امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

اطاعتِ قرآن

1 ووٹ دیں 05.0 / 5


بسم الله الرحمن الرحیم
اللهم صلی محمدوآل محمد وعجل فرجهم


حضرت جبیر بن مطعم (رض) بدر کے اسیرانِ جنگ کے بارے میں گفتگو کےلیے مدینہ طیبہ حاضر ھوئے مغرب کی نماز پڑھی جارھی تھی.رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم امامت فرمارھے تھے اور سورہ طور کی تلاوت فرمارھے تھے.حضرت جبیر(رض) بتاتے ھیں کہ جب میں نے یہ آیتیں سنیں :
"وَالطُوْرٍوَکِتٰبٍ مَسْطُوْرٍ فِی رَق مَنْشُورٍ" قسم ھے کوہِ طور کی اور کتاب کی جو لکھی گئی ھے کھلے ورق پر" (الطور#1/2)
یہ آیتیں سن کر مجھ پر حیرت و دھشت طاری ھوگئی اور جب میں نے سرورِانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ آیات پڑھتے سُنا :"اِنَ عَذَابَ رَبِكَ لَوَاقِعّ مَالَه مِن دَافِع" یقینًا آپ(ص) کے رب کا عذاب واقع ھو کر رھے گا اور اسے کوئی ٹالنے والا نہیں" (الطور#7/8)
تو مجھ میں کھڑا ھونے کی تاب نہ رھی.میں بیٹھ گیا اور مجھے یوں محسوس ھونے لگا کہ ابھی عذابِ الہی کی بجلی کوندے گی اور مجھے جلا کر خاکستر کردے گی.پھر حضور (ص) نے یہ آیتیں تلاوت کیں :
"یَوْمَ تَمُوْرُالسَمَآءُمَوْرًاوَتَسِیْرُالْجِبَالُ سَیْرٍا فَوَیْلّ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِبِیْنَ" جس روزآسمان بُری طرح تھرتھرارھا ھوگااور پہاڑاپنی جگہ چھوڑکرتیزی سےچلنے لگیں گے.پس بربادی ھوگی اس روز جھٹلانے والوں کی"(الطور#9/10/11)
یہ سنکر مجھ پر شدید خوف و دھشت طاری ھوگئی اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
"اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآئِنُ رَبِكَ اَمْ هم الْمُصَیْطِرُوْنَ" کیا ان کےقبضہ میں ھیں آپ(ص) کے رب کے خزانے یا انہوں نے ھر چیز پر
تسلط جما لیا ھے" (الطور#37)
یہ آیات سننے سے مجھے یوں محسوس ھونے لگا کہ میرا دل میرے سینے کو چیر کر باھر نکلا جاتا ھے.چنانچہ نماز سے فارغ ھونے کے بعد میں نے مرشدِ برحق صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام کی بیعت کرلی.
قرآن کی یہ تاثیر ھے کہ وہ مردہ دلوں کو پھر سے زندہ کردیتا ھے "فان القرآن یحی القلب" قرآن کا یہ خاصہ ھے کہ وہ جلاء القلب کرتا ھے جس دل پھر سے بابصیرت ھوجاتے ھیں. قرآن کی یہ خصوصیت ھے کہ وہ "شفاء لما فی الصدور" ھے کہ جس کے بعد دل کا آئینہ تابناک ھوجاتا ھے اور زنگ آلود دل مقفل دل مہرشدہ دل پھر سے قبولیتِ حق کی صلاحیت پیدا کرلیتے ھیں.
لہلاتی کھیتیاں صرف اسی زمین میں اگتی ھیں جس میں صلاحیتِ نمو ھو بارش اسی قطعہ زمین کو سرسبزوشاداب کرتی ھے جس میں قبولیت کا مادہ موجود ھو، سورج کی روشنی سے سبزہ نورستہ صرف اسی کھیت میں اگتا ھے جس میں قوتِ انفعال پائی جاتی ھو، سخت اور سنگلاخ زمینو پر بارش کا پانی کوئی اثرات مرتب نہیں کرسکتا.سورج کی کرنیں بےنیل ومرام منعکس ھوجاتی ھیں اور بہتر سے بہتر بیج بھی نمو پذیری کی صلاحیت کو کھو دیتا ھے.اسی طرح قرآن بھی زیغ وضلال میں ڈوبے ھوئے دلوں پر اور بدفطرت و زشت طبع اذھان پر تاثیرِ مسیحائی مرتب نہیں کرتا بلکہ وہ صرف صحیح الفطرت ، سلیم الطبع انسانوں کو اپنی شفائی اثرات سے نوازتا ھے اور ان کو عبدِمنیب کا نام دیتا ھے :
"تَبْصِرَةً وَذِکْرٰی لِکُلِ عَبْدٍمُنِیْبٍ" یہ خدا کی طرف رجوع کرنے والے ھر بندہ کےلیے سامان نصیحت اور وجہ بصیرت ھے" (ق#08)
کیونکہ آیات النفس و آفاق ھوں یا آیاتِ قرآنیہ ان سے استفادہ صرف عبدِمنیب (خدا کی طرف رجوع کرنےوالے) ھی کرسکتے ھیں.
"اِنَ فِی ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِکُلِ عَبْدٍمُنِیْبٍ" یقینًااس میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ھر بندے کے لیے نشانی ھے" (السبا#09)
جس قدر انسان کا رجوع بڑھتا ھے اسی قدر مسیحائی میں تاثیر بڑھتی جاتی ھے.
"وَالَذِیْنَ اهتَدَوْازَدَهمْ هدًی وَاٰتٰهمْ تَقْوٰهم" اور جو لوگ ھدایت یافتہ ھیں ان کو مزیدھدایت عطاھوئی اورنصیب ھوئی پرھیزگاری" (محمد"ص"#17)
اب یہ عبدِمنیب پرھیز کے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ھوئے ان چیزوں کے پاس نہیں جاتا جن سے اذھان و قلوب بیمار ھوسکتے ھیں وہ ان تمام امور سے پرھیز کرتا ھے جن کے سبب دلوں کے امراض لاحق ھوسکتے ھیں.
حضرت علی ابن ابی طالب علیہم السلام کا ارشاد ھے کہ :
"ان فیه شفامن اکبرالداءوهوالکفروالنفاق والغی والضلال" قرآن میں کفرو نفاق ھلاکت و گمراھی جیسے بڑے بڑےامراض کی شفایابی ھے"
رجوع الی اللہ ایک مستقل قوت کے طور پر دورانِ خون میں شامل ھوجاتا ھے اور پھر ایک وقت آتا ھے کہ یہ رجوع الی اللہ اور رجوع الی القرآن"حکم" کی صورت اختیار کرلیتا ھے اور روح اور جسم پر قرآن کی حکمرانی قائم ھوجاتی ھے.اس حکمرانی کا قیام ھی حقیقی مقصدِ نزولِ قرآن ھے :
"وَکَذٰلِك اَنْزَلْنٰهُ حُکْمًا عَرَبِیًا" اور اسی طرح ھم نے قرآن کو عربی "حکم" بناکر نازل کیا" (الرعد#37)
اب عبدِمنیب کے امرونہی پسندوناپسند ھجرووصال فراق واتصال محبت ونفرت اور قیام وقعود کسی نفسانی جذبہ کے تحت انجام نہیں پاتے بلکہ قرآن کے جذبہ اطاعت کے تحت انجام پاتے ھیں اور سرکار ختمی المرتبت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشادِ پاک ھے کہ :
"لایومن احدکم حتٰی یکون ھواہ تبعًا لما جئت به" تم میں سے کوئیمومن نہیں ھوسکتا جب تک اس کی خواھشِ نفس اس کے تابع نہ ھو جائے جو میں لایا ھوں"
عظمت و جلالت کا حامل یہ کلامِ الہی لوحِ محفوظ کی بلندیوں سے اتر کر زمین کی پستیوں کی طرف اس لیے نہیں آیا کہ ناقدری کا شکار ھوجائے اور کچھ افراد اسے اپنی طلاقتِ لسانی کا تختہ مشق بنالیں یا ریاضتِ ذھنی کےلیے اسے نکتہ آفرینیوں اور خیال آرائیوں کی جولانگاہ بنالیں.نہ یہ گروھی مفادات کی نگہداشت کےلیے آیا ھے کہ کچھ لوگ اس کی تلاوتوں کو ذریعہ معاش بنالیں یا کچھ پیرفقیر قسم کے افراد اپنے روزگار کےلیے اس سے جھاڑپھونک کا کام لینا شروع کردیں کلامِ پروردگار کی یہ سخت ناقدری ھے کہ اس کو زندہ انسانوں کے معاشرہ سے نکال کر قبرستانوں میں بھیج دیا جائے جہاں اجرتی قاری اسے اپنے نان و نوش کا وسیلہ بنا لیں.
ضروری ھےکہ قرآن کوقبرستانوں سے واپس زندہ انسانوں کی بستیوں میں لایا جائے اور اسے روح و جسم کی سلطنت کا حکمران بنایا جائے.ھر کام انجام دینے سے پہلے قرآن کا حکم معلوم کیا جائے پھر حکمِ قرآنی کا مکمل اتباع کیا جائے :
"وَهذَاکِتٰبّ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَکّ فَاتَبِعُوْه وَاتَقُوْا لَعَلَکُمْ تُرْحَمُوْنَ" اور یہ برکت والی کتاب ھے جو ھم نے نازل کی ھے تم اس کی پیروی کرو
اور تقوٰی اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیاجائے" (الانعام#156)

اگرعمل کی دنیاویسی ھی بےآباد اور اُجاڑ بنی رھے جیسے کہ پہلے تھی تو تلاوت و ترتیل بےمعنی اور بےمقصد ھو کر رہ جاتی ھے بلکہ ضیاع اوقات کا سبب بن جاتی ھے.شعور اور خرد کی دنیا یہ کس طرح باور کرسکتی ھے کہ
*- قرآن اس پر اپنی نوازشات نچھاور کردے گا جو تلاوتیں تو بہت کرتا ھو مگر اوقاتِ نماز کو ھمیشہ ضائع کردیتا ھو حالانکہ قرآن کا حکم ھے :"فَوَیْلّ لِلْمُصَلِیْنَ الَذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَتِھِمْ سَاھُوْن" پس ایسے نمازیوں کےلیےھلاکت ھےجواپنی نمازسےغافل
رھتے ھیں" (الماعون#4/5)جب یہ قاری اس آیت پر پہنچے گا تو ھلاکت کا یہ حکم کس کی طرف جائے گا؟
*- اسی طرح وہ قاری قرآن جو ریاکار ھو اور ضرورت کی اشیاء کو دوسروں سے روکے رکھتا ھو تو پھر یہ حکمِ ھلاکت کس کی طرف پلٹے گا؟"فَوَیْلّ......... اَلٰذِیْنَ ھُمْ یُرَآءُوْنَ ویَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ" (الماعون#6/7)
*- وہ قرآن پڑھنے والا جو طعنہ زن ھو اور عیب جُو ھومال جمع کرتا رھتا ھو پھر اسے گن گن کر رکھتا ھو تو بتائیے کہ جن وہ یہ آیات پڑھے گا تو اس بربادی کا مخاطب کون ھوگا؟
"وَیْلّ لِکُلِ همَزَةٍ لَمَزَةِ نِ الَذِیْ جَمَعَ مَالاًوَعَدَدَه" (الھمزہ#1/2)
*- وہ تاجر جو باقاعدگی سے تلاوتِ قرآن کرتا ھو اور ناپ تول میں کمی کا بھی باقاعدگی سے پابند ھو تو :
"وَیْلّ لِلْمُطَفِفِیْنَ"
بربادی ھے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کےلیے" (المطففین#1)
کا شکار ھوگا یا رحمتوں کا سزاوار؟
*- اگر کوئی کذب بیانی کا شاھسوار بھی ھو اور تلاوت کا بھی پابند ھے تو
"وَیْلّ لِکُلِ اَفَاكٍ اَثِمٍ"
تباھی ھے ھر جھوٹے گنہگارکےلیے" (الجاثیه#07)
کی زد میں آئے گا یا ثواب کا مستحق قرار پائے گا؟
*- جو سارا دن سود کا لین دین کرتا ھو سود ھی اس کا ذریعہ معاش ھو تو کیا تلاوتِ مصحفِ الہی اس کےلیے اجر کا موجب بنے گا یا سزا کی دلیل جبکہ قرآن سود کو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ جنگ قرار دیتا ھے؟
"فَاِنْ لَمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِنَ الله وَ رَسُوْلِه" اگر تم نے ایسا نہ کیا (یعنی سودکونہ چھوڑا) تو اللہ
اور اس کے رسول (ص) سے جنگ کےلیے تیار ھو جاؤ" (البقرہ#279)
*- وہ پابندی سے تلاوت کرنے والا جس نے نہ تو کبھی ظلم سے ھاتھ روکا ھو اور نہ کبھی جھوٹ سے زبان تو کیا قرآن اس کےلیے وسیلہ نجات بنے گا؟ جبکہ وہ باربار اعلان کررھا ھے
-"لَعْنَةُالله عَلَی الْکٰذِبِیْنَ" جھوٹوں پر اللہ کی لعنت" -"اَلا لَعْنَةَالله عَلَی الْظَالِمِیْنَ" ظالموں پراللہ کی لعنت"
*- وہ شخص جو مسرف مرتاب اور مسرف کذاب ھو یعنی حدودِالہی سے ھمیشہ تجاوز کرنے والا ھو پھر پرلے درجہ کا جھوٹا بھی ھو اور ھمیشہ شک میں مبتلا رھتا ھو. بتائیے !قرآن کی برکتیں اسے کیسے حاصل ھوں گی؟
جبکہ آیاتِ الہی واضح اعلان کررھی ھیں :
-"اِنَ الله لاَیَهدِی مَنْ هوَ مُسْرِف کَذَابّ"
یقینا اللہ تجاوز کرنے والےجھوٹے کو ھدایت نہیں دیتا" (المومن#28)
-"کَذَالِكَ یُضِلُ الله مَنْ هوَ مُسْرِف مَرْتَاب"
اسی طرح الله ان لوگوں کو گمراه کردیتا هے جو تجاوز کرنے والے شک کرنےوالےهوتےهیں"(المومن#34)
*- ماہِ صیام میں وہ قاری جس نے بلاعذرِ شرعی روزہ نہ رکھا ھو اور حصولِ ثواب کی نیت سے تلاوتوں پر تلاوتیں کیے جارھا ھو اور دورانِ تلاوت اس آیت پر پہنچے تو کتنے اجروثواب کا مستحق قرار پائے گا؟
"یَاَیُهاالَذِیْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِیَامَ"
اےایمان والو! تم پر روزے فرض کردیئےگئے ھیں" (البقرہ#183)
*- اس خاتوں کے نامہ اعمال میں ثواب کا کتنا اضافہ ھوگا جو حجابِ اسلامی کا لحاظ نہ کرنے والی ھو اور حجاب کی آیت کی تلاوتوں میں مصروف ھو :
"وَقُلِ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضضنَ مِنْ اَبْصَارِهن وَ یحْفَظْنَ فُرُوجَهنَ وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهن اِلا مَا ظَهرَ مِنْها" (النور#31)
*- خرد اس شخص کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گی جس نے یتیموں کی جائیداد اور اموال پر قبضہ کیا ھوا ھو جبکہ اس آیت کی تلاوت بھی کررھا ھو :
"اِنَ الَذِیْنَ یَاکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَمَا یَاکُلُوْنَ فِی بُطُوْنِهم نَارًاوَسَیَصْلَوْنَ یَصیِرًا"
جو لوگ ناحق یتیموں کا مال کھاتے ھیں وہ اپنےپیٹ میں آگ بھرتے ھیں اوروہ جلد ھی جہنم کی بھڑکتی آگ میں تپائے جائیں گے" (النساء#10)
*- اسی طرح زکٰوة نہ دینے والے ، دوسروں کے مال و اسباب پر ناحق قبضہ کرنے والے، حرام طریقوں سے کسبِ معاش کرنے والے، آدابِ والدین کا پاس نہ کرنے والے اور حقوقِ ھمسایہ کا خیال نہ رکھنے والے قاریوں کے متعلق عقل و ھوش کا کیا فیصلہ ھو سکتا ھے؟
سوچئے! پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ فرمان کہیں انہیں قاریوں کے لیے تو نہیں :
"رب تال القراٰن والقراٰن یلعنه"
بہت سے ایسے قرآن کی تلاوت کرنے والے ھیں جن پر قرآن لعنت کرتا ھے"
ھادئ برحق صلی ، مرسل اعظم حضرت محمد مصطفی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ بھی فرمایا :
"القراٰن حجة لك اوعلیك"
قرآن... تمہارے حق میں حجت بنے گا یا تمہارے خلاف"
اب عمل قرآن کے مطابق ھوگا تو قرآن قاری کے حق میں محکم گواہ ھوگا بلکہ کامیاب وکیل بنے گا لیکن قرآنی احکام کے برخلاف عمل کرنے والے قاری کے خلاف مضبوط اور مستند گواہ ھوگا اور ایسا گواہ کہ جس کی گواھی رد نہیں کی جائے گی.
اپنے اعمال کو قرآنی احکام کا پابند بنا کر قرآن کو اپنے حق میں محکم گواہ اور دلیل بنایئے اور بے عمل تلاوتوں کے ذریعہ قرآن کو اپنے خلاف گواہ نہ بنایئے.رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ایک اور فرمان کے مطابق بدعملی اور سرکشی میں حد سے بڑھا ھوا شخص تو حقیقت میں قرآن پر ایمان ھی نہیں رکھتا :
"ماامن بالقراٰن من استحل محامه"
جو شخص قرآن کی حرام کردہ چیزوں کوحلال ٹھہرائےوہ قرآن پرایمان نہیں
رکھتا" (ترمذی)
قرآن مجید "حکم" ھونے کی بنیاد پر "فاتبعوہ" کا مطالبہ صرف فرد سے نہیں کرتا بلکہ پوری نسلِ انسانی سے کرتا ھے.
قرآن کا موضوع انسان ....... بلکہ پوری بنی نوع انسان اور اس کا دائرہ کار زمین ........ پوری روئے زمین
کیونکہ
"وَهوَالَذِیْ فِیْ السَمَآءِ اِلَهّ وَفِی الاَرْض اِلٰهّ" وھی اللہ اکیلا آسمان میں بھی معبود ھے اور زمین میں بھی تنہا معبود ھے" (الزخرف#84)
جب زمین و آسمان میں اسی کی یکتائی ھے اور اسکے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں تو :
"اِنِ الْحُکْمُ اِلاَ لِلهِ اَمَرَ اَلاَتَعْبُدُوْا اِلاَاِیَاه ذٰلِكَ الدِیْنِ الْقَیِمُ" حکم صرف اللہ کے لیے ھے اس کا فرمان ھے کہ
اسکےسواکسی کی بندگی نہ کرو یہی دین حق ھے" (یوسف#40)
اب اجتماعی زندگی میں اجراءِ احکام کا مطالبہ کرتے ھوئے قرآن کہتا ھے کہ :
"فَاحْکُمْ بَیْنَهمْ بِمَآاَنَزَلَ الله وَلاَتَتَبِع اَهوَآءَهم"
(اےرسول)اللہ کے نازل کردہ حکم کےمطابق انکےدرمیان فیصلہ کریں اور ان کی خواھشات کی پیروی نہ کریں" (المائدہ#48)
پورے نظامِ حیات اور اجتماعی تمدن میں تہذیبی رشتوں، تمدنی تعلقات اور باھمی معاملات کا تعین "بماانزل اللہ" یعنی قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں ھونا چاھیئے.
- تہذیب و تمدن کے تمام ضابطے - معاشرت و ثقافت کے تمام اصول ناشائستہ اور فاسد قرار پائیں گے اگر وہ قرآنی ھدایات کے خلاف منضبط کیے گئے. قرآن خبردار کرتا ھے :
*)- "وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَآاَنْزَلَ الله فَاُلئِكَ هم الْکٰفِرُوْنَ" جولوگ اللہ کےنازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ھیں" (المائدہ#44)
*)- "وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَآاَنْزَلَ الله فَاُوْلٰئِك همُ الظٰلِمُوْن" جو لوگ اللہ کےنازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ ظالم ھیں" (المائدہ#45)
*)- "وَمَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَآاَنْزَلَ الله فَاوْلٰئِك همُ الْفٰسِقُوْن" جولوگ اللہ کےنازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ فاسق ھیں" (المائدہ#47)
"بماانزل الله" کے علاوہ کسی اور کو "حکم" کا درجہ دینا ایمان بالقرآن کا انکاری ھونے کے برابر ھے.
ھر وہ معاشرہ فاسق ھے ظالم ھے کافر ھے جہاں قرآن کو حاکمیت حاصل نہیں.
"اَلَمْ تَرَاِلَی الَذِیْنَ یَزْعُمُوںَ اَنَهمْ اٰمَنُوْابِمَا اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَمَآاُنْزِلَ مِن قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَن یَتَحَاکَمُوْا اِلَی الطَاغُوْتِ وَ قَد اُمِرُوْا اَنْ  یَکْفُرُوا بِه" اے نبی(ص) ! تم نے نہیں دیکھاان لوگوں کو جو دعوی تو کرتے ھیں کہ ھم ایمان لائے ھیں اس کتاب (قرآن) پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ھے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں مگر چاھتے ھیں کہ طاغوت کی طرف رجوع کریں
حالانکہ انہیں طاغوت سےانکار کرنے کا حکم دیاگیاھے" (النسآء#60)
پھر اھلِ ایمان کو تنبیہًا کہا جارھا ھے کہ تمہارا دعوٰی ایمان اس وقت تک قابلِ اعتبار نہیں جب تک کہ تم اپنے تمام معاملات و اختلافات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو "حکم" تسلیم نہ کروگے.
"فَلاَوَرَبُكَ لاَیُوْمِنُوْنَ حتٰی یُحَکِمُوْكَ فِیْمَا شَجَربَیْنَهمْ ثُمَ لاَیَجِدُوْافِی اَنْفُسِهمْ حَرَجًا مِمَا قَضَیْتَ وَیُسَلِمُوْا تَسْلِیْمًا"
نہیں اے(محمد"ص")تمہارےرب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ھو سکتے جب تک یہ اپنے باھمی اختلاف میں تم کو فیصل نہ مان لیں پھر تم جو فیصلہ کرواس پراپنےدلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سربسرتسلیم کرلیں" (النساء#65)
پس ھم پر لازم ھے کہ قرآن کی طرف رجوع کریں تاکہ معلوم کرسکیں کہ انفرادی زندگی کے بارے میں "مالک الملک" نے کیا ھدایات دی ھیں.جس معاشرے میں ھم سانس لے رھے ھیں اسکی اجتماعی زندگی کےلیے کیا احکام ھیں؟
قرآن کی تعلیمات کو نفوس میں اس طرح اتاریں کہ زندگی قرآن کا چلتا پھرتا نمونہ بن جائے اور ایک ایسی ثقافت وجود میں آئے جو ذھن کی تختیوں اور کتاب کے صفحوں تک محدود نہ ھو بلکہ ایک ایسی عملی تحریک کی شکل میں جلوہ گر ھو جو انسانی زندگی کو بدل کر رکھ دے.قرآن ذھنی لذت یا تسکینِ ذوق کی کتاب نہیں ھے
نہ یہ محض ادب و فن کا شہ پارہ ھے نہ یہ قصے کہانیوں اور تاریخی واقعات کا دفتر ھے
ھاں البتہ اسکے مضامین ان تمام خوبیوں سے مالا مال ھیں مگر یہ کتابِ زندگی ھے اور انسان ساز کتاب ھے.یہ ھمیں کائنات اور حیات انسانی کی حقیقت اور ان دونوں میں باھمی تعلق اور ان دونوں کا مبداءِ حقیقی سے تعلق کا صحیح تصور پیش کرتی ھے.یہ ھمیں بتاتی ھے کہ زندگی کا صحیح تصور کیا ھے؟
ھماری قدریں کیا ھیں؟
ھمارے اخلاق کی نوعیت کیا ھونی چاھیئے؟
یہ امر بھی پیشِ نظر رھے کہ جب ھم ان مسائل کے بارے میں رھنمائی حاصل کرنے کےلیے قرآن کی طرف رجوع کریں تو "علم برائے عمل" کے احساس و جذبہ کے ساتھ کریں.
حضرت ختمی المرتبت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قرآن پڑھنے والوں کو تین گروھوں میں تقسیم فرمایا ھے :
1)_ ایک وہ لوگ ھیں جو قرآن پڑھ کر اسے دنیا کمانے اور مال و دولت حاصل کرنے کا ذریعہ بناتے ھیں اور اپنی قرآن خوانی پر لوگوں میں فخر کرتے ھیں.
2)_ دوسرے وہ لوگ ھیں جو قرآن پڑھ کر اس کے الفاظ و عبارات کو حفظ کرلیتے ھیں.لفظوں کی درستگی میں کوشش کرتے ھیں مگر احکام سے بےخبر اور عمل سے غافل ھیں.
3)_ تیسرے وہ لوگ ھیں جو قرآن پڑھ کر اسے اپنے دردِ دل کی دوا بناتے ھیں.راتوں کو اس کےلیے جاگتے ھیں.دن بھر روزہ رکھتے ھیں.مسجد میں نماز کےلیے دل لگائے کھڑے رھتے ھیں.قرآن کی تلاوت میں صبح سے شام اور شام سے صبح کردیتے ھیں.ایسے لوگوں کی برکت سے خداوندِعالم آفات و بلیات کو اپنے بندوں سے دور رکھتا ھے اور مسلمانوں کو دشمنوں پر غالب کرتا ھے.آسمان سے بارانِ رحمت کا نزول فرماتا ھے.خدا کی قسم ایسے لوگ قرآن پڑھنے والے کبریتِ احمر سے بھی کم ھیں.
یہ آخری گروھ وہ ھے جو قرآن کی تعلیم برائے عمل حاصل کرتا ھے.
؛؛؛
آخر میں حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہم السلام کی ایک دعا کا اقتباس پڑھتے ھیں جو آپ (ع) کو مولائے کل ختم الرسل سیدالعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تعلیم فرمائی :
"اللهم نور بکتابك بصری، واشرح به صدری واطلق به لسانی ، واستعمل به بدنی وقونی به علی ذٰلك و اعنی علیه وانه لا يعين عليه الا انت لا اله الا انت"
بارالہا ! میری نگاھوں کواپنی کتاب کے ساتھ منور فرما، اس کے ذریعہ میرے سینے کو کشادہ فرما. میری
زبان کو اسکی (تلاوت) کےلیےرواں فرما. میرے جسم کو اسی کے لیے استعمال کر اور اس کے لیے مجھے
قوت و طاقت عطا فرما. اس کے لیے میری امداد فرماکیونکہ اس پر صرف تو ھی میری مدد کرسکتا ھے.تیرے
علاوہ کوئی اورمعبودِبرحق نہیں ھے"

 

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک