امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

تولّا اور تبرّا کیوں اور کیسے؟

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

      جب ہم اورآپ نظام کائنات میــں غور کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ نظام نفی و اثبات (اور -) کے فارمولے پر مشتمل ہے یعنی ہر شی کو اس کی ضد کے ہمراہ خلق کیاگیا ہے جیسے شب و روز ،نور و ظلمت،سرد و گرم․․․․ وغیرہ۔

      انھیں متضاد اشیاء میں خداوند متعال نے اپنے بندوں کو اظہار محبت و نفرت یا تولا اور تبرا جیسی دو عظیم نعمتوں سے نواز اہے جس طرح تولا یعنی اچھے لوگوں سے محبت کرنا عبادت ہے اسی طرح تبرا یعنی برے لوگوں سے نفرت کرنا بھی عبادت ہے اور یہ ایک فطری  امر ہے بالکل اسی طرح جیسے قوت شامہ خوشبو سے محظوظ ہوتی ہے  اوربدبو سے کراہت  محسوس کرتی ہے،آنکھ حسین مناظر کے ذریعہ    احساس  نشاط  کرتی ہے  اور کریہ المنظر اشیاء کو دیکھنا پسند نہیں کرتی،زبان خوش ذائقہ چیزوں سے لذت محسوس کرتی ہے اور بد ذائقہ چیزیں اسے ناگوار لگتی ہیں کان  سریلی آوازوں سے لطف اندوز  ہوتا ہے اور بھدی آوازیں اس  پر گراں گزرتی ہیں۔


تولا اور تبرا سنت الٰہیہ:

     قرآن مجید میں اگر مادۂ ـحب و ودّ اور لعن و برأ کو ملاحظہ کیا جائے تو ہم اس حقیقت تک باآسانی پہونچ سکتے ہیں کہ خداوند متعال کی یہ سنت رہی ہے کہ اس نے نیک لوگوں سے اظہار محبت کیا ہے اور ان سے محبت و مودت کا حکم دیا ہے ،برے لوگوں سے اظہار نفرت کیا ہے اور ان سے بیزاری کا حکم دیا ہے اور سنت الٰہیہ پر عمل کرتے ہوئے ہر نبی اور وصی نبی نے بھی نیک کردار لوگوں سے اظہار الفت اور بد کردار لوگوں سے اظہار برأت کیا ہے۔
تولا اور تبرا کیوں کریں:
     تولا اور تبرا اس لئے کرنا چاہئے کہ چونکہ یہ خدا ،انبیاء اور اوصیاء کی سنت و سیرت ہے۔ تبرا کے جواز پر قرآنی اور روائی دلیلوں کے علاوہ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر انسانی عقل کہتی ہے کہ اچھے لوگوں سے محبت اور اظہار محبت کیا جائے اور برے لوگوں سے نفرت اور اظہار نفرت کیا جائے۔دوستان خدا کی محبت کے ساتھ دشمنان خدا سے بیزاری بھی ضروری ہے ورنہ صداقت محبت خطرے میں پڑ جائے گی چونکہ یہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔
کیسے کریں؟
     یہ بات کسی بھی صاحب علم و عقل سے پوشیدہ نہیں ہے کہ تبرا فحش کلامی اور گالی بکنے کا نام نہیں ہے بلکہ دل و زبان سے اظہار نفرت کے ساتھ ساتھ دشمنان خدا اور اہل بیتؑ کے رفتار و کردا ر سے دوری کا نام ہے جس طرح تولا قلبی اور زبانی محبت کے علاوہ خاصان خدا کے نقش قدم پر چلنے کا نام ہے ۔اسلام کی نظر میں حسب و نسب ،مال و منال اور نام و مقام کی کوئی حیثیت نہیں ہے معیار فقط اخلاق و کردار ہے اگر کردار اچھا ہے تو انسان لائق تولا ہے اور اگر کردار برا ہے تو وہ مسحق تبراہے۔
     تولا کی طرح تبرا بھی ایک واجب قابل تحسین اور باعث ثواب عمل ہے لیکن زبانی تبرا کے لئے موقع و محل وغیرہ کا لحاظ لازمی امر ہے  ﴿لاتسبواالذین یدعون من دون اﷲ فیسبوا اﷲ عدواً بغیر علمٍ ․․․․﴾(انعام؍۱۰۸)دوسری چیز جس کی رعایت زبانی اظہار برائت میں ضروری ہے ،یہ ہے کہ فحش اور بیہودہ قسم کے الفاظ کا استعمال نہ صرف یہ کہ اخلاقی اقدار کے منافی  ہے بلکہ شرعابھی جائزنہیں ہے  لہٰذا جشن و سرور کی محفلوں میں ایسے کلموں اور جملوں کا استعمال روا نہیں ہے جو خدا ،رسول اور ائمہ کی ناراضگی کا سبب بنیں﴿ قل اعملوا فسیر اﷲ عملکم ورسوله والمؤمنون․․․․․﴾ (توبہ؍۱۰۵) 
      آخر میں بارگاہ رب میں دعا کرتے ہیں کہ ہم سب کو صحیح معنوں میں اہل بیتؑ اور ان کے دوستوں سے تولا اور ان کے دشمنوں سے تبرا کرنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطافرمائے۔(آمین)

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک