سوانح حیات امام زمان حضرت مہدی (عج)
سوانح حیات امام زمان حضرت مہدی (عج)؛
واحد وبگردی
ترجمہ: یوسف حسین عاقلی
از ازواج، اولاد، اصحاب اور یاران
پندرہ شعبان یومِ ولادت حضرت مہدی (عج) امام دوازدہم شیعیان ہے۔
ذیل میں ہم امام زمانہ حضرت مہدی (عج) کی سوانح حیات پر ایک نظر ڈالیں گے۔
پہلا سوال:
امام زمان حضرت مہدی (عج) کون ہیں؟
محمد بن حسن عسکری المعروف بہحجت بن الحسن(عج) آپ امام حسن عسکری (ع) کے واحد فرزنداور خلف صالح اورشیعیان علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے گیارہویں امام اور رہنما ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ نرجس خاتون ہے۔
شیعی عقیدے کے مطابق، حضرت مہدی (عج) بارہویں اور آخری امام اور آپ ہی منتظر مہدی و منجی موعود ہیں۔
آپ نے اپنے والد امام حسن عسکری (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد پانچ سال کی عمر میں امامت کا منصب سنبھالا۔
آپ طویل دورِ غیبت (جو غیبت کبری کے نام سے معروف ہے) کے بعد حکومتِ عدلِ جهانی قائم کر کے احکام الہی کو قرآن اور سنت نبوی کے عین مطابق تمام روئے زمین پر نافذ کریں گے۔
کنیت اور القابات امام زمان حضرت مہدی (عج)
کنیت:
آپ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی کنیت" ابو القاسم"
امام زمان (عج) کا نام اور کنیت دونوں حضور اکرم (ص) کے نام اور کنیت کے مطابق ہیں۔
روایات میں ہے کہ آپ (عج) کو نام و کنیت سے پکارنا مناسب بلکہ منع ہے یہاں تک کہ خُداوند آپ کے ظہور سے زمین کو زینت بخشے اور آپ کی حکومت کو ظاہر کرے۔
القابات:
آپ (عج)کے مشہور القابات میں سے: مہدی، خاتم، منتظر، حجت، صاحب الامر، صاحب الزمان، قائم، خلف صالح وغیرہ مشہور ہیں۔
شیعیان نے دورِ غیبت صغری میں آپ کو"ناحیہ مقدسہ" کا لقب دیا تھا۔ بعض مصادر میں امام زمان (عج) کیلئے 180 سے زائد القابات بیان ہوئے ہیں۔
ولادت امام زمان حضرت مہدی (عج)
امام زمان (عج)سحر گاہ پندرہ شعبان سن 255 ہجری کو، عباسی حکومت کے خاص کارندوں کی نگرانی کے باوجود، شہر مقدسِ سامرا میں امام عسکری (علیہ السلام) کے دولت سراء میں پیدا ہوئے۔
آپ کی ولادت باسعادت بھی حضرت موسیٰ (ع) اور حضرت ابراہیم خلیل (ع) کی ولادت سے مشابہ مخفی تھی۔ جس طرح ان دو پیغمبروں نے فرعونی اور نمرودی سخت نگرانی کے باوجود خدائی ارادے سے سلامت پیدائش پائی، اسی طرح حضرت مہدی (عج) بھی عباسی خلیفہ کے ناکام کارندوں اورجاسوسوں کی کڑی نگرانی کے باوجود مکمل امن و سلامتی کے ساتھ دنیا میں تشریف لائے۔
دورانِ حیات امام زمان حضرت مہدی (عج)
1- ولادت سے غیبت تک:
آپ نے تقریباً پانچ سال اپنے والد امام عسکری (ع) کی نیم مخفی سرپرستی میں گزارے۔ اس دوران امام عسکری (ع) نے بڑے اہم کاموں میں سے ایک یہ کیا کہ آپ (عج) کو شیعہ بزرگان سے متعارف کرایا تاکہ مستقبل میں امامت کے معاملے میں اختلاف پیدا نہ ہو۔
2- دورِ غیبت صغری:
امام حسن عسکری (ع) کی شہادت (260 ہجری) کے بعد یہ دور شروع ہوا اور 329 ہجری تک جاری رہا۔ اس دوران امام زمان (عج) نےچار نائبین ِ خاص کے ذریعے لوگوں کے امور چلائے۔
3- دورِ غیبت کبری:
یہ دور 329 ہجری سے شروع ہوا اور جب تک خُدا مصلحت جانے جاری رہے گا۔ اس دور میں مؤمنین کے سوالات اور احکام وغیرہ کا جواب دینانائبان عام کی ذمہ داری ہے اور آپ (عج) نے اس دور کیلئے کوئی نائب خاص مقرر نہیں فرمایا۔
4- دورِ حکومت:
ظہور کے بعد، امام زمان (عج) احکام اسلام کی بنیاد پر ایک عالمی حکومت قائم کریں گے جس کے سائے میں ساری دنیا عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔
سیمائے امام زمان حضرت مہدی (عج)
رسول اللہ (ص) اور ائمہ اطہار (ع) نے اپنے بیانات میں امام مہدی (عج) کی صفات بیان فرمائی ہیں۔
حضرت امام رضا (ع) آپ کی صورت اور اخلاقی صفات کے بارے میں فرماتے ہیں:
"قائم آل محمد (عج) کو نور کا ہالہ گھیرے ہوئے ہے۔ آپ کا چہرہ جوانوں جیسا، گال ہموار، ناب بلند، پیشانی کشادہ، رنگ سفید اور تاباں ہے۔ آپ کی صورت رسول اللہ (ص) سے سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ آپ کی خاص علامت یہ ہے کہ عمر میں طویل ہونے کے باوجود آپ جوان نظر آئیں گے، یہاں تک کہ دیکھنے والا کہے گا چالیس سال یا اس سے کم۔ آپ کی دوسری علامت یہ ہے کہ زمانے کی زیادتی کے باوجود آپ پر بڑھاپے کے آثار نظر نہیں آئیں گے۔"
ازواج اوراولاد امام زمان حضرت مہدی (عج)
حالیہ برسوں میں ایک نیا بحث چھڑی ہے جس کی سابقہ شیعہ کتب میں کوئی بنیاد نہیں ملتی، کہ آیا امام زمان (عج) کے دورِ غیبت اور حتیٰ کہ ظہور میں اہل خانہ (زوجہ و اولاد) ہیں یا نہیں۔
اس سلسلے میںتین آرا پائی جاتی ہیں:
موافقین جیسے علامہ مجلسی اور سید محمد صدر بنیادی طور پر بعض روایات اور دعاؤں کی طرف استناد کرتے ہیں جن میں امام زمان (عج) کی اولاد و ازواج کا ذکر ہے۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ جو شخص شادی کرتا ہے وہ ناشناس نہیں رہ سکتا، جبکہ امام کی غیبت کا ایک مقصد ناشناس رہنا ہے۔ نیز وہ ان روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو صراحتاً فرماتی ہیں کہ امام عصر (عج) کے دورِ غیبت و ظہور میں کوئی فرزند نہیں ہوگا۔
تیسری جماعت جیسے سید جعفر مرتضی عاملی اس مسئلے کو مشتبہ قرار دیتے ہیں اور اس بارے میں خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
چار خاص نائب
اصحاب اور یارانِ امام زمان حضرت مہدی (عج)، نوّاب اربعہ (غیبت صغری کے چار خاص نائب):
1- عثمان بن سعید عمری (وفات: 265 ہجری)
2- محمد بن عثمان عمری (وفات: 304 ہجری)
3- حسین بن روح نوبختی (وفات: 326 ہجری)
4- علی بن محمد سمری (وفات: 329 ہجری)
یہ چاروں امام زمان (عج) کےبراہ راست نائب تھے جو غیبت صغری کے دوران (260 تا 329 ہجری) تقریباً 70 سال تک شیعوں اور امام (عج) کے درمیان واسطہ رہے۔
یارانِ خاص ظہور:
ظہور کے وقت آپ (عج) کے313 اصحاب آپ سے ملحق ہوں گے اور لشکر امام زمان (عج) کا پہلا مرکز تشکیل دیں گے۔ ان کے علاوہ ہزاروں افراد دورِ غیبت میں بھی اس مقام پر فائز ہوئے ہیں جو دوسروں سے پوشیدہ ہیں۔
دورِ غیبت میں ملاقات کی سعادت پانے والے بعض مشہور افراد:
اسماعیل بن حسن هرقلى / سید محمد بن عباس جبل عاملى / سید عطوه علوى حسنى / امیراسحاق استرآبادى / ابوالحسین بن ابى بغل / شریف عمر بن حمزه / ابوراجح حمامى / شیخ حر عاملى / مقدس اردبیلى / محمد تقى مجلسى / میرزا محمد استرآبادى / علامه بحر العلوم / شیخ حسین آل رحیم / ابوالقاسم بن ابى جلیس / ابو عبداللَّه کندى / ابو عبداللَّه جنیدى / محمد بن محمد کلینى / محمد بن ابراهیم بن مهزیار / محمد بن اسحاق قمى / محمد بن شاذان نیشابورى
روایتِ معصوم (ع) دربارہ حکومتِ امام زمان (عج)
امام محمد باقر (ع) سے مروی ہے:
عَن أبی جعفر(ع) قال:القَائِمُ مِنَّا مَنْصُورٌ بِالرُّعْبِ، مُؤَيَّدٌ بِالنَّصْرِ، تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ، وَتَظْهَرُ لَهُ الْكُنُوزُ، وَيَبْلُغُ سُلْطَانُهُ الْمَشْرِقَ وَالْمَغْرِبَ، وَيُظْهِرُ اللَّهُ دِينَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ خَرَابٌ إِلَّا عُمِرَ، وَيَنْزِلُ رُوحُ اللَّهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيُصَلِّي خَلْفَهُ-
"ہم میں سے قائم (عج) رعب (دشمن کے دلوں میں خوف) کے ذریعے مدد کیے جائیں گے اور نصرتِ الٰہی سے تائید ہوں گے۔ زمین ان کیلئے سمیٹ دی جائے گی اور خزانے ان کیلئے ظاہر ہوں گے۔ ان کی حکومت مشرق و مغرب تک پھیل جائے گی۔ خُدا ان کے ذریعے اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کر دے گا، اگرچہ مشرک ناپسند کریں۔ زمین کی کوئی ویرانی باقی نہ رہے گی مگر یہ کہ آباد ہو جائے گی۔ اور روح اللہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے اور ان (امام مہدی) کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔"
حوالہ جات:
واحد وبگردی(سایت: rooziato.com)
بحارالانوار، ج51، ص30؛ کمال الدین، ج2، باب43؛ الغیبة (طوسی)، باب ذکر النواب؛ منتخب الأثر، باب سوم۔
)منهاج البراعة، ج 8، ص 353./ نوادر الأخبار فیما یتعلق بأصول الدین، جلد۱، صفحه۲۶۶(

