امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

امام حسن عسکری علیہ السلام کی نظر میں عبادت اور عرفان(دوسرا حصہ)

0 ووٹ دیں 00.0 / 5

 

امام حسن عسکری علیہ السلام کی نظر میں عبادت اور عرفان(دوسرا حصہ)

مقالہ از: عبد الکریم پاک نیا

ترجمہ: اسدرضاچانڈیو

تصحیح: حجۃ الاسلام غلام قاسم تسنیمی

پیشکش: امام حسین فاؤنڈیشن قم


مقدمہ:
اللہ تعالی کی حمد، ثنا،عبادت اور عشق, انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ جب انسان زندگی میں حیران کن واقعات،دردناک حادثات اور مشکلات کا سامنا کرتا ہے, تو اپنے اس فطری تحفہ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔اس وجہ سے تمام ادیان اور مذاہب میں ’’عبادت‘‘ کو ایک خاص مقام اور مرتبہ حاصل ہے ۔ اور اس کا  خاص انداز ، طریقہ، آداب اور رسوم ہیں۔ کچھ انسان عبادت کے درست طریقہ کو نہیں جانتےاس وجہ سے غلط راستہ پر چل پڑتے ہیں۔ اللہ تعالی نے اپنے انبیاء اور اولیاءکو اس بات پر مامور کیا ہے کہ بشریت کو عبادت کے درست راستے، اس کے لوازمات،آثار اورموانع کی تعلیم دیں۔اور معبود حقیقی سے ملاقات کے عاشقانہ راستہ کی طرف رہنمائی کریں۔
ماہ ربیع الاول  میں،امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے ہم نے ان کی زندگی میں عبادت اور عرفان کے  پہلؤوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔ اس تحریر میں بھی ہم اس حجت خدا کی سالک کو عرفانی اور عبادتی راستہ میں دی گئی رنمائی  کی توضیح  اور وضاحت کرتے ہیں:

دلنواز مناجات
حقیقت طلب، سچے عاشق ، شبانہ مناجات اور اپنے محبوب کے ساتھ خلوت میں عارفانہ کلام میں، اپنے روح کی بلندی، اپنے باطن کی صفائی کو تلاش کرتے ہیں۔وہ اپنے  بے چین روح کے قرار کو اور دردناک دل کے مرہم کو دونوں عالمین کے مالک کے ساتھ مناجات اور رازونیاز میں پاتے ہیں۔تمام مشکلات کا حل اس کے ہاتھ میں ہے۔بلند ہمت عارف اللہ کی رضا میں راحت کو جانتے ہیں وہ محبوب کی مرضی کے علاوہ کچھ نہیں مانگتے۔ وہ ہمیشہ زیر لب یہ گنگناتے ہیں:
 خاک درت بهشت من / مهر رخت سرشت من
عشق تو سرنوشت من / راحت من رضاى تو

تیری در کی خاک میری جنت، محبت میری خلقت کا بسترہ
تیرا عشق میری تقدیر،تیری رضا میں مجھے راحت
امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے ایک عارفانہ کلام میں ارشاد فرماتے ہیں:
من انس بالله استوحش من الناس; (1)
جس کو اللہ تعالی سے انسیت ہو جائے، اسے لوگوں سے وحشت ہوجاتی ہے۔
اسی طرح مولائے عارفان، امام علی علیہ السلام بھی تھے۔ جب معاویہ نے ضرار ابن ضمرہ  لیثی سے جو کہ امام کے سچے ساتھیوں میں سے تھا، امام کے حالات  کےبارے میں سوال کیا تو اس نے کچھ اس طرح سے وضاحت کی:
يستوحش من الدنيا وزهرتها ويستانس باليل ووحشته; (2)
حضرت علی علیہ السلام دنیا اور اس کے مناظر سے پریشان ہوتے تھے اور رات اور اس کی وحشت سے مکمل مانوس تھے۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اللہ تعالی سے انسیت اور غیر خدائی مناظر  سے وحشت سے مراد ، دنیا کو ترک کرنا اور رہبانیت  نہیں ہے۔ بلکہ پروردگار عالمین سے خلوت میں رازونیاز ،تمام نیکیوں،طاقتوں اور خوبصورتیوں کی بنیاد ہے۔ بنیادی طور پر ہر اجتماعی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی کام، جس کا تعلق لوگوں کے ساتھ ارتباط میں ہے، اگر اللہ تعالی کی رضایت سے انجام پائے تو اللہ تعالی کے ساتھ انسیت کا سبب بنتا ہے۔
امام حسن عسکری علیہ السلام ایک دلکش مناجات میں پروردگارعالم  سے رازونیاز سے کرتے ہوئے، عرض کرتے ہیں: يا من مواعيده صادقة، يا من اياديه فاضلة، يا من رحمته واسعة، يا غياث المستغيثين، يا مجيب دعوة المضطرين، يا من هو بالمنظر الاعلى، وخلقه بالمنزل الادنى . . . فصل على محمد وآله واهدنى من عندک وافض على من فضلک وانشر على من رحمتک وانزل على من برکاتک انک انت الرب الجليل وانا العبد الضعيف وشتان ما بيننا يا حنان يا منان، يا ذالجلال والاکرام; (3)
اے وہ ذات جس کے وعدے سچے ہیں، جس کی نعمتیں احسان ہیں، جس کی رحمت وسیع ہے ، اےبے یارو  مددگاروں کے مددگار، اے پریشان حالوں کی دعا کو قبول کرنے والے، اے وہ ذات جو اعلی درجے پر ہے جبکہ اس کی مخلوق ادنی درجے پر ہے، رحمت نازل فرما محمداور اس کی آل پر، مجھے اپنے طرف ہدایت فرما، مجھے اپنے فضل سے عطا فرما، اپنی رحمت شامل حال فرما، اپنی برکات نازل فرما توہی رب عظیم ہے، اور میں حقیر بندہ ہوں، ہمارے درمیان کتنا فاصلہ ہے، اے حنان، اے منان، اے صاحب عزت و جلال۔

عرفانی دستور العمل
امام حسن عسکری علیہ السلام مختلف دستور العمل کے ذریعہ سے انسانوں کو  سیر اور سلوک کی دعوت دیتے تھے۔ وہ بزرگوار اپنے خصوصی اور عمومی خطوط اور مکتوبات میں اپنے مطالب کو حقیقی عاشقانہ اور مشتاقانہ  انداز  میں بیان کرتے تھے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام، سعادت کی جستجو کرنے والوں کی خصوصا اپنے شیعہ محبوں کی اپنے دستور العمل کے ذریعہ رہنمائی فرماتے تھے۔
اسحاق ابن اسماعیل نیشاپوری، امام کے سچے محبوں اورقابل اطمینان افرادمیں سے تھا۔ امام نے اس کو  ایک خط لکھا ،اس  خط  میں امام اس کی رہنمائی فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
 فاعلم يقينا يا اسحاق! انه من خرج من هذه الدنيا اعمى فهو فى الآخرة اعمى واضل سبيلا، يابن اسماعيل! ليس تعمى الابصار ولکن تعمى القلوب التى فى الصدور، وذلک قول الله فى محکم کتابه (5) حکاية عن الظالم اذ يقول «رب لم حشرتنى اعمى وقد کنت بصيرا قال کذلک اتتک آياتنا فنسيتها وکذلک اليوم تنسى  (6)
اے اسحاق!جو اس دنیا سے نابینا رخصت ہوا،  وہ آخرت میں بھی اندھا اور  راستے سے بھٹکا ہوا محشور ہوگا۔اے اسماعیل کے بیٹے! یہاں نابیناسے مراد آنکھوں کا اندھا نہیں،بلکہ دل کا اندھا ہے۔ یہی اللہ تعالی کا قرآن میں ظالم کے قول  کی حکایت کرتے ہوئے  فرمانا ہے: وہ کہے گا کہ پروردگار یہ تو نے مجھے اندھا کیوں محشور کیا ہے جب کہ میں  دنیا میں صاحبِ بصارت تھا؟
ارشاد ہوگا کہ اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئیں اور تونے انہیں بھلا دیا تو آج تو بھی نظر انداز کردیا جائے گا!

عبادت کا دستور العمل
سلوک عرفانی اور عبادتی، انسان کو کمال مطلق کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس وجہ سےانسانی زندگی میں بہت سارے اچھے اثرات اپنے پیچھے لاتا ہے۔ روحانی عظمت، فکری بلندی، جسمانی صحت، اجتماعی رفتار میں بہتری، اپنے نقس پر کنٹرول کی قدرت،توحید پر ایمان میں قوت، قوت ادراک میں اضافہ، یہ سب اللہ تعالی کی  خلوص کے ساتھ عبادت کرنے کے اثرات میں سے چند اثرات ہیں۔
دنیا کی تمام بڑی شخصیات اپنی بے شمار  کامیابیوں کے  راز کو اس معنوی پردہ پر تلاش کرتے ہیں۔ ان عظیم شخصیات میں سے سب سے مشہور شخصیت  جس پرپوری اسلامی دنیا کو افتخار ہے، وہ شیخ الرئیس ابو علی سینا ہے۔ وہ ایک ایرانی بہت بڑے مفکر اور دانشمند تھے۔ وہ  اپنے زمانے کی بہت بڑی نابغ شخصیت تھے۔ انہوں نے اسقدر علم اور دانش  حاصل کیا کہ اپنی جوانی میں ہی اپنے دور کے تمام استادوں سے بے نیاز ہو گئے۔ انہوں نے جتنی بھی کامیابیاں حاصل کیں، اور مقامات  پائے بلکہ اپنی تمام مشکلات کےحل کیلئے اللہ تعالی کی بارگاہ میں تواضع اورعبادت میں تلاش کرتے تھے۔
وہ اپنی زندگی کے یادگار واقعات میں ذکر کرتے ہیں: میں نے  اپنی پوری زندگی میں دن  رات علم حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں سوچا۔ میں نے ادراک کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔ میں علم کے راستہ پر آگے بڑھتا گیا  یہاں تک کہ ہر علمی مسئلہ میرے لئے آسان ہوگیا۔ میں جب بھی کسی علمی مسئلہ میں حیران اور پریشان ہوتا تھا، یا اسے حل نہیں کر پاتا تھا ۔ تو مسجد میں پناہ لیتا تھا ، نماز پڑھتا تھا  اور  مالک کی حمد اور ثناء کرتا تھا۔ اس حال میں میری مشکل حل ہو جاتی تھی اور پریشانی دور ہو جاتی تھی۔

ابدیت سے اتصال
انسان اطاعت اور عبادت کے سہارے ظاہری اور اندرونی ،ہر قسم کی قید اور بند سے آزادی حاصل کر کے روحانی عظمت، اور حقیقی آزادی کے بلند قلعہ تک پہنچ سکتا ہے۔اللہ تعالی کے سچے بندے جو، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کو اپنا لیڈر اور رہبر مانتے ہیں ، وہ لوگ اللہ تعالی  کی بارگاہ میں سر جھکا کر عظیم بن جاتے ہیں۔ وہ لوگ ظالموں، جابروں، مالداروں، کافرون اور مشرکوں کے جھوٹے خداؤں سے  نہیں ڈرتے اور ان میں سے کسی کی اطاعت اور بندگی نہیں کرتے۔ اللہ تعالی کی بندگی ان کو سب سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ ان کی نظر میں پروردگار کے علاوہ سب حقیر بن جاتے ہیں۔ ایسا انسان اس وقت ابدیت سے ملحق ہو جاتا ہے اس سے اللہ تعالی خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
عبدى اطعنى اجعلک مثلى، انا حى لا اموت اجعلک حيا لا تموت، انا غنى لا افتقر اجعلک غنيا لا تفتقر، انا مهما اشاء يکون اجعلک مهما تشاء يکون; (8)
 میرے بندے! میری اطاعت کرو، میں تمہیں ایسا زندہ بنا دوں گا جس کو کبھی موت نہ آئے۔میں ایسا غنی ہوں جو کبھی بھی کسی کا محتاج نہ ہوگا۔ میں تمہیں بھی ایسا غنی بنا دوں گا،  جو کسی کا محتاج نہیں ہوگا۔میں جب بھی جو بھی چاہتا ہوں، وہ ہوتا ہے۔ میں تمہیں بھی ایسا بن دوں گا، تم جسےی چاہو گے ویسے ہوگا۔
امام حسن عسکری علیہ السلام، اللہ تعالی کے ایسے پیارے بندوں میں سے ایک تھے، جن کے اختیار میں اللہ تعالی نے تمام چیزوں کو قرار دیا تھا، تمام چیزیں ان کی مطیع اور فرمانبردار تھیں۔ ہم اس سلسلے میں چند واقعات بیان کرتے ہیں:
۱۔ جب ایک ظالم اور جابر، سیاہ دل انسان، جس کا نام نحریر تھا۔ اس کے سپرد امام کو کیا گیا تا کہ وہ امام پر جتنے ہو سکے زیادہ مظالم ڈھائے۔اس نے بھی اپنے حاکموں کے حکم پر عمل کرتے ہوئے مظالم کی حد کردی۔ نحریر کے ساتھیوں نے نحریر کو اس کام سے باز رکھنے کی بہت کوشش کی۔ امام کی عبادت اور پرہیزگاری کی طرف اسے متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہمیشہ نحریر کے مظالم کے سامنے دیوار بننے کی  کوشش کی۔ اسے اس کے برے انجام سے بہت ڈرایا  مگر اس بد بخت پر کوئی اثر نہیں ہوا، بلکہ اس نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو قتل کرنے کا پکا  ارادہ کیا۔ اس نے اپنے حاکموں سے اجازت لینے کے بعد امام کو ’’برکۃ السباع‘‘ نامی ایک جنگل میں وحشی درندوں کے ساتھ قید کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ امام ان وحشی درندوں کے وسیلے قتل ہوں جائیں گے۔ لیکن چند لمحے گذرنے کے بعد وہ دیکھتا ہے کہ امام ایک کونے مین نماز ادا کر رہے ہیں۔ اور تمام حیوانات بہت انکساری کے ساتھ امام کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہیں۔ جب اس نے یہ منظر دیکھا تو فورا،  اما م کو اس قید سے رہا کیا،  اور اپنے گھر لے گیا۔(۹)
امام کی زیارت میں اس اہم واقعہ کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے:
وبالامام الثقة الحسن بن على عليه السلام الذى طرح للسباع فخلصته من مرابضها; (10)
پروردگارا! تجھے تیرے معتمد،  امام حسن عسکری علیہ السلام کا واسطہ! جس  کو وحشی درندوں کے سامنے ڈالا گیا اور تو نے اسے ان سے نجات بخشی۔
۲۔ محمد ابن اسماعیل علوی نقل کرتے ہیں: جب امام حسن عسکری علیہ السلام، علی ابن اوتامش(۱۱)کے پاس، جو کہ آل محمدعلیہم السلام  کا سخت دشمن تھا، پاس قید تھے۔ وہ بہت بری طبیعت والا بد سیرت انسان تھا۔ اور خاندان علی علیہ السلام کے ساتھ بہت زیادہ دشمنی رکھتا تھا۔ اسے ظالم خلیفہ کی طرف سے دستور دیا گیا تھا کہ جتنا ہو سکے امام پر ظلم کرو!لیکن امام کی عبادت اور ان کے عرفانی اورمعنوی مقام نے اس سنگ دل انسان پر بھی اتنا اثر کیا کہ  اس نے اپنا ارادہ تبدیل کر دیا ۔ اگرچہ امام اس کے پاس ایک دن سے زیادہ قیدی نہیں تھے۔  اس نے اپنا چہرہ امام کے احترام میں خاک پر رکھ دیا اور  کبھی سر نہیں اٹھایا۔ امامت کے گیارہویں تاجدار کے ایک دن کے ساتھ نے اس کے کردار اور رفتار کو بدل ڈالا۔ اور وہ ایک نیک مرد بن گیا۔(۱۲)
۳۔ احمد ابن خاقان، امام حسن عسکری علیہ السلام کی روحانی عظمت  اور ناقابل شکست کشش کے بارے میں کہتے ہیں: میں نے علویوں میں سے سامراء کے پورے شہر میں امام حسن عسکری علیہ السلام جیسے جلال اور ہیبت والا نہ کوئی سنا نہ دیکھا!امام کے وقار ، سکوت اور کرامت  کا کوئی اور کیا خود بنی ہاشم کے پورے خاندان میں سے کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میں نے بنی ہاشم کے ہر ایک فقیہ، دبیر، وزیر،مشیر، سردار اور  ان کے علاوہ سب  سے امام حسن عسکری علیہ السلام کے بارے میں نہیں پوچھا مگر یہ کہ انہوں نےاحترام کے ساتھ ان کی عظمت اور بزرگی کی گواہی دی۔ ان کو بنی ہاشم کے تمام بزرگ ان خصوصیات کے ساتھ یاد کرتے تھے کہ وہ اپنے خاندان میں بلند مرتبہ کے حامل،عبادت اور عرفان کے عظیم مقام پر فائزہیں۔ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے میری نظر میں بھی امام کا مقام بڑھ گیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ تمام دوست اور دشمن امام کو بہت احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور امام کی ستایش کرتے ہیں۔(۱۳)
ان کا  سارا، احترام اور عزت ، ان کا  اللہ تعالی کی بارگاہ میں عبادت ، اطاعت، خشوع اور خضوع  کے سبب تھا۔ جیسا کہ انہوں نے ارشاد فرمایا:
ما ترک الحق عزيز الا ذل ولااخذ به ذليل الا عز; (14)
جو بھی عزت والا  حق (اللہ تعالی) کو چھو ڑ تا ہے، ذلیل ہو جاتا ہے اور جو بھی ذلیل،  حق (اللہ تعالی) کے قریب آتا ہے عزت والا بن جاتا ہے۔

عبادت اور تفکر
جس عابد نے پوری زندگی کبھی اپنی عقل سے کام نہیں لیا،  اور غور فکر نہیں کیا۔  اسے اس  کی عبادت اور معنوی اعمال  کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ کیونکہ ہر انسان کے تمام اعمال کی اہمیت اور ارزش اس کی  اللہ تعالی کی نسبت سے معرفت میں مخفی ہے۔ اور معرفت کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اگر کمال حاصل کرنا ہو تو بیدار دل کے ساتھ اللہ تعالی کی بے پایاں قدرت کا مشاہدہ کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالی کی حیرت انگیز  اور تعجب  آور مخلوقات،   عظمت بھرا جہاں، مختلف اور متنوع اشیاء جو اس پھیلے ہوئے عالم میں پائی جاتی ہیں، اور خاص نظام کے مطابق حرکت کرتی ہیں، اور کسی خاص مقصد کے تعاقب میں ہیں۔ ان کے بارے میں تفکر کرنا پڑے گا۔
وہ عبادت جو معرفت کے ساتھ ہو  اور کسی قسم کے غرور اور تکبر کا باعث نہ بنے، بلکہ جو عبادت جتنی بلند معرفت کے ساتھ انجام دی جائے گی اتنا بلند  اور عظیم بناتی ہے۔ خشوع اور خضوع، عبادت کے ثواب کو کئی گنا بڑہا دیتے ہیں، اس کی لذت اور سرور کو بڑہا دیتے ہیں، اس کے ساتھ انسیت کو بڑہا دیتے ہیں۔ اس وجہ سے عبادتوں  کو زینت  بخشنے والے، معرفت کے ساتھ  عبادت سے مسرور ہونے والے، میرے ساجد مولا فرماتے ہیں:
سبحانک ماعبدناک حق عبادتک; (15)
پروردگارا! ہم سے تیری عبادت کا حق ادا نہ ہوا!
ان تمام نکات کی بنا پر، امام حسن عسکری علیہ السلام کے اس حکیمانہ کلام پر دقت سے نظر کرنا ہوگی۔امام فرماتے ہیں:
ليست العبادة کثرة الصيام و الصلوة وانما العبادة کثرة التفکر فى امر الله; (16)
نماز اور روزہ کی کثرت کا نام عبادت نہیں، عبادت تو  امر الہی میں کثرت سے غور اور فکر کا نام ہے۔

 

حوالہ جات
1) عدة الداعى، ص 194; شمس الضحى، ص 594 .
2) عده الداعى، ص 195 .
3) مصباح المتهجد، ص 227; مهج الدعوات، ص 277 .

4) اسحاق ابن اسماعیل نیشاپوری، شیعہ بزرگوں میں سے  تھے، اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے قابل اطمینان محدث تھے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام ان کے مقام اور منزلت کے بارے میں  فرماتے ہیں: فاتم الله يا اسحاق على من کان مثلک - ممن قد رحمه الله وبصره بصيرتک - نعمته، وقدر تمام نعمته دخول الجنة;
اے اسحاق! جو افراد  تمہارے جیسے ہیں۔ جن پر اللہ تعالی نے رحمت نازل فرمائی ہے اور تمہاری بصیرت سے ان کو نوازا ہے ۔ اللہ تعالی اپنی نعمت بہشت میں داخل کرنے کے ذریعہ تمام فرمائے!
 (مهج الدعوات، ص 63 - 67)
5) طه/125 و 126 .
6) تحف العقول، ص 484; معجم رجال الحديث ج ج، ص 222 .
7) زندگى ابوعلى سينا، ص 29 .
8) الجواهر السنيه، ص 361 .
9) الارشاد، ج 2، ص 334; شمس الضحى، ص 595 .
10) مفتاح الفلاح، ص 176; بحارالانوار، ج 83، ص 354
.
11)  کافی میں اس مرد کا نام علی ابن نارمش درج ہے۔
12) کشف الغمه، ج 3، ص 286; اصول کافى، باب مولد ابى محمد الحسن بن على عليه السلام، حديث 8 .
13) الارشاد، ج 2، ص 321; اصول کافى، باب زندگانى امام حسن عسکرى عليه السلام حديث اول .
14) تحف العقول، ص 489 .
15) صحيفه سجاديه، ص 35 .
16) تحف العقول، ص 488 .

 

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک