امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

کتابِ احتساب ناصبیت اور شیعہ عقیدہ

1 ووٹ دیں 05.0 / 5

کتاب ”احتساب ناصبیت“ کا شیعہ عقیدہ کی روشنی میں علمی و تحقیقی جائزہ
کاوش: یوسف حسین عاقلی

 اللہ وسایا کی تالیف شدہ کتاب ”احتساب ناصبیت“ کا شیعہ عقیدہ کی روشنی میں علمی و تحقیقی جائزہ کچھ نکات قابل غور ہیں:
 خلاصہ
زیر نظر تحریر میں" اللہ وسایا "صاحب کی تالیف شدہ بارہ جلدوں پر مشتمل کتاب ”احتساب ناصبیت“ کا شیعہ عقیدہ کی روشنی میں تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ان اعتراضات کے جوابات پر مشتمل ہے جو اہل بیت اطہار علیہم السلام اور صحابہ کرام کے فضائل و مناقب کے حوالے سے کیے جاتے ہیں۔ مقالے میں ناصبیت کے مفہوم، اس کے قرآنی و روائی مبانی، فقہی احکام، اور شیعہ علماء کے موقف کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس امر کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے کہ آیا یہ کتاب شیعہ عقائد کے مطابق ناصبیت کے خلاف ایک مؤثر علمی رد ہے یا نہیں، اور کیا اس کی بنیاد پر اللہ وسایا کے بارے میں غیر معمولی خوش بینی اختیار کرنا درست ہے۔
 مقدمہ
”احتساب ناصبیت“ظاہرا ایک علمی و تحقیقی مجموعہ ہے جو برصغیر کےبہت سے مشہور مفتی  اورقلم نگاروں کی تحریروں پر مشتمل ہے۔
 اس کا بنیادی مقصد اہل بیت اطہار علیہم السلام اور صحابہ کرام سے بغض و عداوت، ان کی فضیلت کے انکار یا تحریف کے حوالے سے کیے جانے والے اعتراضات کا علمی جائزہ پیش کرنا ہے۔
 اس کتاب  کو ترتیب دینے اور جمع کرنے والے صاحب " اللہ وسایا" ہیں، جو مکتب دیوبند سے تعلق رکھتے ہیں اور ختم نبوت کے حوالے سے بھی ان کی خدمات معروف ہیں۔
آج کل اس کتاب کے حوالے سے خاصی بحث جاری ہے۔ کتاب کی اشاعت کے بعد تکفیری و ناصبی آگ بگولا  نظر آتے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ تکفیری حلقوں کی طرف سے شدید اعتراضات اور واویلا اس بات کی علامت ہے کہ  یزید اورمعاویہ جیسے بعض نام و نہاد صحابہ کے بارے میں قائم تقدیسی تصور کیلئے یہ کتاب ایک فکری چیلنج بن گئی ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس بنیاد پر شیعہ حلقوں کو "اللہ وسایا "کے بارے میں غیر معمولی خوش بینی اختیار کرنی چاہیے؟
 اس تحریر میں اسی سوال کا تجزیہ پیش کرنے کی ایک ادنی کوشش کی ہے۔


 ناصبیت کا مفہوم: لغوی اور اصطلاحی پہلو
 لغوی معنی
”نصب“ کا لغوی معنی کسی چیز کو کھڑا کرنا یا نصب کرنا ہے، جیسے نیزہ کھڑا کرنا۔ یہ رنج و مشقت اور اظہار کے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ مشقت اور تھکن کے معنی میں آیا ہے:

”لقد لقینا من سفرنا هذا نصبا“

(ہم نے اس سفر میں بہت مشقت اٹھائی)۔


 اصطلاحی معنی
اصطلاح میں ”ناصبی“ کا اطلاق ایسے شخص پر ہوتا ہے جو علی علیہ السلام سے دشمنی رکھے یا اہل بیت علیہم السلام کے خلاف بغض و عناد کا اظہار کرے۔ شیعہ فقہاء نے ناصبی کی تعریف میں متعدد اقوال ذکر کیے ہیں:
1. علی علیہ السلام پر غیر کو مقدم کرنا: بعض فقہاء کے نزدیک ناصبی وہ ہے جو علی علیہ السلام پر کسی دوسرے کو مقدم کرے۔
2. شیعہ سے دشمنی: روایات میں آیا ہے کہ ناصبی وہ ہے جو شیعہ سے دشمنی کرے جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ اہل بیت کے چاہنے والے ہیں۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”ناصبی وہ نہیں جو ہم اہل بیت سے دشمنی کرے، کیونکہ تم ایسا کوئی شخص نہیں پاؤ گے جو کہے میں محمد اور آل محمد سے بغض رکھتا ہوں، بلکہ ناصبی وہ ہے جو تم سے دشمنی کرے جبکہ وہ جانتا ہو کہ تم ہماری ولایت رکھتے ہو“۔
3. اہل بیت سے مطلق دشمنی: بعض فقہاء ناصبی کو ہر اس شخص پر لاگو کرتے ہیں جو اہل بیت سے دشمنی رکھے۔
4. اہل بیت سے دشمنی کا اظہار: شہید ثانی لکھتے ہیں: ”ناصبی وہ ہے جو اہل بیت یا ان میں سے کسی ایک سے دشمنی کرے اور اس دشمنی کو صریحاً یا لازماً ظاہر کرے“۔
5. دشمنی کو دین بنانا: بعض فقہاء کے نزدیک ناصبی وہ ہے جو اہل بیت سے دشمنی کو اپنا دین قرار دے۔
علامہ حلی کی ”تذکرۃ الفقہاء“ میں ہے: ”ناصبی وہ ہے جو اہل بیت میں سے کسی سے بغض کا اظہار کرے، وہ نجس ہے، اور امام صادق علیہ السلام نے اسے یہود و نصاریٰ سے بھی بدتر قرار دیا ہے“۔
دو بنیادی سوالات
ناصبی کون ہے؟ نَصب کیا ہے؟
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام مبین کے تعارف اور معرفی کے بعد فرمایا: اے لوگو! امیرالمومنین سے جدا نہ ہو جاؤ، ان سے منہ نہ موڑو، اور ان کی ولایت قبول کرنے سے انکار نہ کرو! اسی مناسبت سے اس تحریر میں نَصب اور ناصبی کی تعریف اور اسلام میں نواصب کے حکم کا جائزہ لیتے ہیں:
مَعاشِرَ النّاسِ لاتَضِلُّوا عَنْهُ وَ لاتَنْفِرُوا مِنْهُ وَ لاتَسْتَنْكِفُوا عَنْ وِلایَتِهِ (خطبہ غدیر)
اے لوگو! اس سے گمراہ نہ ہو جاؤ، اس سے دور نہ بھاگو، اور اس کی ولایت سے انکار نہ کرو۔
ناصبی کے مصداق 
ناصبی کے مصداق کے بارے میں نظریات
یہ بحث اٹھائی جاتی ہے کہ امیرالمومنین کی ولایت سے منہ موڑنے کا کیا حکم ہے؟ اور ناصبی کس کو کہا جاتا ہے؟
مرحوم شیخ صدوق نے کہا ہے: تمام مخالفین نواصب نہیں ہیں، اور اگر کوئی انھیں ناصبی کہے تو وہ نادان ہے! ان کے شاگرد شیخ مفید نے کہا ہے: تمام مخالفین ناصبی ہیں، البتہ بعض کا خون بہانا حرام ہے، یعنی وہ لوگ جنھوں نے مخالفت کا پرچم بلند نہ کیا ہو اور اہل بیت کی بے حرمتی نہ کرتے ہوں۔
بعض نے جو تمام مخالفین کو نواصب میں شمار کیا ہے، انھوں نے کہا ہے: سب واجب القتل ہیں، اور اگر ان کا خون نہ بہایا جائے تو یہ تقیہ کی بنا پر ہے۔
اہل تسنن کے علماء کی نظر میں ناصبی
یہ بحث خود سنیوں کے درمیان بھی مطرح ہے اور اس پر بہت بحث ہوئی ہے!
صحیحہ ابن حماد اور نئی کتابوں میں جو انھوں نے لکھیں، اس بحث کو لایا گیا ہے، اور حتیٰ بعض نے کہا ہے: اہل بیت علیہم السلام سے سب سے چھوٹا انحراف بھی ناصبی ہونے کا مصداق ہے!(۱)
مجموعی روایات پر نظر ڈالنے سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک «نصب» ہے اور ایک «ناصبی»۔ اگر کوئی بے حرمتی کرے یا نااہل کو اہل بیت علیہم السلام پر مقدم کرے، تو اس نے نصب کیا ہے۔(۲)
لیکن «ناصبی» اسے کہتے ہیں جو علانیہ جنگ کا پرچم بلند کرے یا علانیہ اللہ کے اولیاء کو لعن کرے یا گالی دے؛ یقیناً ایسا شخص ناصبی کا سب سے واضح مصداق ہے۔(۳) اور اس کے مصداق کی تشخیص میں عرف کام آتا ہے۔
آج یہ لوگ ہمارے علاقے کے عرب ممالک میں موجود ہیں اور بآسانی شیعیان کو قتل کرتے ہیں اور شیعیان کے قتل کو ثواب سمجھتے ہیں! یہ عبدالرحمن بن ملجم کے نام سے مسجد بناتے ہیں۔
ناصبی کافر سے بھی بدتر ہے
اسلام کے احکام میں نواصب کا حکم کفار کے حکم سے بھی بدتر ہے! مثلاً کبھی کفار کے ساتھ کچھ نرمی کی گئی ہے کہ اگر وہ بھوک سے مر رہے ہوں تو انھیں پانی اور کھانا دو، لیکن نواصب کی معمولی سی بھی مدد حرام ہے۔(۴) ان سے شادی نہیں کی جا سکتی اور ان کا ذبیحہ نہیں کھایا جا سکتا!(۵) اور ان کی نیابت میں حج نہیں کیا جا سکتا مگر یہ کہ وہ باپ ہو۔
نواصب کا حکم کفار کے حکم سے بدتر ہے! مثلاً کبھی کفار کے ساتھ کچھ نرمی کی گئی ہے کہ اگر وہ بھوک سے مر رہے ہوں تو انھیں پانی اور کھانا دو، لیکن نواصب کی معمولی سی بھی مدد حرام ہے۔(۴) ان سے شادی نہیں کی جا سکتی اور ان کا ذبیحہ نہیں کھایا جا سکتا!(۵) اور ان کی نیابت میں حج نہیں کیا جا سکتا مگر یہ کہ وہ باپ ہو۔
جو امیرالمومنین سلام اللہ علیہ سے جنگ کرنے جائے، وہ یقیناً ناصبی کا سب سے واضح مصداق ہے اور حقیقت میں دین سے خارج ہے۔اگلی بات خطبہ غدیر کے تسلسل میں ہے جہاں پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: امیرالمومنین پہلے مومن اور پہلے مسلمان ہیں(۶)۔ جیسے کہ قرآنی آیات بھی ہے: 
"والسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ"(۷)

"و هذه الفضیلة لم تثبت لغیره من الصحابة فیکون هو الامام" (۸)
پس یہ صفت امیری المؤمنین علی علیہ السلام کے علاوہ کسی بھی میں بھی نہیں پائےجاتی ہے لہذا وہی امام ہے
 ناصبیت کے قرآنی مبانی
شیعہ مفسرین کے مطابق قرآن مجید میں متعدد آیات ناصبیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
 امام جواد علیہ السلام سے سورہ غاشیہ کی آیات

”وجوہ یومئذ خاشعۃ عاملة ناصبة“

کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
الجواد (علیه السلام)- عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَیْرٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ قَال سَأَلْتُ مُحَمَّدَ‌بْنَ‌عَلِیٍّ‌الرِّضَا (علیه السلام) عَنْ هَذِهِ الْآیَهْ وُجُوهٌ یَوْمَئِذٍ خاشِعَةٌ عامِلَةٌ ناصِبَةٌ قَالَ نَزَلَتْ فِی النُّصَّابِ وَ الزَّیْدِیَّهْ وَ الْوَاقِفِیَّهْ مِنَ النُّصَّابِ(۹)
 ”یہ آیات ناصبیوں، زیدیوں اور واقفیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں“۔
امام رضا علیہ السلام نے بھی زیدیہ، واقفہ اور ناصبیوں کو ایک ہی درجے میں قرار دیا ہے۔
اسی طرح امیرالمؤمنین علیہ السلام بھی فرماٹے ہیں:
أمیرالمؤمنین (علیه السلام)- کُلُّ نَاصِبٍ وَ إِنْ تَعَبَّدَ وَ اجْتَهَدَ مَنْسُوبٌ إِلَی هَذِهِ الْآیَهًِْ عامِلَةٌ ناصِبَة تَصْلی ناراً حامِیَةً کُلُّ نَاصِبٍ مُجْتَهِدٍ فَعَمَلُهُ هَبَاءٌ.
امام علی (علیہ السلام)- ہر ناصبی شخص چاہے کتنی ہی عبادت اور کوشش کیوں نہ کر لے, پھر بھی اس آیت کے زمرے میں آتا ہے: 
عامِلَةٌ ناصِبَةٌ* تَصْلی ناراً حامِیَةً;
 پس ہر سخت محنت کرنے والے ناصبی شخص کا عمل برباد ہے.
 ناصبیت کے فقہی احکام
شیعہ فقہ میں ناصبیوں کیلئے متعدد سخت احکام بیان کیے گئے ہیں۔ یہ احکام روایات اور فقہاء کی تصریحات سے مستفاد ہیں:
 1. کفر اور شرک
ناصبی کو کافر اور مشرک قرار دیا گیا ہے۔ شیخ طوسی کی ”الاستبصار“ میں ناصبی کے کافر ہونے کا ذکر ہے۔ شیخ صدوق کی ”کمال الدین“ میں ناصبی کو مشرک کہا گیا ہے۔
 2. نجاست
علامہ حلی کی ”تذکرۃ الفقہاء“ میں ناصبی کی نجاست کا ذکر ہے۔ البتہ بعض محققین کے مطابق ناصبی کی نجاست سے مراد ”باطنی خیانت“ ہے، نہ کہ ظاہری نجاست۔
 3. مہدور الدم ہونا: علامہ شیخ کلینی کی ”کافی“ میں ناصبی کے مہدور الدم ہونے کا ذکر ہے۔
 4. نکاح کی حرمت: ناصبی سے نکاح کرنا حرام ہے۔ محقق حلی ”شرائع الاسلام“ میں لکھتے ہیں: ”ناصبی سے نکاح صحیح نہیں جو اہل بیت سے دشمنی کا اعلان کرے“۔
 5. ذبیحہ اور شکار کی حرمت: ناصبی کا ذبیحہ اور شکار حلال نہیں۔
 6. نماز میں اقتدا کی حرمت: ناصبی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں۔
 7. صدقہ اور فطرہ کی حرمت : ناصبی کو صدقہ اور فطرہ دینا جائز نہیں۔
 8. نیابت حج کی حرمت : ناصبی کی طرف سے نیابت حج کرنا جائز نہیں۔
 9. میراث سے محرومی : ناصبی مسلمان سے وراثت نہیں پاتا۔
 10. جنازے کی نماز کا ترک : ناصبی کے جنازے پر نماز میت نہیں پڑھی جائے گی۔
یہ احکام ناصبیت کی شدت اور اس کے خطرناک ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، شیعہ فقہاء نے واضح کیا ہے کہ ہر مخالف کو ناصبی نہیں کہا جا سکتا۔”نادان لوگ ہر مخالف کو ناصبی سمجھتے ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہے“۔
 اہل سنت اور ناصبیت: شیعہ علماء کا موقف
شیعہ فقہاء کی اکثریت کے مطابق، اہل سنت جو اہل بیت علیہم السلام سے دشمنی نہیں رکھتے، ناصبی نہیں ہیں۔ وکی شائع میں صراحت ہے: ”شیعہ فقہاء کی اکثریت ناصبیوں کی تعریف میں کہتی ہے کہ وہ وہ لوگ ہیں جو اہل بیت سے دشمنی رکھتے ہیں اور اسے علانیہ ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا، ان کے نزدیک وہ سنی مسلمان جو اہل بیت سے دشمنی نہیں رکھتے، ناصبی شمار نہیں ہوتے“۔
علامہ بحرانی کے ایک قول کے مطابق، علی علیہ السلام پر غیر کو امامت میں مقدم کرنے والے ناصبی ہیں، لیکن صاحب جواہر نے اس نظریے کو شیعہ عمل کے خلاف قرار دیا ہے اور اس روایت کے سند اور دلالت پر شک ظاہر کیا ہے۔
”تبیان“ کے ایک مضمون میں واضح کیا گیا ہے: ”ناصبی سے مراد وہ شخص ہے جو اہل بیت سے دشمنی رکھے یا انہیں گالی دے۔ شیعیان اہل سنت کو ہرگز ناصبی نہیں سمجھتے کیونکہ وہ بھی اہل بیت سے محبت رکھتے ہیں اور آل محمد کے دشمنوں کو کافر سمجھتے ہیں“۔
 ”احتساب ناصبیت“ کا شیعہ عقائد کے تناظر میں جائزہ
 مثبت پہلو
”احتساب ناصبیت“ کا بنیادی موضوع یعنی ناصبیت کے خلاف علمی رد، شیعہ عقائد کے عین مطابق ہے۔ شیعہ عقیدہ میں ناصبیت ایک مذموم اور مردود نظریہ ہے جس کے خلاف علماء نے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔ اس کتاب میں  ایک اہم موضوع یزید کی شخصیت، واقعہ کربلا کے پس منظر، خلافت معاویہ و یزید، اور فتنہ خارجیت جیسے موضوعات پر بحث کی گئی ہے، جو شیعہ نقطہ نظر سے اہم ہیں۔
اللہ وسایا نے اپنے مکتب کے اکابر علماء کی ان تحریروں، کتابوں اور تاریخی بیانات کو یکجا کیا ہے جن میں معاویہ کے بارے میں دینی موقف اور اس عہد کے بعض اہم واقعات پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب ایک قابل توجہ علمی خدمت ہے۔
بعض تکفیری حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اللہ وسایا نے اپنے مکتب کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ہے، لیکن حقیقت میں انہوں نے کوئی نیا عقیدتی موقف پیش نہیں کیا، بلکہ اپنے ہی مکتب کے اکابر کی کتابوں اور تحریروں میں موجود مواد کو جمع کرکے سامنے رکھا ہے۔ اس لئے اگر یہ مواد ان کیلئے ناقابلِ قبول ہے تو اصل سوال اللہ وسایا سے زیادہ ان اکابر کے مواقف کا ہے جن سے یہ مواد نقل کیا گیا ہے۔
 محدود پہلو
تاہم، اس کتاب کا شیعہ عقائد کے تناظر میں جائزہ لیتے وقت چند نکات قابل غور ہیں:
1. منہج کا فرق: یہ کتاب بنیادی طور پر اہل سنت (خصوصاً دیوبند مکتب) کے اندرونی مباحث کا نتیجہ ہے۔ اس میں ناصبیت کا رد اہل سنت کے فریم ورک میں کیا گیا ہے، نہ کہ شیعہ عقائد کی تشریح کے طور پر۔
2. ناصبی کی تعریف میں فرق: شیعہ فقہاء کی اکثریت کے مطابق ناصبی وہ ہے جو اہل بیت سے علانیہ دشمنی رکھے۔ لیکن اس کتاب میں ناصبیت کے مصادیق میں توسیع کی گئی ہے، جس سے بعض اہل سنت بھی اس زمرے میں آ جاتے ہیں۔
3. صحابہ کے بارے میں موقف: شیعہ عقیدہ میں تمام صحابہ معصوم نہیں ہیں، بلکہ ان میں عادل اور غیر عادل کی تمیز کی جاتی ہے۔ اس کتاب میں صحابہ کے بارے میں جو موقف اختیار کیا گیا ہے، وہ شیعہ نقطہ نظر سے مختلف ہے۔
4. یزید کی تکفیر: شیعہ علماء یزید کو کافر اور ملعون سمجھتے ہیں۔ اس کتاب میں یزید کے بارے میں ”مسلک اعتدال“ کی بات کی گئی ہے، جو شیعہ عقیدے سے متصادم ہے۔
5. شیعہ کے کفر کا موقف: اللہ وسایا متعدد مواقع پر شیعہ کے کفر کے موقف کو تسلیم کر چکے ہیں؛ اس لئے صرف اس کتاب کی بنیاد پر ان سے شیعہ فکر کی طرف غیر معمولی فکری قربت کی توقع رکھنا درست نہیں۔ جو شخص بنیادی اعتقادی سطح پر شیعہ کو اپنے سے خارج سمجھتا ہے، وہ ہمارے فکری دائرے کا فرد نہیں ہو جاتا۔
 معاویہ کا کردار اور تاریخی شواہد
معاویہ کا سیاسی کردار، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے عہد میں ان کے ساتھ جنگ صفین، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے قتل میں شرکت، حضرت عمار یاسر رضوان اللہ علیہ کے قتل اور دیگر جلیل القدر صحابہ کے واقعات کے بارے میں تاریخی و حدیثی مواد اتنا وسیع ہے کہ اللہ وسایا کی کتاب میں نقل شدہ مواد اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔
خصوصاً حضرت عمار یاسر رضوان اللہ علیہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی روایت کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، وہ انہیں جنت کی طرف بلائیں گے اور وہ عمار کو جہنم کی طرف بلائیں گے، اس بحث میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے واضح شواہد کے باوجود اگر کسی شخصیت کے بارے میں ایسا تقدیسی تصور قائم کر لیا جائے جو تاریخ و حدیث کے متعدد شواہد سے متصادم ہو، تو علمی دیانت کا تقاضا اپنے تصور پر نظرِ ثانی ہے، نہ کہ روایات کو نظریاتی مفاد کے مطابق ڈھالنا۔
اسی طرح قرآن مجید اہل بیت علیہم السلام کی محبت، مودت، طہارت اور منزلت کو واضح کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی سیرت و احادیث اس نسبت کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ ایسے میں ایک طرف اہل بیت علیہم السلام سے محبت کا دعویٰ اور دوسری طرف ایسی شخصیت سے غیر معمولی قلبی وابستگی جس کا سیاسی کردار اہل بیت علیہم السلام کی تاریخ کے سنگین واقعات سے وابستہ ہے، ایک بنیادی فکری سوال پیدا کرتا ہے: کیا ان دونوں نسبتوں کو ایک ہی اعتقادی و اخلاقی سطح پر جمع کیا جا سکتا ہے؟ عقلِ سلیم اس سوال کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔
 علم کے بارے میں بنیادی اصول
یہاں علم کے بارے میں بھی ایک بنیادی اصول سامنے رہنا چاہیے کہ کسی شخص کا بڑا عالم ہونا اس امر کی ضمانت نہیں کہ اس کے تمام تاریخی و کلامی نتائج درست ہوں گے۔ جب علم تعصب، گروہی وابستگی یا سیاسی تقدیس کا محافظ بن جائے تو وہ حقیقت تک پہنچنے کے بجائے تعصب کیلئے استدلال فراہم کرنے لگتا ہے۔ اصل معیار دلیل، تاریخی شواہد اور استدلال کی صحت ہے۔
اسی اصول کے تحت" اللہ وسایا" کی کتاب کا علمی پہلو قابلِ قدر ہے کہ انہوں نے اپنے مکتب کے اکابر کی ایسی تحریریں سامنے رکھی ہیں جن سے معاویہ کے بارے میں قائم تقدیسی تصور پر سوال اٹھتا ہے؛ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ انہوں نے شیعہ موقف اختیار کر لیا ہے یا اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں ان کی مجموعی فکری پوزیشن تبدیل ہوگئی ہے۔ کسی ایک تاریخی شخصیت پر تنقیدی کتاب پیش کرنا کسی شخص کے پورے مذہبی، کلامی اور سیاسی موقف کی تبدیلی کا ثبوت نہیں۔
 شیعہ حلقوں کیلئے توازن کی ضرورت
اس کا ایک قرینہ خود ان کے مخالفین کا رویہ بھی ہے۔ اگر اللہ وسایا نے واقعی شیعہ مکتبِ فکر کے بنیادی موقف کی تائید کی ہوتی تو اعتراضات کا دائرہ کہیں زیادہ وسیع ہوتا۔ موجودہ اعتراضات کا مرکزی محور معاویہ کے بارے میں تاریخی مواد پیش کرنا ہے۔
زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ "اللہ وسایا" اپنے ہی مذہبی دائرے کے اندر موجود تاریخی تعارضات کو اپنے مصادر کی مدد سے قابلِ فہم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک سنی طالب علم جب ایک طرف معاویہ کا تقدیسی بیانیہ پڑھتا ہے اور دوسری طرف اپنے ہی مصادر میں اس کے برخلاف حدیثی و تاریخی مواد دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے۔
 اپنے ہی مصادر سے اس تعارض کو سامنے لانے والی کوئی علمی کاوش اہل سنت کے داخلی فکری اضطراب کو کم کر سکتی ہے۔ اس اعتبار سے ”احتسابِ ناصبیت“ ایک قابلِ توجہ علمی خدمت ہے، مگر اسے شیعہ فکر کی طرف نظریاتی پیش قدمی قرار دینا درست نہیں۔
لہٰذا شیعہ حلقوں کو اس کتاب کو نہ نظر انداز کرنا چاہیے، نہ اس کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا چاہیے اور نہ اس کے مصنف کے بارے میں ایسی خوش فہمی پیدا کرنی چاہیے جس کی علمی بنیاد موجود نہ ہو۔ ان کے علمی اقدام کا احترام اپنی جگہ، ان کے پیش کردہ تاریخی مواد کا سنجیدہ مطالعہ اپنی جگہ؛ مگر اس سے ان کے مجموعی مذہبی و کلامی موقف کی تائید لازم نہیں آتی۔
علمی احترام اپنی جگہ، فکری موافقت اپنی جگہ؛ تاریخی اعتراف اپنی جگہ، اعتقادی اعتماد اپنی جگہ۔ یہی توازن ”احتسابِ ناصبیت“ اور اللہ وسایا دونوں کو سمجھنے میں ضروری ہے۔ یہ کتاب قابلِ مطالعہ اور قابلِ بحث ہے، مگر معاویہ کے بارے میں موجود وسیع تاریخی و حدیثی ذخیرے کے مقابلے میں اسے فیصلہ کن انکشاف قرار دینا یا اس کی بنیاد پر اللہ وسایا کے بارے میں غیر معمولی خوش فہمی پیدا کرنا، دونوں علمی تناسب کے خلاف ہیں۔
 شیعہ علماء کی ناصبیت کے خلاف تحریریں
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ناصبیت کے خلاف علمی رد صرف اس کتاب تک محدود نہیں ہے۔ شیعہ علماءکرام نے بھی ناصبیت کے خلاف مستقل تحریریں کی ہیں۔ 
علامہ امینی کی ”الغدیر“، سید شرف الدین کی ”المراجعات“، اور علامہ عسکری کی ”عبداللہ بن سبا“ جیسی کتب ناصبیت کے فکری رد میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
 نتیجہ
”احتساب ناصبیت“ ایک علمی و تحقیقی مجموعہ ہے جو ناصبیت کے خلاف رد پر مشتمل ہے۔ شیعہ عقائد کے تناظر میں اس کتاب کی اہمیت محدود ہے کیونکہ:
1. یہ کتاب شیعہ مکتب فکر سے تعلق نہیں رکھتی اور نہ اس کا منہج شیعہ کلامی فریم ورک کے مطابق ہے۔
2. ناصبی کی تعریف اور مصادیق میں شیعہ فقہاء سے اختلاف ہے۔
3. یزید اور صحابہ کے بارے میں اس کا موقف شیعہ عقائد سے متصادم ہے۔
4. اللہ وسایا کا مجموعی مذہبی و کلامی موقف شیعہ عقائد کے مطابق نہیں ہے۔
تاہم، ناصبیت کے خلاف علمی رد کے طور پر اس کتاب کی کوشش قابل ستائش ہے، لیکن یہ شیعہ عقائد کی مکمل نمائندگی نہیں کرتی۔ شیعہ نقطہ نظر سے ناصبیت کا رد کرنے کیلئے شیعہ مصادر اور کلامی فریم ورک کے مطابق تحریروں کی ضرورت ہے۔
ناصبیت کے خلاف جدوجہد ایک مشترکہ دینی ذمہ داری ہے، جس میں تمام مکاتب فکر کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاہم، یہ کام علمی، تحقیقی اور متوازن اسلوب میں ہونا چاہیے، نہ کہ جذباتی اور تکفیری انداز میں۔
واللہ المؤفق
حواشی:
(۱) معاصرین میں سے جو اس نظریے کے حامل تھے ان میں حسن بن فرحان مالکی (سعودی عرب کے پیروکار) کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔
(۲) بحارالانوار ج۲ ص ۔۔۔ اور بحارالانوار ج۸ ص۵۶ اور ج۲۷ ص۲۳۴ حدیث۴۶۳۰۴
(۳) بحارالانوار ج۸ ص۵۶
(۴) بحارالانوار ج۲۷ ص۲۳۳
(۵) بحارالانوار ج۶۳ ص۲۵ حدیث۲۲
(۶) ابن ابی‌الحدید، عبدالحمید، شرح نهج‌البلاغه، ج۱۳، ص۲۲۴
(۷)واقعه/سوره۵۶، آیه۱۰
(۸)حلی، حسن بن یوسف، منهاج الکرامة، ص۱۲۹
(۹)تفسیر اهل بیت علیهم السلام ج۱۸، ص۶۶ بحارالأنوار، ج۶۹، ص۱۸۰/ بحارالأنوار، ج۴۸، ص۲۶۷/ رجال الکشی، ص۲۲۹/ رجال الکشی، ص۴۶۰/ البرهان
 (۱۰)تفسیر اهل بیت علیهم السلام ج۱۸، ص۶۶ بحارالأنوار، ج۷، ص۲۰۳؛ فیه: «کل ناصب مجتهد فعمله هباء» محذوف/ بحارالأنوار، ج۸، ص۳۵۶/ ثواب الأعمال، ص۲۰۷/فرات الکوفی، ص۵۴۹/ البرهان/ نورالثقلین

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک