امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

مصحف فاطمہ سلام اللہ علیہا

4 ووٹ دیں 05.0 / 5

بسم الله الرحمن الرحیم

تمہید

علم اہل بیت علیہم السلام کا منبع خدا کا لا متناہی علم ہے؛ اسی لئے یہ ہستیاں علم لدنی کی مالک ہیں۔ بشری علوم سے  ان کے علوم کا مقایسہ نہیں ہے۔ ان علوم  کا درک کرنا بھی   کسی بشر کے بس میں نہیں ہے؛ اس لئے کہ یہ نورانی ہستیاں اگر چہ عام انسانوں کے درمیان رہیں، انہی کی طرح زندگی گزاری  لیکن ان کی مثال ان رسولوں کی طرح ہے جو  لوگوں کی طرح کھاتے پیتے تھے بازاروں میں چلتےتھے، (1) لیکن اپنی صلاحیت کی بنا پر رسول تھے نبی تھے اولو العزم تھے۔ یہ سنت الہی ہے کہ لوگوں میں سے کسی کو رسول منتخب کرتا ہے، قرآن اس بات کو تاکید کے ساتھ بیان کر رہا ہے  کہ خدا نے مومنین پر انہی میں سے رسول مبعوث کرکے احسان کیا۔(2) اس میں لوگوں کی بھلائی ہے کہ انہیں میں سے کسی کو رسول بنایا جائے جو ان پر بہت زیادہ مہربان، دلسوز ہو،(3 )اور ان کی مصلحتوں کو خود ان سے زیادہ جاننے والا ہواس لئے ان کے اسرار اور گھر میں چھپائی ہوئی چیزوں کے بارے میں جانتے تھے اور انہیں خبر دیتے تھے۔( 4)
امامت چونکہ استمرار نبوت ہے اور جوکچھ نبوت کے لئے ضروری ہے وہ امامت کے لئے بھی ضروری ہےاور جس بنیاد پر نبی  کی ضرورت ہے اسی بنیاد پر امام کی بھی ضرورت ہے۔( 5)پس خدا نے جو کچھ نبی اور رسول کو عنایت فرمایا ہے وہ امام کو بھی عنایت فرما ہے لیکن صرف ایک چیز امام کو نہیں دی  وہ وحی ہے،( 6)امام پر وحی نازل نہیں ہوتی  ہے لیکن اس کے بدلے میں مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا جیسا عظیم مخزن اور ذخیرہ عنایت فرمایا۔جس کے بارے میں ہر امام  فخر کرتا تھا کہ ہمارے پاس مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے۔( 7)اور اس میں دیکھ کر مختلف حوادث کے بارے میں خبر دیتے تھے۔(8)
اسی لئے مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا اسباب امامت میں شامل ہے اور ہر امام اپنے بعد والے امام کے حوالے کرتے تھے ابھی یہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے پاس ہے۔ ظہور کے وقت جہاں وہ آثار نبوت و امامت منجملہ تابوت بنی اسرائیل ، عصائے موسی علیہ السلام اپنے ہمراہ لے آئیں گے وہیں وہ مصحفِ فاطمہ کو بھی ساتھ لے آئیں گے۔اور چونکہ یہ اسباب امامت میں شامل تھا اسی لئے امام صادق علیہ السلام کئی مواقع پر اپنے دشمنوں کو چیلینج دیتے تھے کہ:
 کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو نکال لائیں؛ کیونکہ اس میں وصیت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے اور اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا اسلحہ ہے۔(9)یہی وہ چیلینج تھا جو خدا نے قرآن کے منکروں کو دیا تھا اگر وہ سچ کہتے ہیں کہ یہ کسی بشر کا کلام ہے تو اس کے جیسےدس سورے لے آئیں(10)یا ایک سورہ لے آئیں۔(11)پھر ذات الہی نے خود جواب دیا کہ وہ اس کے جیسے نہیں لا سکیں گے اگر چہ ایک دوسرے کے مددگار بنیں۔(12)
اس ناچیز تحریر کے سطور میں مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا  کے  متعلق جناب حجۃ الاسلام سید تقی واردی کے ایک مقالے کا ترجمہ پیش کیا ہے جسے الحسنین سائٹ فارسی سے لیا گیا ہے۔  اپنی اس ناچیز کاوش کو امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے نام کرتا ہوں جو وارث فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہے اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کے خون کا، محسن کا اور جلے ہوئے دروازے کا بدلہ لینے والا ہے ۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  شاید میری اس ناچیز کوشش کو قبول فرمائے اور میدان حشر میں اس رو سیاہ کی طرف بھی نظر رحمت فرمائے۔
والسلام

محمد عیسی روح اللہ قم المقدسہ حرم اہل بیت علیہم السلام۔
10 جمادی الثانی1436 ہ ق- یکم مارچ 2015 بمطابق  10/12/1393 ہ ش۔

 

علم ائمہ علیہم السلام کی حقیقت

ان چیزوں کا ادراک بشر کے بس میں نہیں ہے جوان کی عقول سے بالا ہیں، مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی عقل بشری سے بالا ہے؛ چونکہ علم ائمہ علیہم السلام کا منبع یہی ہے،یہ وہ ہستیاں ہیں جو جب جسم مادی میں اس دنیا میں آئیں اور لوگوں کے درمیان زندگی گذاری تو ان کے عقول کے مطابق بات کرنے پر مامور تھے جیسا کہ انبیاء اس بات پر مامور تھے(13) لیکن یہی ہستیاں جب ایک دوسرے سے بات کرتے تھے تو  وہ باتیں بیان فرماتی تھی جنہیں نبی مرسل، ملک مقرب اور مومن راسخ اور آزمائش شدہ کے علاوہ کوئی اور تحمل نہیں کر سکتا تھا۔(14) اسی طرح ان کی حدیث ااور اوامر بھی ہیں۔(15)
دعا اور زیارت میں بھی یہی فرق ہے کہ دعا وہ کلام ہے جو یہ ہستیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ کس طرح معبود سے  ہمکلام ہونا ہے لیکن زیارت ایسا کلام ہے جو یہ ہستیاں ایک دوسرے سے کرتی ہیں؛  اسی لئے جب ائمہ علیہم السلام دعا کرتے تھے تو فرماتے تھےکہ  میرے مولا! اگر تیرے علاوہ کوئی میرے گناہوں پر مطلع ہو جائے تو ایک لحظہ کے لئے مجھے امان نہ دے، مجھے چھوڑ کے چلا جائے  اور مجھ سے ناطہ توڑ دے ابھی میں  تیرے سامنے  سر جھکائے کھڑا ہوں اب اگر تو نہ بچائے  تو  مجھے آگ سے بچانے والا کوئی نہیں۔(16) یہ کون ہے جو خدا کے حضور گڑگڑا رہا ہے  یہ سید الشہداء اباعبد اللہ الحسین علیہ السلام ہے جو منی کے میدان میں اپنے معبود سے ہمکلام ہورہے ہیں یہ وہ ہستی ہے جس کی زیارت کرتے ہوئے امام باقر علیہ السلام فرماتے تھے سلام ہو تم پر اے وہ ہستی جو نزول رحمت کا سبب ہے جس کی بدولت آسمان بارشیں نازل کرتا ہے جس کی بدولت زمین اپنے ذخائر کو عیاں کرتی ہے۔


علم ائمہ علیہم السلام کے مراتب

علم ائمہ کے تین مراتب ہیں:
پہلے مرتبے پر وہ علوم ہیں جو لوگوں لئے مشعل راہ ہیں دنیا و آخرت کی سعادتیں ان میں ہیں اور یہ علوم احادیث کی شکل میں لوگوں تک پہنچے ہوئے ہیں جو کہ ہر مردہ دل کو زندہ کرتے ہیں۔(17) اس وقت ہمارے پاس موجود تمام احادیث کی کتابیں؛ کتاب سلیم اور کتاب فضل بن شاذان سے  لیکر شیخ عباس قمی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب، سفینۃ البحار تک اسی قسم میں سے ہیں۔
دوسرے مرحلے پر وہ علوم ہیں جنہیں ہر کوئی درک نہیں کر سکتا بلکہ ملک مقرب، نبی مرسل اور مومن راسخ ہی درک کر سکتے ہیں یہ وہ   اسرار ہیں جنہیں امام نے اپنے بعض خاص اصحاب کو سکھایا ۔
اور تیسری قسم ان علوم کی ہے جنہیں کوئی بھی تحمل نہیں کرسکتا یہاں تک ملک مقرب، نبی مرسل اور مومن راسخ بھی اس سے عاجز ہیں۔(18)  مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا، جفر، جامع وغیرہ اسی سے ہیں اسی لئے ان کی تعلیم امام نے کسی کو بھی نہیں دی۔
اسی لئے مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ائمہ نے خود اپنے پاس رکھا اور کسی کو نہیں دکھایا، اس عظیم مخزن کے بارے میں اسی حد تک جاننا کافی ہے کہ یہ امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے پاس ہے اور آپ اس مصحف کی برکت سے آئندہ کے تمام حالات سے واقف ہیں اسی لئے اپنے چاہنے والوں کی دلجوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
وَ إِنَّا غَيْرُ مُهْمَلِينَ لِمُرَاعَاتِكُمْ وَ لَا نَاسِينَ لِذِكْرِكُمْ وَ لَوْ لَا ذَلِكَ لَنَزَلَ بِكُمُ اللَّأْوَاءُ وَ اصْطَلَمَكُمُ الْأَعْدَاءُ وَ لَوْ أَنَّ أَشْيَاعَنَا وَفَّقَهُمُ اللَّهُ لِطَاعَتِهِ عَلَى اجْتِمَاعِ الْقُلُوبِ لَمَا تَأَخَّرَ عَنْهُمُ الْيُمْنُ بِلِقَائِنَا.
ہم مسلسل تم لوگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور کبھی بھی تمہیں بھولے نہیں ہیں اگر ہم تمہیں بھول جاتے تو بلائیں تم پہ نازل ہوجاتیں اور دشمن تمہیں رونڈھ ڈالتے، اگر خدا ہمارے شیعوں کو توفیق دے دے کہ ان کے دل ہماری اطاعت پر جمع ہو جاتیں تو وہ ہمارے  دیدار سے محروم نہیں رہتے۔(19)


مصحف اور صحیفہ میں فرق

صدر اسلام سے لیکر آج تک مصحف کا لفظ صرف قرآن پاک پر اطلاق ہوتا آیا ہے، جیسے مصحف علی علیہ السلام، مصحف امام رضا علیہ السلام، مصحف عثمان طہ؛  یعنی امام علی علیہ السلام، امام رضا علیہ السلام یا عثمان طہ کا جمع کردہ یا لکھا ہوا قرآن کریم، لیکن مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا ایسا نہیں ہے  یعنی کبھی بھی کسی معصوم نے یا شخصیت نے اسے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا جمع کردہ قرآن نہیں کہا ہےبلکہ ائمہ علیہم السلام ہمیشہ سے تصریح فرماتے آئے ہیں کہ اس میں قرآن سے ایک حرف بھی نہیں جیسا کہ بعد میں اس مضمون کی احادیث کا بھی تذکرہ ہو گا۔
اور  شاید بعض لوگوں نے اس اطلاق کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ مصحف قرآن پاک پر اطلاق آتا ہے، مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو صحیفہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے بھی تعبیر کیا ہے(20) لیکن اسے مصحف ہی کہا جائے گا جیساکہ ائمہ معصومین علیہم السلام اس کی وجہ سے فخر کرتے تھے کہ ہمارے پاس مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے۔(21)
ایک فرق ہے مصحف اور صحیفہ میں، جیسا کہ بعض بزرگان نے فرمایا ہے کہ صحیفہ اس نوشتہ یا کتاب کو کہا جاتا ہے جوکسی ایک شخص نے   ایک مجمع، گاوں ،گروہ  یا عام الناس کے نام لکھا ہو جیسے صحیفہ سجادیہ جو امام سجاد علیہ السلام نے اپنے چاہنے والوں کے نام لکھا تھا لیکن مصحف اس نوشتہ کا نام ہے جو ایک شخص نے اپنے لئے یا کسی مخصوص  ہدف کے لئے لکھا ہو جیسے مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا۔(22)
لیکن یہ فرق کئی جہات سے صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ قرآن جو کہ مصحف ہے جملہ مخلوقات سے مخاطب ہے جسے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیان کرنے پر مامور تھے۔(23)اس  کے علاوہ اہل لغات ان دونوں کو نوشتہ یا لکھی جانے والی چیز سے تعبیر کرتے ہیں یا وہ چیز جس کے ذریعے لکھا جاتا ہے جیسے قلم ۔(24)
ہاں ممکن ہے مصحف صرف اس نوشتہ کو کہا جائے جس میں ان چیزوں کو لکھا گیا ہو جو وحی ذریعے روح القدس یعنی جبرئیل لے کر آیا ہو جیسے قرآن کے بارے میں خدا ارشاد فرماتاہے کہ اسے روح القدس (جبرئیل) نے تیرے پروردگار کی جانب سے برحق نازل کیا ہے۔ (25)  تو اس صورت میں مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے لئے مصحف کا اصطلاح ہی صحیح ہے کیونکہ  یہ مصحف بھی ان باتوں پر مشتمل ہے جنہیں رحلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد جبرئیل لے کر  بیت فاطمہ الزہرا سلا اللہ علیہا میں آتا تھا اور علی علیہ السلام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے وحی لکھتے تھے یہاں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پر نازل شدہ باتوں کو لکھ رہے تھے۔(26) لیکن صحیفہ ایسا نہیں ہے بلکہ صحیفہ علم ائمہ کا مظہر ہے جو   انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے میراث میں لیا ہے جس طرح ہم زیارت میں پڑھتے ہیں کہ میراث نبوت آپ علیہم السلام کے پاس ہے (27)اسی طرح بصائر الدرجات میں  پورا ایک باب اسی سے مخصوص ہے جس کا عنوان یہ ہے کہ رسول اللہ نے اپنی رحلت کے وقت  علم اکبر یعنی اسم اعظم، میراث نبوت اور میراث علم ،علی علیہ السلام کے حوالے فرمایا۔(28)
اس لئے ائمہ معصومین علیہم السلام  مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا  کا ذکر تے ہوئے فرماتے تھے:
ہمارے پاس مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی ہےلوگ کیا جانیں کہ وہ کیا ہے؟ اس مقام پر راوی نے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:
تمہارے اس قرآن سے (بلحاظ تفصیل و توضیح) وہ مصحف تین گنا زیادہ ہے۔(29)


فاطمہ سلام اللہ علیہا شیعہ عقیدے کے مطابق

ہمارا عقیدہ ہے کہ فاطمہ زہرا  سلام اللہ علیہا  بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم زوجہ امیر المومنین  علیہ السلام ،ام الائمہ کائنات کے تمام عورتوں کی سردار ہے(30 )ان سے بڑھ کر فضیلت میں کوئی نہیں  اسی طرح یہ بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ سلام اللہ علیہا دیگر تیرہ معصومین علیہم  السلام  کی طرح حجت خدا ہے اس کا قول ، فعل اور تقریر ہمارے لئے حجت ہے، پس وہ دیگر ائمہ معصومین علیہم السلام کی طرح عصمت کے مقام پر بھی فائز ہیں اور یہ ضرورت مذہب میں سے ہے۔( 31)اسی طرح ہمارا عقیدہ ہے کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بتول ہے (32) ؛ یعنی ایسی عورت جس نے اپنی زندگی میں کبھی خون(حیض، نفاس اور استحاضہ) نہیں دیکھا،(33)اسی طرح ہمارا عقیدہ ہے کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا صدیقہ اور شہیدہ ہے(34)وہ اپنے طبیعی موت سے نہیں گئی بلکہ وہ شہید ہوگئی۔اسی طرح  یہ بھی ہمارے اعتقادات  کا جزء ہے کہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی خوشی، غم، دکھ ، سکھ اور دوستی دشمنی  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی خوشی، غم، دکھ ، سکھ اور دوستی دشمنی ہے۔(35)


مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا  شیعہ عقیدے کے مطابق

جب مرحوم میرزا جواد تبریزی اعلی اللہ مقامہ سے سوال ہواکہ مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کیا ہے اور کیا یہ شیعہ اعتقادات کے مطابق ہے؟ تو آپ نے جواب دیا:
مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے مراد جیساکہ معتبر روایتوں میں آیا ہے یہ ہے  کہ ایک فرشتہ رحلت رسول خدا صلی اللہ علیہ  و آلہ و سلم کے بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے پاس آتا تھا اور اسے تسلی دیتا تھا ساتھ ہی آئندہ رونما ہونے والے واقعات بھی سناتا تھااور  حضرت امیر المومنین علیہ السلام ان تمام باتوں کو لکھتے تھے۔ اس نوشتہ کا نام مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا ۔ہے یہ نہ توقرآن ہے جیسا کہ بعض کا خیال ہے یا ہمارے دشمنوں نے ہم پر تہمت لگائی ہے اور نہ ہی احکام پر مشتمل ہے بلکہ یہ آئندہ پیش آنے والے حوادث پر مشتمل ہے اور فرشتے کا حضرت سلام اللہ علیہا سے  گفتگو کرنا کوئی حیرانی کی بات نہیں ؛چونکہ قرآن نے فرشتے کی حضرت مریم سلام اللہ علیہا سے گفتگو کرنے کوثابت کیا ہے۔ ہم شیعوں کے عقیدے کے مطابق جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا  جناب مریم سلام اللہ علیہا سے افضل ہے اس لئے کہ جناب مریم سلام اللہ علیہا صرف اپنے زمانے کی  خواتین کی سردار تھی لیکن جناب سیدہ اولین و آخرین کے خواتین کی سردار ہے۔
اسی طرح جب آپ سے پوچھا گیا کہ کیا شیعوں کے پاس اسی قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن بھی ہے جسے "قرآن" یا "مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا" کہا جائے؟
تو آپ نے جواب میں فرمایا:
یہ ادعا کرنا کہ شیعوں کے پاس معروف قرآن کے علاوہ کوئی اور قرآن بھی ہے صرف اور صرف تہمت اور بہتان ہے۔ شیعوں کے پاس ایسی کوئی کتاب نہیں۔ لیکن مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا ایسی چیز ہے جو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا پر املاء ہوتی تھی  یہ صرف ائمہ علیہم السلام کے پاس ہے شیعوں کے پاس نہیں۔(36)


کتب ائمہ کی اقسام

ائمہ معصومین علیہم السلام کے دست مبارک سےیا  ان کی املاء یا ان خطبات خطوط اور وصیتوں کے بارے میں  لکھے ہوئے کتابوں کے چار قسم ہیں:
وہ  کتابیں جو خود انہوں نے تو نہیں لکھے ہیں لیکن ان کی تقاریر، خطوط اور وصیتوں پر مشتمل ہیں جیسے نہج البلاغہ جو کہ سید رضی رحمۃاللہ علیہ نے لکھا ہے ،جس میں امیر المومنین کے خطبات، خطوط اور چھوٹے چھوٹے کلمات جمع کئے ہیں اور  یہ سارے جواہر پارے تسبیح کے دانوں کی طرح نہج البلاغہ نامی ایک دھاگے میں سینچے ہوئے ہیں۔ اسی طرح الجعفریات،تفسیر حیدری وغیرہ بھی اسی باب میں سے ہے۔
وہ کتابیں جو ان ہستیوں نے املا فرما کر سب لوگوں کے استفادہ کے لئے  دے دیا، جیسے صحیفہ سجادیہ اور رسالہ حقوق جو امام سجاد نے املا ء فرمایا اور آج ہمارے ہاتھوں میں ہے۔
وہ کتابیں جو ان ہستیوں نے اپنے سے پہلے امام کے توسط سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وراثت میں پائے ہیں جیسے جفراحمر، جفر ابیض ، جفر اکبر اور جفر اصغر وغیرہ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
إِنَّ عِنْدِي الْجَفْرَ الْأَبْيَضَ قَالَ قُلْتُ فَأَيُّ شَيْ‌ءٍ فِيهِ قَالَ زَبُورُ دَاوُدَ وَ تَوْرَاةُ مُوسَى وَ إِنْجِيلُ عِيسَى وَ صُحُفُ إِبْرَاهِيمَ ع وَ الْحَلَالُ وَ الْحَرَامُ
میرے پاس جفر ابیض ہےراوی نے پوچھا کہ اس میں کیا ہے؟ امام علیہ السلام نےفرمایا: اس میں زبور داوود، تورات موسی، انجیل عیسی،ابراہیم کے صحیفے، اور حلال و حرام کی باتیں ہیں۔(37)
وہ کتب جو ان ہستیوں نے خود ایک دوسرے کے لئے لکھے ہیں ، انہیں ہر امام اپنے بعد والے امام کے حوالے کرتا تھا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دست مبارک میں ہیں، ان میں ایک مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور دوسرا الجامعہ نامی کتاب ہے جو تمام حلال اور حرام پر مشتمل ہے۔
پس مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا میراث امامت کے طور پر امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے پاس ہےاسی لئےامام فرماتے ہیں:
وَ فِي ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلی الله علیه و آله  لِي أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ  و آلہ  و سلم کی بیٹی میں میرے لئے اسوہ حسنہ ہے۔( 38)یہ وہ علمی خزانہ ہے جس میں کان و ما یکون کی خبریں درج ہیں۔ اورہرامام جو بھی غیبی خبر دیتا تھا وہ اسی مصحف میں دیکھ کر دیتے تھے۔


عدم تفصیل کی علت

ائمہ علیہم السلام نے کبھی بھی مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تفصیل بیان نہیں فرمائی،  صرف اتنا فرمایا کہ اس میں تا روز قیامت آنے والے واقعات، لوگ، حیوانات، چرند و پرند کے بارے میں تفصیل ہے، اور ساتھ ایک دو نمونے پیش کئے اس سے زیادہ بیان نہیں فرمایا۔ پس امام زمانہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہے اس مصحف میں کیا ہے؟ جفرابیض میں کیا ہے؟یہ بھی حکمت پر مشتمل ہے مخصوصا جب کتب آسمانی؛ تورات، انجیل اور زبور جیسے کتابوں میں تحریفیں ہوئیں، تو اگر مصحف اور جفر جیسے علمی ذخیرے لوگوں کے پاس ہوتے تو کیا حال ہوتا مخصوصا امام علیہ السلام نے جب جفر ابیض کے بارے میں فرمایا کہ اس میں تورات اور انجیل ہے، تو اس کا مطلب ہے وہ اصل تورات اور انجیل جو موسی اور عیسی علیہما السلام پر اترے وہ اس میں ہے نہ کہ آج کے تحریف شدہ تورات اور انجیل۔ اب یہ ہستیاں تمام انبیاء کی وارث ہیں۔ ان کی میراث کےمحافظ بھی ہیں تو اس میراث کی حفاظت کی خاطر اسے بشری ہاتھوں نہیں دیا  اور خود ان کے محافظ بن کر اپنے پاس رکھا۔
 ہاں البتہ جب امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا ظہور ہوگا تو آپ ان کتابوں کو بھی ساتھ لے آئیں گے ۔ جیسا کہ رأس الجالوت نے امام رضا علیہ السلام سے امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی امامت کی دلیل مانگی تو امام نے فرمایا دہ اہل تورات اور اہل انجیل کےدرمیان تورات اور انجیل کے مطابق فیصلہ سنائیں گے۔(39) اس لئے کہ ائمہ علیہم السلام میں سے صرف امام علی کو مختصر وقت کے لئے ظاہری حکومت ملی اور وہ بھی تین گروہوں کے ساتھ جنگ میں گزر گیا حضرت علی کی تمنا تھی کہ اگر اسے فرصت ملتی تو اہل تورات کو تورات اور اہل انجیل کو انجیل کے مطابق فیصلہ سناتے (40)  مگر افسوس انہیں یہ فرصت نہیں ملی ۔اب امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف اس کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
 اگر کوئی دوران غیبت میں علم جفر  یا  مصحف  فاطمہ سلام اللہ علیہا سے منسوب کرکے علوم کا حوالہ دے مثلا بعض جگہ علم جفر کے نا م پر عجیب و غریب باتین بیان کی جاتی ہیں،ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ بعض لوگوں کا وہم و گمان ہے۔
مومنین کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ کہیں عالم نما جہلاء جفر کے نام سے انہیں دھوکہ نہ دیں؛ اس لئے کہ ہم شیعوں کا عقیدہ ہے کہ یہ علوم  آثار امامت میں سے ہیں اور جیسا کہ متعدد احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ان ہستیوں کے معجزوں میں سے ایک ہے۔


تاریخ مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مصحف جناب سیدہ سلام اللہ علیہا نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں املاء فرمایا ہے جب خد ا کے حکم سے فرشتہ آپ سلام اللہ علیہا کے پاس آپ کے  والد گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مصیبت میں تسلی دینے اور آئندہ کی خبریں دینے آیا کرتا تھا اور اس میں شک نہیں کہ یہ مصحف پچہتر 75 دن یا 95 دن کے اندر اندر تکمیل ہوا  ۔
روایت میں آیا ہے کہ بعض اصحاب نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں سوال کیا تو امام نے کچھ دیر سکوت فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ تم لوگ غیر ضروری باتوں کے بارے میں بحث و گفتگو کرتے ہو،  رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا پر سخت مصیبت کی گھڑی آئی اس دوران جبریل  آپ سلام اللہ علیہا کے پاس آیا کرتے تھے تاکہ والد گرامی کی مصیبت میں انہیں تسلی دے اور ساتھ ساتھ جنت میں مقام رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت بھی کرائے جائے اور انہیں آئندہ آنے والے واقعات، خاص کر ان کی اولاد پر پڑی جانے والی مصیبتوں  کے بارے میں آگاہ کریں، امیر المومنین ان سب باتوں کو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے لئے یادداشت فرماتے تھے اور اسی کا نام "مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا" ہے۔(41)
اسی طرح ایک اور روایت جسے جناب حماد بن عثمان نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کیا ہے۔(42)
اصول کافی کتاب حجت میں ایک باب اس عنوان سے ہےجسے "ذکر صحیفہ، جفر، جامعہ اور مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا" کا باب کہا جاتا ہے۔(43) مذکورہ باب میں کل آٹھ روایتیں ہیں ہم نے اختصار کی خاطر صرف دو روایتوں پر اکتفاء کیا۔


مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا میں کیا ہے؟

اگر چہ اس سوال کا جواب اجمالی طور پر بیان ہوا لیکن ابھی بھی بہت کچھ پردہ ابہام میں چھپا ہوا ہے۔ اس پردے کوہٹانا امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے علاوہ کسی اور کے بس میں نہیں۔ لیکن  انہیں ہستیوں کے بتائے ہوئے فرمان کو نقل کرتے ہوئے اس سوال کا کچھ کھل کر جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں  ۔ گذشتہ سطور میں لکھی گئی احادیث کی رو سے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا قرآن نہیں بلکہ قرآن سے ایک حرف بھی اس میں نہیں اور یہ قرآن سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ اس میں حلال و حرام کا بھی تذکرہ نہیں تو اس  میں  کیا ہے؟ امام صادق علیہ السلام نے  اجمالا فرمایا کہ اس میں کیا کیا  ہے۔ البتہ مختلف احادیث کو  سامنے رکھتے ہوئے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اس میں کان  و ما یکون الی یوم القیامہ کے علوم ہیں ؛ تمام بادشاہوں اور ان کے وزیروں کے نام، تمام دشمنوں کے نام بمعہ ولدیت کے، محبین علی علیہ السلام کےنام ،اس کےعلاوہ اس میں ہر اس چیز کا علم ہے جو خدا نے خلق فرمائی ہے۔


مصحفِ فاطمہ سلام اللہ  اماموں  کا مرجع

جب صفحات تاریخ میں جھانکیں تو پتہ چلتا ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام مختلف حالات میں مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی طرف رجوع فرماتے تھے،  امام وہ نمائندہ الہی وہ جانشین رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو خدا کی طرف سے ہدایت پر مامور ہے خد ا کی طرف سے جو بھی امر و نہی آتا ہے وہ انہی ہستیوں کے گھروں  سے صادر ہوتا ہے، وہ مشیت الہی کا مظہر تمام ہے  وہ ہستیاں جو لا الہ الا اللہ اور تمام اسماء الہی کا جلوہ نما ہیں( 44)انہیں ہستیوں کے باعث آسمان اپنی جگہ ثابت ہے، انہیں کی بدولت آسمان اپنے قطروں سے زمین کو سیراب کرتا ہے۔(45) ایسے کمالات کی حامل ہستیاں اگر اس مصحف کی طرف رجوع فرمائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہستیاں بھی اس عظیم علمی    ذخیرے کی ممنون ہیں۔
اور کیوں نہ ہو یہ مصحف تو ایک ایسی ہستی پر نازل ہوا ہے جو  "و لو لا فاطمة لما خلقتکما" (46)کی مالکہ ہے، جس کی رضایت اور ناراضگی میں خدا کی رضایت اور ناراضگی ہے، (47)جسےکسی نے اذیت پہنچائی تو گویا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اذیت پہنچائی، (48)یہ وہ عظم بیٹی ہے جو اپنے باپ کے لئے ماں کی حیثیت رکھتی تھی؛  اسی لئے اسے ام ابیہا کہہ کر پکارتے تھے اور وہ رسول جو منصب  رسالت پر فائز ہیں جب یہ بیٹی اس پر وارد ہوتی تھی تو اپنے تمام قد و قامت کے ساتھ اس کی تعظیم کو  اٹھتے تھے نہ صرف اٹھتے تھے بلکہ اس کے استقبال کے لئے اپنی جگہ چھوڑدیتے تھے، بار ہا زبان رسالت سے یہ فرماتے ہوئے سنا  گیاہے کہ اس بیٹی سے مجھے جنت کی خوشبو آتی ہے،( 49)اور یہ بھی فرماتے ہوئے سنا گیا ہے کہ یہ میرے جگر  کا ٹکڑا  اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، (50 )اور اس پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ یہاں تک فرمایا کہ میری بیٹی وہ  ہے جس کے دل و جان اور تمام اعضاء و جوارح کو خدا نے ایمان اور یقین کے نور سے منور فرمایا ہے ۔( 51)ان سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا  کو مقام محمود کی بشارت بھی دی ہے  اور ساتھ ہی مقام شفاعت کی بشارت بھی دی، جنتی عورتوں کی سرداری کی سند بھی زبان رسالت سے اعطاء ہوئی۔(52)
 ان فضائل پر اکتفاء نہ کیا اور رسول خدا نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلے جنت میں جانے والی ہستی فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے(53)  اس کلام کی قدر و قیمت وہ مجتہد عصر جانتے ہیں جنہوں نے ایک عمر در فاطمہ سلام اللہ علیہا پہ حاضری دی ہے جنہوں نے ایام فاطمیہ کی بنیاد رکھی اور اسے عاشورا کی طرح منانے کا حکم دیا وہ فرماتے ہیں اگر اس کلام کو درک کر لیں تو سارے مشکلات حل ہیں یہ جو رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں کہ میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا سب سے پہلے جنت میں جائے گی اس کا مطلب یہ ہے میں تمام انبیاء علیہم السلام کا سردار ہوں تمام انبیاء سے پہلے میں جنت میں جاؤں گا لیکن مجھ سے پہلے میری بیٹی جنت میں جائے گی اس کے بعد میں اور علی اور  باقی اہل بیت ساتھ جنت ہی میں جائیں گے۔(54)
در واقع ائمہ کا حقیقی مرجع فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ذات تھی کیونکہ یہی ہستی وہ ہے جسے سب ائمہ نے "امنا (ہماری ماں)" کہہ کر خطاب کیا ہے۔ یہاں "أم" صرف نسبی ماں ہی نہیں  بلکہ کبھی اصل اور ریشہ کو بھی ماں کہاں جاتاہے(55) اسی لئے ہر مشکل میں ان کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ اور چونکہ نسبی ماں ہے امام علی علیہ السلام کے علاوہ باقی سارے ائمہ علیہم السلام ان کی اولاد ہیں ہر مشکل گھڑی میں ان کا نام لیا کرتے تھے جیسے سید الشہداء علیہ السلام جب حر رحمہ اللہ کے لشکر سے ملے اور بحث و گفتگو کے بعد حر  نے حسین علیہ السلام کی کسی بھی بات کو قبول نہیں کیا تو فرمایا کہ "ائے حر! تیری ماں تیرے غم میں بیٹھےتم مجھ سے کیا چاہتے ہو"(56) یہاں امام  علیہ السلام نے حر کو اس کی ماں کی یاد دلائی شاید حر بھی اس بات کی طرف متوجہ ہو جائے کہ امام حسین علیہ السلام کی ماں کون ہے؟! اسی لئے حر نے جواب دیا کہ اگر آپ علیہ السلام کے علاوہ کوئی دوسرا مجھ سے اس طرح بات کرتا تو اس کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ میں خوب جانتا ہوں لیکن آپ کی ماں تو وہ عظیم ہستی جسے نیکی کے ساتھ یاد کرنا چاہئیے ۔(57) اور شاید اسی لئے حر کامیاب ہو گیا اور اسے وہ تاریخی سرٹیفکٹ ملا جو کسی بھی شہید کو  نصیب نہیں ہوا و ہ رومال فاطمہ سلام اللہ علیہا تھا۔
اسی طرح امام جواد علیہ السلام کمسنی میں اپنی ماں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو یاد کرکے بہت غمگین ہوتے تھے۔ ذکریا بن آدم کہتے ہیں کہ ایک دن میں امام رضا علیہ السلام کے پاس تھا کہ امام جواد  علیہ  السلام، جو ان دنوں چار سال کا تھا وارد ہوا  ۔آپ علیہ السلام نے دونوں ہاتھ زمین پہ رکھا اور آسمان کی طرف رخ کرکے بہت گہری فکر میں چلے گئے اس وقت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
 تم پر قربان جاؤجب سے بیٹھا ہے مسلسل سوچ میں غرق ہو۔
 اس وقت امام جواد نے جواب دیا کہ میں ان مظالم کے بارے میں سوچ رہا ہوں جو میری ماں زہرا سلام اللہ علیہا پہ آپڑے خدا کی قسم میں ان دونوں کو قبر سے نکال دوں گا پھر انہیں جلاؤں گا پھر ان کی راکھ پانی میں پھینک دوں گا،۔
پھر امام رضا علیہ السلام نے امام جواد علیہ السلام کو قریب لاکر پیشانی کا بوسہ لیا اور فرما یا میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں تم امامت کے لئے ہو۔(58)
امام عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں کہ" ہم خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں اور ہماری ماں فاطمہ سلام اللہ علیہا ہم پر حجت ہے"(59)اور امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  کو اپنے لئے نمونہ اور اسوہ بیان کر رہے ہیں۔( 60)اسی لئے امام صادق نے فرمایا " کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا صدیقہ اور شہیدہ  ہے اس کی معرفت پر گذشتہ امتوں اور صدیوں  کا دار و مدار ہے۔(61)
اسی لئے ائمہ اہل بیت علیہم السلام مختلف حوادث میں مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا حوالہ دیتے تھے۔جیسے امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "سنہ 128 میں فلاسفہ (بعہد بنی عباس) ظاہر ہونگے جو منکر اسلام و توحید ہونگے اور یہ میں نے مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا میں دیکھا ہے"(62)


ایک تحقیقی نکتہ

یہاں تک ہم نے اپنی بساط کے مطابق اصول کافی اور دیگر حدیث کی کتابوں سے یہ ثابت کیا کہ :
مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا قرآن نہیں ہے۔
حلال و حرام پر مشتمل نہیں ہے اور اس بات کی خود ائمہ نے تائید کی ہے۔(63)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی رحلت سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت تک کے دوران یہ لکھی گئی۔(64)
اس میں تا روز قیامت پیش آنے والے حوادث کی خبریں ہیں۔(65)
اور ۔۔۔۔
لیکن ایک نکتہ اب بھی باقی ہے وہ یہ ہے کہ یہ واقعا خدا کا کلام ہے اور فرشتے کے ذریعے (جبریل یا کوئی اور )  جناب سیدہ پر اترا اور حضرت علی علیہ السلام نے اسے تحریر فرمایا؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا کلام ہےجو آپ نے جناب فاطمہ  سلام اللہ علیہا  کے لئے حضرت علی  علیہ السلا م سے املاء فرمایا؟
اصول کافی میں کل آٹھ روایتیں ہیں ان میں تو یہ ہے کہ رحلت رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد  فرشتہ بلا ناغہ جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کو پرسہ دینے اور آئندہ کے خبریں دینے آتا تھا اور ان خبروں کو جناب امیر علیہ السلام یادداشت فرماتے تھے جو بعد میں مصحفِ فاطمہ  کے نام سے پہچانا گیا (66)لیکن بصائر الدرجات جو کہ جناب  محمد بن حسن صفار متوفی 290 ہ کی کتاب ہے اور دوران غیبت کبری میں لکھی گئی ہے مولف بھی جناب یعقوب کلینی متوفی 329 ہ سے تقریبا چالیس سال پہلے انتقال کر گئے  اور قدیمی کتابوں میں سے ہے اس میں ایک باب  " ائمہ علیہم السلام کو جفر، جامعہ اور مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا دی  گئی" کے عنوان سے ہے اس میں کل 34 حدیثیں  ہیں ، حدیث نمبرچودہ اور انیس میں یہ عبارت موجود ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا  نے اپنے بعد ایک مصحف کو چھوڑا جو کہ کلام الہی تھا اور آپ سلام اللہ علیہا پر نازل ہوا تھا۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے املاء فرمایا اور حضرت علی علیہ السلام نے لکھا۔ (67)اس حدیث کے مطابق یہ مصحف عہد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں ہی تدوین ہوا اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے دست مبارک میں تھا ،آپ سلام اللہ علیہا نے اسے اپنی زندگی کے آخری ایام میں جناب امیر علیہ السلام کے سپرد کیا  تھا، لیکن بعض دوسری احادیث میں اس کے رحلت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  بعد لکھے جانے پر تصریح ہوئی  جیسا کہ حدیث نمبر 6 کا مضمون یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا تذکرہ کرنے کے بعد خاموش رہے یہاں راوی کا جملہ یہ ہے کہ "فسکت طویلا" یعنی کافی دیر آپ علیہ السلام خاموش رہے پھر ارشاد فرمایا:
"تم لوگ ضروری اور غیر ضروری دونوں میں بحث کرتے ہو، فاطمہ سلام اللہ علیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و  سلم کے  بعد 75 دن زندہ رہیں اور جب آپ پر سخت مصیبت طاری ہوگئی اور شدت حزن کی وجہ سے حالت غیر ہوگئی تو جبریل علیہ السلام آپ سلام اللہ علیہا کے پاس آتے تھے اور پرسہ دیتے تھے اور والد گرامی کے بارے میں بتاتے تھےاور آپ کو آپ کی  ذریت کے  آئندہ پیش آنے والے حوادث سے مطلع فرماتے تھے حضرت علی علیہ السلام ان کو لکھتے تھے اور یہی مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے"(68)
بہر حال یہ بات یقینی ہے کہ مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا خدا کا کلام ہے کوئی فرشتہ (جبریل یا کوئی اور فرشتہ) اسے لے کر جناب سیدہ کے پاس آتا تھا اور جناب امیر علیہ السلام اسے لکھتے تھے۔ باقی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا املاء اور حضرت علی علیہ السلام کی کتابت ہے وہ شاید کوئی اور کتاب ہے  جیسا کہ بصائر کے اسی باب کی ساتویں حدیث میں ہے  کہ اس میں حلال و حرام کی باتیں ہیں،(69) یا اس سے مراد وہی "جامعہ" ہے (70)جس پر ائمہ علیہم السلام فخر کرتے تھے کہ ہمارے پاس جامعہ ہے۔
مرحوم ملا صدرا ؛ اسلامی فلسفہ کے موجد، اصول کافی پر ان کی ایک شرح ہے بنا م "شرح اصول کافی ملا صدرا" اس میں وہ  بصائر اور کافی کی روایتوں کا حوالہ دینے کے بعد فرماتے  ہیں:
قرآئن اس بات پر  گواہ ہیں کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا صرف ایک مصحف نہیں بلکہ کئی مصاحف تھے بعض میں حلال و حرام کا تذکرہ تھا بعض میں غیب کی خبریں تھی، بعض رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی املاء اور حضرت علی علیہ السلام کی دستخط مبارک سے لکھے گئے لیکن جو مصحف، مصحفِ فاطمہ کےنام سے معروف ہے وہ آئندہ کی خبروں پر مشتمل ہے اور یہ رحلت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و  آلہ و سلم کے بعد جناب سیدہ سلام اللہ علیہا پر اتری اور حضرت علی علیہ السلام نے اسے یادداشت فرمایا۔(71)


مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کہاں ہے؟

اگر چہ گذشتہ سطور سے کسی حد تک یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا اس وقت میراث فاطمہ سلام اللہ علیہا کے عنوان سے حضرت حجت ابن الحسن عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے پاس ہے، لیکن ذیل میں بعض روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں
امام رضا علیہ السلام امام کی نشانی بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام وہ ہوتا ہے جو ان چیزوں کا حامل ہے ان میں سے ایک مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے۔(72)
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: میرا والد اس وقت تک دنیا سے نہیں گیا جب تک میں نے اس سے مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو وصول نہیں کیا۔(73)
امام صادق اور امام کاظم علیہما السلام فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے۔(74)
امام صادق علیہ السلام کے حضور جب کسی نے کہا کہ یا بن رسول اللہ! عبد اللہ بن حسن آپ کے علم کے بارے میں کہتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی خصوصی علم نہیں بلکہ وہی عام لوگوں والا علم ہے، توامام علیہ السلام نے پہلے اس کی تائید فرمائی کہ خدا کی قسم ہمارے  پاس وہی لوگوں والا علم ہےلیکن ایک چیز جو ہمارے پاس ہے وہ لوگوں کے پاس نہیں ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس جامعہ ہے جس میں حلا ل و حرام کا ذکر ہےاور ہمارے پاس جفر ہے۔ کیا عبداللہ بن حسن کو معلوم ہے کہ یہ جفر بھیڑ کی کھال پر لکھا ہوا ہے یا اونٹ کی کھال پر؟ اور خدا کی قسم ہمارے پاس مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے(75)
ان احادیث کی رو سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا ائمہ کے پاس تھا اور میراث امامت میں شامل تھا۔
محقق گرانقدر جناب محمد انصاری زنجانی ، سلیم بن قیس کی کتاب اسرا آل رسول اللہ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا ، جفر، جامعہ و غیرہ لوح محفوظ ہیں ان کا دوسرے کتب سے مقایسہ صحیح نہیں ہے یہ اسباب امامت میں شامل ہیں اسی لئے انہی ہستیوں کے علاوہ کسی کو بھی ان کے بارے میں خبر نہیں ہے۔(76)
اگر چہ اس بارے میں کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن طولانی ہونے کی خوف سے اسی پر اکتفاء کیا۔


جامع ترین روایت

یہاں اس روایت کو نقل کرتے ہیں جو علماء کے نزدیک مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے حوالے سے جامع ترین روایت ہے اور اس کا ذکر کرنا کئی جہات سے خالی از فائدہ نہیں ہے  وہ روایت یہ ہے:
ابو بصیر کہتا کہ میں نے امام باقر علیہ السلام سے مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں سوال کیا  تو حضرت علیہ السلام نے فرمایا
" یہ کتاب رحلت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر نازل ہوئی"
میں نے پوچھا: کیا قرآن کریم سے بھی اس کتاب میں کچھ موجود ہے؟(77)
تو امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا"اس میں قرآن میں سے کچھ بھی نہیں ہے"
اس مقام پر ابو بصیر نے استفسار کیا تو امام نے فرمایا " یہ کتاب دو سرخ جلدوں پر مشتمل ہےجس کی لمبائی اور چوڑائی زبرجد سے ہے۔
ابو بصیر نے پوچھا کہ اس کے اوراق کس چیز کے ہیں؟
امام نے جواب دیا کہ وہ سفید ہیں اور اسے جب خدا نے  حکم دیا کہ ہوجائے تو وہ ہو گیا۔
ابو بصیر نے پوچھا مولا آپ پر قربان جاؤں اس میں کیا ہے؟
امام نے فرمایا کہ" اس میں تمام گذشتہ زمانوں کی خبریں ہیں اور آئندہ سے متعلق عالم غیب کی خبریں بھی ہیں،اسی طرح زمینوں اور آسمانوں کی خبریں اس میں ہیں، آسمانوں میں موجود فرشتوں اور دیگر مخلوقات کی تعداد کا ذکر ہے، تمام انبیاء مرسل اور غیر مرسل علیہم السلام کا تذکرہ ہے، ان لوگوں کے اسماء درج ہیں جن کی طرف کسی پیغمبر کو مبعوث کیا گیا تھا،ان پیغمبروں کی تصدیق اور تکذیب کرنے والوں کے اسماء موجود ہیں ابتداء خلق سے انتہاء عالم تک کے تمام انسانوں کے نام موجود ہیں،شرق و غرب میں موجود تمام شہروں، بستیوں اور دیہاتوں کی توصیف اور نام اس میں درج ہیں،ان شہروں اور دیہاتوں میں بسنے والے مومنوں اور کافروں کے نام سر گذشت وغیرہ درج ہیں، گذشتہ امتوں کی داستانیں، ان لوگوں کے کارناموں کا تذکرہ جو ظلم سے بر سر اقتدار آئے تھے، ان کے اقتدار کی مدت کا تذکرہ، اور ان تمام لوگوں کے نام اور داستانیں جو تاریخ کے طومار( 78)میں موجود ہیں یعنی تاریخی ادوار سے گزر گئے ہیں۔
یہاں پہنچ کر ابو بصیر نے سوال کیا  مولا آپ پر قربان جاؤں ایک دور کتنے سالوں پر مشتمل ہوتا ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا " ایک دور  پچاس ہزار سالوں پر مشتمل  ہوتا ہے اور کل سات دور تھے۔(79)
امام  علیہ السلام نے مزید فرمایا:
اس میں تمام خلق شدہ انسانوں کے نام،زندگی کی مقدار اور وقت اجل کا تذکرہ ہے، ان میں جنتیوں اور جہنمیوں کا بھی ذکر موجود ہے، اسی طرح علم الکتاب اسی میں ہےعلم الکتاب سے مراد قرآن کا وہ حقیقی علم ہے جس کی خاطر قرآن اترا،اسی طرح توریت، انجیل اور زبور کے اصلی علوم  جس حالت میں یہ کتابیں نازل ہوئی ہیں، اسی طرح مصحفِ فاطمہ میں ابتداء خلق سے لیکر انتہاء عالم تک اس کائنات کے تمام درختوں، پتھروں،سنگریزوں، چٹانوں،ریگزاروں کے ذروں کی تعداد، اور ہر وہ چیز جو اس دنیا میں خلق ہوئی ہے ان سب کا تذکرہ ہے۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے  اس کے نزول کا وقت بیان فرمایا کہ:
جب خدا نے اس مصحف کے نزول کا ارادہ فرمایا تو شب جمعہ کا وقت تھا چار مقرب فرشتوں؛ جبریل، مکائیل، اسرافیل اور عزرائیل علیہم السلام  کو اس کام پر مامور کیا، یہ چاروں مقرب فرشتے اس مصحف کو اٹھائے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے حضور شرفیاب ہوئےاس وقت جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا محراب عبادت میں تھی، نماز ختم ہونے تک یہ چار فرشتے منتظر رہے، پھر جب آپ سلام اللہ علیہا نماز سے فارغ ہو گئیں  تو درود اور سلام کےتحفے کے ساتھ مصحف کو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی تحویل میں دے دیااور خدا کا درود و سلام پہنچایا۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا کہ سلامتی خدا کی طرف سے ہے اور سلام دوبارہ پلٹ کے اسی کی طرف  جانا ہے ،اے خدا کے مقرب فرشتو! تم پر بھی میرا سلام ہو۔
اس کے بعد وہ فرشتے دوبارہ آسمان کی طرف چلے گئے۔فاطمہ سلام اللہ علیہا صبح سے ظہر تک اس مصحف کو پڑھنے میں مصروف رہی ۔
امام علیہ السلام مزید فرماتے ہیں کہ یہ بی بی کہ خدا کا درود و سلام اس پر ہو خدا کی طرف سے تمام مخلوقات پر حجت ہیں انسانوں، وحوش و طیور، جانوروں، فرشتوں، جنوں اور پیغمبروں سمیت  تمام خلق خدا پر واجب الاطاعہ ہیں۔
یہاں پہنچ کر ابو بصیر کہتا ہے کہ: مولا میں آپ پر فدا ہوجاؤں، بی بی سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد یہ مصحف کس کے پاس ہے؟
امام علیہ السلام نے جواب دیا کہ : فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اسے امیر المومنین علیہ السلام کے حوالے کیا، آپ علیہ السلام نے اسے میراث امامت کو طور پر امام حسن علیہ السلام کو دیا، پھر اماموں کے ہاتھوں منتقل ہوتا ہوا اس وقت میرے پاس ہے اور اسی طرح پاک ہاتھوں میں منتقل ہوتا ہوا حضرت صاحب الامر عجل اللہ فرجہ الشریف کے پاس پہنچ جائے گا۔
ابو بصیر کو اس پر حیرانی ہوئی تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اے ابو بصیر ! ابھی  تک تو میں نے صرف پہلا صفحہ تمہارے لئے بیان کیا ہے دوسرے صفحے سے ایک حرف بھی بیان نہیں کیا۔(80)
دوستو! یہ حدیث جہاں ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی بے انتہا علم پر دلالت کرتی ہے وہاں خدا کی قدرت لم یزل اور لا یزال پر بھی دلیل ہےاس حدیث کو طوالت کے باوجود افادہ کی خاطر  کتاب "دلائل الامامۃ" سے ہم نے نقل کیا۔


 حرف آخر

دوستو! آخر میں زہراء مرضیہ سلام اللہ علیہا کے فضیلتوں کے بے ساحل دریا سے ایک قطرہ آپ کے حوالےکرتے ہیں کہ شاید   کل روز قیامت ہمارے اعمال کی دیوان کھلے  تو زہراء مرضیہ سلام اللہ علیہا کے مداحوں میں ہما رابھی نام ہو۔
یہ کون فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے جو محراب عبادت میں مصحف کے مطالعے میں مصروف ہیں؟ یہ وہی لخت جگر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تعظیماً اٹھتے تھے:
«اذا دخلت على رسول اللَّه قام‏ اليها فقبّلها و اجلسها في مجلسه»
جب بھی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر وارد ہوتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اٹھ کے اگے چلتے تھے اور اسکا بوسہ لیتے تھے اور اسے اپنے ساتھ بٹھا لیتے تھے۔(81)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمان کے مطابق پنجتن پاک صلوات اللہ علیہم جب چادر کساء کے نیچے اکھٹا ہوگئے تو اس وقت فرشتوں نے خدا سے پوچھا کہ : یارب! کساء کے نیچے کون لوگ  ہیں؟ تو اس وقت رب ذوالجلال نے جواب دیا کہ وہ فاطمہ سلام اللہ علیہا، اس کا باپ، اس کا شوہر اور اس کے دونوں بیٹے ہیں۔(82 )
یہ وہی فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے جو ایک دن جب نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کے لئے نساءنا کا مصداق بن کر جا رہی تھی تو آگے نبوت اور پیچھے امامت کی محافظت تھی، یہ وہی فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے کہ جب آیہ تطہیر اتری تو رسالتمآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پورے چھ مہینے اس کے دروازے پر کھڑے ہوکر السلام علیکم یا اہل بیت النبوۃ کہہ کر سلام کرتے تھے، یہی وہ ہستی ہے جس کو تمام آئندہ آنے والے واقعات کی خبر دی گئی یہ وہ بیٹی ہے کہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں : جو شخصیت سب سے پہلے جنت میں جائے گی وہ میری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے۔(83)
آیہ تطہیر، آیہ مودت، سورہ دہر، اور آیہ "ان الله اصطفاکِ" (84)سمیت متعدد آیتیں زہراء سلام اللہ علیہا کی شان میں نازل ہوئیں۔
یہ عظیم بیٹی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک اتنی مقام و منزلت کی حامل تھی ایسا کیا ہوا تھا کہ اچانک اسے مسجد النبی جانا پڑا اور لوگوں سے اپنا تعارف کرانا پڑا کہ" لوگو! جان لو کہ میں فاطمہ سلام اللہ علیہا ہوں اور میرے والد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں"(85) کیوں اسے مسجد جاکر اپنا حق مانگنا پڑا کیا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیادہ بیٹیاں تھیں؟ کیا فاطمہ سلام اللہ علیہا کوئی عام بیٹی تھی؟ کیا انہیں معلوم تھا کہ رسول خدا اس کی تعظیم کو اٹھتے تھے اور اس سے جنت کی خوشبو استشمام فرماتے تھے؟ کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ کائنات کے تمام عورتوں کی سردار ہے؟  کیا رسول کو گزرے زیادہ مدت ہوئی تھی؟ کیا چھ مہینہ تک رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا در زہرا سلام اللہ علیہا پر رک کر سلام کرنا انہوں نے نہیں دیکھا تھا؟  ہاں یہ سب کچھ جانتے تھے تو پھر کیوں آگ اور لکڑی کے ساتھ دورازے کی  طرف ہجوم لائے؟ کیوں اس کی پسلیاں توڑ ڈالیں؟ کیوں اس ننھے محسن کو شہید کیا؟ کیوں امیر المومنین کی گردن میں رسن باندھ کر بیعت کے لئے مسجد لے گئے؟ کیوں زہرا سلام اللہ علیہا حسنین علیہما السلام کے ہاتھ تھام کر مدینہ کی گلی کوچوں میں فرماتی  پھرے کہ لوگو تم تو روز غدیر موجود تھے پس گواہی کیوں نہیں دیتے ہو؟ کیوں اور کیوں زہرا سلام اللہ علیہا اٹھارہ سال کی عمر میں، عین جوانی میں عصا کے سہارے چلتی تھی؟ کیوں سادات کی ما ں اپنے  بابا کے بعد صرف اور صرف پچھتر دن  یا پچانوےدن زندہ رہی؟  کیوں رسول کی اکلوتی بیٹی کو رات میں غسل و کفن دیا گیا؟ کیوں امیر المومنین علیہ السلام ، وہ صبر کا پہاڑ وہ در خیبر اکھاڑنے والا پہلوان، جب زہرا کو غسل دے رہا تھا توایک موقع پر دیوار کےساتھ ٹیک لگاکر بچوں کی طرح بلند بلند رونے لگے؟  کیوں  آخر کیوں عشاق زہرا اس کی زیارت سے محروم ؟!
اس کیوں کا جواب وہ عظیم عاشق زہرا  سلام اللہ علیہا ، وہ زمانے کا مجتہد اعلم، وہ وحید خراسانی دے گاجس نے فاطمیہ کی بنیاد رکھی وہ سادات سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ:
 سادات!تین جمادی الثانی کو سڑکوں پہ نکل آئیں اور اپنی ماں کے سلام کا جواب دیں اور عرض کریں کہ ماں! آپ کا جنازہ رات کو نکالا گیا اس وقت ہم نہیں تھے لیکن اب یہ ہمارا جواب سلام ہے۔
ایک مقام پر  آپ فرماتے ہیں ائمہ معصومین علیہم السلام کے علاوہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں کہ وہ یہ دعوی کرے کہ اس نے مقام فاطمہ سلام اللہ علیہا کو درک کرلیا، فاطمہ سلام اللہ علیہا نور ہے وہ حقیقی نور جس سے شمس و قمر کو نور ملا انسان سورج کی طرف آنکھیں کھول کے نہیں دیکھ سکتے پس کس طرح فاطمہ سلام اللہ علیہا کی طرف دیکھ سکتے ہیں۔ (86)
 اس کا جواب شیخ الفقہاء میرزا جواد تبریزی  اعلی اللہ مقامہ  دے گا جو کہتا ہے کہ زہرا سلام اللہ علیہا کا  رونا جہاں اپنے شفیق والد کی فراق میں تھا کہ عالم ایک رحمت سے محروم ہوگیا اسی طرح  حق کے غاصبوں اور ولایت کے منکروں کے خلاف ایک احتجاجی آواز تھا ۔ (87)
 اس کا جواب فاضل لنکرانی اعلی اللہ مقامہ دے گا جو فرماتے ہیں کہ زہرا ہر دور کے انسانوں کے لئے نمونہ ہے اور چودہ معصومین  علیہم السلام میں سے ایک ہونے کے ناطے ان کی رفتار، کردار اور گفتار  حجت ہے۔(88)
اس کا جواب انقلاب اسلامی ایران کا بانی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ دے گا جو فرماتے ہیں کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا ایک عورت تھی اگر وہ مرد ہوتی تو نبی ہوتی۔
 اس کا جواب رہبر عظیم الشان سید علی خامنہ ای دے گا کہ زہرا ایک ایسا گہرا دریا ہے جس میں انسان جتنا زیادہ غوطہ ور ہو جائے اتنے زیادہ گوہر ہاتھ لگیں گے۔(89)
 اس کا جواب امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف دے گا،اس کا جواب کربلا، کاظمین، نجف اور سامرا دیں گے، اس کا جواب وہ سرداب غیبت دے گا جس میں پانچ سال کا بچہ یتیمی کے عالم میں غیبت میں چلا گیا، اس کا جواب بقیع کے در و دیوار اور زمین دے گی، اس کا جواب وہ آگ دے گی جس سے در زہرا جلایا گیا، جس سے کربلا میں خیام جل گئے ، جس سے سکینہ کا دامن جل گیا، جس سے اطفال حسینی میدان کربلا میں بکھر گئے۔
اس کیوں کا جواب خود زہرا  سلام اللہ علیہا دے گی کہ بابا تیرے بعد مجھ پر ایسی مصیبتیں  آگئیں کہ اگر یہ دن پر پڑ جاتے تو رات کی طرح تاریک ہو جاتے۔(90)
اس کا جواب امیر المومنین دے رہے ہیں کہ دفن زہرا کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں یا رسول اللہ مجھ سے امانت لے لی گئی، زہرا سلام اللہ علیہا کو مجھ سے چھین لیا گیا ، اب آپ اسی سے پوچھئیے کہ امت نے کس طرح اس پر حملہ کیا کس طرح اسے در و دیوار کے بیچ پامال کیا ، وہ آپ کو بتائے گی ، لیکن میرا غم تو اب ہمیشہ کے لئے ہے اب میری راتوں کا سکون نہیں رہا اب جب تک میں  آپ  اور زہرا کے پاس نہ پہچوں آرام اور سکون نہیں ملے گا۔(91)
وہاں ایک ایسی مصیبت زہرا سلام اللہ علیہا پر پڑی تھی جس کی سختی کو دن  بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا کیا دروازے کا جلنا، محسن کا شہید ہونا، پسلیوں کا ٹوٹ جانا، کوڑوں کا لگنا وغیرہ مصیبت تھی ؟! یہ عظیم مصیبتوں میں سے تھے لیکن زہرا  سلام اللہ علیہا کے رونے کی وجہ نہیں ، زہرا سلام اللہ  علیہا  امامت کی پامالی پر رو رہی تھی، امت کی تباہی اور نادانی پر محزون تھی،علی علیہ السلام کی غربت پر گریہ کنان تھی،اسی لئے جب امیر المومنین علیہ السلام کی گرفتاری کے خلاف شکایت کرنے روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارادہ کرنے لگی تو مسجد کے دیوار و در ہلنے لگے  اور مسجد اپنی جگہ سے اٹھی یہاں تک کہ ستونوں کے نیچے سے ایک آدمی گزر سکتا تھا ، پھر جب دستور امامت ہوا تو پلٹ گئی آخر وہ کونسا مرحلہ تھا کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا وہ حجت خدا، وہ صدیقہ کبری، وہ حبیبہ مصطفی پلٹ گئی؟ وہ ولایت سے عشق تھا، امامت کی حفاظت تھی وہ امامت جو زہرا سلام اللہ علیہا کو ہر چیز سے زیادہ عزیز تھی جس پر رسول اللہ کی تئیس سالہ زحمتیں منحصر تھی جو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی امنگوں کاترجمان تھا جس کا پامال ہونا زہرا سلام اللہ علیہا کو گوارا نہیں تھا۔
کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ ساری مصیبتوں کے داستان ہم تک پہنچے ہیں؟! ہرگز ایسا نہیں جو کچھ ہم تک پہنچا ہے وہ ان مصیبتوں کے ہزاروں حصوں میں ایک حصہ بھی شاید نہ بن سکے، شاید سمندر سے قطرہ کی مانند ہو یا اس سے بھی کم،  بہر حال یہی مقدار جو تاریخ نے تمام تر سختیوں ، دشمنوں کے مکر و حیلوں اور دوستوں کے ڈر اور خوف کے باوجود  ہمیں بتائی ہے بہت ہے، اسی سے اس بیت الاحزان کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چھ سات سال کے دو بچوں، تین چار سال کی دو بچیوں کے سامنے ان کی ماں کو زخمی کیا گیا اسے میان در و دیوار رونڈ ڈالا گیا، یہاں تک  یہی ظالمین فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے زہرا  سلام اللہ علیہا  کوتازیانے مارے ہیں۔
بہر کیف ایک بار پھر اس حدیث کو دہراتے ہیں کہ خدا فرماتا ہے اے رسول اگر تجھے بنانا مقصد نہیں ہوتا تو میں یہ کائنات خلق نہ کرتا، اور  اگر علی کی خلقت مقصود نہ ہوتی تو میں تجھے بھی خلق نہ کرتا اور اگر فاطمہ کا خلق کرنا میرے منشاء میں نہیں ہوتا  تو تم اور علی کو  بھی خلق نہ کرتا۔(92)
کیا خوب کہا شاعر اہل بیت میر تکلم نے  کہ خدا اسے طول عمر دے اور کل زہرا کے عاشقوں میں سے قرار دے:
نہ دین کچھ ہے نہ دنیا ہے فاطمہ کے بغیر
جہان کن میں اندھیرا فاطمہ کے بغیر
بتا رہا ہے زمانے کو سورہ کوثر
کلام پاک ادھورا ہے فاطمہ کے بغیر
جو بیٹیوں کے مخالف ہے ایسے لوگوں نے
خدا کے دین کو سمجھا ہے فاطمہ کے بغیر(93)
میر تکلم کے انہی اشعار پر مصحفِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی سطور کو  پایہ تکمیل تک پہنچا دیتے ہیں۔

-------------------

 ( )سورہ فرقان، آیت 20۔
 )) سورہ آل عمران، آیت 164 اور سورہ جمعہ، آیت 2۔
 )) سورہ توبہ، آیت 128۔
 )) سورہ آل عمران، آیت 49۔
 )) جزیری، عبد الرحمن- غروی، سید محمد- یاسر مازح‌، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ و مذہب اہل البیت علیہم السلام؛ ج‌5، ص: 618۔
 )) شیرازی، سید صادق حسینی،المسائل الإسلامیۃ مع المسائل الحدیثۃ، ص 41۔
 )) طبرسی، احمد بن علی‌، الاحتجاج، ج2، ص373۔
 )) کلینی،محمدبن یعقوب، الکافی ج1 ص 597۔
( ) ایضا ، ج1 ص 599۔
( ) سورہ ہود، آیت 13۔
 )) سورہ یونس، آیت  28۔
 )) سورہ اسراء، آیت 88۔
 )) برقی، ابو جعفر، احمد بن محمد بن خالد، المحاسن، ج1 ص195۔
 )) قمّی، صدوق، محمّد بن علی بن بابویہ، معانی الاخبار، ص 409۔
 )) ایضا، ص 108
( ) مجلسی، محمد باقر بن محمد تقی، زاد المعاد - مفتاح الجنان، ص 179 دعائے عرفہ امام حسین علیہ السلام۔
 )) راوندی، قطب الدین، سعید بن عبداللّٰہ، دعوات الراوندی - سلوة الحزین، ص62
 )) معانی الاخبار، ص 188۔
 )) راوندی، قطب الدین، سعید بن عبد اللّٰہ، الخرائج و الجرائح، ج2 ص903۔
( ) بحرانی، آل طعان، احمد بن صالح، الرسائل الاحمدیۃ، ج3 ص62۔
( ) الاحتجاج، ج2 ص 372۔
( ) فاضل مقالہ نگار جناب حجۃ الاسلام سید تقی داوری نے مصحف فاطمہ میں لکھا ہے۔
( ) سورہ نحل، آیت 44۔
( ) ابن منظور، ابو الفضل، جمال الدین، محمد بن مکرم، لسان العرب، ج9 ص186۔
( )  سورہ نحل، آیت 102۔
 )) الکافی، ج1 ص240۔
 )) "و میراث النبوۃ عندکم " زیارت جامعہ کبیرہ
 )) صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد صلوات اللہ علیہم،ج1 ص468۔
 )) مولانا  سید ظفر حسن نقوی امروہوی ،الشافی ترجمہ اصول کافی، ج2 ص123۔
 )) علل الشرائع؛ ج‌1، ص: 156
 )) تبریزی، جواد بن علی، رسالۃ فی لبس السواد - الانوار الإلہیۃ ص 119۔
 )) علل الشرائع؛ ج‌1، ص: 181
 ( )رسالۃ فی لبس السواد - الانوار الإلہیۃ ص 120۔
 )) عریضی، علی بن جعفر علیہما السلام، مسائل علی بن جعفر و مستدرکاتہا؛ ص: 325۔
 )) علل الشرائع؛ ج‌1، ص: 186
( ) رسالۃ فی لبس السواد - الانوار الإلہیۃ ص 117-119۔
( ) الکافی، ج1 ص 140۔
( ) الاحتجاج، ج2 ص467۔
( ) الخرائج و الجرائح،ج1 ص 350۔
( ) الامالی، ص 523۔
( ) الکافی، ج1 ص: 242۔
( ) ایضا ، ص: 240۔
( ) اصول کافی، کتاب حجت، باب نمبر39۔
 )) طوسی، محمد بن الحسن، مصباح المتہجد و سلاح المتعبّد، ج2 ص804۔
 )) الکافی، ج4 ص576۔
( ) بحرانی اصفہانی، عبد اللہ بن نور اللہ، عوالم العلوم و المعارف والاحوال من الآیات و الاخبار و الاقوال، ج11 ص 44۔
( ) ابن ابی جمہور، محمد بن زین الدین، عوالی اللئالی العزیزیۃ فی الاحادیث الدینیۃ، ج4 ص93۔
( ) معانی الاخبار، ج1
( ) کوفی، فرات بن ابراہیم، تفسیر فرات الکوفی، ص76۔
( ) ابن طاووس، علی بن موسی - الہامی، داوود، الطرائف / ترجمہ داود إلہامی، ص 277۔
( ) الخرائج و الجرائح؛ ج‌2، ص: 531۔
( ) حلّی، رضی الدین، علی بن یوسف بن مطہر، (معروف بہ علامہ حلی) العدد القویۃ لدفع المخاوف الیومیۃ؛ ص: 225۔
( ) ابن طاووس، علی بن موسی، طرف من الانباء و المناقب ؛ ص528
( ) آیت اللہ العظمی وحید خراسانی ایام فاطمیہ 1431ہ ، اس خطابت کی ویڈیو سی ڈی  حقیر کے پاس ہے۔
 )) حمیری، نشوان بن سعید، شمس العلوم و دواء کلام العرب من الکلوم، ج1 ص 119۔
( ) ابو مخنف کوفی، لوط بن یحیی، وقعۃ الطف ؛  ص171۔
( ) ایضا ص 172۔
( ) مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیۃ؛ ص218
 )) شیرازی، سید محمد حسینی، من فقہ الزہراء علیھا السلام، ج1 ص26۔
 )) الاحتجاج، ج2ص 467۔
 )) طوسی، ابو جعفر، محمد بن حسن، الامالی، ص 667۔
( ) بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد صلی اللہ علیہم ؛ ج‏1 ؛ ص157۔
( ) الشافی ترجمہ اصول کافی ج2 ص123  (کتاب حجت باب 39 ح 2)۔
( ) تمام حدیثی کتابوں منجملہ بصائر، کافی، من لا یحضرہ الفقیہ،الاحتجاج وغیرہ میں ہے۔
( ) اس بارے میں تفصیل بعد میں آئے گی۔
( ) اصول کافی کتاب حجت باب 39۔
( ) بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد صلی اللہ علیہم ؛ ج‏1 ؛ ص156۔
( ) ایضا ص 153 – 154۔
( ) ایضا ص 154۔
( ) ایضا ص 160۔
( ) صدر الدین شیرازی، محمد بن ابراہیم، شرح اصول الکافی (صدرا) ؛ ج‏1 ؛ ص90۔
( ) ابن بابویہ، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا علیہ السلام، ج‏1، ص: 213۔
( ) بصائر الدرجات، ص 158۔
( ) ایضا ص 157۔
( ) ایضا ص 161۔
( ) ہلالی، سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الہلالی،  تحقیق محمد انصاری زنجانی ، ج‏1 ؛ ص87 ۔
( ) اور  چونکہ لفظ مصحف سے قرآن ہی مراد لیا جاتا ہے اسی لئے جناب ابو بصیر نے امام علیہ السلام سے یہ سوال پوچھا۔
( ) طومار اس کپڑے کو کہا جاتا ہے جس پر لکھا جاتا ہے یہ بہت زیادہ لمبا ہوتا ہے اس کے ایک سرے سے لکھنا شروع کرتے ہیں پھر جوں جوں ختم ہوتا جائے تو ختم شدہ حصے کو لپیٹا جاتا ہے،یہاں تاریخ کو بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے چونکہ اس میں بھی تمام روداد کو لپیٹاجاتا ہے اور روز قیامت اسے دوبارہ کھول دیا جائے گا تاکہ ہر کوئی اپنے عمل کو دیکھ سکے۔
( ) امام  علیہ السلام نے گزشتہ امتوں کی مدت بیان فرماتے ہوئے پچاس ہزار سال والے سات دوروں کا ذکر فرمایا یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ تاریخ میں ساڑھے تین لاکھ سالوں پر مشتمل امتیں گزر گئی ہیں۔
( ) طبری آملی صغیر، محمد بن جریر بن رستم، دلائل الام106۔
( ) ابن طاووس، علی بن موسی - الہامی، داوود، الطرائف / ترجمہ داود إلہامی، ص378۔
( ) شہید ثانی، زین الدین بن علی، مُسکن الفؤاد عند فقد الاحبّۃ و الاولاد، ؛ ص153۔
( ) ابن شہر آشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب علیہم السلام، ج‏3 ؛ ص329۔
( ) سورہ آل عمران آیہ 44
( ) الإحتجاج ، ج‏1 ؛ ص99۔
( ) آپ کی ان تقریروں سے اقتباس جو آپ نے ایام فاطمیہ 1431 ہ ق اور 1432 ہ ق میں حرم مطہر میں درس خارج کے دوران ارشاد فرمائے جن کے ویڈیو سی ڈیز حقیر کے پاس ہیں۔
( ) رسالۃ فی لبس السواد - الانوار الإلہیۃ؛ ص: 116۔
( ) لنکرانی، محمد فاضل، احکام جوانان (فارسی)، ص: 49۔
( ) تہران میں محفل میلاد فاطمہ زہرا  سلام اللہ علیہا سے خطاب  :20 جمادی الثانی 1429 بمطابق  24 جون 2008 اور 04/04/1387 ہ ش۔
( ) فتال نیشابوری، محمد بن احمد، روضۃ الواعظین و بصیرة المتعظین، ج‏1، ص: 76
( ) ابن حیون، نعمان بن محمد، شرح الاخبار فی فضائل الائمۃ الاطہار علیہم السلام، ج‏3 ؛ ص70۔

 

 

 

 

 

 

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک