امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

شوہرکےلئے بیوی کو کب مارنا جائزہے؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

سوال:  
شوہرکےلئے بیوی کو کب مارنا جائزہے؟
جواب:  
مارنا جائز نہیں ہے۔ اور اگر مارنے سے جسم پر سرخی آ جائے تو شوہر گنہگار ہوگا اور اس پر دیت (خون بہا) ادا کرنا واجب ہوگی۔  
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:  
عن رسول الله (صلى الله عليه وآله) أنه قال: «فأي رجل لطم امرأته لطمة، أمر الله عز وجل مالك خازن النيران فيلطمه على حر وجهه سبعين لطمة في نار جهنم...».
"جو شخص بھی اپنی بیوی کو ایک تھپڑ مارے گا، تو اللہ عزوجل جہنم کے خزانچی مالک کو حکم دے گا کہ وہ اس کے چہرے پر جہنم کی آگ میں ستر تھپڑ مارے..."۔۱

پھر بیوی کو مارنا منفی اور سنگین اثرات مرتب کرتا ہے، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
۱- بیوی اپنے دل میں کینہ رکھ لیتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے شوہر کے مقابلے میں سرد مہر ہو جاتی ہے، اور یہ کینہ اس کے رشتہ داروں تک منتقل ہو سکتا ہے، اور یہ سلسلہ جھگڑوں اور نزاعات تک پہنچ سکتا ہے اور ممکن ہے قتل تک نوبت آ جائے۔
۲- انسانی اور اخلاقی اقدار جیسے عزت اور غیرت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
۳- یہ معاملہ عدالتوں تک جا سکتا ہے اور بدقسمت طلاق کی صورت میں ختم ہو سکتا ہے۔
۴- یہ بچوں کی تربیت پر منفی اثر ڈالتا ہے اور خاندانی رشتوں کے استحکام کو کمزور کرتا ہے۔
رہا قرآن کریم میں مارنے کی اجازت کا مسئلہ، تو یہ خاص حالات کے لیے ہے اور روایات نے اس کی کیفیت کو اس طریقے سے متعین کیا ہے جو بہت سے لوگوں کے گمان کے مطابق نہیں ہے۔
 پس یہاں مارنے کا تعلق خاص طور پر بیوی کی نشوز (سرکشی اور نافرمانی) کی حالت سے ہے (اور یہ ہر اس حالت پر لاگو نہیں ہوتا جس میں شوہر کسی بات پر غصے ہو جائے)۔
 اسلام نے شاید ایسی صورت میں اسے جائز قرار دیا ہے کیونکہ نشوز(سرکشی اور نافرمانی)  طلاق کا باعث بن سکتی ہے، اور طلاق مارنے سے زیادہ نقصان دہ اور انجام کے اعتبار سے بری ہے۔ اس کے باوجود، سخت مارنا جائز نہیں، بلکہ اس سے مقصد اصلاح کے لیے مارنا ہے، انتقام نہیں۔ 
اور بعض روایات نے اسے مسواک سے مارنے تک محدود کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس میں سے کم ترین سطح پر اکتفا کیا جائے۔
---
۱۔ جامع احادیث الشیعہ، سید حسین البروجردی، ج۲۰، ص۲۴۹۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک