خطبہ شعبانیہ
ماہِ شعبان کے آخری ایام رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نگاہ میں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
خُطْبَۃُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّمَ فِی آخِرِ شَعْبَانَ
عَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ، فَقَالَ:
«أَیُّهَا النَّاسُ! إِنَّہٗ قَدْ أَقْبَلَ إِلَیْکُمْ شَہْرُ اللہِ بِالْبَرَکَۃِ وَ الرَّحْمَۃِ وَ الْمَغْفِرَۃِ، شَہْرٌ ہُوَ عِنْدَ اللہِ أَفْضَلُ الشُّہُورِ، وَ أَیَّامُہٗ أَفْضَلُ الْأَیَّامِ، وَ لَیَالِیہِ أَفْضَلُ اللَّیَالِی، وَ سَاعَاتُہٗ أَفْضَلُ السَّاعَاتِ۔ ہُوَ شَہْرٌ دُعِیتُمْ فِیہِ إِلَی ضِیَافَۃِ اللہِ، وَ جُعِلْتُمْ فِیہِ مِنْ أَہْلِ کَرَامَۃِ اللہِ۔ أَنْفَاسُکُمْ فِیہِ تَسْبِیحٌ، وَ نَوْمُکُمْ فِیہِ عِبَادَۃٌ، وَ عَمَلُکُمْ فِیہِ مَقْبُولٌ، وَ دُعَاؤُکُمْ فِیہِ مُسْتَجَابٌ۔ فَسَلُوا اللہَ رَبَّکُمْ بِنِیَّاتٍ صَادِقَۃٍ، وَ قُلُوبٍ طَاہِرَۃٍ، أَنْ یُوَفِّقَکُمْ لِصِیَامِہٖ، وَ تِلَاوَۃِ کِتَابِہٖ۔ فَإِنَّ الشَّقِیَّ مَنْ حُرِمَ غُفْرَانَ اللہِ فِی ہَذَا الشَّہْرِ الْعَظِیمِ۔
وَ اذْکُرُوا بِجُوعِکُمْ وَ عَطَشِکُمْ فِیہِ جُوعَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَ عَطَشَہٗ۔ وَ تَصَدَّقُوا عَلَی فُقَرَائِکُمْ وَ مَسَاکِینِکُمْ، وَ وَقِّرُوا کِبَارَکُمْ، وَ ارْحَمُوا صِغَارَکُمْ، وَ صِلُوا أَرْحَامَکُمْ، وَ احْفَظُوا أَلْسِنَتَکُمْ، وَ غُضُّوا عَمَّا لَا یَحِلُّ النَّظَرُ إِلَیْہِ أَبْصَارَکُمْ، وَ عَمَّا لَا یَحِلُّ الِاسْتِمَاعُ إِلَیْہِ أَسْمَاعَکُمْ، وَ تَحَنَّنُوا عَلَی أَیْتَامِ النَّاسِ یُتَحَنَّنْ عَلَی أَیْتَامِکُمْ، وَ تُوبُوا إِلَی اللہِ مِنْ ذُنُوبِکُمْ۔ وَ ارْفَعُوا إِلَیْہِ أَیْدِیَکُمْ بِالدُّعَاءِ فِی أَوْقَاتِ صَلَاتِکُمْ، فَإِنَّہَا أَفْضَلُ السَّاعَاتِ، یَنْظُرُ اللہُ عَزَّ وَ جَلَّ فِیہَا بِالرَّحْمَۃِ إِلَی عِبَادِہٖ، یُجِیبُہُمْ إِذَا نَاجَوْہُ، وَ یُلَبِّیہِمْ إِذَا دَعَوْہُ، وَ یَسْتَجِیبُ لَہُمْ إِذَا نَادَوْہُ۔
أَیُّهَا النَّاسُ! إِنَّکُمْ فِی مَسْجُونِ أَعْمَالِکُمْ فَفُکُّوہَا بِالِاسْتِغْفَارِ۔ وَ ظُہُورُکُمْ ثَقِیلَۃٌ مِنْ أَوْزَارِکُمْ فَخَفِّفُوا عَنْہَا بِطُولِ سُجُودِکُمْ۔ وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللہَ تَعَالَی ذِکْرُہٗ قَدْ أَقْسَمَ بِعِزَّتِہٖ أَنْ لَا یُعَذِّبَ الْمُصَلِّینَ وَ السَّاجِدِینَ، وَ أَنْ لَا یُرَوِّعَہُمْ بِالنَّارِ یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ۔
أَیُّهَا النَّاسُ! مَنْ فَطَّرَ مِنْکُمْ صَائِماً مُؤْمِناً فِی ہَذَا الشَّہْرِ، کَانَ لَہٗ بِذَلِکَ عِنْدَ اللہِ ثَوَابُ عِتْقِ رَقَبَۃٍ وَ مَغْفِرَۃٌ لِمَا مَضَی مِنْ ذُنُوبِہٖ۔ قِیلَ: یَا رَسُولَ اللہِ! فَلَیْسَ کُلُّنَا یَقْدِرُ عَلَی ذَلِکَ۔ فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ: اتَّقُوا النَّارَ وَ لَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ، اتَّقُوا النَّارَ وَ لَوْ بِشَرْبَۃٍ مِنْ مَاءٍ۔
أَیُّهَا النَّاسُ! مَنْ حَسَّنَ مِنْکُمْ فِی ہَذَا الشَّہْرِ خُلُقَہٗ، کَانَ لَہٗ جَوَازٌ عَلَی الصِّرَاطِ یَوْمَ تَزِلُّ فِیہِ الْأَقْدَامُ۔ وَ مَنْ خَفَّفَ فِی ہَذَا الشَّہْرِ عَمَّا مَلَکَتْ یَمِینُہٗ، خَفَّفَ اللہُ عَلَیْہِ حِسَابَہٗ۔ وَ مَنْ کَفَّ فِیہِ شَرَّہٗ، کَفَّ اللہُ عَنْہُ غَضَبَہٗ یَوْمَ یَلْقَاہُ۔ وَ مَنْ أَکْرَمَ فِیہِ یَتِیماً، أَکْرَمَہُ اللہُ یَوْمَ یَلْقَاہُ۔ وَ مَنْ وَصَلَ فِیہِ رَحِمَہٗ، وَصَلَہُ اللہُ بِرَحْمَتِہٖ یَوْمَ یَلْقَاہُ۔
وَ مَنْ قَطَعَ فِیہِ رَحِمَہٗ، قَطَعَ اللہُ عَنْہُ رَحْمَتَہٗ یَوْمَ یَلْقَاہُ۔ وَ مَنْ تَطَوَّعَ فِیہِ بِصَلَاۃٍ، کَتَبَ اللہُ لَہٗ بَرَاءَۃً مِنَ النَّارِ۔ وَ مَنْ أَدَّی فِیہِ فَرْضاً، کَانَ لَہٗ ثَوَابُ مَنْ أَدَّی سَبْعِینَ فَرِیضَۃً فِیمَا سِوَاہُ مِنَ الشُّہُورِ۔ وَ مَنْ أَکْثَرَ فِیہِ مِنَ الصَّلَاۃِ عَلَیَّ، ثَقَّلَ اللہُ مِیزَانَہٗ یَوْمَ تَخِفُّ فِیہِ الْمَوَازِینُ۔ وَ مَنْ تَلَا فِیہِ آیَۃً مِنَ الْقُرْآنِ، کَانَ لَہٗ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فِی غَیْرِہٖ مِنَ الشُّہُورِ۔
أَیُّهَا النَّاسُ! إِنَّ أَبْوَابَ الْجِنَانِ فِی ہَذَا الشَّہْرِ مُفَتَّحَۃٌ، فَاسْأَلُوا رَبَّکُمْ أَنْ لَا یُغَلِّقَہَا عَلَیْکُمْ۔ وَ أَبْوَابَ النِّیرَانِ مُغَلَّقَۃٌ، فَاسْأَلُوا رَبَّکُمْ أَنْ لَا یَفْتَحَہَا عَلَیْکُمْ۔»
قَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عَلَیْہِ السَّلَامُ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللہِ! مَا أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فِی ہَذَا الشَّہْرِ؟ فَقَالَ: یَا أَبَا الْحَسَنِ! أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فِی ہَذَا الشَّہْرِ الْوَرَعُ عَنْ مَحَارِمِ اللہِ عَزَّ وَ جَلَّ۔ ثُمَّ بَکَی۔ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللہِ! مَا یُبْکِیکَ؟ فَقَالَ: یَا عَلِیُّ! لِمَا یُسْتَحَلُّ مِنْکَ فِی ہَذَا الشَّہْرِ۔ کَأَنِّی بِکَ وَ أَنْتَ تُصَلِّی لِرَبِّکَ، وَ قَدِ انْبَعَثَ أَشْقَی الْأَوَّلِینَ وَ الْآخِرِینَ، شَقِیقُ عَاقِرِ نَاقَۃِ ثَمُودَ، فَضَرَبَکَ ضَرْبَۃً عَلَی قَرْنِکَ، فَخَضَبَ مِنْہَا لِحْیَتَکَ۔
قَالَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عَلَیْہِ السَّلَامُ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللہِ! وَ ذَلِکَ فِی سَلَامَۃٍ مِنْ دِینِی؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فِی سَلَامَۃٍ مِنْ دِینِکَ۔ ثُمَّ قَالَ: یَا عَلِیُّ! مَنْ قَتَلَکَ فَقَدْ قَتَلَنِی، وَ مَنْ أَبْغَضَکَ فَقَدْ أَبْغَضَنِی، وَ مَنْ سَبَّکَ فَقَدْ سَبَّنِی، لِأَنَّکَ مِنِّی کَنَفْسِی، رُوحُکَ مِنْ رُوحِی، وَ طِینَتُکَ مِنْ طِینَتِی۔ إِنَّ اللہَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَنِی وَ إِیَّاکَ، وَ اصْطَفَانِی وَ إِیَّاکَ، وَ اخْتَارَنِی لِلنُّبُوَّۃِ وَ اخْتَارَکَ لِلْإِمَامَۃِ۔ فَمَنْ أَنْکَرَ إِمَامَتَکَ فَقَدْ أَنْکَرَ نُبُوَّتِی۔ یَا عَلِیُّ! أَنْتَ وَصِیِّی، وَ أَبُو وُلْدِی، وَ زَوْجُ ابْنَتِی، وَ خَلِیفَتِی عَلَی أُمَّتِی فِی حَیَاتِی وَ بَعْدَ مَوْتِی۔ أَمْرُکَ أَمْرِی، وَ نَہْیُکَ نَہْیِی۔ أُقْسِمُ بِالَّذِی بَعَثَنِی بِالنُّبُوَّۃِ وَ جَعَلَنِی خَیْرَ الْبَرِیَّۃِ، إِنَّکَ لَحُجَّۃُ اللہِ عَلَی خَلْقِہٖ، وَ أَمِینُہٗ عَلَی سِرِّہٖ، وَ خَلِیفَتُہٗ عَلَی عِبَادِہٖ۔»
اردو ترجمہ
امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک دن ہمارے درمیان خطبہ ارشاد فرمایا:
"اے لوگو! بے شک تمہارے پاس اللہ کا مہینہ برکت، رحمت اور مغفرت کے ساتھ آیا ہے۔ وہ مہینہ جو اللہ کے نزدیک تمام مہینوں سے افضل ہے، اس کے دن تمام دنوں سے افضل ہیں، اس کی راتیں تمام راتوں سے افضل ہیں، اور اس کی گھڑیاں تمام گھڑیوں سے افضل ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں تمہیں اللہ کی ضیافت کی طرف بلایا گیا ہے اور تمہیں اللہ کی کرامت والوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اس مہینے میں تمہاری سانسیں تسبیح ہیں، تمہارا سونا عبادت ہے، تمہارے اعمال مقبول ہیں اور تمہاری دعائیں قبول ہیں۔ پس تم اپنے رب اللہ سے سچی نیتوں اور پاکیزہ دلوں کے ساتھ سوال کرو کہ وہ تمہیں اس کے روزے رکھنے اور اس کی کتاب کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائے۔ بے شک بدبخت وہ ہے جو اس عظیم مہینے میں اللہ کی بخشش سے محروم رہ جائے۔
اور تم اس مہینے میں اپنی بھوک اور پیاس کے ذریعے قیامت کے دن کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو۔ اور اپنے فقیروں اور مسکینوں پر صدقہ کرو، اپنے بڑوں کی تعظیم کرو، چھوٹوں پر رحم کرو، اور صلہ رحمی کرو۔ اپنی زبانوں کی حفاظت کرو، اپنی نظروں کو ان چیزوں سے نیچا رکھو جن کی طرف دیکھنا حلال نہیں، اور اپنے کانوں کو ان باتوں سے بچاؤ جن کا سننا حلال نہیں۔ لوگوں کے یتیموں پر شفقت کرو تاکہ تمہارے یتیموں پر شفقت کی جائے۔ اور اللہ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ کرو۔ اور اپنے نمازوں کے اوقات میں دعا کے لیے اپنے ہاتھ اس کی طرف اٹھاؤ، کیونکہ یہ بہترین گھڑیاں ہیں، اللہ عز و جل ان گھڑیوں میں اپنے بندوں پر رحمت کی نگاہ فرماتا ہے، جب وہ اس سے مناجات کرتے ہیں تو انہیں جواب دیتا ہے، جب اسے پکارتے ہیں تو لبیک کہتا ہے، اور جب اسے بلاتے ہیں تو ان کی دعا قبول فرماتا ہے۔
اے لوگو! تم اپنے اعمال کی قید میں ہو، پس استغفار کے ذریعے اپنے آپ کو آزاد کرو۔ تمہاری پشت تمہارے گناہوں کے بوجھ سے بھاری ہے، پس لمبے سجدوں کے ذریعے اسے ہلکا کرو۔ اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ وہ نمازیوں اور سجدہ کرنے والوں کو عذاب نہیں دے گا اور نہ ہی اس دن انہیں آگ سے ڈرائے گا جب لوگ رب العالمین کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے۔
اے لوگو! تم میں سے جو کوئی اس مہینے میں کسی روزہ دار مومن کو افطار کرائے، تو اللہ کے نزدیک اس کے لیے ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب ہے اور اس کے گزشتہ گناہوں کی بخشش ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر کوئی اس پر قادر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: آگ سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی سہی، آگ سے بچو، خواہ پانی کے ایک گھونٹ کے ذریعے ہی سہی۔
اے لوگو! تم میں سے جو کوئی اس مہینے میں اپنے اخلاق کو بہتر بنائے گا، تو اس کے لیے صراط پر گزرنے کا پروانہ ہو گا جس دن قدم پھسلتے ہوں گے۔ اور جو کوئی اس مہینے میں اپنے ماتحت پر آسانی کرے گا، اللہ اس کے حساب میں آسانی فرمائے گا۔ اور جو کوئی اس میں اپنے شر کو روکے گا، اللہ اس سے اپنا غضب روک لے گا جس دن وہ اس سے ملے گا۔ اور جو کوئی اس میں کسی یتیم کی عزت کرے گا، اللہ اس کی عزت فرمائے گا جس دن وہ اس سے ملے گا۔ اور جو کوئی اس میں صلہ رحمی کرے گا، اللہ اسے اپنی رحمت سے جوڑ دے گا جس دن وہ اس سے ملے گا۔
اور جو کوئی اس میں قطع رحمی کرے گا، اللہ اس سے اپنی رحمت قطع کر دے گا جس دن وہ اس سے ملے گا۔ اور جو کوئی اس میں کوئی نفل نماز پڑھے گا، اللہ اس کے لیے آگ سے نجات کا پروانہ لکھ دے گا۔ اور جو کوئی اس میں کوئی فرض ادا کرے گا، تو اس کے لیے اس شخص کے برابر ثواب ہے جس نے اس کے علاوہ دوسرے مہینوں میں ستر فرائض ادا کیے ہوں۔ اور جو کوئی اس مہینے میں مجھ پر کثرت سے درود بھیجے گا، اللہ اس کے میزان (عمل) کو بھاری کر دے گا جس دن میزان ہلکے ہوں گے۔ اور جو کوئی اس مہینے میں قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرے گا، تو اس کے لیے اس شخص کے برابر اجر ہے جس نے دوسرے مہینوں میں پورا قرآن ختم کیا ہو۔
اے لوگو! بے شک اس مہینے میں جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، پس اپنے رب سے سوال کرو کہ وہ انہیں تم پر بند نہ کرے۔ اور جہنم کے دروازے بند ہیں، پس اپنے رب سے سوال کرو کہ وہ انہیں تم پر مسلط نہ کرے۔"
امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: میں اٹھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس مہینے میں سب سے افضل عمل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اے ابا الحسن! اس مہینے میں سب سے افضل عمل اللہ عز و جل کی حرام کردہ چیزوں سے بچنا ہے۔ پھر آپ رو پڑے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے علی! اس لیے کہ اس مہینے میں تیرے ساتھ کیا حلال (روا) سمجھا جائے گا۔ گویا میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ رہا ہے اور اولین و آخرین کا بدترین شخص، جو قوم ثمود کی اونٹنی کو کاٹنے والے کا بھائی ہے، اٹھے گا اور تیرے سر (کی پیشانی) پر ایک ضربت لگائے گا جس سے تیری داڑھی (خون سے) رنگین ہو جائے گی۔
امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس وقت میرا دین سلامت رہے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، تیرا دین سلامت ہو گا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے علی! جس نے تجھے قتل کیا، اس نے مجھے قتل کیا۔ جس نے تجھ سے دشمنی کی، اس نے مجھ سے دشمنی کی۔ اور جس نے تجھے گالی دی، اس نے مجھے گالی دی، کیونکہ تو مجھ سے ہے اور میری مانند ہے۔ تیری روح میری روح سے ہے اور تیری سرشت میری سرشت سے ہے۔ بے شک اللہ عز و جل نے مجھے اور تجھے پیدا کیا، مجھے اور تجھے منتخب فرمایا، مجھے نبوت کے لیے چنا اور تجھے امامت کے لیے چنا۔ پس جس نے تیری امامت کا انکار کیا، اس نے میری نبوت کا انکار کیا۔ اے علی! تو میرا وصی، میرے فرزندوں کا باپ، میری بیٹی کا خاوند، اور میری امت پر میرا جانشین ہے میری زندگی میں اور میرے بعد۔ تیرا حکم میرا حکم ہے اور تیری ممانعت میری ممانعت ہے۔ میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس نے مجھے نبوت پر مبعوث کیا اور مجھے تمام مخلوقات سے بہتر بنایا، بے شک تو اللہ کی حجت ہے اس کی مخلوق پر، اس کے راز کا امین ہے، اور اس کے بندوں پر اس کا خلیفہ ہے۔"
حوالہ جات:
1. سید ابن طاووس، الإقبال بالأعمال الحسنۃ، ج 1، ص 29۔
2. طبری آملی، بشارۃ المصطفیٰ لشیعۃ المرتضیٰ، ص 77۔
3. ملکی تبریزی، المراقبات (مراقبات ماہ مبارک رمضان)، ص 211۔

