اسلامی نظریہ حکومت

اسلامی نظریہ حکومت10%

اسلامی نظریہ حکومت مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 367

اسلامی نظریہ حکومت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 367 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 139078 / ڈاؤنلوڈ: 3492
سائز سائز سائز
اسلامی نظریہ حکومت

اسلامی نظریہ حکومت

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

۵_كوئي بھى انسان كسى دوسرے كے عمل كا بوجھ اپنے كندھوں پر نہيں اٹھائے گا _ولا تزرو وازرة وزر أخرى

''وزر'' سے مراد بھارى چيز ہے اور يہ يہاں گناہ سے كنايہ ہے_

۶_گناہ ،انسان كے كندھوں پر بھارى بوجھ ہے_ولاتزروازرة وزرأخرى

''وزر'' لغت ميں بھارى چيز كو كہتے ہيں (لسان العرب) اور اس لئے گناہ كو ''وزر'' كہا گيا ہے كہ اس كے نتائج بھى بھارى ہوتے ہيں _

۷_اعمال كى جزا كے نظام پرالہى عدل حاكم ہے_ولاتزر وازرة وزر ا خرى

۸_رسولوں كو بھيجنے اور اتمام حجت سے قبل لوگوں كو سزا نہ دينا ايك سنت الہى ہے_وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولا

۹_انبياء كى بعثت كے اہداف ميں سے ايك ہدف لوگوں پر حجت تمام كرنا ہے_وما كنا معذبين حتّى نبعث رسولا

۱۰_كسى بھى عمل كى بدى اور ناجائز ہونے كے بيان سے پہلے اس عمل كى وجہ سے عقاب وعذاب دينا قبيح ہے_

وما كنّا معذبين حتّى نبعث رسولا

يہ كہ الله تعالى نے فرمايا ہے كہ '' ہم جب تك حقايق بيان كرنے كے لئے لوگوں كى طرف رسول نہيں بھيجتے انہيں عذاب وعقاب نہيں كرتے''_ يہاں احتمال يہ ہے كہ يہ قانون اس عقلى فيصلے كے مطابق ہو كہ ''بغير بيان كے عقاب قبيح اور ناپسند ہے''_

۱۱_گناہ گار امتوں پر اتمام حجت اور رسول كے بھيجنے كے بعد دنياوى عذاب كا نازل ہونا _

وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولا

جملہ''ماكنا معذّبين حتّى نبعث رسولاً'' مطلق ہے كہ جو دنياوى عذاب كو بھى شامل ہے_

الله تعالى :الله تعالى كى جزائيں ۷;اللہ تعالى كى حاكميت وعدالت ۷;اللہ تعالى كى سنتيں ۸; الله تعالى كے عذابوں كى شرائط ۸;۱للہ تعالى كے عذاب ۷ ; الله تعالى كے عذابوں كا قانون كے مطابق ہونا ۱۱; الہى حجت كا اتمام ہونے كا كردار ۸، ۱۱

الله تعالى كى آيات:

۴۱

كائنات ميں الله تعالى كى نشانياں ۴;اللہ تعالى كى آيات واضح كرنے كافلسفہ ۴

الله تعالى كے رسول :الله تعالى كے رسولوں كا كردار ۸

اتمام حجت:اتمام حجت كى اہميت ۹

امتيں :گناہ گار امتوں كا دنياوى عذاب ۱۱

انبياء :انبياء كے ذريعے اتمام حجت ۱۱;انبياء كى بعثت كا فلسفہ ۹;انبياء كا كردار ۱۱

انسان :انسان كا اختيار ۳

جبر واختيار :۳

جزا كا مقام : ۷

خود:خود كو نقصان ۱

عمل :عمل كى ذمہ دارى ۵;ناپسند عمل ۱۰

فقہى قواعد :بلابيان عذاب كاقانون ۱۰

گمراہى :گمراہى اختيار ۳;گمراہى كا نقصان ۱ ، ۲

گناہ:دوسروں كے گناہوں كو تحمل كرنا ۵;گناہ كا بوجھ ۶

نصےحت :اعمال كے آخرت ميں محاسبہ كى نصيحت ۴

ہدايت:ہدايت ميں اختيار ۳;ہدايت كا پيش خيمہ ۴; ہدايت كے فوائد ۱ ، ۲

آیت ۱۶

( وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُواْ فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيراً )

اور ہم نے جب بھى كسى قريہ كو ہلاك كرنا چاہا تو اس كے ثروت مندوں پر احكام نافذ كردئے اور انھوں نے ان كى نافرمانى كى تو ہمارى بات ثابت ہوگئي اور ہم نے اسے مكمل طور پر تباہ كرديا (۱۶)

۱_كسى بھى معاشرہ كے امراء اور ثروت مند طبقہ كافسق وفجور اس معاشرہ كى تباہ بربادى كا سبب بنتا ہے_

وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

''مترف'' مادہ ''ترفہ'' سے ليا گيا ہے اور ''ترفہ'' سے مراد بہت زيادہ رزق ونعمت ہے (مفردات راغب)

۴۲

۲_تاريخ اور انسانى معاشروں كے حوادث ،الہى ارادہ كے تحت ہيں _

وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيها فدمرّنه

۳_آسائش وثروت سے مالا مال ہونا فسق فجور كى طرف ميلان كى پيش خيمہ ہے _أمرنا مترفيها ففسقوا فيه

معاشرہ كے تمام طبقات ميں سے فاسق و فاجر ہونے كے لئے ثروت مند طبقے كا ذكر ہونا حالانكہ فسق وفجور تمام لوگوں سے ہوسكتا ہے اس كا كسى خاص طبقہ سے تعلق نہيں ہے 'شايد اسى مندرجہ بالا نكتہ كى بنا پر ہے_

۴_ثروت مند اور صاحبان مال ومتاع دوسروں كى نسبت زيادہ نافرمانى خدا اور مخالفت حق كا شكارہيں _

ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه مندرجہ بالا نتيجہ اس بناء پر ليا گيا ہے كہ ''ا مرنا'' كا مفعول ''بالطاعة'' كى مانندكوئي لفظ محذوف ہو تو اس صورت ميں آيت كا معنى يوں ہوگا كہ ہم معاشرہ كے ثروت مند طبقہ كو اطاعت وبندگى كا حكم ديتے ہيں _ ليكن وہ توقع كے بر خلاف فسق وفجور كى راہ كو اختيار كرتے ہيں _

۵_ارادہ الہى اسباب و مسببات كے تحت انجام پاتاہے_وإذا ا ردنا ففسقوا فيها فحقّ عليها القول

۶_كسى معاشرہ ميں فاسق وفاجر مالدار لوگوں كى تعداد كا بڑھنا پروردگار كى سنتوں كے مطابق اس معاشرہ كى تباہى كے اسباب ميں سے ہے_وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

بعض كا خيال ہے كہ ''ا مرنا'' كثرنا كے معنى پر ہے _ (ہم نے مزيد بڑھايا ) (مفردات راغب) تو اس صورت ميں ''ا مرنا مترفيھا'' سے مراد ثروت مند طبقہ كا بڑھنا ہے _

۷_مالدار طبقہ كا فسق وفجور دوسرے طبقات كى گناہ و بربادى كى طرف رغبت ميں مؤثر اور اہم كردار ادا كرتا ہے_

ا مرنا مترفيها ففسقوا فيه

تمام طبقات ميں سے بالخصوص ثروت مند طبقے كا ذكر ہونا اس بات كو واضح كرتا ہے كہ دوسرے طبقات كى نسبت اس طبقہ كا گناہ ميں آلودہ ہونا ، معاشرہ كے بگڑنے اور تباہ ہونے ميں زيادہ مؤثر اور اہم كردار اداكرتا ہے_

۸_كوئي بھى معاشرہ اور اس كا تغير وتبدل واضح سنت وقانون كے مطابق ہے _وإذا ا ردنا ا ن نهلك ففسقوا فيها فدمّرنه

''قرية'' لغت ميں انسانوں كے مجموعہ كوكہتے ہيں (مفردات راغب) يہ كہ الله تعالى فرماتا ہے :

۴۳

جب معاشرہ كے مالدار لوگ فاسق ہوجاتے ہيں تو ان كے بارے ميں ہمارى بات يقينى ہوجاتى ہے '' فحقّ عليھا القول '' يہ اس بات كو بيان كررہاہے كہ معاشرہ كے تغيّرات واضح قانون كے حامل ہيں _

۹_انسانوں كے اعمال ان كى تباہى وبربادى ميں واضح كردار ادا كرتے ہيں _

وإذا ا ردنا ان نهلك قرية ففسقوا فيها فحق عليها القول فدمّرنه

۱۰_معاشرتى سطح پر نافرمانى الہى يقينى طور پر عذاب الہى كے نزول كا موجب ہے _فسقوا فيها فحقّ عليها القول

۱۱_نافرمان معاشرہ كا عذاب اس قدر شديد ہے كہ اس كى مكمل تباہى ونابودى كا سبب بنتا ہے_

ففسقوا فيها فحقّ عليها القول فدمّرنها تدميرا

۱۲_''عن أبى جعفر(ع) فى قول الله : ''إذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها '' قال: تفسيرها ا مرنا ا كابرها'' (۱) امام باقر (ع) سے الله تعالى كى اس كلام :''ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها'' كے حوالے سے روايت ہوئي ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا : اس آيت كى تفسير يہ ہے كہ ہم اس علاقہ كہ بڑوں كو حكم كرتے ہيں ''_

آسائش پسند لوگ:آسائش پسند لوگوں سے مراد ۱۲; آسائش پسند لوگوں كا حق قبول نہ كرنا ۴;بدكار آسائش پسند طبقے كا كردار ۶/اسباب كا نظام : ۵

الله تعالى :الله تعالى كے احكام ۱۲;اللہ تعالى كى سنتيں ۶;الہى ارادہ كے جارى ہونے كى مقامات ۵; الہى ارادہ كى اہميت۲

تاريخ :تاريخ تبديليوں كا سرچشمہ ۲

حق:حق قبول نہ كرنے كا خطرہ ۴/عذاب:عذاب كے اسباب ۱۰;عذاب كے درجات ۱۱

عمل :عمل كے نتائج ۹/طبيعى اسباب:طبيعى اسباب كے اثرات۵

فساد:فساد كے معاشرتى نتائج ۷;فساد پھيلنے كے نتائج ۱۰

فسق:فسق كا پيش خيمہ۳;فسق كے معاشرتى نتائج ۷

گناہ:گناہ كا پيش خيمہ ۳

____________________

۱) تفيسر عياشي، ج ۲، ص ۲۸۴، ح ۳۵، نورالثقلين ج۳، ص ۱۴۴، ح ۱۰۹_

۴۴

مال :مال كے نتائج ۳

مالدار لوگ:فاسق مالدار لوگوں كا كردار ۶;مالدار لوگوں كا حق سے اعراض كرنا ۴;مالدار لوگوں كے فسق كے نتائج ۱;مالدار لوگوں كے فساد كے نتائج ۷;مالدار لوگوں كے گناہوں كے نتائج ۱

معاشرہ:معاشرہ كى تباہى كے اسباب ۱،۶; معاشرتى مشكلات كى پہچان ۱،۶، ۷; معاشرتى فساد كا پيش

خيمہ ۷;معاشرتى سنتيں ۸; فاسد معاشرہ كا عذاب ۱۱; معاشرتى تبديليوں كا قانون كے مطابق ہونا ۸;معاشرہ كا قانون كے مطابق ہونا ۸; معاشرتى فاسد كے نتائج ۱۱; فساد معاشروں كى ہلاكت ۱۱

ہلاكت :ہلاكت كے اسباب ۹

آیت ۱۷

( وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ وَكَفَى بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرَاً بَصِيراً )

اور ہم نے نوح كے بعد بھى كتنى امتوں كو ہلاك كرديا ہے اور تمھارا پروردگار بندوں كے گناہوں كا بہترين جاننے والا اور ديكھنے والا ہے (۱۷)

۱_زمانہ حضرت نوح(ع) كے بعد بہت سى امتيں اور اقوام اپنے فسق وفجور كى وجہ سے پروردگار كى مرضى ومنشاء كے ساتھ تباہ وبرباد ہوگئيں _ففسقوا وكم ا هلكنا من القرون

''قرن'' (قرون كا واحد) سے مراد وہ قوم ہے جو تقريباً ايك ہى زمانہ زندگى بسر كرے (مفردات راغب)

۲_حضرت نوح(ع) سے پہلے انسان وسيع اور عمومى تباہى كے عذاب سے دوچار نہيں ہوئے تھے_

وكم أهلكنا من القرون من بعد نوح

پروردگار نے پچھلى آيت ميں كافر اور بد كار اقوام كو ہلاك كرنے كے حوالے سے اپنى سنت كا ذكر فرمايا پھر اس حقيقت كو ثابت كرنے كے لئے قوم نوح(ع) اور اس كے بعد دوسرى اقوام كى ہلاكت كا ذكر كيا تو حضرت نوح (ع) كى داستان اور ان كے بعد كى اقوام كے واقعات سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت نوح(ع) سے پہلے كسى قوم كو مجموعى طور پر عذاب الہى سے دوچار نہيں ہونا پڑا_

۳_حضرت نوح (ع) سے پہلے لوگوں ميں وسيع اور عمومى فسق وفجور نہ تھا _وماكنا معذبين حتّى نبعث رسولاً_ وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا وكم ا هلكنا من القرون من بعد نوح

۴۵

۴_انسانى تاريخ ميں عمومى فسق وفجور اور بڑے بڑے انحراف زمانہ نوح _ كے بعد واقع ہوئے_وكم أهلكنا من بعد نوح

۵_حضرت نوح(ع) كے بعد بہت سے معاشرے اور اقوام اپنے درميان موجود فاسق و فاسد آسائش پسند طبقہ كى بناء پر تباہى وبربادى سے دوچار ہوئيں _وإذا ا ردنا ا ن نهلك قرية ا مرنا مترفيها ففسقوا فيها وكم أهلكنا من القرون من بعد نوح

۶_حضرت نوح(ع) كے بعد انسان كى گروہى اور اجتماعى زندگى كے نئے دور كا آغاز_من القرون من بعد نوح

پروردگار نے پچھلى آيت ميں فرمايا'' بہت سے انسانى معاشروں كو آسائش پسند طبقہ كى بدكاريوں كے باعث ہم نے تباہ كيا'' اور اس آيت ميں حضرت نوح _ كے بعد والى اقوام كى ہلاكت كا تذكرہ ہوا ہے تو ان دونوں آيات سے معلوم ہوا كہ حضرت نوح (ع) سے پہلے معاشرتى زندگى ايسى نہ تھى كہ آسائش پسند مالدار لوگ موجود ہوں يا معاشرہ پر تسلط ركھتے ہوں ورنہ وہ اقوام بھى عذاب الہى سے دوچار ہوتيں _ پس حضرت نوح(ع) كے بعد اقوام كا عذاب سے دوچار ہونا بتلاتا ہے كہ ان كى اجتماعى زندگى ايسى تھى كہ عذاب سے دوچار ہونے كے بعد معاشرتى زندگى كا ايك نيادور شروع ہوچكا تھا_

۷_اللہ تعالى ،اپنے بندوں كے تمام گناہوں سے باخبر اور ان پر نگاہ ركھے ہوئے ہے_

وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصيرا

۸_بندوں كو عذاب سے دوچار كرنے كے ليے الله تعالى كا بندوں كے ظاہرى اور باطنى گناہوں سے باخبر ہونا ہى كافى ہے اس كومزيد كسى گواہ كى ضرورت نہيں ہے_وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصيرا

مندرجہ بالا نكتہ كلمہ ''خبير'' اور''بصير'' كے درميان فرق سے پيدا ہوا ہے چونكہ كلمہ ''خبير'' سے مراد افكار اور چيزوں كے باطن سے آگاہى ہے (مفردات راغب) اور ''بصير'' كردار واعمال سے مطلع ہونا ہے_

۹_گناہ گار لوگوں كو الله تعالى كى دھمكي_وكفى بربّك بذنو ب عباده خبيراً بصيرا

''كفى بربّك بذنوب عبادہ'' كے بعد خبير وبصير كا ذكر گناہ گاروں كے لئے دھمكى ہے _

۱۰_انسانى معاشروں كى بربادى كا حقيقى سبب گناہ ہے _كم أهلكنا من القرون وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصير

۱۱_سركش معاشروں كى نابودي، پروردگار كے ذريعہ از روئے علم و بصيرت ہے _وكم أهلكنا وكفى بربّك خبيراً بصير

۴۶

۱۲_فاسد اور سركش معاشروں كى از روئے علم وبصيرت تباہى الله تعالى كى ربوبيت كا تقاضا ہے_

وكم ا هلكنا وكفى بربّك بذنوب عباده خبيراً بصير

اسماء وصفات:بصير ۷ ; خبير ۷

الله تعالى :الله تعالى كا ارادہ ۱;اللہ تعالى كے افعال ۱۱;اللہ تعالى كى بصيرت ۱۱;اللہ تعالى كا ڈرانا ۹;اللہ تعالى كا علم ۱۲;اللہ تعالى كا علم غيب ۷، ۸; الله تعالى كے عذابوں كا قانون كے مطابق ہونا۱۱;اللہ تعالى كى ربوبيت كے نتائج ۱۲;اللہ تعالى كا نگاہ ركھنا ۷

امتيں :حضرت نوح(ع) كے بعد كى امتيں ۱; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں ۲; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں اور فساد ۳; حضرت نوح (ع) سے پہلے كى امتيں اور فسق ۳; حضرت نوح (ع) كے بعد كى امتوں كا فساد ۴;حضرت نوح (ع) كے بعد كى امتوں كا فسق ۴

انسان:انسانوں كے گناہ ۷;انسان كى معاشرتى زندگى ۶

پہلى امتيں :پہلى امتوں كے آسائش پسند ۵;پہلى امتوں كى تاريخ ۱، ۲، ۳، ۴، ۵; پہلى امتوں كے عذاب ۲;پہلى امتوں كے فاسق وفاجر ۵;پہلى امتوں كے فسق كے نتائج ۱;پہلى امتوں كے گناہ كے نتائج ۱;پہلى امتوں كى تباہى ۱، ۲، ۵

عذاب:عمومى عذاب ۲

گناہ :پوشيدہ گناہ ۸ ;گناہ كے نتائج ۱;گناہ كے معاشرتى نتائج ۱۰;واضح گناہ ۸

گناہ گار:گناہ گاروں كو ڈرانا ۹

معاشرہ:معاشروں كى ہلاكت كے اسباب ۱،۵; معاشرتى مشكلات كى پہچان ۵، ۱۰;سركش معاشروں كے عذاب كاپيش خيمہ ۱۲; فاسد معاشروں كے عذاب كا پيش خيمہ ۱۲;سركش معاشروں كى تباہى ۱۱

نوح (ع) :نوح (ع) كے بعد كا زمانہ ۶

۴۷

آیت ۱۸

( مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاء لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلاهَا مَذْمُوماً مَّدْحُوراً )

جو شخص بھى دنيا كا طلب گار ہے اور اس كے لئے جلدى جو چاہتے ہيں دے ديتے ہيں پھر اس كے بعد اس كے لئے جہنّم ہے جس ميں وہ ذلّت و رسوائي كے سا تھ داخل ہوگا (۱۸)

۱_دنيا كى طلب، انسان كے جہنم كى آگ ميں جانے كا سبب ہے _من كان يريد العاجلة جعلنا له جهنم

۲_نقد مانگنا، جلد بازى كرنا اور دور انديشى سے بے بہرہ ہونا ' دنيا طلبى اور آخرت سے غفلت كى بنياد ہے_

من كان يريد العاجلة

كلمہ ''عاجلہ'' جو كہ مادہ عجلہ (كسى چيز كو جلد بازى سے چاہنا) سے ہے كا ''الدنيا '' كى جگہ استعمال ہونا بتاتا ہے كہ مال دنيا كا نقد ہونا اور اس كا سريع حصول دنيا كے طلبگاروں كے ليے اس كے حصول ميں بہترين كردار ادا كرتا ہے_

۳_طبيعى اسباب الله تعالى كى مشيت وارادہ كے تحت ہيں _من كان يريد العاجلة عجلّنا له فيها ما نشائ

دنيا كے طالب اپنى خواہشات كو طبيعى اسباب كے ذريعے حاصل كرتے ہيں اور الله تعالى نے ان كے لئے دنياوى فائدوں كے حصول كو اپنى طرف نسبت دى ہے يہ نسبت بتاتى ہے كہ طبيعى اسباب الله تعالى كے تحت ہيں _

۴_الله تعالى دنيا كے طالب لوگوں كى بعض خواہشات كودنيا ميں پورا كرتا ہے اور انہيں ان سے فائدہ اٹھانے كى اجازت ديتا ہے _من كان يريد العاجلة عجلّنا له فيه

۵_دنيا كے طالب صرف اپنى بعض دنياوى خواہشات كو پاتے ہيں نہ كہ تمام خواہشات كو_

من كان يريد العاجلة عجلّنا فيها ما نشاء

الله تعالى نے دنيا كے طالب لوگوں كا اپنى آرزؤں كے پانا كو اپنى مشيت سے نسبت دى ہے'' مانشائ'' يہ بتا تا ہے كہ وہ لوگ اپنى تمام تر خواہشات كو نہيں پورا كرسكتے مگر اس قدر پورا كرسكتے ہيں كہ جتنا پروردگار چاہتا ہے_

۶_تمام دنيا كے طالب لوگ دنياوى فائدوں كو حاصل نہيں كرسكتے _من كان يريد العاجلة عجلّنا له لمن نريد

۷_بعض دنيا كے طالب لوگ دنيا وآخرت دونوں سے محروم ہيں _من كان يريد العاجله عجلّنا لمن نريد ثم جعلنا له جهنّم

۴۸

''جعلنا لہ جھنم'' ميں ''لہ'' كى ضمير ''من كان ...'' ميں ''من'' كى طرف لوٹ رہى ہے يعنى جو بھى دنيا كے پيچھے بھاگتاہے_ ان كا ٹھكانہ دوزخ ہے اگر چہ بعض دنياوى آرزؤں كو مشيت خدا سے پاليسى يا ان ميں ناكام رہيں _لہذا جو بھى اگر چہ اپنى دنياوى خواہشات كو پورا نہ كرسكيں آخرت ميں جہنمى وہ ہيں اور دنيا و آخرت دونوں سے محروم ہيں _

۸_دنيا كے طالب لوگ آخرت ميں جسمانى عذاب كے علاوہ روحى عذاب ميں بھى مبتلاء ہونگے_

ثم جعلنا له جهنم يصلها مذموماً مدحورا

''يصلاھا'' (جہنم كى آگ ميں جلے گا) يہ عذاب جسمانى كى طرف اشارہ كر رہا ہے_ ''مذموماً مدحوراً'' (مذمت شدہ اور راندہ ہوئے) يہ عذاب روحى كى طرف اشارہ ہے_

۹_دنيا كے طالب، آخرت ميں قابل مذمت ہونگے اور رحمت خدا سے محروم اور دھتكارے ہوئے ہونگے_

من كان يريد العاجلة ثم جعلنا له جهنم يصلها مذموماً مدحوراً_

۱۰_''عن إبن عباس ا ن النبي(ص) قال: معنى الا ية من كان يريد ثواب الدنيا بعمله الذى افترضه الله عليه لا يريد به وجه الله والدار الا خر عجّل له فيها ما يشاء الله من عرض الدنيا وليس له ثواب فى الا خرة وذالك ان اللّه سبحانه وتعالى يؤتيه ذلك ليستعين به على الطاعة فيستعمله فى معصية اللّه فيعا قبه اللّه عليه (۱) ابن عباس سے راويت ہوئي ہے كہ رسول الله (ص) نے فرمايا كہ آيت''من كان يريد العاجلة عجّلنا له فيها ما يشائ'' كا معنى يہ ہے كہ جو ان اعمال كے انجام دينے سے كہ جنہيں الله تعالى نے اس پرواجب كيا ہے الله كا تقرب اور آخرت نہ چاہے بلكہ دنياوى فائدے مانگے تو دنيا ميں جو الله تعالى چاہے گا اسے دنياوى نعمتيں دے گا اور آخرت ميں اس كا كوئي حصہ نہيں ہے كيونكہ الله تعالى نے جو كچھ اسے ديا تھا اس لئے كہ اطاعت الہى ميں اس كى مدد ہو ليكن اس نے اسے الله كى معصيت ميں استعمال كيا اس لئے الله تعالى اسے عذاب دے گا_

آخرت:

____________________

۱)مجمع ابيان ج ۶ ص ۶۲۷نورالثقلين ج۳ ص ۱۴۵ح ۱۱۴

۴۹

آخرت سے محروم لوگ ۷

الله تعالى :الله تعالى كے ارادہ كى حاكميت ۳ ;اللہ تعالى كى مشيت كى حاكميت ۳

الله تعالى كى درگاہ سے راندے ہوئے : ۹

جزا:اخروى جزا سے محروميت ۱۰

جہنم:جہنم جانے كے اسباب ۱

جلد بازي:جلد بازى كے نتائج ۲

دنيا:دنيا سے محروم لوگ ۷

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى آخرت سے محروميت ۹;دنيا كے طالب لوگوں كى اخروى مذمت ۹;دنيا كے طالب لوگوں كا آخرت ميں عذاب ۸;دنيا كے طالب لوگوں كى آرزؤں كاپورا ہونا ۴_۵; دنيا كے طالب لوگوں كى دنياوى سہولتيں ۶;دنياكے طالب لوگوں كا روحى عذاب ۸; دنيا كے طالب لوگوں كى محروميت ۷; دنيا كے طالب لوگوں كے فائدے ۶

دنيا كى طلب:دنياوى طلب كى بنياد ۲;دنيا كى طلب كے نتائج ۱

رحمت:رحمت سے محروم لوگ ۹

روايت : ۱۰

طبيعى اسباب:طبيعى اسباب كا مسخرہونا ۳

عذاب:عذاب كے اہل لوگ ۸

عمل :عمل كى دنياوى جزا ۱۰

غفلت :آخرت سے غفلت كى بنياد

نافرماني:نافرمانى كا عذاب ۱۰

۵۰

آیت ۱۹

( وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُوراً )

اور جو شخص آخرت كا چاہنے والا ہے اور اس كے لئے ويسى ہى سعى بھى كرتا ہے اور صاحب ايمان بھى ہے تو اس كى سعى يقينا مقبول قرار دى جائے گى (۱۹)

۱_آخرت كاطالب وہ مؤمنين جو اپنے اخروى مقاصد كے لئے سنجيدگى سے كوشش كرے تو وہ اپنى اس كوشش كے قيمتى نتائج پاليں گے_و من ا راد الا خرة كان سعيهم مشكورا

۲_اخروى فائدوں اور نعمتوں كا حصول اس راہ ميں انسان كى وافر جد و جہد وكوشش سے مشروط ہے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن فا ولئك كان سعيهم مشكوراً _

يہ عبارت ''وسعى لھا سعيھا'' جملہ ''من ا راد الا خرة''كے لئے شرط كى مانند ہے يعنى اگر كوئي طالب آخرت ہے بشرطيكہ اس كے لئے كافى زحمت كى ہو تو وہ آخرت سے بہرہ مند ہوگا_

۳_آخرت كے لئے كوشش ايمان كى صورت ميں فائدہ مند ہے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن فا ولئك كان سعيهم مشكورا

و جملہ ''وہو مؤمن'' سعى كى ضميركے لئے حال ہے جو درحقيقت آخرت كى طلب اور اسكے لئے كوشش كى شرط بيان كر رہا ہے_

۴_انسان كى اپنى چاہت اور كوشش اس كى اخروى سعادت اور بدبختى ميں فيصلہ كن كردار ادا كرتى ہے_

من كان يريد العاجلة جعلنا له جهنّم ومن ا راد الأخرة وسعى لها سعيها فا ولئك كان سعيهم مشكور

۵_دنيا كے طالب لوگوں كى ممكنہ شكست اور ناكامى كے برخلاف آخرت كے طالب لوگوں كے اخروى فائدے يقينى اور ضمانت شدہ ہيں _ومن يريد العاجلة مانشاء لمن نريد ومن أراد الأخرة كان سعيهم مشكورا

۶_آخرت كى زندگى دنيا سے برتر زندگى ہے اور اس كا حصول تمام مؤمنين كا مقصد ہونا چاہئے_

من كان يريد العاجلة ومن أراد الأخرة كان سعيهم مشكورا

دنيا كے طالب لوگوں كے مدمقابل آخرت كے طالب لوگوں كى كوشش اور زحمت كا الله تعالى كى طرف سے قدردانى

۵۱

مندرجہ بالا حقيقت كى وضاحت كر رہى ہے_

۷_نيك كام كا شكريہ اور قدردانى پروردگار كا شيوہ ہے_ومن أراد الا خرة فا ولئك كان سعيهم مشكورا

۸_فقط وہ زحمت وكوشش ہى اہميت كى حامل اور قابل تعريف ہے جو آخرت كى طلب اور عظےم زندگى كے حصول كى راہ ميں كى جائے_من كان يريد العاجلة ومن ا راد الأخرة كان سعيهم مشكورا

يہ كہ الله تعالى نے انسانوں ميں دنيا كى طلب اور آخرت كى طلب كا ذكر كرنے كے بعد آخرت كے طالب لوگوں كى زحمت وكوشش كا شكريہ اور تعريف كى ہے اس سے معلوم ہواكہ صرف وہ زحمت وكوشش ہى قدردانى اور تعريف كے قابل ہے كہ جو عظيم اخروى زندگى كے حصول كى راہ ميں ہو نہ كہ ہر قسم كى كوشش اور زحمت _

آخرت:آخرت كے لئے كوشش ۳

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كى جزا ۱; آخرت كے طالب لوگوں كى جزا كا يقينى ہونا ۵

آخرت كى چاہت :آخرت كى چاہت كى اہميت ۶، ۸

ارادہ :ارادہ كے نتائج ۴

اہمتيں :اہميتوں كامعيار ۸

ايمان :ايمان كے نتائج ۲

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى شكست ۵

زندگي:اخروى زندگى كى اہميت ۸;اخروى زندگى كى قدروقيمت۶;دنياوى زندگى كى قدرو قيمت ۶

سعادت :اخروى سعادت كے اسباب ۴

شقاوت :اخروى شقاوت كے اسباب ۴

شكريہ :شكريہ كى اہميت ۷

عمل:پسنديدہ عمل ۷

۵۲

كوشش:كوشش كى اہميت ۸; كوشش كى جزاء ۳; كوشش كے نتائج ۱،۲، ۴

مؤمنين :مؤمنين كى جزاء ۱;مؤمنين كا مقصد ۶

نعمت:نعمت كے حصول كى شرائط ۲;اخروى نعمات كے حصول كى شرائط ۲

آیت ۲۰

( كُلاًّ نُّمِدُّ هَـؤُلاء وَهَـؤُلاء مِنْ عَطَاء رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاء رَبِّكَ مَحْظُوراً )

ہم آپ كے پروردگار كى عطا و بخشش سے ان كى اور ان كى سب كى مدد كرتے ہيں اور آپ كے پروردگار كى عطا كسى پر بند نہيں ہے (۲۰)

۱_تمام انسانوں (خواہ دنيا كے طالب ہوں ياآخرت كے طالب ) كا دنياوى نعمتوں اور فائدوں سے مسلسل بہرہ مند ہونا سنت الہى ہے_كلاً نمدّ و هؤلاء من عطاء ربّك

''امداد'' (نمدّ كا مصدر) كا معنى مددكرنا ہے اور فعل مضارع نمدّ استمرار زمان پر دلالت كرتا ہے_

۲_دنيا ميں الله تعالى كے الطاف اور بخشش كے احاطہ ميں تمام انسانوں ، مؤمن ،كافر ،نيك اور بدكار كا شامل ہونا _

كلاً نمدّ و هؤلاء من عطاء ربّك

۳_دنياوى نعمتوں كا ميّسر ہونا ايمان اور آخرت كي چاہت كے ساتھ منافات نہيں ركھتا_

ومن أراد الأخرة كلاً نمد و هؤلاء و هؤلاء من عطاء ربّك

يہ جو الله تعالى نے فرمايا : ''آخرت كى طلب ركھنے والوں كو اپنى بخشش (دنياوى نعمتوں ) سے بہرہ مند كرتے ہيں '' سے معلوم ہوتا ہے كہ آخرت كى طلب اور اخروى زندگى كى خاطر كوشش كرنا دنياوى نعمتوں كے ميّسر ہونے سے منافات نہيں ركھتا_

۴_نعمتيں اور مادى سہولتيں الله تعالى كے الطاف اور بخشش ہيں اور يہ سب كچھ انسانوں كى مدد كرنے كے لئے ہيں _

كلاً نمدّ من عطاء ربّك

۵_انسانوں پر مسلسل بخشش اور فيض ،اللہ كے مقام

۵۳

ربوبيت كا تقاضا ہے _كلاً نمدّ هو لائ وهو لائ من عطاء ربك

۶_الله تعالى انسانوں كى طرف بخشش كے حوالے سے كوئي محدوديت ركھتاہے اور نہ كوئي ركاوٹ_

وماكان عطاء ربّك محظورا

۷_تمام انسان خواہ وہ نيك ہوں يا بدكار خواہ مؤمن ہوں يا كافر سب كو الله تعالى كى طرف سے بخشش اور دنياوى سہولتيں ميّسر ہونا اس كے ابدى و ازلى فيض كى بنياد پر ہے_كلاً نمدّ هؤلائ وهؤلائ من عطائ ربك وماكان عطاء ربك محظورا

جملہ ''وماكان عطاء ربك محظوراً'' اس آيت ميں گذشتہ جملے كى علت بيان كر رہا ہے _ يعنى چونكہ الله تعالى اپنى بخشش سے كسى كو منع نہيں كرتا _ لہذا نيك و بداور مؤمن و كافر سب اس سے بہرہ مند ہوتے ہيں _

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كى نعمتيں ۱

آخرت كى طلب :آخرت كى طلب اور دنياوى نعمتيں ۳

الله تعالى :الله تعالى كى سنتيں ۱;اللہ تعالى كے لطف كا عام ہونا ۲;الله تعالى كى بخشش كا مسلسل ہونا ۵;اللہ تعالى كا لطف ۴;اللہ تعالى كا مدد كرنا ۴; الله تعالى كى ربوبيت كے نتائج ۵;اللہ تعالى كے فيض كے نتائج ۷;اللہ تعالى كى بخشش كا وسيع ہونا ۶

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كے لطف كے شامل حال لوگ ۴

ايمان:ايمان اور دنياوى نعمتيں ۳

دنيا كے طالب لوگ:دنيا كے طالب لوگوں كى نعمتيں ۱

نعمت :نعمت كے شامل حال لوگ ۱، ۲،۳;نعمت كى بنياد ۷

آیت ۲۱

( انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَلَلآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلاً )

آپ ديكھئے كہ ہم نے كس طرح بعض كو بعض پر فضيلت دى ہے اور پھر آخرت كے درجات اور وہاں كى فضيلتيں تو اور زيادہ بزرگ و برتر ہيں (۲۱)

۱_الله تعالى كى طرف سے انسانوں كے دنياوي

درجوں ميں فرق كى طرف غوروفكر كرنے اور درس عبرت لينے كى دعوت _انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض

۵۴

۲_بعض انسانوں كى بعض پر مرتبہ ميں برترى اور ان كے مادى درجوں ميں فرق الله تعالى كے ارادہ كے تحت ہے_

فضّلنا بعضهم على بعض

۳_تمام انسانوں كو الله تعالى كا فيض اور عطا ايك جيسى نہيں ہے _

كلاً نمدّ هؤلائ وهؤلائ من عطاء ربّك انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض

۴_اخروى مراتب و فضائل دنياوى درجات سے كہيں زيادہ برتر اور بلند ہيں _وللا خرة ا كبر درجات وأكبر تفضيلا

۵_انسانوں ميں دنياوى نعمتوں اور سہولتوں كے حوالے سے فرق ان كے اخروى درجات كے تفاوت كى عكاسى كررہاہے_انظر كيف فضّلنا بعضهم وللا خرة أكبر درجات

۶_اخروى درجات اور امتيازات كے فرق كے حوالے سے انسان كى كوشش ايك واضح كردار اداكرتى ہے_

من كان يريد العاجلة ومن ا راد الا خرة و سعى لها فضّلنا بعضهم على بعض وللا خرة أكبر درجات وا كبرتفضيلا

يہ كہ الله تعالى نے پچھلى آيات ميں فرمايا : ''آخرت كے طالب لوگوں كو ان كى آخرت كى چاہت كے حوالے سے كوشش كے مطابق جزا دى جائے گى '' اور اس آيت ميں فرما رہا ہے كہ آخرت كے درجات دنيا كى نسبت وسيع اور عظيم ہيں _ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ آخرت كے بلند وبالا درجات كے حصول كے لئے ا سكے مطابق كوشش ضرورى ہے _

۷_آخرت كے مراتب كى عظمت پر توجہ اس كى بلند و بالا قدروقيمت كى طرف ميلان كى بناء پر ہے _

انظر وللا خرة اكبر درجات واكبر تفضيلا

الله تعالى كى انسانوں كو بلند ترين اخروى درجات ميں غوروفكر كى دعوت اس حوالے سے بھى ہوسكتى ہے كہ انسانوں ميں آخرت كى طلب اور اس كے عالى ترين درجات كے حصول كا انگيزہ پيدا ہو_

۸_قيامت كے دن آخرت كے طالب مؤمنين بہت عظےم مقام پر فائز اور عالى ترين درجات كے حامل ہونگے_

ومن ا راد الا خرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن وللا خره ا كبر درجات وأكبرتفضيلا

۹_''عن النبى (ص) قال:''مامن عبد يريد ا ن يرتفع فى الدنيا درجة فارتفع إلّاوضعه اللّه فى الا خرة درجة ا كبر منها وا طول ثم قرء : وللا خرة ا كبر درجات وا كبر تفضيلاً _(۱)

____________________

۱) الدرالمنشور ج ۵ ص ۲۵۷_

۵۵

پيغمبر اسلام (ص) سے روات ہوئي ہے كہ آپ (ص) نے فرمايا :'' كوئي شخص ايسا نہيں ہے كہ جو چاہے كہ دنيا ميں كسى درجہ كے اعتبار سے ترقى كرے اور اسے حاصل بھى كرے مگر يہ كہ الله تعالى نے جو ا س كے لئے آخرت ميں دنياوى درجہ سے بڑھ كر اور وسيع درجہ قرار دياہے اس سے محروم كرے گا_ پھر آپ (ص) نے اس آيت كى تلاوت فرمائي :''وللا خرة أكبر درجات وا كبر تفضيلاً''

۱۰_''عن ا بوعمرو الزبيرى عن أبى عبدالله (ع) قال: قلت له : ''إن للايمان درجات و منازل ...؟ قال نعم، قلت له: صفه لي قال: ثم ذكر ما فضّل اللّه عزّوجلّ به أوليائه بعضهم على بعض فقال عزّوجلّ ''انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض وللأخرة أكبر درجات و أكبر تفضيلاً'' فهذا ذكر درجات الايمان ومنازله عنداللّه عزّوجلّ _(۱)

ابو عمر زبيرى كہتے ہيں كہ ميں نے امام صادق (ع) كى خدمت ميں عرض كيا: كيا ايمان كے بھى مراتب اور منزليں ہيں ؟ حضرت (ع) نے فرمايا : ہاں تو ميں نے عرض كيا مجھے بتائيں تو فرمايا : پس (قرآن نے) وہ چيز كہ جس كے ذريعے الله تعالى نے اپنے بعض اولياء كو بعض پربرترى دى ہے اسے بيان كيا اور فرمايا :'' انظر كيف فضّلنا بعضهم على بعض وللا خرة أكبر درجات وأكبر تفضيلاً '' پس يہ الله تعالى كے نزديك ايمان كے مراتب ومنازل ہيں _

آخرت كے طالب لوگ:آخرت كے طالب لوگوں كے اخروى مقامات ۸

الله تعالى :الله تعالى كا ارادہ ۲;اللہ تعالى كى دعوتيں ۱

الله تعالى كا لطف:الله تعالى كے لطف كے شامل حال لوگوں ميں فرق ۳

انسان:انسانوں ميں اقتصادى فرق ۲، ۵; انسانوں ميں اخروى مراتب ۷;انسانوں ميں فرق كى بنياد ۲;انسانوں ميں فرق سے عبرت ۱; انسانوں كے فرق ميں مطالعہ ۱; انسانوں كے اخروى اختلافات كى نشانياں ۵

اہميتيں :اخروى مقامات كى اہميت ۴;دنياوى مقامات كى اہميت ۴

ايمان :ايمان كے مراتب ۱۰

تدبّر:تدبّر كى اہميت ۱//ذكر:آخرت كے ذكر كے نتائج ۷

روايت:۹ ،۱۰//عبرت:عبرت كے اسباب ۱;عبرت كى اہميت ۱

____________________

۱) كافى ج ۲، ص ۴۱، ح۱، بحارالانوار ج ۲۲، ص ۳۰۹، ح ۹_

۵۶

كوشش:كوشش كى اہميت ۶; كوشش كے نتائج ۶

مقامات:اخروى مقامات۹;اخروى مقامات ميں مؤثر اسباب ۶;دنياوى مقامات كے نتائج ۹

مؤمنين :مؤمنين كے اخروى مقامات ۸;مؤمنين كے مقامات كے درجات ۱۰

ميلانات :اہميتوں كى طرف ميلان كا سرچشمہ ۷

نعمت:نعمت كے شامل حال لوگوں ميں فرق ۳

آیت ۲۲

( لاَّ تَجْعَل مَعَ اللّهِ إِلَـهاً آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوماً مَّخْذُولاً )

خبردار اپنے پروردگار كے ساتھ كوئي دوسرا خدا قرار نہ دينا كہ اس طرح قابل مذمّت اور لاوارث بيٹھے رہ جاؤ گے اور كوئي خدا كام نہ آئے گا (۲۲)

۱_الله تعالى كا انسانوں كو الله كے سوا كسى اورمعبود پر عقيدہ ركھنے اور اسے الله تعالى كے ساتھ شريك ومؤثر ماننے پر خبردار كرنا_لا تجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

۲_انسانوں كى تخليق ، جزا، سزا اور نعمتوں كے عطا كرنے ميں الله تعالى كى وحدانيت كا تقاضا ہے كہ عقيدہ وعمل ميں ہر قسم كے شرك سے پرہيز كياجائے_وجعلنا الّيل والنهار وكلّ انسان ا لزمناه طائره لاتجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

مندرجہ بالا مطلب دو نكات كى طرف توجہ سے حاصل ہوا :_

۱_ جملہ''لاتجعل مع اللّه إلهاً ...'' پچھلى آيات كے لئے نتيجہ كى مانند ہے اور ان آيات كے اصلى پيغام جو تين مرحلوں ميں آيا ہے مندرجہ بالا نتيجہ سے اخذ كيا جاسكتاہے اور ان كے ساتھ مربوط ہے_

۲_ ''لاتجعل'' كا كلمہ مطلق ہے جو ہر قسم كے شرك سے نہى كررہاہے _

۳_اللہ تعالى كے وجود اور افعال ميں وحدانيت كے عقيدہ كا ضرورى ہونا _لاتجعل مع اللّه إلهاً ء اخر

۴_قابل مذمت اور بے يارومددگار ہونا شرك كا يقينى انجام ہے_

۵۷

لاتجعل مع اللّه فتقعد مذموماً مخذولا

۵_تمام لوگوں كے لئے شرك كا خطرہ ہے_لاتجعل مع اللّه الهاً ء اخر

مندرجہ بالا مطلب كى بنياد يہ ہے كہ ''لاتجعل'' پيغمبر اسلام (ص) كى طرف بھى خطاب ہے چونكہ پيغمبر اسلام (ص) كوبھى اس خطرے سے خبردار كيا گيا ہے _ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ شرك ميں مبتلا ہونے كا خطرہ سب كے لئے موجود ہے_

الله تعالى :الله تعالى كى جزائيں ۲;اللہ تعالى كے عذاب ۲;اللہ تعالى كے ممنوعات ۱

خالقيت :خالقيت ميں توحيد ۲

شرك:شرك كا پيش خيمہ ۵;شرك سے اجتناب كا پيش خيمہ ۲;شرك كا خطرہ ۵;شرك سے نہى ۱

عقيدہ :توحيد افعالى كا عقيدہ ۳;توحيد ذاتى كا عقيدہ ۳

مشركين :مشركين كا برا انجام ۴;مشركين كابے يارومددگار ہونا ۴;مشركين كو سرزنش ۴

نظريہ كائنات :نظريہ كائنات توحيدى ۳

آیت ۲۳

( وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيماً )

اور آپ كے پروردگار كا فيصلہ ہے كہ تم سب اس كے علاوہ كسى كى عبادت نہ كرنا اور ماں باپ كے ساتھ اچھا برتاؤ كرنا اور اگر تمھارے سامنے ان دونوں ميں سے كوئي ايك يا دونوں بوڑھے ہوجائيں تو خبردار ان سے اف بھى نہ كہنا اور انھيں جھڑكنا بھى نہيں اور ان سے ہميشہ شريفانہ گفتگو كرتے رہنا (۲۳)

۱_الله تعالى كا اپنى وحدہ لا شريك ذات كے سوا كسي موجود كى پرستش سے خبردار كرنا_

وقضى ربك ا لا تعبدوا إلّا إيّاه

۲_عبادت ميں شرك سے اجتناب كا حكم قطعى ہے اور تجديد نظر كى قابليت نہيں ركھتا _وقضى ربك ا لاّ تعبدوا إلّا إيّاه

كلمہ''قضى '' سے مراد ايسا حكم اور فرمان ہے كہ جو قطعى ہو اور تجديد نظر كے بھى قابل بھى نہ ہو

۵۸

۳_عبادت ميں توحید كا حكم الہى درحقيقت انسانوں كى ترقى اور كمال كے حوالے سے حكم ہے_

وقضى ربّك ا لّا تعبدوا إلّا إيّاه

''ربّ'' كا در حقيقت معنى تربيت ہے (مفردات راغب) پروردگار كى دوسرى صفات كى بجائے يہ صفت كا آنا ممكن ہے_ مندرجہ بالا مطلب كى طرف اشارہ كر رہا ہے_

۴_ہر ايك پر واجب ہے كہ اپنے ماں باپ كے ساتھ نيكى كرے_وقضى ربّك بالولدين إحسان

''إحسانا'' ميں تنوين تعظيم كے لئے ہے اور ''والدين ''ميں الف لام افراد ميں استغراق (عموميت) بيان كررہاہے_ لہذا يہ حكم ہر مكلف كے والدين كے لئے ہے_

۵_الله تعالى كى پرستش كے بعد ماں باپ كے ساتھ نيكى بہت اہميت كى حامل ہے_

وقضى ربّك إلّا تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

يہ كہ الله تعالى نے اپنى خالصانہ عبادت كے بعد ماں باپ كے ساتھ نيكى كا حكم قرار ديا ہے_ مندرجہ بالا مطلب اس سے حاصل ہوتا ہے_

۶_انسانوں كے ايك دوسرے پر تمام حقوق ميں سب سے بڑا اور اہم ترين حق والدين كا حق ہے_

وقضى ربّك الاّ تعبدوا إلّا إيّا وبالوالدين إحسانا

۸_انسان كى پرورش اور تربيت كرنے والے اس كى گردن پر حق ركھتے ہيں _

وقضى ربّك إلّا تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

ذات واحد كى ربوبيت كے بعد والدين كے ساتھ نيكى كا ذكر كرنا (وقضى ربّك ...) ہوسكتا ہے اس لئے ہو كہ وہ انسان كى پرورش اور تربيت ميں تا ثير ركھتے ہيں _

۹_ماں باپ سے نيكى كا بہر صورت شائبہ شرك سے خالى ہونا_وقضى ربّك الاّ تعبدوا إلّا إيّاه وبالوالدين إحسانا

توحيد اور شرك سے پرہيز كے حكم كے بعد والدين سے نيكى كا حكم ہوسكتا ہے كہ اس بات كو بيان كر رہاہو كہ والدين سے حد سے زيادہ محبت واحسان ممكن ہے انسان كو شرك كى طرف لے جائے اس لئے ضرورى ہے كہ يہ محبت واحسان شائبہ شرك سے خالى ہو_

۱۰_والدين كا بڑھاپا اولاد پر انكے حوالے سے ذمہ

۵۹

داريوں كو بڑھانے كا سبب بنتا ہے_إما يبلغّن عندك الكبر ا حدهما ا و كلاهما فلا تقل لهما ا ف ولا تنهر هما وقل لهما قولاً كريم

۱۱_بوڑھے والدين كا خيال ركھنا اولاد كى ذمہ دارى ہے_وبالوالدين إحساناً إما يبلغنّ عندك الكبر فلا تقل لهمإ فّ مندرجہ بالا نكتہ اس لئے ہے كہ اس آيت كى مخاطب''اولاد''ہے اسى طرح ''عندك'' (تمہارے پاس) ظرف واضح كررہاہے كہ اولاد اس طرح اپنے والدين كا خيال ركھے كہ گويا ان كے ہاں رہ رہے ہيں اور قريب سے ان كا خےال ركھے ہوئے ہيں _

۱۲_والدين كا اولاد كے پاس ہونا اولاد كى ذمہ دارى بڑھاتاہے_إمّا يبلغنّ عندك الكبر

''عندك الكبر'' سے ممكن ہے يہ حقيقت بيان ہو رہى ہو كہ اگر والدين بچوں كے پاس رہ رہے ہوں تو ان كے خيال كى ذمہ دارى بڑھ جاتى ہے اور اس وقت ان كى ہر قسم كى بے احترامى حتّى كہ كلمہ ''اف''كہنے سے بھى پرہيز كيا جائے_

۱۳_ماں باپ بڑھاپے كى حالت ميں بچوں كى طرف سے بے احترامى كے خطرے ميں ہيں _

إمّا يبلغنّ عندك الكبر فلا تقل لهما ا فّ ولا تنهرهما وقل لهما قولاً كريما

والدين كے ساتھ نيكى كا حكم مطلق ہے_ تمام والدين خواہ كسى سن وسال ميں ہوں ان كو شامل ہے_ جملہ ''إمّا يبلغنّ عندك الكبر'' ممكن ہے اسى مندرجہ بالانكتہ كى طرف اشارہ كر رہا ہو _

۱۴_والدين كے ساتھ ہر قسم كا جھگڑا اور اہانت حتّى كہ ''أف'' كہنے كى حد تك ممنوع ہے_فلا تقل لهما ا ُفّ

۱۵_اولاد كى ذمہ دارى ہے كہ اپنے بوڑھے ماں باپ كى ضرورتوں كا مثبت جواب ديں اور ان كى ضرورتوں كو پورا كرنے سے كبھى بھى دريغ نہ كريں _ولا تنهر هم

''نہر'' سے مراد منع كرنا ہے اور روكنا ہے (لسان العرب)

۱۶_اولاد كى ذمہ دارى ہے كہ والدين كے ساتھ ملائمت اور مودبانہ انداز ميں برتائو كريں اور ان سے بات كرتے وقت ان كے احترام كا خيال ركھيں _ولا تقل لهما ا فّ وقل لهما قولاً كريما

۱۷_بوڑھے والدين ميں سے كسى ايك يا دونوں كا اولاد كے پاس ہونا ان كے احترام كى مقدار ميں كوئي تا ثير نہيں ركھتا بلكہ دونوں برابر حقوق كے مالك ہيں _وبالولدين احساناً إمّا يبلغنّ عندك الكبر ا حدهما ا وكلاهم

۱۸_''عن إبن عباس قال: لمّا انصرف أميرالمؤمنين من صفين قام إليه شيخ فقال: يا أميرالمؤمنين ا خبرنا عن مسيرن هذا ا بقضاء من اللّه وقدر؟

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

'' ( و انزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزّل اليهم ) ''(۱)

اور آپ (ص) كى طرف قرآن كو نازل كيا تا كہ لوگوں كيلئے جواحكام آئے ہيں انہيں بيان كرديں_

اس حقيقت كو ديكھتے ہوئے كہ آنحضرت (ص) مختلف مناصب كے حامل تھے معلوم ہوتاہے كہ عبدالرازق كى پيش كردہ آيات ميں موجود '' حصر'' حقيقى نہيں بلكہ ''اضافي'' ہے _ حصر اضافى كا مطلب يہ ہے كہ جب سامنے والا يہ سمجھ رہا ہو كہ موصوف دو صفتوں كے ساتھ متصف ہے تو متكلم تاكيداً مخاطب پر يہ واضح كرتا ہے كہ نہيں موصوف ان ميں سے صرف ايك صفت كے ساتھ متصف ہے _ مثلاً لوگ يہ سمجھتے تھے كہ آنحضرت (ص) كى ذمہ دارى پيام الہى كا پہنچانا بھى اور لوگوں كو زبردستى ہدايت كى طرف لانا بھى ہے_ اس و ہم كو دور كرنے كيلئے آيت نے حصر اضافى كے ذريعہ آنحضرت (ص) كى ذمہ دارى كو پيام الہى كے ابلاغ ميں منحصر كر ديا ہے اور فرمايا ہے :( ''و ما على الرسول الا البلاغ'' ) اور رسول كے ذمہ تبليغ كے سوا كچھ نہيں ہے(۲) يعنى پيغمبر اكرم (ص) كا كام لوگوں كو زبردستى ايمان پر مجبور كرنا نہيں ہے بلكہ صرف خدا كا پيغام پہنچانا اور لوگوں كو راہ ہدايت دكھانا ہے_ لوگ خود راہ ہدايت كو طے كريں اور نيك كاموں كى طرف بڑھيں_ پس آنحضرت (ص) لوگوں كى ہدايت كے ذمہ دار نہيں ہيں بلكہ صرف راہ ہدايت دكھانے كے ذمہ دا ر ہيں آنحضرت (ص) صرف ہادى ہيں اور لوگوں كى ہدايت كے ذمہ دار نہيں ہے _ بلكہ لوگ خود ہدايت حاصل كرنے اور نيك اعمال بجا لانے كے ذمہ دار ہيں_ اس حقيقت كو آيت نے حصر اضافى كے قالب ميں يوں بيان فرمايا ہے_(۳)

____________________

۱) سورہ نحل آيت۴۴_

۲) سورہ نورآيت ۵۴_

۳) تفسير ميزان ج ۱۲ ، ص ۲۴۱، ۲۴۲ سورہ نحل آيت ۳۵ كے ذيل ميں _ ج ۱۰ ص ۱۳۳ سورہ يونس آيت نمبر۱۰۸ كے ذيل ميں _

۸۱

( ''فمن اهتدى فانما يهتدى لنفسه و من ضل فانما يضّل عليها و ما انا عليكم بوكيل'' ) (۱)

پس اب جو ہدايت حاصل كرے گا وہ اپنے فائدہ كيلئے كرے گا اور جو گمراہ ہوگا وہ اپنے آپ كا نقصان كرے گا اور ميں تمہارا ذمہ دار نہيں ہوں _

بنابريں عبدالرازق سے غلطى يہاں ہوئي ہے كہ انہوں نے مذكورہ آيات ميںحصر كو حقيقى سمجھا ہے اور ان آيات ميں مذكورمخصوص صفت كے علاوہ باقى تمام اوصاف كى آنحضرت (ص) سے نفى كى ہے_ حالانكہ ان آيات ميںحصر'' اضافي'' ہے بنيادى طور پريہ آيات دوسرے اوصاف كو بيان نہيں كررہيںبلكہ ہر آيت صرف اس وصف كى نفى كر رہى ہے جس وصف كا وہم پيدا ہوا تھا_

دوسرى دليل كا جواب :

ظہور اسلام سے پہلے كى تاريخ عرب كااگر مطالعہ كيا جائے تو يہ حقيقت واضح ہوجاتى ہے كہ ظہور اسلام سے پہلے جزيرہ نما عرب ميں كوئي منظم حكومت نہيں تھى _ ايسى كوئي حكومت موجود نہيں تھى جو ملك ميں امن و امان برقرار كر سكے اور بيرونى دشمنوں كا مقابلہ كر سكے صرف قبائلى نظام تھا جو اس وقت اس سرزمين پر رائج تھا_ اس دور كى مہذب قوموں ميں جو سياسى ڈھانچہ اور حكومتى نظام موجود تھا جزيرة العرب ميں اس كا نشان تك نظر نہيں آتا _ ہر قبيلے كا ايك مستقل وجود اور رہبر تھا_ ان حالات كے باوجود آنحضرت (ص) نے جزيرة العرب ميں كچھ ايسے بنيادى اقدامات كئے جو سياسى نظم و نسق اور تأسيس حكومت كى حكايت كرتے ہيں حالانكہ اس ماحول ميں كسى مركزى حكومت كا كوئي تصور نہيں تھا_ يہاں ہم آنحضرت (ص) كے ان بعض اقدامات كى طرف اشارہ كرتے ہيں جو آپ (ص) كے ہاتھوں دينى حكومت كے قيام پر دلالت كرتے ہيں_

____________________

۱) سورہ يونس آيت نمبر۱۰۸_

۸۲

الف _ آنحضرت (ص) نے مختلف اور پراگندہ قبائل كے درميان اتحاد قائم كيا _ يہ اتحاد صرف دينى لحاظ سے نہيں تھا بلكہ اعتقادات اور مشتركہ دينى تعليمات كے ساتھ ساتھ سياسى اتحاد بھى اس ميں شامل تھا _ كل كے مستقل اور متخاصم قبائل آج اس سياسى اتحاد كى بركت سے مشتركہ منافع اور تعلقات كے حامل ہوگئے تھے_ اس سياسى اتحاد كا نماياں اثر يہ تھا كہ تمام مسلمان قبائل غير مسلم قبائل كيساتھ جنگ اور صلح كے موقع پر متحد ہوتے تھے_

ب _ آنحضرت (ص) نے مدينہ كو اپنا دارالحكومت قرار ديا اور وہيں سے دوسرے علاقوں ميں والى اور حكمران بھيجے طبرى نے ايسے بعض صحابہ كے نام ذكر كئے ہيں_ اُن ميں سے بعض حكومتى امور كے علاوہ دينى فرائض كى تعليم پر بھى مامور تھے جبكہ بعض صرف اس علاقہ كے مالى اور انتظامى امور سنبھالنے كيلئے بھيجے گئے تھے جبكہ مذہبى امور مثلانماز جماعت كا قيام اور قرآن كريم اور شرعى احكام كى تعليم دوسرے افراد كى ذمہ دارى تھى _

طبرى كے بقول آنحضرت (ص) نے سعيد ابن عاص كو ''رمَعْ و زبيد '' كے درميانى علاقے پر جو نجران كى سرحدوں تك پھيلا ہوا تھا عامر ابن شمر كو ''ہمدان ''اور فيروز ديلمى كو ''صنعا ''كے علاقے كى طرف بھيجا _ اقامہ نماز كيلئے عمرو ابن حزم كو اہل نجران كى طرف بھيجا جبكہ اسى علاقہ سے زكات اور صدقات كى جمع آورى كيلئے ابوسفيان ابن حرب كو مامور فرمايا_ ابو موسى اشعرى كو ''مأرب ''اور يعلى ابن اميہ كو ''الجند ''نامى علاقوں كى طرف روانہ كيا(۱)

ج _ مختلف علاقوں كى طرف آنحضرت (ص) كا اپنے نمائندوںكو خطوط ديكر بھيجنا اس بات كى واضح دليل ہے كہ آپ (ص) نے اپنى قيادت ميں ايك وسيع حكومت قائم كى تھى _ ان ميں سے بعض خطوط اور عہد نامے ايسے ہيں جو دلالت كرتے ہيں كہ آنحضرت (ص) نے ان افراد كو حاكم اور والى كے عنوان سے بھيجا تھا_ عمرو بن حزم

____________________

۱) تاريخ طبرى ( تاريخ الرسل و الملوك ) ج ۳ ص ۳۱۸_

۸۳

كو آپ نے حكم نامہ ديا تھا اس ميں آپ (ص) نے لكھا تھا :لوگوں سے نرمى سے پيش آنا ليكن ظالموں سے سخت رويہ ركھنا _ غنائم سے خمس وصول كرنا اور اموال سے زكات ان ہدايات كے مطابق وصول كرنا جو اس خط ميں لكھى گئي ہيں (۱) واضح سى بات ہے كہ ايسے امور حاكم اور والى ہى انجام دے سكتا ہے_

د _ آنحضرت (ص) كے ہاتھوں حكومت كے قيام كى ايك اور دليل يہ ہے كہ آپ (ص) نے مجرموں اور ان افراد كيلئے سزائيں مقرر كيں جو شرعى حدود كى پائمالى اور قانون شكنى كے مرتكب ہوتے تھے اور آپ (ص) نے صرف اخروى عذاب پر اكتفاء نہيں كيا اورحدود الہى كا نفاذ اور مجرموں كيلئے سزاؤں كا اجراحكو متى ذمہ داريوں ميں سے ہيں_

ہ_ قرآن كريم اور صدر اسلام كے مومنين كى زبان ميں حكومت اور سياسى اقتدار كو لفظ''الامر''سے تعبير كيا جاتا تھا_

''( و شاورهم فى الامر'' ) (۲) اور اس امر ميں ان سے مشورہ كرو _( ''و امرهم شورى بينهم'' ) (۳) اور آپس كے معاملات ميں مشورہ كرتے ہيں _

اگر آنحضرت (ص) كى رہبرى اور قيادت صرف دينى رہبرى ميں منحصر تھى تو پھر رسالت الہى كے ابلاغ ميں آپ (ص) كو مشورہ كرنے كا حكم دينا ناقابل قبول اور بے معنى ہے لہذا ان دو آيات ميں لفظ ''امر'' سياسى فيصلوں اور معاشرتى امور كے معنى ميں ہے_

____________________

۱) اس خط كى عبارت يہ تھى _''امره ان ياخذ بالحق كما امره الله ، يخبر الناس بالذى لهم و الذى عليهم ، يلين للناس فى الحق و يشتدّ عليهم فى الظلم ، امره ان ياخذ من المغانم خمس الله ''

ملاحظہ ہو: نظام الحكم فى الشريعة و التاريخ الاسلامى ، ظافر القاسمي، الكتاب الاول ص ۵۲۹_

۲) سورہ العمران آيت ۱۵۹_

۳) سورہ شورى آيت ۳۸_

۸۴

خلاصہ :

۱) آنحضرت (ص) اپنى امت كے قائد تھے اور تمام مسلمان قائل ہيں كہ آپ نے حكومت تشكيل دى تھى _ موجودہ دور كے بعض مسلمان مصنفين آپ (ص) كى دينى قيادت كے معترف ہيں ليكن تشكيل حكومت كا انكار كرتے ہيں_

۲) آپ (ص) كى حكومت كے بعض منكرين نے ان آيات كا سہارا ليا ہے جو شان پيغمبر كو ابلاغ وحى ، بشارت دينے اور ڈرانے والے ميں منحصر قرار ديتى ہيں اور ان آيات ميں آپ كى حاكميت كاكوئي تذكرہ نہيں ہے_

۳) ان آيات سے'' حصر اضافي'' كا استفادہ ہوتا ہے نہ كہ'' حصر حقيقي'' كا _ لہذايہ آنحضر ت (ص) كے سياسى اقتدار كى نفى كى دليل نہيں ہيں_

۴)بعض منكرين كى دوسرى دليل يہ ہے كہ مسلمانوں پر آپ (ص) كى حاكميت ميں ايسے كمترين امور بھى نہيں پائے جاتے جو ايك حكومت كى تشكيل كيلئے انتہائي ضرورى ہوتے ہيں_

۵) تاريخ شاہد ہے كہ آنحضرت (ص) نے اس دور كے اجتماعى ، ثقافتى اور ملكى حالات كو مد نظر ركھتے ہوئے حكومتى انتظامات كئے تھے_

۶) مختلف علاقوں كى طرف صاحب اختيار نمائندوں كا بھيجنا اور مجرموں كيلئے سزائيں اور قوانين مقرر كرنا آنحضرت (ص) كى طرف سے تشكيل حكومت كى دليل ہے_

۸۵

سوالات :

۱) آنحضرت (ص) كى زعامت اور رياست كے متعلق كونسى دو اساسى بحثيں ہيں؟

۲) آنحضرت (ص) كے ہاتھوں تشكيل حكومت كى نفى پر عبدالرازق كى پہلى دليل كونسى ہے؟

۳) عبدالرازق كى پہلى دليل كے جواب كو مختصر طور پر بيان كيجئے_

۴)عبدالرزاق كى دوسرى دليل كيا ہے ؟

۵) آنحضرت (ص) كے ذريعے تشكيل حكومت پر كونسے تاريخى شواہد دلالت كرتے ہيں؟

۸۶

دسواں سبق:

آنحضرت (ص) اور تأسيس حكومت -۲-

محمد عابد الجابرى نامى ايك عرب مصنف آنحضرت (ص) كى دينى حكومت كى نفى كرتے ہوئے كہتے ہيں كہ آپ (ص) نے كوئي سياسى نظام اور دينى حكومت تشكيل نہيں دى تھى بلكہ آپ (ص) كى پورى كوشش ايك ''امت مسلمہ ''كى تاسيس تھى _ آپ (ص) نے كوئي حكومت قائم نہيں كى تھى بلكہ آپ (ص) نے لوگوں ميں ايك خاص اجتماعى اور معنوى طرز زندگى كو رائج كيا اور ايسى امت كو وجود ميں لائے جو ہميشہ دين الہى كى حفاظت كيلئے كوشش كرتى رہى اور اسلام اور بعثت نبوى كى بركت سے ايك منظم معنوى اور اجتماعى راہ كو طے كيا_ اس معنوى و اجتماعى راہ كى توسيعكى كوششوں اور امت مسلمہ كى پرورش كے باوجود آنحضرت (ص) نے اپنے آپ (ص) كو بادشاہ ، حكمران يا سلطان كا نام نہيں ديا _ بنابريںدعوت محمدى سے ابتدا ميں ايك ''امت مسلمہ'' وجود ميں آئي پھر امتداد زمانہ كے ساتھ ايك خاص سياسى ڈھانچہ تشكيل پايا جسے اسلامى حكومت كا نام ديا گيا _ سياسى نظم و نسق اور

۸۷

حكومت كى تشكيل عباسى خلفا كے عہد ميں وقوع پذير ہوئي _ صدر اسلامكےمسلمان اسلام اور دعوت محمدى كو دين خاتم كے عنوان سے ديكھتے تھے نہحكومت كے عنوان سے_ اسى لئے ان كى تمام تر كوشش اس دين كى حفاظت اور اس امت مسلمہ كى بقا كيلئےرہى نہ كہ سياسى نظام اور نوزائيدہ مملكت كى حفاظت كيلئے_ صدر اسلام ميں جو چيز اسلامى معاشرے ميں وجود ميں آئي وہ امت مسلمہ تھى پھر اس دينى پيغام اور الہى رسالت كے تكامل اور ارتقاء سے دينى حكومت نے جنم ليا_

عابد جابرى نے اپنے مدعا كى تائيد كيلئے درج ذيل شواہد كا سہارا ليا ہے_

الف _ زمانہ بعثت ميں عربوںكے پاس كوئي مملكت اور حكومت نہيں تھى _ مكہ اور مدينہ ميں قبائلى نظام رائج تھا جسے حكومت نہيں كہا جا سكتا تھا كيونكہ حكومت كا وجود چند امور سے تشكيل پاتا ہے: اس سرزمين كى جغرافيائي حدود معين ہوں ،لوگ مستقل طور پر وہاں سكونت اختيار كريں_ايك مركزى قيادت ہو جو قوانين كے مطابق ان لوگوں كے مسائل حل كرے _جبكہ عرب ميں اس قسم كى كوئي شئے موجود نہيں تھي_

ب _ آنحضرت (ص) نے اس دينى اور معاشرتى رسم و رواج اور طرز زندگى كى ترويج كى جسے اسلام لايا تھا اور خود كو حكمران يا سلطان كہلو انے سے اجتناب كيا _

ج _ قرآن مجيد نے كہيں بھى اسلامى حكومت كى بات نہيں كى بلكہ ہميشہ امت مسلمہ كا نام ليا ہے ''و كنتم خير امّة ا ُخرجت للناس''تم بہترين امت ہو جسے لوگوں كيلئے لايا گيا ہے_(۱)

د _ حكومت ايك سياسى اصطلاح كے عنوان سے عباسى دور ميں سامنے آئي _ اس سے پہلے صرف'' امت مسلمہ '' كا لفظ استعمال كيا جاتا تھا جب امويوں سے عباسيوں كى طرف اقتدار منتقل ہوا تو ان كى اور ان

____________________

۱) سورہ آل عمران آيت ۱۱۰_

۸۸

كے حاميوں كى زبان پر'' ہذہ دولتنا'' ( يہ ہمارى حكومت ہے) جيسے الفاظ جارى ہوئے جو كہ دين و حكومت كے ارتباط كى حكايت كرتے ہيں اور امت كى بجائے حكومت اور رياست كا لفظ استعمال ہونے لگا _ (۱)

جابرى كے نظريئےکا جواب :

گذشتہ سبق كا وہ حصہ جو عبدالرازق كى دوسرى دليل كے جواب كے ساتھ مربوط ہے جابرى كے اس نظريہ كے رد كى دليل ہے كہ آنحضرت (ص) نے حكومت تشكيل نہيں دى تھى _ يہاں ہم جابرى كے نظريہ كے متعلق چند تكميلى نكات كى طرف اشارہ كرتے ہيں_

۱_ اسلام اور ايمان كى بركت سے عرب كے متفرق اور مختلف قبائل كے درميان ايك امت مسلمہ كى تشكيل اور ايك مخصوص اجتماعى اور معنوى طرز زندگى اس سے مانع نہيں ہے كہ يہ امت ايك مركزى حكومت قائم كر لے _كسى كو بھى اس سے انكار نہيں ہے كہ آنحضرت (ص) مختلف اور متعدد قبائل سے'' امت واحدہ'' كو وجود ميں لائے_ بحث اس ميں ہے كہ يہ امت سياسى اقتداراور قدرت كى حامل تھى _ حكومت كا عنصراس امت ميں موجود تھا اور اس حكومت اور سياسى اقتدار كى قيادت و رہبرى آنحضرت (ص) كے ہاتھ ميں تھى _

گذشتہ سبق كے آخر ميں ہم نے جو شواہد بيان كئے ہيں وہ اس مدعا كو ثابت كرتے ہيں_

۲_ عبدالرازق اور جابرى دونوں اس بنيادى نكتہ سے غافل رہے ہيں: كہ ہر معاشرہ كى حكومت اس معاشرہ كے مخصوص اجتماعى اور تاريخى حالات كى بنياد پر تشكيل پاتى ہے_ ايك سيدھا اور سادہ معاشرہ جو كہ پيچيدہ مسائل كا حامل نہيں ہے اس كى حكومت بھى طويل و عريض اداروں پر مشتمل نہيں ہوگى _جبكہ ايك وسيع معاشرہ جو كہ مختلف اجتماعى روابط اور پيچيدہ مسائل كا حامل ہے واضح سى بات ہے اسے ايك ايسى حكومت

____________________

۱) الدين و الدولہ و تطبيق الشريعة محمد عابد جابرى ص ۱۳_ ۲۴ _

۸۹

كى ضرورت ہے جو وسيع انتظامى امور اور اداروں پر مشتمل ہوتا كہ اس كے مسائل حل كر سكے _ جس غلط فہمى ميں يہ دو افراد مبتلا ہوئے ہيں وہ يہ ہے كہ انہوں نے آنحضرت (ص) كے دور كے اجتماعى حالات پر غور نہيں كيا _ انہوں نے حكومت كے متعلق ايك خاص قسم كا تصور ذہن ميں ركھا ہے لہذا جب آنحضرت (ص) كے دور ميں انہيں حكومت كے متعلق وہ تصور نہيں ملا توكہنے لگے آنحضرت (ص) نے حكومت تشكيل نہيں دى بلكہ عباسيوں كے دور ميں ا سلامى حكومت وجود ميں آئي _

يہ نظريہ كہ جس كا سرچشمہ عبدالرازق كا كلام ہے كى ردّ ميں ڈاكٹر سنہورى كہتے ہيں :

عبد الرازق كى بنيادى دليل يہ ہے كہ ايك حكومت كيلئے جو انتظامى امور اور ادارے ضرورى ہوتے ہيں_ وہ رسولخدا (ص) كے زمانہ ميں نہيںتھے_ ليكن يہ بات عبدالرازق كے اس مدعاكى دليل نہيں بن سكتى كہ آپ (ص) كے دور ميں حكومت كا وجود نہيں تھا_ كيونكہ اس وقت جزيرة العرب پر ايك سادہ سى طرز زندگى حاكم تھى جو اس قسم كے پيچيدہ اور دقيق نظم و نسق كى روادار نہيں تھى لہذا اس زمانہ ميں جو بہترين نظم و نسق ممكن تھا آنحضرت (ص) نے اپنى حكومت كيلئے قائم كيا _ پس اس اعتراض كى كوئي گنجائشے نہيں رہتى كہ ''اگر آپ نے حكومت تشكيل دى تھى تو اس ميں موجود ہ دور كى حكومتوں كى طرح كا نظم و نسق اور انتظامى ادارے كيوں نہيں ملتے_ كيونكہ اس قسم كانظم و نسق اور طرز حكومت آنحضرت (ص) كے زمانہ كے ساتھ مطابقت نہيں ركھتا تھا ليكن اس كے باوجود آپ نے اپنى اسلامى حكومت كيلئے ماليات ، قانون گذارى ، انتظامى امور اور فوجى ادارے قائم كئے_(۱)

۳_ ہمارا مدعا يہ ہے كہ آنحضرت (ص) سياسى اقتدار اور ايك مركزى حكومت كى ماہيت كو وجود ميں لائے_ ہمارى بحث اس ميں نہيں ہے كہ اس وقت لفظ حكومت استعمال ہوتا تھا يا نہيں يا وہ الفاظ جو كہ عموماً حكمران

____________________

۱) ''فقہ الخلافة و تطورہا ''عبدالرزاق احمد سنہورى ص ۸۲_

۹۰

استعمال كرتے تھے مثلاً امير ، بادشاہ يا سلطان و غيرہ آنحضرت (ص) نے اپنے لئے استعمال كئے يا نہيں؟تاكہ جابرى صرف اس بنا پر كہ آپ (ص) نے خود كو حكمران يا بادشاہ نہيںكہلوايا ياعباسيوں كے دور ميں ''ہمارى حكومت '' جيسے الفاظ رائج ہوئے تشكيل حكومت كو بعد والے ادوار كى پيداوار قرار ديں_

وہ تاريخى حقيقت كہ جس كا انكار نہيں كيا جاسكتا يہ ہے كہ آنحضرت (ص) كے دور ميں مدينہ ميں سياسى اقتدار وجود ميں آچكا تھا _ البتہ يہ حكومت جو كہ اسلامى تعليمات كى بنياد پر قائم تھى شكل و صورت اور لوگوں كے ساتھ تعلقات ميں اس دور كى دوسرى مشہور حكومتوں سے بہت مختلف تھى _

آنحضرت (ص) كى حكومت كا الہى ہونا :

اس نكتہ كى وضاحت كے بعد كہ آنحضرت (ص) نے مدينہ ميں حكومت تشكيل دى تھى اور آپ كى رسالت اور نبوت سياسى ولايت كے ساتھ ملى ہوئي تھى _ اس اہم بحث كى تحقيق كى بارى آتى ہے كہ آنحضرت (ص) كو يہ حكومت اور سياسى ولايت خداوند كريم كى طرف سے عطا ہوئي تھى يا اس كا منشأ رائے عامہ اور بيعت تھى ؟ دوسرے لفظوں ميں كيا آ پ (ص) كى سياسى ولايت كا منشأدينى تھا يا عوامى اورمَدني؟

اس سوال كا جواب اسلام اور سياست كے رابطہ كى تعيين ميں اہم كردار ادا كرے گا _ اگر آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت اور حكومت كا منشا دينى تھا_ اور يہ منصب آپ (ص) كو خدا كى طرف سے عطا كيا گيا تھا تو پھر اسلام اور سياست كا تعلق'' ذاتي'' ہوگا _ بايں معنى كہ اسلام نے اپنى تعليمات ميں حكومت پر توجہ دى ہے اور مسلمانوں سے دينى حكومت كے قيام كا مطالبہ كيا ہے لہذا آنحضرت (ص) نے اس دينى مطالبہ پر لبيك كہتے ہوئے حكومت كى تشكيل اور مسلمانوں كے اجتماعى اور سياسى امور كے حل كيلئے اقدام كيا ہے_ اور اگر آنحضرت (ص) كى حكومت اور سياسى ولايت كا منشأ و سرچشمہ صرف لوگوں كى خواہش اور مطالبہ تھا تو اس صورت ميں اسلام اور حكومت كے درميان تعلق ايك ''تاريخى تعلق ''كہلائے گا _ اس تاريخى تعلق سے مراد يہ

۹۱

ہے كہ اسلام نے اپنى تعليمات ميں دينى حكومت كى تشكيل كا مطالبہ نہيں كيا اور آنحضرت (ص) كيلئے سياسى ولايت جيسا منصب يا ذمہ دارى قرار نہيں دى بلكہ رسولخدا (ص) كے ہاتھوں دينى حكومت كا قيام ايك تاريخى واقعہ تھا جو اتفاقاً وجود ميں آگيا _ اگر مدينہ كے لوگ آپ(ص) كو سياسى قائد كے طور پر منتخب نہ كرتے اور آپ (ص) كى بيعت نہ كرتے تو اسلام اورحكومت كے درميان اس قسم كا تعلق پيدا نہ ہوتا كيونكہ اس نظريہ كے مطابق اسلام اور سياست كے درميان كوئي ''ذاتى تعلق'' نہيں ہے اور نہ ہى اس دين ميں سياسى ولايت كے متعلق اظہار رائے كياگيا ہے _

اس نظريہ كے حاميوں ميں سے ايك كہتے ہيں :

آسمانى پيغام كو پہنچانے كيلئے رسولخدا (ص) كى اجتماعى ، سياسى اور اخلاقى قيادت سب سے پہلے لوگوں كے منتخب كرنے اور بيعت كے ذريعہ وجود ميں آئي پھر اس بيعت كو خداوند كريم نے پسند فرمايا جيسا كہ سورہ فتح كى آيت'' لقد رضى اللہ عن المومنين اذ يبايعونك تحت الشجرة ''(۱) ''بے شك اللہ تعالى مومنوں سے اس وقت راضى ہو گيا جب وہ درخت كے نيچے تيرى بيعت كر رہے تھے''_ سے معلوم ہوتا ہے ايسا نہيں ہے كہ آنحضرت (ص) كى سياسى قيادت الہى ماموريت اور رسالت كا ايك حصہ ہو بلكہ آپ كى سياسى قيادت اورفرمانروائي جو كہ لوگوں كى روزمرہ زندگى اور عملى و اجرائي دستورات پر مشتمل تھى لوگوں كے انتخاب اور بيعت كے ذريعہ وجود ميں آئي لہذا يہ رہبرى وحى الہى كے زمرے ميں نہيں آتي_

يہ نظريہ صحيح نہيں ہے كہ دين اور سياست كا تعلق ايك تاريخى تعلق ہے اور آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت ايك مدنى ضرورت تھى _ آپ (ص) كى حكومت اس دور كے تقاضے اور لوگوں كے مطالبہ سے اتفاقاً وجود ميں نہيں

____________________

۱) سورہ فتح آيت نمبر۱۸_

۹۲

آئي تھى _بلكہ اس كا سرچشمہ اسلامى تعليمات تھيں اور جيسا كہ آگے ہم وضاحت كريں گے كہ لوگوں كى خواہش اور بيعت نے درحقيقت اس دينى دعوت كے عملى ہونے كى راہ ہموار كى _ متعدد دلائل سے ثابت كيا جاسكتا ہے كہ آپ (ص) كى سياسى ولايت كا سرچشمہ اسلام اور وحى الہى تھى ان ميں سے بعض دلائل يہ ہيں_

الف _ اسلام كچھ ايسے قوانين اور شرعى فرائض پر مشتمل ہے كہ جنہيں دينى حكومت كى تشكيل كے بغير اسلامى معاشرہ ميں جارى نہيں كيا جاسكتا _ اسلامى سزاؤں كا نفاذ اور مسلمانوں كے مالى واجبات مثلا ً زكوة ، اور اموال و غنائم كے خمس كى وصولى اور مصرف ايسے امور ہيں كہ دينى حكومت كى تشكيل كے بغير ان كا انجام دينا ممكن نہيں ہے _ بنابريں دينى تعليمات كے اس حصہ كو انجام دينے كيلئے آپ (ص) كيلئے سياسى ولايت ناگزير تھي_ ہاں اگر مسلمان آپ (ص) كا ساتھ نہ ديتے اور بيعت اور حمايت كے ذريعہ آپ (ص) كى پشت پناہى نہ كرتے تو آپ كى سياسى ولايت كو استحكام حاصل نہ ہوتا اور دينى تعليمات كا يہ حصہ نافذ نہ ہوتا _ ليكن اس كا يہ معنى نہيںہے كہ آپ(ع) كى سياسى ولايت كا منشأ عوام تھے اور اسلام سے اس كا كوئي تعلق نہيں تھا_

ب _ قرآنى آيات رسولخدا (ص) كى سياسى ولايت كو ثابت كرتى ہيں اورمؤمنين سے مطالبہ كرتى ہيں كہ وہ آپ (ص) كى طرف سے ديے گئے اوامر اور نواہى كى اطاعت كريں:

( '' النبى اولى بالمومنين من انفسهم '' ) (۱)

بے شك نبى تمام مومنوں سے ان كے نفس كى نسبت اولى ہيں _

( '' انما وليّكم الله و رسوله و الذين آمنوا الذين يقيمون الصلوة و يؤتون الزكوة و هم راكعون'' ) (۲)

____________________

۱) سورہ احزاب آيت ۶_

۲) سورہ مائدہ آيت۵۵_

۹۳

يقينا ً تمہارا ولى خدا ، اس كا رسول اور وہ صاحبان ايمان ہيں جو نماز قائم كرتے ہيں اور حالت ركوع ميں زكوة ديتے ہيں _

( '' انا انزلنا اليك الكتاب بالحق لتحكم بين الناس بما اريك الله'' ) (۱)

ہم نے تمہارى طرف بر حق كتاب نازل كى تا كہ لوگوں كے درميان حكم خدا كے مطابق فيصلہ كريں_

اس قسم كى آيات سے ثابت ہوتا ہے كہ آنحضرت (ص) مومنين پر ولايت ،اولويت اور حق تقدم ركھتے ہيں_ بحث اس ميں ہے كہ يہ ولايت اور اولويت كن امور ميں ہے _ ان آيات سے يہى ظاہر ہوتا ہے كہ يہ ولايت اور اولويت ان امور ميں ہے جن ميں لوگ معمولاً اپنے رئيس كى طرف رجوع كرتے ہيں يعنى وہ اجتماعى امور جن كے ساتھ معاشرہ اور نظام كى حفاظت كا تعلق ہے _ مثلاً نظم و نسق كا برقرار ركھنا ،لوگوں كے حقوق كى پاسدارى ، ماليات كى جمع آورى ، انكى تقسيم اورمستحقين تك ان كا پہنچانا اور اس طرح كے دوسرے ضرورى مصارف ، مجرموں كو سزا دينا اور غيروں سے جنگ اور صلح جيسے امور _

ج_ وہ افراد جو آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت كو مدنى اور غير الہى سمجھتے ہيں ان كى اہم ترين دليل مختلف موقعوں پر مسلمانوں كا رسولخدا ا(ص) كى بيعت كرنا ہے _ بعثت كے تير ہويں سال اہل يثرب كى بيعت اور بيعت شجرہ( بيعت رضوان) كہ جس كى طرف اسى سبق ميں اشارہ كيا گيا ہے يہ وہ بيعتيں ہيں جن سے ان افراد نے تمسك كرتے ہوئے كہا ہے كہ آنحضرت (ص) كى حكومت كا منشأ دينى نہيں تھا _

بعثت كے تير ہويں سال اعمال حج انجام دينے كے بعد اور رسولخدا (ص) كى مدينہ ہجرت سے پہلے اہل يثرب كے نمائندوں نے آنحضرت (ص) كى بيعت كى تھى _ جسے بيعت عقبہ كہتے ہيں_ اگر اس كا پس منظر ديكھا

____________________

۱) سورہ نساء آيت ۱۰۵_

۹۴

جائے تو بخوبى واضح ہوجاتا ہے كہ اس بيعت كا مقصد مشركين مكہ كى دھمكيوں كے مقابلہ ميں رسولخدا (ص) كى حمايت كرنا تھا _ اس بيعت ميں كوئي ايسى چيز نہيں ہے جو دلالت كرتى ہو كہ انہوں نے آنحضرت (ص) كو سياسى رہبر كے عنوان سے منتخب كيا ہو _ اس بيعت كے وقت آنحضرت (ص) نے فرمايا:

''امّا مالى عليكم فتنصروننى مثل نسائكم و ابنائكم و ان تصبروا على عضّ السّيف و ان يُقتل خياركم ''

بہر حال ميرا تم پر يہ حق ہے كہ تم ميرى اسى طرح مدد كرو جس طرح اپنى عورتوں اور بچوں كى مدد كرتے ہو اور يہ كہ تلواروں كے كاٹنے پر صبر كرو اگر چہ تمہارے بہترين افراد ہى كيوں نہ مارے جائيں_

براء بن معرور نے آنحضرت (ص) كا ہاتھ اپنے ہاتھ ميں ليا اور كہا :

''نعم و الذى بعثك بالحق لنمنعنّك ممّا نمنع منه ازرنا ''(۱ )

ہاں اس ذات كى قسم جس نے آپ كو حق كے ساتھ مبعوث كيا ہے ہم ہراس چيز سے آپ كا دفاع كريں گے جس سے اپنى قوت و طاقت كا دفاع كرتے ہيں_

بيعت رضوان كہ جس كى طرف سورہ فتح كى اٹھارويں آيت اشارہ كر رہى ہے سن چھ ہجرى ميں ''حديبيہ'' كے مقام پر ہوئي اس بيعت سے يہ استدلال كرنا كہ آنحضرت(ص) كى حكومت كا منشا مدنى اور عوامى تھا ناقابل فہم بہت عجيب ہے كيونكہ يہ بيعت مدينہ ميں آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت اور اقتدار كے استحكام كے كئي سال بعد ہوئي پھر اس بيعت كا مقصد مشركين كے ساتھ جنگ كى تيارى كا اظہار تھا _ لہذا سياسى رہبر كے انتخاب كے مسئلہ كے ساتھ اس كا كوئي تعلق نہيں تھا _

____________________

۱) مناقب آل ابى طالب ج ۱، ص ۱۸۱_

۹۵

خلاصہ :

۱) عصر حاضر كے بعض مصنفين قائل ہيں كہ آنحضرت (ص) نے حكومت تشكيل نہيں دى تھى بلكہ ايك امت مسلمہ كى نبياد ركھى تھى _ امت مسلمہ كى تشكيل كے بعد عباسيوں كے دور ميں دينى حكومت قائم ہوئي _

۲) اس مدعا كى دليل يہ ہے كہ رسولخد ا (ص) كے دور ميں جو قبائلى نظام رائج تھا اس پر حكومت كى تعريف صادق نہيں آتى _ دوسرا يہ كہ آنحضرت (ص) نے اپنے آپ كو امير يا حاكم كا نام نہيں ديا نيز قرآن نے بھى مسلمانوں كيلئے ''امت ''كا لفظ استعمال كيا ہے _

۳) اس نظريہ كے حامى اس نكتہ سے غافل رہے ہيں كہ ہر معاشرے اور زمانے كى حكومت اس دور كے اجتماعى حالات كے مطابق ہوتى ہے لہذا دور حاضر ميں حكومت كى جو تعريف كى جاتى ہے اس كا رسولخدا (ص) كے زمانے كى حكومت پر صادق نہ آنا اس بات كى نفى نہيں كرتاكہ مدينہ ميں آنحضرت (ص) نے حكومت تشكيل دى تھى _

۴) دوسرا نكتہ جس سے غفلت برتى گئي ہے وہ يہ ہے كہ بحث لفظ ''حكومت، رياست اور امارت'' ميں نہيں ہے _ ہمارا مدعا يہ ہے كہ رسولخدا (ص) كے زمانہ ميں حكومت اور سياسى ولايت موجود تھى _

۵) مسلمانوں ميں حكومت كا وجود ان پر لفظ ''امت'' كے اطلاق كے منافى نہيں ہے _

۶) اصلى مدعا يہ ہے كہ آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت اسلام اور سياست كے در ميان ذاتى تعلق كا نتيجہ ہے نہ كہ ايك اتفاقى اور تاريخى واقعہ _ پس اسلام اور سياست كا تعلق ايك تاريخى تعلق نہيں ہے_

۷) آنحضرت (ص) كى حكومت كے الہى اور غير مدنى ہونے پر بہت سى ادلّہ موجود ہيں _

۹۶

سوالات :

۱) جو لوگ يہ كہتے ہيں كہ آنحضرت (ص) نے حكومت كى بجائے امت مسلمہ كى نبياد ركھى تھى اس سے ان كى مراد كيا ہے ؟

۲) اس مدعا پر انہوں نے كونسى ادلّہ پيش كى ہيں ؟

۳) آنحضرت (ص) كے ہاتھوںتشكيل حكومت كے منكرين كے اس گروہ كو كيا جواب ديا گيا ہے؟

۴) اسلام اور سياست كے درميان ''ذاتى تعلق'' اور ''تاريخى تعلق'' سے كيا مراد ہے ؟

۵)اس بات كى كيا دليل ہے كہ آنحضرت (ص) كى حكومت الہى تھى اور اس كا سرچشمہ دين تھا ؟ اور يہ كہ آپ (ص) كى حكومت مدنى نہ تھي_

۹۷

گيا رہواں سبق:

آنحضرت (ص) كے بعد سياسى ولايت

گذشتہ سبق ميں اس نكتہ كى طرف اشارہ كرچكے ہيں كہ آنحضرت (ص) كى سياسى ولايت، شرعى نص اور وحى الہى كى بنياد پر تھى اور اس ولايت كى مشروعيت كا سرچشمہ فرمان الہى تھا _ اب سوال يہ ہے كہ كيا رحلت كے بعد مسلمانوں كے سياسى نظام اور امت كے سياسى اقتدار كے متعلق اسلامى تعليمات اور دينى نصوص ميں اظہار رائے كيا گيا ہے ؟ يا اسلام اس بارے ميں خاموش رہا ہے اور امر ولايت اور سياسى اقتدار اور اس كى كيفيت كو خود امت اور اس كے اجتہاد و فكر پر چھوڑ ديا ہے ؟

يہ مسئلہ جو كہ'' كلام اسلامي'' ميں ''مسئلہ امامت'' كے نام سے موسوم ہے طول تاريخ ميں عالم اسلام كى اہم ترين كلامى مباحث ميں رہا ہے اوراسلام كے دو بڑے فرقوں يعنى شيعہ و سنى كے درميان نزاع كا اصلى محور يہى ہے _ اہلسنت كہتے ہيں: آنحضرت(ص) كى رحلت كے بعد امر حكومت كے متعلق دينى نصوص ساكت ہيں اور نظام حكومت ، مسلمانوں كے حكمران كى شرائط اور اس كے طرزانتخاب كے متعلق كوئي واضح فرمان نہيں ديا گيا _ آنحضرت(ص) كے بعد جو كچھ ہوا وہ صدر اسلام كے مسلمانوں كے اجتہاد كى بناپرتھا _ اہل سنت اس اجتہاد كا نتيجہ

۹۸

''نظام خلافت''كے انتخا ب كو قرار ديتے ہيں _

جبكہ اس كے مقابلے ميں اہل تشيع يہ كہتے ہيں كہ آنحضرت (ص) نے اپنى زندگى ميں ہى حكم خدا سے متعدد شرعى نصوص كے ذريعہ امت كى سياسى ولايت اور'' نظام امامت'' كى بنياد ركھ دي_

ان دو بنيادى نظريات كى تحقيق سے پہلے جو كہ آپس ميں بالكل متضاد ہيں اس نكتہ كى وضاحت ضرورى ہے كہ اہلسنت نے ''مسئلہ امامت'' كو وہ اہميت اور توجہ نہيں دى جو شيعوں نے دى ہے _ اہلسنت كے نزديك مسئلہ خلافت ، شرائط خليفہ اور اس كى تعيين كا طريقہ ايك فقہى مسئلہ ہے _ جس كا علم كلام اور اعتقاد سے كوئي تعلق نہيں ہے _ اسى لئے انہوں نے اسے اتنى اہميت نہيں دى _ ان كى كلامى كتب ميںاس مسئلہ پر جووسيع بحث كى گئي ہے وہ در حقيقت ضد اور شيعوں كے رد عمل كے طور پر كى گئي ہے _ كيونكہ شيعوں نے اس اہم مسئلہ پر بہت زور ديا ہے اور'' مسئلہ امامت'' كو اپنى اعتقادى مباحث كے زمرہ ميں شمار كرتے ہوئے اسے بہت زيادہ اہميت دى ہے _ لہذا اہلسنت بھى مجبوراً اس فرعى اور فقہى بحث كو علم كلام اور اعتقادات ميں ذكر كرنے لگے بطور مثال ،غزالى مسئلہ امامت كے متعلق كہتے ہيں :

''النظر فى الامامة ليس من المهمات و ليس ايضاً من فنّ المعقولات بل من الفقهيات''

امامت كے بارے ميں غور كرنا اتنا اہم نہيں ہے اور نہ ہى يہ علم كلام كے مسائل ميں سے ہے بلكہ اس كا تعلق فقہ سے ہے(۱)

مسئلہ امامت شيعوں كے نزديك صرف ايك فرعى اور فقہى مسئلہ نہيں ہے اور نہ ہى معاشرتى نظام كے چلانے كى كيفيت اور سياسى ولايت ميں منحصر ہے بلكہ ايك كلامى مسئلہ ہے اور جزء ايمان ہے لہذا ائمہ

____________________

۱) الاقتصاد فى الاعتقاد، ابوحامد غزالى ص ۹۵_

۹۹

معصومين كى امامت پر اعتقاد نہ ركھنا در حقيقت دين كے ايك حصّے كے انكار اور بعض نصوص اور دينى تعليمات سے صرف نظر كرنے كے مترادف ہے ،جس كے نتيجہ ميں ايمان ناقص رہ جاتا ہے _ شيعوں كے نزديك امامت ايك ايسا بلند منصب ہے كہ سياسى ولايت اس كا ايك جزء ہے _ شيعہ ہونے كا اساسى ركن امامت كا معتقد ہونا ہے _ يہى وجہ ہے كہ اہلسنت كے مشہور عالم ''شہرستاني'' '' شيعہ'' كى تعريف كرتے ہوئے كہتے ہيں: الشيعة ہم الذين شايعوا علياً على الخصوص و قالوا بامامتہ و خلافتہ نصاً و وصيتاً اما جلياً و اما خفيا و اعتقدوا ان امامتہ لا تخرج من اولادہ (۱ ) شيعہ وہ لوگ ہيں جو بالخصوص حضرت على كا اتباع كرتے ہيں اور آنحضرت (ص) كى ظاہرى يا مخفى وصيت اور نص كى روسے انكى امامت اور خلافت كے قائل ہيں اور معتقد ہيں كہ امامت ان كى اولاد سے باہر نہيں جائے گى _

اہلسنت اور نظريہ خلافت :

اگر موجودہ صدى كے بعض روشن فكر عرب مسلمانوں كے سياسى مقاصد اور نظريات سے چشم پوشى كرليں تو اہلسنت كا سياسى تفكر تاريخى لحاظ سے نظام خلافت كے قبول كرنے پر مبتنى ہے _

اہلسنت كے وہ پہلے مشہور عالم ماوردى(۲) كہ جنہوں نے اسلام كى سياسى فقہ كے متعلق ايك مستقل كتاب لكھى ہے كے زمانہ سے ليكر آج تك سياسى تفكر كے بارے ميں انكى سب تحريروں كا محور نظريہ خلافت ہے_

اہلسنت كى فقہ سياسى اور فلسفہ سياسى دينى نصوص كى بجائے صحابہ كے عمل سے متاثر ہے _ اہلسنت سمجھتے ہيں كہ خليفہ كى تعيين كى كيفيت اورشرائط كے متعلق قرآن اور سنت ميں كوئي واضح تعليمات موجو د نہيں ہيں

____________________

۱) الملل و النحل، شہرستانى ج ۲ ص ۱۳۱_

۲) على ابن محمد ابن حبيب ابوالحسن ماوردى ( ۳۶۴ _ م ۴۵۰ ق) شافعى مذہب كے عظيم فقہا ميں سے ہيں فقہ سياسى كے متعلق ''احكام سلطانيہ'' كے علاوہ ديگر كتب كے بھى مؤلف ہيں جيسے ''الحاوي'' اور ''تفسير قرآن'' _

۱۰۰

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367