صحیفہ امام حسین علیہ السلام

صحیفہ امام حسین علیہ السلام28%

صحیفہ امام حسین علیہ السلام مؤلف:
زمرہ جات: امام حسین(علیہ السلام)

صحیفہ امام حسین علیہ السلام
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 23 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 9956 / ڈاؤنلوڈ: 4027
سائز سائز سائز

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

کتاب کا نام : صحیفہ امام حسین علیہ السلام

تالیف : علی اصغر رضوانی

فصل اوّل

آنحضرت کی دعائیں اور مناجات

اللہ تعالیٰ کی تعریف اور توصیف میں۔

نماز اور خدا کے ساتھ ربط میں۔

دشمنوں کے خلاف جہاد کے بارے میں۔

لوگوں کی مدح یا مذمت میں۔

مشکلات کے رفع ہونے اور حاجات کے بر لانے میں۔

خطرات اور بیماریوں کے دور کرنے میں۔

مبارک ایام میں۔

پہلا باب

اللّٰہ کی تعریف اور توصیف میں

ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو اللہ سبحانہ کی تسبیح و تقدیس

خدائے بزرگ و برتر کے حضور مناجات

حجر اسود کے قریب اللہ تعالیٰ سے رازونیاز

اخلاقِ حسنہ کی طلب میں

آخرت کی رغبت میں

خلافِ معمول کاموں سے بچنے کیلئے

مردوں کے لئے طلبِ رحمت کرتے ہوئے

ہر ماہ کی پانچ تاریخ میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقد یس

پاک ہے وہ ہستی جواعلیٰ اور رفیع الدرجات ہے۔ پاک ہے وہ ذات جو بزرگوار اور بلند مرتبہ ہے۔ پاک ہے وہ ذات جو اس طرح ہے کہ کوئی بھی اس طرح نہیں ہے۔ کوئی ایک بھی اس کی برابری کی طاقت نہیں رکھتا۔ پاک ہے وہ ذات جس کی ابتداء علم سے ہے ،جو قابلِ توصیف نہیں اور اس کی انتہا ایسی دانائی ہے جو کبھی فنا نہیں ہوگی۔

پاک و منزہ ہے وہ ذات جو اپنی ربوبیت سے تمام موجودات پر برتری رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی آنکھ اس کو پانہیں سکتی اور کوئی عقل اُسے مثال میں نہیں لا سکتی۔ وہم سے اُس کو تصور نہیں کرسکتے ،جس طرح زبان اُس کی توصیف کرنے سے قاصر ہے۔

پاک ہے وہ ہستی جو آسمانوں میں بلند مرتبہ ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کیلئے موت کومقرر کیا۔پاک ہے وہ ذات جس کی بادشاہی قدرت مند ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس کی حکمرانی میں کوئی عیب نہیں۔پاک ہے وہ ذات جو ہمیشہ سے ہے اور رہے گا۔(دعوات: ۹۲ ،بحار ۹۴:۲۰۵)

اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہوئے

روایت ہے کہ امام حسین علیہ السلام انس بن مالک کے ہمراہ چل رہے تھے کہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی قبر کے پاس پہنچے تو روئے۔ پھر فرمایا:

اے انس! مجھ سے دور چلے جاؤ۔ وہ کہتا ہے کہ میں امام علیہ السلام کی نگاہوں سے دور چلا گیا۔ جب انہیں نماز پڑھتے پڑھتے دیر ہوگئی تو میں نے سنا کہ یوں فرمارہے تھے:

پروردگارا! پروردگارا! تو میرا مولا ہے۔

اپنے اس بندے پر رحم فرما جو تیری بارگاہ میں پناہ گزین ہے۔

اے عظیم الشان صفات والے! میرا تجھ ہی پر بھروسہ ہے۔

اُس کے لئے خوشخبری ہے جس کا تو مولا ہے۔

خوشخبری ایسے شخص کیلئے جو خدمت گزار اور شب زندہ دار ہے۔ جو اپنی مشکلات کو اپنے رب کے سامنے رکھتا ہے اور جو چیزیں اپنے رب کے سامنے پیش کرتا ہے۔

کوئی دل میں بیماری نہیں رکھتا بلکہ زیادہ تر اپنے مولا سے محبت کی خاطر ۔بہرحال جو بھی غصہ اور پریشانی بارگاہِ ربوبیت میں رکھی ہے، خدا جل شانہ نے سنی اور قبول فرمایا۔

کوئی بھی اگر اپنی پریشانیوں کو اندھیری رات میں اُس کی بارگاہ میں رازونیاز کرے، خدا اُس کو عزت بخشتا ہے اور اپنا قرب عطا فرماتا ہے۔

پھر اُس بندے کو ندا دی جاتی ہے۔

اے میرے بندے! تو میری حمایت میں ہے اور تونے جو کچھ بھی کہا ہے، ہم اُس کو جانتے ہیں۔

میرے فرشتے تیری آواز سننے کے مشتاق ہیں۔ کافی ہے کہ ہم تیری آواز کو سن رہے ہیں۔آپ کی دعا میرے قریب ہے اور پردوں میں گردش میں ہے۔ کافی ہے کہ ہم تیرے لئے حجاب کو ہٹا دیتے ہیں۔

اگر اُس کی جانب سے ہوا چلے تو زمین پر بیہوشی سی طاری ہوجائے۔مجھ سے طمع، ڈر اور حساب کے بغیر مانگ کیونکہ میں تیرا رب ہوں۔(بحار ۴۴:۱۹۳)

حجر اسود کے قریب اپنے رب سے رازو نیاز

اے پروردگارا!تو نے مجھے نعمت سے نوازا لیکن مجھے شکر بجالانے والا نہیں پایا۔ مجھے مصیبت کے ذریعے آزمایا لیکن مجھے صابر و شاکر نہیں پایا۔

اس کے باوجود شکر نہ بجا لانے پر نعمتوں کو سلب نہیں فرمایا اور میرے صبر نہ کرنے پر مصیبت میں اضافہ نہیں فرمایا۔

پروردگارا! تیرے علاوہ کسی کو عزت دار نہیں پایا۔(کشف الغمہ ۱:۴۱۴ ،عددالقویۃ: ۳۵)

اخلاقِ حسنہ کی طلب میں

پروردگارا! ہدایت یافتہ لوگوں کی سی توفیق عطا فرما ،پرہیزگاروں کے سے اعمال عطا فرما، توبہ کرنے والوں کی سی خیرخواہی عطا فرما، ڈرنے والوں کی سی خشیت عطا فرما، اہلِ علم کی سی طلب عطا فرما، متقی اور زاہد لوگوں کی سی زینت عطا فرمااور جزع و فزح کرنے والوں کا سا خوف عطا فرما۔

پروردگارا! ہمیشہ میرے دل میں اپنا خوف قرار دے جو مجھے گناہ کرنے سے روکے اور تیرے فرامین پر عمل پیرا ہو کر تیری کرامت اور بزرگواری کا مستحق ٹھہر سکوں۔تیرے خوف سے تیری بارگاہ میں توبہ بجا لاؤں۔

اورپھر تجھ سے محبت میں اعمال کوخلوص سے بجالاؤں۔ اپنے کاموں میں تجھ پر حسن ظن کرتے ہوئے تیری ذات پر ہی توکل کروں۔نور کے پیدا کرنے والی ذات پاکیزہ ہے اور پاک ہے وہ ذات جو عظیم الشان ہے ۔ تمام حمد و ستائش اُسی کے ساتھ سزاوار ہے۔(مہج الدعوات: ۱۵۷)

آخرت میں رغبت اور توجہ طلب کرتے ہوئے

پروردگارا! مجھے آخرت میں رغبت اور اشتیاق عطا فرما تاکہ اس کے وجودکی صداقت سے امورِ دنیا میں زہد کو اپنے اندر محسوس کروں۔

پروردگارا! مجھے اُمورِ آخرت کی پہچان اوربصیرت عطافرما تاکہ میں نیکیوں میں اشتیاق اور تیرے خوف کی وجہ سے گناہوں سے دورر ہوں۔(کشف الغمہ ۲:۶۳)

استدراج سے امن میں رہنے کیلئے

پروردگارا! مجھے اپنی عطا کردہ نعمتوں سے غافل نہ فرمانا تاکہ میں تیرے عذاب کی راہ پر چل نکلوں اور مجھے اپنی ناراضگی سے ادب نہ سکھانا۔(درة الباہرہ: ۲۴)

مُردوں کیلئے طلبِ رحمت کرتے ہوئے

پروردگارا!اے ان فنا ہونے والی ارواح کے رب! بوسیدہ جسموں کے رب اور نرم شدہ ہڈیوں کے رب!جو تجھ پر ایمان اور اعتقاد کی صورت میں دنیا سے گئے ہیں،اُن پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور میری جانب سے سلام بھیج۔(بحار ۱۰۲:۳۰۰)

دوسرا باب

نماز اور اللّٰہ سے رازونیاز کے بارے میں آنحضرت کی دعائیں

قنوت میں

قنوت کی حالت میں

نمازِ وتر کی قنوت میں

سجدئہ شکر میں

صبح اور شب کی نماز میں

بارانِ رحمت کی طلب میں

بارش کی طلب میں

منافقین کی نمازِ جنازہ میں

قنوت میں آنحضرت کی دعا

پروردگارا! ہر چیز کا آغاز بھی تجھ سے ہے اور انجامِ کار بھی تیرے ارادے کے تحت ہے۔ قوت و قدرت بھی تیرے لئے مخصوص ہے۔ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ تو نے اپنے اولیاء کے دلوں کو اپنی مشیت اور ارادے کا محل قرار دیا ہے اور ان کے کردار سے امرونہی کی تعلیم فرمائی ہے تاکہ تیری یاد سے ایک لمحہ بھی غافل نہ ہوں۔

جب تو کسی چیز کا ارادہ کرلے تو اپنے اولیاء کو ودیعت شدہ اسرار کو متحرک کردیتا ہے اور ان کی زبانوں سے وہی کچھ جاری کروادیتا ہے جو انہیں سمجھا رکھا ہے اور وہ تیری عطا کردہ عقل سے تجھے پکارتے ہیں۔جو کچھ مجھے تعلیم دیا ہے، میں جانتا ہوں اور جو چیزیں مجھے دکھائی ہیں ، مجھے پناہ دی ہے۔ توہی شکرگزاری کا سزاوار ہے۔

پروردگارا! اس قدرت اور طاقت کے باوجود تیری پناہ کا طلب گار ہوں۔ میں راضی ہوں کہ مجھے اپنی قضا و قدر کے متعلق اپنے علم کی راہ پر قرار دیا اور اس کے راستے پر متحرک کیا۔ جو کچھ تو چاہتا ہے ، میں اس پر سختی سے کاربند ہوں اور جن چیزوں کے متعلق تو مجھ سے راضی ہے، بخیل نہیں ہوں۔جس چیز کی طرف مجھے بلایا ہے، کوتاہی نہیں کروں گا۔

جس چیز کی مجھے تعلیم دی ہے، اس میں جلدی کروں گا۔ جس چیز سے تو نے میری ابتداء کی تھی، میں بھی اسی سے آغاز کروں گا۔ تیری ہی راہِ ہدایت سے ہدایت کا طلب گار ہوں۔ جن امور میں بچنے کا حکم دیا ہے، بچوں گا یا جن امور میں احتیاط برتنے کو کہا ہے، احتیاط کروں گا۔ پس تو بھی مجھے رعایت سے محروم نہ فرما اور اپنی عنایت سے باہر نہ فرما۔ مجھے اپنی تائیداور توفیقات کے فیض سے محروم نہ فرما۔ اپنی خوشی اور خوشنودی والی راہ سے خارج نہ فرما۔

میری حرکت کو میری بصیرت پر قرار دے اور میری راہ کو ہدایت کے ساتھ قرار دے۔ میری زندگی رشدوکمال کے ساتھ قرار دے۔ اگر مجھے ہدایت فرمائی ہے تو میرے وسیلہ سے دوسروں کو بھی اسی راہ کی ہدایت فرما جس کو تو پسند فرماتا ہے،جس کیلئے مجھے خلق کیا ہے، اسی کیلئے مجھے پناہ دے رکھی ہے اور مجھے وہاں پر اتارے گا۔

بارِ الٰہا!اپنے اولیاء کو میرے وسیلہ سے امتحان کرنے سے اپنی پناہ میں رکھ بلکہ ان کو اپنی رحمت اور نعمتوں کے وسیلہ سے امتحان فرما۔اپنے اولیاء کو پلیدیوں سے پاک ہونے کیلئے میرے طریقہ اور میری راہ سے ان کے برگزیدہ ہونے کا سبب قرار دے۔مجھے اپنے آباء و اجداد اور صالح عزیزواقارب سے ملحق فرما۔(مہج الدعوات: ۴۸ ،بحار ۸۵:۲۱۴)

حالت قنوت میں پڑھی جانے والی دعا

پروردگارا! لوگ جہاں بھی پناہ لیتے رہیں، میری پناہ گاہ تو ہی ہے اور لوگ جس کو اپنا ملجا ء قرار دیں، میرا ملجاء تو ہی ہے۔ بارِ الٰہا!محمد وآلِ محمد پر درود بھیج۔ میری دعاؤں کو سن اور میری دعاؤں کو قبول فرما۔ اپنے نزدیک ہی مجھے جگہ عطا فرما اور امتحان اور ابتلا کے وقت، شیطان کے ذریعے گمراہی یا کسی بھی جہت سے لڑکھڑانے سے محفوظ فرما۔ اپنی بزرگواری کے صدقے جو انسانی کذب و افترا اور خیال پردازیوں سے محفوظ ہے اور کوئی چیز اس سے خالی نہیں ہے، مجھے اپنے ارادے اور مشیت سے اپنی طرف لوٹا۔البتہ تیرے اور تیری رحمت سے میں شکوک و شبہات سے بالا تر رہوں، اے بہترین رحم کرنے والے۔(مہج الدعوات: ۴۹ ،بحار ۸۵:۲۱۵)

نمازِ وتر کے قنوت میں

بارِ الٰہا! تو دیکھتا ہے لیکن تجھے نہیں دیکھا جا سکتا، تیری جگہ بہت بلند ہے۔ تیری ہی طرف بازگشت ہے۔ دنیا و آخرت تیرے ہی لئے ہے۔بارِ الٰہا! زلت و رسوائی میں تیری پناہ گاہ کا طلب گار ہوں۔(کنزالعمال ۸:۸۲)

سجدئہ شکر میں دعا

شریح سے روایت ہے ، وہ کہتا ہے کہ میں مسجد نبوی میں داخل ہواتو حسین علیہ السلام کو دیکھا جو مسجد میں تھے۔ سر میں خاک ڈال کر کہہ رہے تھے:

"اے بارِ الٰہا! کیا میرے بدن کے اعضاء کو آگ بگولا گرزوں کیلئے خلق کیا تھا؟ کیا میرے وجودکو جہنم کے کھولتے پانی پینے کیلئے خلق کیا تھا؟ پروردگارا! اگر تو مجھے گناہوں سے روکے تو میں کریم اور بخشنے والے کو ہی پکاروں گا اور اگر مجھے خطاکاروں سے قرار دے تو میں تیری دوستی کے بارے میں اُنہیں بتاؤں گا۔ اے میرے آقا!میری اطاعت تجھے فائدہ نہیں پہنچاتی اور میرے گناہ تجھے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ پس وہ چیز جو تیرے لئے فائدہ مند نہیں ہے، مجھے عنایت فرمادے اور جو تجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی، اس سے مجھے محفوظ فرما۔پس تو بہترین رحم کر نے والا ہے۔(احقاق الحق ۱۱:۴۲۴)

صبح و شب میں دعا

اللہ کے نام سے جو بخشنے والا مہربان ہے۔ اللہ کے نام سے ، اللہ کے ساتھ، اللہ تعالیٰ سے اور اس کی راہ میں ، اس کے رسول کے مذہب پر اور میں خدا پر توکل کرتا ہوں، قوت و طاقت صرف بزرگ و برتر اللہ کیلئے ہے۔

پروردگارا! میں اپنی جان کو تیرے حوالے کرتا ہوں۔ میں نے تیری طرف رخ کیا ہے اور اپنے امور کو تجھے تفویض کیا ہے۔ دنیا و آخرت میں ہر بدی اور برائی سے بچنے کا سوال کرتا ہوں۔

پروردگارا!تو نے مجھے دوسروں سے بے نیاز کردیا ہے اور کوئی بھی مجھے تجھ سے بے نیاز نہیں کرسکتا۔پس خوف وہراس میں میری کفایت فرما اور کاموں میں میرے لئے آسانیاں فرما کیونکہ تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا۔ تو قدرت والا ہے جبکہ میں قادر نہیں ہوں۔ تو ہر کام پر توانا ہے ، اے بہترین رحمت کرنے والے۔(مہج الدعوات: ۱۵۷)

طلب باران کیلئے دعا

پروردگارا! اے خیرات کو اس کی مخصوص جگہوں سے دینے والے اور رحمتوں کے خزانوں سے رحمتیں برسانے والے، اہل لوگوں پر برکتیں نازل کرنے والے! بارش تیری جانب سے مدد دینے والی ہے اور تو بھی بہترین مددگار اور دوست ہے۔ہم گناہگار اور خطاکار ہیں جبکہ تو وہ ہے کہ جس سے طلب بخشش ہو، تو بخشنے والا ہے۔ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔

بارِ الٰہا!آسمان سے مسلسل بارشیں نازل فرما اور ہمارے لئے زیادہ بارشیں برسا۔ باعث رحمت بارشیں، بہت زیادہ اور وسیع بارشیں نازل فرما۔موسلا دھار تیز بارشیں جو بادلوں کی گرج چمک کے ساتھ ہوں۔ بہت زیادہ بارانِ رحمت کا نزول فرما۔ ایسی بارشیں جو ہر کسی کیلئے مفید ہوں۔ اس طرح کہ اس کے قطرات پے در پے اور اس کا جاری ہونا منقطع نہ ہو۔ البتہ خالی گرج چمک کے ساتھ گزر جانے والے بادلوں سے نہ ہو۔ ایسی بارشیں ضعیف اور کمزور لوگوں کو زندہ کریں اور تیرے غیر آباد دیہاتوں کو زندگی بخش دیں۔شہروں میں موجود گھروں کو روشنی بخش دے ۔ اس بارش کے وسیلہ سے ہمیں اپنے احسانات کے قابل اور لائق قرار دے ، اے جہانوں کے پروردگار۔(قرب الاسناد: ۱۵۷ ،بحار ۹۱:۳۲۱)

طلب باران کیلئے

پروردگارا! وسیع ، ہمہ گیر، مفید اور (ضرر سے پاک) بغیر ضرر کے بارش نازل فرما جو شہروں اور دیہاتوں میں برابر جاری ہو تاکہ ہماری روزی اور ہمارے شکر میں اضافہ ہو۔

بارِ الٰہا! ہمیں ایمان کی اساس پر اپنی روزی اور عطا کا مستحق قرار دے۔بے شک تو دینے کے بعد واپس نہیں لیتا۔بارِ الٰہا! ہماری زمین پر بارش بھیج اور زمین کی رونقیں، ہریالی اور سبزہ جات کو پیدا فرما۔(عیون الاخبار ۲:۲۷۹)

منافقین میں سے کسی ایک کی نمازِ جنازہ کے دوران کی دعا

امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ فرمارہے تھے کہ منافقین میں سے کوئی شخص مرگیا۔ امام حسین علیہ السلام اس کی تشیع جنازہ میں شریک ہوئے۔ پھر فرماتے ہیں کہ مردہ شخص کے ولی اور سرپرست نے تکبیر کہی لیکن امام علیہ السلام نے اس طرح تکبیر کہی:

"اللہ سب سے بڑا ہے۔ پروردگارا! فلاں شخص پر ہزار بار لعنت بھیج۔ البتہ ایسی لعنت جو پے در پے اور مسلسل ہو۔بارِ الٰہا! فلاں بندے کو لوگوں اور شہروں میں ذلیل و خوار فرما۔ اس کو آتش جہنم میں اتار اور بہت سخت اور بُرے عذاب میں مبتلا فرما کیونکہ وہ تیرے دشمنوں کو دوست اور تیرے دوستوں سے دشمنی رکھتا تھا۔ خصوصاً اہل بیت اطہار علیہم السلام کا بہت بڑا دشمن تھا"۔

ایک اور روایت میں یوں آیا ہے:

بارِ الٰہا! فلاں آدمی کو لوگوں اور اپنے شہروں میں ذلیل و خوار فرما۔ بارِ الٰہا! اسے جہنم کی آگ نصیب فرما۔ بارِ الٰہا! بہت سخت عذاب اس پر نازل فرما کیونکہ وہ تیرے دشمنوں کو دوست اور دوستوں کو دشمن رکھتا تھا، خصوصاً خاندانِ پیغمبر اسلام کو اپنا دشمن سمجھتا تھا۔(کافی: ۳:۱۸۹)

تیسرا باب

دشمن کے ساتھ جہاد کے وقت آپ کی دعائیں

مدینہ سے روانگی سے قبل

مکہ پہنچنے پر

قیس بن مسہر کی شہادت کی خبر پہنچنے پر

کربلا داخل ہونے سے قبل

کربلا داخل ہوتے وقت

اس وقت جب کربلا میں دشمن کا لشکر زیادہ ہو گیا

شب عاشورمیں

روزِ عاشور

روزِ عاشور اپنے لشکرکی صف بندی سے قبل

روزِ عاشور

جب حضرت علی اکبر علیہ السلام میدان میں گئے

حضرت علی اکبر علیہ السلام کی شہادت کے بعد

حضرت علی اکبر علیہ السلام کی شہادت کے بعد

اپنے چھوٹے فرزند حضرت عبداللہ کی شہادت پر

اپنے چھوٹے فرزند حضرت عبداللہ کی شہادت پر

اپنے چھوٹے صاحبزادے حضرت عبداللہ کی شہادت پر

حضرت قاسم کی شہادت پر

حضرت قاسم کی شہادت کے وقت

حضرت عبداللہ بن حسن کی شہادت پر

جب آپ کی پیشانی پر تیر آکر لگا

جب آپ کی طرف تیر اندازی کی گئی

جب آپ کی طرف تیر اندازی کی گئی

جب گھوڑے سے دائیں سمت گرے

روزِ عاشور کے آخری وقت

اپنی شہادت سے قبل مناجات

مدینہ سے روانگی سے قبل

روایت ہے کہ سید الشہداء علیہ السلام ایک رات میں گھر سے نکلے اور اپنے جد کی قبر اور مزار کی طرف چل دئیے۔ وہاں پر چند رکعت نماز بجا لائے۔ پھر یوں گویاہوئے:

"پروردگارا! یہ تیرے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر ہے۔ میں ان کی بیٹی کا لخت جگر ہوں۔ ایک مشکل درپیش ہے جسے تو جانتا ہے۔ بارِ الٰہا!میں ہر اچھے کام کو پسند کرتا ہوں اور بُرے کاموں سے نفرت کرتا ہوں۔ اے صاحب جلال و اکرام! تجھ سے اس قبر اطہر کے صدقہ میں اور جو اس میں محو خواب ہیں، سوال کرتا ہوں کہ جو کچھ اور جس جس پر تو راضی اور خوش ہے، میرے لئے وہی قرار دے۔(بحار ۴۴:۳۲۸)

مکہ پہنچنے پر آپ کی دعا

روایت ہے کہ امام حسین علیہ السلام نکلے ، یہاں تک کہ مکہ پہنچے۔ جب دور سے مکہ کے پہاڑوں پر نظر پڑی تو اس آیہ مجیدہ کی تلاوت فرمائی:

"جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین آئے تو کہا :شاید میرا پروردگار مجھے راہِ راست کی ہدایت فرمائے"۔

پھر جب مکہ پہنچے تو فرمایا:

"پروردگارا! میرے لئے خیروبرکت قرار دے اور میری راہِ راست کی طرف رہنمائی فرما"۔(طریحی در منتخب: ۴۲۲)

جب قیس بن مسہر صیداوی کی شہادت کی خبر پہنچی

روایت ہے کہ جب قیس بن مسہر صیداوی کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ روئے اور فرمایا:

"بارِ الٰہا!ہمارے اور ہمارے شیعوں کیلئے اپنے نزدیک جگہ مقدر فرما اور ہمیں اور ہمارے شیعوں کو اپنی رحمت کی جگہ پر جمع فرما"۔

ایک روایت میں ہے:

بارِ الٰہا! ہمارے اورہمارے شیعوں کیلئے جنت کو بہترین مکان قرار دے۔ بے شک تو ہر کام پر قادر ہے۔(لہوف: ۴۴ ،مثیر الاحزان: ۴۴ ،بحار ۴۴:۳۷۴)

کربلا میں داخل ہونے سے پہلے

خداوندا! ہم تیرے پیغمبر حضرت محمد کا خاندان ہیں۔ ہمیں اپنے جد کے حرم سے نکالا گیا

ہے اور چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ بنو اُمیہ نے ہم پر ظلم کیااور تجاوز کیا۔ بارِ الٰہا! ہمارا بدلہ، ہمارا انتقام ان سے لے لے اور قومِ ظالمین کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔(بحار ۴۴:۳۸۲)

کربلا میں داخل ہوتے وقت

بارِ الٰہا! میں کرب و بلا سے تجھ سے پناہ کا طلب گار ہوں۔(لہوف: ۳۵)

جب دشمن کے لشکر کی تعداد زیادہ ہوگئی

روایت ہے کہ جب سید الشہداء علیہ السلام کے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہوا یا اضافہ ہونا شروع ہوا تو امام علیہ السلام کو یقین ہوگیا کہ اب کوئی راہِ نجات نہیں ہے تو فرمایا:

"پروردگارا!ہمارے اور اس گروہ کے درمیان جنہوں نے ہمیں دعوت دی تاکہ ہماری مدد کریں، لیکن اب ہمارے قتل کے ارادے کرچکے ہیں، تو ہی فیصلہ فرما"۔ (مروج الذہب ۳:۷۰)

شب عاشورا کو آنحضرت کی دعا

بارِ الٰہا! بہت اچھے انداز میں حمدوثناءِ الٰہی کرنے والا ہوں اور مشکل اور آسانی میں تیرا ثنا گو ہوں۔ بارِ الٰہا! تیری حمدوثنا کرتا ہوں کہ تو نے نبوت سے ہمیں عزت بخشی اور ہمیں قرآن کی تعلیم دی۔ ہمیں دین میں فصاحت نصیب فرمائی اور ہمارے لئے کان، آنکھیں اور دل بنایا۔ پس ہمیں توفیق عطا فرما کہ تیری نعمتوں پر شکر گزار ہوں۔(اعلام الوری: ۲۳۸)

عاشورا کے دن آپ کی دعا

امامِ سجاد علیہ السلام سے روایت ہے جو فرما رہے تھے کہ جب عاشورا کے دن دشمنوں کے لشکر امام حسین علیہ السلام کے قتل کرنے پر جمع ہوگئے تو سید الشہداء علیہ السلام نے اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا:

"پروردگارا! ہر سختی میں تو ہی میری پناہ ہے اور ہر مصیبت میں میری اُمیدیں تجھ ہی سے وابستہ ہیں۔ ہر آنے والی مشکل گھڑی میں تو ہی میرا موردِ وثوق اور سرمایہ ہے۔کتنی ایسی سختیاں ہیں جو دلوں کو لرزادیتی ہیں ۔ تمام کوششیں اور طریقے بے فائدہ ہوجاتے ہیں، جہاں پر دوست بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ جب دشمن جری ہو کر کھلی دشمنی پر اتر آتے ہیں۔ میں ایسے کاموں کو تیرے حضور میں پیش کرتاہوں اور تیری بارگاہ میں ہی شکایت کرتاہوں کیونکہ میری اُمیدیں تجھ ہی سے وابستہ ہیں۔ پس تو نے ہی میرے کاموں کے انجام پانے کیلئے کوئی راہ مقرر فرمائی اور میری مشکلات کو حل فرمایا؛ پس تو ہی ہر نعمت کے دینے والا اور ہر ایک اچھائی اور نیکی کا مالک ہے۔ ہر ایک کیلئے تو ہی آخری اُمید ہے۔(بحار ۴۵:۴ ،مستدرک الوسائل ۱۱:۱۱۲)

عاشور کے دن اپنے لشکر کی صف بندی کرنے سے پہلے دعا

روایت ہے کہ جب عمر بن سعد نے اپنے لشکر کو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے آمادہ کرلیا اور اس کی صف بندی کرلی تو امام حسین علیہ السلام ان کی طرف آئے اور تھوڑی دیر کیلئے خاموشی اختیار کرنے کو کہا لیکن انہوں نے خاموشی اختیار نہ کی۔سیدالشہداء علیہ السلام نے اسی دوران میں اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

"پروردگارا! ان پر بارانِ رحمت کا نزول نہ فرما۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ کی طرح قحط نازل فرما۔ ثقفی خاندان کے جوان کو ان پر مسلط فرما تاکہ وہ ان پر بہت زیادہ سختی روا رکھے اور ان میں سے کوئی بھی نہ بچ سکے۔ مگر وہ لوگ جنہیں کسی صورت میں قتل کرنا ہے یا موردِ ضرب و شتم واقع ہونا ہے۔ میرا، میرے دوستوں اور عزیزواقارب اور مددگاروں کا انتقام ان سے لے۔ بے شک اس جماعت نے ہمیں دھوکہ دیا ہے ، ہمیں جھٹلایا ہے اور ذلیل و خوار کرنے کی کوشش کی ہے۔تو ہی ہمارا پروردگار ہے۔ تجھ ہی پر توکل کرتے ہیں اور تیری ہی بارگاہ میں آہ و بکا کرتے ہیں۔ہم سب کی بازگشت تیری ہی طرف ہے۔(بحار ۴۵:۱۰)

عاشورا کے دن آپ کی دعا

پروردگارا! مجھے اپنے حق سے محروم کیا ہے، پس اس کو مجھے عطا فرما۔بارِ الٰہا!تحقیق میں نے ان کو غضبناک کیا ہے ، انہوں نے مجھے غضبناک کیا ہے۔ میں نے انہیں پریشان کیا ہے، انہوں نے مجھے رنجیدہ کیا ہے۔ انہوں نے مجھے ایسا رویہ اور اخلاق اپنانے پر مجبور کیا ہے جو میرے شایانِ شان نہیں ہے۔

پروردگارا! میرے لئے ان سے بہترگروہ اور جماعت کو مقدر فرما۔ میرے علاوہ کوئی بہت بُرا انسان ان پر مسلط فرما۔ پروردگار! جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے، ان کے دلوں میں ایسے ہی ایمان گھول دے۔(مستدرک ۴:۳۹۲)

حضرت علی اکبرعلیہ السلام کو جنگ کیلئے روانہ کرتے وقت دعا

روایت ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت علی اکبرعلیہ السلام کو قومِ اشقیاء کے مقابل روانہ کیا تو امام علیہ السلام سر جھکائے گریہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"پروردگارا! تو ان پر گواہ رہنا، اب ایسے جوان کو ان کی جانب روانہ کر رہا ہوں جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تیرے رسول کے مشابہ ہے"۔(مقاتل الطالبین: ۸۵)

حضرت علی اکبر کی شہادت کے بعد آپ کی دعا

پروردگارا! زمینی برکتوں کو ان سے روک لے اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ فرما۔ ان کی صفوں کو پراگندہ فرما۔ ان کیلئے مختلف راہیں قرار دے۔حکمرانوں کو ان سے راضی نہ فرما۔ انہوں نے ہمیں دعوت دی تاکہ ہماری مدد کریں لیکن وہ ہم پر حملہ آور ہوئے اور ہمارے قتل کے درپے ہوئے۔(بحار ۴۵:۴۲)

حضرت علی اکبر کی شہادت کے بعد آپ کی دعا

اے اللہ! اس قوم کو قتل کرجس نے تجھے قتل کیا ہے۔(لہوف: ۴۹)

حضرت علی اصغر کی شہادت کے بعد آنحضرت کی دعا

پروردگار! اگر آسمان سے ہماری مدد کو روک رکھا ہے تو اس چیز کو ہمارے لئے اُس سے بہتر قرار دے اور اس قومِ ستم گار سے انتقا م لے۔(اعلام الوری: ۲۴۷)

حضرت علی اصغر کی شہادت کے بعد آنحضرت کی دعا

روایت ہے کہ امام حسین علیہ السلام خیموں کی طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ معصوم پیاس کی شدت سے گریہ کناں ہے۔

اس کو اپنے ہاتھوں پر لیا اور فرمایا:"اے قوم! اگر مجھ پر رحم نہیں کرتے تو کم از کم اس بچے پر رحم کرو"۔ اتنے میں لشکر میں سے ایک آدمی نے ایسا ظلم کا تیر پھینکا کہ حضرت علی اصغر ذبح ہو گئے۔ امام حسین علیہ السلام دیکھ کر روئے اور فرمایا:

"پروردگارا! میرے اور اس قومِ اشقیاء کے درمیان فیصلہ فرما جنہوں نے ہمیں دعوت دی کہ ہماری مدد کریں لیکن ہمارے قتل کے درپے ہیں"۔

اتنے میں ہاتف غیبی سے آواز آئی: "اے حسین ! اس کو چھوڑ دیجئے کیونکہ جنت میں اس کو دودھ پلانے والی موجود ہے۔(تذکرة الخواص: ۲۵۲)

حضرت علی اصغر کی شہادت کے بعد آنحضرت کی دعا

روایت ہے کہ جب تیر حضرت علی اصغر کے گلے میں پیوست ہوا تو امام علیہ السلام روئے اور اپنے دونوں ہاتھ جنابِ علی اصغر کے گلے کے نیچے رکھ دئیے اور فرمایا:

"اے نفس! صبر سے کام لو اور وارد شدہ مصائب کو خدا کا امتحان شمار کرو"۔بارِ الٰہا! حالِ حاضر میں جو کچھ ہم پر مصائب آئے، تو خود شاہد ہے۔ پس ان کو قیامت کے دن کیلئے ہمارا توشہ اور مددگار قرار دینا۔(معالی السبطین ۱:۴۲۳)

شہزادہ قاسم بن حسن مجتبیٰ علیہم السلام کی شہادت کے بعد دعا

پروردگارا!تو جانتا ہے کہ ان لوگوں نے ہمیں دعوت دی تاکہ ہماری مدد حاصل کریں لیکن ہمیں ذلیل و خوار کرکے ہمارے دشمنوں کے مددگار بنے بیٹھے ہیں۔ خداوندا! بارانِ رحمت کے نزول سے انہیں محروم فرما اور بارش کی رحمتوں سے محروم فرما۔ ہر گز ان سے راضی نہ ہونا۔

بارِ الٰہا! اگر دنیا میں ہماری مدد کرنے سے گریز کیا ہے تو اس کو ہماری آخرت کیلئے ذخیرہ قرار دے اور اس گروہِ ستم گار سے ہمارا بدلہ اور انتقام لے۔(ینابیع المودة: ۳۴۵)

حضرت قاسم بن حسن مجتبیٰ علیہم السلام کی شہادت کے بعد دعا

خداوندا! ان تمام کو نابود فرما۔ ان کو منتشر اور پراگندہ فرما اور انہیں قتل فرما۔ ان میں کوئی بھی زندہ نہ رہے اور ان سے ہرگز درگزر نہ فرما۔(بحار ۴۵:۳۶)

عبداللہ بن حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہاد ت کے بعد دعا

پروردگارا! اگر انہیں ایک عرصہ تک زندہ رکھنا ہے تو انہیں پراگندہ فرما اور ان کو مختلف گروہوں میں تقسیم فرما۔ ہرگز ان سے راضی نہ ہونا۔

ایک اور روایت میں یوں ہے:

بارِ الٰہا! بارانِ رحمت سے انہیں محروم فرما۔ ان سے زمین کی برکتیں روک دے۔ پروردگارا! اگر انہیں کچھ عرصہ تک زندہ رکھنا ہے تو ان کی صفوں کو اتحاد کی دولت سے محروم فرما۔ انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم فرما۔ کبھی بھی ان کے رہبروں کو ان سے راضی نہ فرما۔انہوں نے ہمیں دعوت دی تاکہ ہماری مدد کریں لیکن ہم پر حملہ آور بن کر ہمیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔(اعلام الوری: ۲۴۹ ،بحار ۴۵:۵۳)

آنحضرت کی پیشانی پر تیر لگنے کے بعد دعا

روایت ہے کہ جب تیر امام حسین علیہ السلام کی پیشانی میں پیوست ہوا تو اس کو نکالتے ہوئے چونکہ خون پورے چہرے اور داڑھی پر جاری ہوگیا تو فرمانے لگے:

خداوندا! جو کچھ میں اس گناہ گار گروہ سے مصائب اٹھا رہا ہوں، تحقیق تو دیکھ رہا ہے۔ خداوندا! انہیں تباہ و برباد فرما اور پراگندہ صورت میں قتل فرما۔روئے زمین پر ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ رہے۔ انہیں ہرگز معاف نہ فرما۔(بحار ۴۵:۵۲)

امام کی دعا اُس وقت جب آپ کی طرف تیر اندازی کی گئی

روایت ہے کہ جب پیاس کی شدت میں اضافہ ہوا تو گھوڑے پر سوار ہوئے تاکہ دریائے فرات سے شریعہ پر پہنچیں۔ حضرت عباس علیہ السلام ان کے سامنے اور ان سے آگے آگے تھے۔عمر سعد کی فوجوں نے ان کا راستہ روکا۔ اتنے میں قبیلہ بنی دارم میں سے کسی آدمی نے امام حسین علیہ السلام کی طرف تیر چلادیا جو ان کے چہرے کے نچلے حصہ میں پیوست ہوگیا۔ امام علیہ السلام اپنا ہاتھ چہرے کے نیچے لائے، یہاں تک کہ ان کے ہاتھ خون سے بھر گئے۔ سید الشہداء علیہ السلام خون پھینک کر یوں گویا ہوئے:

"خداوندا! جو کچھ تیرے نبی کی بیٹی کے فرزند کے ساتھ کر رہے ہیں، تجھ سے شکایت کرتا ہوں"۔

ایک اور روایت میں آیا ہے:

جب امام حسین علیہ السلام پر پیاس کی شدت میں اضافہ ہوا تو آپ فرات کے کنارے آئے تاکہ پانی پی سکیں لیکن حصین بن نمیر نے امام علیہ السلام کی طرف تیر پھینکا جو دہن اقدس میں پیوست ہوگیا۔

لہٰذا سیدالشہداء علیہ السلام کے منہ سے خون جاری ہوگیا۔ خون کو اپنے ہاتھ میں لیا اور آسمان کی طرف بلند کر دیا۔ پھر حمدوثنائے باری تعالیٰ کی اور فرمایا:

"خداوندا! جو کچھ تیرے نبی کی بیٹی کے فرزند کے ساتھ کر رہے ہیں، تجھ سے شکایت کرتا ہوں۔ خداوندا! ایک دم ان کو نابود فرما اور انہیں پراگندہ صورت میں قتل فرما۔ ان میں سے کسی کو بھی باقی نہ رکھ۔(لہوف: ۵۱ ،بحار ۴۵:۵۰)

چہرے اور منہ پر تیر لگنے کے بعد آنحضرت کی دعا

مسلم بن ریاح سے نقل ہے جو علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے موالیوں میں سے تھے، کہتے ہیں کہ روزِ عاشور میں مَیں امام علیہ السلام کی خدمت میں تھا۔ ایک تیر ان کے چہرے پر آکر لگاتو امام علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا:"اے مسلم! اپنا ہاتھ میرے نزدیک کرو"۔ ہاتھ خون سے بھرا ہوا تھا۔ پھر کہتے ہیں کہ جیسے ہی وہ خون میرے ہاتھ پر ڈالنے لگے، انہوں نے خون کو آسمان کی طرف بلند کردیا اور فرمایا:

"خداوندا! اپنے نبی کی بیٹی کے فرزند کے خون کا مطالبہ کر"۔

مسلم کہتے ہیں کہ اس خون میں سے ایک قطرہ بھی زمین پر واپس نہ آیا۔ (کفایۃ الطالب: ۴۳۱)

گھوڑے سے دائیں سمت گرنے کے بعد آپ نے فرمایا

"خدا کے نام ،اس کی یاد میں اور پیغمبر اسلام کی راہ میں"۔(لہوف: ۵۴)

عاشورا کے آخری لمحات میں آپ کی دعا

پروردگارا! تیری جگہ بلند، تو عظیم الشان قدرت والا، سخت قہر و غضب والا، مخلوقات سے بے نیاز، وسیع قدرت والا، جس پر چاہتا ہے قدرت رکھتا ہے۔ بہت نزدیک رحمت والا، سچے وعدے والا، زیادہ نعمتوں والا اور اچھی آزمائش والا ہے۔

جب پکارا جائے تو تو بہت نزدیک ہے۔ اپنی مخلوقات پر محیط ہے۔ جو تیری طرف آئے، تو اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اپنے ارادے پر قادر ہے۔ جسے چاہے پالیتا ہے۔ جب تیرا شکرادا کیا جائے تو شکر قبول کرتا ہے اور جب تجھے یاد کیا جائے تو یاد آتا ہے۔

تیری طرف نیاز مند ہوکر تجھے پکار رہا ہوں۔ایک فقیر اور خالی ہاتھ تیری طرف آیا ہوں۔ خوف اور ڈر سے تیری بارگاہ میں آ یا ہوں۔ دکھوں سے تیرے حضور میں گریہ کناں ہوں۔ ضعیف ناتوانی کی صورت میں تجھ سے مدد کا طلبگار ہوں۔ تجھے اپنے لئے کافی سمجھتے ہوئے توکل کرتا ہوں۔

پروردگارا! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق سے فیصلہ فرما۔ تحقیق انہوں نے ہمیں فریب دیا، دھوکہ دے کر ہمیں قتل کر رہے ہیں جبکہ ہم تیرے نبی کی بیٹی کی اولاد ہیں کہ جنہیں رسالت جیسے عظیم منصب کیلئے منتخب فرمایا ہے۔

انہیں اپنی وحی پر امین قرار دیا ہے۔ پروردگارا! ہمارے لئے کوئی راہ نکال دے، اے بہترین رحمت کرنے والے۔(اقبال الاعمال: ۶۹۰ ،بحار ۱۰۱:۳۴۸)

شہادت سے کچھ دیر قبل آپ کی دعا

روایت ہے کہ امام حسین علیہ السلام شہادت سے پہلے تھوڑی دیر تک زمین پر خون میں لت پت پڑے رہے۔ منہ آسمان کی طرف تھا اور فرمارہے تھے:

"خداوندا! قضا و قدر پر صبر کرتا ہوں۔ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ اے فریاد گروں کی فریاد رسی کرنے والے!"(ینابیع المودة: ۳۴۸)


3

4

5

6

7