امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

تقیہ کتاب وسنت میں

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

 دوسرا مسئلہ کہ جسے متعصب مخالفین نے ہمارے خلاف حربہ بنایا ہے وہ '' تقیہ'' ہے، وہ لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ آپ لوگ کیوں تقیہ کرتے ہیں ؟ کیا تقیہ ایک قسم کا نفاق نہیں ہے؟
وہ لوگ اس مسئلہ کو اس قدر بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کہ گویا تقیہ ایک حرام فعل اور گناہان کبیرہ میں سے ہے ۔
جب کہ قرآن نے متعدد مقامات پر بعض شرائط کے تحت تقیہ کے جواز کو بیان کیا ہے اور خود ان کی کتابوں میں وارد ہونے والی روایتیں اسی مطلب کی تائید بھی کرتی ہیں ، نیز عقل بھی ان شرائط کے ساتھ تقیہ کو قبول کرتی ہے ، اس کے علاوہ وہ لوگ خود بھی اپنی شخصی زندگی میں متعدد مقامات پر تقیہ کا سہارا لیتے ہیں۔
اس مطلب کی وضاحت کے لئے چند نکات کی طرف توجہ لازم ہے :

١۔تقیہ کیا ہے؟

تقیہ یعنی ایک انسان اپنے کٹر اور متعصب دشمنوں کی اذیتوں سے بچنے کے لئے اپنے عقیدہ کا اظہار نہ کرے ۔
بعنوان مثال : اگر ایک مسلمان چند متعصب ہندؤں کے درمیان گرفتار ہوجائے اور اسے اس بات کا ڈر ہو کہ اگر اس نے اپنے عقیدہ کا اظہار کردیا تو وہ لوگ اسے مار ڈالیں گے ، یا اس کے اموا ل کو برباد یا کوئی بہت بڑا نقصان پہنچائیں گے تو وہ کبھی بھی اپنے باطنی عقیدہ کا اظہار نہیں کرسکتا تا کہ ان کے شر سے محفوظ رہ سکے ۔
یاجب ایک شیعہ مسلمان ایک سنسان جگہ پر ایک متعصب وہابی کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتا ہے جو اس کے خون کو بہانا مباح سمجھتا ہے تو وہ اپنی جان ، مال اور ناموس کوبچا نے کے لئے اپنے عقیدہ کے اظہار سے پرہیز کر تا ہے۔

ان حالات کو دیکھ کر ہر عاقل اس عمل کو منطقی کہے گا اور عقل اس پر حاکم رہے گی اس لئے کہ متعصبوں کے تعصبات کے مقابلہ میں جان دینا صحیح نہیں ہے ۔

٢۔ تقیہ اور نفاق میں فر ق

نفاق تقیہ کی ضد ہے ، منافق اسے کہتے ہیں جو دل میں اسلامی تعلیمات کو نہیں مانتا یا اسلام کے متعلق مردد ہے اور مسلمانوں کے درمیان اسلام کا اظہار کرتاہے لیکن تقیہ یہ ہے کہ انسان دل میں صحیح اعتقاد رکھتاہو لیکن اسے وہابی حضرات ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اس لئے کہ وہ اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کوکافر کہتے ہیں اور ان کو ہمیشہ دھمکیاں دیتے رہتے ہیں ، جب بھی ایک باایمان شخص ایسے متعصب وہابیوں کے نزدیک اپنی جان ، مال اور ناموس کی حفاظت کی خاطر اپنے عقیدہ کا اظہار نہ کرے تو وہ تقیہ اور اس کی ضد نفاق ہے ۔

٣۔ تقیہ عقل کے میزان پر

تقیہ حقیقت میں ایک دفاعی سپر ہے اسی وجہ سے روایات میں اسے ''تُرس المومن'' یعنی مومن کی سپر سے تعریف کی گئی ہے۔
کوئی بھی عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ایک انسان چند متعصب اور جاہل افراد کے سامنے اپنے عقیدہ کا اظہار کرے اور اپنی جان و مال اور ناموس کو خطرے میں ڈال دے ، اس لئے کہ جا ن و مال کو کسی فائدے کے بغیر دینا عاقلانہ عمل نہیں ہے ۔
'' تقیہ'' میدان جنگ میں لڑنے والے فوجیوں کی طرح ہے جو جنگ کے میدان میں اپنے آپ کو درختوں ، سرنگوں اور جھاڑیوں کے درمیان چھپالیتے ہیں اور اپنے آپ کو درخت کی شاخوں اور اسکی پتیوں سے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ آسانی سے دشمن کاشکار نہ ہونے پائیں ۔
دنیا میں جینے والے تمام عقلمند حضرات اپنے جانی دشمنوں سے بچنے کے لئے تقیہ کی پر عمل کرتے ہیں اور آ ج تک کسی عقلمند نے اس روش کی تقبیح نہیں کی ہے ، اس دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں ملے گا جو تقیہ کو اسکی شرطوں کے ساتھ قبول نہ کرے۔

٤۔ تقیہ کتاب خدا میں

قرآن مجید نے متعدد مقامات پر دشمنوں کے مقابلہ میں تقیہ کو جائز قرار دیا ہے بعنوان مثال ملاحظہ کریں:
الف) مومن آل فرعون کی داستان میں آیا ہے :
( وقال رجل مومن من آل فرعون یکتم ایمانہ اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ و قد جاء کم بالبینات...) ؛اور آل فرعون کے مردمومن کہ جس نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا : کہا کیا تم اس شخص کو قتل کرو گے کہ جو یہ کہہ رہاہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے جب کہ اس کے پاس واضح دلیلیں ہیں ۔ ١
اس کے بعد فرماتا ہے :'' اسے اس کے حال پر چھوڑ دو کہ اگر اس نے جھوٹ کہا ہے تو یہ جھوٹ اس کا دامن گیر ہوجائے گا اور اگر سچ کہہ رہا ہے تو پھر اس بات کا امکان ہے کہ جس عذاب سے وہ ڈرا رہا ہے وہ تمہارادامن گیر ہوجائے ''۔
اس طرح مومن آل فرعون نے تقیہ کرتے ہوئے متعصب قوم کو نصیحت کی جس نے خدا کے رسول موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا ۔
ب) ایک دوسرے مقام پر قرآن واضح فیصلہ سناتے ہوئے فرماتا ہے : ( لا یتخذ المومنون الکافرین اولیاء من دون المومنین و من یفعل ذلک فلیس من اللہ فی شیء الا ان تتقوا منھم تقاة...)؛ کسی بھی مومن کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ مومنین کے سوا کافروں کو ولی بنائے اور جو ایسا کرے گا تو وہ خدا سے بیگانہ ہے ، مگر یہ کہ ا س نے تقیہ سے کام لیا ہو۔٢
اس آیت نے قطعی طور پر خدا کے دشمنوںسے دوستی کو منع کردیا ہے مگر یہ کہ ان کی دوستی کو ترک کرنے سے مسلمانوں کو آزار و اذیت پہنچنے کا ڈر ہو تو پھر وہ ان کی دوستی کو سپر بنا کر تقیہ کیا جاسکتا ہے ۔
ج) جناب عمار اور آپ کے والدین کی داستا ن کو تمام مفسروںنے لکھا ہے جو مشرکین عرب کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے تھے جنہیں ان لوگوںنے پیغمبر ۖسے برائت کے لئے کہا ، جناب عمار کے والدین نے ایسا کرنے سے انکار کردیا جس کے نتیجہ میں انہیں شہید کردیا گیا لیکن جناب عمار نے تقیہ کرتے ہوئے ان کی کہی مان لی اور پھر روتے ہوئے رسول اللہ ۖ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔
اسی وقت یہ آیت نازل ہوئے :( من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ و قلبہ مطمئن بالایمان ...) وہ لوگ کہ جو ایمان کے بعد کافر ہوگئے ... تو ان کے لئے سخت عذاب مہیا ہے مگر وہ لوگ کہ جسے مجبور کردیا گیا ہو ...۔ ٣
مذکورہ آیت کے سلسلہ میں تمام مفسرین کا اتفاق کہ یہ آیت جناب عمار اوران کے والدین کی شان میں نازل ہوئی ہے اور فرمان رسول ۖ پر ایمان لانا اس بات کی دلیل ہے کہ تقیہ کو ہر ایک نے مانا ہے ، کیا واقعا مقام تعجب نہیں ہے کہ ایسے قرآنی اسناد اور اہل سنت کے مفسروں کے کلمات کے باوجود شیعوں کو تقیہ قبول کرنے کی وجہ سے بر ابھلا کہا جائے؟ ۔
ہاں! نہ تو عمار تو منافق تھے اور نہ ہی مومن آل فرعون بلکہ انھوںنے فرمان خدا سے فائدہ اٹھا یاتھا ۔

٥۔ تقیہ اسلامی روایات میں

اسلامی منابع میں تقیہ کے سلسلہ میں متعدد روایتیں وارد ہوئی ہیں :
مسند ابی شیبة جو اہل سنت کی مشہور مسانید میں سے ہے ، اس میں '' مسیلمہ کذاب '' کی داستان نقل ہوئی ہے کہ جب اس کے پاس دو مسلمان گرفتارکر کے لائے گئے تو ان سے سوال کیا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں خدا کا رسول ہوں ؟ تو ان میں سے ایک نے گواہی دی اور بچ گیا لیکن دوسرے نے گواہی نہیں دی لہذا اس کی گردن ماردی گئی ۔
یہ خبر جب رسول اللہ ۖ تک پہنچی تو فرمایا: شہید ہونے والے نے سچائی کے راستے پر قدم رکھا اور دوسرے شخص نے اذن پروردگار پر عمل کیا لہذا اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ ٤
ائمہ علیہم السلام جو بنی امیہ اور بنی عباس کے دور میں تھے ، اپنے چاہنے والوں کو تقیہ کا حکم دیا کرتے تھے اسلئے کہ حکومتیں جہاں بھی انہیں پاتی تھیں قتل کردیتی تھیں لہذا اس وقت ائمہ علیہم السلام کی طرف سے انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وقت کی جابر و ظالم حکومتوں کے شر سے بچنے کے لئے تقیہ کو اپنا سپر بنائیں ۔

٦۔ کیا تقیہ صرف کفار کے مقابلہ میں ہے ؟

ہمارے بعض مخالفین کے سامنے جب قرآن کی صریح آیات اور مذکورہ روایات کو بیان کیا جاتا ہے تو وہ تقیہ کی مشروعیت کو ماننے کے لئے مجبور ہوجاتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ یہ تقیہ صرف کفار کے مقابلہ میں ہے اور مسلمانوں کے سامنے کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے ۔
( مذکورہ دلائل کی روشنی میں ) ان دونوں کے درمیان فرق واضح ہے اس لئے کہ :
١۔ اگر تقیہ کا مفہوم متعصبوں کے مقابلہ میں جان و مال اور ناموس کو محفوظ رکھنا ہے تو پھر ایک جاہل مسلمان اور متعصب کافر کے درمیان کیا فرق ہے ؟اگر عقل ،جان و مال اور ناموس کو بیہودہ قربان نہ کرنے کا حکم دیتی ہے تو پھر ان دونوں میں کیا فرق باقی بچتاتا ہے ؟
ہمیں ان لوگوں کی خبر ہے جو جھوٹی تبلیغات اور جہالت کی وجہ سے کہتے ہیں : شیعوں کا خون بہانا خدا سے تقرب کا وسیلہ ہے پس اگر ایک مخلص شیعہ اور اہل بیت علیہم السلام کا پیروکار ایسے لوگوں کے درمیان گرفتار ہوجائے اور اس سے وہ سوال کریں کہ تمہارا مذہب کیا ہے ؟ اور وہ جواب دے کہ میں شیعہ ہوں اوراس طرح اپنا گلا جہالت کی تلوار تلے رکھ دے اور جان دے دے تو بتائیں:کیا کوئی عاقل شخص ایسا حکم دے سکتا ہے ؟
ایک دوسری تعبیر کے مطابق ؛جو سلوک عرب کے مشرکین نے جناب عمار کے ساتھ کیا یا جوکچھ مسیلمہ کذاب کے پیروکاروں نے آنحضرت ۖ کے دو صحابیوں کے ساتھ روارکھا یا جوکچھ بنی امیہ اور بنی عباس نے حضرت علی علیہ السلام کے شیعوں کے ساتھ کیا تو کیاا یسی صورتوں میں تقیہ کا حکم دینا حرام ہے؟ چاہے اہل بیت کے ہزاروںمخلص اورچاہنے والے قتل کر دئے جائیں ، صرف اس وجہ سے کہ تمام حکام مسلمان ہیں اور ان کے سامنے تقیہ کرنا منع ہے؟
اسی وجہ سے ائمہ علیہم السلام نے شدت کے ساتھ تقیہ کی ہے یہا ں تک کہ فرمایا:''تسعة اعشار الدین التقیة'' دین کے دس حصوں میںسے نو حصہ تقیہ ہے ۔ ٥
بنی امیہ اور بنی عباس کے دور میں مارے جانے والے شیعوں کی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں میں پہنچتی ہے یعنی ان لوگوںنے جس قدر چاہا شیعوں کا قتل عام کیا ۔
کیا ایسے حالات میں اب بھی تقیہ کی مشروعیت کے سلسلہ میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے ؟
ہمیں یہ بھی اچھی طرح یاد ہے کہ اہلسنت حضرات مسئلہ حادث اور قدیم کے سلسلہ میں سالہا سال اختلافات میں گرفتار رہے اوراس راہ میںلاتعداد لوگوں کے خون بھی بہائے( جب کہ یہ وہ اختلافات تھے جو آج کے دانشمندوں کی نظر میں بیہودہ تھے )۔
کیا وہ لوگ کہ جو اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے ، وہ جب اپنے مخالفین کے درمیان پھنس جاتے اوران سے ان کے عقیدہ کے سلسلہ میں سوال کیا جاتا تھا تو کیاانہوں نے واضح طور پر جواب دیا کہ میرا فلاں عقیدہ ہے ؟ اگرچہ اس کے بعد ان کا خون بہادیا جاتا ، خواہ ان کی جان جانے سے کوئی فائدہ ہوتا یانہ ہوتا ؟!
٢۔ فخر رازی اس آیت ( الا ان تتقوا منهم تقاة) کی تفسیر میں کہتے ہیں : اس آیت کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کفار کے غلبہ کے دوران تقیہ مباح ہے ، ''الاان مذهب الشافعی ۔رض۔ ان الحالة بین المسلمین اذا شاکلت الحالة بین المسلمین و المشرکین حلت التقیةمحاماة علی النفس'' ؛شافعی کی رائے یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے آپسی حالات کفار اور مسلمین کے درمیان جیسی حالت ہوجائے تو جان بچانے کے لئے تقیہ حلال ہے ۔
اس کے بعد مال کو محفوظ رکھنے کے لئے تقیہ کے جائز ہونے کی دلیل پیش کرتے ہوئے حدیث نبوی کو ذکر کرتے ہیں :'' حرمة مال المسلم کحرمة دمه'' ؛ مسلمانوں کے مال کا احترام ان کے خون کے احترام کے مانند ہے ۔ اور '' من قتل دون مالہ فھو شہید'' جو بھی اپنے مال کو بچانے کی خاطر مارا جائے تو وہ شہید ہوگا ،٦ اور ان حدیثوں کے ذریعہ استدلال کرتے ہیں۔
تفسیر نیشاپوری کہ جو تفسیر طبری کے حاشیہ میںدرج ہے ، اس میں مذکور ہے کہ '' قال الامام الشافعی: تجوز التقیة بین المسلمین کما تجوز بین الکافرین محاماة عن النفس''؛ مسلمانوں کے درمیان مال کی حفاظت کی خاطر تقیہ جائز ہے جس طرح کہ کفار اور مسلمانوں کے درمیان جائز ہے '' ۔ ٧
٣۔مقام توجہ ہے کہ بنی عباس کی خلافت کے دوران اہل سنت کے بعض محدثین ''قرآن کے قدیم ہونے '' کے عقیدہ کی وجہ سے خلفائے بنی عباس کی طرف سے شنکنجہ کا شکار تھے لیکن ان میں سے بعض محدثین نے تقیةًقرآن کے حادث ہونے کا اقرار کر لیا اور نجات پاگئے۔
مشہور مورخ ابن سعد '' طبقات'' میں اور طبری اپنی تاریخ میں دو خطوں کا تذکرہ کرتے ہیں کہ جسے مامون نے بغداد کے داروغہ '' اسحاق بن ابراہیم '' کو لکھا تھا ۔
پہلے خط کے سلسلہ میں ابن سعد تحریر کرتے ہیں : مامون نے اسحاق بن ابراہیم کو لکھا کہ سات محدثین( محمد بن سعدکاتب واقدی، ابومسلم، یحیی بن معین ، زہیر بن حرب، اسماعیل بن داود ، اسماعیل بن ابی مسعوداور احمد بن الدورقی)کو حفاظت سے میرے پاس روانہ کرو، وہ لوگ جب مامون کے پاس آئے تو اس نے امتحان کی غرض سے سوال کیا کہ: قرآن کے سلسلہ میں آپ لوگوں کا نظریہ کیا ہے ؟ سب نے مل کر جواب دیا کہ قرآن مخلوق ہے ( جب کہ محدثین کے درمیان قرآن کا قدیم ہونا مشہورتھا ) ۔٨
ہاں ! ان لوگوں نے مامون کے غضب سے بچنے کے لئے تقیہ کرلیا تھا اور قرآن کے مخلوق ہونے کا اقرار کرکے نجات پالی تھی ۔
دوسرا خط جسے طبری نے نقل کیا ہے وہ بھی مامون کی طرف سے بغداد کے داروغہ کے نام تھا ، جب مامون کا خط اسے ملا تو اس نے ٢٦ محدثین کو جمع کیا اور انہیں مامون کے خط سے آگاہ کیا، اس کے بعد ان میں سے ہر ایک کو اپنے عقیدہ ازطہار کے لئے کہا ، ان میں سے چار محدثین کے سوا سب نے( تقیہ کرتے ہوئے) قرآن کے مخلوق ہونے کا اقرار کرلیا ۔
وہ چار محدثین کہ جنہوںنے اعتراف نہیں کیا تھا وہ احمد بن حنبل، سجادة ، القواریری اور محمد بن نوح تھے ، داروغہ نے حکم دیا کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر زندان میں ڈال دیا جائے ، دوسرے دن دوبارہ انہیں حاضر کیاگیا اورپھر وہی سوال دہرایا گیا ،ان میں تنہا سجاد ة نے قرآن کے مخلوق ہونے کا اقرار کیا اور آزاد ہوگیا لیکن بقیہ محدثین نے اقرار نہیں کیا اور وہ دوبارہ زندان بھیج دئے گئے۔
تیسرے دن دوبارہ ان تینوںکو حاضر کیا گیا، اس دن القواریری نے اقرار کرکے نجات پالی لیکن احمد بن حنبل اور محمد بن نوح نے اپنے اسی عقیدہ کو دوبارہ دہرایا توداروغہ نے انہیں طرطوس ٩ کی طرف جلاء وطن کردیا ۔
جب بعض لوگوںنے تقیہ کرنے والوں پر اعتراض کیا تو ان لوگوںنے کفار کے مقابلہ میں جناب عمار بن یاسر کی مثال پیش کی ۔ ١٠
یہ تمام موارد اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جب بھی انسان سخت مصیبتوں میں گرفتار ہوجائے اور دشمنوں کے شر سے بچنے کا واحد راستہ تقیہ ہوتو وہ تقیہ کو اختیار کرسکتا ہے ،دشمن خواہ کافر ہو یا اپنا مسلمان ۔

٧۔ تقیہ حرام

بعض مقامات پر تقیہ حرام ہے ، مثلاً جب بعض لوگ اس حالت میں تقیہ کریں کہ اگر وہ خاموش رہ گئے تو اسلام خطرے میں پڑجائے گا یا مسلمان سخت مصیبت میں گرفتار ہوجائیں گے تو پھر ان پر واجب ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کا اظہار کریں اگر چہ وہ خود اس کے بعد مصیبتوں سے دوچار ہوجائیں۔
اوروہ لوگ جو ان موارد کو ( ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکة) کو دلیل بنا کر اعتراض کرتے ہیں وہ سخت اشتباہ کررہے ہیں، اس لئے کہ اس قول کا لازمہ یہ ہے کہ پھر جہاد کیلئے میدان جنگ میں بھی نہ اترا جائے ، جب کہ کوئی بھی عقلمند اس منطق کو قبول نہیں کرسکتا ، یہیں سے یہ مطلب واضح ہوجاتا ہے کہ یزید کے مقابلہ میں امام حسین علیہ السلام کا قیام ایک دینی وظیفہ کے تحت تھا کہ جس کی وجہ سے امام نے تقیہ سے دوری کرتے ہوئے یزیدیوں اور ابنی امیہ کے ساتھ سازش نہیں کی اس لئے کہ اگر ان کے ساتھ سازش کرلیتے تو پھر اسلام خطرے میں پڑجاتا لہذا آپ کا قیام مسلمانوں کی بیداری اور جاہلیت کے پنجوں سے اسلام کی نجات کے لئے تھا ۔

٨۔ تقیہ مدارائی

یہ تقیہ کی ایک قسم ہے کہ جس میں ایک مذہب کے ماننے والے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو برقرار کرنے کے لئے ان چیزوں میں تقیہ کرتے ہیں کہ جس سے دین کی بنیادوں پر اثر نہیں پڑتا ۔
مثلاً اہلبیت کے چاہنے والوں کا عقیدہ ہے کہ فرش پر سجدہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ سجدہ کرنے کیلئے زمین یا اسی جیسی کوئی چیز ہو اور اس مدعا کی دلیل رسول اللہ ۖ کی حدیث ہے '' جعلت لی الارض مسجد و طھورا'' زمین میرے لئے سجدہ کرنے کی جگہ اور تیمم کا وسیلہ قرار دیا گیا ہے '' ١١ جس کو وہ لوگ پیش کرتے ہیں ۔
اب اگر یہ لوگ وحدت کو برقرار رکھنا چاہیں تو پھر انہیں مسجد الحرام اور مسجد النبی مں نماز پڑھنے کیلئے اسی فرش پر سجدہ کرنا پڑے گا ۔
یہ عمل جائز اور یہ نماز ہمارے عقیدے کے مطابق صحیح ہے ،اسی عمل کو تقیہ مدارائی کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اس مقام پر جان و مال کے لئے کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے بلکہ اسلام کے دیگر فرقوں کے ساتھ مدارا کرنا ہے ۔
تقیہ کی بحث کو ایک بزرگ کا قول نقل کرتے ہوئے تمام کرتے ہیں :
شیعوں کے ایک بڑے عالم دین نے جامعہ ازہر کے ایک شیخ سے ملاقات کی تو اس شیخ نے اس شیعی عالم دین کو سرزنش کرتے ہوئے کہا : ہم نے سنا ہے کہ آپ لوگ تقیہ کرتے ہیں؟
شیعی عالم دین نے کہا: '' لعن الله من حملن اعلی التقیة'' ؛س پر خدا کی لعنت ہو کہ جس نے ہمیں تقیہ کرنے پر مجبور کردیا

حواشی

١۔غافر ٢٨
٢۔آل عمران ٢٨
٣۔ نحل ١٠٦
٤۔ مسند ابی شیبة ، ج ١٢ ص ٣٥٨
٥۔ بحار ج ١٠٩ ص ٢٥٤
٦۔تفسیر کبیر فخر رازی ج ٨ ص ١٣
٧۔ تفسیر نیشاپوری ( در حاشیہ تفسیر الطبری) ج ٣ ص ١١٨
٨۔طبقات ابن سعد ج ٧ ص ١٦٧ چاپ بیروت
٩۔شام میںدریا کے کنارے ایک شہر کا نام ، معجم البلدان ج ٤ ص ٣٠
١٠۔ تاریخ طبری ج ص ١٩٧
١١۔ صحیح بخاری ج ١ ص ٩١ و سنن بیہقی ج ٢ ص ٤٣٣ اور دیگر کتابوں میں بھی یہ حدیث موجود ہے

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک