امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام

1 ووٹ دیں 05.0 / 5

تحریر :مصطفی علی فخری

حضرت امام موسیٰ كاظم علیہ السلام ، رسول مقبول حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كے ساتویں جانشین اور ہمارے ساتویں امام ہیں ۔سلسلہ عصمت كی نویں كڑی ہیں.

آپ کے والد گرامی حضرت امام جعفر صادق علیه السلام اور مادر گرامی حضرت بی بی حمیده  خاتون هیں جو مکتب جعفری کے تربیت یافته هونے کے ناطے طهارت باطنی اور پاکیزگی روح کے اعلا درجات تک پهنچ گئی تھیں که امام جعفر صادق علیه السلام نے ان کے بارے میں فرمایا : «حمیدة مصفاة من الادناس کسبیکة الذهب ما زالت الاملاک تحرسها حتی ادیت الی کرامة من الله لی والحجة من بعدی » . [1]

حمیده خالص سونے کی مانند آلودگیوں سے پاک هیں مجھ تک پهنچنے تک فرشتے همیشه ان کی حفاظت کرتے تھے یه الله کی کرم هے مجھ پر اور میرے بعد والی حجت پر .

 امام محمد باقر علیہ السلام جناب حمیدہ خاتون كے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: آپ دنیا میں حمیدہ اور آخرت میں محمودہ ہیں ۔

ولادت با سعادت  :

ابوبصیر کهتا هے که هم حضرت امام صادق علیه السلام کے ساتھ حج په جا رهے تھے جب ابواء کے مقام پر پهنچے تو آپ نے همارے لئے ناشتے کا اهتمام کیا  هم ناشته کرنے میں مصروف تھے اتنے میں حضرت امام صادق علیه السلام کی زوجه کی طرف سے ایک شخص خبر لے کرآیا که ان کی حالت خراب هو گئی هے اور درد زه شروع هو چکا هے چونکه آپ نے فرمایا تھا جلدی اس بارے میں خبر دوں اس لئے حاضر هوا هوں.آپ علیه السلام اسی وقت کھڑے هو گئے اور اس شخص کے ساتھ زوجه کے پاس چلے گئے تھوڑی دیر بعد واپس آگئے آپ کو شاد مان دیکھ کر هم نے مبارکباد کها اور زوجه کی صحت کے بارے میں پوچھا تو فرمایا : الله تعالی نے حمیده کو سلامتی  عطا کی هے اور مجھے ایک بیٹا دیا هے جو مخلوقات میں سب سے بهتر هے میری زوجه نے اس بچه کے بارے میں ایک مطلب مجھے بیان کیا اور گمان کررهی تھی که مجھے معلوم نهیں هے لیکن میں اس بارے میں ان سے زیاده جانتا هوں.

میں (ابو بصیر) نے اس مطلب کے بارے میں پوچھا تو فرمایا :" حمیده کهه رهی تھی که جب یه بچه پیدا هوا تو هاتھوں کو زمین پر رکھا اور سر آسمان کی طرف بلند کیا " تو میں نے حمیده  سے کها یه رسول خدا (ص) اور آپ کے بعد والے وصی کی نشانی هے .[2]

اس طرح حضرت ابو الحسن موسی کاظم علیه السلام هفتم صفر المظفر سنه 128ھ (بمطابق ۱۰نومبر ۷۴۵ء) بروز هفته سر زمین ابواء (مکه اور مدینه کے درمیان ) میں پیدا هوئے .[3] ولادت كے فوراً بعد ہی آپ نے اپنے ہاتھوں كو زمین پر ٹیك كر آسمان كی طرف رخ كركے كلمہ شہادتین زبان پر جاری فرمایا۔ یہ عمل آپ نے بالكل اسی طرح انجام دیا جس طرح آپ (ع) كے جد بزرگوار حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انجام دیا تھا۔آپ كے داہنے بازو پر یہ كلمہ ” تمت كلمۃ ربك صدقا وعدلا “ لكھا ہوا تھا۔

حضرت امام موسی بن جعفر علیه السلام کے القاب :

آپ کا نام موسی  کنیت :ابو الحسن اول، ابو الحسن ماضی، ابو ابراهیم، ابو علی، ابو اسماعیل اورآپ کے القاب :کاظم، عبدصالح، نفس زکیه، زین المجتهدین، وفی، صابر، امین اور زاهر هے. ابن شهرآشوب کهتے هیں :چونکه آپ اخلاق کریمه کے ساتھ چمک گئے اس لئے «زاهر» اور چونکه غصوں کو پی لیتے تھے اس لئے  «کاظم » مشهور هو گئے .[4]

 ولادت سے امامت تک :

حضرت امام موسی کاظم علیه السلام اپنے اجداد طاهرین کے مانند ولادت کے وقت سے هی خاندان اهلبیت (علیهم السلام ) میں ایک خورشید تابنده کی طرح چمک رهے تھےدوران بچگی سے هی آثار امامت آپ میں نمایاں تھیں حضرت امام جعفر صادق علیه السلام نے آپ کی ولادت کے بعد شیعوں کو حضرت امام موسی کاظم علیه السلام کی امامت کے متعلق آگاه فرمایا اور اس طرح فرمایا : «فعلقوا بابنی هذا المولود... فهو والله صاحبکم من بعدی ».میرے اس فرزند کے ساتھ لٹک جاو ...الله کی قسم یه میرے بعد تمهارے صاحب (امام )هیں. [5]

یعقوب بن سراج کهتا هے که "- ایک مرتبه -میں حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کے پاس گیا تو دیکھا که آپ اپنے فرزند موسی کے گهوارے کے پاس کھڑے هیں اور آپ کا فرزند گهواره میں هے امام علیه السلام نے تھوڑی دیر ان کے ساتھ راز وگفتگوکی اور گفتگو تمام هونے کے بعد میں قریب گیا تو مجھ سے فرمایا : اپنے مولا کے پاس جا کر سلام کرو . میں نےگهواره کے نزدیک  جا کر سلام  کیا  تو موسی بن جعفر علیه السلام نے جبکه گهوارے میں تھا  اچھےانداز میں میرے سلام کا جواب دیا اور فرمایا " جا کر اپنی بیٹی کیلئے کل جو نام (حمیرا )انتخاب کیا هےتبدیل کرو  پھر میرے پاس آجاؤ  چونکه الله تعالی ایسا نام پسند نهیں کرتا  "تو میں جاکر ان کا نام تبدیل کر دیا .[6]

حضرت امام موسی کاظم اهلسنت علماء کی نظر میں:

إبن حجر الهیتمی، الصواعق المحرقة میں کهتا هے: امام موسی کاظم علیہ السلام  اپنے زمانے کے لوگوں میں بہت بڑے عابد تھے [7] أبو الفرج کهتا هے : ان کی عبادت ان کی کوشش ان کی محنت کی وجہ سے ان کو (عبد صالح ) کہا جاتا تھا ۔ [8]
ذھبی لکھتا ہے : « قد کان موسی من أجواد الحکماء و من العباد الأتقیاء» (حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سخاوت مند حکماء اور خدا کے پرہیزگار بندوں میں سے تھے) ۔ [9] تاریخ یعقوبی میں آیا ہے :« کان موسی بن جعفر من اشد الناس عبادة »

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے زمانے کے عابد ترین شخص تھے ۔[10]
جمال الدین محمد بن طلحہ شافعی (مطالب السوال) کتاب میں اس طرح لکھتے ہیں : ان کی عبادت مشهور اور خدا کی اطاعت و عبادت میں محتاط اور ملازم تھے ۔ شب کو سجدے میں اور صبح کو قیام کی صورت مین گزارتے تھے روز کو صدقہ اور روزے سے تمام کرتے تھے ۔ [11]
شفیق بلخی کہتا ہے : سنه ۱۴۹ ھ قمری میں حج کے انجام کے لئے نکلا اور قادسیہ پہنچا وہاں میں نے بہت بڑی جمعیت کو دیکھا جو حج انجام دینے کے لئے جانے کو آمادہ تھے جس میں ایک خوبصورت گندمی رنگ کے جوان کو دیکھا جو کمزور تھا اپنے لباس کے اوپر پشمی لباس پہنے ہوئے تھا اور اپنے پاؤں میں نعلین پہنے کنارے بیٹھا ہوا تھا میں نے اپنے آپ سے کہا یہ جوان صوفیوں میں سے ہے وہ چاہتا هے کہ لوگ راستہ بھر اس کو اپنے سر پر بٹھاے رہیں ۔
اس کے نزدیک گیا جیسے ہی اس کی نگاہ مجھ پر پڑی انھوں نے فرمایا کہ «شقیق! اجْتَنِبُوا کَثِیراً مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ» مجھ کو وہیں پر چھوڑ دیا اور اپنے راستے پر چلنے لگے ، اپنے راستے ہو لئے میں نے اپنے آپ سے کہا یہ بہت بڑی بات ہے اتنا بڑا کام انجام دیا وہ میرے دل کے اندر کی خبر دے رہا ہے اور میرا نام بھی جانتا ہے یہ بہت ہی نیک اور صالح ، خدا کا بندہ ہے میں خود اس کے پاس پہنچوں گا اور اس سے عذر خواهی کروں گا جتنی بھی جلدی کر سکا کہ ان تک پہنچ جاؤں مگر نہیں پہنچ سکا وہ میری نظروں سے غائب ہو گئے تھے ۔ جب میں واقصہ پہنچا تو دیکھا وہ نماز پڑھنے میں مشغول ہیں ان کے جسم کے تمام اعضاء و جوارح لرز رہے تھے اور آنکھوں سے اشک جاری تھا ۔ میں نے خود سے کہا یہ وہی شخص ہے میں جاتا ہوں اور ان سے معافی مانگتا ہوں ۔ میں کھڑا رہا تاکہ ان کی نماز تمام ہو جائے میں ان کی طرف گیا ۔ جیسے ہی انھوں نے مجھے دیکھا فرمانے لگے شفیق ! اس آیت کو پڑھو: وَ إِنِّی لَغَفَّارٌ لِمَنْ تابَ وَ آمَنَ وَ عَمِلَ صالِحاً ثُمَّ اهْتَدى»‏ پھر مجھے چھوڑ کر وہ اپنے راستے ہو لئے ۔
میں نے اپنے آپ سے کہا یہ جوان کوئی بہت بزرگ اور صوفی ہے ۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ اس نے میرے دل کے اندر کی خبر دی ہے ۔ جب منزل زبالہ پہنچے ، تو دیکھا کہ کنواں کے کنارے ہاتھ میں کوزہ لئے کھڑے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کنویں سے پانی نکالیں ۔ کوزہ ہاتھ سے چھوٹ کر کنویں میں گر جاتا ہے وہ حضرت آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہتے ہیں :
انت ربى اذا ظمئت الى الماء و قوتى اذا اردت الطعاما انت
خدایا اس کوزے کے علاوہ میرے پاس کوزہ نہیں ہے اس کو میرے پاس واپس کر دے ۔
اس وقت میں نے دیکھا کنویں کا پانی اوپر آیا ہاتھ بڑھا کر کوزے کو پانی سے بھر کر باهر نکالا ۔ وضو کیا اور چار رکعت نماز پڑھی ۔ اس کے بعد ریت کے ٹیلے کے پیچھے گئے ، اور اس ریت کو ہاتھوں سے کوزے میں ڈالا اور کوزے کو ہلا کر پی جاتے تھے ۔ میں ان کے پاس گیا اور سلام عرض کی انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا ۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کی خدا نے جو آپ کو زیادہ غذا عنایت کی ہے مجھ کو بھی اس سے مستفید فرمائیں ۔ انھوں نے فرمایا : شفیق مسلسل خدا کے ظاهری و باطنی نعمتیں ہمارے شامل حال ہیں ۔ خدا کے لئے حسن ظن رکھو کوزے میری طرف بڑھایا میں نے کوزے کاپانی پیا دیکھا اس میں خوشبو دار میٹھا شربت ہے ۔ خدا کی قسم میں نے کبھی اس سے لذیذ اور خوشبوتر نہیں کھایا تھا اور نہں پیا تھا ۔ سیر بھی ہو گیا اور پیاس بھی ختم ہو گئی ۔ یہاں تک کہ کچھ روز تک بھوک ہی نہیں لگی اور نہ پانی پینے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ اس کے بعد ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ مکہ پہنچ گیا ۔ اتفاق سے ایک رات میں نے ان کو دیکھا آدھی رات ہے اور وہ نماز پڑھنے میں مشغول ہیں ۔ اور تمام خشوع و خضوع کے ساتھ آنکھوں سے آنسو جاری ہے ۔ اس طرح وہ صبح تک تھے ۔ یہاں تک کہ اذان صبح ہوئی ، اور نماز کے لئے بیٹھے اور تسبیح خدا کرنی شروع کر دی اس کے بعد اپنی جگہ سے اٹھے اور نماز صبح پڑھی ۔ سات مرتبہ خانہ خدا کا طواف کیا اور مسجد حرام کی طرف سے باهر چلے گئے ۔ میں ان کے آگے بڑھا ۔ تو دیکھا کہ ضرورت مند اور محتاج ان کے پاس حلقہ کئے ہوئے جمع ہیں ۔ اور بہت سارے غلام ان کی خدمت میں تیار ہیں ۔ اور ان کے حکم کے منتظر ہیں ۔ ان تمام چیزوں کو اس کے خلاف دیکھ رہا ہوں جو پہلے دیکھ چکا تھا ۔ نزدیک اور دور سے لوگ پہنچ کر ان کو سلام کر رہے ہیں ۔ ایک آدمی جو ان سے بہت قریب تھا میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں اس نے کہا : یہ موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب علیہم السلام ہیں ۔ تب میں نے کہا : تب تو اس طرح کے تعجب اور حیرت انگیز کام ان بزرگوار سے ہی ہونگے ۔ [12]

حضرت امام کاظم علیه السلام کےهمعصر خلفاء:

آپ کا دورِ امامت چار ظالم عباسي خلفاءکے ساتھ رہا يعني (منصور، مہدي، ہادي او رہارون الرشيد)۔

1-       منصوردوانیقی (۱۳۶/ ۱۵۸ ھ ):

148ھ میں امام جعفر صادق علیہ السّلام کی شھادت هوئی اس وقت سے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام بذاتِ خود فرائض امامت کے ذمہ دار هوئے اس وقت سلطنت عباسیہ کے تخت پر منصور دوانقی بیٹھا تھا. یہ وهی ظالم بادشاہ تھا جس کے هاتھوں لاتعداد سادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے اور تلوار کے گھاٹ اتار دیئے گئے یا دیواروں میں چنوا دیئے یاقید رکھے گئے تھے . خود امام جعفر صادق علیہ السّلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جاچکی تھیں اور مختلف صورتوں سے تکلیفیں پھنچائی گئی تھیں یهاں تک کہ منصور هی کا بھیجا هوا زهر تھا جس سے اب آپ دنیا سے رخصت هورهے تھے اس کے بعد دس برس تک منصور زندہ رها لیکن امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام سے کوئی تعرض نهیں کیا اور آپ مذهبی فرائض امامت کی انجام دهی میں امن وسکون کے ساتھ مصروف رهے . یہ بھی تھا کہ اس زمانے میں منصور شهر بغداد کی تعمیر میں مصروف تھا جس سے 157ھ میں یعنی اپنی موت سے صرف ایک سال پهلے اسے فراغت هوئی . اس لئے وہ امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کے متعلق کسی ایذا رسانی کی طرف متوجہ نهیں هوا .
 2- مہدي عباسی(۱۵۸ /۱۵۹ ):

158ھ کے آخر میں منصور دوانقی دنیا سے رخصت هوا تو اس کا بیٹا مھدی تخت سلطنت پر بیٹھا شروع میں تو اس نے بھی امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی عزت واحترام کے خلاف کوئی برتاؤ نهیں کیا مگر چند سال کے بعد پھر وهی بنی فاطمہ کی مخالفت کاجذبہ ابھرا اور 164ھ میں جب وہ حج کے نام پر حجاز کی طرف آیاتو امام موسی کاظم علیہ السّلام کو اپنے ساتھ مکہ سے بغدادلے گیا اور قید کردیا. ایک سال تک حضرت اس کی قید میں رهے . پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس هوا اور حضرت کو مدینہ کی طرف واپسی کاموقع دیا گیا .
مہدي نے عوام کو دھوکہ دينے کے لئے اعلان کيا کہ حکومت پر جس کسي کا کوئي حق ہو وہ اپنا حق لے سکتا ہے۔ اس نے بظاہر لوگوں کے حقوق ادا کرنا شروع کر ديئے۔ امام موسيٰ کاظم نے بھي اپنے حق کا مطالبہ کيا۔ اس موقع پر خليفہ مہدي عباسي اور امام کے درميان يہ مکالمہ ہوا:
خليفہ: آپ کا حق کيا ہے؟
امام: فدک۔
خليفہ: فدک کي حدود معين کرديں تاکہ ميں آپ کو واپس کر دوں۔
امام: اس کي پہلي حد کوہِ احد، دوسري حد مصر کا عريش، تيسري حد سيف البحر (دريائے خزر) اور چوتھي حد دومۃ الجندل (عراق) ہے۔
خليفہ: يہ سب؟!
امام: ہاں۔
خليفہ کا چہرہ غيظ و غضب سے سرخ ہوگيا اور وہ چلايا: يہ بہت زيادہ ہے۔ ہميں سوچنا پڑے گا۔
امام موسيٰ کاظم عليہ السلام نے دراصل اسے يہ سمجھا ديا کہ حکومت امام کا حق ہے اور دنيائے اسلام کي حکومت کي باگ ڈور اہلبيت عليہم السلام کے ہاتھ ميں ہوني چاہئے۔

ایک مرتبہ مہدی جو اپنے زمانے کا حاکم تھا مدینہ آیا اور امام مو سیٰ کاظم سے مسٔلۂ تحریم شراب پر بحث کرنے لگا وہ اپنے ذہنِ ناقص میں خیال کرتا تھا کہ معاذاللہ اس طرح امام کی رسوائی کی جائے لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وارث باب مدینتہ العلم ہیں چنانچہ امام سے سوال کرتا ہے کہ آپ حرمتِ شراب کی قران سے دلیل دیجیے ٔ امام نے فرمایا ’’خداوند سورۂ اعراف میں فرماتا ہے اے حبیب !کہہ دو کہ میرے خدا نے کارِ بد چہ ظاہر چہ مخفی و اثم و ستم بنا حق حرام قرار دیا ہے اور یہا ں اثم سے مراد شراب ہے ‘‘ امام یہ کہہ کر خاموش نہیں ہوتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں خدا وند نیز سورۂ بقره میں فرماتا ہے اے میرے حبیب !لوگ تم سے شراب اور قمار کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دو کہ یہ دونوں بہت عظیم گناہ ہے اسی وجہ سے شراب قرآن میں صریحاً حرام قرار دی گئی ہے مہدی، امام کے اس عالما نہ جواب سے بہت متأثر ہوا اور بے اختیارکہنے لگا ایسا عالمانہ جواب سوائے خانوادۂ عصمت و طہارت کے کوئی نہیں دے سکتا.
3- هادی ( ۱۵۹ /۱۷۰ ):

مھدی کے بعد اس کابھائی هادی192ھ میں تخت سلطنت پر بیٹھا اور صرف ایک سال ایک مهینے تک اُس نے حکومت کی . اس کے بعد هارون رشید کازمانہ آیا جس میں پھر امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام کو آزادی کے ساتھ سانس لینا نصیب نهیں هوا
4- هارون  رشید (۱۷۰ / ۱۹۳ ):

هارون  رشید ( پانچواں عباسی خلیفہ) کی اهل بیت اطہار کے ساتھ شدید دشمنی ناقابل انکار تھی، اولاد فاطمہ زهراء(س) اور ذریات علی(‏‏‏ع) پر مظالم ڈھانے میں کوئی کمی نہ کی،وہ چونکہ عباسی حاکموں میں سے زیادہ جنایت کار اور ظالم تھا،لوگوں کا امام موسی کاظم (ع) کے نسبت احترام اور امام کا معنوی مقام دیکھنا برداشت نہیں ہوتا اور اس سے بہت پریشان رہتا تھا،

 دلوں پر حکومت:
ايک دن خانہ کعبہ کے نزديک ہارون الرشيد نے امام کاظم    سے ملاقات کي اور دورانِ گفتگو امام   سے کہا: ’’کيا آپ ہي وہ ہيں جن سے لوگ خفيہ طور پر بيعت کرتے ہيں اور آپ کو اپنا رہبر قرار ديتے ہيں؟‘‘
امام   نے کمالِ شجاعت سے فرمايا: انا امام القلوب و انت امام الجسوم۔ ميں دلوں پر حکومت کرتا ہوں اور تم جسموں پر۔
ايک مرتبہ امام کاظم    ہارون کے محل ميں تشريف لے گئے۔ ہارون نے پوچھا: يہ دنيا کيا ہے؟
فرمايا: يہ فاسقوں کا ٹھکانہ ہے۔ اس کے بعد سورہ اعراف کي آيت ١٤٦ کي تلاوت کر کے ہارون کو خبردار کيا کہ: ساصرِف عن اٰياتي الذين يتکبرون في الارض بغير الحق و ان يروا کل اٰيۃ لا يومنوا بھا و ان يروا سبيل الرشد لايتخذوہ سبيلا و ان يروا سبيل الغيِّ يتخذوہ سبيلاً۔ ترجمہ : ميں عنقريب اپني آيتوں کي طرف سے ان لوگوں کو پھيردوں گا جو روئے زمين ميں ناحق اکڑتے پھرتے ہيں اور يہ کسي بھي نشاني کو ديکھ ليں ايمان لانے والے نہيں ہيں۔ان کا حال يہ ہے کہ ہدايت کا راستہ ديکھيں گے تو اسے اپنا راستہ نہ بنائيں گے اور گمراہي کا راستہ ديکھيں گے تو اسے فوراً اختيار کر ليں گے۔
ہارون نے پوچھا: دنيا کس کا گھر ہے؟
فرمايا: دنيا ہمارے شيعوں کے لئے جائے سکون اور دوسروں کے لئے آزمائش ہے۔
اس گفتگو کے آخر ميں ہارون نے تنگ آکر پوچھا: کيا ہم کافر ہيں؟
امام   نے فرمايا: نہيں، ليکن ايسے ہو جيسا کہ خدا نے فرمايا ہے: الذين بدلوا نعمت اللّٰہ کفراً و احلُّوا دار البوار۔ ترجمہ : کيا تم نے ان لوگوں کو نہيں ديکھا جنہوں نے اللہ کي نعمت کو کفرانِ نعمت سے تبديل کر ديا اور اپني قوم کو ہلاکت کي منزل تک پہنچا ديا۔
امام موسی کاظم علیه السلام فرزند رسول الله  :
ہارون الرشيد ايک مرتبہ مدينہ آيا اور ايک بڑي تعداد ميں لوگوں کے ساتھ حرمِ نبوي ميں پہنچا۔ اس نے قبر مبارک کے سامنے کھڑے ہوکر بڑے فخر کے ساتھ اس طرح سے سلام کيا: السلام عليک يابن عمّ۔ (يعني اے ميرے چچا کے بيٹے آپ پر سلام ہو)۔ اس موقع پر امام کاظم    بھي وہاں موجود تھے، آپٴ نزديک تشريف لائے اور غاصب خليفہ کو اس کي اوقات ياد دلانے کے لئے اس طرح سے سلام کيا: السلام عليک يا رسول اللّٰہ، السلام عليک يا آبہ۔ (يعني سلام ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! سلام ہو آپ پر اے بابا)۔ ہارون يہ سن کر سخت ناراض ہوا اور دنيا اس کي نظروں ميں تاريک ہوگئي، کيونکہ امام   نے اس طرح سے جانشيني رسول کے لئے اپنے حق کو اور ہارون رشيد کي نالائقي کو ثابت کرديا تھا۔

دربار هارون میں امام کا نفوذ:

علی بن یقطین هارون الرشید كا وزیر هے یہ مملكت كا دوسرا ستون هے۔ لیكن شیعہ هے۔ تقیہ كی حالت میں زندگی بسر كررها هے۔ ظاهر میں هارون كا كارندہ  هے  لیكن پس پردہ امام امام موسی علیہ السلام كے پاك و پاكیزہ اهداف كی ترجمانی كرتا  هے ۔ دو تین مرتبہ علی بن یقطین كے خلاف خلیفہ كو رپوٹ پیش كی گئی لیكن امام علیہ السلام نے اسے قبل از وقت بتا دیا اور اس كو هو شیار رھنے كی تلقین كی جس كی وجہ سے علی بن یقطین حاكم وقت كے شر سے محفوظ رها۔ هارون  كی حكومت میں ایسے افراد بھی موجود تھے جو امام علیہ السلام كے بیحد عقیدت مند تھے۔ لیكن حالات كی وجہ سے امام علیہ السلام سے رابطه نهیں ركھ سكتے تھے ۔

اهواز كا رهنے والا ایك ایرانی شیعہ كھتا  هے  كہ حكومت وقت نے مجھ پر بهت زیادہ ٹیكس عائد كر دیا تھا۔ ادائیگی كی صورت هی میں مجھے چھٹكارا مل سكتا تھا۔ اتفاق سے انھیں دنوں میں ا هواز كا گورنر معزول هو گیا۔ نیا گورنر آیا مجھے خوف تھا كہ اس نے آتے هی مجھ سے ٹیكس كا مطالبہ كرنا هے ۔ میری فائل كھل گئی تو میرا كیا بنے گا؟ لیكن میرے بعض دوستوں نے مجھ سے کها   كہ گھبراؤ نهیں نیا گورنر اندر سے شیعہ  هے  اور تم بھی شیعہ هو ۔ ان كی باتوں كو سن كر مجھے قدرے دلی سكون  هوا۔ لیكن مجھ میں گورنر كے پاس جانے كی همت نہ تھی ۔
میں نے دل هی دل میں سوچا كہ مدینہ جا كر امام موسی كاظم علیہ السلام كا رقعہ لے آؤں (اس وقت آقا گھر پر تھے) میں امام علیہ السلام كی خدمت میں حاضر  هوا  اور سارا ماجرا گوش گزار كیا۔ آپ نے تین چار جملے تحریر فرمائے جس میں آپ نے تحریر فرمایا كہ همارا حكم  هے  كہ اس مرد مومن كی مشكل حل كی جائے ۔ آخر میں آپ نے لكھا كہ مومن كی مشكل كو حل كرنا اللہ كے نزدیك بہت  هی پسندیدہ عمل  هے ۔وہ خط لے كر چھپتے چھپاتے ا هواز آیا۔ اب مسئلہ خط پهنچانے كا تھا۔ چناچہ میں رات كی تاریكی میں بڑی احتیاط كے ساتھ گورنر صاحب كے گھر پهنچا۔ دق الباب كیا۔ گورنر كا نوكر باہر آیا میں نے کها   اپنے صاحب سے كهہ دو كہ ایك شخص موسیٰ ابن جعفر (ع) كی طرف سے آپ كو ملنے آیا  هے ۔ میں نے دیكھا كہ گورنر صاحب فوری طور پر خود دروازے پر آگئے۔ سلام ودعا كے بعد آنے كی وجہ پوچھی میں نے امام علیہ السلام كا خط اس كو دے دیا۔ اس نے خط كو كھول كر اپنی آنكھوں پر لگایا اور آگے بڑھ كر مجھے گلے لگایا اور میری پیشانی پر بوسہ دیا۔ اس كے بعد مجھے اپنے گھر میں لے گیا۔ اور مجھے كرسی پر بٹھایا اور خود زمین پر بیٹھ گیا۔ بولا كیا تم امام علیہ السلام كی خدمت اقدس سے هو كر آئے هو ؟ میں نے کها   جی هاں پھر گورنر بولا كی آپ نے انهیں آنكھوں سے امام علیہ السلام كی زیارت كی  هے ۔ میں نے کها   جی هاں۔ پھر کها   آپ كی پریشانی كیا  هے ؟میں نے اپنی مجبوری بتائی۔ آپ نے اسی وقت افسروں كو بلایا اور میری فائل كی درستگی كے آرڈر جاری كیے۔ چونكہ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا كہ مومن كو خوش كرنے سے اللہ تعالیٰ كی رضا حاصل هو تی  هے  گورنر صاحب جب میرا كام كرچكے تھے تو مجھ سے بولے ذرا ٹھر جاؤ میں آپ كی خدمت كرنا چاھتا هو ں، وہ یہ كہ میرے پاس جتنا سرمایہ  هے  اس كا آدھا حصہ آپ كو دیتا هو ں، میری آدھی رقم اور میرا آدھا سرمایہ آپ كا  هے ۔ وہ مومن روایت كرتا  هے  كہ ایك تو میری بہت بڑی مشكل حل هو چكی تھی دوسرا گورنر صاحب نے مجھے امام علیہ السلام كی بركت سے مالا مال كردیا تھا۔ میں گورنر كو دعائیں دیتا  هوا گھر واپس آگیا۔ ایك سفر پہ میں امام (ع) كی خدمت اقدس میں گیا تو سارا ماجرہ عرض كیا آپ علیہ السلام سن كر مسكرا دیئے اور خوشی كا اظهار فرمایا۔

مسند خلافت کے واقعی حقدار :

مورخین نے مامون سے نقل کیا هے که میں ایك مرتبہ اپنے بابا كے همراہ حج پر گیا اس وقت میں بچہ تھا سب لوگ بابا سے ملنے كیلئے آجار هے  تھے ۔ خاص طور پر علماؤ، مشائخ اور زعمائے ملت كی خلیفہ وقت كے ساتھ خصوصی میٹنگیں تھیں ۔ بابا كا حكم تھا كہ جو بھی آئے سب سے پهلے اپنا تعارف خود كروائے، یعنی اپنا نام تمام شجرہ نسب بیان كرے تاكہ خلیفہ كو معلوم هو  كہ یہ قریش سے  هے  یا غیر قریش  هے ۔ اگر انصار میں سے  هے  تو خرزی قبیلہ سے  هے  یا اوسی قبیلہ سے۔ سب سے پهلے نوكر اطلاع كرتا كہ آپ كو فلاں شخص، فلاں كا بیٹا ملنے آیا  هے  ۔ ایك روز نوكر آیا اس نے بابا سے کها   كہ آپ سے ایك نوجوان ملنے آیا  هے ، اور كهتا  هے  كہ وہ موسی ابن جعفر بن محمد بن علی ابن الحسین بن علی ابن ابی طالب (ع)  هے ۔ اس نے اتنا  هی كهنا تھا كہ میرا بابا اپنی جگہ سے اٹھا اور کها   كہ ان سے كهو كہ تشریف لے آئیں۔ پھر بولا كہ ان كو سواری سمیت آنے دیا جائے اور همیں حكم دیا كہ اس عظیم القدر شهزادے كا استقبال كیا جائے۔ جب هم استقبال كیلئے گئے تو دیكھا كہ عبادت وتقویٰ كے آثار آپ كی پیشانی سے جھلك ر هے  تھے۔ چهرہ اقدس پر نور  هی نور تھا۔ ان كو دیكھتے  هی  هر  انسان نجوبی سمجھ جاتا تھا كہ یہ نوجوان انتھائی پر هیزگار اور متقی شخص  هے ۔ بابا نے دور سے زور سے آواز دی كہ آپ كو قسم دیتا هو ں كہ آپ سواری سمیت آئیں۔ وہ نوجوان چند قدم سواری سمیت آیا  هم  جلدی سے دوڑے اور اس كی ركاب پكڑ كر اس كو نیچے اتارا۔ انھوں نے انتهائی شائستگی و متانت سے سب كو سلام كیا۔ بابا نے ان كا بهت زیادہ احترام كیا ان كی اور ان كے بچوں كی خیر خیریت دریافت كی۔ پھر پوچھا كوئی مالی پریشانی تو نهیں  هے ۔ انھوں نے جواب میں کها   الحمد للہ میں اور میرے اهل و عیال سب ٹھیك  هیں۔ اور كسی قسم كی پریشانی نهیں  هے  ۔ جب وہ جانے لگے تو بابا نے  هم  سے کها   جاؤ ان كو گھوڑے پر سوار كراؤ۔
جب میں ان كے قریب گیا تو آهستگی سے مجھ سے كها كہ تم ایك وقت خلیفہ بنو گے میں تم كو ایك نصیحت كرتا هوں كہ میری اولاد سے برا سلوك نہ كرنا۔ مجھے پتہ نهیں تھا كہ یہ كون هیں۔ واپس آیا میں تمام بھائیوں كی نسبت زیادہ جرات مند تھا۔ موقع پا كر بابا كے پاس آیا اور كها كہ جس كا آپ اتنا زیادہ احترام كر ر هے  تھے وہ تھا كون؟ بابا مسكرا كر   کهنے  لگے بیٹا اگر تو سچ پوچھتا  هے  تو جس مسند پر  هم  بیٹھے هیں یہ ان هی كی تو  هے  ۔ میں نے کها   كیا آپ جو   کهه  ر هے  هیں دل سے   کهه  ر هے  هیں؟ بابا نے کها   كیوں نهیں۔ میں نے کها   پس خلافت ان كو دے كیوں نهیں دیتے؟کها   كیا تو نهیں جانتا كہ "الملك عقیم"؟ تو میرا بیٹا  هے  اگر مجھے پتا چلے كہ میری حكومت كے خلاف تیرے دل میں فطور پیدا  هوا  هے  اور تو میرے خلاف سازش كرنا چاھتا  هے  تو تیرا سر قلم كر دوں گا۔ وقت گزرتا رہا ہارون لوگوں كو انعامات سے نوازتا رھا۔ پانچ ھزار سرخ دینار ایك شخص كی طرف اور چار هزار دینار كسی دوسرے شخص كی طرف۔ میں نے سمجھا كہ بابا جس شخصیت كا حد سے زیادہ احترام كر ر هے  تھے ان كی طرف بھی زیادہ مقدار میں بھیجیں گے لیكن اس نے ان كی طرف سے سب سے كم رقم ارسال كی یعنی دوسو دینار۔ میں نے وجہ پوچھی تو بابا نے کها   كیا تو نهیں جانتا كہ یہ همارے رقیب هیں سیاست كا تقاضا یہ هے كہ یہ همیشہ تنگدست رهیں۔ ان كے پاس پیسہ نہ هو كیونكہ اگر ان كے پاس دولت آگئی تو ممكن هے ایك لاكھ تلوار كے ساتھ تمھارے بابا كے خلاف انقلاب برپا كردیں ۔

امام علیہ السلام مختلف زندانوں میں:
آخر کار سن 179 ھ کو رمضان کے مہینے میں هارون رشید،عمرہ کرنے کیلئے مکہ میں داخل ہواور وہاں سے مدینہ چلا گیا اور امام موسی کا‎ظم (ع) کو گرفتار کرکے قید خانے میں ڈالنے کا حکم صادر کیا، اس وقت اما موسی کاظم (ع) اپنے جد گرامی رسول خدا کے روضے میں نماز و دعا میں مشغول تھے اور وہیں پر هارون رشید کے سپاہیوں نے امام (ع) کو گرفتار کرکے هارون کے پاس لے گئے.
هارون رشید نے حکم دیا کہ امام موسی کاظم کو ہتھکڈیاں اور بیڈیاں پہنا کر عراق کے زندان میں منتقل کیا جاۓ اور لوگوں کی مخالفت سے بچنے اور انکو گمراہ کرنے کیلئےدو محمل بنائےگئے ایک کو بغداد کی طرف اور دوسرے کو بصرہ کی طرف روانہ کیا گیا،امام (ع) کو بصرہ میں رکھا گیا هارون کے سپاہیوں نے 7 ذیحجہ سن 179 ھ کو بصرہ میں امام (ع) کو هارون رشید کے چچیرے بھائی عیسی بن جعفر بن منصور دوانقی کے تحویل میں دے دیا اور اس نے آنحضرت کو اپنے گھر کے ایک کمرے میں قیدی بنائے رکھااور پہلے پہلے امام کے ساتھ نہایت سختی کے ساتھ رفتار کرتا تھا مگر جب امام (ع) کی عبادت اور راز و نیاز کا حال مشاهدہ کیا تو امام کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنے لگا اور هارون کو لکھا کہ امام کو اس کے گھر سے نکال لیں اگر ایسا نہ کیا تو میں امام کو آزاد کر لوں گا هارون نے مجبور ہو کر امام کو وہاں سے نکالنے اور بغداد میں فضل بن ربیع کے قید خانے میں رکھنے کا حکم صادر کیا، جس دوران امام کو فضل بن ربیع کے قید خانے میں تھے ہارون نے اسے امام کو شہید کرنے کو کہا مگر وہ ایسا کرنے سے کتراتا رہا،
هارون نے امام کو فضل بن ربیع کے قید خانے سے نکلواکر فضل بن یحیی برمکی کے گھر میں قیدی بنا‎ئےرکھنے اور امام کو شہید کرنے کو کہا لیکن اس نے بھی ایسا کرنے کی جرئت نہ کی بلکہ امام کے نسبت زیادہ سے زیاردہ احترام اور اکرام کرنے لگا ،هارون فضل کے ایسے رفتار سے اس پر خفا ہوا اور حکم دیا کہ فضل کو سو کوڑے مار کر تمام عہدوں سے برکنار کیا جا‎ئے اور امام موسی کاظم علیہ السلام کو سندی بن شاهک کے زندان میں منتقل کیا گیا اور وہاں پر اس نے مسلسل امام پر شکنجہ اور اذیتیں کرتا رہا

یہ انتهائی ظالم اور سفاك آدمی تھا اور مسلمان بھی نہ تھا، اس لیے امام علیہ السلام كے بارے میں اس كے دل میں ذرا بھر رحم نہ تھا۔ اس لئے امام علیہ السلام پر سختی كی جانے لگی اس كے بعد میرے آقا نے كسی لحاظ سے سكون نهیں دیكھا ۔ مرزا دبیر كہتے ہیں:
مولا پہ انتہائے اسیری گزر گئی ۔
زندان میں جوانی و پیری گزر گئی

هارون كا امام علیہ السلام سے تقاضا:

امام علیہ السلام كے زندان میں آخری دن تھے، یہ تقریباً شھادت سے ایك هفتہ پهلے كی بات هے۔ هارون نے یحییٰ برمكی كو امام علیہ السلام كے پاس بھیجا اور انتهائی نرم اور ملائم لهجہ كے ساتھ اس سے كها كہ میری طرف سے میرے چچا زاد بھائی كو سلام كهنا اور ان سے یہ بھی كهنا كہ هم پر ثابت هو چكا هے كہ آپ بے قصور هیں آپ كا كوئی گناہ نهیں هے لیكن افسوس كہ میں نے قسم اٹھا ركھی هے كہ اس كو توڑ نهیں سكتا۔ میری قسم یہ كہ جب تك آپ اپنے گناہ كا اعتراف نہ كریں گے اور مجھ سے معافی نهیں مانگیں گے تو آپ كو آزاد نهیں كروں گا اور كسی كو پتہ بھی نہ چلے آپ صرف یحییٰ كے سامنے اعتراف جرم كرلیں۔ میرے سامنے معافی مانگنے كی بھی ضرورت نهیں هے۔ یہ بھی ضروری نهیں هے كہ اعتراف جرم كے وقت بهت سے لوگ موجود هوں میں تو صرف اتنا هی چاهتا هوں كہ اپنی قسم نہ توڑوں۔ آپ یحییٰ برمكی كے سامنے اعتراف گناہ كر لیں اور صرف اتنا كهہ دیں كہ معافی چاهتا هوں، میں نے غلطی كی هے مجھے معاف كر دیجئے تو میں آپ كو آزاد كردوں گا۔ اس كے بعد میرے پاس تشریف لے آیئے اور میں آپ كی هر طرح كی خدمت كروں گا۔
اب اس استقامت كوہ گراں كی طرف دیكھئے۔ یہ شفیع روز جزاء كیوں هیں؟ یہ شهید كیوں هو جاتے هیں؟ یہ ایمان اور اپنے نظریہ كی پختگی كی وجہ سے شهید كیے گئے اگر یہ سب آئمہ اپنے موقف كو بدل دیتے اور حكام وقت كی ہاں میں ہاں ملاتے تو هر طرح كا آرام و سكون حاصل كر سكتے تھے۔ لیكن رات اور دن اور حق و باطل، روشنی اور تاریكی، سچ اور جھوٹ ایك جگہ پر جمع نهیں هوسكتے۔ بھلا امام وقت كسی حاكم وقت كے ساتھ كس طرح سمجھوتہ كر سكتا هے؟! آپ نے یحیٰ كو جو جواب دیا وہ یہ تھا كہ هارون سے كهہ دینا كہ میری زندگی كے دن ختم هو چكے هیں اس كے بعد تو جان اور تیرا كام جانے۔ هم نے جو كرنا تھا وہ كرچكے۔

امام موسی کاظم علیه السلام کی شهادت :

کئی سالوں کی اذیت اور آزار کے بعد هارون کے حکم سے امام کوانگور یا خرمے میں زہر ملا کر 25 رجب سن 183 ھ کو شہید کیا گیا،
امام موسی کاظم علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد سندی بن شاھک نے بغداد کے بزرگوں قاضیوں اور فقہا کو فریب کارانہ انداز میں بلا کر امام کا جسد مبارک دکھلا کر کہا کہ آپ مشاهدہ کر سکتے ہیں کہ امام پر کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوئی ہے بلکہ طبیعی طورپر آنحضرت کی موت واقع ہوئی ہے اور امام کے پیکر پاک کو بغداد کے پل پر رکھ کر آواز دیتا تھاکہ لوگو دیکھو یہ ہے موسی ابن جعفر،جو دنیا سے کوچ کر گیا ہے ــ

امام علی رضا علیہ السلام كفن و دفن اور نماز كے لئے مدینہ منورہ سے با اعجاز پہنچ گئے۔آپ نے اپنے والد ماجد كو سپرد خاك فرمایا۔
تدفین كے بعد امام علیہ السلام مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے ۔ جب مدینہ والوں كو آپ كی شہادت كی خبر ملی تو كہرام برپا ہو گیا ۔ نوحہ و ماتم اور تعزیت كا سلسلہ مدتوں جاری رہا۔

امام  موسی ابن جعفرعلیہما السلام کے حکمت آمیز اقوال:

- صالح افراد كے ساتھ اٹھنا بیٹھنا فلاح اور بہبود كی طرف دعوت دیتاہے۔علماءكا ادب كرنا عقل میں اضافہ كا سبب ہے۔
- جو شخص اپنے غیظ و غضب كو لوگوں سے روكے تو قیامت میں خدا اس كواپنے غضب سے محفوظ ركھے گا۔
- معرفت الٰہی كے بعد جو چیزیں انسان كو سب سے زیادہ خدا سے نزدیك كرتی ہیں وہ نماز ، والدین كے ساتھ اچھا برتاؤ، حسد نہ كرنا، خود پسندی سے پرہیز كرنا، فخر و مباہات سے اجتناب كرنا۔
- مخلوقات كا نصب العین اطاعت پروردگار ہے ۔ اطاعت كے بغیر نجات ممكن نہیں ۔ اطاعت علم كے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ۔ علم سیكھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ علم عقل كے ذریعہ حاصل كیا جاتا ہے ۔ علم تو بس عالم ربانی كے پاس ہے ۔عالم كی معرفت اس كی عقل كے ذریعہ سے ہے۔
- تمھارے نفس كی قیمت تو بس جنت ہے۔پس اپنے كو جنت كے علاوہ كسی اور چیز کے بدلے نہ فروخت كرو۔
- نعمت اس شخص كے پاس رہتی ہے جو میانہ روی اور قناعت كو اپناتاہے ۔اور جو شخص بے جا مصرف اوراسراف كرتا ہے تو اس سے نعمت دور ہوجاتی ہے۔
- امانت داری اور سچائی رزق مہیا كرتے ہیں ۔خیانت اور جھوٹ فقر اور نفاق پیدا كرتے ہیں ۔
- عاقل وہ ہے جسے رزق حلال شكر سے باز نہیں ركھتا اور نہ كبھی حرام اس كے صبر پر غالب آتا ہے ۔
- علی بن یقطین سے فرماتے ہیں: ظالم بادشاہ كی نوكری كرنے كا كفارہ یہ ہے كہ تم اپنے بھائیوں كے ساتھ احسان كرو۔
- جو شخص حمد و ثنائے پرور دگار اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود و سلام بھیجے بغیر دعا مانگتا ہے وہ بالكل اس شخص كے مانند ہے جو بغیر ہدف كے تیر چلائے۔
- غور فكر كرنا نصف راحت ہے اور لوگوں سے محبت كرنا نصف عقل ہے كیوں كہ لوگ تمھیں تمھارے عیوب سے آگاہ كریں گے ۔ اور یہی لوگ تمھارے حقیقی مخلص ہیں۔
- وہ شخص ہم سے نہیں ہے ( ہمارا دوست نہیں ہے ) جو اپنی دنیا كو دین كے لئے ترك كر دے یا اپنے دین كو دنیا كے خاطر ترك كردے ۔
-لیس منا من لم یحاسب نفسہ کل یوم “ جو شخص هر روز اپنے نفس کا محاسبہ نہ کرے وہ هم میں سے نهیں هے ۔

-” ایاک ان تمنع فی طاعت الله، فتنفق مثلیه فی معصیة اللہ “ اطاعت خدا میں مال خرچ کرنے سے پرهیز نہ کرو ، ورنہ دو برابر خدا کی معصیت میں خرچ هو جائے گا ۔
-” ان الزرع ینبت فی السهل و لا ینبت فی الصفا فکذالک الحکمة تعمر فی قلب المتواضع و لا تعمر فی قلب المتکبر الجبار !“ جس طریقے سے زراعت نرم زمین میں هوتی هے نہ کہ سخت زمین میں، اسی طرح سے علم و حکمت متواضع انسان کے دل میں پروان چڑھتے هیں نہ کہ متکبر و جبار کے ۔

- الموٴمن مثل کفتی المیزان کلما زید فی ایمانه زید فی بلائه “مومن ترازو کے دو پلڑوں کے مانند هے جتنا ایمان میں اضافہ هو گا اتنا بلا و مصیبت میں بھی اضافہ هو گا ۔

المصیبة للصابر واحدة و للجازع اثنتان  صبر کرنے والوں کے لئے ایک مصیبت هے لیکن جزع وفزع کرنے والوں کے لئے دو مصیبتیں هیں ۔

___________________


[1] -) اصول کافی، ج 1 ص 477.

[2] - اصول کافی، ج 1 ص 385، حدیث 1، باب موالید ائمه و المحاسن ص 314.

[3] -  129 هجری بھی نقل هوا هے کافی ج 1 ص 476، بحار الانوار ج 48 ص 2، ارشاد مفید ص 269، کشف الغمه ج 2، ص 212 و اعلام الوری ص 286، و 310،

[4] - مناقب ابن شهرآشوب، ج 2 ص 382، کشف الغمة، ج 2 ص 212، الارشاد مفید ص 270 و فصول المهمة، ص 214.

[5] - محاسن برقی، ج 2، ص 314.

[6] - اصول کافی، ج 1، ص 310.

[7] - ابو عباس أحمد بن محمد بن محمد بن علی إبن حجر الهیتمی؛ الصواعق المحرقة، ج2، ص590-593؛ تحقیق : عبدالرحمن بن عبدالله الترکی وکامل محمد الخراط ، مؤسسة الرسالة – بیروت، اول ، 1997م.

[8] - عبد الرحمن بن علی بن محمد أبو الفرج؛ صفة الصفوة؛ تحقیق : محمود فاخوری - د.محمد رواس قلعه جی، دار المعرفة – بیروت ، دوم ، 1399ق – 1979م.

[9] - ذهبی؛ میزان الاعتدال ، ج 4 ، ص 204؛ بیروت ، دار المعرفة ، { بی تا }.

[10] - احمد بن ابی یعقوب ؛ تاریخ الیعقوبی ، ج2 ، ص414 ، قم ، مؤسسه و نشر فرهنگ اهلبیت .

[11] - نقل از مسند الامام الکاظم ، ج1، ص 6 . عطاردی ، عزیز الله ، مسند الامام الکاظم ، اول ، مشهد ، 1409ق .

[12] - عبد الرحمن بن علی بن محمد أبو الفرج؛ صفة الصفوة؛ تحقیق : محمود فاخوری - د.محمد رواس قلعه جی، دار المعرفة – بیروت ، دوم ، 1399ق – 1979م * عبد الرحمن بن علی بن محمد أبو الفرج؛ صفة الصفوة؛ تحقیق : محمود فاخوری - د.محمد رواس قلعه جی، دار المعرفة – بیروت ، دوم ، 1399ق – 1979م* مجلسی ، محمد باقر؛ زندگانى حضرت امام موسى کاظم علیه السلام( ترجمه جلد یازدهم بحار الانوار) ، ص72؛ ترجمه: موسی خسروی، اسلامیه ، تهران، دوم، 1377ش.

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

حسنین علی:امام موسئ کاظم
2019-06-23 19:50:08

مجھے امام علی کی فضائل  کی کتاب سینڈ کریں

--

اسی سائٹ پر رسول اکرم واہل بیت ع لائبریری میں حضرت امیرالمومنین سکشن میں کتابیں موجود ہیں 

الحسنین نیٹ ورک ایڈمن

*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک