اسلامی نظریہ حکومت

اسلامی نظریہ حکومت15%

اسلامی نظریہ حکومت مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 367

اسلامی نظریہ حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 367 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 139015 / ڈاؤنلوڈ: 3492
سائز سائز سائز
اسلامی نظریہ حکومت

اسلامی نظریہ حکومت

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

اسلامی نظریہ حکومت کے بارے میں بتیس سبق

مصنف : علی اصغر رضوانی

۳

پہلا باب :

دين اور سياست

سبق نمبر ۱: سياست اور اس كے بنيادى مسائل

سبق نمبر ۲: اسلام اور سياست

سبق نمبر ۳: دينى حكومت كى تعريف

سبق نمبر ۴ : سياست ميں حاكميت دين كى حدود

سبق نمبر ۵: دينى حكومت كے منكرين

سبق نمبر ۶: سيكولرازم اور دينى حكومت كا انكار

سبق نمبر ۷،۸: دينى حكومت كى مخالفت ميں كى ادلّہ

۴

تمہيد:

''دين اور سياست كا باہمى تعلق '' گذشتہ چند عشروں سے اسلامى معاشروں ميں ايك اہم ترين فكرى بحث كے طور پر سامنے آياہے _ ايران ميں ا سلامى انقلاب كى كاميابى اور اسلامى جمہورى نظام كى تشكيل نے اس بحث كو مزيد وسعت دى ہے _ اوراسلامى حكومت كو بہت سے لكھاريوں اور مفكرين كى توجہ كا مركز بنادياہے _

دينى حكومت كے مختلف پہلو قابل غور ہيں _ پہلے باب ميں ہمارى كوشش يہ ہے كہ ''دين اور سياست كے باہمى تعلق'' كے مختلف پہلوؤں كو اختصار كے ساتھ واضحكريں اور دينى حكومت كى ايك واضح تصوير آپ كے سامنے پيش كريں_ دينى حكومت كے تصور كوموجودہ دور كے بعض سياسى مفكرين كى شديد مخالفت كا سامنا ہے لہذا اس باب ميں ہم انكى مخالفت كى مختلف قسموں كاجائزہ ليتے ہوئے ان ميں سے بعض كى ادلة كے جواب ديں گے_

۵

پہلا سبق :

سياست اور اس كے بنيادى مسائل

انسان ايك اجتماعى موجودہے كيونكہ عاطفى ، اقتصادى اور ثقافتى ضروريات اسے ايك اجتماعى اور معاشرتى زندگى گزارنے پر مجبور كرتے ہيں _ گھرانہ ، خاندان ، قبيلہ، ديہات، شہر ، ملك اور قوم و ملت تمام اجتماعى زندگى كے مختلف جلوے ہيں اجتماعى زندگى ميں تمام افراد كے منافع اور ضروريات ايك دوسرے كے ساتھ مربوط ہوتے ہيں _ بنابريں ايسے موارد بھى آتے ہيں كہ جن كا تعلق پورے معاشرہ كے ساتھ ہوتاہے _ اور ہر فرد اپنے طور پر تنہا ان كے متعلق فيصلہ نہيں كرسكتا_

مثال كے طور پر اگر ہم ايك قبيلہ كو مدنظر ركھيں تو اگر چہ اس كا ہر فرد اپنے طور پر اپنے كچھ ذاتى مسائل كا فيصلہ كرسكتاہے اور اپنے ذاتى فيصلےكے مطابق عمل كر سكتاہے_ ليكن كسى دوسرے قبيلہ كے ساتھ جنگ يا صلح جيسے مسائل ميں اپنى انفرادى رائے كے مطابقفيصلہ نہيں كرسكتا_ كيونكہ جنگ يا صلح ايسے مسائل ہيں جوپورے معاشرے كے ساتھ مربوط ہيں نہ كہ انفرادى مسائل كہ معاشرے كا ہر فرد انفرادى طور پر ان كے متعلق فيصلہ كرے اور اپنى ذاتى تشخيص كے مطابق عمل كرے _

يہ حقيقت ہے كہ چھوٹے بڑے ہر معاشرے ميں كچھ اجتماعى مسائل اور مشكلات ہوتى ہيں كہ جن كے حل

۶

كرنے كيلئے اجتماعى فيصلوں كى ضرورت ہوتى ہے اور اسى حقيقت نے انسان كو'' رياست و حكومت ''كے قبول كرنے كى طرف راغب كيا ہے _ طول تاريخ ميں جہاں پر بھى انسانى معاشرہ رہاہے ''رياست اور حكومت'' كا وجود بھى اسكے ہمراہ رہاہے_ہر معاشرے نے چاہے وہ جس شكل ميں بھى ہو_ اپنے اجتماعى امور كى تدبير كيلئے ايك فرد يا چند افراد كو رئيس ، حاكم، امير، والى ، سلطان اور بادشاہ ايسے مختلف عناوين كے تحت قبول كيا ہے _

ہر انسانى معاشرے ميں ايك يا چند افراد ''سياسى اقتدار ''كے حامل ہوتے ہيں _ اور اس كے اجتماعى امور كى تدبير اور اجتماعى زندگى كے مختلف امور كو انجام دينا ان كى ذمہ دارى ہوتى ہے _ بنابريں ''سياست''(۱) كى يوں تعريف كى جاسكتى ہے :

'' سياست'' يعنى ايك معاشرے كے بڑے بڑے مسائل و مشكلات كے بارے ميں فيصلہ كرنا اور انكى تدبير كرنا_ يہ سرپرستى اس معاشرے كى مشكلات كو رفع كرنے ، مختلف امور كو منظم كرنے ، منصوبہ بندى اور اسكے اجراء كو شامل ہے _

____________________

۱)سياست لفظ '' سوس'' سے نكلاہے_ جس كے لغوى معنى رياست ، پرورش، سزا دينا اور رعايا كے امور كى ديكھ بھال كرنا ہے_

ابن منظور كہتے ہيں: السوس: الرياسة ،يقال: ساسوہم سوساً و ساس الا مرَ سياسة قام بہ (لسان العرب ج۶ ص ۱۰۸ ''سوس'')_

فيروز آبادى كہتے ہيں : سُستُ الرّعية سياسة : امرتہا و نہيتہا و سُوّسَ فلانٌ ا مرَ الناس صُيّر ملكاً (القاموس المحيط ص ۷۱۰ '' سوس'') سياسى لغت ناموں ميںسياست كى مختلف تعريفيں كى گئي ہيں ان ميں سے بعض كى طرف ہم اشارہ كرتے ہيں _

الف: انسانى معاشروں پر حكومت كرنے كے فن كو'' سياست'' كہتے ہيں _

ب:مختلف مسائل كے حل كے بارے ميں فيصلہ كرنا_

ج:ملكى امور كے انتظام كيلئے حكومت جن تدابير كو كام ميں لاتى ہے انہيں سياست كہتے ہيں _

د:اجتماعى امور كو منظم كرنے كيلئے حكومت جس طاقت كو بروئے كار لاتى ہے اس كے علم كو سياست كہتے ہيں _

۷

'' سياست'' كے بہت سے ديگر معانى بھى ہيں بطور مثال اگر ہم سياست كے عملى پہلو كو مدنظر ركھيں تو كہہ سكتے ہيں : سياسى قدرت كو حاصل كرنے كيلئے كوشش اور اسكى حفاظت اور تقويت كرناسياست كہلاتاہے_

اگر ہم سياست كے فكرى اور نظرياتى پہلو كو ديكھيں تو پھر يوں تعريف كرسكتے ہيں : سياسى طاقت حكومتى ڈھانچہ اور سياسى حكومت ميں مختلف گروہوں كے باھمى تعلقات كا مطالعاتى جائزہ، سياست كہلائے گا _

بہر حال سياست ، سياسى اقتدار سے متعلقہ ابحاث اور اجتماعى امور كى تدبير ہميشہ سے صاحبان فكر كى توجہ كا مركز رہى ہيں _ افلاطون كى كتاب '' جمہوريت ''، ارسطو كى كتاب'' سياست'' اور ابو نصر فارابى كى كتاب ''مدينہ فاضلہ'' اس بات كى شاہد ہيں كہ عظيم مفكرين كے نزديك سياست كے موضوع كو ہميشہ بڑى سنجيدگى سے ليا گيا ہے_ انسانى معاشروں كے دن بدن پيچيدہ ہونے اور ان كے ايك دوسرے كے ساتھ بڑھتے ہوئے سياسى ، اقتصادى اور ثقافتى تعلقات نے سياسى ابحاث كو مزيد اہميت كا،حامل بنادياہے اور انكى وسعت ميں مزيداضافہ كردياہے_

علم سياست اور سياسى فلسفہ(۱)

عنوان '' سياست'' كے تحت داخل مسائل بہت مختلف اور متنوع ہيں_'' علم سياست'' ، ''سياسى فلسفہ'' ، ''سياسى آئيڈيالوجي'' اور ''سياسى تجزيہ'' جيسے الفاظ ميں سے ہر ايك سياست كے ساتھ مرتبط مختلف امور كى تحقيقات اور مطالعات كے ايك گوشے كى طرف اشارہ ہے _ ان ميں سے بعض مطالعات عملى مباحث كے

___________________

۱) political philosophy

۸

ساتھ مختص ہيں جبكہ بعض كا تعلق نظرياتى پہلوسے ہے_ اس تنوع اور وسعت كا راز يہ ہے كہ سياسى سوالات اور سياسى افكار بہت ہى مختلف اقسام كے ہيں اور علم سياست كا ايك شعبہ ان تمام سوالات اور ضروريات كا جواب نہيں دے سكتا _ بعض سياسى سوالات اور احتياجات كا تعلق عمل سے ہے_ مثلا ايك ملك كے سياسى ماہرين اور سياستدان جاننا چاہتے ہيں كہ ہمسايہ اور دوسرے ممالك سے تعلقات قائم كرنے ميں انكا موقف كيا ہونا چاہيے اور عالمى سطح پر بين الاقوامى تعلقات كو كس طرح استوار كريں تو اس كيلئے ان كے پاس عالمى اور بين الاقوامى سطح پر قائم سياسى اقتدار اور طاقتوں كے متعلق اسى طرح جامع تجزيہ ہونا چاہيئےہ جس طرح قومى سطح پر ان كے لئے علاقہ كى سياست كے پيچ و خم سے آگاہ ہونا ضرورى ہے _ پس عالمى اور علاقائي حالات سے آگاہ ہونے كے بعد اپنے سياسى اہداف اور قومى منافع كو متعين كريں اور انتہائي دقت نظر سے طے كريں كہ ان كے دراز مدت اورمختصر مدت مفادات كونسے ہيں اس مرحلے كے بعد اگلے مرحلے ميں وہ اپنے سياسى اہداف كے حصول كيلئے ايك منظم لائحہ عمل تيار كريں اور وسيع پيمانے پر منصوبہ بندى كريں اور پھر بڑى باريك بينى سے انہيں عملى جامہ پہنائيں_

اس قسم كے سياسى مطالعات جو عملى پہلو كے حامل ہيں_'' علم سياست''، ''سياسى تجزيہ و تحليل'' اور'' لشكرى و فوجى مطالعات ''(۱) جيسے شعبوں كے ساتھ مماثلت ركھتے ہيں _ اور ان فنون اور شعبوں پر مسلط ہونا اس قسم كے سوالات اور مسائل كے جواب دينے كيلئے مفيد ثابت ہوسكتے ہيں_

دوسرى قسم كے سياسى سوالات اور مسائل كا تعلق علمى اور نظرياتيپہلو سے ہے_ عملى پہلوكى نسبت علمى پہلو عالَم سياست ميں بنيادى اور اساسى حيثيت ركھتا ہے_ يہاں پر ہم اس قسم كے چند سوالات كى طرف اشارہ كرتے ہيں_

____________________

۱) Strategie studies

۹

بنيادى طور پر ہميں حكومت كى احتياج كيوں ہے؟

حكومت كرنا كن افراد كا حق ہے؟

حكمرانوںاور سياسى اقتدار كے حاملين كى اطاعت كيوں ضرورى ہے؟

عوام كے مقابلے ميں حكمرانوں كے فرائض كياہيں؟

حكومت كے اہداف كيا ہونے چاہئيں؟

حكومت كس حد تك عوام كى آزادى كو محدود كرنے كا حق ركھتى ہے؟

كيا حكومت صرف مادى فلاح و بہبود اور امن و امان كى ذمہ دار ہے؟ يا معاشرے كى خوشحالى اوراسكي

روحانى ضروريات كو پورا كرنے كى بھى ذمہ دار ہے؟

معاشرہ كى خوشحالى اور خير و بركت سے كيا مراد ہے؟ اور اس كا معيار كيا ہے؟

معاشرتى امور كو چلانے اور انكى منصوبہ بندى كرنے ميں معاشرتى انصاف كا كيا كردار ہے؟

معاشرتى انصاف اور اقتصادى و انفرادى آزادى كے در ميان تضاد اور ٹكراو كى صورت ميں كسے ترجيح دى جائے گى ؟

اس قسم كے بنيادى سوالات كى تحقيق '' سياسى فلسفہ'' ميں كى جاتى ہے_

مختلف سياسى مكاتب كہ جنہيں ہم ''سياسى افكار و نظريات'' سے تعبير كرتے ہيں انہى سوالات كے جوابات كى بنياد پر تشكيل پاتے ہيں_ دوسرے لفظوں ميں ہر سياسى مكتب كى بنياد ايك مخصوص سياسى نظريہ ( سياسى فلسفہ) پر ہوتى ہے _ مثال كے طور پر'' لبرل ازم''(۱) ايك سياسى مكتب فكر ہے _ وہ ان سوالات كے

____________________

۱) Liberalism

۱۰

ايسے جواب ديتے ہيں جو بعض جہات سے دوسرے سياسى مكتب فكر مثلا اشتراكيت (۱) كى تعليمات سے بالكل مختلف ہوتے ہيں _ لبرل ازم فردي، اقتصادى اور ثقافتى آزادى كا حامى ہے_ اور اس نظريے كا قائل ہے كہ معاشرتى انصاف كے بہانے، ذاتى مالكيت اور اقتصادى آزادى پر قدغن نہيں لگايا جاسكتا_ لبرل ازم كى نظر ميں حكومت كے اختيارات محدود ہونے چاہيں_ حكومت كا كام صرف رفاہ عامہ ، امن و امان قائم كرنا اورانسانى حقوق كے بنيادى ڈھانچے كى حفاظت كرنا ہے _ سعادت ، خوشبختى ، معنويات اور اخلاقيات كا تعلق انسان كى انفرادى زندگى كے ساتھ ہے _ يہ حكومت كے فرائض ميں شامل نہيں ہيں _ اس كے مقابلہ ميں سوشلزم كہتاہے: معاشرتى انصاف كا قيام حكومت كى سب سے بڑى اور اہم ذمہ دارى ہے اسى لئے اقتصادى امور حكومت كے كنٹرول ميں ہونے چاہيں جبكہ ذاتى مالكيت يا تو بہت محدود ہونى چاہيے ياپھر اسكا سرے سے ہى خاتمہ كردينا چاہيے_يہاں پردو نكات كى وضاحت ضرورى ہے_

۱ : علم سياست اور سياسى تجزيہ و تحليل كے ساتھ مربوط بہت سے مسائل ہميشہ جديد اور تبديل ہوتے رہتے ہيں كيونكہ عالمى سطح پر حكومتيں اور سياسى تعلقات بدلتے رہتے ہيں_

اقتصادى ، ثقافتى اور سياسى تبديلياںعلاقائي اور عالمى سياست پر اثر انداز ہوتى ہيں جس كے نتيجہ ميں سياسى ماہرين كو ہميشہ نت نئے سوالات اور مسائل كا سامنا كرنا پڑتا ہے_ ليكن ''سياسى فلسفہ''كے متعلقہ مسائل

ميں كوئي تبديلى نہيں ہوتى يہ اساسى اور مخصوص مسائل ہوتے ہيں كہ جن سے سياسى ماہرين دوچار رہتے ہيں_

ہر سياسى ماہر جب اپنے مخصوص نظريات كے تحت ان سوالات كا جواب ديتا ہے تو اس سے ايك سياسى نظريہ يا مكتب تشكيل پاتا ہے_ لہذا ملكى يا بين الاقوامى سياست ميں تبديلى آنے سے يہ سياسى مكاتب تبديل نہيں ہوتے_

____________________

۱) socialism

۱۱

۲: ''سياسى فلسفہ'' كے دائرہ ميں بہت سے سوالات آتے ہيں_ جيسا كہ اوپر اشارہ ہوچكا ہے كہ ان سوالات كے جو جواب ديئے جاتے ہيں انہى كى بنياد پر سياسى مكاتب تشكيل پاتے ہيں اورا سى بنياد پر ان كى شناخت ہوتى ہے _ ليكن اس كا مطلب يہ نہيں ہے كہ ان مختلف سياسى مكاتب ميں كوئي وجہ اشتراك نہيں ہے اور سياسى فلسفہ كے تمام مسائل كے جوابات ايك دوسرے سے بنيادى فرق ركھتے ہيں_ ممكن ہے كہ ايك سياسى مكتب كى دوسرے سياسى مكاتب سے عليحد گى اورامتياز صرف ايسى ہى بعض مباحث ميں ہو_ اور بعض ديگر جہات سے وہ دوسرے سياسى مكاتب سے اتفاق نظر ركھتا ہو _ مثلا '' اشتراكى جمہوريت '' (۱) اور '' آزاد جمہوريت''(۲) جو كہ سياسى نظريات كے عنوان سے دو رقيب مكتب فكر ہيں ، اس نكتہ پر متفق ہيں كہ جمہوريت اور را ے عامہ سياسى حاكميت كے جواز كى بنياد ہے اور حكومت و حكمران كا انتخاب عوام كى را ے كى بنياد پر ہونا چاہيے اور ان دو مكاتب ميں اختلافى نكتہ يہ ہے كہ پہلا مكتب فكر معاشرتى عدل و انصاف پر زور ديتا ہے اور دوسرا شخصى آزادى و خصوصى مالكيت پر، ايك اشتراكيت كى بات كرتا ہے اور دوسرا انفراديت كى _

____________________

۱) Social Democracy

۲) Liberal Democracy

۱۲

خلاصہ

۱) ''رياست'' انسان كى اجتماعى زندگى كا جزء لاينفك ہے _ ہر معاشرہ اپنے اجتماعى امور كے نظم و تدبير كيلئے ايك يا چند افراد كے سياسى اقتدار كو تسليم كرتا ہے_

۲)'' سياست'' يعنى معاشرتى امور كى تدبير ، ہميشہ سے مفكرين كى توجہ كا مركز بنى ہوئي ہے_

۳) دنيائے سياست كے مختلف شعبے ہيں_ اسى لئے علم و تفكر كے متعدد گوشے اس كے مسائل كے ساتھ مربوط ہيں_

۴) علم سياست ، سياسى تجزيہ و تحليل اور سياسى نظريات كا عملى سياست كى مباحث كے ساتھ گہرا تعلق ہے_

۵)''سياسى فلسفہ ''سياست كى علمى اور بنيادى مباحث كو زير بحث لاتا ہے_

۶) ہر سياسى مكتب اور نظريہ كى بنياد ايك مخصوص سياسى فلسفہ پر ہوتى ہے_

۷) عملى سياست كو ہميشہ نت نئے مسائل اورموضوعات كا سامنا كرنا پڑتا ہے_ جبكہ سياسى فلسفہ كے متعلقہ مسائل ہميشہ ثابت اور استوار ہوتے ہيں_

۸) ممكن ہے مختلف سياسى مكاتب فكر سياسى فلسفہ كے بعض مسائل ميں ايك ہى را ے ركھتے ہوں_

۱۳

سوالات :

۱) كيا وجہ ہے كہ ہر انسانى معاشرہ ''حكومت اور سياسى اقتدار ''كا حامى اور خواہشمند ہوتا ہے؟

۲) سياست كى تعريف كيجئے؟

۳)علمى سياست كا كونسا شعبہ عملى سياست كے شعبوں كى تحقيق و بررسى كرتا ہے؟

۴) چند ايسے سوالات ذكر كيجئے جن كا جواب ''سياسى فلسفہ'' ديتا ہے؟

۵) لبرل ازم ايك سياسى مكتب فكر كے عنوان سے كن امور كا دفاع كرتا ہے؟

۶) روز مرہ كے سياسى اور اقتصادى تحولات سياسى مطالعات كے كس شعبہ پر اثر انداز ہوتے ہيں؟

۱۴

دوسرا سبق :

اسلام اور سياست

حكومت ايك اجتماعى ضرورت ہے_ چونكہ انسانى معاشرہ ايسے افراد سے تشكيل پاتاہے كہ جنكے مفادات ، تعلقات اور طرزتفكر متضاد اور متعارض ہيں لہذا اسے ايك حكومت كى ضرورت ہے_ انسانى اجتماع چاہے وہ ايك محدود اور مختصر شكل ميں ہى كيوں نہ ہو جس طرح ايك قبيلہ يا ديہات ، اُس ميں بھى رئيس و مرئوس (حاكم اور رعيت) كى ضرورت ہے _ مفادات كا ٹكراؤ ، باہمى تنازعات ، حق تلفى اور امن عامہ كو خراب كرنے والے عناصر ، ايسے عوامل ہيں جو ان امور كى ديكھ بھال كرنے والى اور نظم ونسق كو برقرار ركھنے والى مركزيت كا تقاضا كرتے ہيں _بنابريں اس مركزيت كے بغير كہ جسے ہم حكومت يا رياست كہتے ہيں معاشرہ نامكمل رہے گا اور اپنى بقا سے بھى ہاتھ دھو بيٹھے گا _ يہمركزيت سياسى اقتدار ،قوت فيصلہ اورقدرت امر و نہى كى حامل ہو گي_

جب خوارج نے اپنے فكرى انحطاط اور شورش طلب انداز ميں لا حكم الاللہ ( خدا كے سوا كسى كا حكم قابل قبول نہيں) كا نعرہ بلند كيا اور اسلامى معاشرے كيلئے حكومت و حكمرانى كى نفى اور اپنے اوپر صرف خدا كى حكومت كے خواہاں ہوئے تو اميرالمؤمنين نے فرمايا:

۱۵

انه لا بد للناس من امير برّ: اوفاجر ، يعمل فى امرته المؤمن ، و يَستمتعُ فيها الكافر، و يُبَلّغُ الله فيها الاجل، و يُجمع به الفيء ، و يقاتلُ به العَدو، و تأمن به السُبُل ، و يُؤخذ به الضعيف من القويّ، حتى يَستريحَ برّ ، و يستراح من فاجر (۱)

لوگوں كيلئے ايك حاكم كاہونا ضرورى ہے _ خواہ وہ اچھا ہو يا برا _ تا كہ مومن اس كے زير سايہ اپنے كام انجام دے سكے _ اور كافر اس كے عہد ميں لذائد سے بہرہ مند ہوگا _ اللہ تعالى اس نظام حكومت ميں ہر چيز كو اس كى آخرى حدوں تك پہنچا دے گا اسى حاكم كى وجہ سے مال غنيمت جمع ہوتا ہے، دشمن سے لڑا جاتا ہے، راستے پر امن رہتے ہيں،قوى سے كمزور كا حق دلايا جاتا ہے، يہاں تك كہ نيك لوگ خوشحال اور برے لوگوں سے امان پاتے ہيں _

امير المؤمنين كا يہ فرمان حكومت كے ضرورى ہونے كى نشان دہى كرتا ہے_ اور اس بات كا عند يہ ديتاہے كہ انسانى معاشرے كيلئے حكومت كى اتنى اہميت ہے كہ ايك غاصب اور فاجر و فاسق كى حكومت بھى معاشرہ كى بد امنى اور فقدان حكومت سے بہتر ہے كيونكہ حكومت اگر چہ فاسق و فاجر كى ہى كيوں نہ ہو بعض اجتماعى نقائص اور خاميوں كو چھپا ديتى ہے _ اور بعض اجتماعى ضروريات كو پورا كر تيہے _

قرآن و حديث كے مطالعہ سے واضح ہوجاتا ہے كہ اسلام نے ايك دينى فرمان يا حكم كے تحت مسلمانوں كو حكومت كى تشكيل كى دعوت نہيں دى كيونكہ لوگ خود بخود حكومت كى تشكيل كرتے ہيں اور اس كيلئے

____________________

۱) نہج البلاغہ خطبہ ۴۰_

۱۶

انہيں كسى دعوت ، ترغيب يا نصيحت كى ضرورت نہيں ہے اس نكتے كى طرف عظيم مفكر اور فيلسوف علامہ طباطبائي نے اپنى كتاب تفسير الميزان ميں اشارہ فرماياہے: قطعى طور پر لوگ اپنے معاشرے ميں حكومت اور رياست كے قائل ہيں _ اور اپنے انتظامى امور كيلئے ايك يا چند افراد كو سياسى اقتدار سونپ ديتے ہيں _ اسى لئے قرآن كريم نے لوگوں كو حكومت كى تشكيل كى دعوت نہيں دى بلكہ اسے ان ضرورى و بديہى امور ميں سے لياہے كہ جن ميں كسى دعوت يا تشويق كى ضرورت نہيں ہے _ وہ چيز جس كى طرف قرآن كريم لوگوں كو دعوت ديتاہے وہ محور دين پر اجتماع و اتفاق ہے_ (۱)

اس كے باوجود كيا حكومت اور سياست انسانى معاشرے كى ايك واقعى ضرورت كے عنوان سے دين اسلام كى مورد توجہ قرار نہيں پائي؟ يہ دين جس نے خود كو دين كامل اور خاتم الاديان كہا ہے، كيا يہ اس حقيقت سے آنكھيں بند كر كے گزرگيا اور اس كے متعلق كوئي ہدايت يا فرمان جارى نہيں كيا ؟ كيا اسلامى تعليمات صرف انسان كى انفرادى زندگى اور اس كے خدا كے ساتھ تعلق تك محدود ہيں؟ كيا اس دين مبين نے اجتماعى تعلقات ، معاشرتى امور كا نظم ونسق اور سياست و حكومت كوخود لوگوں كے حوالے كر دياہے؟ كيسے مان ليا جائے كہ وہ دين كامل جس نے پيدائشے سے ليكر وفات تك انسان كى زندگى كى بہت سى جزئيات ميں ہدايت و راہنمائي كى ہے، اس نے حكومت اور معاشرے كے نظم و نسق جيسے اہم امور جو كہ انسان كى شخصيت اور سعادت ميں اہم كردار ادا كرتے ہيں، كے متعلق كچھ نہيں كہا اور ان كے متعلق كسى قسم كا اظہار نظر نہيں كيا_

يہ تمام سوالات در حقيقت ايك سوال كو جنم ديتے ہيں كيا اسلام سياسى فكر كا حامل ہے ؟ اس سوال كے مثبت جواب كا مطلب يہ ہے كہ اگر چہ اصل حكومت كے بديہى ہونے كى وجہ سے اسلام نے اسے بيان

____________________

۱) تفسير الميزان ج ۳ ، ص ۱۴۴، ۱۴۹_ سورہ آل عمران آيت ۲۶ كے ذيل ميں_

۱۷

كرنے كى ضرورت محسوس نہيں كى ليكن اس كے متعلق اظہار نظر كيا ہے كہ حكومت كيسے كى جائے اور حكمرانى كا حق كسے حاصل ہے _ جس طرح اسلام نے گھريلو اور اجتماعى زندگى ميںلوگوں كے باہمى روابط كو بيان كيا ہے اسى طرح حكومت و سياست ميں حكمرانوں اور عوام كے باہمى تعلق اور ہر ايك كے حقوق اور ذمہ داريوں كو بھى بيان فرمايا ہے_

بنا بر يں معاشرتى اور سياسى ميدان سے اسلام كو حذف كرنا اوراسے ا نفرادى زندگى اور گوشہ نشينى كى طرف مائل كرنے والا دين قرار دينا اسے اپنى حقيقت سے جدا كرنے كے مترادف ہے _ اسلامى جمہوريہ ايران كے بانى امام خمينى (رح) ان بلند پايہ علماء اور فقہاء ميں سے تھے جنہوں نے اسلام كے اجتماعى اور معاشرتى پہلو پر خاص توجہ دى اور اس بات پر مصر تھے كہ اسلام كو راہبانہ دين قرار دينا در حقيقت اغيار اور استعمارى طاقتوں كى سازش ہے جن كى كوشش ہے كہ اس فكر كے ذريعہ اسلامى ممالك كى پسماندگى كے اسباب فراہم كئے جائيں_ امام خمينى فرماتے ہيں

اسلام ان مجاہدين كا دين ہے جو حق و عدالت كے خواہاں ہيں ان لوگو ں كا دين ہے جو آزادى اور استقلال كے چاہنے والے ہيں ، يہ استعمار كے خلاف جہد و جہد كرنے والوں كا مكتب ہے _ ليكن انہوںنے اسلام كوايك اور طرح سے پيش كيا ہے اورپيش كرتے ہيں _ لوگوں كے ذہنوں ميں اسلام كا غلط تصور ڈالا ہے علمى مدارس ميں اس كى شكل مسخ كركے پيش كى گئي ہے ، تا كہ اسلام كى جاودانى اور انقلابى خصوصيات كو اس سے چھين ليا جائے _ مثلا يہ تبليغ كر رہے ہيں كہ اسلام معاشرتى دين نہيں ہے ، دين حيات نہيں ہے، اس كے پاس معاشرتى نظام نہيں ہے ، كوئي قانون نہيں ہے ، كوئي حكومتى دستور نہيں ہے اور نہ ہى حكمرانى كا كوئي لائحہ عمل ہے(۱) _

____________________

۱) ولايت فقيہ ، ص ۴_

۱۸

سياست ميں اسلام كے دخيل ہونے كى ادلّہ

اسلام ايك اجتماعى اور معاشرتى دين ہے ، اس كى حكومت و فرمانروائي انفرادى زندگى سے وسيع ترہے اوريہ مختلف اجتماعى اور سياسى روابط پر مشتمل ہے _ اس مدعا كو دو دليلوں سے ثابت كيا جا سكتا ہے _

الف _ استقرائي روش كے ساتھ ہم كتاب و سنت ميں غور كرتے ہيں اور مختلف فقہى ابواب ميں دينى تعليمات كا مطالعہ كرتے ہيں _ اس تدريجى اور ہمہ گير جستجو سے واضح ہو جائے گا كہ بعض صوفيانہ اور راہبانہ اديان جيسے بدھ مذہب او رعيسائيت كے بعض فرقوں كى طرح كيا اسلام بھى ايك انفرادى دين ہے كہ جس كا معاشرتى اور اجتماعى امور سے كوئي تعلق نہيں ہے ؟يا عبوديت ، خدا كے سامنے انسان كى بندگى كى كيفيت كے بيان ، لوگوں كے با ہمى تعلقات ، اخلاقيات او رمعنوى زندگى كے بيان كرنے كے ساتھ ساتھ اسلام نے انسان كى اجتماعى زندگى كے مختلف پہلوؤں كے بارے ميں بھى اظہار نظر كيا ہے اور انسان كى اجتماعى زندگى كے مختلف ابعاد ميں سے ايك ،مسئلہ حكومت و سياست بھى ہے _اس طرز جستجو كو ہم'' روش درون ديني'' كا نام ديتے ہيں كيونكہ اس ميں ہم اپنے سوال كا جواب براہ راست اندرون و باطن دين يعنى قرآن و سنت جو كہ اس كے اصلى منابع ہيں سے دريافت كريں گے _

ب_ سياست اور اجتماعى زندگى ميں اسلام كے دخيل ہونے كے اثبات كا دوسرا طريقہ اس دين مبين كے بعض اوصاف اور خصوصيات كے ساتھ تمسك ہے _ اسلام كابعض خصوصيات سے متصف ہونا ، مثلا يہ دين كامل ہے ، دين خاتَم ہے ، اس كى آسمانى كتاب يعنى قرآن كريم ہرشئے كى وضاحت كرنے والى ہے(۱) اور ان تمام امور پر مشتمل ہے جن پر انسان كى ہدايت اور سعادت موقوف ہے اس كا عقلى اور منطقى لازمہ يہ ہے

____________________

۱) سورہ نحل آيت ۸۹_

۱۹

كہ يہ دين اجتماعى امور ميں دخالت ركھتاہے _ اس استدلال سے معلوم ہوتاہے كہ كمال دين اوراس كے قلمرو ميں حكومت اور اجتماعى امور كا داخل ہونالازم و ملزوم ہيں _ اوراجتماعى امور اور سياست ميں دين كا راہنمائي نہ كرنا اس كے ناقص ہونے كى دليل ہے _اس دوسرے طرز استدلال كے بارے ميں ہم آئندہ مزيد گفتگو كريں گے _ يہاں صرف پہلے طرز استدلال يعنى روش جستجو (استقرائي روش) پرروشنى ڈالتے ہيں _

۱۳۴۸ ھ ش ميں نجف اشرف ميں جب امام خمينى نے دينى حكومت كے متعلق ابحاثكيں تو اسى پہلے طريقے سےسياست او راجتماعى امور ميں اسلام كى دخالت پر استدلال كيا_ انہوں نے اس نكتہ پر زور ديا كہ اسلامى قوانين اور شرعى احكام كى ماہيت اور كيفيت بتاتى ہے كہ يہ قوانين اسلامى معاشرہ كے سياسى ، اقتصادى اور ثقافتى امور كو منظم كرنے كيلئے بنائے گئے ہيں اور يہ احكام حكومت كى تشكيل كے بغيرقابل اجرا نہيں ہيں _ اس قسم كے احكام كے اجرا كيلئے مسلمانوں كى شرعى ذمہ دارى ہے كہ وہ ايك حكومت تشكيل ديں _ اس قسم كے احكام اسلامى فقہ كے تمام ابواب ميں بكھرے ہوئے ہيںبطور نمونہ ايسے بعض احكام كى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرماتے ہيں:

ان ميں سے ايك مورد ''اسلام كے مالى احكام'' ہيں _ اسلام ميں جو ماليات مقرر كئے گئے ہيں وہ صرف غرباء اور سادات كى ضروريات پورى كرنے كيلئے نہيں ہيںبلكہ ايك عظيم حكومت كى تشكيل او راس كے ضرورى اخراجات پورے كرنے كيلئے بھى ہيں كيونكہ وہ اموال جن كا تعلق مسلمانوں كے بيت المال سے ہے ان ميں سے ايك ''خمس '' ہے _ فقہ اہلبيت كے مطابق زرعى منافع ،كاروبار، زمين كے اوپر اور زمين كے نيچے موجود تمام ذرائع آمدنى ميں سے اور بطور كلى ہر قسم كے فائدے اور منفعت ميں سے عادلانہ طور پر خمس ليا جاتاہے _ واضح سى بات ہے كہ اس قدر كثير در آمد ايك اسلامى مملكت كو چلانے اور اس كے مالى اخراجات كو پورا كرنے كيلئے ہے وگرنہ اس قدر سرمايہ فقيرسادات كى ضروريات سے بہت زيادہ ہے _ اس قدر وسيع بجٹ

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

مبارزت: مبارزت كا خوف ١٧

مجاہدين : احد كے مجاہدين ٢

مسلمان : ١ ، ٦ ، ٧ صدر اسلام كے مسلمان ١٠;مسلمانوں كى شكست ٤

منافقين : منافقين كا اعتراض ٧ ; منافقين كاسلوك ٨، ٩; منافقين كا غم و اندوہ ٥;منافقين كى بہانہ تراشى ٩; منافقين كى جانب سے قدر و قيمت كا اندازہ ٦;منافقين كى حسرت ٥ ;منافقين كى خصوصيات ١٢; منافقين كى خودپسندى ١٢ ;منافقين كى خوشنودى ٣; منافقين كى رخنہ اندازى ٨، ٩;منافقين كى سازش،١; منافقين كى سرزنش ٦;منافقين كى سوچ و فكر ٢ ، ٣ ، ١١ ، ١٣ ، ١٦ ، ١٨; منافقين كى كمزورى ١٨

موت: موت كا سرچشمہ١٤;موت كا مقرر ہونا ١٥ ، ١٧

آیت (۱۶۹)

( وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ) اور خبردار راہ خدا ميں قتل ہونے والوں كو مردہ خيال نہ كرنا وہ زندہ ہيں اور اپنے پروردگار كے يہاں رزق پار ہے ہيں _

١_ بعض لوگوں كى طرف سے راہ خدا ميں قتل ہونے والے (شہدائ) كو مردہ خيال كيا جانا اور خداوند متعال كا اس قسم كے خيال سے نہى فرمانا_و لاتحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله أمواتا

٢_ شہداء كے پسماندگان اور مؤمنين كى خداوند متعال كى جانب سے تسلى و تشفي_و لاتحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله امواتا

٣_ راہ خدا ميں شہيد ہونے والے افراد زندہ ہيں اور اپنے پروردگار كى بارگاہ سے روزى پار ہے ہيں _

بل أحياء عند ربهم يرزقون اس مفہوم ميں ''عند ربھم''كو ''يرزقون''سے متعلق قرار ديا گيا ہے_

۲۲۱

٤_ كردار و رفتار كى اصلاح، فكر و سوچ كى اصلاح سے مربوط ہے_

و لاتحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم چونكہ يہ آيت جہاد كى ترغيب دلانے ( كردار و اعمال كى اصلاح ) كيلئے ان كى اس سوچ اور فكر كى تصحيح كررہى ہے جو وہ شہداء كے بارے ميں ركھتے تھے_

٥_ درست اور صحيح اعمال اختيار كرنے كيلئے افكار كى اصلاح كرنا قرآنى طريقوں ميں سے ايك طريقہ ہے_

و لاتحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله امواتا بل احياء عند ربهم

٦_ موت كے بعد كے عالم (برزخ) ميں شہداء كا ايك خاص زندگى سے بہرہ مند ہونا_

بل احيآء عند ربهم يرزقون كلمہ ''احيآئ'' كا نكرہ ہونا اس مطلب كى طرف اشارہ ہے كہ شہداء كى زندگى ايك ايسى زندگى ہے جس سے انسان دنيا ميں لا علم ہوتا ہے لہذا يہ ايك خاص زندگى ہوگي_

٧_ راہ خدا ميں قتل ہونے والے شہداء كا بلند مقام و مرتبہ_

بل احياء عند ربهم يرزقون شہدا ء كا بارگاہ خداوند متعال ميں روزى سے بہرہ مند ہونا اور اس مقام پر فائز ہونا ان كى عظمت اور بلند مقام كى علامت ہے_

٨_ موت كے بعد عالم برزخ ميں شہداء كى حيات و زندگى كا دوسرے انسانوں سے مختلف ہونا_

بل احياء عند ربهم يرزقون چونكہ قرآن كى نظر ميں مرنے والے دوسرے لوگ بھى برزخى زندگى سے بہرہ مند ہيں لہذا شہداء كى خصوصى زندگى كو بيان كرنا، ان دونوں زندگيوں ميں فرق كو ظاہر كرتا ہے_

٩_ موت كے بعد، انسان كا باقى رہنا_بل احيآء عند ربهم يرزقون

١٠_ حقيقت انسان، اسكے جسم سے بالاتر حيثيت ركھتى ہے_و لاتحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله امواتاً بل احياء عند ربهم يرزقون اس لحاظ سے كہ شہيدوں كا جسم دنيا ميں ہوتا ہے اور زندگى و روزى سے بہرہ مند نہيں ہوتا ،معلوم ہوا كہ حقيقت انسان، اسكے جسم سے بالاتر حيثيت كى حامل ہے_

١١_ عالم برزخ ميں بھى حيات اور رزق كے درميان تعلق كا باقى رہنا_بل احيآء عند ربهم يرزقون

۲۲۲

١٢_ فقط پيغمبراكرم(ص) جيسى ہستياں ہى شہداء كى زندگى اور اسكى كيفيت كو درك كرسكتى ہيں نہ كہ عام افراد_ *

و لاتحسبن الذين عند ربهم يرزقون يہ كہ خداوند نے گذشتہ آيات ميں تمام مؤمنين كو مخاطب كيا ہے جبكہ اس آيت ميں فقط پيغمبر اكرم (ص) كومخاطب كيا گيا ہے (و لاتحسبن صيغہ مفرد ہے) ہوسكتا ہے اس بات كى طرف اشارہ ہو كہ اس آيت كے مضمون يعنى شہادت كے بعد شہداء كى زندگى كو فقط پيغمبر(ص) ہى درك كرسكتے ہيں _

١٣_ شہدائ، خداوند متعال كے مقام ربوبيت كے تربيت يافتہ ہيں _بل احيآء عند ربهم يرزقون

١٤_ شہادت، شہيد كے رشد و تكامل كا ذريعہ ہے_بل احيآء عند ربهم يرزقون

''ربھم''كے مفہوم كو ديكھتے ہوئے كہ خداوند متعال شہيدوں كا مربى اور تربيت كرنے والا ہے، معلوم ہوتا ہے كہ شہادت، خداوند متعال كى خاص ربوبيت سے بہرہ مند ہونے كا مقدمہ ہے_

١٥_ راہ خدا ميں جہاد كرنے اور شہيد ہونے كى طرف تشويق و ترغيب_و لاتحسبن الذين بل احيآء عند ربهم يرزقون

١٦_ بارگاہ الہى سے شہداء كا رزق حاصل كرنا، اسكى ربوبيت كا ايك پرتو ہے_عند ربهم يرزقون

آنحضرت(ص) : آنحضرت كاعلم ١٢

انسان: انسان كا انجام ٩;انسان كى موت ٩;انسان كے مختلف پہلو ١٠

تربيت: تربيت كا طريقہ ٥

تعقل: تعقل كى اصلاح٤، ٥

جھاد: جھاد كى جانب تشويق ،١٥

حيات: ١، ٣، ٦، ٨، ١١، ١٢

خدا تعالى: خدا تعالى كى امداد، ٢; خدا تعالى كى ربوبيت ١٣، ١٦; خدا تعالى كے نواہى ١

راہ خدا: ١، ٣، ٧، ١٥

۲۲۳

راہ و روش: راہ و روش كى بنياد ٤

رُشد و تكامل: رشد و تكامل كا پيش خيمہ١٤

روزي: ١١، ١٦

شہادت: ١، ٣، ٧ شہادت كى طرف تشويق ١٥;شہادت كے اثرات ١٤

شہدائ: شہداء كا كمال ١٤; شہداء كى حيات ١، ٣، ٦، ٨، ١٢ ; شہداء كى روزى ٣، ١٦;شہداء كے پسماندگان ٢;شہداء كے فضائل ٣، ٧، ١٣

عالم برزخ: عالم برزخ كى زندگى ٦، ٨، ١١;عالم برزخ ميں تفاوت ٨;عالم برزخ ميں روزى ١١

عقيدہ: باطل عقيدہ ١

علم: ١٢

عمل: عمل كے صحيح ہونے كى شرائط ٥

موت: ٩

مؤمنين: مؤمنين كو تسلى و تشفى ٢

آیت(۱۷۰)

( فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُواْ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلاَّ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ )

خدا كى طرف سے ملنے والے فضل و كرم سے خوش ہيں او ر جو ابھى تك ان سے ملحق نہيں ہوسكے ہيں ان كے بارے ميں يہ خوش خبرى ركھتے ہيں كہ ان كے واسطے بھى نہ كوئي خوف ہے اور نہ حزن _

١_ راہ خدا ميں قتل ہونے والوں كا خدا كے اس فضل و كرم پر خوش و شادمان ہونا كہ جو خداوند متعال نے انہيں

۲۲۴

عطا فرمايا ہے_فرحين بماآتاهم الله من فضله

٢_ خداوند عالم كى راہ ميں قتل ہونے والے (شہدائ) پر اس كا لُطف و عنايت كرنا_فرحين بما آتاهم الله من فضله

٣ _ شہيدوں كا بلند مقام، انكى خاص زندگى اور خدا كى جانب سے رزق پانا ان پر خدا كے فضل و كرم ميں سے ہيں _

فرحين بما آتاہم اللہ من فضلہ

اس صورت ميں كہ جب ''ما اتاھم اللہ ''سے مراد وہى ہوجو گذشتہ آيت ميں بيان ہوا ہے يعنى خاص زندگى اور

٤_ شہيدوں كو استحقاق سے زيادہ عطا كرنا اور ان پر فضل الہى ان كى خوشى كا باعث ہے_

فرحين بما آتاهم الله من فضله مندرجہ بالا مطلب ''فضل''كے معنى (استحقاق سے زيادہ اور لطف و عنايت كى بنا پر عطا) كو مدنظر ركھتے ہوئے اخذ كيا گيا ہے_

٥_ دنيوى زندگى كى نسبت عالم برزخ ميں شہداء كى بہتر اور برتر زندگى _فرحين بما آتاهم الله من فضله و يستبشرون

شہداء كى خوشى اور ان كے دوسرے ساتھيوں كا اس فضل الہى كے حصول كى آرزو كرنا حكايت كر رہا ہے كہ ان كى دنيوى زندگى كى نسبت ان كى اخروى و برزخى زندگى بہتر و برتر ہے_

٦_ شہيدوں كا دوسرے مجاہدين كى سعادت مندى اور ان كيلئے راہ خدا ميں قتل ہونے والوں كے مقام پر فائز ہونے كى آرزو كرنا اور اس كو چاہنا_و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم

٧_ موت كے بعد، قيامت تك برزخ كى زندگى كا ہونا_*بل احيآء عند ربهم يرزقون_ فرحين بما اتاهم الله من فضله و يستبشرون

٨_ تمام شہداء كا عالم برزخ ميں ايك ساتھ زندگى گذارنا_*و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم

جملہ''لم يلحقوا بهم'' اس بات پر دلالت كر رہا ہے كہ شہداء كے ساتھى اپنى شہادت كے بعد اپنے سے پہلے شہيد ہونے والے ساتھيوں سے ملحق ہوجاتے ہيں بنابرايں ، شہداء جدا جدا نہيں رہتے بلكہ پورى تاريخ عالم كے شہداء ايك ساتھ رہتے ہيں اور ايك دوسرے سے ملحق ہوتے رہتے ہيں _

٩_ مؤمنين كى سعادت كے بارے ميں دلچسپى لينا اور

۲۲۵

اس پر توجہ دينا ضرورى ہے_و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الا خوف عليهم

خداوند متعال نے شہداء كى ستائش كرتے ہوئے دوسرے مؤمنين اور اپنے ہم رزم ساتھيوں كى سعادت كے بارے ميں ان كى خوشحالى و سرور كى كيفيت كا تذكرہ كيا ہے_ بنابرايں ايسى صفت اور حالت خداوند عالم كو پسند اور محبوب ہے_

١٠_ شہداء كا دنيا ميں موجود مجاہدين كى حالت و كيفيت سے آگاہ ہونا_*و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم

١١_ شہداء عالم برزخ ميں ، اپنے اور راہ خدا كے دوسرے مجاہدين كے مقامات كے شاہد ہوتے ہيں _

فرحين و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الا خوف عليهم و لا هم يحزنون چونكہ يہ آيت اس خيال كو رد كررہى ہے كہ جس كے مطابق شہيدوں كو مردہ سمجھا جاتا ہے_ لہذا خداوند متعال مذكورہ آيات كو ذكر كر كے، شہادت كے بعد شہيدوں كے اجر و ثواب اور ان كے حالات بيان كرنا چاہتا ہے نہ كہ قيامت كے دن ان كے مقام و مراتب يا اجر كو بيان كيا جا رہا ہے_

١٢_ شہادت كے بعد راہ خدا كے مجاہدين كيلئے كسى قسم كے خوف و ڈر اور غم كے نہ ہونے كى وجہ سے شہداء كا مسرور ہونا_و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الا خوف عليهم و لا هم يحزنون

''استبشار''كا معني، بشارت ملنے كے نتيجے ميں حاصل ہونے والى خوشى اور سرور ہے_ (لسان العرب)

١٣_ راہ خدا ميں قتل ہونے والے شہداء كا مكمل امن اور سعادت سے بہرہ مند ہونا_الا خوف عليهم و لا هم يحزنون كلمہ ''خوف'' نكرہ ہے اور حرف نفى ''لا''كے بعد ہونے كى وجہ سے ہر قسم كے خوف اور اضطراب كے نہ ہونے پر دلالت كرتا ہے_ يعنى ہر طرح كا امن_

١٤_ شہداء كيلئے ہونے كى وجہ سے حيات جاويد، نعمتيں اورسكون قلب_*الا خوف عليهم و لا هم يحزنون

خوف و ہراس كى نفى كا لازمہ فنا كى نفى ہے چونكہ خوف اور غم و اندوہ كے اسباب ميں سے ايك فنا اور نابودى كو قبول كرنا ہے_

١٥_ راہ خدا ميں جہاد اور شہادت كى ترغيب_فرحين بما اتاهم الله من فضله و لا هم

۲۲۶

يحزنون

١٦_ بعض انسانوں كيلئے موت كے بعد كے عالم (برزخ) كا مقام غم و اندوہ ہونا_و يستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الا خوف عليهم و لا هم يحزنون اگر عالم برزخ ميں كسى كيلئے كسى قسم كا خوف و غم نہ ہوتا تو شہداء كا اس بات پر خوش و مسرور ہونا بے مقصد ہوتا كہ وہ اور ان سے ملحق ہونے والے دوسرے شہيد مجاہدين كسى قسم كا خوف و غم نہيں ركھتے_

١٧_ شہدا ء كے تمام گناہوں كا بخشا جانا_ فرحينبما اتاهم الله الا خوف عليهم و لا هم يحزنون

چونكہ گناہ، عالم برزخ اور قيامت ميں غم و اندوہ كا باعث ہوگا جبكہ آيت ''الا خوف ...''كے مطابق شہداء كسى قسم كا غم و خوف نہيں ركھتے_ پس معلوم ہوا كہ ان كے تمام گناہ خداوند نے معاف كرديئے ہيں _

١٨_ عالم برزخ ميں انسان كيلئے غم و خوف اور خوشى و سرور (جيسے نفسياتى حالات) كا ہونا_فرحين بما اتاهم الله من فضله الا خوف عليهم و لا هم يحزنون

امنيت: ١٣، ١٤

بخشش: ، ١٧

جہاد : جہاد كى تشويق ١٥

خداوند تعالى: خدا تعالى كا فضل١، ٣ ،٤; خدا تعالى كا لطف٢ ; خدا تعالى كى عنايات ٤ ; خدا تعالى كى نعمات١٤

خشنودي: ١، ٦، ١٢ برزخ ميں خوشنودى ١٨ ; خوشنودى كے عوامل٤

خوف ١٢: برزخ ميں خوف ١٦،١٨

دعا: ٦

راہ خدا: ١، ٢، ١٥

روزي: ١، ٣، ١٤

سعادت: ٦، ٩،١٣

شہادت: ١، ٢، ١٢ شہادت كى تشويق ١٥

شہداء:

۲۲۷

شہداء برزخ ميں ، ٥، ٨، ١١ ; شہداء كا علم ١٠ ;شہداء كى امنيت ١٣، ١٤ ; شہداء كى حيات ٣، ٥، ٨، ١٤ ; شہداء كى خوشنودى ١، ٤، ٦، ١٢;شہداء كى دعا ٦; شہداء كى روزى ١، ٣، ١٤;شہداء كى سعادت ١٣ ; شہداء كى مغفرت ١٧; شہداء كے فضائل ٢، ٣، ٦، ١١

عالم برزخ: ١ ، ١٦ ، ١٨ عالم برزخ كى زندگى ٥، ٧، ٨

غم واندوہ : ١٢ برزخ ميں غم و اندوہ ١٦، ١٨

گناہ: گناہ كى مغفرت١٧

مجاہدين: ١٠، ١١، ١٢ مجاہدين كى سعادت ٦

مؤمنين: مؤمنين كى سعادت ٩

نظريہ كائنات: توحيدى نظريہ كائنات٧

آیت(۱۷۱)

( يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ ) وہ اپنے پروردگار كى نعمت ، اس كے فضل اور اس كے وعدہ سے خوش ہيں كہ وہ صاحبان ايمان كے اجر كو ضائع نہيں كرتا _

١_ شہداء كا، خداوند عالم كى طرف سے خصوصى نعمت اور خاص فضل الہى سے خوش ہونا_

يستبشرون بنعمة من الله و فضل كلمہ ''بنعمة'' اور ''فضل'' كا نكرہ ہونا، انسانوں كيلئے نامعلوم نعمت و فضل پر دلالت كر رہا ہے بنابرايں يہ ايك خاص نعمت اور فضل ہے_

٢_ عالم برزخ ميں انسان كيلئے خوشى و سرور (نفسياتييستبشرون بنعمة من الله و فضل

٣_ الہى فضل و نعمات ،درجات و مراتب كے حامل ہيں _يستبشرون بنعمة من الله و فضل

كلمہ ''نعمة''اور ''فضل'' كو نكرہ لانا كہ جو ان كے نامعلوم ہونے كو ظاہر كرتا ہے، ہوسكتا ہے فضل

۲۲۸

و نعمت كے عظيم اور زيادہ ہونے كى وجہ سے ہو نتيجتاً يہ فضل و نعمت كے مراتب و درجات كى حكايت كرتا ہے_

٤_ خداوند متعال كى جانب سے مؤمنين كے اعمال كے اجر و ثواب كى ضمانت_ان الله لايضيع اجر المؤمنين

٥_ عمل كے اجر و ثواب كے ضائع نہ ہونے كى شرط، ايمان ہے_ان الله لايضيع اجر المؤمنين ضمير كے بجائے اسم ظاہر ''المؤمنين''لانے سے ظاہر ہوتا ہے كہ مجاہدين كے اعمال كا اجر و ثواب، ان كے ايمان سے مشروط ہے_

٦_ ايمان و عمل كى طرف لوگوں كو ترغيب دلانے كيلئے اجر و ثواب كا وعدہ دينا اور اسكى ضمانت دينا، ايك قرآنى روش ہے_ان الله لايضيع اجر المؤمنين

٧_ شہداء كا اس بات پر خوش ہونا كہ خداوند متعال مؤمنين كا اجر ضائع نہيں كرتا_يستبشرون بنعمة و ان الله لايضيع اجر المؤمنين جملہ ''ان الله '' كلمہ ''نعمة'' پر عطف ہے يعنى ''يستبشرون بان الله لايضيع''_

٨_ بارگاہ خدا ميں شہداء كا بلند مقام و مرتبہ_يستبشرون بنعمة من الله و فضل و ان الله لايضيع اجر المؤمنين

اجر: ٤، ٥، ٧ اجر كا وعدہ ٦

ايمان: ايمان كا پيش خيمہ٦; ايمان كى طرف تشويق ٦; ايمان كے اثرات ٥

تربيت: تربيت كا طريقہ ٦

تحريك: تحريك كے اسباب ٦

خداوند تعالى: خدا تعالى كا فضل ١; خدا تعالى كى نعمتوں كے مراتب ٣; خدا تعالى كى نعمتيں ١; خدا تعالى كے فضل كے مراتب ٣;خدا تعالى كے حضور ٨

خوشنودي: ١، ٧ برزخ ميں خوشنودى ٢

شہدائ: شہداء كى خوشنودى ١، ٧ ;شہداء كے فضائل ٨

عالم برزخ: ٢

۲۲۹

عمل: عمل كا اجر ٤، ٥;عمل كا قبول ہونا٥; عمل كى تشويق ٦

مؤمنين: مؤمنين كا اجر ٤، ٧

آیت(۱۷۲)

( الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَواْ أَجْرٌ عَظِيمٌ )

يہ صاحبان ايمان ہيں جنھوں نے زخمى ہونے كے بعد بھى خدا اور رسول كى دعوت پر لبيك كہى _ ان كے نيك كردار اور متقى افراد كے لئے نہايت درجہ اجرعظيم ہے _

١_ جن لوگوں نے گذشتہ جنگ ميں زخم برداشت كرنے كے باوجود، ايك دوسرى جنگ كيلئے خدا اور اسكے رسول(ص) كى دعوت پر لبيك كہا، ان كيلئے خداوند متعال كا بہت بڑا اجر ہے_الذين استجا بوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح اجر عظيم چونكہ گذشتہ آيات اور بعد والى آيات جنگ و جہاد كے بارے ميں ہيں اس سے پتہ چلتا ہے كہ جس فرمان پرلبيك كہا گيا ہے (استجابوا) وہ جنگ و جہاد كا فرمان تھا_

٢_ زمانہ پيغمبر اكرم(ص) كے مجاہدين ميں سے بعض كا گذشتہ جنگ (احد) ميں زخم و تكاليف اٹھانے كے باوجود، جہاد ميں شركت كيلئے آمادہ ہونا_الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح اجر عظيم

٣_ جنگ احد ميں شكست اور پراگندگى كے بعد پيغمبراكرم(ص) كا سپاہ اسلام كو دوبارہ اكٹھا كر كے جنگ كيلئے آمادہ كرنا_

الذين استجابوالله والرسول من بعد ما اصابهم القرح

٤_ جنگ احد ميں زخم و تكاليف اٹھانے كے باوجود ايك دوسرى جنگ كيلئے خدا اور رسول(ص) كى دعوت كو قبول كرنے والوں كيلئے عظيم اجر الہى كا ان كے احسان و تقوي سے مشروط ہونا_الذين استجابوا للذين احسنوا منهم

۲۳۰

واتقوا اجر عظيم اس آيت كا جنگ احد كے بيان كے بعد واقع ہونا اور يہ كہ اس ميں ''قرح''(زخم) كى بات كى گئي ہے جيساكہ جنگ احد كے بارے ميں بھى فرمايا تھا ''ان يمسسكم قرح''اسكى وجہ سے مفسرين كا كہنا ہے كہ وہ گذشتہ جنگ كہ جس ميں مسلمانوں نے زخم ديكھے ہيں وہى جنگ احد ہے_

٥_ جنگ احد كے بعض مجروحين، ايك دوسرى جنگ كيلئے خدا اور پيغمبراكرم (ص) كى دعوت كو قبول كرنے كے باوجود لازمى تقوي و نيكوكارى سے بہرہ مند نہيں تھے_الذين استجابولله للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم

''منھم''، ''احسنوا''كى ضميركيلئے حال ہے اور كلمہ ''من'' تبعيض ميں ظاہر ہے_ يعنى دعوت قبول كرنے والوں كو صاحبان تقوي ونيكوكاروں اور دوسروں ميں تقسيم كر رہا ہے_

٦_ جنگى زخميوں كى جہاد ميں دوبارہ شركت كا اہم اور بلند مقام و مرتبے كا حامل ہونا_

الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح اجر عظيم گذشتہ جہاد ميں زخمى ہونے كى وجہ سے مجاہدين كيلئےاجر عظيم نہيں ہے بلكہ زخمكھانے كے بعد دوبارہ جہاد ميں شركت كى وجہ سے ہے_

٧_ جنگ احد ختم ہوجانے كے بعد، مسلمانوں پر مشركين كے حملے كا خطرہ_*

الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح چونكہ فوجى قوت كو دوبارہ آراستہ كرنے كيلئے پيغمبر(ص) كا دعوت دينا ظاہر كرتا ہے كہ مشركين كى طرف سے دوبارہ حملے كا خطرہ موجود تھا_

٨_جنگ احد كے بعد مسلمانوں كى تقدير سازجنگى آمادگى اور فوجى مشق_

الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح جنگ احد ميں مصائب و مشكلات برداشت كرنے كے بعد لشكر اسلام كا دوبارہ منظم ہونا اور جنگ كيلئے دوبارہ دعوت كاديا جانا حتي كہ جنگى زخميوں كو بھى شركت كيلئے بلانا، ظاہر كرتا ہے كہ يہ آمادگى اور فوجى تيارى تقدير ساز تھي_

٩_ مجاہد مؤمنين كا عمل و اجر كے اعتبار سے متفاوت ہونا_لا يضيع اجر المؤمنين _ الذين استجابوا الله للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم اگر''الذين''،''المومنين''كے ليے صفت ہو تو مؤمنين دو گروہوں ميں تقسيم ہوتے ہيں ، وہ لوگ جنہوں نے پيغمبر اسلام (ص) كى دعوت جہاد كو قبول كيا ليكن لازمى تقوي اورنيكوكارى كے حامل نہيں تھے

۲۳۱

اور وہ لوگ جنہوں نے جہاد كى دعوت قبول كى اور تقوي و نيكوكارى كے بھى حامل تھے_ اجر عظيم دوسرے گروہ سے مخصوص ہے اور'' ان الله لا يضيع اجر المؤمنين'' كے قرينے سے پہلے گروہ كيلئے بھى اجر ہے ليكن نہ اجر عظيم_

١٠_تقوي اور نيكوكاري، مؤمن مجاہدين كے اجر و ثواب ميں زيادتى كا باعث بنتے ہيں _للذين احسنوا منهم وا تقوا اجر عظيم

١١_ ايمان پر ثابت قدم رہنے اور مشكلات اور سختياں برداشت كرنے كے بعد خد ا و رسول(ص) كى دعوت كے قبول كرنے كى بہت زيادہ قدر و قيمت ہے_ان الله لايضيع اجر المؤمنين_الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح

١٢_ جنگ احد كے بعد، دشمن كا مقابلہ كرنے كيلئے پيغمبراسلام(ص) كو مجاہد جنگجوؤں كى اشد ضرورت_

الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح جيساكہ شان نزول ميں آيا ہے كہ ايك دوسرى جنگ كيلئے، جنگ احد كے زخميوں تك كو بلايا جانا، ظاہر كرتا ہے كہ مجاہد جنگجوؤں كى اشد ضرورت تھي_

١٣_ خداوندعالم كا نيكوكارى اور تقوي كے ساتھ ساتھ، جہاد كى طرف تشويق كرنا_الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم

١٤_ مجاہدين كيلئے خداوند متعال كى طرف سے اجر عظيم كى شرائط ميں سے ايك ،جنگ ميں بہتر كاركردگى دكھانا (نيكوكاري) اور جنگى قواعد وضوابط كى خلاف ورزى نہ كرنا (تقوي) ہے_الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم

مندرجہ بالا مطلب ميں ''احسنوا''كا متعلق جنگ كو بنايا گيا ہے_ يعنى وہ جنگ ميں بہتر كاركردگى دكھائيں _ اسى طرح ''اتقوا''كا متعلق جنگى قواعد و ضوابط (مثلاً سپہ سالار كى پيروى وغيرہ) كو قرار ديا گيا ہے_

١٥_ اعمال كا ثمر آور ہونا، نيكى و تقوي سے مربوط ہے_الذين استجابوا للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم

يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''الذين'' مبتدا ہو نہ كہ المؤمنين كى صفت_

١٦_ مشكلات اور سختياں برداشت كرنے كے باوجود خداوندعالم اور رسول اكرم(ص) كے فرامين كى اطاعت كرنا نيكى و تقوي كے مصاديق ميں سے ہے_الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و

۲۳۲

اتقوا اجر عظيم مندرجہ بالا مطلب ميں ''منھم''كے ''من''كو بيانيہ ليا گيا ہے_ يعنى محسنين اور تقوي اختيار كرنے والے ،وہى دعوت پيغمبر(ص) كو قبول كرنے والے ہيں اور ان كيلئے اجر عظيم ہے_

١٧_ مشكلات اورسختيوں كے وقت فرامين الہى كى اطاعت كى اہميت اور قدر و قيمت_

الذين استجابوا لله والرسول من بعد مااصابهم القرح

١٨_ راہ خدا ميں صبر واستقامت كى كامل قدر وقيمت ، نيكى و تقوي كى مرہون منت ہے_

الذين استجابوا لله و الرسول من بعد ما اصابهم القرح للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم

١٩_ جہاد ميں شركت، خواہ پيغمبراسلام(ص) كے ہم ركاب ہى كيوں نہ ہو، انسان كى نيكى و تقوي كى دليل نہيں بن سكتي_الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و اتقوا اجر عظيم چونكہ خداوند متعال نے جہاد كيلئے دعوت پيغمبر(ص) كو قبول كرنے والوں كو دو گروہوں ميں تقسيم كيا ہے اول نيكى و تقوي كے حامل افراد اور دوم ان صفات سے عارى افراد_ البتہ يہ اس بنا پر ہے كہ جب ''من''تبعيض كيلئے ہو_

٢٠_ عمل كا دشوار ہونا، بارگاہ خدا ميں اجر و ثواب كے زيادہ ہونے كا باعث بنتا ہے_

الذين استجابوا لله و الرسول من بعد ما اصابهم القرح چنانچہ''الذين استجابوا'' مبتدا ہو تو جملہ ''من بعد ما اصابھم القرح''اجر عظيم كے وعدہ كى شرائط ميں سے ہوگا كہ جو جہاد كيلئے حركت كرنے كى دشوارى كو ظاہر كر رہا ہے_

٢١_ جنگ احد ميں زخمى ہونے كے بعد خدا تعالى اور پيغمبر اسلام(ص) كى دعوت قبول كرنے اورنيكى و تقوي اختيار كرنے كى وجہ سے امير المؤمنين على عليہ السلام كو اجر عظيم عطا ہونا_الذين استجابوا لله و الرسول اجر عظيم

امام صادق (ع) فرماتے ہيں :ان رسول الله بعث علياً فى عشرة '' استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابھم القرح''الى ''اجر عظيم''انما نزلت فى امير المؤمنينيعنى يہ آيت امير المؤمنين (ع) كے بارے ميں نازل ہوئي_(١)

آنحضرت (ص) : ١، ٤، ١١، ١٦، ٢١

آنحضرت(ص) كى سپہ سالارى ٣

____________________

١)تفسير عياشي، ج١ ص٢٠٦ ح١٥٣; تفسير برھان ج١ص ٣٢٦ ح٤

۲۳۳

اجر: ٩، ١٠، ٢١ اجر كے مراتب ٤; اجر كے موجبات ١، ٤، ١٤، ٢٠

استقامت: استقامت كى قدروقيمت ١٨

اسلام: صدر اسلام كى تاريخ٣، ٥، ٧، ٨،١٢،٢١

اطاعت: آنحضرت(ص) كى اطاعت ١، ٤، ١١، ١٦، ٢١;اطاعت كى قدروقيمت ١٧;خدا كى اطاعت ١، ١٦،١٧، ٢١;سختى كے وقت اطاعت، ١٧

امير المؤمنين (ع) : اميرالمؤمنين (ع) كا تقوي ٢١;امير المؤمنين (ع) كى نيكوكاري٢١

ايمان: ايمان كى قدروقيمت ١١;سختى ميں ايمان ١١

تقوي: ١٦، ١٩ تقوي كا اجر ٢١;تقوي كے اثرات ٤، ١٠، ١٥، ١٨;جہاد ميں تقوي ١٣، ١٤

جنگ: جنگى مجروحين ١، ٥، ٦،٢١ ;عسكرى آمادگى ٢، ٣، ٨

جہاد: ١٤، ١٩ جہاد كى تشويق ١٣;جہاد كى سختي١، ٢;جہاد كى قدر و منزلت ٦;دشمنوں سے جہاد ١٢

خدا تعالى: ١٦، ١٧، ٢١ خدا تعالى كى جانب سے اجر ١، ١٤;خدا تعالى كى دعوت ١، ٤، ٥،١١

دشمن: ١٢

دين: دشمنان دين ١٢

روايت: ٢١

راہ خدا: ١٩

سختي: ١، ٢، ١١، ١٧ سختى كے اثرات ٢٠

شكست: جنگ ميں شكست ٣

صبر: صبر كى قدر و منزلت، ١٨

عمل: ٩ عمل كا اجر ٢٠;عمل كا قبول ہونا ١٥ ;عمل كى اہميت ٢٠

غزوہ احد: ٢، ٣، ٤، ٧، ٢١

۲۳۴

كاميابي: جنگ ميں كاميابى كے عوامل ،٨

مجاہدين: مجاہدين كا اجر ٤، ٩، ١٠، ١٤;صدر اسلام كے مجاہدين ٢;غزوہ احد كے مجاہدين، ٥

مشركين: مشركين كا خطرہ ٧

مؤمنين: مؤمنين كا تفاوت ٩;مؤمنين كا عمل ٩

نيكوكاري: ١٩، ٢١ جہاد ميں نيكوكاري١٣، ١٤; نيكوكارى كے اثرات ٤، ١٠، ١٥، ١٦، ١٨

نظم و ضبط: جنگ ميں نظم و ضبط ٣

آیت(۱۷۳)

( الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ )

يہ وہ ايمان والے ہيں كہ جب ان سے بعض لوگوں نے كہا كہ لوگوں نے تمہارے لئے عظيم لشكر جمع كرليا ہے لہذا ان سے ڈرو تو ان كے ايمان ميں اور اضافہ ہوگيا اور انہوں نے كہا كہ ہمارے لئے خدا كافى ہے اور وہى ہمارا ذمہ دار ہے _

١_ جنگ احد كے بعد جہاد كيلئے خدا اور پيغمبراكرم(ص) كى دعوت قبول كرنے والے وہ لوگ تھے جو دشمن كے حملے كے بارے ميں افواہوں سے نہيں گھبرائے اوران كے ايمان ميں مزيد اضافہ ہوگيا_الذين استجابوا لله الذين قال لهم الناس فزادهم ايماناً

٢_ جنگ احد كے بعد، مسلمانوں كے درميان دشمن كے كارندوں كا نفوذ كرنا اور ان كے حوصلے پست كرنے كيلئے سرد جنگ كا آغاز كيا جانا_الذين قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم

بعض كا خيال ہے كہ ''قال لھم الناس''ميں ''الناس''سے مراد وہ منافقين ہيں جو دشمنان دين كيلئے جاسوسى كرتے تھے_ بعض دوسروں كا

۲۳۵

كہنا ہے كہ اس سے مراد دشمن كے وہ افراد ہيں جو مسلمانوں كے درميان خوف و ہراس پھيلاتے تھے_

٣_ جنگ احد كے بعد مشركين كا مسلمانوں كے خلاف دوبارہ اكٹھا ہوجانا_ان الناس قد جمعوا لكم جنگ احد كے بيان كے بعد اس آيت كاآنا نيز اسكے بعضشان نزول سے اس بات كى تائيد ہوتى ہے كہ مذكورہ آيت احد كے بعد كے واقعات كے بارے ميں ہے_

٤_ مسلمانوں كے درميان ايسے افراد كا وجود جو انہيں مشركين سے ڈرانے كيلئے افواہيں پھيلانے كى سعى كرر ہے تھے_

الذين قال لهم الناس انص الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم

٥_ ايمان كا درجات و مراتب پر مشتمل ہونااور اس ميں اضافہ كا امكان_فزادهم ايماناً

٦_ حقيقى مؤمنين دشمن كى كثرت اور اسكى جنگى آمادگى سے خوف زدہ نہيں ہوتے_الذين قال لهم الناس ان الناس فزادهم ايماناً

٧_ خدا اور رسول اكرم (ص) كے پيروكار مؤمنين كے ساتھ جنگ كيلئے دشمنوں كا اكٹھا ہونا، مؤمنين كے ايمان اور اپنے راستے كى حقانيت پر اعتقاد ميں اضافے كا موجب بنتا ہے_الذين قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لكم فزادهم ايماناً ''زادھم'' ميں فاعلى ضمير سے مراد دشمنوں كا وہ اجتماع ہے جو ''انص الناس قد جمعوا لكم''سے اخذ ہوتا ہے_ يعنى مشركين كا جنگ كيلئے اكٹھا ہونا، خدا و رسول (ص) كے پيروكاروں كے ايمان ميں اضافے كا باعث بنتا ہے_

٨_ جنگ احد كے بعد دشمن كے حملے سے متعلق افواہوں كے مقابلے ميں مسلمانوں كا رد عمل كے طور پر خداوند عالم پر اعتماد اور توكل كا اظہار كرنا_الذين قال لهم الناس و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

٩_ خداوند متعال پر توكل اور اعتماد، دشمن كے حملوں سے نہ ڈرنے كا موجب بنتا ہے_فزادهم ايماناً و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

١٠_ حملہ آور دشمنوں كے مقابلے ميں خداوند متعال پر توكل كرنا ضرورى ہے_و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل حقيقى مجاہدين كى پسنديدہ صفات كو شمار كرنے اور

۲۳۶

خداوند متعال كى جانب سے ان كى تعريف و تمجيد كا مقصد دوسرے مؤمنين كو بھى ايسى صفات و حالات كے حصول كى ترغيب دلانا ہے_

١١_ خداوندعالم پر توكل كا لازمہ، اس پر ايمان و اعتقاد ميں اضافہ ہے_فزادهم ايماناً و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

١٢_ خداوند متعال ، باتقوي، نيكوكار، صابر اور اطاعت گذار مؤمنين كا وكيل ہے اور ان كے كيلئے كافى ہے_

الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و اتقوا و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

١٣_ خداوند عالم كے كافى ہونے پر مكمل اعتماد اور صفت توكل كا حصول، خدا و رسول(ص) كى اطاعت ، صبر و تقوي اور نيك عمل اپنانے سے مربوط ہے_الذين استجابوا لله للذين احسنوا منهم و اتقوا و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

گذشتہ آيت ميں مذكورہ صفات بظاہر انسان كے اس مقام تك پہنچنے كى طرف راہنمائي ہے كہ جہاں وہ خداوند متعال كو اپنا وكيل جان كر اسكے كافى ہونے سے مطمئن ہوجاتا ہے_

١٤_ خداوند عالم، مؤمنين كيلئے كافى اور بہترين وكيل ہے_حسبنا الله و نعم الوكيل

١٥_ غزوہ حمراء الاسد ميں مؤمنين كا نصرت الہى اور فتح كى اميد ركھنا_و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

اكثر مفسرين كے نزديك يہ آيت اور گذشتہ آيات، غزوہ حمراء الاسد كے بارے ميں ہيں _جنگ احد كے فاتح مشركين مكہ كى طرف پلٹتے وقت راستے ميں اس بات پر پشيمان ہوگئے تھے كہ انہوں نے آخر مسلمانوں كو كيوں ختم نہيں كرديا_ لہذا انہوں نے مدينہ پر حملے كا ا رادہ كرليا يہ خبر جب پيغمبراكرم (ص) تك پہنچى تو آپ(ص) نے مسلمانوں كو دفاع كى خاطر حمراء الاسد تك جانے كا حكم ديا اور مسلما ن وہاں تك گئے_ لہذا يہ غزوہ ، غزوہ حمراء الاسد معروف ہوا_

١٦_ غزوہ حمراء الاسد يا بدر صغري ميں مسلمانوں كى طاقت سے دشمن كى طاقت كا زيادہ ہونا_*

و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل يہ كہ منافقين نے مؤمنين كو خوف زدہ و ہراساں كرنے كيلئے انہيں دشمن كى كثرت سے ڈرانا چاہا (ان الناس قد جمعوا لكم ) ليكن مسلمانوں نے ان كے جواب ميں طاقت و قوت كى زيادتى كى طرف اشارہ نہيں كيا بلكہ فقط خداوند متعال پر توكل كى بات كى ، اس سے مؤمنين كى قوت كے مقابل دشمن كى قوت كى كثرت كا اندازہ ہوتا ہے_

۲۳۷

قابل ذكر ہے كہ مذكورہ آيات بعض مفسرين كے نزديك غزوہ حمراء الاسد كے بارے ميں ہيں اور بعض كے نزديك بدر صغري كے بارے ميں ہيں _

١٧_ خدا و رسول(ص) كے اطاعت گذار مؤمنين كى نشانيوں ميں سے ايك يہ ہے كہ وہ دشمن كى كثرت سے نہيں گھبراتے اور اس كا مقابلہ كرنے ميں خداوند عالم پر توكل كرتے ہيں _الذين استجابوا لله و الرسول و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

١٨_ خداوند متعال پر توكل كے ساتھ ساتھ كوشش اور جدوجہد ضرورى ہے_الذين استجابوا لله و قالوا حسبنا الله و نعم الوكيل

١٩_ جنگ احد كے بعد، نعيم بن مسعود كا مؤمنين كو دشمن كے اجتماع سے ہراساں كرنا_

الذين قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لكم حضرت امام باقر(ع) اور حضرت امام صادق(ع) نے مذكورہ آيت ميں پہلے ''الناس''كے بارے ميں فرمايا ہے كہ اس سے مراد نعيم بن مسعود الاشجعى ہے_

آنحضرت(ص) : ١، ١٣ آنحضرت-(ص) كے پيروكار ١٧

اسلام: صدر اسلام كى تاريخ ٣، ٤، ٨، ١٥، ١٦، ١٩

اسماء و صفات: وكيل ١٢، ١٤

اطاعت: آنحضرت (ص) كى اطاعت ١، ١٣ ;اطاعت كے اثرات ١٣; اللہ تعالى كى اطاعت ١، ١٣

اللہ تعالى: ١، ٨، ١١، ١٣، ١٨ اللہ تعالى كى امداد ١٥

ايمان: اللہ تعالى پر ايمان ١١; ايمان كا پيش خيمہ ٧; ايمان كا زيادہ ہونا ١، ٥، ١١; ايمان كے مراتب، ٥

تقوي: تقوي كے اثرات ١٣

توكل: اللہ تعالى پر توكل ٨، ١٨; توكل كا پيش خيمہ١٣; توكل كى اہميت ١٠ ;توكل كے اثرات ٩، ١١، ١٧; جہاد ميں توكل ١٧

____________________

١) مجمع البيان ج ٢ ص ٨٨٩ ، تفسير تبيان ج ٣ ص ٥٢.

۲۳۸

جنگ: عسكرى آمادگى ١، ٦

جہاد: ١٧

حوصلہ بڑھانا: حوصلہ بڑھانےكے اسباب ٩

حوصلہ پست كرنا: حوصلہ پست كرنے كے اسباب ٢

خوف : دشمنوں كا خوف ١٩;ناپسنديدہ خوف ١٧

دشمن: ٧، ١٩ دشمنوں سے برتاؤ كا طريقہ ١٠;دشمنوں كى افواہيں ٢، ٤، ٨

دين: دين كے دشمن٧، ١٠

روايت: ١٩

سختي: سختى كو سہل بنانے كا طريقہ ٩، ١٠

صبر: صبر كے اثرات ١٣

غزوہ احد: ١، ٢، ٣، ٨، ١٩ غزوہ حمراء الاسد: ١٥، ١٦

كوشش: كوشش كى اہميت ١٨;كوشش كے آداب ١٨

مجاہدين: مجاہدين صدر اسلام، ١

مسلمان: صدر اسلام كے مسلمان ٢

مشركين: مشركين كا منظم ہونا٣

مؤمنين: ١٤ صابر مؤمنين ١٢;متقى مؤمنين ١٢;مومنين كا توكل ٨;مؤمنين كا خوف ١٩;مومنين كى اميدوارى ١٥;

مومنين كى صفات ٦، ٧، ١٥، ١٧; نيكوكار مؤمنين ١٢

نعيم بن مسعود: ١٩

نيكوكاري: نيكوكارى كے اثرات ١٣

۲۳۹

آیت(۱۷۴)

( فَانقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُواْ رِضْوَانَ اللّهِ وَاللّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ ) پس يہ مجاہدين خدا كے فضل و كرم سے يوں پلٹ آئے كہ انہيں كوئي تكليف نہيں پہنچى اور انھوں نے رضائے الہى كا اتباع كيا اور الله صاحب فضل عظيم ہے _

١_ مؤمنين كا غزوہ حمراء الاسد يا بدر صغري سے نعمت اور فضل الہى كى وجہ سے بغيركسى ضرر و نقصان كے واپس پلٹ آنا_فانقلبوا بنعمة من الله و فضل لم يمسسهم سوئ يہ اس بنا پر كہ جب ''بنعمة''كى ''بائ''مصاحبت كے معنى ميں ہو اور ايك محذوف سے متعلق ہو اور ''انقلبوا''كے فاعل كيلئے حال ہو_ ياد ر ہے كہ اكثر مفسرين نے كہا ہے كہ مذكورہ آيات غزوہ حمراء الاسد كے بارے ميں ہيں اور بعض كے نزديك يہ آيات بدر صغري كے بارے ميں ہيں _

٢_ غزوہ حمراء الاسد يا بدر صغري ميں شركت كرنے والے مؤمنين كے ضرر و نقصان سے محفوظ رہنے كا سبب، ان پر خداوند متعال كا عظيم فضل اور نعمت تھے_فانقلبوا بنعمة من الله و فضل لم يمسسهم سوئ

اس مطلبميں ''بنعمة''كى ''بائ''كو سببيت اور ''انقلبوا''كے متعلق ليا گيا ہے_

٣_ مؤمنين كا غزوہ حمراء الاسد يا بدر صغري ميں شركت كيلئے پيغمبر اكرم (ص) كى دعوت كو قبول كرنا_

الذين استجابوا لله والرسول فانقلبوا بنعمة من الله و فضل

٤_ غزوہ حمراء الاسد يا بدر صغري ميں ، مشركين اور مؤمنين كے درميان جنگ كا واقع نہ ہونا_*

فانقلبوا بنعمة من الله و فضل لم يمسسهم سوئ بظاہر''لم يمسسهم سوئ'' جنگ كے واقع نہ ہونے سے كنايہ ہے_

۲۴۰

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367