مصنوعی ذريعہ توليد کے احکام
- شائع
-
- مؤلف:
- آية الله العظمیٰ حاج شيخ حسين وحيد خراسانی مدظلہ العالی
- ذرائع:
- توضیح المسائل
مصنوعی ذريعہ توليد کے احکام
مسئلہ ٢٨٩٨ اجنبی مرد کا نطفہ عورت کے رحم ميں داخل کرنا جائز نہيں ہے چاہے يہ عمل اجنبی شخص انجام دے یا شوہر اور مذکورہ فرض ميں يہ عمل اگرچہ حرام ہے مگر زنا نہيں ہے اور جس عورت کے رحم ميں نطفہ داخل کيا گيا ہو اگروہ بچہ جنے تو بچہ صاحبِ نطفہ کا ہے اور اس پر اولاد کے تمام احکام جاری ہوں گے اور جس عورت نے نطفہ منتقل ہونے کی وجہ سے بچہ جنا ہے وہ اس کی ماں ہے اور اس پر اولاد کے احکام جاری ہوں گے۔
مسئلہ ٢٨٩٩ مرد کا نطفہ لے کر بچہ پيدا کرنے کی خاطر مصنوعی رحم ميں اس کی پرورش کرنا جائز ہے مگر یہ کہ يہ کام کسی حرام کام کے ارتکاب پر موقوف ہو تو پھر يہ کام حرام ہے ۔ جب اس طریقے سے بچہ پيدا ہو تو اگر اس ميں عورت کا مادّہ توليد شامل نہ ہو تو يہ بچہ صاحبِ نطفہ کا ہے اور دونوں پر باپ بیٹے کے احکام جاری ہوں گے ليکن اس کی ماں کوئی نہ ہوگی اور جب عورت کا مادّہ توليد بھی شامل ہو تو يہ عورت بھی اس بچہ کی ماں ہوگی۔
مسئلہ ٢٩٠٠ اگر شوہر مصنوعی طریقے سے اپنی بیوی کے رحم ميں اپنی منی داخل کرے تو ایسا کرنا جائز ہے اور اگر شوہر کے علاوہ کوئی اور يہ کام کرے تو اگر اس کام کو انجام دینا حرام کام کے ارتکاب پر موقوف ہو تو يہ حرام ہے اور جو بچہ اس مصنوعی ذریعہ توليد سے پيدا ہو اس پر اولاد کے احکام مترتب ہوں گے۔