• ابتداء
  • پچھلا
  • 6 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8005 / ڈاؤنلوڈ: 3005
سائز سائز سائز
معراج انسانیت

معراج انسانیت

مؤلف:
اردو

 نام کتاب: معراج انسانیت۔
مؤلف : سید العلما ثانی علامہ  سید علی نقی نقوی  ( نقن صاحب )۔
الناشر: امامیہ مشن پاکستان لاھور۔
تاریخ: ۔ ۱۳۸۵ہجری۔۱۹۶۶عیسوی۔
زبان:اردو ۔
موضوع: سیرت النبی الا عظم (ص)، سیرت رسول(ص)، سیرت خاتم النبین(ص) سیرت سید المرسلین(ص)حیات مقدسہ حضرت رسولِ اکرم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، معراج انسانیت۔
کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئےدرج ذیل لنک پر کلک کریں۔

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۷۶

 

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الحمد الله رب العالمین والصلوة علی سیدالانبیآء والمرسلین واله الطاهرین

انسانی رفعت

( لَقَدْ خَلَقْناَ الْاِنْساَنَ فِی اَحْسَنِ تَقْوِیْم)

یہ قرآنی آیت انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی دلیل ہے چونکہ دنیا نے انسان کے صحیح مقام کو نہ سمجھا، اس لئے اس کے کردار کا بھی صحیح تعین نہ ہو سکا اور نقطہ نگاہ میں بلندی پیدا نہ ہو سکی۔

ظاہر ہے کہ ہمیشہ مقصد ذریعہ سے اونچا ہوتا ہے جو شے پست ہو گی اس کا مصرف اسی نسبت سے پست ہو گا اور جو چیز بلند ہو گی اس کا مقصد اسی لحاظ سے بلند تر ہو گا

اگر انسان اپنے درجہ و مقام کو سمجھ لے تو اپنے مقصدِ ہستی اور مصرفِ زندگی کی بلندی کا احساس ہو اور یہی اس کی بلندکرداری کی ضمانت ہو گی۔ پھر اسی ایک چیز کے سمجھ لینے سے اس کی حقیقی ترقی اور تنزل کا سمجھنا بھی آسان ہو جائے گا اس لئے کہ ہر شے کی ترقی اس خصوصیت امتیازی کے ارتقاء کے ساتھ ہے جو اس شے کا جوہر خصوصی ہے۔

انسان اگر تمام دوسری کائنات سے الگ کوئی شے ہوتا تو اس کا سمجھنا آسان ہوتا مگر یہ تو باقی کائنات کے ساتھ بہت سی مشترک حیثیتوں میں متحد ہے یہ جسم رکھتا ہے اس اعتبار سے پتھروں کے ساتھ حصہ دار ہے۔ نشوونما رکھتا ہے اس لحاظ سے درختوں کے ساتھ ہم مرتبہ ہے۔ احساس و حرکت ارادی رکھتا ہے اس حیثیت سے حیوانوں میں شامل ہے اور پھر کوئی خاص جوہر رکھتا ہے جس کی بدولت یہ انسان ہے اور ان سب سے ممتاز ہے۔

انسان کو اگر ان پہلوؤں کے لحاظ سے دیکھا جائے جو دوسروں کے ساتھ مشترک ہیں تو اسے اشرف المخلوقات سمجھنا ہی غلط معلوم ہو گا اس لئے کہ ان تمام چیزوں میں وہ دوسروں سے کم نظر آئے گا۔ بلند محسوس بھی نہ ہو گا۔ جسمیت میں وہ پہاڑوں کے برابر نہیں ہے۔ نشوونما میں درختوں کے مثل نہیں۔ قوت سامعہ، باصرہ یا شامہ اکثر حیوانات کی انسان سے بہت زیادہ طاقتور ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا برتر ہونا ان مشترک جہات کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ اس کی بلندی اس مخصوص جوہر کے لحاظ سے ہے جو اس میں ہے اور کسی دوسرے میں نہیں ہے وہ کیا چیز ہوسکتی ہے؟ علم اور عمل۔

انسانی علم و عمل کی خصوصیت

علم کے معنی اگر بس جاننے کے ہیں اور یہی اس دور میں معیار علم سمجھا جاتا ہے دنیا کے ممالک کی وسعتیں اور مردم شماریاں جان لیں۔ پہاڑوں کی اونچائیاں اور دریاؤں کی گہرائیاں جان لیں۔ سیاروں کے فاصلے زمین سے اور ان کی پیمائش معلوم کر لیں نباتات کے خواص او رپتھروں کی کیفیات معلوم کر لیں۔

اگر یہی علم بمعنی "دانستن" انسان کا خاص جوہر ہے تو کون کہتا ہے کہ حیوان علم سے بے بہرہ ہے۔ حیوان بھی بہت کچھ جانتا ہے اپنے رہنے کی جگہ کو جانتا ہے اپنے کھانے کی غذا کو جانتا ہے۔ اپنے غذا دینے والے کو پہچانتا ہے۔ اپنے حفظان صحت کے اصول جانتا ہے۔ اسی لئے جنگل میں کوئی جانور بیمار نہیں پڑتا۔ بے شک انسانوں کے غیرطبعی ماحول میں آ کر وہ بیمار پڑنے لگتا ہے۔ اسی طرح اگر عمل کے معنی بس کچھ نہ کچھ کام کرنے کے ہیں تو حیوان بھی عمل سے خالی نہیں ہے۔ وہ بقدر امکان اپنی غذا کے حصول کے ذرائع مہیا کرتا ہے جو ا س کے مقصد میں سدراہ ہو اسے دفع کرتا ہے اور اپنے حریف سے بقدر امکان مقابلہ کرتا ہے۔

پھر آخر وہ علم اور عمل جو انسان سے مخصوص ہے کیا ہے۔؟

ہم جہاں تک سمجھ سکے ہیں علم کے شعبہ میں انسان کا امتیاز خصوصی دو باتوں سے ہے۔ ایک یہ کہ حیوان کا علم محسوسات کے دائرہ میں اسیر ہے پہلے جو میں نے کہا کہ وہ اپنے غذا دینے والے کو پہچانتا ہے یہ پورے طور پر درست نہیں ہے حقیقت میں وہ پہچانتا ہے جس کے ہاتھ میں غذا پاتا ہے جو اصل غذا کا دینے والا ہے اگر اس کے سامنے نہیں آتا اور انپے ہاتھ سے غذا نہیں دیتا تو وہ اسے نہیں پہچانے گا۔ اب اگر انسان کا علم بھی ایسا ہو کہ جس رئیس سے ملا اسی کو ولی نعمت جان لیا۔ جس نے تنخواہ دی اسی کو خدا سمجھ لیا تو پھر حیوان اور انسان میں کوئی فرق نہیں۔

انسان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ عالم احساس و مشاہدہ کے ماوراء اپنی عقل کی مدد سے کچھ حقیقتوں کا پتہ لگاتا اور ان کا تیقن کرتا ہے اور وہی ایمان بالغیب کا سرچشمہ ہوتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ حیوانی علم محدود ہے یعنی جتنا اسے واہب العطا یا کی طرف سے مل گیا بس اتنا ہی ہے۔ شہد کی مکھی بس مسدس خانے بنانا جانتی ہے اور وہ بہترین بناتی ہے کوئی مہندس بغیر پرکار کی مدد کے اتنے متوازن خانے نہیں بناتا لیکن جو شکل اس کی فطرت میں داخل ہے بس وہی بنا سکتی ہے۔ مربع و مثلث وغیرہ نہیں بنا سکتی اسی طرح تارِ عنکبوت بے نظیر صنعت ہے مگر اس کی شکل بدلنا اس کے امکان میں نہیں ہے لیکن انسانی علم؟ اس کا کام ہے معلومات سے مجہولات کا پتہ لگانا۔ یہ اپنے علم میں برابر ترقی کرتا رہتا ہے۔

(اس کا بیان رسائل "اسلام کی حکیمانہ زندگی" اور "زندگی کا حکیمانہ تصور" میں تفصیل کے ساتھ ہوا ہے)

عمل کی منزل میں انسان کی خاص صفت یہ ہے کہ حیوان کے افعال بتقاضائے طبیعت ہوتے ہیں۔ اس سے بحث نہیں کہ بامحل ہیں یا بے محل۔ مگر انسان میں سوجھ بوجھ۔ حق اور ناحق کا امتیاز اور صحیح و غلط میں امتیاز کی قوت ہے اور اسی اعتبار سے مختلف افراد کی انسانیت کے مدارج قائم ہوتے ہیں۔

اکثر افراد ایسے ہیں جن کی صورت انسان کی ہے مگر کردار حیوانی ہے وہ یہ ہیں۔ جن کے افعال طبیعت کے تقاضے سے ہوتے ہیں۔ ایک شخص کی طبیعت میں غیرمعمولی غصہ ہے وہ بارود کا خزانہ ہے ذرا سی بات پر مشتعل ہو جاتا ہے۔ اس سے اس جوش غضب کے ماتحت کبھی ایسے افعال بھی ممکن ہے وقوع میں آ جائیں جو نتائج کے اعتبار سے ممدوح و مستحسن ہوں جیسے مظلوم کی حمایت میں اسے غصہ آ جائے اور یہ بڑھ کر ظالم کو دفعہ کر دے مگر چونکہ اس کا غیض و غضب بتقاضائے طبیعت ہے اس لئے دوسرے وقت اس شخص سے خود کسی بے گناہ پر ظلم ہو گا اور یہ اپنے غصہ کی وجہ سے ایسے اقدامات کر ڈالے گا جو عقلاً و شرعاً کسی صورت سے بھی ممدوح و مستحسن نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح ایک آدمی ہے گیلی مٹی کا بنا ہوا جسے کبھی غصہ ہی نہیں آتا۔ یہ بعض اوقات ایسے محل پر سکوت کرے گا جہاں کوئی اقدام بڑے فتنہ و فساد اوربرے نتائج کا باعث ہو اس وقت سب اس کی تعریف کریں گے کہ کیا کہنا۔ اس نے اپنے حلم وتحمل سے کتنے بڑے فساد کو روک لیا۔ لیکن چونکہ یہ سکوت و سکون کسی احساس فرض کا نتیجہ نہیں بلکہ طبیعت کا تقاضا ہے۔ اس لئے یہی شخص ایسے مواقع پر بھی سکوت کر جائے گا جہاں خاموشی ظلم و تشدد کی ہمت افزائی کا سبب ہے یہ انسانی کردار نہیں ہے۔

انسانی کردار کی بلندی

انسان کی بلندی عقل و تدبر کے استعمال اور فرضی شناسی میں ہے اس صفت کے کمال اور نقص سے اس کی بلندی اور پستی کے حدود متعین ہوتے ہیں یہی وہ تقویٰ ہے جسے قرآن نے معیارِ فضلیت بشری قرار دیا ہے۔ ان اکرمکم عنداللّٰہ اتقاکم (یعنی) "تم میں زیادہ صاحب عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ "

فرائض ہمیشہ ایک ہی شکل و صورت پر نہیں ہوتے کوئی بڑے سے بڑا حکیم و دانشمند فرائض کی کوئی ایسی فہرست نہیں مرتب کرسکتا جو ہر شخص کے لئے ہر حال میں قابل ادائی ہو۔ سچ بولنے ہی کو لیجئے۔ یہ بے شک انسانی فرض ہے مگر کیا ہر موقع پر؟ مثال کے طور پر کوئی ظالم شمشیر بکف کسی مظلوم کے تعاقب میں ہو، وہ اس کی نظر بچا کر ہماری آنکھوں کے سامنے کہیں مخفی ہو جائیں۔ اب وہ ظالم ہم سے پوچھے کہ کیا تم نے دیکھا ہے وہ کس طرف گیا ہے؟ اب کیا ہمیں سوچ بولنا چاہئے؟ یقیناً اگر ہم نے سچ سچ کہہ دیا تو ظالم کی تلوار ہو گی اور مظلوم کا گلا ہو گا، اور اس خونِ ناحق کی ذمہ داری ہمارے سچ پر ہو گی۔

متعدد گناہان کبیرہ ہیں جو سچ سچ کہنے ہی سے وقوع میں آتے ہیں مثلاً نمامی یعنی لگائی بجھائی کرنا۔ چغلی کھانا۔ یہ سچ ہی ہوتا ہے جھوٹ نہیں ہوتا مگر وہ بہت بڑا گناہ ہے۔ اسی طرح غیبت گناہِ کبیرہ ہے۔ وہ بھی سچ ہی کہنے سے ہوتی ہے معلوم ہوا کہ ہر صورت میں سچ کہنا فریضہ انسانی نہیں ہے۔

اسی طرح امانت واپس کرنا۔ ضرور انسانی فریضہ ہے مگر اسی صورت میں کہ جب کوئی ظالم مظلوم کے قتل کا ارادہ رکھتا ہو اگر اس نے اپنی تلوار اتفاق سے ہمارے پاس امانت رکھوائی ہو۔ اب اس وقت وہ اپنی تلوار ہم سے مانگے تو ہرگز ہم کو نہ دینا چاہئے ورنہ ہم شریکِ قتل ہوں گے۔

مذہبی حیثیت سے عبادات میں سب سے اہم نماز ہے لیکن اگر کوئی ڈوبتا ہو او راس کا بچانا نماز توڑنے پر موقوف ہو تو نماز کاتوڑ دینا واجب ہو گا۔ اگر وہ ڈوب گیا اور نماز پڑھتے رہے تو یہ نماز بارگاہِ الٰہی سے مسترد ہو جائے گی۔ کہ میرا بندہ ڈوب گیا اور تم نماز پڑھتے رہے مجھے ایسی نماز نہیں چاہئے۔ معلوم ہوا کہ فرائض اور عبادات باعتبارحالات و واقعات بدلتے رہتے ہیں۔ فرائض کی یہی نگہداشت جوہرِ انسانیت ہے۔

انسانِ کامل کی شان:

فرض شناس انسان کے افعال بتقاضائے طبیعت نہیں ہوتے بلکہ بتقاضائے فرض ہوتے ہیں اس کا عمل انتہاپسندی کے دو نقطوں کے درمیان ہوتا ہے اسی کا نام عدل و اعتدال ہے، جو معیار حسنِ اخلاق ہے اور چونکہ عام افراد بشر عموماً طبیعتوں کے تقاضوں میں اسیر ہوتے ہیں اور افراط و تفریط میں مبتلا۔ اس لئے بلند افراد انسان کے خلاف عموماً دو طرف سے اعتراضات ہوتے ہیں۔ ایک ادھر والے انتہاپسندوں کی طرف سے اور دوسرے ادھر والے انتہاپسندوں کی جانب سے مگر وہ کبھی ان اعتراض کی پروا نہیں کرتے انہیں تو فرائض کے ادا کرنے سے مطلب ہوتا ہے۔

انسان کامل کے اعمال سطحی نگاہ والوں کو بسااوقات متضاد نظر آتے ہیں مگر ان میں حقیقتاً کوئی تضاد نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ مختلف حالات کے جداگانہ تقاضے ہوتے ہیں جو اس کے افعال میں ظاہر ہوتے ہیں۔

اس کے لئے ہمارے سامنے چودہ سیرتیں موجود ہیں جن میں سب سے مقدم حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی(ص) کی سیرتِ پاک ہے۔

معراجِ انسانیت سیرتِ حضرت خاتم الانبیاء کی روشنی میں

آپ چالیس برس کی عمر میں معبوث برسالت ہوئے۔ ۱۳ سال ہجرت کے قبل مکہ کی زندگی ہے اور دس سال بعد ہجرت مدینہ کی زندگی۔

یہ تینوں دور بالکل الگ الگ کیفیت رکھتے ہیں جن میں سے ہر دور بالکل یک رنگ ہے۔ کسی تلون اور غیرمستقل مزاجی کا مظہر نہیں ہے مگر وہ سب دور آپس میں بہت مختلف ہیں۔

پہلے چالیس برس کی مدت میں زبان بالکل خاموش اور صرف کردار کے جوہر نمایاں یہی آپ کی سچائی کا ایک نفسیاتی ثبوت ہے۔ کیونکہ جو غلط دعویدار ہوتے ہیں ان کے بیانات و اظہارات کی رفتار کو دیکھاجائے تو محسوس ہو گا کہ وہاں پہلے ان کے دل و دماغ میں تصور آتا ہے کہ ہمیں کوئی دعویٰ کرنا چاہئے مگر انہیں ہمت نہیں ہوتی اس لئے وہ کچھ مشتبہ الفاظ کہتے ہیں جن سے کبھی سننے والوں کو وحشت ہوتی ہے اور کبھی اطمینان پھر وہ رفتہ رفتہ قدم آگے بڑھاتے ہیں پہلے کوئی ایسا دعویٰ کرتے ہیں جس کو تاویلات کا لباس پہنا کر رائے عامہ کے مطابق بنایا جا سکے یا جس کی حقیقت کو صرف خاص خاص لوگ سمجھ سکیں۔ اور عام افراد محسوس نہ کریں۔ جب جھجک نکل جاتی ہے تو پھر جی کڑا کرکے کھل کر دعویٰ کر دیتے ہیں۔ اس کی قریبی مثالیں علی محمد باب اور غلام احمد قادیانی میں بہت آسانی سے تلاش کی جا سکتی ہیں۔

حضرت پیغمبر اسلام کی زبان سے چالیس برس تک کوئی لفظ ایسی نہیں نکلی جس سے لوگ ادعائے رسالت کا توہم بھی کر سکتے یا کوئی بے چینی اس حلقہ میں پیدا ہوتی۔ غلط سے غلط روایت بھی ایسی نہیں جو بتائے کہ کفار نے کسی آپ کی لفظ سے ایسے دعویٰ کا احساس کیا ہو جس پر ان میں کوئی برہمی پیدا ہوئی ہو اور پھر آپ کو اس کے متعلق صفائی پیش کرنے کی ضرورت ہوئی ہو۔ بلکہ اس دو میں آپ کا کام صرف اپنی سیرتِ بلند کی عملی تصویر دکھانا تھی جس نے ایک مقناطیسی جذب کے ساتھ دلوں کو تسیخر کر لیا تھا اور آپ کی ہردلعزیزی ہمہ گیر حیثیت رکھتی تھی۔ اس کے بعد چالیس برس کی عمر میں جب دعوائے رسالت کیا تو وہ بالکل وہی تھا جو آخر تک آپ کا دعویٰ رہا۔ یہ نہیں ہوا کہ پہلے اس دعویٰ میں خفت ہو، پھر شدت پیدا ہو۔ یا پہلے دعویٰ کچھ ہو اور پھر رفتہ رفتہ اس میں ترقی ہوئی ہو۔

اب اس دعویٰ رسالت کے بعد آپ کو کتنے مصائب و تکالیف برداشت کرنا پڑے وہ سب کو معلوم ہیں۔ یہ پرآشوب دور وہ تھا کہ جب سر مبارک پر خس و خاشاک پھینکا جاتا تھا، جسم اقدس پر پتھروں کی بارش ہوتی تھی۔ تیرہ برس اس طرح گزرتے ہیں مگر ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوتا کہ ان کا ہاتھ تلوار کی طرف چلا جائے اور ارادہ جہاد کا کیا جائے۔

اگر کوئی رسول کی زندگی کے صرف اس دور ہی کو دیکھے تو یقین کرے گا کہ جیسے آپ مطلق عدم تشدد کے حامی ہیں یہ مسلک اتنا مستقل ہے کہ کوئی ایذارسائی، کوئی دل آزاری اور کوئی طعن و تشنیع آپ کو اس راستے سے نہیں ہٹا سکتی۔ پہلے چالیس برس ہی کی طرح اب یہ رنگ اتنا گہرا اور یہ مسلک اتنا راسخ ہے کہ اس کے درمیان کوئی ایک واقعہ بھی اس کے خلاف نمودار نہیں ہوتا۔ کوئی بے بس اور بے کس بھی ہو تو کسی وقت تو اسے جوش آہی جاتا ہے اور وہ جان دینے اور جان لینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے پھر چاہے اسے اور زیادہ ہی مصائب کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں مگر ایک دو برس نہیں تیرہ سال مسلسل اس غیرمتزلزل صبر و سکون کے ساتھ وہی گزار سکتا ہے جس کے سینہ میں وہ دل اور دل میں وہ جذبات ہی نہ ہوں جو جنگ پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

اسی درمیان میں وہ وقت آتا ہے کہ مشرکین آپ کے چراغ زندگی کے خاموش کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں اور ایک رات طے ہو جاتی ہے کہ اس رات سب مل کر آپ کو شہید کر ڈالیں۔ اس وقت بھی رسول تلوار نیام سے باہر نہیں لاتے۔ کسی مقاومت کے لئے کھڑے نہیں ہوتے بلکہ بحکمِ خدا شہر چھوڑ دیتے ہیں۔ جو معرفت محمد نہ رکھتا ہو وہ اس ہٹنے کو کیا سمجھے گا؟ یہی تو کہ جان کے خوف سے شہر چھوڑ دیا۔ اور پھر حقیقت بھی یہ ہے کہ جان کے تحفظ کے لئے یہ انتظام تھا مگر فقط جان نہیں بلکہ جان کے ساتھ ان مقاصد کا تحفظ جو جان کے ساتھ وابستہ تھے بہرحال اس اقدام یعنی ترک وطن کو کوئی کسی لفظ سے تعبیر کرے مگر اسے دنیا مظہر شجاعت تو نہیں سمجھے گی اور صرف اس عمل کو دیکھ کر اگر اس ذات کے بارے میں کوئی رائے قائم کرے گا تو وہ حقیقت کے مطابق نہیں ہو سکتی بلکہ گمراہی کا ثبوت ہو گی۔

اب ترپن برس کی عمر ہے اور آگے بڑھاپے کے بڑھتے ہوئے قدم ہیں بچپنا اور جوانی کا اکثر حصہ خاموشی میں گزرا ہے پھر جوانی سے لے کر ادھیڑ عمر کی منزلیں پتھر کھاتے اور برداشت کرتے گزر رہی ہیں اور آخر میں اب جان کے تحفظ کے لئے شہر چھوڑ دیا ہے بھلا کسے تصور ہو سکتا ہے کہ جو ایک وقت میں عافیت پسندی سے کام لیتے ہوئے شہر چھوڑ دے وہ عنقریب فوجوں کی قیادت کرتا ہوا نظرآئے گا حالانکہ مکہ ہی نہیں بلکہ مدینہ میں آنے کے بعد بھی آپ نے جنگ کی کوئی تیاری نہیں کی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک سال کی مدت کے بعد جب دشمنوں کے مقابلہ کی نوبت آئی تو آپ کی جماعت میں جو کل جمع ۳۱۳ آدمیوں پر مشتمل تھی صرف ۱۳ عد تلواریں تھیں اور دو گھوڑے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایک سال کی تیاری کا نتیجہ یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ جبکہ اس ایک سال میں تعمیری خدمات بہت سے انجام پا گئے۔ مدینہ میں کئی مسجدیں بن گئیں مہاجرین کے قیام کے لئے مکانات تیار ہو گئے۔ بہت سے دیوانی و فوجداری کے قوانین نافذ ہوگئے اور اس طرح جماعت کی مملکتی تنظیم ہو گئی مگر جنگ کا کوئی سامان فراہم نہیں ہوا۔ اس سے بھی پتہ چل رہا ہے کہ آپ کی طرف سے جنگ کا کوئی سوال نہیں ہے مگر جب مشرکین کی طرف سے جارحانہ اقدام ہو گیا تو اس کے بعد بدر ہے، احد ہے، خندق ہے، خیبر ہے اور حنین ہے۔ پھر یہ نہیں کہ اپنے گھر میں بیٹھ کر فوجیں بھیجی جائیں اور فتوحات کا سہرا اپنے سر باندھا جائے بلکہ رسول خدا کا کردار یہ ہے کہ چھوٹے اور غیراہم معرکوں میں تو کسی کو سردار بنا کر بھیج دیا ہے مگر ہر اہم اور خطرناک موقع پر فوج کے سردار خود ہوتے ہیں اور یہ نہیں کہ اصحاب کو سپر بنائے ہوئے ان کے حصار میں ہوں۔ بلکہ اسلام کے سب سے بڑے سپاہی حضرت علی بن ابی طالب کی گواہی ہے کہ جب جنگ کا ہنگامہ انتہائی شدت پر ہوتا تھا تو ہمیشہ رسول اللہ ہم سب سے زیادہ دشمن کے قریب ہوتے تھے پھر یہ بھی نہیں کہ یہ قیام فوج کے سہارے پر ہو بلکہ احد میں یہ موقع بھی آ گیا کہ سوا دو ایک کے باقی سب مسلمانوں سے میدان جنگ خالی ہو گیا۔ مگر اس وقت وہ جو کچھ پہلے ظاہر جان کے تحفظ کے لئے شہر چھوڑ چکا تھا وہ اس وقت خطرہ کی اتنی شدت کے ہنگا م میں جب آس پاس کوئی بھی سہارا دینے والا نظر نہیں آتا اپنے موقف سے ایک گام بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ زخی ہو جاتے ہیں، چہرہ خون سے تر ہو جاتا ہے خود کی کڑیاں ٹوٹ کر سر کے اندر پیوست ہو جاتی ہیں۔ دندان مبارک مجروح ہو جاتے ہیں۔ مگر اپنی جگہ سے قدم نہیں ہٹاتے۔

اب کیا عقل و انصاف کی رو سے مکہ سے ہجرت کو خوف جان سے اس معنی میں سمجھا جا سکتا ہے جس سے شجاعت پر دھبا آئے؟ ہرگز نہیں۔ یہی ہم نے پہلے کہا تھا کہ صرف اس عمل کو دیکھ کر جو رائے قائم کی جائے گی وہ گمراہی کا ثبوت ہو گی اس گمراہی کا پردہ اب اس وقت تو یقیناً چاک ہو جانا چاہئے۔

شجاعت رسول کی حقیقی معرفت شیرِ خدا حضرت علی مرتضی کو تھی۔ جنگِ احد میں قتل محمد کی آواز تھی جس نے کل فوجِ اسلام کے قدم اکھاڑ دیئے۔ اور اس تصور نے علی پر کیا اثر کیا۔ اسے خود آپ نے بعد میں بیان کیا ہے کہ میں نے نظر ڈالی تو رسول اللہ نظر نہ آئے۔ میں نے دل میں کہا کہ دو ہی صورتیں ہیں۔ یا وہ شہید ہو گئے اور یااللہ نے عیسیٰ کی طرح انہیں آسمان پر اٹھا لیا۔ دونوں صورتوں میں میں اب زندہ رہ کر کیا کروں گا۔ بس یہ سوچنا تھا کہ نیام توڑکر پھینک دیا اور تلوار لے کر فوج میں ڈوب گئے۔ جب فوج ہٹی تو رسول نظر آئے۔ دیکھنے کی یہ چیز ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب کو صرف یہی دو تصور ہوئے۔ رسول شہید ہو گئے یا خدا نے آسمان پر اٹھا لیا۔ یہ توہم بھی نہیں ہوا کہ شاید رسول بھی میدان سے کسی گوشہ عافیت کی طرف چلے گئے ہوں۔ یہ علی کا ایمان ہے رسول کی شجاعت پر۔

عیسائیوں نے رسول کی تصویر صرف اسی دور جنگ آزمائی کی یوں کھینچی کہ ایک ہاتھ میں قرآن ہے اور ایک ہاتھ میں تلوار۔ مگر جس طرح رسول کی صرف اس زندگی کو سامنے رکھ کر وہ رائے قائم کرنا غلط تھا کہ آپ مطلق عدم تشدد کے حامی ہیں یا سینہ میں وہ دل ہی نہیں رکھتے جو معرکہ آرائی کر سکے اسی طرح صرف اس دوسرے دور کو سامنے رکھ کر یہ تصویر کھینچنا بھی ظلم ہے کہ بس قرآن ہے اور تلوار۔

آخر یہ کس کی تصویر ہے؟ محمد مصطفی کی نا؟ تو محمد نام تو اس پوری سیرت کی مالک ذات کا ہے جس میں وہ چالیس برس بھی ہیں وہ تیرہ برس بھی ہیں اور اب یہ دس برس بھی ہیں۔ پھر اس ذا ت کی صحیح تصویر تو وہ ہو گی جو زندگی کے ان تمام پہلوؤں کو دکھا سکے۔ یہ صرف ایک پہلو کو نمایاں کرنے والی تصویر تو حضرت محمد مصطفی(ص) کی نہیں سمجھی جا سکتی۔

پھر اس دس برس میں بھی بدر واحد، خندق و خیبر سے آگے بڑھ کر ذرا حدیبیہ تک بھی تو آئیے۔ یہاں پیغمبر کسی جنگ کے ارادہ سے نہیں بلکہ حج کی نیت سے مکہ معظمہ کی جانب آ رہے ہیں۔ ساتھ میں وہی بلند حوصلہ فتوحات حاصل کئے ہوئے سپاہی ہیں جو ہر میدان سر کرتے رہے ہیں اور سامنے مکہ میں وہی شکست خوردہ جماعت ہے جو ہر میدان میں ہارتی رہی ہے اور اس وقت وہ بالکل غیرمنظم اور غیرمرتب بھی ہے پھر بھی ان کی حرکت مذبوجی ہے کہ وہ سدراہ ہوتے ہیں کہ ہم حج کرنے نہ دیں گے۔ عرب کے بین القبائلی قانون کی رو سے حج کا حق کعبہ میں ہر ایک کو تھا۔ ان کا رسول کے سدراہ ہونا اصولی طور پر بنائے جنگ بننے کے لئے بالکل کافی تھا مگر پیغمبر نے اس موقع پر اپنے دامن کو چڑھائی کرکے جنگ کرنے کے الزام سے بری رکھتے ہوئے صلح کرکے واپسی اختیا رکی اور صلح بھی کیسے شرائط پر؟ ایسے شرائط پر جنہیں بہت سے ساتھ والے اپنی جماعت کے لئے باعث ذلت سمجھ رہے تھے اور جماعت اسلام میں عام طور سے بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ ایسی شرطیں تھیں جیسی ایک فاتح کسی مفتوح سے منواتا ہے اس وقت واپس جائیے اس سال حج نہ کیجئے آئندہ سال آئیے گا صرف تین دن تک مکہ میں رہئے گا۔ چوتھے دن آپ میں سے کوئی نظر نہ آئے گا دوران سال میں ہم میں سے کوئی بھاگ کر آپ کے پاس جائے تو آپ کو واپس کرنا پڑے گا اور آپ میں سے کوئی بھاگ کر ہمارے پاس آئے تو ہم واپس نہیں کریں گے۔ انہیں یہ شرائط پیش کرنے کی ہمت کیوں ہوئی؟ یقیناً صرف اس لئے کہ وہ مزاج نبوت سے یہ سمجھ لئے تھے کہ آپ اس وقت جنگ نہیں کریں گے۔ بس کم ظرف جب یہ سمجھ لیتا ہے کہ مقابل تلوار نہیں اٹھائے گا تو وہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ آپ نے سب شرائط منظور کر لئے اور واپس تشریف لے گئے۔

اس کے بعد جب مشرکین کی طرف سے عہدشکنی ہوئی اور حضرت فاتحانہ حیثیت سے مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تو اس وقت گزشتہ واقعات کی بنا پر ایک انسان کے کیا جذبات ہو سکتے ہیں؟ جنہوں نے تیرہ برس جسم مبارک پر پتھرے مارے جنہوں نے توہین و ایذارسانی میں کوئی وقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ ان کے ہاتھوں وطن چھوڑنا پڑا۔ اور اس کے بعد بھی انہوں نے چین لینے نہ دیا۔ بلکہ جب تک دم میں دم رہا بار بار خونریز حملے کرتے رہے جس میں کتنے ہی عزیز اور دوست خاک و خون میں تڑپتے نظر آئے۔ خصوصیت کے ساتھ اپنے ہمدرد چچا جناب حمزہ کا بعدِ قتل سینہ چاک ہوتے دیکھنا۔ آج وہی جماعت سامنے تھی اور بالکل بے بس، اپنے قبضے میں یہ وقت تھا کہ ان کے گزشتہ تمام بہیمانہ حرکات کی آج سزا دی جاتی، مگر اس مجسم رحمت الٰہی نے جب انہیں بے بس پایا تو عام اعلان معافی کر دیا۔ اور ایک قطرہ خون زمین پر گرنے نہ دیا۔

اب دنیا بتائے کہ پیغمبر جنگ پسند تھے یا امن پسند؟ حقیقتہً ان کی جنگ یا صلح کوئی بھی جذبات کی بناء پر نہ تھی بلکہ فرائض کے ماتحت کام ہوتات ھا جس وقت فرض کا تقاضا خاموشی تھی خاموش رہے اور جب حالات کے بدلنے سے ضرورت جنگ کی پڑ گئی جنگ کرنے لگے۔ پھر جب امکانِ صلح پیدا ہو گیا اور بلندی اخلاق کا تقاضا صلح کرنا ہوا تو صلح کر لی۔ اور جب دشمن بالکل بے بس ہو گیا تو عفو و کرم سے کام لے کر اسے معاف کر دیا۔

یہ سب باختلافِ حالات فرائض کی تبدیلیاں ہیں جو آپ کے کردار میں نمایاں ہوتی رہی ہیں۔ فرائض کی یہی پابندی طبیعت کے دباؤ سے جتنی آزاد ہو، وہی معراج انسانیت ہے۔

معراجِ انسانیت سِیرت حضرت سّید الا وصیٰاء کی روشنی میں

رسول کے بعد دوسری معیاری شخصیت جو ہمارے سامنے ہے وہ حضرت علی بن ابی طالب کی ہے۔

آپ کی دس سال کی عمر ہے جب پیغمبر مبعوث برسالت ہوتے ہیں اور علی بن ابی طالب ان کی رسالت کے گواہ ہوتے ہیں۔ یہ پہلے ہی سے رسول کی آغوشِ تربیت میں تھے اس اسی آغوش میں دعوتِ اسلام کی پرورش شروع ہوئی۔ یوں کہنا چاہئے کہ اسلام نے آنکھ کھول کر انہیں دیکھا اور ان کی نگاہ وہ تھی کہ اعلانِ رسالت کے پہلے رسول کی رسالت کو دیکھ رہے تھے۔ خود اپنے بچپن کی کیفیت نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں بتائی ہے کہ:

کُنتْ اَتبِعهْ اِتَبّاعَ الفَصیل اثرَامُّه اشّم رِیح النّبوة واری نورالرسالة

میں رسول کے پیچھے یوں رہتا تھا جیسے ناقہ کا بچہ ناقہ کے پیچھے رہتا ہے۔ میں نبوت کی خوشبو سونگھتا تھا اور رسالت کی روشنی دیکھتا تھا۔

اب ظاہر ہے کہ ان کو رسول سے کتنا انس ہونا چاہئے۔ پھر وہ قرابت کی محبت الگ جو بھائی ہونے کے اعتبار سے ہوناچاہئے اور وہ الگ جو بحیثیت ایک گھر میں رہنے کے ہونا چاہئے اور وہ اس کے علاوہ جو اپنے مربی سے ہونا چاہئے اور وہ اس کے ماوراء جو ان سے بحیثیت رسول اور ان کے پیغام سے بحیثیتِ حقانیت ہونا چاہئے۔

ابھی اگرچہ دس برس کی عمر ہے مگر عرب اور بنی ہاشم کے اور وہ بھی اس وقت کے دس برس کے بچے کو اپنے ہندوستان کا اس زمانہ کا دس برس کا بچہ نہ سمجھنا چاہئے اور پھر وہ بھی علی ایسا بچہ۔ پھر اس وقت تو دس ہی برس کی عمر ہے مگر اس کے بعد ۱۳ برس رسول کے مکہ میں گزرنا ہیں، اور یہی انتہائی پرآشوب اور تکلیف و شدائد سے بھرا ہوا دور ہے۔ ہجرت کے وقت علی بن ابی طالب کی عمر ۲۳ برس ہوئی، دس برس سے ۲۳ برس کا درمیانی وقفہ وہ ہے جس میں بچپنا قدم بڑھاتا ہوا مکمل شباب کی منزل تک پہنچتا ہے۔ یہ زمانہ جوش و خروش کا ہوتا ہے یہ زمانہ ولولہ و امنگ کا ہوتا ہے۔ بڑھتی ہوئی حرارت، شباب کی منزلیں اس دور میں گزر رہی ہیں۔ عام انسانوں کے لئے یہ دور وہ ہوتا ہے جس میں نتائج و عواقب پر نظر کم پڑتی ہے انسان ہر دشوار منزل کو سہل اور ہر ناممکن کو ممکن تصور کرتا ہے اور مضرتوں کا اندیشہ دماغ میں کم لاتا ہے۔ یہاں یہ دور اس عالم میں گزر رہا ہے کہ اپنے مربی کے جسم پر پتھر مارے جا رہے ہیں۔ سر پر خس و خاشاک پھینکا جاتا ہے۔ طعن و شماتت کا کوئی وقیقہ اٹھا نہیں رکھا جاتا۔ پھر فطری طور پر یہی سب طعن و تشنیع و شماتت ہر اس شخص کو جو رسول سے وابستہ ہے اپنی ذات کے لئے بھی سننا پڑتی ہے۔ خصوصاً اس لحاظ سے کہ رسول کے ہم یا مقابل پھر بھی سن رسیدہ ہو سکتے ہیں لیکن علی بن ابی طالب کے ہم عمر جو مخالف جماعت میں تصور کئے جا سکتے ہیں وہ غیرمہذب اور غیرتعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ اپنے سن و سال کے لحاظ سے بھی ہر خفیف الحرکاتی پر ہر وقت آمادہ سمجھے جا سکتے ہیں۔ کون سمجھ سکتا ہے کہ وہ علی ب ابی طالب کی جو رسول سے اتنی شدید وابستگی رکھتے تھے کیسی کیسی دل آزاری کرتے تھے کیا کیا طعنے اور کیا کیا زخم زبان پہنچاتے تھے۔ اسے کوئی راوی نہ بھی بیان کرے تو بھی ہر صاحبِ عقل کچھ نہ کچھ سمجھ سکتا ہے۔

اب ممکن ہے کہ اس وقت ابھی دنیاعلی بن ابی طالب کو بالکل نہ سمجھتی ہو کہ وہ کیا ہیں؟ مگر اب اس وقت تو تاریخ کے خزانہ میں علی بن ابی طالب کی وہ تصویر بھی موجود ہے جو ہجرت کے ایک سال بعد بدر میں اور پھر دو سال بعد احد میں اور پھر خیبر اور خندق اور ہر معرکہ میں نظر آتی ہے۔

جذبات کے لحاظ سے، قوت دل کے اعتبار سے، جرأت و ہمت کی حیثیت سے ۲۲ سال اور ۲۳ سال اور پھر ۲۴ ۔ ۲۵ سال میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ یقیناً علی جیسے ہجرت کے ایک دو اور تین سال بعد بدر واحد اور خندق و خیبر میں تھے۔ ایسے ہی ہجرت کے وقت اور ہجرت کے دو چار سال پہلے بھی تھے۔ یہی بازو، یہی بازوؤں کی طاقت، یہی دل اور یہی دل کی ہمت، یہی جوش، یہی عزم، غرض کہ سب کچھ اب بعد میں نظر آ رہا ہے۔ اب اس کے بعد قدر کرنا پڑے گی کہ اس ہستی نے وہ ۱۳ برس اس عالم میں کیونکر گزارے۔

اور کوئی غلط روایت بھی یہ نہیں بتاتی کہ کسی وقت علی نے جوش میں آ کر کوئی ایسا اقدام کر دیا ہو جس پر رسول کو کہنا پڑا ہو کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ یا کسی وقت پیغمبر کو یہ اندازہ ہوا ہو کہ یہ ایسا کرنے والے ہیں تو بلا کر روکا ہو کہ ایسا نہ کرنا۔ مجھے اس سے نقصان پہنچ جائے گا۔

کسی تاریخ اور کسی حدیث میں غلط سے غلط روایت ایسی نہیں حالانکہ حالات ایسے ناگوار تھے کہ کبھی کبھی سن رسیدہ افراد کو جوش آ گیا اور انہوں نے رسول کے مسلک کے خلاف کوئی اقدام کر دیا اور اس کی وجہ سے انہیں جسمانی تکلیف سے دوچار ہونا پڑا۔ مگر حضرت علی بن ابی طالب سے کسی سے تصادم ہو گیا ہو اس کے متعلق کمزور سے کمزور روایت پیش نہیں کی جا سکتی۔

یہ وہ غیرمعمولی کردار ہے جو عام افراد انسانی کے لحاظ سے یقیناً خارق عادت یہ کسی جذبات انسانی کا کردار نہیں ہو سکتا۔ یہ ۱۳ برس کی طولانی مدت اس عمر میں جو ولولوں کی عمر ہے حوصلوں کی عمر ہے۔ بھلا ممکن ہے اس سکون کے ساتھ گزاری جا سکے۔

اس کے بعد ہجرت ہوتی ہے۔ ہجرت کے وقت وہ فداکاری۔ پیغمبر کا فرمانا کہ آج رات کو میرے بستر پر لیٹو۔ میں مکہ سے روانہ ہو جاؤں گا۔ پوچھا حضور کی زندگی تو اس صورت میں محفوظ ہو جائے گا۔ فرمایا ہاں مجھ سے وعدہ ہوا ہے میری حفاظت ہو گی یہ سن کر حضرت علی بن ابی طالب نے سر سجدہ میں رکھ دیا کہا شکر ہے کہ اس نے مجھے اپنے رسول کا فدیہ قرار دیا۔

چنانچہ رسول تشریف لے گئے اور آپ پیغمبر کے بستر پر آرام کرتے رہے اس کے بعد چند روز مکہ معظمہ میں مقیم رہے مکہ میں مشرکین کی امانتیں ان کے مالکوں کو واپس کیں اور پیغمبر کی امانتیں ساتھ لیں یعنی محذراتِ کاشانہ رسالت جن میں فواطم یعنی فاطمہ بنت محمد۔ فاطمہ بنت اسد اور فاطمہ بنت زبیر بن عبدالمطلب تھیں ان کو لے کر روانہ ہوئے۔ خود مہارِ شتر ہاتھ میں لی۔ اور حفاظت کرتے ہوئے پا پیادہ مدینہ پہنچے یہاں آنے کے ایک سال بعد اب جہاد کی منزل آئی اور پہلی ہی جنگ یعنی بدر میں علی ایسے نظر آئے جیسے برسوں کے نبرآزما، معرکے سر کئے ہوئے اور کڑیاں میدان کی جھیلے ہوئے۔

ادھر کے سب سے بڑے سورما عتبہ شیبہ اور ولید دونوں کا حضرت علی بن ابی طالب کی تلوار سے خاتمہ ہوا۔ یہ کارنامہ خود جنگ کی فتح کا ضامن تھا۔ وہ تو صرف نفسیاتی طور پر عامہ مسلمین میں قوت دل پیدا کرنے کے لئے اس جہاد میں فرشتوں کی فوج بھی آ گئی یہ ثابت کرنے کے لئے کہ گھبرانا نہیں وقت پڑے گا تو فرشتے آ جائیں گے۔ حالانکہ اس کے بعد پھر کسی غزوہ میں ان کا آنا ثابت نہیں۔ اس کے باوجود احد میں علی بن ابی طالب نے تن تنہا بگڑی ہوئی لڑائی کو بنا کر اور فتح حاصل کرکے دکھلا دیا کہ بدر میں بھی اگر فوج ملائکہ نہ آتی تو یہ دست و بازو اس جنگ کو بھی سر کر ہی لیتے۔ اس کے بعد خندق ہے خیبر ہے۔ حنین ہے یہاں تک کہ ان تمام کارناموں سے علی کا نام دشمنوں کے لئے مرادفِ موت بن گیا۔

خیبر و خندق۔ ذوالفقار اور علی میں دلالت التزامی کا رشتہ قائم ہو گیا کہ ایک کے تصور سے ممکن ہی نہیں دوسرے کا تصور نہ ہو۔ یہ وہی ۱۳ برس تک خاموش رہنے والے علی ہیں۔ ان دس برس کے اندر جن کا عالم یہ ہے مگر اسی دوران میں حدیبیہ کی منزل آتی ہے اور وہی ہاتھ جس میں جنگ کا علم ہوتا تھا یہاں اسی میں صلح کا قلم ہے جو صاحب سیف تھا وہی صاحب قلم نظر آتا ہے اور ان شرائط صلح کو جن فر فوج اسلام کے اکثر افراد میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور اسے کمزوری سمجھا جا رہا ہے بلا کسی بے چینی اور بغیر کسی تردد و تذبذب کے حضرت علی بن ابی طالب تحریر فرما رہے ہیں جس طرح میدان جنگ میں قدم میں تزلزل اور ہاتھ میں ارتعاش نظر نہیں آیا اسی طرح آج عہدنامہ صلح کی تحریر میں ان کے قلم میں کوئی تزلزل اور انگلیوں میں کوئی ارتعاش نہیں ہے۔ ان کا جہاد تو وہی ہے جس میں مرضی پروردگار ہو۔ جس کی راہ میں تلوار چلتی تھی اسی کی راہ میں آج قلم چل رہا ہے اور صلح نامہ کی کتابت ہو رہی ہے۔

اسی زمانہ میں ایک ملک بھی فتح کرنے بھیجے گئے تھے اور وہ یمن ہے مگر وہ شمشیرزن اور صاحب ذوالفقار ہوتے ہوئے یہاں تلوار سے کام نہیں لیتے۔ انہوں نے اسلامی فتح کا مثالیہ پیش کر دیا۔ پورے یمن کو صرف زبانی تبلیغ سے ایک دن میں مسلمان بنا لیا۔ ایک قطرہ خون نہیں بہا۔ دکھا دیا کہ فتح ممالک اس طرح کرو۔ ملک پر قبضہ کے معنی یہ ہیں کہ اہل ملک کو اپنابنا لو۔ بس ملک تمہارا ہو گیا۔

بہرحال ان دو مثالوں کو چھوڑ کر حضرت علی بن ابی طالب کی زندگی کے اس دور میں بہت سے مواقع پر تلوار نمایاں نظر آئے گی اورلافتی الاعلی لا سیف الا ذوالفقار میں آپ کی شان مضمر معلوم ہو گی مگر اب پیغمبر خد اکی وفات ہو جاتی ہے اس وقت حضرت علی بن ابی طالب کی عمر ۳۳ برس کی ہے اسے اواخرِ شباب بلکہ بھرپور جوانی کا زمانہ سمجھنا چاہئے مگر اس کے بعد پچیس سال کی طولانی مدت حضرت علی بن ابی طالب یوں گزارتے ہیں کہ تلوار نیام میں ہے اور آپ کا مشغلہ عبادتِ الٰہی اور آزوقہ کی فراہمی کے لئے محنت و مزدوری کے سوا بظاہر اور کچھ نہیں۔

یہ ایسی وادی پرخار ہے جس میں ذرا بھی کھل کر کچھ کہنا تحریر کو مناظرانہ آویزشوں کا آماجگاہ بنا دینا ہے۔ پھر بھی یہ سوچنے اور سمجھنے کی بات لازماً ہے کہ باوجودیکہ یہ مسلمانوں کی جنگ آزمائیوں کا زمانہ اور فتوحاتِ عظیمہ کا دور ہے جس میں اسلام قبول کرنے کے بعد گمنام ہو جانے والے افراد سیف اللہ اور فاتح ممالک اور غازی بن رہے ہیں پھر بھی جو تلوار ہر مقام پر عہد رسول میں کارنمایاں کرتی نظر آتی تھی وہ اس دور میں کلیتہً نیام کے اندر ہے۔ آخر کیا بات ہے کہ وہ جوہر میدان کا مرد تھا اب گوشہ عافیت میں گھر کے اندر ہے۔ اگر اس کو بلایا نہیں جاتا تو کیوں؟ اور اگر بلایا جاتا ہے اور وہ نہیں آتا تو کیوں؟ دونوں باتیں تاریخ کے ایک طالب علم کے لئے عجیب ہی ہیں ایسا بھی نہیں کہ وہ بالکل غیرمتعلق ہے۔ نہیں اگر کبھی کوئی مشورہ لیا جاتا ہے تو وہ مشورہ دے دیتا ہے کوئی علمی مسئلہ درپیش ہوتا ہے اور اس کے حل کرنے کی خواہش کی جاتی ہے تو وہ حل کر دیتا ہے مگر ان لڑائیوں میں جو جہاد کے نام سے ہو رہی ہیں اسے شریک نہیں کیا جاتا۔ نہ وہ شریک ہوتا ہے۔ ۲۵ سال کی طولانی مدت گزری اور اب حضرت علی بن ابی طالب کی عمر ۵۸ سال کی ہو گئی یہ پیری کی عمر ہے جس طرح مکہ کی ۱۳ برس کی خاموشی کے درمیان بچپنا گیا تھا اور جوانی آئی تھی اسی طرح اس پچیس برس کی خاموشی کے دوران میں جوانی گئی اور بڑھاپا آیا۔ گویا ان کی عمر کا ہر دوراہہ صبر و تحمل اورضبط و سکون کے عالم میں آتا رہا۔ بھلا اب کسے تصور ہو سکتا ہے کہ جس کو جوانی گزر کر بڑھاپا آ گیا اور اس نے تلوار سے نیام نہ نکالی وہ اب کبھی تلوار کھینچے گا اور میدان جنگ میں حرب و ضرب کرتا نظر آئے گا۔ عالم اسباب کے عام تقاضوں کے لحاظ سے تو اس پچیس برس کے عرصہ میں ولولہ و امنگ کی چنگاریاں تک سینہ میں باقی نہیں رہیں۔ ہمت کے سوتے خشک ہو گئے اور اب دل میں ان کی نمی تک نہیں رہ گئی۔ اب نہ دل میں وہ جوش ہو سکتا ہے نہ بازوؤں میں وہ طاقت۔ نہ ہاتھوں میں وہ صفائی اور نہ تلوار میں وہ کاٹ مگر ۵۸ سال کی عمر میں وہ وقت آ گیا کہ مسلمانوں نے باصرار زمام خلافت آپ کے ہاتھ میں دے دی۔ آپ نے بہت انکار کیا مگر مسلمانوں نے تضرع و زاری کی حد کر دی اور حجت ہر طرح تمام ہو گئی۔ لیکن جب آپ سریز خلافت پر متمکن ہوئے اور اس ذمہ داری کو قبول کر چکے تو کئی جماعتوں نے بغاوت کر دی۔ آپ نے ہر ایک کو پہلے تو فہمائش کی کوشش کی اور جب حجت ہر طرح تمام ہو گئی تو دنیا نے دیکھا کہ وہی تلوار جو بدر و احد اور خندق و خیبر میں چمک چکی تھی اب جمل، صفین اور نہروان میں چمک رہی ہے۔ اور پھر یہ نہیں کہ فوجیں بھیج رہے ہوں اور خود گھر میں بیٹھیں بلکہ خود میدان جنگ میں موجود اور بنفس نفیس جہاد میں مصروف۔ اب ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی نوجوان طبیعت جو مقابل سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے بے چین ہو۔ چونکہ حضرت کی ہیبت فوج دشمن کے ہر سپاہی کے دل پر تھی اس لئے صین میں جب آپ میدان میں نکل آتے تھے تو پھر مقابل جماعت کا پرا بند ہو جاتا تھا اور کوئی مقابلہ کو باہر نہ آتا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ نے یہ صورت اختیار فرمائی تھی کہ دوسرے اپنے ہمراہیوں کا لباس پہن کر تشریف لے جاتے تھے۔ چونکہ جنگ کا لباس خود و مغضر اور زرہ و بکتر وغیرہ پہننے کے بعد چہرہ نظر نہیں آتا تھا۔ اس لئے لباس بدلنے کے بعد پتہ نہ چلتا تھا کہ یہ کون ہے اور آپ کبھی عباس بن ربیعہ اور کبھی فضل بن عباس اور کبھی کسی اور کا لباس پہن کر تشریف لے جاتے تھے اور اس طرح بہت سے نذرِ تیغ ہو جاتے تھے۔

لیلة الہریر میں طے کر لیا کہ فتح کے بغیر جنگ نہ رکے گی۔ پورے دن لڑائی ہو چکی تھی سورج ڈوب گیا تب بھی لڑائی نہ رکی۔ پوری رات جنگ ہوتی رہی یہاں تک کہ نقشہ جنگ بدل گیا اور صبح ہوتے ہوتے فوج شام سے قرآن نیزوں پر بلند ہوگئے جن سے التوائے جنگ کی درخواست مطلوب تھی اور یہ جنگ میں شکست کا کھلا ہوا اعلان تھا۔

یہ ۶۰ برس کی عمر میں جہاد ہے اور یہی وہ ہیں جو ۳۳ برس کی عمر سے ۵۷ برس تک کی مدت یوں گزار چکے ہیں جیسے کہ سینہ میں دل ہی نہیں اور دل میں ولولہ اور جنگ کا حوصلہ ہی نہیں۔

اب ایسے انسان کو کیا کہا جائے؟ جنگ پسند یا عافیت پسند؟ ماننا پڑے گا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہیں یہ تو فرائض کے پابند ہیں جب فرض ہو گا خاموشی کا تو خاموش رہیں گے۔ چاہے شباب کی حرارت اور اس کا جوش و ولولہ کچھ بھی تقاضا رکھتا ہو۔

اس وقت کتنے ہی صبرآزما مشکلات پیش آتے رہیں وہ صبر کریں گے اور گھبرائیں گے نہیں۔

اور جب فرض محسوس ہو گا کہ تلوار اٹھائیں تو تلوار اٹھائیں گے، چاہے بڑھاپے کا انحطاط جو عام افراد میں اس عمر میں ہوا کرتا ہے کچھ بھی تقاضا رکھتا ہو۔ اب حرب و ضرب کی سختیوں کا مقابلہ کرنے میں وہ جوانوں سے آگے نظر آئیں گے۔ یہی وہ "معراج انسانیت" ہے، جہاں تک طبیعت، عادت اور جذبات کے تقاضوں میں گرفتار انسان پہنچا نہیں کرتے۔

معراجِ انسانیت سیرتِ حَسْنَیْن کی روشنی میں

جبکہ حضرت پیغمبر خدا کی واحد زندگی میں مختلف نمونے سامنے آ گئے جو بظاہر متضاد ہیں۔ حضرت علی بن ابی طالب کی واحد زندگی میں ایسی ہی مثالیں سامنے آ گئیں تو اب اگر دو شخصیتوں میں باقتضائے حالات اس طرح کی د ورنگی نظر آئے تو اس کو اختلاف طبیعت یا اختلاف رائے کا نتیجہ سمجھنا کیونکہ درست ہو سکتا ہے اور یہ کیوں کہا جائے کہ حسن مجتبیٰ طبعاً صلح پسند تھے اور امام حسین طبعاً جنگ پسند تھے بلکہ یہی سمجھنا چاہئے کہ اس وقت کے حالات کا تقاضا وہ تھا اور اس وقت کے حالات کا تقاضا یہ ہے کہ اس وقت حسن مجتبیٰ امام تھے ان کو فریضہ الٰہی وہ محسوس ہوا اور اس وقت حضرت حسین بن علی امام تھے، ان کو فریضہ ربانی اس وقت کے حالات میں یہ محسوس ہوا۔ اس میں جذبات کا کوئی دخل نہ تھا۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کا حضرت پیغمبر خدا نے مختلف الفاظ میں پہلے سے اظہار فرما دیا تھا۔ کبھی ان الفاظ میں کہ: ابنای ھٰذان امامان قاما اوقعدا۔ "یہ میرے دونوں فرزند امام ہیں چاہے کھڑے ہوں اور چاہے بیٹھے ہوں۔"

اس وقت کی دنیا اس کو نہیں سمجھ سکتی تھی کہ امام کہنے کے ساتھ قاما اوقعدا۔ کس لئے کہا جا رہا ہے؟ امامت میں اٹھنے اور بیٹھنے کا کیا دخل۔ مگر جب مستقبل نے واقعات پر سے پردہ ہٹایا تو اب معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر ماضی کے آئینہ میں مستقبل کا نقشہ دیکھ رہے تھے ک ہایک صلح کرکے بیٹھ جائے گا اور ایک تلوار لے کر کھڑا ہو جائے گا۔ کچھ لوگ حسن کی صلح پر اعتراض کریں گے اور کچھ لوگ حسین کی جنگ پر۔ آپ نے اسی لئے ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں امام ہیں چاہے کھڑے ہوں اور چاہے بیٹھے ہوں۔ یعنی حسن صلح کرکے بیٹھ جائے تو اعتراض نہ کرنا اور حسین تلوار لے کر کھڑا ہو جائے تو اعتراض نہ کرنا وہ بیٹھنا بھی حکم خدا سے ہے اور یہ کھڑا ہونا بھی حکم خدا سے ہے وہ اس وقت کے حالات کا تقاضا ہے اور یہ اس وقت کے حالات کا۔

اور کبھی اس طرح جسے علامہ ابن حجر نے لکھا ہے کہ سیدہ عالم اپنے والد بزرگوار حضرت رسول کے پاس دونوں شاہزادوں کو لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کیا۔یَا آیَتِ هٰذَانِ ابْنَاک انحَلْهُمَا ابا جان یہ دونوں بچے آئے ہیں انہیں کچھ عطا فرمائیے۔" حضرت نے فرمایا:اَمَّاالْحُسْنُ فَلَهْ حِلمِی وَ سوُدَدِی واَمّالْحُسَیْنُ فَلَد‘ جُرأتِی وَجُودِی مطلب یہ ہوا کہ انہیں اور کسی عطیہ کی کیا ضرورت ہے ان میں تو میری صفتیں تقسیم ہو گئی ہیں حسن میں میرا حلم ہے اور میری شان سرداری اور حسین میں میری جرأت و ہمت ہے اور میری فیاضی اب تقسیم پر غور کیجئے۔ معلوم ہوتا ہے۔ کہ ظرف زمانہ کے لحاظ سے جس کو جس صفت کا مظہر بننا تھا اسی صفت کو رسول نے اپنا قرار دیا۔ تاکہ اس صفت سے جو کارنامہ ظہور میں آئے وہ کسی مسلما ن کے نزدیک قابل اعتراض نہ ہو سکے۔

اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ حسن کی صلح کو حسن کی طبیعت کا تقاضا نہ سمجھنا بلکہ وہ میرے حلم کا نتیجہ ہے اس کا مطلب صاف یہ ہے کہ اس موقع پر میں ہوتا تو وہی کرتا جو حسن کرے گا اور حسین کی جنگ کو حسین کی طبیعت کا تقاضا نہ سمجھنا بلکہ وہ میری جرأت کا نتیجہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس موقع پر میں ہوتا تو وہی کرتا جو حسین کرے گا۔

اب حسن کی صلح پر اعتراض رسول کے حلم پر اعتراض ہے اور حسین کی جنگ پر اعتراض رسول کی جرأت پر اعتراض ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حسن نے صلح کرکے جہاد حسین کے لئے زمین ہموار کر دی۔ وہ صلح اس وقت نہ ہوتی تو اس کے بعد جہاد کا یہ ہنگام نہ آ سکتا۔ کیونکہ اسلام میں جنگ بہ مجبوری ہوتی ہے عدم امکانِ صلح کی بنا پر جب تک اصول کے تحفظ کے ساتھ صلح کا امکان ہو اس وقت تک جنگ کرنا غلط ہے جب کہ آئین اسلام میں صلح کا درجہ جنگ پر مقدم ہے تو اگر امام حسن صلح نہ کر چکے ہوتے تو اتمام حجت نہ ہوتی اور حضرت امام حسین کے لئے جنگ کا موقع پیدا نہ ہوتا۔

امام حسن کے شرائط صلح پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ اس صلح کے شرائط میں ان مقاصد کا پورا پورا تحفظ کیا گیا تھا جن کے لئے پھر کربلا کی جنگ ہوئی۔ یہ نہ دیکھئے کہ بعد میں شرائط پر عمل نہیں ہوا۔ بعد میں عمل تو حدیبیہ کی صلح کے شرائط پر بھی نہ ہوا تھا مگر یہ تو ایک معاہدہ صلح کا وقوع میں آیا جب ہی فریق مخالف پر الزام عائد ہو سکا کہ اس نے ان شرائط پر عمل نہیں کیا اور اگر کوئی ایسا معاہدہ ہوا ہی نہ ہوتا تو یہ خلاف ورزی کا الزام فریق مخالف پر کہاں عائد ہو سکتا تھا۔ جب حدیبیہ کے شرائط پر عمل نہ ہوا تو فتح مکہ ہوئی اسی طرح اس صلح پر عمل نہ ہوا۔ تو معرکہ کربلا ہوا۔

معلوم ہوا کہ یہ تاریخی واقعات کی رفتار کا لازمی اقتضاء تھا کہ اس وقت صلح ہو اور اس وقت جنگ ہو۔ اور وہ حصہ وقت کا امام حسن کے حصہ میں آیا اور یہ ہنگام امام حسین کے حصہ میں آیا۔ اگر معاملہ بالعکس ہوتا یعنی ۴۱ ھ میں امام وقت امام حسین ہوتے تو وہ صلح امام حسین کرتے اور اگر ۶۱ ھ میں امام حسن موجود ہوتے تو یہ جہاد امام حسن فرماتے۔

حضرت امام حسن جانتے تھے کہ میرا جہاد ہے صلح کرنا۔ ان کی صلح مقتضائے شجاعت تھی اور امام حسین کا جہاد تھا یزید کے مقابلہ میں تلوار کھینچنا۔ یہ ان کی شجاعت کا مظاہرہ تھا۔ کیونکہ جس طرح علمائے اخلاق نے بیان کیا ہے شجاعت ہر موقع پر تلوار لے کر بڑھ جانے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ شجاعت قوت غضب کے تابع حکم عقل ہون یکا نام ہے اور یہ قوت غضبیہ کے اعتدال کا درجہ ہے اگر انسان نے بے موقع غصہ سے کام لیا اور قدم آگے بڑھا دیا تو یہ "تہوُّ" ہو گا اور اگر موقع آنے پر بھی اس سے کام نہ لیا اور بے محل کمزوری دکھائی تو اس کا نام "جُبن" ہو گا یہ دونوں چیزیں شجاعت کے خلاف ہیں۔ شجاعت یہ ہے کہ بے محل قدم آگے نہ بڑھے اور محل آنے پر خاموشی نہ ہو۔ ان دونوں رخوں کو حسن و حسین نے پیش کیا اور اس طرح دونوں نے مل کر شجاعت کی مکمل تصویر کھینچ دی۔

آئندہ آئے گا کہ حضرت امام حسین نے بھی صلح کی کوشش میں کوئی کمی نہیں کی یہ تو فریق مخالف کا طرز عمل تھا کہ اس نے وہ تمام شرائط مسترد کر دیئے۔ اگر دشمن ِشرائط کو منظور کر لیتا تو کارنامہ کربلا بھی صلح پر ختم ہوتا۔ اس کے بعد کسی کو یہ کہنے کا کیا حق ہے کہ امام حسن طبعاً صلح پسند تھے اور امام حسین نسبتاً جنگ پسند تھے۔

اس کا بھی بیان ابھی آئے گا کہ وہاں حاکم شام نے سادہ کاغذ بھیج دیا تھا کہ حسن مجتبیٰ جو چاہیں وہ شرائط لکھ دیں۔ امام نے شرائط لکھے اور حاکم شام نے ان کو منظور کیا دنیا غلط کہتی ہے کہ امام حسن نے حاکم شام کی بیعت کر لی۔ بیعت تو حقیقتاً اس نے کی جس نے شرائط مانے۔ انہوں نے تو بیعت لے لی۔ بیعت کی نہیں۔ اور امام حسین کے سامنے تھا یزید ایسے شخص سے بیعت کا سوال جسے آلِ محمد میں سے کوئی بھی منظور نہیں کر سکتا تھا۔

امام حسین زندگی کے اس ایک دن یعنی عاشور کو ہی حسین نہ تھے وہ اپنی زندگی کے ۵۷ برس میں ہر دن حسین تھے۔ پھر آخر صرف ایک دن کے کردار کو سامنے رکھ کر کیوں رائے قائم کی جاتی ہے۔ آخر اس ایک دن کو نکال کر جو ۵۷ برس ہیں وہ ان کی فہرست حیات سے کیونکر خارج ہو سکتے ہیں اسی طرح حضرت امام حسن صرف اس دن جب صلح نامہ پر دستخط کئے ہیں اسی وقت امام حسن نہ تھے۔ حسن نام تو اس پوری زندگی کا تھا لہٰذا آپ کی پوری زندگی کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرنا درست ہو گا اور اگر صرف ایک حصہ حیات سامنے رکھ کر مخالفین اسلام نے آپ کی یہ تصویر کھینچی کہ آپ کے ایک ہاتھ میں تلوار ہے اور ایک ہاتھ میں قرآن جس طرح یہ تصویر نامکمل اور غلط ہے اسی طرح امام حسن کے متعلق جو تصویر کھینچی جاتی ہے یا امام حسین کی جو تصویر کھینچی جاتی ہے وہ بھی غلط ہے اور یہ غلطی اتنی عام ہے کہ ان کے نام لیوا تک اور سیرت و کردار کی پیروی پر زور دینے والے بھی ان کا وہی صرف ایک دن کا کردار جانتے اور اسی کو پیش کرتے ہیں اس لئے تقریروں میں گرمی پیدا کرنے کے لئے اور کسی بڑے معرکہ میں قدم بڑھانے کے واسطے خون میں جوش پیدا کرنے کے لئے حضرت امام حسین کا نام لیتے اور ان کے کارنامہ کو یاد دلاتے ہیں چاہے مقصد صحیح ہو یا غلط اور وہ جو اپنی تمام عمر شہادت سے ایک دن پہلے تک معرکہ آرائی کو ٹالتے رہے وہ حسین کا کردار گویا نہیں ہے کسی اور کا ہے پوری تصویر تو اسی وقت ہو گی جب پوری سیرت سامنے رکھ کر تصویر کھینچی جائے گی۔

حسنِ مجتبیٰ

امام حسن کی ولادت ۲ یا ۳ ہجری میں ہوئی۔ رسول کی وفات کے وقت ساتواں یا آٹھواں برس تھا اور ان کی یہ عمر پوری پیغمبر خدا کے غزوات کی عمر ہے۔ ۲ ھ میں جنگ بدر ہوئی اور اس کے بعد ان کی عمر کے ساتھ غزوات کی فہرست آگے بڑھی۔ جس طرح علی کی پرورش پیغمبر کی گود میں تبلغ اسلام کے ساتھ ویسے ہی حسن مجتبیٰ کی پرورش رسول کی گود میں رسول کے غزوات اور اپنے والد (حضرت علی مرتضیٰ) کے فتوحات کے ساتھ۔ ان کے بچپن کی کہانیاں اور سوتے وقت کی لوریاں گویا یہی تھیں کہ علی کسی جہاد سے واپس آئے ہیں۔ حضرت فاطمہ زرا سے تذکرہ ہو رہا ہے خندق میں یہ ہوا۔ یہ تذکرے کانوں میں پڑ رہے ہیں اور آنکھیں جو دیکھ رہی ہیں وہ یہ کہ دشمنوں کے خون میں بھری ہوئی تلوار ہے اور سیدہ عالم اسے صاف کر رہی ہیں۔ پیغمبر کے ارشادات بھی گوش زد ہو رہے ہیں کبھی معلوم ہوا کہ آج نانا نے والد بزرگوار کے لئے کہا:

ضرْبة علٍیّ یَوْمَ الْخَنْدقٍ اَفْضَلُ مِنْ عِبَادَة الثَقَلین کبهی سنا فرمایا: لَاُعْطَیّن اَرَّایةً غدًا رَجُلاً غَیر فّرارٍ یُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه‘ کبھی ملک کی صدا گوش زد ہوئی:لَا فَتٰی اِلَّا علّی لَا سَیف الّا ذوالفقار ۔ ان تذکروں کے علاوہ بس ہے تو عبادت اور سخاوت کی مثالوں کا مشاہدہ۔ یہ ہے سات آٹھ برس کا حسن کا رسول کی زندگی میں دور حیات۔

سات آٹھ برس کی عمر کے بچے چاہے معاملات میں عملی حصہ نہ لیں اور ادب و حفظِ مراتب کی بنا پر بزرگوں کے سامنے گفتگو میں بھی شرکت نہ کریں مگر وہ احساسات و تاثرات، جذبات اور قلبی واردات میں بالکل بزرگوں کے ساتھ شریک رہتے ہیں اور ان کے دلوں کے اندر ولولوں کا طوفان بھی اٹھتا ہے۔ اور منصوبوں کی عمارتیں بھی کھڑی ہوتی ہیں اور اس وقت کے تاثرات و تصورات کے نقوش اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ وہ مٹا نہیں کرتے۔

یقیناً یہ اتنا زندگی کا دور امام حسن کے دل و دماغ میں عام انسانی فطرت کے لحاظ سے ولولہ و ہمت کی لہروں میں تموج ہی پیدا کرنے والا تھا سکون پیدا کرنے والا نہیں مگر اس سات آٹھ سال کے بعد ایک دم ورق الٹتا ہے۔ اب یہ منظر سامنے ہے کہ باپ گوشہ نشیں ہیں۔ اور ماں گریہ کناں۔ وہ تمام ناگوار حالات سامنے ہیں جن کا اظہار کسی کے لئے پسندیدہ ہے یا ناپسند۔ بہرحال تاریخ کے اندر وہ موجود اور ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں۔ یقیناً اگر حضرت علی بن ابی طالب کا دس برس کی عمر کے بعد ۱۳ برس رسول کے ساتھ رہ کر مکہ کی خاموش زندگی میں خاموشی کے راستے پر قائم رہنا ایک جہادِ نفس تھا تو محسن مجتبیٰ کا بھی ۸ برس کی عمر کے بعد پچیس سال باپ کے صبر و استقلال کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ان کا ایک عظیم جہاد تھا۔ وہاں علی کے سامنے ان کے مربی رسول کے جسم پر پتھر پھینکے جاتے تھے اور وہ خاموش تھے اور یہاں حسن کے سامنے ان کے باپ علی بن ابی طالب کے گلے میں رسی باندھی جاتی ہے اور مادر گرامی کے دروازے پر آگے لگانے کے لئے لکڑیاں جمع کی جاتی ہیں اور انہیں ہر طرح کی ایذائیں پہنچائی جاتی ہیں اور حسن مجتبیٰ خاموش ہیں۔ اسی خاموشی میں آٹھ برس سے اٹھارہ برس اور اٹھارہ برس سے اٹھائیس برس بلکہ سات آٹھ برس کی عمر کے بعد ۲۵ سال میں ۳۳ برس کے ہوئے مگر وہ جس طرح ساتھ آٹھ برس کے بچپن کے دور میں حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ ایک کم عمر بچہ کی طرح تھے بالکل اسی شان سے اٹھارہ اور اٹھائیس اور تیس بتیس برس کی عمر کے جوان ہو کر بھی ہیں۔ مسلک ہے تو باپ کا طریقہ کار ہے تو باپ کا۔ نہ ان کے بچپن میں کوئی نادانی کا قدم اٹھتا ہے نہ جوانی میں کوئی جوش کا اقدام اٹھتا ہے پھر حضرت علی نے خاموشی کے ماحول میں آنکھ ہی کھولی تھی اور امام حسن تو آٹھ برس کی عمر اس جنگ کے ماحول میں گزار چکے تھے جس سے شجاعانہ اقدامات کو طبیعت میں رس بس جانا چاہئے اس کے بعد ۲۵ سال اس طرح گزار رہے ہیں۔ اتنی طولانی مدت کے اندر کبھی جوش میں نہ آنا۔ اپنے ہم عمروں سے کبھی تصادم نہ ہونا کسی دفعہ بھی ایسی کوئی بات نہ ہونا جو مصلحتِ علی کے خلاف ہو۔ یہ ان کی زندگی کا کارنامہ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ تاریخ کی دھندلی نگاہ حرکت کو دیکھتی ہے سکون کو نہیں۔ آندھیوں کو دیکھتی ہے سناٹے کو نہیں۔ شورش طوفان دیکھتی ہے سمندر کے سکون پر نظر نہیں ڈالتی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس دور کے فتوحات جو اکثریتی طاقت نے کئے جزو تاریخ بن گئے اور اسلام کی جو خدمت خاموش رہ کر کی گئی اور اس کے جو نتائج ہوئے وہ تاریخ میں کہیں نظر نہ آئیں گے بہرحال اب یہ ۲۵ سال گزرے اور وہ وقت آیا جب حضرت علی بن ابی طالب برسراقتدار ہیں اس کے بعد جمل صفین اور نہروان کے معرکے ہیں اور حضرت امام حسن ان میں اپنے والد بزرگوار حیدرِ کرار کے ساتھ ساتھ ہیں۔

حسن کے ہاتھ میں جمل کی لڑائی میں تلوار اسی طرح پہلی بار ہے جس طرح بدر میں علی کے ہاتھ میں پہلی بار۔ مگر جیسے انہوں نے پہلی ہی لڑائی میں شجاعان آزمودہ کار پر اپنی فوقیت ثابت کر دی ویسے ہی جمل میں جو کارنامہ دوسروں سے نہیں ہوتا وہ حسن مجتبیٰ اپنی تلوار سے کرکے دکھا دیتے ہیں۔

اسی طرح صفین میں ایسا معیاری نمونہ پیش کرتے ہیں کہ حضرت امیر اپنے فرزند محمد حنیفہ کے لئے اسے مثال قرار دیتے ہیں او جیسا کہ دینوی نے ’الاخبارالطوال" میں لکھا ہے ایک ایسے موقع پر جب لشکر امیرالمومنین کے ایک بڑے حصہ نے شکست کھائی تھی، یہ اپنے باپ کے سامنے اس طرح تھے کہ انہیں تیروں سے بچا رہے تھے اور خود اپنے کو تیروں کے سامنے پیش کئے دیتے تھے۔

مخالف حکومت کا پروپیگنڈا بھی کیا چیز ہے؟ اس نے حکایتیں تصنیف کی ہیں کہ حسن مجتبیٰ تو طبعاً صلح پسند تھے۔ مگر ان کی بے جگری کے ساتھ ان نبردآزمائیوں میں عملی شرکت ان تصورات کو غلط ثابت کر دیتی ہے۔

جنگ جمل میں کوفہ والوں کو ابو موسیٰ اشعری نے جو وہاں حاکم تھے نصرت امیرالمومنین سے روک دیا تھا۔ یہ حسن مجتبیٰ ہی تھے جنہوں نے جا کر تقریر کی اور پورے کوفہ کو جناب امیر کی نصرت کے لئے آمادہ کر دیا۔

ہاں جب صفین میں نیزوں پر قرآن اٹھائے گئے اور امیرالمومنین نے حالات سے مجبور ہو کر معاہدہ تحکیم پر دستخط کئے تو جوان سال بیٹے حسن و حسین دونوں باپ کے ساتھ اس معاہدہ میں بھی شریک تھے بالکل جس طرح حضرت امیر پیغمبر خدا کے ساتھ ساتھ تھے جنگ اور صلح دونوں میں۔ اسی طرح حسن و حسین اپنے والد بزرگوار کے ساتھ ہر منزل میں شریک نظر آتے ہیں۔

جب ۲۱ ماہ رمضان ۴۰ ھ کو جناب امیر کی وفات ہو گئی اور حضرت امام حسن خلیفہ تسلیم کئے گئے تو آپ نے خود بھی حاکم شام کے خلاف فوج کشی کی۔ اور فوجوں کو لے کر روانہ بھی ہوئے اور اس طرح بھی ثابت کر دیا کہ راستہ آپ کا وہی ہے جو آپ کے والد بزرگوار کا راستہ تھا۔

اب اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ حالات کی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اہل کوفہ کی اکثریت جنگِ نہروان کے بعد سے جناب امیر کے ساتھ ہی سردمہری برتنے لگی تھی اور جنگ سے عاجز آچکی تھی جس پر خود حضرت علی بن ابی طالب کے اقوال جو نہج البلاغ میں مذکور ہیں، گواہ ہیں اس کا علم حاکم شام کو بھی اپنے آدمیوں کے ذریعہ سے ہو گیا تھا چنانچہ حضرت امیر کے بعد انہوں نے اپنے آدمیوں کے ذریعہ سے بہت سے روسائے کوفہ کو اپنے ساتھ ملا لیا اور ان لوگوں نے خطوط بھیجے کہ آپ عراق پر حملہ کیجئے اور ہم یہاں ایسی تدبیر کریں گے کہ حضرت امام حسن کو قید کرکے آپ کے سپرد کر دیں۔

معاویہ نے یہ خطوط بجنسہ حضرت امام حسن کے پاس بھیج دیئے۔ پھر بھی وہ جانتے تھے کہ حضرت امام حسن کوئی ایسی صلح کبھی نہ کریں گے جس میں ان کے نقطہ نظر سے حق کا تحفظ نہ ہو۔ اس لئے انہوں نے اس کے ساتھ ایک سادہ کاغذ بھیج دیا کہ جو شرائط آپ چاہیں اس پر لکھ دیں میں انہیں منظور کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ان حالات میں جب کہ اپنوں کا حال وہ تھا اور مخالف یہ رویہ اختیار کر رہا تھا جنگ پر قائم رہنا ایک بلاوجہ کی ضد ہوتی جو آلِ رسول کی شان کے خلاف تھی۔

حضرت پیغمبر خدا نے تو حدیبیہ میں امن وامان کی خاطر مشرکین کے پیش کردہ شرائط پر صلح کی جسے سطحی نگاہ والے مسلمان سمجھ رہے تھے کہ یہ دب کر صلح ہے اور امام حسن نے جو صلح کی وہ ان شرائط پر جو خود آپ نے پیش کئے تھے اور جنہیں فریق مخالف سے منظور کرایا۔

ذرا اس صلح نامہ کے شرائط میں نظر ڈالئے۔ اس کی مکمل عبارت علامہ ابن حجر مکی نے صوائق محرقہ میں درج کی ہے۔

اس میں شرط اول یہ ہے کہ حاکم شام کتاب و سنت پر عمل کریں گے اس شرط کو منظورکراکے حضرت امام حسن نے وہ اصولی فتح حاصل کی ہے جو جنگ سے حاصل ہونا ممکن نہ تھی۔

ظاہر ہے کہ صلح نامہ کے شرائط میں بنیادی طور پر ایسی ہی چیز درج ہوتی ہے جو بنائے مخاصمت ہو۔ حضرت امام حسن نے یہ شرط لگا کر ثابت کر دیا کہ ہماری بنائے مخاصمت معاویہ سے کوئی ذاتی یا خاندانی نہیں ہے بلکہ وہ صرف یہ ہے کہ ہم کتاب اور سنت رسول پر عمل کے طلب گار ہیں اور یہ اس سے اب تک منحرف رہے ہیں۔ پھر صلح نامہ کی دستاویز تو فریقین میں متفق علیہ ہوا کرتی ہے۔ وہ دونوں فریق اس کے کاتب ہوتے ہیں۔ یہ شرط درج کرکے امام حسن نے حاکم شام سے تسلیم کرا لیا کہ اب تک حکومت شام کا جو کچھ رویہ رہا ہے وہ کتاب و سنت کے خلاف ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس شرط کی کیا ضرورت تھی؟

غلط اندیش دنیا کہتی ہے کہ امام حسن نے بیعت کر لی۔ میں کہتا ہوں۔ اگر حقیقت پر غور کیجئے تو جب امام حسن شریعت اسلام کے محافظ ہیں اور آپ نے اس کا اقرار حاصل کیا ہے کہ حاکم شام کتاب اور سنت کے مطابق عمل کریں گے تو اب یہ فیصلہ آسان ہے کہ جس نے شرائط مانے اس نے بیعت کی یا جس نے شرائط منوائے اس نے بیعت کی۔ حقیقت میں حضرت امام حسن نے تو بیعت لے لی۔ خود بیعت نہیں کی۔

دوسری شرط یہ تھی کہ تمہیں کسی کو اپنے بعد نامزد کرنے کا اختیار نہ ہو گا اس طرح حضرت امام حسن نے برفرض مخالفت شرط اول اس ضرر کو جو حاکم شام کی ذات سے مذہب کو پہنچتا محدود بنایا اور آئندہ کے لئے یزید ایسے اشخاص کا سدباب کر دیا۔

خواہانِ حاکم شام زیادہ نمایاں طور پر یہ شرط پیش کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن نے سالانہ ایک رقم مقرر کی تھی کہ یہ تمہیں ادا کرنا ہو گی میں کہتا ہوں کہ یہ شرط اگرچہ مسلم نہیں ہے پھر بھی اگر یہ شرط رکھی ہو تو یہ آئینی حیثیت سے اپنے اصلی حقدار حکومت ہونے کے اعتراف کا فریق مخالف کے عمل سے قائم رکھنا ہے اور اگر زیادہ گہری نظر سے دیکھا جائے تو حضرت رسول خدا کا نصاریٰ سے جزیہ لے کرجنگ کو ختم کر دینا درست ہے تو حضرت امام حسن کا حاکم شام پر سالانہ ایک ٹیکس عائد کرنا بھی بالکل صحیح ہے۔ یہ عملی مظاہرہ ہے اس کا کہ ہم نے دب کر صلح نہیں کی ہے بلکہ خونریزی سے بچنے کی ممکن کوشش کی ہے۔

حضرت امام حسن کو اس صلح پر برقرار رہنے میں بھی کتنے شدائداور زخم ہائے زبان کا مقابلہ کرنا پڑا ہے مگر مفادِ دینی کے لئے یہ صلح ضروری تھی تو پُرجگری کے ساتھ حضرت تمام ایذاء و اہانت کے صدموں کو برداشت کرتے رہے۔ اور دس برس مسلسل پھر گوشہ نشینی کے ساتھ زندگی گزار کر حضرت علی بن ابی طالب کے ۲۵ سال کے دور گوشہ نشینی کا مکمل نمونہ پیش کر دیا۔

اموی ذہنیت والوں کا یہ پروپیگنڈا کہ حسن مجتبیٰ اپنے والد بزرگوار حضرت علی بن ابی طالب اور اپنے چھوٹے بھائی حضرت امام حسین سے مختلف ذہنیت رکھتے تھے اور وہ صلح ان کی انفرادی افتاد طبع کا نتیجہ تھی۔ خود اموی حاکم شامی کے عمل سے بھی غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ اس طرح کہ اگر یہ بعد والا پروپیگنڈا صحیح ہوتا تو اس مصالحت کے بعد حاکم شام کو حضرت امام حسن سے بالکل مطمئن ہو جانا چاہئے تھا بلکہ حاکم شام کی طرف سے واقعی پھر امام حسن کی قدرومنزلت کے مسلمانوں میں بڑھانے اور نمایاں کرنے کی کوشش کی جاتی۔ بلاتشبیہ جس طرح مشہور روایات کی بنا پر جناب عقیل کو حضرت علی بن ابی طالب سے بظاہر جدا کرنے کے بعد ان کی خاطرداریوں میں کوئی وقیقہ فروگزاشت نہ کیا جاتا تھا۔ یہی بلکہ اس سے زیادہ حضرت امام حسن کے ساتھ ہوتا مگر ایسا نہیں ہوا۔ صلح کرنے کے بعد بھی امام حسن کو آرام اور چین نہیں لینے دیا گیا اور بالآخر زہر دغا سے آپ کو شہید کر دیا گیا۔ اسی سے ظاہر ہے کہ حاکم شام بھی جانتے تھے۔ کہ یہ رائے، مسلک، خیال اور طبیعت کسی اعتبار سے بھی اپنے باپ بھائی سے جدا نہیں ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اس وقت انہیں فرض کا تقاضا یہی محسوس ہوا لیکن اگر مصلحت دینی میں تبدیلی ہو تو یہی کوئی نیا صفین کا معرکہ پھر آراستہ کر سکتے ہیں اور انہی کے ہاتھ سے کربلا بھی سامنے آ سکتی ہے اسی لئے ان کی زندگی اس کے بعد بھی ان کے سیاسی مقاصد کے لئے خطرہ بنی رہی اور جب ان کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے اطمینان کی سانس ہی نہیں لی بلکہ اپنے سیاسی ضبط و تحمل کے دائرہ سے بھی تجاوز کرکے بالاعلان انہوں نے مسرت سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حسن مجتبیٰ کی صلح کسی مخصوص ذہنیت یا طبیعت کا نتیجہ نہیں تھی۔ وہ صرف فرض کے اس احساس کا تقاضا تھی جو انسانی بلندی کی معراج ہے۔

امام حسین

جس طرح حضرت امام حسن کی ولادت کے متعلق دو قول ہیں ۲ اور ۳ ھ اسی اعتبار سے امام حسین کی ولادت کے متعلق دو قول ہیں ۳ اور ۴ ھ اگر ان کی ولادت ۲ ھ میں ہوئی ہے تو ان کی ۳ میں ہے اور اگر ان کی ولادت ۳ میں ہے تو ان کی ۴ ھ میں ولادت ہوئی ہے۔ اس طرح وفات رسول کے وقت ان کو چھٹا یا ساتواں برس تھا۔

اس دور اور اس کے بعد جناب امیر کے دور میں جو کچھ حسن مجتبیٰ کے بارے میں کہا جا چکا وہ حسین کی سیرت کے ساتھ بالکل متحد ہے اس لئے کہ ایک سال کے فرق سے کوئی فرق احساسات، تاثرات اور ان کے مقتضیات میں نہیں ہوتا۔ جن واقعات سے جتنا وہ متاثر ہو سکتے تھے اتنا ہی یہ اثر لے سکتے تھے۔ وفات رسول کے بعد سے ۲۵ برس کا دور جو امیرالمومنین نے گوشہ نشینی میں گزارا وہ جس طرح ان کے لئے ایک دور ابتلاء تھا ان کے لئے بھی تھا۔ جو جو مناظر ان کے سامنے آ رہے تھے وہ ان کے سامنے بھی بلکہ امام حسن کو تو دنیا نے صرف بحیثیت صلح پسند اور حلیم کے پہچانا ہے۔ اس لئے وہ اس دور میں ان کے امتحان کی عظمت کو بآسانی شاید محسوس نہ کرے مگر حسین کو تو دنیا نے روز عاشور کی روشنی میں دیکھا ہے اور بڑا صاحب غیرت و حمیت، خوددار، گرم مزاج اور اقدام پسند محسوس کیا ہے۔ اس روشنی میں ۲۵ برس کے دور خاموشی پر نظر ڈالئے۔ ظاہر ہے کہ ان کے شباب کی منزلیں وہی تھیں جو حضرت امام حسین کی تھیں۔ ۲۵ سال کی مدت کے اختتام پر وہ ۳۳ برس کے تھے تو یہ بتیس برس کے گویا۔ عمر کے لحاظ سے حسین اس وقت عباس تھے کربلا میں جو ابوالفضل العباس کے شباب کی منزل تھی وہ ۲۵ سال کی گوشہ نشینی کے اختتام پر حسین کے شباب کی منزل تھی۔ اس عمر تک وہ تمام واقعات سامنے آتے ہیں جو اس دور میں پیش آتے رہے۔ اور امام حسین خاموش رہے۔ مصائب و حوادث کے وہ تمام جھونکے آئے اور ان کے سکوت کے سمندر میں تموج پیدا نہ کر سکے۔

ان کے ۲۵ برس حضرت علی کی خاموشی کے ہمدم، وہ حضرت رسول پر مظالم دیکھ رہے تھے جو ان کے مجازی حیثیت سے باپ کی حیثیت رکھتے تھے اور یہ حضرت علی پر مظالم دیکھ رہے تھے جو ان کے حقیقی حیثیت سے باپ تھے جس طرح وہاں کوئی تاریخ نہیں بتاتی کہ کسی ایک دفعہ بھی علی کو جوش آ گیا ہو اور رسول کو علی کے روکنے کی ضرورت پڑی ہو۔ اسی طرح کوئی روایت نہیں بتاتی کہ اس ۲۵ برس کی طویل مدت میں کبھی حسین کو جوش آ گیا ہو اور حضرت علی نے بیٹے کو روکنے کی ضرورت محسوس فرمائی ہو یا سمجھانے کی کہ یہ نہ کرو۔ اس سے ہمارے مقصد یا اصول کو نقصان پہنچے گا۔

اس کے بعد وہ وقت آیا کہ جب حضرت علی نے میدان جہاد میں قدم رکھا۔ تو اب جہاں حسن تھے وہیں حسین بھی تھے۔ وہ باپ کے داہنی طرف تو یہ بائیں طرف۔ ہر معرکہ میں عملی حیثیت سے شریک ہیں۔ اس کے بعد جب صلح نامہ لکھا گیا تو جہاں بڑے بھائی کے دستخط وہیں چھوٹے بھائی کے دستخط۔ جناب امیر کی شہادت کے بعد اسی طرح یہ حضرت امام حسن کے ساتھ ہیں جہاد میں بھی اور صلح میں بھی۔ ابو حنیفہ دنیوری نے الاخبار الطوال میں لکھا ہے کہ صلح کے بعد دو شخص امام حسن کے پاس آئے۔ یہ جذباتی قسم کے دوست تھے صحیح معرفت نہ رکھتے تھے انہوں نے سلام کیا:

اسلام علیک یامذلَ الموٴمنین

"اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے آپ کو سلام ہو۔"

یہ بخیالِ خود مومنین ہیں جن کا یہ اخلاق ہے اور یہ ان کا بلند اخلاق ہے کہ ایسے الفاظ کے ساتھ جو سلام ہو اس کا بھی جواب دینا لازم سمجھتے ہیں۔ اور ملائمت کے ساتھ فرماتے ہیں۔

لست مذلّھم بل معذّھم میں نے مومنین کو ذلیل نہیں کیا بلکہ ان کی عزت رکھلی، اس کے بعد مختصر طور پر انہیں صلح کے مصالح سمجھائے جس پر وہ خاموش سے ہو گئے اور اب وہ اٹھ کر امام حسین کے پاس آئے اور خود ہی یہ واقعہ پیش کیا کہ ہم سے امام حسن سے یہ گفتگو ہوئی ہے۔ آپ نے امام حسن کا جواب سننے کے بعد فرمایا: صدق ابو محمّد یعنی حضرت امام حسن نے بالکل سچ فرمایا۔ صورت حال یہی تھی اور اس کا تقاضا اسی طرح تھا۔

بعض سورما قسم کے آدمی آئے اور انہوں نے کہا: آپ حسن مجتبیٰ کو چھوڑیئے، وہ صلح کے اصول پر برقرار رہیں مگر آپ اٹھئے ہم آپ کے ساتھ ہیں اچانک حکومت شام پر ہلہ بول دیں۔ امام حسین نے فرمایا: غلط بالکل غلط۔ ہم نے ایک معاہدہ کر لیا ہے اور اب ہم پر اس کا احترام لازم ہے۔ ہاں اسی وقت حضرت نے یہ کہہ دیا کہ تم میں سے ہر ایک کو اس وقت تک بالکل چپ چاپ بیٹھا رہنا چاہئے جب تک یہ شخص یعنی معاویہ زندہ ہے۔ یہ آپ کا تدبر تھا۔ آپ جانتے تھے کہ معاویہ کی طرف سے آخر میں اور شرائط کے ساتھ اس شرط کی خلاف ورزی ہو گی کہ انہیں اپنے بعد کسی کو نامزد نہ کرنا چاہئے۔ اس وقت ہمیں اٹھنے کا موقع ہو گا۔

اب کون کہہ سکتا ہے کہ حسن کی صلح کے بعد حسین کی جنگ کسی پالیسی کی تبدیلی، ندامت و پشیمانی یا اختلاف رائے و مسلک کا نتیجہ تھی؟ ۲۰ سال پہلے کہا جا رہا ہے کہ ہمیں اس وقت تک خاموش رہنا چاہئے جب تک معاویہ زندہ ہے اس سے ظاہر ہے کہ ۲۰ برس کی طویل راہ کے تمام سنگ میل نظر کے سامنے ہیں اور پورا لائحہ عمل پہلے سے بنا ہوا ہے مرتب ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ طویل سکوت بھی اسی معاہدہ کے تحت ضروری ہے اور اس وقت کے اقدام کا بھی اسی معاہدہ کے ماتحت حق ہو گا۔ کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شک ہے کہ حسن مجتبیٰ کی صلح حسین بن علی جنگ کی ایک تمہید ہی تھی۔ اور کچھ نہیں۔

۴۱ ھ میں یہ صلح ہوئی اور ۶۰ ھ میں معاویہ نے انتقال کیا اس بیس سال کی طولانی مدت میں کیا کیا ناسازگار حالات پیش آئے اور اعمال حکومت نے کیا کیا تکلیفیں پہنچائیں مگر ان تمام حالات کے باوجود جس طرح رسول کے ساتھ علی مکہ کی تیرہ برس کی زندگی میں جس طرح حضرت علی کے ساتھ حسن مجتبیٰ اور خود حسین ۲۵ برس کی گوشہ نشینی کے دور میں، اسی طرح حضرت امام حسن کے ساتھ امام حسین دس برس کے ان کے دور حیات میں جو صلح کے بعد تھا حالانکہ اس زمانہ کے حالات کو وہ کن عمیق قلبی تاثرات کے ساتھ دیکھتے تھے ان کا اندازہ خود ان کے اس فقرے سے ہوتا ہے جو انہوں نے حضرت امام حسن کے جنارے پر مردان سے کہا تھا۔ جب مردان نے وفات حسن پر اظہار افسوس کیا تو امام حسین نے فرمایا کہ اب رنج و افسوس کر رہے ہو اور زندگی میں ان کو غم و غصہ کے گھونٹ تم پلاتے تھے جو کہ یاد ہیں مردان نے جواب دیا بے شک! وہ ایسے کے ساتھ تھا جو اس پہاڑ سے زیادہ متحمل اور پرسکون تھا۔

یہ تعریف اس وقت مروان امام حسن کی کر رہا تھا جو دنیا سے اٹھ چکے تھے مگر کیا اس تعریف میں خود حسین بھی حصہ نہ رکھتے تھے؟ کیا اس طویل مدت میں انہوں نے کوئی جنبش کی جو حسن مجتبیٰ کے سکون کے مسلک کے خلاف ہوتی؟ پھر امام حسن کے جنازے کے ساتھ جو ناگوار صورت پیش آئی وہ روضہ رسول پر دفن سے روکا جانا۔ وہ تیروں کا برسایا جانا۔ یہاں تک کچھ تیروں کا جسدِ امام حسن تک پہنچنا۔ یہ صبرآزما حالات اور ان سب کو امام حسین کا برداشت کرنا۔

کوئی شاید کہے کہ حسین کیا کرتے؟ بے بس تھے مگر کیا کربلا میں حسین کو دیکھنے کے بعد وہ یہ کہنے کا حق رکھتا ہے؟ کربلا میں تو سامنے کم از کم ۳۰ ہزار تھے اور جنازہ حسن پر سدراہ ہونے والی جماعت زیادہ سے زیادہ کئی سو ہو گی۔ حسین کے ساتھ عباس بھی موجود ہیں جو اس وقت ۲۲ برس کے مکمل جوان تھے جناب محمد حنیفہ بھی موجود تھے جن کی شجاعت کا تجربہ دنیا کو حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ جمل اور صفین میں ہو چکا تھا۔ مسلم بن عقیل بھی موجود تھے جنہیں بعد میں پورے کوفہ کے مقابلہ میں تن تنہا حسین نے بھیج دیا اور انہوں نے اکیلے وہ بے نظیر شجاعت دکھائی جو تاریخ میں یادگار ہے۔

علی اکبر بھی بنا برقول قوی اس وقت ۱۵ برس کے تھے جو کربلا کے قاسم سے زیادہ عمر رکھتے تھے اور تمام بنی ہاشم موجود تھے۔ پھر کچھ تو آلِ رسول کے وفادار غلام تھے اور دوسرے اعوان و انصار بھی موجود ہی تھے اس صورت حال میں حضرت امام حسین کے عمل کو بے بسی کا نتیجہ سمجھنا کہاں درست ہو سکتا ہے۔

مگر حسین خاموش رہتے ہیں اور ان سب کو خاموشی پر مجبور رکھتے ہیں امام حسن کا جنازہ واپس لے جاتے ہیں جنة البقیع میں دفن کر دیتے ہیں اور اس کے بعد دس برس حسنی صلح کے مسلک پر خاموشی کے ساتھ گزار دیتے ہیں اور اس طرح یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ بڑے بھائی کا دباؤ یا مروت اور احترم کا تقاضا نہ تھا بلکہ مفاد اسلامی کا لحاظ تھا جس کے وہ بھی محافظ تھے اور اب یہ اس کے محافظ ہیں۔

اور ادھر حکومت شام کی طرف سے اس تمام مدت میں ہر ہر شرط کی خلاف ورزی ہو رہی تھی۔ چن چن کے دوستانِ علی کو قتل کیا جا رہا تھا اور جلاوطن کیا جا رہا تھا۔ کیسے کیسے افراد؟ حجر بن عدی اور ان کے ۱۶ ساتھی۔ یہ دمشق کے باہر مرج عذراء میں سولی چڑھا دیئے جاتے ہیں۔

حافظ ابن حجر عقلانی لکھاتے ہیں کہ یہ حجر بن عدی فضلائے صحابہ میں سے تھے۔ مسائل فقہیہ میں ان کے فتاوےٰ جمع کئے جائیں تو ایک جزو کا رسالہ ہو جائے۔ مگر علی کے دوست تھے اس لئے ان کی صحابیت بھی کام نہ آ سکی۔ کوفہ سے قید کرکے دمشق بلوائے گئے۔ حاکم شام نے اپنے دربار میں بلا کر ان سے پوچھ گچھ یا صفائی پیش کرنے کا موقع بھی دینا پسند نہ کیا۔ حکم ہو گیا کہ بیرون شہر ہی روک دیئے جائیں اور وہیں سولی دے دی جائے۔ ان کی شہادت کی خبر اتنی دردناک تھی کہ عبداللہ بن عمر نے اس کا ذکر سنا تو چیخیں مار کر رونے لگے۔ ام المومنین عائشہ کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے کہا۔ آخر معاویہ خدا کو کیا جواب دے گا، کہ ایسے ایسے نیکوکار مسلمانوں کا خون کر رہا ہے۔

عمرو بن الحمق الخزاعی وہ بزرگوار تھے جنہیں پیغمبر خدا نے غائبانہ طور پر اپنے سلام سے سرفراز کیا تھا ان کا سر کاٹ کر نوک نیزہ پر بلند کیا گیا۔ یہ سب سے پہلا سر تھا جو اسلا م میں نیزہ پر بلند ہوا۔

ان حوادث سے عبداللہ بن عمر اور عائشہ بنت ابی بکر ایسے لوگ اس قدر متاثر تھے تو حسین بن علی جن کے والد بزرگوار کی محبت کی پاداش ہی میں یہ سب کچھ ہو رہا تھا جتنا بھی متاثر ہوتے کم تھا۔

پھر حضرت امام حسن کے دس سال تک سکوت اور عدم تعرض کی جو قیمت ان کو ملی یعنی زہر قاتل اور کلیجے کے بہتر ٹکڑے اور پھر ان کی وفات پر دمشق کے قصر سے اظہار مسرت میں اللہ اکبر کی بلند آوازان سب باتوں کے بعد حضرت امام حسین کی خاموشی۔ کیا کسی میں ہمت ہے جو اس وقت کے حسین پر جنگجوئی کا الزام عائد کر سکے؟

اب اس کے بعد وہ ہنگام آیا جسے امام حسین کی آنکھیں بیس برس پہلے دیکھ رہی تھیں یعنی حاکم شام نے اپنے بیٹے یزید کی خلافت کی داغ بیل ڈال دی اور اس کے لئے عالم اسلام کا دورہ کیا۔

اب امام حسین کے لئے وہ شاہراہ سامنے آ گئی جو انکارِ بیعت سے شروع ہوئی اور آخر تک انکارِ بیعت ہی کی شکل میں قائم رہی۔

پھر اس انکارِ بیعت کو کیا کوئی وقتی، جذباتی فیصلہ یا ہنگامی جوش کا نتیجہ سمجھایا جا سکتا ہے؟

یاد رکھنا چاہئے کہ انکارِ بیعت تو ابھی تک کبھی قانونی جرم قرار بھی نہ پایا تھا۔ خلافت ثلٰثہ میں بہت سوں نے بیعت نہیں کی۔ حضرت علی کے دور میں عبداللہ بن عمر نے بیعت نہیں کی اسامہ بن زید نے بیعت نہیں کی سعد بن ابی وقاص نے بیعت نہیں کی۔ حسان بن ثابت نے بیعت نہیں کی۔ مگر ان بیعت نہ کرنے والوں کو واجب القتل نہیں سمجھا گیا۔

امام حسین نے بیعت نہ کرکے اپنے کو حمایتِ باطل سے الگ کیا بس۔ اس کے علاوہ کوئی اقدام نہیں کیا۔ مگر معاویہ کے بعد جب یزید برسراقتدار آیا تو اس نے پہلا ہی حکم اپنے گورنر ولید کو یہ بھیجا کہ حسین سے بیعت لو اور بیعت نہ کریں تو ان کا سر قلم کرکے بھیج دو۔ یہ تشدد کا آغاز کدھر سے ہو رہا ہے؟ حاکم مدینہ کو اس حکم کی تعمیل کی ہمت نہ ہوئی تو اسے معزول کی اگیا۔ امام حسین کو اگر تشدد سے کام لینا ہوتا تو آپ ہلاکت معاویہ کی خبر ملتے ہی مدینہ کے تخت و تاج پر قبضہ کر لیتے جو اس وقت ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا۔ اس کے بعد کم از کم عالم اسلام تقسیم تو ہو ہی جاتا مگر آپ ایسا نہیں کرتے بلکہ جا کر مکہ میں پناہ لینے کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں کسی کی جان لینا نہیں ہے اپنی جان بچانا منظور ہے۔ یہ "ہم وجودی" کا عملی پیغام ہے۔

بظاہر اسباب اگر یہاں قیام کا ارادہ مستقل نہ ہوتا تو احرام حج کیوں باندھتے؟ احرام باندھنا خود نیت حج کی دلیل ہے اور نیت کے بعد بلاوجہ حج توڑنا جائز نہیں۔ حضرت امام حسین سے بڑھ کر مسائل شریعت سے کون واقف ہو گا اور یہ ان کا مخالف بھی خیال نہیں کر سکتا کہ وہ جان بوجھ کر حکم شریعت کی معاذ اللہ مخالفت کریں گے اور وہ بھی کب؟ جب کہ حج کو صرف ایک دن باقی ہے۔

وہ جن کاذوق حج یہ تھا کہ مدینہ سے آ آ کر ۲۵ حج پا پیادہ کر چکے ہیں اب مکہ میں موجود ہوتے ہوئے حج کو عمرہ سے تبدیل فرما دیتے اور مکہ سے روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس طرز عمل سے خود ظاہر ہے کہ اس کا سبب غیرمعمولی اور ہنگامی ہے۔ چنانچہ ہر ایک پوچھ رہا تھا اور بڑی وحشت اور پریشانی کے ساتھ! آئیں! آپ اس وقت مکہ چھوڑ رہے ہیں؟"

یہ ہر سوال امام کے دل پر ایک نشتر تھا۔ ہر ایک سے کہاں تک بتلاتے۔ کسی کسی سے کہہ دیا کہ نہ نکلتا تو وہیں قتل کر دیا جاتا اور میری وجہ سے حرمت خانہ کعبہ ضائع ہو جاتی۔

مکہ میں آنا بھی خطرہ کو حتی الامکان ٹالنا تھا اور اب مکہ سے جانا بھی یہی ہے اب آپ کوفہ تشریف لئے جا رہے ہیں۔ جہاں کے لوگوں نے آپ کو اپنی ہدایت دینی اور اصلاحِ اخلاقی کے لئے دعوت دی ہے مگر بیچ میں فوج حر آ کر سد راہ ہوتی ہے اب آپ پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ اس پوری فوج کو جو پیاسی ہے سیراب کر دیتے ہیں۔ یہ فیاضی بھی جنگجویانہ انداز سے بالکل الگ ہے اس کے بعد وہ موقع آیا کہ نہر پر خیموں کے برپا کرنے کو روکا گیا اس وقت اصحاب کی تیوریوں پر بل تھے مگر امام نے فرمایا کہ مجھے جنگ میں ابتداء کرنا نہیں ہے۔ ریت ہی پر خیمے برپا کر دو۔ یہ نفس پر جبر اور حلم و تحمل وہ کر رہا ہے جسے بالآخر جان پر کھیل جانا اور اپنا پورا گھر قربان کر دینا ہے مگر وہ اس وقت ہو گا جب اس کا وقت آئے گا اور یہ اس وقت ہے جب اس کا وقت ہے۔

پھر عمر سعد کربلا میں پہنچتا ہے تو آپ خود اس کے پاس گفتگوئے صلح کے لئے ملاقات کا پیغام بھیجتے ہیں۔ ملاقات ہوتی ہے تو شرطیں ایسی پیش فرماتے ہیں کہ ابن سعد خود اپنے حاکم عبیداللہ بن زیاد کو لکھتا ہے کہ فتنہ و افتراق کی آگ فرو ہو گئی۔ اور امن و سکون میں کوئی رکاوٹ نہ رہی۔ حسین ملک چھوڑنے تک کے لئے تیار ہیں اس کے بعد خونریزی کی کوئی وجہ نہیں۔

اب یہ تو فریق مخالف ک اعمل ہے کہ اس نے ایسے صلح پسندانہ رویہ کی قدر نہ کی اور صلح کے لئے بڑھے ہوئے ہاتھ کو جھٹک کر پیچھے ہٹا دیا لیکن اس شرط پر حکومت مخالف راضی ہو گئی ہوتی۔ پھر حضرت امام حسن اور امام حسین کی افتادِ طبع میں کسی اختلاف کا تصور کرنے والوں کے تصورات کی کیا بنیاد باقی رہ سکتی تھی اور صورت حال کے سمجھنے کے بعد اب بھی یہ تصورات تو غلط ثابت ہو ہی گئے مگر وہ ابن زیاد کی تنگ ظرفی فرعونیت اور یزید کے منشاء کی تکمیل تھی کہ اس نے حضرت امام حسین پر صلح و امن کے سب راستوں کو بند کر دیا۔

پھر بھی جب نویں تاریخ کی سہ پہر کو حملہ ہو گیا تو حضرت نے ایک رات کی مہلت لے لی۔ جسے جنگ کرنا ہی مطلوب تھا وہ التوائے جنگ کی درخواست کیوں کرتا، مگر اس ایک رات کی مہلت کو حاصل کرکے بھی آپ نے اپنی امن پسندی کا ثبوت دیا اور دکھلا دیا کہ جنگ تو مجھ پر خواہ مخواہ عائد کی جا رہی ہے۔ میں جنگ کا اپنی طرف سے شوق نہیں رکھتا ہوں۔

پھر صبح عاشور کوئی وقیقہ موعظہ و نصیحت اور اتمام حجت کا اٹھا نہیں رکھا۔ خطبہ جو پڑھا وہ اونٹ پر سوار ہو کر اس لئے کہ وہ ہنگام امن کی سواری ہے گھوڑے پر نہیں سوار ہوئے جو جنگ کے ہنگام کا مرکب ہوتا ہے۔

باوجودیکہ خطبہ کے جو جواب ملے وہ دل شکن تھے مگر اس کے بعد بھی آپ نے اس کا انتظار کیا کہ فوج دشمن کی طرف سے ابتداء ہو او جب پہلا تیر عمر سعد نے چلہ کمان میں جوڑ کر اپنی فوج سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ کہہ کے لگایا کہ "گواہ رہنا پہلا تیر فوج حسینی کی طرف میں رہا کر رہا ہوں۔" اور اس کے بعد چار ہزار تیر کمانوں سے روانہ ہو گئے اور جماعت حسینی کی طرف آ گئے۔ اس وقت مجبور ہو کر امام نے اذن جہاد دیا۔ اور اس کے بعد بھی خود اس وقت تک جہاد کے لئے تلوار نیام سے نہیں نکالی جب تک آپ کی ذات میں انحصار نہیں ہو گیا۔ جب تک ایک بھی باقی رہا آپ نے شمشیرزنی نہیں کی۔ اور اس طرح پیغمبر کے کردار کی تفسیر کر دی جب کوئی نہ رہا اس وقت تلوار کھینچی اور یہ ایسا وقت تھا جب کسی دوسرے میں دم نہ ہوتا کہ وہ جنبش بھی کر سکتا۔ تین دن کی بھوک پیاس اور اس پر صبح سے سہ پہر تک کی تمازتِ آفتاب میں شہداء کے لاشوں پر جانا اور پھر خیمہ گاہ تک پلٹنا اور پھر بہتر کے داغ عزیزوں کے صدمے اور ان کی لاشوں کا اٹھانا۔ جوان بیٹے کا بصارت لے جانا اور بھائی کا کمر توڑ جانا۔ اور اپنے ہاتھوں پر ایک بے شیر کو دم توڑتے میں سنبھالنا اور نوک شمشیر سے ابھی ابھی اس کی قبر بنا کر اٹھنااب اس عالم میں جذباتِ نفس کا تقاضا تو یہ ہے کہ آدمی خاموشی سے تلواروں کے سامنے اپنا سر بڑھا دے اور خنجر کے آگے گلا رکھ دے مگر حسین اسلامی تعلیم کے محافظ تھے ظلم کے سامنے سپردگی آئین شریعت کے خلاف ہے۔ حسین نے اب فریضہ دفاع کی انجام دہی اور دشمنانِ خدا کے مقابلہ کے لئے تلوار اٹھائی اور وہ جہاد کیا جس نے بھولی ہوئی دنیا کو حیدر صفدر کی شجاعت یاد دلا دی اور اس طرح دکھا دیا کہ ہمارے اعمال و افعال، جذبات نفس اور طبیعت کے تقاضوں کے ماتحت نہیں بلکہ فرائض و واجبات کی تکمیل اور احکام ربانی کی انجام دہی کے ماتحت ہوتے ہیں۔ چاہے طبعی تقاضے اس کے کتنے ہی خلاف ہوں۔

یہی انسانیت کی وہ معراج ہے جس کی نشاندہی حضرت امام حسین کے اسلاف کرتے رہے او روہی آج حسین کے کردار میں انتہائی تابانی کے ساتھ نمایاں ہیں۔

بقیہ معصُومین کی سِیرت

خمسہ نجباء یعنی پنجتن پاک کے کردار میں انسانی رفعت کا نمونہ سامنے آ چکا مگر اسلام صرف پچاس ساٹھ برس کے لئے نہ تھا وہ تو قیامت تک کے لئے تھا اور قیامت تک کتنے زندگی کے دوراہے آنے والے ہیں جن کے مثال اس مختصر مدت کے اندر درپیش نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے چودہ معصومین کی ضرورت ہوئی اور انہیں اتنے عرصہ تک آنکھوں کے سامنے رکھا گیا جتنے عرصہ میں انقلابات کا وہ ایک پورا دور پورا ہو جائے جس کے بعد تاریخ پھر اپنے آ پ کو دہراتی ہے اور جس میں ہِر پھر کر وہی صورتیں پیدا ہوتی ہیں جو ذرا بدلی ہوئی شکل میں اصل حقیقت کے لحاظ سے پہلے کی قائم شدہ نظیروں میں سے کسی ایک کے مطابق ہیں اس طرح زندگی کے ہر دوراہے پر ان معصومین میں سے کسی نہ کسی ایک کی مثال رہنمائی کے لئے موجودگی اور یوں سمجھنا چاہئے کہ ان تمام معصومین کے کردار سے مل جل کر جس ایک مزاج کی تشکیل ہو گی وہ انسانی کردار کا ہمہ گیر مکمل دستور العمل ہو گا۔

سیرتِ ائمہ کے ہمہ گیر پہلو:

حضرت امام حسین کے بعد ۹ معصومین کی زندگی میں چند اقدار مشترک ہیں۔ ایک یہ کہ پھر اس دور میں کسی خونریز اقدام کی ضرورت محسوس نہ کی گئی اور امن و خاموشی کو ہر حال میں مقدم رکھا گیا اور اب ان اقدار کے تحفظ کے لئے جو واقعہ کربلا نے ذہن بشر کے لئے قائم کر دیئے تھے اس واقعہ کی یاد کو قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کی تفصیل کے لئے ہمارا رسالہ "عزائے حسین پر تاریخی تبصرہ ۔" دیکھنے کے قابل ہے اور جس کا کامیاب نتیجہ عزاداری کے قیام و بقا کی شکل میں ہر شخص کے مشاہدہ میں ہے۔

دوسرے اپنی زندگی کی اس خاموش فضا کو انہوں نے معارف و تعلیماتِ اسلامی کی اشاعت کے لئے وقف رکھا اور تاریخ کے سردگرم حالات کے ساتھ اپنے امکانات کے مدارج کو فعلیت کی منزل میں لاتے رہے جس کا حیرت انگیز نمونہ یہ سامنے ہے کہ سلطنت و اقتدار کی بے پناہ پشت پناہی کے ساتھ اکثریت کے محدثین و فقہا کی مجموعی طاقت کا فراہم کردہ جتنا ذخیرہ احادیث صحاح ستہ کی شکل میں موجود ہے اس سے زیادہ جبر و قہر کے شکنجوں میں گھرے ہوئے ان ائمہ اہل بیت علیہم اسلام کی بدولت کتبِ اربعہ کی شکل میں ملتِ جعفریہ کے ہاتھوں میں موجود ہے جس کا موازنہ کرنے پر بالکل وہ نمونہ سامنے آتا ہے کہ جیسے قرآن مجید کے پہلے تعلیمات انبیاء کے جو مسخ شدہ مجموعے کتب سماوی کے نام سے موجود تھے ان کے ہوتے ہوئے قرآن نے آ کر یہ کام کیا کہ جو اصل حقائق ان کتب کے تھے ان کو خالص شکل میں محفوظ کر دیا اور جو مہملات و مزخرفات شان انبیاء کے خلاف ان میں حارج سے کر دیئے گئے تھے ان سب کو دور کرکے حقانیت انبیاء کی شان کو نکھار دیا۔ اسی طرح سوادِ اعظم کے متداول احادیث کے ذخیرہ میں جتنی اصلیتیں تھیں ان کو آلِ محمد علیہم اسلام نے اپنے صداقت ریز بیانات کے ساتھ محفوظ و مستحکم بنا دیا اور ان کے ساتھ سلطنتِ وقت کے کاسہ لیس اور یاوہ گو راویوں نے جو ہزاروں اس طرح کی باتیں شامل کر دی تھیں جن سے شان رسالت بلکہ شان الوہیت تک صدمہ پہنچتا تھا ان سب کا قلع قمع کرکے دامن اوہیت وسالت کو بے داغ ثابت کر دیا۔ اور خالص حقائق و تعلیمات اسلامیہ کو منضبط کر دیا۔ اس طرح جیسے کتب سماوی میں قرآن بحسب ارشاد ربانی مہیمن علی الکل ہے اسی طرح سلسلہ احادیث میں یہ ائمہ معصومین علیہم اسلام کے ذریعہ سے پہنچا ہوا ذخیرہ ہے جو حقائق اسلامیہ پر مہیمن کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کے اس کارنامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس لئے ان کو ثقلین کا جزو بنا کر قرآن کے ساتھ امت اسلامیہ کے اندر چھوڑا گیا اور ارشاد ہوا تھا کہ: ما ان تمسّکتم بھما لن تضّلو بعدی "جب تک ان دونوں سے تمسّک رکھو گے گمراہ نہ ہو گے۔"

فقہ میں یہ حقیقت ہے کہ سوادِ اعظم نے قیاس کے وسیع احاطہ میں قدم رکھنے کے باوجود جس معیار تک اس فن کو پہنچایا فقہائے اہل بیت نے تعلیمات ائمہ کی روشنی میں قیاس سے کنارہ کشی کرنے اور قرآن و حدیث سے استناباطات کے تنگنائے میں اپنے کو مقید رکھنے کے باوجود اس سے بدرجہ بالاتر نقطہ تک اس فن کو پہنچا دیا۔ جس پر انتصار نہایہ اور مبسوط اور پھر تذکرة الفقہاء اور مختلف الشیعہ سے لے کر حدائق اور جواہر اور فقہ آقا رضا ہمدانی تک ایسی بسیط کتابیں گواہ ہیں جن کا عشر عشیر بھی سوادِ اعظم کے پاس موجود نہیں ہے۔

تیسرے اس سو ڈیڑھ سو برس کی مدت میں امت اسلامیہ کے اندر کتنے انقلابات آئے حالات نے کتنی کروٹیں بدلیں۔ ہواؤں کی رفتار کتنی مختلف ہوئی مگر ان معصومین کے اخلاق و کردار میں جو تعلیمات و اخلاقِ کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے ذرہ بھر تبدیلی نہیں ہوئی۔ نہ اپنے منہاج نظر کو بدلا اور نہ امن پسندی کے رویہ میں جسے اب مستقل طور پر سکوت و سکون کی شکل میں اختیار کر لیا تھا ذرہ بھر تبدیلی ہوئی۔ ان دونوں باتوں کا ثبوت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک ہستی کو ان کے دور کی حکومت نے اپنا حریف ہی سمجھا۔ اس لئے ان سے کسی حکومت نے بھی غیرمعترضانہ حیثیت اختیار نہیں کی۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ وہ دنیاوی حکومت کے مقابل اس محاذ کے جو حضرت علی بن ابی طالب، حضرت حسن مجتبیٰ اور حضرت امام حسین کی نگہبانی میں قائم رہا تھا، برابر محافظ رہے اور اسی لئے باطل حکومت انہیں اپنا حریف سمجھتی رہی۔ مگر کبھی حکومت کو ان کے خلاف کسی امن شکنی کے الزام کو ثابت کرنے کا موقع نہیں مل سکا اس لئے قید کیا گیا تو اندیشہ نقص امن کی بنا پر اور زندگی کا خاتمہ کیا گیا تو زہر سے جس کے ساتھ حکومت وقت کو اپنی صفائی پیش کرنے کا امکان باقی رہے۔

یہ تمام معصومین کی زندگی اور موت کی مشترک کیفیت بتلاتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا طرزِ عمل ایک واحد نظام کا جز تھا جس کے قیام کے مجموعی حیثیت سے وہ سب ذمہ دار تھے۔

چوتھے اس وقت جب کہ علم، تقویٰ، عبادت وریاضت اور روحانیت ہر ایک کی ایک قیمت مقرر ہو چکی تھی اور ان سب جنسوں کا بازار سلطنت میں بیوپار ہو رہا تھا، یہ ہستیاں وہ تھیں جنہوں نے اپنے خداداد جوہروں کو دینوی قیمتوں سے بالاتر ثابت کیا۔ نہ اپنا کردار بدلا اور نہ اپنے کردار کو حکومت وقت کے غلط مقاصد کا آلہ کار بنایا۔ نہ حکومتوں کے خلاف کھڑی ہونے والی جماعتوں کے معاون بنے اور نہ حکومتوں کے ناجائز منصوبوں کے مددگار ہوئے۔ حالانکہ حکومتوں نے ان ہر داؤں کو آزمایا۔ مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا اور اقتدارِ دنیا کی طمع کے ساتھ بھی آزمائش کی۔ مگر ان کا کردار ہمیشہ منفرد رہا۔ اور اموی و عباسی کسرویت و قیصریت کے زیرسایہ پروان چڑھی ہوئی دنیا کے ماحول کے اندر وہ علیحدہ صحیح اخلاق اسلامی کا نمونہ پیش کرتے رہے۔ یہ ان کا خاموش عمل ہی وہ مستقل جہاد حیات تھا جو وہ بتقاضائے خلافت الٰہیہ مستقل طو رپر انجام دیتے رہے۔

پانچویں۔ اگرچہ ان بزرگواروں کی عمریں مختلف ہوئیں۔ ایک طرف حضرت امام جعفر صادق ہیں جو تقریباً ستر برس اس دارِ دنیا میں رہے دوسری طرف حضرت امام محمد تقی ہیں جو ۲۵ برس سے زیادہ اس دارِ فانی میں زندہ نہیں رہے۔ اور پھر برسراقتدار امامت آنے کے موقع پر عمروں کا اختلاف یعنی جب سابق امام کی وفات ہوئی اور بعد کے امام کی امامت تسلیم ہوئی اس وقت ایک طرف حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق ہیں جن کی عمر اپنے والد بزرگوار کی وفات کے وقت ۳۴ ۔ ۳۵ برس تھی اور دوسری طرف حضرت امام محمد تقی اور امام علی نقی ہیں جن کی عمریں زیادہ سے زیادہ آٹھ نو برس تھیں مگر عالم اسلامی کا بیان متفق ہے کہ ہر ایک بزرگ اپنے دور میں عبادت، زہد، ورع، تقویٰ، ریاضت نفس، فیض و کرم تمام اخلاق میں مثالی زندگی کے مالک رہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے افعال نفسانی جذبات اور طبیعت کے تقاضوں کی بنا پر نہیں ہیں جن میں عمر کا فرق اثر انداز ہوتا ہے بلکہ وہ سب اسی للہیت اور احساس فرائض کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں جو انسانی کردار کی معراج ہے۔

اب فرداً فرداً ہر امام کے حالات میں ان کے زمانہ کی کیفیات کے انفرادی خصوصیات کے ساتھ ان مشترکہ اقدار کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کا مجمل حیثیت سے ابھی تذکرہ کیا گیا ہے۔

حضرت امام زین العابدین

آپ کا دور کربلا کے تاریخی کارنامہ اور شہادت امام حسین کے بعد شروع ہوا ہے۔ یہ زمانہ وہ تھا جب مظالم کربلا کے ردعمل میں مسلمانوں کی آنکھیں کھل رہی تھیں۔ کچھ مخلص افراد سچے جذبہ عقیدت کے ساتھ بنی امیہ کے خلاف کھڑے ہو گئے تھے۔ اور کچھ نے سیاسی طور پر اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے حصول اقتدار کا اسے ذریعہ بنایا تھا۔ اس وقت عام انسانی جذبات کے لحاظ سے اندازہ کیجئے کہ ایک وہ ہستی جس نے کربلا کے بہتر لاشے زمین پر گرم دیکھے ہوں اور یزید کے ہاتھوں خود وہ مظالم اٹھائے ہوں۔ جو کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک کے پورے المیہ میں مضمر ہیں اسے ہر اس کوشش کے ساتھ جو سلطنت بنی امیہ کے خلاف ہو رہی ہو کتنی قلبی وابستگی ہونا چاہئے اور اس وابستگی کے ساتھ بڑی مشکل بات ہے کہ وہ عواقب پر نظر کر سکے۔ ایسے موقعوں پر عام جذبات کا تقاضا تو یہ ہے کہ چاہے حب علی کے جذبہ میں کچھ کوششیں نہ ہوں صرف بعض معاویہ میں ہوں مگر ایسی کوششوں کے ساتھ بھی آدمی منسلک ہو جاتا ہے۔ فقط اس لئے کہ ہمارے مشترک دشمن کے خلاف ہیں خصوصاً جب کہ اس میں کامیابی کے آثار بھی نظر آ رہے ہوں جیسے عبداللہ بن زہیر جنہوں نے حجاز میں اتنا مکمل تسلط حاصل کر لیا تھا کہ جمہوری نظریہ خلافت کے بہت سے علماء قہر و غلبہ کی بنا پر ان کی باضابطہ خلافت کے قائل ہیں۔ جس کی تصدیق حفاظ سیوطی کی تاریخ الخلفاء سے ہو سکتی ہے۔ یا اہل مدینہ کی منظم کوشش جس نے عمال یزید کو وقتی طور سے سہی نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا مگر ایسی حالت میں جب کہ جناب محمد بن حنفیہ کی وابستگی ان تحریکوں سے کسی حد تک نمایاں ہو سکی، امام زین العابدین کا کردار ان تمام مواقع پر اس طرح علیحدگی کا رہا کہ آپ کو ان تحریکوں سے کبھی وابستہ نہیں کیا جا سکا۔

یہ علیحدگی ہی بڑے ضبطِ نفس کا کارنامہ ہے چہ جائیکہ آپ نے اس موقع پر مصیبت زدوں کے پناہ دینے کی خدمت اپنے ذمہ رکھی۔ چنانچہ مروان ایسے دشمن اہل بیت کو جب جان بچا کر بھاگنے کی ضرورت پیش ہوئی تو اپنے اہل و عیال اور سامان و اموال کی حفاظت کے لئے اگر کسی جائے پناہ پر اس کی نظر پڑی تو وہ صرف حضرت امام زین العابدین تھے۔ اس کردار کا یہ نتیجہ تھا کہ جب پھر فوج یزید نے یورش کی مدینہ میں قتل عام کیا جو واقعہ حرہ کے نام سے مشہور ہے تو آپ کے لئے ممکن ہوا کہ آپ مظلومین مدینہ میں سے بھی چار سو بے بس خواتین کو اپنی پناہ میں لے سکیں اور محاصرہ کے زمانہ میں آپ ان کے کفیل رہیں۔

آپ کا مروان کو پناہ دینا بتا رہا تھا کہ آپ انہی علی بن ابی طالب کی روایات کے حامل ہیں جنہوں نے اپنے قاتل کو بھی جام شیر پلانے کی سفارش کی تھی اور حضرت امام حسین کے جنہوں نے دشمنوں کی فوج کو پانی پلوایا تھا۔ وہی کردارآج امام زین العابدین کے قالب میں نگاہوں کے سامنے ہے۔

اسی کی مثال پھر اس وقت سامنے آئی جب یزید کی موت کے بعد انقلاب کے خوف سے حصین بن نمیر جو مکہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ مضطربانہ اور سراسیمہ اپنے لشکر کو لے کر فرار پر مجبور ہوا اور مدینہ کی راہ سے شام کی طرف روانہ ہوا۔ بنی امیہ سے نفرت اتنی بڑھ چکی تھی کہ کوئی نہ ان لوگوں کو کھانے کا سامان دیتا تھا نہ اونٹوں اور گھوڑوں کے لئے چارا مہیا ہو سکتا تھا۔ اتفاق سے امام زین العابدین اپنی زراعت سے غلہ اور چارا لے کر واپس جا رہے تھے۔ حصین نے بڑھ کر ملتجیانہ انداز میں کہا کہ یہ غلہ اور چارا میرے ہاتھ فروخت کر دیجئے۔ آپ نے فرمایا۔ ضرورت مند کی خاطر یہ بلاقیمت حاضر ہے۔ اس کرم کو دیکھ کر اس نے تعارف حاصل کیا کہ آپ ہیں کون؟ جب معلوم ہوا تو اس نے حیرت کے ساتھ کہا آپ نے پہچانا بھی ہے کہ میں کون ہوں؟ حضرت نے فرمایا: "میں خوب پہچانتا ہوں مگر بھوکوں اور پیاسوں کی مدد کرنا ہم اہل بیت کا شعار ہے۔" حصین اس واقعہ سے اتنا متاثر ہوا کہ گھوڑے سے نیچے اتر کر کہنے لگا کہ یزید تو ختم ہو چکا ہے آپ ہاتھ بڑھائیے میں اپنے پورے لشکر سمیت آپ کی بیعت کرتا ہوں اور آپ کی خلافت کو تسلیم کرانے میں کوئی وقیقہ اٹھا نہ رکھوں گا اس پر آپ باندازِ تحقیر تبسم فرمایا اور بغیر کچھ جواب دیئے آگے روانہ ہو گئے۔

اس دور انقلاب کے ہنگامی تقاضوں سے اس طرح دامن بچانے کے باوجود اس سرچشمہ انقلاب یعنی واقعہ کربلا کی یاد کو برابر آپ ن یتازہ رکھا۔ یہ زمانہ ایسا نہ تھا کہ عمومی مجالس کی بنا ہو سکتی اور عوام میں تقریروں کے ذریعہ سے اس کی اشاعت کی جاتی۔ اس لئے آپ نے اپنے شخصی تاثرات غم اور مسلسل اشکباری پر اکتفا کی، جو بالکل فطری حیثیت رکھتی تھی۔ یہ مقاومت مجہول سے زیادہ غیرمحسوس ذریعہ تھا ان انقلابی اقدار کے تحفظ کا جو واقعہ کربلا میں مضمر تھے مگر آئینی طور پر کسی حکومت کے بس کی بات نہ تھی کہ وہ اس گریہ پر پابندی عائد کر سکتی۔ یوں مظالم کربلا کی رود میں کسی آنکھ سے نکلنے پر نوک نیزہ سے اذیت دی جاتی ہو تو وہ اور بات ہے مگر دور امن میں کسی انتہائی ظالم و جابر حکومت کے لئے بھی اس کا موقع نہ تھا کہ وہ ایک بیٹے کو جس کاباپ تین دن کا بھوکا پیاسا پس گردن سے ذبح کیا گیا ہو۔ اور جس کے گھر سے ایک دوپہر میں اٹھارہ جنازے نکل گئے ہوں اور جس کی ماں بہنیں اسیر بنا کر شہر بہ شہر اور دیار بہ دیار پھرائی گئی ہوں ان تاثرات کے اظہار سے روک سکے جو صرف رنج و ملال کی شکل میں آنسو بن کر اس کی آنکھوں سے جاری ہوں۔ پھر بلاشبہ اس غیرمعمولی مسلسل گریہ میں جو پچیس برس تک جاری رہا وہ عظیم تاثیر تھی جسے چاہے تاریخ کی سطحی نگاہ اسباب انقلاب میں شمار نہ کرے مگر واقعیت کی دنیا میں اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اس مسلسل گریہ کے واقعات کو تاریخوں میں پڑھنے کے بعد طبیعت انسانی کے فطری تقاضوں کی بنا پر ہر شخص ایسا تصور کر سکتا ہے کہ غمزدہ اور ہمہ تن گریہ و آہ ہستی سے اس کے بعد یہ توقع کرنا غلط ہے کہ وہ علوم و معارف کی کوئی خدمت انجام دے سکے مگر نہیں "معراج انسانیت" تو اسی تضاد میں مضمر ہے کہ یہ غرق حسرت و اندوہ ذات بھی اپنے اس فریضہ سے جو بحیثیت نائب حق و رہنمائے خلق اس کے ذمہ ہے۔ غافل نہیں ہوتی۔ بے شک یہ دور ایسا پرآشوب تھا کہ آپ کے گردوپیش طالبان ہدایت کا مجمع نہیں ہو سکتا تھا۔ آپ کسی مجمع کو مخاطب بنا کر کوئی تقریر نہیں فرما سکتے تھے۔ نہ اپنے قلم کے ذریعہ لوگوں سے سلسلہ مخابرت جاری فرما سکتے تھے اس لئے اس دور کے تقاضوں کے ماتحت آپ نے منفرد طریقہ "دعا و مناجات" کا اختیار فرمایا۔ یہ بھی مثل "گریہ" کے ایک لازم بظاہر غیرمتعدی عمل تھا۔ جو کسی قانون کی زد میں نہیں آ سکتا تھا مگر ان دعاؤں کو بھی جو "صحیفہ سجادیہ" کی شکل میں محفوظ ہیں جب ہم دیکھتے ہیں تو بلا کسی شائبہ مبالغہ و مجاز کے یہ حقیقت نمایاں نظر آتی ہے کہ وہی روح جو حضرت علی بن ابی طالب کے نہج البلاغ والے خطبوں میں متحرک ہے وہی صحیفہ کاملہ کی ان دعاؤں میں بھی موجود ہے۔ صرف یہ کہ وہاں جو حکیمانہ گہراؤاور خطیبانہ بہاؤ ہے اس کی قائم مقامی یہاں اس سوزوگداز نے کی ہے جس کا دعاؤ مناجات میں محل ہے اور اس طرح اس کے سننے والوں میں دماغ کے ساتھ ساتھ دل بھی شدت سے متاثر ہوتا ہے جو غالباً دوسروں کی اصلاح کے لئے کچھ کم اہمیت نہیں رکھتا اور اسی ذیل میں اخلاق و فرائضکے تعلیمات بھی مضمر ہیں۔ جو مدرسہ اہل بیت کے مقاصد خصوصی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس دور میں اس ذریعہ تبلیغ و تدریس کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ ممکن نہ تھا اورامام زین العابدین نے اس ذریعہ کو اختیار کرکے ثابت کر دیا کہ یہ حضرات کسی سخت ماحول میں بھی اپنے فرائض اور اہم مقاصد کو ہرگز نظرانداز نہیں کرتے۔

حضرت امام محمد باقر

آپ کا دور بھی مثل اپنے پدر بزرگوار کے وہی عبوری حیثیت رکھتا تھا جس میں شہادت حضرت امام حسین سے پیداشدہ اثرات کی بنا پر بنی امیہ کی سلطنت کو ہچکولے پہنچتے رہتے تھے مگر تقریباً ایک صدی کی سلطنت کا استحکام ان کو سنبھال لیتا تھا بلکہ فتوحات کے اعتبار سے سلطنت کے دائرہ کو عالم اسلام میں وسیع تر کرتا جاتا تھا۔

حضرت امام محمد باقر خود واقعہ کربلا میں موجود تھے اور گو طفولیت کا دور تھا یعنی تین چار برس کے درمیان عمر تھی مگر اس واقعہ کے اثرات اتنے شدید تھے کہ عام بشری حیثیت سے بھی کوئی بچہ ان تاثرات سے علیحدہ نہیں رہ سکتا تھا۔ چہ جائیکہ یہ نفوس جو مبداء فیض سے غیرمعمولی ادراک لے کر آئے تھے وہ اس کم عمری میں جناب سکینہ کے ساتھ ساتھ یقیناً قید وبند کی صعوبت میں بھی شریک تھے اس صورت میں انسانی و دینی جذبات کے ماتحت آپ کو بنی امیہ کے خلاف جتنی بھی برہمی ہوتی ظاہر ہے چنانچہ آپ کے بھائی زید بن علی بن الحسین نے ایک وقت ایسا آی اکہ بنی امیہ کے مقابلے میں تلوار اٹھائی اسی طرح سادات حسنی میں سے متعدد حضرات وقتاً فوقتاً بنی امیہ کے خلاف کھڑے ہوتے رہے حالانکہ واقعہ کربلا سے براہ راست جتنا تعلق حضرت امام محمد باقر کو رہا تھا۔ اتنا جناب زید کو بھی نہ تھا چہ جائیکہ حسنی سادات جو نسبتاً دوسری شاخ میں تھے۔ مگر یہ آپ کا وہی جذبات سے بلند ہونا تھا کہ آپ کی طرف سے کبھی کوئی اس قسم کی کوشش نہیں ہوئی اور آپ کبھی کسی ایسی تحریک سے وابستہ نہیں ہوئے بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنے دور کی حکومت کو مفادِ اسلامی کے تحفظ کے لئے اسی طرح مشورے دیئے جس طرح آپ کے جد امجد حضرت علی بن ابی طالب اپنے دور کی حکومتوں کو دیتے رہے تھے۔ چنانچہ رومی سکوں کے بجائے اسلامی سکہ آپ ہی کے مشورہ سے رائج ہوا جس کی وجہ سے مسلمان اپنے معاشیات میں دوسروں کے دست نگر نہیں رہے۔

باوجودیکہ زمانہ آپکو والد بزرگوار حضرت امام زین العابدین کے زمانہ سے بہتر ملا۔ یعنی اس وقت مسلمانوں کا خوف و دہشت اہل بیت کے ساتھ وابستگی میں کچھ کم ہو گیا تھا اور ان میں علوم اہل بیت سے گرویدگی بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پیدا ہو گئی تھی کوئی دوسرا ہوتا تو اس علمی مرجعیت کو سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنا لیتا مگر ایسا نہیں ہوا اور حضرت امام باقر مسلمانوں کے درمیان ایک طرح کی مرجعیت عام حاصل ہونے کے باوجود سیاست سے کنارہ کشی میں اپنے والد بزرگوار کے قدم بہ قدم ہی رہے۔

بے شک زمانہ کی سازگاری سے آپ نے واقعہ کربلا کے تذکروں کی اشاعت میں فائدہ اٹھایا۔ اب واقعہ کربلا پر اشعار نظام کئے جانے لگے اور پڑھے جانے لگے۔ امام زین العابدین کا گریہ آپ کی ذات تک محدود تھا اور اب دوسروں کو ترغیب و تحریص بھی کی جانے لگی۔ اس کے علاوہ نشر علوم آل محمد کے فریضہ کو کھل کر انجام دیا گیا۔ اور دنیا کے دل پر علمی جلالت کا سکہ بٹھا دیا گیا۔ یہاں تک کہ مخالفین بھی آپ کو "باقرالعلوم" ماننے پر مجبور ہوئے جس کا مفہوم ہی ہے "علوم کے اسرار و رموز کو ظاہرکرنے والے"۔ اس طرح ثابت کر دیا کہ آپ اپنے کردار میں انہی علی بن ابی طالب کے صحیح جانشین ہیں جنہوں نے پچیس برس تک سلطنت اسلامیہ کے بارے میں اپنے حق کے ہاتھ سے جانے پر صبر کرتے ہوئے صرف علوم و معارف اسلامیہ کے تحفظ کا کام انجام دیا۔ وہی ورثہ تھا جو سینہ بسینہ حضرت محمد باقرتک پہنچا تھا۔ نہ امتداد زمانہ ن یاس میں کہنگی پیدا کی تھی اور نہ اس رنگ کو مدھم بنایا تھا۔ نہ تسلسل مظالم کے اثر سے انتقامی جذبات کے غلبہ نے ان کو بنیادی مقاصد حیات سے غافل کیا۔

امام جعفر صادق

آپ کا دور انقلابی دور تھا۔ وہ بیج بنی امیہ سے نفرت کے جو حضرت امام حسین کی شہادت نے دل و دماغ کی زمین میں بو دیئے تھے اب پورے طور پر بارآور ہو رہے تھے۔ اموی تخت سلطنت کو زلزلہ تھا اور اموی طاقت روزبروز کمزور ہو رہی تھی اس دور میں بار بار ایسے مواقع آتے تھے جن میں کوئی جذبات آدمی ہوتا تو فوراً ہوا کے رخ پر چلا جاتا اور انقلاب کے وقتی فوائد سے متمتع ہونے کے لئے خود بھی انقلابی جماعت کے ساتھ منسلک ہو جاتا۔ پھر جبکہ اسی ذیل میں ایسے اسباب بھی وقتاً فوقتاً پیدا ہوتے تھے۔ جو بنی امیہ کے خلاف اس کے جذبات کو مشتعل کرنے والے ہوں۔

زید بن علی بن الحسین حضرت امام جعفر صادق کے چچا تھے خود بھی علم و ورع واتقاء میں ایک بلند شخصیت کے حامل تھے۔ یہ بنی امیہ کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں اور وہ بھی حضرت امام حسین کے خون کا بدلہ لینے کے اعلان کے ساتھ۔ یہ کیا ایسا موقع نہ تھا کہ حضرت امام جعفر صادق بھی چچا کے ساتھ اس مہم میں شریک ہو جائیں۔ پھر اس کے بعد زید کا شہید کیا جانااور ان پر وہ ظلم کہ دفن کے بعد لاش کو قبر سے نکالا گیا اور سر کو قلم کرنے کے بعد جسد بے سر کو ایک عرصہ تک سولی پر چڑھائے رکھا تھا پھر آگ میں جلا دیا گیا۔ اس کے اثرات عام انسانی طبیعت میں کیا ہیجان پیدا کر سکتے ہیں؟

اور پھر عباسیوں کے ہاتھ سے انقلاب کی کامیابی اور سلطنت بنی امیہ کی اینٹ سے اینٹ بج جانا۔

اس تمام دور انقلاب یں ہر دن نئے نئے محرکات اور گوناگوں نفسانی مہیجات ہیں جو ایک انسان کو متحرک بنانے کے لئے کافی ہیں خصوصاً اس لئے کہ بنی عباس کو اقتدار کی کرسی پر بٹھانے والا ابو سلمہ خلال اولاد فاطمہ زہرا کی محبت کے ساتھ اتنا مشہور تھا کہ برسراقتدار آنے کے لئے امام جعفر صادق کے پاس تحریری عرضداشت بھیجی مگر آپ نے اس سے نہ صرف یہ کہ بے اعتنائی برتی بلکہ اس کاغذ کو اس شمع کی لو کے سپرد کر دیا جو اس وقت روشن تھی۔ اور قاصد سے فرمایا کہ اس تحریر کا بس یہی جواب ہے اور پھر اسے پورے طویل دور انقلاب میں ایک دن ایسا نہیں آتا جو حضرت امام جعفر صادق میں کوئی حرکت پیدا کر سکا ہو۔ سوا علوم اہل بیت کے تحفظ و اشاعت کی اس مہم کے جس کی کھل کر ابتداء آپ کے والد ماجد نے کر دی تھی اور اب اسی کو اپنی نسبتہً طویل عمر اور اس وقت کے انقلابی حالات کے وقفہ سے فائدہ اٹھا کر پورے طور سے فروغ دینے کا موقع حضرت امام جعفر صادق کو ملا۔ جس کے نتیجہ میں مذہب اہلِ بیت عوام میں "ملت جعفری" کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔

یہ کیا تھا؟ یہ وہی جذبات سے بلند ہونے کا قطعی مشاہدہ ہے جسے "معراج انسانیت" کی حیثیت سے ہم ان کے تمام پیش روؤں میں دیکھتے رہے ہیں۔

بنی عباس کے تخت سلطنت پر بیٹھنے کے بعد کچھ دن تو اولاد رسول کو سکون رہا مگر منصور دوانقی کے تخت سلطنت پر بیٹھتے ہی پھر فضا مکدر ہو گئی اور چونکہ یقین تھا کہ بنی امیہ کو جو ہم نے شکست دی ہے وہ اولاد فاطمہ کے ساتھ ہمدردی ہی سے فائدہ اٹھا کر۔ اس لئے یہ اندیشہ تھاکہ نہ جانے کب عوام کی آنکھیں کھل جائیں۔ اور وہ اسی طرح جھک جائیں۔ خصوصاً اس لئے کہ بنی امیہ کے زوال کے آثار واضح ہونے کے بعد جب بنی ہاشم نے مدینہ میں جمع ہو کر ایک مجلس مشاورت منعقد کی کہ انقلاب کی تکمیل کے بعد تخت سلطنت کس کے سپرد کیا جائے تو سب نے حسن مثنی فرزند امام حسن کے پوتے محمد بن عبداللہ کو اس منصب کا اہل قرار دیا تھا اورسب نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ اس جلسہ میں منصور بھی موجود تھا اور اس نے بھی محمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اس کے بعد سیاسی ترکیبوں سے اس کارروائی کو نسیاً منسیا کرکے بنی عباس تخت خلافت پر قابض ہو گئے اس لئے بہت بڑا کانٹا جو منصور کے دل اور آنکھ میں کھٹک رہا تھا وہ محمد بن عبداللہ کا وجود تھا اس کا نتیجہ یہ تھا کہ برسراقتدار آنے کے بعد خصوصت سے اولاد امام حسن کے خلاف ظلم و تشدد شروع کر دیا گیا۔

عبداللہ بن الحسن جو عبداللہ المحض کے نام سے مشہور تھے۔ امام زین العابدین کے بھانجے یعنی فاطمہ بن الحسین کے صاحبزادے تھے اور محمد ان کے بیٹے جو اپنے ورع و تقویٰ کی بنا پر نفس زکیہ کے نام سے مشہور تھے جناب فاطمہ بنت الحسین کے پوتے تھے۔

منصور نے تمام سادات حسنی کو قید کردیا اور خصوصیت سے عبداللہ المحض کو پیرانہ سالی کے عالم میں اتنے سخت شدائد و مظالم کے ساتھ قید تنہائی میں محبوس کیا کہ الحفیظ والامان۔

ظاہر ہے کہ حضرت امام جعفر صادق قلبی طور پر ان حضرات سے غیرمتعلق نہ تھے چنانچہ یہ واقع ہے کہ جس دن اولاد حسن کو زنجیروں سے باندھ کر گردن میں طوق اور پیروں میں بیڑیاں پہنا کر بے کجا وہ اونٹوں پر سوار کرکے مدینہ سے نکالا گیا۔ اور یہ قافلہ اس حال میں مدینہ کی گلیوں سے گزرا تو امام جعفر صادق اس منظر کو دیکھ کر تاب ضبط نہ لا سکے اور چیخیں مار مار کر رونے لگے اور اس کے بعد ۲۰ دن تک شدت سے بیمار رہے۔ عبداللہ کے دونوں بیٹے محمد اور ابراہیم کچھ دن پہاڑوں کی گھاٹیوں میں چھپے رہے پھر "تنگ آمد بجنگ آمد" کے مصداق ایک جماعت کو اپنے ہمراہ لے کر مقابلہ پر آماد ہوئے اس موقع پر یہ واقعہ یاد رکھنے کا ہے کہ رائے عامہ محمد کے ساتھ اس حد تک محسوس ہو رہی تھی کہ امام ابو حنیفہ اور مالک نے نفس زکیہ کی حمایت و نصرت کے لئے فتویٰ دیا۔ مگر حضرت امام جعفر صادق اپنی خداداد بصیرت کی بنا پر باوجود تمام جذباتی تقاضوں کے اس مہم سے علیٰحدہ رہے۔ اور آپ نے اپنے دامن کو اس کشمکش سے بالکل ہی بچائے رکھا۔ آپ جانتے تھے کہ یہ مہم وقتی حالات کی بنا پر اضطراری فعل کے طور پر شروع کی گئی ہے جس کے پس پشت کوئی بلند مقصد نہیں ہے نہ اس سے کوئی نتیجہ نکلنے والا ہے لیکن میں نے اگر اس کا کسی طرح بھی ساتھ دیا تو اس تعمیری خدمت کا بھی جو میں معارف آل رسول کی اشاعت کے طور پر انجام دے رہا ہوں دروازہ مسدود ہو جائے گا۔

یہ بے پناہ ضبط و صبر وہی ہے جو ان کے آباؤ اجداد میں نظر آتا رہا تھا اور وہ عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔

امام موسیٰ کاظم

آپ کے زمانہ میں سیاست کا شکنجہ پھر سخت ہو گیا۔ ا

ب نہ تعلیم و تدریس کی وہ آزادی رہی نہ تبلیغ و اشاعت کے مواقع باقی رہ گئے۔ حکومت وقت برابر آپ سے برسر پرخاش رہی یہاں تک کہ آخر عمر کے کئی سال تمام اوکمال قید خانہ میں گزر گئے مگر آپ کی بلند سیرت کی روشنی اتنی تیز تھی کہ قید خانہ کی اونچی اور سنگین دیواریں اس کے لئے ایک نازک و باریک پردہ سے زیادہ نہ تھیں جس کے اندر سے اس کی شعائیں چھن کر باہر نکلی رہیں۔ یہاں تک کہ چودہ صدیاں پار کرکے ہم تک بھی پہنچ سکی ہیں۔ چنانچہ اسی سیرت کی بلندی کا نتیجہ یہ تھا کہ حکومت وقت کے مقررکردہ قیدخانوں کے افسر آپ کی نیکوکاری کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے تھے اورآپ کے ساتھ سختی کرنے سے معذور رہتے تھے جس کے نتیجہ میں بار بار نگرانوں کے بدلنے کی ضرورت ہوتی تھی۔ چنانچہ پہلے آپکو بصرہ میں عیسیٰ بن جعفر بن منصور کی نگرانی میں رکھا گیا۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ ان کو قید تنہائی میں رکھو اور کچھ دن کے بعد حکم دیا کہ انہیں قتل کر دو۔ وہ خلیفہ وقت کا چچازاد بھائی تھا مگر اس کے دل پر امام موسیٰ کاظم کے حسن کردار کا اثر پڑ گیا تھا۔ اس نے لکھا کہ میں نے ان کے حالات کی خوب جانچ کی ہے وہ تو ہمیشہ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور شب و روز عبادت میں مصروف رہتے ہیں تنہائی کے عالم میں بھی ہم میں سے کسی کے لئے کبھی بددعا نہیں کرتے بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ تونے مجھے اپنی عبادت کے لئے یہ تنہائی کی جگہ عطا فرمائی۔ ایسے خداترس اور عبادت گزار کی جان لینا میرے بس کی بات نہیں ہے۔

جب اس نے انکار کیا تو آپ کو بصرہ سے بلوا کر بغداد میں فضل بن ربیع کے سپرد کیا گیا۔ مگر فضل پر بھی آپ کے کردار کے مشاہدہ کا خاص اثر پڑا۔ آخر فضل بن ربیع کو بھی اس صورت سے برطرف کیا گیا۔ یحییٰ برمکی کو براہ راست نگران بنا دیا گیا اور اس سے بھی پھر غیرمطمئن ہو کر سندی بن شاہک کو مقرر کیا گیا۔ یہ ایسا قسی القلب اور سفاک تھا کہ اس نے زہر دغا دے کر امام کی زندگی کا خاتمہ کیا۔

زندگی میں قید خانہ میں محبوس رکھے گئے اور پھر قبر کے اندر مدفون ہو گئے مگر ان کے اوصاف و کمالات، زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت ہی نہیں بلکہ ان کے زبان و قلم سے نکلے ہوئے بہت سے ارشادات و تعلیمات اور شریعت نبوی ک یاحکام اب تک کتابوں کے صفحات پر موجود ہیں جو بتا رہے ہیں کہ وہ اسی سلسلہ کی ایک فرد تھے جس میں سے ہر ایک اپنے دور کے حالات کے مطابق کاروان بشر کو منزل کمال انسانیت تک پہنچانے کے لئے رہنمائی کا فرض انجام دیتا رہا۔ اور اپنے کردار کی رفعت سے "معراج انسانیت" کی نشان دہی کرتا رہا۔

امام رضا

آپ کو جس خاص صورت حال سے دوچار ہونا پڑا وہ آپ کے زمانہ کے عباسی خلیفہ مامون کا قبول ولی عہدی کے لئے آپ کو مجبور کرنا تھا بالکل اسی طرح جیسے آپ کے مورث اعلیٰ حضرت امیرالمومنین علی مرتضیٰ کے سامنے چوتھے نمبر پر حکومت پیش کی گئی ظاہر ہے کہ یہ وہ امامت نہ تھی جو منجانب اللہ آپ کو حاصل تھی اسے دنیا نے تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ وہی اپنے نقطہ نظر والی جمہوری خلافت تھی جس کی پیشکش آپ کے سامنے کی گئی تھی اور اسی لئے آپ نے اس سے شدید انکار فرمایا مگر جب لوگوں کا اصرار قیام حجت کے قریب پہنچ گیا تو چونکہ ایک داعی حق کو جس عنوان سے سہی ایک موقع اگر خلق خدا کی اصلاح کا مل جائے چاہے وہ کسی لباس میں ہو، اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ اب آپ نے ان کے اصرار کو قبول فرما لیا۔ اسی طرح اب امام رضا کے سامنے مامون اقتدار کی پیشکش کر رہا تھا۔ مورخین متفق ہیں کہ آپ نے انکار فرمایا۔ کثرت سے گفتگوئیں ہوئیں اور مامون نے بار بار اصرار کیا اور آپ ہر مرتبہ انکار فرماتے تھے۔ اور آپ کا ارشاد تھا کہ میں اللہ کی بندگی ہی کو بس اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہں اور اقتدار دنیا سے تو کنارہ کشی ہی کرکے بارگاہ الٰہی میں بلندی کی امید رکھتا ہوں اور جب وہ اصرار کرتا تھا تو آپ کہتے تھے:اَللّٰهُمَّ لَا عَهَدَ اِلَّا عَهْدِکَ وَ لا وِلأته اِِلَّا مِنْ قَبْلِکَ فَوَفْقنِیْ الِاقامَةِ دِیْنکَ واحیّآءِ سُنَّتِه نبِیّکَ نِعْمَ الْمَوْلیٰ وَ نعْمَ النَّصِیْر ۔

"پروردگار! عہدہ تو وہی عہدہ جو تیری طرف سے ہے اور حکومت وہی حکومت ہے جو تیری جانب سے ہے ہاں مجھے توفیق عطا فرما کہ تیرے دین کے شعائر کو قائم کروں اور تیرے رسول کی سنت کو زندہ کروں۔ تو بہترین مالک اور بہترین مددگار ہے۔"

اس میں ایک طرف صحیح اسلامی نظریہ حکومت کی تبلیغ ہو رہی تھی جس سے آپ کے انکار کا پس منظر واضح طور پر نمایاں ہو رہا تھا اور دوسری طرف اقامت دین اور احیائے سنت کے لئے اپنے جذبہ بے قرار کا مظاہرہ تھا جو بعد از اصرار بسیار ولی عہدی کے قبول کرنے کے پس منظر کی ترجمانی کر رہا ہے۔

پھر آپ نے جب ولی عہدی قبول کی تو یہ شرط کر لی کہ میں حکام کے غرل و نصب کا ذمہ دار نہ ہوں گا نہ امور سلطنت میں کوئی دخل دوں گا۔ ہاں جس معاملہ میں مشورہ لیا جائے گا کتاب خدا و سنت رسول کے مطابق مشورہ دے دیا کروں گا یہ وہ کام تھا جو آپ کے جد بزرگوار حضرت علی بن ابی طالب خلفائے ثلٰثہ کے دور میں بغیر کسی عہدہ و منصب کے انجام دیتے تھے اب وہی حضرت امام علی بن موسی الرضا ولی عہدی کے نام کے بعد انجام دیں گے۔

معلوم ہوتا ہے کہ شخصیت ایک ہی ہے صرف زمانہ کا فرق ہے اور سامنے کی حکومت کے رویہ کا فرق ہے کہ پہلے دور والوں نے کسی عہدہ کی پیشکش جناب امیر کے لئے اپنے سیاسی مفاد کے خلاف سمجھی اور اب عہدہ کی پیشکش اپنے سیاسی مصالح کے لئے مناسب سمجھی جا رہی ہے معلوم ہوتا ہے کہ جو اختلاف ہے وہ سلطنت وقت کے رویہ میں ہے مگر رہنمائے دین کے موقف میں کوئی فرق نہیں ہے اقبال کے لفظوں میں کہ لیجئے کہ:

حقیقتِ ابدی ہے مقام شبیری،

بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

پھر ولی عہدی کے بعد آپ نے اپنی سیرت بھی وہی رکھی جو شہنشاہ اسلام ما نے جانے کے بعد حضرت علی بن ابی طالب کی سیرت رہی۔ آپ نے اپنے دولت سرا میں قیمتی قالین بچھوانا پسند نہیں کئے۔ بلکہ جاڑے میں بالوں کا مکمل اور گرمی میں چٹائی کا فرش ہوا کرتا تھا کھانا سامنے لایا جاتا تھا تو دربان، سائیس اور تمام غلاموں کو بلا کر اپنے ساتھ کھانے میں شریک فرماتے تھے۔

پھر اسی عباسی سلطنت کے ماحول کو پیش نظر رکھ کر جہاں صرف قرابت رسول کی بنا پر اپنے کو خلق خدا پر حکمرانی کا حقدار بنایا جاتا تھا اور کبھی اپنے اعمال و افعال پر نظر نہ کی جاتی تھی آپ اپنے اوپر رکھ کر برابر اس کا اعلان فرماتے تھے کہ قرابت رسول کوئی چیز نہیں ہے جب تک کردار انسان کا ویسا نہ ہو جو خدا کے نزدیک معیار بزرگی ہے چنانچہ جب ایک شخص نے حضرت سے کہا کہ: خدا کی قسم آباؤاجداد کے اعتبار سے کوئی شخص آپ سے افضل نہیں۔ حضرت نے فرمایا: "میرے آباؤاجداد کو جو شرف حاصل ہوا وہ بھی صرف تقویٰ اور اطاعت خدا سے۔" ایک دوسرے موقع پر ایک شخص نے کہا کہ "واللہ آپ بہترین خلق ہیں۔" حضرت نے فرمایا۔ "اے شخص بے سمجھے قسم نہ کھا جس کا تقویٰ مجھ سے زیادہ ہو وہ مجھ سے افضل ہے۔"

ابراہیم بن عباس کا بیان ہے کہ حضرت فرماتے ہیں: میرے تمام لونڈی غلام آزاد ہو جائیں اگر اس کے سوا کچھ اور ہو کہ میں اپنے کو محض رسول اللہ سے قرابت کی وجہ سے اس سیاہ رنگ غلام سے بھی افضل نہیں جانتا (اشارہ فرمایا اپنے ایک غلام کی جانب) ہاں جب عمل خیر بجا لاؤں تو اللہ کے نزدیک اس سے افضل ہوں گا۔

یہ حقیقت میں تقریباً ایک صدی کی پیدا کی ہوئی عباسی سلطنت کی ذہنت کے خلاف اسلامی نظریہ کا اعلان تھا اور وہ اب اس حیثیت سے بڑا اہم ہو گیا تھا کہ وہ اب اسی سلطنت کے ایک رکن کی طرف سے ہو رہا تھا۔

معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ ہیں جن پر ماحول کا اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ ہر ماحول میں کسی نہ کسی طرح اپنے فرض کو انجام دیتے رہتے ہیں جو انسانیت کی عملی معراج ہے۔

امام محمد تقی

آپ پانچویں برس میں تھے جب آپ کے والد بزرگوار امام رضا سلطنت عباسیہ کے ولی عہد ہو گئے اس کے معنی یہ ہیں کہ سن تمیز پر پہنچنے کے بعد ہی آپ نے آنکھ کھول کر وہ ماحول دیکھا جس میں اگر چاہا جاتا تو عیش و آرام میں کوئی کمی نہ رہتی مال و دولت قدموں سے لگا ہوا تھا اور تزک و احتشام آنکھوں کے سامنے تھا پھر باپ سے جدائی بھی تھی کیونکہ امام رضا خراسان میں تھے اور متعلقین تمام مدینہ منورہ میں تھے۔ اور پھر آپ کو آٹھواں ہی برس تھا کہ امام رضا نے دنیا ہی سے مفارقت فرمائی۔

یہ وہ منزل ہے کہ جہاں ہمارے تاریخی کارخانہ تحلیل و توجیہہ کی تمام دوربینیں بیکار ہو جاتی ہیں۔ کسی دینوی مکتب اور درسگاہ میں تو نہ ان کے آباؤاجداد کبھی گئے نہ یہ جاتے نظر آتے ہیں۔ ہاں ایک معصوم کے لئے معصوم بزرگوں کی تعلیم و تربیت ناقابل انکار ہے مگر یہاں معصوم باپ سے چار پانچ برس کی عمر میں جدائی ہو گئی۔ ایک توارثِ صفات رہ جاتا ہے مگر ہر ایک جانتا ہے کہ اس سے صلاحیت کا حصول ہوتا ہے۔ فعلیت کے لئے پھر اسباب ظاہری کی ضرورت ہے۔ مگر یہ تاریخی واقعہ ہے کہ امام محمد تقی نے بچپن کی جتنی منزلیں اس کے بعد طے کیں وہ ابھی شباب کی سرحد تک بھی نہ تھیں کہ آپ کی سیرت بلند کی مثالیں اور علمی کمال کی تجلیاں دنیا کی آنکھوں کے سامنے آگئیں۔ یہاں تک کہ امام رضا کی وفات کے بعد ہی شاہی دربار میں اکابر علمائے وقت سے مباحثہ ہوا تو سب کو آپ کی عظمت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا۔

اب یہ واقعہ کوئی صرف اعتقادی چیز بھی نہیں ہے بلکہ مسلم الثبوت طور پر تاریخ کا ایک جز ہے یہاں تک کہ اس مناظرہ کے بعد اسی محفل میں مامون نے اپنی لڑکی ام الفضل کو آپ کے حبالہ عقد میں دیا۔

یہ سیاست مملکت کا ایک نئی قسم کا سنہرا جال تھا جس میں امام محمد تقی کی کمسنی کو دیکھتے ہوئے خلیفہ وقت کو کامیابی کی پوری توقع ہو سکتی تھی۔

جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ "نویں امام" (شائع کردہ امامیہ مشن) میں لکھا ہے۔

"بنی امیہ کے بادشاہوں کو آلِ رسول کی ذات سے اتنا اختلاف نہ تھا جتنا ان کے صفات سے۔ وہ ہمیشہ اس کے درپے رہتے تھے کہ بلندی اخلاق اور معراج انسانیت کا وہ مرکز جو مدینہ میں قائم ہے اور جو سلطنت کے مادی اقتدار کے مقابلہ میں ایک مثالی روحانیت کا مرکز بنا ہوا ہے یہ کسی طرح ٹوٹ جائے اسی کے لئے وہ گھبرا گھبرا کر مختلف تدبیریں کرتے تھے۔ امام حسین سے بیعت طلب کرنا اسی کی ایک شکل تھی اور پھر امام رضا کو ولی عہد بنانا اسی کا دوسرا طریقہ۔

فقط ظاہری شکل میں ایک کا انداز معاندانہ اور دوسرے کا طریقہ ارادت مندی کے روپ میں تھا مگر اصل حقیقت دونوں باتوں کی ایک تھی۔ جس طرح امام حسین نے بعیت نہ کی تو وہ شہید کر ڈالے گئے اسی طرح امام رضا ولی عہد ہونے کے باوجود حکومت کے مادی مقاصد کے ساتھ نہ چل سکے تو آپ کی شمع حیات کو زہر کے ذریعہ سے ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا گیا۔

اب مامون کے نقطہ نظر سے یہ موقع انتہائی قیمتی تھا کہ امام رضا کا جانشین آٹھ نو برس کا ایک بچہ ہے جو تین چاربرس پہلے ہی باپ سے چھڑا لیا جا چکا تھا۔ حکومت وقت کی سیاسی سوجھ بوجھ کہہ رہی تھی کہ اس بچے کو اپنے طریقہ پر لانا نہایت آسان ہے اور اس کے بعد وہ مرکز جو حکومت وقت کے خلاف ساکن اور خاموش مگر انتہائی خطرناک، قائم ہے ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔

مامون امام رضا کی ولی عہدی کی مہم میں اپنی ناکامی کومایوسی کا سبب تصور نہیں کرتا تھا اس لئے کہ امام رضا کی زندگی ایک اصول پر قائم رہ چکی تھی اس میں تبدیلی نہیں ہوئی تو یہ ضروری نہیں کہ امام محمد تقی آٹھ برس کے سن میں خاندان شہنشاہی کا جز بنا لئے جائیں تو وہ بھی بالکل اپنے بزرگوں کے اصول زندگی پر برقرار رہیں۔

سوا ان لوگوں کے جو ان مخصوص افراد کے خداداد کمالات کو جانتے تھے اس وقت کا ہر شخص یقیناً مامون کا ہم خیال ہو گا۔ مگر حضرت امام محمد تقی نے اپے کردار سے ثابت کر دیا کہ جو ہستیاں عا م جذبات کی سطح سے بالاتر ہیں اور یہ بھی اسی قدرتی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں جن کے افراد ہمیشہ معراج انسانیت کی نشاندہی کرتے آئے ہیں آپ نے شادی کے بعد محل شاہی میں قیام سے انکار فرمایا اور بغداد میں جب تک قیام رہا آپ ایک علیحدہ مکان کرایہ پر لے کر اس میں قیام پذیر ہوئے او رپھر ایک سال کے بعد ہی مامون سے حجاز واپس لے جانے کی اجازت لے لی۔ اور مع ام الفضل کے مدینہ تشریف لے گئے اور اس کے بعد حضرت کا کاشانہ گھرکی ملکہ کے دینوی شاہزادی ہونے کے باوجود بیت الشرف امامت ہی رہا۔ قصر دنیا نہ بن سکا۔ ڈیوڑھی کا وہی انداز رہا جو اس کے پہلے تھا۔ نہ پہرے دار اورنہ کوئی خاص روک ٹوک۔ نہ تزک نہ احتشام۔ نہ اوقات ملاقات کی حدبندی۔ نہ ملاقاتیوں کے ساتھ برتاؤ میں کوئی فرق۔ زیادہ تر نشست مسجد نبوی میں رہتی تھی جہاں مسلمان حضرت کے وعظ و نصیحت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ راویان حدیث احادیت دریافت کرتے تھے۔ طلاب علم مسائل پوچھتے تھے اور علمی مشکلات کو حل کرتے تھے۔ چنانچہ شاہی سیاست کی شکست کا نتیجہ یہ تھا کہ آخر آپ کا بھی زہر سے اسی طرح خاتمہ کیا گیا جس طرح آپ کے بزرگوں کا اس سے پہلے کیا جاتا رہا تھا۔

امام علی نقی

آپ کی زندگی میں بھی وہی خصوصیتیں موجود ہیں جو آپ کے آباؤ اجداد میں تھیں۔

آپ کو متوکل نے مدینہ سے بلوا کر سامرے میں نظربند کیا اور متعدد اشخاص کی نگرانی آپ پر قائم کی۔ مگر آپ کے اخلاق حمیدہ نے ہر ایک کو متاثر کیا۔ آپ کی خاموش زندگی صحیح اسلامی سیرت کی عملی مثال تھی اور ہمیشہ اس مشن کی جو تبلیغ دین و شریعت کا تھا حفاظت کرتے رہے۔ ایسے موقعوں پر جب جذباتی انسان یا تو مرعوب ہو کر دوسرے کا ہم رنگ ہو جائے یا مشتعل ہو کر مرنے مارنے پر تیار ہو جائے یہ ضبط نفس معراج انسانیت کا نمونہ تھا کہ نہ اپنے جاوہ عمل کو چھوڑا جاتا تھا اور نہ تصادم کی صورت پیدا کی جاتی تھی۔

متوکل کا دربار جہاں شراب کا دور چل رہا تھا۔ اس میں امام کی طلبی اور جام شراب کا پیش کیاجانا اور آپ کے انکار پر یہ فرمائش کہ کچھ اشعار ہی سنائیے اور آپ کا اس موقع سے وعظ کے لئے گنجائش نکالنا اور بے اعتباری دنیا اور محاسبہ نفس کی دعوت پر مشتمل وہ اشعار پڑھنا جنہوں نے اس محفل عیش کو مجلس وعظ میں تبدیل کرکے وہ اثر پیدا کیا کہ حاضرین زاروقطار رونے لگے اور بادشاہ بھی چیخیں مار مار کر گریہ کرنے لگا۔ یہ انہی حضرت زین العابدین کے وارث کا کام ہو سکتا تھا جنہوں نے دربار ابن زیاد و یزید میں اظہار حقائق کے کسی موقع کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔

قید کے زمانہ میں آپ جہاں بھی رہے آپ کے مصلے کے سامنے ایک قبر کھدی ہوئی تیار رہتی تھی۔ یہ ظالم طاقت کو اس کے باطل مطالبہ اطاعت کا ایک خاموش اور عملی جواب تھا یعنی زیادہ سے زیادہ تمہارے ہاتھ میں جو ہے وہ جان کا لے لینا مگر جو موت کے لئے اتنا تیار ہو وہ ظالم حکومت سے ڈر کر باطل کے سامنے سر کیوں خم کرنے لگا۔

پھر بھی مثل اپنے بزرگوں کے حکومت کے خلاف کسی سازش وغیرہ سے آپ کا دامن ایسا بری رہا کہ باوجود دارالسلطنت کے اندر مستقل قیام اور حکومت کے سخت ترین جاسوسی نظام کے آپ کے خلاف کوئی الزام کبھی عائد نہیں کیا جا سکا۔ حالانکہ عباسی سلطنت اب کمزور ہو چکی تھی اور وہ دم توڑنے کے قریب تھی مگر آل محمد نے ان حکومتوں کو ہمیشہ اپنی موت مرنے کے لئے چھوڑا۔ ان کے خلاف کبھی کسی اقدام کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی۔

امام حسن عسکری

آپ کے دور حیات کا اکثر حصہ عباسی دارالسلطنت سامرا میں نظربندی یا قید کی حالت میں گزرا مگر اس حالت میں آپ کی بلندکرداری اور سیرت بلند کے مظاہرات سے جو اثر پڑا اس کا تجزیہ مولانا سید ابن حسن صاحب جارچوی نے بہت اچھے الفاظ میں کیا ہے۔

ہزاروں رومی اور ترکی غلام جو آہستہ آہستہ دربار خلافت میں رسوخ پا رہے تھے اور اپنی ان رشتہ دار عورتوں کی مدد سے جو بادشاہ کے حرم میں دخیل تھیں اعلیٰ عہدوں اور منصوبوں پر فائز ہوتے جا رہے تھے۔ خلیفہ کی اخلاقی کمزوریوں کو دیکھ کر بالکل اسلام سے بیگانہ اور دین سے متنفر ہو جاتے مگر ان ائمہ دین نے جو خلیفہ کی بدکرداریوں کے مقابلہ میں ایک اعلیٰ درجہ کی سیرت پیش کرتے تھے اسلام کا بھرم رکھ لیا۔ اور مسلم معاشرے کو بالکل برباد ہونے سے بچا لیا۔ جب عامة الناس آل رسول کے ان بہترین عمائد کو دیکھتے اور سیرت و کردار کے ان اعلیٰ نمونوں پر نگاہو ڈالتے تو ان کو یقین آ جاتا کہ دین اسلام کچھ اور چیز ہے اور اس کا نام لے کر ملکوں پر حکمرانی کرنا کچھ اور شے ہےدارالحکومت اور شاہی دربار کے قرب میں ائمہ دین کی موجودگی نے اسلام کو ایک بڑے انقلاب سے بچا لیا۔ بنی امیہ کے مظالم سے تنگ آ کر لوگوں نے اقربائے نبی کے دامن میں پناہ لی تھی اور سمجھتے تھے کہ اب ہم اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس اور اس کے احکام پر عمل پیرا ہوں گے جب عباسیوں کی آمد بھی دینی اور معاشرتی گتھیوں کو نہ سلجھا سکی تو فطری طور پر لوگوں کو یہ احساس پیدا ہو چلا کہ اسلام ہی امن پذیر معاشرہ پیدا کرنے سے قاصر ہے مگر ائمہ اہل بیت کے وجود نے مسلمانوں کو مطمئن کر دیا کہ اسلام کے صحیح مبلغ ابھی تک برسراقتدار نہیں آئے اور ان کو اصلاح امت، تشکیل سیرت و تعمیر اخلاق کا موقع نہیں ملا۔ اس لئے ملک کی بدحالی اور تباہی کا ذمہ دار اسلام نہیں ہے بلکہ وہ قابویافتہ جماعت ہے جو اسلام کا نام لے کر دنیا کے سر پر سوار ہو گئی ہے۔ (تذکرہ محمد و آل محمد جلد ۳) ۔

باوجود یہ کہ اپنے دور امامت میں آپ کی تقریباً پوری زندگی قید و بند میں رہی پھر بھی اپنے جد بزرگوار امیرالمومنین اور دیگر اسلاف کی سیرت کے مطابق جب اسلام کو آپکی مدد کی ضرورت پڑی تو ظالم حکومت کے بڑھائے ہوئے فریاد کے ہاتھ کو کبھی ناکام واپس جانے نہ دیا۔ چنانچہ جب قحط کے موقع پر ایک عیسائی راہب نے بارش کراکے اپنی روحانیت کے مظاہرہ سے دارالسلطنت عباسیہ کے بہت سے مسلمانوں کے ارتداد کے آثار پیدا کر دیئے تو اس وقت امام حسن عسکری تھے جنہوں نے اس کے طلسم کو شکستہ کرکے مسلمانوں کی استقامت کا سامان بہم پہنچایا۔

اس کے علاوہ آپ نے سچے پرستارانِ دین کی دینی تعلیم و تربیت کے فریضہ کو نظرانداز نہیں کیا۔ اس کے لئے اپنی طرف سے سفراء مقرر کئے جو اپنی بصیرت علمی کی حد بھر خود مسائل شرعیہ کا جواب دیتے تھے اور جن مسائل میں امام سے دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی تھی ان کا خود مناسب موقع پر امام سے جواب حاصل کرکے سائل کی تشفی کر دیتے تھے۔ انہی کے ذریعہ سے اموالِ خمس کی جمع آوری ہوتی تھی اور وہ تنظیم سادات اور دیگر دینی مہمات پر صرف ہوتا تھا۔ اس طرح سلطنت دینوی کے متوازی حکومت دینی کا پورا ادارہ کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا۔

پھر آپ نے قید و بند کے اسی شکنجہ میں جو وقتاً فوقتاً رہا کیا معارف اسلامی کی خدمت بھی جاری رکھی۔ چنانچہ بعض آپ کے احادیث شیعہ جوامع حدیث میں درج ہیں اور بعض کتب اہل سنت میں بھی درج ہیں۔ تفصیل کے لئے ہمارا رسالہ "حسن عسکری" دیکھئے جو امامیہ مشن سے شائع ہوا ہے۔ اسی طرح آپ کے تلامذہ نے بھی آپ کے افاداتِ علمی مرتب کئے ہیں ان کا تذکرہ بھی مذکورہ رسالہ میں ملاحظہ ہو۔

امام منتظر عجّل اللہ فرجہ

یہ سلسلہ آل محمد کی آخری کڑی خود مادی نگاہوں سے اوجھل ہے پھر اس کی سیرت زندگی کا اس زمانہ کی مادی ذہنیت والے کو اندازہ ہی کیونکر ہو سکتا ہے؟

بے شک ہم قطعی دلائل کی بنا پر چونکہ آپ کے وجود اور غیبت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں اور آپ کو انہی مقاصد کا محافظ جانتے ہیں جن کے آپ کے اسلاف کرام ہمیشہ محافظ رہے اس لئے ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ پردہ غیب میں بھی ان فرائض کو انجام دے رہے ہیں جو بحیثیت منصب آپ کے ذمہ ہیں۔

اس سلسلہ میں آپ کے عمل کو اپنے آبائے طاہرین علیہم اسلام کی زندگی کے ساتھ جو مماثلت ہے اس پر ہم نے اپنے رسالہ "وجود حجت" (شائع کردہ امامیہ مشن لکھنو) میں کافی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے جس کا ہر شخص مطالعہ کر سکتا ہے۔

والّسلام!

علی نقی النقوی

امام حسین

جس طرح حضرت امام حسن کی ولادت کے متعلق دو قول ہیں ۲ اور ۳ ھ اسی اعتبار سے امام حسین کی ولادت کے متعلق دو قول ہیں ۳ اور ۴ ھ اگر ان کی ولادت ۲ ھ میں ہوئی ہے تو ان کی ۳ میں ہے اور اگر ان کی ولادت ۳ میں ہے تو ان کی ۴ ھ میں ولادت ہوئی ہے۔ اس طرح وفات رسول کے وقت ان کو چھٹا یا ساتواں برس تھا۔

اس دور اور اس کے بعد جناب امیر کے دور میں جو کچھ حسن مجتبیٰ کے بارے میں کہا جا چکا وہ حسین کی سیرت کے ساتھ بالکل متحد ہے اس لئے کہ ایک سال کے فرق سے کوئی فرق احساسات، تاثرات اور ان کے مقتضیات میں نہیں ہوتا۔ جن واقعات سے جتنا وہ متاثر ہو سکتے تھے اتنا ہی یہ اثر لے سکتے تھے۔ وفات رسول کے بعد سے ۲۵ برس کا دور جو امیرالمومنین نے گوشہ نشینی میں گزارا وہ جس طرح ان کے لئے ایک دور ابتلاء تھا ان کے لئے بھی تھا۔ جو جو مناظر ان کے سامنے آ رہے تھے وہ ان کے سامنے بھی بلکہ امام حسن کو تو دنیا نے صرف بحیثیت صلح پسند اور حلیم کے پہچانا ہے۔ اس لئے وہ اس دور میں ان کے امتحان کی عظمت کو بآسانی شاید محسوس نہ کرے مگر حسین کو تو دنیا نے روز عاشور کی روشنی میں دیکھا ہے اور بڑا صاحب غیرت و حمیت، خوددار، گرم مزاج اور اقدام پسند محسوس کیا ہے۔ اس روشنی میں ۲۵ برس کے دور خاموشی پر نظر ڈالئے۔ ظاہر ہے کہ ان کے شباب کی منزلیں وہی تھیں جو حضرت امام حسین کی تھیں۔ ۲۵ سال کی مدت کے اختتام پر وہ ۳۳ برس کے تھے تو یہ بتیس برس کے گویا۔ عمر کے لحاظ سے حسین اس وقت عباس تھے کربلا میں جو ابوالفضل العباس کے شباب کی منزل تھی وہ ۲۵ سال کی گوشہ نشینی کے اختتام پر حسین کے شباب کی منزل تھی۔ اس عمر تک وہ تمام واقعات سامنے آتے ہیں جو اس دور میں پیش آتے رہے۔ اور امام حسین خاموش رہے۔ مصائب و حوادث کے وہ تمام جھونکے آئے اور ان کے سکوت کے سمندر میں تموج پیدا نہ کر سکے۔

ان کے ۲۵ برس حضرت علی کی خاموشی کے ہمدم، وہ حضرت رسول پر مظالم دیکھ رہے تھے جو ان کے مجازی حیثیت سے باپ کی حیثیت رکھتے تھے اور یہ حضرت علی پر مظالم دیکھ رہے تھے جو ان کے حقیقی حیثیت سے باپ تھے جس طرح وہاں کوئی تاریخ نہیں بتاتی کہ کسی ایک دفعہ بھی علی کو جوش آ گیا ہو اور رسول کو علی کے روکنے کی ضرورت پڑی ہو۔ اسی طرح کوئی روایت نہیں بتاتی کہ اس ۲۵ برس کی طویل مدت میں کبھی حسین کو جوش آ گیا ہو اور حضرت علی نے بیٹے کو روکنے کی ضرورت محسوس فرمائی ہو یا سمجھانے کی کہ یہ نہ کرو۔ اس سے ہمارے مقصد یا اصول کو نقصان پہنچے گا۔

اس کے بعد وہ وقت آیا کہ جب حضرت علی نے میدان جہاد میں قدم رکھا۔ تو اب جہاں حسن تھے وہیں حسین بھی تھے۔ وہ باپ کے داہنی طرف تو یہ بائیں طرف۔ ہر معرکہ میں عملی حیثیت سے شریک ہیں۔ اس کے بعد جب صلح نامہ لکھا گیا تو جہاں بڑے بھائی کے دستخط وہیں چھوٹے بھائی کے دستخط۔ جناب امیر کی شہادت کے بعد اسی طرح یہ حضرت امام حسن کے ساتھ ہیں جہاد میں بھی اور صلح میں بھی۔ ابو حنیفہ دنیوری نے الاخبار الطوال میں لکھا ہے کہ صلح کے بعد دو شخص امام حسن کے پاس آئے۔ یہ جذباتی قسم کے دوست تھے صحیح معرفت نہ رکھتے تھے انہوں نے سلام کیا:

اسلام علیک یامذلَ الموٴمنین

"اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے آپ کو سلام ہو۔"

یہ بخیالِ خود مومنین ہیں جن کا یہ اخلاق ہے اور یہ ان کا بلند اخلاق ہے کہ ایسے الفاظ کے ساتھ جو سلام ہو اس کا بھی جواب دینا لازم سمجھتے ہیں۔ اور ملائمت کے ساتھ فرماتے ہیں۔

لست مذلّھم بل معذّھم میں نے مومنین کو ذلیل نہیں کیا بلکہ ان کی عزت رکھلی، اس کے بعد مختصر طور پر انہیں صلح کے مصالح سمجھائے جس پر وہ خاموش سے ہو گئے اور اب وہ اٹھ کر امام حسین کے پاس آئے اور خود ہی یہ واقعہ پیش کیا کہ ہم سے امام حسن سے یہ گفتگو ہوئی ہے۔ آپ نے امام حسن کا جواب سننے کے بعد فرمایا: صدق ابو محمّد یعنی حضرت امام حسن نے بالکل سچ فرمایا۔ صورت حال یہی تھی اور اس کا تقاضا اسی طرح تھا۔

بعض سورما قسم کے آدمی آئے اور انہوں نے کہا: آپ حسن مجتبیٰ کو چھوڑیئے، وہ صلح کے اصول پر برقرار رہیں مگر آپ اٹھئے ہم آپ کے ساتھ ہیں اچانک حکومت شام پر ہلہ بول دیں۔ امام حسین نے فرمایا: غلط بالکل غلط۔ ہم نے ایک معاہدہ کر لیا ہے اور اب ہم پر اس کا احترام لازم ہے۔ ہاں اسی وقت حضرت نے یہ کہہ دیا کہ تم میں سے ہر ایک کو اس وقت تک بالکل چپ چاپ بیٹھا رہنا چاہئے جب تک یہ شخص یعنی معاویہ زندہ ہے۔ یہ آپ کا تدبر تھا۔ آپ جانتے تھے کہ معاویہ کی طرف سے آخر میں اور شرائط کے ساتھ اس شرط کی خلاف ورزی ہو گی کہ انہیں اپنے بعد کسی کو نامزد نہ کرنا چاہئے۔ اس وقت ہمیں اٹھنے کا موقع ہو گا۔

اب کون کہہ سکتا ہے کہ حسن کی صلح کے بعد حسین کی جنگ کسی پالیسی کی تبدیلی، ندامت و پشیمانی یا اختلاف رائے و مسلک کا نتیجہ تھی؟ ۲۰ سال پہلے کہا جا رہا ہے کہ ہمیں اس وقت تک خاموش رہنا چاہئے جب تک معاویہ زندہ ہے اس سے ظاہر ہے کہ ۲۰ برس کی طویل راہ کے تمام سنگ میل نظر کے سامنے ہیں اور پورا لائحہ عمل پہلے سے بنا ہوا ہے مرتب ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ طویل سکوت بھی اسی معاہدہ کے تحت ضروری ہے اور اس وقت کے اقدام کا بھی اسی معاہدہ کے ماتحت حق ہو گا۔ کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شک ہے کہ حسن مجتبیٰ کی صلح حسین بن علی جنگ کی ایک تمہید ہی تھی۔ اور کچھ نہیں۔

۴۱ ھ میں یہ صلح ہوئی اور ۶۰ ھ میں معاویہ نے انتقال کیا اس بیس سال کی طولانی مدت میں کیا کیا ناسازگار حالات پیش آئے اور اعمال حکومت نے کیا کیا تکلیفیں پہنچائیں مگر ان تمام حالات کے باوجود جس طرح رسول کے ساتھ علی مکہ کی تیرہ برس کی زندگی میں جس طرح حضرت علی کے ساتھ حسن مجتبیٰ اور خود حسین ۲۵ برس کی گوشہ نشینی کے دور میں، اسی طرح حضرت امام حسن کے ساتھ امام حسین دس برس کے ان کے دور حیات میں جو صلح کے بعد تھا حالانکہ اس زمانہ کے حالات کو وہ کن عمیق قلبی تاثرات کے ساتھ دیکھتے تھے ان کا اندازہ خود ان کے اس فقرے سے ہوتا ہے جو انہوں نے حضرت امام حسن کے جنارے پر مردان سے کہا تھا۔ جب مردان نے وفات حسن پر اظہار افسوس کیا تو امام حسین نے فرمایا کہ اب رنج و افسوس کر رہے ہو اور زندگی میں ان کو غم و غصہ کے گھونٹ تم پلاتے تھے جو کہ یاد ہیں مردان نے جواب دیا بے شک! وہ ایسے کے ساتھ تھا جو اس پہاڑ سے زیادہ متحمل اور پرسکون تھا۔

یہ تعریف اس وقت مروان امام حسن کی کر رہا تھا جو دنیا سے اٹھ چکے تھے مگر کیا اس تعریف میں خود حسین بھی حصہ نہ رکھتے تھے؟ کیا اس طویل مدت میں انہوں نے کوئی جنبش کی جو حسن مجتبیٰ کے سکون کے مسلک کے خلاف ہوتی؟ پھر امام حسن کے جنازے کے ساتھ جو ناگوار صورت پیش آئی وہ روضہ رسول پر دفن سے روکا جانا۔ وہ تیروں کا برسایا جانا۔ یہاں تک کچھ تیروں کا جسدِ امام حسن تک پہنچنا۔ یہ صبرآزما حالات اور ان سب کو امام حسین کا برداشت کرنا۔

کوئی شاید کہے کہ حسین کیا کرتے؟ بے بس تھے مگر کیا کربلا میں حسین کو دیکھنے کے بعد وہ یہ کہنے کا حق رکھتا ہے؟ کربلا میں تو سامنے کم از کم ۳۰ ہزار تھے اور جنازہ حسن پر سدراہ ہونے والی جماعت زیادہ سے زیادہ کئی سو ہو گی۔ حسین کے ساتھ عباس بھی موجود ہیں جو اس وقت ۲۲ برس کے مکمل جوان تھے جناب محمد حنیفہ بھی موجود تھے جن کی شجاعت کا تجربہ دنیا کو حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ جمل اور صفین میں ہو چکا تھا۔ مسلم بن عقیل بھی موجود تھے جنہیں بعد میں پورے کوفہ کے مقابلہ میں تن تنہا حسین نے بھیج دیا اور انہوں نے اکیلے وہ بے نظیر شجاعت دکھائی جو تاریخ میں یادگار ہے۔

علی اکبر بھی بنا برقول قوی اس وقت ۱۵ برس کے تھے جو کربلا کے قاسم سے زیادہ عمر رکھتے تھے اور تمام بنی ہاشم موجود تھے۔ پھر کچھ تو آلِ رسول کے وفادار غلام تھے اور دوسرے اعوان و انصار بھی موجود ہی تھے اس صورت حال میں حضرت امام حسین کے عمل کو بے بسی کا نتیجہ سمجھنا کہاں درست ہو سکتا ہے۔

مگر حسین خاموش رہتے ہیں اور ان سب کو خاموشی پر مجبور رکھتے ہیں امام حسن کا جنازہ واپس لے جاتے ہیں جنة البقیع میں دفن کر دیتے ہیں اور اس کے بعد دس برس حسنی صلح کے مسلک پر خاموشی کے ساتھ گزار دیتے ہیں اور اس طرح یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ بڑے بھائی کا دباؤ یا مروت اور احترم کا تقاضا نہ تھا بلکہ مفاد اسلامی کا لحاظ تھا جس کے وہ بھی محافظ تھے اور اب یہ اس کے محافظ ہیں۔

اور ادھر حکومت شام کی طرف سے اس تمام مدت میں ہر ہر شرط کی خلاف ورزی ہو رہی تھی۔ چن چن کے دوستانِ علی کو قتل کیا جا رہا تھا اور جلاوطن کیا جا رہا تھا۔ کیسے کیسے افراد؟ حجر بن عدی اور ان کے ۱۶ ساتھی۔ یہ دمشق کے باہر مرج عذراء میں سولی چڑھا دیئے جاتے ہیں۔

حافظ ابن حجر عقلانی لکھاتے ہیں کہ یہ حجر بن عدی فضلائے صحابہ میں سے تھے۔ مسائل فقہیہ میں ان کے فتاوےٰ جمع کئے جائیں تو ایک جزو کا رسالہ ہو جائے۔ مگر علی کے دوست تھے اس لئے ان کی صحابیت بھی کام نہ آ سکی۔ کوفہ سے قید کرکے دمشق بلوائے گئے۔ حاکم شام نے اپنے دربار میں بلا کر ان سے پوچھ گچھ یا صفائی پیش کرنے کا موقع بھی دینا پسند نہ کیا۔ حکم ہو گیا کہ بیرون شہر ہی روک دیئے جائیں اور وہیں سولی دے دی جائے۔ ان کی شہادت کی خبر اتنی دردناک تھی کہ عبداللہ بن عمر نے اس کا ذکر سنا تو چیخیں مار کر رونے لگے۔ ام المومنین عائشہ کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے کہا۔ آخر معاویہ خدا کو کیا جواب دے گا، کہ ایسے ایسے نیکوکار مسلمانوں کا خون کر رہا ہے۔

عمرو بن الحمق الخزاعی وہ بزرگوار تھے جنہیں پیغمبر خدا نے غائبانہ طور پر اپنے سلام سے سرفراز کیا تھا ان کا سر کاٹ کر نوک نیزہ پر بلند کیا گیا۔ یہ سب سے پہلا سر تھا جو اسلا م میں نیزہ پر بلند ہوا۔

ان حوادث سے عبداللہ بن عمر اور عائشہ بنت ابی بکر ایسے لوگ اس قدر متاثر تھے تو حسین بن علی جن کے والد بزرگوار کی محبت کی پاداش ہی میں یہ سب کچھ ہو رہا تھا جتنا بھی متاثر ہوتے کم تھا۔

پھر حضرت امام حسن کے دس سال تک سکوت اور عدم تعرض کی جو قیمت ان کو ملی یعنی زہر قاتل اور کلیجے کے بہتر ٹکڑے اور پھر ان کی وفات پر دمشق کے قصر سے اظہار مسرت میں اللہ اکبر کی بلند آوازان سب باتوں کے بعد حضرت امام حسین کی خاموشی۔ کیا کسی میں ہمت ہے جو اس وقت کے حسین پر جنگجوئی کا الزام عائد کر سکے؟

اب اس کے بعد وہ ہنگام آیا جسے امام حسین کی آنکھیں بیس برس پہلے دیکھ رہی تھیں یعنی حاکم شام نے اپنے بیٹے یزید کی خلافت کی داغ بیل ڈال دی اور اس کے لئے عالم اسلام کا دورہ کیا۔

اب امام حسین کے لئے وہ شاہراہ سامنے آ گئی جو انکارِ بیعت سے شروع ہوئی اور آخر تک انکارِ بیعت ہی کی شکل میں قائم رہی۔

پھر اس انکارِ بیعت کو کیا کوئی وقتی، جذباتی فیصلہ یا ہنگامی جوش کا نتیجہ سمجھایا جا سکتا ہے؟

یاد رکھنا چاہئے کہ انکارِ بیعت تو ابھی تک کبھی قانونی جرم قرار بھی نہ پایا تھا۔ خلافت ثلٰثہ میں بہت سوں نے بیعت نہیں کی۔ حضرت علی کے دور میں عبداللہ بن عمر نے بیعت نہیں کی اسامہ بن زید نے بیعت نہیں کی سعد بن ابی وقاص نے بیعت نہیں کی۔ حسان بن ثابت نے بیعت نہیں کی۔ مگر ان بیعت نہ کرنے والوں کو واجب القتل نہیں سمجھا گیا۔

امام حسین نے بیعت نہ کرکے اپنے کو حمایتِ باطل سے الگ کیا بس۔ اس کے علاوہ کوئی اقدام نہیں کیا۔ مگر معاویہ کے بعد جب یزید برسراقتدار آیا تو اس نے پہلا ہی حکم اپنے گورنر ولید کو یہ بھیجا کہ حسین سے بیعت لو اور بیعت نہ کریں تو ان کا سر قلم کرکے بھیج دو۔ یہ تشدد کا آغاز کدھر سے ہو رہا ہے؟ حاکم مدینہ کو اس حکم کی تعمیل کی ہمت نہ ہوئی تو اسے معزول کی اگیا۔ امام حسین کو اگر تشدد سے کام لینا ہوتا تو آپ ہلاکت معاویہ کی خبر ملتے ہی مدینہ کے تخت و تاج پر قبضہ کر لیتے جو اس وقت ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا۔ اس کے بعد کم از کم عالم اسلام تقسیم تو ہو ہی جاتا مگر آپ ایسا نہیں کرتے بلکہ جا کر مکہ میں پناہ لینے کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں کسی کی جان لینا نہیں ہے اپنی جان بچانا منظور ہے۔ یہ "ہم وجودی" کا عملی پیغام ہے۔

بظاہر اسباب اگر یہاں قیام کا ارادہ مستقل نہ ہوتا تو احرام حج کیوں باندھتے؟ احرام باندھنا خود نیت حج کی دلیل ہے اور نیت کے بعد بلاوجہ حج توڑنا جائز نہیں۔ حضرت امام حسین سے بڑھ کر مسائل شریعت سے کون واقف ہو گا اور یہ ان کا مخالف بھی خیال نہیں کر سکتا کہ وہ جان بوجھ کر حکم شریعت کی معاذ اللہ مخالفت کریں گے اور وہ بھی کب؟ جب کہ حج کو صرف ایک دن باقی ہے۔

وہ جن کاذوق حج یہ تھا کہ مدینہ سے آ آ کر ۲۵ حج پا پیادہ کر چکے ہیں اب مکہ میں موجود ہوتے ہوئے حج کو عمرہ سے تبدیل فرما دیتے اور مکہ سے روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس طرز عمل سے خود ظاہر ہے کہ اس کا سبب غیرمعمولی اور ہنگامی ہے۔ چنانچہ ہر ایک پوچھ رہا تھا اور بڑی وحشت اور پریشانی کے ساتھ! آئیں! آپ اس وقت مکہ چھوڑ رہے ہیں؟"

یہ ہر سوال امام کے دل پر ایک نشتر تھا۔ ہر ایک سے کہاں تک بتلاتے۔ کسی کسی سے کہہ دیا کہ نہ نکلتا تو وہیں قتل کر دیا جاتا اور میری وجہ سے حرمت خانہ کعبہ ضائع ہو جاتی۔

مکہ میں آنا بھی خطرہ کو حتی الامکان ٹالنا تھا اور اب مکہ سے جانا بھی یہی ہے اب آپ کوفہ تشریف لئے جا رہے ہیں۔ جہاں کے لوگوں نے آپ کو اپنی ہدایت دینی اور اصلاحِ اخلاقی کے لئے دعوت دی ہے مگر بیچ میں فوج حر آ کر سد راہ ہوتی ہے اب آپ پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ اس پوری فوج کو جو پیاسی ہے سیراب کر دیتے ہیں۔ یہ فیاضی بھی جنگجویانہ انداز سے بالکل الگ ہے اس کے بعد وہ موقع آیا کہ نہر پر خیموں کے برپا کرنے کو روکا گیا اس وقت اصحاب کی تیوریوں پر بل تھے مگر امام نے فرمایا کہ مجھے جنگ میں ابتداء کرنا نہیں ہے۔ ریت ہی پر خیمے برپا کر دو۔ یہ نفس پر جبر اور حلم و تحمل وہ کر رہا ہے جسے بالآخر جان پر کھیل جانا اور اپنا پورا گھر قربان کر دینا ہے مگر وہ اس وقت ہو گا جب اس کا وقت آئے گا اور یہ اس وقت ہے جب اس کا وقت ہے۔

پھر عمر سعد کربلا میں پہنچتا ہے تو آپ خود اس کے پاس گفتگوئے صلح کے لئے ملاقات کا پیغام بھیجتے ہیں۔ ملاقات ہوتی ہے تو شرطیں ایسی پیش فرماتے ہیں کہ ابن سعد خود اپنے حاکم عبیداللہ بن زیاد کو لکھتا ہے کہ فتنہ و افتراق کی آگ فرو ہو گئی۔ اور امن و سکون میں کوئی رکاوٹ نہ رہی۔ حسین ملک چھوڑنے تک کے لئے تیار ہیں اس کے بعد خونریزی کی کوئی وجہ نہیں۔

اب یہ تو فریق مخالف ک اعمل ہے کہ اس نے ایسے صلح پسندانہ رویہ کی قدر نہ کی اور صلح کے لئے بڑھے ہوئے ہاتھ کو جھٹک کر پیچھے ہٹا دیا لیکن اس شرط پر حکومت مخالف راضی ہو گئی ہوتی۔ پھر حضرت امام حسن اور امام حسین کی افتادِ طبع میں کسی اختلاف کا تصور کرنے والوں کے تصورات کی کیا بنیاد باقی رہ سکتی تھی اور صورت حال کے سمجھنے کے بعد اب بھی یہ تصورات تو غلط ثابت ہو ہی گئے مگر وہ ابن زیاد کی تنگ ظرفی فرعونیت اور یزید کے منشاء کی تکمیل تھی کہ اس نے حضرت امام حسین پر صلح و امن کے سب راستوں کو بند کر دیا۔

پھر بھی جب نویں تاریخ کی سہ پہر کو حملہ ہو گیا تو حضرت نے ایک رات کی مہلت لے لی۔ جسے جنگ کرنا ہی مطلوب تھا وہ التوائے جنگ کی درخواست کیوں کرتا، مگر اس ایک رات کی مہلت کو حاصل کرکے بھی آپ نے اپنی امن پسندی کا ثبوت دیا اور دکھلا دیا کہ جنگ تو مجھ پر خواہ مخواہ عائد کی جا رہی ہے۔ میں جنگ کا اپنی طرف سے شوق نہیں رکھتا ہوں۔

پھر صبح عاشور کوئی وقیقہ موعظہ و نصیحت اور اتمام حجت کا اٹھا نہیں رکھا۔ خطبہ جو پڑھا وہ اونٹ پر سوار ہو کر اس لئے کہ وہ ہنگام امن کی سواری ہے گھوڑے پر نہیں سوار ہوئے جو جنگ کے ہنگام کا مرکب ہوتا ہے۔

باوجودیکہ خطبہ کے جو جواب ملے وہ دل شکن تھے مگر اس کے بعد بھی آپ نے اس کا انتظار کیا کہ فوج دشمن کی طرف سے ابتداء ہو او جب پہلا تیر عمر سعد نے چلہ کمان میں جوڑ کر اپنی فوج سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ کہہ کے لگایا کہ "گواہ رہنا پہلا تیر فوج حسینی کی طرف میں رہا کر رہا ہوں۔" اور اس کے بعد چار ہزار تیر کمانوں سے روانہ ہو گئے اور جماعت حسینی کی طرف آ گئے۔ اس وقت مجبور ہو کر امام نے اذن جہاد دیا۔ اور اس کے بعد بھی خود اس وقت تک جہاد کے لئے تلوار نیام سے نہیں نکالی جب تک آپ کی ذات میں انحصار نہیں ہو گیا۔ جب تک ایک بھی باقی رہا آپ نے شمشیرزنی نہیں کی۔ اور اس طرح پیغمبر کے کردار کی تفسیر کر دی جب کوئی نہ رہا اس وقت تلوار کھینچی اور یہ ایسا وقت تھا جب کسی دوسرے میں دم نہ ہوتا کہ وہ جنبش بھی کر سکتا۔ تین دن کی بھوک پیاس اور اس پر صبح سے سہ پہر تک کی تمازتِ آفتاب میں شہداء کے لاشوں پر جانا اور پھر خیمہ گاہ تک پلٹنا اور پھر بہتر کے داغ عزیزوں کے صدمے اور ان کی لاشوں کا اٹھانا۔ جوان بیٹے کا بصارت لے جانا اور بھائی کا کمر توڑ جانا۔ اور اپنے ہاتھوں پر ایک بے شیر کو دم توڑتے میں سنبھالنا اور نوک شمشیر سے ابھی ابھی اس کی قبر بنا کر اٹھنااب اس عالم میں جذباتِ نفس کا تقاضا تو یہ ہے کہ آدمی خاموشی سے تلواروں کے سامنے اپنا سر بڑھا دے اور خنجر کے آگے گلا رکھ دے مگر حسین اسلامی تعلیم کے محافظ تھے ظلم کے سامنے سپردگی آئین شریعت کے خلاف ہے۔ حسین نے اب فریضہ دفاع کی انجام دہی اور دشمنانِ خدا کے مقابلہ کے لئے تلوار اٹھائی اور وہ جہاد کیا جس نے بھولی ہوئی دنیا کو حیدر صفدر کی شجاعت یاد دلا دی اور اس طرح دکھا دیا کہ ہمارے اعمال و افعال، جذبات نفس اور طبیعت کے تقاضوں کے ماتحت نہیں بلکہ فرائض و واجبات کی تکمیل اور احکام ربانی کی انجام دہی کے ماتحت ہوتے ہیں۔ چاہے طبعی تقاضے اس کے کتنے ہی خلاف ہوں۔

یہی انسانیت کی وہ معراج ہے جس کی نشاندہی حضرت امام حسین کے اسلاف کرتے رہے او روہی آج حسین کے کردار میں انتہائی تابانی کے ساتھ نمایاں ہیں۔

بقیہ معصُومین کی سِیرت

خمسہ نجباء یعنی پنجتن پاک کے کردار میں انسانی رفعت کا نمونہ سامنے آ چکا مگر اسلام صرف پچاس ساٹھ برس کے لئے نہ تھا وہ تو قیامت تک کے لئے تھا اور قیامت تک کتنے زندگی کے دوراہے آنے والے ہیں جن کے مثال اس مختصر مدت کے اندر درپیش نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے چودہ معصومین کی ضرورت ہوئی اور انہیں اتنے عرصہ تک آنکھوں کے سامنے رکھا گیا جتنے عرصہ میں انقلابات کا وہ ایک پورا دور پورا ہو جائے جس کے بعد تاریخ پھر اپنے آ پ کو دہراتی ہے اور جس میں ہِر پھر کر وہی صورتیں پیدا ہوتی ہیں جو ذرا بدلی ہوئی شکل میں اصل حقیقت کے لحاظ سے پہلے کی قائم شدہ نظیروں میں سے کسی ایک کے مطابق ہیں اس طرح زندگی کے ہر دوراہے پر ان معصومین میں سے کسی نہ کسی ایک کی مثال رہنمائی کے لئے موجودگی اور یوں سمجھنا چاہئے کہ ان تمام معصومین کے کردار سے مل جل کر جس ایک مزاج کی تشکیل ہو گی وہ انسانی کردار کا ہمہ گیر مکمل دستور العمل ہو گا۔

سیرتِ ائمہ کے ہمہ گیر پہلو:

حضرت امام حسین کے بعد ۹ معصومین کی زندگی میں چند اقدار مشترک ہیں۔ ایک یہ کہ پھر اس دور میں کسی خونریز اقدام کی ضرورت محسوس نہ کی گئی اور امن و خاموشی کو ہر حال میں مقدم رکھا گیا اور اب ان اقدار کے تحفظ کے لئے جو واقعہ کربلا نے ذہن بشر کے لئے قائم کر دیئے تھے اس واقعہ کی یاد کو قائم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کی تفصیل کے لئے ہمارا رسالہ "عزائے حسین پر تاریخی تبصرہ ۔" دیکھنے کے قابل ہے اور جس کا کامیاب نتیجہ عزاداری کے قیام و بقا کی شکل میں ہر شخص کے مشاہدہ میں ہے۔

دوسرے اپنی زندگی کی اس خاموش فضا کو انہوں نے معارف و تعلیماتِ اسلامی کی اشاعت کے لئے وقف رکھا اور تاریخ کے سردگرم حالات کے ساتھ اپنے امکانات کے مدارج کو فعلیت کی منزل میں لاتے رہے جس کا حیرت انگیز نمونہ یہ سامنے ہے کہ سلطنت و اقتدار کی بے پناہ پشت پناہی کے ساتھ اکثریت کے محدثین و فقہا کی مجموعی طاقت کا فراہم کردہ جتنا ذخیرہ احادیث صحاح ستہ کی شکل میں موجود ہے اس سے زیادہ جبر و قہر کے شکنجوں میں گھرے ہوئے ان ائمہ اہل بیت علیہم اسلام کی بدولت کتبِ اربعہ کی شکل میں ملتِ جعفریہ کے ہاتھوں میں موجود ہے جس کا موازنہ کرنے پر بالکل وہ نمونہ سامنے آتا ہے کہ جیسے قرآن مجید کے پہلے تعلیمات انبیاء کے جو مسخ شدہ مجموعے کتب سماوی کے نام سے موجود تھے ان کے ہوتے ہوئے قرآن نے آ کر یہ کام کیا کہ جو اصل حقائق ان کتب کے تھے ان کو خالص شکل میں محفوظ کر دیا اور جو مہملات و مزخرفات شان انبیاء کے خلاف ان میں حارج سے کر دیئے گئے تھے ان سب کو دور کرکے حقانیت انبیاء کی شان کو نکھار دیا۔ اسی طرح سوادِ اعظم کے متداول احادیث کے ذخیرہ میں جتنی اصلیتیں تھیں ان کو آلِ محمد علیہم اسلام نے اپنے صداقت ریز بیانات کے ساتھ محفوظ و مستحکم بنا دیا اور ان کے ساتھ سلطنتِ وقت کے کاسہ لیس اور یاوہ گو راویوں نے جو ہزاروں اس طرح کی باتیں شامل کر دی تھیں جن سے شان رسالت بلکہ شان الوہیت تک صدمہ پہنچتا تھا ان سب کا قلع قمع کرکے دامن اوہیت وسالت کو بے داغ ثابت کر دیا۔ اور خالص حقائق و تعلیمات اسلامیہ کو منضبط کر دیا۔ اس طرح جیسے کتب سماوی میں قرآن بحسب ارشاد ربانی مہیمن علی الکل ہے اسی طرح سلسلہ احادیث میں یہ ائمہ معصومین علیہم اسلام کے ذریعہ سے پہنچا ہوا ذخیرہ ہے جو حقائق اسلامیہ پر مہیمن کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کے اس کارنامہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس لئے ان کو ثقلین کا جزو بنا کر قرآن کے ساتھ امت اسلامیہ کے اندر چھوڑا گیا اور ارشاد ہوا تھا کہ: ما ان تمسّکتم بھما لن تضّلو بعدی "جب تک ان دونوں سے تمسّک رکھو گے گمراہ نہ ہو گے۔"

فقہ میں یہ حقیقت ہے کہ سوادِ اعظم نے قیاس کے وسیع احاطہ میں قدم رکھنے کے باوجود جس معیار تک اس فن کو پہنچایا فقہائے اہل بیت نے تعلیمات ائمہ کی روشنی میں قیاس سے کنارہ کشی کرنے اور قرآن و حدیث سے استناباطات کے تنگنائے میں اپنے کو مقید رکھنے کے باوجود اس سے بدرجہ بالاتر نقطہ تک اس فن کو پہنچا دیا۔ جس پر انتصار نہایہ اور مبسوط اور پھر تذکرة الفقہاء اور مختلف الشیعہ سے لے کر حدائق اور جواہر اور فقہ آقا رضا ہمدانی تک ایسی بسیط کتابیں گواہ ہیں جن کا عشر عشیر بھی سوادِ اعظم کے پاس موجود نہیں ہے۔

تیسرے اس سو ڈیڑھ سو برس کی مدت میں امت اسلامیہ کے اندر کتنے انقلابات آئے حالات نے کتنی کروٹیں بدلیں۔ ہواؤں کی رفتار کتنی مختلف ہوئی مگر ان معصومین کے اخلاق و کردار میں جو تعلیمات و اخلاقِ کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے ذرہ بھر تبدیلی نہیں ہوئی۔ نہ اپنے منہاج نظر کو بدلا اور نہ امن پسندی کے رویہ میں جسے اب مستقل طور پر سکوت و سکون کی شکل میں اختیار کر لیا تھا ذرہ بھر تبدیلی ہوئی۔ ان دونوں باتوں کا ثبوت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک ہستی کو ان کے دور کی حکومت نے اپنا حریف ہی سمجھا۔ اس لئے ان سے کسی حکومت نے بھی غیرمعترضانہ حیثیت اختیار نہیں کی۔ یہ اس کا ثبوت ہے کہ وہ دنیاوی حکومت کے مقابل اس محاذ کے جو حضرت علی بن ابی طالب، حضرت حسن مجتبیٰ اور حضرت امام حسین کی نگہبانی میں قائم رہا تھا، برابر محافظ رہے اور اسی لئے باطل حکومت انہیں اپنا حریف سمجھتی رہی۔ مگر کبھی حکومت کو ان کے خلاف کسی امن شکنی کے الزام کو ثابت کرنے کا موقع نہیں مل سکا اس لئے قید کیا گیا تو اندیشہ نقص امن کی بنا پر اور زندگی کا خاتمہ کیا گیا تو زہر سے جس کے ساتھ حکومت وقت کو اپنی صفائی پیش کرنے کا امکان باقی رہے۔

یہ تمام معصومین کی زندگی اور موت کی مشترک کیفیت بتلاتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا طرزِ عمل ایک واحد نظام کا جز تھا جس کے قیام کے مجموعی حیثیت سے وہ سب ذمہ دار تھے۔

چوتھے اس وقت جب کہ علم، تقویٰ، عبادت وریاضت اور روحانیت ہر ایک کی ایک قیمت مقرر ہو چکی تھی اور ان سب جنسوں کا بازار سلطنت میں بیوپار ہو رہا تھا، یہ ہستیاں وہ تھیں جنہوں نے اپنے خداداد جوہروں کو دینوی قیمتوں سے بالاتر ثابت کیا۔ نہ اپنا کردار بدلا اور نہ اپنے کردار کو حکومت وقت کے غلط مقاصد کا آلہ کار بنایا۔ نہ حکومتوں کے خلاف کھڑی ہونے والی جماعتوں کے معاون بنے اور نہ حکومتوں کے ناجائز منصوبوں کے مددگار ہوئے۔ حالانکہ حکومتوں نے ان ہر داؤں کو آزمایا۔ مصیبتوں میں بھی مبتلا کیا اور اقتدارِ دنیا کی طمع کے ساتھ بھی آزمائش کی۔ مگر ان کا کردار ہمیشہ منفرد رہا۔ اور اموی و عباسی کسرویت و قیصریت کے زیرسایہ پروان چڑھی ہوئی دنیا کے ماحول کے اندر وہ علیحدہ صحیح اخلاق اسلامی کا نمونہ پیش کرتے رہے۔ یہ ان کا خاموش عمل ہی وہ مستقل جہاد حیات تھا جو وہ بتقاضائے خلافت الٰہیہ مستقل طو رپر انجام دیتے رہے۔

پانچویں۔ اگرچہ ان بزرگواروں کی عمریں مختلف ہوئیں۔ ایک طرف حضرت امام جعفر صادق ہیں جو تقریباً ستر برس اس دارِ دنیا میں رہے دوسری طرف حضرت امام محمد تقی ہیں جو ۲۵ برس سے زیادہ اس دارِ فانی میں زندہ نہیں رہے۔ اور پھر برسراقتدار امامت آنے کے موقع پر عمروں کا اختلاف یعنی جب سابق امام کی وفات ہوئی اور بعد کے امام کی امامت تسلیم ہوئی اس وقت ایک طرف حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق ہیں جن کی عمر اپنے والد بزرگوار کی وفات کے وقت ۳۴ ۔ ۳۵ برس تھی اور دوسری طرف حضرت امام محمد تقی اور امام علی نقی ہیں جن کی عمریں زیادہ سے زیادہ آٹھ نو برس تھیں مگر عالم اسلامی کا بیان متفق ہے کہ ہر ایک بزرگ اپنے دور میں عبادت، زہد، ورع، تقویٰ، ریاضت نفس، فیض و کرم تمام اخلاق میں مثالی زندگی کے مالک رہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے افعال نفسانی جذبات اور طبیعت کے تقاضوں کی بنا پر نہیں ہیں جن میں عمر کا فرق اثر انداز ہوتا ہے بلکہ وہ سب اسی للہیت اور احساس فرائض کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں جو انسانی کردار کی معراج ہے۔

اب فرداً فرداً ہر امام کے حالات میں ان کے زمانہ کی کیفیات کے انفرادی خصوصیات کے ساتھ ان مشترکہ اقدار کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کا مجمل حیثیت سے ابھی تذکرہ کیا گیا ہے۔

حضرت امام زین العابدین

آپ کا دور کربلا کے تاریخی کارنامہ اور شہادت امام حسین کے بعد شروع ہوا ہے۔ یہ زمانہ وہ تھا جب مظالم کربلا کے ردعمل میں مسلمانوں کی آنکھیں کھل رہی تھیں۔ کچھ مخلص افراد سچے جذبہ عقیدت کے ساتھ بنی امیہ کے خلاف کھڑے ہو گئے تھے۔ اور کچھ نے سیاسی طور پر اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے حصول اقتدار کا اسے ذریعہ بنایا تھا۔ اس وقت عام انسانی جذبات کے لحاظ سے اندازہ کیجئے کہ ایک وہ ہستی جس نے کربلا کے بہتر لاشے زمین پر گرم دیکھے ہوں اور یزید کے ہاتھوں خود وہ مظالم اٹھائے ہوں۔ جو کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک کے پورے المیہ میں مضمر ہیں اسے ہر اس کوشش کے ساتھ جو سلطنت بنی امیہ کے خلاف ہو رہی ہو کتنی قلبی وابستگی ہونا چاہئے اور اس وابستگی کے ساتھ بڑی مشکل بات ہے کہ وہ عواقب پر نظر کر سکے۔ ایسے موقعوں پر عام جذبات کا تقاضا تو یہ ہے کہ چاہے حب علی کے جذبہ میں کچھ کوششیں نہ ہوں صرف بعض معاویہ میں ہوں مگر ایسی کوششوں کے ساتھ بھی آدمی منسلک ہو جاتا ہے۔ فقط اس لئے کہ ہمارے مشترک دشمن کے خلاف ہیں خصوصاً جب کہ اس میں کامیابی کے آثار بھی نظر آ رہے ہوں جیسے عبداللہ بن زہیر جنہوں نے حجاز میں اتنا مکمل تسلط حاصل کر لیا تھا کہ جمہوری نظریہ خلافت کے بہت سے علماء قہر و غلبہ کی بنا پر ان کی باضابطہ خلافت کے قائل ہیں۔ جس کی تصدیق حفاظ سیوطی کی تاریخ الخلفاء سے ہو سکتی ہے۔ یا اہل مدینہ کی منظم کوشش جس نے عمال یزید کو وقتی طور سے سہی نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا مگر ایسی حالت میں جب کہ جناب محمد بن حنفیہ کی وابستگی ان تحریکوں سے کسی حد تک نمایاں ہو سکی، امام زین العابدین کا کردار ان تمام مواقع پر اس طرح علیحدگی کا رہا کہ آپ کو ان تحریکوں سے کبھی وابستہ نہیں کیا جا سکا۔

یہ علیحدگی ہی بڑے ضبطِ نفس کا کارنامہ ہے چہ جائیکہ آپ نے اس موقع پر مصیبت زدوں کے پناہ دینے کی خدمت اپنے ذمہ رکھی۔ چنانچہ مروان ایسے دشمن اہل بیت کو جب جان بچا کر بھاگنے کی ضرورت پیش ہوئی تو اپنے اہل و عیال اور سامان و اموال کی حفاظت کے لئے اگر کسی جائے پناہ پر اس کی نظر پڑی تو وہ صرف حضرت امام زین العابدین تھے۔ اس کردار کا یہ نتیجہ تھا کہ جب پھر فوج یزید نے یورش کی مدینہ میں قتل عام کیا جو واقعہ حرہ کے نام سے مشہور ہے تو آپ کے لئے ممکن ہوا کہ آپ مظلومین مدینہ میں سے بھی چار سو بے بس خواتین کو اپنی پناہ میں لے سکیں اور محاصرہ کے زمانہ میں آپ ان کے کفیل رہیں۔

آپ کا مروان کو پناہ دینا بتا رہا تھا کہ آپ انہی علی بن ابی طالب کی روایات کے حامل ہیں جنہوں نے اپنے قاتل کو بھی جام شیر پلانے کی سفارش کی تھی اور حضرت امام حسین کے جنہوں نے دشمنوں کی فوج کو پانی پلوایا تھا۔ وہی کردارآج امام زین العابدین کے قالب میں نگاہوں کے سامنے ہے۔

اسی کی مثال پھر اس وقت سامنے آئی جب یزید کی موت کے بعد انقلاب کے خوف سے حصین بن نمیر جو مکہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ مضطربانہ اور سراسیمہ اپنے لشکر کو لے کر فرار پر مجبور ہوا اور مدینہ کی راہ سے شام کی طرف روانہ ہوا۔ بنی امیہ سے نفرت اتنی بڑھ چکی تھی کہ کوئی نہ ان لوگوں کو کھانے کا سامان دیتا تھا نہ اونٹوں اور گھوڑوں کے لئے چارا مہیا ہو سکتا تھا۔ اتفاق سے امام زین العابدین اپنی زراعت سے غلہ اور چارا لے کر واپس جا رہے تھے۔ حصین نے بڑھ کر ملتجیانہ انداز میں کہا کہ یہ غلہ اور چارا میرے ہاتھ فروخت کر دیجئے۔ آپ نے فرمایا۔ ضرورت مند کی خاطر یہ بلاقیمت حاضر ہے۔ اس کرم کو دیکھ کر اس نے تعارف حاصل کیا کہ آپ ہیں کون؟ جب معلوم ہوا تو اس نے حیرت کے ساتھ کہا آپ نے پہچانا بھی ہے کہ میں کون ہوں؟ حضرت نے فرمایا: "میں خوب پہچانتا ہوں مگر بھوکوں اور پیاسوں کی مدد کرنا ہم اہل بیت کا شعار ہے۔" حصین اس واقعہ سے اتنا متاثر ہوا کہ گھوڑے سے نیچے اتر کر کہنے لگا کہ یزید تو ختم ہو چکا ہے آپ ہاتھ بڑھائیے میں اپنے پورے لشکر سمیت آپ کی بیعت کرتا ہوں اور آپ کی خلافت کو تسلیم کرانے میں کوئی وقیقہ اٹھا نہ رکھوں گا اس پر آپ باندازِ تحقیر تبسم فرمایا اور بغیر کچھ جواب دیئے آگے روانہ ہو گئے۔

اس دور انقلاب کے ہنگامی تقاضوں سے اس طرح دامن بچانے کے باوجود اس سرچشمہ انقلاب یعنی واقعہ کربلا کی یاد کو برابر آپ ن یتازہ رکھا۔ یہ زمانہ ایسا نہ تھا کہ عمومی مجالس کی بنا ہو سکتی اور عوام میں تقریروں کے ذریعہ سے اس کی اشاعت کی جاتی۔ اس لئے آپ نے اپنے شخصی تاثرات غم اور مسلسل اشکباری پر اکتفا کی، جو بالکل فطری حیثیت رکھتی تھی۔ یہ مقاومت مجہول سے زیادہ غیرمحسوس ذریعہ تھا ان انقلابی اقدار کے تحفظ کا جو واقعہ کربلا میں مضمر تھے مگر آئینی طور پر کسی حکومت کے بس کی بات نہ تھی کہ وہ اس گریہ پر پابندی عائد کر سکتی۔ یوں مظالم کربلا کی رود میں کسی آنکھ سے نکلنے پر نوک نیزہ سے اذیت دی جاتی ہو تو وہ اور بات ہے مگر دور امن میں کسی انتہائی ظالم و جابر حکومت کے لئے بھی اس کا موقع نہ تھا کہ وہ ایک بیٹے کو جس کاباپ تین دن کا بھوکا پیاسا پس گردن سے ذبح کیا گیا ہو۔ اور جس کے گھر سے ایک دوپہر میں اٹھارہ جنازے نکل گئے ہوں اور جس کی ماں بہنیں اسیر بنا کر شہر بہ شہر اور دیار بہ دیار پھرائی گئی ہوں ان تاثرات کے اظہار سے روک سکے جو صرف رنج و ملال کی شکل میں آنسو بن کر اس کی آنکھوں سے جاری ہوں۔ پھر بلاشبہ اس غیرمعمولی مسلسل گریہ میں جو پچیس برس تک جاری رہا وہ عظیم تاثیر تھی جسے چاہے تاریخ کی سطحی نگاہ اسباب انقلاب میں شمار نہ کرے مگر واقعیت کی دنیا میں اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اس مسلسل گریہ کے واقعات کو تاریخوں میں پڑھنے کے بعد طبیعت انسانی کے فطری تقاضوں کی بنا پر ہر شخص ایسا تصور کر سکتا ہے کہ غمزدہ اور ہمہ تن گریہ و آہ ہستی سے اس کے بعد یہ توقع کرنا غلط ہے کہ وہ علوم و معارف کی کوئی خدمت انجام دے سکے مگر نہیں "معراج انسانیت" تو اسی تضاد میں مضمر ہے کہ یہ غرق حسرت و اندوہ ذات بھی اپنے اس فریضہ سے جو بحیثیت نائب حق و رہنمائے خلق اس کے ذمہ ہے۔ غافل نہیں ہوتی۔ بے شک یہ دور ایسا پرآشوب تھا کہ آپ کے گردوپیش طالبان ہدایت کا مجمع نہیں ہو سکتا تھا۔ آپ کسی مجمع کو مخاطب بنا کر کوئی تقریر نہیں فرما سکتے تھے۔ نہ اپنے قلم کے ذریعہ لوگوں سے سلسلہ مخابرت جاری فرما سکتے تھے اس لئے اس دور کے تقاضوں کے ماتحت آپ نے منفرد طریقہ "دعا و مناجات" کا اختیار فرمایا۔ یہ بھی مثل "گریہ" کے ایک لازم بظاہر غیرمتعدی عمل تھا۔ جو کسی قانون کی زد میں نہیں آ سکتا تھا مگر ان دعاؤں کو بھی جو "صحیفہ سجادیہ" کی شکل میں محفوظ ہیں جب ہم دیکھتے ہیں تو بلا کسی شائبہ مبالغہ و مجاز کے یہ حقیقت نمایاں نظر آتی ہے کہ وہی روح جو حضرت علی بن ابی طالب کے نہج البلاغ والے خطبوں میں متحرک ہے وہی صحیفہ کاملہ کی ان دعاؤں میں بھی موجود ہے۔ صرف یہ کہ وہاں جو حکیمانہ گہراؤاور خطیبانہ بہاؤ ہے اس کی قائم مقامی یہاں اس سوزوگداز نے کی ہے جس کا دعاؤ مناجات میں محل ہے اور اس طرح اس کے سننے والوں میں دماغ کے ساتھ ساتھ دل بھی شدت سے متاثر ہوتا ہے جو غالباً دوسروں کی اصلاح کے لئے کچھ کم اہمیت نہیں رکھتا اور اسی ذیل میں اخلاق و فرائضکے تعلیمات بھی مضمر ہیں۔ جو مدرسہ اہل بیت کے مقاصد خصوصی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس دور میں اس ذریعہ تبلیغ و تدریس کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ ممکن نہ تھا اورامام زین العابدین نے اس ذریعہ کو اختیار کرکے ثابت کر دیا کہ یہ حضرات کسی سخت ماحول میں بھی اپنے فرائض اور اہم مقاصد کو ہرگز نظرانداز نہیں کرتے۔

حضرت امام محمد باقر

آپ کا دور بھی مثل اپنے پدر بزرگوار کے وہی عبوری حیثیت رکھتا تھا جس میں شہادت حضرت امام حسین سے پیداشدہ اثرات کی بنا پر بنی امیہ کی سلطنت کو ہچکولے پہنچتے رہتے تھے مگر تقریباً ایک صدی کی سلطنت کا استحکام ان کو سنبھال لیتا تھا بلکہ فتوحات کے اعتبار سے سلطنت کے دائرہ کو عالم اسلام میں وسیع تر کرتا جاتا تھا۔

حضرت امام محمد باقر خود واقعہ کربلا میں موجود تھے اور گو طفولیت کا دور تھا یعنی تین چار برس کے درمیان عمر تھی مگر اس واقعہ کے اثرات اتنے شدید تھے کہ عام بشری حیثیت سے بھی کوئی بچہ ان تاثرات سے علیحدہ نہیں رہ سکتا تھا۔ چہ جائیکہ یہ نفوس جو مبداء فیض سے غیرمعمولی ادراک لے کر آئے تھے وہ اس کم عمری میں جناب سکینہ کے ساتھ ساتھ یقیناً قید وبند کی صعوبت میں بھی شریک تھے اس صورت میں انسانی و دینی جذبات کے ماتحت آپ کو بنی امیہ کے خلاف جتنی بھی برہمی ہوتی ظاہر ہے چنانچہ آپ کے بھائی زید بن علی بن الحسین نے ایک وقت ایسا آی اکہ بنی امیہ کے مقابلے میں تلوار اٹھائی اسی طرح سادات حسنی میں سے متعدد حضرات وقتاً فوقتاً بنی امیہ کے خلاف کھڑے ہوتے رہے حالانکہ واقعہ کربلا سے براہ راست جتنا تعلق حضرت امام محمد باقر کو رہا تھا۔ اتنا جناب زید کو بھی نہ تھا چہ جائیکہ حسنی سادات جو نسبتاً دوسری شاخ میں تھے۔ مگر یہ آپ کا وہی جذبات سے بلند ہونا تھا کہ آپ کی طرف سے کبھی کوئی اس قسم کی کوشش نہیں ہوئی اور آپ کبھی کسی ایسی تحریک سے وابستہ نہیں ہوئے بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنے دور کی حکومت کو مفادِ اسلامی کے تحفظ کے لئے اسی طرح مشورے دیئے جس طرح آپ کے جد امجد حضرت علی بن ابی طالب اپنے دور کی حکومتوں کو دیتے رہے تھے۔ چنانچہ رومی سکوں کے بجائے اسلامی سکہ آپ ہی کے مشورہ سے رائج ہوا جس کی وجہ سے مسلمان اپنے معاشیات میں دوسروں کے دست نگر نہیں رہے۔

باوجودیکہ زمانہ آپکو والد بزرگوار حضرت امام زین العابدین کے زمانہ سے بہتر ملا۔ یعنی اس وقت مسلمانوں کا خوف و دہشت اہل بیت کے ساتھ وابستگی میں کچھ کم ہو گیا تھا اور ان میں علوم اہل بیت سے گرویدگی بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پیدا ہو گئی تھی کوئی دوسرا ہوتا تو اس علمی مرجعیت کو سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنا لیتا مگر ایسا نہیں ہوا اور حضرت امام باقر مسلمانوں کے درمیان ایک طرح کی مرجعیت عام حاصل ہونے کے باوجود سیاست سے کنارہ کشی میں اپنے والد بزرگوار کے قدم بہ قدم ہی رہے۔

بے شک زمانہ کی سازگاری سے آپ نے واقعہ کربلا کے تذکروں کی اشاعت میں فائدہ اٹھایا۔ اب واقعہ کربلا پر اشعار نظام کئے جانے لگے اور پڑھے جانے لگے۔ امام زین العابدین کا گریہ آپ کی ذات تک محدود تھا اور اب دوسروں کو ترغیب و تحریص بھی کی جانے لگی۔ اس کے علاوہ نشر علوم آل محمد کے فریضہ کو کھل کر انجام دیا گیا۔ اور دنیا کے دل پر علمی جلالت کا سکہ بٹھا دیا گیا۔ یہاں تک کہ مخالفین بھی آپ کو "باقرالعلوم" ماننے پر مجبور ہوئے جس کا مفہوم ہی ہے "علوم کے اسرار و رموز کو ظاہرکرنے والے"۔ اس طرح ثابت کر دیا کہ آپ اپنے کردار میں انہی علی بن ابی طالب کے صحیح جانشین ہیں جنہوں نے پچیس برس تک سلطنت اسلامیہ کے بارے میں اپنے حق کے ہاتھ سے جانے پر صبر کرتے ہوئے صرف علوم و معارف اسلامیہ کے تحفظ کا کام انجام دیا۔ وہی ورثہ تھا جو سینہ بسینہ حضرت محمد باقرتک پہنچا تھا۔ نہ امتداد زمانہ ن یاس میں کہنگی پیدا کی تھی اور نہ اس رنگ کو مدھم بنایا تھا۔ نہ تسلسل مظالم کے اثر سے انتقامی جذبات کے غلبہ نے ان کو بنیادی مقاصد حیات سے غافل کیا۔

امام جعفر صادق

آپ کا دور انقلابی دور تھا۔ وہ بیج بنی امیہ سے نفرت کے جو حضرت امام حسین کی شہادت نے دل و دماغ کی زمین میں بو دیئے تھے اب پورے طور پر بارآور ہو رہے تھے۔ اموی تخت سلطنت کو زلزلہ تھا اور اموی طاقت روزبروز کمزور ہو رہی تھی اس دور میں بار بار ایسے مواقع آتے تھے جن میں کوئی جذبات آدمی ہوتا تو فوراً ہوا کے رخ پر چلا جاتا اور انقلاب کے وقتی فوائد سے متمتع ہونے کے لئے خود بھی انقلابی جماعت کے ساتھ منسلک ہو جاتا۔ پھر جبکہ اسی ذیل میں ایسے اسباب بھی وقتاً فوقتاً پیدا ہوتے تھے۔ جو بنی امیہ کے خلاف اس کے جذبات کو مشتعل کرنے والے ہوں۔

زید بن علی بن الحسین حضرت امام جعفر صادق کے چچا تھے خود بھی علم و ورع واتقاء میں ایک بلند شخصیت کے حامل تھے۔ یہ بنی امیہ کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں اور وہ بھی حضرت امام حسین کے خون کا بدلہ لینے کے اعلان کے ساتھ۔ یہ کیا ایسا موقع نہ تھا کہ حضرت امام جعفر صادق بھی چچا کے ساتھ اس مہم میں شریک ہو جائیں۔ پھر اس کے بعد زید کا شہید کیا جانااور ان پر وہ ظلم کہ دفن کے بعد لاش کو قبر سے نکالا گیا اور سر کو قلم کرنے کے بعد جسد بے سر کو ایک عرصہ تک سولی پر چڑھائے رکھا تھا پھر آگ میں جلا دیا گیا۔ اس کے اثرات عام انسانی طبیعت میں کیا ہیجان پیدا کر سکتے ہیں؟

اور پھر عباسیوں کے ہاتھ سے انقلاب کی کامیابی اور سلطنت بنی امیہ کی اینٹ سے اینٹ بج جانا۔

اس تمام دور انقلاب یں ہر دن نئے نئے محرکات اور گوناگوں نفسانی مہیجات ہیں جو ایک انسان کو متحرک بنانے کے لئے کافی ہیں خصوصاً اس لئے کہ بنی عباس کو اقتدار کی کرسی پر بٹھانے والا ابو سلمہ خلال اولاد فاطمہ زہرا کی محبت کے ساتھ اتنا مشہور تھا کہ برسراقتدار آنے کے لئے امام جعفر صادق کے پاس تحریری عرضداشت بھیجی مگر آپ نے اس سے نہ صرف یہ کہ بے اعتنائی برتی بلکہ اس کاغذ کو اس شمع کی لو کے سپرد کر دیا جو اس وقت روشن تھی۔ اور قاصد سے فرمایا کہ اس تحریر کا بس یہی جواب ہے اور پھر اسے پورے طویل دور انقلاب میں ایک دن ایسا نہیں آتا جو حضرت امام جعفر صادق میں کوئی حرکت پیدا کر سکا ہو۔ سوا علوم اہل بیت کے تحفظ و اشاعت کی اس مہم کے جس کی کھل کر ابتداء آپ کے والد ماجد نے کر دی تھی اور اب اسی کو اپنی نسبتہً طویل عمر اور اس وقت کے انقلابی حالات کے وقفہ سے فائدہ اٹھا کر پورے طور سے فروغ دینے کا موقع حضرت امام جعفر صادق کو ملا۔ جس کے نتیجہ میں مذہب اہلِ بیت عوام میں "ملت جعفری" کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔

یہ کیا تھا؟ یہ وہی جذبات سے بلند ہونے کا قطعی مشاہدہ ہے جسے "معراج انسانیت" کی حیثیت سے ہم ان کے تمام پیش روؤں میں دیکھتے رہے ہیں۔

بنی عباس کے تخت سلطنت پر بیٹھنے کے بعد کچھ دن تو اولاد رسول کو سکون رہا مگر منصور دوانقی کے تخت سلطنت پر بیٹھتے ہی پھر فضا مکدر ہو گئی اور چونکہ یقین تھا کہ بنی امیہ کو جو ہم نے شکست دی ہے وہ اولاد فاطمہ کے ساتھ ہمدردی ہی سے فائدہ اٹھا کر۔ اس لئے یہ اندیشہ تھاکہ نہ جانے کب عوام کی آنکھیں کھل جائیں۔ اور وہ اسی طرح جھک جائیں۔ خصوصاً اس لئے کہ بنی امیہ کے زوال کے آثار واضح ہونے کے بعد جب بنی ہاشم نے مدینہ میں جمع ہو کر ایک مجلس مشاورت منعقد کی کہ انقلاب کی تکمیل کے بعد تخت سلطنت کس کے سپرد کیا جائے تو سب نے حسن مثنی فرزند امام حسن کے پوتے محمد بن عبداللہ کو اس منصب کا اہل قرار دیا تھا اورسب نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ اس جلسہ میں منصور بھی موجود تھا اور اس نے بھی محمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اس کے بعد سیاسی ترکیبوں سے اس کارروائی کو نسیاً منسیا کرکے بنی عباس تخت خلافت پر قابض ہو گئے اس لئے بہت بڑا کانٹا جو منصور کے دل اور آنکھ میں کھٹک رہا تھا وہ محمد بن عبداللہ کا وجود تھا اس کا نتیجہ یہ تھا کہ برسراقتدار آنے کے بعد خصوصت سے اولاد امام حسن کے خلاف ظلم و تشدد شروع کر دیا گیا۔

عبداللہ بن الحسن جو عبداللہ المحض کے نام سے مشہور تھے۔ امام زین العابدین کے بھانجے یعنی فاطمہ بن الحسین کے صاحبزادے تھے اور محمد ان کے بیٹے جو اپنے ورع و تقویٰ کی بنا پر نفس زکیہ کے نام سے مشہور تھے جناب فاطمہ بنت الحسین کے پوتے تھے۔

منصور نے تمام سادات حسنی کو قید کردیا اور خصوصیت سے عبداللہ المحض کو پیرانہ سالی کے عالم میں اتنے سخت شدائد و مظالم کے ساتھ قید تنہائی میں محبوس کیا کہ الحفیظ والامان۔

ظاہر ہے کہ حضرت امام جعفر صادق قلبی طور پر ان حضرات سے غیرمتعلق نہ تھے چنانچہ یہ واقع ہے کہ جس دن اولاد حسن کو زنجیروں سے باندھ کر گردن میں طوق اور پیروں میں بیڑیاں پہنا کر بے کجا وہ اونٹوں پر سوار کرکے مدینہ سے نکالا گیا۔ اور یہ قافلہ اس حال میں مدینہ کی گلیوں سے گزرا تو امام جعفر صادق اس منظر کو دیکھ کر تاب ضبط نہ لا سکے اور چیخیں مار مار کر رونے لگے اور اس کے بعد ۲۰ دن تک شدت سے بیمار رہے۔ عبداللہ کے دونوں بیٹے محمد اور ابراہیم کچھ دن پہاڑوں کی گھاٹیوں میں چھپے رہے پھر "تنگ آمد بجنگ آمد" کے مصداق ایک جماعت کو اپنے ہمراہ لے کر مقابلہ پر آماد ہوئے اس موقع پر یہ واقعہ یاد رکھنے کا ہے کہ رائے عامہ محمد کے ساتھ اس حد تک محسوس ہو رہی تھی کہ امام ابو حنیفہ اور مالک نے نفس زکیہ کی حمایت و نصرت کے لئے فتویٰ دیا۔ مگر حضرت امام جعفر صادق اپنی خداداد بصیرت کی بنا پر باوجود تمام جذباتی تقاضوں کے اس مہم سے علیٰحدہ رہے۔ اور آپ نے اپنے دامن کو اس کشمکش سے بالکل ہی بچائے رکھا۔ آپ جانتے تھے کہ یہ مہم وقتی حالات کی بنا پر اضطراری فعل کے طور پر شروع کی گئی ہے جس کے پس پشت کوئی بلند مقصد نہیں ہے نہ اس سے کوئی نتیجہ نکلنے والا ہے لیکن میں نے اگر اس کا کسی طرح بھی ساتھ دیا تو اس تعمیری خدمت کا بھی جو میں معارف آل رسول کی اشاعت کے طور پر انجام دے رہا ہوں دروازہ مسدود ہو جائے گا۔

یہ بے پناہ ضبط و صبر وہی ہے جو ان کے آباؤ اجداد میں نظر آتا رہا تھا اور وہ عام انسانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔

امام موسیٰ کاظم

آپ کے زمانہ میں سیاست کا شکنجہ پھر سخت ہو گیا۔ ا

ب نہ تعلیم و تدریس کی وہ آزادی رہی نہ تبلیغ و اشاعت کے مواقع باقی رہ گئے۔ حکومت وقت برابر آپ سے برسر پرخاش رہی یہاں تک کہ آخر عمر کے کئی سال تمام اوکمال قید خانہ میں گزر گئے مگر آپ کی بلند سیرت کی روشنی اتنی تیز تھی کہ قید خانہ کی اونچی اور سنگین دیواریں اس کے لئے ایک نازک و باریک پردہ سے زیادہ نہ تھیں جس کے اندر سے اس کی شعائیں چھن کر باہر نکلی رہیں۔ یہاں تک کہ چودہ صدیاں پار کرکے ہم تک بھی پہنچ سکی ہیں۔ چنانچہ اسی سیرت کی بلندی کا نتیجہ یہ تھا کہ حکومت وقت کے مقررکردہ قیدخانوں کے افسر آپ کی نیکوکاری کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے تھے اورآپ کے ساتھ سختی کرنے سے معذور رہتے تھے جس کے نتیجہ میں بار بار نگرانوں کے بدلنے کی ضرورت ہوتی تھی۔ چنانچہ پہلے آپکو بصرہ میں عیسیٰ بن جعفر بن منصور کی نگرانی میں رکھا گیا۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ ان کو قید تنہائی میں رکھو اور کچھ دن کے بعد حکم دیا کہ انہیں قتل کر دو۔ وہ خلیفہ وقت کا چچازاد بھائی تھا مگر اس کے دل پر امام موسیٰ کاظم کے حسن کردار کا اثر پڑ گیا تھا۔ اس نے لکھا کہ میں نے ان کے حالات کی خوب جانچ کی ہے وہ تو ہمیشہ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور شب و روز عبادت میں مصروف رہتے ہیں تنہائی کے عالم میں بھی ہم میں سے کسی کے لئے کبھی بددعا نہیں کرتے بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ تونے مجھے اپنی عبادت کے لئے یہ تنہائی کی جگہ عطا فرمائی۔ ایسے خداترس اور عبادت گزار کی جان لینا میرے بس کی بات نہیں ہے۔

جب اس نے انکار کیا تو آپ کو بصرہ سے بلوا کر بغداد میں فضل بن ربیع کے سپرد کیا گیا۔ مگر فضل پر بھی آپ کے کردار کے مشاہدہ کا خاص اثر پڑا۔ آخر فضل بن ربیع کو بھی اس صورت سے برطرف کیا گیا۔ یحییٰ برمکی کو براہ راست نگران بنا دیا گیا اور اس سے بھی پھر غیرمطمئن ہو کر سندی بن شاہک کو مقرر کیا گیا۔ یہ ایسا قسی القلب اور سفاک تھا کہ اس نے زہر دغا دے کر امام کی زندگی کا خاتمہ کیا۔

زندگی میں قید خانہ میں محبوس رکھے گئے اور پھر قبر کے اندر مدفون ہو گئے مگر ان کے اوصاف و کمالات، زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت ہی نہیں بلکہ ان کے زبان و قلم سے نکلے ہوئے بہت سے ارشادات و تعلیمات اور شریعت نبوی ک یاحکام اب تک کتابوں کے صفحات پر موجود ہیں جو بتا رہے ہیں کہ وہ اسی سلسلہ کی ایک فرد تھے جس میں سے ہر ایک اپنے دور کے حالات کے مطابق کاروان بشر کو منزل کمال انسانیت تک پہنچانے کے لئے رہنمائی کا فرض انجام دیتا رہا۔ اور اپنے کردار کی رفعت سے "معراج انسانیت" کی نشان دہی کرتا رہا۔

امام رضا

آپ کو جس خاص صورت حال سے دوچار ہونا پڑا وہ آپ کے زمانہ کے عباسی خلیفہ مامون کا قبول ولی عہدی کے لئے آپ کو مجبور کرنا تھا بالکل اسی طرح جیسے آپ کے مورث اعلیٰ حضرت امیرالمومنین علی مرتضیٰ کے سامنے چوتھے نمبر پر حکومت پیش کی گئی ظاہر ہے کہ یہ وہ امامت نہ تھی جو منجانب اللہ آپ کو حاصل تھی اسے دنیا نے تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ وہی اپنے نقطہ نظر والی جمہوری خلافت تھی جس کی پیشکش آپ کے سامنے کی گئی تھی اور اسی لئے آپ نے اس سے شدید انکار فرمایا مگر جب لوگوں کا اصرار قیام حجت کے قریب پہنچ گیا تو چونکہ ایک داعی حق کو جس عنوان سے سہی ایک موقع اگر خلق خدا کی اصلاح کا مل جائے چاہے وہ کسی لباس میں ہو، اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ اب آپ نے ان کے اصرار کو قبول فرما لیا۔ اسی طرح اب امام رضا کے سامنے مامون اقتدار کی پیشکش کر رہا تھا۔ مورخین متفق ہیں کہ آپ نے انکار فرمایا۔ کثرت سے گفتگوئیں ہوئیں اور مامون نے بار بار اصرار کیا اور آپ ہر مرتبہ انکار فرماتے تھے۔ اور آپ کا ارشاد تھا کہ میں اللہ کی بندگی ہی کو بس اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہں اور اقتدار دنیا سے تو کنارہ کشی ہی کرکے بارگاہ الٰہی میں بلندی کی امید رکھتا ہوں اور جب وہ اصرار کرتا تھا تو آپ کہتے تھے:اَللّٰهُمَّ لَا عَهَدَ اِلَّا عَهْدِکَ وَ لا وِلأته اِِلَّا مِنْ قَبْلِکَ فَوَفْقنِیْ الِاقامَةِ دِیْنکَ واحیّآءِ سُنَّتِه نبِیّکَ نِعْمَ الْمَوْلیٰ وَ نعْمَ النَّصِیْر ۔

"پروردگار! عہدہ تو وہی عہدہ جو تیری طرف سے ہے اور حکومت وہی حکومت ہے جو تیری جانب سے ہے ہاں مجھے توفیق عطا فرما کہ تیرے دین کے شعائر کو قائم کروں اور تیرے رسول کی سنت کو زندہ کروں۔ تو بہترین مالک اور بہترین مددگار ہے۔"

اس میں ایک طرف صحیح اسلامی نظریہ حکومت کی تبلیغ ہو رہی تھی جس سے آپ کے انکار کا پس منظر واضح طور پر نمایاں ہو رہا تھا اور دوسری طرف اقامت دین اور احیائے سنت کے لئے اپنے جذبہ بے قرار کا مظاہرہ تھا جو بعد از اصرار بسیار ولی عہدی کے قبول کرنے کے پس منظر کی ترجمانی کر رہا ہے۔

پھر آپ نے جب ولی عہدی قبول کی تو یہ شرط کر لی کہ میں حکام کے غرل و نصب کا ذمہ دار نہ ہوں گا نہ امور سلطنت میں کوئی دخل دوں گا۔ ہاں جس معاملہ میں مشورہ لیا جائے گا کتاب خدا و سنت رسول کے مطابق مشورہ دے دیا کروں گا یہ وہ کام تھا جو آپ کے جد بزرگوار حضرت علی بن ابی طالب خلفائے ثلٰثہ کے دور میں بغیر کسی عہدہ و منصب کے انجام دیتے تھے اب وہی حضرت امام علی بن موسی الرضا ولی عہدی کے نام کے بعد انجام دیں گے۔

معلوم ہوتا ہے کہ شخصیت ایک ہی ہے صرف زمانہ کا فرق ہے اور سامنے کی حکومت کے رویہ کا فرق ہے کہ پہلے دور والوں نے کسی عہدہ کی پیشکش جناب امیر کے لئے اپنے سیاسی مفاد کے خلاف سمجھی اور اب عہدہ کی پیشکش اپنے سیاسی مصالح کے لئے مناسب سمجھی جا رہی ہے معلوم ہوتا ہے کہ جو اختلاف ہے وہ سلطنت وقت کے رویہ میں ہے مگر رہنمائے دین کے موقف میں کوئی فرق نہیں ہے اقبال کے لفظوں میں کہ لیجئے کہ:

حقیقتِ ابدی ہے مقام شبیری،

بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی

پھر ولی عہدی کے بعد آپ نے اپنی سیرت بھی وہی رکھی جو شہنشاہ اسلام ما نے جانے کے بعد حضرت علی بن ابی طالب کی سیرت رہی۔ آپ نے اپنے دولت سرا میں قیمتی قالین بچھوانا پسند نہیں کئے۔ بلکہ جاڑے میں بالوں کا مکمل اور گرمی میں چٹائی کا فرش ہوا کرتا تھا کھانا سامنے لایا جاتا تھا تو دربان، سائیس اور تمام غلاموں کو بلا کر اپنے ساتھ کھانے میں شریک فرماتے تھے۔

پھر اسی عباسی سلطنت کے ماحول کو پیش نظر رکھ کر جہاں صرف قرابت رسول کی بنا پر اپنے کو خلق خدا پر حکمرانی کا حقدار بنایا جاتا تھا اور کبھی اپنے اعمال و افعال پر نظر نہ کی جاتی تھی آپ اپنے اوپر رکھ کر برابر اس کا اعلان فرماتے تھے کہ قرابت رسول کوئی چیز نہیں ہے جب تک کردار انسان کا ویسا نہ ہو جو خدا کے نزدیک معیار بزرگی ہے چنانچہ جب ایک شخص نے حضرت سے کہا کہ: خدا کی قسم آباؤاجداد کے اعتبار سے کوئی شخص آپ سے افضل نہیں۔ حضرت نے فرمایا: "میرے آباؤاجداد کو جو شرف حاصل ہوا وہ بھی صرف تقویٰ اور اطاعت خدا سے۔" ایک دوسرے موقع پر ایک شخص نے کہا کہ "واللہ آپ بہترین خلق ہیں۔" حضرت نے فرمایا۔ "اے شخص بے سمجھے قسم نہ کھا جس کا تقویٰ مجھ سے زیادہ ہو وہ مجھ سے افضل ہے۔"

ابراہیم بن عباس کا بیان ہے کہ حضرت فرماتے ہیں: میرے تمام لونڈی غلام آزاد ہو جائیں اگر اس کے سوا کچھ اور ہو کہ میں اپنے کو محض رسول اللہ سے قرابت کی وجہ سے اس سیاہ رنگ غلام سے بھی افضل نہیں جانتا (اشارہ فرمایا اپنے ایک غلام کی جانب) ہاں جب عمل خیر بجا لاؤں تو اللہ کے نزدیک اس سے افضل ہوں گا۔

یہ حقیقت میں تقریباً ایک صدی کی پیدا کی ہوئی عباسی سلطنت کی ذہنت کے خلاف اسلامی نظریہ کا اعلان تھا اور وہ اب اس حیثیت سے بڑا اہم ہو گیا تھا کہ وہ اب اسی سلطنت کے ایک رکن کی طرف سے ہو رہا تھا۔

معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ ہیں جن پر ماحول کا اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ ہر ماحول میں کسی نہ کسی طرح اپنے فرض کو انجام دیتے رہتے ہیں جو انسانیت کی عملی معراج ہے۔

امام محمد تقی

آپ پانچویں برس میں تھے جب آپ کے والد بزرگوار امام رضا سلطنت عباسیہ کے ولی عہد ہو گئے اس کے معنی یہ ہیں کہ سن تمیز پر پہنچنے کے بعد ہی آپ نے آنکھ کھول کر وہ ماحول دیکھا جس میں اگر چاہا جاتا تو عیش و آرام میں کوئی کمی نہ رہتی مال و دولت قدموں سے لگا ہوا تھا اور تزک و احتشام آنکھوں کے سامنے تھا پھر باپ سے جدائی بھی تھی کیونکہ امام رضا خراسان میں تھے اور متعلقین تمام مدینہ منورہ میں تھے۔ اور پھر آپ کو آٹھواں ہی برس تھا کہ امام رضا نے دنیا ہی سے مفارقت فرمائی۔

یہ وہ منزل ہے کہ جہاں ہمارے تاریخی کارخانہ تحلیل و توجیہہ کی تمام دوربینیں بیکار ہو جاتی ہیں۔ کسی دینوی مکتب اور درسگاہ میں تو نہ ان کے آباؤاجداد کبھی گئے نہ یہ جاتے نظر آتے ہیں۔ ہاں ایک معصوم کے لئے معصوم بزرگوں کی تعلیم و تربیت ناقابل انکار ہے مگر یہاں معصوم باپ سے چار پانچ برس کی عمر میں جدائی ہو گئی۔ ایک توارثِ صفات رہ جاتا ہے مگر ہر ایک جانتا ہے کہ اس سے صلاحیت کا حصول ہوتا ہے۔ فعلیت کے لئے پھر اسباب ظاہری کی ضرورت ہے۔ مگر یہ تاریخی واقعہ ہے کہ امام محمد تقی نے بچپن کی جتنی منزلیں اس کے بعد طے کیں وہ ابھی شباب کی سرحد تک بھی نہ تھیں کہ آپ کی سیرت بلند کی مثالیں اور علمی کمال کی تجلیاں دنیا کی آنکھوں کے سامنے آگئیں۔ یہاں تک کہ امام رضا کی وفات کے بعد ہی شاہی دربار میں اکابر علمائے وقت سے مباحثہ ہوا تو سب کو آپ کی عظمت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا۔

اب یہ واقعہ کوئی صرف اعتقادی چیز بھی نہیں ہے بلکہ مسلم الثبوت طور پر تاریخ کا ایک جز ہے یہاں تک کہ اس مناظرہ کے بعد اسی محفل میں مامون نے اپنی لڑکی ام الفضل کو آپ کے حبالہ عقد میں دیا۔

یہ سیاست مملکت کا ایک نئی قسم کا سنہرا جال تھا جس میں امام محمد تقی کی کمسنی کو دیکھتے ہوئے خلیفہ وقت کو کامیابی کی پوری توقع ہو سکتی تھی۔

جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ "نویں امام" (شائع کردہ امامیہ مشن) میں لکھا ہے۔

"بنی امیہ کے بادشاہوں کو آلِ رسول کی ذات سے اتنا اختلاف نہ تھا جتنا ان کے صفات سے۔ وہ ہمیشہ اس کے درپے رہتے تھے کہ بلندی اخلاق اور معراج انسانیت کا وہ مرکز جو مدینہ میں قائم ہے اور جو سلطنت کے مادی اقتدار کے مقابلہ میں ایک مثالی روحانیت کا مرکز بنا ہوا ہے یہ کسی طرح ٹوٹ جائے اسی کے لئے وہ گھبرا گھبرا کر مختلف تدبیریں کرتے تھے۔ امام حسین سے بیعت طلب کرنا اسی کی ایک شکل تھی اور پھر امام رضا کو ولی عہد بنانا اسی کا دوسرا طریقہ۔

فقط ظاہری شکل میں ایک کا انداز معاندانہ اور دوسرے کا طریقہ ارادت مندی کے روپ میں تھا مگر اصل حقیقت دونوں باتوں کی ایک تھی۔ جس طرح امام حسین نے بعیت نہ کی تو وہ شہید کر ڈالے گئے اسی طرح امام رضا ولی عہد ہونے کے باوجود حکومت کے مادی مقاصد کے ساتھ نہ چل سکے تو آپ کی شمع حیات کو زہر کے ذریعہ سے ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا گیا۔

اب مامون کے نقطہ نظر سے یہ موقع انتہائی قیمتی تھا کہ امام رضا کا جانشین آٹھ نو برس کا ایک بچہ ہے جو تین چاربرس پہلے ہی باپ سے چھڑا لیا جا چکا تھا۔ حکومت وقت کی سیاسی سوجھ بوجھ کہہ رہی تھی کہ اس بچے کو اپنے طریقہ پر لانا نہایت آسان ہے اور اس کے بعد وہ مرکز جو حکومت وقت کے خلاف ساکن اور خاموش مگر انتہائی خطرناک، قائم ہے ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔

مامون امام رضا کی ولی عہدی کی مہم میں اپنی ناکامی کومایوسی کا سبب تصور نہیں کرتا تھا اس لئے کہ امام رضا کی زندگی ایک اصول پر قائم رہ چکی تھی اس میں تبدیلی نہیں ہوئی تو یہ ضروری نہیں کہ امام محمد تقی آٹھ برس کے سن میں خاندان شہنشاہی کا جز بنا لئے جائیں تو وہ بھی بالکل اپنے بزرگوں کے اصول زندگی پر برقرار رہیں۔

سوا ان لوگوں کے جو ان مخصوص افراد کے خداداد کمالات کو جانتے تھے اس وقت کا ہر شخص یقیناً مامون کا ہم خیال ہو گا۔ مگر حضرت امام محمد تقی نے اپے کردار سے ثابت کر دیا کہ جو ہستیاں عا م جذبات کی سطح سے بالاتر ہیں اور یہ بھی اسی قدرتی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں جن کے افراد ہمیشہ معراج انسانیت کی نشاندہی کرتے آئے ہیں آپ نے شادی کے بعد محل شاہی میں قیام سے انکار فرمایا اور بغداد میں جب تک قیام رہا آپ ایک علیحدہ مکان کرایہ پر لے کر اس میں قیام پذیر ہوئے او رپھر ایک سال کے بعد ہی مامون سے حجاز واپس لے جانے کی اجازت لے لی۔ اور مع ام الفضل کے مدینہ تشریف لے گئے اور اس کے بعد حضرت کا کاشانہ گھرکی ملکہ کے دینوی شاہزادی ہونے کے باوجود بیت الشرف امامت ہی رہا۔ قصر دنیا نہ بن سکا۔ ڈیوڑھی کا وہی انداز رہا جو اس کے پہلے تھا۔ نہ پہرے دار اورنہ کوئی خاص روک ٹوک۔ نہ تزک نہ احتشام۔ نہ اوقات ملاقات کی حدبندی۔ نہ ملاقاتیوں کے ساتھ برتاؤ میں کوئی فرق۔ زیادہ تر نشست مسجد نبوی میں رہتی تھی جہاں مسلمان حضرت کے وعظ و نصیحت سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ راویان حدیث احادیت دریافت کرتے تھے۔ طلاب علم مسائل پوچھتے تھے اور علمی مشکلات کو حل کرتے تھے۔ چنانچہ شاہی سیاست کی شکست کا نتیجہ یہ تھا کہ آخر آپ کا بھی زہر سے اسی طرح خاتمہ کیا گیا جس طرح آپ کے بزرگوں کا اس سے پہلے کیا جاتا رہا تھا۔

امام علی نقی

آپ کی زندگی میں بھی وہی خصوصیتیں موجود ہیں جو آپ کے آباؤ اجداد میں تھیں۔

آپ کو متوکل نے مدینہ سے بلوا کر سامرے میں نظربند کیا اور متعدد اشخاص کی نگرانی آپ پر قائم کی۔ مگر آپ کے اخلاق حمیدہ نے ہر ایک کو متاثر کیا۔ آپ کی خاموش زندگی صحیح اسلامی سیرت کی عملی مثال تھی اور ہمیشہ اس مشن کی جو تبلیغ دین و شریعت کا تھا حفاظت کرتے رہے۔ ایسے موقعوں پر جب جذباتی انسان یا تو مرعوب ہو کر دوسرے کا ہم رنگ ہو جائے یا مشتعل ہو کر مرنے مارنے پر تیار ہو جائے یہ ضبط نفس معراج انسانیت کا نمونہ تھا کہ نہ اپنے جاوہ عمل کو چھوڑا جاتا تھا اور نہ تصادم کی صورت پیدا کی جاتی تھی۔

متوکل کا دربار جہاں شراب کا دور چل رہا تھا۔ اس میں امام کی طلبی اور جام شراب کا پیش کیاجانا اور آپ کے انکار پر یہ فرمائش کہ کچھ اشعار ہی سنائیے اور آپ کا اس موقع سے وعظ کے لئے گنجائش نکالنا اور بے اعتباری دنیا اور محاسبہ نفس کی دعوت پر مشتمل وہ اشعار پڑھنا جنہوں نے اس محفل عیش کو مجلس وعظ میں تبدیل کرکے وہ اثر پیدا کیا کہ حاضرین زاروقطار رونے لگے اور بادشاہ بھی چیخیں مار مار کر گریہ کرنے لگا۔ یہ انہی حضرت زین العابدین کے وارث کا کام ہو سکتا تھا جنہوں نے دربار ابن زیاد و یزید میں اظہار حقائق کے کسی موقع کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔

قید کے زمانہ میں آپ جہاں بھی رہے آپ کے مصلے کے سامنے ایک قبر کھدی ہوئی تیار رہتی تھی۔ یہ ظالم طاقت کو اس کے باطل مطالبہ اطاعت کا ایک خاموش اور عملی جواب تھا یعنی زیادہ سے زیادہ تمہارے ہاتھ میں جو ہے وہ جان کا لے لینا مگر جو موت کے لئے اتنا تیار ہو وہ ظالم حکومت سے ڈر کر باطل کے سامنے سر کیوں خم کرنے لگا۔

پھر بھی مثل اپنے بزرگوں کے حکومت کے خلاف کسی سازش وغیرہ سے آپ کا دامن ایسا بری رہا کہ باوجود دارالسلطنت کے اندر مستقل قیام اور حکومت کے سخت ترین جاسوسی نظام کے آپ کے خلاف کوئی الزام کبھی عائد نہیں کیا جا سکا۔ حالانکہ عباسی سلطنت اب کمزور ہو چکی تھی اور وہ دم توڑنے کے قریب تھی مگر آل محمد نے ان حکومتوں کو ہمیشہ اپنی موت مرنے کے لئے چھوڑا۔ ان کے خلاف کبھی کسی اقدام کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی۔

امام حسن عسکری

آپ کے دور حیات کا اکثر حصہ عباسی دارالسلطنت سامرا میں نظربندی یا قید کی حالت میں گزرا مگر اس حالت میں آپ کی بلندکرداری اور سیرت بلند کے مظاہرات سے جو اثر پڑا اس کا تجزیہ مولانا سید ابن حسن صاحب جارچوی نے بہت اچھے الفاظ میں کیا ہے۔

ہزاروں رومی اور ترکی غلام جو آہستہ آہستہ دربار خلافت میں رسوخ پا رہے تھے اور اپنی ان رشتہ دار عورتوں کی مدد سے جو بادشاہ کے حرم میں دخیل تھیں اعلیٰ عہدوں اور منصوبوں پر فائز ہوتے جا رہے تھے۔ خلیفہ کی اخلاقی کمزوریوں کو دیکھ کر بالکل اسلام سے بیگانہ اور دین سے متنفر ہو جاتے مگر ان ائمہ دین نے جو خلیفہ کی بدکرداریوں کے مقابلہ میں ایک اعلیٰ درجہ کی سیرت پیش کرتے تھے اسلام کا بھرم رکھ لیا۔ اور مسلم معاشرے کو بالکل برباد ہونے سے بچا لیا۔ جب عامة الناس آل رسول کے ان بہترین عمائد کو دیکھتے اور سیرت و کردار کے ان اعلیٰ نمونوں پر نگاہو ڈالتے تو ان کو یقین آ جاتا کہ دین اسلام کچھ اور چیز ہے اور اس کا نام لے کر ملکوں پر حکمرانی کرنا کچھ اور شے ہےدارالحکومت اور شاہی دربار کے قرب میں ائمہ دین کی موجودگی نے اسلام کو ایک بڑے انقلاب سے بچا لیا۔ بنی امیہ کے مظالم سے تنگ آ کر لوگوں نے اقربائے نبی کے دامن میں پناہ لی تھی اور سمجھتے تھے کہ اب ہم اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس اور اس کے احکام پر عمل پیرا ہوں گے جب عباسیوں کی آمد بھی دینی اور معاشرتی گتھیوں کو نہ سلجھا سکی تو فطری طور پر لوگوں کو یہ احساس پیدا ہو چلا کہ اسلام ہی امن پذیر معاشرہ پیدا کرنے سے قاصر ہے مگر ائمہ اہل بیت کے وجود نے مسلمانوں کو مطمئن کر دیا کہ اسلام کے صحیح مبلغ ابھی تک برسراقتدار نہیں آئے اور ان کو اصلاح امت، تشکیل سیرت و تعمیر اخلاق کا موقع نہیں ملا۔ اس لئے ملک کی بدحالی اور تباہی کا ذمہ دار اسلام نہیں ہے بلکہ وہ قابویافتہ جماعت ہے جو اسلام کا نام لے کر دنیا کے سر پر سوار ہو گئی ہے۔ (تذکرہ محمد و آل محمد جلد ۳) ۔

باوجود یہ کہ اپنے دور امامت میں آپ کی تقریباً پوری زندگی قید و بند میں رہی پھر بھی اپنے جد بزرگوار امیرالمومنین اور دیگر اسلاف کی سیرت کے مطابق جب اسلام کو آپکی مدد کی ضرورت پڑی تو ظالم حکومت کے بڑھائے ہوئے فریاد کے ہاتھ کو کبھی ناکام واپس جانے نہ دیا۔ چنانچہ جب قحط کے موقع پر ایک عیسائی راہب نے بارش کراکے اپنی روحانیت کے مظاہرہ سے دارالسلطنت عباسیہ کے بہت سے مسلمانوں کے ارتداد کے آثار پیدا کر دیئے تو اس وقت امام حسن عسکری تھے جنہوں نے اس کے طلسم کو شکستہ کرکے مسلمانوں کی استقامت کا سامان بہم پہنچایا۔

اس کے علاوہ آپ نے سچے پرستارانِ دین کی دینی تعلیم و تربیت کے فریضہ کو نظرانداز نہیں کیا۔ اس کے لئے اپنی طرف سے سفراء مقرر کئے جو اپنی بصیرت علمی کی حد بھر خود مسائل شرعیہ کا جواب دیتے تھے اور جن مسائل میں امام سے دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی تھی ان کا خود مناسب موقع پر امام سے جواب حاصل کرکے سائل کی تشفی کر دیتے تھے۔ انہی کے ذریعہ سے اموالِ خمس کی جمع آوری ہوتی تھی اور وہ تنظیم سادات اور دیگر دینی مہمات پر صرف ہوتا تھا۔ اس طرح سلطنت دینوی کے متوازی حکومت دینی کا پورا ادارہ کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا۔

پھر آپ نے قید و بند کے اسی شکنجہ میں جو وقتاً فوقتاً رہا کیا معارف اسلامی کی خدمت بھی جاری رکھی۔ چنانچہ بعض آپ کے احادیث شیعہ جوامع حدیث میں درج ہیں اور بعض کتب اہل سنت میں بھی درج ہیں۔ تفصیل کے لئے ہمارا رسالہ "حسن عسکری" دیکھئے جو امامیہ مشن سے شائع ہوا ہے۔ اسی طرح آپ کے تلامذہ نے بھی آپ کے افاداتِ علمی مرتب کئے ہیں ان کا تذکرہ بھی مذکورہ رسالہ میں ملاحظہ ہو۔

امام منتظر عجّل اللہ فرجہ

یہ سلسلہ آل محمد کی آخری کڑی خود مادی نگاہوں سے اوجھل ہے پھر اس کی سیرت زندگی کا اس زمانہ کی مادی ذہنیت والے کو اندازہ ہی کیونکر ہو سکتا ہے؟

بے شک ہم قطعی دلائل کی بنا پر چونکہ آپ کے وجود اور غیبت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں اور آپ کو انہی مقاصد کا محافظ جانتے ہیں جن کے آپ کے اسلاف کرام ہمیشہ محافظ رہے اس لئے ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ پردہ غیب میں بھی ان فرائض کو انجام دے رہے ہیں جو بحیثیت منصب آپ کے ذمہ ہیں۔

اس سلسلہ میں آپ کے عمل کو اپنے آبائے طاہرین علیہم اسلام کی زندگی کے ساتھ جو مماثلت ہے اس پر ہم نے اپنے رسالہ "وجود حجت" (شائع کردہ امامیہ مشن لکھنو) میں کافی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے جس کا ہر شخص مطالعہ کر سکتا ہے۔

والّسلام!

علی نقی النقوی


4