امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

حضرت فاطمۃ الزہرا ؑ بطور نمونہ عمل

1 ووٹ دیں 03.0 / 5


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حضرت فاطمۃ الزہرا ؑ بطور نمونہ عمل
نذر حافی


خلاصہ

کمال کا حصول ہر انسان کا فطری حق ہے،جب انسان فطرت کے تقاضوں کے مطابق کمال کے حصول کی جستجو کرتا ہے تو پورا نظامِ فطرت یعنی نظام کائنات اس کی مدد کرتا ہے۔ اس دنیا میں ہر مادی انسان  کے لئے ضروری ہے کہ کو ئی الٰہی ہادی  اس کو کمال کی طرف لے جائے۔
انسان کسی پتھر کی طرح نہیں ہے کہ کوئی دوسرا اسے اٹھا کر بلندی، معراج یا کمال کے مقام پر رکھ دے،  بلکہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ارادے اور اختیار کے ساتھ اپنے نمونہ عمل یعنی اپنے ہادی کو پہچانے، اس کی معرفت کے ساتھ اس کی اتباع کرے اور جب انسان صحیح اور کامل ہادی کی اتباع کرتا جائے گا تو وہ خود بخود کمال کی منازل کو طے کرتا جائے  گا۔
خداوند عالم نے جن شخصیات کو بنی نوع انسان کے لئے نمونہ عمل اور رول ماڈل بنا کر خلق کیا ہے ، ان میں سے ایک ہستی حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیھا کی بھی ہے۔آج کے اس پر آشوب دور میں ضروری ہے کہ اس شخصیت کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی جائے  تا کہ اولادِ آدم آپ کی سیرت کو بطریقِ احسن سمجھ کر اس پر عمل کر کے مادی و معنوی کمالات کو حاصل کرسکے۔
بصورت دیگر کوئی شخصیت کتنی ہی جامع کیوں نہ ہو اگر اس کی سیرت پر عمل نہ کیاجائے تو معاشرے کو اس سے  جو فائدہ پہنچنا چاہیے وہ نہیں پہنچ پاتا۔اگر ہم اپنے معاشرے کو انسانیت کی بلندیوں اور ملکوت کے اعلی درجات پر دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ آج بھی ممکن ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم  خود بھی حضرت فاطمۃ لزہرا ؑ کی عملی شخصیت اور حقیقی فضائل  سے آگاہ ہوں اور اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی اس معظمہ بی بی ؑ کی سیرت و کردار سے متعارف کروائیں۔

مقدمہ

انسان فطری طور پر کمال کو پسند کرتا ہے، صرف پسند ہی نہیں کرتا بلکہ کمالات کو اپنانا چاہتا ہے ، کسی بھی کمال کو اپنانے کے لئے اس کمال کی مطلوبہ تمارین اور مشقیں کرنی پڑتی ہیں۔یعنی کسی بھی قسم کے کمال کے حصول کے لئے تین چیزیں بنیادی طور پر ضروری ہیں:
۱۔ انسان میں کمال کے حصول کا شوق ہو
۲۔ انسان میں اس کمال کے حصول کی صلاحیت ہو
۳۔ انسان اس کمال کے حصول کے لئے محنت کرے
انسان میں کسی کمال کے حصول کا صرف شوق ہو اور صلاحیت نہ ہو اور یا پھر اس کے حصول کے لئے  ضروری و مطلوبہ محنت و مشق نہ کرے تو وہ اس کمال کو حاصل نہیں کر سکتا۔
کمالات کے حصول کے لئے انسان کو ہمیشہ   ایک اسوہ حسنہ اور نمونہ عمل کی ضرورت رہتی ہے۔انسان ایک ایسا وجود ہے جو قدم قدم پر ہدایت اور رہنمائی کا محتاج ہے۔چنانچہ ہر الٰہی انسان اپنی زندگی میں ہر روزکم از کم  پانچ مرتبہ خداوند عالم سے یہ دعا کرتا ہے کہ  اهدنا الصراط المستقیم(پرودردگار تو مجھے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا رہ)۔(1)
یہ دعا ہر صحیح و سالم انسان کی تمنّا اور آرزو ہے، اس کے بعد عمل کی باری آتی ہے، عمل کے لئے ضروری ہے کہ انسان مقام کمال کو پانے کے لئے ٹھیک طرح سے اعمال انجام دے اور یہی خداوندعالم بھی انسان سے چاہتا ہے، چنانچہ ارشاد پروردگار ہوتا ہے:
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَياةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا(2)
جس نے پیدا کیا موت اور زندگی کو تاکہ آزمائے تم کو کونسا تم میں سے اچھا ہے عمل میں
اب عمل کی اچھائی کے لئے انسان کو ایک میزان اور کسوٹی کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی کسوٹی جس پر انسان اپنے اعمال کی اچھائی و برائی کو جانچ سکے، چنانچہ خدا نے  یہ کہہ کر اس کسوٹی اور میزان کا بھی اعلان کردیا:
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
تمہارے لئے رسول کی زندگی نمونہ عمل ہے(3)
یعنی صرف رسول ﷺ کی زبان سے کہی ہوئی حدیث ہی نمونہ عمل نہیں بلکہ رسولﷺ کی عملی زندگی بھی رول ماڈل ہے۔
پس ہر کمال کے متلاشی اور سالک الی اللہ کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کو رسول کے اعمال کی میزان پر پرکھے ۔اب رسول کے ا سوہ حسنہ پر عمل کے لئے رسولﷺ کی صحیح شناخت ضروری ہے چنانچہ قرآن مجید نے رسولﷺ کا  مختصر اور جامع تعارف کروانے کے لئے کچھ یوں ارشاد فرمایا ہے :
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ
محمد فقط رسول ہیں۔(4)
اب نبی اکرم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  فقط رسول ہونے کے ناطے سب سے پہلے ایسے گھرانے کو تشکیل دیا  جس سے دنیا کی ہر نجاست دور رہی  اور یہ گھرانہ بھی پورے عالم بشریت کے لئے نمونہ عمل قرار پایا۔
رسولﷺ کے گھرانے کا کوئی بھی فرد محض  اس لئے نمونہ عمل نہیں ہے کہ  وہ رسول کا قریبی رشتے دار ہے بلکہ وہ اس لئے نمونہ عمل ہے کہ اس کے اپنے اعمال رسولﷺ کے اعمال کے مطابق ہر رجس اور نجاست سے دور ہیں۔
سورہ احزاب کی تینتیسویں آیت : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا کا ترجمہ  مولانا شبر احمد عثمانی نے کچھ اس طرح کیا ہے  کہ  بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول صلوآلہ وسلم             کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے۔(5)
اور وہی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:  اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ نبی کے گھر والوں کو ان احکام پر عمل کرا کر خوب پاک و صاف کر دے اور ان کے رتبہ کے موافق اییو قلبی صفائی اور اخلاقی ستھرائی عطا فرمائے جو دوسروں سے ممتاز و فائق ہو۔ (جس کی طرف { یُطَهرَکُمْ } کے بعد { تَطْهیْرًا } بڑھا کر اشارہ فرمایا ہے) یہ تطہرک و اذہاب رجس اس قسم کی نہںہ جو آیت وضوء مںت { وَّ لٰکِنۡ یُّرِیۡدُ لِیُطَهرَکُمۡ وَ لِیُتِمَّ نِعۡمَتَه عَلَیۡکُمۡ } (مائدہ۔۶) سے یا "بدر" کے قصہ مںُ { لِیُطَهرَکُمْ وَیُذْهبَ عَنْکُمْ رِجْزَا لشَّیْطَانِ } (انفال رکوع۲) سے مراد ہے۔ بلکہ یہاں تطہرس سے مراد تہذیب نفس، تصفہَ قلب اور تزکہ{ باطن کا وہ اعلیٰ مرتبہ ہے جو اکمل اولازء اللہ کو حاصل ہوتا ہے۔(6)
ظاہر ہے جب  کوئی ہستی اہل بیت رسولﷺ میں سے طہارت کے اس مقام پر پہنچ جائے کہ قرآن اس کی طہارت کی گواہی دے تو ایسی ہستی رسولِ اعظم کے اسوہِ حسنہ پر عمل کرنے کی وجہ سے محبوبِ خدا کہلائے گی۔
ارشاد پروردگار ہے کہ قُلْ اِنْ كُنْتُـمْ تُحِبُّوْنَ اللّـٰهَ فَاتَّبِعُوْنِىْ يُحْبِبْكُمُ اللّـٰهُ ، حبیب  کہہ دیجئے اگر تم اللہ کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو تاکہ تم سے اللہ محبت کرے۔
پس اہلِ بیت وہ ہستیاں ہیں جو ظاہری و باطنی طہارت اور محبوبِ خدا ہونے کی وجہ سے  رسولِ خداﷺ کے بعد ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں۔اُن ہستیوں میں سے ہر ہستی اپنے فضائل و اعمال کے اعتبار سے خصوصی عروج کی حامل ہے۔
اس وقت ان ہستیوں میں سے ہم فقط حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا کی ذات گرامی کے اسوہِ حسنہ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں گے۔قارئین کو یاد رہے کہ ہمارا مقصد سیّدہ دو عالمﷺ کے فضائل و مناقب پر روشنی ڈالنے کے بجائے اُن کے اسوہ حسنہ کو اجاگر کرنا ہے۔
حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا کی شخصیت پر بطور نمونہ عمل نگاہ ڈالنے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ خود رسول اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے :
سب سے پہلے جنت میں حضرت فاطمہؑ داخل ہونگی۔ (7)ظاہر ہے کہ ہر وہ شخص جس کے دل میں جنت میں داخلے کی تمنّا، آرزواور خواہش ہے وہ اس عظیم بی بی کے نقش قدم پر چلنے کی ہر ممکن سعی و کوشش کرے گا۔ ہم اس معظمہ خاتونؑ کی زندگی کا بطور اسوہِ حسنہ مطالعہ کرنے کے لئے ان کی زندگی کے ادوار کو چند مرحلوں میں تقسیم کر لیتے ہیں:
الف: بحیثیت بیٹی ب: بحیثیت بیوی ج: بحیثیت ماں  د: بحیثیت عابدہ و زاہدہ  ر:  بحیثیت مدافع اسلام  س: بحیثیت جامعِ  اوصاف

خاتونِ جنت ،بحیثیت بیٹی

سب سے پہلے ہم رسولﷺ کی دخترِ گرامی  ؑ کی شخصیت کا بطور بیٹی جائزہ لیتے ہیں۔آپ کی تاریخ ولادت میں اگرچہ  اختلاف پایا جاتا ہے تاہم اکثر مورخین کا اتفاق ہے کہ آپ بعثت کے پانچویں سال بیس جمادی  الثانی کو حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بطن اطہر سے اس دنیا میں تشریف لائیں۔
یوں کائنات کے سب سے عظیم انسان کے گھر میں کائنات کی سب سے عظیم خاتون کی ولادت ہوئی ، یہ ولادت پھولوں کے حصار میں نہیں بلکہ کانٹوں کے محاصرے میں ہوئی، کفّار مکہ پیغمرِ خدا کو ابتر یعنی بے نام و نشان اور بے نسل ہونے کے طعنے دیا کرتے تھے کہ ایسے میں خدا نے اس بیٹی کو عطا کر کے ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا :
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
اِنَّـآ اَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1)

بے شک ہم نے آپ کو کوثر دی۔
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (2)
پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔
اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَـرُ (3)
بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے۔
اس سورہ میں خداوند عالم نے اپنے حبیبﷺ کو تسلی دی ہے کہ ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے اور آپ کا دشمن ابتر ہے۔ لفظ کوثر کی مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں یہاں تک کہ فخر رازی نے اس بارے میں پندرہ اقوال نقل کئے ہیں۔تفسیر المیزان سمیت متعدد علمائے اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ کوثر یعنی خیر کثیر کے متعدد مصادیق میں سے ایک روشن  ترین مصداق حضرت فاطمہؑ کا وجود مبارک ہے ۔
اس سورہ کے تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بی بی ، رسولِ دو عالم کے لئے ؑ اپنی ولادت سے ہی خیر کثیر ہے ۔یعنی یہ فقط ایک بیٹی نہیں ہے بلکہ یہ بیٹی کے قالب میں  اللہ کی طرف سے رسولﷺ کو  خیر کثیر عطا کیا گیا ہے اور اس خیر کثیر کے ذریعے رسولﷺ کو طعنے دینے والوں کا منہ بند کیا گیا ہے۔
جب اس بی بی کی عمرِ مبارک فقط دوسال ہوئی تو شعبِ ابی طالب میں مسلمانوں  کا محاصرہ کیا گیا۔ نبیﷺ کی یہ اکلوتی بیٹی ان بھوک، افلاس اور مشکلات کے دنوں میں، دو سال کی عمر میں  شعبِ ابیطالب میں دیگر مسلمانوں کے ہمراہ  محصور رہی۔اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں تین سال تک آپ نے شعب ابیطالب کی قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کیا۔(8)
شعبِ ابیطالب کا محاصرہ در اصل مسلمانوں کی تربیت کے لئے ایک بنیادی مرحلہ تھا، جس طرح ایک بیج  کو زمین  کے اندر دفنایا جاتا ہے اور وہ زمین کے نیچے سخت دباو کو برداشت کرنے کے بعد زمین کی سخت جلد کو ننھی سی کونپل سے چیر کر باہر نکل آتا ہے اور تندو طوفان ہواوں اور شدید موسم کے مقابلے میں کھڑا ہوجاتا ہے ، اسی طرح شعب ابیطالب کے دوران مسلمانوں کی روحانی و جسمانی تربیت کی گئی تاکہ وہ بدترین مشکلات اور خوفناک حالات کا مقابلہ کر سکیں، اس تربیتی مرحلے میں حضرت خاتون جنتؑ بھی ان مسلمانوں کے درمیان موجود تھیں۔
اس سخت اور کٹھن دور میں بی بیؑ کے خیر کثیر وجود کو دیکھ کر پیغمبر اسلام ﷺ کو کتنا حوصلہ ملتا ہوگا اس کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔
بعثت کے دسویں سال جب رسولِ گرامیﷺ کی دختر نیک اخترؑ  ؑ کی عمر فقط پانچ یا چھ سال تھی تو  پیغمرِ اسلام پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے ، اس سال حضرت ابوطالبؑ اور حضرت خدیجہ ؑ کا انتقال ہوگیا۔ ان دو بزرگوار شخصیتوں کے انتقال سے گویا پیغمبرِ اسلام کی کمر ٹوٹ گئی تھی اور پیغمبرؐ نے اس سال کا نام عامُ الحزن یعنی غم کا سال رکھا۔
پیغمبرِ اسلام ﷺ کی زندگی میں آنے والے اس خلا کو سیّدہ زہراؑ نے کم سنی کے باوجود اس محبت اور خدمت  سے پُر کیا کہ آپ اُمُّ ابیھا کی کنیت  سے مشہور ہوئیں۔اُمُّ ابیھا یعنی اپنے باپ کی ماں۔ یہ اس منفرد بی بی کا منفردمقام  ہے جو کائنات کی کسی اور خاتون کے حصّے میں نہیں آیا۔یعنی آپ اس مشکل ترین دور میں فقط نبی اکرمﷺ کی ایک بیٹی نہیں تھیں بلکہ بیٹی ہونے  اور نمونہ عمل ہونے کے اعتبار سے اُمِّ ابیھا تھیں۔   (9)        آپ کمال معنویت  و بشریت کے اس درجے پر فائز تھیں کہ  پیغمبرِ اسلام ﷺ نے آپ کے بارے میں فرمایا:
أن اللّه لیغضب لغضب فاطمة، و یرضی لرضاها
بے شک اللہ فاطمہؑ کے غضب کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہے اور آپ کی رضا سے راضی ہوتا ہے۔(10)
کتنا باعظمت ہوگا وہ باپ ،  جس کی بیٹی کی عظمت یہ ہے کہ اس کی ناراضی سے اللہ ناراض اور اس کی خوشی سے اللہ خوش ہوتا ہے ، بلکہ رسولِ خدا ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے :
فاطمة بضعة منی ؛ من آذاها فقد آذانی ، و من أحبها فقد أحبنی
فاطمہ مربا ٹکڑا ہے جس نے اسے تکلفن پہنچائی اس نے مجھے تکلف  دی ہے اور جس نے اس سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی ہے۔(11)
یہ فقط  کسی عام باپ اور بیٹی کی محبت نہیں  ہے بلکہ  یہ رسولِ دوعالم ﷺ کی محبت ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ  یہ شخصیت بیٹی ہونے کے اعتبار سے بھی بے مثل اور نمونہ عمل ہے۔
انسان ہر کسی سے اپنے ظرف کے مطابق محبت کرتا ہے ، پیغمبر اسلام کی حضرت فاطمہ الزہرا ؑ سے محبت عام انسانوں یا عام باپ بیٹی سے قطعاً مختلف ہے چونکہ خود پیغمبرِ اسلام بھی ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں اور ان کی بیٹی بھی ہمارے لئے اسوہ اور نمونہ ہیں۔
دنیا جہاں میں جتنی بھی بیٹیاں ہیں اگر وہ سعادت مند بننا چاہتی ہیں تو رسولِ اسلام کی بیٹی کے اسوہ حسنہ کامطالعہ کریں اور ان کی سیرت پر عمل کریں۔
خود پیغمبرِ اسلام نے ارشاد فرمایا ہے  کہ فاطمہ عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں۔ (12) یہاں پر یہ بات ذہن میں رہے کہ خود پیغمبرِ اسلام عالمین کے لئے نبی اور رحمت ہیں ۔(13)  اور آپ نے عالمین کی عورتوں کی سردار اس بی بی ؑ کو قرار دیا ہے۔پس سردار وہ ہوتا ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور جس کے نقشِ قدم پر عمل کیا جاتا ہے۔
اگر کوئی آدمی اپنے سردار کے دائرہ اطاعت سے نکل جائے تو اس کی سر زنش کی جاتی ہے اور اسے سزا دی جاتی ہے۔
بلا شبہ اسلامی معاشرے میں مسلمان خواتین کے پاس حضرت فاطمۃ الزہراؑ  کی اطاعت کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ نجات ہی نہیں ہے۔

حضرت فاطمۃ الزہرا ؑبحیثیت بیوی

حضرت فاطمہؑ   کی حضرت امام علی ؑ کے ساتھ شادی کی تاریخ مشخص کرنے میں بھی مورخین کا اختلاف ہے بعض نے  ماہ ذی الحجہ میں کہا ہے ،(14)  بعض نے ماہِ شوال میں کہا ہے  (15) اور بعض نے دیگر کچھ تاریخیں بھی بیان کی ہیں۔شادی کے وقت علما نے بی بی کی عمر، نو اور گیارہ سال سے چودہ سال کے درمیان بتائی ہے۔(16)
جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ امام علیؑ کی تمام تر زندگی جدو جہد اور جہاد سے عبارت ہے، آپ جب بھی جنگوں سے لوٹتے تو بنتِ پیغمبرؑ  آپ کے زخموں پر مرہم لگاتیں، آپ کی تلوار کو دھوتیں اور آپ کی ڈھارس بڑھاتیں یہانتک کہ کائنات کے سب بڑے عادل اور منصف مزاج انسان  علی ابن ابیطالب نے آپؑ کے بارے میں یہ گواہی دی ہے کہ   خدا کی قسم اپنی ساری زندگی میں کبھی میں بی بی پر غضبناک نہیں ہوا اور کبھی بی بیؑ نے بھی مجھ پر غصہ نہیں کیا۔(17)
شادی کے بعد بی بیؑ نے محض ایک ناز و نعم سے بھرپور زندگی نہیں گزاری بلکہ امورِ خانہ داری کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کی مثالی رفیقِ حیات ثابت ہوئیں۔
آپ نے ایک مثالی بیوی ہونے کے ناطے مثالی بچوں کو پروان چڑھایا اور اپنے شوہر کی اجتماعی و انفرادی  ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں بھرپور تعاون کیا۔
کتبِ تواریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے گھریلو امور کو  نبی اکرم ﷺ نے میاں بیوی کے درمیان تقسیم کردیا تھا، اندرونِ خانہ کا کام کاج آپ  انجام دیتی تھیں اور بیرونِ خانہ کے کام امیرالمومنینؑ  کے سپرد تھے۔ اگرچہ امیرالمومنینؑ بھی گھر کے کاموں میں آپ کا ہاتھ بٹاتے تھے لیکن  کام کرنے کی وجہ سے آپ کے مقدس ہاتھوں پر زخموں کے نشانات پڑ گئے تھے۔(18) اس کے باوجود آپ نے کبھی امورِ خانہ داری کو اپنے لئے بوجھ نہیں سمجھا اور کبھی بھی امام علیؑ سے اس بارے میں کوئی شکایت نہیں کی۔
آپ صرف ایک مثالی بیٹی ہی نہیں بلکہ ایک مثالی بیوی بھی ہیں، ایک ایسی بیوی کہ جن کی  عظمت  کا معترف امام علی ؑ جیسا عظیم انسان بھی ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ دنیا میں قوّت برداشت کے اعتبار سے انسان دو طرح کے ہیں، بعض چھوٹی چھوٹی مشکلات سے بھی بوکھلا جاتے ہیں اور بعض بڑی بڑی مشکلات کو صبر اور حوصلے سے سر کرجاتے ہیں۔
 حضرت امام علیؑ کے صبر اور حوصلے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو دنیا مشکل کشا کے لقب سے یاد کرتی ہے اور  دنیا میں امام علیؑ  کے نام کو، عظمت ، شجاعت، بہادری اور آرام و سکون کا استعارہ سمجھا جاتا ہے لیکن امام علیؑ، حضرت فاطمہؑ  کے وصال مبارک کے موقع پر ارشاد فرماتے ہیں:
بِمَنِ العَزاءُ‌ یا بِنتَ مُحمَد؟ كُنتُ بِكِ اَتَعزی فَفیمَ العَزاء مِن بَعدِكِ
اے دختر محمدﷺ ! اب مجھے کیسے سکون ملے ، میرا سکون آپ سے تھا، آپ کے بعد سکون کہاں(19)
یقیناً ایسی بیوی  کائنات کی بیویوں کے لئے نمونہ عمل ہے جو امام علیؑ جیسے شجاع اور بہادر مرد کے لئے باعث آرام و سکون تھی۔
ہر انسان اپنے ظرف اور ہمت کے مطابق بے قراری کا اظہار کرتا ہے، حضرت فاطمۃ الزہراؑ  جب اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو آپ کے شوہر  یعنی حضرت امام علیؑ نے آپ کے ہجر اور فراق کے دکھ  کو  پیغمبر اسلامﷺ کی رحلت کے مساوی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ  خدا کی قسم آپ کے جانے سے میرے لئے رسولِ خدا کی موت کا دکھ تازہ ہو گیا ہے۔(20)
بحیثیت  ایک بیوی  ہونے کے آپ اس مقام و مرتبے پر فائز تھیں کہ امام علی ؑ جیسے شجاع انسان کے لئے اس دکھ کا سہنا محال تھا۔یہ فقط ایک بیوی سے محبت کی وجہ سے ایسا نہ تھا بلکہ اس لافانی و لاثانی محبت کے پیچھے دخترِرسولﷺ کا اللہ کی راہ میں  وہ مجاہدانہ کردار موجزن تھا جس کی یاد امام علیؑ کو بے تاب کئے ہوئے تھی۔
اب  بھی مومنینِ کرام کی بیویاں اگر اپنے لئے امیرالمونینؑ کی اس بیوی کو نمونہ عمل بنا لیں تو اسلامی معاشرہ  عزت و عظمت  اور عطوفت و مہربانی کی مثالیں آج بھی قائم کر سکتا ہے۔

حضرت فاطمہؑ  بحیثیت ماں

ایک مثالی بیوی اور بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت فاطمہؑ  ؑ ایک مثالی اور کامل ترین ماں بھی ہیں۔ایک نمونہ عمل بیٹی  اور  اسوہ حسنہ کی حامل بیوی ہونے کے ناطے آپ بطریقِ احسن جانتی تھیں کہ بہترین ، مثالی اور کامل ترین ماں کسے کہتے ہیں۔
یوں آپ صرف ایک ماں ہی  نہیں ہیں بلکہ کائنات کی ساری ماوں کے لئے نمونہ عمل ہیں۔آپ کی گود میں ایسے بچوں نے تربیت پائی ہے جن کے فضائل و مناقب سے زمین و آسمان کی وسعتیں پر ہیں۔
آپ کے ہاں چار بچوں کی ولادت ہوئی جن میں سے دو بچے یعنی امام حسنؑ اور امام حسینؑ  امام معصوم بنے  اور دو بیٹیاں حضرت زینب ؑ اور حضرت کلثوم ؑ واقعہ کربلا کی سفیر ٹھہریں۔
کتب تواریخ میں ایک اور بچے حضرت محسنؑ کا ذکر بھی ملتا ہے ، جن کے بارے میں شکم مادر میں ہی شہادت  کے واقعات منسوب ہیں۔
حضرت فاطمہؑ نے چار بچوں کو صرف پالا نہیں بلکہ اپنے حسنِ عمل سے بچوں کی ایسی تربیت کی کہ خودآپ کے  بچے بھی  اہلِ عالم کے لئے نمونہ عمل ہیں۔
ہم مختصراً فقط یہ عرض کریں گے کہ اگر بزبانِ رسالت ؐ،
 الحَسَنُ و الحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
 امام حسن اور  امام حسینؑ جوانان جنت کے سردار ہیں (21) اور یہ بلا شبہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے لیکن اس کے ساتھ  ساتھ یہ بھی فرمانِ رسولﷺ ہی ہے کہ  الجنۃ تحت اقدام الامہات جنت ماوں کے قدموں تلے ہے(22) ، حضرت امام حسن اور حسینؑ بھی کمالات کے جن مدارج پر فائز ہیں اُن کمالات کا دریا حضرت فاطمہؑ  کے قدموں سے ہی اُبلتا ہے وہ چاہے شہادت کا دریا ہو یا کوثر کا۔
اسی طرح آپ کی دونوں بیٹیوں کی زندگی میں بھی حق گوئی، بیباکی اور دین کی حفاظت کا جو پہلو نمایاں نظر آتا ہے اس میں بھی در اصل بی بی دو عالمؑ کی تربیت ہی چھلک رہی ہے۔
آپ کی شخصیت آپ کے بچوں کے سامنے صرف کھلی ہوئی کتاب کی طرح نہیں تھی بلکہ ایک عملی مربّی کی سی تھی۔خدا پر توکل، خدا کے رسول کی اطاعت، شب و روز عبادت ، دوسروں کے لئے جانثاری، اعمال میں خلوص، سخت حالات کے باوجود سخاوت، ہر حال میں حسنِ نیت، گنہگاروں کے ساتھ عفو و درگزر ،  آنے والوں کے ساتھ مہمان نوازی،اپنے پیکر میں خلقِ عظیم اور غیرت  دینی جیسے تمام اوصاف آپ نے بچوں کو گھٹی میں پلائے تھے۔
بے شک آپ کی اولاد نے اسلام اور توحید کی عظمت کو چار چاند لگا دئیے لیکن بلاتردید ایسی اولاد کی تربیت کا سہرا دُخترِ رسول ؐکے سر جاتا ہے۔
حضرت امام حسنؑ سے روایت ہے کہ ایک شب میری والدہ گرامی ساری رات عبادت کرتی رہیں، یہانتک کہ سپیدہ سحر نمودار ہوگیا، میں سنتا رہا ساری رات میری والدہ ماجدہ ، ہمسایوں، عزیزو اقارب اور مسلمین کے مسائل کے حل کے لئے دعا کرتی رہیں، صبح ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ اے والدہ گرامی آپ نے اپنے لئے کیوں دعا نہیں کی اس پر سیّدہ دوعالم ؐنے شہزادے کو جواب دیا:
یا بُنیَّ الجارُ ثُمَّ الدّارُ
اے میرے نونہال!پہلے پڑوسی پھر گھر(23)
یہ ہے وہ نظریہ حیات، وہ سوچ ، وہ فکر اور وہ راہِ بندگی جس پر آپ نے اپنے بچوں کی تربیت کی۔ اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ آپ کی آل کو قرآن مجید میں صادقون، مطهرون، فائزون، متوسّمین، راسخون فی العلم، سابقون، مقرّبون، متقون، خاشعون، مصطفون، ابرار، اولوالامر، اهل الذکر، وارثان کتاب، آیات، نذر، امّت هادی به حقّ، بیوت اذن الله ان ترفع و یذکر فیها اسمه، خیر البریّه و اولوالالباب جیسے القابات سے یاد کیا گیا ہے۔(24)
اگر دنیا بھر کی مائیں سیدہ دوعالمؐ کو اپنا رول ماڈل اور نمونہ عمل جان کر اپنے بچوں کی تربیت کریں تو یقینا اس سے ہمارے معاشرتی و سماجی حالات سنور جائیں گے اور مسلمان دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہونگے۔

بحیثیت عابدہ و زاہدہ

ایک مثالی بیٹی، نمونہ عمل بیوی اور بہترین ماں ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایسی عابدہ و زاہدہ خاتون تھیں کہ فرشتے بھی آپ پر درود و سلام بھیجتے تھے۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اہل مدینہ رات کے وقت حضرت امام علیؑ  کے گھر سے ایک نور کو بلند ہوتے دیکھتے تھے، انہوں نے اس نور کے بارے میں پیغمبرِ اکرمﷺ سے استفسار کیا تو پیغمبرﷺ نے فرمایاکہ  جب میری بیٹی فاطمہؑ محرابِ عبادت میں کھڑی ہوتی ہے تو ہزاروں فرشتے اس پر درودو سلام بھیجتے ہیں اوراسے  عالمین کی عورتوں کی سردار کے لقب سے پکارتے ہیں  (25)
اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ جب بی بی دو عالم  محرابِ عبادت میں کھڑی ہوجاتی تھیں تو آسمان پر ملائکہ ؑ کے لئے ایک ستارہ چمکنے لگتا تھا،  اور خدا فرشتوں سے فرماتا تھا کہ اے فرشتو ! دیکھو میری بہترین عبد فاطمہ ؑ میری عبادت کر رہی ہے۔وہ میری بارگاہ میں کھڑی میری ہیبت سے لرز رہی ہے اور پورے خضوع و خشوع کے ساتھ میری عبادت کر رہی ہے۔(26)
سیرت کی کتابوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بی بی صرف ذکر و اذکار اور نماز و دعا میں مشغول نہیں رہتی تھیں بلکہ  آپ عبادت کو قربِ الٰہی کا وسیلہ سمجھتے ہوئے اپنی تمام تر مشکلات بھی عبادت کے ذریعے حل کرتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات آپ کی شان میں نازل ہوئی ہیں ، جیساکہ  سورہ انسان یا سورہ دہر کے بارے میں علمائے اسلام اورمفسّرین کا کہنا ہے کہ یہ سورہ بی بی دو عالم کے صبر اور سخاوت کیوجہ سے اہل بیت رسول اور خصوصاً سیدہ دو عالم کی شان میں نازل ہوا ہے۔
اس سورہ کے نزول کے بارے میں مفسرین کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسنؑ اورامام حسینؑ  بیمار ہوگئے، اس موقع پر حضرت امام علیؑ، سیّدہ دو عالم ؑ اور ان کی کنیز فضہؓ نے منت مانی کہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے شفا یاب ہونے پر وہ سب تین دن  روزے رکھیں گے۔
جب دونوں شہزادوں کو شفا مل گئی تو  دونوں شہزادوں سمیت  اہل بیت رسولﷺ نے روزہ رکھا، افطاری کے لئے حضرت فاطمہ ؑ نے  پانچ روٹیاں پکائیں، عین افطار کے موقع پر سائل نے آکر روٹی کا سوال کیا، سب نے اپنے اپنے حصے کی روٹی سائل کو دیدی، اسی طرح تین دنوں تک ہوا۔
تیسرے دن پیغمبر ؑ اپنی بیٹی کے گھر تشریف لائے اور بیٹی کو  مصلے پر مشغولِ عبادت پایا، اس وقت جبرائیل امین ، نبی اکرمﷺ  پر  سورہ انسان لے کر نازل ہوئے اور پیغمبر سے فرمایا کہ خداوند عالم  ایسے اہل بیتؑ کی وجہ سے آپ کو مبارکباد دیتا ہے۔(27)
حضرت فاطمہؑ  کی خداوند عالم کی بارگاہ میں عبودیت اور بندگی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ آپ نے اپنے تمام اجتماعی وسیاسی امور کے ساتھ انفرادی زندگی کے فرائض  اور خدا کے ساتھ دعا و مناجات کے فریضے کو بھی بطریق احسن ادا کیا۔

بحیثیت مدافع اسلام

اپنی مختصر سی زندگی میں بی بی دو عالمؑ شعبِ ابی طالب سے لے کر میدان مباہلہ تک اور میدانِ مباہلہ سے لے کر اپنے آخری سانس تک مسلسل اسلام کا دفاع کرتی رہیں، ایک طرف تو آپ شعبِ ابی طالب میں دن کی شدید گرمی میں جھلس جاتی تھیں اور رات کی شدید سردی میں ٹھٹھرتی تھیں اور دوسری طرف ہر جنگ اور ہر غزوے میں کبھی اپنے والد کے زخم دھو رہی ہوتی تھیں اور کبھی اپنے شوہر کے زخموں پر مرہم لگا رہی ہوتی تھیں ، کبھی اپنے والد بزرگوار کی تلوار کو صیقل کرتیں اور کبھی  اپنے شوہر نامدار کی شمشیر کو تیز کرتیں۔
کبھی گھر کے امور انجام دیتیں اور کبھی مستورات کو احکام سکھاتیں ، کبھی اہلِ مدینہ کے دروازوں پر بیداری کے لئے دستک دیتیں اور کبھی دربار میں جا کر خطبہ ارشاد فرماتیں ۔
المختصر یہ کہ آپ کی ساری زندگی ضرب و حرب، علم و عمل، جدوجہد، تحریک و حریت اور بیداری و شعور سے عبارت ہے۔ آپ صرف  اہلِ اسلام کے درمیان رہ کر اسلام کی حفاظت نہیں کرتی تھیں بلکہ  جب نجران کے عیسائیوں نے پیغمبرِ اسلام ﷺ کے ساتھ مباہلے کا فیصلہ کیا تو کائنات کی ساری مسلمان عورتوں میں سے صرف آپ کو رسولِ اسلام نے اسلام کے دفاع کے لئے منتخب کیا۔
مفسرین کے مطابق اللہ نے اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیا:
  فَمَنْ حَآجَّكَ فِيْهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَاَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْۖ ثُـمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّـٰهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ
پھر جو کوئی تجھ سے اس واقعہ میں جھگڑے بعد اس کے کہ تیرے پاس صحیح علم آچکا ہے تو کہہ دے کہ آؤ ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں بلائیں، پھر سب التجا کریں اور اللہ کی لعنت ڈالیں ان پر جو جھوٹے ہوں۔(28)
یہ حکم تب دیا گیا جب یمن میں نجران کے علاقے کے رہنے والے عیسائیوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور پیغمبر اسلام سے کہا کہ آئیے ہم آپس میں مباہلہ کرتے ہیں، یعنی جھوٹوں پر لعنت کریں گے جو جھوٹا ہوگا وہ تباہ و برباد ہوجائے گا، اس کے بعد اللہ نے بھی اپنے حبیبؐ کو مباہلے کا حکم دیا۔
اللہ کے رسولﷺ نے  "ابناءنا" ہمارے بٹولں کی جگہ فقط امام  حسنؑ اورامام  حسنؑ)  کو ساتھ لیا  اور "نسا‏‏ءنا" ہماری خواتین کی جگہ صرف حضرت  فاطمہ زہراءعلہاج السلام کو ہمراہ لیا  اور "انفسنا" ہمارے نفوس کی جگہ صرف اور صرف  حضرت علیؑ  کو اپنے ساتھ لیا۔(29)
یوں حضرت فاطمہ الزہراؑ نے  اسلام کے دفاع کے لئے غیر مسلم دشمنوں کا بھی سامنا کیا اور میدان مباہلہ میں  دشمنانِ اسلام کا سر جھکا کر واپس پلٹیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب پیغمبرِ اسلام کے بعد امورِ خلافت کو نمٹانے کے لئے بعض لوگوں نے سقیفہ بنی ساعدہ کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنا چاہا تو بی بی دو عالم ؑ جس طرح مباہلے کے روز اسلام کی حفاظت کے لئے گھر سے نکلی تھیں اُسی طرح پیغمر اسلامﷺ کے بعد اپنے موقف کو بیان کرنے کے لئے گھر سے نکلیں اور ارباب اقتدارسے متعارض ہوئیں۔
اگر جہانِ اسلام کی خواتین ، اس معظمہؑ بی بی کو نمونہ عمل سمجھ کر ان کی اطاعت میں اسلام کا دفاع کریں تو آج بھی معاشرے سے بدعات و انحرافات ا ور خرافات کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

مجموعہ اوصاف

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایک شخصیت میں بہت زیادہ صفات خصوصاً متضاد صفات جمع نہیں ہو سکتیں اور اگر ایسا کہیں ہوا بھی ہے تو زیادہ سے زیادہ حضرت امام علیؑ کے بارے میں یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ آپ میں  متضاد صفات جمع تھیں، مثلا آپ بیک وقت ادیب بھی تھے اور جنگجو بھی، نرم دل بھی تھے اور عدالت میں سخت بھی ، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت امام علی ؑ کے علاوہ حضرت فاطمہ الزہراؑ نے بھی ایک  ایسی مختصر اور بھرپور زندگی گزاری ہے کہ گویا کائنات کے تمام کمالات کو آپ نے اپنے اندر سمو لیا ہے۔ آپ جس طرح  اپنی کم سنی کے باعث نوعمر ننھی سی بچی ہیں اُسی طرح  اپنی لطافت و نزاکت اور فہم و شعور  کے باعث اُمُّ ابیھا بھی ہیں،آپ جس طرح ایک گھریلو خاتون اور ماں ہیں اُسی طرح اپنے شوہر کی مشیر اور شریکِ جہاد بھی ہیں، آپ جس طرح شرم و حیا اور حجاب کا مجسمہ ہیں اُسی طرح  دشمنانِ اسلام کے خلاف پیکرِ غضب ہیں، آپ جس طرح خواتین کے لئے اسوہ ہیں اسی طرح مردوں کے لئے بھی نمونہ عمل ہیں۔
آپ جس وقار کے ساتھ ، اسلام کی حقانیت کو بیان کرنے کے لئے نجران کے عیسائیوں کا سامنا کرنے کے لئے نکلتی ہیں،آپ اسی طرح خلافت کے منصب کو بچانے کے لئے مدینے کے مسلمانوں کے دروازوں پر دستک دیتی ہیں، آپ جس طرح  محرابِ عبادت میں کامل یکسوئی کے ساتھ مشغولِ حق ہو جاتی ہیں ، آپ اسی طرح مسلمانوں کے دربار میں کامل فصاحت و بلاغت کے ساتھ خطبہ ارشاد فرماتی ہیں، آپ ایک طرف تو روزے کے باوجود اپنے سامنے کا کھانا افطار کے وقت سائل کو دے دیتی ہیں لیکن دوسری طرف اصولوں کی پاسداری کے وقت فدک کو معاف نہیں کرتیں۔
آپ ایک طرف  جنگ و جدال میں مشغول اپنے والدِ ماجدﷺ اور اپنے شوہر نامدارؑ کا ہاتھ بٹاتی ہیں اور دوسری طرف حسنین کریمین ؑ اور زینبؑ و کلثومؑ جیسی اولاد کی تربیت کرتی ہیں۔ہاں آپ سو فیصد علی ابن ابیطالبؑ کی ہم کفو اور ہم پلہ ہیں۔
آپ صرف مختلف فضائل اور اوصاف کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ آپ اپنے شوہر نامدار کی طرح عالم بشریت کے لئے ایک نمونہ عمل اور اعمال کی کسوٹی ہیں۔

نتیجہ:

دینِ اسلام اس لحاظ سے غنی ہے کہ اس کا دامن عظیم شخصیات سے بھرا پڑا ہے۔دینِ اسلام کے مطابق ہر دور میں انبیائے کرام کو بنی نوعِ انسان کے لئے ایک رول ماڈل اور نمونہ عمل کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ سب سے آخر میں پیغمبرِ اسلام ﷺ کو پورے عالم بشریت کے لئے نمونہ عمل اور رول ماڈل قرار دیا گیا ہے۔
امتِ مسلمہ کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ہر عمل پیغمبرِ اسلام  کے اعمال کے مطابق ہو، اللہ نے پیغمبرِ اسلام کو مبعوث ہی اس لئے کیا ہے تاکہ لوگ اُنہی کے نقش قدم اور انہی کے راستے پر چلیں۔چونکہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی ظاہری زندگی صرف تریسٹھ برس ہے جبکہ آپ قیامت تک کے لئے اسوہ حسنہ اور نمونہ عمل ہیں۔ اس لئے پیغمبرِ اسلامﷺ نے  اپنے بعد بھی کچھ ہستیوں کو نمونہ عمل قرار دیا ہے جنہیں ہم اہل بیت ؑ کہتے ہیں۔
پیغمبرِ اسلام کا ارشاد ہے :
مَثَلُ أهلِ بَيتي مَثَلُ سَفينَةِ نُوحٍ؛ مَن رَكِبَها نَجا و مَن تَخَلّفَ عَنها غَرِقَ  
میرے اھل بیت سفینہ نوحؑ کی مانند ہیں جو اُس میں سوار ہو گیا اس نے نجات پائی اور جس نے اس سے منہ موڑا وہ ہلاک ہوا۔
ان اہلبیتؑ میں سے ایک ہستی حضرت فاطمۃ الزہراؑ بھی ہیں،  آپ کی شان میں قرآن مجید کی متعدد آیات نازل ہوئی ہیں اور آپ کے فضائل کے بارے میں بے شمار احادیث وارد ہوئی ہیں، جن کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ بھی اپنے والد ماجد ﷺ کی طرح عالم بشریت کے لئے نمونہ عمل ہیں۔
آپ کی سیرت اور تاریخ پر مختلف زاویوں سے تحقیق کرنے کی گنجائش  ہر دور میں موجود رہی ہے تاکہ ہر دور کے تقاضوں کے مطابق آپ کی شخصیت سے استفادہ کیا جا سکے۔
اس تحقیق سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بہت ہی کم عمر پانے کے باوجود حضرت فاطمۃ الزہراؑ اپنے اندر مختلف فضائل و مناقب اور اوصاف حسنہ کا سمندر لئے ہوئے تھیں اور آج کے مضطرب اور پریشان  زمانے کو ضرورت ہے کہ وہ امن و سکون، تعلیم و تربیت، عدل و انصاف، مساوات و معنویت اور زہد و تقویٰ کے حصول کی خاطر  آپ کی عملی زندگی اور جدوجہد سے آشنائی حاصل کرے۔

منابع:

•    القرٓن
•    اسد الغابه، محمود عبدالوهاب فاید، چھاپ قاہرہ
•    اعلام الوری، طبرسی، چھاپ بیروت
•    الأمالی، شیخ طوسی، دار الثقافة، قم،
•    الامامۃ والسیاسۃ ، ابن قتیبہ چھاپ بیروت
•    بحارالانوار، مجلسی باقر چھاپ قم
•    تفسیر الکشاف،  زمخشری چھاپ بیروت
•    تفسیر عثمانی ، عثمانی، شبیر احمد چھاپ لاہور
•    خصائص النسائی، أحمد بن شعيب النسائي
•    دلایل النبوة، بیهقی،  چھاپ مدینہ
•    السیرة النبویة  ابن هشام ، ابومحمد عبدالملک بن هشام چھاپ مصر
•    صحیح مسلم ، مسلم بن حجاج نيشابورى چھاپ قاہرہ
•    صواعق المحرقۃ ، ابن حجر چھاپ بیروت
•    طبقات، ابن سعد، چھاپ بیروت
•    کنز العمال ، المتقي الهندي چھاپ ہندوستان
•    لسان المیزان، ابن حجر، چھاپ لبنان
•    مستدرک صحیحین ، حاکم نیشابوری چھاپ تہران
•    المناقب، ابن شهرآشوب‌، چھاپ قم
•    الموسوعة الکبرى عن فاطمة الزهراء، انصاری، اسماعیل، قم،
•    میزان الاعتدال، الذهبی،شمس الدین، چھاپ بیروت
 

____________________

1  الفاتحہ ۵
 2 سورہ ملک آیہ ۲
3  احزاب ۲۱
4  آل عمران ۱۴۴
إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ، احزاب ۳۳
6  تفسیر عثمانی در زیل آیہ تطہیر
7  . قال رسول الله صلی الله علیه [و آله] وسلم: أول شخص یدخل الجنة فاطمة ، میزان الاعتدال، الذهبی، ج ٢، ص ٦١٨ ؛ لسان المیزان، ابن حجر، ج ٤، ص ١
8  سیره ابن هشام، ج 1، ص 375، ابن سعد، طبقات، ج 1، ص 208 و طبرسی، اعلام الوری، ص 50 ـ 49، بیهقی، دلایل النبوة، ج 2، ص 311 و 312
9  اسد الغابه، جلد 5، صفحه 520
10  کنز العمال :ج ۱۲، ص ۱۱۱، مستدرک صحیحین :ج ۳، ص ۱۵۴ ، میزان الاعتدال :ج ۱،ص۵۳۵۔
11  صواعق المحرقۃ : ۲۸۹، الامامۃ والسیاسۃ :ص ۳۱ ،کنز العمال : ج۱۲ ، ص۱۱۱، خصائص النسائی: ۳۵ ، صحیح مسلم : کتاب فضائل الصحابۃ۔
12  المستدرک صحیحین : ج۳ ،ص۱۷۰، وابو نعیم فی حلیۃ الاولیاء : ج۲،ص ۳۹،والطحاوی فی مشکل الآثار : ج ۱ ،ص ۴۸ ،وشرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید : ج۹ ،ص ۱۹۳ ، والعوالم :ج۱۱ ،ص ۱۴۱۔ ۱۴۶۔
13  وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ، انبیا ۱۰۷
 14  ا  بن شهرآشوب‌، المناقب، ج 3، ص 357، قم‌، 1379 ق
15  شیخ طوسی، الأمالی، ص 43، دار الثقافة، قم، 1414ق.
16  انصاری، اسماعیل،الموسوعة الکبرى عن فاطمة الزهراء،ج‌4،ص21، دلیل ما، قم، 1428ق
17  بحارالانوار، ج 43
18  استفادہ از ناسخ التواريخ ، حالات حضرت فاطمه (سلام الله عليها)، ص ‍ 417
19  رحمانی همدانی/ فاطمة الزهرا بهجة قلب مصطفی/ ص 578/ به نقل از مجمع الروایة.
20  سیدمحمد کاظم قزوینی/ فاطمة الزهرا من المهد الی اللحد/ دارالصادق بیروت/ چاپ اول/ صص610- 609
21  شیخ صدوق، الامالی، ص 57،‌ بیروت، اعلمی، چاپ پنجم، 1400ق؛ هلالی، سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الهلالی، محقق، مصحح، انصاری زنجانی خوئینی، محمد، ج 2، ص 734
22  ميزان الحكمه : ح 22691
23  بحار الانوار ج ۴۳ ص ۸۱ و ۸۲
24  مختلف تفاسیر کی طرف رجوع کریں
25  در مكتب فاطمه ، ص 171
26  بحارالانوار، ج 43، ص 172
27  الكشاف، ج 4، ص 670؛ مجمع البیان، ج 10، ص 611 ـ 614؛ روح المعانى، مج 16، ج 29، ص 269 ـ 270.
28  آل عمران ۶۱
29  زمخشری، تفسیر الکشاف

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک