امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک

امام حسن کے 40 خطبات

1 ووٹ دیں 01.0 / 5

امام حسن کے 40 خطبات

۱۔ لوگوں کو جنگِ جمل کی ترغیب دلانے کے متعلق آنحضرت کا خطبہ

تعریف صرف اُس خدا کیلئے ہے جو قہر و غضب والا ہے۔ اس کا کوئی ثانی نہیں ہے، ہمیشہ مسلط رہنے والا ہے۔ بڑا اور بلند ہے۔ اس کیلئے برابر ہے کہ آرام سے بات کرویا بلند آواز سے۔ وہ جو رات کی تاریکی میں پوشیدہ ہے، اور دن کے اجالے میں چلتا ہے، اس کی تعریف کرتاہوں۔اچھے امتحان پر، اور یکے بعد دیگرے نعمتوں پر، اور اس پر جسے میں سختی اور آرام میں سے اچھا جانتا ہوں یا برا، میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ خدا نے اس کی نبوت کے ذریعے ہم پر احسان کیا ہے، اور اسے اپنی پیغمبری کے ساتھ خاص فرمایا اور اپنی وحی کو اس پر نازل فرمایا، اور اس کو تمام چیزوں پر افضل بنایا۔ اس کو جنوں اور انسانوں کی طرف اس وقت بھیجا جب بتوں کی پوجا ہورہی تھی اور شیطان خدا کی اطاعت سے انکار کر چکے تھے۔ خدا کا درود ان پر اور ان کی آل پر ہو، اور انبیاء کی جزاء سے بہترین جزاء ان کو عطا فرمائے۔

اما بعد! میں اس کے علاوہ جو تم لوگ جانتے ہو، کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ مجھے امیرالمومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام ، جن کی خدا نے ہدایت اور مدد فرمائی ہے،نے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ وہ تمہیں اچھے راستے کی طرف کتاب کے ساتھ عمل اور راہِ خدا میں جہاد کرنے کی طرف بلاتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک اسے ناپسند کرتے ہو، لیکن اگر خدانے چاہا تو بعد میں اسے پسند کروگے اور عنقریب تمہارا محبوب ہوگا، اور تم جانتے ہو کہ علی نے اکیلے نماز پڑھی ہے، اور اس دن رسولِ خدا کی تصدیق کی ہے جب وہ ابھی دس سال کے تھے، اور تمام جنگوں میں ان کے ساتھ شریک رہے۔ خدا کی خوشنودی اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور اسلام کی خوبیوں کو حاصل کرنے میں اس کی کوششوں کو تم جانتے ہو، اور ہمیشہ خدا کا رسول اس سے راضی تھا۔ یہاں تک کہ ان کی آنکھوں کو اپنے ہاتھوں کے ساتھ بند کیا اور اکیلے ان کو غسل دیا، جبکہ فرشتے ان کی مدد کررہے تھے، اور ان کے چچا کا بیٹا فضل پانی لارہا تھا، اور پھر خود ان کو قبر میں داخل کیا، اور پیغمبر خدا نے قرض کو اداکرنے، وعدہ پورا کرنے اور دوسرے معاملات میں جن میں خدا نے ان پر احسان کیاتھا، اس کو وصیت کی ۔ خدا کی قسم! اس وقت تو لوگوں کو نہیں بلایا تھا اپنی طرف بلکہ لوگ خود اس کی طرف ،اس کے اونٹ کی طرف لوٹ آئے تھے۔ جو پانی کے پاس آتے وقت غصے کی حالت میں جلدی آتا ہے۔ انہوں نے اپنی مرضی کے ساتھ اور آزادی کے وقت ان کی بیعت کی تھی۔ اس کے بعد ایک گروہ نے اپنے وعدے کو توڑ دیا جبکہ اس نے کوئی بدعت ایجاد نہ کی تھی، اور خلافِ شرع کوئی کام نہیں کیا تھا بلکہ صرف اس کے ساتھ حسد کی وجہ سے اور اس پر زیادتی کرنے کی خاطر۔

پس اے خدا کے بندو! تم پر واجب و ضروری ہے کہ خدا سے ڈرو اور کوشش اور صبر میں خدا سے مددلو، اور اس طرف جاؤ جدھر امیرالمومنین علیہ السلام تمہیں بلا رہے ہوں۔ خدا اس چیز کے ساتھ ہماری اور تمہاری حفاظت فرمائے جس کے ساتھ اپنے اولیاء کی حفاظت کی تھی، اور ہمیں اور تمہیں اپنے تقویٰ کا انعام کرے، اور ہمیں اور تمہیں اپنے دشمنوں کے ساتھ جہاد میں مدد فرمائے۔ اپنے اور تمہارے لئے خدا سے بخشش طلب کرتاہوں۔(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۴ ، ص ۲۹۸) ۔

۲ ۔ آنحضرت کا جنگِ جمل کیطرف اہل کوفہ کو ترغیب دینے کیلئے خطبہ

روایت میں ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام اور اپنے اصحاب میں سے کچھ دوسرے لوگوں کو خط دے کر کوفہ کی طرف مدد طلب کرنے کیلئے بھیجا۔ جب امام حسن علیہ السلام عمار کے ساتھ کوفہ میں داخل ہوئے تو لوگ ان کے اردگرد جمع ہوگئے۔امام علیہ السلام ان کے درمیان آئے اور خدا کی حمدو ثناء کے بعد فرمایا:"اے لوگو! ہم آئے ہیں تاکہ تمہیں بلائیں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے پیغمبر کی سنت کی طرف، اور مسلمانوں کی فقیہ ترین شخصیت کی طرف جس کو تم عادل کہتے ہو اور ان میں سے عادل ترین کی طرف اور افضل ترین ان میں سے جن کو تم افضل کہتے ہو اور جن کی تم بیعت کرتے ہو، ان میں سے باوفا ترین کی طرف۔ وہ شخص جس کو قرآن کا سمجھنا عاجز نہیں کرتا اور سنت سے اس پر کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے، اور اس سے کوئی آگے بڑھ نہیں سکتا۔ اس کی طرف بلائیں جس کو خدا نے دوجہت سے اپنے پیغمبر کے نزدیک کیا ہے! دین کے لحاظ سے ، رشتہ داری کے لحاظ سے۔ وہ ایسا شخص ہے جس کے ذریعے خدا نے اپنے پیغمبر کا خیال رکھا جبکہ لوگ اسے رسوا اور ذلیل کرنے کیلئے تلے ہوئے تھے۔ وہ پیغمبر کے قریب ہوا جب لوگ دور تھے، اور اُس نے اُن کے ساتھ نماز پڑھی جب لوگ مشرک تھے۔ پیغمبر کے ساتھ مل کر جنگ کی جب لوگ بھاگ رہے تھے۔ ان کے ساتھ مل کر دشمنوں کا مقابلہ کیا جب لوگ مقابلے سے نظر چُرا رہے تھے۔ اس نے پیغمبر کی تصدیق کی جب لوگ اسے جھٹلا رہے تھے۔ اس کی طرف بلانے آئے ہیں جس نے پرچم کو واپس نہیں پلٹایا اور اس سے کسی نے سبقت نہیں لی۔

وہ تمہیں مدد کیلئے بلا رہا ہے، اور حق کی طرف دعوت دے رہا ہے، اور تم سے چاہتا ہے کہ خدا کی طرف جاؤ تاکہ تم اس کی ان لوگوں کے مقابلے میں مددکرسکو جنہوں نے اس کی بیعت کو توڑدیا، اور ا سکے نیک اصحاب کو قتل کردیا، اور اس کے کارندوں کو ایک طرف کردیا ، اور بیت المال کو لوٹ لیا۔ پس تم اس کی طرف جاؤ ، خدا تمہاری مدد کرے اور تم پر رحمت کرے۔پس نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، اور خدا کی بارگاہ میں نیک بندوں کی طرح حاضر ہوجاؤ۔(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۲ ، ص ۲۹۲) ۔

۳۔ آنحضرت کا خطبہ جمل میں لوگوں کو جنگ کی ترغیب دلانے کی خاطر

اے لوگو!اپنے امیر کی دعوت کو سنو، اور اپنے بھائیوں کی طرف جاؤ، اور بہت جلد حکومت اس کے ہاتھ میں ہوگی، جس کی طرف تم کوچ کرکے جاؤ گے۔ خدا کی قسم! اگر حکومت دانا اور عقلمند لوگوں کے ہاتھ آجائے تو یہ اس دنیا میں بہتر اور آخرت میں اچھا ہوگا۔ پس ہماری دعوت کو قبول کرو اور ہماری مدد کرو، اس چیز میں جس کے ساتھ ہم اور تم مبتلا ہوئے ہو۔(طبری، ایڈیشن ۲ ، ص ۲۷) ۔

۴۔ اہل کوفہ کو جنگِ جمل کی طرف ترغیب کی خاطر آنحضرت کا خطبہ

اے لوگو! امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں اس راہ کی خاطر بطور ظالم یا بطور مظلوم نکل پڑا ہوں، اور میں خداکو اس شخص کی خاطر یاد کرتا ہوں جو صرف خدا کی خاطر اپنے حق کا قائل ہے، ورنہ وہ چلاجائے۔ اگر میں مظلوم ہوں تومیری مدد کرے۔ اگر میں ظالم ہوں تو میرا حق مجھ سے لے لے۔ خدا کی قسم! طلحہ اور زبیر وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے میری بیعت کی، اور یہی لوگ سب سے پہلے میرے ساتھ دھوکہ کرنے والے ہیں۔ آیا کوئی مال میں نے اٹھا لیا ہے یا کسی حکم کو تبدیل کردیا ہے۔ پس نکلو اور اچھے کام کا حکم اور بُرے کام سے منع کرو۔(طبری، ایڈیشن ۲ ، ص ۳۶) ۔

۵۔ آنحضرت کا خطبہ اہل کوفہ کو جنگِ جمل کی ترغیب دلانے کیلئے

اے لوگو! امیرالمومنین علیہ السلام نے ہر مقام پر پہلے تمہاری مدد کی۔ اب ہم آئے ہیں کہ تمہیں ان کی خاطر بلائیں کیونکہ تم شہروں کے پیشوا اور عربوں کے رئیس ہو۔ تمہیں طلحہ ، زبیر اور عائشہ کے ساتھ مل کر خرو ج اور بیعت کو توڑنے کی اطلاع مل چکی ہے۔ یہ عورتوں کی کمزوری اور عقیدہ کی کمزوری کی وجہ سے ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرد عورتوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔ خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر کوئی بھی اس کی مدد کیلئے نہ آئے تو مہاجرین اور انصار جو اس کی مدد کیلئے آئیں گے، اور خدا پاک انسانوں میں سے جو اس کی مدد کیلئے بھیجے گا، وہ اس کیلئے کافی ہیں۔ خدا کی مددکرو تاکہ وہ تمہاری مدد کرے۔(امالی، شیخ طوسی، ج ۲ ، ص ۸۷) ۔

۶۔ اپنے والد بزرگوار کی مدد کی ترغیب دلانے کی خاطر آنحضرت کا خطبہ

جب حضرت علی علیہ السلام کو اطلاع ملکی کہ ابوموسیٰ اشعری نے لوگوں کو امام کی مدد کرنے سے روکاتو آپ نے امام حسن علیہ السلام ،مالک اشتر اور عمارِیاسر کو ان کی طرف بھیجا۔ جب یہ حضرات مسجد میں داخل ہوئے تو امام حسن علیہ السلام منبر پر گئے اور اس طرح فرمایا:

"اے لوگو! بے شک علی علیہ السلام ہدایت کا دروازہ ہے، جو بھی اس میں داخل ہوا، وہ ہدایت پاگیا، اور جس نے بھی مخالفت کی، وہ ہلاک ہوگیا۔(الجمل شیخ مفید، ص ۲۵۳) ۔

۷۔ اپنے والد گرامی کی مدد کی ترغیب کیلئے آنحضرت کا خطبہ

روایت ہے کہ جب امیرالمومنین علیہ السلام مدینہ سے کوفہ کے شہر کے نزدیک پہنچے تو آپ نے امام حسن علیہ السلام کو عماراور ابن عباس کے ساتھ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے بھیجا۔ جب یہ حضرات مسجد میں داخل ہوئے تو امام حسن علیہ السلام منبر پر گئے اور خدا کی حمد وثناء کی،اس کے بعد نانا کا نام لیا اور ان پر درود بھیجا، اور اپنے والد کی فضیلت ، اسلام پر ان کی سبقت اور پیغمبر اسلام کے ساتھ ان کی رشتہ داری کو یاد دلایا، اور یہ بھی یاددلایا کہ وہ خلافت کیلئے سب سے زیادہ مستحق اور موزوں ہیں۔ اس کے بعد فرمایا:اے لوگو! طلحہ اور زبیر نے آزادی کے ساتھ اور بغیر کسی مجبوری کے بیعت کی تھی۔ پھر وہ چلے گئے اور بیعت کو توڑ دیا۔ خوشخبری ہے ان لوگوں کیلئے جو بلند پرواز ہوکر ان لوگوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے ، جو امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ جنگ کر رہے تھے،جہاد کرتے ہیں، ان کے ساتھ مل کر جہاد کرنا ایسے ہے جیسے پیغمبر اسلام کے ساتھ مل کر جہاد کیا جائے۔(الجمل، شیخ مفید، ص ۲۶۴) ۔

۸۔ آنحضرت کا خطبہ لوگوں کو اپنے والد کی مدد کی طرف ترغیب دلانے کیلئے

جب عبداللہ بن زبیر کی گفتگو(جو اس نے عثمان کے قتل کی نسبت امام کی طرف دینے کے بارے میں کی تھی)حضرت علی علیہ السلام تک پہنچی تو حضرت امام حسن علیہ السلام سے فرمایا کہ اے بیٹے! اٹھو اور خطبہ پڑھو۔امام نے خدا کی حمدوثناء کے بعد فرمایا: اے لوگو! عبداللہ بن زبیر کی گفتگو تم تک پہنچ چکی ہے۔ خدا کی قسم! جب عثمان سے تمام رعایاتنگ ہوچکی تھی تو عبداللہ بن زبیر کا باپ بلاوجہ اس کی طرف گناہوں کی نسبت دے رہا تھا۔ یہاں تک کہ عثمان قتل ہوگیا جبکہ طلحہ عثمان کے زمانے میں اس کے پرچم کو اس کے بیت المال میں رکھے ہوئے تھا۔رہی بات یہ کہ وہ کہتا ہے کہ علی علیہ السلام نے لوگوں کے امورِ زندگی کو بکھیر کے رکھ دیا ہے تو یہ معاملہ اس کے باپ پراس سے بڑھ کر ثابت ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ ہاتھ کے ساتھ بیعت کی ہے، دل کے ساتھ بیعت نہیں کی، حالانکہ اپنی بیعت کا اس نے اقرار کیا ہے اور دوستی کا دعویٰ کیا ہے۔ اپنی بات کیلئے دلیل لائے۔ وہ اس کام پر قدرت نہیں رکھتا۔ رہی بات اس کے تعجب کی کہ اہل کوفہ اہل بصرہ پر غالب آجائیں گے، تو اس میں کون سی تعجب کی بات ہے۔ اہلِ حق اہلِ باطل پر غلبہ حاصل کر لیں گے۔ خدا کی قسم! حساب کا دن وہ ہے جب ہم خدا کے دربار میں ان کو فیصلہ کیلئے لے کر آئیں گے اور خدا حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔(الجمل، شیخ مفید، ص ۳۲۸) ۔

۹۔ آنحضرت کا اہلبےت کی فضیلت میں خطبہ

روایت ہے کہ جب امام علی علیہ السلام جنگ جمل سے فارغ ہوئے تو بیمار ہوگئے۔ جمعہ کے دن نمازِ جمعہ بجالانے کا وقت آگیا۔اس لئے امام علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام حسن سے فرمایا کہ بیٹے !لوگوں کے ساتھ نمازِ جمعہ بجالاؤ۔ امام حسن علیہ السلام مسجد میں گئے، منبر پر خدا کی حمدوثناء کی اور گواہی دی اور رسولِ خداپر درود بھیجا اور فرمایا: اے لوگو! خدا نے ہمیں اپنے لئے چنا ہے، اور اپنے دین کیلئے ہمارے ساتھ راضی ہوا ہے، اور اپنی تمام مخلوق پر ہمیں برتری بخشی ہے۔ کتاب اور اپنی وحی ہم پر نازل فرمائی ہے۔ خدا کی قسم! کوئی شخص بھی ہمارے حق میں سے کوئی چیز کم نہ کرے گا۔مگر یہ کہ خدا اس کے حق کو اس دنیا میں اور آخرت میں کم کردے گا، اور کوئی حکومت بھی ہم پر حکمرانی نہیں کرے گی مگر یہ کہ آخرکار ہمارے فائدہ میں ہوگی، اور عنقریب تمہیں اس کمی کی خبر ہوجائے گی۔ اس کے بعد نمازِ جمعہ پڑھی۔ ان کی گفتگو ان کے والد بزرگوار کے کانوں تک پہنچی۔ جب نماز سے واپس آئے اور والد کی نگاہ ان پر پڑی تو اپنے اوپر قابو نہ پاسکے۔ آنکھیں آنسوؤں سے پُر ہوگئیں۔ انہوں نے اپنے سینے سے لگایا اور آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوجائیں اور ایسی اولاد کہ جن میں سے بعض دوسرے سے بعض ہیں۔ خدا سننے اور جاننے والا ہے۔(امالی، شیخ طوسی، ج ۳ ، حدیث ۳۰) ۔

۱۰۔ جنگ صفین میں لوگوں کو جنگ کی ترغیب دینے کیلئے آنحضرت کا خطبہ

تعریف صرف اُس خدا کیلئے ہے جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کی اس طرح تعریف کرتا ہوں جیسے وہ تعریف کا حقدار ہے۔ یہ کہ اس نے اپنے حق سے تم پر عظمت حاصل کی ہے، اور اپنی نعمتوں کو تم پر پھیلایا ہے، یہ کہ اس کے ذکر کوشمار نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کاشکر ادا کیا جاسکتا ہے اور نہ کوئی صفت اور نہ کوئی بات اس تک پہنچ سکتی ہے، اور ہم راہِ خدا میں تمہارے لئے غضبناک ہوئے کیونکہ خدا نے ہم پر اس طرح احسان فرمایا جس کا وہ اہل تھا تاکہ اس کی نعمتوں، عطیات اور ہدیوں کا شکر ادا کیا جاسکے۔

ایسی بات کہ جس میں رضاو خوشنودی خدا کی طرف بلند ہوتی ہے، اور جس میں سچائی اور صداقت روشن ہوتی ہے تاکہ ہماری بات کی تصدیق ہوسکے، اور اپنے رب کی طرف سے مزید توفیقات کے حق دار ہوسکیں۔ ایسی بات کہ جو طولانی ہو اورکبھی ختم نہ ہو، ہر ایسا اجتماع جو شیِ واحد پر ہو، اس کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے، اور ان کے وعدے محکم ہوتے ہیں۔ پس معاویہ اور ان کے سپاہیوں کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے تیار ہوجاؤ۔ جو تمہاری طرف آئے ہیں، رسوائی کی طرف نہ جانا کیونکہ رسوائی دل کی رگوں کو کاٹ دیتی ہے، اور جنگ کی طرف بڑھنا بلندی اور شکست و ذلت سے دوری کا سبب بنتا ہے کیونکہ جس قوم نے بھی ذلت و رسوائی سے دوری اختیار کی تو خدا نے تکالیف اور ناکامیاں ان سے دور کردیں، اور ذلت و رسوائی کو ان سے دور کردیتا ہے، اور ان کو حقیقت اور حق کی طرف رہنمائی فرماتاہے۔ اس کے بعد اس شعر کو پڑھا:

صلح سے تم جو چاہتے ہو حاصل کرسکتے ہو لیکن جنگ کے سانسوں میں سے ایک گھونٹ بھی تیرے لئے کافی ہے۔(صفین، منقری، ص ۱۱۴) ۔

۱۱۔ ابوموسیٰ کے فیصلے کے بعد آنحضرت کا صفین میں خطبہ

اے لوگو! تم نے عبداللہ بن قیس اور عمروبن عاص کے انتخاب کے بارے میں بڑی باتیں کیں۔ یہ دو اشخاص اس لئے منتخب ہوئے تھے تاکہ کتاب کے مطابق فیصلہ کریں۔ لیکن انہوں نے اپنی خواہشات کو قرآن پر فوقیت دی، اور جو بھی ایسا کرے وہ حکم نہیں کہلا سکتا بلکہ اسے محکوم علیہ ہونا چاہئے ( یعنی وہ فیصلہ کرنے کے لائق نہیں بلکہ اس کے خلاف فیصلہ ہونا چاہئے)۔ عبداللہ بن قیس نے عبداللہ بن عمر کی خلافت کے معاملہ میں انتخاب میں غلطی کی اور تین چیزوں میں اس نے اشتباہ کیا۔ یہ کہ عبداللہ کے باپ عمر نے اسے خلافت کیلئے مناسب نہ جانا اور معین نہ کیا اور خلیفہ نہ بنایا، اور اس لئے عمر نے عبداللہ کو کسی گورنری پر مقرر نہ کیا، اور اس میں بھی کہ مہاجرین اور انصار عبداللہ بن عمر کیلئے کسی خصوصیت کے قائل نہ تھے، اور جو لوگ فیصلے کیا کرتے تھے وہ اسے کوئی کام سپرد نہ کرتے تھے، اور سوائے اس کے نہیں کہ حکومت تو خدا کی طرف سے واجب ہے۔(یہ کسی آدمی کا کام تو نہیں ہے کہ جس کو چاہے مقرر کرے)۔ پیغمبر اسلام نے سعد بن معاذ کو بنی قریظہ کے معاملے میں حاکم (فیصلہ کرنے والا) مقرر کیا اور اس نے خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا اور پیغمبر اسلام نے اس کے فیصلے کو نافذ فرمایا، اور اگر وہ خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرتا تو پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسے لاگو نہ کرتے۔(بحار، ج ۳۳ ، ص ۳۹۳) ۔

۱۲۔ آنحضرت کا خطبہ خدا کی تعریف اور اپنے والد کی شان میں

روایت ہے کہ امام علی علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام سے فرمایا کہ اے بیٹے! اٹھو اور خطبہ پڑھو تاکہ تمہاری آواز سنوں۔ آنحضرت اٹھے اور اس طرح گفتگو فرمائی:

تمام تعریفیں اس خدا کیلئے ہیں جو ایک ہے بغیر تشبیہ کے، اور جو ہمیشہ ہے بنے بغیر، جو مضبوط ہے سختی کے بغیر، جو بغیر رنج و تکلیف کے پید اکرنے والا ہے۔ اس کا وصف بیان ہوا ہے بغیر اس کے کہ اس کی کوئی انتہا ہو۔ وہ پہچانا ہوا ہے حد بندی کے بغیر۔ وہ غالب ہے اور یہ چیزیں اس کے ساتھ ازل سے ہیں۔ دل اس کی ہیبت سے پریشان ہیں۔ عقلیں اس کی عزت سے حیران ہیں، اور گردنیں اس کی قدرت سے جھکی ہوئی ہیں۔ اس کی قدرت کی انتہا بشری ذہن میں نہیں آسکتی، اور اس کی عظمت کی حقیقت کو لوگ پا نہیں سکتے۔وصف بیان کرنے والے اس کی عظمت کی انتہا کو بیان کرنے سے عاجزہیں۔ صاحبانِ علم کا علم اس تک پہنچ ہی نہیں سکتا، اور فکر کرنے والوں کی فکریں اس کی تدبیروں میں راستہ تلاش نہیں کر سکتیں۔ زیادہ علم رکھنے والا شخص وہ ہے جو اس کے وصف بیان کرتے وقت انتہائے وصف بیان نہ کرے۔ وہ ہرچیز دیکھتا ہے لیکن آنکھیں اسے نہیں پاسکتیں۔ وہ جاننے والا ہے اور باخبر ہے۔

اما بعد! علی علیہ السلام ایسا دروازہ بنے کہ جو بھی اس میں داخل ہو گیا وہ مومن ہے، اور جو بھی اس سے خارج ہوگیا، وہ کافر ہے۔ میں یہ بات کرتاہوں اور عظیم خدا سے تمہاری بخشش طلب کرتا ہوں۔(تفسیر فرات بن ابراہیم، ص ۱۷) ۔

۱۳۔ آنحضرت کا خطبہ خدا کی تعریف اور اپنے والد گرامی کی شان میں

روایت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام سے فرمایا کہ اٹھو اور خطبہ پڑھو تاکہ میں تمہاری آواز سنوں۔ آنحضرت اٹھے اور فرمایا:

تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔ ایسا خدا جو ہر کہنے والے کی سنتا ہے اور چپ رہنے والے کے دل میں ہرچیز سے واقف ہے۔جو بھی زندہ ہے ،اس کو رزق دینا اسی کا کام ہے۔ ہر مرنے والے کا لوٹنا اسی کی طرف ہے۔

اما بعد! قبریں ہمارا ٹھکانا اور قیامت ہمارے وعد ہ کی جگہ ہیں ، اور خدا ہمارا محاسبہ کرنے والا ہے۔ علی علیہ السلام ایسا دروازہ ہیں کہ جو اس میں داخل ہوگیا وہ مومن اور جو اس سے خارج ہوگیا، وہ کافر ہے۔(کشف الغمہ، اردبیلی، ج ۱ ،ص ۵۷۲) ۔

۱۴۔ آنحضرت کا خطبہ اہلبےت کی فضیلت میں

روایت ہے کہ کوفہ کے لوگوں میں سے ایک گروہ نے امام حسن علیہ السلام کے بارے

میں بُرابھلا کہا،اور طعنہ دیا کہ وہ قدرت نہیں رکھتے گفتگو کرنے میں۔ یہ بات امیرالمومنین علیہ السلام تک پہنچی۔ امام حسن علیہ السلام کو بلایا اور فرمایا کہ اے پیغمبر خدا کے بیٹے! کوفہ کے لوگ تیرے بارے میں ایسی باتیں کررہے ہیں جو مجھے بُری لگی ہیں۔ لوگوں کو اپنے متعلق بتاؤ۔ امام حسن علیہ السلام نے عرض کی کہ جب آپ میرے سامنے ہوتے ہیں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔آپ نے فرمایا کہ میں ایک طرف چلاجاتا ہوں۔ اعلان کرکے لوگوں کو جمع کیا گیا۔ امام علیہ السلام منبر پر گئے اور ایک چھوٹا سامگر فصیح اور بلیغ خطبہ دیا۔ یہاں تک کہ لوگ رونے لگے۔ تب امام نے فرمایا :اے لوگو! خداکے ا س قول میں غوروفکر کرو جس میں فرمایا ہے کہ خدا نے آدم، نوح اور خاندانِ ابراہیم علیہ السلام اور خاندانِ عمران کو ان تمام کائنات والوں میں سے چن لیا ہے کہ بعض ان میں سے دوسرے کی اولاد ہیں، اور خداسننے والا اور جاننے والا ہے۔ پس ہم آدم کی اولاد ، نوح کے خاندان سے، ابراہیم کی چنی ہوئی اولاد سے، نسلِ اسماعیل اور محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل سے ہیں۔پس ہم تمہارے درمیان بلند آسمان ، بچھی ہوئی زمین، چمکتا ہوا سورج اور زیتون کے درخت کی مثل ہیں کہ جو مشرق کی طرف مائل تھا اور نہ ہی مغرب کی طرف اور اس کے زیتون کو برکت دی گئی ہے۔

پیغمبر اس درخت کی جڑ اور علی اس کا تنا ہیں، اور خدا کی قسم! ہم اس درخت کا پھل ہیں۔ پس جو بھی اس درخت کی شاخ کو پکڑے، وہ نجات پاجائیگا، اور جو بھی اس سے پیچھے رہ گیا، وہ آگ میں گر جائے گا۔۔ اس وقت حضرت علی علیہ السلام مجمع کے آخر سے اٹھے ، اس حال میں کہ ان کی چادر نیچے سے پیچھے لگ رہی تھی۔یہاں تک کہ منبر پر امام حسن علیہ السلام کے پاس آگئے ۔ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا:اے پیغمبر کے بیٹے! تو نے لوگوں پر اپنی حجت تمام کو ثابت کردیا ہے اور اپنی اطاعت کو واجب کردیا ہے۔ پس ہلاکت ہے اس کیلئے جو تیری مخالفت کرے۔(عددالقویہ، ص ۳۸) ۔

۱۵۔ والد بزرگوار کی شہادت کے بعد فضیلت اہل بیت کے متعلق آنحضرت کا خطبہ

روایت ہے کہ جب امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو امام حسن علیہ السلام منبر پر گئے اور کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن گریہ ان پر تاری ہوگیا۔ تھوڑی دیر کیلئے بیٹھے اور پھر اٹھے،پھر فرمایا:تمام تعریفیں اس خداوحدہ لاشریک کیلئے ہیں جو اپنی ابتداء میں ایک تھا اور ازل سے خدائی کے ساتھ عظمت والا ہے۔ وہ بلندی اور طاقت کے ساتھ افضل ہے۔ شروع کیا اس کو جس کو اس نے ایجاد کیا اور ظاہر کیا جس کو اس نے پیدا کیا، اس حال میں کہ اس سے پہلے اس کی مثال موجود نہ تھی۔

مہربان خدا نے اپنے خدائی لطف کے ساتھ اور اپنے کثیر علم کے ذریعے موجودات کوظاہر کیا اور اپنی قدرت کے احکام کے ذریعے مخلوقات کو پیدا کیا۔ پس اسی وجہ سے کسی کو حق نہیں ہے کہ اس کی خلقت میں تبدیلی کرسکے، اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں میں ردوبدل کرسکے، اور کوئی اس کے سامنے مواخذہ کا حق نہیں رکھتا۔اس کے حکم کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے، اور اس کے بلائے ہوئے کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ تمام موجودات کو پیدا کیا جبکہ اس کی حکومت کو زوال نہ تھا، اور اس کی مدت ختم ہونے والی نہ تھی۔ ہرچیز کے اوپر ہے اور ہرچیز کے قریب ہے۔ ہرچیز کیلئے دیکھے بغیر ظاہر ہے اور وہ بلند و بالا مقام میں اپنے نور کے ساتھ پوشیدہ ہے اور اپنی بلندی میں اونچا ہے۔اسی وجہ سے اپنی مخلوق سے خفیہ ہے۔ اسی لئے ان کی طرف گواہی دینے والے کو بھیجا اور پیغمبروں کو بھیجا اور خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے ہیں تاکہ جو ہلاک ہو اور جو ہدایت پائے، وہ دلیل اور حجت کے ساتھ ہوتاکہ لوگ ایسے خدا کے متعلق ، جس چیز میں جاہل ہیں، اس کو جان لیں، اور انکار کے بعد ان کو پہچان لیں۔ تمام تعریفیں فقط اس خدا کیلئے ہیں جس نے خلافت کو ہمارے لئے اچھا جانااور ہم اپنے بہترین باپ پیغمبر خدا کی مصیبت کو حساب میں لاتے ہیں، اور بیان کرتے ہیں اور امیرالمومنین علیہ السلام کی مصیبت کو خدا کے نزدیک بیان کرتے ہیں۔ مشرق و مغرب ان کی شہادت کی مصیبت میں گرفتار ہے۔

خدا کی قسم! چار سو درہم کے علاوہ جس کے ذریعے وہ اپنے اہلِ خانہ کیلئے ایک کنیز خریدنا چاہتے تھے، کوئی درہم و دینار پیچھے چھوڑ کر نہیں گئے۔

میرے دوست اور میرے نانا نے مجھے خبر دی تھی کہ خلافت اس کے خاندان کے افضل ترین بارہ اماموں کو ملے گے۔ ہم تمام کے تمام یا تو قتل کئے جائیں گے یا زہر دی جائے گی۔

ا س کے بعد آنحضرت منبر سے نیچے آئے اور ابن ملجم کو بلوایا۔لوگ اسے حضرت کے پاس لائے۔ اس نے کہا :اے رسولِ خدا کے بیٹے! مجھے چھوڑ دو۔ تمہارے کام آؤں گا اور تمہارے دشمن کے بارے میں تمہاری شام میں مدد کروں گا۔امام علیہ السلام نے اس پر تلوار ماری ۔ اس نے اپنا ہاتھ آگے کرلیا۔ اس کی انگلیاں کٹ گئیں۔ دوسری ضرب اس پر ماری اور اسے قتل کردیا۔خدا کی لعنت ہو اس ملعون پر۔(کفایت الاثر، ص ۱۶۰) ۔

۱۶۔ اپنی اولاد اور اپنے والد بزرگوار کی شان میں آنحضرت کا خطبہ

روایت ہے کہ آنحضرت اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد مسلمانوں کے درمیان آئے اور اپنے والد گرامی کو یاد کیا اور فرمایا: وہ خدا کے اوصیاء میں سے آخری وصی اور آخری پیغمبر خدا کے وصی اور نیک لوگوں، شہداء اور سچے لوگوں کے امیر تھے، پھر فرمایا:

اے لوگو! کل رات تم میں سے وہ شخص گیا ہے جس سے نہ تو پہلے والوں نے سبقت لی ہے اور نہ ہی بعد والے اسے پاسکے۔ پیغمبر ہمیشہ پرچمِ جہاد اس کو دیا کرتے تھے۔جبرائیل اس کے دائیں طرف اور میکائیل اس کے بائیں طرف جنگ کیا کرتے تھے، اور کامیابی کے علاوہ واپس نہیں لوٹتے تھے، اور خدا اس کے ہاتھ پر مسلمانوں کو کامیابی عطا فرماتا تھا۔اس نے شہادت کے وقت سونے اور چاندی میں سے کوئی چیز پیچھے نہیں چھوڑی۔ سوائے اس چیز کے جو اس کے بچوں میں سے ایک کے پاس تھی اور بیت المال میں کوئی چیز نہ چھوڑی، سوائے سات سو درہم کے۔ ان کے عطیات میں سے جس کے ذریعے وہ اپنی بیٹی اُمِ کلثوم کیلئے کنیز خریدنا چاہتے تھے۔ اے لوگو! جو مجھے جانتا ہے، وہ تو جانتا ہے ،جو نہیں جانتا، وہ جان لے کہ میں علی علیہ السلام کا بیٹا حسن ہوں۔

پھر اس آیت کو پڑھا جو حضرت یوسف علیہ السلام کے قول کی حکایت ہے۔ اپنے آباء و اجداد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی ہے۔ میں بشارت دینے والے، میں ڈرانے والے اور خدا کی طرف بلانے والے کا بیٹا ہوں ۔ میں اس کا بیٹا ہوں جو روشن چراغ ہے اور اس کا بیٹا ہوں جس کو خدا نے سب جہانوں کیلئے رحمت بنا کربھیجا ہے۔ میں اس اہل بیت سے ہوں جس کو خدا نے رجس سے دور رکھا ہے،اور پاک و پاکیزہ کردیا۔ میں اس خاندان سے ہوں کہ جبرائیل جن کے گھر نازل ہوتا تھا، اور ان کے گھر سے آسمان کی طرف جاتا تھا۔ میں اس خاندان سے ہوں کہ جس کی دوستی اور ولایت کو خدا نے واجب کیا ہے، اور جو پیغمبرپر نازل کیا ہے۔ اس میں فرمایا ہے(ان سے کہہ دو کہ میں رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اپنے قریبیوں سے محبت کے۔ اور جوکوئی بھی نیک کام انجام دے تو ہم اس کا بدلہ زیادہ کرکے دیں گے)۔ اور نیکی کرنا ہم اہل بیت کی دوستی ہے۔

ایک روایت میں اس طرح آیا ہے:

اے لوگو! اس رات قرآن نازل ہوا ہے اور اس رات عیسیٰ بن مریم آسمان پر گئے۔ اس رات یوشع بن نون شہید ہوئے ، اور اس رات میرے والد امیرالمومنین علیہ السلام نے رحلت فرمائی۔ خدا کی قسم! خدا کے وصیّوں میں سے کوئی بھی ان سے پہلے جنت میں نہ جائے گا، اور ان کے بعد کوئی بھی ان جیسا نہ ہوگا۔

اگر پیغمبران کو کسی جنگ کیلئے بھیجتے تھے تو جبرائیل ان کے دائیں اور میکائیل ان کے بائیں طرف جنگ کرتے تھے، اور سونے اور چاندی کے سکوں میں سے کوئی پیچھے نہیں چھوڑا، سوائے ان سات سو درہم کے جوان کے حصے کے باقی تھے۔ ان کو جمع کیا تھا تاکہ اپنے اہلِ خانہ کیلئے خدمت گار خریدیں۔(امالی، شیخ طوسی، ص ۱۶۲) ۔

۱۷۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ کے والد گرامی نے وفات پائی

اے لوگو! اللہ سے ڈرو۔ ہم تمہارے امیر اور ولی ہیں، اور ہم وہ اہل بیت ہیں جن کے متعلق خدا نے فرمایا ہے (خدا چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے رجس کو دور دکھے اور تمہیں پاک و پاکیزہ کردے)۔(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ، ص ۲۲)

۱۸۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ کے والد گرامی نے وفات پائی

اے لوگو! دنیا مصیبت اور آزمائش کا گھر ہے، اور جو کچھ بھی اس میں ہے،زائل اور ختم ہونے والا ہے۔ پھر فرمایا:

اور میں تمہارے ساتھ بیعت کرتا ہوں کہ میں جس کے ساتھ جنگ کروں، تم اس کے ساتھ جنگ کرو، اور میں جس کے ساتھ صلح کروں، تم اس کے ساتھ صلح کرو۔

لوگوں نے کہا: ہم نے سنا اور ہم اطاعت کرتے ہیں۔ اے امیرالمومنین ! اپنا حکم صادر فرمائیں۔(مناقب آل ابی طالب ، ابن شہر آشوب، ج ۳ ، ص ۱۹۳) ۔

۱۹۔ آنحضرت کا خطبہ ان کے ساتھ بیعت کرنے کے بعد

ہم خدا کا گروہ ہیں جو غالب ہونے والے ہیں۔ ہم پیغمبر اسلام کے قریبی اور ان کا خاندان ہیں۔ ہم رسولِ خدا کے اہل بیت ہیں، اور ان دووزنی چیزوں میں سے ایک جس کو اپنے بعد چھوڑ گئے، ہم کتابِ خدا کے بعد رسولِ خدا کی نشانی ہیں، کہ جس میں ہر چیز کا بیان ہے، اور باطل نہ آگے سے اورنہ پشت سے اس میں داخل ہوا۔

پس قرآن کی تفسیر ہمارے اختیار میں ہے ، ہم قرآن کے مفاہیم و مطالب کے بیان کرنے میں کبھی غلطی نہیں کرتے بلکہ قرآن کے حقائق کو ہم واضح کرتے ہیں۔ پس ہماری اطاعت کرو کیونکہ ہماری اطاعت واجب ہے کیونکہ ہماری اطاعت خدا اور رسول کی اطاعت کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

اور خدا فرماتا ہےاے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول اور صاحبانِ امر جو تم سے ہیں، ان کی اطاعت کرو۔ اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے خدا اور اس کے رسول کی طرف پلٹا دو) اور(اگر پیغمبر اور تم میں سے صاحبانِ امر کی طرف رجوع کریں تو جو قرآن کی حقیقتوں کا قرآن سے استنباط اور استفادہ کرتے ہیں، وہ انہیں بتادیں گے)۔

تمہیں میں شیطان کی آواز سننے سے ڈراتا ہوں کیونکہ وہ تمہارا واضح دشمن ہے، اور شیطان کے دوست نہ بنو کیونکہ خدا ان کے متعلق فرماتا ہےشیطان نے ان کے عمل کو ان کیلئے زینت بنادیا ہے)اور وہ انہیں کہتا ہے:آج تم پر کوئی کامیاب نہیں ہوسکتا اور میں تمہیں پناہ دوں گا۔ مگر جب دوگروہ آپس میں آمنے سامنے ہوئے تو شیطان پشت کرکے بھاگ نکلا اور کہا کہ میں تم سے بیزار ہوں اور میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ۔

اب تم اپنی پشتوں کو نیزوں سے سجاؤ گے، اور اپنے بدنوں کو تلواروں اور تیروں کے سامنے کروگے، اور بنیادوں کو توڑوگے۔ پس جو پہلے ایمان نہیں لایا، اب ایمان اسے کوئی فائدہ نہ دے گا اور اس کے کردار سے اچھائی نہ دیکھو گے، اور خدا سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔(امالی، شیخ طوسی، ص ۱۲۱) ۔

۲۰۔ آنحضرت کا خطبہ اپنے اصحاب کو جنگ کی ترغیب دلانے کے متعلق

روایت ہوئی ہے کہ جب معاویہ عراق کی طرف آیا اور پل منبج کے پاس پہنچا تو امام نے اعلان کروایا ، اور سب کو اکٹھا ہونے کو کہا۔ جب لوگ جمع ہوگئے تو امام منبر پر تشریف لے گئے اور خد اکی حمدوثناء کے بعد فرمایا:

اما بعد! خدا نے جہاد لوگوں پر فرض کیا ہے۔ اگرچہ وہ اس سے ناخوش ہوں اور مومن مجاہدین سے فرمایاصبر کرو، خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)۔اے لوگو! اپنے ارمان اور اپنی خواہشوں کو نہیں پاسکتے مگر یہ کہ ناخوش کرنے والی چیزوں پر صبر کرو۔

مجھے اطلاع ملی ہے کہ معاویہ کو معلوم ہوگیا ہے کہ ہم اس کی طرف چل پڑے ہیں۔ وہ بھی ہماری طرف آیا ہے۔ خدا تمہیں معاف فرمائے۔ تمام کے تمام فوجی چھاؤنی نخیلہ کی طرف چل پڑوتاکہ سوچیں کہ کیا کیا جائے۔

راوی کہتا ہے کہ امام علیہ السلام یہ کلمات فرمارہے تھے اور ساتھ لوگوں سے دھوکہ کی بھی فکر تھی کیونکہ انہوں نے جہاد سے سستی کی تھی۔(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ، ص ۳۸) ۔

۲۱۔ آنحضرت کا خطبہ اپنے اصحاب کی مذمت میں

خدا کی قسم!ہم نے کبھی بھی شام والوں کے ساتھ جنگ کرنے میں پشیمانی یا شک نہیں کیا۔ اب ہم اپنے دشمن کے ساتھ صبر اور سلامتی کے ساتھ جنگ کریں گے۔ پس سلامتی دشمنی کیساتھ اور صبر مصیبت کے ساتھ مل گئے ہیں، اور جب تم (جنگ صفین میں) ہمارے ساتھ تھے تو اس وقت تمہارا دین تمہاری دنیا کے آگے آگے تھا۔لیکن اب تمہاری دنیا تمہارے دین کو پیچھے چھوڑے جارہی ہے۔ اس وقت تم ہماے اور ہم تمہارے تھے لیکن اب ہمارے دشمن بن گئے ہو۔

قتل ہونے والے دو گروہوں کے برابر کھڑے ہو۔ ایک صفین میں قتل ہونے والے کہ جن پر گریہ کرتے تھے اور ایک نہروان میں قتل ہونے والے کہ جن کے انتقام کیلئے طالب ہو۔گریہ کرنے والا ذلیل اور انتقام لینے والا انتقام کا طالب ہے۔

معاویہ ہمیں اس کام کی طرف بلا رہا ہے جس میں عزت نہیں ہے۔ اب اگر تم موت کیلئے تیار ہو تو اس پر حملہ کردیتے ہیں، اور تلوار کی ضربوں کے ساتھ اس پر حکم چلاتے ہیں، اور اگر زندگی چاہتے ہو تو اس کی دعوت کو قبول کرلیتے ہیں، اور اس کی درخواست پر راضی ہوجاتے ہیں۔

ابھی امام کی گفتگو ختم نہیں ہوئی تھی کہ ہرطرف سے آوازیں آنے لگیں کہ ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں، ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں۔( i ۔ اعلام الدین، دیلمی۔ ii ۔بحار، ج ۴۴ ، ص ۵۰) ۔

۲۲۔ آنحضرت کا خطبہ آپ کے اصحاب کے دھوکہ دینے کے متعلق

روایت ہے کہ جب امیرالمومنین علیہ السلام شہید ہوگئے تو لوگ آنحضرت کے پاس آئے اور کہا کہ آپ اپنے بابا کے خلیفہ اور جانشین ہیں۔ ہم آپ کے پیروکار اور آپ کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ ہمیں اپنے حکم سے آشنا کریں۔ امام نے فرمایا: خدا کی قسم تم جھوٹ کہتے ہو۔ مجھ سے جو بہتر تھا، اس سے وفا نہیں کی تو میرے ساتھ کیا وفا کروگے۔ میں کس طرح تمہارے متعلق مطمئن ہوجاؤں جبکہ مجھے تم پر اعتماد نہیں ہے۔ اگر سچ کہتے ہو تو میری اور تمہاری وعدہ گاہ مدائن کا فوجی کیمپ ہے، وہاں آجاؤ۔

امام سوار ہوئے اور جو کوئی ارادہ رکھتا تھا، امام کے ساتھ سوار ہوگیا اور بہت سے پیچھے رہ گئے، اور اپنے قول سے وفا نہ کی۔ جیسے امیرالمومنین علیہ السلام سے دھوکہ کیا تھا، ایسے ہی امام حسن علیہ السلام کے ساتھ دھوکہ کیا۔ امام اٹھے اور فرمایا:

مجھے تم نے دھوکہ دیا ہے، جیسے مجھ سے پہلے دیا تھا۔ جیسے امیرالمومنین علیہ السلام کو دھوکہ دیا تھا، اسی طرح مجھے بھی دیا۔ میرے بعد کس امام کے ہمراہ جنگ کروگے، کافروظالم امام کے ہمراہ، اور جو خدا اور خدا کے رسول کے ساتھ ایک لحظہ بھی ایمان نہیں لایا، اسلام کو اس نے اور بنی اُمیہ نے قبول نہیں کیا۔

مگر تلواروں کے ڈر سے اگرچہ بنی اُمیہ کی ایک بوڑھی عورت جس کے منہ میں دانت نہ ہوں گے، باقی نہ رہے، یہ لوگ خدا کے دین کو ٹیڑھا کرتے رہے۔ رسولِ خدا نے اسی طرح فرمایا ہے۔

اس کے بعد کندہ قبیلے سے ایک شخص کو چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ معاویہ کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ انبار میں جاکر پڑاؤ ڈالو جب تک تیرے پاس حکم نہ آئے،اس وقت تک کوئی کام نہ کرنا۔

اس کے بعد راوی نے ذکر کیا ہے کہ معاویہ نے اس کو طمع و لالچ دے کر اپنی طرف بلالیا۔ یہاں تک کہتا ہے کہ یہ خبرامام تک پہنچی۔ امام اٹھے اورفرمایا: یہ کندی معاویہ کی طرف چلاگیا ہے اور میرے ساتھ خیانت کرگیا ہے۔ میں نے تم کو بار بار خبر دی ہے کہ تم میں وفا نہیں ہے، اور تم دنیا کے بندے ہو، اور میں ایک اور شخص کو بھیجوں گا اور میں جانتا ہوں کہ وہ بھی ایسا ہی کرے گا، اور وہ میرے اور تمہارے متعلق خدا کا بھی خیال نہیں کرے گا۔ پس امام نے قبیلہ مراد سے ایک شخص کو چارہزار کا لشکر دے کر معاویہ کی طرف بھیجا اور لوگوں کے آگے آگے خود آرہے تھے، اور اسے با ربار تاکید فرمارہے تھے ۔ لیکن بڑی قسمیں کھائیں کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرے گا۔ امام نے فرمایا کہ وہ خیانت کرے گا۔ پھر راوی امام کے ساتھ اس کی خیانت کو بیان کرتا ہے۔(خرائج، راوندی ، ج ۲ ، ص ۵۷۶) ۔

۲۳۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ کے اصحاب معاویہ کے ساتھ جاملے

میرے والد کی تم نے مخالفت کی اور وہ تحکیم کے قبول کرنے پر مجبور ہوئے، حالانکہ وہ اس پرراضی نہ تھے۔ پھر اس کے بعد تمہیں شامیوں کے ساتھ مقابلے کیلئے بلایا لیکن تم نے انکارکیا، یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس کے بعد تم نے میرے ساتھ بیعت کی کہ جس کے ساتھ میں صلح کروں، تم بھی صلح کروگے اور جس کے ساتھ میں جنگ کروں، تم بھی جنگ کرو گے۔ لیکن مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہارے بزرگ معاویہ کے ساتھ جاملے اور اس کے ساتھ بیعت کرلی۔ پس میں نے تم کو پہچان لیا ہے۔ پس مجھے میرے دین اور میری جان کے بارے میں دھوکہ نہ دو۔(شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ،ص ۲۲) ۔

۲۴۔ آنحضرت کا کوفے میں صلح سے پہلے خطبہ

اے لوگو! خدا نے ہمارے بزرگوں کے ساتھ تمہاری ہدایت کی۔ اس چیز کیلئے مدت تھوڑی سی ہے، اور دنیا کسی اور کے ہاتھ میں چلی جائے گی، اور خداا پنے پیغمبر سے فرماتا ہے(اور تم نہیں جانتے کہ یہ چیز شاید تمہارے لئے آزمائش ہو اور معمولی سا فائدہ ہو)۔(طبری، ایڈیشن ۲ ، ص ۱۶۷) ۔

۲۵۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ نے صلح کا ارادہ کیا

روایت ہے کہ جب معاویہ عراق کی طرف گیا تو امام مقابلے کیلئے تیار ہوئے اور لوگوں کو جہاد کیلئے بلایا۔ انہوں نے اس سے نفرت کا اظہار کیا۔ امام چلے اور ساباط پہنچے، اور وہاں رات گزاری ۔ دوسرے دن صبح کے وقت ارادہ کیا کہ اپنے اصحاب کا امتحان لیں، اور اپنے متعلق ان کی فرمانبرداری کو جان لیں تاکہ دوستوں اور دشمنوں کا پتہ چل جائے، اور سوچ سمجھ کر معاویہ کے مقابلے میں آئیں۔ حکم دیا کہ لوگوں کو بلاؤ۔

جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اور اس طرح فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔ اس وقت جب تعریف کرنے والاتعریف کرتا ہے ، اور گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ جب گواہی دینے والا گواہی دیتا ہے، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اور ان کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، او ر اپنی وحی پر امین بنایا ہے۔

اما بعد! خدا کی قسم! میں امید رکھتا ہوں اور خدا کی مہربانی اور لطف کے صدقے بہترین نصیحت کرنے والا بنوں۔ کبھی بھی کسی مسلمان کے بارے میں دل میں بغض نہیں رکھتا، اور کسی کے متعلق بھی میرا ارادہ اور نیت بُری نہیں ہے، اور جو تم اتفاق و اتحاد میں بُرا سمجھتے ہو، وہ اس سے بہتر ہے جو تفرقہ میں ہے۔

وہ چیز جو میں تمہارے متعلق جانتا ہوں، اور چاہتا ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو تم چاہتے ہو۔ پس میری نافرمانی نہ کرو، اور میرے مشورہ کو حقیر نہ جانو۔ خدا مجھے اور تمہیں بخش دے، اور ہمیں اس کی طرف ہدایت فرمائے جو وہ چاہتا ہے۔

راوی کہتا ہے کہ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا: اس گفتگو سے ان کی مراد کیا ہے؟ کچھ نے کہا کہ ہمارے خیال میں چاہتے ہیں کہ معاویہ کے ساتھ صلح کر لیں، اور حکومت اس کے سپرد کردیں۔ پس انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم! وہ کافر(نعوذبااللہ) ہوگیا ہے۔ یہ کہہ کران کے خیمے پر حملہ کردیا، اور اسے لوٹ لیا، یہاں تک کہ ان کے بیٹھنے والا فرش بھی نیچے سے کھینچ لیا۔(حدیث کے آخر تک)۔(کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۵۲۹) ۔

۲۶۔ آنحضرت کا خطبہ جب زخم ٹھیک ہوا

اے کوفہ والو! اپنے ہمسائے اور مہمانوں کے متعلق خدا سے ڈرو، اور ا س اہل بیت کے متعلق خدا سے ڈرو کہ جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ہے اور پاک و پاکیزہ کردیا ہے۔( طبری، ایڈیشن ۲ ، ص ۱۶۸) ۔

۲۷۔ معاویہ کے ساتھ صلح کے وقت آنحضرت کا خطبہ

امام سجاد علیہ السلام سے منقول ہے، جب امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کے ساتھ صلح

کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے گھر سے نکلے اور اس سے ملاقات کی۔ جب دونوں جمع ہوئے تو معاویہ منبر پر گیا اور حکم دیاکہ امام ایک زینہ اس سے نیچے بیٹھیں۔ پھر معاویہ نے یہ گفتگو کی:

اے لوگو! یہ علی اور فاطمہ کا بیٹا حسن ہے اور یہ ہمیں خلافت کے لائق جانتا ہے، اور اپنے آپ کو اس کے لائق نہیں جانتا، اور آیا ہے تاکہ اپنے اختیار سے صلح کرے۔

پھر کہا : اے حسن ! اٹھو۔ امام اٹھے اور اس طرح گفتگو فرمائی:

تمام تعریفیں اس خد اکیلئے ہیں جو فراوان نعمتوں کی وجہ سے اور بلاؤں اور مصیبتوں کو دورکرنے کی وجہ سے جاننے والاہے، اور نہ جاننے والوں کیلئے قابل تعریف اور لائقِ حمد ہے۔ ایسے بندے جو اس کے وجود کا اعتراف کرتے ہیں، اس وجہ سے کہ وہ اپنی جلالت اور بزرگی کی وجہ سے وہم و گمان سے دور ہے، اور وہم اس تک پہنچ نہیں سکتے۔ اپنی مخلوقات کی فکروں میں آنے سے اور عقل مندوں کے احاطہ سے بلند ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اپنی خدائی، اپنے وجود اور وحدانیت میں اکیلا ہے، بے نیازہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، ایسا اکیلاہے کہ اُسے مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ اسے اس نے چنا اور منتخب کیا ہے، اور اس سے راضی ہوا ہے، اور اسے بھیجا تاکہ حق کی طرف بلائے۔جس چیز سے خدا کے بندے ڈرتے ہیں، اس سے ڈرانے والا ہے، اور جس چیز سے گنہگاروں کی اُمید ہے، اس کی خوشخبری دینے والا ہے۔ پس امت کو اس نے نصیحت کی اور اپنے پیغام کو انجام دیا، اور لوگوں کیلئے ان کے عمل و درجات واضح کئے۔ایسی گواہی کہ اسی عقیدہ پر مروں اور زندہ اٹھوں اور اسی کے ساتھ قیامت کے دن نزدیک رہوں اور خوش رہوں، اور میں تنہا ہوں۔

اے خدا کے بندو! اور تم دل اور کان رکھتے ہو، غوروفکر کرو۔ ہم وہ اہل بیت ہیں کہ جن کو خدا نے اسلام کے ساتھ عزت اور احترام دیا، اور ہمیں چنا اور منتخب کیا، اور ہمیں رجس سے دور رکھا اور پاک و پاکیزہ کردیا، اور رجس وہی شک و تردد ہے ۔ ہم کبھی بھی اس خدا اور دین کے بارے میں شک نہیں کرتے اور ہمیں ہر گمراہی اور رجس سے پاک کیا جبکہ ہم آدم سے پہلے، ہم خدا کیلئے خالص تھے، اور یہ خدا کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ لوگوں کے درمیان جب بھی دو گروہوں ، جن میں ہم ہوں، تو ان میں خدا ہمیں بہترین قرار دیتا ہے۔

کتنے زمانے اور صدیاں گزرگئیں، یہاں تک کہ خدا نے محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغمبربناکر بھیجا اور رسالت کیلئے چنا، اور ان پر کتاب نازل فرمائی، اور پھر انہیں حکم دیا کہ لوگوں کو خدا کی طرف بلائیں۔ میرے والد سب سے پہلے وہ شخص تھے جنہوں نے خدا اور اس کے رسول کی بات کو قبو ل کیا اور سب سے پہلے شخص ہیں جو ان کے ساتھ ایمان لائے، اور خدا اور خدا کے رسول کی تصدیق کی۔

اورخدا اس کتاب میں جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی، اس طرح فرماتا ہے(کیا وہ شخص جس کے ساتھ اس کے خدا کی طرف سے نشانی ہو، اور وہ شخص جس کے ساتھ اس کے خدا کی طرف سے شاہد اور گواہی دینے والا ہو)، پس خدا کا رسول وہ ہے جس کے ساتھ خدا کی نشانی ہے، اور میرے والد وہ ہیں کہ جو اس کے ساتھ تھے۔

اور حج کے دوران سورئہ براة کی تلاوت کرے تو فرمایا :اے علی ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ یہ لکھی ہوئی سورة یا تو میں خود لے کر جاؤں اور یا وہ لے کر جائے جو مجھ سے ہو، اور تو مجھ سے ہے۔ پس علی رسولِ خدا سے ہے اور رسولِ خدا علی سے ہیں۔

اور پیغمبر اسلام نے جب علی اور ان کے بھائی جعفر بن ابی طالب اور ان کے غلام زید بن حارث کے درمیان فیصلہ کیا تو علی کے متعلق فرمایا:اے علی ! بہرحال تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں، اور تم میرے بعد ہر مومن کے سرپرست ہو۔ پس میرے والد پیغمبر اسلام کی تصدیق کرنے والوں میں سے سب سے پہلے تھے، اور ان کی حفاظت اپنی جان کے ساتھ کی۔

پھر رسولِ خدا انہیں ہرجگہ پر ترجیح دیتے تھے، اور ہر مشکل کام کیلئے انہیں بھیجتے تھے کیونکہ ان پر اعتماد اور اطمینان تھا، اور یہ اس لئے تھا کہ وہ خدا اور اس کے رسول کے خیر خواہ تھے۔خدا اور رسول کے نزدیک ترین شخص تھے، اور خدا فرماتا ہے:(آگے جانے والے آگے چلے گئے ہیں اور وہی بارگاہِ خدا میں مقرب ہیں)۔

پس میرے والد خدا اور رسول کی طرف سب سے آگے جانے والے تھے، اور نزدیک ہونے والوں میں نزدیک ترین تھے، اور خدا فرماتا ہے:(کہ برابر نہیں ہیں وہ لوگ جو فتح مکہ سے پہلے خرچ کرتے تھے اور جنگ لڑتے رہے بلکہ وہ بلند درجات کے مالک ہیں)۔ پس میرے والد یہی اسلام لانے والے اور ایمان والے ہیں، اور سب سے پہلے خد اور رسول کی طرف ہجرت انہوں نے کی، اور رسولِخدا کے ساتھ جاکر ملے، اور سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے سرمایہ سے راہِ خدا میں خرچ کیا۔

خدا فرماتا ہے:(اور وہ لوگ جو بعد میں آئے ہیں او ر کہتے ہیں اے خدا! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں، بخش دے،اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے کے متعلق کینہ پید انہ کر، اے خدا! تو بے شک مہربان اور رحم کرنے والا ہے)۔

پس امت کے سارے افراد ان کیلئے بخشش کی دعا کرتے ہیں کیونکہ وہ سب سے پہلے رسولِ خدا کے ساتھ ایمان لانے والے ہیں، اور ان سے پہلے کوئی ایمان نہ لایا، اور خدا فرماتا ہے:(مہاجرین اور انصار میں سب سے سبقت لے جانے والے اور وہ جنہوں نے نیکی کے ساتھ پیروی کی)۔پس علی آگے جانے والوں میں سے سبقت لے جانے والے ہیں، اور پس جس طرح خدا نے آگے جانے والوں کو چھوڑ جانے والوں اور پیچھے رہ جانے والوں پر فضیلت دی ہے۔

اور خدا فرماتا ہے:( کیا تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد الحرام کی تعمیر کو خدا اور قیامت کے دن کے ساتھ ایمان لانے والوں اور خدا کے راستے میں جہاد کرنے کو برابر قرار دیتے ہو؟ بے شک وہ راہِ خدا کے مجاہد تھے)۔ یہ آیت ان پر اُتری ہے۔

ان لوگوں میں جنہوں نے رسولِ خدا کی دعوت کو قبول کیا۔ان کے چچا حمزہ اور ان کے چچا کے بیٹے جعفر تھے، اور یہ دونوں بہت سے اصحاب کے درمیان شہید ہوئے۔خدا ان دونوں سے راضی ہے۔

خدا نے ان شہداء میں سے حضرت حمزہ کو سید الشہداء قرار دیا، اور جعفر کیلئے دوپَر پیدا کئے کہ جدھر چاہیں فرشتوں کے ساتھ پرواز کریں۔ یہ ان کا مقام اور مرتبہ ہے، اس قرابت کی خاطر جو رسول کے ساتھ تھی۔

اور پیغمبر اسلام نے باقی شہداء میں سے حضرت حمزہ کیلئے نمازِ جنازہ میں ستر تکبیریں پڑھیں۔

خدا نے اسی طرح رسولِ خدا کی نیک بیویوں کیلئے دو اجر اور بد بیویوں کیلئے دوگنا عذاب قرار دیا ہے، اور یہ سزا اور عذاب میں اضافہ رسولِ خدا کی رشتہ داری کی وجہ سے ہے۔

اور رسولِ خدا کی مسجد میں ایک رکعت نماز پڑھنے کو باقی مساجد میں ہزار رکعت نماز کے برابر قرار دیا ہے۔مکہ میں مسجد الحرام کے علاوہ جو خدا کے خلیل حضرت ابراہیم کی ہے، اور یہ فضیلت صرف اس لئے ہے کہ رسولِ خدا کے نزدیک بڑی عزت ہے۔

اور خدا نے اپنے نبی پر درود پڑھنے کو تمام مومنوں پر واجب کیا ہے،اور مومنوں نے کہا: اے رسولِ خدا! آپ پر درود کس طرح پڑھا جائے تو فرمایا کہ کہو:اے خدا! محمد اور اس کی آل پر درود بھیج۔ پس ہر مسلمان پر واجب ہے کہ خدا کے نبی کے ساتھ ہم پر بھی درود بھیجے۔

اور خدا نے غنیمت کا خمس اپنے نبی پر حلال کیا ہے، اور اپنی کتاب میں اس کو ان کیلئے واجب قرار دیا ہے۔ اس پر صدقہ حرام کیا ہے اور ہم پر بھی حرام ہے۔ پس تمام تعریفیں اس کیلئے ہیں کہ جس چیز میں اپنے نبی کو داخل کیا اور ہمیں بھی داخل کیا، اور جس چیز سے اپنے نبی کو پاک و صاف رکھا، ہمیں بھی پاک و صاف رکھا، اور یہ عزت ہے جو خدا نے ہمیں اپنے نبی کے ساتھ عطا فرمائی ہے، اور ایسی فضیلت ہے کہ ہمیں اس کے ذریعے سے دوسروں پر برتری دی ہے۔

اور جب اہلِ کتاب نے محمد کا انکار کیا اور ان سے استدلال و دلیل کو طلب کیا تو خدا نے فرمایا:(ان سے کہہ دو کہ تم اپنے بیٹے لے آؤ، ہم اپنے بیٹے لے آتے ہیں، تم اپنی عورتوں کو لے آؤاور ہم اپنی عورتوں کو لے آتے ہیں، تم اپنی جانوں کو لے آؤ، ہم اپنی جانوں کو لے آتے ہیں،پھر قسم دے کر مباہلہ کرتے ہیں، اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کرتے ہیں)۔خدا نے لوگوں میں سے اپنی جان کی جگہ میرے والد علی اور بیٹوں کی جگہ مجھے اور میرے بھائی کو اور عورتوں کی جگہ میری والدہ فاطمہ کو لیا۔پس ہم ان کے کان، خون اور جان ہیں۔ ہم ان سے ہیں اور وہ ہم سے ہیں۔

اور خدا فرماتا ہے:(سوائے اس کے نہیں کہ خدا چاہتا ہے، اے اہل بیت ! تم سے رجس کو دور رکھے اور تمہیں پاک و پاکیزہ رکھے)۔

جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ خدانے میرے بھائی، میری والدہ اور میرے والد کوجمع کیا اور اپنے ساتھ ہم سب کو امِ سلمہ کی عبا میں لیا اور یہ کام امِ سلمہ کے حجرہ میں اس دن ہوا جو دن امِ سلمہ کیلئے مخصوص تھا۔رسولِ خدا نے فرمایا:اے پروردگار! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرا خاندان ہے۔ پس ان سے رجس اور نجاست کو دور رکھ اور انہیں پاک و پاکیزہ رکھ۔

امِ سلمہ نے عرض کی: کیا میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوجاؤں یا رسول اللہ؟آپ نے فرمایا کہ خدا تم پر رحمت فرمائے ، تو نیکی کے راستے پر ہے اور نیکی کی طرف جارہی ہے۔ میں تم سے راضی ہوں لیکن یہ بات میرے اور ان کے ساتھ خاص ہے۔

پھر رسولِ خدا اس واقعہ کے بعد جب تک زندہ رہے، ہر روز طلوعِ فجر سے پہلے ہمارے پاس آیاکرتے تھے اور فرماتے تھے کہ خدا تم پر رحمت کرے کہ خدا چاہتا ہے کہ اے اہل بیت ! تم سے رجس و پلیدی کو دور رکھے اور تمہیں پاک و پاکیزہ رکھے۔

اور رسولِ خدا نے حکم فرمایا ہے کہ جو دروازے مسجد کی طرف کھلتے ہیں، ان سب کو بند کردو، سوائے علی کے دروازے کے۔انہوں نے اعتراض کیا ۔آپ نے فرمایا کہ نہ میں نے تمہارے دروازے بند کروائے اور نہ اپنی مرضی سے علی کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ میں تو وحی کا پابند ہوں۔ خدا نے مجھے دروازے بند کرنے کا حکم دیا اور علی کا دروازہ کھلا رکھنے کا حکم دیا۔ اس واقعہ کے بعد کوئی بھی احتلام کی حالت میں مسجد نبوی میں داخل نہ ہوا، اور سوائے رسولِ خدااور میرے والد علی کے کسی کیلئے مسجد میں اولاد پیدا نہیں ہوئی، اور یہ خدا کی طرف سے ہمارے لئے عزت اور فضیلت ہے جس کو اس نے ہمارے ساتھ خاص کیا ہے، اور یہ میرے والد کے گھر کا دروازہ ہے جو رسولِ خدا کے گھر کے دروازے کے ساتھ مسجد میں ملا ہوا ہے۔

اور ہماری منزل رسولِ خدا کی منزلوں کے درمیان واقع ہے اور یہ اس لئے کہ خدا نے اپنے رسول سے فرمایا کہ مسجد بنائے۔

پیغمبر نے اس کے اردگرد دس گھربنائے۔ نو گھر اپنے بچوں اور بیویوں کیلئے اور دسواں گھر جو ان نو کے درمیان تھا، میرے والد علی علیہ السلام کیلئے بنایا، اور وہ اب بھی موجودہے۔پس اس کا گھر پاک و پاکیزہ مسجد ہے، اور وہ(علی ) ،خدا فرماتا ہے کہ اہل بیت سے ہے۔ پس ہم اہل بیت ہیں، اور ہم وہ ہیں جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ہے او رپاک و پاکیزہ بنایاہے۔

اے لوگو! اگر ہم یہاں پر عرصہ دراز تک کھڑے رہیں، اور وہ چیزیں جو خدا نے ہمیں عطا کی ہیں اور اپنی کتاب میں جو فضیلت ہمارے ساتھ خاص کی ہے، اور جو چیزیں اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ہماری شان میں بیان ہوئی ہیں، ذکر کرنا شروع کریں تو ہم گن نہیں سکتے۔ میں خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے اس نبی کا بیٹا ہوں جو روشن چراغ ہے۔ وہ ایسا نبی ہے جس کو خدا نے تمام کائنات کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور میرے والد مومنوں کے سرپرست اور ہارون کی مثل ہیں۔

معاویہ بن صخر خیال کرتا ہے کہ میں اسے خلافت کے لائق اور اپنے آپ کو اس کے اہل نہیں جانتا۔ پس معاویہ جھوٹ بولتا ہے۔ خدا کی قسم!ہم کتابِ خدا میں اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان میں سب لوگوں سے افضل ہیں۔ مگر یہ کہ ہم اہل بیت ، وفاتِ پیغمبر سے لے کر اب تک حالت خوف و ہراس میں ہیں اور مظلوم ہیں، اور ہمارا حق ضائع ہوا ہے۔

خدا ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے جنہوں نے ہمارے حق کو ضائع کیا اورہم پر مسلط ہوئے، اور لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکایا، اور ہمارا حصہ جو غنیمت اور بغیر جنگ کے مال ملتا تھا،اور جس کا قرآن میں تذکرہ ہے، ہم سے روک دیا، اور ہماری والدہ کی وراثت(جاگیرفدک)ہمارے والد سے لے لی۔

ہم کسی کا نام نہیں لیتے لیکن میں خدا کی مضبوط قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر وہ لوگ خدا ور اس کے رسول کی بات کو غور سے سنتے تو آسمان ان پر بارش برساتا اور زمین ان کو اپنی برکتیں عطا کرتی، اور کبھی دو تلواریں آپس میں نہ ٹکراتیں، اور لو گ آرام و خوشی کے ساتھ زندگی بسر کرتے، اور اس وقت تو بھی اس خلافت کی طمع نہ کرتا۔

لیکن جب لوگوں نے حکمِ خدا کو پیچھے چھوڑ دیا اور اسے جڑ سے اکھیڑ کر پیچھے رکھ دیا تو قریش نے خلافت میں جھگڑا شروع کردیا، اور اسے ایک گیند کی طرح ایک دوسرے کی طرف پھینکنا شروع کردیا، یہاں تک کہ تو اور تیرے بعد تیرے ساتھی اس لالچ و طمع میں پڑگئے۔

اور رسولِ خدانے فرمایا: لوگ کبھی بھی کسی ایسے کو اپنا رہنما نہیں بناتے جس سے بڑھ کر کوئی اور بھی ان میں موجود ہو۔ اگر ایسا کریں گے تو تباہی کی طرف جائیں گے، اور پھر اسی کی طرف آئیں گے جو سب سے بہتر تھا۔ بنی اسرائیل نے جو حضرت موسیٰ کے اصحاب تھے، ہارون جو موسیٰ کے بھائی اور خلیفہ تھے ،کو چھوڑ کر بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور سامری کی بات ماننے لگے حالانکہ وہ جانتے تھے کہ ہارون موسیٰ کا خلیفہ ہے۔

اور اس امت نے سنا کہ رسولِ خدا نے میرے والد علی علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ علی کی نسبت میرے ساتھ ایسے ہے جیسے ہارون کی موسیٰ کے ساتھ۔ مگریہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

اور رسولِ خدا کو اس امت نے دیکھا کہ غدیر خم میں ان کوامامت کیلئے منصوب کیااور ان باتوں کو سنا کہ میرے والد کے متعلق انہوں نے ولایت کی بات کی تھی، اور پھر حکم دیا تھا کہ حاضرین پر موجود لوگوں کو یہ پیغام دیں، اور رسولِ خدا قوم کے ڈر سے شہر سے نکلے اور نماز کی طرف چلے گئے۔ جب قوم نے ان کے ساتھ دھوکہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، اور یہ اس وقت تھا جب آنحضرت ان کو حق کی طرف بلا رہے تھے لیکن ساتھ موجود نہ تھے۔ اگر ساتھ موجود ہوتے تو ان کے ساتھ جنگ کرتے۔

میرے والد نے بھی جنگ نہ کی اور اپنے اصحاب کو قسم دی اور ان سے مدد طلب کی لیکن کسی نے ان کی مدد نہ کی، اور ان کی فریاد نہ سنی۔ اگر ساتھی اور دوست ہوتے تو کبھی بھی جنگ سے پیچھے نہ ہٹتے۔ خدا نے انہیں آرام و سکون میں رکھا ہوا ہے جیسے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آرام اور سکون میں رکھا ہوا ہے۔

لوگوں نے مجھے رسوا کیا، اس لئے اے حرب کے بیٹے!میں نے تیرے ساتھ صلح کی ہے۔ اگر میرے ساتھ ہوتے جو مجھے تجھ سے بچا سکتے تو میں ہرگز تجھ سے صلح نہ کرتا، اور خدا نے ہارون کو اس وقت سکون و آرام کے ساتھ رکھا جب لوگوں نے اسے کمزور کردیا تھا، اور اس کے دشمن اسی طرح ہیں۔

اور میرے والد بزرگوار خدا کی طرف سے سکون و آرام میں ہیں۔ اس وقت جب لوگوں نے ہمیں چھوڑ دیا اور ایک دوسرے کی بیعت کرلی، اور ہمارے ساتھی موجود نہ تھے، اور یہ طریقہ اور مثالیں ایک دوسرے کے بعد آرہے ہیں۔

اے لوگو!اگر پوری کائنات میں گھوم لو تو تم میرے اور میرے بھائی کے علاوہ کسی اور کو نہیں پاؤ گے جس کا نانا پیغمبر ہو، والد وصی ہو۔ پس خدا سے ڈرو اور مطلب کے بیان کے بعد گمراہ نہ ہوجاؤ۔ تم نے اس طرح کیسے کردیا؟ تم سے اس کی توقع نہ تھی۔ خبردار میں نے اس شخص (معاویہ کی طرف اشارہ کیا) سے صلح کی ہے، شاید یہ تمہارے لئے ایک امتحان ہو، اور تھوڑی مدت کیلئے فائدہ مند ہو۔

اے لوگو! کسی کو اس لئے بُرا نہیں کہاجاتا کہ اس نے اپنا حق کسی کو دیدیا ہے بلکہ بُرا تو اس کو بننا چاہئے جو ظلم کے ساتھ کسی کا حق چھین لے۔ ہر اچھا کام فائدہ دینے والا ہے اور غلط کام کرنے والوں کو وہ نقصان دیتا ہے۔ ایک مسئلہ پیش آیااورسلیمان سمجھ گیا، اور سلیمان کو فائدہ پہنچااور داؤد کو نقصان نہ پہنچا۔

رشتہ داری تو مشرک کو ہی فائدہ دیتی ہے حالانکہ خدا کی قسم! یہ رشتہ داری مومن کو زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ رسولِ خدا نے اپنے چچا ابو طالب سے ان کی وفات کے وقت فرمایا کہ کہو خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔تاکہ قیامت کے دن تمہاری شفاعت کروں۔

یہ بات کبھی بھی پیغمبر نہ کہتے اور کبھی بھی شفاعت کا وعدہ ان کے ساتھ نہ کرتے اگر اپنے چچا کی طرف سے از لحاظ مطمئن نہ ہوتے، اور اس طرح کی بات پیغمبر نے ہمارے جد (ابوطالب ) کے علاوہ کسی سے نہ کی۔خدا فرماتا ہے:(ایسے لوگوں کیلئے تو یہ نہیں ہے جو برے کام کرتے رہے اور جب موت کا وقت آیا تو کہتے ہیں کہ اب ہم توبہ کرتے ہیں، اور نہ ان کے لئے توبہ ہے جو کفر کی حالت میں مرجائیں۔ ان کیلئے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے)۔

اے لوگو! سنو اور غورکرو۔ اللہ سے ڈرو اور ہماری طرف رجوع کرو۔ دور کی بات ہے کہ تم حق کی طرف رجوع کروکیونکہ حال یہ ہے کہ گمراہی نے تمہیں زمین پر دے مارا ہے۔ سرکشی اور بغاوت و انکار نے تمہیں گھیر رکھا ہے۔ آیا تمہیں اس پر مجبور کریں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو، سلام ان پر جو ہدایت کی پیروی کرتے ہیں۔(بحار، ج ۱۰ ، ص ۱۳۸) ۔

۲۸۔ آنحضرت کا صلح کرنے کے بعد خطبہ

اے عراق والو! میں تین چیزوں کے بارے میں تمہیں عیب دار ٹھہراتا ہوں۔ تمہارا میرے والد کو قتل کرنا،مجھے زخمی کرنا اور میرے مال کو لوٹنا۔(مناقب آل ابی طالب ، ابن شہر آشوب، ج ۳ ، ص ۱۹۳) ۔

۲۹۔ آنحضرت کا خطبہ معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کے سبب کے متعلق

روایت ہے کہ جب صلح انجام پاگئی اور کام مکمل ہوگیا تو معاویہ نے امام حسن علیہ السلام سے درخواست کی کہ لوگوں سے بات کریں او ر بتائیں کہ معاویہ کے ساتھ صلح کرلی ہے، اور حکومت اس کے سپرد کر دی ہے۔

امام علیہ السلام نے معاویہ کی بات کو مان کر تمام جمع شدہ لوگوں کے اجتماع میں خطبہ پڑھا۔ شروع میں خدا کی حمدوثناء کی اور اس کے رسول پر درود بھیجا، اور یہ ان کی گفتگو کا حصہ ہے کہ فرمایا:

اے لوگو! سب سے بڑی عقل مندی تقویٰ ہے، اور سب سے بڑی غلطی اور حماقت گناہ ہے۔ اگر تم پوری کائنات میں ایسا شخص تلاش کرنا چاہو جس کا نانا خدا کا رسول ہو تو میرے اور میرے بھائی حسین علیہ السلام کے علاوہ کسی کو نہیں پاؤ گے، اور تم جانتے ہو کہ خدا نے میرے نانا رسولِ خدا کے ذریعے سے تمہاری ہدایت کی او تمہیں گمراہی سے بچایا، اور جہالت اور بے علمی سے نجات دی، اور ذات اور رسوائی کے بعد تمہیں عزت دی اور تمہاری افرادی کمی کے بعد تمہیں زیادہ کردیا۔

اور معاویہ اس حق کے متعلق میرے ساتھ جھگڑا کررہا ہے جو میرا حق ہے اور میں نے اس اپنے حق کو امت کی مصلحت اور فتنہ و فساد کے ختم کرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے، اور تم نے میرے ساتھ بیعت کی تھی کہ میں جس کے ساتھ صلح کروں گا، تم اس کے ساتھ صلح کروگے اور میں جس کے ساتھ جنگ کروں گا، تم اس کے ساتھ جنگ کروگے۔ پس میرا فیصلہ یہ ہے کہ معاویہ کے ساتھ صلح کرلوں اور اپنے اور اس کے درمیان جنگ کی حالت کو ختم کردوں، اور میں نے اس سے صلح کرلی ہے کیونکہ میں نے خونریزی کرنے سے اس سے بچنا بہتر سمجھا ہے، اور اس کام سے میرا ارادہ تمہارا فائدہ اور تمہاری بقاء ہے۔(کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۵۶۶) ۔

۳۰۔ صلح کرنے کے بعد آنحضرت کا اپنے والد گرامی کی فضیلت میں خطبہ

روایت ہے کہ جب امام علیہ السلام نے صلح کرلی تو معاویہ نے امام سے درخواست کی کہ خطبہ پڑھیں۔ امام نے انکار کیا۔ امام کو قسم دی کہ ضرور خطبہ دیں۔ امام کیلئے ایک جگہ تیار کی گئی۔ امام اس کے اوپر گئے اور فرمایا:

تمام تعریفیں اُس خدا کیلئے ہیں جو اپنی مملکت میں ایک ہے، اور خدائی میں تنہا ہے۔ جسے چاہتا ہے بادشاہ بنادیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے بادشاہی لے لیتا ہے۔ تمام تعریفیں اُس خدا کیلئے ہیں جس نے ہمارے مومنوں کو عزت بخشی ہماری وجہ سے اور ہماری وجہ سے تمہارے بزرگوں کو شرک سے نکالا، اور تمہارے ایک دوسرے گروہ کے خون بہانے سے حفاظت کی۔ پس ہمارا امتحان پہلے اور اب تمہارے پاس ایک بہترین امتحان ہے۔ چاہے شکرگزار بنو یانافرمان۔

اے لوگو! علی کا خدا علی سے زیادہ جاننے والا ہے۔ جب اس نے علی علیہ السلام کو اپنی طرف بلایا اور اسے اپنی فضیلت کے ساتھ خاص فرمایا کہ تم اس جیسا نہ پاسکوگے اور اس کی مثل دیکھ نہ سکو گے۔

بہت دور ہے ، بہت دور ہے، کتنے کاموں کو تم نے مشکل بنایا ہے، پھر خدا نے تمہیں اس پر کامیاب کیا، حالانکہ وہ تمہارے ساتھ بیٹھتا تھا۔ تمہارے ساتھ بدر میں جنگ لڑی اور مٹی ملا پانی تمہیں پلایا، اور کڑوا پانی تمہیں پلایا، اور تمہیں ذلیل کیا، اور تمہیں غمگین کیا۔ پس اس کے بغض سے تم اپنے آپ کو ملامت نہیں کرتے۔

خدا کی قسم! جب تک پیغمبر خدا کی امت کے رہنما اور رہبر بنی اُمیہ سے ہیں، یہ امت کسی مقام تک نہیں پہنچ سکتی۔ تمہاری طرف ایسا فتنہ اور آزمائش بھیجی گئی ہے کہ اس سے بچ نہ سکو گے۔ یہاں تک کہ تمہیں ظالم لوگوں کی اطاعت کی وجہ سے اور شیطانوں کی طرف سے پناہ لینے کی طرف سے ہلاک کردیا جائے۔پس وہ جو ہوچکا ، وہ جو پست افکار اور بُرے میلان و رغبت کی وجہ سے انجام پائے گا، اور میں اس کے انتظار میں ہوں۔ ان سب کا حساب خدا پر چھوڑتا ہوں۔

پھر فرمایا:

اے اہل کوفہ! کل تم سے وہ جدا ہوا ہے جو خدا کے تیروں میں سے ایک تیر تھا، اور خد اکے دشمنوں کو مارنے والا اور قریش کے بڑے لوگوں کو تباہ اور برباد کرنے والا تھا۔ ہمیشہ اس نے قریش کے بڑے بڑے لوگوں کو اپنے اختیار میں رکھا، اور وہ اس سے خوف و ہراس میں رہتے تھے۔ خدا کے احکام میں اسے کوئی ملامت نہ کرسکا، اور خدا کے مال سے اس نے کوئی چیز چوری نہیں کی ہے، اور خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں جنگ سے کبھی بھاگا نہیں۔ تمام قرآن اس کو دیا گیا۔ اس خدا نے اسے بلایا اور پس اس نے جواب دیا۔ خدا نے اس کی رہنمائی فرمائی، اس نے اتباع کی۔ خدا کے معاملات میں سرزنش اور بُرا بھلا کہنے والوں کی سرزنش سے خوف نہیں کھاتا تھا۔ پس خدا کا درود اور رحمت اُس پر ہو۔(شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ، ص ۲۸) ۔

۳۱۔ آنحضرت کا اپنی فضیلت کے متعلق خطبہ

روایت ہے کہ جب معاویہ کوفہ آیا تو چند دن وہاں رہا۔ جب بیعت کی رسومات ختم ہوگئیں تو منبر پر گیا اور لوگوں کیلئے خطبہ پڑھا۔ امیرالمومنین علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام کو گالیاں دیں۔ امام حسین علیہ السلام وہاں موجود تھے، اٹھنا چاہا کہ اس کا جواب دیں۔ امام حسن علیہ السلام نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں بٹھا دیا، اور خود کھڑے ہوئے اور فرمایا:

اے علی کا نام لینے والے! میں حسن ہوں اور اس کا بیٹا ہوں ، اور تو معاویہ ہے، تیرا باپ صخر ہے۔میری والدہ فاطمہ ہیں، اور تیری ماں ھندہ ہے، اور میرا نانا رسولِ خدا ہے۔اور تیرا نانا حرب ہے۔ میری نانی خدیجہ ہیں اور تیری نانی نشیلہ ہے۔ خد العنت کرے تجھ پر اور تجھ میں سے اس شخص پر جس کی شہرت کم تر ،حسب پست تر، شر میں پہل کرتا ہو، اور کفر و نفاق میں پرانا ہو۔(کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۵۴۲) ۔

۳۲۔ آنحضرت کا خطبہ اپنی اور اپنے والد کی شان میں

روایت ہے کہ جب معاویہ کوفہ میں وارد ہوا تو اس سے کچھ لوگوں نے کہا کہ امام حسن علیہ السلام لوگوں کے نزدیک بڑا مقام رکھتے ہیں۔ اگر تو حکم دے کہ تم منبر کے نیچے والے زینے پر بیٹھو تو ان کیلئے گفتگو کرنا مشکل ہوجائے گی، اور لوگوں کے دل میں ان کی عزت ختم ہوجائے گی۔ معاویہ نے اس بات سے انکار کیا لیکن لوگوں نے ضد کی تو معاویہ نے ایسا ہی کیا۔ امام حسن معاویہ سے نیچے والے زینے پر کھڑے ہوگئے، اور خدا کی حمدوثناء کے بعد فرمایا:

اما بعد!اے لوگو! اگر مشرق سے مغرب تک تلاش کرو کہ ایسا شخص تمہیں مل جائے جس کا نانا رسولِ خدا ہو تو میرے اور میرے بھائی کے علاوہ کسی کو نہیں پاؤ گے۔ ہم نے اس ظالم شخص کو حکومت دیدی ہے(اور اپنے ہاتھ کے ساتھ منبر کے اوپر کی طرف اشارہ کیا

جہاں معاویہ اس جگہ پر بیٹھا ہوا تھا جو رسولِ خدا کا مقام تھا)، اور ہم نے مسلمانوں کے خون کی حفاظت کو خونریزی سے بہتر سمجھا، اور اس آیت کے ذریعے سے دلیل پیش کی:

(شاید یہ چیز تمہارے لئے امتحان تھی اور تھوڑی دیر کیلئے ان کو فائدہ دے)اور ساتھ ہی اپنے ہاتھ کے ذریعے سے معاویہ کی طرف اشارہ کیا۔

معاویہ نے کہا کہ اس کلام سے تمہارا کیا ارادہ تھا؟ امام نے فرمایا کہ میں نے اس سے وہ قصد کیا ہے جو خدا نے قصد کیا ہے۔ پھر معاویہ اٹھا اور خطبہ پڑھا جس میں علی علیہ السلام کو گالیاں دیں اور ان کا مذاق اڑایا اور توہین کی۔پھر امام حسن علیہ السلام اٹھے ،معاویہ ابھی منبرپر ہی تھا، تو اس سے کہا:

اے جگر کھانے والی عورت کے بیٹے! تجھ پر ہلاکت ہو۔ کیا تو امیرالمومنین علیہ السلام کو گالیاں دیتا ہے اور لعنت دیتا ہے، حالانکہ پیغمبرنے فرمایا ہے کہ جس نے علی کو گالیاں دیں، اس نے مجھ کو گالیاں دیں اور جس نے مجھے گالیاں دیں، اس نے خدا کو گالیاں دیں، اور خدا نے اسے جہنم کی آگ میں داخل کرنا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور ختم نہ ہونے والا عذاب ا س کیلئے ہے۔

اس کے بعد امام حسن علیہ السلام منبر سے نیچے اترے اور گھر کی طرف چلے گئے اور پھر کبھی وہاں پر نماز نہ پڑھی۔(احتجاج طبرسی، ج ۱ ، ص ۲۸۲) ۔

۳۳۔ آنحضرت کا اپنے اور خلیفہ کے اوصاف کے متعلق خطبہ

روایت ہے کہ ایک دن عمر بن عاص نے معاویہ سے کہا کہ حسن بن علی کے پاس کسی کو بلانے کیلئے بھیجو اور ا ن سے کہو کہ منبر پر جائیں اور خطبہ پڑھیں۔ شاید خطبہ نہ دے سکیں تو ہم اس وجہ سے ان کا مذاق ہر محفل اور مجلس میں اڑایا کریں گے۔ معاویہ نے کسی کو بھیجا۔ امام آئے اور منبر پر گئے جبکہ بہت سے لوگ اور شام کے سردار وہاں جمع تھے۔امام نے خدا کی حمدوثناء کے بعد فرمایا:

اے لوگو! جو مجھے جانتا ہے وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ میں علی ابن ابی طالب علیہم السلام کا بیٹا ہوں۔ میں رسولِ خدا کا بیٹا ہوں اور میں اس کا بیٹا ہوں جس کیلئے خدا نے زمین کو پاک اور سجدہ گاہ بنادیا ہے۔ میں روشن چراغ اور خوشخبری دینے والے کا بیٹا ہوں، اور ڈرانے والے کا بیٹا ہوں، اور میں خاتم النبیین کا بیٹا ہوں، اور رسولوں کے پیشوا ، پرہیزگاروں کے رہنما، خداوند کائنات کے چنے ہوئے کا بیٹا ہوں۔ میں اس کا بیٹا ہوں جسے دونوں جہانوں کیلئے رحمت بناکربھیجا گیا ۔

جب معاویہ کو امام کی گفتگو پسند نہ آئی تو امام کے کلام کو کاٹ کر کہا : اے ابا محمد! یہ باتیں رہنے دو اور ہمیں کھجور کی خصوصیات کے متعلق بتاؤ۔ معاویہ کا ارادہ تھا کہ امام شرمسار ہوں گے اور گفتگو نہیں فرمائیں گے۔ امام نے فرمایا: کھجور کا درخت ہوا کے ساتھ پھل دیتا ہے، اور سورج کی روشنی اسے پکاتی ہے، اور رات کی ٹھنڈک اسے خوشبودار اور تازہ کرتی ہے۔ پھر امام حسن علیہ السلام اپنی پہلے والی بات پر آگئے اور فرمایا:

میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس کی دعا دربارِ خداوندی میں قبول ہوتی ہے۔ میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس کی شفاعت قبول ہوگی۔ میں اس کا بیٹا ہوں جسے سب سے پہلے زمین سے اٹھایا جائے گا۔ میں اس کا بیٹا ہوں جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور اس کیلئے دروازہ کھول دیا جائے گااور وہ داخل ہوجائے گا۔ میں اس کا بیٹا ہوں کہ جنگ میں فرشتے اس کی مدد کیلئے چلے آتے تھے۔غنیمت کو اس کے لئے حلال کیا گیا اور خوف کی وجہ سے ایک مہینہ یا اس سے زیادہ مدت کیلئے اُس کی مدد کی گئی۔

امام نے اس طرح کی اور بھی گفتگو کی اور ابھی فرمارہے تھے کہ معاویہ پر دنیا تاریک ہوگئی۔ اہلِ شام اور ان کے علاوہ جو لوگ امام علیہ السلام کو نہیں جانتے تھے، انہوں نے جان لیا۔

معاویہ نے کہا کہ تمہاری خواہش تھی کہ خلیفہ ہوتے لیکن خلیفہ تو نہیں ہو۔امام علیہ السلام نے فرمایا:

خلیفہ وہ ہے جو رسولِ خدا کی سیرت پر چلے اور خدا کی اطاعت میں اپنی گردن جھکائے۔ لیکن جو ظلم کرتا ہو، اور خدا کے احکام کو معطل کرتا ہو، اور دنیا کے ساتھ اپنے ماں باپ کی طرح لگاؤ رکھتا ہو، خدا کے بندوں کو غلام بناتا ہو، اور خدا کے مال کو لوٹتا ہو،

وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا۔لیکن ایسا شخص وہ ہوسکتا ہے کہ جس نے حکومت کو زبردستی اپنے ہاتھ میں لیا ہو، اور اس سے تھوڑی سی مدت کیلئے فائدہ اٹھائے اور بہت جلد اُس کا دورِ حکومت ختم ہوجائے، اور لذت ختم ہوچکی ہو۔ لیکن اُس کی سختیاں اُس پر باقی ہوں، اور وہ اس طرح ہو جیسیخدا فرماتا ہے تم نہیں جانتے کہ شاید یہ تمہارے لئے امتحان ہو اور تھوڑی سی مدت کیلئے فائدہ)،(ان کو چند سالوں تک فائدہ اٹھانے دیا پھر جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا تھا(عذابِ خدا) اُس کا وقت آگیا، (اور جو کچھ اس سے فائدہ اتھاتے ہیں، انہیں بے نیاز نہیں کرتا)۔

پھر اپنے ہاتھ کے ذریعے معاویہ کی طرف اشارہ کیا اور منبر سے نیچے اتر آئے۔

ایک روایت میں اس طرح آیا ہے:

معاویہ نے کہا کہ قریش میں سے کوئی ایسا شخص نہ ہوگا جو ہماری نعمتوں اور ہماری عطا کردہ چیزوں سے فائدہ نہ اٹھاتا ہو۔ امام علیہ السلام نے فرمایا:

ہاں۔ وہ کون ہے جس نے ذلت و رسوائی کے بعد تجھے عزت دی ؟ وہ کون ہے جس نے تجھے کم مال سے کثیر مال والا بنا دیا؟

معاویہ نے کہا: اے حسن ! وہ کون ہیں؟ امام نے کہا کہ وہ ہیں جن کو تو جاننا نہیں چاہتا۔

پھر امام نے فرمایا:

میں اُس کا بیٹا ہوں جو قریش کے ہر جوان اور بوڑھے کا سردار تھا۔ میں اُس کابیٹا ہوں جو عزت و اکرام میں تمام لوگوں سے بڑھ کرتھا۔میں اُس کا بیٹا ہوں جو دنیا والوں پر سچ بولنے میں اور معاف کرنے میں آگے تھا۔ جو ایک پھل دار شاخ تھا اور فضیلتوں میں پیش پیش۔ میں اُس کا بیٹا ہوں کہ اُس کی مرضی خدا کی مرضی ہے اور اُس کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے۔اے معاویہ تیرے لئے مناسب ہے کہ تو ایسے شخص کے متعلق جسارت کرے؟

معاویہ نے کہا کہ نہیں۔ آپ کی بات درست ہے۔ امام نے فرمایا:

حق روشن ہے اور باطل تاریک۔جو حق کا سوار ہوگا وہ پشیمان نہ ہوگا اور جو باطل کا ہوگا ، اُس نے اپنا نقصان کیا، اور حق کو عقل والے ہی پہچانتے ہیں۔

معاویہ منبر سے نیچے آیا اور امام علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ جو بھی آپ کے ساتھ برائی کرے وہ اچھا آدمی نہ ہوگا۔(خرائج راوندی، ج ۱ ، ص ۲۳۷) ۔

۳۴۔ آنحضرت کا خطبہ اپنی فضیلت اور معاویہ کے متعلق

روایت ہے کہ معاویہ مدینہ آیا اور خطبہ پڑھا اور کہا کہ علی ابن ابی طالب علیہم السلام کہاں ہیں؟ امام حسن علیہ السلام اٹھے اور خدا کی حمدوثناء کے بعد فرمایا:

کہ کوئی نبی ایسا نہیں آیا مگر یہ کہ اُس کی اہل بیت سے اُس نبی کا جانشین مقرر کیا گیا،اور کوئی نبی ایسا نہ تھا کہ ظالم لوگ اُس کے ساتھ دشمنی کیلئے موجود تھے، اور علی رسولِ خدا کے بعد اُن کا وصی ہے۔ میں علی کا بیٹااور تو صخر کا بیٹا ہے۔ تیرا ناناحرب اور میرا نانا خدا کا رسول ہے۔ تیری ماں ہندہ اور میری والدہ فاطمہ ہیں۔ میری نانی خدیجہ اور تیری نانی نشیلہ ہے۔ خدا اپنی رحمت سے اُس شخص کو دوررکھے جو میرے اور تجھ میں نسبت کے لحاظ سے پست تر ہو، او رکفر کے لحاظ سے آگے ہو۔ جس کا ایمان کم اور منافقت زیادہ ہو۔

تمام لوگ جو مجمع میں حاضر تھے، کہنے لگے کہ خداوندا قبول فرما۔ معاویہ منبر سے نیچے آگیا اور اپنے خطبے کو ختم کردیا۔(احتجاج طبرسی، ج ۱ ، ص ۲۸۲) ۔

۳۵۔ آنحضرت کا خطبہ اپنی شان میں

روایت ہے کہ معاویہ نے امام حسن علیہ السلام سے درخواست کی وہ منبر پر جائیں اور اپنا نسب بیان کریں۔ امام منبر پر گئے اور خدا کی حمدوثناء کے بعد فرمایا:

اے لوگو! جو مجھے جانتا ہے وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا بہت جلد میں اُس کیلئے اپنی پہچان کرواتا ہوں۔ میرا شہر مکہ اور منیٰ ہے۔ میں صفاء و مروہ کا بیٹا ہوں۔ میں خدا کی طرف سے چنے ہوئے نبی کا بیٹا ہوں۔ میں اُس کا بیٹا ہوں جو مضبوط پہاڑوں پر بلند ہوا۔ میں اُس کا بیٹا ہوں جو اپنے چہرے کو خوبصورتی کی وجہ سے چھپاتا تھا۔ میں

عورتوں کی سردار فاطمہ کا بیٹا ہوں۔ میں اُن کا بیٹا ہوں جن کے عیوب کم اور دامن پاک ہے۔

اسی وقت موذن نے اذان کہنی شروع کی اور یہ کہنا شروع کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد خدا کا رسول ہے۔

پھر امام نے فرمایا:

اے معاویہ ! محمد تیرا باپ ہے یا میرا باپ ہے؟ اگر کہے کہ میرا باپ نہیں ہے تو تو نے حق کو چھپایا اور اگر کہے ہاں تو اقرار کیا ہے۔

پھر فرمایا:

قریش باقی عربوں پر فخر کرتے ہیں کہ محمد ان میں سے ہیں اور عرب عجم والوں پر فخر کرتے ہیں کہ محمد ہم میں سے ہیں اور عجم والے عرب والوں کا احترام کرتے ہیں کہ محمد ان میں سے ہیں۔ حق ہمیں طلب کرتا ہے لیکن ہمارا حق ہمیں لوٹاتے نہیں ہیں۔(مناقب آل ابی طالب ، ابن شہر آشوب، ج ۳ ، ص ۱۷۸) ۔

۳۶۔ آنحضرت کا خطبہ ان حضرات کی اطاعت کرنے کے متعلق

اے لوگو! منکر برباد ہوگئے اور آثار ختم ہوگئے۔صبروحوصلہ کم ہوگیا۔ شیطانی وسوسوں اور خیانت کرنے والوں کے حکم کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں رہی۔ خدا کی قسم! ابھی حق کو ثابت کرنے والی دلیلیں اور خداکی نشانیاں بلند ہوتیں اور مشکلات ظاہر ہوتیں اور ہم ان نشانیوں کی تحقیق اور تاویل کے انتظار میں تھے۔ خدا فرماتا ہےمحمد صرف خدا کا رسول ہے۔ اُس سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں ۔ اگر وہ مرجائے یا قتل ہوجائے تو کیا تم اپنے سابقہ دین کی طرف لوٹ جاؤ گے، اور جو بھی اپنے گزشتہ دین کی طرف لوٹ جائے ، خدا کوکوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور خدا شکر کرنے والوں کو اچھی جزا دیتا ہے)۔

خدا کی قسم! میرے نانا رسولِ خدا وفات پاگئے اور میرے والد قتل ہوگئے۔ وسوسہ ڈالنے والے شیطان نے چیخ ماری اور شک دلوں میں پیدا ہوگیا۔ فتنہ و فساد برپا کرنے والے کی ندا ظاہر ہوئی۔ سنت پیغمبر کے ساتھ مخالفت ہوئی۔ پس اندھے ، گونگے اور بہرے کے فتنہ سے ہلاکت ہے کہ بلانے والے کی آواز سنی نہیں جاتی، ندا دینے والے کی ندا کا جواب نہیں دیا جاتا، اور فتنہ کرنے والے کی مخالفت نہیں کی جاتی۔ نفاق ظاہر ہوچکا ہے اور اختلاف ڈالنے والے پرچم حرکت میں آچکے ہیں، اور دین سے خارج ہونے والے سپاہی شام و عراق سے جمع ہورہے ہیں۔ خدا تم پر رحمت فرمائے ، چمکتے ہوئے نور کی روشنی کی طرف آؤ اور طاقتور مرد کے پرچم کی طرف جلدی کرو۔

ایسا نور جو کبھی بجھنے والا نہیں ہے اور ایسا حق جو چھپنے والا نہیں ہے۔اے لوگو!غفلت کی نیند سے اٹھو اور وسیع فرصت سے فائدہ اٹھاؤ، اور زیادہ تاریکی اورراہِ نجات کی کمی سے خودکو بیدار کرو۔ مجھے قسم ہے اُس خدا کی جس نے دانے کو پھاڑا اور انسان کو خلق کیا اور لباسِ عظمت پہنے ہوئے ہے۔ اگر تم میں سے میرے ساتھ ایسا گروہ ہو کہ جن کے دل صاف اور نیتیں سچی ہوں اور اُن نیتوں میں نہ تو منافقت ہو اور نہ ہی تفرقہ پیدا کرنے کا ارادہ ، میں تلوار کے ساتھ قدم بقدم ان کے ساتھ مل کر جنگ کروں گا اور تلواروں اور نیزوں کو ان کی طرف رکھ دوں گا، اور اپنے گھوڑوں کو ان کی طر ف لے چلوں گا۔(ہدایہ حسین بن ہمدان، ص ۲۱۰) ۔

۳۷۔ آنحضرت کا خطبہ صلح کے سبب کے متعلق

روایت ہے کہ جب امام پر زہر آلود خنجر کے ساتھ حملہ کیا گیا تو آپ اُس جگہ کی طرف چلے گئے جس کا نام( بطن جریح) ہے اور اس جگہ مختار کے چچا کی حکومت تھی۔ مختار نے اپنے چچا سے کہا کہ آؤ اور حسن بن علی علیہما السلام کو پکڑ کر معاویہ کے حوالے کردیں۔ جب شیعوں کو مختار کے ارادے کا پتہ چلا تو اُسے قتل کرنا چاہا۔ مختار کے چچا نے کہا کہ اسے معاف کردو تو انہوں نے معاف کردیا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

تم پر ہلاکت ہو۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ معاویہ نے میرے قتل کے بارے میں جو تم سے وعدہ کیا ہے، وہ کبھی پورا نہ کرے گا، اور میں جانتا ہوں کہ اگر اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دے دوں اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کردوں تو وہ مجھے اپنے نانا کے دین پر بھی نہیں رہنے دے گا۔

میں تو اکیلا بھی خدا کی عبادت کرسکتا ہوں لیکن مجھے تمہاری اولاد کی فکر ہے کہ جو اُن کے گھروں کے اردگرد جمع ہے اور جو خدا نے ان کو دے رکھا ہے، اُس کے بدلے وہ اُن سے پانی اور کھانے کو مانگ رہے ہیں۔ لیکن وہ ان کو دیتے نہیں ہیں۔ پس دوری اور عذاب ہے اُن لوگوں کیلئے ، اس وجہ سے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کیا ہے، اور ظالم لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ اُن کا ٹھکانا کیا ہے۔(علل الشرائع، شیخ صدوق ، ج ۱ ، ص ۲۲۰) ۔

۳۸۔ آنحضرت کا خطبہ جب آنحضرت کو بیعت کرنے کی وجہ سے لوگ ملامت کرنے لگے

ہلاکت ہوتم پر ، کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے کیا کام کیا ہے؟ خدا کی قسم! میں نے ایسا کام کیا ہے جو ہمارے شیعوں کیلئے اُن تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع و غروب ہوتا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ میں نصِ پیغمبر کے ساتھ تمہارا امام ہوں اور میری اطاعت تم پر واجب ہے۔

اور جوانانِ جنت کے سرداروں میں سے ایک سردار ہوں۔تمام لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ امام نے فرمایا:

کیا تم نہیں جانتے کہ جب حضرت خضر نے کشتی میں سوراخ ، دیوار کو تعمیر اور لڑکے کو قتل کیا تو موسیٰ کو بڑا غصہ آیا کیونکہ ان کاموں کی دلیل اور وجہ اُن کے لئے پوشیدہ تھی۔ لیکن خدا کے نزدیک وہ حکمت کے مطابق اور صحیح تھا؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہم اہل بیت میں سے کوئی فرد بھی ایسا نہیں ہے جس کی گردن پر طاغوت کی طرف سے بیعت موجود ہے سوائے قائم آل محمد کے جن کے پیچھے روح اللہ عیسیٰ ابن مریم نماز پڑھیں گے۔ خدا اُس کی ولادت کو پوشیدہ اور خفیہ رکھے گا، یہاں تک کہ اُس کے ظہور کے وقت کسی کی بیعت اُس کی گردن پر نہ ہوگی۔

وہ میرے بھائی حسین کا نواں بیٹا ہے۔ وہ عورتوں کی سردار کا بیٹا ہے۔ خدا اُس کی غیبت میں اُس کی عمر کو لمباکردے گا۔ پھر قدرتِ خدا اُسے چالیس سال کے جوان کی طرح بنا دے گی اور یہ اس لئے ہے تاکہ وہ جان لیں کہ خداہرچیز پر قادر ہے۔(احتجاج طبرسی، ج ۲ ، ص ۹) ۔

۳۹۔ آنحضرت کا خطبہ صلح کے سبب کے متعلق

خونریزی سے بچنے اور حفاظت کیلئے اور اپنی ، اپنے خاندان اور اپنے مخلص ساتھیوں کی حفاظت کی خاطر میں نے صلح کی ہے۔(تنزیة الانبیا، سید مرتضیٰ،ص ۱۶۹) ۔

۴۰۔ آنحضرت کا خطبہ جب حضرت کے اصحاب نے چاہا کہ بیعت کو توڑدیں

تم ہمارے شیعہ اور دوست ہو۔ اگر میں چاہتا کہ میری کوشش دنیاوی امورمیں ہو اورمیں دنیاوی طاقت کی فکر میں ہوتا تو اس معاملہ میں معاویہ مجھ سے طاقتور اور قوت مند اور ارادہ میں آگے نہ تھا۔ لیکن میرا ارادہ وہ نہیں ہے جو تم سوچ رہے ہو اور جو کام میں نے کیا ہے، وہ خونریزی سے بچنے کیلئے کیا ہے۔

پس خدا کے فیصلہ کے ساتھ راضی ہوجاؤ اور اُس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردو اور اپنے گھروں میں خاموشی کے ساتھ رہو۔ یا امام نے یہ فرمایا کہ اپنے آپ کو روکے رکھو تاکہ نیک آدمی سکون کے ساتھ رہ سکیں یا ظالم شخص سے راحت میں رہیں۔(طبری، ج ۲ ، ص ۱۶۹) ۔

آپ کا تبصرہ شامل کریں

قارئین کے تبصرے

کوئی تبصرہ موجودنہیں ہے
*
*

امامين حسنين عليهما السلام ثقافتى اور فکر اسلامى - نيٹ ورک