نشوز کا کیا معنی ہے، اور ناشزہ کون ہے؟
نشوز کا کیا معنی ہے، اور ناشزہ کون ہے؟
لغت اور شرعی اصطلاح میں نشوز اور ناشزہ کے معانی:
نشوز: ازدواجی حقوق کی ادائیگی سے انکار کرنا۔
ناشزہ (جمع: نواشز): وہ بیوی جو اپنے شوہر کے خلاف سرکشی اور نافرمانی کرے اور اسے اس کا حق نہ دے۔
شریعت اسلامیہ میں نشوز کا حکم:
ناشزہ بیوی جب تک نشوز کی حالت میں رہے، نفقہ کی مستحق نہیں ہے۔ شوہر کے لیے جائز ہے کہ اگر وعظ و نصیحت اس پر اثر نہ کرے تو اسے ہجر (ترک تعلق) کرے، نیز اسے اتنا ہلکا مارنا جائز ہے کہ جس سے سرخی یا سیاہی نہ آتی ہو۔ اور اگر اس کی مار سے بیوی کے جسم پر سرخی یا سیاہی آجائے تو بیوی کو حق ہے کہ وہ اس سے دیت (خون بہا) کا مطالبہ کرے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
قال الله عز و جل : { الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا } ، ( سورة النساء : 34 ) .
"مرد عورتوں کے حاکم اور نگراں(قوّام) ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خد انے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انہوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے- پس نیک عورتیں وہی ہیں جو شوہروں کی اطاعت کرنےوالی اور ان کی غیبت میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں جن کی خدا نے حفاظت چاہی ہے اور جن عورتوں کی نافرمانی کا خطرہ ہے انہیں موعظہ کرو- انہیں خواب گاہ میں الگ کردو اور مارو اورپھر اطاعت کرنے لگیں تو کوئی زیادتی کی راہ تلاش نہ کرو کہ خدا بہت بلند اور بزرگ ہے۔"
تاہم یہاں اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ بیوی نشوز کی حالت میں ہونے کے باوجود اگر شوہر نے اس سے صحبت کی ہو تو وہ پورا مہر کی مستحق ہے، البتہ اگر شوہر نے صحبت نہ کی ہو اور اسے طلاق دے دے تو اسے آدھے مہر کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

