع (سننے والا) اور بصير (بينا) ہے_انّ الله كان سميعاً بصيراً

١٦_ خداوندمتعال، حاكموں اور قاضيوں كى طرف سے صادر شدہ احكام كو سننے والا ہے_و اذا حكمتم بين النّاس ان تحكموا بالعدل ان الله كان سميعاً

١٧_ خداوند متعال كا امانت ميں خيانت اور قضاوت ميں ظلم كرنے والوں كو خبردار كرنا_ان الله ان الله كان سميعاً بصيراً

١٨_ خداوندمتعال كے سميع و بصير ہونے كى طرف توجّہ سے اسكے احكام و فرامين پر عمل كرنے كا راستہ ہموار ہوتا ہے_ان الله يامركم ان الله كا ن سميعاً بصيراً

١٩_ ائمہ معصومين(ع) ميں سے ہر ايك، اپنے بعد والے امام كو امامت كى امانتيں سپرد كرنے كا ذمہ دار ہے_

ان الله يامركم ان تؤدّوا الامانات الى اهلها امام صادق(ع) نے مذكورہ بالا آيت كے بارے ميں پوچھے گئے سوال كے جواب ميں فرمايا: امر الله الامام الاول ان يدفع الى الامام الذى بعدہ كل ش عندہ(١) اللہ تعالى نے پہلے امام كو حكم ديا ہے كہ وہ سب چيزيں اپنے بعد والے امام كے سپرد كردے_

٢٠_ خداوند متعال كے اوامر و نواہي، اسكى امانتيں ہيں _ان الله يامركم ان تؤدّوا الامانات الى اهلها

مذكورہ بالا آيت كے بارے ميں امام باقر(ع) اور امام صادق (ع) سے منقول ہے : امانات الله تعالى اوامرہ و نواھيہ(٢) اللہ تعالى كى امانتيں اس كے اوامر و نواہى ہيں _

٢١_ معاشرے ميں عدل و انصاف كا نافذ كرنا، حكمرانوں كى ذمہ دارى ہے_و اذا حكمتم بين الناس ان تحكموا بالعدل امام باقر(ع) نے مذكورہ بالا آيت كے بارے ميں فرمايا:انّهم هم الحكّام او لاتري انّه خاطب بها الحكام (٣) اس سے مراد حكمران ہيں _ كيا تم نہيں ديكھتے كہ اللہ تعالى نے اس آيت كے ذريعے حكمرانوں كو خطاب كيا ہے_

____________________

١)كافى ج١ ص٢٧٧، ح٤ نورالثقلين ج١ ص٤٩٦، ح٣٢١، تفسير عياشى ج١ ص٢٤٩ ح١٦٧. ٢)مجمع البيان ج٣ ص٩٨، نورالثقلين ج١ ص٤٩٦ ح٣٢٥.

٣)غيبت نعماني، ص٢٥، باب ماجاء فى الامامة و الوصية تفسير برھان ج١ ص٣٨٠ ح٥ تفسير عياشى ج١ ص ٢٤٧ ح١٥٤، ١٦٧ الدرالمنثور ج٢ ص٥٧١.

۵۶۱

آنحضرت(ص) : آنحضرت (ص) كى حقانيت ٦

اللہ تعالى: اللہ تعالى كا خبردار كرنا ١٧; اللہ تعالى كا لطف١٣;اللہ تعالى كا موعظہ ١١، ١٢; اللہ تعالى كى امانت ٦، ٢٠; اللہ تعالى كى خيرخواہي١٣; اللہ تعالى كے اوامر ١١، ٢٠;اللہ تعالى كے نواہي٢٠

ائمہ(ع) : ائمہ(ع) كى امامت ١٩ ;ائمہ(ع) كى ذمہ دارى ١٩

احكام: ١، ٤

اسماء و صفات: بصير ١٥، ١٨;سميع ١٥، ١٨

امانت: امانت كى اہميت ١١;امانت كے احكام ١;امانت ميں خيانت ٧، ١٧;امانت واپس كرنا ١، ٢، ١٠، ١١

امانتداري: امانت دارى كى اہميت ٢

انتظامى ذمہ داري: انتظامى ذمہ دارى كى شرائط ٣;انتظامى ذمہ دارى ميں صلاحيت٣

اہل كتاب: اہل كتاب كى ذمہ دارى ٦

تبليغ: تبليغ كا طريقہ ١٤

تحريك: تحريك كے عوامل ١٨

جزاو سزا كا نظام: ٩

حكومت: حكومت كى اہميت ٩

خائن افراد: خائن افرادكو تنبيہ ١٧

خير: خير كى طرف دعوت كا طريقہ ١٤

ذكر: ذكر كے اثرات ١٨

روايت: ١٩، ٢٠، ٢١

شرعى فريضہ: شرعى فريضہ پر عمل كا پيش خيمہ ١٨

عدل و انصاف: عدل و انصاف كى اہميت ٤، ٥، ٨، ٢١

۵۶۲

عمل: نيك عمل كے موارد ١٠

قاضي: قاضى كا فيصلہ ١٦

قرآن كريم: قرآن كريم كى حقانيت ٦

قضاوت: قضاوت كى اہميت١٦ ; قضاوت ميں ظلم ٧، ١٧; قضاوت ميں عدل و انصاف ٤، ٥،٨، ٩، ١٠،١١

قيادت: قيادت كى ذمہ دارى ٢١

لوگ : لوگوں كے حقوق ٨

معاشرتى نظام: ٢١

معاشرہ: اسلامى معاشرہ كى ضروريات ٩;معاشرہ ميں عدل و انصاف ٢١

موعظہ: موعظہ كے اثرات ١٤

واجبات: ١، ٤

يہود: يہود كى خيانت ٧;يہود كى قضاوت ٧

آیت( ۵۹)

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَی اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً )

ايمان والو الله كى اطاعت كرو اور رسول اورصاحبان امر كى اطاعت كرو جو تمہيں ميں سے ہيں پھر اگر آپس ميں كسى بات ميں اختلاف ہوجائے تو اسے خدااور رسول كى طرف پلٹا دو اگر تم الله اور روز آخرت پر ايمان ركھنے والے ہو _ يہى تمھارے حق ميں خير اورانجام كے اعتبار سے بہترين بات ہے _

١_ مؤمنين كا فريضہ ہے كہ وہ خدا، رسول(ص) اور اولوالامر كي اطاعت كريں _

۵۶۳

يا ايها الذين امنوا اطيعوا الله و اطيعوا الرسول و اولى الامر منكم

٢_ پيغمبراكرم(ص) اور اولى الامر كى اطاعت كا خداوند متعال كى اطاعت كے بعد ہونا_اطيعوا الله و اطيعوا الرسول و اولى الامر منكم

٣_ پيغمبراكرم(ص) كا منصب حكومت و ولايت كا حامل ہونااطيعوا الله و اطيعوا الرسول كلمہ ''اطيعوا''كا تكرار اس بات پر دلالت كرتا ہے كہ رسول خدا(ص) كے ا وامر سے مراد وہ اوامر نہيں جو خداوند متعال كى طرف سے وحى كے ذريعے ابلاغ ہوئے ہيں _ بلكہ وہ اوامر ہيں جو رسول خدا (ص) كى طرف سے صادر ہوئے ہيں اور جو آنحضرت (ص) كے حكومتى و ولايتى اوامر كہلاتے ہيں _

٤_ پيغمبراكرم(ص) اور اولى الامر كے حكومتى اوامر كى اطاعت كا لازمى ہونا_اطيعوا الله واطيعوا الرسول و اولى الامر منكم

٥_ اولى الامر اور وصالى كى اطاعت كا وجوب ان كے ايمان سے مشروط ہے_اطيعوا الله و اطيعوا الرسول و اولى الامر منكم كلمه ''منكم''(تم مؤمنين ميں سے) اس بات پر دلالت كرتا ہے كہ ان اولى الامر اور واليوں كى اطاعت واجب ہے جو مؤمن ہوں _

٦_ ولى امر كى اطاعت اس صورت ميں واجب ہے جب وہ خدا اور رسول(ص) كى جانب سے مشخص شدہ اصولوں كے دائرے ميں ہو_اطيعوا الله واطيعوا الرّسول و اولى الامر منكم چونكہ اولى الامر كى اطاعت، خدا اور رسول(ص) كى اطاعت كے ہمراہ ہے لہذا يہ ايسے اصولوں اور احكام پر مشتمل نہيں ہوسكتى جو خدا و رسول(ص) كے اوامر كے خلاف ہوں _ چونكہ ايسے فرامين كى اطاعت خدا اور رسول(ص) كى اطاعت نہ كرنے كے مترادف ہے_

٧_ حكومت حق كى پيروى كرنا ضرورى ہے_واطيعوا الرسول و اولى الامر منكم

٨_ عدل و انصاف كا نفاذ حكمرانوں كا فريضہ ہے اور ان كى اطاعت، عوام كى ذمہ دارى ہے_

و اذا حكمتم بين النّاس ان تحكموا بالعدل ياايّها الذين آمنوا اطيعوا الله و اطيعوا الرسول و اولى الامر منكم

٩_ امانت كى ادائيگى (اہل كو اس كا مقام عطا كرنا) اور

۵۶۴

عدل و انصاف كا عملى ہونا، خدا و رسول(ص) اور اولى الامر كى اطاعت كے سائے ميں ممكن ہے_

انّ الله يامركم ان تؤدوا الامانات الى اهلها و اذا حكمتم بين النّاس ان تحكموا بالعدل اطيعوا الله و اطيعوا الرسول و اولى الامر منكم گويا يہ آيت، گذشتہ آيت ميں مذكورہ فرامين كے عملى ہونے كى كيفيت كى طرف اشارہ ہے_

١٠_ اختلافات كے حل كيلئے خدا و رسول(ص) (كتاب و سنت) كى طرف رجوع كرنا ضرورى ہے_

فان تنازعتم فى ش فردّوه الى الله و الرّسول

١١_ خدا و رسول(ص) كى كامل اطاعت، اختلافات اور جھگڑے كى صورت ميں ان كى طرف رجوع كرنے سے وقوع پذير ہوتى ہے_اطيعوا الله فان تنازعتم فى ش

١٢_ اولى الامر كے تعين اور اس سے مربوط اختلافات ميں خدا و رسول(ص) (كتاب و سنت) كى طرف رجوع كرنا ضرورى ہے_*فان تنازعتم فى ش فردّوه الى الله و الرسول يہ اس لحاظ سے ہے كہ آيت ميں ''اولى الامر'' كو حل اختلاف كيلئے مرجع قرار نہيں ديا گيا_ اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ ''تنازع''كے مورد نظر اور اہم مصاديق ميں سے ايك خود مسئلہ اولى الامر كے متعلق اختلافات ہيں _

١٣_ سب لوگوں كا خدا و رسول(ص) كى اطاعت كرنا، اسلامى معاشرے كى وحدت و اتحاد كا ضامن ہے_

اطيعوا الله و اطيعوا الرسول فردّوه الى الله والرسول

١٤_ اسلامى نظام كا محور خداوند متعال ہے_اطيعوا الله و اطيعوا الرسول و اولى الامر منكم فردّوه الى الله و الرسول ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر

١٥_ معاشرے ميں وحدت و اتحاد برقرار كرنا اوراسكى حفاظت كرنا، حكومت اسلامى كے فرائض ميں سے ہے_

اطيعوا الله فان تنازعتم فى ش فردّوه الى الله

١٦_ قرآن و سنت ہر قسم كے اختلافات اور جھگڑوں كے حل پر مبنى قوانين پر مشتمل ہے_

فان تنازعتم فى ش فردّوه الى الله والرسول تمام اختلافى امور ميں قرآن و سنت كى طرف رجوع كا حكمكہ جو كلمہ ''فى شيئ''سے اخذ ہورہا ہے، كا لازمہ يہ ہے كہ اس ميں ہر چيز سے متعلق اختلاف كا حل اور مناسب قانون موجود ہو_

۵۶۵

١٧_ خدا و رسول(ص) (قرآن و سنت) كى طرف اختلافات اور تنازعات كو لوٹانا خدا اور قيامت پر ايمان كى علامتوں ميں سے ہے_فان تنازعتم ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر

١٨_ اختلافات كے حل كيلئے خدا و رسول(ص) (قرآن وسنت) كى طرف رجوع نہ كرنا خدا اور قيامت پر ايمان نہ ركھنے كى علامت ہے_فان تنازعتم فى ش فردّوه الى الله والرسول ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر

١٩_ جن عدالتوں ميں قوانين اسلام (قرآن و سنت) سے ہٹ كر فيصلہ كيا جاتا ہے، ان كا صلاحيت سے عارى ہونا_

فان تنازعتم فى ش فردّوه الى الله والرّسول ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر

٢٠_ خدا و رسول(ص) اور اولى الامر كى اطاعت كرنا، خدا اور روز قيامت پر حقيقى ايمان كى علامت ہے_

اطيعوا الله واطيعوا الرسول و اولى الامر ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر يہ اس بنا پر ہے كہ جملہ ''ان كنتم''، ''اطيعوا الله ''كيلئے بھى شرط ہو_

٢١_قيامت پر ايمان اسلام كے اہم اعتقادى اصولوں ميں سے ہے_ان كنتم تومنون بالله واليوم الآخر

خدا پر ايمان كے ساتھ قيامت كا تذكرہ اسكى اہميت پر دلالت كرتا ہے_

٢٢_ اسلام كے اعتقادى اور سياسى فلسفہ ميں گہرا ارتباط_يا ايها الذين امنوا اطيعوا الله و اطيعوا الرسول فان تنازعتم ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر چونكہ رسول اكرم(ص) اور اولى الامر كى اطاعت جو ايك سياسى مسئلہ ہے،كو ايمان سے مربوط كرديا گيا ہے كہ جو ايك اعتقادى مسئلہ ہے_

٢٣_ اسلامى آئيڈيالوجى كا سرچشمہ، اسلامى نظريہ كائنات ہے جو اسلام نے كائنات كے بارے ميں قائم كيا ہے_

اطيعوالله و اطيعوا الرسول ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الآخر خداوند متعال اور رسول(ص) كے اوامر كى اطاعت كوجو اسلام كا لائحہ عمل ہے، خدا و قيامت پر ايمان سے مربوط كيا گيا ہے جو اسلامى نظريہ كائنات كا ايك عنصر ہے_

٢٤_ خدا اور قيامت پر ايمان، احكام اسلام كے نفاذ كا سبب اور خدا و رسول(ص) كى نافرمانى سے بچنے كا باعث بنتا ہے_اطيعوا الله ان كنتم تؤمنون بالله و اليوم

۵۶۶

الآخر

٢٥_ اولى الامركو تشريع احكام كا حق حاصل نہيں ہے_*فان تنازعتم فى ش فردّوه الى الله والرسول چونكہ قرآن و سنت مصاديق كا تعين نہيں كرتے لہذا ''شيئ''سے مراد ہوسكتا ہے بالخصوص احكام ہوں _ بنابرايں ''اولى الامر''كو آيت كے اس حصہ ميں ذكر نہ كرنا ظاہر كرتا ہے كہ يہ امر ان كے سپرد نہيں كيا گيا_

٢٦_ اختلافات اورتنازعات ميں خدا و رسول(ص) كى طرف رجوع كرنا ايك پسنديدہ كام اور بہترين انجام كا حامل ہے_فان تنازعتم ذلك خير و احسن تاويلاً

٢٧_ خدا و رسول(ص) اوراولى الامر كى اطاعت(قرآن و سنت كى پيروي)، ايك پسنديدہ كام اور بہترين انجام كى حامل ہے_اطيعوا الله و اطيعوا الرسول و اولى الامر ذلك خير و احسن تاويلاً يہ اس بنا پر ہے كہ ''ذلك'' ، ''اطيعوا الله ...''كى جانب بھى اشارہ ہو_

٢٨_ خداوند متعال كا خير انديشى اور نيك انجام كى خاطر پند و نصيحت كرنا_ذلك خير و احسن تاويلاً

٢٩_ دنيا و آخرت كى سعادت، خدا و رسول(ص) كى اطاعت كرنے اور اختلافات كے حل كيلئے ان كى طرف رجوع كرنے سے مربوط ہے_*اطيعوا الله ذلك خير و احسن تاويلاً يہ اس احتمال كى بنا پر ہے كہ جملہ''ذلك خير''دنيا سے مربوط ہو اور جملہ ''احسن تاويلاً''آخرت سے _

٣٠_ اعمال كے انجام اور عاقبت كى طرف توجہ ، ان كى قدروقيمت كى تعيين كے معيار ات ميں سے ہے_

ذلك خير و احسن تاويلاً خداوند متعال نے نيك انجام اور اچھى عاقبت ( خدا و كى اطاعت) كو ان كے فرامين پر عمل كرنے كے ضرورى ہونے كا معيار قرار ديا ہے_

٣١_ تا يوم قيامت على (ع) اور فاطمہ زہراء سلام الله عليہما كى نسل سے آنے والے ائمہ معصومين(ع) كى اطاعت كرنا ضرورى ہے_اطيعوا الله و اولى الامر منكم امام باقر(ع) نے مذكورہ بالا آيت ميں موجود ''اولى الامر''كے بارے ميں فرمايا:الائمة من ولد على و فاطمة(ع) الى ان تقوم الساعة (١) ائمہ على (ع) و فاطمہ (ع) كى اولاد ميں سے ہيں يہاں تك كہ قيامت بپا ہوجائے_

____________________

١)كمال الدين، صدوق ص٢٢٢، ح ٨ ب ٢٢، نور الثقلين ج١ ص٤٩٩ ح٣٢٨، ٣٣٠،٣٣١، ٣٣٢.

۵۶۷

٣٢_ ''اولى الامر''كے انتخاب اور ان كى اطاعت كے ضرورى ہونے كا مقصد احكام و حدود الہى كا برقرار كرنا، دين كو نابود ہونے سے بچانا اور احكام و سنن الہى كو تغير و تبدّل سے روكنا ہے_اطيعوا الله و اولى الامر منكم

امام ر ضا(ع) نے ''اولواالامر''اور ان كى اطاعت كے لزوم كے فلسفے اور مقصد كے بارے ميں فرمايا:فجعل عليهم قيّما يمنعهم من الفساد و يقيم فيهم الحدود والاحكام انه لو لم يجعل لهم اماماً قيماً لدرست الملة وذهب الدين وغيّرت السنن والاحكام ..(١) اللہ تعالى نے لوگوں پر سرپرست قرار ديا جو انہيں فساد سے روكتا ہے اور ان ميں حدود و احكام كو جارى كرتا ہے اگر اللہ تعالى ان كيلئے امام اور سرپرست قرار نہ ديتا تو ملت مٹ جاتى اور دين ختم ہوجاتا اور احكام و سنن تبديل ہوجاتے

٣٣_ اختلاف كے حل كا اصلى مرجع، آيات قرآن كے محكمات اور رسول خدا(ص) كى سنت ہے_

فان تنازعتم فى ش فردّوه الى الله و الرّسول امير المؤمنين نے '' مالك اشتر كے نام خط''ميں مذكورہ بالا آيت كى وضاحت كرتے ہوئے فرمايا: فالردّ الى الله الاخذ بمحكم كتابہ والردّ الى الرسول الاخذ بسنتہ الجامعة غيرالمفرّقة(٢) اللہ كى طرف پلٹانے سے مراد قرآن كے محكمات سے تمسك ہے اور رسول كى طرف پلٹانے سے مراد اس سنت كے ساتھ تمسك كرنا ہے جو اختلاف مٹانے والى ہے نہ تفرقہ ڈالنے والي_

آنحضرت(ص) : آنحضرت (ص) كا نقش ١٠، ١٢، ١٧، ١٨، ٢٦ ; آنحضرت (ص) كى اطاعت ١، ٢،٤، ٩، ١١، ١٣، ٢٠، ٢٧، ٢٩ ; آنحضرت (ص) كى حكومت ٣; آنحضرت(ص) كى ولايت ٣; آنحضرت (ص) كے فضائل ٣

اتحاد: اتحاد كى اہميت ١٥;اتحاد كے اسباب ١٣، ١٥

احكام: ٥، ٦ احكام كى تشريع ٢٥

اختلاف: حل اختلاف كا مرجع ١٠، ١١، ١٢، ١٦، ١٧، ١٨،٢٦، ٢٩، ٣٣

اطاعت: اطاعت كا اجر ٢٩; اطاعت كى شرائط٥، ٦;اطاعت كے اثرات ٩;واجب اطاعت ٥، ٦

اللہ تعالى: اللہ تعالى كى اطاعت ١، ٢،٩، ١١، ١٣، ٢٠، ٢٧، ٢٩; اللہ

____________________

١)عيون اخبار الرضا (ع) ج٢ ص١٠١ ح١ ب ٣٤، نورالثقلين ج١ ص٤٩٧، ح٣٢٩.

٢)نہج البلاغة، مكتوب٥٣، ( مالك اشتر كے نام) نورالثقلين ج١ ص٥٠٦ ح٣٥٥ بحار الانوار ج٢ ص٢٤٤ ح ٤٨ نہج البلاغة خطبہ ١٢٥.

۵۶۸

تعالى كى حدود كا قائم كرنا ٣٢; اللہ تعالى كى خير خواہى ٢٨; اللہ تعالى كى نصيحتيں ٢٨

امانت: امانت ادا كرنا ٩

اولى الامر: اولى الامر كا نقش ٣٢; اولى الامر كى اطاعت ١، ٢، ٤، ٥، ٦، ٩، ٢٠، ٢٧، ٣٢;اولى الامر كى اہميت ٣٢;اولى الامر كى ذمہ دارى كى حدود ٢٥

ائمہ(ع) : ائمہ(ع) كى اطاعت ٣١

ايمان: ايمان كے اثرات ١٧، ٢٠، ٢٤;خدا پر ايمان ١٧ ، ٢٠، ٢٤;قيامت پر ايمان ١٧،٢٠، ٢١، ٢٤

پسنديدہ انجام: ٢٧

تحريف: تحريف كے موانع ٣٢

تقوي: تقوي كا پيش خيمہ ٢٤

حكومت: حكومت كى اطاعت ٧;حكومت كى ذمہ دارى ١٥

دور انديشي: دور انديشى كى اہميت ٢٨; دور انديشى كے اثرات ٣٠

دين: اصول دين ٢١;دين اور سياست ٢٢; دين كى نابودى كے موانع ٢٣

روايت: ٣١، ٣٢، ٣٣

سعادت: اخروى سعادت ٢٩;دنيوى سعادت ٢٩

سنت: سنت كا كردار ١٠، ١٢، ١٦، ١٧، ١٨، ١٩، ٣٣;سنت كى اطاعت ٢٧

سياسى نظام: ٢٢

عدل و انصاف: عدل و انصاف كا نفاذ٩

عدليہ : صلاحيت ركھنے والى عدليہ ١٩

عصيان : عصيان كے موانع٢٤ عمل: پسنديدہ عمل ٢٦، ٢٧;عمل كا انجام ٣٠

فلسفہ سياسي: ٢٢ قدروقيمت كى تعيين: قدروقيمت كى تعيين كا معيار ٣٠

قرآن كريم:

۵۶۹

قرآن كريم كا كردار ١٠، ١٢، ١٦، ١٧، ١٨، ١٩، ٣٣; قرآن كريم كى اطاعت ٢٧; قرآن كريم كے محكمات ٣٣

قضاوت: قضاوت كى شرائط ١٩

قيادت: قيادت كى اطاعت ٤، ٥، ٦، ٨، ٩، ٢٠; قيادت كى تعيين كا مرجع ١٢; قيادت كى ذمہ دارى ٨; قيادت كى ذمہ دارى كى حدود ٢٥

كفر: خدا كے بارے ميں كفر ١٨;كفر كے اثرات ١٨

لوگ: لوگوں كى ذمہ داري٨

معاشرہ: اسلامى معاشرہ كى خصوصيت ١٤

مؤمنين: مؤمنين كى ذمہ دارى ١

نظريہ كائنات : نظريہ كائنات اور آئيڈيا لوجى ٢٣

واجبات: ٥، ٦

آیت ( ۶۰)

( أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ اِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًا ) كيا آپ نے ان لوگوں كو نہيں ديكھاجن كا خيال يہ ہے كہ و ہ آپ پر اور آپ كے پہلے نازل ہونے والى چيزوں پر ايمان لے آئے ہيں او رپھر يہ چاہتے ہيں كہ سركش لوگوں كے پاس فيصلہ كرائيں جب كہ انھيں حكم ديا گيا ہے كہ طاغوت كا انكار كريں اور شيطان تويہى چاہتا ہے كہ انھيں گمراہى ميں دور تك كھينچ كرلے جائے _

١_ قضاوت كيلئے طاغوت كے پاس جانے كا ارادہ كرنا، قرآن اور دوسرى آسمانى كتابوں پر ايمان كے

۵۷۰

منافى ہے_الم تر الى الّذين يزعمون يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت

١_ جملہ ''يريدون ...''سے ظاہر ہوتا ہے كہ اس قسم كے كام كا ارادہ كرنا بھى غلط ہے چہ جائيكہ اسے انجام ديا جائے_

٢_ كلمہ ''طاغوت'' مصدر اور بمعنى اسم فاعل ہے يعنى ہر متجاوز، ظالم اور جبّار انسان_

٢_فيصلہ كيلئے طاغوت كى طرف رجوع كرنا، قرآن كريم اور آسمانى كتب پر ايمان كے منافى ہے_

الم تر الى الّذين يزعمون ان يتحاكموا الى الطاغوت

٣_ ايمان كا ادعا كرنے كے باوجود طاغوت كى طرف فيصلہ كيلئے رجوع كرنا، باعث تعجب و حيرت ہے_

الم تر الى الّذين يزعمون ان يتحاكموا الى الطاغوت جملہ ''الم تر'' ميں استفہام تعجب كيلئے ہے_

٤_ ان تمام احكام و معارف پر ايمان لانا ضرورى ہے جو پيغمبراسلام(ص) اور دوسرے انبيا(ع) پر نازل ہوئے ہيں _

الم تر الى الّذين يزعمون انهم امنوا بما انزل اليك و ما انزل من قبلك

٥_ عمل، ايمان كى علامت اور اسكى آزمائش كا مرحلہ ہے_الم تر الى الّذين يزعمون يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت و قد امروا ان يكفروا به خداوند متعال نے بعض مسلمانوں كے ايمان كو اسلئے خيالى اور ايمان كا خالى دعوا قرار ديا ہے كہ انہوں نے عمل ميں اپنے ايمان كے مطابق عمل نہيں كيا_

٦_ طاغوت كا انكاركرنا اور اسكے مقابلے ميں ڈٹ جانا ضرورى ہے_و قد امروا ان يكفروا به

٧_ طاغوت كے انكار اور اسكے مقابلے ميں ڈٹ جانے كا ضرورى ہونا، تمام الہى اديان كا مشتركہ حكم ہے_يزعمون انّهم امنوا بما انزل اليك و ما انزل من قبلك يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت و قد امروا ان يكفروا به

چونكہ خداوند متعال نے طاغوت كى طرف رجوع كو گذشتہ آسمانى كتب پر ايمان كے منافى قرار ديا ہے اس سے پتہ چلتا ہے كہ ان كتب ميں بھى اس قسم كا كردار قابل مذمت اور ناپسنديدہ سمجھا گيا ہے_

٨_ طاغوتى عدالتيں ، ايسى عدالتيں ہيں كہ جن ميں خدا و

۵۷۱

رسول(ص) كے حكم كے برخلاف قضاوت كى جاتى ہے_*يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت و قد امروا ان يكفروا به عدالتوں كى طرف قضاوت كيلئے رجوع كرنا اس وقت ايمان كے منافى ہے جب وہاں الہى احكام كے خلاف قضاوت كى جاتى ہو_ لہذا طاغوت سے مراد وہ حاكم ہيں جو قرآن و سنت كے خلاف حكم كرتے ہيں _

٩_ انحرافات اور گمراہى كے خلاف جدوجہد كے سلسلے ميں صحيح راستے كى نشاندہى كرنا ايك قرآنى روش ہے_

فان تنازعتم فى ش فردّوه الى الله والرسول الم تر الى الذين يزعمون انهم امنوا يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت

١٠_ انحراف اور گمراہى پر مبنى طور طريقوں كو روكنے اور ان پر تنقيد كرنے سے پہلے، صحيح راستہ دكھانا ضرورى ہے_

فان تنازعتم فى ش فردّوه الى الله والرسول يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت و قد امروا ان يكفروا به

١١_ قضاوت كيلئے طاغوت كى طرف رجوع نہ كرنا، طاغوت كے انكار كا ايك مصداق ہے_

يريدون ان يتحاكموا الى الطّاغوت و قد امروا ان يكفروا به

١٢_ طاغوت( وہ لوگ جو احكام خداوند متعال كے خلاف فيصلہ كرتے ہيں ) كى طرف قضاوت كيلئے رجوع كرنا، شيطان كى خواہش ہے_و يريد الشيطان ان يضلّهم

١٣_ طاغوت، شياطين كے آلہ كار اوران كا جال ہيں _يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت و يريد الشيطان ان يضلّهم

١٤_ طاغوت كى طرف رجوع كرنے والے شيطانى تسلط ميں ہيں _يريدون ان يتحاكموا الى الطّاغوت و يريد الشيطان ان يضلّهم

١٥_شياطين اور طاغوت انبيائے الہى كى حكومتوں كے مد مقابل عناصر ہيں _الم تر الى الذين يزعمون و يريد الشيطان

١٦_ شيطان، ہميشہ لوگوں كو گمراہ كرنے كے در پے ہے_و يريد الشيطان ان يضلّهم ضلالاً بعيداً

١٧_فيصلہ كيلئے طاغوت كى طرف رجوع كرنا، گويا ان پر ايمان لانا اور ان كے ظلم وستم كى تائيد كرنا ہے_

۵۷۲

يريدون ان يتحاكموا الى الطّاغوت و قد امروا ان يكفروا به

١٨_ طاغوتى عدالتوں كو قبول كرنے كا نتيجہ گمراہى كى كھائيوں ميں گرنا ہے_يريدون ان يتحاكموا و يريدون الشيطان ان يضلّهم ضلالاً بعيداً

١٩_ گمراہى و ضلالت كے مختلف در جے و مراتب ہيں _ان يضلّهم ضلالاً بعيداً

٢٠_ خود سر اور ظالم حكمرانوں كى طرف قضاوت كيلئے رجوع كرنا، گويا طاغوت كى حاكميت كو قبول كرنا ہے_

الم تر الى الّذين يزعمون انّهم امنوا يريدون ان يتحاكموا الى الطّاغوت_ امام صادق(ع) نے فرمايا:انّه لو كان لك على رجل حقّ فدعوته الى حكّام اهل العدل فابى عليك الا ان يرافعك الى حكام اهل الجور ليقضوا له لكان ممّن حاكم الى الطاغوت و هو قول الله عزوجل الم تر الى الذين يزعمون .(١) اگر تيرا حق كسى شخص پر ہو اور تو اسے عادل حاكم كى طرف بلائے ليكن وہ انكار كرے اور معاملے كو حكام جور كى طرف لے جائے تا كہ وہ اس كے حق ميں فيصلہ كريں تو وہ ان ميں سے ہے جس نے فيصلے كيلئے طاغوت كى جانب رجوع كيا اور ان ہى كے بارے ميں اللہ تعالى كا فرمان ہے :الم تر الى الذين يزعمون

٢١_ طاغوت كى طرف قضاوت كيلئے رجوع كرنا، ايمان كے ادعا ميں جھوٹا ہونے كى علامت ہے_

الم تر الى الذين يزعمون انهم امنوا امام صادق(ع) فرماتے ہيں :اما علمت ان كل زعم: فى القرآن كذبٌ (٢) كيا تجھے نہيں معلوم كہ قرآن ميں ہر زعم و گمان كو جھوٹ كہا گيا ہے_

٢٢_ كعب بن اشرف اور ابن شيبہ يہودى كا، طاغوتى حكمرانوں كے مصاديق ميں سے ہونا_

يريدون ان يتحاكموا الى الطّاغوت بہت سے مفسرين كى رائے ہے كہ يہ آيت اس منافق كے بارے ميں نازل ہوئي ہے جو ايك فرد كے ساتھ نزاع كے وقت، كعب بن اشرف يہودى كى طرف رجوع كرنا چاہتا تھا اور پيغمبر اكرم(ص) كى قضاوت سے انكار كر رہاتھا_ بعض دوسرے مفسرين كا خيال ہے ابن شيبہ يہودي، طاغوت كا مصداق ہے_

____________________

١)كافى ج٧ ص٤١١ ح٣ نورالثقلين ج١ ص٥٠٨ ح٣٦١، تفسير برھان ج١ ص٣٨٧ ح٢، ٣، ٥ تفسير عياشى ج١ ص٢٥٤ ح١٨٠.

٢)كافى ج٢ ص٣٤٢، ح٢٠ نورالثقلين ج١ ص٥٠٨ ح٣٦٢.

۵۷۳

ابن شيبہ: ٢٢ اختلاف: حل اختلاف كا مرجع ١، ٢،٣

اديان: اديان كا ہم آہنگ ہونا ٧

اصلاح: اصلاح كا طريقہ ٩، ١٠

امتحان: عمل كے ذريعے امتحان ٥

انبيا (ع) : انبيا (ع) كى حكومت ١٥;انبيا (ع) كے دشمن ١٥

انحراف: انحراف كے خلاف جدوجہد ٩; انحراف كے خلاف جدوجہد كى روش ١٠

انحطاط: انحطاط كے اسباب ١٨

ايمان: آسمانى كتب پر ايمان ١، ٢;اديان پر ايمان ٤;ايمان كى حدود ٤;ايمان كے اثرات ٥;جھوٹے ايمان كى علامتيں ٢١;خدا كے مبعوث كردہ انبيا(ع) پر ايمان ٤;دين پر ايمان ٤;طاغوت پر ايمان ١٧;قرآن پر ايمان ١، ٢

راہبر: ظالم رہبر ٢٠، ٢٢

روايت: ٢٠، ٢١

سياسى نظام: ٢٠

شيطان: شيطان كا بہكانا ١٦;شيطان كا كردار ١٥;شيطان كى خواہش ١٢;شيطانى اثر و نفوذ كے اسباب ١٤;شيطانى جال ١٣

طاغوت: طاغوت كا ظلم ١٧;طاغوت كا كردار ١٣، ١٥;طاغوت كى حاكميت ٢٠;طاغوت كى قضاوت ١،٢،٣، ٨، ١١، ١٢، ١٤، ١٨;طاغوت كى قضاوت قبول كرنا ١٧، ٢١; طاغوت كے موارد ٢٢

عمل: عمل كا پيش خيمہ ٥

كعب بن اشرف: ٢٢

كفر: طاغوت سے كفر ٦، ٧، ١١

گمراہي: گمراہى كے درجات ١٩; گمراہى كے عوامل ١٦، ١٨

موقف اختيار كرنا ٦، ٧

۵۷۴

آیت( ۶۱)

( وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ إِلَی مَا أَنزَلَ اللّهُ وَإِلَی الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا ) اور جب ان سے كہا جاتا ہے كہ حكم خدا اور اس كے رسول كى طرف آؤ تو تم منافقين كوديكھو گے كہ وہ شدت سے انكار كرديتے ہيں _

١_ الہى قوانين اور پيغمبر اكرم(ص) كى حاكميت كو قبول كرنا بلند مقام و رتبہ عطا كرتا ہے_و اذا قيل لهم تعالوا الى ما انزل الله و الى الرّسول

١_ گذشتہ آيت كے قرينے سے ''تعالوا ...'' سے مرا د قضاوت و داورى كيلئے آنحضرت(ص) كى طرف رجوع كرنا ہے_

٢_ بلند مقام عطا كرنا كو ''تعالوا''كے معنى سے اخذ كيا گيا ہے_

٢_ اختلافات كے حل كيلئے قرآن اور رسول اكرم(ص) كى طرف رجوع كرنا واجب ہے_و اذا قيل لهم تعالوا الى ما انزل الله و الى الرسول

٣_ پيغمبر اكرم (ص) كو حاكم اور منصف كے عنوان سے قبول نہ كرنا نفاق كى علامت ہے_و اذا قيل لهم تعالوا الى ما انزل الله و الى الرسول رايت المنافقين يصدّون عنك صدوداًّ

٤_ قرآن و پيغمبر اكرم (ص) (كتاب و سنت) كا ہم آہنگ ہونا اوركبھى جدا نہ ہونا_و اذا قيل لهم تعالوا الى ما انزل الله و الى الرسول اگر قرآن و سنت ميں ہم آہنگى نہ ہوتى اور ان ميں جدائي كا امكان ہوتا تو دونوں كى طرف رجوع كرنے كا حكم درحقيقت دو مخالفچيزوں كا حكم ہوتاجو حكمت خدا وندمتعال سے بعيد ہے_

٥_ قرآن اور پيغمبر اكرم(ص) (كتاب و سنت) كے درميان جُدائي ڈالنا منافقين كا شيوہ ہے_

و اذا قيل لهم تعالوا الى ما انزل الله و الى الرسول رايت المنافقين يصدّون عنك

۵۷۵

صدوداً

منافقين نے قرآن مجيد اور پيغمبراكرم(ص) كى طرف دعوت كے مقابلے ميں فقط پيغمبر اكرم(ص) سے اعراض كو عنوان بنايا ہے (يصدّون عنك) نہ كہ قرآن سے اعراض كو چونكہ آيت ميں يہ نہيں آيا كہ ''يصدّون عما انزل اليك''

٦_ پيغمبر اكرم (ص) كى قضاوت والى حاكميت سے روگردانى كرنے كے سبب منافقين كى توبيخ و مذمت _

رايت المنافقين يصدّون عنك صدوداً مذكورہ بالا مطلب ميں ''يصدّون'' كو فعل لازم كے طور پر لايا گيا ہے_ اس بنا پر ''صدّ'' كا معنى اعراض و روگردانى ہے_

٧_ پيغمبر اكرم(ص) كى قضاوت والى حاكميت كو قبول نہ كرنے كا بنيادى سبب نفاق ہے_

تعالوا رايت المنافقين يصدّون عنك صدوداً كلمہ ''المنافقين'' اعراض و روگردانى كرنے والوں كے اعمال كى علت و سبب كى طرف اشارہ ہے_ يعنى منافقين كا نفاق، پيغمبر اكرم(ص) كى حاكميت سے ان كے فرار كا سبب بنتا ہے_

٨_ پيغمبراكرم(ص) كا مقابلہ كرنے اور لوگوں كو آپ(ص) كى طرف رجوع كرنے سے روكنے كيلئے منافقين كا مسلسل كوشش كرنا_رايت المنافقين يصدّون عنك صدوداً فعل مضارع ''يصّدون''استمرار پر دلالت كرتا ہے_ ياد ر ہے كہ مذكورہ بالا مطلب ميں ''يصدّون''كو فعل متعدى اور ''الناس'' كو اس كا مفعول بنايا گيا ہے_ اس صورت ميں ''يصدّون'' بمعنى ''يمنعون''ہوگا_

آنحضرت(ص) : آنحضرت(ص) سے روگردانى ٦;آنحضرت(ص) كا نقش ٢ ; آنحضرت (ص) كى حاكميت كو قبول كرنا ١;آنحضرت (ص) كى قضاوت ٦ ; آنحضرت (ص) كى قضاوت كو ردّ كرنا ٣، ٧

احكام: ٢ احكام كا قبول كرنا ١

اختلاف: حل اختلاف كا مرجع ٢

رشد: رشد كے اسباب ١

قرآن كريم: قرآن كريم اور آنحضرت(ص) ٤، ٥ ; قرآن كريم اور سنت ميں ہم آہنگى ٤، ٥;قرآن كريم كا كردار ٢

منافقين: منافقين اور آنحضرت(ص) ٦;منافقين كا رويہ ٥، ٨

۵۷۶

;منافقين كى رخنہ اندازى ٨;منافقين كى سازش ٨; منافقين كى سرزنش ٦

نفاق: نفاق كے اثرات ٧;نفاق كے علائم ٣

واجبات: ٢

آیت(۶۲)

( فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَآؤُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلاَّ إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا ) پس اس وقت كياہوگا جب ان پر ان كے اعمال كى بناپرمصيبت نازل ہوگى اور وہ آپ كے پاس آكر خدا كى قسم كھائيں گے كہ ہمارا مقصد صرف نيكى كرنا اور اتحاد پيدا كرنا تھا _

١_ طاغوت كى طرف قضاوت كيلئے رجوع كرنا، رجوع كرنے والوں كيلئے مصائب و مشكلات ميں مبتلا ہونے كا باعث بنتا ہے_يريدون ان يتحاكموا الى الطّاغوت فكيف اذا اصابتهم مصيبصةٌ بما قدّمت گذشتہ آيت كے مطابق ''ماقدمت ايديھم'' كے مورد نظر مصاديق ميں سے ايك، قضاوت كيلئے طاغوت كى طرف رجوع كرنا ہے_

٢_ بعض مصائب و مشكلات، خدا و رسول(ص) كى نافرمانى كا نتيجہ ہيں _فكيف اذا اصابتهم مصيبة بما قدّمت ايديهم

بظاہر '' ثم جاؤك '' كے قرينے سے ''مصيبة'' سے مراد دنيوى مشكلات ہيں نہ كہ اخروي_

٣_ طاغوت كى طرف رجوع كا نتيجہ، عذاب قيامت ہے_ *فكيف اذا اصابتهم مصيبة بما قدمت ايديهم

يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''بما قدمت ايديھم'' كے قرينے سے جو كہ عام طور پر قرآن ميں قيامت كے بارے ميں آيا ہے، ''مصيبة''سے مراد عذاب قيامت ہو_پس ''ثم جاؤك'' گذشتہ آيت پر عطف ہوگا_ اس مطلب كى تائيد

۵۷۷

امام باقر(ع) و امام صادق(ع) كے اس فرمان سے بھى ہوتى ہے كہ:المصيبة هى الخسف والله بالمنافقين عند الحوض (١) اللہ كى قسم حوض كوثر كے پاس منافقين كى ذلت و رسوائي ہے_

٤_ سختى اور آسائش كے وقت، منافقين كا پيغمبراكرم(ص) اور دوسرے الہى رہبروں كے ساتھ دوغلا رويہ اختيار كرنا_

فكيف اذا ثم جاؤك يحلفون بالله ان اردنا الا احساناً منافقين، ابتلاء اور مصيبت سے پہلے، پيغمبر(ص) سے روگردانى كرتے ہوئے طاغوت كى طرف مائل رہتے ہيں _ ليكن جب مشكلات ميں پڑتے ہيں تو پيغمبر اكرم(ص) سے معذرت خواہى كرنے لگتے ہيں _

٥_ منافقين جب اپنے اعمال كے نتيجے ميں مشكلات و مصائب يا رسوائي و ذلت سے دوچار ہوتے تو پيغمبراكرم(ص) كى طرف رجوع كر كے معذرت خواہى كرنے لگتے_فكيف ثم جاؤك يحلفون بالله ان اردنا الاّ احساناً منافقين كى عذر خواہى كہ جس كا وہ جملہ ''ان اردنا''سے اظہار كرتے تھے ، دليل ہے كہ ''مصيبة''سے مراد وہ معنى ہے جو ذلت و رسوائي كو بھى شامل ہے_

٦_ منافقين كے حيلوں ميں سے ايك جھوٹ بولنا، خدا كى قصسم كھانا اور اپنے ناروا اعمال كى توجيہ اور عذر خواہى كرنا ہے_يصدّون عنك صدوداً ثم يحلفون بالله ان اردنا الا احساناً و توفيقاً ''يصدّون عنك''سے معلوم ہوتا ہے كہ احسان كے ارادے كا ادعا محض جھوٹ تھا_ بنابرايں ان كا يہ ادعا فقط اپنے ناروا اعمال كى توجيہ اور عذر خواہى ہے، نہ كہ اپنى غلطيوں سے آگاہ ہوكر حقيقى معذرت خواہى _

٧_ معاشروں اور قوموں كے مشكلات و مصائب ميں مبتلا ہونے كے اسباب ميں سے ايك، طاغوت كى طرف مائل ہونا اور شرعى احكام و دستورات كو پائمال كرنا ہے_و اذا قيل لهم فكيف اذا اصابتهم مصيبة بما قدمت ايديهم

٨_ منافقين كا مقدّسات سے سو ء استفادہ كرنا_يحلفون بالله

٩_جھوٹ كى بنا پر غلط كاموں كى توجيہ، نفاق كى علامت ہے_يريدون ان يتحاكموا ان اردنا الاّ احساناً و توفيقاً

____________________

١)تفسير قمى ج١ ص١٤٢_ نورالثقلين ج١ ص٥٠٩ ح٣٦٧_ تفسير عياشى ج١ ص٢٥٤ ح١٨١.

۵۷۸

١٠_ طاغوتى حكام كى طرف رجوع كرنے كے سلسلے ميں منافقين كى ايك ناروا توجيہ، صلح جوئي، مدارا اور نيكى كا ادعا كرنا ہے_يريدون ان يتحاكموا الى الطاغوت ان اردنا الاّ احساناً و توفيقاً

١١_ منافقين كے حيلوں ميں سے ايك صلح جوئي اور نيكى كا ادعا كرنا ہے_ان اردنا الاّ احساناً و توفيقاً

١٢_ منافقين كا يہ ظاہر كرناكہ قضاوت كيلئے ان كا طاغوت كى طرف رجوع كرنا، پيغمبراكرم(ص) پر ايمان نہ ركھنے كى بنا پر نہيں تھا_يريدون ان يتحاكموا الى الطّاغوت ان اردنا الاّ احساناً و توفيقاً جملہ ''ان اردنا''كا مفہوم يہ ہے كہ ہمارا مقصد پيغمبراكرم (ص) سے روگردانى كرنا نہيں تھا_ بلكہ ہم طرفين كے درميان صلح كرانا چاہتے تھا تاكہ اس طرح نيكى كرسكيں _

١٣_ منافقين كا، پيغمبر(ص) كى طرف قضاوت كيلئے رجوع نہ كرنے كى ايك ناروا توجيہ يہ ہے كہ وہ پيغمبر(ص) كے ساتھ نيكى كرنا چاہتے تھے_ان اردنا الاّ احساناً و توفيقاً

آنحضرت(ص) : آنحضرت (ص) كے ساتھ نيكى ١٣

تخلف: تخلف كى توجيہ ٩

رشد: رشد كے موانع ١

سختي: سختى كے اسباب ١، ٢،٧

طاغوت: طاغوت كو قبول كرنے كے اثرات ٣; طاغوت كى طرف ميلان كے اثرات ٧;طاغوت كى قضاوت قبول كرنا ١٢; طاغوت كى قضاوت كے اثرات ١

عذاب: عذاب كے موجبات ٣

عصيان: عصيان كے اثرات ٢

مصائب: مصائب كے اسباب، ٢

مقدسات: مقدسات سے سوء استفادہ ٨

۵۷۹

منافقين: منافقين اور آنحضرت(ص) ٤، ٥، ١٣;منافقين اور طاغوت ١٢;منافقين سختى كى حالت ميں ٤، ٥; منافقين كا جھوٹ بولنا ٦، ٩،١٠; منافقين كا رويہ ٤; منافقين كا صلح جُو ہونا ١٠، ١١;منافقين كا قسم كھانا ٦; منافقين كا مكر ٦;منافقين كا نفاق ٤، ٢ ١ ; منافقين كى توجيہ٦ ، ١٠

١٣;منافقين كى رسوائي ٥; منافقين كى صفات ٤، ٦; منافقين كى معذرت خواہى ٥،٦; منافقين كے برتاؤ كا طريقہ ٥، ٦، ٨، ١٠، ١٣ ; منافقين كے دعوے ١٠، ١١

نفاق: نفاق كے اثرات ٩

آیت( ۶۳)

( أُولَـئِكَ الَّذِينَ يَعْلَمُ اللّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِي أَنفُسِهِمْ قَوْلاً بَلِيغًا )

يہى وہ لوگ ہيں جن كے دل كا حال خداخوب جانتا ہے لہذا آپ ان سے كنارہ كش رہيں انھيں نصيحت كريں اور ان كے دل پر اثر كرنے والى موقع محل كے مطابق بات كريں _

١_ خداوندمتعال، منافقين كے اندرونى اسرار سے آگاہ ہےاولئك الّذين يعلم الله ما فى قلوبهم

٢_ خداوند متعال انسان كے اندورنى اسرار اور نيّتوں سے آگاہ ہے_يعلم الله ما فى قلوبهم

٣_ پيغمبراكرم(ص) كے مقابلے ميں اپنے ناروا اعمال كے بارے ميں منافقين كا بے بنياد بہانے بنانا_

ان اردنا الاّ احساناً و توفيقاً_ اولئك الّذين يعلم الله ما فى قلوبهم

٤_ خير خواہى اور صُلح جوئي كا ادعا كرنے ميں منافقين كا جھوٹا ہونا_ان اردنا الاّ احساناً و توفيقاً_ اولئك الذين يعلم الله ما فى قلوبهم

٥_ منافقين كے قول اور نيّت ميں دوغلا پن اور منافقت_

۵۸۰

581

582

583

584

585

586

587

588

589

590

591

592

593

594

595

596

597

598

599

600

601

602

603

604

605

606

607

608

609

610

611

612

613

614

615

616

617

618

619

620

621

622

623

624

625

626

627

628

629

630

631

632

633

634

635

636

637

638

639

640

641

642

643

644

645

646

647

648

649

650

651

652

653

654

655

656

657

658

659

660

661

662

663

664

665

666

667

668

669

670

671

672

673

674

675

676

677

678

679

680

681

682

683

684

685

686

687

688

689

690

691

692

693

694

695

696

697

698

699

700

701

702

703

704

705

706

707

708

709

710

711

712

713

714

715

716

717

718

719

720

721

722

723

724

725

726

727

728

729

730

731

732

733

734

735

736

737

738

739

740

741

742

743

744

745

746

747

748

749

750

751

752

753

754

755

756

757

758

759

760

761

762

763

764

765

766

767

768

769

770

771

772

773

774

775

776

777

778

779

780

781

782

783

784

785

786

787

788

789

790

791

792

793

794

795

796

797