امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

مقالے

فاطمہ زھرا(سلام اللّہ علیھا)
حضرت فاطمۃ الزہرا ؑ بطور نمونہ عمل

حضرت فاطمۃ الزہرا ؑ بطور نمونہ عمل

خلاصہ کمال کا حصول ہر انسان کا فطری حق ہے،جب انسان فطرت کے تقاضوں کے مطابق کمال کے حصول کی جستجو کرتا ہے تو پورا نظامِ فطرت یعنی نظام کائنات اس کی مدد کرتا ہے۔ اس دنیا میں ہر مادی انسان  کے لئے ضروری ہے کہ کو ئی الٰہی ہادی  اس کو کمال کی طرف لے جائے۔ انسان کسی پتھر کی طرح نہیں ہے کہ کوئی دوسرا اسے اٹھا کر بلندی، معراج یا کمال کے مقام پر رکھ دے،  بلکہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ارادے اور اختیار کے ساتھ اپنے نمونہ عمل یعنی اپنے ہادی کو پہچانے، اس کی معرفت کے ساتھ اس کی اتباع کرے اور جب انسان صحیح اور کامل ہادی کی اتباع کرتا جائے گا تو وہ خود بخود کمال کی منازل کو طے کرتا جائے  گا۔ خداوند عالم نے جن شخصیات کو بنی نوع انسان کے لئے نمونہ عمل اور رول ماڈل بنا کر خلق کیا ہے ، ان میں سے ایک ہستی حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیھا کی بھی ہے۔آج کے اس پر آشوب دور میں ضروری ہے کہ اس شخصیت کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی جائے  تا کہ اولادِ آدم آپ کی سیرت کو بطریقِ احسن سمجھ کر اس پر عمل کر کے مادی و معنوی کمالات کو حاصل کرسکے۔ بصورت دیگر کوئی شخصیت کتنی ہی جامع کیوں نہ ہو اگر اس کی سیرت پر عمل نہ کیاجائے تو معاشرے کو اس سے  جو فائدہ پہنچنا چاہیے وہ نہیں پہنچ پاتا۔اگر ہم اپنے معاشرے کو انسانیت کی بلندیوں اور ملکوت کے اعلی درجات پر دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ آج بھی ممکن ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم  خود بھی حضرت فاطمۃ لزہرا ؑ کی عملی شخصیت اور حقیقی فضائل  سے آگاہ ہوں اور اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی اس معظمہ بی بی ؑ کی سیرت و کردار سے متعارف کروائیں۔

فاطمہ زھرا(سلام اللّہ علیھا)
ولایت کے دفاع میں فاطمہ زہراء  کا کردار

ولایت کے دفاع میں فاطمہ زہراء کا کردار

مقدمه:           امامت وولایت  اسلام کے مہم ترین مسائل میں سے ایک ہے۔  اور اس موضوع پر بہت زیادہ مناظرات ہو چکے ہیں،حتی متکلین کہتے ہیں کہ جتنی اس مسئلہ میں تلوار چلی ہیں کسی اور مسئلہ میں نہیں چلی ما سل فی اسلام سیف کما سل فی الولایه ۔اور یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اکثر فرق اسلامی اسی مسئلہ میں اختلاف کی وجہ سے دجود میں آئے ہیں.

متن احادیث
چھل حدیث روزہ

چھل حدیث روزہ

قال الله تبارك و تعالى: يا ايها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون. خدا وند عالم فرماتے ہیں : اے ایمان والو! تم پر روزے کا حکم لکھ دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر لکھ دیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ سوره بقره آيه 183

گوشہ خاندان اوراطفال
عائلی نظام زندگی کے رہنما اصول سیرت سیدہ کونین سلام اللہ علیہا کی روشنی میں

عائلی نظام زندگی کے رہنما اصول سیرت سیدہ کونین سلام اللہ علیہا کی روشنی میں"

مقدمہ :   یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان اپنی زندگی بسر کرنے کیلے سماجی تعلقات کے محتاج ہےانسان اپنے وجود، پرورش، تعلیم ، صحت غرضیکہ زندگی کے تمام معاملات میں  قدم بقدم دم مرگ تک جہاں اپنے خالق کائنات کی خاص عنایتوں  کے مرہون منت ہے وہاں ایکدوسرے کیساتھ سماجی تفاعل  کا احتیاج بھی رکھتا ہے، انسان بطور سماجی رکن اپنے وجود کے فورا بعد جس معاشرتی ادارے کا محتاج ہوتا ہے وہ  ادارہ "  خاندان "  کہلاتا ہے 

رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
  جنگوں میں پیامبراکرم(ص)کی سیرت

جنگوں میں پیامبراکرم(ص)کی سیرت

مقدمہ انبیائ علیہم السلام کی بعثت کامقصدتعلیم وتربیت اور بنی نوع انسان کی سعادت کی طررف رہنماِئی کرنا ہے۔خداوندمتعال نے دین اسلام کو اپنی طرف سے واقعی دین (۱) اور پیامبراعظم (ص)کو آخری پیامبر(۲)اورقرآن مجید کو آخری آسمانی کتاب کے طور پر منتخب کیا(۳) اور پیامبر اکرم (ص) کو تمام انسانوں کے لیے نمونہ قرار دیا۔

نبوت
اہداف بعثت انبیاء

اہداف بعثت انبیاء

ہدایت تشریعی   قانونی طور پر نبوت کا مسئلہ انسان کی خلقت کے وقت سے ہی پا یا جاتا ہے اور انسان کی زندگی کی بنیاد اس دنیا میں ہدایت تشریعی کی بنا ‌‏‌‍ پر رکھی گئ ہے اس مطلب کو مانتے ہوے کہ انسان کو اس دنیا میں خلق کرنے کا مقصد اور ہدف واضح ہے جب ہم نے جان لیا کہ اس انسان کو عالم مادہ میں وجود ملا ہے تو یہ راستہ بھی اسکے اختیار میں ہے

متفرق مقالات
انسانی تربیت کی اہمیت اور آداب

انسانی تربیت کی اہمیت اور آداب

   دنیا میں کوئی بھی دین یا مکتبِ فکر اس وقت موضوعِ بحث بنتا ہے اور کھل کر منظرِ عام پر آتا ہے جب  اس کی  آغوشِ تربیّت میں پرورش پانے والے افراد اپنے مخصوص افکارو عقائد کی روشنی میں ایک مخصوص نظریاتی معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج دنیا میں جتنے بھی ادیان ومذاہب اور مکاتب موجود ہیں وہ اپنی اپنی توانائی اور صلاحیّت کے مطابق معاشرہ سازی میں مشغول ہیں ۔

متفرق مقالات
جن اور اجنہ کےبارے میں معلومات (قسط -2)

جن اور اجنہ کےبارے میں معلومات (قسط -2)

وجود جن : قرآن مجید اوراحادیث اہل بیت کی طرف توجہ دیتےہوئےیہ بات ثابت ہےکہ روی زمین پرخداوندمتعال کی مخلوقات میں سے ایک جن کاوجودہے، کہ قرآن فرما رہاہے:   «وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلاّ لِیَعْبُدُون‏» (15)  میں نےجن و انس کو خلق نہیں کیا  ہےمگر میری عبادت  کے لیے ۔ تاکہ وہ اسی طریقہ سے تکامل تک پہنچ جائیں  اور میرے  نزدیک ہو جائے ۔

متفرق مقالات
جن اور اجنہ کے بارےمیں معلومات (قسط-1)

جن اور اجنہ کے بارےمیں معلومات (قسط-1)

پہلےمرحلےمیں 35جالب اورپڑھنےوالےنکات جو جن کی خلقت اوراسکی زندگی اوراسکےاورانسانوں کےدرمیان فرق کے  بارےمیں بیان کرتےہیں۔  «وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلاَّ لِیَعْبُدُون‏»(1)

متفرق مقالات
شاعری، اسلام کی نظر میں

شاعری، اسلام کی نظر میں

مقدمہ زندگی میں انسان مختلف اسباب کے ذریعہ سے اپنے پیغام کو منتقل کرتا ہے، کبھی کس ہنر کے ذریعہ سے اور کبھی اپنا ما فی الضمیر سیدہے سادے جملوں سے مخاطب کی طرف منتقل کرتا ہے ، اور کبھی اسے منظم اور مرتب کر کے شاعری کی صور ت میں پیش کرتا ہے، کبھی اسے داستان کے عنوان سے پیش کرتا ہے اور کبھی آرٹ کے ذریعہ۔ آج کی دنیا میں ہنر کی بہت ہی زیادہ ہے ۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک