امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام

1 ووٹ دیں 05.0 / 5

تحریر :مصطفی علی فخری

حضرت امام موسیٰ كاظم علیہ السلام ، رسول مقبول حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كے ساتویں جانشین اور ہمارے ساتویں امام ہیں ۔سلسلہ عصمت كی نویں كڑی ہیں.

آپ کے والد گرامی حضرت امام جعفر صادق علیه السلام اور مادر گرامی حضرت بی بی حمیده  خاتون هیں جو مکتب جعفری کے تربیت یافته هونے کے ناطے طهارت باطنی اور پاکیزگی روح کے اعلا درجات تک پهنچ گئی تھیں که امام جعفر صادق علیه السلام نے ان کے بارے میں فرمایا : «حمیدة مصفاة من الادناس کسبیکة الذهب ما زالت الاملاک تحرسها حتی ادیت الی کرامة من الله لی والحجة من بعدی » . [1]

حمیده خالص سونے کی مانند آلودگیوں سے پاک هیں مجھ تک پهنچنے تک فرشتے همیشه ان کی حفاظت کرتے تھے یه الله کی کرم هے مجھ پر اور میرے بعد والی حجت پر .

 امام محمد باقر علیہ السلام جناب حمیدہ خاتون كے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: آپ دنیا میں حمیدہ اور آخرت میں محمودہ ہیں ۔

ولادت با سعادت  :

ابوبصیر کهتا هے که هم حضرت امام صادق علیه السلام کے ساتھ حج په جا رهے تھے جب ابواء کے مقام پر پهنچے تو آپ نے همارے لئے ناشتے کا اهتمام کیا  هم ناشته کرنے میں مصروف تھے اتنے میں حضرت امام صادق علیه السلام کی زوجه کی طرف سے ایک شخص خبر لے کرآیا که ان کی حالت خراب هو گئی هے اور درد زه شروع هو چکا هے چونکه آپ نے فرمایا تھا جلدی اس بارے میں خبر دوں اس لئے حاضر هوا هوں.آپ علیه السلام اسی وقت کھڑے هو گئے اور اس شخص کے ساتھ زوجه کے پاس چلے گئے تھوڑی دیر بعد واپس آگئے آپ کو شاد مان دیکھ کر هم نے مبارکباد کها اور زوجه کی صحت کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : الله تعالی نے حمیده کو سلامتی  عطا کی هے اور مجھے ایک بیٹا دیا هے جو مخلوقات میں سب سے بهتر هے میری زوجه نے اس بچه کے بارے میں ایک مطلب مجھے بیان کیا اور گمان کررهی تھی که مجھے معلوم نهیں هے لیکن میں اس بارے میں ان سے زیاده جانتا هوں.

میں (ابو بصیر) نے اس مطلب کے بارے میں پوچھا تو فرمایا :" حمیده کهه رهی تھی که جب یه بچه پیدا هوا تو هاتھوں کو زمین پر رکھا اور سر آسمان کی طرف بلند کیا " تو میں نے حمیده  سے کها یه رسول خدا (ص) اور آپ کے بعد والے وصی کی نشانی هے .[2]

اس طرح حضرت ابو الحسن موسی کاظم علیه السلام هفتم صفر المظفر سنه 128ھ (بمطابق ۱۰نومبر ۷۴۵ء) بروز هفته سر زمین ابواء (مکه اور مدینه کے درمیان ) میں پیدا هوئے .[3] ولادت كے فوراً بعد ہی آپ نے اپنے ہاتھوں كو زمین پر ٹیك كر آسمان كی طرف رخ كركے كلمہ شہادتین زبان پر جاری فرمایا۔ یہ عمل آپ نے بالكل اسی طرح انجام دیا جس طرح آپ (ع) كے جد بزرگوار حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انجام دیا تھا۔آپ كے داہنے بازو پر یہ كلمہ ” تمت كلمۃ ربك صدقا وعدلا “ لكھا ہوا تھا۔

حضرت امام موسی بن جعفر علیه السلام کے القاب :

آپ کا نام موسی  کنیت :ابو الحسن اول، ابو الحسن ماضی، ابو ابراهیم، ابو علی، ابو اسماعیل اورآپ کے القاب :کاظم، عبدصالح، نفس زکیه، زین المجتهدین، وفی، صابر، امین اور زاهر هے. ابن شهرآشوب کهتے هیں :چونکه آپ اخلاق کریمه کے ساتھ چمک گئے اس لئے «زاهر» اور چونکه غصوں کو پی لیتے تھے اس لئے  «کاظم » مشهور هو گئے .[4]

 ولادت سے امامت تک :

حضرت امام موسی کاظم علیه السلام اپنے اجداد طاهرین کے مانند ولادت کے وقت سے هی خاندان اهلبیت (علیهم السلام ) میں ایک خورشید تابنده کی طرح چمک رهے تھےدوران بچگی سے هی آثار امامت آپ میں نمایاں تھیں حضرت امام جعفر صادق علیه السلام نے آپ کی ولادت کے بعد شیعوں کو حضرت امام موسی کاظم علیه السلام کی امامت کے متعلق آگاه فرمایا اور اس طرح فرمایا : «فعلقوا بابنی هذا المولود... فهو والله صاحبکم من بعدی ».میرے اس فرزند کے ساتھ لٹک جاو ...الله کی قسم یه میرے بعد تمهارے صاحب (امام )هیں. [5]

یعقوب بن سراج کهتا هے که "- ایک مرتبه -میں حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کے پاس گیا تو دیکھا که آپ اپنے فرزند موسی کے گهوارے کے پاس کھڑے هیں اور آپ کا فرزند گهواره میں هے امام علیه السلام نے تھوڑی دیر ان کے ساتھ راز وگفتگوکی اور گفتگو تمام هونے کے بعد میں قریب گیا تو مجھ سے فرمایا : اپنے مولا کے پاس جا کر سلام کرو . میں نےگهواره کے نزدیک  جا کر سلام  کیا  تو موسی بن جعفر علیه السلام نے جبکه گهوارے میں تھا  اچھےانداز میں میرے سلام کا جواب دیا اور فرمایا " جا کر اپنی بیٹی کیلئے کل جو نام (حمیرا )انتخاب کیا هےتبدیل کرو  پھر میرے پاس آجاؤ  چونکه الله تعالی ایسا نام پسند نهیں کرتا  "تو میں جاکر ان کا نام تبدیل کر دیا .[6]

حضرت امام موسی کاظم اهلسنت علماء کی نظر میں:

إبن حجر الهیتمی، الصواعق المحرقة میں کهتا هے: امام موسی کاظم علیہ السلام  اپنے زمانے کے لوگوں میں بہت بڑے عابد تھے [7] أبو الفرج کهتا هے : ان کی عبادت ان کی کوشش ان کی محنت کی وجہ سے ان کو (عبد صالح ) کہا جاتا تھا ۔ [8]
ذھبی لکھتا ہے : « قد کان موسی من أجواد الحکماء و من العباد الأتقیاء» (حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سخاوت مند حکماء اور خدا کے پرہیزگار بندوں میں سے تھے) ۔ [9] تاریخ یعقوبی میں آیا ہے :« کان موسی بن جعفر من اشد الناس عبادة »

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے زمانے کے عابد ترین شخص تھے ۔[10]
جمال الدین محمد بن طلحہ شافعی (مطالب السوال) کتاب میں اس طرح لکھتے ہیں : ان کی عبادت مشهور اور خدا کی اطاعت و عبادت میں محتاط اور ملازم تھے ۔ شب کو سجدے میں اور صبح کو قیام کی صورت مین گزارتے تھے روز کو صدقہ اور روزے سے تمام کرتے تھے ۔ [11]
شفیق بلخی کہتا ہے : سنه ۱۴۹ ھ قمری میں حج کے انجام کے لئے نکلا اور قادسیہ پہنچا وہاں میں نے بہت بڑی جمعیت کو دیکھا جو حج انجام دینے کے لئے جانے کو آمادہ تھے جس میں ایک خوبصورت گندمی رنگ کے جوان کو دیکھا جو کمزور تھا اپنے لباس کے اوپر پشمی لباس پہنے ہوئے تھا اور اپنے پاؤں میں نعلین پہنے کنارے بیٹھا ہوا تھا میں نے اپنے آپ سے کہا یہ جوان صوفیوں میں سے ہے وہ چاہتا هے کہ لوگ راستہ بھر اس کو اپنے سر پر بٹھاے رہیں ۔
اس کے نزدیک گیا جیسے ہی اس کی نگاہ مجھ پر پڑی انھوں نے فرمایا کہ «شقیق! اجْتَنِبُوا کَثِیراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ» مجھ کو وہیں پر چھوڑ دیا اور اپنے راستے پر چلنے لگے ، اپنے راستے ہو لئے میں نے اپنے آپ سے کہا یہ بہت بڑی بات ہے اتنا بڑا کام انجام دیا وہ میرے دل کے اندر کی خبر دے رہا ہے اور میرا نام بھی جانتا ہے یہ بہت ہی نیک اور صالح ، خدا کا بندہ ہے میں خود اس کے پاس پہنچوں گا اور اس سے عذر خواهی کروں گا جتنی بھی جلدی کر سکا کہ ان تک پہنچ جاؤں مگر نہیں پہنچ سکا وہ میری نظروں سے غائب ہو گئے تھے ۔ جب میں واقصہ پہنچا تو دیکھا وہ نماز پڑھنے میں مشغول ہیں ان کے جسم کے تمام اعضاء و جوارح لرز رہے تھے اور آنکھوں سے اشک جاری تھا ۔ میں نے خود سے کہا یہ وہی شخص ہے میں جاتا ہوں اور ان سے معافی مانگتا ہوں ۔ میں کھڑا رہا تاکہ ان کی نماز تمام ہو جائے میں ان کی طرف گیا ۔ جیسے ہی انھوں نے مجھے دیکھا فرمانے لگے شفیق ! اس آیت کو پڑھو: وَ إِنِّی لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى»‏ پھر مجھے چھوڑ کر وہ اپنے راستے ہو لئے ۔
میں نے اپنے آپ سے کہا یہ جوان کوئی بہت بزرگ اور صوفی ہے ۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ اس نے میرے دل کے اندر کی خبر دی ہے ۔ جب منزل زبالہ پہنچے ، تو دیکھا کہ کنواں کے کنارے ہاتھ میں کوزہ لئے کھڑے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کنویں سے پانی نکالیں ۔ کوزہ ہاتھ سے چھوٹ کر کنویں میں گر جاتا ہے وہ حضرت آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہتے ہیں :
انت ربى اذا ظمئت الى الماء و قوتى اذا اردت الطعاما انت
خدایا اس کوزے کے علاوہ میرے پاس کوزہ نہیں ہے اس کو میرے پاس واپس کر دے ۔
اس وقت میں نے دیکھا کنویں کا پانی اوپر آیا ہاتھ بڑھا کر کوزے کو پانی سے بھر کر باهر نکالا ۔ وضو کیا اور چار رکعت نماز پڑھی ۔ اس کے بعد ریت کے ٹیلے کے پیچھے گئے ، اور اس ریت کو ہاتھوں سے کوزے میں ڈالا اور کوزے کو ہلا کر پی جاتے تھے ۔ میں ان کے پاس گیا اور سلام عرض کی انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا ۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کی خدا نے جو آپ کو زیادہ غذا عنایت کی ہے مجھ کو بھی اس سے مستفید فرمائیں ۔ انھوں نے فرمایا : شفیق مسلسل خدا کے ظاهری و باطنی نعمتیں ہمارے شامل حال ہیں ۔ خدا کے لئے حسن ظن رکھو کوزے میری طرف بڑھایا میں نے کوزے کاپانی پیا دیکھا اس میں خوشبو دار میٹھا شربت ہے ۔ خدا کی قسم میں نے کبھی اس سے لذیذ اور خوشبوتر نہیں کھایا تھا اور نہں پیا تھا ۔ سیر بھی ہو گیا اور پیاس بھی ختم ہو گئی ۔ یہاں تک کہ کچھ روز تک بھوک ہی نہیں لگی اور نہ پانی پینے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ اس کے بعد ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ مکہ پہنچ گیا ۔ اتفاق سے ایک رات میں نے ان کو دیکھا آدھی رات ہے اور وہ نماز پڑھنے میں مشغول ہیں ۔ اور تمام خشوع و خضوع کے ساتھ آنکھوں سے آنسو جاری ہے ۔ اس طرح وہ صبح تک تھے ۔ یہاں تک کہ اذان صبح ہوئی ، اور نماز کے لئے بیٹھے اور تسبیح خدا کرنی شروع کر دی اس کے بعد اپنی جگہ سے اٹھے اور نماز صبح پڑھی ۔ سات مرتبہ خانہ خدا کا طواف کیا اور مسجد حرام کی طرف سے باهر چلے گئے ۔ میں ان کے آگے بڑھا ۔ تو دیکھا کہ ضرورت مند اور محتاج ان کے پاس حلقہ کئے ہوئے جمع ہیں ۔ اور بہت سارے غلام ان کی خدمت میں تیار ہیں ۔ اور ان کے حکم کے منتظر ہیں ۔ ان تمام چیزوں کو اس کے خلاف دیکھ رہا ہوں جو پہلے دیکھ چکا تھا ۔ نزدیک اور دور سے لوگ پہنچ کر ان کو سلام کر رہے ہیں ۔ ایک آدمی جو ان سے بہت قریب تھا میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں اس نے کہا : یہ موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب علیہم السلام ہیں ۔ تب میں نے کہا : تب تو اس طرح کے تعجب اور حیرت انگیز کام ان بزرگوار سے ہی ہونگے ۔ [12]

حضرت امام کاظم علیه السلام کےهمعصر خلفاء:

آپ کا دورِ امامت چار ظالم عباسي خلفاءکے ساتھ رہا يعني (منصور، مہدي، ہادي او رہارون الرشيد)۔

1-       منصوردوانیقی (۱۳۶/ ۱۵۸ ھ ):

148ھ میں امام جعفر صادق علیہ السّلام کی شھادت هوئی اس وقت سے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام بذاتِ خود فرائض امامت کے ذمہ دار هوئے اس وقت سلطنت عباسیہ کے تخت پر منصور دوانقی بیٹھا تھا. یہ وهی ظالم بادشاہ تھا جس کے هاتھوں لاتعداد سادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے اور تلوار کے گھاٹ اتار دیئے گئے یا دیواروں میں چنوا دیئے یاقید رکھے گئے تھے . خود امام جعفر صادق علیہ السّلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جاچکی تھیں اور مختلف صورتوں سے تکلیفیں پھنچائی گئی تھیں یهاں تک کہ منصور هی کا بھیجا هوا زهر تھا جس سے اب آپ دنیا سے رخصت هورهے تھے اس کے بعد دس برس تک منصور زندہ رها لیکن امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سے کوئی تعرض نهیں کیا اور آپ مذهبی فرائض امامت کی انجام دهی میں امن وسکون کے ساتھ مصروف رهے . یہ بھی تھا کہ اس زمانے میں منصور شهر بغداد کی تعمیر میں مصروف تھا جس سے 157ھ میں یعنی اپنی موت سے صرف ایک سال پهلے اسے فراغت هوئی . اس لئے وہ امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے متعلق کسی ایذا رسانی کی طرف متوجہ نهیں هوا .
 2- مہدي عباسی(۱۵۸ /۱۵۹ ):

158ھ کے آخر میں منصور دوانقی دنیا سے رخصت هوا تو اس کا بیٹا مھدی تخت سلطنت پر بیٹھا شروع میں تو اس نے بھی امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی عزت واحترام کے خلاف کوئی برتاؤ نهیں کیا مگر چند سال کے بعد پھر وهی بنی فاطمہ کی مخالفت کاجذبہ ابھرا اور 164ھ میں جب وہ حج کے نام پر حجاز کی طرف آیاتو امام موسی کاظم علیہ السّلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغدادلے گیا اور قید کردیا. ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رهے . پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس هوا اور حضرت کو مدینہ کی طرف واپسی کاموقع دیا گیا .
مہدي نے عوام کو دھوکہ دينے کے لئے اعلان کيا کہ حکومت پر جس کسي کا کوئي حق ہو وہ اپنا حق لے سکتا ہے۔ اس نے بظاہر لوگوں کے حقوق ادا کرنا شروع کر ديئے۔ امام موسيٰ کاظم نے بھي اپنے حق کا مطالبہ کيا۔ اس موقع پر خليفہ مہدي عباسي اور امام کے درميان يہ مکالمہ ہوا:
خليفہ: آپ کا حق کيا ہے؟
امام: فدک۔
خليفہ: فدک کي حدود معين کرديں تاکہ ميں آپ کو واپس کر دوں۔
امام: اس کي پہلي حد کوہِ احد، دوسري حد مصر کا عريش، تيسري حد سيف البحر (دريائے خزر) اور چوتھي حد دومۃ الجندل (عراق) ہے۔
خليفہ: يہ سب؟!
امام: ہاں۔
خليفہ کا چہرہ غيظ و غضب سے سرخ ہوگيا اور وہ چلايا: يہ بہت زيادہ ہے۔ ہميں سوچنا پڑے گا۔
امام موسيٰ کاظم عليہ السلام نے دراصل اسے يہ سمجھا ديا کہ حکومت امام کا حق ہے اور دنيائے اسلام کي حکومت کي باگ ڈور اہلبيت عليہم السلام کے ہاتھ ميں ہوني چاہئے۔

ایک مرتبہ مہدی جو اپنے زمانے کا حاکم تھا مدینہ آیا اور امام مو سیٰ کاظم سے مسٔلۂ تحریم شراب پر بحث کرنے لگا وہ اپنے ذہنِ ناقص میں خیال کرتا تھا کہ معاذاللہ اس طرح امام کی رسوائی کی جائے لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وارث باب مدینتہ العلم ہیں چنانچہ امام سے سوال کرتا ہے کہ آپ حرمتِ شراب کی قران سے دلیل دیجیے ٔ امام نے فرمایا ’’خداوند سورۂ اعراف میں فرماتا ہے اے حبیب !کہہ دو کہ میرے خدا نے کارِ بد چہ ظاہر چہ مخفی و اثم و ستم بنا حق حرام قرار دیا ہے اور یہا ں اثم سے مراد شراب ہے ‘‘ امام یہ کہہ کر خاموش نہیں ہوتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں خدا وند نیز سورۂ بقره میں فرماتا ہے اے میرے حبیب !لوگ تم سے شراب اور قمار کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ یہ دونوں بہت عظیم گناہ ہے اسی وجہ سے شراب قرآن میں صریحاً حرام قرار دی گئی ہے مہدی، امام کے اس عالما نہ جواب سے بہت متأثر ہوا اور بے اختیارکہنے لگا ایسا عالمانہ جواب سوائے خانوادۂ عصمت و طہارت کے کوئی نہیں دے سکتا.
3- هادی ( ۱۵۹ /۱۷۰ ):

مھدی کے بعد اس کابھائی هادی192ھ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک مهینے تک اُس نے حکومت کی . اس کے بعد هارون رشید کازمانہ آیا جس میں پھر امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کو آزادی کے ساتھ سانس لینا نصیب نهیں هوا
4- هارون  رشید (۱۷۰ / ۱۹۳ ):

هارون  رشید ( پانچواں عباسی خلیفہ) کی اهل بیت اطہار کے ساتھ شدید دشمنی ناقابل انکار تھی، اولاد فاطمہ زهراء(س) اور ذریات علی(‏‏‏ع) پر مظالم ڈھانے میں کوئی کمی نہ کی،وہ چونکہ عباسی حاکموں میں سے زیادہ جنایت کار اور ظالم تھا،لوگوں کا امام موسی کاظم (ع) کے نسبت احترام اور امام کا معنوی مقام دیکھنا برداشت نہیں ہوتا اور اس سے بہت پریشان رہتا تھا،

 دلوں پر حکومت:
ايک دن خانہ کعبہ کے نزديک ہارون الرشيد نے امام کاظم    سے ملاقات کي اور دورانِ گفتگو امام   سے کہا: ’’کيا آپ ہي وہ ہيں جن سے لوگ خفيہ طور پر بيعت کرتے ہيں اور آپ کو اپنا رہبر قرار ديتے ہيں؟‘‘
امام   نے کمالِ شجاعت سے فرمايا: انا امام القلوب و انت امام الجسوم۔ ميں دلوں پر حکومت کرتا ہوں اور تم جسموں پر۔
ايک مرتبہ امام کاظم    ہارون کے محل ميں تشريف لے گئے۔ ہارون نے پوچھا: يہ دنيا کيا ہے؟
فرمايا: يہ فاسقوں کا ٹھکانہ ہے۔ اس کے بعد سورہ اعراف کي آيت ١٤٦ کي تلاوت کر کے ہارون کو خبردار کيا کہ: ساصرِف عن اٰياتي الذين يتکبرون في الارض بغير الحق و ان يروا کل اٰيۃ لا يومنوا بھا و ان يروا سبيل الرشد لايتخذوہ سبيلا و ان يروا سبيل الغيِّ يتخذوہ سبيلاً۔ ترجمہ : ميں عنقريب اپني آيتوں کي طرف سے ان لوگوں کو پھيردوں گا جو روئے زمين ميں ناحق اکڑتے پھرتے ہيں اور يہ کسي بھي نشاني کو ديکھ ليں ايمان لانے والے نہيں ہيں۔ان کا حال يہ ہے کہ ہدايت کا راستہ ديکھيں گے تو اسے اپنا راستہ نہ بنائيں گے اور گمراہي کا راستہ ديکھيں گے تو اسے فوراً اختيار کر ليں گے۔
ہارون نے پوچھا: دنيا کس کا گھر ہے؟
فرمايا: دنيا ہمارے شيعوں کے لئے جائے سکون اور دوسروں کے لئے آزمائش ہے۔
اس گفتگو کے آخر ميں ہارون نے تنگ آکر پوچھا: کيا ہم کافر ہيں؟
امام   نے فرمايا: نہيں، ليکن ايسے ہو جيسا کہ خدا نے فرمايا ہے: الذين بدلوا نعمت اللّٰہ کفراً و احلُّوا دار البوار۔ ترجمہ : کيا تم نے ان لوگوں کو نہيں ديکھا جنہوں نے اللہ کي نعمت