امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

شب قدر کی اہمیت و منزلت

0 ووٹ دیں 00.0 / 5


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿۱﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿۲﴾لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴿۳﴾ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ﴿۴﴾ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿۵﴾

جس طرح شب قدر کا ادراک مشکل ہے اسی طرح اس کی منزلت کو سمجھنا بھی دشوار امر ہے جس کی حقیقت کو صرف وہی لو گ بیان کر سکتے ہیں جنہیں اس شب کا ادراک ہو چکا ہو ، کیوں کہ قرآن پیغمبر اکرم (ص) کو مخاطب کر کے فرماتا ہے : "وما ادراک ما لیلۃ القدر " اے پیغمبر! آپ کو کیا معلوم شب قدر کیا ہے ؟
اس کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ رات "ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے " ھزار مہینہ تریاسی سال بنتے ہیں یعنی ایک رات کی عبادت تریاسی سالوں کی عبادت سے افضل ہے اس کے علاوہ بھی اس کی دیگر فضیلتیں ہیں جن میں سے چند فضیلتیں مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔ قرآن کا نزول

 پروردگار عالم کی سب سے باعظمت جامع و کامل کتاب جسے ہمیشہ باقی رہنا ہے وہ اسی شب میں نازل ہوئی جیسا کہ قرآن گواہی دیتا ہے : " شهر رمضان الذی انزل فيه القرآن " [1] (ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ) لیکن رمضان کی کس شب میں قرآن نازل ہوا ؟ اس کا بیان دوسری آیت میں ہے " انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ "[2] ( بیشک!ہم نے قرآن کو بابرکت رات میں نازل کیا ) اور سورہ قدر میں اس بابرکت رات کو اس طرح بیان کیا " انا انزلناه فی ليلة القدر "[3] (بیشک! ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ) لہذا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ قرآن کے نزول نے بھی اس شب کی عظمت میں اضافہ کیا ہے ۔
واضح رہے کہ قرآن کا یہ نزول دو طرح کا رہا ہے ایک نزول دفعی یعنی ایک بار نازل ہوا۔ شب قدر میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر ایک ساتھ نازل ہوا ہے اور دوسرا نزول ، نزول تدریجی ہے جو کہ پیغمبر اکرم( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چالیس کی عمر میں بعثت کے دن نازل ہونا شروع ہوا اور آنحضرت کی عمر مبارک کے 63 ویں سال تک نازل ہوتا رہا ہے، جوکہ 23 سال نازل ہوتا رہا ہے۔ یعنی قرآن ایک ساتھ ایک بار شب قدر میں نازل ہوا ہے اور دوسری مرتبہ 23 سال آھستہ آھستہ نازل ہوتا رہا ہے۔

۲۔ تقدیر کا معین کرنا

 اس شب کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ رات با برکت و با عظمت ہے " ليلة العظمة"[4]اور قرآن مجید میں لفظ قدر عظمت و منزلت کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت میں ہے " ما قدروا الله حق قدره "[5] (انھوں نے اللہ کی عظمت کو اس طرح نہ پہچانا جس طرح پہچاننا چاہئے )
قدر کے معنی تقدیر اور اندازہ گیری اور منظم کرنے کے ہیں ، اس معنی کو بھی اہل لغت نے بیان کیا ہے قرآن و روایات میں بھی یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ،راغب اصفہانی کہتے ہیں : " ليلة القدر ای ليلة قيضها لامور مخصوصة "[6] شب قدر یعنی وہ رات جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخصوص امور کی تنظیم و تعیین کے لئے آمادہ کیا ہے ، قرآن کریم بھی ارشاد فرماتا ہے " یفرق کل امر حکیم [7] ( ہر کام خداوند عالم کی حکمت کے مطابق معین و منظم کیا جاتا ہے )
امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : " التقدیر فی لیلۃ القدر تسعۃ عشر والابرام فی لیلۃ احدیٰ و عشرین والامضاء فی لیلۃ ثلاث و عشرین "[8] ( انیسویں شب میں تقدیر لکھی جاتی ہے ،اکیسویں شب میں اس کی دوبارہ تائید کی جاتی ہے اور تیئیسویں شب میں اس پر مہر اور دستخط لگائی جاتی ہے ۔ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں : " یقدر فیھا ما یکون فی السنۃ من خیر او شر او مضرۃ او منفعۃ او رزق او اجل و لذالک سمیت لیلۃ القدر "[9] ( شب قدر میں جو بھی سال میں واقع ہونے والا ہے سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے نیکی ،برائی ، نفع و نقصان ،رزق اور موت اسی لئے اس رات کو لیلۃ القدر کہا جاتا ہے )
اللہ نے انسان کو اپنی تقدیر بنانے یا بگاڑنے کا اختیار خود انسان کے ہاتھ دیا ہے وہ سعادت کی زندگی حاصل کرنا چاہے گا اسے مل جائے گی وہ شقاوت کی زندگی چاہے گا اسے حاصل ہو جائے گی۔ (یونس:23) لوگو! اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ تمہاری سرکشی صرف تمہیں نقصان پہچائے گی۔ جو کوئی سعادت کا طلبگار ہے وہ شب قدر میں صدق دل کے ساتھ اللہ کی بار گاہ میں توبہ کرے، برائیوں اور برے اعمال سے بیزاری کا عہد کرے گا۔
اللہ سے اپنے خطاؤں کے بارے میں دعا اور راز و نیاز کےذریعہ معافی مانگے گا یقینا اس کی تقدیر بدل جائے گی اور امام زماں (ارواحنا فداہ) اس تقدیر کی تائید کریں گے۔ اور جو کوئي شقاوت کی زندگی چاہے وہ شب قدر میں توبہ کرنے کے بجائے گناہ کرے ، یا توبہ کرنے سے پرھیز کرے ، تلاوت قرآن ، دعا اور نماز کو اھمیت نہیں دے گا ، اسطرح اس کے نامہ اعمال سیاہ ہوں گے اور یقینا امام زماں (ارواحنا فداہ) اسکی تقدیر کی تائید کریں گے۔
جو کوئی عمر بھر شب قدر میں سال بھر کے لئے سعادت اور خوشبختی کی تقدیر طلب کرنے میں کامیاب ہوا ہوگا وہ اسکی حفاظت اور اس میں اپنے لئے بلند درجات حاصل کرنے میں قدم بڑھائے گا اور جس نے شقاوت اور بد بختی کی تقدیر کو اختیار کیا ہوا وہ توبہ نہ کرکے بدبختی کی زندگی میں اضافہ کرے گا۔
شب قدر کے بارے میں اللہ نے تریاسی سالوں سے افضل ہونے کے ساتھ ساتھ اس رات کو سلامتی اور خیر برکت کی رات قرار دیا ہے۔ > اس رات میں صبح ہونے تک سلامتی ہی سلامتی ہے اس لئے اس رات میں انسان اپنے لئے دنیا اور آخرت کے لئے خیر و برکت طلب کرسکتا ہے۔
اگر دل کو شب قدر کی عظمت اور بزرگی کی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جس شب کے بارے میں اللہ ملائکہ سے کہہ رہا ہے کہ جاو اور فریاد کرو کہ کیا کوئی حاجب مند، مشکلات میں مبتلا ، گناہوں میں گرفتار بندہ ہے جسے اس شب کے طفیل بخش دیا جائے ؟ اگر اس نقطے کی طرف توجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ یہ رات ایک عمر بھر کی مخلصانہ عمل سے افضل ہے۔
اس بات کو نہیں بھولتے ہیں کہ یہ رات تقدیر لکھنے کی رات ہے۔ یہی وہ رات ہے جس میں بندہ اللہ کی نظر رحمت کو اپنی طرف جلب کرکے سعادت دنیا اور آخرت حاصل کرسکتا ہے تو یقینا ہمیں شب قدر کے ثواب حاصل ہوں گے۔ اس لئے ہمیں چاہیئے فراخدلی کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں تمام عالم کے لئے دعا کریں کہ اے اللہ تم اسے بھی عطا کرتے ہو جو تمہیں مانتا ہے اور اسے بھی عطا کرتا ہے جو تمہیں انکار کرتا ہے اس شب کے طفیل ہم سب کو صراط المستقیم کی طرف ھدایت فرما۔
دنیا کے جس کونے میں جو کوئي بھی ظالم کے چنگل میں پھنسا ہے اسے آزادی نصیب فرما۔ عالم اسلام کےمشکلات کو برطرف فرما۔ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کو عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونے کے لئے راہ ھموار فرما۔ اسی طرح جامع الفاظ میں اللہ کی بارگاہ میں درخواست کریں کہ ہم سب کا دنیا اور آخرت آباد فرمائے۔ یہی تو رات ہے جس میں ہم سب اپنے اور دوسروں کے لئے سعادت اور خوشبختی طلب کرسکتے ہیں۔

۳ ۔ لیلۃ القدر دلیل امامت

 شب قدر کو شب امامت اور ولایت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ خود قرآن کہتا ہےکہ اس رات میں فرشتے ، ملائکہ اور ملائکہ سے اعظم ملک روح بھی نازل ہوتے ہیں۔ اس نقطے کو سمجھنا ضروری ہے کہ نازل ہوتے ہیں ، نازل ہوئے نہیں۔
کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے : > تنزل فعل مضارع ہے یعنی نازل ہوتے ہیں نازل ہوئے نہیں کہا گیا ہے۔ تو یہ جاننا ضروری ہے کہ کس پر نازل ہوتے ہیں۔ آپ اور مجھ پر تو فرشتے نازل نہیں ہوتے ہیں۔ پیغمبر( اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تو آنحضرت پر نازل ہوتے تھے آنحضرت کے بعد کس پر نازل ہوتے ہیں؟
ظاھر سی بات ہے اس پر نازل ہوں گے جو پیغمبر کے بعد پیغمبر کا جانشین ہوگا ، جو معصوم ہوگا ، جو صاحب ولایت ہو۔جی ہاں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام پر نازل ہوتے تھے اور حضرت علی علیہ السلام کے بعد حضرت حسن مجتبی اور آپ کے بعد حضرت حسین اور آپ کے بعدحضرت علی زین العابدین اور آپ کے بعد حضرت محمد باقر اور آپ کے بعد حضرت جعفر صادق اور آپ کے بعد حضرت موسی کاظم اور آپ کے بعد حضرت علی الرضا اور آپ بعد حضرت محمد جواد اور آپ کے بعد علی النقی اور آپ کے بعد حسن عسکری علیہم السلام اور آپ کے بعد قطب عالم امکان مھدی آخر الزمان (ارواحنافداہ) کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور انسانوں کے سال بھر کے مقدرات بیان کرتے ہیں۔
شب قدر امامت اور اس کی بقاء اور جاودانگی پر سب سے بڑی دلیل ہے ، متعدد روایات میں وارد ہوا ہے کہ شب قدر ہر زمانے میں امام کے وجود پر بہترین دلیل ہے اس لئے سورہ قدر کو اہلبیت(ع) کی پہچان کہا جاتا ہے ،جیسا کہ بعض روایات میں بھی وارد ہوا ہے ۔
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ مولائے کائنات اکثر فرمایا کرتے تھے : جب بھی تیمی اور عدوی (ابوبکر و عمر) پیغمبر (ص) کے پاس ایک ساتھ آتے تو پیغمبر اکرم (ص) ان کے سامنے سورہ انا انزلناہ کی تلاوت بڑے خضوع کے ساتھ فرماتے اور گریہ کرتے تھے ، وہ پوچھتے تھے کہ آپ پر اتنی رقت کیوں طاری ہوتی ہے تو پیغمبر اکرم (ص) فرماتے کہ ان باتوں کی وجہ سے جنہیں ہماری آنکھوں نے دیکھا اور میرے دل نے سمجھا ہے اور اس بات کی وجہ سے جسے یہ (علی علیہ السلام ) ہمارے بعد دیکھیں گے ، وہ پوچھتے کہ آپ نے کیا دیکھا ہے اور یہ کیا دیکھیں گے ؟
پیغمبر (ص) نے انھیں لکھ کر دیا " تنزل الملائکة والروح فيها باذن ربھم من کل امر " ( ملائک اور روح اس رات میں خداوند عالم کے اذن سے ہر کام کی تقدیر کے لئے نازل ہوتے ہیں ) پھر پیغمبر(ص) نے دریافت کیا کہ کیا "کل امر" (ہر کام ) کے بعد کوئی کام باقی رہ جاتا ہے ؟ وہ کہتے تھے نہیں ، پھر حضرت فرماتے تھے : کیا تمہیں معلوم ہے کہ جس پر تمام امور نازل ہوتے ہیں وہ کون ہے ؟ وہ کہتے کہ ،آپ ہیں یا رسول اللہ!
پھر رسول (ص) سوال کرتے کہ کیا میرے بعد شب قدر رہے گی یا نہیں ؟ وہ کہتے تھے ، ہاں !
رسول (ص) پوچھتے کہ کیا میرے بعد بھی یہ امر نازل ہوں گے ؟ وہ کہتے تھے ہاں !
پھر رسول پوچھتے کہ کس پر نازل ہوں گے ؟ وہ کہتے کہ ہم نہیں جانتے ۔ پھر حضرت میرا (علی )سر پکڑتے اور میرے سر پر اپنا ہاتھ رکھ کر فرماتے : اگر نہیں جانتے تو جان لو ! وہ شخص یہ ہے ۔
پھر مولائے کائنات نے فرمایا: اس کے بعد یہ دونوں پیغمبر اکرم(ص) کے بعد بھی شب قدر میں خوفزدہ رہا کرتے تھے اور شب قدر کی اس منزلت کو جانتے تھے [10]۔
ایک دوسرے مقام پر علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ در حقیقت شب قدر ہر سال آتی ہے اور امر خدا ہر سال نازل ہوتا ہے اور اس امر کے لئے صاحب الامر بھی موجود ہے ۔
جب دریافت کیا گیا کہ وہ صاحب الامر کون ہے تو آپ (ع) نے فرمایا : " انا و احد عشر من صلبی ائمة محدثون "[11] ( میں اور میرے صلب سے گیارہ دیگر ائمہ جو محدث ہیں ) محدِّث یعنی ملائکہ کو آنکھوں سے نہیں دیکھتے لیکن ان کی آواز سنتے ہیں ۔
اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ شب قدر شب ولایت اور امامت ہے اور جن روایات میں شب قدر کی تفسیر فاطمہ زہرا(س) سے کی گئی ہے ان کا بھی معنیٰ واضح ہے کہ شب قدر ولایت اور امامت کی شب ہے اور امامت و ولایت کی حقیقت فاطمہ زہرا (س) کی ذات گرامی ہے ۔

۴۔ گناہوں کی بخشش

 شب قدر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس شب میں گناہگاروں کی بخشش ہوتی ہے لہذا کوشش کریں کہ اس عظیم شب کے فیض سے محروم نہ رہیں، وائے ہو ایسے شخص پر جو اس رات میں بھی مغفرت و رحمت الٰہی سے محروم رہ جائے جیسا کہ رسول اکرم کا ارشاد گرامی ہے : "من ادرک ليلة القدر فلم يغفر له فابعده الله[12] جو شخص شب قدر کو درک کرے اور اس کے گناہ نہ بخشے جائیں اسے خداوند عالم اپنی رحمت سے دور کر دیتا ہے ۔
ایک اور روایت میں اس طرح وارد ہوا ہے " من حرمھا فقد حرم الخیر کلہ ولا یحرم خیرھا الا محروم "[13] جو بھی شب قدر کے فیض سے محروم رہ جائے وہ تمام نیکیوں سے محروم ہے ، اس شب کے فیض سے وہی محروم ہوتا ہے جو خود کو رحمت خدا سے محروم کر لے ۔
بحارالانوار کی ایک روایت میں پیغمبر اکرم (ص) سے اس طرح منقول ہے : " من صلّیٰ لیلۃ القدر ایماناً و احتساباً غفر اللہ ما تقدم من ذنبہ "[14]
جو بھی اس شب میں ایمان و اخلاص کے ساتھ نماز پڑھے گا خداوند رحمٰن اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف کر دے گا ۔

شب قدر کے بہترین اعمال کیا ہیں؟

شب قدر کے اعمال بہت سارے ہیں یہاں پرہم بعض کاتذکرہ کریں گے۔

الف : شب قدر کی فرصت کو غنیمت سمجھنا ۔

خداوند معتال نے قرآن کریم میں حضرت رسول اکرم ۖسے مخاطب ہو کر فرمایا :
'' انّاانزلناہ فی ليلة القدر، وما ادراک ما ليلة القدر'' ''ہم نے قرآن کو شب قدر نازل میں کیا ہے مگر آپ کیا جانتے ہیں کہ شب قدر کیا ہے ؟ ''
شب قدر کی فضیلت کے لئے اتنا کافی ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس شب میں انسان کی تقدیر لکھی جاتی ہے اور جو انسان اس سے با خبر ہو وہ زیادہ ہو شیاری سے اس قیمتی وقت سے استفادہ کرے گا ۔لہٰذا شب قدر کے بہترین اعمال میں سے ایک عمل یہی ہے کہ انسان اس فرصت کو غنیمت سمجھے یہ فرصت انسان کو ہر بار نہیں ملتی ہے ۔

(ب) توبہ :

 اس شب کے بہترین اعمال میں سے ایک عمل توبہ ہے جیسا کہ شہید مطہری فرماتے ہیں: خدا کی قسم ایک ورزش ایک دن کی ہے اس کا ایک گھنٹہ ایک گھنٹہ ہے اگر ایک رات کی تاخیر کریں تو اشتباہ کیا ایسا مت کہے کہ کل کی رات تئیسویں کی رات ہے شب قدر کی ایک رات ہے اور توبہ کے لئے بہتر ہے کہ نہیں ۔آج کی رات کل کی رات سے بہتر ہے آج کا ایک گھنٹہ آنے والے کل کے گھنٹہ سے بہتر ہے ہر ایک لمحہ آنے والے لمحہ سے بہتر ہے عبادت توبہ کے بغیرقبول نہیں ہوتی پہلے توبہ کرلینا چاہیے ،پہلے اپنے آپ کو دھونا چاہیے پھر اس پاک و پاکیزہ جگہ میں وارد ہونا چاہیے ہم تو بہ نہیں کرتے ہیں تو کیسی عبادت کرتے ہیں ؟ !ہم توبہ نہیں کرتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں ؟! توبہ نہیں کرتے ہیں اورنماز پڑھتے ہیں ؟!توبہ نہیں کرتے ہیں اورحج پر چلے جاتے ہیں ؟! توبہ نہیں کرتے ہیںاور قرآن پڑھتے ہیں ؟! توبہ نہیں کرتے ہیںاورذکر کہتے ہیں؟! توبہ نہیں کرتے ہیں اور ذکر کی مجلسوں میں شرکت کرتے ہیں ! خدا کی قسم اگر آپ پاک ہونے کے لئے ایک توبہ کریں تاکہ پھر توبہ اور پاکیزکی کی حالت میں ایک دن اور ایک رات نماز پڑھیں وہی ایک دن رات کی عبادت آپ کو دس سال آگے بڑھائے گی اور پروردگا کے مقام قرب کے قریب پہنچائے گی ہم نے دعا کے سوراخ کو گم کیا ہے اور اس کے راستے کو بھی نہیں جانتے ہیں ۔ امام علی توبہ کے چھ رکن بیان کرتے ہیں :
١۔ اپنے گناہوں پر پشیمان ہونا۔
٢۔ ارادہ کرے کہ اب دوبارہ کبھی بھی گناہ نہیں کرے گا۔
٣۔ حقوق الناس ادا کرنا۔
٤۔ حقوق الہیٰ ادا کرنا ۔
٥۔ جو گوشت رزق حرام سے بدن پر چڑھا ہے وہ پگھل کے رزق حلال سے نیا گوشت بدن پر چڑھے ۔
٦۔ جس طرح بدن نے گناہوں کا مزہ چکھا ہے اس طرح اطاعت کا مزہ چکھنا چاہیے پس اسی صورت میں خدا نہ صرف اس کو دوست رکھتا ہے بلکہ اپنے محبوب بندوں میں اسے قرار دیتا ہے۔ [15]

(ج)دعا:

 اب جبکہ بندہ گمراہی اور ضلالت کے راستے کو چھوڑ کے ہدایت اور نور کے راستے کی طرف چل پڑا ہے اور اپنے خدا کی جانب روا ںدو اںہے اب خدا کو پکارے اور اس کے ساتھ ارتباط بر قرار کرے دعا کرے دعا کے اصل معنی یہی ہیں کہ انسان اپنے دل کا حال بیان کرکے در واقع خدا سے ارتباط پیدا کرے ۔

(د) تفکر اور معرفت :

 اس کے بعد کہ انسان نے فرصت کو غنیمت سمجھ کے اپنے افکار اور اعمال کے اشتباہات سے واقفیت حاصل کرکے یہ ارادہ کر لیا کہ اب کبھی بھی گناہ نہیں کرے گا اپنی اصلاح کرے گا دل شناحت اور معرفت کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سب سے بڑی معرفت ہے اور اس سے دل نوارنی ہو جاتا ہے اور حقیقی معرفت انسان کو بندگی کے اعلیٰ مرتبے تک پہنچا کے خلافت الہی کا وارث بنا دیتی ہے البتہ خود شناسی اس معرفت حقیقی کے لئے پیش خیمہ ہے جیسا کہ حدیث میں بھی آیا ہے: '' من عرف نفسہ فقد عرف ربہ '' یعنی خود شناسی خداشناسی کا سبب بنتی ہے [16]۔
[1] - سورہ بقرہ ،آیت / ۱۸۵
[2] - سورہ دخان ، آیت/ ۳
[3] - سورہ قدر ،آیت / ۱
[4] - مجمع البیان ،ج/۱، ص/۵۱۸
[5] - سورہ حج ،آیت/ ۷۴
[6] - المفردات فی غریب القرآن ، ص/۳۹۵
[7] - سورہ دخان ،آیت / ۴
[8] - وسائل الشیعہ ، ج/۷،ص/۲۵۹
[9] - عیون اخبار الرضا، ج/۲، ص/۱۱۶
[10] - اصول کافی ،ج/۱ص/۳۶۳،۳۶۴ ترجمہ سید جواد مصطفوی
[11] - اثبات الھداۃ ، ج/۲، ص/۲۵۶
[12] - بحارالانوار ،ج/۹۴ ص/۸۰ حدیث نمبر ۴۷
[13] - کنز العمال متقی ہندی ، ج/۸ص/۵۳۴ حدیث نمبر ،۲۸ و ۲۴
[14] - بحارالانوار ،ج/۹۳ ،ص/۳۶۶ ، حدیث ۴۲
[15] - نہج البلاغہ، حکمت ٤١٧
[16] - شب قدر ،پاسخھای دانشجوئی

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک