اسلامی نظریہ حکومت

اسلامی نظریہ حکومت10%

اسلامی نظریہ حکومت مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 367

اسلامی نظریہ حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 367 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 139082 / ڈاؤنلوڈ: 3492
سائز سائز سائز
اسلامی نظریہ حکومت

اسلامی نظریہ حکومت

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

پندرہواں سبق:

ولايت فقيہ كا معني

لغوى لحاظ سے ولايت '' و _ ل _ ي'' سے ماخوذ ہے _ واو پر زبر اور زير دونوں پڑھے جاتے ہيں _ اس كے ہم مادہ ديگر كلمات يہ ہيں _ توليت ، موالات ، تولّى ، وليّ، متولّي، استيلائ، ولائ، مولا، والى _

لغوى لحاظ سے ولايت كے متعدد معانى ہيں مثلاً نصرت ، مدد، امور غيركا متصدى ہونا اور سرپرستى وغيرہ_البتہ ان معانى ميں سے سرپرستى او رغير كے امور ميں تصرف ولايت فقيہ سے زيادہ مناسبت ركھتے ہيں_جو شخص كسى منصب يا امر كا حامل ہو اسے اس امر كا سرپرست، مولى اورولى كہا جاتاہے، بنابريں لفظ ولايت اور اس كے ہم مادہ الفاظ يعنى ولي، توليت ، متولى اور والى سرپرستى اور تصرف كے معنى پر دلالت كرتے ہيں اس قسم كے كلمات كسى دوسرے كى سرپرستى اور اس كے امور كى ديكھ بھال كيلئے استعمال ہوتے ہيں اور بتلاتے ہيں كہ ولى اور مولا دوسروں كى نسبت اس تصرف اور سرپرستى كے زيادہ سزاوار ہيںاور ولى و مولا كى ولايت كے ہوتے ہوئے دوسرے افراد اس شخص كى سرپرستى اور اس كے امور ميں تصرف كا حق نہيں ركھتے(۱)

____________________

۱) مولى اور ولى كے معانى كى مزيد تفصيل كيلئے كتاب الغدير ، جلد۱، صفحہ ۶۰۹ ، ۶۴۹ اور فيض القدير ،صفحہ ۳۷۵_ ۴۴۸ كى طرف رجوع كيجئے _

۱۴۱

قرآن كريم ميں جو الفاظ ان معانى ميں استعمال ہوئے ہيں _ وہ اللہ تعالى ، رسول -(ص) اور امام كيلئے استعمال ہوئے ہيں _

( '' إنَّمَا وَليُّكُمُ الله ُ وَرَسُولُهُ وَالَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤتُونَ الزَّكَاةَ وَهُم رَاكعُونَ'' ) (۱)

سواے اس كے نہيں كہ تمہارا ولى خدا ، اس كا رسول اور وہ مومن ہيں جو نماز قائم كرتے ہيں اور حالت ركوع ميں زكوة ديتے ہيں _

و ، ل ، ى كے مشتقات كے معانى اور قرآن و روايات ميں ان كے استعمال كى تفصيلى بحث ہميں ہمارى اصلى بحث سے دور كردے گى ، كيونكہ ولايت اور اس سے ملتے جلتے الفاظ يعنى والى اور ولى و غيرہ كا اصطلاحى معنى واضح اور روشن ہے_

جب ہم كہتے ہيں : كيا رسول خدا (ص) نے كسى كو مسلمانوں كى ولايت كيلئے منصوب كيا ہے ؟ يا پوچھتے ہيں : كيا زمانہ غيبت ميں فقيہ عادل و لايت ركھتا ہے ؟ واضح ہے كہ اس سے ہمارى مراد دوستي، محبت اور نصرت وغيرہ نہيں ہوتي_ بلكہ اس سے مراد اسلامى معاشرہ كے امور كى سرپرستى ہوتى ہے _ ولايت فقيہ كا معنى يہ ہے كہ فقيہ عادل اسلامى معاشرہ كى سرپرستى اور حاكميت كا حقدار ہے اور اس شرعى اور اجتماعى منصب كيلئے منتخبكيا گيا ہے _

ولايت كى حقيقت اور ماہيت

ولايت فقيہ كى ادلہ كے ذريعہ فقيہ عادل كيلئے جو ولايت ثابت كى جاتى ہے وہ شرعى اعتبارات اور مجعولات ميں سے ہے _ فقاہت ، عدالت اور شجاعت جيسى صفات تكوينى ہيں جبكہ رياست اور ملكيت جيسے امور اعتباري

____________________

۱) سورہ مائدہ آيت ۵۵_

۱۴۲

اور وضعى ہيں _ اعتبارى اور وضعى امور ان امور كو كہتے ہيں جو جعل اور قرار دينے سے وجود ميں آتے ہيں يعنى بذات خود خارج ميں ان كااپنا وجود نہيں ہوتا_ بلكہ بنانے والے كے بنانے اور قرار دينے والے كے قرار دينے سے وجود ميں آتے ہيں _ لہذا اگر قرار دينے والا شارع مقدس ہو تو انہيں ''اعتبارات شرعي''كہتے ہيں اورا گر عقلاء اور عرف عام ہوں تو پھر انہيں ''اعتبارات عقلائي ''كہا جاتاہے_ (۱)

جو شخص فقيہ بنتاہے يا وہ شخص جو ملكہ عدالت اور تقوى كو حاصل كرليتاہے وہ ايك حقيقت اور ''تكوينى صفت'' كا حامل ہوجاتاہے _ليكن اگر كسى شخص كو كسى منصب پر فائز كيا گيا ہے اوراس كے لئے ايك حاكميت قرار دى گئي ہے تو يہ ايك حقيقى اور تكوينى صفت نہيں ہے بلكہ ايك قرار داد اور ''عقلائي اعتبار'' ہے ''امر اعتبارى ''اور'' امر تكوينى ''ميں يہ فرق ہے كہ '' امر اعتبارى '' كا وجود واضع اور قرار دادكرنے والوں كے ہاتھ ميں ہوتاہے_ ليكن ''تكوينى حقائق '' كسى بنانے والے يا قرار دينے والے كے ہاتھ ميں نہيں ہوتے كہ قرار كے بدلنے سے ان كا وجود ختم ہوجائے_

ولايت دو طرح كى ہوتى ہے _ تكوينى اور اعتبارى _ وہ ولايت جو فقيہ كو حاصل ہے اور ولايت فقيہ كى ادلہ سے جس كا اثبات ہوتاہے _'' ولايت اعتبارى ''ہے _ولايت تكوينى ايك فضيلت اور معنوى و روحانى كمال ہے _رسول خدا (ص) اور ائمہ معصومين كو دونوں قسم كى ولايت حاصل ہے آپ عصمت، عبوديت اور علم الہى كے اعلى مراتب پر فائز ہونے اور خليفہ خدا ہونے كى وجہ سے ولايت تكوينيہ اور الہيہ كے حامل محسوب ہوتے ہيں جبكہ مسلمانوں كى رہبرى اور قيادت كى وجہ سے سياسى ولايت ركھتے ہيں جو كہ ''ولايت اعتباري''ہے _ امام خمينى اس بارے ميں فرماتے ہيں :

____________________

۱) وہ حاكميت جس كا ايك قوم وقبيلہ اپنے سردار كيلئے اور ايك معاشرہ اپنے حاكم كيلئے قائل ہوتاہے ''اعتبارات عقلائي'' كے نمونے ہيں _ اسى طرح ٹريفك كے قوانين كہ سرخ لائٹ پر ركنا ہے يا يہ سڑك يك طرفہ ہے يہ تمام اعتبارات و مجعولات عقلائي كى مثاليں ہيں_

۱۴۳

جب ہم يہ كہتے ہيں كہ وہ ولايت جس كے رسول خدا (ص) اور ائمہ معصومين حامل تھے وہى ولايت زمانہ غيبت ميں فقيہ عادل كو حاصل ہے تو كوئي ہرگز يہ نہ سمجھے كہ فقہاء كو وہى مقام حاصل ہے جو رسولخدا (ص) اور ائمہ معصومين كو حاصل تھا، كيونكہ يہاں بات مقام كى نہيں ہے بلكہ فريضے اور ذمہ دارى كى ہے_ ولايت يعنى ''حكومت اورملك ميں شرعى قوانين كا اجرا'' ايك سنگين اور اہم ذمہ دارى ہے _ نہ يہ كہ كسى شخص كو ايك عام انسان سے ہٹ كر كوئي اعلى و ارفع مقام ديا جارہا ہے_ دوسرے لفظوں ميں مورد بحث ولايت يعنى حكومت اور اس كا انتظام بہت سے افراد كے تصور كے برعكس كوئي مقام نہيں ہے بلكہ ايك بھارى اور عظيم ذمہ دارى ہے ''ولايت فقيہ '' ايك ''امر اعتبارى عقلائي'' ہے _ لہذا جعل كے سوا كچھ بھى نہيں ہے (۱) _

ياد رہے كہ اس اعتبار سے كہ ولايت فقيہہ ، منصب حكومت اور معاشرتى نظام كے چلانے كو فقيہ كى طرف منسوب كرتى ہے_ ولايت فقيہ ايك'' اعتبار عقلائي ''ہے كيونكہ تمام معاشروں ميں ايسى قرارداد ہوتى ہے اور كچھ افراد كيلئے يہ منصب وضع كيا جاتاہے_ دوسرى طرف چونكہ يہ منصب اور اعتبار روايات معصومين اور شرعى ادلّہ سے فقيہ كو حاصل ہے اس لئے يہ ايك شرعى اعتبار اور منصب بھى ہے _ پس اصل ولايت ايك ''اعتبار عقلائي''ہے اور فقيہ كيلئے شارع مقدس كى طرف اس كى تائيد ايك ''اعتبار شرعى ''ہے _

اسلامى فقہ ميں دوطرح كى ولايت

ولايت كے متعلق آيات اور روايات كو كلى طور پر دو قسموں ميں تقسيم كيا جاسكتاہے يا دقيق تعبير كے مطابق فقہ ميں دو قسم كى ولايت پائي جاتى ہے_ ايك ولايت كا تعلق مومنين كے امور كى سرپرستى سے ہے يہ وہى ولايت ہے جو رسول خدا (ص) اور ائمہ معصومينكى طرف سے ''زمانہ غيبت'' ميں'' فقيہ عادل '' كو حاصل

____________________

۱) ولايت فقيہ صفحہ ۴۰ ، ۴۱_

۱۴۴

ہے _ اس سبق كى ابتدا ء ميں جو آيت ذكر كى گئي ہے _ وہ اسى ولايت كى طرف اشارہ كرتى ہے _ دوسرى ولايت وہ ہے جس ميں ان افراد كى سرپرستى كى جاتى ہے جو فہم و شعور نہيں ركھتے يا اپنے امور انجام دينے سے قاصر ہيں يا موجود نہ ہونے كى وجہ سے اپنے حق سے فائدہ نہيں اٹھاسكتے _ لہذا ضرورى ہے كہ ان كى طرف سے ايك ولى اپنى صواب ديد كے تحت انمحجور، غائب اور بے بس افراد كے امور كى سرپرستى كرے _

باپ اور دادا كى اپنے كم سن، كم عقل اور ديوانے بچوں پر ولايت، مقتول كے اولياء كى ولايت اورميت كے ورثا كى ولايت تمام ا سى ولايت كى قسميں ہيں _ درج ذيل آيات اسى ولايت كى اقسام كى طرف اشارہ كررہى ہيں_

( ''و من قتل مظلوماً فقد جعلنا لوليّه سلطانا فلا يُسرف فى القتل'' ) (سورہ اسراء آيت۳۳)

جو شخص ناحق مارا جائے تو ہم نے اس كے وارث كو ( قصاص كا) حق ديا ہے پس اسے چاہيے كہ قتل ميں زيادتى نہ كرے_

( ''فان كان الذى عليه الحق سفيهاً او ضعيفا او لا يستطيع ان يملّ هو فليملل وليه بالعدل'' ) (سورہ بقرہ آيت ۲۸۲)

اور اگر قرض لينے والا كم عقل يا معذور يا خود لكھوا نہ سكتا ہو تو اس كا سرپرست انصاف سے لكھوادے_

ان دو قسم كى ولايت كے درميان بنيادى فرق سے غفلت اور ان دونوں كو ايك ہى سمجھنے كى وجہ سے ولايت فقيہ كے بعض مخالفين ايك بڑى اور واضح غلطى كے مرتكب ہوئے ہيں _ وہ يہ سمجھنے لگے ہيں كہ ولايت فقيہ وہى محجور و قاصر افراد پر ولايت ہے اور ولايت فقيہ كا معنى يہ ہے كہ لوگ مجنون، بچے ، كم عقل اور محجور افراد كى طرح ايك سرپرست كے محتاج ہيں اور ان كيلئے ايك سرپرست كى ضرورت ہے_ لہذا ولايت فقيہ كا لازمہ لوگوں اور ان كے رشد و ارتكاء كى اہانت ہے _ آنے والے سبق ميں ہم اس غلط فہمى كا جواب ديں گے_

۱۴۵

خلاصہ

۱)ولايت كے متعدد معانى ہيں _ ولايت فقيہ سے جو معنى مراد ليا جاتاہے وہ ايك لغوى معنى يعنى سرپرستى اور تصرف كے ساتھ مطابقت ركھتاہے _

۲)ولايت فقيہ ''اعتبارات شرعى ''ميں سے ہے _

۳) معصومين '' ولايت اعتبارى ''كے علاوہ '' ولايت تكوينى ''كے بھى حامل ہيں جو كہ ايك كمال اور معنوى فضيلت ہے _

۴) فقہ ميں دو قسم كى ولايت پائي جاتى ہے_

الف:محجور و عاجز افراد پر ولايتب : مومنين كے اجتماعى امور كى سرپرستي

۵) وہ ولايت جو قرآن كريم ميں رسول خدا (ص) اور اولى الامر كيلئے ثابت ہے اور ان كى پيروى ميں فقيہ عادل كيلئے بھى ثابت ہے ولايت كى يہى دوسرى قسم ہے_

۶) ان دو قسم كى ولايت كے درميان اشتباہ اور دوسرى قسم كى ولايت كے وجود سے غفلت سبب بنى ہے كہ بعض افراد نے ولايت فقيہ كو اس ولايت كى قسم سمجھا ہے جو محجور اوربے بس افراد پر ہوتى ہے_

۱۴۶

سوالات:

۱) ولايت فقيہ كا اصطلاحى معنى ولايت كے كونسے لغوى معنى كے ساتھ مناسبت ركھتاہے ؟

۲)اس سے كيا مراد ہے كہ فقيہ عادل كى ولايت ايك'' امر اعتبارى ''ہے ؟

۳) ولايت تكوينى سے كيا مراد ہے ؟

۴) ولايت فقيہ اور ائمہ معصومين كى ولايت ميں كيا فرق ہے ؟

۵) محجور افراد پر ولايت سے كيا مراد ہے؟

۱۴۷

سولہواں سبق :

فقيہ كى وكالت اور نظارت كے مقابلہ ميں ولايت انتصابي

اس سبق كا مقصد اس امر كى مزيد وضاحت كرنا ہے كہ'' فقيہ كى ولايت انتصابى سے كيا مراد ہے''؟ اوران لوگوں كے اس نظريہ كے ساتھ اس كا كيا فرق ہے جو ''ولايت فقيہ'' كى بجائے ''وكالت فقيہ ''كے قا ئل ہيں يعنى فقيہ لوگوں كا وكيل ياوہ حكومتى امور پرنظارت كھنے والا ہے _ اس سے ولايت فقيہ كى بحث ميں محل نزاع كے واضح ہونے ميں مدد ملے گى ليكن اس بحث ميں داخل ہونے سے پہلےان غلط فہميوںكى طرف اشارہ كرديا جائے جو ولايت فقيہ كے معنى كے متعلق پائي جاتى ہيں _وہى غلط فہمى جس كى طرف گذشتہ سبق كے آخر ميں ہم اشارہ كرچكے ہيں _ فقيہ كى سياسى ولايت كے بعض مخالفين اس بات پر مصرہيں كہ ولايت فقيہ ميں ''ولايت'' كاوہ معنى كيا جائے جو دوسرے سياسى نظاموں ميں موجود سياسى اقتدار اور قانونى حاكميت سے بالكل مختلف ہے_ گويا اس نظام ميں سياسى اقتدار كى حقيقت مكمل طور پر دوسرے نظاموں كے سياسى اقتدار كى حقيقت سے مختلف ہے _اس فكر اور نظريہ كا منشاو سرچشمہ فقيہ كى ولايت سياسى اور اُس ولايت كو ايك ہى طرح كا قرار دينا ہے جو محجور اور بے بس افراد پرہوتى ہے _وہ يہ سمجھتے ہيں كہ مختلف فقہى ابواب ميں جس ولايت كا ذكر كيا جاتا

۱۴۸

ہے وہ ان موارد ميں ہوتى ہے جن ميں '' مولّى عليہ'' (جس پر ولايت ہو)محجور ،بے بس اور عاجز ہو پس ان لوگوں نے سياسى ولايت كو بھى اسى قسم كى ولايت خيال كيا ہے اور اس بات كے قائل ہوئے ہيں كہ فقيہ كى ولايت عامہ كا معنى يہ ہوا كہ معاشرہ كے افراد محجور وبے بس ہيں اور انھيں ايك ولى اور سرپرست كى ضرورت ہے_ لوگ رشد وتشخيص دينے سے قاصر ہيں اور اپنے امور ميں ايك سرپرست كے محتاج ہيں اس نظريہ كے حاميوں ميں سے ايك كہتے ہيں -:

ولايت بمعنى ''سرپرستي'' مفہوم اور ماہيت كے لحاظ سے حكومت اور سياسى حاكميت سے مختلف ہے كيونكہ ''ولايت'' وہ حق تصرف ہے جو ولى امر ''مولّى عليہ '' كے مخصوص مال اور حقوق ميں ركھتا ہے _وہ تصرفات جو ''مولّى عليہ '' عدم بلوغ و رشد اورشعور و عقل كى كمى يا ديوانگى كى وجہ سے اپنے حقوق اور اموال ميں نہيں كرسكتا _جبكہ حكومت يا سياسى حاكميت كا معنى ايك مملكت كوچلانا ہے _

اس قسم كے مطالب دوبنيادى نكات سے غفلت كى وجہ سے بيان كئے جاتے ہيں _

پہلا نكتہ يہ كہ فقہ ميں دو طرح كى ولايت پائي جاتى ہے _ايك وہ ولايت جو معاشرتى امور كى سرپرستى ہے كہ جس كا تعلق حكومت اور انتظامى امور سے ہے اور يہ ولايت اُس ولايت سے بالكل مختلف ہے جو محجور وقاصر افراد پر ہوتى ہے _ولايت كى يہ قسم قرآن كى رو سے رسولخدا (ص) اور اولى الامركيلئے ثابت ہے _كيا رسولخدا (ص) كا مسلمانوں كے ولى امر ہونے كا مطلب يہ ہے كہ صدر اسلام كے مسلمان محجوروعاجز تھے؟ اور اس دور كى ممتازاور سركردہ شخصيات ناقص تھيں ؟جيسا كہ كئي بار وضاحت كى گئي ہے كہ ولايت فقيہ وہى ائمہ معصومين كى ولايت كى ايك قسم ہے البتہ اس فرق كے ساتھ كہ ائمہ معصومين كى ولايت اس اعتبارى ولايت ميں منحصر نہيں ہے- بلكہ ائمہ معصومين مقامات معنوى اور تمام ترولايت و خلافت الہيہ كے بھى حامل

۱۴۹

ہيں _

دوسرانكتہ يہ كہ روايات كى روسے امام قيّم و سرپرست ہو تا ہے _ولايت اور امامت كے عظيم عہدہ كے فلسفہ كے متعلق فضل ابن شاذان امام رضا سے روايت نقل كرتے ہيں جس ميں امام كو دين خدا كے نگران اور قيّم،احكام الہى كے محافظ اور بدعتى و مفسد افراد كا مقابلہ كرنے والے كے طور پر متعارف كرواياگيا ہے _روايت كے الفاظ يہ ہيں :

''انه لولم يجعل لهم اماماً قيمّاً اميناً حافظاً مستودعاً ،لدرست الملّة وذهبت الدين وغيّرت السّنن ...فلولم يجعل لهم قيّماحافظاً لما جاء به الرسول (ص) لفسدوا'' (۱)

اگر خداوند متعال لوگوں كيلئے سرپرست، دين كا امين ، حفاظت كرنے والااور امانتوں كا نگران امام قرار نہ ديتا تو ملت كا نشان تك باقى نہ رہتا، دين ختم ہوجاتا اور سنتيں تبديل ہوجاتيں پس اگر خدا ،رسول اكرم (ص) كے لائے ہوئے دين كيلئے كسى كو سرپرست اور محافظ نہ بناتا تو لوگ اس دين كو تباہ كرديتے_

اس قسم كى روايات ميں موجود لفظ ''قيّم ''سے مراد وہ سرپرستى نہيں لى جا سكتى جو باپ اور ولى كو چھوٹے بچے يا كم شعور پر حاصل ہوتى ہے _كيونكہ قرآن اور روايات كى اصطلاح ميں'' قيّم ''اس چيز يا اس شخص كو كہتے ہيں جو خود بھى قائم ہو اور دوسروں كے قوام كا ذريعہ ہو_اسى لئے قرآن كريم ميں دين اور كتاب خدا كو اس صفت كے ساتھ متصف كيا گيا ہے _سورہ توبہ كى آيت ۳۶ ميں ارشاد ہو تاہے:

( ''ذلك الدين القيم '' ) يہى دين قيم ہے_

____________________

۱) بحارالانوار ج۶ ، صفحہ ۶۰ ، حديث ۱_

۱۵۰

سورہ روم كى آيت ۴۳ ميں ہے:

( ''فاقم وجهك للدّين القيّم ) ''

آپ اپنے رخ كو دين قيم كى طرف ركھيں_

سورہ بينہ كى آيت ۲ اور ۳ ميں ہے:

( ''رسولٌ من الله يتلوا صحفاً مطهّرة *فيها كتب قيّمة'' )

اللہ كى طرف سے رسول ہے جو پاكيزہ صحيفوں كى تلاوت كرتا ہے _ جن ميں كتب قيمة ہيں_

امام اور اسلامى معاشرہ كا سرپرست اس معنى ميں لوگوں كا قيّم ہے كہ وہ ان كيلئے مايہ انسجام اور زندگى كا سہارا ہو تا ہے _قرآن اور روايت ميں استعمال ہونے والے لفظ ''قيّم ''كو اس معنى ميں نہيں لياجاسكتا جو فقہى كتب ميں محجور وبے كس افراد كى سرپرستى كيلئے استعمال ہو تا ہے _بنابريں ولايت فقيہ كے منكرين كے اس گروہ كويہى غلط فہمى ہوئي ہے كہ انہوں نے فقيہ كى ولايت كو اسى قسم كى سرپرستى سمجھاہے جو محجور و قاصر افراد پرہو تى ہے(۱) _

ولايت انتصابى اور وكالت ونظارت ميں فرق

ولايت فقيہ كى بحث كا بنيادى اور اصلى محور يہ ہے كہ كيا ائمہ معصومين كى طرف سے فقيہہ عادل كو امت پر ولى نصب كيا گيا ہے ؟مسلم معاشرے كے سياسى اور اجتماعى امور كى ديكھ بھال، احكام كے اجرا اور امام معصوم كى نيابت كا اہم ترين فريضہ ادا كرنے كيلئے فقيہ كا امام كى طرف سے مقام ولايت پر منصوب ہونا درحقيقت ولايت فقيہ كى اصلى و بنيادى مباحث ميں سے ہے _''ولايت انتصابي'' كے معنى كى مزيد وضاحت كيلئے ضرورى ہے كہ ''ولايت انتخابي'' يا ''وكالت فقيہ'' سے اس كے فرق كى تحقيق كى جائے _جس طرح اس بات كى وضاحت بھى ضرورى ہے كہ'' ولايت فقيہ'' اور''نظارت فقيہ'' ميں كيا فرق ہے _

____________________

۱) مزيدتفصيل كيلئے كتاب'' حكومت ديني'' صفحہ۱۷۷تا۱۸۵كى طرف رجوع كيجئے_

۱۵۱

زمانہ غيبت ميں عادل اور جامع الشرائط فقيہ امام زمانہ(عجل اللہ فرجہ الشريف) كا نائب اور آپ كى طرف سے اسلامى معاشرہ كا منتظم و نگران ہو تا ہے _فقيہ عادل آپ كى طرف سے لوگوں پر ولايت ركھتا ہے يہ ''ولايت''،'' وكالت'' سے جدا ايك عہدہ ہے _فقيہ كى ''ولايت انتصابي'' اور ''ولايت انتخابى ''ميں بنيادى فرق اسى نكتہ ميں پوشيدہ ہے _''ولايت انتخابي'' كے نظريہ كى بنياد پر لوگ انتخاب اور بيعت كے ذريعہ فقيہ كو ''ولايت'' عطا كرتے ہيںگويا كہ لوگوں كا منتخب شدہ شخص ان كا وكيل اور مملكت كے انتظامى امور كا سرپرست ہو تا ہے_ ليكن فقيہ كى ''ولايت انتصابى ''كے نظريہ كى بنياد پر فقيہ عادل لوگوں كا وكيل نہيں ہوتابلكہ اسے يہ منصب شرعى دليلوں اور امام كے منصوب كرنے سے حاصل ہو تا ہے _اور لوگوں كا اسے تسليم كرنا اور اسكى مدد كرنا،اسكے ''منصب اور ولايت'' ميں كوئي بنيادى كردار ادا نہيں كرتا_بلكہ ولايت كو بروئے كار لانے اور اس كے اختيارات كے عملى ہونے ميں مددگار ثابت ہو تا ہے دوسرے لفظوں ميں لوگوں كا فقيہ كى ولايت كو قبول كرلينا اسكى ولايت كے شرعى ہونے كا باعث نہيں بنتا_بلكہ لوگوں كى طرف سے حمايت اور ساتھ دينے سے اس كى مقبوليت اور خارجى وجود كا اظہار ہوتاہے _

''ولايت انتصابى ''كى حقيقت مكمل طورپر''حقيقت وكالت ''سے بھى مختلف ہے _وكالت ميں ايك مخصوص شخص يعنى وكيل ايك خاص مورد ميں ايك دوسرے شخص يعنى ''موكل'' كى جگہ پر قرار پاتا ہے اور اس كى طرف سے عمل انجام ديتا ہے _اصل اختيار موكل كے ہاتھ ميں ہوتا ہے وكيل انہى اختيارات كى بنياد پر كام كرتا ہے جو ايك يا چند موكل اسے ديتے ہيں _جبكہ ولايت ميں ايسا نہيں ہوتا _حتى كہ اگر امام معصوم بھى ايك شخص كو وكيل اور دوسرے كو ولايت كے مقام پر منصوب فرمائيںتو ان دونوں كى حقيقت وحيثيت بھى ايك جيسى نہيں ہوتي_آيت الله جوادى آملى اس بار ے ميں كہتے ہيں :

۱۵۲

''ولايت'' اور'' وكالت'' ميں فرق ہے_ كيونكہ وكالت ''موكل'' كے مرنے سے ختم ہوجاتى ہے ليكن ولايت ميں ايسا نہيں ہوتا يعنى اگر امام معصوم كسى كو كسى امر ميں اپنا وكيل قرار ديتے ہيں تو امام كى شہادت يا رحلت كے بعد اس شخص كى وكالت ختم ہوجاتى ہے_ مگر يہ كہ بعد والے امام اس كى وكالت كى تائيد كر ديں_ ليكن ولايت ميں ايسا نہيں ہوتا مثلا اگر امام كسى كو منصوب كرتے ہيں اور وہ آپ (ع) كى طرف سے كسى موقوفہ پر ولايت ركھتا ہو تو امام كى شہادت يا رحلت كے بعد اس شخص كى ولايت ختم نہيں ہوگى _ مگر يہ كہ بعد والے امام اس كو ولايت سے معزول كرديں_ (۱)

دوسرا نكتہ يہ ہے كہ'' ولايت فقيہ ''،''نظارت فقيہ ''سے مختلف ہے _ ولايت كا تعلق نظام كے چلانے اور اجراسے ہے_ ولايت اسلامى معاشرہ كے اہم ترين اور مختلف مسائل اور انتظامى امور كو اسلامى موازين اور قواعد كے مطابق حل كرنے كو كہتے ہيں_ جبكہ نظارت ايك قسم كى نگرانى ہے اور اجرائي عنصركى حامل نہيں ہوتى _ زمانہ غيبت ميں سياسى تفكر ميں محل نزاع ''فقيہ عادل كيلئے ولايت كا اثبات'' ہے جبكہ'' نظارت فقيہ'' موافقين اور مخالفين كے درميان محل نزاع و بحث نہيں ہے اصلى نزاع اور جھگڑا اس ميں ہے كہ كيا فقيہ عادل كو شريعت كى طرف سے ولايت پر منصوب كيا گيا ہے يا نہيں؟ لہذا اس باب ميں فقہى بحث كا محور ہميشہ ''ولايت فقيہ'' رہا ہے نہ كہ ''نظارت فقيہ''_

فقيہ كى ''ولايت انتصابى ''كے نظريہ كى بنياد پر يہ سوال سامنے آتا ہے كہ جامع الشرائط فقيہ كيلئے يہ ولايت كس طرح محقق ہوتى ہے؟

____________________

۱) ولايت فقيہ صفحہ ۳۹۵_

۱۵۳

كيا ہر عادل اور جامع الشرائط فقيہ ''شان ولايت'' ركھتا ہے يا ''بالفعل'' اس منصب پر فائزہے ؟

حق يہ ہے كہ اگر'' ولايت فقيہ ''پر روايات كى دلالت صحيح ہو تو پھر ہر ''جامع الشرائط فقيہ '' كيلئے منصب ''ولايت'' ثابت ہے_ اور يہ عہدہ '' اہل حل و عقد ''كے انتخاب يا رائے عامہ جيسے كسى اور امر پر موقوف نہيں ہے_ پس ولايت فقيہ كى ادلّہ كى روسے فقيہ عادل بالفعل ولايت كا حامل ہے _ جس طرح ہر فقيہ عادل بالفعل منصب قضا كا حامل ہوتا ہے اور جھگڑوں كا فيصلہ كر سكتا ہے_

ياد رہے كہ تمام ''و اجدالشرائط فقہاء ''جو كہ'' منصب ولايت ''كے حامل ہيں براہ راست معاشرے كے امور كى نگرانى كے عہدہ پر فائز نہيں ہوسكتے _ جس طرح ايك كيس كے سلسلہ ميں تمام قاضى فيصلہ نہيں دے سكتے _ واضح سى بات ہے كہ جب ايك ''جامع الشرائط فقيہ'' امور كى سرپرستى اپنے ذمہ لے ليتا ہے تو باقى فقہا سے يہ ذمہ دارى ساقط ہوجاتى ہے _ بنابريں ايك فقيہ عادل كو اہل حل و عقد كا منتخب كرنا يا عوام كا اسے تسليم كر لينا دوسرے فقہاء سے منصب ولايت كو سلب نہيں كرتا بلكہ جب تك ايك فقيہ عادل امور كى سرپرستى كر رہا ہے تو دوسروں سے يہ ذمہ دارى ساقط ہے_

۱۵۴

خلاصہ :

۱) جوافراد ولايت فقيہ كو اس ولايت كى قسم سمجھتے ہيں جو محجور و بے كس افراد پر ہوتى ہے وہ ولايت كى قانونى حقيقت و ماہيت كو دوسرے سياسى اقتدار كى قانونى حقيقت سے مختلف قرار ديتے ہيں_

۲) اس نظريہ كے قائلين ''فقيہ كى ولايت عامہ ''كو لوگوں كے كم شعور اور بے بس ہونے كا لازمہ سمجھتے ہيں_

۳) اس نظريہ كے قائلين اس سے غافل رہے ہيں كہ اسلامى معارف ميں لفظ ولايت كے مختلف استعمال ہيں_

۴) روايات ميں امام كومعاشرہ كا قيّم كہا گيا ہے_ اور ان روايات ميں ''قيم''،'' ذريعہ حيات و قوام '' كے معنى ميں استعمال ہوا ہے_ جس معنى ميں قرآن نے دين اور آسمانى صحيفوں كو'' قيّم ''كہا ہے_

۵) ''ولايت انتصابى ''مكمل طور پرلوگوں كى طرف سے ''ولايت انتخابي'' اور ''وكالت فقيہ '' كے نظريہ سے مختلف ہے_

۶) ولايت انتصابى ايك قانونى حقيقت ہونے كے لحاظ سے وكالت كى ماہيت سے مختلف ہے_

۷)'' ولايت فقيہ ''حاكميت اور امور كى سرپرستى كے معنى ميںہے لہذا'' نظارت فقيہ '' سے واضح فرق ركھتى ہے_

۸) ولايت فقيہ كى ادلّہ كى رو سے يہ ولايت بالفعل ہر جامع الشرائط فقيہ كو حاصل ہے _ يعنى ہر فقيہ عادل امام كى طرف سے منصوب ہوتا ہے اور اس كى ولايت شرعى ہوتى ہے_

۱۵۵

سوالات :

۱) كيا ولايت فقيہ كى قانونى حقيقت دوسرى حكومتوں كے سياسى اقتدار سے مختلف ہوتى ہے؟

۲) وہ افراد جو ولايت فقيہ كو وہ ولايت سمجھتے ہيں جو محجور افراد پر ہوتى ہيں_ انہوں نے كن نكات سے غفلت كى ہے؟

۳) فقيہ كى ''ولايت انتصابى ''،''وكالت فقيہ ''سے كيا فرق ركھتى ہے؟

۴) كيا ولايت فقيہ اور نظارت فقيہ ايك ہى چيز ہے؟

۵) ولايت فقيہ كى ادلّہ كى روسے جامع الشرائط فقيہ كيلئے كس قسم كى ولايت ثابت كى جاسكتى ہے؟

۱۵۶

ستر ہواں سبق :

ولايت فقيہ كى مختصر تاريخ -۱-

ولايت فقيہ كى ابتداء آغاز فقہ سے ہى ہوتى ہے_ فقہ اور اجتہاد كى ابتدائ تاريخ سے ہى فقيہ كى بعض امور ميں ولايت كا اعتقاد پايا جاتا ہے _ اس وجہ سے اسے'' فقہ شيعہ'' كے مسلّمات ميں سے سمجھا جاسكتا ہے_ ولايت فقيہ كے متعلق جو شيعہ علماء ميں اختلاف پاياجاتا ہے_ وہ اس كى حدود وقيود اور اختيارات ميں ہے نہ كہ اصل ولايت فقيہ ميں_

قضاوت اور امور حسبيّہ(۱) جيسے امور ميں فقيہ عادل كى ولايت پر سب متفق ہيں_جبكہ اس سے وسيع تر امورميں اختلاف ہے_ يعنى معاشرہ كے سياسى اور انتظامى امور ميں فقيہ ولايت ركھتا ہے يا نہيں ؟ اسے

____________________

۱) امور حسبيّہ سے مراد وہ امور ہيں جن كے چھوڑ دينے پر شارع مقدس كسى صورت ميں بھى راضى نہيں ہے مثلاً بچوں ، ديوانوں اور بے شعور افراد كى سرپرستى _لفظ ''حسبہ' كے معنى اجر اور ثواب كے ہيں _ عام طور پر اس كا اطلاق ان امور پر ہوتا ہے جو اخروى اجر و ثواب كيلئے انجام ديئے جاتے ہيںاور كبھى قربت كے معنى ميں بھى استعمال ہوتا ہے _وہ كام امور حسبيّہ ميں شمار ہوتے ہيں جنہيں قربت خدا كيلئے انجام ديا جاتا ہے يا در ہے كہ امور حسبيّہ واجبات كفائي نہيں ہيں _ كيونكہ واجبات كفائي ان امور كو كہتے ہيں جنہيں ہر شخص انجام دے سكتا ہے اور بعض كے انجام دينے سے دوسروں سے ساقط ہوجاتے ہيں جبكہ امور حسبيّہ ميں تصرف كا حق يا تو صرف فقيہ عادل كے ساتھ مخصوص ہے يا پھر كم از كم فقيہ عادل كے ہوتے ہوئے دوسرے حق تصرف نہيں ركھتے _

۱۵۷

''ولايت عامہ فقيہ'' يا ''معصومين كى نيابت عامہ'' سے بھى تعبير كيا جاتا ہے_ فقيہ كى ولايت عامہ سے مراد يہ ہے كہ فقيہ عادل نہ صرف اجرائے احكام ، قضاوت اور امور حسبيّہ ميں امام معصوم كا نائب ہے بلكہ امام كى تمام قابل نيابت خصوصيات كا بھى حامل ہو تا ہے_

ولايت فقيہ كے بعض مخالفين يہ باور كرانا چاہتے ہيں كہ شيعہ فقہ كى تاريخ ميں ولايت عامہ فقيہ كى بحث ايك نئي بحث ہے جو آخرى دو صديوں ميں منظر عام پر آئي ہے جبكہ شيعہ فقہ كى طويل تاريخ ميں اس سے پہلے اس كا كوئي وجود نہيں ملتا حالانكہ فقاہت تشيع كے تمام ادوار ميں اس نظريہ كے قابل اعتبار قائلين موجود رہے ہيں بلكہ بعض بڑے بڑے شيعہ علماء و فقہاء نے اس كے متعلق فتوے بھى ديئے ہيں اور بعض علماء نے اس كے متعلق اجماع كادعوى بھى كيا ہے_ يہاں ہم صرف تين بزرگ فقہاء كے كلام كى طرف اشارہ كرتے ہيں_

دسويں صدى كے عظيم شيعہ فقيہ جناب محقق كر كى جامع الشرائط فقيہ كيلئے امام كى نيابت عامہ كو اجماعى اور متفق عليہ سمجھتے ہيں اور كہتے ہيں : اس ولايت كا نہ ہونا شيعوں كے امور كے معطل ہونے كا باعث بنتا ہے_(۱)

عظيم كتاب ''جواہر الكلام'' كے مصنف اور نامور شيعہ فقيہ شيخ محمد حسن نجفى امر بالمعروف كى بحث كے دوران امام معصوم كے تمام مناصب ميں فقيہ عادل كى نيابت كو شيعہ علماء كے نزديك ايك مسلّم حقيقت سمجھتے ہيں _ ان كا كہنا ہے كہ فقيہ كى ولايت عامہ سے انكار شيعوں كے بہت سے امور كے معطل ہونے كا باعث بنتا ہے_ اور جنہوں نے فقيہ كى ولايت عامہ كا انكار يا اس ميں شك كيا ہے انہوں نے نہ تو فقہ كے مزہ كو چكھا ہے اور نہ ہى معصومين كے كلام كے رموز كو سمجھا ہے(۲) _آپ فرماتے ہيں:

____________________

۱) رسائل محقق كركى جلد ۱ ، صفحہ ۱۴۲، ۱۴۳_ رسالة فى صلاة الجمعة_

۲) آپ كى آنے والى عبارت كا ترجمہ بھى تقريبا يہى ہے ( مترجم)

۱۵۸

ثبوت النيابة لهم فى كثير من المواضع على وجه يظهر منه عدم الفرق بين مناصب الامام اجمع ، بل يمكن دعوى المفروغية منه بين الاصحاب، فانّ كتبهم مملوء ة بالرجوع الى الحاكم ، المراد منه نائب الغيبة فى سائر المواضع لو لا عموم الولاية لبقى كثير من الامور المتعلّقة بشيعتهم معطّلة _ فمن الغريب وسوسة بعض الناس فى ذلك بل كانّه ما ذاق من طعم الفقه شيئاً، و لا فهم من لَحن قولهم و رموزهم امراً (۱)

فقيہ متبحر آقا رضا ہمدانى فقيہ عادل كيلئے امام كى نيابت اور جانشينى كے مسلّمہ ہونے كے متعلق يوں فرماتے ہيں:

زمانہ غيبت ميں اس قسم كے امور (وہ امور عامہ جن ميں ہر قوم اپنے رئيس كى طرف رجوع كرتى ہے) ميں جامع الشرائط فقيہ كے امام كے جانشين ہونے ميں شك و ترديد معقول نہيں ہے جبكہ علماء كے اقوال بھى اس بات كى تائيد كرتے ہيں كيونكہ ان كے كلام سے ظاہر ہوتا ہے كہ يہ بات امور مسلّمہ ميں سے ہے اور يہ بات اس قدر واضح تھى كہ بعض علماء نے تو امام كى طرف سے فقيہ كى نيابت عامہ كى دليل ''اجماع'' كو قرار ديا ہے_(۲)

ہم اشارہ كر چكے ہيں كہ فقہ شيعہ كے طول تاريخ ميں زمانہ قدماء سے ليكر آج تك علمائ'' فقيہ كى ولايت

____________________

۱) جواہر الكلام فى شرح شرائع الاسلام جلد ۲۱، صفحہ ۳۹۶، ۳۹۷_

۲) مصباح الفقيہ جلد ۱۴، صفحہ ۲۹۱ كتاب الخمس _

۱۵۹

عامہ'' كے معتقد رہے ہيں اور عظيم فقہاء نے اسى كے مطابق فتوے ديئے ہيں_ بہتر ہے كہ ہم يہاں مختلف ادوار كے علماء كے اقوال ذكر كر ديں_

محمد ابن نعمان بغدادى متوفى ۴۱۳ھ جو كہ شيخ مفيدرحمة الله عليہ كے نام سے مشہور ہيں اور شيعوں كے بہت بڑے فقيہ شمار ہوتے ہيں_ مخالفين كے اس ادعا كو نقل كرنے كے بعد كہ اگر امام زمانہ عجل الله فرجہ الشريف كى غيبت اسى طرح جا رى رہى تو حدود الہى كا اجرا كسى پر واجب نہيں ہے_ كہتے ہيں:

فأما إقامة الحدود فهو إلى سلطان الاسلام المنصوب من قبَل الله تعالى و هم ائمة الهُدى من آل محمد(ص) و من نصبوه لذلك من الاُمراء والحكام ، و قد فَوَّضوا النظرَ فيه إلى فقهاء شيعتهم مع الامكان (۱)

حدود الہى كا اجرا حاكم شرعى كا كام ہے _ وہ حاكم شرعى جسے خدا كى طرف سے مقرر كيا گيا ہو اور وہ ائمہ اہلبيت ہيںيا وہ افراد جنہيں ائمہ معصومين حاكم مقرر كرديں اور ممكنہ صورت ميں انہوں نے يہ كام اپنے شيعہ فقہا كے سپرد كر ركھا ہے_

اس عبارت ميں شيخ مفيد حدود الہى كا اجرا اسلام كے حاكم كى ذمہ دارى قرار ديتے ہيں نہ كہ قاضى كى لہذا ان كا اس بات كى تاكيد كر نا كہ يہ كام جامع الشرائط فقيہ كى خصوصيات ميں سے ہے فقيہ كى ولايت عامہ كى دليل ہے _ كيونكہ صرف حاكم شرع ہى حدود الہى كو جارى كرسكتا ہے_ يہ بات درج ذيل دو روايات كے ساتھ مطابقت ركھتى ہے_

''عن حفص بن غياث قال : سألت اباعبدالله (عليه السلام)

____________________

۱) المقنعہ صفحہ ۸۱۰، كتاب الامر بالمعروف و النہى عن المنكر _

۱۶۰

قلت: من يقيم الحدود؟ السلطان او القاضي؟ فقال:'' اقامة الحدود الى من اليه الحكم _''(۱)

حفص ابن غياث كہتے ہيں : ميں نے امام صادق سے پوچھا : حدود الہى كون جارى كرے گا؟ سلطان يا قاضي؟ فرمايا حدود كا اجرا حاكم كا كام ہے_

انّ عليّاً (ع) قال :'' لا يصلح الحكم و لا الحدود و لا الجمعة الا ّ بامام'' (۲)

اميرالمؤمنين نے فرمايا حكومت ، حدود اور جمعہ كى ادائيگى امام كے بغير صحيح نہيں ہيں_

حمزہ ابن عبدالعزير ديلمى (متوفى ۴۴۸_۴۶۳)جو كہ سلار كے لقب سے مشہور ہيں كہتے ہيں:

قد فوّضوا إلى الفقهاء إقامة الحدود والاحكام بين الناس بعد أن لا يتعدّوا واجباً و لا يتجاوزوا حداً و امروا عامة الشيعة بمعاونة الفقهاء على ذلك (۳)

يہ كام فقہاء كو سونپا گيا ہے كہ وہ حدود الہى كو قائم كريں اور لوگوں كے درميان فيصلہ كريں_ وہ نہ واجب سے آگے بڑھيں اور نہ حد سے تجاوز كريں اور عام شيعوں كو اس سلسلہ ميں فقہاء كى مدد كرنے كا حكم ديا گيا ہے_

اس فتوى كے مطابق حدود اور احكام الہى كا اجرا جو كہ'' سياسى ولايت'' كى خصوصيات ميں سے ہے اور ''ولايت قضائي'' سے وسيع تر ايك امر ہے_ شيعہ فقہا كے سپرد كيا گيا ہے اور ائمہ معصومين لوگوں سے يہ چاہتے ہيں كہ وہ اس سلسلہ ميں فقہاء كى مدد كريں_

____________________

۱) وسائل الشيعہ جلد ۱۸ص۲۲۰_

۲) المستدرك جلد ۳ صفحہ ۲۲۰_

۳) المراسم النبويةص ۲۶۱_

۱۶۱

عظيم فقيہ ابن ادريس حلّى (متوفى ۵۹۸ھ ق) معتقد ہيں كہ جامع الشرائط فقيہ كو احكام الہى اور شرعى حدود كے اجرا كى ذمہ دارى لينى چاہيے يہ ولايت ''امر بالمعروف اور نہى عن المنكر'' كى ايك قسم ہے اور يہ ہر ''جامع الشرائط'' كى ذمہ داريہے_ حتى كہ اگر اسے فاسق و فاجر حاكم كى طرف سے بھى مقرر كيا جائےتب بھى وہ در حقيقت'' امام معصوم اور ولى امر ''كى طرف سے مقرر كردہ ہے_ حدود الہى كا اجرا صرف امام معصوم كى ذمہ دارى نہيں ہے بلكہ ہر حاكم كا وظيفہ ہے _پس مختلف شہروں ميں امام كے نائبين بھى اس حكم ميں شامل ہيں (۱) _

ابن ادريس حلّي، سيد مرتضى ، شيخ طوسى اور دوسرے بہت سے علماء كو اپنا ہم خيال قرار ديتے ہيں_

''و عليه ( العالم الجامع للشرائط)متى عرض لذلك ا ن يتولّاه (الحدود)لكون هذه الولاية امراً بمعروف و نهياً عن منكر، تعيّن غرضهما بالتعريض للولاية عليه و هو ان كان فى الظاهر من قبل المتغلّب ،فهو فى الحقيقة نائب عن ولى الامر (عج) فى الحكم فلا يحلّ له القعود عنه و اخوانه فى الدين مامورون بالتحاكم و حمل حقوق الاموال اليه و التمكن من انفسهم لحدّ او تاديب تعيّن عليهم ...''

''و ما اخترناه اوّلا هو الذى تقتضيه الادلّة ،و هو اختيار السيد المرتضى فى انتصاره و اختيار شيخنا ابوجعفر فى مسائل خلافه

____________________

۱) آپكى آنے والى عبارت كا ترجمہ تقريبا يہى ہے ( مترجم)

۱۶۲

و غيرهما من الجلّة المشيخة الشائع المتواتر ان للحكام اقامة الحدود فى البلد الذى كل واحد منهم نائب فيه من غير توقف فى ذلك'' (۱)

دسويں صدى كے عظيم فقيہ محقق كركى (متوفى ۹۴۰ق )فقيہ عادل كے امام معصوم كے تمام قابل نيابت امور ميں امام كے نائب ہونے پر اصرار كرتے ہيں اور اسے تمام علماء كا متفق الرا ے حكم قرار ديتے ہوئے كہتے ہيں:

اتَّفَقَ أصحابنا (رضوان الله عليهم) على أنّ الفقيه العدل الإمامى الجامع لشرائط الفتوى المعبّر عنه بالمجتهد فى الأحكام الشرعية نائب من قبَل ائمة الهُدى (صلوات الله عليهم) فى حال الغَيْبة فى جميع ما للنّيابة فيه مدخل والمقصود من هذا الحديث هنا أنّ الفقيه الموصوف بالأوصاف المعيّنة منصوب من قبَل أئمّتنا نائب عنهم فى جميع ما للنّيابة فيه مدخل بمقتضى قوله (ع) : '' فإنّى قد جعلته عليكم حاكماً'' و هذه استنابة على وجه كلّي''

ہمارے تمام علماء اس بات پر متفق ہيں كہ وہ شيعہ عادل فقيہ جو فتوى دينے كى صلاحيت ركھتا ہو كہ جسے احكام شرعيہ ميں مجتہد سے تعبير كيا جاتا ہے، زمانہ غيبت ميں ان تمام امور ميں ائمہ ہدى كا نائب ہوتا ہے جو نيابت كے قابل ہيں

حديث معصوم (كہ ميں نے اسے تم پر حاكم قرار ديا ہے) سے مراد يہ ہے كہ وہ فقيہ جو

____________________

۱) السرائر، جلد ۳ ، صفحہ ۵۳۸، ۵۳۹و۵۴۶_

۱۶۳

مذكورہ صفات كا حامل ہو _ ائمہ كا مقرر كردہ نائب ہے ان تمام امور ميں جو قابل نيابت ہيں اور يہ نيابت كلى اور عام ہے_ (۱)

شيخ جعفر كاشف الغطاء كے فرزند شيخ حسن كاشف الغطا (متوفى ۱۲۶۲ھ ق)اپنى كتاب ''انوار الفقاہہ'' (جو كہ خطى نسخہ ہے )ميں فقيہ كى '' ولايت عامہ'' كو صراحتاً ذكر كرتے ہوئے كہتے ہيں : فقيہ كى ولايت صرف قضاوت تك محدود نہيں ہے اور اس بات كى نسبت فقہا كيطرف ديتے ہوئے فرماتے ہيں:

''ولاية الحاكم عامّة لكلّ ما للإمام ولاية فيه لقوله (ع) : '' حجّتى عليكم'' و قوله (ع) : '' فاجعلوه حاكماً'' حيث فهم الفقهاء منه انّه بمعنى الوليّ المتصرّف لا مجرّد أنّه يحكم فى القضائ''

حاكم ( فقيہ جامع الشرائط) كو ان تمام امور ميں ولايت حاصل ہے جن ميں امام (ع) كو ولايت حاصل ہوتى ہے كيونكہ امام (ع) فرماتے ہيں: ''يہ تم پر ميرى طرف سے حجت ہيں''_ نيز فرمايا: ''اسے ( فقيہ كو )حاكم قرار دو'' _ اس سے فقہا نے يہى سمجھا ہے كہ يہاں مراد'' ولى متصرف ''ہے نہ كہ صرف قضاوت كرنے والا_

انوار الفقاہہ كے مصنف كى ولايت عامہ پر ايك دليل يہ ہے كہ ولايت كے سلسلہ ميں نائب خاص اور نائب عام ميں كوئي فرق نہيں ہے _ يعنى اگر امام معصوم كسى شہر ميں ايك نائب خاص مقرر كرتے ہيں مثلا مالك اشتر كو مصر كيلئے ،يا غيبت صغرى ميں نوّاب اربعہ كو، تو ان كى ولايت صرف قضاوت ميں منحصر نہيں ہوتى بلكہ حدود الہى كا اجراء ،شرعى ماليات كى وصولى ، جھگڑوں كا فيصلہ ، امورحسبيّہ كى سرپرستى ، اور مجرموں كو سزا دينا، سب اس ميں شامل ہيں_ پس غيبت كبرى كے زمانہ ميں بھى امام معصوم كى نيابت عمومى ہوگى اور ان تمام امور كى ذمہ دارى فقيہ عادل پر ہوگى _

____________________

۱) ر سائل محقق كركي، جلد ۱ ،ص ۱۴۲، ۱۴۳ (رسالة صلوة الجمعہ)_

۱۶۴

خلاصہ:

۱) اصل '' ولايت فقيہ'' شيعہ فقہ كے مسلّمات ميں سے ہے اگر چہ اس ولايت كے دائرہ اختيار ميں اختلاف ہے _

۲)بڑے بڑے شيعہ فقہا نے فقيہ كى ولايت عامہ پر اجماع كا دعوى كيا ہے_ جبكہ بعض مخالفين اسے ايك نيا اور جديد مطلب سمجھتے ہيں_

۳) بعض فقہا كا اس پر اصرار كہ حدود الہى كا اجرا فقيہ عادل كا كام ہے_ ''فقيہ كى ولايت عامہ ''كى دليل ہے_

۴)بعض روايات حدود الہى كے اجرا كو سلطان اور حاكم كى خصوصيات قرار ديتى ہيں نہ قاضى كى _

۵)بعض فقہا صريحاً كہتے ہيں : نائب عام ( زمانہ غيبت ميں فقيہ عادل)اور نائب خاص (مثلا مالك اشتر اور محمد ابن ابى بكر) كى ولايت كے دائرہ اختيار ميں كوئي فرق نہيں ہے_

۱۶۵

سوالات :

۱)ولايت فقيہ ميں محور اختلاف كيا ہے؟

۲)ان تين فقہاء كے نام بتايئےنہوں نے فقيہ كى ولايت عامہ پر اجماع كا دعوى كيا ہے؟

۳)فقيہ كى ولايت عامہ پر محقق كركى نے كس طرح استدلال كيا ہے؟

۴)حدود الہى كا اجرا فقيہ عادل كے ہاتھ ميں ہے_ يہ نظريہ كس طرح ''فقيہ كى ولايت عامہ ''كى دليل ہے؟

۵)ولايت فقيہ كے متعلق ابن ادريس حلّى كى كيا را ے ہے؟

۶)انوار الفقاہہ كے مصنف ولايت فقيہ كے متعلق كيا نظريہ ركھتے ہيں؟

۱۶۶

اٹھارہواں سبق :

ولايت فقيہ كى مختصر تاريخ-۲-

ہمارے فقہا كے كلمات ميں حاكم كے جو فرائض اور مختلف اختيارات بيان كئے گئے ہيں وہ قضاوت سے وسيع تر ہيں _ پہلے ہم نمونہ كے طور پر وہ كلمات يہاں ذكر كرتے ہيں_ پھر اس كى وضاحت كريں گے كہ يہاں حاكم سے مراد كيا ہے_

جو شخص اپنے واجب نفقہ كو ادا نہيں كرتا اس كے متعلق محقق حلّى كہتے ہيں:

''إذا دافع بالنفقة الواجبة أجبره الحاكم، فإن امتنع حبسه ...''(۱)

جب كوئي شخص نفقہ واجبہ كو ادا نہ كرے تو حاكم اسے مجبور كرے_ اگر پھر بھى وہ انكار كرے تو اسے قيد كردے

محقق حلى ''خيانت كرنے والے وصى كو معزول كرنا''حاكم كى ذمہ دارى قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں :

''و لو ظهر من الوصيّ عجز ضُمَّ اليه مساعد، وإن ظهر منه خيانة وجب على الحاكم عزله و يقيم مقامه أميناً'' (۲)

____________________

۱) شرائع الاسلام جلد ۲ ،ص ۲۹۷_ ۲۹۸،كتاب النكاح _

۲) شرائع الاسلام جلد ۲، صفحہ ۲۰۳، كتاب الوصية_

۱۶۷

اگر معلوم ہوجائے كہ وصى عاجز ہے تو اس كيلئے مددگار معين كيا جائيگا اور اگر معلوم ہوجائے كہ وصى نے خيانت كى ہے تو حاكم كيلئے ضرورى ہے كہ اسے معزول كركے اس كى جگہ كسى امانتدار آدمى كو وصى مقرر كرے_

شيخ مفيد ''ديوانوں اور كم عقل افراد كيلئے وكيل معيّن كرنا ''حاكم كى ذمہ دارى قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں:

لحاكم المسلمين ا ن يوكّل لسْفهائهم مَن يطالب بحقوقهم و يحتج عنهم و لهم (۱)

مسلمان حاكم كيلئے ضرورى ہے كہ وہ سفيہ افرادپر اس شخص كو وكيل مقرر كرے جو ان كے حقوق كا مطالبہ كرتا ہو اور ان كى طرف سے اور ان كے حق ميں استدلال كرے_

شيخ مفيد حاكم كو'' سلطان'' اور'' ناظر'' جيسے الفاظ سے بھى تعبير كرتے ہيں_ مثلا ًكتاب وصيت ميں فرماتے ہيں:

''فإن ظهر من الوصى خيانة كان للناظر فى أُمور المسلمين أن يعزله'' (۲)

پس اگر وصى خيانت كرے تو امور مسلمين كے ناظر كيلئے ضرورى ہے كہ اسے معزول كردے_

ذخيرہ اندوز كے متعلق حاكم كى ذمہ دارى كو بيان كرتے ہوئے فرماتے ہيں:

''وللسلطان أن يكره المحتكر على إخراج غلّته و بيعها فى أسواق المسلمين'' (۳)

____________________

۱) المقنعہ، صفحہ ۸۱۶،كتاب الوكالة_

۲) المقنعہ، صفحہ ۶۶۹_

۳) المقنعہ ،صفحہ ۶۱۶_

۱۶۸

سلطان كيلئے ضرورى ہے كہ وہ ذخيرہ اندوز كو غلّہ باہر لانے اور اسے مسلمانوں كے بازار ميں فروخت كرنے پر مجبور كرے_

قطب الدين راوندى مرحوم متاجركى بحث ميں فرماتے ہيں كہ حاكم كو حق حاصل ہے كہ وہ ذخيرہ اندوز كو غلّہ جات فروخت كرنے پر مجبور كرے_

فإذا ضاق الطعام و لا يوجد إلّا عند مَن احتكره ، كان للسلطان أن يْجبره على بيعه (۱)

پس جب غلّہ كى كمى ہو جائے اور ذخيرہ اندوز كے سوا كہيں نہ پاياجاتا ہو تو سلطان كيلئے ضرورى ہے كہ وہ اسے بيچنے پر مجبور كرے_

شيخ حسن كاشف الغطاء كتاب انوار الفقاہہ باب قضا ميں لكھتے ہيں : حاكم شرع امام زمانہ -عجل الله فرجہ الشريف كى طرف سے تمام انفال اور اموال ميں وكيل او ر نائب ہے _ اور اس فتوى پر اجماع كا دعوى كرتے ہيں_ ان كى عبارت يہ ہے_

''و كذا الحاكم الشرعى وكيل عن الصاحب عجل الله فرجه الشريف فيما يعود اليه من انفاله و امواله و قبضه قبضه لمكان الضرورة و الاجماع و ظواهر اخبار النيابة و الولاية''

يہ كلمات اگر چہ حاكم كے فرائض كے متعلق بعض فقہاء شيعہ كى آرا اور فتاوى ہيں_ ليكن اس بات كى بھى نشاندہى كرتے ہيں كہ سلطان اور حاكم كے اختيارات قاضى كى قضاوت سے وسيع تر ہيں_حاكم قيد كرسكتا ہے

____________________

۱ ) فقہ القرآن جلد ۲، صفحہ ۵۲_

۱۶۹

حدود الہى كو جارى كرتا ہے ، كم شعور اور عاجز افراد كے امور كى ذمہ دارى ليتا ہے، اور حاكم ہر اس شخص كا ولى ہوتا ہے جس كا كوئي ولى نہ ہو _ اسى لئے ان موقوفات عامہ پر بھى اسے ولايت حاصل ہوتى ہے جن كا كوئي ولّى نہ ہو _ اس كا مال قبض كرناگويا امام معصوم (ع) كا مال قبض كرنا ہے_اس لئے امام معصوم (ع) كے زمانہ ميں جن اموال ميں تصرف كرنا امامت كى خصوصيات ميں سے ہے وہ تصرف زمانہ غيبت ميں حاكم كے ہاتھ ميں ہوتا ہے_

اب ديكھنا يہ ہے كہ حاكم ، سلطان يا امور مسلمين كے ناظر سے كيا مراد ہے؟ ہمارا دعوى يہ ہے كہ ان اوصاف كے مالك پہلے مرحلہ ميں خلفاء الہى يعنى محمد وآل محمد ہيں _ ان كے بعد ان كے خاص نائبين اور ان كے بعد يعنى زمانہ غيبت ميں ان كے نائبين عام يعنى جامع الشرائط عادل فقہاء ان اوصاف كے مالك ہيںاور يہ بات بڑے بڑے علماء كے اقوال ميں وضاحت كے ساتھ بيان كى گئي ہے_

شيخ مفيد اسلام كے حاكم اور سلطان كى وضاحت كرتے ہوئے فرماتے ہيں:

''فأمّا اقامة الحدود فهو إلى سلطان الإسلام المنصوب من قبَل الله تعالى و هُم ائمّة الهُدى من آل محمّد(ع) أو مَن نَصَبُوهُ لذلك من الأُمراء والحُكّام وقد فوّضوا النظر فيه إلى فقهاء شيعتهم مع الإمكان'' (۱)

حدود الہى كا اجرا اس اسلامى حاكم كا كام ہے جو خدا كى طرف سے مقرر كيا گيا ہو _ اور وہ ائمہ اہلبيتہيں_ يا وہ افراد جنہيں يہ حاكم اور والى مقرر كريں اور ممكنہ صورت ميں يہ كام انہوں نے اپنے شيعہ فقہاء كے سپرد كيا ہے_

فخر المحققين محمد بن حسن حلى بھى حاكم كى اسى طرح تعريف كرتے ہيں اور اس كى نسبت اپنے والد حسن بن

____________________

۱) المقنعہ، صفحہ ۸۱۰_

۱۷۰

يوسف المعروف علامہ حلّيَ اور ابن ادريس كى طرف ديتے ہوئے فرماتے ہيں:

المراد بالحاكم هنا السلطان العادل الا صلى أو نائبه فإن تعذ ّر فالفقيه الجامع لشرائط الفتوي، فقوله:'' فإن لم يكن حاكم'' المراد به فقد هؤلاء الثلاثة، و هو اختيار والدى المصنّف و ابن ادريس (۱)

يہاں پر حاكم سے مراد ''خود سلطان عادل ''يا اس كا نائب ہے اور اگر يہ نہ ہوں تو پھر فتوى كى شرائط كا حامل فقيہ _ پس مصنف كا يہ قول كہ اگر حاكم نہ ہو اس سے مراد يہ ہے كہ يہ تينوں نہ ہوں اور اس قول كو ميرے والد ( يعنى مصنف )اور ابن ادريس نے اختيار كيا ہے_

محقق كركى بھى لفظ ''حاكم ''كى يہى تفسير كرتے ہوئے فرماتے ہيں:

''والمراد به (الحاكم) الإمام المعصوم أو نائبه الخاصّ، و فى زمان الغيبة النائب العامّ_ و هو المستجمع لشرائط الفتوى و الحكم و لا يخفى أنّ الحاكم حيث أُطلق لا يراد به إلاّ الفقيه الجامع للشرائط'' (۲)

حاكم سے مراد امام معصوم يا ان كا'' نائب خاص ''ہے_ اور زمانہ غيبت ميں ''نائب عام''اورنائب عام سے مراد وہ شخص ہے جو فتوى اورفيصلہ كرنے كى تمام شرائط كا حامل ہو مخفى نہيں رہنا چاہيے كہ جب كسى قيد وشرط كے بغير ''حاكم'' كا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد ''جامع الشرائط فقيہ'' ہى ہوتا ہے_

آخر بحث ميں ہم چند مفيد نكات كى طرف اشارہ كرتے ہيں:

____________________

۱) ايضاح الفوائد جلد ۲ ، صفحہ ۶۲۴ كتاب الوصايا_

۲) جا مع المقاصد جلد ۱۱، صفحہ ۲۶۶، ۲۶۷كتاب الوصايا_

۱۷۱

۱_ آخرى دو اسباق ميں ہمارى يہى كوشش رہى ہے كہ'' ولايت فقيہ'' كى تائيد كيلئے زيادہ تر فقہا ء كے اقوال پيش كئے جائيں _ كيونكہ اصلى ہدف اس نكتہ كى وضاحت كرنا ہے كہ'' ولايت فقيہ ''كا اعتقاد ايك قديمى بحث ہے نہ كہ ايك نيا مطلب _اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ بعد والے فقہاء كے اقوال ميں مسئلہ'' ولايت فقيہ'' كو بالكل شفاف اور واضح صورت ميں بيان كيا گيا ہے_ دور حاضر كے عظيم فقہاء جو ''فقيہ كى ولايت عامہ'' كے قائل ہيں ان ميں سے آيت اللہ بروجردى ، آيت اللہ گلپايگانى اور اسلامى جمہوريہ ايران كے بانى امام خمينى قابل ذكر ہيں_ (۱)

۲_اہلسنت نے ''الاحكام السلطانية ''كے عنوان سے فقہ سياسى كے متعلق مستقل بحث كى ہے_ اور فقہ الحكومت اور اس كى جزئيات پر تفصيلى نظر ڈالى ہے_ جبكہ شيعوں نے سياسى فقہ كے بارے ميں اس قدر تفصيلى بحث نہيں كى ہے _ اور اس كى وجہ شيعوں كے خاص سياسى اور اجتماعى حالات ہيں_فاسق و فاجر حكومتوں كى مخالفت كى وجہ سے شيعوں پر جو سياسى دباؤ تھا_ اس كى وجہ سے وہ سياسى فقہ كے متعلق مستقل اور تفصيلى بحث نہيں كر پائے اور نہ ہى گذشتہ فقہا حاكم ، والى امر كا دائرہ اختيارات اور سياسى فقہ سے مربوط اس قسم كى دوسرى مباحث مستقل اور براہ راست كرپائے_ جيسا كہ اس مختصر سى تاريخ ميں گذر چكا ہے كہ اس قسم كى مباحث پراگندہ طور پر حدود و ديات ، قضا ، امر بالمعروف و نہى عن المنكر ، نكاح ، وصيت اور مزارعہ كے ابواب ميں كى گئي ہيں _ حتى كہ محقق كركى اور صاحب الجواہر جيسے فقہاء جنہوں نے كھل كر فقيہ كى ولايت عامہ كى حمايت كى ہے_

____________________

۱) ان تين فقہاء كى آراء درج ذيل كتب ميں ملاحظہ كى جاسكتى ہيں _

الف: البدر الزاہر فى صلاة الجمعة و المسافر ، تقريرات دروس آيت الله حاج آقا حسين بروجردي

ب : الہداية الى من لہ الولاية ، تقريرات دروس آيت الله سيد محمد رضاگلپايگاني

ج : كتاب البيع جلد ۲ اور ولايت فقيہ ، امام خميني

۱۷۲

انہوں نے بھى اس ولايت عامہ اور اس كى جزئيات كے متعلق تفصيلى اور مستقل بحث نہيں كى ''ولايت فقيہ ''كے متعلق مستقل بحث آخرى دو صديوں ميں كى گئي ہے_پہلى دفعہ ملا احمد نراقى (متوفى ۱۲۴۵) نے اپنى كتاب ''عوائد الايام ''ميں ''ولايت فقيہ ''كے متعلق اچھے خاصے صفحات مختص كئے ہيں_

يہ نكتہ اس حقيقت كى نشاندہى كرتا ہے كہ فقيہ عادل كے محدود اختيارات كا ذكر اور حدود كا اجرا، امور حسبيّہ پر ولايت اور معصومين كے ساتھ مخصوص مالى امور مثلا انفال ، خمس اور سہم امام و غيرہ جيسے خاص مواردميں فقيہ كے نائب امام ہونے پر اصرار كا يہ معنى نہيں ہے كہ فقيہ كى ولايت عامہ پر اعتقاد نہيں ہے_ كيونكہ فقيہ كى ولايت عامہ كے سخت ترين حاميوں نے بھى چند مخصوص موارد كو اپنے مختلف فتاوى كے ذيل ميں حاكم كى ذمہ داريوں كے عنوان سے ذكر كيا ہے_پس محدود موارد كا ذكر كرنا فقيہ كى ولايت عامہ كى مخالفت يا عدم موافقت كى دليل نہيں ہے_ہاں اگر خود فقيہ نے مورد نظر بحث ميں ولايت فقيہ كى محدوديت يا عدم ولايت عامہ كى تصريح كى ہو تو پھر اس فقيہ كو اس نظريہ كا مخالف شمار كيا جاسكتا ہے _

۳_دوسرے علوم و معارف كى طرح فقہ نے بھى امتداد زمانہ كے ساتھ ساتھ ترقى كى ہے_ سياسى فقہ نے بھى دوسرے فقہى ابواب كى طرح ارتكائي مراحل طے كئے ہيں_

قديم علماء كى كتب ميں جو معاملات كى فقہى بحث ہے_ وہ بعد والے علماء كى تصانيف سے قابل موازنہ نہيں ہے_ مثلا دقت بحث كے لحاظ سے شيخ انصارى كى كتاب ''مكاسب'' سے علامہ ، محقق حلى اور شہيدين كى بحث تجارت قابل مقائيسہ نہيں ہيں-_ اسى طرح بعد والے علمائ اصول نے اصول عمليہ اور دليل عقلى كے متعلق جس طرح دقيق اور علمى بحثيں كى ہيںپہلے والے علماء نے نہيں كى _لہذا بالكل واضح سى بات ہے متاخرين علماء شيعہ كے دور ميں سياسى فقہ پر جو بحث كى گئي ہے وہ سابقہ علماء كى بحث كى نسبت تفصيلى اور زيادہ مفيد ہے_

۱۷۳

لہذا اس تفصيل كو اس بحث كے جديد ہونے كى دليل قرارنہيں ديا جاسكتا_

۴_فقيہ كي'' ولايت عامہ'' كا انكار اجتماعى امور ميں فقيہ كى سرپرستى كے انكار كے مترادف نہيں ہے_ اس مطلب كى وضاحت كيلئے درج ذيل نكات پر توجہ دينا ضرورى ہے_

الف _اصل ولايت فقيہ كا كوئي فقيہ بھى منكر نہيں ہے_ ولايت فقيہ شيعہ فقہ كے مسلّمات ميں سے ہے_ اختلاف ولايت كے قلمرو اور دائرہ اختيار ميں ہے_

ب _ بعض موارد ميں'' ولايت فقيہ ''سے انكار كا معنى يہ ہے كہ ان موارد ميں شرعى ادلّہ كى روسے ''فقيہ كى ولايت ''ثابت نہيں ہوئي _ مثلا فقيہ كى سياسى ولايت كے منكرين معتقد ہيں كہ ادلّہ روائي كے لحاظ سے امر بالمعروف ، نہى عن المنكر يا حكومت ميں فقيہ كى ولايت ثابت نہيں ہے_

ج_ ممكن ہے كسى كام پر از ''باب ولايت ''فقيہ كو منصوب نہ كيا گيا ہو ليكن اس كام كى سرپرستى فقيہ كى شان ہو نمونہ كے طور پر بعض شيعہ فقہاء كے فتاوى سے استناد كيا جاسكتا ہے كہ وہ امور جو محجور و بے بس افراد كے ساتھ مربوط ہيں_ ان ميں فقيہ عادل كى سرپرستى اور تصرف ''نصب ولايت'' كے باب سے نہيں ہے_ بلكہ'' قدرمتقين'' كے باب سے ہے_ يعنى دوسروں كى نسبت جواز تصرف كا ''فقيہ'' زيادہ حق ركھتا ہے_(۱)

فقيہ كى سياسى ولايت ( حكومت اور امر و نہى ميں ولايت)كے متعلق ممكن ہے كوئي فقيہ، فقيہ كى ''انتصابى ولايت'' كا معتقد نہ ہو ليكن امور حسبيّہ كے عنوان سے حكومت اور اسلامى معاشرہ كے انتظامى امور ميں فقيہ عادل كى سرپرستى كو جائز بلكہ واجب سمجھتا ہو_ آيت اللہ ميرزا جواد تبريزى دامت بركاتہ اس بارے ميں فرماتے ہيں:

____________________

۱) ان فقہا ميں سے ايك آيت اللہ خوئي بھى ہيں: التنقيح فى شرح العروة الوثقى ، تقريرات آيت الله خوئي ، بقلم مرزا على غروى تبريزى _ باب الاجتہاد و التقليد ص ۴۹ _ ۵۰

۱۷۴

ولايت فقيہ كے متعلق دو بنيادى نظريے ہيں_ ايك وہ جسے امام خمينى نے اختيا كيا ہے_كہ آپ قرآن و حديث كے ذريعہ ولايت امر و نہي_ كہ جس سے مراد وہى حكومت و مملكت قائم كرنا ہے_ كو فقيہ كيلئے ثابت كرتے ہيں_

دوسرانظر يہ حسبيّہ ہے جسے آيت اللہ خوئي تسليم كرتے ہيں_ اس كى بنا پر'' فقيہ كى ولايت عامہ'' پر ادلّہ عقلى و نقلى كامل نہيں ہيں ليكن معاشرہ ميں كچھ امور ايسے ہوتے ہيں_ جنہيں بے لگام و معطل چھوڑ دينے پر شارع مقدس راضى نہيں ہے_ اور اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ صرف فقيہ ہى ان امور كى سرپرستى كرسكتا ہے يتيموں كى سرپرستى ، بچوں كى سرپرستى و كفالت اور مسلم سرحدوں كى حفاظت امور حسبيّہ ميں سے ہيں_ يہ بھى كہا جاسكتا ہے كہ اسلامى نظام كى حفاظت ان سب ميں سے اہم ترين امر ہے_ اسى لئے مومنوں كى جان و مال كى حفاظت كيلئے فوج تيار كرنا اور ان كے امور كى انجام دہى كيلئے ادارے قائم كرنا بہت ضرورى ہے_(۱)

____________________

۱) انديشہ حكومت ، شمارہ ۲، مرداد ۱۳۷۸ ، صفحہ ۴_

۱۷۵

خلاصہ :

۱)شيعہ فقہا نے فقہى كتب ميں حاكم كے بہت سے فرائض گنوائے ہيں_ اور كبھى اسے ''ناظر'' اور ''سلطان'' كے عنوان سے بھى ياد كيا ہے_

۲)علماء كے كلمات ميں حاكم كے اختيارات قاضى كے اختيارات اور فرائض سے وسيع تر ہيں_

۳)شيخ مفيد پہلے مرحلہ ميں سلطان اور حاكم سے مراد امام معصوم ليتے ہيںاور زمانہ غيبت ميں فقيہ عادل_ فخر المحققين نے بھى يہى تعريف كى ہے اور اس تعريف كو علامہ حلّى اور ابن ادريس سے منسوب كيا ہے_

۴)ولايت فقيہ كى بحث ہمارى فقہ كى تاريخ كے ساتھ ہى شروع ہوتى ہے_ اگر چہ متاخرين كے ادوار ميں اس پر تفصيلى بحث ہوئي ہے_

۵)ولايت فقيہ كى مستقل اور جداگانہ بحث محقق نراقى كى كتاب عوائد الايام سے شروع ہوئي ہے اور اس سے پہلے حتى كہ ولايت فقيہ كے سخت حاميوں نے بھى مستقل بحث نہيں كى تھي_

۶)ولايت فقيہ كى بحث كا ارتكاء كوئي نئي بات نہيں ہے_ كيونكہ بہت سى اصولى اور فقہى ابحاث نے زمانہ كے ساتھ ساتھ ترقى كى ہے_

۷)فقيہ كى ''ولايت انتصابي'' كا انكار مسلمانوں كے اجتماعى امور ميںفقيہ كى سرپرستى كے انكار كے مترادف نہيں ہے_

۱۷۶

سوالات :

۱) علماء كے اقوال ميں حاكم اور قاضى كے در ميان كيا فرق ہے؟

۲) شيخ مفيد نے حاكم يا سلطان كى كيا تعريف كى ہے؟

۳) كس دور ميں فقہى كتب ميں ولايت فقيہ كى مستقل بحث شردع ہوئي ؟

۴) متقدمين علماء كے اقوال ميں ولايت فقيہ پر مستقل بحث كا نہ ہونا اور اس كى تمام جزئيات كى وضاحت نہ كرنا كيوں اسے غير معتبر قرار نہيں ديتا؟

۵) فقيہ كي'' ولايت انتصابى ''كا انكار، اجتماعى امور ميں فقيہ كى سرپرستى كے منافى نہيں ہے_ كيوں؟

۱۷۷

انيسواں سبق :

ولايت فقيہ، كلامى مسئلہ ہے يا فقہى ؟

دوسرے باب ميں گزر چكاہے كہ'' امامت ''اہلسنت كے نزديك ايك فقہى مسئلہ ہےجبكہ اہل تشيع كے نزديك كلامى مسئلہہے _ اگر اہلسنت كى كلامى كتب ميںيہ مسئلہ مورد بحث قرار پايا ہے تو اس كا سبب يہ ہے كہ شيعوں نے اس مسئلہ كو بہت زيادہ اہميت دى ہے اور اسے كلامى مباحث ميں ذكر كيا ہے_ اس سبق كا اصلى محور اس بات كى تحقيق كرنا ہے كہ كيا ائمہ معصومين كى ولايت اور امامت كى طرح ''ولايت فقيہ ''بھى ايك كلامى مسئلہ ہے يا فقہى بحث ہے اور اعتقادى و كلامى مباحث سے اس كا كوئي تعلق نہيں ہے؟

ہر قسم كا فيصلہ كرنے سے پہلے ضرورى ہے كہ كلامى مسئلہكى واضح تعريف اورفقہى مسئلہ سے اس كے فرق كى وضاحت كى جائے_ كلامى اور فقہى ہونے كا معيار كيا ہے؟ اسے پہچانا جائے تا كہ ولايت فقيہ كے كلامى يا فقہى مسئلہ ہونے كا نتيجہ اور ثمرہ ظاہر ہوسكے_

كسى مسئلہ كے كلامى يا فقہى ہونے كا معيار :

ابتدائے امر ميں ممكن ہے يہ بات ذہن ميں آئے كہ ايك مسئلہ كے كلامى ہونے كا معيار يہ ہے كہ اس كا

۱۷۸

اثبات عقلى دليل سے ہو_ اور مسئلہ فقہى وہ ہے جس كا اثبات شرعى اور نقلى ادلّہ سے ہو _ اس لئے علم كلام كو علوم عقليہ اور علم فقہ كو علوم نقليہ ميں سے شمار كيا جاتا ہے_

ليكن يہ معيار مكمل طور پر غلط ہے_ كيونكہ علم فقہ ميں بھى ادلّہ عقليہ كو بروئے كار لايا جاتا ہے جس طرح كہ بعض كلامى مباحث ادلّہ نقليہ كى مدد سے آشكار ہوتى ہيں_ دليل عقلي، علم فقہ ميں دو طرح سے فقہى استنباط ميں مدد ديتى ہے_

الف _ مستقلات عقليہ : مثلا اطاعت خدا كا وجوب ايك فقہى مسئلہ ہے_ اور اس كى دليل عقل كا حكم ہے_ اور عقل اس حكم ميں مستقل ہے _ اور كسى نقلى (شرعي)دليل كى دخالت كے بغير يہ حكم لگاتى ہے_

ب _ غير مستقلات عقليہ يا ملازمات عقليہ، غير مستقلات عقليہ سے مراد وہ قضايا عقليہ ہيں جو دو شرعى حكموں كے درميان ملازمہ كے ادراك كى بنياد پر صادر ہوتے ہيں_ عقل ايك شرعى حكم كے معلوم ہونے كے بعد اس حكم اور دوسرے حكم كے درميان ملازمہ كو ديكھتى ہے_ اس طرح ايك شرعى حكم سے دوسرے شرعى حكم كى طرف جاتى ہے_ اوريوں عقل اس شرعى حكمكے استنباط ميں فقيہ كى مدد كرتى ہے_

لہذا يہ دعوى نہيں كيا جاسكتا كہ علم فقہ ايسا علم ہے جس كے مسائل ادلّہ نقليہ سے حل ہوتے ہيں اور اس ميں دليل عقلى كى كوئي مدد شامل نہيں ہوتى _ اسى طرح يہ دعوى بھى نہيں كيا جاسكتا كہ علم كلام ادلّہ نقليہ سے مدد نہيں ليتااور اس كے تمام مسائل ادلّہ عقليہ كى بنياد پر حل ہوتے ہيںكيونكہ بعض كلامى مباحث جو كہ مبدا ومعاد سے مربوط ہيں ميں ادلّہ نقليہ يعنى قرآن اور روايات سے مدد لى جاتى ہے معاد (قيامت) ايك كلامى بحث ہے _ ليكن اس كى بعض تفصيلات صرف عقلى ادلّہ سے قابل شناخت نہيں ہيں بلكہ ان كيلئے ادلّہ نقليہ سے استفادہ كرنا بھى ناگزير ہوتا ہے_

۱۷۹

حقيقت يہ ہے كہ علم فقہ ،مكلفين كے افعال كے متعلق بحث كرتا ہے_ ان كے اعمال كے احكام كى تحقيق و بررسى كرتا ہے_ علم فقہ بحث كرتا ہے كہ كونسے افعال واجب ہيں اور كونسے حرام ،كونسے اعمال جائز ہيں اور كونسے ناجائز _ ليكن علم كلام، مبدا و معاد كے احوال كے متعلق بحث كرتا ہے_ علم كلام كا مكلفين كے افعال سے كوئي تعلق نہيں ہوتا_ جائز و ناجائز پر بحث نہيں كرتا_ علم كلام ميں افعال خدا كے متعلق بحث كى جاتى ہے مثلا علم كلام ميں يہ بحث كى جاتى ہے كہ كيا خدا پر رسولوں كا بھيجنا واجب ہے؟ كيا خدا سے قبيح افعال سرزد ہو سكتے ہيں؟ كيا نيكى كرنے والوں كو اجر دينا خدا پر واجب ہے؟ (۱)

بعثت انبياء اور ارسال رُسُل كا وجوب ايك كلامى بحث ہے_ كيونكہ يہ ايك اعتقادى بحث ہے جو خدا كے مبدا اور فعل كے ساتھ مربوط ہے _ ليكن انبياء كى اطاعت كا واجب ہونا اور ان كى دعوت پر لبيك كہنا ايك فقہى بحث ہے _كيونكہ اس حكم كا تعلق مكلف كے عمل سے ہے_ اس كا موضوع فعل انسان ہے _ اور كرنا يا نہ كرنا انسان كے ساتھ مربوط ہے_

اسى معيار كو ديكھتے ہوئے ولايت فقيہ كى بحث كو شروع كرتے ہيں_ بے شك يہ بحث فقہى پہلووں كى بھى حامل ہے_ مسئلہ ولايت فقيہ ميں كچھ ايسى جہات بھى ہيں جن كا تعلق مكلفين كے عمل سے ہے_ اور ان كا شرعى حكم فقہى تحقيق كے قابل ہے_ مثلا درج ذيل مسائل فقہى مسائل ہيں جو كہ ولايت فقيہ كے ساتھ مربوط ہيں_

مسلمانوں كے اجتماعى اور عمومى امور ميں فقيہ كى سرپرستى اور حاكميت جائز ہے يا نہيں؟ كيا اجتماعى اور سياسي

____________________

۱ ) ياد رہے كہ افعال خدا ميں جس'' وجوب'' كاذكر كيا جاتا ہے_ وہ وجوب تكليفى كى قسم سے نہيں ہے_ بلكہ اس كا معنى ''ضرورت ''كے ہيں_ يعنى خدا يہ كام ضرور انجام دے گا_ كوئي فعل اس پر واجب نہيں ہو تا _ وہ تمام ضرورتوں كا سرچشمہ ہے_ دوسرے لفظوں ميں جس وجوب كا ذكر علم كلام ميں ہوتا ہے وہ وجوب عن اللہ ہوتا ہے نہ كہ وجوب على اللہ _

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367