امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

زینب کبری لوح محفوظ کی زینت

0 ووٹ دیں 00.0 / 5


الحمد لله الذی زين الانسان بالعلم وعلمه جوامع الکلم والصلاۃ والسلام علی ٰاشرف خلق الله ين الکائنات وفخرالممکنات محمد وآله الاطهارنورالاخيار وزيتنة الابرار۔
 “ومن کل شی ء خلقنا زوجين لعلکم تذکرون”(ذاريات 49)

اورہم ہی نے ہرچیز کی دوقسمیں بنائیں تاکہ تم لوگ نصیحت حاصل کروفقہاء کی اصطلاح میں بینہ ایسی دوعادلوں کی گواہیاں ہیں جوواقعہ کے رونماہوتے اورگواہی کے وقت عادل ہوں اوراسے دلیل شرعی اورتشریعی کہتے ہیں کائنات میں بھی تکوینی اورکونیاتی دلیلیں موجودہیں پروردگارعالم نے ہرچیز کے جوڑے پیداکئے تاکہ اس کی وحدانیت کی گواہی دیں ہر چیزمیں اس کی ایک نشانی اوردلیل پائی جاتی ہے جواس کے واحد،احد ،بےنیاز لم یلدولم یولد ولم یکن لہ کفواًاحدہونے پردلالت کرتی ہے۔
عاشوراکے غم انگیزواقعہ کے دومرکزی گواہ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اورعقیلہ بنی ہاشم حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیھا ہیں ۔
پس اسلامی عاشوراکی جائے ولادت کربلائے معلی ہے جسے وجود بخشنے والے یعنی باپ حضرت امام حسین علیہ السلام اورپروان چڑانے والی یعنی ماں حضرت زینب سلام اللہ علیھا جیسی مجاہدہ ہیں۔اگروہ موجودنہ ہوتیں توعاشورایتیم ہوتا۔اوراپنی زندگی کے آغاز ہی میں مرچکا ہوتالیکن حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے اپنے جہاد اورانقلابی اقدامات کے ذریعہ اس عاشورہ کی تربیت کی جسکی رگوں میں شہادت اورمظلومیت کا خون موجیں مار رہا تھا حضرت زینب سلام اللہ علیھانے اپنی آغوش میں عاشورائے حسینی کی تربیت کی اوراپنے زیرسایہ کامیاب ترین جہاد کے ذریعے اسے پروان چڑھایا تاکہ عاشورہ ہر دوراورہرشہر میں تمام آزادانہ انقلابات کامرکزی اوربنیادی نقطہ قرارپائے ۔پس یہ عاشوراامام زمانہ کے ظہور پرنور تک ہونے والے تمام اسلامی انقلابات کی روح رواں ہے ۔
پروردگارعالم نیز انبیاء ؑاوراوصیاءؑ کے علاوہ کائنات میں کوئی بھی مادرعاشورا(حضرت زینب سلام اللہ علیھا)کے مرتبہ اوردنیاوآخرت میں ان کے شرف ومنزلت کا ادراک نہیں کرسکتا کیونکہ کسی شیء کی معرفت حاصل کرنے کا لازمہ یہ ہے کہ اسے اچھی طرح جانا   اور سمجھا جائےاوریہ ممکن نہیں کہ لوگ عاشورا، اس کی حقیقت اوراس کے فلسفے نیز اسے وجودبخشنے والے ماں باپ کا کماحقہ ادراک کرسکیں ۔
حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی زندگی اورآپ کی سیرت، اصالت آسمانی ،شجرہ نبوت ،سایہ ہاشمی ،اورمفاہیم قرآن کی آینہ بردارہے جس اصل زمین میں اورشاخ آسمان میں ہے پس یہ اپنے پدربزرگوار امیرالمومنین ا سد اللہ الغالب حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کی زینت ہیں جنھوں نے اپنی عظمت اورکمالات پرکبھی فخرنہیں کیااورکسی انسان میں یہ طاقت بھی نہیں ہے کہ اس کے اندرموجود فضائل ومراتب کی معرفت حاصل کرلے لیکن آپ نے اپنی پارہ جگر حضرت زینب سلام اللہ علیھاکے اوپر فخرکیاہے اورانہیں باپ کی زینت قراردیاہے ۔
اگرہمیں لوگوں کی عقلوں کے گمراہ ہونے کا خوف نہ ہوتا تو حضرت زینب سلام اللہ علیھاکی مدح وثنا ء اورتعریف وتوصیف میں ایسی بیش بہا باتیں بیان کرتا جو صاحبان عقل کومبہوت اورانگشت بدنداں کردیتیں۔
پروردہ آغوش نبوت وامامت حضرت زینب سلام اللہ علیھاکل بھی بنی امیہ کے ظالم بادشاہوں کے ہاتھوں اسیرتھیں اورآج بھی کمزوراورناقص عقلوں کی اسیرہیں یہاں تک آج بھی انھیں ایک عام عورت سے تعبیرکیاجاتا ہے ۔اگرہم ان کی معرفت میں زبان کھولیں تو لوگ اپنے نفس کوالزام تراشی اورافتراء پردازی کی زنجیروں میں اسیرمحسوس کریں گے اورہمیں غلوکرنے والابتائیں گے حضرت زینب سلام اللہ علیھاہمیشہ نادرست افکار اورسرکش عقلوں کی اسیررہی ہیں ہم ان کی تعریف وتوصیف میں بڑھاچڑھاکر انھیں رب نہیں کہتے ہاں اتناضرورکہتے ہیں کہ پرودگارعالم نے انھیں ایساعظیم خلق کیا ہے۔    
لیکن افراط وتفریط لوگوں کا طریقہ کا ر رہا ہے آپ کے والدماجد حضرت علی علیہ السلام کے سلسلے میں اتنا غلو کیا کہ انھیں الوہیت کی منزل میں لے آئے اوراتنا پست بھی کیا کہ انھیں ایک کافر یاایک عام مسلم کے مانند قراردے دیاتاریخ نے ہمیشہ حضرت علی علیہ السلام پر ظلم کیا اور اسی طرح ان کے فرزند حضرت امام حسین ؑ ان کی اولاد اورذریت پر ظلم روارکھا ،ہمیشہ ان کی غمگین آوازانسانی ضمیر کو جھنجوڑ تی رہے گی۔"اس زمانے کے اوپر حیف کہ اس نے مجھ پر ایسے شخص کاقیاس کیا جومیرے قدم کے برابر بھی نہیں  "زمانے نے مجھے اتناگر ایا کہ علی ؑ اورمعاویہ کانام ایک ساتھ لیا جانے لگا "
رنج وغم میں ڈوبی ہوئی یہ فریاد ہرزمانے میں گونجتی رہے گی ابن ابی الحدیدمعتزلی نے امام علی ؑ کے بارے میں کہا ہے "آپ جامع اورمطلق کلام کہتے ہیں تاکہ روئے زمین پر رہنے والے تمام انسانوں کوشامل ہوجائے ۔
علی ؑ مرتضیٰ ہمیشہ ناشناختہ رہے ہیں اوران کا گراں قیمت کلام "سلوني قبل ان تفقدوني"ہمیشہ غیب سے سنائی دے گا جو صرف مسلمانوں ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ تمام عالم بشریت کے لئے ہے جس طرح ان کے بھائی نبی اعظم " وماارسلناک الارحمة للعالمين"کی روشنی میں ساری کائنات کےلئے رحمت ہے۔(انبیاء107)
حضرت علی ؑ آیت مباہلہ کی روشنی میں نفس رسول ؐ خدا ہیں لیکن لوگوں نے ان پر ظلم کیا جس پر آپ فرماتے ہیں ۔ " اللهم انی استعيذ ک علی قريش ومن اعانهم فانهم صغر واعظيم منزلی واجمعوواعلی منازعتی امراهولی "(منهاج البراعةآقائی خوئی خطبه 171) پروردگارا!میں تجھ سے قریش اوران کے ہم نواووں سے پناہ مانگتا ہوں جنھوں نے میری عظیم منزلت کو گھٹادیا ہے اورجو امر خلافت میراحق تھا اس سلسلے میں مجھ سے بر سر پیکار ہوگئے۔
اسی طرح لوگوں نے عظیم ہستیوں  کے مرتبے اورمقام سے جہالت کی بناء پر علیؑ اولاد علی ؑ اور حضرت زینب سلام اللہ علیھا پرظلم کیا درحقیقت علی ؑ اوران کی اولاد کی معرفت بلکہ حضرت محمد ؐ اور ان کے قرآن ، حضرت علیؑ اوران کی روش ،حضرت فاطمہ ؑ اوران کی مظلومیت ، حضرت حسن ؑ اوران کی سیاست حضرت حسین ؑ اوران کے انقلاب حضرت زینب سلام اللہ علیھا اوران کے عاشورہ ،حضرت سجاد ؑ اوران کے صحیفے یہاں تک کہ امام زمانہ ؑ اوران کے فلسفہ انتظار نیز عالمی حکومت کی معرفت حاصل کرنے کے لئے اسلامی معاشرے کے ضمیر کو ایک نئی زندگی کی ضرورت ہے۔
اوریہ تمام معرفتیں خداکی ذات پر ایمان اس کے جمال اوراس کی عظمت سے محبت اوراس کی خالص عبادت واطاعت ہی کے ذریعہ میسر ہیں اورآج جو کچھ بھی ہمیں حضرت زینب سلام اللہ علیھاکی معرفت حاصل ہے وہ ان کی عظمت اورتقدس کا صرف ایک ہلکا ساپرتو ہے اوریہ ظاہر ہے کہ سائے کے ذریعے کسی شیء کی حقیقت اوراس کی مکمل معرفت حاصل نہیں ہوسکتی۔
دشمنان اسلام نے یہ جان لیا ہے کہ مسلمانوں کے اعتقادات اوراقدارکو نابودکرنے کےلئے اسلامی ممالک پرفوجی حملہ ہی کافی نہیں ہے بلکہ مشرق ومغرب سے ثقافتی حملے بھی کئے جائیں دین کودین کے ذریعہ تباہ کیاجائے اورمذہب کی مذہب کے ذریعہ بیح کنی کی جائے تاکہ اسلامی امت اپنی حقیقت اپنی شرافت اوراپنے صحیح اقداروعقائدسے ہاتھ دھوبیٹھے اوریہ لوگ مشرق ومغرب کے آگے ذلت وخواری کے ساتھ اپنے سرجھکادیں ۔عالم استکبار کا یہی طریقہ کاررہا ہے ضروریات مذہب اوردینی عقائد کے خلاف ان کی آوازیں آج بھی سنائی دے رہی ہیں اورتعجب یہ ہے کہ آوازیں دیندار اوراہل علم افرادسے بھی سنی جاتی ہیں۔
لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیھاکی قدرت اورطاقت ،اخلاق اورایثاروقربانی کی حکومت قائم کرناتھی آپ کااقدام عشق الٰہی اورخدا کی ذات میں فنا ہوجانے کے جذبے کو پروان چڑھاناتھا نیز آپ کی ثقافت ،انفرادی اوراجتماعی زندگی میں انسانی فطرت کی سلامتی کی ضامن تھی ۔
اورعشق الہی جوعاشورا کے انقلاب میں سب سے زیادہ روشن نظرآتا ہے وہ شجرہ طیبہ ہے جس کی اصل زمین میں اورشاخ آسمان میں ہے یہ اپنے پروردگا ر کے حکم سے ہرسال بارورہوتا ہے جس کا ثمر عصمت ہیں جس کے پتے اخلاص ہیں جس کی جڑیں طہارت ہیں جس کاسایہ جمال اورجس کی قدروقیمت جلال ہےعشق الٰہی دل کے مرکز ی نقطہ سے پیداہوتا ہے اورقلب خداکاحرم اوررحمن کاعرش ہے انسانی فطرت قلب کو اس کے مالک حقیقی یعنی خداوند عالم کی معرفت حاصل کرنے کی دعوت دیتی ہے لیکن شیطان اس اللہ کے گھر پرجو مومن کادل خداکاحرم اوررحمن کاعرش ہے قبضہ کرلیتاہے۔
اوراسے اپنا آشیانہ بناکر اس میں انڈےاوربچے پیداکرتا ہے یہاں تک کہ دل شیطان اوراس کی اولاد اوراس کے ہمنواوں نیز اس کی جماعت کاآشیانہ بن جاتا ہے پس قلب مرجاتا ہے اورخدا کی نافرمانی کرنے لگتا ہے لہذاوہ رحمت خداوندی اورعلم الٰہی کاظرف نہیں رہ جاتایہاں تک کہ دل کی موت ہوجاتی ہے اورانسان کی انسانیت فناہوجاتی ہے ،اورحضرت امام حسین علیہ السلام اورحضرت زینب سلام اللہ علیھاکی کربلا عاشقوں کی قتل گاہ ہے جیساکہ حضرت علی علیہ السلام نے کربلا سے گزرتے وقت فرمایاتھا"ھاھنامصارع العشاق" یہی عاشقوں کی قتل گاہ ہے ۔
 

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک