امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

کیا امام زمان (عج) کی شادی ہوئی ہے اور کیا آپ کی اولاد ہے؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

 کیا امام زمان (عج) کی شادی ہوئی ہے اور کیا آپ کی اولاد ہے؟

 امام زمانہ (عج) کی شادی

 مقدمہ
امام مہدی (عج) کی ذاتِ گرامی کے حوالے سے ایک اہم بحث آپ کی ذاتی اور خاندانی زندگی ہے۔ آپ کا نکاح یا عدمِ نکاح، اولاد کی موجودگی، ان کی رہائش گاہ اور زندگی کی کیفیت، نیز خود امام کی زندگی کے طریقے، یہ وہ دلچسپ موضوعات ہیں جن کے بارے میں آپ کے معتقدین کے ذہنوں میں اکثر ابہامات پائے جاتے ہیں اور انہیں عموماً متضاد جوابات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

بنیادی طور پر آپ کی طویل غیبت، آپ کی ذاتی اور نجی زندگی کے تناظر میں یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ کیا اس طویل عرصے کے دوران حضرت مہدی (عج) نے شادی کی ہے یا نہیں؟

بعض لوگ اس سوال کو ایک اشکال کی صورت میں پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اگر آپ نے شادی کی ہے اور بیوی ہیں تو لازمی طور پر اولاد بھی ہوگی۔ اس کا لازمی نتیجہ رازوں کا افشا اور آپ کی شناخت ہوگی، جو غیبت کے حکمت اور فلسفے کے منافی ہے۔

اور اگر آپ نے شادی نہیں کی تو پھر آپ نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور شرعی امرِ مستحب پر عمل نہیں کیا، جو آپ کے مقام و شان کے بھی مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ آپ لوگوں کے دینی رہنما ہیں اور مستحبات پر عمل میں بھی جس طرح واجبات میں سبقت کرتے ہیں، اسی طرح آگے ہونے چاہئیں۔ اور یہ فرض کرنا کہ ایک امام شرعی تاکیدی مستحب کو ترک کرے اور درحقیقت ایک مکروہ عمل انجام دے، بہت مشکل ہے اور تعجب کا مقام ہے۔

پس اگر آپ نے شادی نہیں کی تو معصوم کی طرف سے مستحب کے ترک کا اشکال پیدا ہوتا ہے، اور اگر شادی کی ہے تو رازوں کے افشا اور غیبت کے فلسفے سے تضاد کا اشکال پیدا ہوتا ہے۔ اور چونکہ مسئلے کے دونوں پہلو اشکال سے دوچار ہیں، لہٰذا بعض لوگ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ آپ اصلاً موجود ہی نہیں ہیں۔

ایک اور نکتہ یہ ہے کہ آپ کی شادی کا اصل مسئلہ ہمارے اعتقادات کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ذاتی معاملات میں سے ہے جس کی تصریح روایات میں بھی نہیں ہوئی اور سابقہ ائمہ (ع) کے بحث کا موضوع بھی نہیں رہا۔ اور جو لوگ دورِ غیبت میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی سعادت پا چکے ہیں، ان کے ذہن میں اتنے سوالات اور مشکلات تھے کہ وہ اس قسم کے سوالات تک نہیں پہنچ سکے۔

دورِ غیبتِ صغریٰ میں بھی نوابِ خاص سے اس سلسلے میں کوئی بات سننے میں نہیں آئی۔

دوسری طرف انسان کا ذہن امام زمانہ (عج) کی شادی کے بارے میں سوال کے ساتھ ساتھ دیگر سوالات بھی پیدا کرتا ہے، جیسے کہ:
کیا امام مہدی (عج) کی اولاد ہے؟
کیا آپ اور آپ کی اولاد کیلئے کوئی خاص رہائش گاہ موجود ہے؟
کیا آپ کیلئے اولاد اور بیوی کا فرض کرنا، غیبت کے حکمت اور فلسفے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے؟
اور اگر آپ نے شادی نہیں کی تو کیا آپ نے سنتِ رسول (ص) اور آپ کے حکم کے خلاف عمل نہیں کیا؟
اور دیگر سوالات جن میں سے بعض کے جوابات دینے کی یہ مقالہ کوشش کرے گا۔

لہٰذا، مرکزی سوال کے پیش کرنے، مختلف نقطہ ہائے نظر اور ان کے دلائل کے بیان، نیز دلائل کے تجزیے کے بعد، مناسب اور جامع نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔

 کیا حضرت مہدی (عج) نے شادی کی ہے اور کیا آپ کی اولاد ہے؟

اس سوال کے جواب میں، اعتقادی مسائل جیسے غیبت کے حکمت یا فلسفے، نیز فقہی مسائل جیسے شرعی استحبابِ نکاح، اور وہ متون جو براہِ راست یا بالواسطہ آپ کی شادی پر دلالت کرتے ہیں، کو مدِنظر رکھتے ہوئے تین نظریات پائے جاتے ہیں:

 نظریہ اول:
بعض کا اعتقاد ہے کہ حضرت مہدی (عج) نے شادی کی ہے اور اس نظریے کی اثبات کیلئے وہ مندرجہ ذیل دلائل کی طرف رجوع کرتے ہیں:

الف: شادی کا استحباب:
نکاح اسلام میں ایک تاکیدی مستحب اور سنتِ نبوی ہے۔ رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح کی طرف اور اس کی ترویج پر بہت زور دیا ہے اور اپنی امت کو اس کی ترغیب دی ہے اور بارہا فرمایا ہے:

 "تَزَوَّجُوا؛ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"([1])
 (نکاح کرو، کیونکہ میں قیامت کے دن دوسری امتوں پر تمہاری کثرت سے فخر کروں گا)۔

دین کے احکام میں نکاح ایک نیک اور پسندیدہ سنت ہے اور تجرد (بے زوجگی اور کنوارہ رہنا) مکروہ ہے۔

دوسری طرف شادی نہ کرنا، سنتِ رسول خدا (ص) سے اعراض ہے، کیونکہ آپ (ص) نے فرمایا:

 "النِّكَاحُ سُنَّتِي، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي"([2])
 (نکاح میری سنت ہے، اور جو شخص اس سے اعراض کرے (منہ موڑے اور نکاح نہ کرے) وہ مجھ سے نہیں ہے)۔

اب جب کہ حضرت مہدی (عج) کی عمر کے کئی سال گزر چکے ہیں، کیا یہ کہنا درست ہے کہ آپ نے تاکیدی مستحب کو ترک کیا اور مکروہ کا ارتکاب کیا ہے؟

ہرگز ایسا نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا، کیونکہ آپ امام ہیں اور شرعی مستحبات پر عمل کرنے میں تمام لوگوں سے زیادہ سزاوار ہیں۔ لہٰذا آپ نے شادی کی ہے اور آپ کی اہل و عیال (بیوی) ہیں۔

کتاب "النجم الثاقب" میں امام مہدی (عج) کیلئے اہل و عیال کے وجود کے منکرین کے جواب میں آیا ہے:
 "کیسے ترک کریں گے، اپنے جَدِّ اکرم (ص) کی ایسی عظیم سنت کو جس کے فعل میں اس قدر ترغیب و تاکید اور اس کے ترک میں دھمکی و ڈرایا گیا ہے۔ اور سنتِ پیغمبر (ص) کو اختیار کرنے میں ہر زمانے کے امام، امت کے سب سے زیادہ سزاوار ہیں۔ اور اب تک کسی نے بھی اس سنت کے ترک کو آپ (عج) کی خصوصیات میں شمار نہیں کیا ہے"([3])۔

نیز کتاب "الشموس المضیئه" میں آیا ہے:
 "اگر اس سلسلے (بیوی اور خاندان کی موجودگی) میں کوئی روایت نقل نہ بھی ہوتی، صرف یہی بات کہ آپ (عج) عمر کی زیادتی کے باوجود جسمانی طور پر قوی البنیہ جوان ہیں... اور یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ (عج) سنتِ پیغمبر (ص) پر عمل کرتے ہیں، تو یہ بات قبول کرنے کیلئے کافی تھی کہ آپ (عج) کی بیوی اور اولاد ہے"([4])۔

نقد و تجزیہ:
مذکورہ دلیل دو حصوں پر مشتمل ہے:
پہلا حصہ: نکاح سنتِ رسول خدا (ص) ہے اور یہ ایک نیک اور شرعی مستحب امر ہے۔
دوسرا حصہ: امام زمانہ (عج) لازماً اس سنت اور شرعی امر پر عمل کرتے ہیں۔
دونوں مقدمات غور و تامل کے محتاج ہیں۔

رہی بات استحبابِ نکاح کی([5]) تو یہ بہت سی آیات اور روایات سے معلوم ہوتا ہے، جیسے آیہ شریفہ:
 "فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَآءِ"([6])
 (پس نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں)۔

اور آیہ:
 "وَأَنكِحُواْ الاَْيَـمَي مِنكُمْ وَالصَّــلِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَآلـِكُمْ"([7])
 (اور نکاح کرو اپنے بیواؤں اور غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو صالح ہوں)۔

نیز ایک حدیث میں رسول خدا (ص) نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے([8])۔
 اور دوسری حدیث میں فرمایا: جو شخص اس سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ہے([9])۔

دیگر روایات میں نکاح کو ایک پسندیدہ اور قابلِ ستائش امر قرار دیا گیا ہے([10])۔
 نسل کی تخلیق اور اس کے بقا پر زور دیا گیا ہے اور مسلمانوں کی کثرت کو باعثِ مباهاتِ پیغمبر (ص) شمار کیا گیا ہے۔

نکاح کی اہمیت اور اس کی ترغیب میں آیا ہے:
 "مَنْ تَزَوَّجَ أَحْرَزَ نِصْفَ دِينِهِ"([11])
 (جس نے نکاح کیا اس نے اپنے نصف دین کو محفوظ کر لیا)۔

نیز امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
 "الإمامُ الصّادقُ عليه السلام : رَكعَتانِ يُصَلّيهِما مُتَزَوِّجٌ أفضَلُ مِن سَبعينَ رَكعَةً يُصَلِّيها غيرُ مُتَزَوِّجٍ "([12])
 (ایک شادی شدہ شخص کی دو رکعت نماز، ایک کنوارے شخص کی ستر رکعت نماز سے افضل ہے)۔

نیز بہت سی روایات میں نکاح کے مقابل یعنی نکاح کے ترک کو مذموم ٹھہرایا گیا ہے اور ائمہ (علیہم السلام) کی طرف سے اسے مکروہ اور ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے([13])۔ 
یہ روایات بھی قرینہ مقابلہ کے ذریعے نکاح کے استحباب پر دلالت کرتی ہیں۔

مذکورہ آیات و روایات، نیز آیات میں موجود امر کے الفاظ جیسے "انکحوا" اور روایات میں نکاح کی ترغیب، نیز سنتِ رسول (ص) پر عمل کی توصیہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسلام کے بزرگ فقہا نے شرعی استحبابِ نکاح کا استنباط کیا ہے اور اس کے مطابق استحباب([14])
 اور بعض نے تاکیدی استحباب کا فتویٰ دیا ہے، اور بعض نے کچھ شرائط میں اسے واجب قرار دیا ہے([15])۔

دوسری طرف، استحبابِ نکاح کے ادلہ کے عمومات و اطلاقات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ:
اولاً: نکاح خواہ دائم کی صورت میں ہو یا غیر دائم (موقت) کی صورت میں، شرعاً مستحب ہے۔
ثانیاً: نکاح کا استحباب صرف مشتاق اور جو لوگ بیوی کے محتاج ہوں انہیں مخصوص نہیں ہے، بلکہ غیر مشتاق اور جو لوگ اپنے اندر بیوی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، انہیں بھی شامل ہے([16])۔

کیونکہ اس شرعی حکم کی علت صرف مخالف جنس کیلئے اشتیاق یا جنسی غریزہ کی تسکین تک محدود نہیں ہے کہ یہ گمان کیا جائے کہ غیر مشتاق کیلئے نکاح مستحب نہیں ہے، بلکہ جیسے نسل کی کثرت، نوعِ انسانی کی بقا اور موحدین کی تعداد میں اضافہ جیسے امور بھی شرعی استحبابِ نکاح میں دخیل ہیں([17])۔

لہٰذا اگر نکاح ان مقاصد کی تکمیل کیلئے بھی ہو تو شرعی لحاظ سے مستحب ہے اور شرعی مطلوبیت رکھتا ہے۔

ظاہر ہے کہ نکاح کا استحباب صرف نکاحِ دائم تک محدود نہیں ہے بلکہ غیر دائم اور ملک یمین (کنیزوں) کو بھی شامل ہے([18])۔
 اور اسی وجہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عمر میں ایک بار نکاح کا واقع ہونا اس شرعی مستحب پر عمل کرنے کیلئے کافی ہے، خواہ کچھ وجوہات([19]) کی بنا پر زوج و زوجہ کے درمیان جدائی ہو گئی ہو۔

لیکن ان روایات میں غور کرنے سے جن میں عزوبت (بے زوجگی) کو مکروہ قرار دیا گیا ہے، بلکہ تھوڑی مدت کیلئے بھی([20])، معلوم ہوتا ہے کہ استحبابِ نکاح سے مراد عمر کے آخر تک اس کا استمرار اور دوام ہے۔

لہٰذا استحبابِ نکاح پر عمل کرنا اس صورت میں کافی ہے جب اس میں استمرار اور دوام ہو، نہ کہ صرف اس کا تحقق۔ جیسا کہ یہ استحباب صرف ایک بیوی رکھنے تک محدود نہیں ہے بلکہ تعدّدِ ازواج (ایک سے زیادہ شادیاں) بھی شرعاً مستحب ہے([21])۔

اس بنا پر پہلے مقدمہ (نکاح سنتِ پیغمبر (ص) ہے اور یہ ایک مستحب امر ہے) کے بارے میں...

چنانچہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں:

۱۔ ازدواج ایک شرعی مستحب عمل ہے، خواہ ازدواج کی ضرورت ہو یا نہ ہو، خواہ دائمی ہو یا وقتی (متعتہ)۔  
۲۔ یہ استحباب دائمی اور مستمر ہے، اور انسان کی تمام عمر کو شامل ہے۔  
۳۔ تعددِ اَزواج (ایک سے زیادہ شادیاں کرنا) بھی شرعاً مستحب ہے۔  

اور اب دوسرے مقدمے (امام کا شرعی امر اور رسول خدا(ص) کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے) کے بارے میں ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں، مثلاً:  
مستحب امور کی کثرت کے باوجود، کیا امام علیہ السلام ان سب پر عمل کرتے ہیں؟ یا پھر ان میں سے انتخاب کر کے صرف بعض پر عمل کرتے ہیں؟ کیا مستحب امور پر عمل کرنا امام کیلئے ضروری ہے؟  
بلاشبہ امامؑ، نبیوں کی طرح، چونکہ لوگوں کی ہدایت کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں اور الہی رہنما شمار ہوتے ہیں، ہمیشہ احکام الٰہی پر عمل کرنے میں پیش قدم رہے ہیں۔ بنیادی طور پر ان کی رسالت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ سب سے پہلے خود احکام الٰہی کے عامل ہوں، الہی احکام سے سرتابی نہ کریں اور عمل کے میدان میں دوسروں کیلئے نمونہ اور مثال بنیں۔ لہٰذا، ان امور پر عمل نہ کرنا جو خداوند کے نزدیک محبوبیت کی دلیل ہیں (خواہ واجب ہوں یا مستحب) دینی رہنماؤں کیلئے مذموم ہے، اور ان کے شان و رسالت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ واجب اور مستحب دونوں طرح کے احکام پر عمل کریں۔ پس امام علیہ السلام بھی ان پر عمل کرتے ہیں۔  

لہٰذا، امام کا مستحبات پر عمل کرنا لازم ہونے میں دو نکات پائے جاتے ہیں:  
۱۔ لوگوں کیلئے ہدایت، رہبری اور کامل نمونہ ہونا، جس کا تقاضا ہے کہ امام زندگی، معاشرت اور دوسروں سے برتاؤ میں بہترین طور پر عمل کریں اور دینی احکام (واجب و مستحب) پر عمل کرنے میں پیش قدم ہوں۔  
۲۔ کامل انسان کے شان و مقام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مستحبات پر عمل کرے۔  
بلاشبہ، پہلا نکتہ زمانۂ غیبت میں امام علیہ السلام کیلئے موضوعی حیثیت نہیں رکھتا، کیونکہ امام علیہ السلام لوگوں کی نظروں کے سامنے نہیں ہیں اور ان کی امامت باطن میں ہے، ظاہر میں نہیں۔([22]) لیکن مطلوب تک پہنچنے کیلئے (یعنی یہ کہ امام شرعی مستحبات کے پابند ہیں اور دوسروں سے زیادہ سزاوار ہیں) دوسرا نکتہ کافی ہے۔  

گذشتہ دو مقدمات پر غور کرتے ہوئے، بعض لوگ معتقد ہیں کہ امام زمانہ علیہ السلام عصرِ غیبت میں ازدواج کر چکے ہیں اور ان کی بیوی اور اولاد ہے۔  

ب: احادیث سے استدلال:  
حضرت مہدی علیہ السلام کے ازدواج کے معتقدین کا ایک اور دلیل بعض احادیث کی طرف تمسک ہے، مثلاً:  
۱۔ مفضل بن عمر نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

«... لَا يَطَّلِعُ عَلَى مَوْضِعِهِ أَحَدٌ مِنْ وَلَدِهِ وَ غَيْرِهِ إِلَّا الْمَوْلَى الَّذِي يَلِی أَمْرَهُ» ([23])۔

اس روایت میں جب آپؑ کے مقام و مکان زندگی کا ذکر ہوتا ہے تو امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

آپؑ کے مقام سے کوئی باخبر نہیں، یہاں تک کہ آپؑ کی اولاد بھی نہیں۔ پس معلوم ہوا کہ آپؑ کی اولاد ہے، اور اولاد کا ہونا امامؑ کے ازدواج کی طرف اشارہ ہے۔  

لیکن اس روایت پر غور کرنے سے کچھ ایسے نکات سامنے آتے ہیں جو اس حضرت کے ازدواج پر استدلال میں مانع ہیں۔ وہ نکات یہ ہیں:  
الف۔ یہی روایت کتاب الغیبۃ نعمانی میں بھی نقل ہوئی ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ «وَلَد» کی جگہ «وَليّ» کا لفظ آیا ہے:

«وَلَا يَطَّلِعُ عَلَى مَوْضِعِهِ أَحَدٌ مِنْ وَلِيٍّ وَ لَا غَيْرِهِ» ([24])،

یعنی دوست اور غیر دوست، آشنا اور غیر آشنا میں سے کوئی بھی آپؑ کے مقام سے باخبر نہیں ہو سکتا۔ اس روایت میں اولاد کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا، اس نقل کو مد نظر رکھتے ہوئے اس روایت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔  
ب۔ روایت میں اولاد کا ذکر تو ہے، لیکن اس سے یہ کہنا کہ امام علیہ السلام ابھی اولاد اور بیوی رکھتے ہیں، مقصود نہیں ہے۔ یہ روایت اصطلاحاً مُجمل ہے۔ ممکن ہے کہ مراد وہ اولاد ہو جو آستانۂ ظہور یا ظہور کے بعد دنیا میں آئے گی۔  
ج۔ ممکن ہے یہ روایت اور اس جیسی دیگر روایات، شخصیت کی پردہ داری میں مبالغہ بیان کر رہی ہوں۔ یعنی کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں، یہاں تک کہ اگر ان کی اولاد بھی ہو تو بھی ان کی اولاد ان کے مقام سے باخبر نہیں ہے۔ ([25])  
د۔ یہ روایت سند کے اعتبار سے مخدوش ہے، کیونکہ اس کے راویوں میں سے ایک ابراہیم بن مستنیر ہے اور دوسری جگہ عبداللہ بن مستنیر ہے، اور دونوں مجہول ہیں۔  

مذکورہ نکات پر غور کرتے ہوئے، عصرِ غیبت میں امام علیہ السلام کے ازدواج پر استدلال کرنا مشکل بلکہ بعید نظر آتا ہے۔  

۲۔ سید ابن طاؤس نے امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:

«... اَللَّهُمَّ اجْعَلْهُ الْقُرَّةَ الْعَیْنَ لِوَلِیِّکَ الْحُجَّةِ فِیهِ وَ فِي أَهْلِهِ وَ ذُرِّیَّتِهِ وَ شِیعَتِهِ» ([26])۔

اس روایت میں آپؑ کے اہل و عیال اور اولاد کا ذکر ہے، لیکن چونکہ معلوم نہیں کہ یہ اولاد ظہور سے پہلے ہے یا بعد میں، اس لیے یہ بھی مجمل ہے اور اس پر استناد نہیں کیا جا سکتا۔  

۳۔ ابو بصیر نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:

«كَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَى الْقَائِمِ وَ قَدْ أَظَلَّتْهُ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ فِي مَسْجِدِ السَّهْلَةِ مَعَ أَهْلِهِ وَ عِیَالِهِ ...» ([27])۔

یہ روایت بھی امام علیہ السلام کے پاس ظہور سے پہلے اولاد کی موجودگی پر دلالت نہیں کرتی۔ ممکن ہے مراد آپؑ کی ظہور کے بعد کی اولاد ہو، جیسا کہ اکثر روایات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے جن کی طرف ہم اشارہ کریں گے۔  

۴۔ مرحوم مجلسی رحمہ اللہ نے بحار الانوار میں علی بن فاضل سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں ایک مخصوص مقام اور جزیرے کا ذکر ہے جہاں آپؑ کی نسل اور اولاد آپؑ کی نگرانی میں ایک مثالی اسلامی معاشرہ تشکیل دیتی ہے اور اپنی حکومت رکھتی ہے۔ ([28]) یہ مقام نامعلوم ہے اور ہر کوئی وہاں نہیں جا سکتا، عوام الناس کا وہاں پہنچنا ممکن نہیں۔  

اس روایت کی طرف تمسک بھی یہ ثابت نہیں کر سکتی کہ آپؑ نے ازدواج کیا ہے اور نتیجتاً اولاد ہے اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ آپؑ مخصوص مقام پر رہائش پذیر ہیں۔ اس کی وجوہات یہ ہیں:  
اولاً: روایت کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت مرحوم مجلسی رحمہ اللہ کے نزدیک قابلِ اعتبار نہیں تھی، کیونکہ وہ کہتے ہیں:

«لَمَّا لَمْ أَجِدْ هَذَا الْحَدِیثَ فِي کُتُبٍ مَعْتُمَدَةٍ، جَعَلْتُهُ مُنْفَرِدًا بِذِکْرِهِ» ([29])۔  
ثانیاً: یہ داستان بہت سے تناقضات، بے بنیاد باتوں اور کئی مجہول راویوں کی موجودگی میں قابلِ استناد نہیں ہے۔ یہاں تک کہ بعض محققین وسیع تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ «جزیرۂ خضراء» ایک افسانہ ہے جس کا کوئی وجود نہیں۔ ([30]) اور بعض جیسے آقا بزرگ تہرانی کہتے ہیں کہ یہ داستان تخیلاتی ہے۔ ([31])

۵۔ ابن طاؤس نے امام رضا علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں آپؑ نے فرمایا:

«اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى وُلَاةِ عَهْدِهِ وَ الْأَئِمَّةِ مِنْ وَلَدِهِ»۔  
ابن طاؤس کہتے ہیں کہ یہی روایت یوں بھی نقل ہوئی ہے:

«اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى وُلَاةِ عَهْدِهِ وَ الْأَئِمَّةِ مِنْ بَعْدِهِ» ([32])۔  

یہ روایت بھی یہ ثابت نہیں کر سکتی کہ آپؑ کی اولاد ہے، کیونکہ دو طرح کی نقل موجود ہونے کی وجہ سے معلوم نہیں کہ مراد آپؑ کے بعد کی اولاد ہے یا آپؑ کے بعد کے ائمہ ہیں۔ لہٰذا یہ روایت مجمل ہے۔ مزید یہ کہ یہ دونوں روایات آپؑ کے ظہور کے بعد کے حالات پر نظر رکھتی ہیں، نہ کہ پہلے۔  

۶۔ کتاب «الشموس المضیئۃ» کے مصنف نے آپؑ کے قیام گاہ اور اہل و عیال رکھنے کے بارے میں سات روایات نقل کرنے کے بعد (جن میں سے بعض ہم نے ذکر کی ہیں) یہ نتیجہ نکالا ہے:

«مِنْ جُمْلَةِ هَذِهِ الرِّوَایَاتِ یَتَبَیَّنُ أَنَّ لِلْحُجَّةِ عَلَیْهِ السَّلَامُ أَهْلًا وَ مَنْزِلًا وَ إِنْ کُنَّا لَا نَعْلَمُ تَفْصِیلَهُ» ([33])۔  

پھر وہ اضافہ کرتے ہیں کہ مرحوم علامہ مجلسی رحمہ اللہ سے منقول «جزیرۂ خضراء» کی داستان اور «إثبات الهداة» میں موجود اسی قسم کی داستان (جس میں یہ قید ہے کہ اس جزیرے کے شیعوں کی تعداد تمام دنیا کے لوگوں سے زیادہ ہے اور امام علیہ السلام کے ہر فرزند کی وہاں حکومت ہے) کے حوالے سے یوں لکھتے ہیں: «آپؑ کی لمبی عمر مبارکہ کے پیشِ نظر ممکن ہے آپؑ کی متعدد بیویاں اور اولادیں ہوں، جن میں سے بعض فوت ہو چکی ہوں گی اور بعض زندہ ہوں گی۔ لہٰذا، آپؑ کے بہت سے فرزند اور پوتے پوتیاں ہوں گی جن کا شمار آسان نہیں ہے» ([34])۔  

مذکورہ کتاب کے مطالب پر غور و دقت کرتے ہوئے چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے:  
اولاً: ان سات روایات کے ذریعے آپؑ کے ازدواج، اور نتیجتاً اولاد اور قیام گاہ ہونے پر استناد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان میں سے بعض روایات وہی ہیں جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے ([35])۔

اور بعض دوسری روایات آپؑ کے اہل و عیال ہونے پر دلالت نہیں کرتیں، اور بعض دیگر آپؑ کی خفیہ شخصیت اور ان کے مقام سے عدم آگاہی کے ساتھ سازگار نہیں ہیں۔  
ثانیاً: آپؑ کی بے شمار اولاد کا ہونا فلسفۂ غیبت کے منافی ہے، کیونکہ ممکن ہے اولاد اپنی ہویت معلوم کرنے پر تل جائے اور اپنے حسب و نسب کے جاننے کی خواہش کرے۔ ([36])  
ثالثاً: کیسے ممکن ہے کہ اس جزیرے کے شیعوں کی تعداد (ان کے «إثبات الهداة» سے نقل کے مطابق) ([37]) تمام دنیا کی آبادی سے زیادہ ہو، حالانکہ جدید علمِ نقشہ نگاری اور جغرافیہ نے اس کرۂ ارض کے تمام نقاط کو دریافت کر لیا ہے۔ آج کوئی ایسی جگہ نہیں جو نامعلوم ہو، یہاں تک کہ «مثلث برمودا» ([38]) بھی پوری طرح معلوم ہو چکا ہے، اس کے اسرار (مقناطیسی خصوصیات) آشکار ہو چکے ہیں اور بہت سے لوگ وہاں جا چکے ہیں اور متعدد رپورٹس پیش کر چکے ہیں۔ لہٰذا، یہ بات معقول نہیں ہے کہ موجودہ دنیا کی آبادی سے زیادہ، کئی ارب افراد کسی جگہ رہائش پذیر ہوں اور کسی کو ان کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو۔ ([39])  

بہر حال، اس قسم کے مطالب حضرت کے ازدواج، اورنتیجتاً اولاد اور مخصوص قیام گاہ ہونے کے اثبات کیلئے قطعی دلیل نہیں بن سکتے۔  

۷۔ بعض لوگ ممکن ہے حضرت مہدی علیہ السلام کے ازدواج اور اولاد ہونے کے اثبات کیلئے آپؑ کے مشہور کنیت «اباصالح» سے استدلال کریں اور کہیں کہ یہ کنیت «صالح کے باپ» کے معنی میں ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپؑ کے ہاں «صالح» نامی فرزند موجود ہے۔
سوال: کیا حضرت مهدی(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کی شادی ہوئی ہے؟
 اس حوالے سے مختلف نظریات ہیں۔ ان میں سے ایک نظریہ یہ ہے کہ آپ(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا نکاح ہوا ہے۔ اس نظریے کے قائلین کی کیا دلیلیں ہیں؟ نیز ان دلائل کا جائزہ کیجیے۔

جواب: اس سلسلے میں تین نظریات پائے جاتے ہیں۔

پہلا نظریہ: حضرت مهدی(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا نکاح ہوا ہے۔
اس نظریے کے قائلین کے دلائل یہ ہیں:
پہلی دلیل: شریعت میں نکاح ایک مستحب اور سنت عمل ہے۔ چنانچہ کسی بھی معصوم(علیہ السلام) کا اس سے رُوگردانی کرنا بعید ہے۔
دوسری دلیل: مہدی(عجل الله تعالی فرجه الشریف) سے متعلق روایات میں آپ(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کی کنیت أَبَا صَالِحٍ ذکر ہوئی ہے۔ ([1])

اور کنیت عموماً کسی کے والد ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔

جائزہ و تنقید:
پہلی دلیل تو قابل قبول ہے، البتہ دوسری دلیل کئی وجوہات کی بنا پر قابلِ قبول نہیں:

(1) مستند کتابوں میں حضرت مہدی(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کیلئے نقل کی گئی کنیتوں میں کنیت أَبَا صَالِحٍ نہیں پائی جاتی۔ بظاہر یہ کنیت کثرتِ استعمال کی وجہ سے مشہور ہو گئی ہے۔ بعض مجلات و کتب میں جو جوابات دیے گئے ہیں، ان میں ذوقی اور احتمالی پہلو نمایاں ہیں اور ان میں کوئی واضح سند یا دلیل نہیں دی گئی۔ مثال کے طور پر کہا گیا ہے کہ یہ کنیت ممکن ہے اس آیتِ کریمہ سے ماخوذ ہو:
"پوَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ"
(سورہ انبیاء، آیت:۱۰۵)
ترجمہ: اور بیشک ہم نے ذکر (تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔
([2])۔ ([3])

یا یہ کہا جاتا ہے کہ کیا حرج ہے کہ ہم اس ہستی کو أَبَا صَالِحٍ کہیں یعنی تمام نیکیوں اور خوبیوں کا باپ؟

بعض نے ان احادیث سے استدلال کیا ہے جن میں لفظ أَبَا صَالِحٍ یا صَالِحٍ آیا ہے۔ مرحوم مجلسی(رح) نے بھی اس سلسلے میں بحار الانوار میں ایک داستان نقل کی ہے ([4])، لیکن ان احادیث میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صَالِحٍ یا أَبَا صَالِحٍ ایک جن کا نام ہے جو گمشدہ افراد کی ہدایت و رہنمائی کا ذمہ دار ہے۔

مثلاً کتاب "من لا يحضره الفقيه" میں آیا ہے: «امام صادق(علیہ السلام) نے فرمایا: جب تم راستہ بھول جاؤ تو پکارو: یَا صَالِحُ یا کہو:

یَا أَبَا صَالِحٍ أَرْشِدْنَا رَحمَکُمُ اللَّہُ!

(اے صالح یا اے اباصالح! ہمیں راستہ دکھاؤ، اللہ تم پر رحم کرے)۔» ([5])

مرحوم مجلسی(رح) ان لوگوں کے حالات و واقعات میں جنہوں نے امام زمانہ(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کو دیکھا ہے، ایک قصہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں اور وہ امیر اسحاق استرآبادی سے نقل کرتے ہیں (جو چالیس بار پیدل حج کیلئے گئے تھے) کہ ایک سفر میں وہ قافلہ سے بچھڑ گئے اور حیران و پریشان پیاس اور پانی کے بغیر رہ گئے۔ پھر انہوں نے پکارا: یَا صَالِحُ یَا أَبَا صَالِحٍ أَرْشِدْنَا (اے صالح، اے اباصالح! ہمیں رہنمائی فرما)، اچانک انہوں نے دور سے ایک سوار کو دیکھا جو آیا اور اس نے انہیں رہنمائی کی اور ان کے قافلے سے ملا دیا۔ وہ کہتے ہیں: اس واقعے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ حضرت مہدی(عجل الله تعالی فرجه الشریف) تھے۔» ([6])

ظاہر ہے کہ اس قصے کی کوئی علمی اور استدلالی حیثیت نہیں، محض ایک داستان ہے، کیونکہ معلوم نہیں کہ اس شخص نے واقعاً امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کو دیکھا بھی ہے یا نہیں۔

(2) عربی زبان میں لفظ أَب کے مختلف معانی ہیں، صرف "باپ" ہی نہیں آتا بلکہ "مالک" وغیرہ کے معانی میں بھی آتا ہے۔ ([7]) نیز رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:

أَنَا وَ عَلِيٌّ أَبَوَا هَذِهِ الْأُمَّةِ

(میں اور علی(علیہ السلام) اس امت کے باپ ہیں)۔ ([8])
اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کنیت سے مراد کوئی ایسا باپ نہیں جس کا بیٹا صالح ہو، بلکہ أَبَا صَالِحٍ کا مطلب ہے: وہ ہستی جو صالح اور شائستہ افراد کی مالک ہے۔

نیز ممکن ہے کنیت أَبَا صَالِحٍ اس وجہ سے ہو کہ امام زمانہ(عجل الله تعالی فرجه الشریف) معاشرے کی اصلاح کے باپ اور مجری ہیں، یعنی وہی ہیں جو خدا کے اذن سے انسانی معاشرے کی اصلاح کریں گے۔

لہٰذا مذکورہ مطالب اور متعدد احتمالات کی روشنی میں اس کنیت سے امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کے نکاح اور اولاد ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا۔

پس نکاح کے قائلین کی دوسری دلیل جو روایات پر مبنی تھی، مخدوش ہو جاتی ہے اور اس سے استفادہ و استدلال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لہٰذا ہم ان روایات پر تمسک نہیں کر سکتے۔

لیکن پہلی دلیل جو نکاح کے مستحب اور سنت ہونے سے متعلق تھی، مضبوط اور قابلِ قبول دلیل ہے، کیونکہ اس کا مقتضی (سبب) موجود ہے۔

اگرچہ فیصلہ کن نتیجہ نکالنے کا وقت ابھی نہیں آیا اور اس بارے میں قطعی فیصلہ کرنا قبل از وقت ہے، کیونکہ مقابل نقطہ نظر کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے اور یہ بھی یقین کرنا ضروری ہے کہ کوئی مانع موجود نہیں یا نکاح سے زیادہ اہم کوئی امر موجود نہیں۔

کیا امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا نکاح، فلسفۂ غیبت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے؟

دوسرا نظریہ: بعض کا عقیدہ ہے کہ بنیادی طور پرامام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا نکاح نہیں ہوا۔
ان کی واحد دلیل یہ ہے: امام (عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا نکاح، فلسفۂ غیبت کے ساتھ سازگار نہیں، کیونکہ نکاح کا لازمہ بیوی اور اولاد کا ہونا ہے اور یہ امر باعث بنے گا کہ حضرت(عجل الله تعالی فرجه الشریف) پہچانے جائیں اور ان کے اسرار فاش ہو جائیں۔ دوسری طرف، غیبت کا مطلب شخص کا پوشیدہ ہونا ہے یعنی ناشناس ہونا، نہ کہ نظر نہ آنا۔ جبکہ نکاح کرنے سے وہ پہچانے جائیں گے اور کم از کم ان کی پہچان ان کی اہلیہ کو تو ہوگی۔

لیکن جیسا کہ روایات میں آیا ہے، غیبت کا فلسفہ قتل کے خوف سے بچنا ہے۔ امام صادق(علیہ السلام) نے اس ہستی کے بارے میں فرمایا:

لِلْغُلَامِ (لِمَهْدِيِّكُمْ) غَيْبَةٌ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ قَالَ الرَّجُلُ وَ لِمَ قَالَ يَخَافُ ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى بَطْنِهِ

(مہدی(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کے قیام سے پہلے ان کیلئے ایک غیبت ہے۔ ایک شخص نے پوچھا: کیوں؟ فرمایا: ڈرتے ہیں۔ پھر آپ(علیہ السلام) نے اپنے دستِ مبارک سے اپنے پیٹ کی طرف اشارہ کیا)۔ ([9])
امام صادق(علیہ السلام) کے اس حرکت سے مراد احتمالِ قتل ہے۔ نیز امام سجاد(علیہ السلام) سے نقل ہے کہ آپ(علیہ السلام) نے فرمایا:

فِي الْقَائِمِ مِنَّا سُنَنٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ... وَ سُنَّةٌ مِنْ مُوسَى وَ هِيَ الْخَوْفُ وَ الْغَيْبَةُ

(ہمارے قائم(عجل الله تعالی فرجه الشریف) میں گذشتہ انبیاء کی سنتیں ہیں ... اور موسیٰ(علیہ السلام) کی جو سنت ان میں ہے، وہ خوف اور غیبت ہے)۔ ([10])

لہٰذا، غیبت کا فلسفہ یہ ہے کہ لوگوں سے دور اور پوشیدہ رہیں تاکہ انہیں کوئی نقصان یا گزند نہ پہنچے اور وہ دشمنوں کے شر سے محفوظ رہیں۔ اور جو بھی چیز اس کے خلاف ہو، وہ حضرت(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کیلئے جائز نہیں۔ اور نکاح اس امر اور فلسفے کے منافی ہے۔

نتیجۃً کہا جا سکتا ہے: نکاح کرنا ایک مستحب، پسندیدہ اور اہم عمل ہے۔ جبکہ اسرار کی حفاظت، پوشیدہ زندگی گزارنا اور جان کو دشمنوں کے گزند سے بچانا ایک زیادہ اہم اور اولویت رکھنے والا امر ہے۔ اور جب کبھی ایک اہم اور زیادہ اہم (اہم تر) امر کے درمیان تردد ہو تو عقل زیادہ اہم (اہم تر) کو اختیار کرتی ہے۔

دوسرے الفاظ میں، اہم تر کی مصلحت اور فلسفۂ غیبت، نکاح کی مصلحت سے زیادہ ہے۔ لہٰذا فلسفۂ غیبت، نکاح کیلئے ایک مانع ہے اور نکاح کے وقوع کو روک سکتا ہے۔ اور جب نکاح کیلئے مانع موجود ہے، تو امام (عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا نکاح نہ کرنا سنت سے اعراض تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ انہوں نے اعراض نہیں کیا بلکہ اہم تر امر کو اختیار کیا ہے۔

نقد و بررسی: مذکورہ دلیل کے پیش نظر ممکن ہے بعض جواب میں کہیں کہ پوشیدہ زندگی اور قتل کے خوف کا نکاح میں مانع ہونا ضروری نہیں، کیونکہ روایات میں غیبت کے فلسفے کے طور پر دوسری موارد بھی بیان ہوئے ہیں، جیسے:
الف) ان مؤمنین کا دنیا میں آنا جو کافروں کی صلب میں ہیں۔ اس بارے میں امام صادق(علیہ السلام) نے فرمایا:

قَائِمُنَا أَهْلَ الْبَيْتِ لَا يَظْهَرُ حَتَّى يَخْرُجَ كُلُّ مَنْ وَضَعَ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِذَا خَرَجَ آخِرُهُمْ ظَهَرَ عَلَى أَعْدَاءِ اللَّهِ فَقَتَلَهُمْ

(ہمارے اہل بیت کا قائم(عجل الله تعالی فرجه الشریف) ظہور نہیں کریں گے یہاں تک کہ وہ تمام افراد (مؤمنین) جو اپنے باپوں کی پشتوں میں امانت کے طور پر رکھے گئے ہیں، ظاہر نہ ہو جائیں۔ اور جب ان میں سے آخری شخص نکل آئے گا تو وہ اللہ کے دشمنوں پر غالب آ کر انہیں قتل کریں گے)۔ ([11])
ب) امتحانِ الٰہی: امام کاظم(علیہ السلام) نے اپنے بھائی علی بن جعفر سے فرمایا:

إِنَّ لِصَاحِبِ هَذَا الْأَمْرِ (الْمَهْدِيِّ) غَيْبَةً يَرْتَدُّ فِيهَا قَوْمٌ وَ يَثْبُتُ فِيهَا آخَرُونَ ... فَقَالَ هِيَ مَحْنَةٌ مِنَ اللَّهِ امْتَحَنَ بِهَا خَلْقَهُ

(بے شک اس امر (امام مہدی(عجل الله تعالی فرجه الشریف)) کے مالک کیلئے ایک غیبت ہے جس میں ایک گروہ (ایمان سے) پلٹ جائے گا اور دوسرا گروہ ثابت قدم رہے گا۔ ... یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے جس سے اس نے اپنی مخلوق کو آزمایا ہے)۔ ([12])
ج) اسرارِ الٰہی میں سے ایک سر:

امام صادق(علیہ السلام) سے ایک روایت میں نقل ہے:

إِنَّ لِصَاحِبِ هَذَا الْأَمْرِ غَيْبَةً لَا بُدَّ مِنْهَا ... قُلْتُ وَ لِمَ قَالَ لِأَمْرٍ لَمْ يُؤْذَنْ لَنَا فِي كَشْفِهِ لَكُمْ قُلْتُ فَمَا وَجْهُ الْحِكْمَةِ فِي غَيْبَتِهِ قَالَ وَجْهُ الْحِكْمَةِ فِي غَيْبَتِهِ وَجْهُ الْحِكْمَةِ فِي غَيْبَاتِ مَنْ تَقَدَّمَهُ مِنْ حُجَجِ اللَّهِ ... كَمَا أَنَّ الْحِكْمَةَ فِي مَا أَتَاهُ الْخَضِرُ مِنْ خَرْقِ السَّفِينَةِ وَ قَتْلِ الْغُلَامِ وَ إِقَامَةِ الْجِدَارِ لَمْ يَقَعْ إِلَّا إِلَى وَقْتِ افْتِرَاقِهِمَا ثُمَّ قَالَ يَا ابْنَ الْفَضْلِ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ أَمْرٌ مِنَ اللَّهِ وَ سِرٌّ مِنْ سِرِّ اللَّهِ وَ غَيْبٌ مِنْ غَيْبِ اللَّهِ

(بے شک اس امر کے مالک کیلئے ایک غیبت ہے جس سے چارہ کار نہیں۔ ... میں نے کہا: کیوں؟ فرمایا: ایک ایسے امر کے سبب جس کے ظاہر کرنے کی ہمیں اجازت نہیں دی گئی۔ میں نے کہا: پھر ان کی غیبت میں حکمت کا کیا پہلو ہے؟

فرمایا: ان کی غیبت میں حکمت کا پہلو، ان حجتوں کی غیبت میں حکمت کے پہلو کی مانند ہے جو ان سے پہلے تھیں۔ ... جیسے خضر(علیہ السلام) کے ان کاموں (کشتی کو توڑنے، لڑکے کو قتل کرنے اور دیوار کو کھڑا کرنے) میں حکمت، موسیٰ(علیہ السلام) پر ان کی جدائی کے وقت تک ظاہر نہ ہوئی۔

پھر فرمایا: اے فضل کے بیٹے! یہ امر اللہ کا امر ہے اور اللہ کے اسرار میں سے ایک سر ہے اور اللہ کے غیبوں میں سے ایک غیب ہے)۔ ([13])

مذکورہ موارد اور دوسرے موارد جو غیبت کے فلسفے میں شمار ہوتے ہیں، کے پیش نظر غیبت کے فلسفے کو صرف قتل کے خوف تک محدود نہیں کیا جا سکتا جو نکاح کے منافی ہو۔ شہید سید محمد صدر اس بارے میں لکھتے ہیں:

«اگر ہم یہ تسلیم کریں کہ امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کی غیبت سے مراد ان کی شخصیت کا مخفی ہونا ہے، اس معنی میں کہ ان کا جسم مبارک نظروں سے اوجھل ہو جائے اور باوجودیکہ وہ لوگوں کے درمیان ہوں اور انہیں دیکھتے ہوں لیکن لوگ انہیں نہ دیکھ سکیں، تو پھر یہ کہنا چاہیے کہ امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا نکاح نہیں ہوا اور وقتِ ظہور تک مجرد (غیر شادی شدہ) رہیں گے۔ اور اس بات میں کوئی بعید بھی نہیں، کیونکہ جو بھی چیز غیبت کے منافی ہو اور امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کو خطرے میں ڈالے، وہ ان کیلئے جائز نہیں، کیونکہ نکاح سے امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا امر فاش ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ نکاح کیلئے لازماً امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا ظاہر ہو کر لوگوں کے سامنے آنا ضروری ہے اور یہ وہی چیز ہے جس سے انہیں اجتناب کرنا ہے۔ اور یہ فرض کہ وہ صرف اپنی اہلیہ پر ظاہر ہوں، اگرچہ عقلاً ممکن ہے لیکن اس کا فرض کرنا بہت بعید بلکہ باطل ہے، کیونکہ ایسی عورت جو خاص خصوصیات کی مالک ہو، جیسے کہ امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) اس سے اپنی حقیقی ہویت مخفی نہ رکھیں اور اس کی جانب سے امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو، ایسی عورت عالَمِ نسواں میں نہیں ملے گی، چہ جائیکہ یہ کہا جائے کہ ہر زمانے میں ایسی عورت موجود ہو۔

لیکن اگر غیبت سے مراد امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا عنوان کا پوشیدہ ہونا اور ناشناس ہونا لیا جائے، اس معنی میں کہ وہ ناشناس طور پر لوگوں کے درمیان زندگی بسر کرتے ہیں، تو اس صورت میں نکاح سے کوئی ٹکراؤ نہیں اور یہ آسان ترین کام ہے، کیونکہ نکاح ناشناس طور پر ہو گا اور ان کی اہلیہ بھی ساری عمر ان کی حقیقی ہویت سے آگاہ نہ ہو گی۔

اور اگر چہرے پر بڑھاپے کے آثار نہ دیکھ کر اسے امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کی ہویت کا شک ہو جائے تو امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) اسے طلاق دے کر یا کسی دوسرے شہر میں اپنی زندگی کا نیا دور شروع کر کے دوبارہ نکاح کر لیں گے۔

پھر شہید صدر کہتے ہیں: «جب ثابت ہو گیا کہ عصرِ غیبت میں امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا نکاح ممکن ہے، تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ امر تحقق پذیر ہو چکا ہے، کیونکہ مہدی(عجل الله تعالی فرجه الشریف) سنتِ اسلامی کی پیروی کے زیادہ حقدار ہیں، خصوصاً اگر ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ معصوم(علیہ السلام) جہاں تک ممکن ہو مستحبات پر عمل کرتے اور مکروہات کو ترک کرتے ہیں۔ لہٰذا اس بات کا التزام کہ غیبت کے زمانے میں ان کا نکاح ممکن ہے، اس کے اعتقاد کیلئے کافی ہے»۔ ([14])

نکاح نہ ہونے کے قائلین کی دلیل، مذکورہ جواب اور شہید سید محمد صدر کے کلام پر غور و تدبر کرنے سے کچھ قابل توجہ نکات سامنے آتے ہیں:
1. روایات سے جو موارد غیبت کے فلسفے کے طور پر اخذ کیے جا سکتے ہیں، وہ ایک دوسرے کے متوازی (عرض) میں نہیں ہیں۔ اس معنی میں کہ اگر غیبت امتحان کیلئے ہے تو پھر قتل کے خوف و ڈر کا مسئلہ اس میں موجود نہیں ہو گا۔ بلکہ یہ ایک دوسرے کے طول میں ہیں۔ لہٰذا غیبت کے فلسفے کے دوسرے موارد بیان کر کے امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کے نکاح کا قائل ہونا درست نہیں، کیونکہ جب غیبت قتل کے خوف کی وجہ سے ہے، تو ساتھ ہی بندوں اور امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کے معتقدین کے امتحان کیلئے بھی ہے۔ اور اس میں کوئی بعید نہیں۔ دوسرے الفاظ میں، قتل کے خوف کا مفروضہ تمام دیگر موارد میں بھی جاری ہے۔
2. شہید صدر کا غیبت کے معنی کو دو صورتوں میں بیان کرنا:

ناشناسی (لوگ انہیں دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں) اور ناپیدائی (ان کا جسم و شخص نظر نہیں آتا) اور مسئلۂ نکاح کو صرف ناشناسی پر بنانا، جامع اور فراگیر کلام نہیں۔ کیونکہ ہم صرف ناشناسی یا صرف ناپیدائی پر قطعی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ممکن ہے امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کبھی ناشناس ہوں اور کبھی ناپیدا۔ جیسا کہ یہ برداشت روایات سے بھی اخذ کی جا سکتی ہے۔ ([15])
3. شہید صدر کا یہ عقیدہ کہ ایسی عورت جو لیاقت و شایستگی رکھتی ہو اور امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کے ہم کفو ہو، عالم میں موجود نہیں، ان سے اس بات کا صادر ہونا باعث تعجب ہے۔ کیونکہ ہر دور میں شایستہ، با فضیلت اور بلند اخلاقی و معنوی مرتبہ رکھنے والی خواتین موجود رہی ہیں اور ہیں۔ جیسے حضرت مریم(علیہا السلام) اور آسیہ (فرعون کی بیوی) جو قرآن کریم میں دوسروں کیلئے نمونہ قرار دی گئی ہیں ([16])، یا جیسے حضرت خدیجہ(سلام الله علیہا)، رسول گرامی اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اہلیہ تھیں۔ نیز روایات میں امام زمانہ(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کے خاص اصحاب کے بارے میں آیا ہے کہ ان میں پچاس افراد خواتین ہوں گی۔ ([17]) کیا ایسی خواتین جو خاص اصحاب میں شامل ہونے کی لیاقت رکھتی ہیں اور بہت سے اسرار کی امین ہیں، امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کی زوجیت کی لیاقت نہیں رکھتیں؟ کیا مانع ہے کہ امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) انہی میں سے کسی ایک کو اپنی زوجیت کیلئے منتخب کر لیں؟
4. ایسا لگتا ہے کہ امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا ناپیدائی کی صورت میں نکاح کرنا بھی ممکن ہے، خلاف اس کے جو شہید صدر نے غیر ممکن قرار دیا ہے۔ کیونکہ ناپیدائی امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کیلئے دائمی امر نہیں۔ نیز جیسا کہ وہ اپنے ساتھیوں اور خواص کیلئے غائب نہیں ہیں ([18])، اسی طرح اپنی اہلیہ کیلئے بھی غائب نہیں ہو سکتے۔

نتیجہ: جو لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مہدی(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا نکاح نہیں ہوا، ان کی واحد دلیل فلسفۂ غیبت ہے جو قتل کے خوف اور امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کے سر کے افشا ہونے پر مبنی ہے۔ لیکن غیبت کے فلسفے کے دوسرے موارد جو ایک دوسرے کے طول میں ہیں نہ کہ عرض میں، کے پیش نظر یہ امر امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کے نکاح میں مانع نہیں بن سکتا، اگرچہ اس بحث میں صرف مانع کے عدم ثبوت پر بات ہوئی ہے۔ کیونکہ عدم المانع (مانع کا نہ ہونا) کے اثبات کیلئے امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کی ذاتی زندگی پر کافی، جامع معلومات اور مکمل احاطہ درکار ہے اور یہ بھی ہماری استطاعت سے باہر ہے۔

دوسری طرف، تحقیقی اور علمی مباحث میں ہمیں دلیل کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم مدارک و ظواہر کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ لہٰذا اگرچہ اس قسم کے مدارک کی موجودگی میں امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کا نکاح ایک ممکن امر ہے، لیکن ہم قطع و یقین کے ساتھ اس کا حکم نہیں لگا سکتے، جیسا کہ ہم عدمِ نکاح پر بھی قطعیت حاصل نہیں کر سکتے۔

کیا خاموشی بہتر نہیں؟

تیسرا نظریہ: ایک دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اس قسم کے مباحث میں نہیں پڑنا چاہیے اور نہایتِ کار توقف کرنا چاہیے۔ اور اس قسم کے سوالات کے جواب میں لفظ "نہیں جانتا" اور "نہیں جانتے" زبان پر جاری کرنا چاہیے۔ کیونکہ اصل میں امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) کے نکاح یا عدم نکاح کا تعلق ہمارے اعتقادات میں سے نہیں ہے، کیونکہ اعتقادی مباحث میں یہ نہیں آیا کہ ہمیں ایسے امام زمانہ(عجل الله تعالی فرجه الشریف) پر اعتقاد رکھنا چاہیے جن کا نکاح ہوا ہے یا نہیں ہوا۔ اس قسم کے موضوعات ذاتی مسائل میں سے ہیں جن کا عموماً روایات میں ذکر نہیں آیا اور کسی نے اس پر توجہ بھی نہیں دی۔ حتیٰ کہ امام عسکری(علیہ السلام) نے بھی اپنے فرزند کے نکاح کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا۔

غیبت صغریٰ و کبریٰ کے تاریخ پر ایک سرسری نگاہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کے مسائل موجود نہیں تھے۔ حتیٰ کہ جن لوگوں کو امام(عجل الله تعالی فرجه الشریف) سے ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی، ان سے امام (عجل الله تعالی فرجه الشریف) کے نکاح کے بارے میں کوئی سوال صادر نہیں ہوا۔ اور عموماً کثرتِ مشکلات یا مادی و معنوی ضروریات یا علمی مسائل پوچھنے کی وجہ سے وہ اس قسم کے سوالات سے غافل رہے۔ اگرچہ بنیادی طور پر نکاح کے بارے میں سوال نہ کرنا فطری ہے، کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم سالوں سے بہت سے افراد و دوستوں سے واقف ہوتے ہیں لیکن ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں سوال کریں، مثلاً یہ کہیں کہ کیا آپ شادی شدہ ہیں؟

اگر ہیں تو بیٹی کس کی ہے؟ کیا اولاد ہے؟

ان کی جنسیت کیا ہے؟

وغیرہ۔ لہٰذا بنیادی طور پر ضروری نہیں کہ ہم اس قسم کے امور سے آگاہ ہوں اور یہ مسائل ہماری زندگی پر بھی کوئی اثر نہیں رکھتے اور نہ ہی نہ جاننے کی وجہ سے ہم مؤاخذے کے مستحق ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔
 نقد و بررسی:

درست ہے کہ ایسے مسائل کا ذاتی پہلو ہوتا ہے، اور ان کا جاننا یا نہ جاننا ہماری زندگی پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے ائمہ علیہم السلام عام انسانوں کی طرح نہیں ہیں کہ ہم ان سے بے توجہی برتیں، کیونکہ وہ ہادی اور دینی و سماجی رہنما ہیں۔ متعدد آیات اور روایات کے مطابق، انہیں معصومیت اور خطا و اشتباه سے محفوظ رکھنے کا مقام حاصل ہے۔

لہٰذا، دوست اور شیعہ اس بات کا خواہاں ہیں کہ اپنے امام کی ذاتی اور خاندانی زندگی کے سلسلے میں بھی ان کے سیرت و طریقہ کار سے آگاہ ہوں، تاکہ اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے ابہامات اور سوالات کا مناسب جواب پا سکیں۔ یہ مسئلہ صرف امام مہدی علیہ السلام تک محدود نہیں ہے۔ جیسے کہ بعض لوگ اب بھی یہ پوچھتے ہیں: امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے جعده سے کیوں شادی کی؟ یا امام جواد علیہ السلام نے مامون (جس نے ان کے والد کو شہید کیا تھا) کی بیٹی ام الفضل سے کیوں نکاح کیا؟ کیا ان سے کوئی اولاد باقی رہی؟ وغیرہ۔ امام عصر علیہ السلام بھی اس قاعدے سے مستثنیٰ نہیں ہیں، بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام، جو مہدی موعود ہیں، جن کا قیام ہوگا، جو عالمی حکومت قائم کریں گے، ان کے معاملے میں حساسیت اور بھی زیادہ ہے۔

اس بنا پر، اس امام کی ذاتی زندگی پر بحث کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگرچہ ان کی استثنائی صورت حال یعنی غیبت میں زندگی گزارنے کی وجہ سے ہمارے پاس زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ اور ہمیں اسی قدر دلائل، ظواہر اور عمومات پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔

 ایک نکتے کی یاد دہانی

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہماری بنیادی بحث امام زمانہ علیہ السلام کے ازدواج کے بارے میں ہے، اور ذکر کردہ مطالب اسی عنوان کے گرد گھومتے ہیں۔ ہم نے اس سے متعلقہ موضوعات جیسے اولاد اور بیوی کی خصوصیات پر گفتگو سے گریز کیا ہے، اور کوشش کی ہے کہ ضرورت کے مطابق ہی گفتگو کی جائے اور فضول باتوں سے پرہیز کیا جائے۔

 کلی نتیجہ

پہلی نظریے (جو امام علیہ السلام کے ازدواج کے قائل ہیں) کے دلائل یا تو کمزور اور ناکافی ہیں، یا اکثر حضرت کے زمانۂ ظہور کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور ان کے زمانۂ غیبت میں ازدواج کے بارے میں خاموش ہیں۔

دوسری نظریے (جو امام علیہ السلام کے ازدواج نہ کرنے کے قائل ہیں) کا دلائل، یعنی فلسفۂ غیبت (خوفِ قتل) احتمالات اور فلسفۂ غیبت کے دیگر اسباب کے ذکر کے ساتھ، اپنے دعوے کو مکمل طور پر ثابت نہیں کر سکے۔ اور تیسرے نظریے (توقف کے قائلین) کی دلیل، جو اس موضوع کے اعتقادی نہ ہونے اور امام کی ذاتی زندگی سے عدم آگاہی پر مبنی تھی، علمی تحقیق کے سفر، شیعوں کی ان مسائل سے آگاہی کی خواہش اور اپنے ذہنی سوالات و ابہامات کا جواب پانے کی کوشش کے منافی ہے۔

لہٰذا، ازدواج کی استحباب پر عمومی دلائل، کنوارے رہنے یا ہر حال میں شادی ترک کرنے کی مکروہیت، اور فلسفۂ غیبت کے مانع نہ ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت نے شادی کی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ امر امام کا راز فاش کر دے یا فلسفۂ غیبت کے منافی ہو۔ بلکہ ان کی بیوی ان ہی کے خاص اصحاب یا ابدال کی مانند ایک پاکدامن اور خود ساختہ خاتون ہو سکتی ہے۔

اسی طرح ضروری نہیں کہ یہ شادی دائمہ قسم کی ہو، بلکہ موقت (غیر دائم) نکاح کے ذریعے بھی وہ اس مستحب عمل کو ادا کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ان کی بیوی کی عمر بھی ان ہی کی مانند طویل ہو۔

نیز، شادی کا لازمی نتیجہ اولاد کا ہونا بھی نہیں ہے کہ یہ سوال کیا جائے کہ ان کی اولاد کہاں رہتی ہے؟ بلکہ یہ ممکن ہے کہ انہوں نے شادی کی ہو لیکن اولاد نہ ہو۔ اور اولاد نہ ہونا بھی ان کیلئے کوئی نقص نہیں ہے، کیونکہ وہ اولاد کے مالک ہو سکتے ہیں لیکن اپنی الٰہی ذمہ داری اور دوسروں سے پہچانے جانے کے خوف کی بنا پر، اپنی مرضی سے اولاد نہ رکھتے ہوں۔

پس اگرچہ ہمارے پاس امام علیہ السلام کے ازدواج کی قطعی اور حتمی دلیل موجود نہیں ہے، لیکن ہمیں ازدواج کیلئے کوئی مانع بھی نظر نہیں آتا۔ اس لیے، شواہد، قرائن اور ازدواج کی استحباب پر عمومی دلائل کی روشنی میں ہم یہ عقیدہ رکھ سکتے ہیں کہ حضرت نے ازدواج کیا ہے۔  
وَاللَّهُ أَعْلَمُ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی و حوالہ جات:

1 . مجلسي، محمدباقر، بحار الأنوار،مؤسسه الوفاء، بيروت / 1404.
2 . نوري طبرسي، ميرزا حسين، نجم الثاقب، انتشارات مسجد جمكران، چ دوم / 77.
3 . سعادتپرور، علي، الشموس المضيئة، نشر احياء كتاب، چ أوّل / 80، مترجم: سيد محمدجواد وزيري.
4 . حرّ عاملي، محمّد بن الحسن، وسايل الشيعه، مؤسسه آل البيت، قم / 1409.
5 . مكي عاملي، محمّد بن جمال، اللمعة الدمشقية، 10 جلدي، دار العالم الاسلامي بيروت.
6 . نجفي، محمّد حسن، جواهر الكلام.
7 . طباطبايي يزدي، محمّدكاظم، عروة الوثقي.
8 . طباطبايي، محمّد حسين، شيعه در اسلام، انتشارات جامعه مدرسين، چ دوازدهم / 76.
9 . نعماني، ابن أبي زينب، الغيبة، انتشارات صدوق.
10 . رضواني، علي اصغر، موعودشناسي، انتشارات مسجد جمكران، چ أوّل / 84.
11 . سيّد ابن طاووس، جمال الاسبوع، انتشارات رضي، قم.
12 . حرّ عاملي، محمّد بن الحسن، اثبات الهداة، 3 جلدي، مكتبة العلمية قم.
13 . عاملي، جعفر مرتضي، دراسة في علامات الظهور والجزيرة الخضراء، انتشارات دفتر تبليغات اسلامي قم ترجمه محمّد سپهري.
14 . تهراني، آغابزرگ، الذريعة إلي تصانيف الشيعة، دار الاضواء، بيروت.
15 . قمي، عباس، مفاتيح الجنان، ناشران قم، چ أوّل .
16 . باقي، محمدرضا، مجالس حضرت مهدي(عليه السلام)، نشر صدر، چ أوّل / 78.
17 . طوسي، محمّد بن حسن، الغيبة، انشتارات بصيرتي، چ دوم.
18 . صدوق، محمّد بن عليّ، كمال الدين، نشر اسلامي 2 جلدي.
19 . صدوق محمّد بن عليّ علل الشرايع، دار احياء التراث العربي، چ دوم.
20 . صدر، سيّد محمّد، تاريخ الغيبة الكبري، دار التعارف سوريه.
21 . عياشي، محمّد بن مسعود، تفسر القرآن، نشر علميه قم.
22 . كليني، محمّد بن يعقوب، اصول كافي، دار التعارف، لبنان.
23 . افتخارزاده، سيّد حسن، گفتارهايي پيرامون امام زمان(عليه السلام)، نشر شفق، چ چهارم / 79.
24 . سيّد ابن طاووس، الامان، مؤسسه آل البيت(عليهم السلام)، قم / 1409 هـ.
25 . شيخ صدوق، من لا يحضره الفقيه، انتشارات جامعه مدرسين، 4 جلدي، 1413 هـ.
26 . إبراهيم بن عليّ، كفعمي، المصباح، انتشارات رضي، قم / 1405 هـ

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک