امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

خواتین کی آزادی (قرآن)

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

خواتین کی آزادی (قرآن)
قرآن کریم میں خواتین کی آزادی کا دائرہ کار مشخص ہے۔

سن رسیدہ خواتین کی آزادی
زینت و آرائش کو ظاہر کیے بغیر عمر رسیدہ خواتین کو حجاب میں آزادی:
وَٱلۡقَوَٰعِدُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ ٱلَّـٰتِي لَا يَرۡجُونَ نِكَاحٗا فَلَيۡسَ عَلَيۡهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعۡنَ ثِيَابَهُنَّ غَيۡرَ مُتَبَرِّجَٰتِۭ بِزِينَةٖۖ [۱]
اور وہ بوڑھی خواتین جو ازدواج کی امید نہیں رکھتیں، ان پر گناہ نہیں ہے کہ اپنی چادریں رکھ دیں بشرطیکہ بناؤ سنگھار ظاہر کرنے والی نہ ہوں....»

خواتین کی آزادی کی حدود
قرآنی آیات کے پیش نظر خواتین کی آزادی کی حدود یہ ہیں:

← ہوس آلود گفتگو کی ممنوعیت

نا محرموں سے ہوس آلود گفتگو کی ممنوعیت:
يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ ... فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَوۡلِ فَيَطۡمَعَ ٱلَّذِي فِي قَلۡبِهِۦ مَرَضٞ وَقُلۡنَ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا [۲]
اے پیغمبر کی بیویو! ۔۔۔ تو کسی (اجنبی شخص سے) نرم نرم باتیں نہ کیا کرو تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض ہے کوئی طمع (نہ) پیدا کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو۔

← حجاب کی حفاظت
معاشرتی تعلقات میں حجاب کی حفاظت، خواتین کی ذمہ داری:
۱. وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوۡ ءَابَآئِهِنَّ أَوۡ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآئِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوۡ نِسَآئِهِنَّ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّـٰبِعِينَ غَيۡرِ أُوْلِي ٱلۡإِرۡبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفۡلِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يَظۡهَرُواْ عَلَىٰ عَوۡرَٰتِ ٱلنِّسَآءِۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِأَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِينَ مِن زِينَتِهِنَّۚ وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ [۳]
اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ....»
۲. ... وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰۖ [۴]
...... اور پہلی جاہلیت جیسا بناؤ سنگھار نہ کرو....»
۳. ... وَإِذَا سَأَلۡتُمُوهُنَّ مَتَٰعٗا فَسۡـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابۚ ... [۵]
... اور جب پیغمبروں کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو۔....»
۴. ... وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يُعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَۗ.[۶]
... اور مومنین کی عورتوں سے کہہ دیجئے: وہ اپنی چادریں تھوڑی نیچی کر لیا کریں، یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہو گا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا....۔

← شوہر کے حق کی رعایت

خواتین کی آزادی شوہر کے ساتھ ہم آہنگی اور اس کے حقوق کی رعایت سے مربوط ہے:
ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ ...[۷]
مرد، عورتوں کے سرپرست ہیں....»
امام باقرؑ نے اس شخص کہ جو اپنی بیوی سے کہے (اختیار تیرے پاس ہے) کے بارے میں فرمایا: کہاں پر ایسا ہے جبکہ خدا نے فرمایا ہے:ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ [۸][۹]


حوالہ جات
۱.    ↑ نور/سوره۲۴، آیه۶۰۔    
۲.    ↑ احزاب/سوره۳۳، آیه۳۲۔    
۳.    ↑ نور/سوره۲۴، آیه۳۱۔    
۴.    ↑ احزاب/سوره۳۳، آیه۳۳۔    
۵.    ↑ احزاب/سوره۳۳، آیه۵۳۔    
۶.    ↑ احزاب/سوره۳۳، آیه۵۹۔    
۷.    ↑ نسا/سوره۴، آیه۳۴۔    
۸.    ↑ حسینی بحرانی، هاشم، البرهان فی تفسیر القرآن، ج۲، ص۷۳۔    
۹.    ↑ طوسی، محمد بن حسن، التهذیب الاحکام، ج ۸، ص ۸۸۔    

ماخذ
مرکز فرهنگ و معارف قرآن، فرهنگ قرآن، ج۱، ص۲۷۹، ماخوذ از مقالہ «آزادی زنان»۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک