قرآن میں امامت
-
- شائع
-
- مؤلف:
- مؤلف: الشيخ ابراہيم الاميني - مترجم: یوسف حسین عاقلی
- ذرائع:
- ماخوذاز: http://alhassanain.org/arabic/?com=content&id=7074
مؤلف: الشيخ ابراہيم الاميني
مترجم: یوسف حسین عاقلی
قرآن کریم میں امامت اور ائمہ کا ذکر متعدد مقامات پر ہوا ہے اور یہ تمام اپنے لغوی معنی کی طرف ہی لوٹتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ جب انسانوں کا ایک گروہ کسی فرد کی طرف اس طرح راغب ہو جائے کہ اسے اپنے لیے ایک مثال، نمونہ اور قائد بنا لے، تو وہ اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور اس کے راستے کی پیروی کرتے ہیں، قطع نظر اس کی حقیقت اور سمت کے.
قال تعالى:﴿ وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ ﴾ 1
اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے نیک عمل کی انجام دہی اور قیام نماز اور ادائیگی زکوٰۃ کے لیے ان کی طرف وحی کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے ۔
وقال تعالى:﴿ وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ﴾ 2
اور جو دعا کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں ہماری ازواج اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا دے۔
پس ہو سکتا ہے کہ وہ صالح ہوں اور ہو سکتا ہے کہ وہ شرپسند ظالم ہوں.
اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے درباریوں کے بارے میں فرمایا:
﴿ وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُنْصَرُونَ ﴾ 3.
اور ہم نے انہیں ایسے رہنما بنایا جو آتش کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
(از مترجم: وَ جَعَلنٰہُم: جب کسی ناقابل ہدایت انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے تو قرآن اس کے لیے یہ تعبیر اختیار فرماتا ہے: ” ہم نے اس کو گمراہ کیا۔ “ یہاں بھی یہی صورت ہے کہ فرعون لوگوں کو گمراہ کر کے جہنم کی طرف لے جانے کے لیے رہنما بنا ہوا ہے۔ اللہ نے رسولوں اور معجزوں کے ذریعے اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔
جب وہ نہیں مانا تو اللہ نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا اور اس کا حال یہ تھا کہ وہ لوگوں کو جہنم کی طرف لے جا رہا تھا۔ چونکہ فرعون کفر و سرکشی کی ایک روایت قائم کر گیا اس لیے جب تک اس روایت کا سلسلہ جاری رہے گا، اس پر لعنت کا تسلسل بھی قائم رہے گا۔(بلاغ القرآن))
وقال سبحانه:﴿ ... فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ ﴾ 4.
تو کفر کے اماموں سے جنگ کرو، کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں شاید وہ باز آجائیں۔
اور بسا اوقات کتاب بھی ایک ہدایت دینے والا امام بن جاتی ہے جیسا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس قول میں دیکھتے ہیں:
﴿ وَمِنْ قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً ... ﴾ 5.
اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت تھی
وقال تعالى:﴿ ... وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ ﴾ 6.
اور ہر چیز کو ہم نے ایک امام مبین میں جمع کر دیا ہے۔
اور قرآنی آیات سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ ہر انسانی گروہ، خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر، جب کسی فرد کی پیروی کرتا ہے اور اسے ایک ایسا نمونہ بناتا ہے جس کی سیرت، فکر اور نظریات کی وہ نمائندگی کرے، تو وہ اس کے لیے امام کہلاتا ہے، اور قیامت کے دن اسی کے ساتھ محشور کیا جائے گا، پس اگر وہ نیک ہوا تو اپنی قوم کو جنت کی طرف لے جائے گا، اور اگر وہ بدکار ہوا تو وہ خود کو اور اپنے پیروکاروں کو جہنم کی گہرائیوں میں گرا دے گا.
قال تعالى:﴿ يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَٰئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا * وَمَنْ كَانَ فِي هَٰذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًا ﴾ 7.
قیامت کے دن ہم ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے پھر جن کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا پس وہ اپنا نامہ اعمال پڑھیں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا۔
اور جو شخص اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ (اندھے سے بھی) زیادہ گمراہ ہو گا۔
اور پوری تاریخ میں انبیاء صالح ائمہ رہے ہیں، اور کفر کے لیڈر اور استکبار کے سرغنہ بدکار ائمہ رہے ہیں، اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس تاکید کے ساتھ کہ متقین اور صالحین کی امامت ان لوگوں کا نصیب نہیں ہوگی جو تقویٰ اور صلاح سے منحرف ہوئے اور ظالم تھے.
قال تعالى:﴿ وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ﴾ 8.
اور ( وہ وقت یاد رکھو)جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دکھایا، ارشاد ہوا : میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا: اور میری اولاد سے بھی؟ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔
اور یہ آیت کئی دلالتوں پر مشتمل ہے؛ جن میں سے:
مقام امامت کا حصول ذاتی استعداد اور اعلیٰ روحانی پاکیزگی کا متقاضی ہے، کیونکہ یہ ہر کس و ناکس کا نصیب نہیں ہو سکتا. اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے حاصل نہیں کیا مگر اس وقت جب انہوں نے اپنی بصیرت سے آسمانوں اور زمین کی ملکوت کو دیکھ لیا، اور یقین کے مرتبے تک پہنچ گئے، اور اللہ نے انہیں نمرود کی آگ، پھر اپنے بیٹے اسماعیل کی قربانی اور دیگر امتحانات کے ذریعے آزمایا جنہیں خلیل نے کامیابی سے عبور کیا یہاں تک کہ وہ امامت کے اہل ہو گئے تو اللہ نے انہیں اس پر فائز کر دیا.
یہ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ مقام امامت جناب ابراہیم کی شان میں نبوت سے بلند تر تھا کیونکہ یہ نبوت کے بعد بلکہ ان کے بڑھاپے میں ملی.
اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا وہ ابراہیم خلیل (علیہ السلام) سے متعلق ہے اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر امامت نبوت کے درجے سے بلند ہے؛ اس لیے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے درجات اور مراتب ہیں، پس بعض رسولوں کی نبوت دوسروں کی امامت سے بلند ہو سکتی ہے، اور یہ ممکن ہے کہ ہمارے سید محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کی امامت سے بلند تر ہو.
آیت سے یہ فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ ایک ایسی شخصیت میں امامت اور نبوت کا اجتماع ممکن ہے جو وحی کے ذریعے اللہ سے جڑی ہو اور اس سے کائنات کی حقیقتیں وصول کرے، اور لوگوں اور ائمہ کے ساتھ عمل کے میدان میں ایک نمونہ اور اسوہ کے طور پر جڑی ہو.
امامت کی شرائط میں سے امام کی شخصیت سے معاصی اور گناہوں کا زوال ہے، جسے اصطلاح میں عصمت کہا جاتا ہے، پس جو ظالم ہو وہ امامت کا اہل نہیں ہو سکتا.
ہمارے سید ابراہیم نے امامت کا درجہ نبی ہونے اور وحی، شریعت اور احکام الٰہی کے مبلغ ہونے کے بعد حاصل کیا، پھر اللہ نے انہیں امام منتخب کیا. اور یہاں سے ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے لیے مقام امامت ایک خاص ہدایت ہے جو انبیاء کی ہدایت سے مختلف ہے.
امامت ایک الٰہی عہد ہے جو نص سے ثابت ہوتا ہے، اور یہ انسانوں کے اختیارات اور ان کی آراء میں سے نہیں ہے.
قال تعالى:﴿ وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ ﴾ 9.
اور جب انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھے ہوئے تھے تو ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام بنایا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں۔
پس امامت ایک بلند درجہ ہے جو صلاح، اہلیت اور ذاتی قابلیت کا تقاضا کرتا ہے. پس جو کوئی امام بننا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ روحانی خلوص اور نفسیاتی پاکیزگی کے مراحل طے کرے. اور یہ آیت کریمہ اس موضوع کے بارے میں دو اشاروں پر مشتمل ہے:
پہلا: امامت کا حصول عظیم صبر اور الٰہی مصائب و آزمائشوں کے مقابلے میں بڑی ثابت قدمی، اور زندگی کے ہر حال اور تمام حالات میں ضبط نفس اور مکمل استقامت کے انتہائی درجات سے آراستہ ہونے کا تقاضا کرتا ہے.
دوسرا:اس کے لیے اعلیٰ درجے کے یقین اور گہرے ایمان کی ضرورت ہوتی ہے جس میں شہادت اور غیب کے عوالم ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں, پھر بصیرت اس طرح دیکھنے کے لیے کھل جاتی ہے جیسے بصارت اشیاء کو دیکھتی ہے, اور یہی وہ حقیقت ہے جسے اس آیت کریمہ نے بیان کیا ہے:
قال تعالى:﴿ وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ﴾ 10.11
اور اس طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا (نظام) حکومت دکھاتے تھے تاکہ وہ اہل یقین میں سے ہو جائیں۔
(از مترجم:۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کا ملکوتی نظارہ کرایا کہ یہ سب کس کی ملکیت ہے، ان پر کس کی حکومت ہے اور یہ کس کی کرشمہ سازی ہے؟ تاکہ وہ ایمان و ایقان کی اس منزل پر فائز ہو جائیں کہ آتش نمرود میں جاتے ہوئے جبرئیل امین جیسے مقتدر فرشتے کی مدد کو بھی ناقابل اعتنا سمجھیں۔ چنانچہ رسول اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کو بھی افق اعلیٰ کی سیر کرائی تاکہ عقل و مشاہدہ دونوں سے بالاتر مرتبۂ یقین پر فائز ہو جائیں۔
مَا کَذَبَ الفُؤَادُ مَا رَاٰی (بلاغ القرآن))۔
___________
1. القران الكريم: سورة الأنبياء (21), الآية: 73, الصفحة: 328.
2. القران الكريم: سورة الفرقان (25), الآية: 74, الصفحة: 366.
3. القران الكريم: سورة القصص (28), الآية: 41, الصفحة: 390.
4. القران الكريم: سورة التوبة (9), الآية: 12, الصفحة: 188.
5. القران الكريم: سورة الأحقاف (46), الآية: 12, الصفحة: 503.
6. القران الكريم: سورة يس (36), الآية: 12, الصفحة: 440.
7. القران الكريم: سورة الإسراء (17), الآية: 71 و 72, الصفحة: 289.
8. القران الكريم: سورة البقرة (2), الآية: 124, الصفحة: 19.
9. القران الكريم: سورة السجدة (32), الآية: 24, الصفحة: 417.
10. القران الكريم: سورة الأنعام (6), الآية: 75, الصفحة: 137.
11. من کتاب دراسة عامة في الامامة

