اسلامی نظریہ حکومت

اسلامی نظریہ حکومت15%

اسلامی نظریہ حکومت مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 367

اسلامی نظریہ حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 367 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 138965 / ڈاؤنلوڈ: 3480
سائز سائز سائز
اسلامی نظریہ حکومت

اسلامی نظریہ حکومت

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

کی جرات سے عاری ہوتے ہیں _ وہ شکل کاموں اور ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں _ منفی سوچوں اور پاس و ناامیدی کی وجہ سے ممکن کاموں کو بھی محال بناکر پیش کرتے ہیں _ اپنی زندگی کو محرومی اور کنارہ کسی کے عالم میں گزاردیتے ہیں _

اب جب کہ استقلال اور خود اعتمادی کی اہمیت واضح ہوگئی ہے ، اس امر کی یاددہانی بھی ضروری ہے کہ اس انسانی کمال کی بنیاد ہر انسان کے اپنے وجود میں مخفی ہے لیکن تربیت اور تکامل کی محتاج ہے _ اس کی تربیت کا بہترین اور حسّاس ترین زمانہ بچپن کا دور ہے _

روح انسانی میں استقلال اور خود اعتمادی کی بنیاد بچپن ہی میں پڑجاتی ہے _ چنانچہ بے اعتمادی اور قوت ارادی سے محرومی ، دوسروں کے انتظار بیٹھے رہنے کا سرچشمہ بھی بچپن کی غلط تریت ہی ہے _ وہ ماں باپ جو اپنے بچوں سے محبت رکھتے ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس بھی ہے _ انہیں چاہیے کہ اپنی اولاد کی تربیت کریں اور آئندہ کی زندگی کے لیے انہیں تیار کریں _ اس صورت میں وہ اپنے فریضے پر بھی عمل کریں گے اور اپنی کامیابی کے اسباب بھی فراہم کریں گے _

حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:

اپنی اولاد کی اس طرح سے تربیت کر کہ وہ تیری عزت و سربلندی کا باعث بنے _ (1)

چار سال کی عمر سے لے کر آٹھ سال کی عمر تک شخصیت کی پرورش ، استقلال، اور خود اعتمادی پیدا کرنے کا بہترین دور ہے _ اس زمانے میں بچہ استقلال کی طرف میلان رکھتا ہے اور اپنے آپ کو مشکلات سے مقابلے کے لیے تیار کرتا ہے _ کم سن بچہ اگر چہ اپنی کمزوری کا احساس بھی رکھتا ہے اور وہ کسی بڑی طاقت کے زیر سایہ رہنا چاہتا ہے تا ہم استقلال اور خود اعتمادی کی طرف میلان بھی اس کی ذات میں چھپا ہوتا ہے _ وہ چاہتا ہے کہ

----------

1_ تحف العقول ص 269_

۱۸۱

اپنی ضروریات کو پورا کرے اور ذاتی استقلال حاصل کرلے _ وہ نئے نئے کاموں اور اپنی ایجادات سے بہت خوش ہوتا ہے اور فخر سے انہیں دوسروں کو دکھاتا ہے _ آپ نے بچوں سے ایسے جملے بہت سنے ہوں گے _

_ دیکھ میں کیا کررہا ہوں ؟_ دیکھا میں نے کتنی بڑی چھلانگ لگائی ہے _ _ دیکھو میں اپنے کپڑے خود پہن سکتا ہوں _

_ میں جوتا خود ہی پہنوں گا _ _ میں گلاس میں پانی پیوں گا _ _ میں خود ہی کھانا کھاؤں گا _ _ میں نہیں چاہتا کہ آپ میرے لیے چائے ڈالیں _ _ دیکھو میں نے کیسی خوبصورت تصویر بنائی ہے _ _ میں درخت پہ چڑھنا چاہتا ہوں _

وہ ضد کرتاہے کہ اس کی جیب میں جو پیسے ہیں انہیں اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کھلونے اپنی مرضی سے رکھے _ کبھی کبھی ماں باپ کے حکم کے خلاف ضد کرتا ہے _ کبھی چاہتا ہے کہ ماں باپ کی مدد کرے _ چھوٹی بیٹی برتن اور لباس دھونے میں مان کی مدد کرتی ہے _ چاہتی ہے کہ کھانا پکانے ، دستر خوان بچھانے اور گھر کی صفائی میں ماں کی مدد کرے _ چھوٹا بیٹا چاہتا ہے کیا رہی کو ٹھیک کرے ، تصویر بنائے ، خط لکھے اور چیزیں خرید نے میں اپنے باپ کی مدد کرے _ اور ضد کرتا ہے کہ اپنا لباس اور جوتا خود انتخاب کرے راستے میں چلتے ہوئے ماں باپ سے آگے یا پیچھے چلتا ہے _ خانہ داری کے امور میں اور گھر کے سامان کے سلیقے میں دخل دیتا ہے _ بعض چیزیں بالکل نہیں کھاتا _ ان کاموں سے اور ایسے سینکڑوں دیگر کاموں سے بچہ اپنے وجود کے استقلال کا اعلان کرنا ہے اور چاہتا ہے کہ اپنی شخصیت کا اظہار کرے اور اپنے تئیں کمال تک پہنچائے _ چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو قوی بنائے وہ چاہتا ہے کہ

۱۸۲

جہاں تک ممکن ہو سکے دوسروں پر اپنے انحصار کو کم کرے اور اپنے استقلال میں اضافہ کرے لیکن بچے کی شخصیت ماں باپ کے طرز عمل سے بہت زیادہ واستہ ہوتی ہے _ ماں باپ بچے کو آزاد چھوڑسکتے ہیں تا کہ وہ خودارادی سے کام کرے _ انہیں چاہیے کہ وہ اس کی کامیابی پر اور نئی نئی چیزوں پر اظہارمسرت کریں _ اسے شاباش کہیں اور اس کا حوصلہ بڑھائیں اس کے ذوق اور استعداد کے مطابق مفید کام اس کے ذمہ چھوڑ دیں _ راہنمائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے اس کام اور کوشش پر ابھاریں_ اس طرح بچے کی شخصیت او راستقلال کی تدریجاً تکمیل ہوتی جائے گی _ وہ اپنے وجود کے آثار اپنی آنکھوں سے دیکھے گا اور اس میں خود اعتمادی پیدا ہوگی _ اس کاارادہ قوی ہوگا _ ایسے بچوں میں بچپن ہی سے عقلی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں _

ایک ماہر نفسیات لکھتے ہیں:

ایک شخص نے ایک ننھے ماہی گیر کو دیکھا کہ وہ بڑی مہارت سے مچھلیاں پکڑنے میں مصروف ہے _ اور بڑی بڑی مچھلیاں پکڑرہاہے _ اسے تعجب ہوا ، اور اس نے اس کی مہارت کی تعریف کی _ ننھے ماہی گیر نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا میری مہارت کوئی تعجب کی بات نہیں :یونکہ میں بچپن ہی سے ماہی گیری کررہاہوں _ اس نے پوچھا مگر تمہاری عمر کیا ہے ؟ کہنے لگا چھ سال (1) اگر ماں باپ نے اس بچے کی حوصلہ افزائی نہ کی ہوتی بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کے اسباب فراہم کئے ہوتے تو اس میں ایسی مہارت ہرگز پیدا نہیں ہوسکتی تھی اور اس میں کبھی خود اعتمادی پیدا نہ ہوتی _ بعض ماں باپ کہ جو اپنے بچوں سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ بچوں کا وجود ان کا محتاج بنارہے _ انہیں کام کی اجازت نہیں دیتے _ ان کے تمام کام خود انجام دیتے ہیں _ خود ہی ان کے لئے ارادہ کرتے ہیں اور خود ہی انتخاب بہت سے ماں باپ نہ صرف یہ کہ اپنی اولاد میں استقلال اور خود اعتمادی پید اکرنے

-----------

1_ روان شناسی کودک و بالغ ص 246

۱۸۳

میں مدد نہیں کرتے بلکہ اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور ان کے کاموں میں کیڑے نکالنے سے ان کی روح استقلال طلبی کو سلادیتے ہیں بچے کو ایجادات سے روکتے ہیں اور اس کے رساتے میں رکاوٹ کھڑی کردیتے ہیں _ اس کے کام پر تنقید کرتے ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں _ اور اسے کے کام کیڑنے نکال کر اسے شرمندہ کرتے ہیں اور اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں _

اے عزیز ماں باپ ہمارے بچوں نے بہر حال بڑا ہونا ہے اور آخر کار ہم سے جدا بھی ہونا ہے آئندہ کی زندگی میں انہیں مشکلات اور مسائل کا سامنا بھی کرنا ہے _ آپ کو بھی فطرت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور ان کی آزادی کی خواہش کا جواب دینا چاہیے _ آزادی کی خواہش کوئی عیب کی بات نہیں کہ آپ اس کا مقابلہ کرنے لگیں _ بلکہ یہ آزادی کسی وجود کے استقلال اور کمال کا اظہار ہوتی ہے _ آپ کوشش کریں کہ صحیح طریقے سے اس سے فائدہ اٹھائیں اور بچوں کو آئندہ کی زندگی کے لیے تیار کریں _ آپ امن پر اصرار نہ کریں کہ جہاں آپ کے بچوں کو ارادہ کرنا چاہیے وہاں آپ خود ان کے لیے ارادہ کریں _ بلکہ آپ کو چاہیے کہ ان کے لیے مسئلہ کو واضح کردیں اور اس کے بعد انتخاب اورارادہ ان کے ذمہ چھوڑ دیں _

اگر بچہ کوئی کام شروع کرے اور اسے اس میں رغبت نہ ہو تو آپ اس میں دخالت نہ کریں بے جا دخل اندازی سے اسے آزردہ خاطر نہ کریں _ اسے چھوڑدیں کہ وہ اپنے سلیقے سے کام مکمل کرے _ او ر اپنی نئی نئی چیزوں سے خوش ہو _ اس کے کام پر تنقید نہ کریں ، گریہ کہ خود وہ اس چیز کا اظہار کرے _

اگر آپ کی بیٹی چاہتی ہے کہ خود سے کھانا تیار کرے تو اس کی راہنمائی کریں اور کام اس کے ذمہ چھوڑدیں _ اور اس میں دخیل نہ ہوں _ کیا حرج ہے کہ ایک مرتبہ وہ خراب کھانا پکاٹے _ اس کے کھانا پکانے پر نکتہ چینی نہ کریں _ کیا آپ کو معلوم ہے آپ کی نکتہ چینی اور ڈانٹ ڈپٹ اس کی روح کو کس قدر مجروح کردیتی ہے _ اور کس قدر اس کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچاتی ہے _

ایک خاتون اپنے خط میں لکھتی ہیں:

بچپن میں میں جو کام بھی کرنا چاہتی مجھ سے کہا جاتا تجھے نہیں پتہ تو کیا ہے ؟

۱۸۴

تونے یہ برتن توڑدیا ہے _ تیرے کھانے میں نمک زیادہ ہے _ تونے پانی زیادہ ڈال دیا ہے _ خراب کردیا ہے _ تم کام کو ہاتھ نہ لگاؤ _ جھاڑونہ دے تجھے کیا پتہ جھاڑوکیسے دیا جاتا ہے _ مہمانوں کے سامنے بات نہ کر _ اور اسی طرح کی سینکڑوں باتیں _ جب میں کھانا پکاتی تو کئی دفعہ چکھتی کہ کہیں نمک زیادہ نہ ہو _ پانی زیادہ نہ ہو _ لیکن پھر مجھے سرزنش کی جاتی _ یہی وجہ ہے کہ مجھ میں خود اعتمادی پیدا نہیں ہوسکی _ میں خود کو کمزور اور بے حیثیت سمجھتی ہوں _ احساس کمتری اور خود پر عدم اعتماد سے میں بہت دکھی ہوں _ یہ حالت اب بھی مجھ میں باقی ہے _ ایک مجلس کا انتظام میرے ذمہ ہے ہر ہفتے جب کہ مجھے اس مجلس کے انتظام کے لیے جانا ہوتا ہے تو مجھ میں اضطراب

پیدا ہوجاتاہے اور میرا دل گھبراتا ہے _ میں کہتی ہوں کہ شاید اچھی تقریر نہ کر سکوں کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ بہت سی باتیں یادہوتی ہیں اور یہ باتیں متعدد مجالس میں بیان بھی کر چکی ہوتی ہوں لیکن پھر بھی خوف و ہراس ہوتا ہے _ دل چاہتا ہے کہ میرے سر پر کوئی ذمہ داری نہ ہو _ جس کام کی طرف بھی بڑھتی ہوں اپنے آپ کو روکتی رہتی ہوں تا کہ کسی طرح سے درمیان میں ہی کام چھوٹ جائے _ بہت چاہتی ہوں کہ بے اعتمادی کی یہ کیفیت ختم ہوجائے لیکن نہیں ہوتی _

ایک اور خاتون لکھتی ہیں:

بچپن ہی سے میری ماں کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ کاموں میں میری مدد کرے _ وہ مجھے اجازت نہ دیتی کہ میں کوئی کام تنہا انجام دوں _ رفتہ رفتہ مجھے اس کی عادت ہوگئی _ اور کسی دوسرے کا سہارا لینا میرا مزاج بن گیا_ میں کاموں کی انجام د ہی اور مشکلات کے حل میں اپنی طاقت سے استفادہ نہ کرتی بلکہ امی سے یا دوسروں سے مدد لیتی _ بے اعتمادی کی یہ حالت ہوگئی کہ کسی چھوٹی سی مشکل پر بھی بجائے اس کے کہ خود اس کے حل کے لے کوئی چارہ کرتی دوسروں سے مدد لیتی اور

۱۸۵

اپنے تئیں اس کا اہل نہ سمجھتی _

آخر میں اس امر کی یاددہانی ضروری ہے کہ ممکن ہے بعض بچے اپنے وجود کے اظہار کے لیے غلط کام شروع کردیں _ مثلا پھولوں کو مسل دیں _ درختوں کی ٹہنیوں کو توڑدیں _ پرندے ، کتے او ربلّی کو تکلیف پہنچائیں _ اپنے ہم جو لیوں کو اذیت دیں _ دوسروں کو نقصان پہنچائیں _ اپنی بہن کے بال کھینچیں _ ایسے امور میں ماں باپ خاموش بیٹھے نہیں رہ سکتے اور ان کے کاموں کی تائید نہیں کرسکتے _ البتہ اس امر کی طرف انہیں متوجہ رہنا چاہیے کہ بچے کا مقصد کسی سے دشمنی یا سرکشی نہیں بلکہ وہ اپنے وجود کا اظہار چاہتا ہے _ ایسے امور سے روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کی توجہ دوسرے مفید کاموں کی طرف مبذول کردی جائے _ اور اسے تعمیری کھیلوں کی طرف اور مفید کاموں میں مہارت حاصل کرنے میں مشغول کردیا جائے تا کہ وہ غلط کام چھوڑ دے _

۱۸۶

آزادی

بہت سے ماں باپ بچے کی تربیت اس میں سمجھتے ہیں کہ اس کی آزادی محدود کردی جائے یا چھین لی جائے _ کہتے ہیں بچہ اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں کرسکتا _ اس کی اتنی عقل نہیں ہوتی _ اگر اسے آزاد چھوڑدیں تو وہ خرابی کرے گا _ چاہیے کہ اسے محدود اور پابند رکھا جائے _ ایسے اں باپ اپنے آپ کو بچے کی عقل کے مطابق فرض کرلیتے ہیں _ اس کے مقام پر سوچتے ہیں _ اس کی جگہ ارادہ کرتے ہیں _ اس کی بجائے خود انتخاب کرتےہیں یہاں تک کہ اس کے کھانے ، پینے اور کھیلنے پر بھی کنٹرول رکھتے ہیں _ اور اس کے ہر مسئلے پر نظر رکھتے ہیں _ اور اپنے سلیقے کے مطابق اس کی زندگی کا نظام چلاتے ہیں _ ان کے نزدیک بچہ آزادی اور خود ارادی کا حق نہیں رکھتا _ اور ماں باپ کی اجازت کے بغیر کام نہیں کر سکتا _ جو کچھ وہ اس کے لیے پسند کریں اسے ناچار بے چون و چرا کرتا ہوگا _ اور جسے وہ برا سمجھیں مجبوراً بغیر کچھ کہے اسے ترک کرنا ہو گا _ ماں باپ کے تربیتی پروگرام اور ان کے حکم اور ممانعت پر بچوں کو اطاعت کے ھلاوہ چارہ نہیں _ پہلے خاندان اسی طریقے سے اپنی اولاد کی تربیت کرتے تھے اور وہ زبردستی اور بزور اپنے احکام پر عمل کراتے تھے _ دور حاضر میں بھی بہت سارے خاندان اسی طریقے پرچل رہے ہیں _

مذکورہ طریقہ کاراگر چہ معمول رہا ہے اور آج بھی ہے لیکن یہ تربیت کی صحیح روش نہیں ہے _ اس میں بہت سے عیوب و نقائص موجود ہیں _ اس پروگرام کے مطابق ممکن ہے کہ بچوں کی ایسی تربیت ہوجائے کہ وہ بہت حد تک آرام سے رہیں ، خاموش رہیں اور

۱۸۷

فرمانبردار ہیں اور ماں باپ کی مرضی کے مطابق عمل کریں _ ایسے بچے زیادہ تر بے دبے اور قوت ارادی سے عاری رہ جاتے ہیں _ ان کی تخلیقی صلاحیتیں خاموش ہوجاتی ہیں _ اہم کاموں میں ہاتھ ڈالنے کی جرات ان میں نہیں ہوتی _ اور وہ عزم و ارادہ سے محروم رہ جاتے ہیں _ دشوار ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں _ یہ قیادت نہیں کرسکتے اور کمانڈر نہیں بن سکتے لیکن فرمانبرداری ان کے لیے مشکل نہیں ہوتی ایسے بچے ستم اٹھانے اور ظلم کو قبول کرنے کے عادی ہوجاتے اور بڑے ہوکر اس بری عادت سے دستبردار نہیں ہوتے چونکہ یہ لوگ آزادی سے محروم رہے ہیں اور اپنی اندرونی خواہشات کی تکمیل نہیں کرسکے ہیں _ ان کے دل میں گویا ایک گرہ سی پڑگئی ہے _ ممکن ہے یہ گرہ بہت سی نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں کا باعث بن جائے _ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے عقدہ افراد ردّ عمل کے طور پر ظلم کرنے لگیں تا کہ اس ذریعے سے اپنے ماں باپ اور پورے معاشرے سے انتقام لے سکیں اور اپنی کمی کو پورا کرسکیں _ انہی برائیوں کی بناء پر حال ہی میں بعض دانشوروں اور ماہرین نفسیات نے اس ظالمانہ طرز تربیت کے خلاف علم جہاد بلند کیا ہے اور اس کی سخت مذمّت کی ہے اور بچے کی کامل آزادی کی حمایت میں آوازی اٹھائی ہے _ ان دانشورون نے ماں باپ کو نصیحت کی ہے کہ اپنے بچے کو بالکل آزاد چھوڑدیں تا کہ وہ اپنے ذوق و سلیقے کے مطابق چلے _ وہ کہتے ہیں کہ بچے کو آزادی دیں کہ وہ جو کام چاہیے کرے اگر چہ وہ کام آپ کی نظروں میں درست نہ ہو یا بچہ اس کام کی صلاحیت نہ رکھتا ہو _ اس چیز سے بچہ آزادی مزاج ہوکر پروان چڑھے گا اور اس کا دل کسی گرہ سے دوچار نہیں ہوگا _

معروف دانشور فرائڈ اسی نظرے کا حامی ہے اور اس نے مشرق و مغرب میں اپنے اس نظریہ کے بہت سے پیروکار پیدا کرلیے ہیں _ بہت سے ماں باپ نے بھی اس نظریے کو قبول کرکے اس پر عمل کیا ہے اور اپنے بچوں کوکامل آزادی دے وہی ہے ایسے ماں باپ اپنے بچوں کو کوئی حکم نہیں دیتے اور ان سے بے تعلق رہتے ہیں _ یہ طرز عمل بھی درست نہیں _ اس میں بھی بہت سے نقائص موجود ہیں _ وہ بچے جو اس طرز عمل کے مطابق پروان چڑھتے ہیں وہ کاموں کی انجام وہی میں کسی بھی محدودیت کے

۱۸۸

قائل نہیں ہوتے _ ایسے بچے زیادہ تر خود غرض ، شہوت پرست اور دھونس دھاندلی جمانے والے ہوتے ہیں اور دوسروں کے لیے کسی حق کے قائل نہیں ہوتے دوسروں کے حقوق پر ڈالتے ہیں _ ماں باپ سے چین لیتے ہیں _ بہن بھائیوں اور دوسرے بچوں کو تکلیف پہنچا تے ہیں _ ہمسایوں اور رشتے داروں کو اذیت دیتے ہیں _ ان کی خواہشات چونکہ مطلق آزادی کی حامل ہوتی ہیں لہذا ایسے بچے عموما افراط اور زیادتی کی طرف مائل ہوتے ہیں _ یہ افراط ان کے لیے خرابی اور تباہی کا باعص بنتی ہے _ افراط اور نا معقول آزادی بچے کو اضطراب اور پریشانی میں مبتلا کردیتی ہے ممکن ہے ان کی تو قعات اس ہمد تک جا پہنچیں کہ ان کی انجام دہی ایک شکل کام بن جائے _ اس طرح کے بچے حب بڑے ہوجا تے ہیں تو دوسروں سے ان کی یہ توقع ہوتی ہے کہ ان کے ماں باپ کی طرح ان کی اطاعت کریں _ وہ چاہتے ہیں کہ ہر جگہ ان کی فرمااں روائی ہو _ وہ کسی کی اطاعت قبول نہیں کرتے معاشر ے کے افراد پر ان کی نہیں چلتی اور جب وہ شکست کا سامنا کرتے ہیں تو پھران کے دل میں ایک گرہ پڑ جاتی ہے _ ایسی صورت میں وہ گوشہ نشین ہو جاتے ہیں یا اپنے شکست کی تلافی کے لیے ظلم اور خطر ناک کام انجام دیتے ہیں _ بے قید آزادی کبھی بچے کی ہلاکت کا باعث بھی بن جاتی ہے _ شاید بچے کادل یہ چاہتا ہو کہ وہ بغیر کسی پابندی کے سڑک پردورڈے یا بجلی کے ننگے تار کو چھو ئے یا گرم سماوار کو ہاتھ لگا ئے _ اس بناء پر تربیت کے یہ دو طریقے کہ جوایک دوسرے کے مقابل ہیں ایکم افراط کا حافل ہے اور دوسرا تفریط کا _ یہ دونوں طرز عمل درست نہیں ہیں _ بچے کی تربیت کے معاملے میں ان پر عمل پیرا نہیں ہوا جاسکتا _ اس معاملے میں بہترین قابل انتخاب روش بچے کی محدود اور معتدل آزادی ہے _ اللہ نے انسانی وجود کو مختلف جبلتوں اور محسوسات کا مرکب بنا یا ہے کہ جو انسانی شخصیت کی تکمیل کے لیے سودمند ہیں _ مثلا محبت ، نفرت ، شجاعت ، خوف ، دفاع ، جستجو ، تقلید اور کھیل کا غوغا و غیرہ یہ داخلی کیفیات و محسوسات اللہ کی طرف سے انسانی قوتوں کا سر چشمہ ہین اورزندگی کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے انسان کو عطا کی گئی ہیں _ انہیسے انسانی شخصیت تشکیل پاتی ہے _ ان جبلتوں کو آزاد ماحول میں پرورش اور رشد کا موقع ملنا چاہیے _ انہیں کچلنے

۱۸۹

سے انسانی شخصیت بری طرح مجروح ہو جاتی ہے _

خوف خطرات سے بچنے کے کام آتا ہے غصہ دشمن پر حملہ آور ہونے کے کام آتا ہے جستجو حصول علم کے لیے ضروری ہے _ جس شخص میں خوف اور غصہ نہ ہو وہ ناقص انسان ہے یہ درست نہیں ہے کہ بچے کے ان احساسات کو دباد یا حائے یا کچل دیا جائے _ آزاد ماحول میں بچہ ان احساسات سے استقادہ کحرسکتا ہے آزادانہ عمل کرسکتا ہے ، اپنی شخصیت کو پروان چڑھا سکتا ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے اپنے تئیں تیار کرسکتا ہے _دین مقدس اسلام نے آزادی کی طرفی خصوصی تو جہ دلائی ہے _ نمونے کے طور پر چند ایک احادیث ملا حظہ فرمائیں _حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :

لا تکن عبد غیرک فقد جعلک الله حدا

غیرہ کا بندہ نہ بن اللہ نے تجھے آزاد پیدا کیا ہے ( 1)حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:جس شخص میں یہ پانچ خصوصیات نہ ہوں اس کا وجود فائدہ مند نہیں ہے _

اوّل _ دین  دوم _ عقل   سوم _ادب  چہادم _ آزادی  پنجم _ خوش اخلاقی (2)

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نغ فرمایا:بچہ سات سال کی عمر تک فرماں رواہے _ سات سال کی عمر سے لے کر

--------

1_ بحار الانوار ج 77 ، ص 214

2_ بحار ، ج ، 1 ، ص 83

۱۹۰

چو دہ سال تک فرماں بروار ہے چودہ سال کے بعد سات سال ماں باپ کا وزیر اور مشیر ہے ( 1)

البتہ مطلق آزادی بھی ممکن نہیں ہے _ معاشر ے میں زندگی بسر کرنے والا انسان کا ملانہیں رہ سکتا کیونکہ معاشرے کے تمام افراد آزادی اور زندگی کا حق رکھتے ہیں _ ایک فرد کی آزادی کے لیے دوسروں کے حقوق پا مال نہیں کیے جا سکتے _ بچے کو بچپن ہی سے سمجھا دینا چاہیے کہ بے قید و شرط آزادی کے ساتھ زندگی بسر نہیں کی جاسکتی _ دوسرے لوگ بھی زندگی اوور کے حقدار ہیں _ مثلا بچہ چاہتا ہے کہ کھیلے _ کھیل اس کی تربیت کے لیے بھی ضروری ہے _ اسے اس بات کی آزادی ہو ناچا ہیے کہ اپنے ذوق اور سلیقے کے مطابق کھیلے لیکن اس کھیل میں ماں باپ ، ہمساسوں اور دوسرے بچوں کے حقوق کا بھی خیال رکھے اور ان کی آزادی میں حائل نہ ہو _ درست ہے کہ اسےکھیلنا چاہیے لیکن اسے یہ بھی معلوم ہو نا چاہیے کہ اسے لوگوں کے در و دبوار خراب اور گندہ کرنے اور شیشے توڑ نے کا حق نہیں _ لہذا کھیل میں تو اسے آزادی ہے لیکن ایک محدود او رمشروط آزادی نہ کہ بے قید و شرط آزادی _ بچہ اپنے غصّے کو استعمال کرسکتا ہے _ اسے مناسب موقعے پر استعمال کرکے اپنال دفاع کرسکتا ہے _ لیکن اسے یہ بھی معلوم ہو نا چاہیے ہ غصّے کے وقت اسے یہ حق حاصل نہیں کہ گھر کے سامان کی توڑ پھوڑ شروع کردے یا ماں باپ اور دوسرے لوگجوں کو کوی نقصان پہنچائے یا کسی کی تو ہین کرے یاکسی کا حق پامال کرے _اس حکمت عملی کے لیے ماں باپ کو چاہیے کہ بچے کی عمر ، فہم ، طاقت ، خواہشات اور جذبات کو ملحوظ نظر رکھیں اور اس کے اعمال او رحرکات کو دوحصّوں میں تقسیم کریں _

1_ وہ کام جو اس کے لیے جائز ہیں _

2_ و ہ کام جن کا وہ مجاز نہیں ہے _

انھیں ان میں سے ہر ایک کی حدود پوری طرح سے واضح کرنا چاہیے _ اس کے

--------

1_ وسائل ، ج 15 ، ص 195

۱۹۱

بعد انہیں چا ہیے کہ جائز امور میں بچوں کو پوری آزادی دیں تا کہ وہ اپنی جبلّت اور طبیعت کے مطابق عمل کرسکیں اور اپنی شخصیت کو پر وان چڑھا سکیں _ بچے کو اجازت دینی چاہیے کہ وہ خود غور کرے _ ارادہ کرے اور کام کے _ نہ صرف بچے کو کامل آزادی دینی چاہیے بلکہ ضروری مواقع پر اس کی مدد بھی کرنا چاہیے لیکن جو کام اس کے لیے مناسب نہیں ان سے سختی سے رو کنا چاہیے اور ان کی خلاف ورزی کی اجازت نہین دینا چاہیئے

اس طرز عمل سے بچے کی آزادی سلب نہیں ہو گی او رنہ ہی اس کی صلاحیتیں کچلی جائیں گی _ بلکہ اس کو آزادی ہو گی البتہ حدود کے اندر _ اور ساتھ ہی اس کے جذبات اور طبیعت پر کنٹرول بھی پیدا ہو جائے گا _ جبلّت پر کنٹرول اس کو کچلنے اور اسے پیچھے کھینچنے کے معنی میں نہیں ہ8ے بلکہ اس کا مطلب ہے نفس پر قابو اور تقویت ارادہ تا کہ وہ اپنی صلا حیتوں کو غلط کاموں پہ صرف نہ کرے بلکہ انہیں مفید اور سودمند کاموں کمے لیے جمع رکھے _

آخر میں ماں باپ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ پہلے تو وہ صحیح اور غیر صحیح کاموں کی حدود کو قطعی طور پر معین کریں تا کہ بچہ اپنی ذمہ داری کو سمجھ سکے _ مثلا ایسے کام جو بچے یا خاندان کی سلامتی اور امن و سکون کے لیے نقصان وہ ہیں _ نیز ایسے کام جو جسمانی یا مالی طور پر ضرر ساں ہیں _ اسی طر ح شریعت او رقانون کے خلاف کام نیز اخلاقی اور معاشرتی اصولوں کے خلاف کام او رایسے کام جو دوسروں کی آزادی میں حائل ہو تے ہیں اور ان کے حقوق ضائع کرنے کا باعث بنتے ہیں انھیں بلیک لسٹ کردیا جاناچاہیے او ربچے کو ان سے سختی سے روک دیناچاہیے _ ایسے کاموں کے علاوہ دیگر کاموں میں بچہ بالکل آزاد ہو ناچاہیے _ اور ان امور دوسرایہ کہ بچے کی تو نائی کو ملحوظ رکھنا چاہیے _ اس کے عقلی رشد اور جسمانی طاقت کے مطابق اس کے لیے نظم و ضبط ہو نا چاہیے اور سخت قسم کے نظم و ضبط اور غیر منطقی احکام سے پرہیزکرنا چاہیے _ تیسرا یہ کہ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے قول پر پکے رہیں اور بچے سغ پوری صراحت سے کہہ دینا چاہیے کہ

۱۹۲

یہ کام تو انجام دنے سکتا ہے اور وہ کام تجھے حتماترک کرنا چاہیے ماں باپ کو چاہیے کہ بے جا احساسات او رجذبات کو ایک طرف رکھ دیں _ شک و شبہ سے اجتناب کرین تا کہ بچہ اپنی ذمہ دار ی کو سمجھے اور اپنے فریضہ کی ادائیگی میں شک نہ کے _

امام حسن عسگری علیہ السلام فرماتے ہیں :

بچپن میں کسی بچے کی ماں باپ کے حکم کے خلاف جسارت اور بے اعتنائی بڑا ہو کراس کے سر کش اور نافرمان ہو جانے کا باعث بنتی ہے (1)

چوتھا یہ کہ ماں باپ کو چاہیے کہ آپس میں ہم آہنگ ہوں او راہتلاف سے سختی سے پہیز کری'ں اور اپنے اختلافات سے بچے کو شک اور دو دلی میں مبتلا نہ کردیں _

------------

1_ بحار ، ج ، 78، ص 374

۱۹۳

ضدّی پن

سب بچوں میں کچھ نہ کچھ ضدی پن اور خود سری ہوتی ہے خصوصاً دو سال کی عمر میں _ ضدی بچہ اصرار کرتا ہے کہ جو کچھ بھی اس دل میں آئے انجام دے اور کوئی اس کے راستے میں حائل نہ ہو _ اگر وہ اپنی خواہش کے مطابق کام نہ کرسکے تو پھر وہ روتا ہے چیختا چلاتا ہے تا کہ کوئی راہ مکمل آئے _ اپنے آپ کو زمین پرگھیٹتا ہے _ سر دیوار سے ٹکراتا ہے _ شور مچاتا ہے غصہ کرتا ہے اور کھانا چھوڑدیتا ہے _برتن توڑتا ہے یہاں تک کہ کبھی ماں باپ یا بہن بھائی پر حملہ بھی کرتا ہے _ اتنا شورمچاتا ہے کہ ماں باپ پر اس کو کامیابی حاصل ہوجائے اور وہ اپنا مقصد پالے _ یہ بچپنے کی ایسی عادت ہے کہ کبھی تو نسبتاً بڑے بچوں میں بھی دیکھی جاتی ہے _ اکثر ماں باپ بچوں کی اس عادت سے نالاں رہتے ہیں اور اس کاحل سوچتے رہتے ہیں _ بچوں کے ضدی پن کے بارے میں ماں باپ عموماً ان دو طریقوں میں سے ایک اختیار کرتے ہیں _

پہلا طریقہ: بعض ماں باپ کا یہ نظریہ ہے کہ بچے کی ضد کے مقابلے میں سخت ردّ عمل کا مظاہرہ کیا جائے اور اس کی خواہشات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا جائے _ ایسے ماں باپ کا کہنا ہے کہ یہ بچہ بہت خود سراور ضدّی ہوچکا ہے _ اس کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کی جانا چاہیے تا کہ یہ اپنے ضدّی پن سے دستبردار ہوجائے _ و کہتے ہیں کہ ہم اس بچے کو ایک انچ بھی اپنا زور چلانے کی اجازت نہیں دیں گے _ وہ سختی ، زور اور مارپیٹ کے ذریعے بچے کو روکتے ہیں اور اپنی خواہشات اس پر سوار کردتیے ہیں _ یعنی در حقیقت وہ

۱۹۴

بچے کی ہٹ دھرمی کے جواب میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں _ یہ طرز عمل درست نہیں ہے کیوں کہ اگر چہ انہوں نے مارپیٹ اور زور کے ذریعے بچے کو اس کی ضد سے پیچھے ہٹا دیا ہے اور چپ کروادیا ہے لیکن دوسری طرف اس کی شخصیت پر بڑی کارہی ضرب لگائی ہے _ دو سال کی عمر شخصیت اور ارادے کے اظہار کی عمر ہے اور ضدّی پن ارادے کی پختگی اور خود اعتمادی کا بنیادی جوہر ہے بچے کی عقلاس عمر میں اتنی رشد یافتہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنی خواہشات پر کنٹرول کرسکے اور ان کے نتائج کے بارے میں غور و فکر کرسکے _ وہ سوچے سمجھے بغیر کسی کام کا ارادہ کرلیتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی خواہش کے مطابق عمل کیا جائے تا کہ اس کے وجود کا اظہار ہوسکے اور اس کی شخصیت نمایان ہوسکے _ اگر ماں باپ اس کی مخالفت کریں گے تو وہ گویا اس کی شخصیت کو مجروح کریں گے _ ممکن ہے وہ ایک پر سکون فروبن جائے لیکن حیثیت اور ارادے سے عاری_ جب بچہ یہ دیکھتا ہے کہ کوئی اس کی خواہش پوری نہیں کررہا اور طاقت کے ذریعے اسے روکا جارہاہے تو وہ مایوس اور بدگمان ہوجاتا ہے _ اضطراب اور پریشانی کی یہی حالت اس میں باقی رہتی ہے البتہ اس بات کا امکان بھی ہے کہ اپنی خواہشات کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے وہ بڑا ہو کر خطرناک کاموں کا مرتکب ہو مثلاً قتل اور ظلم و غیرہ تا کہ اس ذریعے سے وہ اپنے وجود کا اظہار کرسکے اور اپنی شخصیت منواسکے _

دوسرا طریقہ : بعض پرورش کنندگان کا نظریہ ہے کہ جہاں تک ممک ہوسکے بچے کے دل کو راضی کرنا چاہیے _ اور اس کی خواہش کے مطابق عمل کرنا چاہیے _ اسے جازت دی جانا چاہیے کہ جو کام وہ چاہے انجام دے ، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بچے کی ضد اور اصرار کے سامنے تسلیم محض ہونا چاہیے _ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بچہ ہے اسے آزادی ملنی چاہیے جب بڑا ہوگا تو خودہی ضد اور بہانے بنانے چھوڑدے گا _ یہ طریقہ بھی غیبت سے خالی نہیں ہے _

اولاً: بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ جو بڑے جانی یا مالی نقصان کے حامل ہوتے ہیں او رخود بچے کی یا دوسروں کی جان و ماں کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں ایسے کاموں میں بچے کو آزادی دینا خلاف عقل او رخلاف وجدان ہے ہوسکتا ہے دو تین سالہ بچہ بڑی سیڑھی کے ذریعے اوپر

۱۹۵

جانا چاہے کہ جس میں احتمال ہے وہ گر پڑے گا اور اس کے ساتھ پاؤں ٹوٹ جائیں گے ممکن ہے وہ چاہے کہ ماچں سے خود گیس جلائے کہ جس میں امکان ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور پورے گھر کو جلادے گا _ ہوسکتا ہے وہ دوسروں کے احوال اور حقوق پر تجاوز کرنا چاہے یا دوسرے بچوں کو اذیت دینا چاہے _ ایسے کاموں میں بچوں کو آزادی نہیں دی جا سکتی _

ثانیاً: جو بچہ ہمیشہ مطلق العنان رہا ہو _ ضد سے اور شور شرابے سے اپنے مقاصد حاصل کرتا رہا ہو ، جس نے اپنے سامنے کسی کو ٹھرتے نہ دیکھا ہو رفتہ رفتہ اس طریقے کا عادی ہو جاتا ہے اور ایک خود غرض اور ڈکٹیڑبن جاتا ہے _ اسے لوگوں سے توقع ہوتی ہے کہ وہ بے چون و چرا اس کی خواہش پر عمل کریں اور اس کے طرز عمل اور کردار پر کوئی تنقید نہ کریں _

اس نے بچپن میں اپنی خواہشات کے مقابلے میں کسی کو قیام کرتے نہیں دیکھا کہ وہ دوسروں کی خواہشات کا اعتناء کرے _ اگر وہ دیکھے کہ زور و زیادتی سے اپنی خواہشات کو سیرات کرسکے اور اپنے مقصد کو پائے تو بہت خوش ہوتا ہے _ لیکن زیادہ تر ایسا نہیں ہوتا کیوں کہ دوسرے تیار نہیں ہوتے کہ اس کی ڈکٹیڑی کو برداشت کریں _ اس لحاظ سے وہ معاشرے سے مایوس ہوکر گوشہ نشین ہوجاتا ہے ہمیشہ آہ و زاری کرتا رہتا ہے _ اپنے تئیں شکست خوردہ سمجھتا ہے اورلوگوں کو حق ناشناس سمجھتا ہے _

اسلام ہٹ دھرمی کو بری صفات میں سے شمار کرتا ہے اور اس کی مذّمت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوٹی ہیں _

نمونہ کے طور پر _ حضر ت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''ہٹ دھرمی برائیوں کا سبب ہے '' (1) امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا:'' ڈھٹائی عقل انسانی کو نقصان پہنچاتی ہے'' (2)

-----------

1_ غرر الحکم ، ص 16

2_ غرر الحکم ، ص 17

۱۹۶

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

''ہٹ دھرمی جنگ اور دشمنی کا باعث ہے'' (1)

حضرت علی علیہ السلام نے ہی فرمایا:''ہٹ دھرمی کا نقصان انسان کی دنیا اور آخرت کے لیے سب سے زیادہ ہے ''_ (2)

تیسرا طریقہ: بہترین روش اعتدال کو ملحوظ رکھنا ہے _ یہ وہ طریقہ ہے کہ جس کے مطابق ماں باپ بچے کی خودسری کو عیب نہیں سمجھتے بلکہ اس کی استقامت اور اصرار کو اس کے وجود اور قوت ارادی کے اظہار کا وسیلہ جانتے ہیں _ نہ صرف یہ کہ اس کو ختم نہیں کرتے بلکہ تعلیم و تربیت کے لیے اسی فائدہ اٹھاتے ہیں ، بچے کی خواہشوں کے درمیان فرق کرتے ہیں، بے ضرر خواہشات کے ضمن میں بچے کو آزادی دیتے ہیں تا کہ وہ اپنے میلان کے مطابق عمل کرے اور اس طرح اپنی قوت ارادی میں اضافہ کرے _ اس کے بے ضرر یا کم ضرر کاموں میں زیادہ دخالت نہیں کرتے وہ بچے کے دوست بن جاتے ہیں اور کاموں کی ادائیگی میں اس کی راہنمائی کرتے ہیں _ایسی صورت میں بچے کو زیادتر کاموں میں آزادی حاصل ہوتی ہے اس طرح سے وہ اپنے ارادے کو مضبوط کرسکتا ہے اور اپنے وجود کا اظہار کرسکتا ہے _ ماں باپ کے بارے میں وہ بھی اچھی رائے رکھتا ہے اور انھیں اپنے راستے میں حائل نہیں سمجھتا _

لیکن خطرناک نقصان وہ اور خلاف و ضمیر کاموں میں ناجائز امور میں اور دوسروں کے حقوق پر تجاوز کے معاملے میں بچے کے سامنے استقامت کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ذرا سی بھی ڈھیل نہیں دیتے وہ پوری بے نیازی سے اور صراحت سے بچے سے کہتے ہیں اس کام کو نہ کرنا _ وہ کوشش کرتے ہیں کی حتی الامکان اس کام سے روکنے کی وجہ اسے

---------

1_ غرر الحکم، ص 18

2_ غرر الحکم ، ص 104

۱۹۷

بائیں اوراسے مطمئن کریں اور اس کی توجہ کسی اور اچھے کام کی طرف موڑدیں _ بچہ چونکہ ماں باپ کے بارے میں اچھے رائے رکھتا ہے اور اس پر زیادہ پابندیاں نہیں ہوتیں زیادہ تر مان جاتا ہے اور اس کام کو چھوڑدیتا ہے _ لیکن اگر وہ غلط کاموں کے بارے میں ضد کرے _ شورشرابہ کرے _ زمین پر پاؤں مارے تو آپ سختی سے اسے روک دیں _ اور اس سلسلے میں کوئی ڈھیل نہ دیں _ اس کے شوروشین اور رونے دھونے پر توجہ نہ دیں _ اسے اس کے حال پر رہنے دیں تا کہ وہ سمجھے کہ دنیا میں ہر چیز کا کوئی حساب ہے کہ جو اس کے شورشرابے سے بدل نہیں سکتا _ آپ کچھ صبر کریں وہ خود شو رشرابے سے تھک ہارکر چپ کرجائے گا _ بچے کو سمجھائیں کہ آپ کی نہ حقیقی نہ ہے _ اسے سمجھائیں کہ زور اور خود سری سے زندگی نہیں گزاری جاسکتی دوسروں کے حقوق کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے _ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اس کی ہٹ دھرمی اور شور شرابے پر مارپیٹ شروع کردیں اور سختی سے اسے چپ کرائیں کیونکہ اس طرح سے اسے چپ تو کرایا جاسکتا ہے لیکن حتمی طور پر اس کی روح اور نفسیات پر اس کے برے اثرات باقی رہ جائیں گے کیوں کہ وہ آپ سے بدبین ہوجائے گا _ اور آپ کو بھی ایک زیادتی کرنے والا اور ڈکٹیٹر سمجھے گا _ ہوسکتا ہے کہ آپ کے خلاف اس کے دل میں کینہ پیدا ہوجائے اور وہ انتقام لینے کی ٹھان لے ہوسکتا ہے آپ کی آمریت کو اپنے لیے نمونہ بنالے _ اس بحث کے اختتام پر ضروری ہے کہ مربّی حضرات کی خدمت میں چند امور ذکر کیے جائیں _

1_ جہاں تک ممکن ہو بچوں کو عمل کی آزادی دیں _ ان کے امور میں زیادہ دخالت نہ کریں اور ہر وقت یہ کرو یہ نہ کرو نہ کرتے رہیں _ بچہ کرسی ، درخت یا چھوٹی سیڑھی کے ذریعے اوپر جانا چاہتا ہے آپ کہیں بیٹے گر جاؤگے وہ پھل کا چھلکا اتارنے لگے تو آپ کہیں بیٹا ہاتھ کو زخمی کرلوگے ، وہ سما وار روشن کرنے لگے تو آپ کہیں جل جاؤگے ، وہ چائے ڈالنا چاہے تو آپ کہیں چینک توڑ دوگے ،گھر میں کھیلنا چاہے تو کہیں شور نہ کرو _ گلی میں جانا چاہے تو آپ کہیں سائیکل کے نیچے آجاؤگے _

پھر یہ ننھا بچہ کیا کرے آخر وہ بھی انسان ہے _ اس کا بھی ارادہ ہے _ وہ بھی اپنے وجود کا اظہار کرنا چاہتا ہے _ جب آپ اس کے کاموں میں دخالت کریں گے وہ

۱۹۸

خستہ حال ہوجائے گا اور اس کے اندر ایک ہٹ دھرمی اور خود مری کی کیفیت پیدا ہوجائے گی بچے کی ہٹ دھرمیوں کی ایک وجہ ماں باپ کی اس کے کاموں میں زیادہ دخالت ہے _

2_ جب آپ کا بچہ ضد کرے تو کوشش کریں کہ اس کی ضد کی وجہ معلوم کریں اور اس کو دور کریں تا کہ وہ خود بخود مطمئن ہوجائے _ اگر اسے بھوک لگی ہو تو کھانا دیں _ اگر وہ تھکا ہوا ہے تو اسے سلادیں _ اگر وہ گھر کے تنگ ما حول ، ریڈیو اور ٹیلی وین کے شور اور مہمانوں کی وجہ سے تنگ آگیا ہے تو اس کے لیے آرام وہ ماحول فراہم کریں _

3_ بچے کی توہین اور اسے سرزنش نہ کریں کیونکہ توہین اور سرزنش اسے ضد بازی پر ابھارتی ہے وہ اپنے آپ سے کہتا ہے کہ یہ میری توہین کرتے ہیں اور مجھے ملامت کرتے رہتے ہیں _ میں بھی ان کے سامنے ڈٹ جاؤں گا اور ان سے انتقام لوں گا _

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :''سرزنش میں زیادتی ہٹ دھرمی کی آگ کو بھر کاتی ہے '' _ (1)

4_ کبھی کسی بچے پر اس کے بھائی بہن ظلم اور زیادتی کرتے ہیں اور اس کی کوئی حمایت نہیں کرتا یوں وہ ہٹ دھرمی اور سرکشی پر اتر آتا ہے اس صورت میں ماں باپ کو چاہیے کہ اس کی سرکشی کی وجہ معلوم کریں _ اور اسے دور کریں تا کہ وہ اسے چھوڑدے _

5_ اگر آپ کا بچہ شد کرتا ہے اور آپ کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی تو آپ اپنے آپ کا جائزہ لیں او ردیکھیں کہ خود آپ کہیں ضدی پن کا شکار تو نہیں ہیں _ شاید آپ کا ضدی پن بچے کے ضدی پن کا باعث بنا ہو _ ایسا بہت ہوتا ہے کہ بچے ماں باپ ہی کے ضدی پن کا مظہر ہوتے ہیں اور انہیں کی تقلید کرتے ہیں _ایک خاتون اپنی یادداشتوں میں لکھتی ہیں کہ مجھے یادہے بچپن میں ایک روز ہمارے ہاں مہمان آئے _ میں نے کسی بات پہ ضدکی تو اس پہ مہمانوں کے سامنے

----------

1_ تحف العقول ،ص 80_

۱۹۹

مجھے مارپڑی مجھے مہمانوں سے بہت شرمندگی ہوئی _ میں نے بہت چیخ و پکار کی _ امی مسلسل کہے جاتی تھیں چپ کر ہابیٹی کا شور مچانا اچھا نہیں ہوتا_ میں آرہی ہوں تمہیں چپ کرواتی ہوں _ امی نے اس بارے میں بالکل نہ سوچا کہ میری ضدکی وجہ کیا ہے اور میں کیوں شورمچار ہی ہوں _وہ صرف یہ چاہتی تھیں کہ اس طرح کی باتوں سے مجھے چپ کروادیں ، جو مجھے اور بھی بری لگتی ہیں _ لیکن میں نے بھی زیادہ شورمچایا _ ماں نے اپنے تئیں اس کا بہترین حل سوچا _ گڑیا کے جو کپڑے میں نے خودسیے تھے وہ اٹھالائیں مجھے وہ جان سے زیادہ عزیز تھے _ انھیں امّی نے میرے سامنے آگ لگادی _ گویا میری ساری امیدیں ختم ہوگئی _ میں آگ کے شعلے کی طرف دیکھتی تھی اور آنسو بہاتی تھی _ اس وحشیانہ واقعہ سے میرے دل میں ایک گرہ سی پڑگئی کہ جسے میں آج تک بھلانہیں سکی _ اور اب بھی مجھے اس پر افسوس رہتا ہے اور کبھی کبھی میں اپنی امّی سے کہتے ہوں ... ...

۲۰۰

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

سورہ نساء كى آيت ۵۸ ميں حكم ہے :

''ان الله يأمركم ا ن تُودّوا الامانات الى اهلها و اذا حكمتم بين الناس ا ن تحكموا بالعدل ''

بے شك خدا تمھيں حكم ديتا ہے كہ امانتوں كو ان كے اہل تك پہنچادو _اور جب لوگوں كے درميان فيصلہ كرو تو انصاف كے ساتھ كرو _

ابوحمزہ ثمالى نے امام باقر سے امام اور لوگوں كے باہمى حقوق كے متعلق پوچھا تو امام نے عدل و انصاف كو لوگوں كا امام پر حق قرار ديا _ ابوحمزہ ثمالى كہتے ہيں :

''سألت أبا جعفر (ع) ما حقّ الإمام على الناّس؟ قال: '' حقه عليهم ان يسمعوا له و يطيعوا'' قلت: فما حقّهم عليه ؟ قال: '' يقسّم بينهم بالسوية و يعدل فى الرعية ''(۱)

ميں نے امام باقر سے پوچھا كہ امام كا لوگوں پر كيا حق ہے ؟آپ نے فرمايا امام كا ان پر يہ حق ہے كہ وہ امام كى بات سنيں اور اطاعت كريں _پھر ميں نے پوچھا لوگوں كا امام پر كيا حق ہے ؟آپ نے فرمايا: بيت المال كو ان كے در ميان بطور مساوى تقسيم كرے اور رعيت كے درميان عدل و انصاف كرے

حضرت على فرماتے ہيں : ''امام عادل خيرٌ من مطر وابل''

امام عادل موسلہ دھار بارش سے بہتر ہے _(۲)

امام رضا مخصوص معنوى اورثقافتى اہداف كو امام كے فرائض ميں سے شمار كرتے ہوئے فرماتے ہيں :

والإمام يحلّ حلال الله و يحرّم حرام الله و يقيم حدود الله ويذبّ عن دين الله و يدعوا إلى سبيل ربه بالحكمة و الموعظة

____________________

۱) كافى ،ج ۱، ص ۴۰۵، باب مايجب من حق الامام على الرعية، ح۱_

۲) غررالحكم ،آمدى ج ۱ ، ص ۳۸۶، ح ۱۴۹۱_

۳۰۱

الحسنة و الحجةالبالغة (۱)

امام حلال خدا كو حلال اور حرام خدا كو حرام قرار ديتا ہے ، حدود الہى كو قائم كرتا ہے ، دين خدا كا دفاع كرتا ہے اور(لوگوں كو ) حكمت ، موعظہ حسنہ اور محكم دليل كے ذريعہ راہ خدا كى طرف دعوت ديتا ہے_

حضرت اميرالمومنين خدا سے مناجات كرتے ہيں _ اور اس نكتہ'' كہ مسلمانوں پر حكومت قبول كرنے كاميرامقصد كوئي دنيوى منصب و اقتدار اور بے قيمت دنيوى مال و متاع كا حصول نہيں تھا ''كے ضمن ميں تين اہداف كا ذكر كرتے ہيں جن ميں سے دو معنوى اہداف ہيں :

''اللهمّ إنّك تعلم انّه لم يكن الذى كان منّا منافسة فى سلطان، ولا التماس شي من فضول الحطام ، و لكنّ لنرد المعالم من دينك ، و نُظهر الاصلاح فى بلادك فيأمن المظلومون من عبادك، و تقام المعطّلة من حدودك ''

اے پروردگار تو جانتا ہے كہ ميں نے يہ كام نہ ملك و سلطنت كے حصول كيلئے كيا ہے اور نہ ہى اس دنيا كے پست و بے قيمت مال كو اكھٹا كرنے كيلئے كيا ہے _

ميں نے يہ قدم اس لئے اٹھايا ہے تا كہ تيرے دين كى تعليمات كو واپس لے آؤں، صلح و سلامتى كو تيرے شہروں ميں برقرار كروں تا كہ تيرے مظلوم بندے امن سے رہ سكيں اور تيرے ان قوانين كو زندہ كروں جنہيں معطل كر ديا گيا ہے_(۲)

حق كا قيام اور باطل سے مبارزت بھى دينى حكومت كے اہداف ميں سے ہے سورہ ص كى آيت ۲۶ ميں ارشادہے : ''يا داود انّا جعلناك خليفة فى الارض فاحكم بين الناس بالحق'' اے داود ہم نے تمھيں زمين پر خليفہ مقرركيا ہے _ پس لوگوں كے درميان حق كے ساتھ فيصلہ كرو_

____________________

۱) كافي، ج ۱، ص۲۰۰، باب نادر جامع فى فضل الامام و صفاتہ ،ح ۱_

۲) نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۳۱_

۳۰۲

حضرت على اور ابن عباس كے درميان ''ذى قار'' كے مقام پر جو مكالمہ ہوا تھا اس ميں آپ (ع) نے حكومت كرنے كا مقصد حق كا قيام اور باطل كو روكنا قرار ديا تھا آنحضرت (ص) نے جب معاذ ابن جبل كو يمن كا والى بنا كر بھيجا تو انہيں كچھ اہم نصيحتيں كيں _ جن ميں سے بعض دينى حكومت كے معنوى اہداف كى طرف اشارہ كرتى ہيں آپ نے فرمايا :

''يا معاذ، عَلّمهُم كتابَ الله وأحسن أدبَهم على الأخلاق الصالحة و أنزل النّاس منازلَهم خيرَهم و شرّهم و أمت أمرَ الجاهليّة إلاّ ما سنّه الإسلام و أظهر أمر الإسلام كلَّه، صغيرَه و كبيرَه، و ليكن أكثر همّك الصلاة: فإنّها رأس الإسلام بعد الإقرار بالدين و ذكّر الناس بالله واليوم الآخر و اتّبع الموعظة; فإنّه أقوى لهم على العمل بما يحبّ الله ثمّ بثّ فيهم المعلّمين، و اعبد الله الّذ إليه ترجع، و لا تَخَف فى الله لومة لائم'' (۱)

اے معاذ لوگوں كو قرآن كى تعليم دينا _ اچھے اخلاق سيكھانا ، اچھے اور برے افراد كو ان كے مقام پرركھنا ...جاہليت كى ہر رسم كو فنا كردينا مگر جس كى اسلام نے اجازت دى ہے _ اسلام كے چھوٹے بڑے ہر حكم كو قائم كرنا _ ليكن تيرى زيادہ كوشش نماز كے متعلق ہونى چاہيے _ كيونكہ دين كا اقرار كرنے كے بعد نماز اسلام كا سب سے اہم ركن ہے ، لوگوں كو خدا اور قيامت كى ياد دلانا ، وعظ و نصيحت كو ياد ركھنا ، يہ ان كے لئے خدا كے پسنديدہ امور پر عمل كرنے كيلئے مدد گار ثابت ہوگا _ پھر معلمين كو ان ميں پھيلادينا اور اس خدا كى عبادت كرنا جس كى طرف تجھے پلٹ كرجانا ہے اور خدا كے سلسلہ ميں كسى ملامت كرنے والے كى ملامت سے مت ڈرنا_

____________________

۱) تحف العقول ،ص ۲۶_

۳۰۳

خلاصہ :

۱) دوسرے سياسى نظاموں سے دينى حكومت كو ممتاز كرنے والى ايك چيز اسلامى حكومت كے اہداف اور فرائض ہيں _

۲) موجودہ دور ميں خصوصاً لبرل جمہوريت ميں نظريہ '' حكومت حداقل'' اور حكومت كے اہداف و فرائض كو محدود كرنے كى حمايت كى جاتى ہے _

۳) لبرل جمہورى حكومتيں خير و سعادت اور اخلاق و معنويت جيسے امور كو انفرادى خصوصيات قرار ديتے ہوئے حكومت كے اہداف اور فرائض سے خارج سمجھتى ہے _

۴)دينى حكومت كے اہداف و فرائض كى تحقيق و بررسى ''اسلام كى نگاہ ميں مقام حكومت كى وضاحت ''كے ساتھ مربوط ہے _

۵) اسلام كى نظر ميں حكومت ايك سنگين ذمہ دارى اور عظيم امانت ہے ، اور حكومت كا حاصل كرلينا كسى مقام و منزلت يا كمال پر فائز ہونا نہيں ہے _

۶)حكومت كى اہميت امانت الہى كى ادائيگى ميں ہے اور امانت كا ادا كرنا ان اہداف اور فرائض كے انجام دينے پر موقوف ہے جو حكومت اور حكمرانوں كيلئے مقرر كئے گئے ہيں _

۷) دينى حكومت كے اہداف كو دو بنيادى قسموں يعني'' معنوى اہداف'' اور'' دنيوى اہداف'' ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے _

۸) آيات و روايات ميں حكومت كے معنوى اہداف پر بہت زور ديا گيا ہے _

۳۰۴

سوالات :

۱) حكومت كے اہداف اور فرائض كے متعلق لبرل ازم كا كيا نظريہ ہے ؟

۲) لبرل جمہوريت كے معتقدين كے سياسى نظريہ ميں سعادت اور معنويت كا كيا مقام ہے ؟

۳) اسلام كى نگاہ ميں حكومت كى حقيقت كيا ہے ؟

۴) دينى حكومت كے ''معنوى اہداف ''سے كيا مراد ہے ؟

۳۰۵

تيسواں سبق :

دينى حكومت كے اہداف اور فرائض -۲-

گذشتہ سبق ميں ہم نے دينى حكومت كے اہداف كو دو حصوں ميں تقسيم كيا تھا مادى اہداف اور معنوى اہداف ، اور بعض وہ آيات و روايات ذكر كى تھيں جو معنوى اہداف كو بيان كرتى ہيں _ معنوى اہداف كو درج ذيل امور ميں خلاصہ كيا جاسكتا ہے _

۱)_ امور كے اجرا ميں حق كا قيام اور حق پرستى جبكہ باطل، شرك اور جاہليت كا خاتمہ

۲)_ عدل و انصاف كو عام كرنا _

۳)_ حدود الہى كا اجرا _

۴)_ معارف الہى كى تعليم اور عبادت و عبوديت كو پھيلانے كيلئے كوششيں كرنا_

۵)_ نيكى كا حكم دينا اور برائي سے روكنا _

۶)_ دين الہى كا دفاع اور توحيد الہى كى دعوت كو عام كرنا _

۳۰۶

ب_ دنيوى اہداف

دينى حكومت كے دنيوى اہداف سے مراد وہ اہداف ہيں جن كے بارے ميں عقلى طور پر ہميشہ يہ توقع كى جاتى ہے كہ ايك با صلاحيت عوامى حكومت ان كيلئے خاص اہتمام كرے اور ان كو خصوصى اہميت دے_ يہاں ان اہداف كے ذكر كرنے كا مقصد يہ ہے كہ ہمارے دينى منابع نے امر معاش ،رفاہ عامہ اور معاشرہ كے امن و امان سے سرد مہرى اور بے توجہى نہيں برتي_ اسلامى تعليمات ميں دنيوى آباد كارى كے ساتھ ساتھ ہميشہ آخرت كى فكر بھى اولياء دين كے پيش نظر رہى ہے _ بنابريں دينى حكومت كے اہداف ميں ان امور كى طرف بھى اشارہ كيا گيا ہے جو معاش اور مختلف دنيوى پہلوؤں كے ساتھ مربوط ہوتے ہيں _ دينى حكومت كے دنيوى اہداف وہى اہداف ہيں جن كا دوسرى سيكولر حكومتيں دعوى كرتى ہيں _ بحث كے آخر ميں ہم ان اہداف كے حصول ميں دينى حكومت اور سيكولر حكومت ميں جو بنيادى فرق ہے اس كى طرف اشارہ كريں گے _

قرآن مجيد ميں حفظ امنيت اور اسلامى معاشرہ كى فوجى قوت پر بڑا زور ديا گيا ہے

سورہ انفال كى آيت ۶۰ ميں ارشاد خداوندى ہے:

''( و اعدوا لهم ما استطعتم من قوة و من رباط الخيل ترهبون به عدوّ الله و عدوّكم ) ''

اور تم بھى جہاں تك ممكن ہوسكے قوت اور گھوڑوں كى صف بندى كا انتظام كرو تا كہ تم اس سے خدا اور اپنے دشمن كو خوفزدہ كرو_

امام صادق بھى امن و امان كى برقرارى اور آباد كارى كو لوگوں كى عمومى ضروريات ميں سے قرار ديتے ہيں كہ ہر معاشرہ ميں ان پر خاص توجہ دينا ضرورى ہے _ آپ فرماتے ہيں:

''ثلاثة اشياء يحتاج الناس طرّاً إليها : الامن والعدل والخصب''

۳۰۷

تين چيزوں كى لوگوں كو ضرورت ہوتى ہے _ امن ، انصاف ، اور فراخى و خوشحالي_ (۱)

حضرت على نے مالك اشتر كو جب مصر كا حاكم بناكر بھيجا تو اسے ايك عہد نامہ ديا جس كے شروع ميں چند حكومتى اہداف كى طرف اشارہ كيا گيا ہے _

'' هذا ما أمر به عبدالله عليّ أمير المؤمنين مالك بن الحارث الأشتر فى عهده إليه حين و لاه مصر: جباية خَراجها، و جهاد عدوّها، و استصلاح أهلها و عمارة بلادها (۲)

يہ خدا كے بندے على (ع) اميرالمومنين (ع) كى طرف سے مالك ابن حارث اشتر كو دستور ديا جارہا ہے جب اسے مصر كى ولايت عطا كى كہ: وہ وہاں كا خراج اكھٹا كرے ، اس كے دشمنوں سے جہاد كرے ، اس كے رہنے والوں كى اصلاح اور اس كے شہروں كى آباد كارى كيلئے كوشش كرے_

حضرت اميرالمومنين اپنے ايك خطبہ ميں لوگوں كے حقوق بيان كرتے ہيں كہ جنہيں دينى حكومت كے بنيادى اہداف ميں سے شمار كيا جاسكتاہے _ ان ميں سے بعض يہ ہيں، تعليم و تربيت كا عام كرنا اور ملك كے مالى منابع سے لوگوں كو ان كاحصہ دينا _

''أيّها الناس، إنّ لى عليكم حَقّاً و لكم عليّ حقّ; حقّكُم عليّ، فالنصيحة لكم و توفيرُ فيئكم عليكم و تعليمكم كيلا تجهلوا و تأديبكم كيما تعلموا'' (۳)

____________________

۱) تحف العقول، ص ۲۳۶_

۲) نہج البلاغہ ،مكتوب ۵۳_

۳) نہج البلاغہ ،خطبہ ۳۴_

۳۰۸

اے لوگوں ميرا تم پر ايك حق ہے _ اور تمھارا مجھ پر ايك حق ہے _ تمھارا مجھ پر يہ حق ہے كہ ميں تمھيں نصيحت كروں، تمھارے مال كو تم پر خرچ كروں، تمھيں تعليم دوں تا كہ تم جہالت سے نجات حاصل كرلو، اور تمھارى تربيت كروں تا كہ تم عالم ہوجاؤ _

ان صاحبان قدرت كے مقابلہ ميں جو ظلم و ستم كے ذريعہ اپنى ثروت و طاقت ميں اضافہ كرتے ہيں ظلم كے خلافجنگ و مبارزہ اور مظلوموں كى حمايت ان اہداف ميں سے ہيں جن كى اسلام نے بہت زيادہ تاكيد كى ہے _ حضرت على اس امر كو علماء كيلئے ايك منصب الہى سمجھتے ہيں اور اس عہد كے وفا كرنے كو خلافت كے قبول كرنے كى ادلّہ ميں سے قرار ديتے ہوئے _ فرماتے ہيں:

''لو لا حضورُ الحاضر و قيامُ الحجّة بوجود الناصر و ما أخذَ الله على العلماء أن لا يقارّوا على كظَّة ظالم و لا سَغَب مظلوم، لا لقيتُ حَبلَها على غاربها '' (۱)

اگر بيعت كرنے والوں كى موجود گى اور مدد كرنے والوں كے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئي ہوتى اور وہ عہد نہ ہوتا جو خدا نے علماء سے لے ركھا ہے كہ وہ ظالم كى شكم پرى اور مظلوم كى گرسنگى پر آرام سے نہ بيٹھيں تو ميں خلافت كے اونٹ كى مہار اسى كے كند ہے پر ڈال ديتا_

خوارج جو كہ لاحكم الّالله كا نعرہ لگاتے تھے اور اس طرح حكومت كا انكار كرتے تھے_ حضرت على نے ان كے مقابلہ ميں وجود حكومت كے كچھ فوائد گنوائے ہيں جو در حقيقت وہ اہداف ہيں كہ ہر حكومت كيلئے ان كا حاصل كرنا ضرورى ہے _ ان ميں سے ايك ہدف ظالم اور جابر افراد سے كمزوروں اور مظلوموں كا حق وصول كرنا ہے _ فرماتے ہيں :(و يؤخذ به للضعيف من القوي )(۲)

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ ۳ _

۲) نہج البلاغہ خطبہ ۴۰_

۳۰۹

اس (حكومت)كے ذريعہ طاقتور سے مظلوم كا حق واپس ليا جاتا ہے _

مختلف معاشرتى امور كى اصلاح بھى دينى حكومت كے اہداف ميں سے ہے _'' إن أريد إلا الإصلاح ما استطعت'' ميں تو فقط اصلاح چاہتاہوں جہاں تك مجھ سے ممكن ہوسكے(۱)

حضرت على شہروں كى اصلاح كو اپنى خلافت كے اہداف ميں سے قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں : ''و نُظہر الإصلاح فى بلادك ، فيأمن المظلومون من عبادك''ہم تيرے شہروں ميں امن و بہبودى كى صورت پيدا كريں گے تا كہ تيرے مظلوم بندے امن سے رہيں _(۲)

گذشتہ مطالب كى روشنى ميں دينى حكومت كے دنيوى اہداف كو درج ذيل امور ميں خلاصہ كيا جاسكتا ہے _

۱_ امن و امان قائم كرنا _

۲_ اسلامى سرحدوں كى حفاظت اور دفاع كو مضبوط بنانا

۳_ رفاہ عامہ اور آباد كارى كيلئے اقدام كرنا _

۴_ مختلف معاشرتى امور كى اصلاح _

۵_ عمومى اموال كى حفاظت اور معاشرہ ميں اس كى عادلانہ تقسيم_

۶_ تعليم و تربيت كو عام كرنا _

۷_ معاشرتى ضروريات پورى كرنااور مظلوم اور آسيب زدہ افراد كى حمايت

دينى حكومت كے دنيوى اہداف وہى عمومى اہداف ہيں كہ جن كى ہر حكومت مدعى ہوسكتى ہے _ يہ اہداف عقلائي پہلو كے حامل ہيں اور ان كا بيان كرنا شريعت اور دين كے ساتھ مخصوص نہيں ہے_ اس كے باوجود ان اہداف كے پورا كرنے ميں دينى حكومت دوسرى غير دينى حكومتوں سے مختلف ہے اور يہ فرق دوجہت سے ہے_

____________________

۱) سورہ ہود آيت ۸۸_

۲) نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۳۱_

۳۱۰

الف: يہ كہ دينى حكومت ان اہداف پر خاص توجہ ديتى ہے_ جبكہ دوسرى حكومتوں ميں اس قسم كا اہتمام ديكھنے كو نہيں ملتا _ بطور نمونہ پانچويں اور ساتويں نمبر شمار كى طرف اشارہ كيا جاسكتا ہے _ حكومت كے سلسلہ ميں ائمہ معصومين كى روايات اور آنحضرت (ص) اور اميرالمومنين كى عملى سيرت ميں فقراء ضعفاء اورتہى دست افراد كى مدد كرنے پر بہت زور ديا گيا ہے _ اور دوسرى طرف مختلف معاشرتى امور ميں بيت المال كى عادلانہ تقسيم كى تاكيد بھى كى گئي ہے _

ب: ان اہداف كے حصول كى روش كے لحاظ سے ہے _ دينى حكومت اپنے دنيوى اہداف كو بھى معنوى اہداف كے ساتھ ساتھ ركھتى ہے _ اجتماعى زندگى كے دنيوى اور عقلائي پہلوؤں كو اخلاقيات ، معنويات اور دين كے سايہ ميں آگے بڑھاتى ہے _ مثال كے طور پر معاشرہ كى اصلاح اور آبادكارى اگر چہ دينى حكومت كے دنيوى اہداف ہيں ليكن انہيں بھى معنوى اہداف كے زير سايہ پورا كيا جاتا ہے _ يعنى عدل و انصاف كى حاكميت ان دنيوى اہداف كے حصول كى راہيں ہموار كرتى ہے _ حضرت على فرماتے ہيں :

''العدلُ يضع الأُمور فى مواضعها'' (۱)

عدل يہ ہے كہ تمام امور كو ان كے مقام پر ركھا جائے _

''ما عُمرت البُلدان بمثل العَدل ''(۲)

شہروں كى آبادكارى عدل سے ہى ممكن ہے_

در حقيقت رفاہ عامہ اور امن و امان اسى وقت پابرجا ہوسكتے ہيں جب انسان كى اجتماعى زندگى اخلاقيات ، معنويات اور الہى اقدار سے سرشار ہو_ اسى وجہ سے دينى حكومت كے معنوى اہداف كا تحقق اس كے دنيوى اہداف كے حصول كيلئے مددگار ثابت ہوتا ہے _

____________________

۱) بحار الانوار، ج ۷۵، ص ۳۵۷، باب احوال الملوك والامرائ، ح ۷۲_

۲) غررالحكم، آمدى ج ۶ ، ص ۶۸،ح ۴۳ ۹۵_

۳۱۱

دينى حكومت كے اہلكاروں كے فرائض

دينى حكومت كے مادى اور معنوى اہداف كا حصول اس كے حكّام اور اہلكاروں كے كندھوں پر سنگين ذمہ دارى ہے_ معنوى اہداف پر اسلام كى تاكيداسلامى حكّام سے ايك خاص انفرادى خصوصيات كى خواہاں ہے _ يہ بھى دينى حكومت كى ان خصوصيات ميں سے ہے ہيں جو اسے دوسرى حكومتوں سے ممتاز كرتى ہيں _ ہم يہاں اجمالى طور پر بعض فرائض كى طرف اشارہ كرتے ہيں _

۱_ تقوى الہى كى رعايت :

دينى حكومت نے روح ايمان و تقوى كى تقويت ،معارف الہى كے پھيلاؤ اور عدل و انصاف كے قيام كو اپنا ہدف قرار ديا ہے _ اسى لئے ضرورى ہے كہ حكومتى اہل كار تقوى اور عبوديت سے سرشار ہوں آشكار اور پنہان دونوں حالتوں ميں تقوى الہى كو مد نظر ركھيں ، ان كى گفتار اور كردار ايك ہو _ حضرت على اپنے ايك عامل كو خط لكھتے ہوئے فرماتے ہيں _

''آمره بتقوى الله فى سرائر امره و خفيّات عمله، حيث لا شاهد غيره و لا وكيل دونه، و أمره أن لا يعمل بشيء من طاعة الله فيما ظهر; فيخالف الى غيره فيما أسره و مَن لم يختلف سره و علانيته و فعله و مقالته ، فقد أدّى الامانة و أخلص العبادة'' (۱)

ميں انہيں حكم ديتا ہوں كہ وہ اپنے پوشيدہ امور اور مخفى كاموں ميں الله سے ڈرتے رہيں _ جہاں نہ خدا كے سوا كوئي گواہ ہے اور نہ اس كے سوا كوئي نگران ہے _ اور انہيں حكم ديتا ہوں كہ وہ ظاہر ميں الله كا كوئي ايسا فرمان بجانہ لائيں كہ ان كہ چھپے ہوئے اعمال اسكے خلاف ہوں _

____________________

۱) نہج البلاغہ مكتوب ۲۶_

۳۱۲

اور جس شخص كا باطن و ظاہر اور كردار و گفتار مختلف نہ ہو ، اس نے امانتدارى كا فرض انجام ديا اور الله كى عبادت ميں خلوص سے كام ليا _

تقوى كا تقاضا ہے كہ اسلامى مملكت كے حكمران ہر كام ميں الہى فرامين كو مد نظر ركھيں ، اپنى خواہشات نفسانى كو امرخدا پر ترجيح نہ ديں ، امام صادق پيشواؤں كو حق و باطل كى طرف تقسيم كرنے كے بعد اس خصوصيت كو پيشوايان حق كا طرہ امتياز قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں:

إن الائمة فى كتاب الله عزّوجلّ _ إمامان ; قال الله (تبارك و تعالي): ''و جعلناهم ائمة يهدونَ بأمرنا'' لا بأمر الناس، يقدّمون أمر الله قبل أمرهم، و حكم الله قبل حُكمهم _ قال: ( ( و جعلناهم ائمة يهدون إلى النار ) ) يقدمون أمرهم قبل أمرالله و حُكمهم قبل حكم الله ، و يأخذون بأهوائهم خلاف ما فى كتاب الله (۱)

قرآن مجيد ميں دو قسم كے ائمہ كا ذكر ہے خدا فرماتا ہے '' وجعلناہم أئمة يہدون بأمرنا ...''كہ: ہم نے انہيں پيشوابنايا جو ہمارے حكم كے مطابق راہنمائي كرتے ہيں نہ كہ لوگوں كے امر كے مطابق ، خدا كے امر كو اپنے امر پر اور خدا كے حكم كو اپنے حكم پر ترجيح ديتے ہيں _ دوسرى جگہ خداوند متعال نے فرمايا( ''و جعلنا هم ائمة يهدون الى النار'' ) ''اور ہم نے ان كو ايسے ائمہ قرار ديا جو جہنم كى طرف لے جاتے ہيں '' يہ اپنے امر كو خدا كے امر پر اور اپنے حكم كو خدا كے حكم پر ترجيح ديتے ہيں _ اور كتاب خدا كى ہدايات كے برعكس اپنى خواہشات پر عمل كرتے ہيں _

____________________

۱) كافى ج ۱ ص ۲۱۶ باب ان الائمة فى كتاب اللہ امامان ح ۲ _

۳۱۳

۲_ شائستہ قيادت :

اسلامى حكّام كے لئے پہلے مرتبہ ميں يہ ضرورى ہے كہ وہ خود لائق اور پابند افراد ہوں شائستہ اور مہذب افراد كو عہدے ديں ، اسلام و مسلمين كى مصلحت كو تمام روابط و ضوابط پر ترجيح ديں _ حضرت على نے اپنے عہد نامہ ميں مالك اشتر كو حكومتى اہلكاروں كے انتخاب كے سلسلہ ميں خاص توجہ دينے كا حكم دياہے اور مختلف پہلوؤں كو مد نظر ركھنے پر اصرار كيا ہے _

''ثمّ انظر فى أمور عُمّالك فاستعملهم اختباراً ، و لا تولّهم محاباة و اثرة ; فانّهما جماع من شُعب الجَور والخيانة، و توخّ منهم أهل التجربة و الحياء من أهل البيوتات الصالحة و القدم فى الإسلام المتقدّمة: فانّهم أكرم أخلاقاً و أصحّ أعراضاً و أقلّ فى المطامع إشراقاً و أبلغ فى عواقب الامور نظراً''

''ثم اختر للحكم بين الناس أفضل رعيّتك فى نفسك، ممّن لا تضيق به الأمور و لا تُمحكُمه الخصوم، و لا يتمادى فى الزلّة، و لا يحصر من الفيء إلى الحقّ إذا عرفه''(۱)

پھر اپنے عہدہ داروں كے بارے ميں نظر ركھنا اور انہيں اچھى طرح آزمانے كے بعد منصب دينا ، صرف رعايت اور جانبدارى كى بناپر عہدہ نہ دينا كيونكہ يہ چيزيں نا انصافى اور بے ايمانى كا سرچشمہ ہيں ، ايسے لوگوں كو منتخب كرنا جو تجربہ كار اور غيرت مندہوں ، اچھے گھرانوں سے ان كا تعلق ہو ، اسلام كے سلسلہ ميں پہلے سے ان كى خدمات ہوں ، كيونكہ ايسے لوگ بلند

____________________

۱) نہج البلاغة مكتوب ۵۳_

۳۱۴

اخلاق ،بے داغ عزت والے ہوتے ہيں حرص و طمع كى طرف كم مائل ہوتے ہيں اور عواقب و نتائج پر زيادہ نظر ركھتے ہيں _ پھر يہ كہ لوگوں كے معاملات كا فيصلہ كرنے كيلئے ايسے شخص كو منتخب كرو جو تمھارے نزديك تمھارى رعايا ميں سب سے بہتر ہو، جو واقعات كى پيچيدگيوں سے اكتا نہ جاتا ہو ، اور نہ جھگڑا كرنے والوں كے رويہ سے غصہ ميں آتا ہو ، اور نہ ہى اپنے كسى غلط نقطہ نظر پر اڑتا ہو اور نہ ہى حق كو پہچان كر اس كے اختيار كرنے ميں طبيعت پر بوجھ محسوس كرتا ہو _

۳_زہد اور سادگى :

گذشتہ سبق ميں ہم اشارہ كرچكے ہيں كہ اسلامى نقطہ نظر سے ''حكومت'' ايك سنگين ذمہ داريوں كى حامل الہى امانت ہے اور ہرگز كسى اجتماعى امتياز يا دولت سميٹنے كيلئے كوئي وسيلہ شمار نہيں ہوتى _ دوسرى طرف كمزوروں كى حمايت اور طاقتور افراد سے ستم رسيدہ اور كمزور افراد كے حق كى وصولي،اسلامى نظام كے اہداف ميں سے ہے لہذا ضرورى ہے كہ حكام اور حكومتى اہلكار فقيروں اور مظلوموں كے درد سے آشنا ہوں اور معاشى و اقتصادى لحاظ سے ان سے دور نہ ہوں _ حضرت اميرالمومنين فرماتے ہيں :

''إنّ الله جعلنى إماماً لخلقه، ففرضَ على التقدير فى نفسى و مطعمى و مَشربى و مَلبسى كضعفاء الناس، كى يقتدى الفقير بفقرى و لا يطغى الغنى غناه '' (۱)

خدا نے مجھے لوگوں كا امام بنايا ہے _ اور مجھ پر واجب قرار ديا ہے كہ ميں اپنے نفس ،كھانے پينے اور لباس ميں فقراء كى طرح رہوں تا كہ فقير ميرے فقر ميں ميرى پيروى كرے اور دولتمند اپنى دولت كى بناپر نافرمانى اور سركشى نہ كرے _

____________________

۱) كافى ج۱ ص ۴۱۰ باب سيرة الامام فى نفسہ ح۱_

۳۱۵

معلى ابن خنيس كہتے ہيں : ميں نے خاندان بنى عباس كى معاشرتى حالت اور شان و شوكت ديكھ كر خواہش كى كہ كاش امام صادق-- كو حكومت مل جاتى تا كہ ہم بھى ان كے زير سايہ ايك خوشحال اور عيش و عشرت سے بھرى زندگى گزارتے امامنے جواب ميں فرمايا :

'' هيهات، يا معلّى أما و الله ان لو كان ذاك ما كان إلا سياسة الليل و سياحة النهار و لُبس الخَشن و أكل الجَشب'' (۱)

ہرگز نہيں اے معلى خدا كى قسم اگر ايسا ہوتا (يعنى ہم حكمران ہوتے) تو تدبر شب ،دن ميں كام كاج ، كھردرے كپڑے اور سادہ كھانے كے سوا كچھ نہ ہو تا_

۴_اجتماعى امور ميں مساوات :

اسلامى معاشرہ كے صاحبان اقتدار كے فرائض ميں سے يہ بھى ہے كہ وہ دوسرے عام افراد سے اپنے آپ كو برتر اور ممتازنہ سمجھيں _قانون كے سامنے اپنے كو دوسروں كے برابر سمجھيں_لہذا اگر كسى حكومتى اہلكار سے كوئي جرم سر زدہو جائے تو دوسرے افراد كى طرح اس پر بھى خدا كى حدودجارى ہو نگى _امام صادق فرماتے ہيں :

قال أمير المؤمنين لعمر بن الخطاب : ''ثلاث ان حفظتهن و عملت بهن كفتك ما سواهن و ان تركتهن لم ينفعك شي سواهن'' قال: و ما هنّ يا أبا الحسن؟ قال: '' إقامة الحدود على القريب والبعيد، والحكم بكتاب الله فى الرضا والسخط، و القسم بالعدل بين الاحمر والاسود'' (۲)

____________________

۱) كافى ج۱ ص ۴۱۰ باب سيرة الامام فى نفسہ ح۲_

۲) وسائل الشيعہ، ج۲۷،ص ۲۱۲،۲۱۳، باب ۱، از ابواب آداب قاضى ح ۲_

۳۱۶

اميرالمومنين على نے عمر ابن خطاب سے فرمايا اگر تو نے تين چيزوں كا خيال ركھا اور ان پر عمل كيا تو تم دوسرى چيزوں سے بے نياز ہو جائوگے اور اگر ان تين چيزوں كو چھوڑديا تو كوئي دوسر ى شےء تمھيں فائدہ نہيں دے گى _پوچھا اے ابوالحسن وہ كيا ہيں ؟فرمايا :قريبى اور غير قريبى پر حدود الہى كااجرا خوشنودى و ناراضگى ميں قرآن كے مطابق حكم لگانا ،اور سرخ و سياہ كے در ميان عادلانہ تقسيم_

۵_لوگوں سے براہ راست رابطہ :

اسلام نے حكام سے يہ مطالبہ كيا ہے كہ وہ عوام كے ساتھ محبت سے پيش آئيں ،ان كى بات سنيںاور ان سے مشورہ ليں _اس سے عوام كى حوصلہ افزائي ہو گى اور حكاّم بھى ان كے دردسے آشنا ہوں گے اور ان كى مقبوليت ميں اضافہ ہو گا ارشاد خداوندى ہے :

''فبما رحمة: من الله لنْتَ لهم و لو كنت فظّاً غليظ القلب لانفضّوا من حَوْلكَ فاعف عنهم و استغفر لهم و شاورهم فى الامر'' (۱)

(اے رسول )يہ الله كا كرم ہے كہ آپ ان لوگوں كيلئے نرم ہيں _وگرنہ اگر آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو يہ آپ كے پاس سے بھاگ كھڑے ہوتے پس انہيں معاف كردو ، ان كے ليئے استغفار كرو اور معاملات ميں ان سے مشورہ كرلياكرو _

دوسرى جگہ ارشاد ہوتاہے:

''و منهم الذين يُؤذون النبيّ و يقولون هو أذن قل أُذنُ خَير: لَكُم يُؤمن بالله و يُؤمن للمؤمنين و رحمةٌ للّذين آمنوا منكم'' (۲)

____________________

۱) آل عمران آيت ۱۵۹_

۲) سورہ توبہ آيت ۶۱_

۳۱۷

ان ميں سے وہ بھى ہيں جو پيغمبر (ص) كو اذيت ديتے ہيں اور كہتے ہيں: وہ تو صرف كان (كے كچے) ہيں_ آپ كہہ ديجئے تمھارے حق ميں بہترى كے كان ہيں كہ خدا پر ايمان ركھتے ہيں ،مومنين كى تصديق كرتے ہيں اور جو تم ميں سے صاحبان ايمان ہيں ان كيلئے رحمت ہيں_

اميرالمومنين مالك اشتر كو نصيحت كرتے ہوئے فرماتے ہيں كہ اپنے اور لوگوں كے در ميان كوئي ركاوٹ قائم نہ كرنا _كيونكہ اس سے لوگوں كے بارے ميں حكاّم كى اطلاع كم ہو جاتى ہے ،حق و باطل مخلوط ہو جاتے ہيں اور حقيقت ان پر مشتبہ ہو جاتى ہے :

''فلا تطوّلنَّ احتجابك عن رعيتك فان احتجاب الولاة عن الرعية شعبة من الضيق و قلة علم بالامور ، و الاحتجاب منهم يقطع عنهم علم ما احتجبوا دونه ...'' (۱)

پس رعايا سے لمبى مدت تك روپوشى اختيار نہ كرنا _كيونكہ حكمرانوں كا رعايا سے چھپ كررہنا ايك طرح كى تنگ دلى اور معاملات سے بے خبر رہنے كا سبب ہے اور يہ روپوشى انہيں بھى ان امور پر مطلع ہونے سے روكتى ہے كہ جن سے وہ ناواقف ہيں

۶_فقر كا خاتمہ اور ضروريات زندگى كى فراہمي:

دينى حكومت كا اہم ترين فريضہ غربت كا خاتمہ اور معاشرہ كے كمزور افراد كى مادى ضروريات كا پور ا كرنا ہے_ اس بارے ميں بہت سى روايات موجود ہيں _ہم نمونہ كے طور پر صرف دو روايات كى طرف اشارہ كرتے ہيں_ رسولخدا (ص) فرماتے ہيں:

''ما من غريم ذهب بغريمه الى و ال من وُلاة المسلمين و

____________________

۱) نہج البلاغہ، مكتوب نمبر ۵۳_

۳۱۸

استبان للوالى عُسرته، إلاّ بَرأ هذا المعسرمن دينه و صار دينه على و الى المسلمين فيما يديه من أموال المسلمين '' (۱)

قرضوں كے بوجھ تلے دبا ہوا شخص جب اسلامى حاكم كے پاس جائے اور اپنى بدحالى كا ذكر كرے تو وہ اس قرض سے برى ہوجاتاہے_اس كا يہ قرض حاكم پر ہے اور وہ اسے بيت المال سے ادا كرے_

حضرت على نے ايك بوڑھے فقير كو ديكھا جو بھيك مانگ رہاتھا _ آپ نے پو چھا يہ مرد كون ہے ؟ ساتھيوں نے كہا: عيسائي ہے _حضرت نے فرمايا :''استعملتموه،حتّى اذا كبر و عجز منعتموه؟ أنفقوا عليه من بيت المال'' تم نے اس سے كام لياليكن جب يہ بوڑھا اور عاجز ہو گيا تو اسے پوچھا تك نہيں ؟ اسے بيت المال سے نفقہ عطا كرو(۲)

اسلامى حكمرانوں كے فرائض اس سے بہت زيادہ ہيں جو ہم نے يہاں بيان كئے ہيں واضح سى بات ہے كہ دينى حكومت كے معنوى اور دنيوى اہداف ميں سے ہر ايك اسلامى معاشرہ كے حكاّم پر خا ص فرائض اور ذمہ دارياں عائد كرتا ہے _

____________________

۱) مستدرك الوسائل _ ج۱۳،ص ۴۰۰ ح۱۵۷۲۳ _

۲) وسائل الشيعہ ،ج ۱۵ ،ص۶۶باب ۱۹ از ابواب جہاد العدو ،ح۱ _

۳۱۹

خلاصہ :

۱)حق كا قيام ،باطل كا خاتمہ ،عدل و انصاف كى ترويج ،حدودالہى كا اجرا ،نيكى كا حكم د ينااور برائي سے روكنا اور معارف الہى كى تعليم ، دينى حكومت كے اہم ترين اہداف ميں سے ہے _

۲)دينى حكومت كے دنيوى اہداف سے مرادوہ اہداف ہيں جو عقلائي طور پر ہر حكومت كے پيش نظر ہوتے ہيں _

۳)امن وامان كا برقرار كرنا ،سر حدوں كى حفاظت ،رفاہ عامہ كا قيام ،آباد كارى ،تعليم و تربيت كا عام كرنا اور مختلف معاشرتى امور كى اصلاح حكومت كے ا ن اہم ترين اہداف ميں سے ہيں جن كى آيات و روايات ميں بہت تاكيد كى گئي ہے _

۴)دينى حكومت كى يہ خصوصيت ہے كہ وہ اپنے دنيوى اہداف كو بھى معنوى اہداف كے زير سايہ حاصل كرتى ہے_

۵)دينى حكومت كے اہداف خصوصاً معنوى اہداف كا حصول حكومتى اہل كاروں پر سنگين ذمہ دارى لاتا ہے_

۶)تقوى الہى كى رعايت ،شائستہ قيادت ،زہد وسادگى اور قانون كے سامنے سب كا برابر ہونا دينى حكومت كے اہل كاروں كے اہم ترين فرائض ميں سے ہيں _

۳۲۰

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367