امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

آخری تین روز کے روزے کی فضیلت

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

ماہِ شعبان کے آخری ایام کے فضائل اور اعمال کے سلسلے میں معتبر احادیث سے رہنمائی ملتی ہے۔ ذیل میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے مروی ایک اہم روایت پیش ہے، جس میں ان ایام کی قدر و منزلت اور ان میں کیے جانے والے اعمال کی تفصیل بیان ہوئی ہے:

 ۱. آخری تین روز کے روزے کی فضیلت

امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے:
«مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ آخِرِ شَعْبَانَ وَ وَصَلَهَا بِشَهْرِ رَمَضَانَ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ صَوْمَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ»
ترجمہ: جو شخص شعبان کے آخری تین دن روزہ رکھے اور انہیں ماہِ رمضان سے ملا دے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دو مسلسل مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھ دیتا ہے۔

 ۲. جمعۃ الوداع کی ہدایات (ابوالصَّلْت ہروی کی روایت)

ابوالصَّلْت ہَروی کہتے ہیں: ماہِ شعبان کے آخری جمعہ کو میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:

«يَا أَبَا الصَّلْتِ، إِنَّ أَكْثَرَ شَعْبَانَ قَدْ مَضَىٰ، وَهٰذَا آخِرُ جُمُعَةٍ مِنْهُ، فَتَدَارَكْ فِيمَا بَقِيَ مِنْهُ تَقْصِيرَكَ فِيمَا مَضَىٰ مِنْهُ، وَعَلَيْكَ بِالْإِقْبَالِ عَلَىٰ مَا يَعْنِيكَ، وَتَرْكِ مَا لَا يَعْنِيكَ، وَأَكْثِرْ مِنَ الدُّعَاءِ وَالِاسْتِغْفَارِ، وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ، وَتُبْ إِلَى اللَّهِ مِنْ ذُنُوبِكَ، لِيُقْبِلَ شَهْرُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَأَنْتَ مُخْلِصٌ لِلَّهِ؛

ترجمہ: اے ابوالصَّلْت! شعبان کا بیشتر حصہ گزر چکا ہے اور یہ اس کا آخری جمعہ ہے۔ لہٰذا اب جو کچھ اس مہینے سے باقی رہ گیا ہے، اس میں اپنی کوتاہیوں کی تلافی کر لو۔ تمہیں چاہیے کہ ان کاموں کی طرف متوجہ ہو جو تیرے لیے نفع مند ہیں اور ان کاموں کو چھوڑ دے جو تیرے لیے مفید نہیں ہیں۔ کثرت سے دعا کرو، استغفار کرو، تلاوتِ قرآن کرو اور اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کرو، تاکہ جب ماہِ رمضان آئے تو تم خالصتاً اللہ کے لیے ہو جاؤ۔

وَلَا تَتْرُكَنَّ أَمَانَةً فِي عُنُقِكَ إِلَّا أَدَّيْتَهَا، وَلَا فِي قَلْبِكَ حِقْدًا عَلَىٰ مُؤْمِنٍ إِلَّا نَزَعْتَهُ، وَلَا ذَنْبًا أَنْتَ مُرْتَكِبُهُ إِلَّا أَقْلَعْتَ عَنْهُ، وَاتَّقِ اللَّهَ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ فِي سِرِّكَ وَعَلَانِيَتِكَ، فَإِنَّهُ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ.»

ترجمہ: اور کوئی امانت اپنے ذمے نہ چھوڑو مگر اسے ادا کر دو، اور کسی مومن کے لیے اپنے دل میں کینہ نہ رکھو مگر اسے نکال دو، اور کسی گناہ کو جس کا تم ارتکاب کر رہے ہو نہ چھوڑو مگر اسے ترک کر دو۔ اللہ سے ڈرو اور اپنے ہر پوشیدہ اور ظاہری معاملے میں اسی پر توکل کرو، کیونکہ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے، وہ (اللہ) اس کے لیے کافی ہے۔

 ۳. آخری ایام کی خاص دعا

امام رضا علیہ السلام نے مزید فرمایا کہ ان باقی ماندہ ایام میں یہ دعا کثرت سے پڑھو:

«اللّٰهُمَّ إِنْ لَمْ تَكُنْ غَفَرْتَ لَنَا فِيمَا مَضَىٰ مِنْ شَعْبَانَ، فَاغْفِرْ لَنَا فِيمَا بَقِيَ مِنْهُ.»
ترجمہ: اے اللہ! اگر تو نے ہمیں شعبان کے گزرے ہوئے حصے میں معاف نہیں کیا، تو اس کے باقی ماندہ حصے میں ہمیں معاف فرما دے۔

 ۴. شعبان کی برکت اور رمضان کی عظمت

آخر میں آپ علیہ السلام نے اس ماہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا:

«فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَىٰ يُعْتِقُ فِي هٰذَا الشَّهْرِ رِقَابًا كَثِيرَةً مِنَ النَّارِ، بِحُرْمَةِ شَهْرِ رَمَضَانَ.»
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ اس مہینے (شعبان) میں ماہِ رمضان کی حرمت کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرما دیتا ہے۔

متن کامل روایت:

عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ صَالِحٍ الْهَرَوِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا ع فِي آخِرِ جُمُعَةٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ لِي يَا أَبَا الصَّلْتِ إِنَّ شَعْبَانَ قَدْ مَضَى أَكْثَرُهُ وَ هَذَا آخِرُ جُمُعَةٍ مِنْهُ فَتَدَارَكْ فِيمَا بَقِيَ مِنْهُ تَقْصِيرَكَ فِيمَا مَضَى مِنْهُ وَ عَلَيْكَ بِالْإِقْبَالِ عَلَى مَا يَعْنِيكَ وَ تَرْكِ مَا لَا يَعْنِيكَ وَ أَكْثِرْ مِنَ الدُّعَاءِ وَ الِاسْتِغْفَارِ وَ تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَ تُبْ إِلَى اللَّهِ مِنْ ذُنُوبِكَ لِيُقْبِلَ شَهْرُ اللَّهِ إِلَيْكَ وَ أَنْتَ مُخْلِصٌ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لَا تَدَعَنَّ أَمَانَةً فِي عُنُقِكَ إِلَّا أَدَّيْتَهَا وَ لَا فِي قَلْبِكَ حِقْداً عَلَى مُؤْمِنٍ إِلَّا نَزَعْتَهُ وَ لَا ذَنْباً أَنْتَ مُرْتَكِبُهُ إِلَّا قَلَعْتَ عَنْهُ وَ اتَّقِ اللَّهَ وَ تَوَكَّلْ عَلَيْهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَ عَلَانِيَتِكَ وَ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدْراً وَ أَكْثِرْ مِنْ أَنْ تَقُولَ فِيمَا بَقِيَ مِنْ هَذَا الشَّهْرِ اللَّهُمَّ إِنْ لَمْ تَكُنْ قَدْ غَفَرْتَ لَنَا فِي مَا مَضَى مِنْ شَعْبَانَ فَاغْفِرْ لَنَا فِيمَا بَقِيَ مِنْهُ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى يُعْتِقُ فِي هَذَا الشَّهْرِ رِقَاباً مِنَ النَّارِ لِحُرْمَةِ شَهْرِ رَمَضَان‏.
منبع: عیون اخبار الرضا، جلد2، صفحه 51

عبدالسلام بن صالح ہروی کہتے ہیں: میں شعبان کے آخری جمعہ کو امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے ابا الصلت! شعبان کا بیشتر حصہ گزر چکا ہے اور یہ اس کا آخری جمعہ ہے، لہٰذا اس کے باقی ماندہ ایام میں اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کر لو جو گزشتہ ایام میں ہوئی ہیں۔ تمہیں چاہیے کہ ان کاموں کی طرف توجہ کرو جو تمہارے لیے اہم ہیں اور جو کام تمہارے لیے اہم نہیں ہیں انہیں چھوڑ دو۔ کثرت سے دعا کرو، استغفار کرو اور قرآن کی تلاوت کرو۔ اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کرو تاکہ ماہِ الٰہی (رمضان) تمہاری طرف اس حال میں آئے کہ تم اللہ عزوجل کے لیے مخلص ہو۔ کسی بھی امانت کو جو تمہارے ذمہ ہے، ادا کیے بغیر نہ چھوڑو اور نہ اپنے دل میں کسی مومن کے خلاف کینہ رکھو، بلکہ اسے نکال دو۔ اور کسی گناہ کو جس کا ارتکاب کر رہے ہو، اسے ترک کیے بغیر نہ رہو۔ اللہ سے ڈرو اور اپنے ہر پوشیدہ و ظاہری معاملے میں اسی پر توکل کرو۔ اور جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے، وہ اس کے لیے کافی ہے۔ یقیناً اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اس مہینے کی باقی ماندہ ایام میں کثرت سے یہ دعا پڑھو:

”اَللّٰهُمَّ إِنْ لَمْ تَكُنْ قَدْ غَفَرْتَ لَنَا فِیْمَا مَضَى مِنْ شَعْبَانَ فَاغْفِرْ لَنَا فِیْمَا بَقِيَ مِنْهُ“

(اے اللہ! اگر تو نے شعبان کے گزرے ہوئے ایام میں ہمیں معاف نہیں کیا تو اس کے باقی ماندہ ایام میں ہمیں معاف فرما دے)۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس مہینے میں ماہِ رمضان کے احترام کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتا ہے۔

لہٰذا ان قیمتی ایام کو غنیمت جانیے، کثرت سے استغفار، تلاوتِ قرآن، دعا، توبہ اور اصلاحِ احوال کا اہتمام کیجیے تاکہ ہم ماہِ رمضان کی عظیم برکات سے فیض یاب ہونے کے لیے تیار ہو سکیں۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک